اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ ۟ۙاَلۡهٰٮكُمُ التَّكَاثُرُۙ
(لوگو) تم کو (مال کی) بہت سی طلب نے غافل کر دیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Competition in [worldly] increase diverts you
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 27 of juz
Competition · Meccan · 8 ayahs · 1 ruku
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ ۟ۙاَلۡهٰٮكُمُ التَّكَاثُرُۙ
(لوگو) تم کو (مال کی) بہت سی طلب نے غافل کر دیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Competition in [worldly] increase diverts you
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 27 of juz
Read the whole surah · Surah At-Takaathur
تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے
(لوگو) تم کو (مال کی) بہت سی طلب نے غافل کر دیا
زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا
ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر (دنیا کا عیش) حاصل کرنے کی ہوس نے تمہیں غلفت میں ڈال رکھا ہے۔
تمہیں غافل رکھا مال کی زیادہ طلبی نے
تمہیں کثرتِ مال کی ہوس اور فخر نے (آخرت سے) غافل کر دیا،
تمہیں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی حرص نے غافل کردیا۔
تمہیں کثرت (کی ہوس) نے غافل کر رکھا ہے
تم کو طلب مال کی مسابقت نے غفلت میں ڈالے رکھا
غفلت میں ڈال دیا تم کو (اے لوگو !) بہتات کی حرص نے
فخر کرنا تمہیں غافل کئے رہتا ہے
تمہیں غافل کیے رکھا ہے بہتات کی طلب نے !
لوگو ! تم کو مال کی زیادہ طلب نے غافل کردیا
The craving for ever-greater worldly gains and to excel others in that regard keeps you occupied
You are distracted by mutual competition in amassing (worldly benefits) ,
You are distracted by mutual competition in amassing (worldly benefits) ,
The mutual increase diverts you,
Rivalry in worldly increase distracteth you
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Competition in [worldly] increase diverts you
The desire to have more of the worldly gains have pre-occupied you so much (that you have neglected remembring God),
Abundance diverts you,
The emulous desire of abundance engrosseth you,
The mutual rivalry for piling up (the good things of this world) diverts you (from the more serious things),
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–8
مال و دولت اور اعمال : ارشاد ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت اس کے پالینے کی کوشش نے تمہیں آخرت کی طلب اور نیک کاموں سے بےپرواہ کردیا تم اسی دنیا کی ادھیڑ بن میں رہے کہ اچانک موت آگئی اور تم قبروں میں پہنچ گئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اطاعت پروردگار سے تم نے دنیا کی جستجو میں پھنس کر بےرغبتی کرلی اور مرتے دم تک غفلت برتی (ابن ابی حاتم) حسن بصری فرماتے ہیں مال اور اولاد کی زیادتی کی ہوس میں موت کا خیال پرے پھینک دیا صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے کہ حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں ہم لو کان لابن ادم واد من ذھب یعنی اگر ابن آدم کے پاس ایک جنگل بھر کر سونا ہو اسے قرآن کی آیت ہی سمجھتے رہے یہاں تک کہ الھا کم…
Read the full tafseer →سورة التکاثر 1 اصل میں اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ فرمایا گیا ہے جس کے معنی میں اتنی وسعت ہے کہ ایک پوری عبارت میں بمشکل اس کو ادا کیا جاسکتا ہے۔ الکھکم لہو سے ہے جس کے اصل معنی غفلت کے ہیں، لیکن عربی زبان میں یہ لفظ ہر اس شغل کے لیے بولا جاتا ہے جس سے آدمی کی دلچسپی اتنی بڑھ جائے کہ وہ اس میں منہمک ہو کر دوسری اہم تر چیزوں سے غافل ہوجائے۔ اس مادے سے جب الکاکم کا لفظ بولا جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کسی لہو نے تم کو اپنے اندر ایسا مشغول کرلیا ہے کہ تمہیں کسی اور چیز کا جو اس سے اہم تر ہے، ہوش باقی نہیں رہا ہے۔ اسی کی دھن تم پر سوار ہے، اسی کی فکر میں تم لگے ہوئے ہو، اور اس انہماک نے تم کو…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر دو نبوی سامان پر فخر کرنا تم کو (آخرت سے) غافل کئے رکھتا ہے یہاں تک کہ تم قبرساتنوں میں پہنچ جاتے ہو (یعنی مر جاتے ہو کذافی تفسیر ابن کثیر مرفوعاً) ہرگز نہیں (یعنی دنیوی سامان قابل فخر ہے اور نہ آخرت قابل غفلت) تم کو بہت جلد (قبر میں جاتے ہی یعنی مرتے ہی) معلوم ہوجاوے گا پھر (’ و بارہ تم کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ) ہرگز (یہ چیزیں قابل فخر اور توجہ کے اور آخرت قابل غفلت و انکار کے) نہیں تم کو بہت جلد (قبر سے نکلتے ہی یعنی حشر میں) معلوم ہوجاوے گا (کذافی فتح البیان مرفوعاً اور سہ بارہ پھر تم کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ) ہرگز (یہ چیزیں قابل فخر و توجہ کے اور آخرت قابل غفلت اور انکار کے)…
Read the full tafseer →’اِلْھَاءٌ‘ کے معنی غافل اور مبتلائے فریب رکھنے کے ہیں۔ ’تَکَاثُرٌ‘ کے معنی ہیں مال و اولاد کی کثرت میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی تگ و دو۔ میعار زندگی اونچا کرنے کا خبط: عرب جاہلیت میں حفاظت و مدافعت کی ذمہ داری چونکہ خاندان اور قبیلہ ہی پر ہوتی تھی اس وجہ سے قبیلہ میں سرداری کا مقام اسی خاندان کو حاصل ہوتا جس کے افراد زیادہ ہوں۔ اس چیز نے قدرتی طور پر ان کے ہاں مال کے تکاثر کے ساتھ ساتھ اولاد کے تکاثر کے جذبہ کو بھی بہت قوی کر دیا تھا۔ چنانچہ ان کے لٹریچر پر جن کی نظر ہے، وہ جانتے ہیں کہ جس طرح وہ اپنے مال کی کثرت پر فخر کرتے اسی طرح بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہی اولاد کی کثرت پر بھی فخر کرتے۔…
Read the full tafseer →1۔ 1 الھیٰ یلھی کے معنی ہیں، غافل کردینا۔ تکاثر، زیادتی کی خواہش۔ یہ یہ عام ہے، مال، اولاد، اعوان و انصار اور خاندان و قبیلہ وغیرہ سب کو شامل ہے۔ ہر وہ چیز، جس کی کثرت انسان کو محبوب ہو اور کثرت کے حصول کی کوشش و خواش اسے اللہ کے احکام اور آخرت سے غافل کر دے۔ یہاں اللہ تعالیٰ انسان کی اس کمزوری کو بیان کر رہا ہے۔ جس میں انسانوں کی اکثریت ہر دور میں مبتلا رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1: یعنی دنیا سمیٹنے کی دھن میں لگ کر تم آخرت کو بھولے ہوئے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اے حالت مدہوشی میں سرپٹ دوڑنے والو ، اے لاپرواہی کی حالت میں مال اور اولاد کی کثرت اور دنیا کے سازو سامان کی بہتات کے لئے جدوجہد کرنے والو ، تم تو ان سب چیزوں کو اسی جہاں میں چھوڑ کر جانے والے ہو ، اے دنیا کی مشغولیتوں میں دھوکہ کھانے والو ، اے مال واولاد کو چھوڑ کر جانے والو ، ایک ایسے چھوٹے سے گڑھے ، قبر میں جانے والو ، قبر میں تو نہ مال ہوگا ، نہ اولاد ہوگی اور نہ وہاں کوئی فخر ہوگا اور اظہار برتری ہوگا ، جاگو ، اور دیکھو ، غورکرو۔ الھکم .................... المقابر (2:102) ” تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے یہاں تک کہ (اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
5 یعنی مال و اولاد کی کثرت اور دنیا کے سازو سامان کی حرص آدمی کو غفلت میں پھنسائے رکھتی ہے۔ نہ مالک کا دھیان آنے دیتی ہے نہ آخرت کی فکر۔ بس شب و روز یہی دھن لگی رہتی ہے کہ جس طرح بن پڑے مال و دولت کی بہتات ہو، اور میرا کنبہ اور جتھا سب کنبوں اور جتھوں سے غالب رہے۔ یہ پردہ غفلت کا نہیں اٹھتا یہاں تک کہ موت آجاتی ہے۔ تب قبر میں پہنچ کر پتہ لگتا ہے کہ سخت غفلت اور بھول میں پڑے ہوئے تھے محض چند روز کی چہل پہل تھی۔ موت کے بعد وہ سب سامان ہیچ بلکہ و بال جان ہیں۔ (تنبیہ) بعض روایات میں آیا ہے (اللّٰہ اعلم بصحتھا) کہ ایک مرتبہ دو قبیلے اپنے اپنے جتھے کی کثرت پر فخر کر رہے تھے۔ جب مقابلہ کے وقت ایک کے…
Read the full tafseer →آیت 1{ اَلْہٰٹکُمُ التَّکَاثُرُ۔ } ”تمہیں غافل کیے رکھا ہے بہتات کی طلب نے !“ التکاثر کے معنی مال جمع کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے بھی ہیں اور مال و دولت کی کثرت پر فخر کرنے کے بھی۔ دولت انسان کے پاس چاہے جتنی بھی ہو اس کی طبیعت اس سے بھرتی نہیں اور وہ بدستور مزید حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →1 لہو کا لغوی مفہوم :۔ الْھٰکُم : لھو کا معنی عموماً کھیل تماشا لیا جاتا ہے۔ لیکن اصل میں لہو ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو اصل مقصد سے یا کسی اہم تر چیز سے ہٹائے رکھے اور اَلْھٰی کے معنی میں کسی گھٹیا کام میں مشغول رہ کر اس سے اہم تر کام سے خیال ہٹا دینا گویا الْھٰی میں توجہ ہٹا دینے کا سبب غفلت یا بھول نہیں ہوتی بلکہ دوسرے فضول کام ہوتے ہیں۔ خ تکاثر کی مختلف صورتیں :۔ تَکَاثُر کا لفظ تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) آدمی کوئی چیز زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ (2) لوگ کسی چیز کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کریں (3) وہ ایک دوسرے پر فخر جتلائیں کہ دوسرے کے مقابلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ (دنیا سے وفات پاکر) آیت میں اس عام حقیقت کا بیان ہے کہ دنیوی جاہ ومال، سامان وقوت و شوکت پر فخر وناز اور ان کی محبت وطلب، آخرت فراموش انسان کے قلب پر غفلت کے پردے ڈالے رہتی ہیں، اور اس میں خوف خدا و خشیت الہی پیدا ہی نہیں ہونے دیتیں، یہاں تک کہ موت کا وقت آجاتا ہے، اور انسان قبر میں پہنچ جاتا ہے، (آیت) ” الھکم “۔ الھاء کے معنی لہو میں ڈال دینے کے ہیں، مراد یہ ہے کہ دنیوی مشاغل میں انہماک چیز ہی ایسی ہے، جو انسان کا خیال، آخرت کی طرف جانے ہی نہیں دیتی اور اسے سدا فکر آخرت سے غافل رکھتی ہے۔ (آیت) ” التکاثر “۔ یعنی سامان دنیوی کی حرص وہوس، دنیا کا ہو کا، اور مال وجاہ میں ایک دوسرے پر تفوق و…
Read the full tafseer →ترجمہ، شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، مال و اولاد اور افراد رجال کی کثرت پر فخر مباہات نے تم کو اللہ کی طاعت سے غافل کردیا یہاں تک کہ تم لب گور پہنچ گئے بائیں طور کہ تم مرگئے اور قبروں میں تم دفن کردیئے گئے یا کثرت ثابت کرنے کے لئے مردوں کو بھی تم نے شمار کرلیا، ہرگز نہیں، یہ حرف ردع ہے عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا، پھر ہرگز نہیں تم کو اپنے تفاخر کا انجام بدنزع کے وقت پھر قبر میں عنقریب معلوم ہوجائے گا، یہ امر واقعہ ہے اگر تم تفاخر کے انجام کو علم یقینی کے طور پر جان لیتے تو تم اس میں مشغول نہ ہوتے، تو تم بیشک جہنم کو دیکھ کر رہو گے یہ قسم محذوف کا جواب ہے…
Read the full tafseer →الھکم . تم کو غافل بنا دیا ‘ یعنی بیہودہ ‘ لغو اور بےفائدہ کام میں تم کو ڈال دیا اور اللہ کی اطاعت سے اور ان کاموں سے روک دیا جو اللہ کی ناراضگی سے بچانے والے ہیں۔ التکاثر . کثرت مال و جاہ اور جتھے کی افزونی پر دوسرے کے مقابلہ میں فخر کرنے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) حسب و نسب میں فخر کرنا تمہیں غافل کیے رکھتا ہے یہاں تک کہ تم لوگ قبروں میں پہنچ جاتے ہو۔ واقعہ یہ پیش آیا کہ بنی سہم و بنی عبد مناف نے آپس میں ایک دوسرے پر فخر کیا کہ کس کی تعداد زیادہ ہے تو بنی عبد مناف کی تعداد زیادہ نکلی۔ اس پر بنی سہم کہنے لگے کہ ہمیں زمانہ جاہلیت میں باغیوں نے ہلاک کردیا تھا اس لیے ہمارے مردوں اور زندگوں کو گنو چناچہ ایسا ہی ہوا تو اس صورت میں بنی سہم کی تعداد زیادہ ہوگئی تو اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس فخر کے چکر میں تم مردوں کا بھی ذکر کرنے لگتے ہو یا یہ کہ اسی میں زندگی گزار کر مرجاتے ہو۔
Read the full tafseer →(1) الھکم التکاثر :”الھی یلھی“”لھو“ سے ہے، جس کا معنی ہے ”کسی چیز کیساتھ اتنا لگاؤ اور دلچسپی جو اسے اہم چیزوں سے غافل کر دے۔“”التکاثر“”کتثرہ“ سے باب تفاعل کا مصدر ہے، جس میں تشارک کا معین پایا جاتا ہے، یعنی ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش۔ مال و اولاد اور جاہ شرف، الغرض دنیا کی ہر چیز دوسرے تمام لوگوں سے زیادہ حاصل کرنے کی حرص اور پھر حاصل ہوجانے پر دوسروں پر فخر کرنا۔ (2) اس حرص کی حد کیا ہے ؟ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لوکان لابن ادم وادیان من مال لابتعی ثالثاً ، ولا یملا جوف ابن آدم الا التراب ، ویتوب اللہ علی من تاب)] بخاری، الرقاق، باب ما یتقی من فنتۃ المال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
غافل رکھا تمہیں زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کی ہوس نے یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے۔ اس میں پانچ مسائل ہیں : لغوی تشریح اور شان نزول : مسئلہ نمبر 1 : الھکم التکاثر۔ تمہیں غافل کردیا۔ فالھی تھا عن ذی تمائم مغیل میں نے اسے مکمل سال کے بچے جو دودھ پیتا تھا سے غافل کردیا۔ آیت کا معنی یہ ہے مال اور تعداد کی کثرت پر فخر و مباہات نے تمہیں اللہ کی طاعت سے غافل کردیا ہے، یہاں تک کہ تم مر گئے اور قبروں میں دفن کردیئے گئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ؛ الھکم کا معنی ہے تمہیں بھلا دیا۔ التکاثر یعنی اموال اور اولاد کی کثرت پر فخر کرنا۔ یہ حضرت ابن عباس اور حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : قبائل پر فخر…
Read the full tafseer →1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة الہکم التکاثر مکہ میں نازل ہوی۔ 2۔ الحاکم والبیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی یہ طاقت رکھتا ہے وہ روزانہ ہزار آیتیں پڑھے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا کس کی طاقت ہے کہ وہ ہزار آیتیں پڑھے پھر آپ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی سورة الہکم التکاثر پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن ابی ہلال (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ؓ علیہم نے الہکم التکاثر کو المغیرہ کا نام دیتے تھے۔ اصل مال وہی ہے جو صدقہ کردیا گیا 4۔ الطیالسی و سعید بن منصور واحمد وعبد بن حمید والترمذی ولنسائی وابن…
Read the full tafseer →[اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ ۙ ترکیب : (آیت۔ 1) تَکَاثُرْ باب تفاعل کا مصدر ہے اس لیے اس میں باہم ایک دوسرے پر کثرت حاصل کرنے کا مفہوم شامل ہے اور یہ اَلْھٰی کا فاعل ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے۔ جس چیز میں کثرت کی خواہش نے انسان کو غافل کیا وہ یہاں محذوف ہے اس لیے اس کے مفہوم میں وسعت ہے۔ دنیوی سازوسامان نے جس چیز سے انسان کو غافل کیا وہ بھی محذوف ہے۔ جو آخرت بھی ہوسکتی ہے، ذکر اللہ بھی ہوسکتا ہے۔ نوٹ 1: تکاثر کا مطلب ہے کثرت کے ساتھ مال و دولت جمع کرنا۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ سورة پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ مال کو ناجائز طریقوں سے حاصل کیا جائے اور مال پر جو فرائض اللہ کے عائد ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یہ سورة التکاثر کا ترجمہ ہے لفظ تکاثر کثرت سے تفاعل کا مصدر ہے۔ یہ باب دونوں طرف سے مقابلہ کرنے کے معنی میں آتا ہے جیسے تقاتل دونوں نے آپس میں مل کر قتال کیا اور تقابل دونوں آپس میں ایک دوسرے کے سامنے آئے، یہاں پر مال کی کثرت میں مقابلہ کرنے کا تذکرہ ہے۔ اہل دنیا کا طریقہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کے لیے کوششیں کرتے ہیں اور جس کے پاس زیادہ مال ہوجائے وہ اس پر فخر کرتا ہے پھر دوسرا شخص اس کے مقابلے میں اپنے مال کی کثرت بیان کرتا ہے اور اگر بیان نہ کرے تو ذہنی مقابلہ تو رہتا ہی ہے اس کو سورة الحدید میں یوں بیان فرمایا ہے ﴿اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تنبیہ وتہدید برغفلت از آخرت ووعید برحرص مال و دولت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الھکم التکاثر ..... الی ...... یومئذ عن النعیم “۔ (ربط) سورة القارعہ میں انسان کو قیامت پر پیش آنے والے ہولناک حوادث سے آگاہ وخبردار کیا گیا تھا، اب اس سورت میں جو اسباب غفلت ہیں ان سے باخبر کیا جارہا ہے کہ مال و دولت کی حرص انسان کو آخرت سے غافل اور دور کرنے والی چیز ہے، اسی مال واولاد پر تفاخر و غرور بھی کوئی اچھی بات نہیں، انسان کو چاہئے ان فتنوں میں مبتلا ہو کر اپنے اصل مقصد یعنی فکر آخرت کو فراموش نہ کرے، قتادہ (رح) اور مقاتل (رح) سے یہ منقول ہے کہ یہ سورت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی، جبکہ مدینہ میں رہنے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ ” الہاکم التکاثر “ التکاثر، کثرت مال اور کثرت تعداد پر فخر کرنا اور کثرت میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کرنا۔ ای التبارک فی الکثرۃ والتباھی بھا بان یقول ھؤلاء نحن اکثر وھؤلاء نحن اکثر (روح ج 30 ص 223) ۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ انصار کے دو قبیلوں میں کثرت عدد کے مقابلے کی ٹھن گئی اور ہر قبیلہ اپنے افراد کی کثرت پر فخر کرنے لگا چناچہ دونوں قبیلوں نے پہلے زندہ لوگوں کو گنا جب ان کی گنتی ختم ہوئی تو قبرستان میں جا کر مردوں کو شمار کرنے لگے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ فرمایا : کثرت عدد پر فخر و مباہات نے تم کو ایسا غافل کیا کہ تم قبرستان میں جا پہنچے اور مردوں کی گنتی کرنے لگے۔ یا ” حتی زرتم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
مال کی محبت انسان کو فرائض منصبی سے غافل کرنے والی چیزوں میں مال کی محبت ، سرفہرست ہے یہا پر اس اس بات کو تکاثر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے الھکم التکاثر تم کو کثرت کی طلب نے غفل میں ڈال رکھا ہے حتی زرتم المقابر یہاں تک کہ تم قبروں کی زیارت کرو یعنی مر کر قبروں میں پہنچ جائو تکاثر میں مال ، اولاد ، دنیا کا ساز و سامان اور جماعت سب کچھ شامل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ لوگ دنیا کے مال و دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مگر اپنے حقیقی مقاصد یعنی اپنے مالک کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی کی طرف کوئی د ھیان نہیں دیتے ان کو یہی دھن لگی رہتی ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو مال و دولت حاصل ہو ، خاندان بڑا…
Read the full tafseer →اَلْہٰىكُمُ التَّكَاثُرُ 1 ۙ لهي أَلْهاهُ كذا . أي : شغله عمّا هو أهمّ إليه . قال تعالی: أَلْهاكُمُ التَّكاثُرُ [ التکاثر/ 1] ، رِجالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ [ النور/ 37] ولیس ذلک نهيا عن التّجارة وکراهية لها، بل هو نهي عن التّهافت فيها والاشتغال عن الصّلوات والعبادات بها . الھاۃ کذا ۔ یعنی اسے فلاں چیز نے اہم کام سے مشغول کردیا ۔ قرآن میں ہے : أَلْهاكُمُ التَّكاثُرُ [ التکاثر/ 1] لوگوتم کو کثرت مال وجاہ واولاد کی خواہش نے غافل کردیا ۔ رِجالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ [ النور/ 37] یعنی ایسے لوگ جن کو خدا کے ذکر سے نہ سود اگر ی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب ¦ اَلْہٰی فعل یقال الہاہ عن فلان اذا شغلہ عنہ وکم مفعولہ التکاثر فاعلہ۔ والتکاثر التباہی والتفاخر بکثرۃ الاموال والا ولا دو الغلفلہ عن اللہ تعالیٰ حتی غایۃ للا لہاء زرتم المقابر جمع مقبرۃ۔ والمعنی انساکم حرص الدنیا والتفاخر بالاموال و العشائر عن الدار الاخرۃ حتی دککم الموت وانتم علیٰ تلک الحالۃ کلا للروع لو شرطیۃ تعلمون شرط و مفعول تعلمون محذوف ای الامر الذی انتم صائرون الیہ علما یقینا ونصب العلم علی المصدریۃ واضافۃ الی الیقین من اضافۃ الموصوف الی صفۃ وقیل العلم عام یکون یقینا وغیر یقین فاضا فۃ الی الیقین اضافۃ العام الخاص و جواب لو محذوف قال الاخفش التقدیر لو تعلمون علم الیقین ما…
Read the full tafseer →اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ ۔ (التکاثر : 1) (تم کو کثرت مال کی خواہش نے غافل رکھا۔ ) لہو اور تکاثر کا مفہوم اور تکاثر سے مراد اَلْھٰکُمُ لہو سے ہے۔ یوں تو اس کا معنی کھیل کود اور غفلت سے کیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ ایک اسلامی اصطلاح ہے۔ اس کا اطلاق ہر اس کام پر ہوتا ہے جس کی مشغولیت اور دلچسپی مقصد زندگی یا فرائض سے غافل کردے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کل لہوباطل اذا شغلہ عن طاعۃ اللہ ” یعنی ہر لہو جب انسان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل کردے تو وہ باطل یعنی گناہ ہے۔ “ الھیٰ اسی سے فعل ماضی ہے۔ اس کا معنی ہے اس نے غافل کردیا۔ اور ” کم “ ضمیرمفعول ہے۔ التَّکَاثُرُ یہ اسم فاعل ہے۔ یعنی تمہیں تکاثر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
فہم القرآن ربط سورت : القارعہ میں بتلایا گیا ہے کہ مجرموں کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل کی جائے گا التّکاثر میں اس کی بنیادی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جہنمی آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ اس سورت کی ابتدا ” اَلْہٰی “ کے لفظ سے ہورہی ہے۔ عربی زبان میں ” اَلْہٰی یَلْہٰی “ کا معنٰی ہے کسی چیز کے ساتھ ایسا لگاؤ جس کی وجہ سے انسان اپنے اہم معاملات سے لاپرواہ اور غافل ہوجائے۔” التَّکَاثُرُ “ کے تین مفہوم لیے گئے ہیں۔ 1۔ زیادہ سے زیادہ مال واسباب جمع کرنا۔ 2۔ مال کی کثرت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا۔ 3۔ مال و اسباب کی کثرت پر فخر و غرور کرنا۔ یاد رہے کہ دین اسلام دنیا…
Read the full tafseer →1 : اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ (فخر کرنا تم کو غافل کیے رکھتا ہے) کثرت میں مقابلے کا مشغلہ اور مالوں اور اولاد کے سلسلہ میں فخرو مباھات انسان کو اللہ تعالیٰ کی طاعت سے غافل کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →1 ۔” الھاکم التکاثر “ تم کو مال اور تعداد کی کثرت پر فخروغرور نے تمہارے رب کی طاعت سے مشغول کردیا اور اس سے جو تمہیں اس کی ناراضی سے نجات دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ صحت بدن ‘ وقت پر غذا کا ملنا ‘ ٹھنڈے پانی کا ملنا ‘ اس طرح سب چیزیں جن پر آدمی کی زیست کا مدار ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو کام میں لاتے ہیں اور اطاعت الٰہی سے غافل ہیں اور رات دن زیادتی مال اور اولاد کی حرص ہو ہوس میں ان لوگوں کی زیست کٹتی ہے اس ساری سورة میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو متنبہ فرمایا ہے کہ آدمی کے پیچھے موت ایسی لگی ہوئی ہے کہ مرتے دم تک بھی آدمی مال اور اولاد کی ہوس میں لگا رہے تو بھی دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے سب چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں۔ جو لوگ ان چھوڑ جانے کی چیزوں میں اس طرح مصروف رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اللہ…
Read the full tafseer →(اَلْهٰىكُمُ ) تمہیں غافل کردیا۔ مذکورہ بالا تمام چیزوں سے (التَّكَاثُرُ ) زیادہ طلب کرنے کی خواہش نے۔ اور جس چیز کی کثرت طلب کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں کیا تاکہ یہ ہر چیز کو شامل ہو جس کے ذریعے سے کثرت میں مقابلہ کرنے والے مقابلہ کرتے ہیں اور باہم فخر کرتے ہیں مثلا مال، اولاد، اعوان وانصار، فوجیں، خدم وحشم اور جاہ وغیرہ جس میں لوگ ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کا قصد کرتے ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا ان کا مطلوب و مقصود نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →(1) اصل بیماری کی تشخیص کا ذکرو بیان : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اصل بیماری جو دنیا کے اس دار الغرور میں لوگوں کو لگتی ہے اور جو بیماریوں کی بیماری ہے، وہ ہے غفلت و لاپرواہی، والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور اسل بیماری کی تشخیص و تعیین کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ غفلت میں ڈال دیا تم کو اے لوگو " تکاثر " نے، سو اس چیز نے تم کو غافل کردیا اپنے مقصد زندگی سے اور غافل کردیا تم کو اپنے خالق ومالک کے حقوق اور اس کے یہاں حاضری اور جواب دہی کے فکر و اندیشہ سے، اور غافل کردیا تم کو اپنی عاقبت اور اپنے انجام اور بھلے برے کی تمیز سے، وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ اس لیے کہ " الھا " کا عموم ان سب ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
دنیا و آخرت کا مقابلہ تشریح : عام طور پر یہی دکھائی دیتا ہے کہ ہر کوئی مال و دولت کے حصول میں پریشان اور مصروف ہے۔ کیونکہ اولاد کی محبت سب کو پاگل کئے ہوئے ہے۔ جب کہ دونوں چیزیں ہی انسان سے جدا ہوجانے والی ہیں۔ ساتھ اگر کچھ دے گا تو صرف وہ جو ہم نے علم الیقین کو سامنے رکھ کر کمایا اور جو اس علم پر یقین نہ رکھ کر حد اعتدال سے گزر جاتے ہیں تو وہ سخت دکھ اٹھائیں گے کیونکہ اس کے بعد پھر جو زندگی شروع ہوگی تو پھر علم العین یعنی مشاہدہ کی زندگی ہوگی۔ تو وہاں وہ پچھتائیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ تو ضروری ہے کہ ہم اس پر یقین کریں عمل کریں جو ہمیں علم القرآن و الحدیث سے مل رہا ہے۔ قرآن میں ہر قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة التکاثر۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ اے انسان تجھے کثرت مال کی ہوس نے اپنااسیر کردیا اور تو اللہ کی اطاعت بھول کرنا جائز طریقے سے مال جمع کرنے میں لگارہا یہاں تک قبر میں جاپہنچا اور یقینا وہاں پہنچ کر تو سب حال واضح ہوجائے گا بلکہ سب کچھ جان لوگے جب دوزخ کو دیکھو گے اور علم یقین حاصل ہوگا حضرت ابن عباس فرمایا کرتے کہ جو حال دیکھ کرہوتا ہے خبر سن کر وہ اثر نہیں ہوتا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر خبر دی گئی کہ آپ کی قوم گوسالہ پوجنے میں لگی ہے مگر جب خود آکر دیکھاتوبھڑک اٹھے اور الواح پھینک ماریں تو لوگوں تم بھی حشر میں جہنم کو روبرو دیکھو گے تب اللہ کریم کی سب نعمتوں کا حساب دینا ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 8 یعنی مرتے دم تک اس حرص و طمع میں پھنسے رہے کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کی فرصت نہ ملی۔ اسی مضمون کو نبی ﷺ نے اپنی ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے :” مگر آدمی کے پاس مال کی بھری ہوئی ایک وادی ہو تو وہ چاہتا ہے کہ دوسری وادی اور ہو اور اگر اس کے پاس دو وادیاں ہوں تو وہ چاہتا ہے تیسری وادی اور ہو سچ یہ ہے کہ) آدمی کے پیٹ کو صرف (قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور اللہ جس پر چاہتا ہے نظر کرم فرماتا ہے۔ “ (جامع صغیر لیستوطی بحوالہ صحیحین ترمذی مسند امام احمد من انس) ایک اور حدیث میں آپ کا اشراد ہے ” میت کے پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں دو چیزیں واپس آجاتی ہیں اور ایک چیز اس کے ساتھ رہتی ہے۔ اس کے…
Read the full tafseer →(102:1) الہکم التکاثر : الہی ماضی واحد مذکر غائب الہاء (افعال) مصدر سے بمعنی زیادہ ضروری چیز سے غافل رکھنا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ تم کو غفلت میں کھا۔ التکاثر : بہتات، زیادہ طلبی، دولت و جاہ، عزت و مرتبہ، مال اور اولاد کی کثرت کے لئے باہم جھگڑنا۔ بروزن تفاعل مصدر ہے۔ مال و متاع کی مزید چاہت و طلب (حرص نے) تم کو غافل کر رکھا۔ باب تفاعل کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت باہمی اشتراک بھی ہے یعنی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے تم نے مال و متاع کی مزید سے مزید طلب و سعی میں دیگر بہتر اور زیادہ ضرور امور سے غفلت برتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن : الھا۔ بھلائے رکھا۔ غافل کئے رکھا۔ التکاثر۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کثرت نے۔ زرتم۔ تم نے دیکھ لی۔ سوف تعلمون۔ بہت جلد تم جان لو گے۔ علم الیقین۔ یقین کا علم۔ ترون۔ تم ضرور دیکھو گے۔ عین الیقین۔ آنکھ سے حاصل ہونے والا یقین۔ تسئلن۔ تم پوچھے جائو گے۔ النعیم۔ نعمتیں تشریح : آخرت کی فکر رکھتے ہوئے صبر و قناعت اختیار کرنا، اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق جائز اور حلال ذرائع سے مال و دولت حاصل کرنے کی جدوجہد کرنا۔ جس کا بنیادی مقصد اللہ کی رضا و خوشنودی، اپنے بال بچوں کی مناسب دیکھ بھال، غریب، ضرورت مند اور محتاجوں سے ہمدردی اور بھلائی کا جذبہ رکھنا جس میں فخر و غرور،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
صبر اور نیک کام پر قائم رہنے کا ذکر۔ (ف 1) صحبت ، بدن وقت پر غذا کاملنا، ٹھنڈے پانی کاملنا، اس طرح سب چیزوں جن پر آدمی کی زندگی کی مدار ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو لوگ اللہ کی ان نعمتوں کو کام میں لاتے ہیں اور اطاعت الٰہی سے غافل ہیں اور رات دن زیادتی مال اور اولاد حرص وہوس میں ان لوگوں کی زندگی کٹتی ہے اس ساری سورت میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو متنبہ فرمایا ہے کہ آدمی کے پیچھے موت ایسے لگی ہوئی ہے کہ مرتے دم تک بھی آدمی مال اور اولاد کی ہوس میں لگا رہے تو بھی دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے سب چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں جو لوگ ان چھوڑ جانے کی چیزوں میں اس طرح مصروف ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] اصل میں لفظ تکاثر استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں متاع دنیا سے زیادہ حاصل کرنے کی طلب اور اس کے حصول میں لوگوں کا ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة التکاثر عفو کے معنی غفلت ونسیان کے ہیں اور غرض یہ ہے کہ جس چیز نے تم کو بھلا رکھا اور غفلت میں ڈال رکھا ہے ، وہ دنیاوی ٹھاٹھ میں افزائش کا جذبہ ہے ۔ تم لوگ پوری زندگی اس حرص کی تکمیل میں صرف کر ڈالتے ہو کہ کیوں کہ ہزاروں کو لاکھوں اور لاکھوں کو کروڑوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ اور رات دن اسی فکر میں غلطان دپیچاں رہتے ہو کہ کن ذرائع اور کن وسائل سے عزت وجاہ اور نفس کی آسودگیوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے حتیٰ کہ موت آجاتی ہے اور تمہارے ارادے وہیں ختم ہوجاتے ہیں ۔ تمہیں معلوم ہوجائے گا اور قطعی معلوم ہوجائے گا کہ دنیا طلبی کے یہ جذبات اخروی زندگی کے لئے حتماً مضر تھے ۔ تم جہنم کو دیکھو گے اور…
Read the full tafseer →(1) تم لوگوں کو زیادتی کی حرص اور کثرت تعداد پر تفاخر نے غافل کردیا اور تم کو مشغول کردیا۔ آیت کی دو طرح تفسیر کی گئی ہے ایک تو کثرت مال اور دنیوی سامان کی بہتات پر فخر کرنا اور دوسرے کثرت تعداد پر فخر کرنا کہ ہمارے قبیلے کے آدمی زیادہ ہیں اور تمہارے قبیلے کی تعداد کم ہے چاہے مردم شماری کرلو بس اس تکاثر نے تم کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے غصے سے نجات دلانے والی باتوں سے غافل کردیا اور تم کو ان چیزوں نے مسغول کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ف 1۔ یعنی وہ رویت استدلالیہ نہیں جس پر یقین کا ترتب گاہے دیر میں ہوتا ہے بلکہ رویت مشاہدہ جس پر یقین کا ترتب فوری ہے، و نیز مشاہدہ میں اکشاف بھی زیادہ ہے، استدلالیات سے بھی اور ضروریات عقلیہ سے بھی اس کے خود دیکھنے کو نفس یقین فرمایا جو کہ عین الیقین سے مراد ہے باوجودیکہ وہ سب یقین ہے۔
Read the full tafseer →لوگو ! تم کو کثرت مال کی طلب نے غفلت میں ڈال دیا 1 ؎ ( الھکم) اصل مادہ ل ہ و ہے اور اس مادہ کے جتنے لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں ان میں یہ چیزپائی جاتی ہے کہ وہ شخص جو سنجدوگی چھوڑ کر مزاح کی طرف میلان اور جھکائوکر کے اس کے اس فعل کو لھو کہتے ہیں گویا معقول بات سے غفلت میں مبتلا ہونا اور بےکار اور غیرسنجیدہ بات کی طرف پھرجانا ہے۔ ( التکائر) کے معنی ہیں مال جمع کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے باعث تم غفلت میں مبتلا ہوگئے اور سنجیدہ کاموں کو چھوڑ کر غیر سنجیدہ کاموں کی طرف تمہاری رغبت ہوگئی ۔ لوگو ! تم مال جمع کرنے میں اس قدر منہمک ہوگئے کہ قیامت اور آخرت کے معاملہ میں تم غفلت کرنے…
Read the full tafseer →Special Merit of Surah At-Takathur The Messenger of Allah ﷺ is reported to have once asked the noble Companions: Is there anyone from amongst you who has the strength to recite one thousand verses a day?" The blessed Companions replied: "Who can recite a thousand verses a day?" The Holy Prophet ﷺ said: "Can you not recite Surah At-Takathur?" This implies that Surah At-Takathur equals in weight and worth to a thousand verses, thus stressing its great importance. [ Mazhari with reference to Hakim and Baihagi on the authority of Ibn Umar ]. Warning Against Materialistic Attitude Verse [ 1]…
Read the full tafseer →1 The words alhakum at-takathur of the original are too vast in meaning to be fully explained in a passage Alhakmn is from lahv which originally means heedlessness, but in Arabic this word is used for every occupation which engrosses man so completely that he becomes heedless of the more important things in life. When the word alhakum is made from this root, it will mean that man has become so obsessed with some occupation that he has lost sight of everything more important than it. He is pre-occupied with it, is wholly lost in pursuit of it and this obsession has rendered him heedless of…
Read the full tafseer →