مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ۟۠مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ
وہ جنّات میں سے (ہو) یا انسانوں میں سے
— Fateh Muhammad Jalandhari
From among the jinn and mankind."
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 39 of juzع
مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ۟۠مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ
وہ جنّات میں سے (ہو) یا انسانوں میں سے
— Fateh Muhammad Jalandhari
From among the jinn and mankind."
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 39 of juzع
Read the whole surah · Surah An-Naas
خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے
وہ جنّات میں سے (ہو) یا انسانوں میں سے
(خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے
چاہے وہ جنات میں سے ہو، یا انسانوں میں سے۔
جن اور آدمی
خواہ وہ (وسوسہ انداز شیطان) جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے،
جنوں اور انسانوں میں سے۔
خواہ وہ جنوں سے ہو یا انسانوں سے
جنوں میں سے اور انسانوں میں سے۔
خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے
خواہ جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
خواہ وہ جنات سے ہوں یا انسانوں میں سے
whether he be from the jinn or humans.”
whether from among the Jinn or Mankind.
whether from among the Jinn or Mankind.
"Of Jinn and An-Nas."
Of the jinn and of mankind.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
From among the jinn and mankind."
who induce temptation into the hearts of mankind.
From among the jinn and the men.
Whether of Jinn or of mankind.
Among Jinns and among men.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–6
خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ٭٭ اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہؤی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برت رصفات والے اللہ کی پناہ میں آجائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو وب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
سورة الناس 3 بعض اہل علم کے نزدیک ان الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ وسوسہ ڈالنے والا دو قسم کے لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، ایک جن، دوسرے انسان۔ اس بات کو اگر تسلیم کیا جائے تو لفظ ناس کا اطلاق جن اور انسان دونوں پر ہوگا۔ وہ کہتے ہیں ایسا ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآن میں جب رجال (مردوں) کا لفظ جنوں کے لیے استعمال ہوا ہے، جیسا کہ سورة جن آیت 6 میں ہم دیکھتے ہیں، اور جب نَفَر کا استعمال جنوں کے گروہ پر ہوسکتا ہے جیسا کہ سورة احقاف آیت 29 میں ہوا ہے، تو مجازا ناس کے لفظ میں بھی انسان اور جن دونوں شامل ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہ رائے اس لیے غلط ہے کہ ناس اور انس اور انسان کے الفاظ لغت ہی کے اعتبار سے لفظ جن کی…
Read the full tafseer →من الجنتہ والناس۔ یہ بیان ہے وسو اس کا یعنی وسوسہ ڈالنے والے جنات میں سے بھی ہوتے ہیں، اور انسانوں میں سے بھی، تو حاصل اس کا یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس کی تلقین فرمائی کہ اللہ سے پناہ مانگیں جنات شیطاطین کے شر سے بھی اور انسانی شیاطین کے شر سے بھی۔ اگر یہ شبہ ہو کہ وسوسہ جناتی شیاطین کی رف سے ہونا تو ظاہر ہے کہ وہ مخفی طور پر انسان کے قلب میں کوئی مخفی کام ڈال دلیں، مگر انسانی شیاطین تو کھلم کھلا سامنے آ کر بات کرتے ہیں ان کا وسوسہ سے کیا تعلق ہے تو جواب یہ ہے کہ انسانی شیاطین بھی اکثر ایسی باتیں کسی کے سامنے کرتے ہیں جن سے اس کے دل میں کسی معاملے کے متعلق ایسے شکوک و شبہات پیدا…
Read the full tafseer →’مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاسِ‘۔ یہ اس کی ذات برادری کی نشان دہی ہے کہ شیطان کوئی مستقل مخلوق نہیں ہے بلکہ جنوں اور انسانوں میں سے جو دلوں میں وسوسہ اندازی کا پیشہ اختیار کر لیں وہ شیطان بن جاتے ہیں۔ جس شیطان نے بابا آدم کو دھوکا دیا، قرآن میں تصریح ہے کہ، وہ جنوں میں سے تھا۔ جو لوگ اس کو ایک مستقل مخلوق اور زندہ جاوید ہستی سمجھتے ہیں ان کا خیال غلط ہے۔ البتہ اس نے بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لیے جس مشن کا اعلان کیا تھا وہ مشن اس کے ان مریدوں کے ذریعہ سے قیامت تک قائم رہے گا جو انسانوں اور جنوں میں سے اپنی خدمات اس کے لیے پیش کریں گے۔
Read the full tafseer →6۔ 1 یہ وسوسہ ڈالنے والوں کی دو قسمیں ہیں، شیاطین الجن کو تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قدرت دی ہے علاوہ ازیں ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان اس کا ساتھی ہوتا ہے جو اس کو گمراہ کرتا رہتا ہے چناچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی ﷺ نے یہ بات فرمائی تو صحابہ کرام نے پوچھا کہ یارسول اللہ ! کیا وہ آپ کے ساتھ بھی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ! میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے، اور میرا مطیع ہوگیا ہے مجھے خیر کے علاوہ کسی بات کا حکم نہیں دیتا (صحیح مسلم) اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ اعتکاف فرما تھے کہ آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ ؓ آپ ﷺ سے ملنے کے لیے آئیں رات کا وقت تھا، آپ…
Read the full tafseer →4: قرآن کریم نے سورة انعام (6۔ 112) میں بتایا ہے کہ شیطان جنات میں سے بھی ہوتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی ہوتے ہیں، البتہ شیطان جو جنات میں سے ہے وہ نظر نہیں آتا اور دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، لیکن انسانوں میں سے جو شیطان ہوتے ہیں وہ نظر آتے ہیں اور ان کی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں سن کر انسان کے دل میں طرح طرح کے برے خیالات اور وسوسے آجاتے ہیں، اس لئے آیت کریمہ میں دونوں قسم کے وسوسہ ڈالنے والوں سے پناہ مانگی گئی ہے، شیطان کی چالیں کمزور ہوتی ہیں اور اس میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ انسان کو گناہ پر مجبور کرسکے، یہ تو انسان کی ایک آزمائش ہے کہ وہ انسان کو بہکانے کی کوشش کرتا ہے لیکن جو بندہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
8 شیطان جنوں میں بھی ہیں اور آدمیوں میں بھی۔ (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا) 6 ۔ الانعام :112) اللہ تعالیٰ دونوں سے پناہ میں رکھے (تکملہ) ان دونوں سورتوں کی تفسیر میں علماء حکماء نے بہت کچھ نکتہ آفرینیاں کی ہیں۔ حافظ ابن قیم، امام رازی، ابن سینا، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے بیانات درج کرنے کی یہاں گنجائش نہیں صرف استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس اللہ روحہ، کی تقریر کا خلاصہ درج کرتا ہوں تاکہ فوائد قرآن کے حسن خاتمہ کے لئے ایک فال نیک ثابت ہو، " یہ ایک فطری اور…
Read the full tafseer →آیت 6{ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ۔ } ”خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔“ انسان کے دل و دماغ پر شیطانی وساوس کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں اس کی وضاحت حضور ﷺ کے اس فرمان سے ملتی ہے۔ اُمّ المومنین حضرت صفیہ رض بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِیْ مِنَ الْاِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ 1 ”شیطان انسان کے وجود میں خون کی مانند گردش کرتا ہے“۔ گویا شیطان نفس انسانی کے اندر موجود حیوانی شہوات اور سفلی داعیات فرائیڈ اسے id یا libido کا نام دیتا ہے کو بھڑکاتا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ شیطان اپنی تھوتھنی انسان کے دل پر رکھ کر پھونکیں مارتا ہے اور اس طرح اس کے جذبات و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
3 شیطان کا انسان نفس بھی ہوسکتا ہے جو وسوسے ڈالتا ہے :۔ اَلجِنَّۃُ : انسان کے علاوہ دوسری مکلف مخلوق جن ّ ہے۔ جنوں میں سے کچھ نیک اور صالح بھی ہوتے ہیں اور کچھ خبیث، موذی اور بدکردار بھی۔ اس دوسری قسم کو شیطان کہتے ہیں۔ پھر شیطان کے لفظ کا اطلاق ہر موذی چیز، سرکش اور نافرمان پر بھی ہونے لگا خواہ انسان ہو یا جن یا کوئی جانور۔ مثلاً سانپ کو اس کی ایذا دہی کی وجہ سے شیطان اور جن ّاور جانّ (27: 10) کہتے ہیں۔ پھر یہ شیطان یا خناس صرف جن اور انسان ہی نہیں ہوتے بلکہ انسان کا اپنا نفس بھی وسوسہ اندازی کرتا رہتا ہے۔ جیسے فرمایا : (وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ ښ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
3۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطانی وسوسہ اندازی کا کام جنت بھی کرتے ہیں، اور انسان بھی (آیت) ” من الجنۃ “ من تبعیض کے لیے ہے، یعنی ان وسوسہ اندازوں میں کوئی جن ہوتا ہے اور کوئی کوئی انسان، قرآن مجید میں دوسری جگہ شیاطین الانس والجن اسی معنی میں ہے۔ ومن للتبعیض اے کائنا من الجنۃ والناس فھی فی موضع الحال اے ذلک الموسوس ھو بعض الجنۃ وبعض الناس (بحر) بیان للذی یوسوس علی انہ ضربان جنی وانسی (روح) اللھم انس وحشتی فی قبری اللھم ارحمنی بالقران العظیم واجعلہ لی اماما ونورا وھدی ورحمۃ اللہم ذکرنی منہ مانسیت وعلمنی منہ ماجھلت ورزقنی تلاوتہ انآء الیل وانآء النھار واجعلہ لی حجۃ یارب العلمین۔ بحمد اللہ آج یوم دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
من الجنۃ و الناس، یہ وسوسہ ڈالنے والوں کی دو قسموں کا بیان ہے شیاطین الجن اور شیاطین الانس شیاطین الجن، کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قدرت دی ہے، اس کے علاوہ ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان اس کا ساتھی ہوتا ہے جو اس کو گمراہ کرتا رہتا ہے، چناچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب آپ ﷺ نے یہ بات فرمائی تو صحابہ کرام ؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! کیا وہ آپ ﷺ کے ساتھ بھی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا، ہاں ! میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ نے میری مدد فرمائی ہے، وہ میرا مطیع ہوگیا ہے، وہ مجھے خیر کے علاوہ کسی بات کا حکم نہیں دیتا۔ (صحیح مسلم) اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ اعتکاف میں تھے کہ آپ ﷺ کی…
Read the full tafseer →من الجنۃ والناس . یہ وسواس کا بیان ہے یا الذی کا (مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہوگا) یعنی وسوسہ پیدا کرنا ‘ جنات کا فعل بھی ہے اور انسانوں کا بھی۔ اللہ نے فرمایا ہے : و کذلک جعلنا لکل نبی عدو اشیاطین الانس والجن….. ہم نے انسانی اور جنی شیطانوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے ‘ الخ۔ خلاصہ یہ کہ اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ جن و انس کے شر سے پناہ مانگو۔ شبہ ایک انسان دوسرے انسان کے دل میں وسوسہ نہیں ڈالتا۔ یہ کام تو جن کا ہے پھر انسان کو وسوسہ انداز کیوں قرار دیا۔ ازالہ آدمی بھی وسوسہ ڈالتے ہیں لیکن ان کی وسوسہ اندازی کا طریقہ انہی کے مناسب ہے۔ آدمی ‘ آدمی سے ایسی بات کہتا ہے جو اس کے دل میں جم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
(1۔ 6)۔ محمد ﷺ آپ فرمائیے کہ میں جن و انس کے رب جن و انس کے مالک اور جن و انس کے خالق کی پناہ لیتا ہوں۔ شیطان کے شر سے جو کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے تو وہ اس کے دل پر غلبہ کر کے اسے چھپا دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتا تو وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ انسانوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالے یا جنات کے دلوں میں۔ یہ دونوں سورتیں لبید بن اعصم یہودی کے متعلق نازل ہوئی ہیں جس نے رسول اکرم ﷺ پر جادو کردیا تھا آپ نے جادو پر ان سورتوں کو پڑھا تو وہ اس طرح زائل ہوگیا جیسا کہ رسی کی گرہ کھل جاتی ہے۔ شان نزول : معذتین امام بیہقی نے دلائل النبوة میں بواسطہ کلبی، ابو صالح، حضرت ابن عباس سے روایت…
Read the full tafseer →(من الجنۃ والناس :) لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالنے والے شیطان جن بھی ہوتے ہیں اور انسان بھی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیطین الانس والجن یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غروراً (الانعام : 112) ”اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے انسانوں اور جنوں کے شیاطین کو دشمن بنادیا، ان کا بعض بعض کی طرف ملمع کی ہوئی بات دھوکا دینے کے لئے دل میں ڈالتا رہتا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کے ساتھ ایک جن شیطان اور ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے، شیطان کا کام برائی کا وسوسہ ڈالنا اور فرشتے کا کام بھلائی کا الہام کرنا ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ما منکم من احد الا وقد…
Read the full tafseer →بعض اہل علم کے نزدیک ان الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ وسوسہ ڈالنے والا دو قسم کے لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، ایک جن، دوسرے انسان۔ اس بات کو اگر تسلیم کیا جائے تو لفظ ناس کا اطلاق جن اور انسان دونوں پر ہوگا۔ وہ کہتے ہیں ایسا ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآن میں جب رجال (مردوں) کا لفظ جنوں کے لیے استعمال ہوا ہے، جیسا کہ سورة جن آیت 6 میں ہم دیکھتے ہیں، اور جب نَفَر کا استعمال جنوں کے گروہ پر ہوسکتا ہے جیسا کہ سورة احقاف آیت 29 میں ہوا ہے، تو مجازا ناس کے لفظ میں بھی انسان اور جن دونوں شامل ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہ رائے اس لیے غلط ہے کہ ناس اور انس اور انسان کے الفاظ لغت ہی کے اعتبار سے لفظ جن کی ضد ہیں۔ جن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت قل اعوذ برب الناس مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردیہ نے حکم بن عمیر الثمالی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اے لوگو ! بچو اور بچو تم وسوسہ ڈالنے والے اور چھپ جانے والے سے۔ بیشک وہ تم کو آزماتے ہیں کون تم میں سے اچھے عمل کرتا ہے۔ 3۔ ابن ابی شیبہ نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا سب سے پہلے وضو سے وسوسہ شروع ہوا۔ 4۔ ابن بی شیبہ نے عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت کیا کہ نہانے کی جگہ پیشاب کرنا اس سے وسواس پکڑ لیتا ہے۔ (یعنی وسواس کی بیماری پید اہوتی ہے) 5۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن مرہ (رح) سے روایت کیا کہ کوئی وسوسہ نہیں ہے زیادہ…
Read the full tafseer →[مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَاسِ : جو جنوں اور انسانوں میں سے ہوتا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آخر میں ﴿ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ (رح) 006﴾ فرمایا اور یہ بتادیا کہ یہ وسوسہ ڈالنے والے صرف جنات ہی نہیں ہوتے انسان بھی ہوتے ہیں انسانوں کا وسوسے ڈالنا اندر داخل ہو کر تو نہیں ہوتا البتہ باہر ہی سے زبانی طور پر اقوال کے ذریعہ اور جسمانی حرکات اور اعمال کے ذریعہ وسوسے ڈالتے ہیں یعنی انسان کو راہ حق سے ہٹانے اور کفر و شرک اور معاصی میں فوائد بتانے اور دنیوی منافع سمجھانے اور بتانے کی کو شس کرتے ہیں آج کل تو انسانی وسوسوں اور گمراہی کے آلات کی کثرت ہوگئی ہے زبانی باتیں لیڈروں کی تقریریں، بےشرمی پھیلانے والے اخبار و رسالے ٹیلی ویژن اور اس کے پروگرام، وی سی آر، انٹرنیٹ جیسی چیزیں انسان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تعلیم وتلقین از مہالک باطنیہ وآفات نفسانیہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اعوذ برب الناس ........ الی ........ من الجنۃ والناس “۔ (ربط) گذشتہ سورت یعنی الفلق میں اللہ رب العزت کی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا تھا ایسے تمام مہالک اور آفات سے جو حسی اور ظاہری ہیں کہ ہر مخلوق کے شر، ہر تاریکی کے فتنہ سے ہر جادو کی مصیبت سے اور ہر حسد اور کید ومکر سے تو یہ تمام آفات ظاہری اور حسی تھیں اب اس سورة الناس میں ان آفات اور ہلاکتوں کو ذکر کیا جارہا ہے جو باطنی ہیں، اور وہ نفس سے اور نفس کے دواعی وتقاضوں سے پیدا ہوتی ہیں اور قلب پر وارد ہو کر انسان کے دین اور عقیدہ کو ہلاک وبرباد کردینے والی ہیں تو اس سورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4:۔ ” الذی یوسوس “ یہ ماقبل کی تفصیل ہے۔ وہ شیطان جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے اور برے خیالات ڈالتا ہے۔ ” من الجنۃ والناس “ یہ ” الذی یوسوس “ کا بیان ہے (روح) ۔ وسوسہ ڈالنے والا خواہ جن ہو خواہ انسان۔ جن چھپ کر وسوسہ ڈالتا ہے اور انسانی شیطان علانیہ سامنے آ کر دین اسلام اور توحید کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ والصلوۃ والسلام علی سید الرسل وخاتم النبیین وعلی الہ و اصحابہ اجمعین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النسا ہے۔ یہ قرآن کریم کی آخری سورة ہے۔ مدنی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھ آیات ہیں اس سے پہلی سورة فلق کی پانچ آیتیں ہیں۔ گیارہ آیات کی یہ دو سورتیں ایک ہی وقت میں اکٹھی نازل ہوئیں۔ اس سورة الناس کے بیس الفاظ اور اناسی حروف ہیں۔ موضوع سورۃ فلق اور سورة الناس معوذتین کہلاتی ہیں۔ ان کے ذریعے شرور سے پناہ مانگنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔ پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت بیان کر کے چار دنیوی زندگی سے متعلق چیزوں سے پناہ ماگنی ہے اور اس سورة میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا ذکر کر کے ایک دینی زندگی سے متعلق چیز یعنی وسوسہ شیطان سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ اس…
Read the full tafseer →مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ 6 ۧ جِنَّة : جماعة الجن . قال تعالی: مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [ الناس/ 6] ، وقال تعالی: وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَباً [ الصافات/ 158] . ۔ الجنة جنوں کی جماعت ۔ قرآن میں ہے ۔ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [ الناس/ 6] جنات سے ( ہو ) یا انسانوں میں سے وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَباً [ الصافات/ 158] اور انہوں نے خدا میں اور جنوں میں رشتہ مقرر کیا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب ¦ قل اعوذ قراء الجمھور بالھمزۃ قری بخدفھاد نقل حرکتھا الی اللام برب الناس متعلق باعوذ ملک الناس عطف بیان لرب الناس قرء لجمھور ملک الناس باسقاط الالف فی ملک والملک بکسر اللام السلطان القاھر۔ الہ الناس ایضاً عطف بیان من شر الواسواس متعلق باعوذو ھوالمستعاذمنہ۔ الوسواس بفتح الواؤ عندالفراء اسم بمعنی الموسوس وبکسرھامصدر ای الوسوسۃ کالزلزال بمعنی الزلزلۃ والوسوسۃ حدیث النفس یقال وسوست الیہ نفسہ و وسوسۃ ای حدثتہ حدیثا واصلھا الصوت الخفی ومنہ الوسواس للصوت الجلی۔ الخناس نعت لہ۔ مبالغۃ من الخنس وھو التاخر خنس یخنس اذاتاخرومنہ قولہ تعالیٰ فلا اقسم بالخنس۔ قال مجاھد اذاذکر اللہ خنس ای تاخر…
Read the full tafseer →مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ ۔ (الناس : 6) (خواہ وہ جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔ ) شیطان کے ہمنوائوں کا ذکر یعنی وہ ابلیسِ رجیم جسے شیطان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس آیت کریمہ میں اس کے خاندان یا اس کے ہمنوائوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یعنی وسوسہ اندازی کا عمل اس قدر وسعت رکھتا ہے کہ اس ڈیوٹی پر متعین صرف جنات ہی نہیں، انسان بھی ہیں۔ جنات میں کچھ تو وہ ہیں جو ابلیس کا اپنا خاندان یعنی اس کی اپنی اولاد ہے۔ اور کچھ وہ ہیں جو اس کی تبلیغ و دعوت، یعنی وسوسہ اندازی کے عمل سے متأثر ہوئے اور اب بگاڑ کی اس انتہا کو پہنچ گئے ہیں کہ انھوں نے وہی کچھ کہنا اور کرنا شروع کردیا ہے اور اسی کو اپنا مقصد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے سورت الفلق میں اپنا تعارف رب الفلق کے نام سے کروایا ہے جس کا معنٰی ہے کہ مخلوق کو پھاڑنے کے عمل سے عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔ سورت النّاس میں یہ بتلایا ہے کہ وہی انسانوں کا ” رب، حقیقی بادشاہ اور معبود برحق ہے اس لیے اس کی مخلوق بالخصوص جنوں اور انسانوں کی شر سے بچنے کے لیے اس کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔ سورت النّاس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی عظیم اور بابرکت کتاب کا اختتام فرمایا ہے۔ گویا کہ یہ قرآن مجید کی آخری سورت ہے۔ سورت فاتحہ کا آغاز رب العالمین کے الفاظ سے ہوا اور قرآن مجید کا اختتام ” مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ “ پر ہوا ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →6 : مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ (خواہ وہ جن ہو یا آدمی) یہ الذی یوسوس کا بیان ہے شیطان دو قسم کے ہیں۔ نمبر 1۔ جنی۔ نمبر 2۔ انسی، جیسا فرمایا : شَیَاطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ ] الانعام : 112[ قول ابو ذر ؓ : انہوں نے ایک آدمی کو فرمایا : ھل تعوذت باللہ من شیطان الانس۔ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کی پناہ شیطان انس سے مانگی ہے۔ روایت میں ہے آپ ﷺ پر سحر کی گئی جس کی وجہ سے آپ بیمار ہوگئے پس آپ کے ہاں دو فرشتے آئے۔ جبکہ آپ سو رہے تھے ایک نے دوسرے کو کہا ان کو کیا ہوا ؟ دوسرے نے کہا ان پر سحر ہوا۔ اس نے سوال کیا کس نے کیا ؟ دوسرے نے کہا لبید بن اعصم یہودی نے، اس نے کہا کس چیز سے سحر کیا۔ اس نے کہا کنگھی…
Read the full tafseer →6” من الجنۃ والناس “ یعنی جن میں داخل ہوتا ہے جیسا کہ انسان میں داخل ہوتا ہے اور جنوں میں وسوسہ ڈالتا ہے جیسا کہ انسانوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ ال کو کلبی (رح) نے کہا ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول ” فی صدورالناس “ اور الناس سے وہ مراد ہیں جو اس کے بعد مذکور ہیں اور وہ جن و انسان ہیں۔ پس جنوں کا نام ناس رکھا جیسا کہ ان کا نام رجال رکھا ہے۔ تو فرمایا ” وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن “ اورت حقیق بعض عرب سے ذکر کیا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ بیٹھے باتیں کر رے تھے کہ جنوں کی ایک قوم آکر بیٹھ گئی تو انہوں نتے کہا تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا جنوں میں سے چند لوگ اور یہ فراء کے قول کا معنی ہے۔ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ 6۔ یہ تین صفتیں ربوبیت بادشاہت الہیت مل کر ایسا ایک صفتوں کا مجموعہ ہے کہ دنیا کے کسی بادشاہ میں نہیں پایا جاتا اس لئے ان تنیوں صفتوں کو ایک جا کرکے ذکر فرمایا ان صفتوں کے ترتیب وار ذکر فرمانے میں یہ بھی گویا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رب الناس ہونا ظاہر ہے کیونکہ مثلاً ایک سال اس کی پرورش نہ ہو اور مینہ نہ برسے تو قحط پڑجاتا ہے اسی طرح اس کی بادشاہت تمام دنیا میں ظاہر ہے جس بادشاہ امیر وزیر کو ایک دم میں چاہے بیمار ڈال دے مار ڈالے کوئی اس میں کچھ دخل نہیں دے سکتا اب آدمی کو یہ سوچنا چاہئے کہ جس کی یہ صفتیں ہیں لائق عبادت بھی وہی وحدہ لاشریک ہے کسی دوسرے کو اس کی عبادت میں شریک ٹھہرانے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
یہ سورة مبارکہ لوگوں کے رب ان کے مالک اور ان کے معبود کے پاس شیطان سے پناہ ہے جو تمام برائیوں کی جڑ اور ان کا مادہ ہے جس کا فتنہ اور شری ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے ان کے سامنے شر کی تحسین کرتا ہے۔ بڑائی کو انتہائی خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور برائی کے ارتکاب کے لیے ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے وہ انہیں بھلائی سے باز رکھتا ہے اور اس کو کسی اور ہی صورت میں ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہتا ہے اور وسوسہ ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے یعنی جب بندہ مومن اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کو دفع کرنے کے لیے اپنے رب کی مدد چاہتا ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے…
Read the full tafseer →7 ۔ شیطان جنوں سے بھی اور انسانوں سے بھی، والعیاذ باللہ جل وعلا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے، سو اس سے معلوم ہوا کہ شیطان جنوں کی طرح انسانوں میں سے بھی ہوتے ہیں، جیسا کہ سورة انعام کی آیت نمبر 112 میں بھی ارشاد فرمایا گیا ہے وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا ۭ وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ (الانعام 112 پ 8) اور جیسا کہ سنن نسائی وغیرہ کی روایت میں آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ سے ارشاد فرمایا " تعوذ باللہ من شر شیاطین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
شیطان جن و انس سے اللہ کی پناہ تشریح : یہاں اس پناہ اور حفاظت کا ذکر کیا جا رہا ہے جس کی ضرورت انسان کو اس وقت محسوس ہوتی ہے جب وہ سخت مشکل یا پریشانی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ تو ایسے میں اللہ کی پناہ سے بڑھ کر کون سی پناہ گاہ ہوسکتی ہے۔ کیونکہ اللہ ہی وہ عظیم الشان ' مضبوط بلندو برتر ہستی ہے کہ خلقت کا رب ہے پالنے والا ہے۔ ذرا غور کریں چرند پرند ' انسان و حیوان اپنے انتہائی ابتدائی مراحل سے کس قدرت ' مہارت اور بہترین نظام کے تحت خوراک حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً وہی پوشیدہ ہاتھ جو اپنی قدرت سے مادہ کے رحم میں بچے کی پرورش کرتے ہیں۔ اور جب دنیا میں وارد ہوتا ہے تو کس قدرت اور حکمت سے ماں کے دودھ سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الناس۔ آیات 1 تا 6 اسرار ومعارف۔ کہہ دیجئے کہ پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے پروردگار کی اور اس کی جو سب کا حقیقی بادشاہ ہے اور معبود برحق ہے سب کا اس سے جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ وسوسہ ڈالنے والاجن ہو یا انسان کہ جنات اور انسان بھی شیطان کی پیروی کرتے کرتے شیطانی صفات میں رنگ جاتے ہیں۔ لبید بن عاصم یہودی نے آپ ﷺ کے موئے مبارک چرا کر کنگھی کے دندانوں میں گرہ دے کر کسی پرانے کنوئیں میں پتھر کے نیچے دبادیے اور آپ علیل ہوگئے چناچہ آپ کو بذریعہ وحی اطلاع ہوگئی آپ ﷺ نے نکلوالیے تو یہ سورتیں نازل ہوئیں ایک ایک آیت پر ایک ایک گرہ کھلتی جاتی تھی چناچہ آپ ﷺ کو شفا ہو کر آپ کی وساطت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 7 دوسری آیات میں بھی بیان ہوا ہے کہ شیطان جنوں میں سے ہے اور آدمیوں میں سے بھی ( سورة انعام :113) یہ الذی یوموس کا بیان ہے یا یوسوس کے متعلق ہے۔ اس صورت میں ” من “ ابتداء غایت کے لئے ہوگا۔ جنات کے وساوس شیاطین الانس سے کچھ مختلف ہوتے الحمد اللہ کہ آج بروز عید الفظر یہ عظیم الشان اور بابرکت کام بتوفیق الٰہی سرانجام پایا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس خدمت کو درجہ قبولیت بخشے اور اسے میرے لئے میرے والدین اور اساتذہ کے لئے زاد راہ بنائے۔ آمین ختم آمین
Read the full tafseer →(114:6) من الجنۃ والناس : اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) یہ جملہ وسواس کا بیان ہے یا الذی کا۔ (مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہوگا) یعنی وسوسہ پیدا کرنا جنات کا فعل بھی ہے اور انسانوں کا بھی۔ اور جگہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔ وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیطین الانس والجن (6:112) اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن (بہت سے) شیطان، انسان اور جنات (دونوں) میں سے پیدا کر دئیے تھے۔ خلاصہ یہ کہ اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ جن و انس کے سر سے پناہ مانگو۔ (2) یا من الجنۃ والناس کا تعلق یوسوس سے ہے۔ یعنی لوگوں کے سینوں کے اندر جنات اور انسانوں کے معاملات کے متعلق وسوسہ پیدا کرتا ہے۔ (3)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ملک۔ بادشاہ ۔ الہ۔ معبود۔ الوسواس۔ وسوسے ڈالنے والا۔ الخناس۔ پیچھے ہٹ جانے والا۔ من الجنۃ والناس۔ جنات میں اسے اور انسانوں میں سے۔ ترجمہ :- قل اعوذ برب الناس :- آپ کہہ کہ میں تمام لوگوں کے رب کی پناہ چاہتا ہوں۔ ملک الناس :- جو تمام لوگوں کا حقیقی بادشاہ ہے اس کی پناہ مانگتا ہوں۔ الہ الناس : تما م لوگوں کے معبود کی پناہ مانگتا ہوں۔ ان تینوں آیتوں میں اس کی وضاحت فرما دی گئی ہے کہ اس کائنات میں درحقیقت انسانوں کا پالنے والا، لوگوں پر حکمرانی کرنے والا اور لوگوں کے لئے وہ ہستی جو قابل عبادت ہے ایک اللہ ہی کی ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اس عظیم رب کی پناہ مانگئے۔ وہیں آپ کو اور اللہ کے ماننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(ف 1) یہ تین صفتیں ربوبیت ، بادشاہت، اور الٰہیت مل کر صفتوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے کہ دنیا کے کسی بادشاہ میں نہیں پایاجاتا، اس لیے ان تنیوں صفتوں کو یکجا کرکے ذکر فرمایا، ان صفتوں کے ترتیب وارذکر کرنے میں یہ بھی ارشاد فرمایا، کہ اللہ تعالیٰ کا رب الناس ہوناظاہر ہے کیونکہ مثلا ایک سال اس کی پرورش نہ ہو اور مینہ نہ برسے توقحط پڑجائے اسی طرح اس کی بادشاہت تمام دنیا میں ظاہر ہے جس بادشاہ وزیر امیر کو ایک دم میں چاہے بیمار ڈال دے مار ڈالے کوئی اس میں کچھ دخل نہیں دے سکتا، اب آدمی کو یہ سوچنا چاہیے کہ جس کی یہ صفتیں ہیں لائق عبادت بھی وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ الوسواس اور وسوسہ کے معنی اس ہلکی اور دبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[3] یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ وسوسہ جناتی شیاطین کی طرف سے ہونا تو ظاہر ہے کہ وہ مخفی طور پر انسان کے قلب میں کوئی کلام ڈال دیں مگر انسانی شیاطین تو کھلم کھلا سامنے آ کر بات کرتے ہیں، ان کا وسوسہ سے کیا تعلق ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسانی شیاطین بھی اکثر ایسی باتیں کسی کے سامنے کرتے ہیں جن سے اس کے دل میں کسی معاملے کے متعلق شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ انسان کے دل میں وسوسہ اندازی باہر سے شیاطین جن و انس ہی نہیں کرتے بلکہ انسان کا اپنا نفس بھی کرتا ہے۔ وہ اس کو بہکاتا ہے اور برے کاموں کی طرف مائل کرتا ہے۔ اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے خود اپنے نفس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الناس یہ سورة بھی سورة استعاذہ ہے ۔ اس میں یہ بتایا ہے کہ سب سے بڑا فتنہ اور سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ ایک مرد مومن شیطان کے دھوکے میں نہ آجائے اور اس کے وسوسہ سے متاثر ہوکر بےدین اور ملحدنہ ہوجائے ۔ اس لئے اس سے بچنا اور احتراز کرنا ازبس ضروری اور لازم ہے ۔ مگر اس سے وہی شخص اپنے دامن کو بچا سکتا ہے جو اللہ کی ربوبیت عامہ پر ایمان رکھتا ہو ۔ صرف اسی کو مالک اور آقا قرار دیتا ہو اور اسی کو معبودومحبوب سمجھتا ہو ۔ فرمایا کہ یہ شیطان جو چھپ کردار کرتا ہے اور تقویٰ وزہد کا جامہ پہن کر گمراہ کرتا ہے ۔ کبھی انسان کی شکل میں ہوتا ہے اور کبھی جنوں کی صورت میں ، اس کا کام صرف اس قدر ہے کہ قلب…
Read the full tafseer →(6) وہ وسوسہ انداز اور وسوسہ ڈالنے والا خواہ جنوں میں سے ہو یا آدمیوں میں سے۔ یعنی کبھی شیطان وسوسہ ڈالتا ہے اور کبھی انسان آدمی کو بہکاتا ہے جیسا کہ ہمارا محاورہ ہے کہ آدمی کا شیطان آدمی ہے یعنی انسان انسان کو بہکا کر برائی کی طرف لے جاتا ہے اسی واسطے بزرگوں نے بری صحبت سے بچنے کو کہا ہے۔ آٹھویں پارے میں گزرچکا ہے کہ ہم نے ہر نبی کے لئے شیاطین اور انسانوں میں سے دشمن بنائے ہیں جو اپنی عداوت کا مظاہر ہ کرتے رہتے ہیں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سورت میں پانچ جگہ لفظ ناس آیا ہے ہرجلہ ناس سے مراد انسان کی مختلف قسم مراد ہے مثلاً پہلے ناس اس سے تربیت اور پرورش کے لحاظ سے چھوٹے بچے مراد ہیں دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 8۔ اس سے وہ وسوسہ مراد ہے جو مغضی الی المعصیت ہوجائے اور اس کا مضرت دینیہ ہونا ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →خواہ وہ جنات سے ہو یا عام انسانوں سے 6 وسوسہ اندازی کرنے والوں کی مزید وضاحت کردی ہے۔ فرمایا ان کی ایک پہچان ہم نے تم کو پہلے کرادی ہے وہ یہ کہ یہ ظاہر ہوتے ہیں ایسے وقت میں کہ کوئی دیکھ نہ رہا ہو۔ بس چوری چھپے ظاہر ہوتے ہیں اور ایک بات کسی کمزور دل میں ڈال دیتے ہیں وہ خیال کرنے لگ جاتا ہے اور سوچنے لگتا ہے اور نہایت گہرائی میں جا کر سوچتا ہے اور جونہی اس کی نظر واپس پھرتی ہے کہ وہ اس کے چہرہ کو ایک بار دیکھ لے کہ وہ کون ہے جس نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا ہے تو وہاں کچھ بھی موجود نہیں ہوتا۔ وہ کبھی کا بھاگ چکا ہوتا ہے۔ فرمایا یہ پارٹ (Part) ادا کرنے والوں کی مزید وضاحت سن لو اور اچھی طرح یاد…
Read the full tafseer →Verse [ 114:6] مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (whether from among the Jinn or Mankind.) This is explicative of the expression waswas occurring in verse [ 4], meaning that the devils from amongst mankind and the Jinn whisper into the breasts of mankind. Thus the Messenger of Allah ﷺ has been enjoined to constantly seek protection against the mischief of sneaking devils, whether from amongst the Jinn or from amongst human devils. A question may arise here. It is obvious that the Shaitans can cast a voiceless evil prompting furtively into the hearts of people, but how the human devils can cast evil…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
3 According to some scholars, these words mean that the whisperer whispers evil into the hearts of two kinds of people: the jinn and the men. If this meaning is admitted, the word nas would apply to both jinn and men. They say that this can be so, for when the word rijali (men) in the Qur'an has been used for the jinn, as in Al-Jinn: 6, and when nafar can be used for the group of jinn, as in A1-Ahqaf: 29, men and jinn both can be included metaphorically in the word nas also. But this view is wrong because the words nas, ins and ihsan are even lexically contrary in meaning to the word jinn.…
Read the full tafseer →