کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 29 · 101 hadiths · Page 3 of 6

1071Mauwatta Imam Malik

طلاق میں متعہ دینے کا بیان

عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ فَمَتَّعَ بِوَلِيدَةٍ

امام مالک کو پہنچا کہ عبدالرحمن بن عوف نے اپنی عورت کو طلاق دی متعہ میں ایک لونڈی دی

1072Mauwatta Imam Malik

طلاق میں متعہ دینے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لِکُلِّ مُطَلَّقَةٍ مُتْعَةٌ إِلَّا الَّتِي تُطَلَّقُ وَقَدْ فُرِضَ لَهَا صَدَاقٌ وَلَمْ تُمْسَسْ فَحَسْبُهَا نِصْفُ مَا فُرِضَ لَهَا

عبدا اللہ بن عمر کہتے تھے ہر مطلقہ کو متعہ ملے گا مگر جس عورت کا مہر مقرر ہوگیا ہو اور صحبت سے پہلے اس کو طلاق دی جائے تو اس کو آدھا مہر دینا کافی ہے۔

1073Mauwatta Imam Malik

طلاق میں متعہ دینے کا بیان

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ لِکُلِّ مُطَلَّقَةٍ مُتْعَةٌ قَالَ مَالِک وَبَلَغَنِي عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ مِثْلُ ذَلِکَ

کہا مالک نے ابن شہاب کہتے تھے ہر مطلقہ کو متعہ ملے گا قاسم بن محمد سے بھی مجھے ایسا ہی پہنچا۔

1074Mauwatta Imam Malik

غلام کی طلاق کا بیان

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ نُفَيْعًا مُکَاتَبًا کَانَ لِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَبْدًا لَهَا کَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ فَطَلَّقَهَا اثْنَتَيْنِ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُرَاجِعَهَا فَأَمَرَهُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَيَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِکَ فَلَقِيَهُ عِنْدَ الدَّرَجِ آخِذًا بِيَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُمَا فَابْتَدَرَاهُ جَمِيعًا فَقَالَا حَرُمَتْ عَلَيْکَ حَرُمَتْ عَلَيْکَ

سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ نفیع حضرت ام سلمہ کا مکاتب تھا یا غلام تھا اس کے نکاح میں ایک عورت آزاد تھی اس کو دو طلاق دیں پھر رجعت کرنا چاہا آپ ﷺ کی بیبیوں نے اس کو حکم کیا کہ حضرت عثمان سے جا کر مسئلہ پوچھ وہ حضرت عثمان سے جا کر ملا درج میں وہ حضرت زید بن ثابت کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے جب اس نے مسئلہ پوچھا دونوں نے کہا وہ عورت تجھ پر حرام ہوگئی۔

1075Mauwatta Imam Malik

غلام کی طلاق کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ نُفَيْعًا مُکَاتَبًا کَانَ لِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ امْرَأَةً حُرَّةً تَطْلِيقَتَيْنِ فَاسْتَفْتَی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَالَ حَرُمَتْ عَلَيْکَ

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ نفیع جو مکاتب تھا حضرت ام سلمہ کا اسی نے اپنی بی بی کو طلاق دی پھر حضرت عثمان سے مسئلہ پوچھا انہوں نے کہا تجھ پر حرام ہوگئی۔

1076Mauwatta Imam Malik

غلام کی طلاق کا بیان

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ أَنَّ نُفَيْعًا مُکَاتَبًا کَانَ لِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَفْتَی زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَةً حُرَّةً تَطْلِيقَتَيْنِ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ حَرُمَتْ عَلَيْکَ

محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے روایت ہے کہ نضیع جو حضرت ام سلمہ ؓ مکاتب تھا اس نے زید بن ثابت ؓ سے مسئلہ پوچھا کہ میں نے اپنی آزاد عورت کو دو طلاق دی ہیں زید بن ثابت نے کہا وہ عورت تیرے اوپر حرام ہوگئی۔

1077Mauwatta Imam Malik

غلام کی طلاق کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ إِذَا طَلَّقَ الْعَبْدُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْهِ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ حُرَّةً کَانَتْ أَوْ أَمَةً وَعِدَّةُ الْحُرَّةِ ثَلَاثُ حِيَضٍ وَعِدَّةُ الْأَمَةِ حَيْضَتَانِ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جب غلام اپنی عورت کو دو طلاق دے تو وہ اس پر حرام ہوجائے گی یہاں تک کہ دوسرے خاوند سے نکاح کرے خواہ اس کی بی بی لونڈی ہو یا آزاد عورت کی عدت تین حیض ہے اور لونڈی کی عدت دو حیض ہے،۔

1078Mauwatta Imam Malik

غلام کی طلاق کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ مَنْ أَذِنَ لِعَبْدِهِ أَنْ يَنْکِحَ فَالطَّلَاقُ بِيَدِ الْعَبْدِ لَيْسَ بِيَدِ غَيْرِهِ مِنْ طَلَاقِهِ شَيْئٌ فَأَمَّا أَنْ يَأْخُذَ الرَّجُلُ أَمَةَ غُلَامِهِ أَوْ أَمَةَ وَلِيدَتِهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص اپنے غلام کو نکاح کی اجازت دے تو طلاق غلام کے اختیار میں ہوگی نہ کہ اور کسی کے ہاتھ میں اگر آدمی اپنے غلام کی لونڈی چھین کر اس سے وطی کرے تو درست ہے۔

1079Mauwatta Imam Malik

لونڈی حاملہ کو جب طلاق دی جائے اس کے نفقہ کا بیان

قَالَ مَالِک لَيْسَ عَلَی حُرٍّ وَلَا عَبْدٍ طَلَّقَا مَمْلُوکَةً وَلَا عَلَی عَبْدٍ طَلَّقَ حُرَّةً طَلَاقًا بَائِنًا نَفَقَةٌ وَإِنْ کَانَتْ حَامِلًا إِذَا لَمْ يَکُنْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ

کہا مالک نے آزاد شخص یا غلام لونڈی کو طلاق دے یا غلام آزاد بی بی کو طلاق دے اگرچہ وہ حاملہ ہو تو اس کا نفقہ اس پر لازم نہ آئے گا جب طلاق بائن ہو جس میں رجعت نہیں ہوسکتی۔

1080Mauwatta Imam Malik

جس عورت کا خاوند گم ہوجائے اس کی عدت کا بیان

حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ فَقَدَتْ زَوْجَهَا فَلَمْ تَدْرِ أَيْنَ هُوَ فَإِنَّهَا تَنْتَظِرُ أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ تَعْتَدُّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تَحِلُّ قَالَ مَالِك وَإِنْ تَزَوَّجَتْ بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا فَدَخَلَ بِهَا زَوْجُهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلَا سَبِيلَ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ إِلَيْهَا قَالَ مَالِك وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا وَإِنْ أَدْرَكَهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَتَزَوَّجَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا قَالَ مَالِك وَأَدْرَكْتُ النَّاسَ يُنْكِرُونَ الَّذِي قَالَ بَعْضُ النَّاسِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ يُخَيَّرُ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ إِذَا جَاءَ فِي صَدَاقِهَا أَوْ فِي امْرَأَتِهِ قَالَ مَالِك وَبَلَغَنِي أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ فِي الْمَرْأَةِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا ثُمَّ يُرَاجِعُهَا فَلَا يَبْلُغُهَا رَجْعَتُهُ وَقَدْ بَلَغَهَا طَلَاقُهُ إِيَّاهَا فَتَزَوَّجَتْ أَنَّهُ إِنْ دَخَلَ بِهَا زَوْجُهَا الْآخَرُ أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلَا سَبِيلَ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ الَّذِي كَانَ طَلَّقَهَا إِلَيْهَا قَالَ مَالِك وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي هَذَا وَفِي الْمَفْقُودِ

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے کہا جس عورت کا خاوند گم ہوجائے اور اس کا پتہ معلوم نہ ہو کہاں ہے تو جس روز سے اس کی خبر بند ہوئی ہے چار برس تک عورت انتظار کرے چار برس کے بعد چار مہینے دس دن عدت کر کے اگر چاہے تو دوسرا نکاح کرے۔ کہا مالک نے اگر عورت کی عدت گزر گئی اور اس نے دوسرا نکاح کرلیا تو پھر پہلے خاوند کو اختیار نہ رہے گا۔ خواہ دوسرے خاوند نے اس سے صحبت کی ہو یا نہ کی ہو ہمارے نزدیک بھی یہی حکم ہے۔ کہا مالک نے مجھے حضرت عمر سے پہنچا آپ نے فرمایا جس عورت کا خاوند کسی ملک میں چلا گیا ہو وہاں سے طلاق کہلا بھیجے اس کے بعد رجعت کرلے مگر عورت کو رجعت کی خبر نہ ہو اور وہ دوسرا نکاح کرلے اس کے بعد پہلا خاوند آئے تو اس کو کچھ اختیار نہ ہوگا خواہ دوسرے خاوند نے صحبت کی ہو یا نہ کی ہو۔ کہا مالک نے مجھے یہ روایت اور مفقود کی روایت بہت پسند ہے۔

1081Mauwatta Imam Malik

اقراء اور طلاق کی عدت کا اور حائضہ کی طلاق کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يُمْسِکْهَا حَتَّی تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَائَ أَمْسَکَ بَعْدُ وَإِنْ شَائَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْکَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَائُ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے آپ ﷺ کے زمانے میں اپنی عورت کو حیض کی حالت میں طلاق دی حضرت عمر بن خطاب نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا ان کو حکم کرو رجعت کرلیں پھر رہنے دیں یہاں تک کہ حیض سے پاک ہو پھر حائضہ ہو پھر حیض سے پاک ہو اب اختیار ہے خواہ رکھے یا طلاق دے اگر طلاق دے تو اس طہر میں صحبت نہ کرے یہی عدت ہے جس میں اللہ نے طلاق دینے کا حکم دیا۔

1082Mauwatta Imam Malik

اقراء اور طلاق کی عدت کا اور حائضہ کی طلاق کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا انْتَقَلَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ حِينَ دَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنْ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَتْ صَدَقَ عُرْوَةُ وَقَدْ جَادَلَهَا فِي ذَلِکَ نَاسٌ فَقَالُوا إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ فِي کِتَابِهِ ثَلَاثَةَ قُرُوئٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ صَدَقْتُمْ تَدْرُونَ مَا الْأَقْرَائُ إِنَّمَا الْأَقْرَائُ الْأَطْهَارُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ مَا أَدْرَکْتُ أَحَدًا مِنْ فُقَهَائِنَا إِلَّا وَهُوَ يَقُولُ هَذَا يُرِيدُ قَوْلَ عَائِشَةَ

حضرت عائشہ نے اپنی بھتجیی حفص بن عبدالرحمن کو عدت سے اٹھایا جب تیسرا حیض شروع ہوا ابن شہاب نے کہا میں نے یہ عمرہ سے بیان کیا عمرہ نے کہا عروہ نے سچ کہا بلکہ حضرت عائشہ ؓ اس باب میں لوگوں نے جھگڑا کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مطلقہ عورتیں روک رکھیں اپنے نفسوں کو تین قروء تک انہوں نے کہا سچ کہتے ہو لیکن قروء سے جانتے ہو کیا مراد ہے قروء سے طہر مراد ہے۔ ابن شہاب نے کہا میں نے ابوبکر بن عبدالرحمن ؓ سنا کہتے تھے میں نے سب فقیہوں کو حضرت عائشہ کی مثل کہتے ہوئے پایا۔

1083Mauwatta Imam Malik

اقراء اور طلاق کی عدت کا اور حائضہ کی طلاق کا بیان

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ الْأَحْوَصَ هَلَکَ بِالشَّامِ حِينَ دَخَلَتْ امْرَأَتُهُ فِي الدَّمِ مِنْ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ وَقَدْ کَانَ طَلَّقَهَا فَکَتَبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَی زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِکَ فَکَتَبَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِنَّهَا إِذَا دَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنْ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ وَبَرِئَ مِنْهَا وَلَا تَرِثُهُ وَلَا يَرِثُهَا عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُمْ کَانُوا يَقُولُونَ إِذَا دَخَلَتْ الْمُطَلَّقَةُ فِي الدَّمِ مِنْ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَانَتْ مِنْ زَوْجِهَا وَلَا مِيرَاثَ بَيْنَهُمَا وَلَا رَجْعَةَ لَهُ عَلَيْهَا

سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ احوص نے اپنی عورت کو طلاق دیدی تھی جب تیسرا حیض اس کو شروع ہوا احوص مرگئے معاویہ بن ابی سفیان نے زید بن ثابت کو لکھ کر بھیجا اس کا کیا حکم ہے زید بن ثابت نے جواب لکھا کہ جب اس کو تیسرا حیض شروع ہوگیا تو خاوند کو اس سے علاقہ نہ رہا اور نہ اس کو خاوند سے نہ اس کی وارث ہوگی نہ وہ اس کا وارث ہوگا۔ امام مالک کو پہنچا کہ قاسم بن محمد بن سالم بن عبداللہ اور ابوبکر بن عبدالرحمن اور سلیمان بن یسار اور ابن شہاب کہتے تھے جب مطلقہ عورت کو تیسرا حیض شروع ہوجائے تو وہ اپنے خاوند سے بائن ہوجائے گی اور خاوند کو رجعت کا اختیار نہ رہے گا اب ایک کا ترکہ دوسرے کو نہ ملے گا۔

1084Mauwatta Imam Malik

اقراء اور طلاق کی عدت کا اور حائضہ کی طلاق کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَدَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنْ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ وَبَرِئَ مِنْهَا قَالَ مَالِک وَهُوَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا

عبداللہ بن عمر کہتے تھے جب مرد اپنی عورت کو طلاق دے اور تیسرا حیض شروع ہوجائے تو اس عورت کو خاوند سے علاقہ نہ رہا اور خاوند کو اس سے نہ تو وہ اس کا وارث ہوگا اور نہ وہ اس کی۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔

1085Mauwatta Imam Malik

اقراء اور طلاق کی عدت کا اور حائضہ کی طلاق کا بیان

عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَی الْمَهْرِيِّ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ کَانَا يَقُولَانِ إِذَا طُلِّقَتْ الْمَرْأَةُ فَدَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنْ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَانَتْ مِنْهُ وَحَلَّتْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَابْنِ شِهَابٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُمْ کَانُوا يَقُولُونَ إِنَّ عِدَّةَ الْمُخْتَلِعَةِ ثَلَاثَةُ قُرُوئٍ

فضیل بن عبداللہ سے روایت ہے کہ قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ کہتے تھے جب مطلقہ عورت کو تیسرا حیض شروع ہوجائے تو وہ اپنے خاوند سے بائن ہو جائی گی اور اس کو دوسرا نکاح کرنا درست ہوجائے گا۔ سعید بن مسیب اور ابن شہاب اور سلیمان بن یسار کہتے تھے جو عورت خلع کرے اس کی عدت تین قروء ہیں۔

1086Mauwatta Imam Malik

اقراء اور طلاق کی عدت کا اور حائضہ کی طلاق کا بیان

ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ الْأَقْرَائُ وَإِنْ تَبَاعَدَتْ

ابن شہاب کہتے تھے مطلقہ کی عدت طہر سے ہوگی اگرچہ بہت دن لگیں۔

1087Mauwatta Imam Malik

اقراء اور طلاق کی عدت کا اور حائضہ کی طلاق کا بیان

عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ أَنَّ امْرَأَتَهُ سَأَلَتْهُ الطَّلَاقَ فَقَالَ لَهَا إِذَا حِضْتِ فَآذِنِينِي فَلَمَّا حَاضَتْ آذَنَتْهُ فَقَالَ إِذَا طَهُرْتِ فَآذِنِينِي فَلَمَّا طَهُرَتْ آذَنَتْهُ فَطَلَّقَهَا قَالَ مَالِک وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِکَ

ایک انصاری کی بی بی نے اپنے خاوند سے طلاق مانگی اس نے کہا جب تجھے حیض آئے تو مجھے خبر کردینا جب حیض آیا اس نے خبر کی کہا جب پاک ہونا تو مجھے خبر کرنا جب پاک ہوئی اور خبر کی اس وقت انہوں نے طلاق دے دی۔ کہا مالک نے میں نے یہ اچھا سنا۔

1088Mauwatta Imam Malik

جس گھر میں طلاق ہوئی وہیں عدت کرنے کا بیان

عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْکُرَانِ أَنَّ يَحْيَی بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ ابْنَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَکَمِ الْبَتَّةَ فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَکَمِ فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فَقَالَتْ اتَّقِ اللَّهَ وَارْدُدْ الْمَرْأَةَ إِلَی بَيْتِهَا فَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِي وَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ الْقَاسِمِ أَوَ مَا بَلَغَکِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَا يَضُرُّکَ أَنْ لَا تَذْکُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فَقَالَ مَرْوَانُ إِنْ کَانَ بِکِ الشَّرُّ فَحَسْبُکِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنْ الشَّرِّ

قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار ذکر کرتے تھے کہ یحییٰ بن سعید نے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی کو طلاق بتہ دی ان کے باپ عبدالرحمن نے اس مکان سے اٹھوا منگوایا تو حضرت عائشہ نے مروان کے پاس کہلا بھیجا اللہ سے ڈر ان دنوں میں وہ مدینہ کا حاکم تھا اور عورت کو اسی گھر میں پہنچا دے جس میں طلاق ہوئی ہے سلیمان کی روایت میں ہے کہ مروان نے کہا عبدالرحمن مجھ پر غالب ہے اور قاسم کی روایت میں ہے کہ مروان نے حضرت عائشہ ؓ کہا کیا تم کو فاطمہ بنت قیس کی حدیث یاد نہیں حضرت عائشہ نے کہا اگر فاطمہ کی حدیث تم یاد نہ کرو تو کچھ ضرر نہیں مروان نے کہا اگر تمہارے نزدیک فاطمہ کی نقل مکان کرنے کی یہ وجہ تھی کہ جورو اور خاوند میں لڑائی تھی تو وہ وجہ یہاں بھی موجود ہے۔

1089Mauwatta Imam Malik

جس گھر میں طلاق ہوئی وہیں عدت کرنے کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ بِنْتَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ کَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ فَانْتَقَلَتْ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ عَلَيْهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

نافع سے روایت ہے کہ سعید بن زید کی بیٹی عبداللہ بن عمرو بن عثمان کے نکاح میں تھی انہوں نے اس کو تین طلاقین دیں وہ اس مکان سے اٹھ گئی عبداللہ بن عمر نے اسے برا جانا۔

1090Mauwatta Imam Malik

جس گھر میں طلاق ہوئی وہیں عدت کرنے کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ فِي مَسْکَنِ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ طَرِيقَهُ إِلَی الْمَسْجِدِ فَکَانَ يَسْلُکُ الطَّرِيقَ الْأُخْرَی مِنْ أَدْبَارِ الْبُيُوتِ کَرَاهِيَةَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ عَلَيْهَا حَتَّی رَاجَعَهَا

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے اپنی بی بی کو حضرت حفصہ کے مکان میں طلاق دی اور ان کے گھر میں سے مسجد کو راستہ جاتا تھا عبداللہ بن عمر گھروں کے پیچھے سے ہو کر دوسرے راستے سے جاتے تھے کیونکہ مکروہ جانتے تھے مطلقہ عورت کے گھر میں جانے کو اذن لے کر بغیر رجعت کے۔