Explained with ayahs 1–6
خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ٭٭ اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہؤی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برت رصفات والے اللہ کی پناہ میں آجائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو وب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں…
Read the full tafseer →سورة الناس 2
اصل میں وَسْوَاسِ ڏ الْخَنَّاسِ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ وسو اس کے معنی ہیں بار بار وسوسہ ڈالنے والا۔ اور وسوسے کے معنی ہیں پے در پے ایسے طریقے یا طریقوں سے کسی کے دل میں کوئی بری بات ڈالنا کہ جس کے دل میں وہ ڈالی جارہی ہو اسے یہ محسوس نہ ہوسکے کہ وسوسہ انداز اس کے دل میں ایک بری بات ڈال رہا ہے۔ وسوسے کے لفظ میں کود تکرار کا مفہوم شامل ہے، جیسے زلزلہ میں حرکت کی تکرار کا مفہوم شامل ہے۔ چونکہ انسان صرف ایک دفعہ بہکانے سے نہیں بہکتا بلکہ اسے بہکانے کی پے در پے کوشش کرنی ہوتی ہے، اس لیے ایسی کوشش کو وسوسہ اور کوشش کرنے والے کو وسو اس کہا جاتا ہے۔ رہا لفظ خناس تو یہ خنوس سے ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
من شرالوسو اس الخناس، اللہ تعالیٰ کی تین صفات ذکر کر کے اب اس کا بیان ہے جس سے پناہ مانگنا مقصود ہے وہ ہے وسو اس خناس، وسو اس مصدر دراصل بمعنی وسوسہ ہے یہاں شیطان کو وسو اس مبالغتہ فرمایا گویا کہ وہ سراپا وسوسہ ہے اور وسوسہ کے معنی شیطان کا اپنی اطاعت کی طرف ایک مخفی کلام کے ذریعہ بلانا ہے جس کا مفہوم انسان کے دل میں آجائے اور کوئی آواز سنائی نہ دے (قرطبی)
خناس، خنس کے مشتق ہے جس کے معنی پیچھے لوٹنے کے ہیں۔ شیطان کو خناس اس لئے کہا گیا کہ اس کی عادت یہ ہے کہ انسان جب اللہ کا نام لیتا ہے تو پیچھے بھاگتا ہے پھر جب ذرا غفلت ہوئی پھر آجاتا ہے پھر وہ اللہ کا نام نام لیتا ہے تو پھر پیچھے لوٹ جاتا…
Read the full tafseer →اس چیز کا بیان جس سے پناہ مانگی گئی ہے: یہ اس چیز کا بیان ہے جس کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔ فرمایا کہ کہو میں وسوسہ ڈالنے والے، دبک جانے والے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ الفاظ میں اگرچہ تصریح نہیں ہے لیکن ان صفات اور آگے کی تصریح سے واضح ہے کہ مراد اس سے شیطان ہی ہے۔
شیطان کی تکنیک: یہ شیطان کے تکنیک کی وضاحت ہے کہ اس کا سارا اعتماد وسوسہ اندازی، پراپیگنڈے اور پر فریب وعدوں پر ہے۔ انہی چیزوں سے وہ لوگوں کو اپنے دام فریب میں پھنساتا ہے۔ پھر جب پھنسا لیتا ہے تو اپنے کو بری قرار دے کر ان بے وقوفوں کی بد انجامی کا تماشا دیکھتا ہے جو اس کے دام میں پھنس کر اپنی دنیا اور عاقبت برباد کر لیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4۔ 1 الوسواس، بعض کے نزدیک اسم فاعل الموسوس کے معنی میں ہے اور بعض کے نزدیک یہ ذی الوسو اس ہے۔ وسوسہ، مخفی آواز کو کہتے ہیں، شیطان بھی نہایت غیر محسوس طریقوں سے انسان کے دل میں بری باتیں ڈال دیتا ہے اسی کو وسوسہ کہتے ہیں۔ الخناس (کھسک جانے والا یہ شیطان کی صفت ہے۔ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو یہ کھسک جاتا ہے اور اللہ کی یاد سے غفلت برتی جائے تو دل پر چھا جاتا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3: ایک مستند حدیث میں حضور نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ : ”جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے، اس کے دل پر وسوسہ ڈالنے والا (شیطان) مسلط ہوجاتا ہے۔ جب وہ ہوش میں آ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو یہ وسوسہ ڈالنے والا پیچھے کو دبک جاتا ہے، اور جب وہ غافل ہوتا ہے تو دوبارہ آ کر وسوسے ڈالتا ہے۔“ (روح المعانی بحوالہ حاکم وابن المنذر و ضیاء)
Read the full tafseer →7 شیطان نظروں سے غائب رہ کر آدمی کو بہکاتا پھسلاتا ہے۔ جب تک آدمی غفلت میں رہا اس کا تسلط بڑھتا رہا۔ جہاں بیدار ہو کر اللہ کو یاد کیا یہ فوراً پیچھے کو کھسکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آیت 4{ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِلا الْخَنَّاسِ۔ } ”اس بار بار وسوسہ ڈالنے والے ‘ پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔“
شیطان کی وسوسہ اندازی کا طریق کار یہ ہے کہ وہ لگاتار اپنی کوشش جاری رکھتا ہے اور انسان کو گمراہ کرنے کی کوششوں سے تھکتا نہیں۔ کبھی حملہ کرتا ہے ‘ کبھی دفاعی پسپائی اختیار کرتا ہے اور پھر پلٹ کر حملہ آور ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →2 خناس کا لغوی مفہوم :۔ وَسْوَاس طبی ّ نقطہ نگاہ سے یہ ایک مرض ہے جسے وہم بھی کہتے ہیں۔ یہ مرض غلبہ سودا کی وجہ سے ذہن کو ماؤف کردیتا ہے اور انسان ایسی فضول باتیں کرنے لگتا ہے جو پہلے اس کے ذہن میں نہیں ہوتیں۔ دل میں آنے والی برائی اور بےنفع بات اور شرعی نقطہ نگاہ سے اس کا معنی شیطان کا کسی برے کام کی طرف راغب کرنا اور برے خیال دل میں ڈالتے رہنا اور اس کی نسبت صرف شیطان کی طرف ہوتی ہے۔ جس کی ایک صفت خَنَّاس ہے اور خَنَّاس شیطان ہی کا صفاتی نام ہے۔ خَنَّاس بمعنی ظاہر ہو کر چھپ جانے والا یا سامنے آکر پھر پیچھے ہٹ جانے والا۔ شیطان کا یہ عمل صرف ایک بار ہی نہیں ہوتا بلکہ بار بار ہوتا ہے۔ وَسوَس…
Read the full tafseer →2۔ (کہ ان کا ڈالا ہوا وسوسہ کہیں باعث معصیت نہ ہوجائے) ہر شر، ہر معصیت کی ابتداء کسی نہ کسی وسوسہ ہی سے ہوتی ہے۔ وسوسہ دل میں اگر آکر نکل گیا، تو انسان محفوظ رہ گیا، لیکن وہی وسوسہ اگر جم گیا، تو انسان کو کسی نہ کسی درجہ کی مضرت دینی میں پھنسا کر یقیناً رہتا ہے، وسوسہ سے پناہ مانگنے کی تعلیم اسی لئے عین حکمت پر مبنی ہے۔ (آیت) ” الخناس “ شیطان کا ایک صفاتی نام ہے۔ یعنی وہ حق تعالیٰ کا ذکر سن کر سکڑنے لگتا ہے۔ اے الشیطان الذی یخنس اے ینقبض اذا ذکر اللہ تعالیٰ (راغب)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
من شر الوسواس، الوسواس بعض کے نزدیک اسم فاعل الموسوس کے معنی میں ہے اور بعض کے نزدیک یہ ذی الوسواس ہے، وسوسہ مخفی آواز کو کہتے ہیں، شیطان بھی نہایت غیر محسوس طریقہ سے انسان کے دل میں بری باتیں ڈال دیتا ہے، اسی کو وسوسہ کہا جاتا ہے، الخناس کھسک جانے والا یہ شیطان کی صفت ہے جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو یہ کھسک جات ا ہے۔ اور ذکر سے غفلت کی حالت میں واپس آ کر دل پر چھا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →من شر الوسواس . الوسواس بروزن زلزال اسم ہے ‘ وسوسہ کا ہم معنی ہے۔ وسوسہ اس خفیف خفیہ آواز
کو کہتے ہیں جس کا مفہوم تو دل تک پہنچ جائے اور تلفظ سنائی نہ دے (یعنی ذہنی آواز) یہاں وسواس سے مراد شیطان ہے یعنی وسوسہ پیدا کرنے والا یا تو اس وجہ سے کہ مبالغۃً مصدر کو بجائے اسم فاعل کے استعمال کرلیا جاتا ہے یا مضاف محذوف ہے یعنی وسوسہ ڈالنے والا۔ کذا قال الزجاج۔
الخناس . یہ الوسواس کی صفت ہے۔ (خنسٌ اور خنوسٌ کا معنی ہے چپکے سے پیچھے ہٹنا) شیطان کا طریقہ
اور معمول ہے کہ اللہ کی یاد کے وقت پیچھے ہٹ جاتا ہے (اس لیے اس کو خناس فرمایا) حضرت عبداللہ بن شقیق کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر آدمی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
(1۔ 6)۔ محمد ﷺ آپ فرمائیے کہ میں جن و انس کے رب جن و انس کے مالک اور جن و انس کے خالق کی پناہ لیتا ہوں۔ شیطان کے شر سے جو کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے تو وہ اس کے دل پر غلبہ کر کے اسے چھپا دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتا تو وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ انسانوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالے یا جنات کے دلوں میں۔ یہ دونوں سورتیں لبید بن اعصم یہودی کے متعلق نازل ہوئی ہیں جس نے رسول اکرم ﷺ پر جادو کردیا تھا آپ نے جادو پر ان سورتوں کو پڑھا تو وہ اس طرح زائل ہوگیا جیسا کہ رسی کی گرہ کھل جاتی ہے۔
شان نزول : معذتین
امام بیہقی نے دلائل النبوة میں بواسطہ کلبی، ابو صالح، حضرت ابن عباس سے روایت…
Read the full tafseer →(1) من شر الوسواس، الخناس :”الوسواس“ واؤ کے کسرہ کے ساتھ ہو تو یہ ”وسوس یوسوس“ کا مصدر ہے، وسوسہ ڈالنا، جیسے ”زلزال“ (زاء کے کسرہ کے ساتھ) ہے ، سخت ہلانا۔ (زمخشری) یہاں ”الوسواس“ واؤ کے فتحہ کیساتھ ہے، یہ مصدر نہیں بلکہ صفت ہے، جو اسم فاعل کے معنی میں ہے، بہت وسولہ ڈالنے والا، جس طرح ”ترثار“ (بہت باتیں کرنے والا) اور ”’ حداح“ (بہت چھوٹے قد والا) وغیرہ ہیں۔ (تفسیر ابن قیم)
(2)”الوسواس“ مضاعف رباعی ہے، اس کے مفوہم میں تکرار (بار بار وسوسہ ڈلنا) شامل ہے، جس طرح ”زلزل“ کے مفہوم میں بار بار ہلانا اور ”ثرثر“ میں بولتے چلے جانا شامل ہے۔”الوسواس“ کا معنی بہت وسوسہ ڈالنے والا جو بار بار وسوسہ ڈالتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
معبود برحق کی پناہ مانگنے کی تعلیم وتلقین۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پناہ مانگو اس کی جو کہ معبود برحق ہے سب لوگوں کا کہ وہی سب کا کارساز و حاجت روا اور مشکل کشا ہے سب کے دل اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہیں۔ اور معبود حقیقی وہی اور صرف وہی ہے سبحانہ وتعالی عبادت کی ہر شکل و صورت اور اس کی ہر قسم اسی کا حق ہے جب لوگوں کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لاشریک ہے سب کا رب بھی وہی ہے اور سب کا معبود برحق بھی وہی تو مخلوق اور ہر طرح کی مخلوق اور خاص کر وسو اس الخناس۔ جیسی پوشیدہ شریر اور سب سے بڑی خطر ناک اور دشمن مخلوق سے پناہ دینا بھی اسی کی شان اور اسی کا کام ہے اور ہوسکتا ہے لہذا اسی کی پناہ طلب کی جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت قل اعوذ برب الناس مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردیہ نے حکم بن عمیر الثمالی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اے لوگو ! بچو اور بچو تم وسوسہ ڈالنے والے اور چھپ جانے والے سے۔ بیشک وہ تم کو آزماتے ہیں کون تم میں سے اچھے عمل کرتا ہے۔
3۔ ابن ابی شیبہ نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا سب سے پہلے وضو سے وسوسہ شروع ہوا۔
4۔ ابن بی شیبہ نے عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت کیا کہ نہانے کی جگہ پیشاب کرنا اس سے وسواس پکڑ لیتا ہے۔ (یعنی وسواس کی بیماری پید اہوتی ہے)
5۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن مرہ (رح) سے روایت کیا کہ کوئی وسوسہ نہیں ہے زیادہ…
Read the full tafseer →[مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ڏ الْخَنَاسِ : بار بار وسوسہ اندازی کرنے والے بار بار دبک جانے والے کے شر سے ]
ترکیب : اَلْوَسْوَاسِ اور اَلْخَنَّاسِ دونوں اسم المبالغہ ہیں جو ایک طرح سے اسم الصّفہ ہوتے ہیں۔ (دیکھیں آسان عربی گرامر، حصہ سوم پیراگراف 1:60 ۔ اس لیے اَلْخَنَّاسِ کو مضاف الیہ اَلْوَسْوَاسِ کی صفت ماننے کی گنجائش نہیں ہے اور اَلْخَنَّاسِ کو شَرِّ کا مضاف الیہ ثانی مانا جائے گا۔ اَلْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ کا موصوف یہاں محذوف ہے۔ آگے آیات ۔ 4 ۔ 5 میں اسی محذوف موصوف کی وضاحت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
﴿ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ 1ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ004﴾ میں وسوسہ ڈالنے والے شیطان کی ایک صفت الخناس بیان فرمائی کہ وہ وسوسے ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان اپنی سونڈ کو انسان کے دل پر جمائے ہوئے ہے اگر وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اگر وہ اللہ کے ذکر سے غافل ہوجاتا ہے تو اس کے دل کا لقمہ بنا لیتا ہے اس کو الوسواس الخناس بتایا ہے۔ (حصن حصین)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تعلیم وتلقین از مہالک باطنیہ وآفات نفسانیہ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اعوذ برب الناس ........ الی ........ من الجنۃ والناس “۔
(ربط) گذشتہ سورت یعنی الفلق میں اللہ رب العزت کی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا تھا ایسے تمام مہالک اور آفات سے جو حسی اور ظاہری ہیں کہ ہر مخلوق کے شر، ہر تاریکی کے فتنہ سے ہر جادو کی مصیبت سے اور ہر حسد اور کید ومکر سے تو یہ تمام آفات ظاہری اور حسی تھیں اب اس سورة الناس میں ان آفات اور ہلاکتوں کو ذکر کیا جارہا ہے جو باطنی ہیں، اور وہ نفس سے اور نفس کے دواعی وتقاضوں سے پیدا ہوتی ہیں اور قلب پر وارد ہو کر انسان کے دین اور عقیدہ کو ہلاک وبرباد کردینے والی ہیں تو اس سورت…
Read the full tafseer →3:۔ ” من شر الوسواس “ الوسواس اسم مصدر ہے، مراد شیطان ہے بطور مبالغہ۔ شیطان، انسان کا اس قدر دشمن ہے اور اس کے دل میں وسوسے ڈالنے میں اس قدر منہمک رہتا ہے گویا وہ سراپا وسوسہ ہے۔ الخناس، چھپ جانے والا اور پیچھے ہٹ جانے والا۔ چھپ کر انسان کو گمراہ کرتا اور اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ کوئی بندہ اللہ کو یاد کرے تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جب غافل ہوجائے تو قریب آجاتا ہے۔ اذا غفل الانسان وسوس لہ واذا ذکر العبد ربہ خنس (قرطبی ج 20 ص 262) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة النسا ہے۔ یہ قرآن کریم کی آخری سورة ہے۔ مدنی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھ آیات ہیں اس سے پہلی سورة فلق کی پانچ آیتیں ہیں۔ گیارہ آیات کی یہ دو سورتیں ایک ہی وقت میں اکٹھی نازل ہوئیں۔ اس سورة الناس کے بیس الفاظ اور اناسی حروف ہیں۔
موضوع
سورۃ فلق اور سورة الناس معوذتین کہلاتی ہیں۔ ان کے ذریعے شرور سے پناہ مانگنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔ پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت بیان کر کے چار دنیوی زندگی سے متعلق چیزوں سے پناہ ماگنی ہے اور اس سورة میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا ذکر کر کے ایک دینی زندگی سے متعلق چیز یعنی وسوسہ شیطان سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ اس…
Read the full tafseer →مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ 0ۥۙ الْخَنَّاسِ 4
وسوس
الوَسْوَسَةُ : الخطرةُ الرّديئة، وأصله من الوَسْوَاسِ ، وهو صوت الحلي، والهمس الخفيّ. قال اللہ تعالی: فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطانُ [ طه/ 120] ، وقال : مِنْ شَرِّ الْوَسْواسِ [ الناس/ 4] ويقال لهمس الصّائد وَسْوَاسٌ.
( وس وس ) الوسوسۃ
اس برے خیال کو کہتے ہیں جو دل میں پیدا ہوتا ہے اور اصل میں سے ماخوز ہے جس کے معنی زیور کی چھنکار یا ہلکی سی آہٹ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطانُ [ طه/ 120] تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا ۔ مِنْ شَرِّ الْوَسْواسِ [ الناس/ 4] شیطان وسوسہ انداز کی برائی سے جو ( خدا کا نام سنکر ) پیچھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب ¦ قل اعوذ قراء الجمھور بالھمزۃ قری بخدفھاد نقل حرکتھا الی اللام برب الناس متعلق باعوذ ملک الناس عطف بیان لرب الناس قرء لجمھور ملک الناس باسقاط الالف فی ملک والملک بکسر اللام السلطان القاھر۔ الہ الناس ایضاً عطف بیان من شر الواسواس متعلق باعوذو ھوالمستعاذمنہ۔ الوسواس بفتح الواؤ عندالفراء اسم بمعنی الموسوس وبکسرھامصدر ای الوسوسۃ کالزلزال بمعنی الزلزلۃ والوسوسۃ حدیث النفس یقال وسوست الیہ نفسہ و وسوسۃ ای حدثتہ حدیثا واصلھا الصوت الخفی ومنہ الوسواس للصوت الجلی۔ الخناس نعت لہ۔ مبالغۃ من الخنس وھو التاخر خنس یخنس اذاتاخرومنہ قولہ تعالیٰ فلا اقسم بالخنس۔ قال مجاھد اذاذکر اللہ خنس ای تاخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
مِنْ شَرِّالْوَسْوَاسِ 5 لا الْخَنَّاسِ ۔ الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِالنَّاس۔ (الناس : 4، 5)
(اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے، جو بار بار پلٹ کر آتا ہے۔ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہتا ہے۔ )
وَسْوَاسِ کا مفہوم
وسواسکا معنی ہے بار بار وسوسہ ڈالنے والا۔ اور وسوسہ حدیث نفس کو کہتے ہیں۔ یعنی نہایت خاموشی اور پے در پے کسی کے دل میں کوئی بری بات اس طرح ڈالنا کہ اسے خیال تک نہ گزرے کہ میرے دل میں کوئی چیز اتاری جارہی ہے۔ اس عمل کو وسوسہ اندازی کہتے ہیں۔
شیطان کی وسوسہ اندازی کی تکنیک
الخَنَّاسِ پیچھے کھسک جانے والے، دبک جانے والے اور پلٹ پلٹ کر وسوسہ ڈالنے والے کو کہتے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن
ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے سورت الفلق میں اپنا تعارف رب الفلق کے نام سے کروایا ہے جس کا معنٰی ہے کہ مخلوق کو پھاڑنے کے عمل سے عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔ سورت النّاس میں یہ بتلایا ہے کہ وہی انسانوں کا ” رب، حقیقی بادشاہ اور معبود برحق ہے اس لیے اس کی مخلوق بالخصوص جنوں اور انسانوں کی شر سے بچنے کے لیے اس کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔ سورت النّاس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی عظیم اور بابرکت کتاب کا اختتام فرمایا ہے۔ گویا کہ یہ قرآن مجید کی آخری سورت ہے۔ سورت فاتحہ کا آغاز رب العالمین کے الفاظ سے ہوا اور قرآن مجید کا اختتام ” مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ “ پر ہوا ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →4 : مِنْ شَرِّالْوَسْوَاسِ (وسوسہ ڈالنے والے) الوسواسؔ یہ اسم ہے جو کہ الوسوسہ کے معنی میں ہے اس کی نظیر الزلزال بمعنی زلزلہ ہے۔ باقی مصدر وسواس کسرئہ واو کے ساتھ ہے جیسے زلزال۔ اور اس سے مراد شیطان ہے۔ مصدر بول کر اس کا نام رکھا گیا گویا وہ فی نفسہٖ وسوسہ ہے کیونکہ یہ اس کا وہ مشغلہ ہے۔ جس میں وہ ہر وقت مصروف و مستغرق ہے۔ یا مراد ذوالوسواس ہے۔ الوسوسہؔ ہلکی آواز۔
الْخَنَّاسِ (پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے) جس کی عادت یہ ہو کہ وہ وسوسہ ڈال کر پیچھے ہٹ جائے۔ یہ الخنوس سے بنا ہے۔ جس کا معنی متاخر ہونا۔ جیسا العواج والبتات۔
سعید بن جبیر (رح) کا قول :
جب انسان اپنے رب کو یاد کرتا ہے تو شیطان پیچھے…
Read the full tafseer →4 من شرالوسواس الخناس “ یعنی شیطان۔ یہ مصد اور اسم ہے۔ زجاج فرماتے ہیں یعنی شیطان وسوسہ ڈالنے والا خناس اور وہ شیطان انسان کے دل پر بیٹھا ہوا ہے۔ پس جب اللہ کا ذکر کرتا ہے تو بھاگ جاتا ہے اور جب غافل ہوجائے تو وسوسہ ڈالتا ہے۔ فرمایا خناس اس کی سونڈ ہے، کتے کی سونڈ کی طرح انسان کے سینے میں ہے۔ پس جب بندہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ ہٹ جاتا ہے اور کہا جاتا ہے اس کا سر سانپ کے سر کی طرح ہے اس نے اپنا سر دل کے اوپر رکھا ہے، بندہ کو امید دلاتا ہے اور خیالات دلاتا ہے۔ پس جب اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ہٹ جاتا ہے اور جب ذکر نہیں کرتا تو لوٹ آتا ہے اور اپنا سر رکھ دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ 6۔ یہ تین صفتیں ربوبیت بادشاہت الہیت مل کر ایسا ایک صفتوں کا مجموعہ ہے کہ دنیا کے کسی بادشاہ میں نہیں پایا جاتا اس لئے ان تنیوں صفتوں کو ایک جا کرکے ذکر فرمایا ان صفتوں کے ترتیب وار ذکر فرمانے میں یہ بھی گویا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رب الناس ہونا ظاہر ہے کیونکہ مثلاً ایک سال اس کی پرورش نہ ہو اور مینہ نہ برسے تو قحط پڑجاتا ہے اسی طرح اس کی بادشاہت تمام دنیا میں ظاہر ہے جس بادشاہ امیر وزیر کو ایک دم میں چاہے بیمار ڈال دے مار ڈالے کوئی اس میں کچھ دخل نہیں دے سکتا اب آدمی کو یہ سوچنا چاہئے کہ جس کی یہ صفتیں ہیں لائق عبادت بھی وہی وحدہ لاشریک ہے کسی دوسرے کو اس کی عبادت میں شریک ٹھہرانے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
یہ سورة مبارکہ لوگوں کے رب ان کے مالک اور ان کے معبود کے پاس شیطان سے پناہ ہے جو تمام برائیوں کی جڑ اور ان کا مادہ ہے جس کا فتنہ اور شری ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے ان کے سامنے شر کی تحسین کرتا ہے۔ بڑائی کو انتہائی خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور برائی کے ارتکاب کے لیے ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے وہ انہیں بھلائی سے باز رکھتا ہے اور اس کو کسی اور ہی صورت میں ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہتا ہے اور وسوسہ ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے یعنی جب بندہ مومن اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کو دفع کرنے کے لیے اپنے رب کی مدد چاہتا ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے…
Read the full tafseer →4 ۔ " وسواس " کا معنی و مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا اس بڑے وسوسہ انداز کے شر سے جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے دلوں میں، پس واضح رہے کہ الوسو اس مبالغے کا صیغہ ہے جیسے الثرثار، الوطواط، اور الزلزال، وغیرہ۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ مصدر ہے یہاں پر اسے بطور مبالغہ صفت کے معنی میں استعمال فرمایا گیا ہے (جامع البیان، القرطی، المحاسن، روح وغیرہ) سو یہ مبالغے کا صیغہ ہو یا مصدر کا، جسے بور مبالغہ استعمال کیا گیا ہے، نتیجہ و مآل دونوں کا بہرحال ایک ہی رہتا ہے کہ وہ بڑا ہی وسوسہ انداز ہے جس کا کام ہی وسوسہ اندازی کرنا اور ورغلانا ہے، پھر یہ وسوسہ اندازی عام ہے، خواہ آواز کے ساتھ ہو یا بغیر آواز کے، (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
شیطان جن و انس سے اللہ کی پناہ
تشریح : یہاں اس پناہ اور حفاظت کا ذکر کیا جا رہا ہے جس کی ضرورت انسان کو اس وقت محسوس ہوتی ہے جب وہ سخت مشکل یا پریشانی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ تو ایسے میں اللہ کی پناہ سے بڑھ کر کون سی پناہ گاہ ہوسکتی ہے۔ کیونکہ اللہ ہی وہ عظیم الشان ' مضبوط بلندو برتر ہستی ہے کہ خلقت کا رب ہے پالنے والا ہے۔ ذرا غور کریں چرند پرند ' انسان و حیوان اپنے انتہائی ابتدائی مراحل سے کس قدرت ' مہارت اور بہترین نظام کے تحت خوراک حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً وہی پوشیدہ ہاتھ جو اپنی قدرت سے مادہ کے رحم میں بچے کی پرورش کرتے ہیں۔ اور جب دنیا میں وارد ہوتا ہے تو کس قدرت اور حکمت سے ماں کے دودھ سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الناس۔
آیات 1 تا 6
اسرار ومعارف۔
کہہ دیجئے کہ پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے پروردگار کی اور اس کی جو سب کا حقیقی بادشاہ ہے اور معبود برحق ہے سب کا اس سے جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ وسوسہ ڈالنے والاجن ہو یا انسان کہ جنات اور انسان بھی شیطان کی پیروی کرتے کرتے شیطانی صفات میں رنگ جاتے ہیں۔
لبید بن عاصم یہودی نے آپ ﷺ کے موئے مبارک چرا کر کنگھی کے دندانوں میں گرہ دے کر کسی پرانے کنوئیں میں پتھر کے نیچے دبادیے اور آپ علیل ہوگئے چناچہ آپ کو بذریعہ وحی اطلاع ہوگئی آپ ﷺ نے نکلوالیے تو یہ سورتیں نازل ہوئیں ایک ایک آیت پر ایک ایک گرہ کھلتی جاتی تھی چناچہ آپ ﷺ کو شفا ہو کر آپ کی وساطت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ف 6 شیطان کا نام ” خناس “ ہے یعنی اللہ کے ذکر سے پیچھے ہٹ جانے والا۔ حضرت ابن عباس سے ایک روایت میں ہے کہ شیطان بنی آدم کے دل میں بیٹھ جاتا ہے اور وسوسہ اندازی کرتا رہتا ہے جب انسان اللہ کو یاد کرتا ہے تو پیچھے مٹ جاتا ہے اور جب غافل ہوتا ہے تو پھر وسوسہ ڈالنا شروع کردیتا ہے۔ (رواہ الحاکم) شاہ صاحب لکھتے ہیں : شیطان گناہ پر سنکارے اور آپ نظر نہ آئے۔ (موضح) واضح رہے کہ شیطان کا انسان کے اندر داخل ہو کر وسوسہ انداز ہونا عقلاً بعید نہیں ہے۔ خصوصاً جبکہ حدیث سے ثابت ہے اور حدیث مجری الدم سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ بعض عقلا نے وس اس انداز ہونا عقلاً بعید نہیں ہے۔ خصوصاً جبکہ حدیث سے ثابت ہے اور…
Read the full tafseer →(114:4) من شر الوسواس الخناس ۔ متعلق باعوذ ہے اور المستعاذ منہ ہے یعنی وہ جس سے پناہ لینے کی دعا کی جارہی ہے
شر۔ برائی (خیر کی ضد) مضاف الوسوا : مضاف الیہ۔ یہ موصوف بھی ہے اور الخناس اس کی صفت ہے۔
الوسواس : بروزن زلزال اسم ہے وسوسہ کا ہم معنی ہے۔ وسوسہ اس خفیف آواز کو کہتے ہیں جس کا مفہوم تو دل تک پہنچ جائے اور تلفظ سنائی نہ دے۔ یعنی ذہنی آواز۔ یہاں وسواس سے مراد شیطان ہے یعنی وسوسہ پیدا کرنے وال۔ یا تو اس وجہ سے کہ مبالغہ مصدر کو بجائے اسم فاعل استعمال کرلیا جاتا ہے یا مضاف محذوف ہے۔ یعنی وسوسہ ڈالنے والا۔
الخناس : یہ الوسواس کی صفت ہے۔ خنس وخنوس کا معنی ہے چپکے سے پیچھے ہٹنا۔
شیطان کا طریقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ملک۔ بادشاہ ۔ الہ۔ معبود۔ الوسواس۔ وسوسے ڈالنے والا۔ الخناس۔ پیچھے ہٹ جانے والا۔ من الجنۃ والناس۔ جنات میں اسے اور انسانوں میں سے۔
ترجمہ :-
قل اعوذ برب الناس :- آپ کہہ کہ میں تمام لوگوں کے رب کی پناہ چاہتا ہوں۔
ملک الناس :- جو تمام لوگوں کا حقیقی بادشاہ ہے اس کی پناہ مانگتا ہوں۔
الہ الناس : تما م لوگوں کے معبود کی پناہ مانگتا ہوں۔
ان تینوں آیتوں میں اس کی وضاحت فرما دی گئی ہے کہ اس کائنات میں درحقیقت انسانوں کا پالنے والا، لوگوں پر حکمرانی کرنے والا اور لوگوں کے لئے وہ ہستی جو قابل عبادت ہے ایک اللہ ہی کی ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اس عظیم رب کی پناہ مانگئے۔ وہیں آپ کو اور اللہ کے ماننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(ف 1) یہ تین صفتیں ربوبیت ، بادشاہت، اور الٰہیت مل کر صفتوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے کہ دنیا کے کسی بادشاہ میں نہیں پایاجاتا، اس لیے ان تنیوں صفتوں کو یکجا کرکے ذکر فرمایا، ان صفتوں کے ترتیب وارذکر کرنے میں یہ بھی ارشاد فرمایا، کہ اللہ تعالیٰ کا رب الناس ہوناظاہر ہے کیونکہ مثلا ایک سال اس کی پرورش نہ ہو اور مینہ نہ برسے توقحط پڑجائے اسی طرح اس کی بادشاہت تمام دنیا میں ظاہر ہے جس بادشاہ وزیر امیر کو ایک دم میں چاہے بیمار ڈال دے مار ڈالے کوئی اس میں کچھ دخل نہیں دے سکتا، اب آدمی کو یہ سوچنا چاہیے کہ جس کی یہ صفتیں ہیں لائق عبادت بھی وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ الوسواس اور وسوسہ کے معنی اس ہلکی اور دبی…
Read the full tafseer →[2] پیچھے ہٹنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا نام لینے سے شیطان ہٹ جاتا ہے۔ پھر جب غفلت ہوئی پھر آجاتا ہے۔ یہ عمل وہ مسلسل جاری رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الناس
یہ سورة بھی سورة استعاذہ ہے ۔ اس میں یہ بتایا ہے کہ سب سے بڑا فتنہ اور سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ ایک مرد مومن شیطان کے دھوکے میں نہ آجائے اور اس کے وسوسہ سے متاثر ہوکر بےدین اور ملحدنہ ہوجائے ۔ اس لئے اس سے بچنا اور احتراز کرنا ازبس ضروری اور لازم ہے ۔ مگر اس سے وہی شخص اپنے دامن کو بچا سکتا ہے جو اللہ کی ربوبیت عامہ پر ایمان رکھتا ہو ۔ صرف اسی کو مالک اور آقا قرار دیتا ہو اور اسی کو معبودومحبوب سمجھتا ہو ۔ فرمایا کہ یہ شیطان جو چھپ کردار کرتا ہے اور تقویٰ وزہد کا جامہ پہن کر گمراہ کرتا ہے ۔ کبھی انسان کی شکل میں ہوتا ہے اور کبھی جنوں کی صورت میں ، اس کا کام صرف اس قدر ہے کہ قلب…
Read the full tafseer →(4) اس وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ وسواس یعنی وسوسہ جس کے معنی ہمز اور صوت خفی کے ہیں یہاں مراد ذا الوسوستہ یعنی موسوس یعنی اس کی بدی سے پناہ مانگتا ہوں جو وسوسہ ڈالے اور پیچھے ہٹ جائے یعنی وہ دشمن جو چھپ کر حملہ کرتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ وہ حملہ آور زیادہ خطرناک ہوتا ہے جو چھپ کر حملہ کرے برخلاف اس دشمن کے جو بالمقابل ہوکر اور صف آراء ہوکر حملہ کرے اس کا قلع قمع آسان ہے شیطان کی حالت یہ ہے کہ انسان کے قلب پر اپنی سونڈ رکھ کر بیٹھ جاتا ہے اگر انسان نے اللہ کا ذکر کیا توہٹ جاتا ہے نہیں تو قلب میں وسوسہ ڈالتا ہی اور گناہ کے خیال کو پختہ کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →ف 7۔ پیچھے ہٹنے کا مطلب یہ کہ حدیث میں ہے کہ اللہ کا نام لینے سے ہو ہٹ جاتا ہے اور یہ امر شیطان جن میں تو ظاہر ہے، اور شیطان الالس میں حسب تفسیر کبیر اس طرح سے ہے کہ موسوس اپنے کو ناصح مشفق کی صورت میں ظاہر کرتا ہے لیکن اگر اس کو زجر کردیا جائے تو پھر وسوسہ سے باز آجاتا ہے اور ہٹ جاتا ہے۔ اور اگر قبول کرلیا جائے اور یہ صفت اشارہ اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس سے استعاذہ کرنا سبب اعاذہ کا ہوگا کیونکہ اس کی خاصیت ہے، تاخر عن ذکر اللہ۔
Read the full tafseer →میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں وسوسہ ڈالنے اور شرارت کرنے والوں کے شر سے
4 (الوسواس) کا اصل مادہ وس وس ہے۔ گویا یہ رباعی ہے۔ اس مادہ کے جو لفظ قرآن کریم میں آئے ہیں وہ یہ ہیں ( وسوس) (7 : 20) ، (توسوس) (50 : 16) (یوسوس) (114 : 5) اور (الوسواس) زیر نظر آیت میں ہے جس کی وضاحت کی جارہی ہے۔ وسوسہ حدیث نفس کو کہتے کہیں۔ گویا قوت وہمہ کا سارا فعل ہے وسواس جو دل میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں بعض اوقات خود بخود ہی آتے رہتے ہیں اور بعض اوقات کسی کے ڈالنے سے بھی یہ صورت حال پیدا ہوجاتی ہے اور خیال کرتے کرتے اور سوچتے سوچتے آدمی کہیں کا کہیں پہنچ جاتا ہے اور عجیب عجیب طرح کے خیالات پیدا ہوتے رہتے ہیں اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
Verse [ 114:4] مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ (from the evil of the whisperer who withdraws [ when Allah's name is pronounced ].) After invoking three attributes of Allah, the present verse describes the one from whom protection is sought. He is 'the whisperer who withdraws'. The word waswas is originally an infinitive in the sense of waswasah 'to whisper [ that is, to use breath instead of voice, when saying something in barely audible way ] '. But here it is used as an hyperbolic expression to refer to 'Shaitan' in the sense that 'he is an embodiment of whisper'. Whispering of the…
Read the full tafseer →2 The word waswas in waswas-il-khannas means the one who whispers over and over again, and waswasa means to whisper into someone's heart an evil suggestion over and over again in such a way or ways that the one who is being inspired may not feel that the whisperer is whispering an evil suggestion into his heart. Waswasah by itself suggests repetition just as zalzalah contains the meaning of repetitive movement. Since man is not tempted by just one attempt but effort has to be made over and over again to seduce and tempt him, such aII attempt is called waswasah and the tempter waswas. As for…
Read the full tafseer →