ہدی ہانکنے کی ترکیب کا بیان
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دِينَارٍ مَا کَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَصْنَعُ بِجِلَالِ بُدْنِهِ حِينَ کُسِيَتْ الْکَعْبَةُ هَذِهِ الْکِسْوَةَ قَالَ کَانَ يَتَصَدَّقُ بِهَا
امام مالک نے پوچھا عبداللہ بن دینار سے کہ عبداللہ بن عمر اونٹ کی جھول کا کیا کرتے تھے جب کعبہ شریف کا غلاف بن گیا تھا؟ انہوں نے کہا صدقہ میں دے دیتے تھے
Yahya related to me from Malik that he asked Abdullah ibn Dinar what Abdullah ibn Umar used to do with the drapings of his animals when the Kaba began to be draped with the kiswa, and he said, "He gave them away as sadaqa."
ہدی ہانکنے کی ترکیب کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ فِي الضَّحَايَا وَالْبُدْنِ الثَّنِيُّ فَمَا فَوْقَهُ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے قربانی کے لئے پانچ برس یا زیادہ کا اونٹ ہونا چاہیے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to say, about sacrificial animals, "Six-year-old camels, three-year-old cows and sheep, or older than these."
ہدی ہانکنے کی ترکیب کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ لَا يَشُقُّ جِلَالَ بُدْنِهِ وَلَا يُجَلِّلُهَا حَتَّی يَغْدُوَ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَةَ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر اپنے اونٹوں کے جھول نہیں پھاڑتے تھے اور نہ جھول پہناتے تھے یہاں تک کہ عرفہ کو جاتے منیٰ سے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar never used to tear the drapes of his sacrificial animals, and he would not drape them until he went from Mina to Arafa.
ہدی ہانکنے کی ترکیب کا بیان
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لِبَنِيهِ يَا بَنِيَّ لَا يُهْدِيَنَّ أَحَدُکُمْ مِنْ الْبُدْنِ شَيْئًا يَسْتَحْيِي أَنْ يُهْدِيَهُ لِکَرِيمِهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَکْرَمُ الْکُرَمَائِ وَأَحَقُّ مَنْ اخْتِيرَ لَهُ
عروہ بن زبیر اپنے بیٹوں سے کہتے تھے اے میرے بیٹو! اللہ کے لئے تم میں سے کوئی ایسا اونٹ نہ دے جو آپ اپنے دوست کو دیتے ہوئے شرماتے ہو اس لئے کہ اللہ جل جلالہ سب کریموں سے کریم ہے اور زیادہ حقدار ہے اس امر کا کہ اس کے واسطے چیز چن کردی جائے۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father used to say to his sons, "My sons, let none of you sacrifice any animal which he would be ashamed to sacrifice for a noble woman, for surely Allah is the noblest of noble ones, and the most deserving of those for whom things are chosen."
جب ہدی مر جائے یا چلنے سے عاجز ہوجائے یا کھو جائے اس کا بیان
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ صَاحِبَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنْ الْهَدْيِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ بَدَنَةٍ عَطِبَتْ مِنْ الْهَدْيِ فَانْحَرْهَا ثُمَّ أَلْقِ قِلَادَتَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ يَأْکُلُونَهَا
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ہدی لے جانے والے نے پوچھا آپ ﷺ سے یا رسول اللہ ﷺ جو ہدی راستے میں ہلاک ہونے لگے اس کا کیا کروں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو اونٹ ہدی کا ہلاک ہونے لگے اس کو نحر کر اور اس کے گلے میں جو قلادہ پڑا تھا وہ اس کے خون میں ڈال دے پھر اس کو چھوڑ دے کہ لوگ کھا لیں اس کو۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that the man who was in charge of the sacrificial animal of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Messenger of Allah, what should I do with a sacrificial animal that gets injured?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "Slaughter any sacrificial animal that is injured. Then throw the garlands in its blood, and then give the people a free hand in eating it.
جب ہدی مر جائے یا چلنے سے عاجز ہوجائے یا کھو جائے اس کا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ مَنْ سَاقَ بَدَنَةً تَطَوُّعًا فَعَطِبَتْ فَنَحَرَهَا ثُمَّ خَلَّی بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ يَأْکُلُونَهَا فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْئٌ وَإِنْ أَکَلَ مِنْهَا أَوْ أَمَرَ مَنْ يَأْکُلُ مِنْهَا غَرِمَهَا،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ
سعید بن مسیب نے کہا جو شخص ہدی کا اونٹ لے جائے پھر وہ تلف ہونے لگے اور وہ اس کو نحر کر کے چھوڑ دے کہ لوگ اس میں سے کھائیں تو اس پر کچھ الزام نہیں ہے البتہ اگر خود اس میں سے کھائے یا کسی کو کھانے کا حکم دے تو تاوان لازم ہوگا، عبداللہ بن عباس نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Said ibn al-Musayyab said, "If someone dedicates an animal voluntarily and then it is injured and he kills it and gives everyone a free hand in eating it, he owes nothing. If, however, he eats some of it himself, or tells certain other people to eat it, then he owes compensation."Yahya related to me from Malik from Thawr ibn Zayd ad-Dili from Abdullah ibn Abbas the same as that.
جب ہدی مر جائے یا چلنے سے عاجز ہوجائے یا کھو جائے اس کا بیان
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَهْدَی بَدَنَةً جَزَائً أَوْ نَذْرًا أَوْ هَدْيَ تَمَتُّعٍ فَأُصِيبَتْ فِي الطَّرِيقِ فَعَلَيْهِ الْبَدَلُ
ابن شہاب نے کہا جو شخص اونٹ جزا کا یا نذر کا یا تمتع کا لے گیا پھر وہ راستے میں تلف ہوگیا تو اس پر اس کا عوض لازم ہے۔
Yahya related to me from Malik that Ibn Shihab said, "If someone dedicates an animal as compensation, or for a vow, or as the sacrifice for tamattu, and misfortune befalls it on the road, he must provide a substitute."
جب ہدی مر جائے یا چلنے سے عاجز ہوجائے یا کھو جائے اس کا بیان
عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَهْدَی بَدَنَةً ثُمَّ ضَلَّتْ أَوْ مَاتَتْ فَإِنَّهَا إِنْ کَانَتْ نَذْرًا أَبْدَلَهَا وَإِنْ کَانَتْ تَطَوُّعًا فَإِنْ شَائَ أَبْدَلَهَا وَإِنْ شَائَ تَرَکَهَا
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا جو شخص اونٹ ہدی کا لے جائے پھر وہ راستے میں مرجائے یا گم ہوجائے تو اگر نذر کو ہو تو اس کا عوض دے اور جو نفل ہو تو چاہے عوض دے چاہے نہ دے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said, "If someone dedicates an animal and then it goes astray or dies, he should provide a substitute, if it was for a vow. If, however, it was voluntary, then he can either provide a substitute for it or not, as he wishes."
محرم جب اپنی بیوی سے صحبت کرے اس کی ہدی کا بیان
عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ سُئِلُوا عَنْ رَجُلٍ أَصَابَ أَهْلَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِالْحَجِّ فَقَالُوا يَنْفُذَانِ يَمْضِيَانِ لِوَجْهِهِمَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا ثُمَّ عَلَيْهِمَا حَجُّ قَابِلٍ وَالْهَدْيُ قَالَ وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَإِذَا أَهَلَّا بِالْحَجِّ مِنْ عَامٍ قَابِلٍ تَفَرَّقَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا
امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب اور علی بن ابی طالب اور ابوہریرہ ؓ سوال ہوا کہ ایک شخص نے جماع کیا اپنی بی بی سے احرام میں وہ کیا کرے ان سب نے جواب دیا کہ وہ دونوں حج کے ارکان ادا کرتے جائیں یہاں تک کہ حج پورا ہوجائے پھر آئندہ سال ان پر حج اور ہدی لازم ہے۔ حضرت علی نے یہ بھی فرمایا کہ پھر آئندہ سال جب حج کریں تو دونوں جدا جدا رہیں یہاں تک کہ حج پورا ہوجائے۔
Yahya related to me from Malik that he had heard that Umar ibn al-Khattab and AIi ibn Abi Talib and Abu Hurayra were asked about a man who had intercourse with his wife while he was in ihram on hajj. They said, "The two of them should carry on and complete their hajj. Then they must do hajj again in another year, and sacrifice an animal." Malik added that AIi ibn Abi Talib said, "When they then go into ihram for hajj in a future year they should keep apart until they have completed their hajj."
محرم جب اپنی بیوی سے صحبت کرے اس کی ہدی کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ مَا تَرَوْنَ فِي رَجُلٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ الْقَوْمُ شَيْئًا فَقَالَ سَعِيدٌ إِنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَبَعَثَ إِلَی الْمَدِينَةِ يَسْأَلُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا إِلَی عَامٍ قَابِلٍ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ لِيَنْفُذَا لِوَجْهِهِمَا فَلْيُتِمَّا حَجَّهُمَا الَّذِي أَفْسَدَاهُ فَإِذَا فَرَغَا رَجَعَا فَإِنْ أَدْرَکَهُمَا حَجٌّ قَابِلٌ فَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ وَالْهَدْيُ وَيُهِلَّانِ مِنْ حَيْثُ أَهَلَّا بِحَجِّهِمَا الَّذِي أَفْسَدَاهُ وَيَتَفَرَّقَانِ حَتَّی يَقْضِيَا حَجَّهُمَا
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا سعید بن مسیب سے وہ کہتے تھے لوگوں سے تم کیا کہتے ہو اس شخص کے بارے میں جس نے جماع کیا اپنی عورت سے، احرام کی حالت میں تو لوگوں نے کچھ جواب نہ دیا تب سعید نے کہا کہ ایک شخص نے ایسا ہی کیا تھا تو اس نے مدینہ میں کسی کو بھیجا دریافت کرنے کے لئے بعض لوگوں کے پاس، بعض لوگوں نے کہا کہ میاں بیوی میں ایک سال تک جدائی کی جائے، سعید نے کہا دونوں حج کرنے چلے جائیں اور اس حج کو پورا کریں جو فاسد کردیا ہے جب فارغ ہو کر لوٹیں تو دوسرے سال اگر زندہ رہیں تو پھر حج کریں اور ہدی دیں اور دوسرے حج کا احرام وہیں سے باندھیں جہاں سے پہلے حج کا احرام باندھا تھا اور مرد عورت جدا رہیں جب تک فارغ نہ ہوں حج سے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that he heard Said ibn al-Musayyab asking a group of people, "What do you think about someone who has intercourse with his wife while he is in ihram?" and none of them answered him. Said said, "There is a man who has had intercourse with his wife while in ihram who has sent a message to Madina asking about it." Some of them said, "They should be kept apart until a future year," and Said ibn al-Musayyab said, "They should carry on and complete the hajj which they have spoiled, and then return home when they have finished. If another hajj comes upon them, they must do hajj and sacrifice an animal. They should go into ihram at the same place where they went into ihram for the hajj that they spoiled, and they should keep apart until they have finished their hajj." Malik said, "They should both sacrifice an animal." Malik said, about a man who had intercourse with his wife during hajj after he had come down from Arafa but before he had stoned the Jamra, "He must sacrifice an animal and do hajj again in another year. If, however, he had intercourse with his wife after he stoned the Jamra, he only has to do an umra and sacrifice an animal and he does not have to do another hajj." Malik said, "What spoils a hajj or an umra and makes sacrificing an animal and repeating the hajj necessary is the meeting of the two circumcised parts, even if there is no emission. It is also made necessary by an emission if it is the result of bodily contact. I do not think that a man who remembers something and has an emission owes anything, and if a man were to kiss his wife and no emission were to occur from that, he would only have to sacrifice an animal. A woman in ihram who has intercourse with her husband several times during hajj or umra out of obedience to him only has to do another hajj and sacrifice an animal. That is if her husband has intercourse with her while she is doing hajj. If he has intercourse with her while she is doing umra, she must repeat the umra she has spoiled and sacrifice an animal."
جس شخص کو حج نہ ملے اس کی ہدی کا بیان
عَنْ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ خَرَجَ حَاجًّا حَتَّی إِذَا کَانَ بِالنَّازِيَةِ مِنْ طَرِيقِ مَکَّةَ أَضَلَّ رَوَاحِلَهُ وَإِنَّهُ قَدِمَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَوْمَ النَّحْرِ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ عُمَرُ اصْنَعْ کَمَا يَصْنَعُ الْمُعْتَمِرُ ثُمَّ قَدْ حَلَلْتَ فَإِذَا أَدْرَکَکَ الْحَجُّ قَابِلًا فَاحْجُجْ وَأَهْدِ مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ابوایوب انصاری حج کرنے کو نکلے جب نازیہ میں پہنچے مکہ کے راستے میں تو ان کا اونٹ گم ہوگیا سو آئے وہ مکہ میں حضرت عمر بن خطاب کے پاس دسویں تاریخ کو ذی الحجہ کی اور بیان کیا ان سے حضرت عمر نے فرمایا کہ عمرہ کرلے اور احرام کھول ڈال پھر آئندہ سال حج کے دن آئیں تو حج کر اور ہدی دے موافق اپنی طاقت کے۔
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said that Sulayman ibn Yasar told him that Abu Ayyub al-Ansari once set off to do hajj and then, when he reached an-Naziya, on the road to Makka, his riding beasts strayed. He reached Umar ibn al-Khattab on the day of sacrifice and told him what had happened and Umar said, "Do what someone doing umra would do, and then you can leave ihram, and then when the hajj next comes upon you, do it and sacrifice whatever animal is easy for you ."
جس شخص کو حج نہ ملے اس کی ہدی کا بیان
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ هَبَّارَ بْنَ الْأَسْوَدِ جَائَ يَوْمَ النَّحْرِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَنْحَرُ هَدْيَهُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَخْطَأْنَا الْعِدَّةَ کُنَّا نَرَی أَنَّ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمُ عَرَفَةَ فَقَالَ عُمَرُ اذْهَبْ إِلَی مَکَّةَ فَطُفْ أَنْتَ وَمَنْ مَعَکَ وَانْحَرُوا هَدْيًا إِنْ کَانَ مَعَکُمْ ثُمَّ احْلِقُوا أَوْ قَصِّرُوا وَارْجِعُوا فَإِذَا کَانَ عَامٌ قَابِلٌ فَحُجُّوا وَأَهْدُوا فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ہبار بن اسود آئے یوم النحر کو اور عمر بن خطاب نحر کر رہے تھے اپنی ہدی کا تو کہا انہوں نے اے امیر المومنیں ہم نے تاریخ کے شمار میں غلطی کی ہم سمجھتے تھے کہ آج عرفہ کا روز ہے حضرت عمر نے کہا مکہ کو جاؤ اور تم اور تمہارے ساتھی سب طواف کرو اگر کوئی ہدی تمہارے ساتھ ہو تو اس کو نحر کر ڈالو پھر حلق کرو یا قصر اور لوٹ جاؤ اپنے وطن کو، آئندہ سال آؤ اور حج کرو اور ہدی دو جس کو ہدی نہ ملے وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات روزے جب لوٹے تب رکھے۔
Malik related to me from Nafi from Sulayman ibn Yasar that Habbar ibn al-Aswad arrived on the day of sacrifice while Umar ibn al-Khattab was sacrificing his animal and said, "Amir al-muminin, we made a mistake in our reckoning and we thought that today was the day of Arafa." Umar said, "Go to Makka, you and whoever else is with you, and do tawaf and sacrifice your animal if you have one with you. Then shave or cut your hair and return home. Then, in another year, do hajj and sacrifice an animal, and if you cannot find one, fast three days on hajj and seven when you return home." Malik said, "Someone who intends to do hajj and umra together and then misses the hajj must do hajj again in another year, doing hajj with umra, and offer two sacrificial animals, one for doing the hajj with umra, and one for the hajj that he has missed."
جو شخص صبحت کرے اپنی بی بی سے قبل طواف الزیادہ کے اس کی ہدی کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ وَقَعَ بِأَهْلِهِ وَهُوَ بِمِنًی قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْحَرَ بَدَنَةً
عبداللہ بن عباس سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے صحبت کی اپنی بی بی سے اور وہ منیٰ میں تھا قبل طواف زیارہ کے، تو حکم کیا اس کو عبداللہ بن عباس نے ایک اونٹ نحر کرنے کا۔
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zubayr al-Makki from Ata ibn Abi Rabah that Abdullah ibn Abbas was asked about a man who had had intercourse with his wife while at Mina before he had done the tawaf al-ifada, and he told him to sacrifice an animal.
جو شخص صبحت کرے اپنی بی بی سے قبل طواف الزیادہ کے اس کی ہدی کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَا أَظُنُّهُ إِلَّا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ الَّذِي يُصِيبُ أَهْلَهُ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ يَعْتَمِرُ وَيُهْدِي عَنْ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ فِي ذَلِكَ مِثْلَ قَوْلِ عکرمۃ عن ابن عباس
عبداللہ بن عباس نے کہا جو شخص صحبت کرے اپنی بی بی سے قبل طواف زیارہ کے تو وہ ایک عمرہ کرے اور ہدی دے۔ ربیعہ بن ابی عبدالرحمن نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔
Yahya related to me from Malik from Thawr ibn Zayd ad-Dili that lkrama, the mawla of Ibn Abbas (RA) , said, (and Thawr believed it to be from Abdullah ibn Abbas), "Someone who has intercourse with his wife before he has done the tawaf al-ifada should do an umra and sacrifice an animal."
موافق طاقت کے ہدی کیا چیز ہے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ کَانَ يَقُولُ مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ شَاةٌ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ کَانَ يَقُولُ مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ شَاةٌ
حضرت علی فرماتے تھے کہ مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ سے مراد ایک بکری ہے۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عباس کہتے تھے مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ سے ایک بکری مراد ہے۔
Yahya related to me from Malik from Jafar ibn Muhammad from his father that Ali ibn Abi Talib used to say, "The least difficult thing acceptable as a sacrificial animal is a sheep."
موافق طاقت کے ہدی کیا چیز ہے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ بَدَنَةٌ أَوْ بَقَرَةٌ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ سے ایک بکری یا گائے مراد ہے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Urnar used to say, "The least thing that is acceptable as a sacrificial animal is a camel or a cow."
موافق طاقت کے ہدی کیا چیز ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ مَوْلَاةً لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُقَالُ لَهَا رُقَيَّةُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا خَرَجَتْ مَعَ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَی مَکَّةَ قَالَتْ فَدَخَلَتْ عَمْرَةُ مَکَّةَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَأَنَا مَعَهَا فَطَافَتْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ دَخَلَتْ صُفَّةَ الْمَسْجِدِ فَقَالَتْ أَمَعَکِ مِقَصَّانِ فَقُلْتُ لَا فَقَالَتْ فَالْتَمِسِيهِ لِي فَالْتَمَسْتُهُ حَتَّی جِئْتُ بِهِ فَأَخَذَتْ مِنْ قُرُونِ رَأْسِهَا فَلَمَّا کَانَ يَوْمُ النَّحْرِ ذَبَحَتْ شَاةً
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ایک آزاد لونڈی عمرہ بنت عبدالرحمن کی جس کا نام رقیہ تھا مجھ سے کہتی تھی کہ میں چلی عمرہ بنت عبدالرحمن کے ساتھ مکہ کو تو آٹھویں تاریخ ذی الحجہ کی وہ مکہ میں پہنچیں اور میں بھی ان کے ساتھ تھی تو طواف کیا خانہ کعبہ کا اور سعی کی صفا اور مروہ کے درمیان میں پھر عمرہ مسجد کے اندر گئیں اور مجھ سے کہا کہ تیرے پاس قینچی ہے میں نے کہا نہیں عمرہ نے کہا کہیں سے ڈھونڈھ کر لاؤ سو میں ڈھونڈھ کر لائی عمرہ نے اپنی لٹیں بالوں کی اس سے کاٹیں جب یوم النحر ہوا تو ایک بکری ذبح کی۔
Yahya related to me from Malik fromAbdullah ibn Abi Bakr that a mawla of Amir bint Abd ar-Rahman called Ruqayya told him that she once set out with Amra bint Abd ar-Rahman to go to Makka. She said, Amra entered Makka on the eighth of Dhul-Hijja, and I was with her. She did tawaf of the House, and say between Safa and Marwa, and then entered the back of the mosque. She asked me, Do you have a pair of scissors with you? and I said, No. She said, Then try and find some for me. I went and looked for some and brought them back and she cut some hair from the tresses of her head.Then, on the day of sacrifice, she slaughtered a sheep."
مختلف حدیثیں ہدی کے بیان میں
عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ الْمَکِّيِّ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ جَائَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَقَدْ ضَفَرَ رَأْسَهُ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي قَدِمْتُ بِعُمْرَةٍ مُفْرَدَةٍ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ کُنْتُ مَعَکَ أَوْ سَأَلْتَنِي لَأَمَرْتُکَ أَنْ تَقْرِنَ فَقَالَ الْيَمَانِي قَدْ کَانَ ذَلِکَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ خُذْ مَا تَطَايَرَ مِنْ رَأْسِکَ وَأَهْدِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ مَا هَدْيُهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ هَدْيُهُ فَقَالَتْ لَهُ مَا هَدْيُهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا أَنْ أَذْبَحَ شَاةً لَکَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَصُومَ
صدقہ بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص یمن کا رہنے والا آیا عبداللہ بن عمر کے پاس اور اس نے بٹ لیا تھا اپنے بالوں کو تو کہا اے ابا عبدالرحمن میں صرف عمرہ کا احرام باندھ کر آیا عبداللہ بن عمر نے کہا اگر تو میرے ساتھ ہوتا یا مجھ سے پوچھتا تو میں تجھے قران کا حکم کرتا اس شخص نے کہا اب تو ہوچکا عبداللہ بن عمر نے کہا کہ جتنے بال تیرے پریشان ہیں ان کو کتروا ڈال اور ہدی دے، ایک عورت عراق کی رہنے والی بوالی اے ابا عبدالرحمن کیا ہدی ہے اس کی؟ انہوں نے کہا جو ہدی ہے اس کی، اس عورت نے کہا کیا ہدی ہے؟ عبداللہ بن عمر نے کہا میرے نزدیک تو یہ ہے کہ اگر مجھے سوا بکری کے کچھ نہ ملے تب بھی بکری ذبح کرنا بہتر ہے روزے رکھنے سے۔
Yahya related to me from Malik from Sadaqa ibn Yasar al-Makki that a man from the people of Yemen, who had his hair braided, came to Abdullah ibn Umar and said, "Abu Abd arRahman, I have come to do just umra. Abdullah ibn Umar said to him, "If I had been with you or you had asked me I would have told you to do hajj and umra together." The Yemeni answered, "I am doing what I am doing," and Abdullah ibn Umar said to him, "Cut off the locks that are hanging from your head and offer a sacrificial animal." A woman from Iraq said, "What should his sacrificial animal be, Abu Abd ar-Rahman?" and he said, "His sacrificial animal?" and she said to him, "What should his sacrificial animal be?" Abdullah ibn Umar said, "If I could only find a sheep to sacrifice, I would prefer to do that than to fast."
مختلف حدیثیں ہدی کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ إِذَا حَلَّتْ لَمْ تَمْتَشِطْ حَتَّی تَأْخُذَ مِنْ قُرُونِ رَأْسِهَا وَإِنْ کَانَ لَهَا هَدْيٌ لَمْ تَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهَا شَيْئًا حَتَّی تَنْحَرَ هَدْيَهَا
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو عورت احرام باندھے ہو جب احرام کھلوائے تو کنگھی نہ کرے جب تک اپنے بالوں کی لٹیں نہ کٹوا دے اور جو اس کے پاس ہدی ہو جب تک ہدی نحر نہ کرے تو اپنے بال نہ کتروائے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to say, "A woman in ihram should not comb her hair when she leaves ihram until she has cut some of the tresses of her hair, and if she has an animal for sacrifice with her she should not cut off any of her hair until the animal has been killed."
مختلف حدیثیں ہدی کے بیان میں
عَنْ أَبِي أَسْمَائَ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ فَخَرَجَ مَعَهُ مِنْ الْمَدِينَةِ فَمَرُّوا عَلَی حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ وَهُوَ مَرِيضٌ بِالسُّقْيَا فَأَقَامَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ حَتَّی إِذَا خَافَ الْفَوَاتَ خَرَجَ وَبَعَثَ إِلَی عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَسْمَائَ بِنْتِ عُمَيْسٍ وَهُمَا بِالْمَدِينَةِ فَقَدِمَا عَلَيْهِ ثُمَّ إِنَّ حُسَيْنًا أَشَارَ إِلَی رَأْسِهِ فَأَمَرَ عَلِيٌّ بِرَأْسِهِ فَحُلِّقَ ثُمَّ نَسَکَ عَنْهُ بِالسُّقْيَا فَنَحَرَ عَنْهُ بَعِيرًا قَالَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَکَانَ حُسَيْنٌ خَرَجَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي سَفَرِهِ ذَلِکَ إِلَی مَکَّةَ
ابو اسما سے جو مولیٰ ہیں عبداللہ بن جعفر کے روایت ہے کہ عبداللہ بن جعفر کے ساتھ وہ مدینہ سے نکلے تو گزرے حسین بن علی پر اور وہ بیمار تھے سقیا میں پس ٹھہرے رہے وہاں عبداللہ بن جعفر یہاں تک کہ جب خوف ہوا حج کے فوت ہوجانے کا تو نکل کھڑے ہوئے عبداللہ بن جعفر اور ایک آدمی بھیج دیا حضرت علی کے پاس اور ان کی بی بی اسما بنت عمیس کے پاس وہ دونوں مدینہ میں تھے تو آئے حضرت علی اور اسماء مدینہ سے امام حسین کے پاس انہوں نے اشارہ کیا اپنے سر کی طرف حضرت علی نے حکم کیا ان کا سر مونڈا گیا سقیا میں، پھر قربانی کی ان کی طرف سے ایک اونٹ کی وہیں سقیا میں، کہا یحییٰ بن سعید نے کہ امام حسین حضرت عثمان بن عفان کے ساتھ نکلے تھے حج کرنے کو۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Yaqub ibn Khalid al-Makhzumi that Abu Asma, the mawla of Abdullah ibn Jafar, told him that he was with Abdullah ibn Jafar when they set out once from Madina. At as-Suqya they passed by Husayn ibn Ali, who was ill at the time. Abdullah ibn Jafar stayed with him and then, when he feared that he was late (for the hajj) he left, and sent for Ali ibn Abi Talib and Asma bint Umays in Madina, and they came to Husayn. Then Husayn pointed to his head, and AIi told someone to shave his head. Then he sacrificed an animal for him at as-Suqya, killing a camel for him. Yahya ibn Said added, "Husayn had set out with Uthman ibn Affan on that particular journey to Makka. "