An-Naas 114:5

An-Naas · from ayah 5

114:5

الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ ۟ۙالَّذِىۡ يُوَسۡوِسُ فِىۡ صُدُوۡرِ النَّاسِۙ

جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who whispers [evil] into the breasts of mankind -

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 39 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naas

All translations of 114:5

جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو دلوں میں وسوسہ ڈالا ہے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے دلوں میں

— مولانا اسحاق مدنی

(وہی) جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

who whispers in the hearts of people;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the one who whispers in the hearts of people,

— Muhammad Taqi Usmani

the one who whispers in the hearts of people,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Who whispers in the breasts of An-Nas."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who whispereth in the hearts of mankind,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Who whispers [evil] into the breasts of mankind -

— Saheeh International

of jinn and human beings

— Muhammad Sarwar

Who whispers into the hearts of men,

— Muhammad Habib Shakir

Who whispereth Unto the breasts of mankind,

— Abdul Majid Daryabadi

(The same) who whispers into the hearts of Mankind,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 114:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ٭٭ اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہؤی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برت رصفات والے اللہ کی پناہ میں آجائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو وب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 5–6

سورة الناس 3 بعض اہل علم کے نزدیک ان الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ وسوسہ ڈالنے والا دو قسم کے لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، ایک جن، دوسرے انسان۔ اس بات کو اگر تسلیم کیا جائے تو لفظ ناس کا اطلاق جن اور انسان دونوں پر ہوگا۔ وہ کہتے ہیں ایسا ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآن میں جب رجال (مردوں) کا لفظ جنوں کے لیے استعمال ہوا ہے، جیسا کہ سورة جن آیت 6 میں ہم دیکھتے ہیں، اور جب نَفَر کا استعمال جنوں کے گروہ پر ہوسکتا ہے جیسا کہ سورة احقاف آیت 29 میں ہوا ہے، تو مجازا ناس کے لفظ میں بھی انسان اور جن دونوں شامل ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہ رائے اس لیے غلط ہے کہ ناس اور انس اور انسان کے الفاظ لغت ہی کے اعتبار سے لفظ جن کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–5

من شرالوسو اس الخناس، اللہ تعالیٰ کی تین صفات ذکر کر کے اب اس کا بیان ہے جس سے پناہ مانگنا مقصود ہے وہ ہے وسو اس خناس، وسو اس مصدر دراصل بمعنی وسوسہ ہے یہاں شیطان کو وسو اس مبالغتہ فرمایا گویا کہ وہ سراپا وسوسہ ہے اور وسوسہ کے معنی شیطان کا اپنی اطاعت کی طرف ایک مخفی کلام کے ذریعہ بلانا ہے جس کا مفہوم انسان کے دل میں آجائے اور کوئی آواز سنائی نہ دے (قرطبی) خناس، خنس کے مشتق ہے جس کے معنی پیچھے لوٹنے کے ہیں۔ شیطان کو خناس اس لئے کہا گیا کہ اس کی عادت یہ ہے کہ انسان جب اللہ کا نام لیتا ہے تو پیچھے بھاگتا ہے پھر جب ذرا غفلت ہوئی پھر آجاتا ہے پھر وہ اللہ کا نام نام لیتا ہے تو پھر پیچھے لوٹ جاتا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

شیطان کی ذات برادری: شیطان کے مشن کے ساتھ ساتھ یہ اس کی ذات برادری کی بھی نشان دہی کر دی گئی ہے تاکہ لوگ اس کو اچھی طرح پہچان لیں۔ فرمایا کہ اس کا اصل کام لوگوں کے سینوں میں وسوسہ اندازی ہے۔ ’صُدُوْرِ النَّاسِ‘ ظرف ہے لیکن مراد اس سے مظروف ہے یعنی دلوں میں وسوسہ اندازی۔ ’وسوسہ اندازی‘ کا مفہوم ظاہر ہے کہ لوگوں کو خدا کی صراط مستقیم سے برگشتہ کرنے کے لیے وسوسہ اندازی ہے۔ اس کا اظہار شیطان نے خود کر دیا ہے اور ہم ضروری حوالے اوپر نقل کر آئے ہیں۔ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے، جیسا کہ اوپر وضاحت ہو چکی ہے، اپنے بندوں پر کوئی اختیار اور تصرف نہیں بخشا ہے۔ وہ صرف وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ لوگوں کو بجبر و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–5

4۔ 1 الوسواس، بعض کے نزدیک اسم فاعل الموسوس کے معنی میں ہے اور بعض کے نزدیک یہ ذی الوسو اس ہے۔ وسوسہ، مخفی آواز کو کہتے ہیں، شیطان بھی نہایت غیر محسوس طریقوں سے انسان کے دل میں بری باتیں ڈال دیتا ہے اسی کو وسوسہ کہتے ہیں۔ الخناس (کھسک جانے والا یہ شیطان کی صفت ہے۔ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو یہ کھسک جاتا ہے اور اللہ کی یاد سے غفلت برتی جائے تو دل پر چھا جاتا ہے)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–5

3: ایک مستند حدیث میں حضور نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ : ”جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے، اس کے دل پر وسوسہ ڈالنے والا (شیطان) مسلط ہوجاتا ہے۔ جب وہ ہوش میں آ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو یہ وسوسہ ڈالنے والا پیچھے کو دبک جاتا ہے، اور جب وہ غافل ہوتا ہے تو دوبارہ آ کر وسوسے ڈالتا ہے۔“ (روح المعانی بحوالہ حاکم وابن المنذر و ضیاء)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 5–6

8 شیطان جنوں میں بھی ہیں اور آدمیوں میں بھی۔ (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا) 6 ۔ الانعام :112) اللہ تعالیٰ دونوں سے پناہ میں رکھے (تکملہ) ان دونوں سورتوں کی تفسیر میں علماء حکماء نے بہت کچھ نکتہ آفرینیاں کی ہیں۔ حافظ ابن قیم، امام رازی، ابن سینا، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے بیانات درج کرنے کی یہاں گنجائش نہیں صرف استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس اللہ روحہ، کی تقریر کا خلاصہ درج کرتا ہوں تاکہ فوائد قرآن کے حسن خاتمہ کے لئے ایک فال نیک ثابت ہو، " یہ ایک فطری اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 4–5

آیت 4{ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِلا الْخَنَّاسِ۔ } ”اس بار بار وسوسہ ڈالنے والے ‘ پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔“ شیطان کی وسوسہ اندازی کا طریق کار یہ ہے کہ وہ لگاتار اپنی کوشش جاری رکھتا ہے اور انسان کو گمراہ کرنے کی کوششوں سے تھکتا نہیں۔ کبھی حملہ کرتا ہے ‘ کبھی دفاعی پسپائی اختیار کرتا ہے اور پھر پلٹ کر حملہ آور ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–6

3 شیطان کا انسان نفس بھی ہوسکتا ہے جو وسوسے ڈالتا ہے :۔ اَلجِنَّۃُ : انسان کے علاوہ دوسری مکلف مخلوق جن ّ ہے۔ جنوں میں سے کچھ نیک اور صالح بھی ہوتے ہیں اور کچھ خبیث، موذی اور بدکردار بھی۔ اس دوسری قسم کو شیطان کہتے ہیں۔ پھر شیطان کے لفظ کا اطلاق ہر موذی چیز، سرکش اور نافرمان پر بھی ہونے لگا خواہ انسان ہو یا جن یا کوئی جانور۔ مثلاً سانپ کو اس کی ایذا دہی کی وجہ سے شیطان اور جن ّاور جانّ (27: 10) کہتے ہیں۔ پھر یہ شیطان یا خناس صرف جن اور انسان ہی نہیں ہوتے بلکہ انسان کا اپنا نفس بھی وسوسہ اندازی کرتا رہتا ہے۔ جیسے فرمایا : (وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ ښ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 5–6

3۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطانی وسوسہ اندازی کا کام جنت بھی کرتے ہیں، اور انسان بھی (آیت) ” من الجنۃ “ من تبعیض کے لیے ہے، یعنی ان وسوسہ اندازوں میں کوئی جن ہوتا ہے اور کوئی کوئی انسان، قرآن مجید میں دوسری جگہ شیاطین الانس والجن اسی معنی میں ہے۔ ومن للتبعیض اے کائنا من الجنۃ والناس فھی فی موضع الحال اے ذلک الموسوس ھو بعض الجنۃ وبعض الناس (بحر) بیان للذی یوسوس علی انہ ضربان جنی وانسی (روح) اللھم انس وحشتی فی قبری اللھم ارحمنی بالقران العظیم واجعلہ لی اماما ونورا وھدی ورحمۃ اللہم ذکرنی منہ مانسیت وعلمنی منہ ماجھلت ورزقنی تلاوتہ انآء الیل وانآء النھار واجعلہ لی حجۃ یارب العلمین۔ بحمد اللہ آج یوم دو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–6

من الجنۃ و الناس، یہ وسوسہ ڈالنے والوں کی دو قسموں کا بیان ہے شیاطین الجن اور شیاطین الانس شیاطین الجن، کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قدرت دی ہے، اس کے علاوہ ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان اس کا ساتھی ہوتا ہے جو اس کو گمراہ کرتا رہتا ہے، چناچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب آپ ﷺ نے یہ بات فرمائی تو صحابہ کرام ؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! کیا وہ آپ ﷺ کے ساتھ بھی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا، ہاں ! میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ نے میری مدد فرمائی ہے، وہ میرا مطیع ہوگیا ہے، وہ مجھے خیر کے علاوہ کسی بات کا حکم نہیں دیتا۔ (صحیح مسلم) اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ اعتکاف میں تھے کہ آپ ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذی یوسوس فی صدور الناس . جن لوگوں کے سینوں کے اندر وسوسہ پیدا کرتا ہے یعنی جب وہ اللہ کی یاد نہ کریں۔ الذی سے الوسواس کی دوسری صفت بیان کی گئی ہے ‘ اس لیے (محلاً ) مجرور ہے یا (محلًا) منصوب علی الذم ہے یا محذوف مبتداء کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ کرتا ہے۔ کلبی نے کہا کہ صدور الناس میں جو الناس ہے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 2–6

(1۔ 6)۔ محمد ﷺ آپ فرمائیے کہ میں جن و انس کے رب جن و انس کے مالک اور جن و انس کے خالق کی پناہ لیتا ہوں۔ شیطان کے شر سے جو کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے تو وہ اس کے دل پر غلبہ کر کے اسے چھپا دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتا تو وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ انسانوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالے یا جنات کے دلوں میں۔ یہ دونوں سورتیں لبید بن اعصم یہودی کے متعلق نازل ہوئی ہیں جس نے رسول اکرم ﷺ پر جادو کردیا تھا آپ نے جادو پر ان سورتوں کو پڑھا تو وہ اس طرح زائل ہوگیا جیسا کہ رسی کی گرہ کھل جاتی ہے۔ شان نزول : معذتین امام بیہقی نے دلائل النبوة میں بواسطہ کلبی، ابو صالح، حضرت ابن عباس سے روایت…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) الذی یوسوس فی صدور الناس : وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے پناہ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اس بات سے اللہ کی پناہ مانگے کہ وہ اس کے دل میں کوئی وسوسہ ڈال دے اور اسے راہ حق سے ہٹا دے اور اس بات سے بھی کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کر انہیں اس کے خلاف بھڑکا دے، جس کے نتیجے میں دین پر عمل کرنے اور اس کی دعوت دینے کے راستے میں وہ اس کے لئے رکاوٹ بن جائیں۔ دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ ہی اس کے شر سے بچا سکتا ہے ، اس لئے اسی کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ (2) آدمی کوئی نیکی کرے یا برائی اس کا آغاز دل میں اس کا خیال پیدا ہونے سے ہوتا ہے، خیال جما رہے تو وہ خواہش کو ابھارتا ہے، خواہش سے ارادہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 3–5

معبود برحق کی پناہ مانگنے کی تعلیم وتلقین۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پناہ مانگو اس کی جو کہ معبود برحق ہے سب لوگوں کا کہ وہی سب کا کارساز و حاجت روا اور مشکل کشا ہے سب کے دل اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہیں۔ اور معبود حقیقی وہی اور صرف وہی ہے سبحانہ وتعالی عبادت کی ہر شکل و صورت اور اس کی ہر قسم اسی کا حق ہے جب لوگوں کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لاشریک ہے سب کا رب بھی وہی ہے اور سب کا معبود برحق بھی وہی تو مخلوق اور ہر طرح کی مخلوق اور خاص کر وسو اس الخناس۔ جیسی پوشیدہ شریر اور سب سے بڑی خطر ناک اور دشمن مخلوق سے پناہ دینا بھی اسی کی شان اور اسی کا کام ہے اور ہوسکتا ہے لہذا اسی کی پناہ طلب کی جائے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–6

1۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت قل اعوذ برب الناس مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردیہ نے حکم بن عمیر الثمالی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اے لوگو ! بچو اور بچو تم وسوسہ ڈالنے والے اور چھپ جانے والے سے۔ بیشک وہ تم کو آزماتے ہیں کون تم میں سے اچھے عمل کرتا ہے۔ 3۔ ابن ابی شیبہ نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا سب سے پہلے وضو سے وسوسہ شروع ہوا۔ 4۔ ابن بی شیبہ نے عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت کیا کہ نہانے کی جگہ پیشاب کرنا اس سے وسواس پکڑ لیتا ہے۔ (یعنی وسواس کی بیماری پید اہوتی ہے) 5۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن مرہ (رح) سے روایت کیا کہ کوئی وسوسہ نہیں ہے زیادہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[الَّذِي يُوَسْوِسُ : وہ جو وسوسہ اندازی کرتا ہے ][ فِيْ صُدُوْرِ النَاسِ : انسانوں کے دلوں میں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–6

آخر میں ﴿ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ (رح) 006﴾ فرمایا اور یہ بتادیا کہ یہ وسوسہ ڈالنے والے صرف جنات ہی نہیں ہوتے انسان بھی ہوتے ہیں انسانوں کا وسوسے ڈالنا اندر داخل ہو کر تو نہیں ہوتا البتہ باہر ہی سے زبانی طور پر اقوال کے ذریعہ اور جسمانی حرکات اور اعمال کے ذریعہ وسوسے ڈالتے ہیں یعنی انسان کو راہ حق سے ہٹانے اور کفر و شرک اور معاصی میں فوائد بتانے اور دنیوی منافع سمجھانے اور بتانے کی کو شس کرتے ہیں آج کل تو انسانی وسوسوں اور گمراہی کے آلات کی کثرت ہوگئی ہے زبانی باتیں لیڈروں کی تقریریں، بےشرمی پھیلانے والے اخبار و رسالے ٹیلی ویژن اور اس کے پروگرام، وی سی آر، انٹرنیٹ جیسی چیزیں انسان میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–6

تعلیم وتلقین از مہالک باطنیہ وآفات نفسانیہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اعوذ برب الناس ........ الی ........ من الجنۃ والناس “۔ (ربط) گذشتہ سورت یعنی الفلق میں اللہ رب العزت کی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا تھا ایسے تمام مہالک اور آفات سے جو حسی اور ظاہری ہیں کہ ہر مخلوق کے شر، ہر تاریکی کے فتنہ سے ہر جادو کی مصیبت سے اور ہر حسد اور کید ومکر سے تو یہ تمام آفات ظاہری اور حسی تھیں اب اس سورة الناس میں ان آفات اور ہلاکتوں کو ذکر کیا جارہا ہے جو باطنی ہیں، اور وہ نفس سے اور نفس کے دواعی وتقاضوں سے پیدا ہوتی ہیں اور قلب پر وارد ہو کر انسان کے دین اور عقیدہ کو ہلاک وبرباد کردینے والی ہیں تو اس سورت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–6

4:۔ ” الذی یوسوس “ یہ ماقبل کی تفصیل ہے۔ وہ شیطان جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے اور برے خیالات ڈالتا ہے۔ ” من الجنۃ والناس “ یہ ” الذی یوسوس “ کا بیان ہے (روح) ۔ وسوسہ ڈالنے والا خواہ جن ہو خواہ انسان۔ جن چھپ کر وسوسہ ڈالتا ہے اور انسانی شیطان علانیہ سامنے آ کر دین اسلام اور توحید کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ والصلوۃ والسلام علی سید الرسل وخاتم النبیین وعلی الہ و اصحابہ اجمعین۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النسا ہے۔ یہ قرآن کریم کی آخری سورة ہے۔ مدنی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھ آیات ہیں اس سے پہلی سورة فلق کی پانچ آیتیں ہیں۔ گیارہ آیات کی یہ دو سورتیں ایک ہی وقت میں اکٹھی نازل ہوئیں۔ اس سورة الناس کے بیس الفاظ اور اناسی حروف ہیں۔ موضوع سورۃ فلق اور سورة الناس معوذتین کہلاتی ہیں۔ ان کے ذریعے شرور سے پناہ مانگنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔ پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت بیان کر کے چار دنیوی زندگی سے متعلق چیزوں سے پناہ ماگنی ہے اور اس سورة میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا ذکر کر کے ایک دینی زندگی سے متعلق چیز یعنی وسوسہ شیطان سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْ يُوَسْوِسُ فِيْ صُدُوْرِ النَّاسِ۝ 5 ۙ صدر الصَّدْرُ : الجارحة . قال تعالی: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] ، وجمعه : صُدُورٌ. قال : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] ، وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [ الحج/ 46] ، ثم استعیر لمقدّم الشیء كَصَدْرِ القناة، وصَدْرِ المجلس، والکتاب، والکلام، وصَدَرَهُ أَصَابَ صَدْرَهُ ، أو قَصَدَ قَصْدَهُ نحو : ظَهَرَهُ ، وكَتَفَهُ ، ومنه قيل : رجل مَصْدُورٌ: يشكو صَدْرَهُ ، وإذا عدّي صَدَرَ ب ( عن) اقتضی الانصراف، تقول : صَدَرَتِ الإبل عن الماء صَدَراً ، وقیل : الصَّدْرُ ، قال : يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب ¦ قل اعوذ قراء الجمھور بالھمزۃ قری بخدفھاد نقل حرکتھا الی اللام برب الناس متعلق باعوذ ملک الناس عطف بیان لرب الناس قرء لجمھور ملک الناس باسقاط الالف فی ملک والملک بکسر اللام السلطان القاھر۔ الہ الناس ایضاً عطف بیان من شر الواسواس متعلق باعوذو ھوالمستعاذمنہ۔ الوسواس بفتح الواؤ عندالفراء اسم بمعنی الموسوس وبکسرھامصدر ای الوسوسۃ کالزلزال بمعنی الزلزلۃ والوسوسۃ حدیث النفس یقال وسوست الیہ نفسہ و وسوسۃ ای حدثتہ حدیثا واصلھا الصوت الخفی ومنہ الوسواس للصوت الجلی۔ الخناس نعت لہ۔ مبالغۃ من الخنس وھو التاخر خنس یخنس اذاتاخرومنہ قولہ تعالیٰ فلا اقسم بالخنس۔ قال مجاھد اذاذکر اللہ خنس ای تاخر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

مِنْ شَرِّالْوَسْوَاسِ 5 لا الْخَنَّاسِ ۔ الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِالنَّاس۔ (الناس : 4، 5) (اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے، جو بار بار پلٹ کر آتا ہے۔ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہتا ہے۔ ) وَسْوَاسِ کا مفہوم وسواسکا معنی ہے بار بار وسوسہ ڈالنے والا۔ اور وسوسہ حدیث نفس کو کہتے ہیں۔ یعنی نہایت خاموشی اور پے در پے کسی کے دل میں کوئی بری بات اس طرح ڈالنا کہ اسے خیال تک نہ گزرے کہ میرے دل میں کوئی چیز اتاری جارہی ہے۔ اس عمل کو وسوسہ اندازی کہتے ہیں۔ شیطان کی وسوسہ اندازی کی تکنیک الخَنَّاسِ پیچھے کھسک جانے والے، دبک جانے والے اور پلٹ پلٹ کر وسوسہ ڈالنے والے کو کہتے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–6

فہم القرآن ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے سورت الفلق میں اپنا تعارف رب الفلق کے نام سے کروایا ہے جس کا معنٰی ہے کہ مخلوق کو پھاڑنے کے عمل سے عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔ سورت النّاس میں یہ بتلایا ہے کہ وہی انسانوں کا ” رب، حقیقی بادشاہ اور معبود برحق ہے اس لیے اس کی مخلوق بالخصوص جنوں اور انسانوں کی شر سے بچنے کے لیے اس کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔ سورت النّاس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی عظیم اور بابرکت کتاب کا اختتام فرمایا ہے۔ گویا کہ یہ قرآن مجید کی آخری سورت ہے۔ سورت فاتحہ کا آغاز رب العالمین کے الفاظ سے ہوا اور قرآن مجید کا اختتام ” مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ “ پر ہوا ہے۔ یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5 : اَلَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ (جولوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے) نحو : یہ صفت ہونے کی وجہ سے محلاً مجرور ہے۔ نمبر 2۔ محل رفع میں ہے۔ نمبر 3۔ شتم کی بناء پر محل نصب میں ہے۔ ان پچھلی دونوں صورتوں میں الخناس پر وقف کرنا اچھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔ پس یہ ” الذی یوسوس فی صدور الناس “ مخفی کلام کے ساتھ جس کا مفہوم دل تک پہنچ جائے بغیر سماع کے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–6

1۔ 6۔ یہ تین صفتیں ربوبیت بادشاہت الہیت مل کر ایسا ایک صفتوں کا مجموعہ ہے کہ دنیا کے کسی بادشاہ میں نہیں پایا جاتا اس لئے ان تنیوں صفتوں کو ایک جا کرکے ذکر فرمایا ان صفتوں کے ترتیب وار ذکر فرمانے میں یہ بھی گویا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رب الناس ہونا ظاہر ہے کیونکہ مثلاً ایک سال اس کی پرورش نہ ہو اور مینہ نہ برسے تو قحط پڑجاتا ہے اسی طرح اس کی بادشاہت تمام دنیا میں ظاہر ہے جس بادشاہ امیر وزیر کو ایک دم میں چاہے بیمار ڈال دے مار ڈالے کوئی اس میں کچھ دخل نہیں دے سکتا اب آدمی کو یہ سوچنا چاہئے کہ جس کی یہ صفتیں ہیں لائق عبادت بھی وہی وحدہ لاشریک ہے کسی دوسرے کو اس کی عبادت میں شریک ٹھہرانے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–6

یہ سورة مبارکہ لوگوں کے رب ان کے مالک اور ان کے معبود کے پاس شیطان سے پناہ ہے جو تمام برائیوں کی جڑ اور ان کا مادہ ہے جس کا فتنہ اور شری ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے ان کے سامنے شر کی تحسین کرتا ہے۔ بڑائی کو انتہائی خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور برائی کے ارتکاب کے لیے ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے وہ انہیں بھلائی سے باز رکھتا ہے اور اس کو کسی اور ہی صورت میں ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہتا ہے اور وسوسہ ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے یعنی جب بندہ مومن اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کو دفع کرنے کے لیے اپنے رب کی مدد چاہتا ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

6 ۔ شیطان کا کام وسوسے ڈالنا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے دلوں میں، ان کو راہ حق و ہدایت سے پھیرنے ورغلانے اور اپنے پیچھے لگانے کے لیے، تاکہ اس طرح وہ ان کی ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں ڈال سکے، کہ راہ حق و ہدایت سے محرومی درحقیقت دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوزو فلاح سے محرومی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور وسوسہ اصل میں کہتے ہیں کسی کے دل میں بری بات ڈالنا اور اس طور پر کہ اگلے کو اس کا احساس بھی نہ ہو کہ یہ بری بات میرے دل میں ڈالی جارہی ہے، وسوسہ کے لفظ میں خود تکرار کا مفہوم شامل ہے جیسے زلزلہ، قلقلقہ، اور دمدمہ، وغیرہ الفاظ میں پایا جاتا ہے، چونکہ صرف ایک دفعہ بہکانے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

شیطان جن و انس سے اللہ کی پناہ تشریح : یہاں اس پناہ اور حفاظت کا ذکر کیا جا رہا ہے جس کی ضرورت انسان کو اس وقت محسوس ہوتی ہے جب وہ سخت مشکل یا پریشانی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ تو ایسے میں اللہ کی پناہ سے بڑھ کر کون سی پناہ گاہ ہوسکتی ہے۔ کیونکہ اللہ ہی وہ عظیم الشان ' مضبوط بلندو برتر ہستی ہے کہ خلقت کا رب ہے پالنے والا ہے۔ ذرا غور کریں چرند پرند ' انسان و حیوان اپنے انتہائی ابتدائی مراحل سے کس قدرت ' مہارت اور بہترین نظام کے تحت خوراک حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً وہی پوشیدہ ہاتھ جو اپنی قدرت سے مادہ کے رحم میں بچے کی پرورش کرتے ہیں۔ اور جب دنیا میں وارد ہوتا ہے تو کس قدرت اور حکمت سے ماں کے دودھ سے اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–6

سورة الناس۔ آیات 1 تا 6 اسرار ومعارف۔ کہہ دیجئے کہ پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے پروردگار کی اور اس کی جو سب کا حقیقی بادشاہ ہے اور معبود برحق ہے سب کا اس سے جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ وسوسہ ڈالنے والاجن ہو یا انسان کہ جنات اور انسان بھی شیطان کی پیروی کرتے کرتے شیطانی صفات میں رنگ جاتے ہیں۔ لبید بن عاصم یہودی نے آپ ﷺ کے موئے مبارک چرا کر کنگھی کے دندانوں میں گرہ دے کر کسی پرانے کنوئیں میں پتھر کے نیچے دبادیے اور آپ علیل ہوگئے چناچہ آپ کو بذریعہ وحی اطلاع ہوگئی آپ ﷺ نے نکلوالیے تو یہ سورتیں نازل ہوئیں ایک ایک آیت پر ایک ایک گرہ کھلتی جاتی تھی چناچہ آپ ﷺ کو شفا ہو کر آپ کی وساطت سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 5–6

ف 7 دوسری آیات میں بھی بیان ہوا ہے کہ شیطان جنوں میں سے ہے اور آدمیوں میں سے بھی ( سورة انعام :113) یہ الذی یوموس کا بیان ہے یا یوسوس کے متعلق ہے۔ اس صورت میں ” من “ ابتداء غایت کے لئے ہوگا۔ جنات کے وساوس شیاطین الانس سے کچھ مختلف ہوتے الحمد اللہ کہ آج بروز عید الفظر یہ عظیم الشان اور بابرکت کام بتوفیق الٰہی سرانجام پایا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس خدمت کو درجہ قبولیت بخشے اور اسے میرے لئے میرے والدین اور اساتذہ کے لئے زاد راہ بنائے۔ آمین ختم آمین

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(114:5) الذی یوسوس فی صدور الناس۔ جو لوگوں کے سینوں کے اندر وسوسہ پیدا کرتا ہے۔ یعنی جب اللہ کا ذکر نہ کریں۔ الذی سے الوسواس کی دوسری صفت بیان کی گئی ہے اس لئے (محلا) مجرور ہے یا (محلا) منصوب علی الذم ہے۔ یا محذوف مبتداء کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ یوسوس مضارع معروف واحد مذکر غائب وسوسۃ (رباعی مجرد) مصدر۔ وہ وسوسہ پیدا کرتا ہے۔ صدور الناس مضاف مضاف الیہ۔ لوگوں کے سینے۔ صدور صدر کی جمع ہے ۔ بمعنی سینے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

ملک۔ بادشاہ ۔ الہ۔ معبود۔ الوسواس۔ وسوسے ڈالنے والا۔ الخناس۔ پیچھے ہٹ جانے والا۔ من الجنۃ والناس۔ جنات میں اسے اور انسانوں میں سے۔ ترجمہ :- قل اعوذ برب الناس :- آپ کہہ کہ میں تمام لوگوں کے رب کی پناہ چاہتا ہوں۔ ملک الناس :- جو تمام لوگوں کا حقیقی بادشاہ ہے اس کی پناہ مانگتا ہوں۔ الہ الناس : تما م لوگوں کے معبود کی پناہ مانگتا ہوں۔ ان تینوں آیتوں میں اس کی وضاحت فرما دی گئی ہے کہ اس کائنات میں درحقیقت انسانوں کا پالنے والا، لوگوں پر حکمرانی کرنے والا اور لوگوں کے لئے وہ ہستی جو قابل عبادت ہے ایک اللہ ہی کی ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اس عظیم رب کی پناہ مانگئے۔ وہیں آپ کو اور اللہ کے ماننے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–6

(ف 1) یہ تین صفتیں ربوبیت ، بادشاہت، اور الٰہیت مل کر صفتوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے کہ دنیا کے کسی بادشاہ میں نہیں پایاجاتا، اس لیے ان تنیوں صفتوں کو یکجا کرکے ذکر فرمایا، ان صفتوں کے ترتیب وارذکر کرنے میں یہ بھی ارشاد فرمایا، کہ اللہ تعالیٰ کا رب الناس ہوناظاہر ہے کیونکہ مثلا ایک سال اس کی پرورش نہ ہو اور مینہ نہ برسے توقحط پڑجائے اسی طرح اس کی بادشاہت تمام دنیا میں ظاہر ہے جس بادشاہ وزیر امیر کو ایک دم میں چاہے بیمار ڈال دے مار ڈالے کوئی اس میں کچھ دخل نہیں دے سکتا، اب آدمی کو یہ سوچنا چاہیے کہ جس کی یہ صفتیں ہیں لائق عبادت بھی وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ الوسواس اور وسوسہ کے معنی اس ہلکی اور دبی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 5–6

[3] یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ وسوسہ جناتی شیاطین کی طرف سے ہونا تو ظاہر ہے کہ وہ مخفی طور پر انسان کے قلب میں کوئی کلام ڈال دیں مگر انسانی شیاطین تو کھلم کھلا سامنے آ کر بات کرتے ہیں، ان کا وسوسہ سے کیا تعلق ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسانی شیاطین بھی اکثر ایسی باتیں کسی کے سامنے کرتے ہیں جن سے اس کے دل میں کسی معاملے کے متعلق شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ انسان کے دل میں وسوسہ اندازی باہر سے شیاطین جن و انس ہی نہیں کرتے بلکہ انسان کا اپنا نفس بھی کرتا ہے۔ وہ اس کو بہکاتا ہے اور برے کاموں کی طرف مائل کرتا ہے۔ اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے خود اپنے نفس کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–6

سورة الناس یہ سورة بھی سورة استعاذہ ہے ۔ اس میں یہ بتایا ہے کہ سب سے بڑا فتنہ اور سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ ایک مرد مومن شیطان کے دھوکے میں نہ آجائے اور اس کے وسوسہ سے متاثر ہوکر بےدین اور ملحدنہ ہوجائے ۔ اس لئے اس سے بچنا اور احتراز کرنا ازبس ضروری اور لازم ہے ۔ مگر اس سے وہی شخص اپنے دامن کو بچا سکتا ہے جو اللہ کی ربوبیت عامہ پر ایمان رکھتا ہو ۔ صرف اسی کو مالک اور آقا قرار دیتا ہو اور اسی کو معبودومحبوب سمجھتا ہو ۔ فرمایا کہ یہ شیطان جو چھپ کردار کرتا ہے اور تقویٰ وزہد کا جامہ پہن کر گمراہ کرتا ہے ۔ کبھی انسان کی شکل میں ہوتا ہے اور کبھی جنوں کی صورت میں ، اس کا کام صرف اس قدر ہے کہ قلب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے - یعنی اس موسوس کا کام یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہتا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ کی معرفت اور توحید میں شکوک و شبہات ڈالتا ہے کبھی عبادت میں شبہ پیدا کرتا ہے۔ حدیت میں آتا ہے ان الشیطان یجری من ابن ادم ھجری الدم یعنی شیطان ان رگوں تک میں اپنا اثر ڈالتا ہے جہاں جہاں خون جاری ہوتا ہے۔ بہرحال یہ ایسا دشمن ہے جو پردے میں چھپ کر حملہ کرتا رہتا اور اس کے حملوں کی آماجگاہ اور نشانہ انسانی قلب ہے۔ اللھم انا نعوذبک من مکائد الشیطان و وسوسہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–6

ف 8۔ اس سے وہ وسوسہ مراد ہے جو مغضی الی المعصیت ہوجائے اور اس کا مضرت دینیہ ہونا ظاہر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور جو انسانوں کے دلوں میں شبہات پیدا کردیتا ہے 5 اس آیت میں جو بات ارشاد فرمائی وہ بہت ہی نازک ترین بات ہے جو انسان کو ایک بار چونکا دیتی ہے۔ فرمایا اس کی وسوسہ اندازی کا مقام بہت ہی نازک ہے کیونکہ یہ وہی مقام ہے جو خزینہ وحی ہے گویا اگر کسی نبی و رسول کو وحی آتی ہے تو اس کے لیے جو مقام ہے وہ بھی دل ہے اور اس طرح کے شریروں کی وسوسہ اندازی بھی اسی مقام پر ہوتی ہے جس سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ جو مقام کسی حق بات کے قبول کرنے کا ہے وہی مقام اس باطل کے قبول کرنے کا ہے اس لیے جس دل میں حق موجود نہیں ہوتا وہاں یہ بہت جلدی جم جاتا ہے اور اس کی عیاری و مکاری کا یہ عالم ہے کہ جہاں حق موجود…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

Verse [ 114:4] مِن شَرِّ‌ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ (from the evil of the whisperer who withdraws [ when Allah's name is pronounced ].) After invoking three attributes of Allah, the present verse describes the one from whom protection is sought. He is 'the whisperer who withdraws'. The word waswas is originally an infinitive in the sense of waswasah 'to whisper [ that is, to use breath instead of voice, when saying something in barely audible way ] '. But here it is used as an hyperbolic expression to refer to 'Shaitan' in the sense that 'he is an embodiment of whisper'. Whispering of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–6

3 According to some scholars, these words mean that the whisperer whispers evil into the hearts of two kinds of people: the jinn and the men. If this meaning is admitted, the word nas would apply to both jinn and men. They say that this can be so, for when the word rijali (men) in the Qur'an has been used for the jinn, as in Al-Jinn: 6, and when nafar can be used for the group of jinn, as in A1-Ahqaf: 29, men and jinn both can be included metaphorically in the word nas also. But this view is wrong because the words nas, ins and ihsan are even lexically contrary in meaning to the word jinn.…

Read the full tafseer →