حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ۟ؕحَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَؕ
یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Until you visit the graveyards.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 27 of juz
حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ۟ؕحَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَؕ
یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Until you visit the graveyards.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 27 of juz
Read the whole surah · Surah At-Takaathur
یہاں تک کہ (اسی فکر میں) تم لب گور تک پہنچ جاتے ہو
یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں
یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے
یہاں تک کہ تم قبرستانوں میں پہنچ جاتے ہو۔
یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا
یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے،
یہاں تک کہ تم نے قبرستان جا دیکھے۔
تاآنکہ تم قبروں کو جا ملتے ہو
یہاں تک کہ قبروں میں جا پہنچے۔
یہاں تک کہ تم (اسی تگ و دو میں) جا پہنچے قبروں تک
تاآنکہ تم قبرستانوں میں پہنچ جاتے ہو۔
یہاں تک کہ تم قبروں کو پہنچ جاتے ہو۔
یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں
until you reach your graves.
until you reach the graves.
until you reach the graves.
Until you visit the graves.
Until ye come to the graves.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Until you visit the graveyards.
until you come to the graves.
Until you come to the graves.
Until ye visit the graves.
Until ye visit the graves.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–8
مال و دولت اور اعمال : ارشاد ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت اس کے پالینے کی کوشش نے تمہیں آخرت کی طلب اور نیک کاموں سے بےپرواہ کردیا تم اسی دنیا کی ادھیڑ بن میں رہے کہ اچانک موت آگئی اور تم قبروں میں پہنچ گئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اطاعت پروردگار سے تم نے دنیا کی جستجو میں پھنس کر بےرغبتی کرلی اور مرتے دم تک غفلت برتی (ابن ابی حاتم) حسن بصری فرماتے ہیں مال اور اولاد کی زیادتی کی ہوس میں موت کا خیال پرے پھینک دیا صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے کہ حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں ہم لو کان لابن ادم واد من ذھب یعنی اگر ابن آدم کے پاس ایک جنگل بھر کر سونا ہو اسے قرآن کی آیت ہی سمجھتے رہے یہاں تک کہ الھا کم…
Read the full tafseer →سورة التکاثر 2 یعنی تم اپنی ساری عمر اسی کوشش میں کھپا دیتے ہو اور مرتے دم تک یہ فکر تمہارا پیچھا نہیں چھوڑتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
حتی زرتم المقابر، یہاں زیارت مقابر سے مراد مر کر قبر میں پہنچنا ہے جیسا کہ حدیث مرفوع میں خود رسول اللہ ﷺ نے حتی زرتم المقابر کی تفسیر میں فرمایا حتی یاتیکم الموت (ابن کثیر بروایت ابن ابی حاتم) اس لئے مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ تم لوگوں کو مال و دولت کی بہتات یا مال و اولاد اور قبیلہ و نسب پر تفاخر غفلت میں ڈالے رہتی ہے اپنے انجام اور آخرت کے حساب کی کوئی فکر نہیں کرتے یہاں تک کہ اسی حال میں تمہیں موت آجاتی ہے اور وہاں عذاب میں پکڑے جاتے ہو یہ خطاب بظاہر عام انسانوں کو ہے جو مال و اولاد کی محبت یا دوسروں پر اپنی برتری اور تفاخر میں ایسے مست رہتے ہیں کہ اپنے انجام کو سوچنے کی طرف توجہ ہی نہیں…
Read the full tafseer →یعنی اسی تگ و دو میں زندگی گزرتی ہے یہاں تک کہ عمر تمام ہو جاتی ہے اور قبروں میں جا پہنچتے ہو۔ لفظ ’زُرْتُمْ‘ عربی میں بالکل سادہ معنوں میں آتا ہے۔ اردو کے لفظ ’زیارت‘ کی طرح اس کے اندر کسی شرف و تقدس کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ ’زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ‘ کے معنی بس یہ ہوں گے کہ تم نے قبروں کو دیکھا یعنی ان کے حوالے ہوئے۔ کسی حماسی کا شعر ہے: اذا زرت ارضًا بعد طول الجتنابھا فقدت صدیقی والبلاد کما ھیا (جب میں کسی سرزمین کو، عرصہ تک اس سے جدا رہنے کے بعد، دیکھتا ہوں تو نظر آتا ہے کہ احباب تو میں نے سارے کھو دیے لیکن زمین اسی طرح ہے جس طرح تھی) سرگشتگان دنیا کی حالت پر اظہار افسوس: اگرچہ عربوں میں یہ…
Read the full tafseer →2۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ حصول کی خاطر محنت کرتے کرتے تمہیں موت آگئی اور تم قبروں میں جا پہنچے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1: یعنی دنیا سمیٹنے کی دھن میں لگ کر تم آخرت کو بھولے ہوئے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اے حالت مدہوشی میں سرپٹ دوڑنے والو ، اے لاپرواہی کی حالت میں مال اور اولاد کی کثرت اور دنیا کے سازو سامان کی بہتات کے لئے جدوجہد کرنے والو ، تم تو ان سب چیزوں کو اسی جہاں میں چھوڑ کر جانے والے ہو ، اے دنیا کی مشغولیتوں میں دھوکہ کھانے والو ، اے مال واولاد کو چھوڑ کر جانے والو ، ایک ایسے چھوٹے سے گڑھے ، قبر میں جانے والو ، قبر میں تو نہ مال ہوگا ، نہ اولاد ہوگی اور نہ وہاں کوئی فخر ہوگا اور اظہار برتری ہوگا ، جاگو ، اور دیکھو ، غورکرو۔ الھکم .................... المقابر (2:102) ” تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے یہاں تک کہ (اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
5 یعنی مال و اولاد کی کثرت اور دنیا کے سازو سامان کی حرص آدمی کو غفلت میں پھنسائے رکھتی ہے۔ نہ مالک کا دھیان آنے دیتی ہے نہ آخرت کی فکر۔ بس شب و روز یہی دھن لگی رہتی ہے کہ جس طرح بن پڑے مال و دولت کی بہتات ہو، اور میرا کنبہ اور جتھا سب کنبوں اور جتھوں سے غالب رہے۔ یہ پردہ غفلت کا نہیں اٹھتا یہاں تک کہ موت آجاتی ہے۔ تب قبر میں پہنچ کر پتہ لگتا ہے کہ سخت غفلت اور بھول میں پڑے ہوئے تھے محض چند روز کی چہل پہل تھی۔ موت کے بعد وہ سب سامان ہیچ بلکہ و بال جان ہیں۔ (تنبیہ) بعض روایات میں آیا ہے (اللّٰہ اعلم بصحتھا) کہ ایک مرتبہ دو قبیلے اپنے اپنے جتھے کی کثرت پر فخر کر رہے تھے۔ جب مقابلہ کے وقت ایک کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
آیت 2{ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ۔ } ”یہاں تک کہ تم قبروں کو پہنچ جاتے ہو۔“ یعنی انسان اپنی ساری عمر اسی تگ و دو میں کھپا دیتا ہے اور مرتے دم تک یہ فکر اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ انسان کی حرص و ہوس کے پیمانے کو صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے 1۔ سورة الحدید کی آیت 20 میں انسانی زندگی کے جن مراحل کا ذکر ہوا ہے ان میں آخری مرحلہ تکاثر فی الاموال والاولاد کا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آخری عمر میں انسان کی یہ حرص مزید بڑھ جاتی ہے۔
Read the full tafseer →2 انہیں چیزوں کے حصول میں انسان اپنی پوری زندگی کھپا دیتا ہے اور ان چیزوں سے اہم تر چیزوں سے اس کی توجہ ہٹی رہتی ہے اور وہ اہم تر چیزیں یہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی یاد، اخلاقی حدود وقیود کی پابندی، حقداروں کے حقوق کی ادائیگی اور اپنی عاقبت کی فکر۔ ایسی باتوں سے غافل رہ کر وہ مرغوبات نفس کے حصول میں ہی پڑا رہتا ہے تاآنکہ اسے موت آجاتی ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ ایک دفعہ دو قبیلے اپنے اپنے جتھے کی کثرت تعداد پر فخر کر رہے تھے۔ جب گننے پر ایک قبیلہ کے آدمی دوسرے سے کم نکلے تو شکست خوردہ قبیلہ کہنے لگا کہ ہمارے اتنے آدمی فلاں لڑائی میں مارے جاچکے ہیں۔ بیشک چل کر قبریں شمار کرلو۔ وہاں پتہ لگے گا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ (دنیا سے وفات پاکر) آیت میں اس عام حقیقت کا بیان ہے کہ دنیوی جاہ ومال، سامان وقوت و شوکت پر فخر وناز اور ان کی محبت وطلب، آخرت فراموش انسان کے قلب پر غفلت کے پردے ڈالے رہتی ہیں، اور اس میں خوف خدا و خشیت الہی پیدا ہی نہیں ہونے دیتیں، یہاں تک کہ موت کا وقت آجاتا ہے، اور انسان قبر میں پہنچ جاتا ہے، (آیت) ” الھکم “۔ الھاء کے معنی لہو میں ڈال دینے کے ہیں، مراد یہ ہے کہ دنیوی مشاغل میں انہماک چیز ہی ایسی ہے، جو انسان کا خیال، آخرت کی طرف جانے ہی نہیں دیتی اور اسے سدا فکر آخرت سے غافل رکھتی ہے۔ (آیت) ” التکاثر “۔ یعنی سامان دنیوی کی حرص وہوس، دنیا کا ہو کا، اور مال وجاہ میں ایک دوسرے پر تفوق و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
حتی زرتم الماقبر اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تم زندگی بھر تکاثر و تفاخر کے شغل میں مشغول رہے جس کی وجہ سے آخرت کی فکر اور اس کے بارے میں سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا، حتی کہ تمہاری موت کا وقت آگیا، اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے تفاخر کے طور پر اپنی کثرت کو ثابت کرنے کے لئے زندوں کو شمار کرتے کرتے مردوں کو بھی شمار کرنا شروع کردیا جس کی وجہ سے قبرستان میں جا کر قبروں کو بھی شمار کر ڈالا جو کہ ایک نہایت احمقانہ حرکت ہے۔
Read the full tafseer →حتی زرتم المقابر . یعنی مال و جاہ اور کنبہ و قبیلہ کی زیادتی پر فخر کرنے نے تم کو لغویات اور بیہودگیوں میں ڈال دیا یہاں تک کہ موت آگئی اور قبروں میں دفن کردیئے گئے۔ ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم کا قول بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم کو تکاثر نے طاعت سے باز رکھا ‘ یہاں تک کہ تم کو موت آگئی۔ قتادہ نے کہا : یہودی اپنی کثرت پر فخر کرتے تھے اور کہتے تھے ‘ ہم فلاں قبیلہ سے زیادہ ہیں۔ اس شیخی بازی نے ان کو (اعترافِ حق اور طاعت سے) مرتے وقت تک باز رکھا۔ انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اس تفسیر اور شان نزول پر حتی غایت کے لیے آیا ہے (یعنی مرتے دم تک) ۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن بریدہ کا قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) حسب و نسب میں فخر کرنا تمہیں غافل کیے رکھتا ہے یہاں تک کہ تم لوگ قبروں میں پہنچ جاتے ہو۔ واقعہ یہ پیش آیا کہ بنی سہم و بنی عبد مناف نے آپس میں ایک دوسرے پر فخر کیا کہ کس کی تعداد زیادہ ہے تو بنی عبد مناف کی تعداد زیادہ نکلی۔ اس پر بنی سہم کہنے لگے کہ ہمیں زمانہ جاہلیت میں باغیوں نے ہلاک کردیا تھا اس لیے ہمارے مردوں اور زندگوں کو گنو چناچہ ایسا ہی ہوا تو اس صورت میں بنی سہم کی تعداد زیادہ ہوگئی تو اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس فخر کے چکر میں تم مردوں کا بھی ذکر کرنے لگتے ہو یا یہ کہ اسی میں زندگی گزار کر مرجاتے ہو۔
Read the full tafseer →حتی زرتم المقابر :”زرتم“”زار یزور زیارۃ“ (ن) (ملنے کے لئے جانا) سے ماضی معلوم ہے۔ ”المقابر“”مقبرۃ“ کی جمع ہے جو ”قبر یقبر قبراً“ (ن) (دفن کرنا) سے اسم ظرف ہے، دفن کی جگہیں، قبرستان۔ ’ زرتم التکابر“ (قبرستان جا دیکھے) کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری موت آگئی، یعنی موت آنے تک یہ غفلت طاری رہی، بلکہ جیسے جیسے موت قریب آتی گئی غفلت کا یہ نشہ بڑھتا گیا۔ رسول اللہ نے فرمایا :(یکبر ابن آدم و یکبر معہ اثنان حب المال و طول العمر) (بخاری، الرفاق، باب من یلغ ستین سنۃ…:(6321)”آدمی بڑا ہوتا جاتا ہے اور اس کے ساتھ دو چیزیں بڑی ہوتی جاتی ہیں، مال کی محبت اور لمبی عمر کی محبت۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
غافل رکھا تمہیں زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کی ہوس نے یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے۔ اس میں پانچ مسائل ہیں : لغوی تشریح اور شان نزول : مسئلہ نمبر 1 : الھکم التکاثر۔ تمہیں غافل کردیا۔ فالھی تھا عن ذی تمائم مغیل میں نے اسے مکمل سال کے بچے جو دودھ پیتا تھا سے غافل کردیا۔ آیت کا معنی یہ ہے مال اور تعداد کی کثرت پر فخر و مباہات نے تمہیں اللہ کی طاعت سے غافل کردیا ہے، یہاں تک کہ تم مر گئے اور قبروں میں دفن کردیئے گئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ؛ الھکم کا معنی ہے تمہیں بھلا دیا۔ التکاثر یعنی اموال اور اولاد کی کثرت پر فخر کرنا۔ یہ حضرت ابن عباس اور حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : قبائل پر فخر…
Read the full tafseer →18۔ ابن مردویہ نے عیاض بن غنم ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ آیت الہکم التکاثر حتی زرتم المقابر کلا سوف تعلیمون پڑھتے ہوئے سنا یعنی تمہیں حرص نے غافل کردیا یہاں تک کہ قبریں جا جا کر دیکھنے لگے ہرگز ایسا نہیں آئندہ تم جان لوگے یعنی جب تم قبر میں داخل ہوگے آیت ثم کلا سوف تعلمون پھر ایسا نہیں چاہیے آئندہ تم جان لو گے۔ یعنی تم یقینی طور پر اپنی قبروں سے نکلوں گے۔ آیت کلا لو تعلمون علم الیقین۔ ہرگز ایسا نہیں کاش تم یقینی طور پر جانتے یعنی تمہارے رب کی طرف تمہارے اٹھائے جان کے دن یقینی طور پر جانتے آیت لترون الجحیم۔ البتہ تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے یعنی تم کو آخرت کے بارے حق الیقین…
Read the full tafseer →حَتّٰى زُرْتم الْمَقَابِرَ ۭ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یہ سورة التکاثر کا ترجمہ ہے لفظ تکاثر کثرت سے تفاعل کا مصدر ہے۔ یہ باب دونوں طرف سے مقابلہ کرنے کے معنی میں آتا ہے جیسے تقاتل دونوں نے آپس میں مل کر قتال کیا اور تقابل دونوں آپس میں ایک دوسرے کے سامنے آئے، یہاں پر مال کی کثرت میں مقابلہ کرنے کا تذکرہ ہے۔ اہل دنیا کا طریقہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کے لیے کوششیں کرتے ہیں اور جس کے پاس زیادہ مال ہوجائے وہ اس پر فخر کرتا ہے پھر دوسرا شخص اس کے مقابلے میں اپنے مال کی کثرت بیان کرتا ہے اور اگر بیان نہ کرے تو ذہنی مقابلہ تو رہتا ہی ہے اس کو سورة الحدید میں یوں بیان فرمایا ہے ﴿اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تنبیہ وتہدید برغفلت از آخرت ووعید برحرص مال و دولت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الھکم التکاثر ..... الی ...... یومئذ عن النعیم “۔ (ربط) سورة القارعہ میں انسان کو قیامت پر پیش آنے والے ہولناک حوادث سے آگاہ وخبردار کیا گیا تھا، اب اس سورت میں جو اسباب غفلت ہیں ان سے باخبر کیا جارہا ہے کہ مال و دولت کی حرص انسان کو آخرت سے غافل اور دور کرنے والی چیز ہے، اسی مال واولاد پر تفاخر و غرور بھی کوئی اچھی بات نہیں، انسان کو چاہئے ان فتنوں میں مبتلا ہو کر اپنے اصل مقصد یعنی فکر آخرت کو فراموش نہ کرے، قتادہ (رح) اور مقاتل (رح) سے یہ منقول ہے کہ یہ سورت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی، جبکہ مدینہ میں رہنے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ ” الہاکم التکاثر “ التکاثر، کثرت مال اور کثرت تعداد پر فخر کرنا اور کثرت میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کرنا۔ ای التبارک فی الکثرۃ والتباھی بھا بان یقول ھؤلاء نحن اکثر وھؤلاء نحن اکثر (روح ج 30 ص 223) ۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ انصار کے دو قبیلوں میں کثرت عدد کے مقابلے کی ٹھن گئی اور ہر قبیلہ اپنے افراد کی کثرت پر فخر کرنے لگا چناچہ دونوں قبیلوں نے پہلے زندہ لوگوں کو گنا جب ان کی گنتی ختم ہوئی تو قبرستان میں جا کر مردوں کو شمار کرنے لگے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ فرمایا : کثرت عدد پر فخر و مباہات نے تم کو ایسا غافل کیا کہ تم قبرستان میں جا پہنچے اور مردوں کی گنتی کرنے لگے۔ یا ” حتی زرتم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
مال کی محبت انسان کو فرائض منصبی سے غافل کرنے والی چیزوں میں مال کی محبت ، سرفہرست ہے یہا پر اس اس بات کو تکاثر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے الھکم التکاثر تم کو کثرت کی طلب نے غفل میں ڈال رکھا ہے حتی زرتم المقابر یہاں تک کہ تم قبروں کی زیارت کرو یعنی مر کر قبروں میں پہنچ جائو تکاثر میں مال ، اولاد ، دنیا کا ساز و سامان اور جماعت سب کچھ شامل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ لوگ دنیا کے مال و دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مگر اپنے حقیقی مقاصد یعنی اپنے مالک کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی کی طرف کوئی د ھیان نہیں دیتے ان کو یہی دھن لگی رہتی ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو مال و دولت حاصل ہو ، خاندان بڑا…
Read the full tafseer →حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ 2 ۭ حَتَّى حَتَّى حرف يجرّ به تارة كإلى، لکن يدخل الحدّ المذکور بعده في حکم ما قبله، ويعطف به تارة، ويستأنف به تارة، نحو : أكلت السمکة حتی رأسها، ورأسها، ورأسها، قال تعالی: لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] ، وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] . ويدخل علی الفعل المضارع فينصب ويرفع، وفي كلّ واحد وجهان : فأحد وجهي النصب : إلى أن . والثاني : كي . وأحد وجهي الرفع أن يكون الفعل قبله ماضیا، نحو : مشیت حتی أدخل البصرة، أي : مشیت فدخلت البصرة . والثاني : يكون ما بعده حالا، نحو : مرض حتی لا يرجونه، وقد قرئ : حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] ، بالنصب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب ¦ اَلْہٰی فعل یقال الہاہ عن فلان اذا شغلہ عنہ وکم مفعولہ التکاثر فاعلہ۔ والتکاثر التباہی والتفاخر بکثرۃ الاموال والا ولا دو الغلفلہ عن اللہ تعالیٰ حتی غایۃ للا لہاء زرتم المقابر جمع مقبرۃ۔ والمعنی انساکم حرص الدنیا والتفاخر بالاموال و العشائر عن الدار الاخرۃ حتی دککم الموت وانتم علیٰ تلک الحالۃ کلا للروع لو شرطیۃ تعلمون شرط و مفعول تعلمون محذوف ای الامر الذی انتم صائرون الیہ علما یقینا ونصب العلم علی المصدریۃ واضافۃ الی الیقین من اضافۃ الموصوف الی صفۃ وقیل العلم عام یکون یقینا وغیر یقین فاضا فۃ الی الیقین اضافۃ العام الخاص و جواب لو محذوف قال الاخفش التقدیر لو تعلمون علم الیقین ما…
Read the full tafseer →حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ۔ (التکاثر : 2) (یہاں تک کہ قبروں میں جا پہنچے۔ ) کثرت کی خواہش موت تک جاری رہتی ہے یعنی کثرت مال کی کوشش، پھر دوسروں سے آگے بڑھنے کی ہوس اور دوسروں کے مقابلے میں فخر جتنانے کی خواہش میں تمہاری پوری زندگی گزر گئی۔ مثال کے طور پر تم میں سے ایک نے چاہا کہ میرے پاس ایک خوبصورت مکان ہونا چاہیے۔ مکان بن گیا۔ اور جب دوسرے نے بھی اسی خواہش کے تحت ویسا ہی مکان بنا لیا تو پھر بےچینی اور بڑھی تو اس کو نیچا دکھانے کے لیے دوسری منزل اٹھا لی گئی۔ اس نے بھی مقابلے میں دوسری منزل بنا لی۔ اس کی کثرت کی خواہش نے اسے تیسری منزل اٹھانے پر مجبور کیا۔ اور دوسرے کی تکاثر کی ہوس نے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
فہم القرآن ربط سورت : القارعہ میں بتلایا گیا ہے کہ مجرموں کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل کی جائے گا التّکاثر میں اس کی بنیادی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جہنمی آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ اس سورت کی ابتدا ” اَلْہٰی “ کے لفظ سے ہورہی ہے۔ عربی زبان میں ” اَلْہٰی یَلْہٰی “ کا معنٰی ہے کسی چیز کے ساتھ ایسا لگاؤ جس کی وجہ سے انسان اپنے اہم معاملات سے لاپرواہ اور غافل ہوجائے۔” التَّکَاثُرُ “ کے تین مفہوم لیے گئے ہیں۔ 1۔ زیادہ سے زیادہ مال واسباب جمع کرنا۔ 2۔ مال کی کثرت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا۔ 3۔ مال و اسباب کی کثرت پر فخر و غرور کرنا۔ یاد رہے کہ دین اسلام دنیا…
Read the full tafseer →2 : حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (یہاں تک کہ تم قبرستانوں میں پہنچ جاتے ہو) یہاں تک کہ اسی حالت میں موت آجاتی ہے۔ نمبر 2۔ یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں اور قبروں میں اپنے مردوں کو گننے لگے۔
Read the full tafseer →حتی زرتم المقابر کی تفسیر 2 ۔” حتی زرتم المقابر “ حتیٰ کہ تم مرگئے اور قبروں میں دفن کیے گئے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہوں نے کہا ہم بنو فلاں سے تعداد میں زیادہ ہیں اور بنو فلاں فلاں کی اولاد سے زیادہ ہیں۔ اس بات نے ان کو مشغول رکھا حتیٰ کہ وہ گمراہی میں مرگئے اور مقاتل اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں یہ قریش کے دو قبیلوں بنو عبدمناف بن قصی اور بنو سہم بن عمرو کے بارے میں نازل ہوئی ہے، ان دونوں کے درمیان تفاخر تو ان میں سرداروں اور معزز لوگوں کی وجہ سے دشمنی ہوگئی کہ ان میں تعداد میں کون زیادہ ہے ؟ تو بنو عبدمناف نے کہا ہمارے سردار اور عزت والے زیادہ ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ صحت بدن ‘ وقت پر غذا کا ملنا ‘ ٹھنڈے پانی کا ملنا ‘ اس طرح سب چیزیں جن پر آدمی کی زیست کا مدار ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو کام میں لاتے ہیں اور اطاعت الٰہی سے غافل ہیں اور رات دن زیادتی مال اور اولاد کی حرص ہو ہوس میں ان لوگوں کی زیست کٹتی ہے اس ساری سورة میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو متنبہ فرمایا ہے کہ آدمی کے پیچھے موت ایسی لگی ہوئی ہے کہ مرتے دم تک بھی آدمی مال اور اولاد کی ہوس میں لگا رہے تو بھی دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے سب چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں۔ جو لوگ ان چھوڑ جانے کی چیزوں میں اس طرح مصروف رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اللہ…
Read the full tafseer →تمہاری غفلت، تمہارا لہو ولعب اور تمہاری مشغولیت دائمی ہوگئی۔ (حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ) یہاں تک کہ تم قبرستان جاپہنچے۔ تب تمہارے سامنے سے پردہ ہٹ گیا مگر اس وقت جب تمہارا دنیا میں دوبارہ آنا ممکن نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد (حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ) دلالت کرتا ہے کہ برزخ ایسا گھر ہے جس سے مقصود آخرت کے گھر کی طرف نفوذ کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زائرین کے نام سے موسوم کیا ہے قیام کرنے والوں سے موسوم نہیں کیا۔ اور یہ چیز حیات بعدالموت اور ہمیشہ باقی رہنے والے غیر فانی گھر میں اعمال کی جزا وسزا پر دلالت کرتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(2) غفلت و لاپرواہی کا نتیجہ محرومی، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو غفلت میں ڈال دیا، " تکاثر " کی ہوس نے یہاں تک کہ تم جا پہنچتے ہو قبروں کو یعنی یہاں تک کہ اسی غفلت میں تمہاری زندگی کا چراغ گل ہوگیا، فرصت حیات تمام ہوگئی، اور تم پیوند خاک ہوگئے، اور ابدی فیصلے کا وہ جہاں سامنے آگیا، جس سے بھاگنے اور اس دنیا میں واپس آنے اور کمائی کرنے کی کوئی صورت پھر ممکن نہ ہوسکے گی سو بڑی سخت غلط فہمی اور خسارے میں مبتلا ہیں وہ لوگ جو اس دنیا کے متاع فانی اور اسی کے حطام زائل کے پیچھے لگ کر اپنے انجام اور اپنی آخرت سے غافل ہورہے ہیں، اور آج اس غفلت و لاپرواہی کا دور دورہ ہر طرف ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
دنیا و آخرت کا مقابلہ تشریح : عام طور پر یہی دکھائی دیتا ہے کہ ہر کوئی مال و دولت کے حصول میں پریشان اور مصروف ہے۔ کیونکہ اولاد کی محبت سب کو پاگل کئے ہوئے ہے۔ جب کہ دونوں چیزیں ہی انسان سے جدا ہوجانے والی ہیں۔ ساتھ اگر کچھ دے گا تو صرف وہ جو ہم نے علم الیقین کو سامنے رکھ کر کمایا اور جو اس علم پر یقین نہ رکھ کر حد اعتدال سے گزر جاتے ہیں تو وہ سخت دکھ اٹھائیں گے کیونکہ اس کے بعد پھر جو زندگی شروع ہوگی تو پھر علم العین یعنی مشاہدہ کی زندگی ہوگی۔ تو وہاں وہ پچھتائیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ تو ضروری ہے کہ ہم اس پر یقین کریں عمل کریں جو ہمیں علم القرآن و الحدیث سے مل رہا ہے۔ قرآن میں ہر قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة التکاثر۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ اے انسان تجھے کثرت مال کی ہوس نے اپنااسیر کردیا اور تو اللہ کی اطاعت بھول کرنا جائز طریقے سے مال جمع کرنے میں لگارہا یہاں تک قبر میں جاپہنچا اور یقینا وہاں پہنچ کر تو سب حال واضح ہوجائے گا بلکہ سب کچھ جان لوگے جب دوزخ کو دیکھو گے اور علم یقین حاصل ہوگا حضرت ابن عباس فرمایا کرتے کہ جو حال دیکھ کرہوتا ہے خبر سن کر وہ اثر نہیں ہوتا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر خبر دی گئی کہ آپ کی قوم گوسالہ پوجنے میں لگی ہے مگر جب خود آکر دیکھاتوبھڑک اٹھے اور الواح پھینک ماریں تو لوگوں تم بھی حشر میں جہنم کو روبرو دیکھو گے تب اللہ کریم کی سب نعمتوں کا حساب دینا ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 8 یعنی مرتے دم تک اس حرص و طمع میں پھنسے رہے کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کی فرصت نہ ملی۔ اسی مضمون کو نبی ﷺ نے اپنی ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے :” مگر آدمی کے پاس مال کی بھری ہوئی ایک وادی ہو تو وہ چاہتا ہے کہ دوسری وادی اور ہو اور اگر اس کے پاس دو وادیاں ہوں تو وہ چاہتا ہے تیسری وادی اور ہو سچ یہ ہے کہ) آدمی کے پیٹ کو صرف (قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور اللہ جس پر چاہتا ہے نظر کرم فرماتا ہے۔ “ (جامع صغیر لیستوطی بحوالہ صحیحین ترمذی مسند امام احمد من انس) ایک اور حدیث میں آپ کا اشراد ہے ” میت کے پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں دو چیزیں واپس آجاتی ہیں اور ایک چیز اس کے ساتھ رہتی ہے۔ اس کے…
Read the full tafseer →(102:2) حتی زرتم المقابر : حتی انتہاء غایت کے لئے ہے۔ یہاں تک کہ ۔ زرتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر زیارۃ (باب نصر) مصدر سے۔ تم نے دیکھا۔ تم نے جا زیارت کی۔ المقابر۔ جمع مقبرۃ کی، قبریں۔ یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن : الھا۔ بھلائے رکھا۔ غافل کئے رکھا۔ التکاثر۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کثرت نے۔ زرتم۔ تم نے دیکھ لی۔ سوف تعلمون۔ بہت جلد تم جان لو گے۔ علم الیقین۔ یقین کا علم۔ ترون۔ تم ضرور دیکھو گے۔ عین الیقین۔ آنکھ سے حاصل ہونے والا یقین۔ تسئلن۔ تم پوچھے جائو گے۔ النعیم۔ نعمتیں تشریح : آخرت کی فکر رکھتے ہوئے صبر و قناعت اختیار کرنا، اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق جائز اور حلال ذرائع سے مال و دولت حاصل کرنے کی جدوجہد کرنا۔ جس کا بنیادی مقصد اللہ کی رضا و خوشنودی، اپنے بال بچوں کی مناسب دیکھ بھال، غریب، ضرورت مند اور محتاجوں سے ہمدردی اور بھلائی کا جذبہ رکھنا جس میں فخر و غرور،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
صبر اور نیک کام پر قائم رہنے کا ذکر۔ (ف 1) صحبت ، بدن وقت پر غذا کاملنا، ٹھنڈے پانی کاملنا، اس طرح سب چیزوں جن پر آدمی کی زندگی کی مدار ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو لوگ اللہ کی ان نعمتوں کو کام میں لاتے ہیں اور اطاعت الٰہی سے غافل ہیں اور رات دن زیادتی مال اور اولاد حرص وہوس میں ان لوگوں کی زندگی کٹتی ہے اس ساری سورت میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو متنبہ فرمایا ہے کہ آدمی کے پیچھے موت ایسے لگی ہوئی ہے کہ مرتے دم تک بھی آدمی مال اور اولاد کی ہوس میں لگا رہے تو بھی دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے سب چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں جو لوگ ان چھوڑ جانے کی چیزوں میں اس طرح مصروف ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] اصل میں لفظ تکاثر استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں متاع دنیا سے زیادہ حاصل کرنے کی طلب اور اس کے حصول میں لوگوں کا ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة التکاثر عفو کے معنی غفلت ونسیان کے ہیں اور غرض یہ ہے کہ جس چیز نے تم کو بھلا رکھا اور غفلت میں ڈال رکھا ہے ، وہ دنیاوی ٹھاٹھ میں افزائش کا جذبہ ہے ۔ تم لوگ پوری زندگی اس حرص کی تکمیل میں صرف کر ڈالتے ہو کہ کیوں کہ ہزاروں کو لاکھوں اور لاکھوں کو کروڑوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ اور رات دن اسی فکر میں غلطان دپیچاں رہتے ہو کہ کن ذرائع اور کن وسائل سے عزت وجاہ اور نفس کی آسودگیوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے حتیٰ کہ موت آجاتی ہے اور تمہارے ارادے وہیں ختم ہوجاتے ہیں ۔ تمہیں معلوم ہوجائے گا اور قطعی معلوم ہوجائے گا کہ دنیا طلبی کے یہ جذبات اخروی زندگی کے لئے حتماً مضر تھے ۔ تم جہنم کو دیکھو گے اور…
Read the full tafseer →(2) یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔ اس کے بھی دو مطلب ہیں ایک تو یہ کہ موت آگئی اور تم قبرستان جا پہنچے یا یہ ہے کہ زندوں کی مردم شماری کرتے کرتے قبر میں جا کر گننے لگے اور قبرستان جا پہنچے۔ کہتے ہیں عرب کے دو مشہور قبیلوں بنوعبدمناف اور بنو سہم بن عمرو میں باہمی منافست تھی اور دونوں اپنے کارناموں پر اور اپنی تعداد پر فخر کیا کرتے تھے چناچہ مرم شماری کی نوبت پہنچی اور بنو سہم بن عمرو کی تعداد کم ہوگئی انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارے لوگ لڑائیوں میں بہت مارے گئے ہیں اس وجہ سے ہماری تعداد کم ہوگئی۔ لہٰذا ہماری قبریں بھی شمار کرو چناچہ دونوں فریق قبرستان پہنچ گئے اور قبریں شمار کرنے سے بنو سہم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ف 1۔ یعنی وہ رویت استدلالیہ نہیں جس پر یقین کا ترتب گاہے دیر میں ہوتا ہے بلکہ رویت مشاہدہ جس پر یقین کا ترتب فوری ہے، و نیز مشاہدہ میں اکشاف بھی زیادہ ہے، استدلالیات سے بھی اور ضروریات عقلیہ سے بھی اس کے خود دیکھنے کو نفس یقین فرمایا جو کہ عین الیقین سے مراد ہے باوجودیکہ وہ سب یقین ہے۔
Read the full tafseer →یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے 2 ؎ (زرتم) تم نے جا دیکھا۔ تم نے زیارت کی ۔ زیارۃ سے جس کے معنی زیارت کرنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر اصل میں زور سینہ کے بالائی حصہ کو کہتے ہیں اور اسی اعتبار سے زیارۃ کے معنی سینہ سے کسی کے سامنے ہونے یا کسی کے سنہ کی طرف رخ کرنے کے ہوتے ہیں اور زیارت میں سینہ بہر حال ایک دوسرے کے سامنے آتا ہے۔ ( المقابر) صیغہ منتہیٰ المجموع ظرف مکان المبقرۃ اور المبقرۃ واحد اور اس کے معنی قبرستان کے صحیح ہیں ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ تم یہ مال کی کثرت اور ایک دوسرے سے مال میں سبقت لے جانے کی خواہش و آرزو کرتے ہی رہو گے۔ اللہ ناراض ہوتا ہے تو ہو ۔ قوم سے خیانت ہوتی ہو ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَVerse [ 2] (until you reach the graves.) Here the words 'reaching the graves' mean 'to die and be buried in the graves', as the following Prophetic Hadith bears testimony to this interpretation. Referring to verse [ 2] of this Surah, the Messenger of Allah ﷺ said: حَتّٰی یِأتیکُم الموت "until death overtakes you" [ Ibn Kathir, from by Ibn Abi Hatim ]. The verse thus implies that many people are engrossed in acquiring worldly goods and racing each other in wealth and children etc. and remain neglectful of the Hereafter till death comes upon them, and then they…
Read the full tafseer →2 That is, "You expend your whole Iife in the same craze and endeavour, until the time comes when you must die and leave the world ."
Read the full tafseer →