ذمیوں کے دسویں حصہ کا بیان
عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ غُلَامًا عَامِلًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَلَی سُوقِ الْمَدِينَةِ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَکُنَّا نَأْخُذُ مِنْ النَّبَطِ الْعُشْرَ
سائب بن یزید سے روایت ہے کہ میں عامل تھا عبداللہ بن عتبہ کے ساتھ مدینہ منورہ کے بازار میں تو ہم لیتے تھے نبط کے کفار سے دسواں حصہ۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that as-Saib ibn Yazid said, "As a young man I used to work with Abdullah ibn Utba ibn Masud in the market of Madina in the time of Umar ibn al-Khattab and we used to take a tenth from the Nabateans."
ذمیوں کے دسویں حصہ کا بیان
عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَلَی أَيِّ وَجْهٍ کَانَ يَأْخُذُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ النَّبَطِ الْعُشْرَ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ کَانَ ذَلِکَ يُؤْخَذُ مِنْهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَلْزَمَهُمْ ذَلِکَ عُمَرُ
امام مالک نے پوچھا ابن شہاب سے کہ حضرت عمر کفار نبط سے دسواں حصہ کیسے لیتے تھے تو ابن شہاب نے کہا کہ ایام جاہلیت میں ان لوگوں سے دسواں حصہ لیا جاتا تھا حضرت عمر نے وہی قائم رکھا ان پر۔
Yahya related to me from Malik that he had asked Ibn Shihab why Umar ibn al Khattab used to take a tenth from the Nabateans, and Ibn Shihab replied, "It used to be taken from them in the jahiliyya, and Umar imposed it on them."
زکوة دیکر پھر اس کو خرید کرنے یا پھیرنے کا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَقُولُ حَمَلْتُ عَلَی فَرَسٍ عَتِيقٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَکَانَ الرَّجُلُ الَّذِي هُوَ عِنْدَهُ قَدْ أَضَاعَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ مِنْهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَشْتَرِهِ وَإِنْ أَعْطَاکَهُ بِدِرْهَمٍ وَاحِدٍ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ کَالْکَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ
اسلم بن عددی سے روایت ہے کہ سنا میں نے عمر بن خطاب سے کہتے تھے میں نے ایک شخص کو عمدہ گھوڑا دے دیا اللہ کی راہ میں مگر اس شخص نے اس کو تباہ کیا تو میں نے قصد کیا کہ پھر اس سے خرید لوں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ سستا بیچ ڈالے گا سو پوچھا میں نے رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ نے فرمایا مت خرید اس کو اگرچہ وہ ایک درہم کا تجھے دے دے اس لئے کہ صدقہ دے کر پھر اس کو لینے والا ایسا ہے جیسے کتا قے کر کے پھر اس کو کھالے۔
Yahya related to me from Zayd ibn Aslam that his father said that he had heard Umar ibn al-Khattab say, "I once gave a noble horse to carry somebody in the way of Allah, and the man neglected it. I wished to buy it back from him and I thought that he would sell it cheaply. I asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, about it and he said, Do not buy it, even if he gives it to you for one dirham, for someone who takes back his sadaqa is like a dog swallowing its own vomit. "
زکوة دیکر پھر اس کو خرید کرنے یا پھیرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَمَلَ عَلَی فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَبْتَعْهُ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِکَ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے ایک گھوڑا دیا اللہ کی راہ میں پھر قصد کیا اس کے خرید نے کا تو پوچھا رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ نے فرمایا مت خرید اس کو اور نہ پھیر صدقہ کو۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that Umaribnal-Khattab gave a horse to carry some one in the way of Allah, and then he wished to buy it back. So he asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, about it, and he said, "Do not buy or take back your sadaqa." Yahya said that Malik was asked about whether a man who gave some sadaqa, and then found it being offered back to him for sale by some one other than the man to whom he had given it, could buy it or not, and he said, "I prefer that he leaves it."
جن لوگوں پر صدقہ فطر واجب ہے ان کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يُخْرِجُ زَکَاةَ الْفِطْرِ عَنْ غِلْمَانِهِ الَّذِينَ بِوَادِي الْقُرَی وَبِخَيْبَرَ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّ أَحْسَنَ مَا سَمِعْتُ فِيمَا يَجِبُ عَلَی الرَّجُلِ مِنْ زَکَاةِ الْفِطْرِ أَنَّ الرَّجُلَ يُؤَدِّي ذَلِکَ عَنْ کُلِّ مَنْ يَضْمَنُ نَفَقَتَهُ وَلَا بُدَّ لَهُ مِنْ أَنْ يُنْفِقَ عَلَيْهِ وَالرَّجُلُ يُؤَدِّي عَنْ مُکَاتَبِهِ وَمُدَبَّرِهِ وَرَقِيقِهِ کُلِّهِمْ غَائِبِهِمْ وَشَاهِدِهِمْ مَنْ کَانَ مِنْهُمْ مُسْلِمًا وَمَنْ کَانَ مِنْهُمْ لِتِجَارَةٍ أَوْ لِغَيْرِ تِجَارَةٍ وَمَنْ لَمْ يَکُنْ مِنْهُمْ مُسْلِمًا فَلَا زَکَاةَ عَلَيْهِ فِيهِ قَالَ مَالِک فِي الْعَبْدِ الْآبِقِ إِنَّ سَيِّدَهُ إِنْ عَلِمَ مَکَانَهُ أَوْ لَمْ يَعْلَمْ وَکَانَتْ غَيْبَتُهُ قَرِيبَةً وَهُوَ يَرْجُو حَيَاتَهُ وَرَجْعَتَهُ فَإِنِّي أَرَی أَنْ يُزَکِّيَ عَنْهُ وَإِنْ کَانَ إِبَاقُهُ قَدْ طَالَ وَيَئِسَ مِنْهُ فَلَا أَرَی أَنْ يُزَکِّيَ عَنْهُ قَالَ مَالِک تَجِبُ زَکَاةُ الْفِطْرِ عَلَی أَهْلِ الْبَادِيَةِ کَمَا تَجِبُ عَلَی أَهْلِ الْقُرَی وَذَلِکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَکَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَی النَّاسِ عَلَی کُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثَی مِنْ الْمُسْلِمِينَ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر صدقہ فطر نکالتے اپنے غلاموں کی طرف سے جو وادی قری اور خیبر میں تھے۔ کہا مالک نے جو بہتر سنا ہے اس باب میں وہ یہ ہے کہ آدمی اس شخص کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے جس کا نان ونفقہ اس پر واجب ہے اور اس پر خرچ کرنا ضروری ہے اور اپنے غلام اور مکاتب اور مدبر اور سب کی طرف سے صدقہ ادا کرے خواہ یہ غلام حاضر ہوں یا غائب شرط یہ ہے کہ وہ مسلمان ہوں تجارت کے واسطے ہوں یا نہ ہوں اور جو ان میں مسلمان نہ ہو اس کی طرف سے صدقہ فطر نہ دے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to pay the zakat al-fitr for those slaves of his that were at Wadil-Qura and Khaybar.
صدقہ فطر کی مقدار کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَکَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَی النَّاسِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَی کُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثَی مِنْ الْمُسْلِمِينَ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر مقرر کیا لوگوں پر ایک صاع کھجور کا اور ایک صاع جَو کا ہر آزاد اور ہر غلام پر مرد ہو یا عورت مسلمانوں میں سے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, made the zakat of breaking the fast at the end of Ramadan obligatory on every muslim, whether freeman or slave, male or female, and stipulated it as a sa of dates or a sa of barley.
صدقہ فطر کی مقدار کا بیان
عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ الْعَامِرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ کُنَّا نُخْرِجُ زَکَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ وَذَلِکَ بِصَاعِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عیاض بن عبداللہ نے سنا ابوسعید خدری ؓ سے ہم نکالتے تھے صدقہ فطر ایک صاع گیہوں سے یا ایک صاع جَو سے یا ایک صاع کھجور سے یا ایک صاع پنیر سے یا ایک صاع انگور خشک سے نبی ﷺ کے صاع سے۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from lyad ibn Abdullah ibn Sad ibn Abi Sarh al-Amiri that he had heard Abu Said al-Khudri say, "We used to pay the zakat al-fitr with a sa of wheat, or a sa of barley, or a sa of dates, or a sa of dried sour milk, or a sa of raisins, using the sa of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace . "
صدقہ فطر کی مقدار کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ لَا يُخْرِجُ فِي زَکَاةِ الْفِطْرِ إِلَّا التَّمْرَ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً فَإِنَّهُ أَخْرَجَ شَعِيرًا
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر صدقہ فطر میں ہمیشہ کھجور دیا کرتے تھے مگر ایک بار جو دئیے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar would always pay the zakat al-fitr in dates, except once, when he paid it in barley. Maliksaid, "Payment of all types of kaffara, of zakat al-fitr and of the zakat on grains for which a tenth or a twentieth is due, is made using the smaller mudd, which is the mudd of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, except in the case of dhihar divorce, when the kaffara is paid using the mudd of Hisham, which is the larger mudd."
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَبْعَثُ بِزَکَاةِ الْفِطْرِ إِلَی الَّذِي تُجْمَعُ عِنْدَهُ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ رَأَی أَهْلَ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يُخْرِجُوا زَکَاةَ الْفِطْرِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ مِنْ يَوْمِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوا إِلَی الْمُصَلَّی
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر صدقہ فطر بھیج دیا کرتے تھے عید سے دو تین روز پہلے اس شخص کے پاس جہاں صدقہ فطر جمع ہوا کرتا تھا۔ کہا مالک نے میں نے دیکھا اہل علم کو وہ مستحب جانتے تھے صدقہ فطر کو نکالنا جب فجر ہو عید کی قبل نماز کے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to send the zakat al-fitr to the one with whom it was collected together two or three days before the day of breaking the fast.