کتاب الصلوة

Mauwatta Imam Malik · Chapter 4 · 73 hadiths · Page 4 of 4

193Mauwatta Imam Malik

جس شخص نے دو رکعتیں پڑھ کر بھولے سے سلام پھیر دیا اس کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ النَّاسُ نَعَمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نماز پڑھی رسول اللہ ﷺ نے عصر کی تو سلام پھیر دیا دو رکعتیں پڑھ کر پس کھڑا ہوا ذوالیدین اور کہا کیا نماز کم ہوگئی یا بھول گئے آپ ﷺ اے اللہ کے رسول اللہ فرمایا آپ ﷺ نے کوئی بات نہیں ہوئی متوجہ ہوئے آپ ﷺ لوگوں پر اور کہا کیا ذوالیدین سچ کہتا ہے لوگوں نے کہا ہاں پس اٹھے رسول اللہ ﷺ اور تمام کیا جس قدر نماز باقی تھی پھر دو سجدے کئے بعد سلام کے اور آپ ﷺ بیٹھے تھے۔

Yahya related to me from Malik from Daud ibn al-Husayn that Abu Sufyan (RA) , the mawla of Ibn Abi Ahmad, said that he heard Abu Hurayra say, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, prayed asr and said the taslim after two rakas. Dhul-Yadayn stood up and said, Has the prayer been shortened, Messenger of Allah, or have you forgotten? The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, stood up and completed what remained of the prayer, and then, remaining sitting after saying the taslim, he made two prostrations."

194Mauwatta Imam Malik

جس شخص نے دو رکعتیں پڑھ کر بھولے سے سلام پھیر دیا اس کا بیان

عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکَعَ رَکْعَتَيْنِ مِنْ إِحْدَی صَلَاتَيْ النَّهَارِ الظُّهْرِ أَوْ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ مِنَ اثْنَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَصُرَتْ الصَّلَاةُ وَمَا نَسِيتُ فَقَالَ ذُو الشِّمَالَيْنِ قَدْ کَانَ بَعْضُ ذَلِکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنْ الصَّلَاةِ ثُمَّ سَلَّمَ

ابی بکر بن سلیمان سے روایت ہے کہ پہنچا مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں ظہر یا عصر کی پھر سلام پھیر دیا تو کہا ذولشمالین اور وہ ایک شخص تھا بنی زہرہ بن کلاب سے کہ نماز کم ہوگئی یا رسول اللہ ﷺ یا آپ ﷺ بھول گئے آپ ﷺ نے فرمایا نہ نماز کم ہوئی نہ میں بھولا ذوالشمالین نے کہا کچھ تو ہوا یا رسول اللہ ﷺ پس متوجہ ہوئے آپ ﷺ لوگوں پر اور کہا کیا ذوالیدین سچ کہتا ہے لوگوں نے کہا ہاں تو تمام کیا رسول اللہ ﷺ نے باقی نماز کو پھر سلام پھیرا۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Abu Bakr (RA) ibn Sulayman ibn Abi Hathma said, "I have heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, prayed two rakas of one of the two day-ti me prayers, dhuhr or asr, and said the taslim after two rakas. Dhush-Shamalayn said to him, Has the prayer been shortened, Messenger of Allah, or have you forgotten? The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, The prayer has not been shortened and I have not forgotten. DhushShamalayn said, It was certainly one of those, Messenger of Allah. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, approached the people and said, Has Dh ush-Shamalayn spoken the truth? They said, Yes, Messenger of Allah, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, completed what remained of the prayer, and then said, Peace be upon you. "

195Mauwatta Imam Malik

جس شخص نے دو رکعتیں پڑھ کر بھولے سے سلام پھیر دیا اس کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِثْلَ ذَلِكَ

سعید بن مسیب اور ابی سلمہ بن عبدالرحمن ؓ بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab, and from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman, the same as that. Malik said, "Every forgetfulness which decreases from the prayer, prostrations for it come before the greeting, and every forgetfulness which is an addition to the prayer, prostrations for it come after the greeting."

196Mauwatta Imam Malik

جب مصلی کو شک ہوجائے تو اپنی یاد پر نماز تمام کرنے کا بیان

عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ کَمْ صَلَّی أَثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا فَلْيُصَلِّي رَکْعَةً وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ فَإِنْ کَانَتْ الرَّکْعَةُ الَّتِي صَلَّی خَامِسَةً شَفَعَهَا بِهَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ وَإِنْ کَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ

عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب شک ہو تم میں سے کسی کو نماز میں تو نہ یاد رہے اس کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو چاہئے کہ ایک رکعت اور پڑھ لے اور دو سجدے کرے قبل سلام کے پھر اگر یہ رکعت جو اس نے پڑھی ہے درحقیقت پانچویں ہوگی تو ان سجدوں سے مل کر ایک دوگانہ ہوجائے گا اگر چوتھی ہوگی تو ان سجدوں سے ذلت ہوگی شیطان کو۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If you are uncertain in the prayer and do not know whether you have prayed three or four rakas, then pray a raka and make two prostrations from the sitting position before the taslim. If the raka that you prayed was the fifth, then you make it even by these two sajdas, and if it was the fourth, then the two prostrations spite Shaytan."

197Mauwatta Imam Malik

جب مصلی کو شک ہوجائے تو اپنی یاد پر نماز تمام کرنے کا بیان

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَوَخَّ الَّذِي يَظُنُّ أَنَّهُ نَسِيَ مِنْ صَلَاتِهِ فَلْيُصَلِّهِ ثُمَّ لْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ وَهُوَ جَالِسٌ

سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ جب شک کرے کوئی تم میں اپنی نماز کا تو سوچے جو بھول گیا ہے پھر پڑھ لے اس کو اور دو سجدے سہو کے بیٹھ کر کرلے۔

Yahya related to me from Malik from Umar ibn Muhammad ibn Zayd from Salim ibn Abdullah that Abdullah ibn Umar used to say, "If you are uncertain in the prayer, estimate what you think you have forgotten of the prayer and repeat it, then do the two sajdas of forgetfulness from the sitting position."

198Mauwatta Imam Malik

جب مصلی کو شک ہوجائے تو اپنی یاد پر نماز تمام کرنے کا بیان

عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَکَعْبَ الْأَحْبَارِ عَنْ الَّذِي يَشُکُّ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَدْرِي کَمْ صَلَّی أَثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا فَکِلَاهُمَا قَالَ لِيُصَلِّ رَکْعَةً أُخْرَی ثُمَّ لْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ

عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ پوچھا میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص اور کعب احبار سے اس شخص کے بارے میں جو شک کرے اپنی نماز میں تو نہ یاد رہے اس کو کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار پس جواب دیا دونوں نے کہ ایک رکعت اور پڑھ کردو سجدے سہو کے کرلے بیٹھے بیٹھے۔

Yahya related to me from Malik from Afif ibn Amr as-Sahmi that Ata ibn Yasar said, "I asked Abdullah ibn Amr ibn al-As and Kab al Ahbar about someone who was uncertain in his prayer, and did not know whether he had prayed three or four rakas. Both of them said, He should pray another raka and then do two sajdas from the sitting position. "

199Mauwatta Imam Malik

جب مصلی کو شک ہوجائے تو اپنی یاد پر نماز تمام کرنے کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ النِّسْيَانِ فِي الصَّلَاةِ قَالَ لِيَتَوَخَّ أَحَدُکُمْ الَّذِي يَظُنُّ أَنَّهُ نَسِيَ مِنْ صَلَاتِهِ فَلْيُصَلِّهِ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا نماز میں بھول جانے کا تو کہا سوچ لے جو بھول گیا ہے پھر پڑھ لے اس کو۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar, when questioned about forgetfulness in the prayer, said, "If you think that you have forgotten part of the prayer, then pray it."

200Mauwatta Imam Malik

جو شخص نماز پڑھ کر یا دو رکعتیں پڑھ کر کھڑا ہوجائے اسکا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَ صَلَّی لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَی صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ کَبَّرَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ ثُمَّ سَلَّمَ

عبداللہ بن بحینہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دو رکعتیں پڑھا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور نہ بیٹھے تب لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے پس جب تمام کیا نماز کو اور انتظار کیا ہم نے سلام کا تکبیر کہی اور آپ ﷺ نے دو سجدے کئے بیٹھے بیٹھے قبل سلام کے پھر سلام پھیرا۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from al-Araj that Abdullah ibn Buhayna said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, prayed two rakas with us and then stood without sitting and the people stood with him. When he had finished the prayerand we had seen him say the taslim, he said Allah is greater and did two sajdas from the sitting position and then said the taslim again."

201Mauwatta Imam Malik

جو شخص نماز پڑھ کر یا دو رکعتیں پڑھ کر کھڑا ہوجائے اسکا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَامَ فِي اثْنَتَيْنِ وَلَمْ يَجْلِسْ فِيهِمَا فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ

عبداللہ بن بحینہ سے روایت ہے کہ نماز پڑھائی رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی پھر کھڑے ہوگئے دو رکعتیں پڑھ کر اور نہ بیٹھے تو جب پورا کرچکے نماز کو دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا بعد اس کے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Abd ar-Rahman ibn Hurmuz that Abdullah ibn Buhayna said, "The Messengerof Allah, may Allah bless him and grant him peace, prayed dhuhr with us and he stood straight up after two rakas without sitting. When he had finished the prayer, he did two sajdas and then said the taslim after that." Malik said, concerning someone who forgot in his prayer and stood up after he had completed four rakas and recited and then went into ruku and then, when he raised his head from ruku, remembered that he had already completed (his prayer), "He returns to a sitting position and does not do any sajda. If he has already done one sajda I do not think he should do the other. Then when his prayer is finished he does two sajdas from the sitting position after saying the taslim."

202Mauwatta Imam Malik

نماز میں اس چیز کی طرف دیکھنے کا بیان جو غافل کر دے نماز سے

حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ أُمِّهِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَهْدَی أَبُو جَهْمِ بْنُ حُذَيْفَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةً شَامِيَّةً لَهَا عَلَمٌ فَشَهِدَ فِيهَا الصَّلَاةَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ رُدِّي هَذِهِ الْخَمِيصَةَ إِلَی أبِي جَهْمٍ فَإِنِّي نَظَرْتُ إِلَی عَلَمِهَا فِي الصَّلَاةِ فَکَادَ يَفْتِنُنِي

مرجانہ سے روایت ہے کہ عائشہ نے فرمایا کہ ابوجہم بن حذیفہ نے تحفہ بھیجی ایک چادر شام کی رسول اللہ ﷺ کے واسطے جس میں نقش تھے تو نماز کو آئے آپ ﷺ اس کو اوڑھ کر پھر جب فارغ ہوئے نماز سے فرمایا کہ پھیر دے یہ چادر ابوجہم کو کیونکہ میں نے دیکھا اس کے بیل بوٹوں کو نماز میں پس قریب تھا کہ غافل ہوجاؤں میں۔

Yahya related to me from Malik from AIqama ibn Abi AIqama from his mother that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "Abu Jahm ibn Hudhayfa gave the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, a fine striped garment from Syria and he did the prayer in it. When he had finished he said, Give this garment back to Abu Jahm. I lookedat its stripes in the prayer and they almost distracted me. "

203Mauwatta Imam Malik

نماز میں اس چیز کی طرف دیکھنے کا بیان جو غافل کر دے نماز سے

حَدَّثَنِي مَالِک عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ خَمِيصَةً لَهَا عَلَمٌ ثُمَّ أَعْطَاهَا أَبَا جَهْمٍ وَأَخَذَ مِنْ أَبِي جَهْمٍ أَنْبِجَانِيَّةً لَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلِمَ فَقَالَ إِنِّي نَظَرْتُ إِلَی عَلَمِهَا فِي الصَّلَاةِ

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک چادر شام کی بنی ہوئی نقشی بھیجی پھر وہ چادر ابوجہم کو دے دی اور ایک چادر موٹی سادی لے لی تو ابوجہم نے کہا کیوں ایسا یا رسول اللہ ﷺ؟ فرمایا میں نے نماز میں اس کو نقش ونگار کی طرف دیکھا۔

Malik related to me from Hisham ibn Urwa from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, wore a fine striped garment f rom Syria, and then gave it to Abu Jahm and took a plain, rough, garment in return. Abu Jahm asked, "Messenger of Allah! Why?" He said, "I looked at its stripes in the prayer."

204Mauwatta Imam Malik

نماز میں اس چیز کی طرف دیکھنے کا بیان جو غافل کر دے نماز سے

حَدَّثَنِي مَالِک عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ کَانَ يُصَلِّي فِي حَائِطِهِ فَطَارَ دُبْسِيٌّ فَطَفِقَ يَتَرَدَّدُ يَلْتَمِسُ مَخْرَجًا فَأَعْجَبَهُ ذَلِکَ فَجَعَلَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ سَاعَةً ثُمَّ رَجَعَ إِلَی صَلَاتِهِ فَإِذَا هُوَ لَا يَدْرِي کَمْ صَلَّی فَقَالَ لَقَدْ أَصَابَتْنِي فِي مَالِي هَذَا فِتْنَةٌ فَجَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ لَهُ الَّذِي أَصَابَهُ فِي حَائِطِهِ مِنْ الْفِتْنَةِ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ صَدَقَةٌ لِلَّهِ فَضَعْهُ حَيْثُ شِئْتَ

عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ابوطلحہ انصاری نماز پڑھ رہے تھے باغ میں تو ایک چڑیا اڑی اور ڈھونڈے لگی راہ نکلنے کی کیونکہ باغ اس قدر گنجان تھا اور پیڑ آپس میں ملے ہوئے تھے کہ چڑیا کو جگہ نکلنے کی نہ ملتی تھی پس پسند آیا ان کو یہ امر اور خوش ہوئے اپنے باغ کا یہ حال دیکھ کر تو ایک گھڑی تک اس طرف دیکھتے رہے پھر خیال آیا نماز کا سو بھول گیا کہ کتنی رکعتیں پڑھیں تب کہا مجھے آزمایا اللہ جل جلالہ نے اس مال سے تو آئے رسول اللہ ﷺ کے پاس اور بیان کیا جو کچھ باغ میں قصہ ہوا تھا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ باغ صدقہ ہے واسطے اللہ کے اور صرف کریں اس کو جہاں آپ ﷺ چاہیں۔

Malik related to me from Abdullah ibn Abi Bakr that Abu Talha al-Ansari was praying in his garden when a wild pigeon flew in and began to fly to and fro trying to find a way out. The sight was pleasing to him and he let his eyes follow the bird for a time and then he went back to his prayer but could not remember how much he had prayed. He said, "A trial has befallen me in this property of mine." So he came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and mentioned the trial that had happened to him in his garden and said, "Messenger of Allah, it is a sadaqa for Allah, so dispose of it wherever you wish."

205Mauwatta Imam Malik

نماز میں اس چیز کی طرف دیکھنے کا بیان جو غافل کر دے نماز سے

حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ کَانَ يُصَلِّي فِي حَائِطٍ لَهُ بِالْقُفِّ وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ الْمَدِينَةِ فِي زَمَانِ الثَّمَرِ وَالنَّخْلُ قَدْ ذُلِّلَتْ فَهِيَ مُطَوَّقَةٌ بِثَمَرِهَا فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَأَعْجَبَهُ مَا رَأَی مِنْ ثَمَرِهَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَی صَلَاتِهِ فَإِذَا هُوَ لَا يَدْرِي کَمْ صَلَّی فَقَالَ لَقَدْ أَصَابَتْنِي فِي مَالِي هَذَا فِتْنَةٌ فَجَائَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ فَذَکَرَ لَهُ ذَلِکَ وَقَالَ هُوَ صَدَقَةٌ فَاجْعَلْهُ فِي سُبُلِ الْخَيْرِ فَبَاعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بِخَمْسِينَ أَلْفًا فَسُمِّيَ ذَلِکَ الْمَالُ الْخَمْسِينَ

عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ایک شخص انصار میں سے نماز پڑھ رہا تھا اپنے باغ میں اور وہ باغ قف میں تھا جو نام ہے ایک وادی کا جو مدینہ کی وادیوں میں سے ہے ایسے موسم میں کہ کھجور پک کر لٹک رہی تھی گویا پھلوں کے طوق شاکوں کے گلوں میں پڑے تھے تو اس نے نماز میں اس طرف دیکھا اور نہایت پسند کیا پھلوں کو پھر جب خیال کیا نماز کا تو بھول گیا کتنی رکعتیں پڑھیں تو کہا کہ مجھے اس مال میں آزمائش ہوئی اللہ جل جلالہ کی پس آیا حضرت عثمان کے پاس اور وہ ان دنوں خلیفہ تھے رسول اللہ ﷺ کے اور بیان کیا ان سے یہ قصہ پھر کہا کہ وہ صدقہ ہے تو صرف کرو اس کو نیک راہوں میں پس بیچا اس کو حضرت عثمان نے پچاس ہزار کا اور اس مال کا نام ہوگیا پچاس ہزارہ۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr that a man from the Ansar was praying in a garden of his in Quff, one of the valleys of Madina, during the date season and the palms branches were weighed down with fruit on all sides. He looked at them and what he saw of their fruits amazed him. Then he went back to his prayer and he did not know how much he had prayed. He said, "A trial has befallen me in this property of mine." So he went toUthman ibn Affan, who was the khalifa at the time, and mentioned it to him and said, "It is sadaqa, so give it away in the paths of good." Uthman ibn Affan sold it for fifty thousand and so that property became known as the Fifty.