اِلٰهِ النَّاسِ ۟ۙاِلٰهِ النَّاسِۙ
لوگوں کے معبود برحق کی
— Fateh Muhammad Jalandhari
The God of mankind,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 39 of juz
اِلٰهِ النَّاسِ ۟ۙاِلٰهِ النَّاسِۙ
لوگوں کے معبود برحق کی
— Fateh Muhammad Jalandhari
The God of mankind,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 39 of juz
Read the whole surah · Surah An-Naas
انسانوں کے حقیقی معبود کی
لوگوں کے معبود برحق کی
لوگوں کے معبود کی (پناه میں)
سب لوگوں کے معبود کی۔
سب لوگوں کا خدا
جو (ساری) نسلِ انسانی کا معبود ہے،
لوگوں کے معبود کی۔
جو لوگوں کا الٰہ ہے
لوگوں کے معبود کی
سب لوگوں کے معبود برحق کی
انسانوں کے معبود کی پناہ لیتا ہوں۔
تمام انسانوں کے معبود کی۔
لوگوں کے معبود برحق کی
the True God of mankind,
the God of mankind,
the God of mankind,
"The God of An-Nas,"
The god of mankind,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
The God of mankind,
the Lord of mankind
The god of men,
The God of mankind,
The god (or judge) of Mankind,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–6
خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ٭٭ اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہؤی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برت رصفات والے اللہ کی پناہ میں آجائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو وب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الناس 1 یہاں بھی سورة فلق کی طرح اعوذ باللہ کہنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کو اس کی تین صفات سے یاد کر کے اس کی پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ایک اس کا رب الناس، یعنی تمام انسانوں کا پروردگار و مربی اور مالک و آقا ہونا۔ دوسرے اس کا ملک الناس، یعنی تمام انسانوں کا بادشاہ اور حاکم و فرمانروا ہونا۔ تیسرے اس کا الہ الناس، یعنی انسانوں کا حقیقی معبود ہونا۔ (یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ الہ کا لفظ قرآن مجید میں دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایک وہ شے یا شخص جس کو عبادت کا کوئی استحقاق نہ پہنچتا ہو مگر عملا اس کی عبادت کی جارہی ہو۔ دوسرا وہ جسے عبادت کا استحقاق پہنچتا ہو اور جو حقیقت میں معبود…
Read the full tafseer →الہ الناس لوگوں کا معبود، ان دو صفتوں کا اضافہ اس لئے کیا گیا کہ لفظ رب جب کسی خاص چیز کی طرف منسوب ہو تو اللہ تعالیٰ کے سوا بھی دوسروں کے لئے بولا جاتا ہے جیسا رب الدار گھر کے مالک کو، رب المال، مالک کے مالک کو کہا جاتا ہے اور ہر مالک بادشاہ نہیں ہوتا اس لئے ملک کا اضافہ کیا کہ وہ رب یعنی مالک بھی ہے اور ملک یعنی بادشاہ بھی، پھر ہر بادشاہ معبود نہیں ہوتا اس لئے تیسری صفت ذکر فرمائی الہ الناس، ان تینوں صفتوں کو جمع کرنے میں حکمت یہ ہے کہ ان میں سے ہر صفت حفاظت کی داعی ہے کیونکہ ہر مالک اپنے مملوک کی حفاظت کرتا ہے۔ اسی طرح ہر بادشاہ اپنی رعیت کی حفاظت کرتا ہے اور معبود کا اپنے عابد کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اللہ تعالیٰ کی تین صفتوں کے واسطہ سے تعوّذ: یہ اللہ تعالیٰ کی پناہ اس کی تین صفتوں کے واسطہ سے چاہی گئی ہے اور یہ تینوں صفتیں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے ان بنیادی حقوق کو بھی معین کرتی ہیں جو بندوں پر عائد ہوتے ہیں اور پھر یہ رہنمائی بھی دیتی ہیں کہ ان صفات سے جو ذات متصف ہے وہی اہل ہے کہ بندے مشکلات میں اس کی پناہ ڈھونڈیں اور وہی اس لائق ہے کہ وہ بڑے سے بڑے دشمن کے مقابل میں بھی ان کو پناہ دے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے حقوق: حقوق کی وضاحت یوں ہوتی ہے کہ جو لوگوں کا پروردگار ہے وہی حق دار ہے کہ لوگوں کا بادشاہ حقیقی ہو اور جو بادشاہ حقیقی ہے وہی حق دار ہے کہ لوگوں کا معبود…
Read the full tafseer →3۔ 1 اور جو تمام کائنات کا پروردگار ہو، پوری کائنات پر اسی کی بادشاہی ہو، وہی ذات اس بات کی مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور وہی تمام لوگوں کا معبود ہو۔ چناچہ میں اسی عظیم و برتر ہستی کی پناہ حاصل کرتا ہوں۔
Read the full tafseer →2: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جو سب کا پروردگار بھی ہے، صحیح معنی میں سب کا بادشاہ بھی، اور سب کا معبود حقیقی بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
6 اگرچہ اللہ تعالیٰ کی شان ربوبیت اور بادشاہت وغیرہ تمام مخلوقات کو شامل ہے، لیکن ان صفات کا جیسا کامل ظہر انسانوں میں ہوا، کسی دوسری مخلوق میں نہیں ہوا۔ اس لئے " رب " اور " ملکِ " وغیرہ کی اضافت ان ہی کی طرف کی گئی۔ نیز وسو اس میں مبتلا ہونا بجز انسان کے دوسری مخلوق کی شان بھی نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 3{ اِلٰـہِ النَّاسِ۔ } ”تمام انسانوں کے معبود کی۔“ انسانوں کا رب اور بادشاہ ہونے کے علاوہ وہ ان کا معبود بھی ہے ‘ چناچہ وہ ان پر کامل اقتدار اور اختیار رکھتا ہے اور ان کی حفاظت پر پوری طرح قادر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 شیطان کے شر سے پناہ دینے والے کی صفات :۔ اس سورت کی ابتدائی تین آیات میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات بیان کرکے اس سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ ایک یہ کہ وہ تمام لوگوں کا پرورش کرنے والا ہے۔ اسے یہ خوب معلوم ہے کہ فلاں شخص کے فلاں شر سے فلاں انسان کو کیا تکلیف پہنچ سکتی ہے ؟ دوسرے یہ کہ تمام انسانوں کا بادشاہ بھی ہے۔ یعنی وہ انسانوں پر پورا اقتدار اور اختیار بھی رکھتا ہے اور ظاہری اسباب پر بھی اس کا پورا کنٹرول ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ الٰہ بھی ہے۔ اور الٰہ کے مفہوم میں یہ بات از خود شامل ہے کہ وہ ہر ایک کی فریاد سنتا اور اس کی داد رسی بھی کرسکتا ہے اور تمام باطنی اسباب پر بھی اس کا کنٹرول ہے۔ اور حقیقت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ (کہ ان تینوں صفات کا مصداق وہی خدائے واحد ہے) (آیت) ” برب الناس “۔ ربوبیت مطلق صرف اسی لئے ثابت ہے۔ اس سے صفت ربوبیت میں ہر قسم کے شریک کی نفی آگئی۔ (آیت) ” ملک الناس “۔ حاکمیت ومالکیت مطلقہ بھی صرف اسی کے لئے ثابت ہے۔ اس سے صفت حاکمیت ومالکیت میں ہر قسم کے شریک کی نفی ہوگئی، (آیت) ” الہ الناس “۔ معبودیت صرف اسی کے لئے ثابت ہے۔ اس سے صفت معبودیت میں ہر قسم کے شریک کی نفی ہوگئی۔ مشرک جاہلی قوموں نے عموما حق تعالیٰ کی انہیں تین صفات، ربوبیت، مالکیت ومعبودیت میں دوسروں کو شریک ٹھہرایا ہے، قرآن مجید نے یہاں تین صفات، ربوبیت، مالکیت ومعبودیت میں دوسروں کو شریک ٹھہرایا ہے، قرآن مجید نے یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
من شر الوسواس، الوسواس بعض کے نزدیک اسم فاعل الموسوس کے معنی میں ہے اور بعض کے نزدیک یہ ذی الوسواس ہے، وسوسہ مخفی آواز کو کہتے ہیں، شیطان بھی نہایت غیر محسوس طریقہ سے انسان کے دل میں بری باتیں ڈال دیتا ہے، اسی کو وسوسہ کہا جاتا ہے، الخناس کھسک جانے والا یہ شیطان کی صفت ہے جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو یہ کھسک جات ا ہے۔ اور ذکر سے غفلت کی حالت میں واپس آ کر دل پر چھا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →الہ الناس . انسانوں کا معبود ہے۔ ملک الناس اور الہ الناس۔ رب الناس کا بیان (توضیحی) ہے کیونکہ مربی کا اطلاق باپ پر بھی ہوتا ہے اور گھر کے سرپرست پر بھی اور مالک پر بھی اور مربی (بایں معنی) نہ ملک ہوتا ہے نہ معبود (لیکن اگر کبھی مربی ملک ہوتا بھی ہے تو) ملک کا اطلاق بادشاہ پر ہوتا ہے اور بادشاہ معبود نہیں ہوتا اس کو معبودیت کا استحقاق نہیں ہوتا (اس لیے رب الناس کے بعد ملک الناس اور الہ الناس کہنا ضروری تھا تاکہ وضاحت ہوجائے کہ وہ مربی بھی ہے اور حاکم بھی اور معبود بھی ‘ نہ تنہا مربی ہے اور نہ صرف مربی بادشاہ بلکہ معبود بھی ہے) ۔ الناس میں الف لام عہدی ہے اور اس سے مراد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
(1۔ 6)۔ محمد ﷺ آپ فرمائیے کہ میں جن و انس کے رب جن و انس کے مالک اور جن و انس کے خالق کی پناہ لیتا ہوں۔ شیطان کے شر سے جو کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے تو وہ اس کے دل پر غلبہ کر کے اسے چھپا دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتا تو وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ انسانوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالے یا جنات کے دلوں میں۔ یہ دونوں سورتیں لبید بن اعصم یہودی کے متعلق نازل ہوئی ہیں جس نے رسول اکرم ﷺ پر جادو کردیا تھا آپ نے جادو پر ان سورتوں کو پڑھا تو وہ اس طرح زائل ہوگیا جیسا کہ رسی کی گرہ کھل جاتی ہے۔ شان نزول : معذتین امام بیہقی نے دلائل النبوة میں بواسطہ کلبی، ابو صالح، حضرت ابن عباس سے روایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1) قل اعوذ برب الناس…: پناہ کا مطلب پچھلی سورت میں گزر چکا ہے۔ آدمی جب کسی سے خطرہ محسوس کرتا ہے تو سب سے پہلے اپنے کسی مربی (پرورش کرنے والے) ، مثلاً ماں یا باپ کی پناہ لیتا ہے، ان سے چمٹ جاتا ہے، تاکہ وہ اسے بچا لیں۔ اگر وہ کمزور ہوں اور نہ بچا سکتے ہں تو بادشاہ سے بچانے کی درخواست کرتا ہے اور اس کی پناہ لیتا ہے، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ بادشاہ اپنی قوت اور فوج کے ذریعے سے اسے بچا سکتا ہے۔ اگر نظر آرہا ہو کہ اس خطرے سے بچانا بادشاہ کے بس کی بات بھی نہیں تو پھر اس ہستی کی پناہ لیتا ہے جسے وہ غیبی قوتوں کا مالک سمجھتا اور جس کی عبادت کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دنیوی اسباب ختم ہونے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
معبود برحق کی پناہ مانگنے کی تعلیم وتلقین۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پناہ مانگو اس کی جو کہ معبود برحق ہے سب لوگوں کا کہ وہی سب کا کارساز و حاجت روا اور مشکل کشا ہے سب کے دل اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہیں۔ اور معبود حقیقی وہی اور صرف وہی ہے سبحانہ وتعالی عبادت کی ہر شکل و صورت اور اس کی ہر قسم اسی کا حق ہے جب لوگوں کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لاشریک ہے سب کا رب بھی وہی ہے اور سب کا معبود برحق بھی وہی تو مخلوق اور ہر طرح کی مخلوق اور خاص کر وسو اس الخناس۔ جیسی پوشیدہ شریر اور سب سے بڑی خطر ناک اور دشمن مخلوق سے پناہ دینا بھی اسی کی شان اور اسی کا کام ہے اور ہوسکتا ہے لہذا اسی کی پناہ طلب کی جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت قل اعوذ برب الناس مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردیہ نے حکم بن عمیر الثمالی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اے لوگو ! بچو اور بچو تم وسوسہ ڈالنے والے اور چھپ جانے والے سے۔ بیشک وہ تم کو آزماتے ہیں کون تم میں سے اچھے عمل کرتا ہے۔ 3۔ ابن ابی شیبہ نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا سب سے پہلے وضو سے وسوسہ شروع ہوا۔ 4۔ ابن بی شیبہ نے عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت کیا کہ نہانے کی جگہ پیشاب کرنا اس سے وسواس پکڑ لیتا ہے۔ (یعنی وسواس کی بیماری پید اہوتی ہے) 5۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن مرہ (رح) سے روایت کیا کہ کوئی وسوسہ نہیں ہے زیادہ…
Read the full tafseer →[اِلٰهِ النَاسِ : انسانوں کے حاجت روا، مشکل کشا، پناہ دہندہ کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
﴿ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ 1ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ004﴾ میں وسوسہ ڈالنے والے شیطان کی ایک صفت الخناس بیان فرمائی کہ وہ وسوسے ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان اپنی سونڈ کو انسان کے دل پر جمائے ہوئے ہے اگر وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اگر وہ اللہ کے ذکر سے غافل ہوجاتا ہے تو اس کے دل کا لقمہ بنا لیتا ہے اس کو الوسواس الخناس بتایا ہے۔ (حصن حصین)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تعلیم وتلقین از مہالک باطنیہ وآفات نفسانیہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اعوذ برب الناس ........ الی ........ من الجنۃ والناس “۔ (ربط) گذشتہ سورت یعنی الفلق میں اللہ رب العزت کی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا تھا ایسے تمام مہالک اور آفات سے جو حسی اور ظاہری ہیں کہ ہر مخلوق کے شر، ہر تاریکی کے فتنہ سے ہر جادو کی مصیبت سے اور ہر حسد اور کید ومکر سے تو یہ تمام آفات ظاہری اور حسی تھیں اب اس سورة الناس میں ان آفات اور ہلاکتوں کو ذکر کیا جارہا ہے جو باطنی ہیں، اور وہ نفس سے اور نفس کے دواعی وتقاضوں سے پیدا ہوتی ہیں اور قلب پر وارد ہو کر انسان کے دین اور عقیدہ کو ہلاک وبرباد کردینے والی ہیں تو اس سورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
2:۔ ” قل اعوذ “ گذشتہ سورت میں جن چیزوں سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ان کے مقابلے میں شیطان چونکہ زیادہ ضرر رساں اور سب سے بڑا دشمن ہے اس لیے گذشتہ سورت میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ذکر کی گئی۔ ” رب الفلق “ اور اس سورت میں تین صفتیں مذکور ہیں جن میں سے ہر صفت توحید کے ایک جداگانہ مرتبہ کو ظاہر کرتی ہے۔ ” رب الناس “ سب کو پیدا کرنے کے بعد ان کی درجہ بدرجہ تربیت کر کے ان کو حد کمال تک پہنچانے والا اور ہر مرتبہ تربیت میں ان کی ضروریات بہم پہنچانے والا۔ یہ توحید کا پہلا مرتبہ ہے۔ ” ملک الناس “ توحید کا دوسرا مرتبہ سب کا مالک اور بادشاہ۔ تخت سلطنت پر خود ہی مستوی ہے کسی کوئی اختیار سونپ نہیں رکھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النسا ہے۔ یہ قرآن کریم کی آخری سورة ہے۔ مدنی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھ آیات ہیں اس سے پہلی سورة فلق کی پانچ آیتیں ہیں۔ گیارہ آیات کی یہ دو سورتیں ایک ہی وقت میں اکٹھی نازل ہوئیں۔ اس سورة الناس کے بیس الفاظ اور اناسی حروف ہیں۔ موضوع سورۃ فلق اور سورة الناس معوذتین کہلاتی ہیں۔ ان کے ذریعے شرور سے پناہ مانگنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔ پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت بیان کر کے چار دنیوی زندگی سے متعلق چیزوں سے پناہ ماگنی ہے اور اس سورة میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا ذکر کر کے ایک دینی زندگی سے متعلق چیز یعنی وسوسہ شیطان سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ اس…
Read the full tafseer →اِلٰہِ النَّاسِ 3 ۙ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب ¦ قل اعوذ قراء الجمھور بالھمزۃ قری بخدفھاد نقل حرکتھا الی اللام برب الناس متعلق باعوذ ملک الناس عطف بیان لرب الناس قرء لجمھور ملک الناس باسقاط الالف فی ملک والملک بکسر اللام السلطان القاھر۔ الہ الناس ایضاً عطف بیان من شر الواسواس متعلق باعوذو ھوالمستعاذمنہ۔ الوسواس بفتح الواؤ عندالفراء اسم بمعنی الموسوس وبکسرھامصدر ای الوسوسۃ کالزلزال بمعنی الزلزلۃ والوسوسۃ حدیث النفس یقال وسوست الیہ نفسہ و وسوسۃ ای حدثتہ حدیثا واصلھا الصوت الخفی ومنہ الوسواس للصوت الجلی۔ الخناس نعت لہ۔ مبالغۃ من الخنس وھو التاخر خنس یخنس اذاتاخرومنہ قولہ تعالیٰ فلا اقسم بالخنس۔ قال مجاھد اذاذکر اللہ خنس ای تاخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۔ مَلِکِ النَّاسِ ۔ اِلٰـہِ النَّاسِ ۔ (الناس : 1 تا 3) (کہہ دیجیے ! میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب کی۔ انسانوں کے بادشاہ کی۔ انسانوں کے حقیقی معبود کی۔ ) اللہ تعالیٰ کی تین صفتوں کے واسطے سے پناہ تعوذ کا مفہوم ہم گزشتہ سورة کی تشریح میں عرض کرچکے ہیں اور یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اسم ذاتی لانے کی بجائے اس کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام رب الفلق کے ذکر کرنے کا سبب کیا ہے اور پیش نظر سورة میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہاں اللہ تعالیٰ کو تین صفاتی ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔ اور تین حوالوں سے اس سے پناہ مانگی گئی ہے۔ اور وہ تین صفاتی نام یہ ہیں رب الناس،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے سورت الفلق میں اپنا تعارف رب الفلق کے نام سے کروایا ہے جس کا معنٰی ہے کہ مخلوق کو پھاڑنے کے عمل سے عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔ سورت النّاس میں یہ بتلایا ہے کہ وہی انسانوں کا ” رب، حقیقی بادشاہ اور معبود برحق ہے اس لیے اس کی مخلوق بالخصوص جنوں اور انسانوں کی شر سے بچنے کے لیے اس کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔ سورت النّاس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی عظیم اور بابرکت کتاب کا اختتام فرمایا ہے۔ گویا کہ یہ قرآن مجید کی آخری سورت ہے۔ سورت فاتحہ کا آغاز رب العالمین کے الفاظ سے ہوا اور قرآن مجید کا اختتام ” مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ “ پر ہوا ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →3 : اِلٰہِ النَّاسِ (آدمیوں کے معبود کی پناہ لیتا ہوں) ان کا معبود نکتہ : نمبر : 1 آیات میں مضاف الیہ کو ایک مرتبہ ظاہر کرنے پر اکتفاء نہیں فرمایا کیونکہ ملک الناس، الٰہ الناس۔ یہ دونوں رب الناس کے عطف بیان ہیں کیونکہ عربوں کی بولی میں رب اور ملک کی نسبت لوگوں کی طرف کی جاتی رہتی ہے۔ مگر الٰہ الناس معبود ہونا یہ اسی ذات کی خصوصیت ہے۔ اس میں کسی کی شراکت و سہامت نہیں ہے۔ اور عطف بیان آتا ہی بیان و ضاحت کیلئے ہے پس اظہار مضاف الیہ ضروری تھا نہ کہ اضمار۔ نمبر 2۔ رب کی نسبت خصوصاً الناس کی طرف کی گئی۔ اگرچہ وہ رب کل شئی ہے یہ انسانوں کو شرف بخشنے کیلئے ایسا کیا گیا اور اس لئے بھی کہ استعاذہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1” قل اعوذ برب الناس، 2 ملک الناس، 3 ۔ الہ الناس،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ 6۔ یہ تین صفتیں ربوبیت بادشاہت الہیت مل کر ایسا ایک صفتوں کا مجموعہ ہے کہ دنیا کے کسی بادشاہ میں نہیں پایا جاتا اس لئے ان تنیوں صفتوں کو ایک جا کرکے ذکر فرمایا ان صفتوں کے ترتیب وار ذکر فرمانے میں یہ بھی گویا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رب الناس ہونا ظاہر ہے کیونکہ مثلاً ایک سال اس کی پرورش نہ ہو اور مینہ نہ برسے تو قحط پڑجاتا ہے اسی طرح اس کی بادشاہت تمام دنیا میں ظاہر ہے جس بادشاہ امیر وزیر کو ایک دم میں چاہے بیمار ڈال دے مار ڈالے کوئی اس میں کچھ دخل نہیں دے سکتا اب آدمی کو یہ سوچنا چاہئے کہ جس کی یہ صفتیں ہیں لائق عبادت بھی وہی وحدہ لاشریک ہے کسی دوسرے کو اس کی عبادت میں شریک ٹھہرانے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
یہ سورة مبارکہ لوگوں کے رب ان کے مالک اور ان کے معبود کے پاس شیطان سے پناہ ہے جو تمام برائیوں کی جڑ اور ان کا مادہ ہے جس کا فتنہ اور شری ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے ان کے سامنے شر کی تحسین کرتا ہے۔ بڑائی کو انتہائی خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور برائی کے ارتکاب کے لیے ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے وہ انہیں بھلائی سے باز رکھتا ہے اور اس کو کسی اور ہی صورت میں ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہتا ہے اور وسوسہ ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے یعنی جب بندہ مومن اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کو دفع کرنے کے لیے اپنے رب کی مدد چاہتا ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے…
Read the full tafseer →3 ۔ معبود برحق کی پناہ مانگنے کی تعلیم و تلقین۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پناہ مانگو اس کی جو کہ معبود برحق ہے سب لوگوں کا کہ وہی سب کا کارساز وحاجت روا اور مشکل کشا ہے سب کے دل اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہیں۔ اور معبود حقیقی وہی اور صرف وہی ہے سبحانہ وتعالی عبادت کی ہر شکل وصورت اور اس کی ہر قسم اسی کا حق ہے جب لوگوں کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لاشریک ہے سب کا رب بھی وہی ہے اور سب کا معبود برحق بھی وہی تو مخلوق اور ہر طرح کی مخلوق اور خاص کر وسو اس الخناس۔ جیسی پوشیدہ شریر اور سب سے بڑی خطر ناک اور دشمن مخلوق سے پناہ دینا بھی اسی کی شان اور اسی کا کام ہے اور ہوسکتا ہے لہذا اسی کی پناہ طلب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
شیطان جن و انس سے اللہ کی پناہ تشریح : یہاں اس پناہ اور حفاظت کا ذکر کیا جا رہا ہے جس کی ضرورت انسان کو اس وقت محسوس ہوتی ہے جب وہ سخت مشکل یا پریشانی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ تو ایسے میں اللہ کی پناہ سے بڑھ کر کون سی پناہ گاہ ہوسکتی ہے۔ کیونکہ اللہ ہی وہ عظیم الشان ' مضبوط بلندو برتر ہستی ہے کہ خلقت کا رب ہے پالنے والا ہے۔ ذرا غور کریں چرند پرند ' انسان و حیوان اپنے انتہائی ابتدائی مراحل سے کس قدرت ' مہارت اور بہترین نظام کے تحت خوراک حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً وہی پوشیدہ ہاتھ جو اپنی قدرت سے مادہ کے رحم میں بچے کی پرورش کرتے ہیں۔ اور جب دنیا میں وارد ہوتا ہے تو کس قدرت اور حکمت سے ماں کے دودھ سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الناس۔ آیات 1 تا 6 اسرار ومعارف۔ کہہ دیجئے کہ پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے پروردگار کی اور اس کی جو سب کا حقیقی بادشاہ ہے اور معبود برحق ہے سب کا اس سے جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ وسوسہ ڈالنے والاجن ہو یا انسان کہ جنات اور انسان بھی شیطان کی پیروی کرتے کرتے شیطانی صفات میں رنگ جاتے ہیں۔ لبید بن عاصم یہودی نے آپ ﷺ کے موئے مبارک چرا کر کنگھی کے دندانوں میں گرہ دے کر کسی پرانے کنوئیں میں پتھر کے نیچے دبادیے اور آپ علیل ہوگئے چناچہ آپ کو بذریعہ وحی اطلاع ہوگئی آپ ﷺ نے نکلوالیے تو یہ سورتیں نازل ہوئیں ایک ایک آیت پر ایک ایک گرہ کھلتی جاتی تھی چناچہ آپ ﷺ کو شفا ہو کر آپ کی وساطت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ف 6 شیطان کا نام ” خناس “ ہے یعنی اللہ کے ذکر سے پیچھے ہٹ جانے والا۔ حضرت ابن عباس سے ایک روایت میں ہے کہ شیطان بنی آدم کے دل میں بیٹھ جاتا ہے اور وسوسہ اندازی کرتا رہتا ہے جب انسان اللہ کو یاد کرتا ہے تو پیچھے مٹ جاتا ہے اور جب غافل ہوتا ہے تو پھر وسوسہ ڈالنا شروع کردیتا ہے۔ (رواہ الحاکم) شاہ صاحب لکھتے ہیں : شیطان گناہ پر سنکارے اور آپ نظر نہ آئے۔ (موضح) واضح رہے کہ شیطان کا انسان کے اندر داخل ہو کر وسوسہ انداز ہونا عقلاً بعید نہیں ہے۔ خصوصاً جبکہ حدیث سے ثابت ہے اور حدیث مجری الدم سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ بعض عقلا نے وس اس انداز ہونا عقلاً بعید نہیں ہے۔ خصوصاً جبکہ حدیث سے ثابت ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(114:2) ملک الناس۔ عطف بیان ہے رب الناس کا (وہ اسم جو صفت نہ ہو اور اپنے متبوع کی وضاحت کرے) یعنی وہ لوگوں کا رب کون ہے ؟ لوگوں کا بادشاہ۔ (یعنی میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی) سب انسانوں کے بادشاہ کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ملک۔ بادشاہ ۔ الہ۔ معبود۔ الوسواس۔ وسوسے ڈالنے والا۔ الخناس۔ پیچھے ہٹ جانے والا۔ من الجنۃ والناس۔ جنات میں اسے اور انسانوں میں سے۔ ترجمہ :- قل اعوذ برب الناس :- آپ کہہ کہ میں تمام لوگوں کے رب کی پناہ چاہتا ہوں۔ ملک الناس :- جو تمام لوگوں کا حقیقی بادشاہ ہے اس کی پناہ مانگتا ہوں۔ الہ الناس : تما م لوگوں کے معبود کی پناہ مانگتا ہوں۔ ان تینوں آیتوں میں اس کی وضاحت فرما دی گئی ہے کہ اس کائنات میں درحقیقت انسانوں کا پالنے والا، لوگوں پر حکمرانی کرنے والا اور لوگوں کے لئے وہ ہستی جو قابل عبادت ہے ایک اللہ ہی کی ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اس عظیم رب کی پناہ مانگئے۔ وہیں آپ کو اور اللہ کے ماننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(ف 1) یہ تین صفتیں ربوبیت ، بادشاہت، اور الٰہیت مل کر صفتوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے کہ دنیا کے کسی بادشاہ میں نہیں پایاجاتا، اس لیے ان تنیوں صفتوں کو یکجا کرکے ذکر فرمایا، ان صفتوں کے ترتیب وارذکر کرنے میں یہ بھی ارشاد فرمایا، کہ اللہ تعالیٰ کا رب الناس ہوناظاہر ہے کیونکہ مثلا ایک سال اس کی پرورش نہ ہو اور مینہ نہ برسے توقحط پڑجائے اسی طرح اس کی بادشاہت تمام دنیا میں ظاہر ہے جس بادشاہ وزیر امیر کو ایک دم میں چاہے بیمار ڈال دے مار ڈالے کوئی اس میں کچھ دخل نہیں دے سکتا، اب آدمی کو یہ سوچنا چاہیے کہ جس کی یہ صفتیں ہیں لائق عبادت بھی وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ الوسواس اور وسوسہ کے معنی اس ہلکی اور دبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] یہاں اللہ تعالیٰ کی پناہ اس کی تین صفتوں کے واسطے سے چاہی گئی ہے۔ ذرا غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ یہ تینوں صفتیں اللہ تعالیٰ کے ان بنیادی حقوق کو بھی معین کرتی ہیں جو بندوں پر عائد ہوتے ہیں۔ حقوق کی وضاحت یوں ہوتی ہے کہ جو لوگوں کا پروردگار ہے وہی حق دار ہے کہ لوگوں کا بادشاہ حقیقی ہو، اور جو بادشاہ حقیقی ہے وہی حقدار ہے کہ لوگوں کا معبود ہو۔ اگر اس پروردگار کے سوا کوئی دوسرا لوگوں کا بادشاہ بن کر اپنا قانون اور حکم چلائے تو یہ چیز خلاف عقل و فطرت اور ناجائز ہے اور اس کے سوا اگر کسی اور کو لوگ اپنا معبود بنائیں تو یہ چیز بھی خلاف عقل و فطرت اور حرام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الناس یہ سورة بھی سورة استعاذہ ہے ۔ اس میں یہ بتایا ہے کہ سب سے بڑا فتنہ اور سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ ایک مرد مومن شیطان کے دھوکے میں نہ آجائے اور اس کے وسوسہ سے متاثر ہوکر بےدین اور ملحدنہ ہوجائے ۔ اس لئے اس سے بچنا اور احتراز کرنا ازبس ضروری اور لازم ہے ۔ مگر اس سے وہی شخص اپنے دامن کو بچا سکتا ہے جو اللہ کی ربوبیت عامہ پر ایمان رکھتا ہو ۔ صرف اسی کو مالک اور آقا قرار دیتا ہو اور اسی کو معبودومحبوب سمجھتا ہو ۔ فرمایا کہ یہ شیطان جو چھپ کردار کرتا ہے اور تقویٰ وزہد کا جامہ پہن کر گمراہ کرتا ہے ۔ کبھی انسان کی شکل میں ہوتا ہے اور کبھی جنوں کی صورت میں ، اس کا کام صرف اس قدر ہے کہ قلب…
Read the full tafseer →(3) انسانوں کے معبود کی پناہ لیتا ہوں۔ یہ تینوں صفتیں اللہ تعالیٰ کی ہیں وہی پرورش کرنے والا اور تربیت دینے والا ہے تمام انسانوں کو وہی سب کا حقیقی بادشاہ ہے او وہی سب کا معبودحقیقی ہے اگرچہ یہ تینوں وصف اس کے تمام مخلوق کو شامل ہیں لیکن انسان کی تعظیم و تشریف کے لئے یہاں اس کا نام لیا گیا نیز وسوسے کا تعلق انسان ہی کے ساتھ خاص سے چونکہ شیطانی وسوسے کی تین راہیں مشہور ہیں ایک شہوت کی دوسرے غضب کی تیسرے حرص وہ ہوا کی اس لئے شاید ہر راہ کے لئے ایک ایک صفت بیان فرمائی۔
Read the full tafseer →اور وہ تمام انسانوں کا معبود بھی ہے۔ 3 جب لوگوں کو یہ بات باور کرا دی گئی کہ جو محمد رسول اللہ ﷺ کا رب ہے وہ دراصل سارے انسانوں کا رب ہے اور کوئی انسان بھی اس کی ربوبیت کے دائرہ سے باہر نہیں ہے تو اس کی ربوبیت کے ساتھ اس کی بادشاہی اور شہنشاہی کی یقین دہانی کرائی گئی تاکہ کمزور اور ناتواں لوگ جلد دلبرداشتہ نہ ہوجائیں اس طرح اس کی شہنشاہی کا ذکر فرما کر اس کی طاقت ، قوت اور شان کا اظہار بھی فرما دیا تاکہ ان کو حوصلہ رہے اور دلبرداشتہ نہ ہوجائیں۔ پھر زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کہ وہ جو تمام لوگوں کا رب ہے اور بادشاہ ہے وہی دراصل تمام مخلوق کا اِلٰہ اور معبود بھی ہے کہ ان کو عبادت کرنا ہے تو…
Read the full tafseer →Verses [ 114:2 3] مَلِكِ النَّاسِ إِلَـٰهِ النَّاسِ (the King of mankind, the God of mankind.) The reason for adding these two attributes is that the word rabb, attributed to a particular thing, could refer to someone other than Allah also, as for instance rabb-ud-dar [ land-lord ] or رَبُّ المال rabb-ul-mal [ owner of wealth ]. But not every master or owner is a king. That is why the attributive name malik [ King ] has been added to indicate that He is not only the 'Lord of mankind' but also the 'King of mankind'. Furthermore, not every king is worthy of worship. Thus the third attributive…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 Here also, as in Surah Al-Falaq, instead of saying A'udhu-billahi (I seek Allah's refuge) , a prayer has beat taught to seek Allah's refuge by reference to His throe attributes: first, that He is Rabb-un nas, i.e. Sustainer, Providence and Master of all mankind; third, that He is Ilah-un-nas, i.e. real Deity of all mankind, (Here, one should clearly understand that the word ilah has been used in two meanings in the Qur'an: first for the thing or person who is practically being worshipped although it or he is not entitled to worship; second, for Him Who is ' entitled to worship, Who is in…
Read the full tafseer →