3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 3:44

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

یہ غیب کی خبریں ہیں جن کو ہم تم پر وحی کر رہے ہیں ورنہ یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ تم اس وقت ان لوگوں کے پاس موجود نہ تھے جب ہیکل کے مجاور اپنے اپنے قلم پھینک رہے تھے کہ کون مریم کا کفیل ہو اور تم اس وقت موجود نہ تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے

یہ ساری خبریں ایسی ہیں جو آپ کی طرف وحی کی جارہی ہیں : 105: غیب کیا ہے ؟ غیب کا استعمال ہر اس چیز پر ہوتا ہے جو حاسہ سے مخفی ہو یا انسان کے علم میں موجود نہ ہو۔ واقعات گزشتہ بھی اس لحاظ سے غیب ہوجاتے ہیں جب ان کا جاننے والا کوئی موجود نہ ہو۔ ہر وہ چیز جو پوشیدہ ہو نہ تو اس کے متعلق علم ہو اور نہ ہی وہ مشاہدہ میں آرہی ہو غیب ہے۔ پھر جب اس کا علم حاصل ہوجائے اور وہ مشاہدہ میں آجائے تو اب وہ غیب نہ رہی۔ تاریخی واقعات کو قرآن کریم نے اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ کہا ہے۔ کیوں ؟ اس لیے کہ جب ان کا جاننے والا کوئی نہ رہا اور خصوصاً جب اس علاقہ کی بات بھی نہ ہو تو مزید اس کے لیے مشکل ہے کہ وہ جان جائے۔ جب تک کہ ان کو بتانے والا کوئی نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ان باتوں کو نہیں جانتے جن کو ہم تم پر وحی کر رہے ہیں اور اصل بات بھی یہی ہے کہ سیدہ مریم اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق واقعات دنیا میں دوست و دشمن دونوں پر نہایت ہی غلط طور پر رواج پا گئے تھے اور قرآن کریم نے اصل واقعات پر عالم کو مطلع فرما کر واقعی ایک غیب پر سے پردہ اٹھایا ہے اور اس طرح سیدہ مریم اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کی اصل حیثیت کو دنیا میں ظاہر فرمایا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ایسے واقعات کو جو اس جہان کے بسنے والوں نے اس قدرگڈ مڈ کردیے ہوں اور ان کو سینکڑوں سال بھی گزر چکے ہوں تو ان کی اصلیت پر اطلاع پانا کی عام انسان تو کیا کسی خاص انسان کا کام بھی نہیں تھا چہ جائیکہ عرب کا ایک امی ان اصل حالات کو ان واقعات کی جگہ سے بھی سینکڑوں میل دور بیٹھ کر کرتا یہی بات دلیل ہے اس بات کی کہ ایسے واقعات اور وہ بھی ان الفاظ میں بیان کردینا ایک رسول ہی کا کام ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے وحی پاکر بات کرتا ہو۔ اصل انجیل جس میں خالص سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم تھی وہ دنیا سے بالکل ناپید بلکہ نابود ہوچکی تھی اور اس کی جگہ بہت سی اناجیل لے چکی تھیں۔ جن میں سے بعض کو کلیسا نے بغیر کسی دلیل کے الہامی مان لیا اور بعض و وضعی قراردے کر رد کردیا اور مسیح کو خدائی کا مرتبہ دے کر اس کے خون کے کفارہ کو نجات کا موجب قراردیا۔ شریعت کو ایک لعنت قرار دیا اور اعمال کی ضرورت باقی نہ سمجھی۔ یہودیوں نے بوجہ اپنی عداوت کے جو ان کو مسیح کے ساتھ تھی کوئی بھی صحیح حالات حضرت مسیح (علیہ السلام) کے باقی نہ رکھے تھے اور ان پر طرح طرح کے ناپاک الزام لگائے تھے۔ اس طرح اہل کتاب کے دونوں گروہ ایک شخص کے معاملہ میں اس طرح ساری حد بندیاں توڑ کر دور نکل چکے تھے اور کوئی صحیح علم سیدنا مسیح کے متعلق باقی نہ رہا تو اب سوائے اللہ تعالیٰ کی وحی کے ان واقعات کا صحیح علم دنیا پر دوبارہ نہ آسکتا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ غیب ہی کی خبریں تھیں جو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی محمد رسول اللہ ﷺ پر ظاہر فرمائی اور آج دنیا آهستہ آهستہ اس بات کی قبولیت کی طرف چلی آتی ہے جس کا اعلان آج سے چودہ سو سال پہلے ایک امی نے جو ایک ناخواندہ قوم میں سے تھا دنیا میں کیا۔ a سیدہ مریم کی کفالت کا فیصلہ اول یا ثانی ؟ : 106: اے پیغمبر اسلام ! آپ اس وقت ان کے پاس موجود نہیں تھے جب وہ سیدہ مریم کی کفالت پر قلمیں ڈال رہے تھے یا اس وقت کہ جب وہ لوگ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ سیدہ مریم کی کفالت کا فیصلہ ایک تو اس وقت ہوا تھا جب وہ پہلے پہلے ہیکل میں لائی گئیں۔ آیا یہ اسی کفالت کا ذکر ہے یا یہ کوئی دوسری کفالت ہے ؟ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ اسی کفالت کا ذکر ہے جب سیدہ مریم ہیکل میں لائی گئی تھیں جس کے فیصلہ پر سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی کفالت میں دے دیا گیا تھا اور اس جگہ دوبارہ ضمناً اس کا ذکر کردیا ہے۔ لیکن بعض مفسرین کے نزدیک یہ اشارہ کسی ایسی کفالت کی طرف ہے جو سیدہ مریم کے بلوغ کو پہنچ جانے کے بعد وقوع میں آئی۔ صاحب روح المعانی نے اس قول کو مرجوع کہا ہے لیکن بعض مفسرین نے اس کو ترجیح دی ہے۔ کیوں ؟ اس لیے کہا کا کہنا ہے کہ قرآن کریم نے اس واقعہ کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ بیان کیا ہے۔ پہلے سیدہ مریم کی پیدائش کا ذکر کیا پھر اس کی کفالت زکریا (علیہ السلام) کا ذکر کیا اور پھر اس ذکر میں زکریا (علیہ السلام) کی دعا اور یحییٰ (علیہ السلام) کی بشارت کا ذکر ضمناً آگیا۔ اس کے بعد اصل ذکر کی طرف رجوع کیا تو مریم کے اصطفاء و پاکیزگی اور برگزیدگی کا ذکر آیا تو اس کو مزید فرمانبرداری اور نماز کے قائم کرنے کا حکم دیا اور یہ واقعات یقیناً زمانہ بلوغت سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے اس کے بعد پھر ایک گزشتہ واقعہ کی طرف اشارہ کرنا بلاغت قرآن کے خلاف ہے۔ پس یہ آیت یقیناً اس وقت کی طرف اشارہ کرتی ہے جب مریم صدیقہ سن رشد کو پہنچ چکی تھیں اور ان کی تربیت کا زمانہ گویا گزرچکا اور اب ضرورت پیش آئی کہ ان کی کفالت کی ذمہ داری مزید کسی کے سپرد کی جائے کیونکہ اب وہ ہیکل کے حجرہ میں مستقل رہنے کے دن ختم کرچکی ہیں یعنی عورتوں کی بلوغت میں جو خاص اذیت کے دن ہوتے ہیں وہ ہیکل میں نہیں گزار سکتی تھیں۔ پس جہاں جس کفالت کا ذکر ہے وہ کفالت نکاح ہے۔ چونکہ یہود کے ہاں رواج تھا کہ وہ اس طرح کے تمام امور کا فیصلہ قرعہ اندازی پر کیا کرتے تھے اور اس قرعہ کا جو طریقہ بھی ان کے ہاں رواج پاچکا تھا جس کی مختلف اشکال کا تذکرہ مفسرین نے اپنی اپنی تفاسیر میں کیا ہے چناچہ کہا گیا ہے کہ قلم کی جمع اقلام ہے جو اس تیر کا نام ہے جو اس طرح کے کاموں کے لیے انہوں نے بنا رکھا تھا اور قلم تیر کو کہتے ہیں کیونکہ وہ کاٹا جاتا ہے اور قلم کے اصل معنی کاٹنے کے ہیں اور اسی وجہ سے مفسرین نے ” اقلام “ سے مراد ” قداح “ یعنی قرعہ اندازی کے تیر ہی لیے ہیں اور بعض نے وہ قلمیں مراد لی ہیں جن سے کاہن لوگ لکھا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ” سبق القضاء و جفت الاقلام “ یعنی قضاو قدر کا فیصلہ ہوچکا اور قلمیں خشک ہو چکیں جس کا مطلب واضح ہے کہ جو فیصلہ ہونا تھا وہ پہلے ہوچکا اس لیے لوح و قلم سے بغیر کسی تشبیہ کے مراد قضا و قدر ہے۔ اور یہ جو فرمایا گیا کہ آپ ﷺ اس وقت ان کے پاس نہ تھے تو اس میں یا تو یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ مریم کی بریت کی شہادت ایک ایسے شخص کی طرف سے ہے جن کا تعلق کم از کم فریق قمدمہ سے کوئی نہیں ہے۔ اس لیے یہ نہایت ہی سچی بےلوگ شہادت ہے یا اس لحاظ سے کہ وہ واقعات آپ ﷺ کے ذریعہ سے ظاہر کیے جاتے ہیں جن کا علم دنیا میں مفقود ہوچکا تھا تو تم ان کے پاس تو نہ تھے پس یہ علم غیب سوائے اللہ کی ذات کے کون ظاہر کر سکتا تھا ؟ یعنی کوئی بھی ظاہر نہیں کرسکتا اور وہی ہے جو آپ پر وحی کے ذریعے ان خبروں کو پہنچا رہا ہے اور وہی ہے جو آسمان و زمین کی ساری چیزوں کو جانتا ہے۔ “ (64 : 4) اور ” زمین و آسمان میں ایک ذرے کے برابر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ “ (34 : 3) ” جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس میں سے باہر آتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے سب اسی کو معلوم ہے۔ “ (57 : 4) ” غیب کی کنجیاں تو بس اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں اس کے سوا کوئی دوسرا غیب کا علم نہیں رکھتا۔ “ ( 6 : 59) ” زمین و آسمان کے تمام غیب اسی کے پاس ہیں۔ “ (11 : 23 ) ، (16 : 77) ” قیامت کا علم بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں ہے کہ وہ کب آئے گی۔ “ (7 : 187) ، (43 : 85)
Ayah 3:45

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

پھر اس وقت کا ذکر کرو جب فرشتوں نے کہا تھا ، اے مریم ! اللہ تجھے اپنے کلام کے ذریعے ایک لڑکے کی بشارت دیتا ہے اس کا نام مسیح عیسیٰ ہوگا اور مریم کا بیٹا کہلائے گا ، وہ دنیا و آخرت دونوں میں ارجمند ہوگا اور اللہ کے حضور پہنچا ہوا ہو گا

سیدہ مریم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ذریعے لڑکے کی بشارت دی : 107: سیدہ مریم ہیکل کی کفالت اول سے نکل کر کفالت ثانی میں داخل ہوچکی تھیں ابھی زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی ایک جماعت کو اپنے کلام کے ذریعے ایک لڑکے کی بشارت دے کر بھیجا اور ساتھ ہی اس ہونے والے لڑکے کا لقب اور نام بھی تجویز فرمادیا اور اس ہونے والے بچے کی کنیت بھی مقرر فرمادی فرمایا کہ اس ہونے والے لڑکے کا لقب مسیح ، نام عیسیٰ اور کنیت ابن مریم رکھی گئی ہے اور وہ انہی ناموں سے یاد کیا جائے گا۔ سبحان اللہ ! کیا شان ہے اس بچے کی جو سیدہ مریم کے ہاں جنم لینے والا تھا۔ گویا سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) ان مبارک بچوں میں سے ایک تھے جن کے متعلق ان کی پیدائش سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی تھی جیسے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحٰق اور اسماعیل (علیہ السلام) کی خبردی تھی بلکہ اسحٰق (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت ہی ان کے ہاں بچہ پیدا ہونے کی خبر دی اور اس کا نام بھی رکھ دیا گیا کہ اسحٰق (علیہ السلام) کے ہاں جو بچہ پیدا ہوگا اس کا نام یعقوب ہوگا پھر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو بیٹے کی خوشخبری دی اور اس کی زندگی بچانے کی اطلاع دے کر باقاعدہ اس کے لیے ایک پروگرام مرتب کر کے موسیٰ کی والدہ کو سمجھا دیا اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی خبر سیدہ مریم کو دے کر اس کا لقب ، نام اور کنیت بھی رکھ دی۔ قرآن کریم میں اس ہونے والے لڑکے یعنی مسیح (علیہ السلام) کو اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ 1ۖۗ گیا ہے اور ترجمہ یوں کیا جاتا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ تجھے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے “ اس لحاظ سے گویا سیدنا مسیح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا ایک کلمہ کہا گیا ہے۔ پھر عیسائیوں کا اس پر بہت زور ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کو ” کلمہ “ کہه کر قرآن کریم نے ایک ایسی خصوصیت دے دی ہے جو دوسرے نبی کو نہیں دی گئی۔ پھر اس خصوصیت کو بنیاد بنا کر مسیح کو خدا بنایا جاتا ہے۔ کبھی خدا کا بیٹا اور خدا کا ایک تیسرا جزو قراردیاجاتا ہے۔ یہی وہ دلیل ہے جو ہم مسلمانوں کے ہاں مسیح (علیہ السلام) کی شخصیت کو ” بس باب “ ثابت کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہی وہ دلیل ہے جو وفد نجران نے نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کی اور یہی وہ دلیل ہے جو آج بھی عیسائی قرآن کریم سے مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ وفد نجران کا سوال اور نبی کریم ﷺ کا جواب کی تفصیل ” عیون زمزم فی میلاد عیسیٰ ابن مریم “ نامی کتاب میں مل جائے گی اور اسی طرح ہم مسلمانوں کے ہاں مسیح (علیہ السلام) کی ” بن باپ “ پیدائش کے متعلق بھی وہی ذکر کیا گیا ہے وہاں سے ملاحظہ فرمالیں۔ اس جگہ صرف یہ بیان کرنا ہے کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ مسیح (علیہ السلام) ’ ’ كلمة من اللہ “ کہا گیا ہے اور کسی دوسرے نبی کا نام لے کر اس کے ساتھ ” كلمة اللہ “ کا لفظ نہیں بولا گیا تو کیا اس سے مسیح کی خدائی ثابت ہوتی ہے یا بشریت کے دائرہ سے وہ نکل جاتے ہیں۔ اگر یہ دعویٰ ہے تو آخر اس کی دلیل کیا ہے ؟ کوئی دلیل نہیں تو کیونکر صرف اسی خصوصیت سے مسیح (علیہ السلام) دائرہ بشریت سے نکل کر خدا بن جاتے ہیں ؟ جب کہ قرآن کریم صرف اسی خصوصیت سے مسیح (علیہ السلام) دائرہ بشریت سے نکل کر خدا بن جاتے ہیں ؟ جب کہ قرآن کریم میں مسیح (علیہ السلام) کو ” كلمة منہ “ کہا ہے یعنی اپنی طرف سے ایک کلمہ جس سے یہ واضح ہوگیا کہ وہ اکیلا ہی ” کلمہ “ نہیں بلکہ کلموں میں سے ایک کلمہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے کلمات کے متعلق قرآن کریم میں اسی طرح بیان فرمایا : قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیْ (الکہف 18 : 109) ” اے پیغمبر اسلام ! اعلان کردیجیے کہ اگر میرے رب کے کلمات لکھنے کے لیے دنیا کے تمام سمندر سیاہی بن جائیں تو سب سمندروں کا پانی جو سیاہی بن چکا ہے وہ ختم ہوجائے گا مگر میرے رب کے کلمات نہ ختم ہوں گے اگر ان سمندروں کا ساتھ دینے کے لیے ایسے ہی اور سمندر بھی پیدا کردیں جب بھی وہ کفایت نہ کریں۔ “ پھر یہ جو زور دے دے کر کہا جاتا ہے کہ صرف کلمہ ہی نہیں کہا بلکہ ” كلمة منہ “ کہا یعنی ” منہ “ کہه کر اس کلمہ کو اللہ تعالیٰ سے ہونے کا شرف عطا فرمایا گیا ہے۔ ہاں ! تو مسیح (علیہ السلام) کے اس اعزاز سے کس کو انکار ہو سکتا ہے ؟ لیکن اس سے یہ بات جو بیان کی گئی ہے کہ اس سے ” اللہ سے ہونا “ قرار پاتا ہے یہ کہاں تک صحیح ہے قرآن کریم ہی سے پوچھ لیتے ہیں تاکہ قرآن کریم کے الفاظ کے لیے کم از کم باہر کی مدد کی ضرورت رہے اور جو مطلب اس جگہ بھی لے لیاجائے۔ چناچہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے : وَسَخَّرَلَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِنْهُ (الجاثیہ 45 : 13) ” اور جو کچھ آسمانوں و زمین میں ہے وہ سارے کا سارا تمہارے لیے اس نے مسخر کردیا ہے اپنی طرف سے۔ اگر ” كَلِمَةً مِّنْهُ “ کا اللہ سے ہونا نکلتا ہے تو اس آیت سے یعنی الجاثیہ کی آیت 13 سے ” جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب کا سب اس سے ہونا “ ثابت ہوگا۔ حالانکہ حقیقت صرف یہ ہے کہ جس طرح آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ان سب کا خالق اللہ ہے اس سے ثابت ہوتا ہے بالکل اسی طرح یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے سیدنا مسیح (علیہ السلام) بھی اسی طرح اللہ کی مخلوق اور بندہ ہیں جس طرح دنیا کی ہرچیز اللہ ہی کی مخلوق ہے۔ اور جس طرح دوسرے انسان اللہ نے پیدا کیے ہیں اسی طرح سیدنا مسیح (علیہ السلام) کو بھی اللہ نے پیدا کیا ہے۔ ہاں ! جس طرح دوسرے بہت سے انسانوں کو اللہ نے نبی و رسول بنایا تھا اسی طرح مسیح (علیہ السلام) کو بھی نبی و رسول بنایا تھا۔ مسیح (علیہ السلام) کے متعلق بشارت تھی کہ وہ اللہ کے برگزیدہ نبی ہوں گے : 108: مسیح (علیہ السلام) کے اس لقب ” مسیح “ میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ وہ اپنا نبوت کا ہاتھ پھیر کر لوگوں کی بدرسومات کا خاتمہ کریں گے اور نام ” عیسیٰ “ سے بھی اسم بامسمّیٰ ہوں گے کہ بہت سے علاقہ میں سیرو سیاحت کرتے اور نبوت کا پیغام پہنچاتے جائیں گے اور یہ دونوں باتیں بھی تورات و انجیل سے ثابت ہوتی ہیں اور خود قرآن کریم میں بھی اس کی تصریحات پائی جاتی ہیں۔ وجیہ کے معنی ہیں ” نو وجاھة “ یعنی عزت و مرتبہ والا اور بلند مقام و وجاہت والا ہوگا۔ جو کبھی ذلیل و رسوا نہیں ہوگا۔ جدھر جائے گا ضرور عزت و تکریم پائے گا۔ اس جگہ ان کے ذکر کی اس لیے ضرورت پیش آئی کہ یہودو نصاریٰ نے سیدنا مسیح (علیہ السلام) کی زندگی بہت خراب طریقوں سے گزرتی ہوئی بتائی تھی قرآن کریم نے ان کا رد فرمایا دیا کہ یہ سب تمہاری اپنی اختراع ہے وہ تو پیدا ہونے سے بھی پہلے عزت و وجاہت والا بتایا گیا تھا اور اس دنیا میں بھی اس نے ایک بلند مقام حاصل کیا۔ ہاں ! اس کی مخالفت ضرور ہوئی لیکن ان ساری مخالفتوں کے باوجود اس نے ایک بہت بلند مقام پایا۔ یہ بات دنیا جانتی ہے کہ کی انسان کی جتنی زیادہ مخالفیں ہوں گی اس کا کردار اتنا ہی نکھر تا چلا جائے گا۔ جس طرح سونا بھٹی میں ڈالنے سے مزید کھرا ہوجاتا ہے اور اس کے اندر جو میل کچیل ہوتی ہے وہ ساری کی ساری جل کر راکھ ہوجاتی ہے۔ سچے انسان کی مخالفتیں اس کی سچائی میں مزید نکھار پیدا کردیتی ہیں۔ انبیاء کرام تو مجسمہ سچائی ہوتے تھے یہی وجہ تھی کہ ان کی مخالفت کرنے والے بھسم ہوگئے لیکن انبیاء کرام کی سچائی کی داستانیں ہمیشہ زندہ و تابندہ رہیں اور اب بھی ہیں اور رہتی دنیا تک رہیں گی۔ یہ تو دنیا کا حال تھا کہ ان کی سچائی کا نور چمکتا رہا۔ چمکتا ہے اور چمکتا رہے گا اور رہا آخرت کا معاملہ سو اس کے متعلق بھی ارشاد فرما دیا کہ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ۠ اور آخرت میں بھی یقیناً وہ مقربوں میں سے ہوں گے۔ اور انبیائے کرام تو سارے ہی مقرب ہوتے ہیں لیکن امت محمدیہ کے ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ نے اس فضیلت سے نوازا ہے۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے : وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ0010 اُولٰٓىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ0011 (الواقعہ ) اور ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا : ” عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا الْمُقَرَّبُوْنَ “ (التطفیف ) نبی اعظم و آخر سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر پہلے پہلے ایمان لانے والے سارے کے سارے لوگ مقرب الٰہی ہیں۔ قرآن کریم نے یہ اعزاز ان لوگوں کو بھی نوازش کردیا جو بعثت نبوی ﷺ کا سنتے ہی ایمان لے آئے اور یہ بشارت تھی جو ان نیک نفوس کو دنیا ہی میں سنا دی گئی۔ پھر آخروی وجاہت کے ساتھ جو دنیوی وجاہت بھی عطا فرمائی جانے کا وعدہ فرمایا تھا جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے وہ بھی حرف بھی حرف پورا ہوا کیونکہ دنیوی وجاہت میں خاندان کی عزت و ناموس کا بھی بہت بڑا دخل ہے۔ پھر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت سے کون واقف نہیں ؟ یہودو نصاری ! اور مشرکین مکہ سب ہی آپ کی دنیوی عزت و وجاہت کے قائل ہیں اور اس طرح سیدنا دائود (علیہ السلام) کی عزت و ناموس کون نہیں جانتا ؟ یہودونصاریٰ دونوں ہی گروہ زبور کے ثنا خوان ہیں اور داؤد (علیہ السلام) کی نبوت کو بھی مانتے اور تسلیم کرتے ہیں اور سیدنا مسیح (علیہ السلام) کا حسب نسب بھی داؤد (علیہ السلام) کے واسطے سے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سے مل جاتا ہے چناچہ اناجیل میں ہے کہ ” یسوع مسیح ابن داؤد ابن ابراہیم “ اور اس طرح لوقا اور متی کے نسب ناموں میں اس کی وضاحت موجود ہے اور مسلمانوں کے ہاں بھی سیدنا مسیح (علیہ السلام) ذریت ابراہیم میں شمار کیے گئے ہیں۔ چناچہ قرآن کریم کی آیت ہے۔ ” اور ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے دائود ، سلمان ، ایوب ، یوسف ، موسیٰ ، ہارون کو بھی ہم اسی طرح نیک کرداروں کو بدلہ دیتے ہیں اور زکریا ، یحییٰ ، عیسیٰ اور الیاس کو بھی کہ یہ سب ہی نیک انسان تھے۔ “ (الانعام 6 : 84) اس طرح قرآن کریم کی زبان میں سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) ” ذریة طیبة “ اور ” غلام زکیا “ کے الفاظ سے یاد کیے گئے ہیں ان الفاظ سے بھی آپ کی دنیوی وجاہت اور خاندانی عزت و تکریم ہی کی طرف اشارات ہیں کیونکہ دنیوی حالات کے مطابق بھی جس شخص کے ماں باپ بلکہ باپ دادا اوپر تک عزت و شرف کے مالک ہوں ان کی پہچان بہت آسان ہوتی ہے اور اس طرح ہر کس و ناکس ان کی عزت و تکریم پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اور اسی وجہ سے سارے انبیاء کرام اپنے اپنے وقت میں حسب و نسب کے لحاظ سے مشہور و معروف اور جانے پہچانے انسان ہوتے تھے۔ بلکہ یہ بات بھی تسلیم شدہ ہے کہ نبی کی اصل و نسل میں کفرو شرک تو ہو سکتے ہیں جن کی امثال موجود ہیں لیکن حسب و نسب میں دنیوی عزت و شرف اور جان پہچان اچھی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی۔ قرآن کریم میں جن انبیاء کرام کا تذکرہ موجود ہے تقریباً سب ہی میں یہ پہلو نظر آتا ہے کیونکہ ان کے حسب و نسب میں کسی مخالف سے مخالف آدمی نے بھی انگشت زنی نہیں کی۔ اگر کسی بد طینت نے کہیں زبان کھولی بھی ہے تو الٰہی قانون نے اس کی زبان کو فوراً کھینچ لیا ہے اور ایسا جواب دیا کہ وہ انگشت بدنداں رہ گیا ہے۔ بشارت عیسیٰ (علیہ السلام) ہی میں ان کی عمر کی بھی رجسٹری کردی گئی: 109: سیدہ مریم (علیہ السلام) کو جس بچہ کی بشارت دی جارہی ہے اس کے لقب ، نام اور کنیت کے ساتھ اس کی صفت کو ملا دیا گیا اور اس کی عمر کی بھی قانون الٰہی نے رجسٹری کردی تاکہ مریم (علیہ السلام) اپنے ہونے والے بچے کے ساے پہلوؤں سے واقف ہوجائیں۔ اور جہاں جہاں جیسے جیسے خطرات ہوں ان کا دفاع بھی ساتھ ساتھ ہوتا رہے تاکہ انسانی سعی و کوشش کے قانون الٰہی کی پابندی بھی ساتھ ساتھ کی جاسکے۔ فرمایا تیرا موعود بیٹا اپنے بچپنے ہی میں نبوت کے کلام سے سرفراز کردیا جائے گا اس کو چالیس سال تک کی مدت کا انتظار نہیں کرنا ہوگا اور پھر یہ بھی کہ اس کے بچپنے اور ادھیڑ عمر کی باتوں میں کوئی تناقض نہیں ہوگا کیونکہ اس کی زبان ایک عام انسان کی زبان نہیں ہوگی بلکہ ہوش سنبھالتے ہی وہ لسان الٰہی کا ترجمان نظر آئے گا اور دنیا گواہ ہے کہ بالکل ایسا ہی ہوا۔ ” اس کے ماں باپ ہر برس عید فسخ پر یروشلم کو جایا کرتے تھے اور جب وہ بارہ برس کا ہوا تو وہ عید کے دستور کے مطابق یروشلم کو گئے۔ جب وہ ان دونوں کو پورا کر کے لوٹے تو وہ لڑکا یسوع یروشلم میں رہ گیا اور اس کے ماں باپ کو خبر نہ ہوئی۔ مگر وہ یہ سمجھ کر کہ وہ قافلہ میں ہے ایک منزل نکل گئے۔ اور اس کو اپنے رشتہ داروں اور جان پہچان والوں میں ڈھونڈنے لگے۔ جب نہ ملا تو اسے ڈھونڈتے ہوئے یروشلم تک واپس آگئے اور تین روز کے بعد ایسا ہوا کہ انہوں نے اسے ہیکل میں استادوں کے بیچ میں بیٹھے ان کی سنتے اور ان سے سوال کرتے ہوئے پایا۔ اور جتنے اس کی سن رہے تھے اس کی سجھ اور اس کے جوابوں سے دنگ تھے۔ وہ اسے دیکھ کر حیران ہوئے اور اس کی ماں نے اس سے کہا بیٹا ! تو نے کیوں ہم سے ایسا کیا ؟ دیکھ تیرا باپ اور میں کڑھتے ہوئے تجھے ڈھونڈتے تھے۔ اس نے ان سے کہا تم مجھے کیوں ڈھونڈتے تھے ؟ کیا تم کو معلوم نہ تھا کہ مجھے اپنے باپ کے ہاں ہونا ضروری ہے ؟ مگر جو بات اس نے کہی اسے وہ نہ سمجھے۔ اور وہ ان کے ساتھ روانہ ہو کر ناصرہ آیا اور ان کے تابع رہا اور اس کی ماں نے یہ سب باتیں اپنے دل میں رکھیں۔ “ (لوقا باب 2 درس 50 ۔ 40) یہ صرف ایک حوالہ ہے جو انجیل ہی سے لیا گیا ہے۔ غور سے پڑھو اور ساتھ یہ قرآن کریم کی وہ پیش گوئی بھی دیکھو جو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد ﷺ پر نازل فرمائی ہے کہ ” اے مریم تیرا یہ بیٹا بچپنے اور ادھیڑ عمر میں یکساں طور پر نبوت کا کلام کرے گا۔ “ کس طرح صحیح ثابت ہو رہی ہے اور ان دونوں کاموں میں چھ سات سو سالوں کا وقفہ پایا گیا ہے۔
Ayah 3:46

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

اور بچپنے اور ادھیڑ عمر میں یکساں طور پر نبوت کا کلام کرے گا اور اس کے بندوں میں ایک صالح انسان ہو گا

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ کَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ 0046 یہ الفاظ تو اس بشارت کے ہیں جو سیدہ مریم کو دی گئی تھی اور جو حرف بہ حرف پوری بھی ہوئی اس جگہ صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ جو عام طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ ” وہ لوگوں سے باتیں کریں گے گہوارہ میں بھی اور پختہ عمر میں بھی “ پھر گہوارہ سے مراد ” جھولا “ اور عمر کے لحاظ سے ایک دو دن یا زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاتا ہے کہ وہ شیر خوارگی میں باتیں کریں گے۔ حالانکہ صاف صاف مطلب اس کا یہی نکلتا ہے کہ وہ اس زمانہ میں جس زمانہ میں عام بچے کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں وہ اس مدت عمر میں کھیل کود میں بھی نہیں مصروف ہوں گے بلکہ بڑی عمر کے لوگوں کی طرح پختہ اور وزنی باتیں کریں گے ایسی پختہ اور وزنی باتیں جو سارے لوگ بڑی عمر میں بھی پہنچ کر نہیں کرسکتے بلکہ یوں کہوں کہ ان کے یہ بچپنے کی عمر اور پختہ عمر دونوں میں فرق نظر نہیں آئے گا اور ایسا ہی ہوا۔ ویسے سارے بچے عموماً جھولے ہی میں باتیں کرنا سیکھتے ہیں۔ کیونکہ دو تین سال کی عمر تک جھولے میں ہی ان کو عموماً رکھاجاتا ہے لیکن سیدنا مسیح (علیہ السلام) کے متعلق جو یہ الفاظ بیان ہوئے ہیں تو ان سے مراد اکثر یہ لی جاتی ہے کہ آپ کا بچپن میں باتیں کرنا معزہ تھا۔ انبیاء کرام کے معجزات کا انکار کوئی مسلمان نہیں کرسکتا کیونکہ معجزہ اور نبوت تو لازم و ملزوم ہیں کیونکہ نبوت آخر تھی هی کیا چیز ؟ جواب بالکل واضح ہے کہ معجزہ۔ کیونکہ انبیائے کرام کی زبانوں سے ان باتوں کا اظہا اور اعلان جو بعد میں ہونے والی تھیں اور پھر ان باتوں کا بالکل اس طرح ہونا جس طرح انبیاء کرام نے ان کے ہونے کا اعلان کیا سب معجزات سے بڑا معجزہ ہے۔ مسیح (علیہ السلام) کا یہ کلام بھی تب ہی معجزہ ہوا جب آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت کے کام کے لے چن لیے گئے۔ اگرچہ یہ زمانہ عام بچوں کی عمر کے لحاظ سے ابھی کھیل کود کا زمانہ تھا۔ اور اب تو مہد اولیٰ اور مہد ثانی کے الفاظ بھی عام ہیں جو ہر کس وناکس کی زبان پر جاری ہیں پھر اس ضد کا فائدہ ؟ قرآن کریم نے وہ کلام بھی جو آپ کے بچپنے میں کیا مختلف مقامات پر درج کیا ہے۔ وہ خود اس بات پر دلیل ہے کہ جب یہ کلام آپ نے کیا اس وقت آپ نبوت کے پیغام سے سرفراز فرمادیے گئے تھے۔ جو کلام آپ نے کیا اس کی تفصیل تو اپنے مقام پر آئے لیکن اس قدر بتا دینا ضروری ہے کہ وہ کلام کیا تھا ؟ وہ یہ تھا کہ ” میں اللہ کا بندہ ہوں۔ مجھے کتاب دی گئی ہے۔ مجھے نبی بنایا گیا ہے۔ اور مجھے بابرکت بنایا گیا ہے جہاں کہیں بھی میں جاؤں۔ مجھے نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ زکوٰة ادا کروں۔ والدہ ماجدہ سے نیکی کا بھی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں نیکی کرتا رہوں۔ “ (مریم 19 : 30۔ 31) اللہ کے نیک بندوں میں سے ایک بندہ ہونے کی بشارت : 110: قرآن کریم نے سیدنا مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش سے بھی پہلے آپ کی شخصیت کے ہر پہلو کو اجاگر کردیا تاکہ مسیح (علیہ السلام) کی انسانیت کا کوئی پہلو بھی اندھیرے میں نہ رہے کیوں ؟ اس لیے کہ علم الٰہی میں موجود تھا کہ لوگ ان کی ذات میں کس کس طرف سے غلو کرنے والے ہیں۔ یہود ان میں کیا تفریط کریں گے اور عیسائی ان کے متعلق کس افراط میں مبتلا ہوں گے اور دوسری قومیں ان کو کیا کیا کہیں گی۔ اس لیے ان کی زندگی کے ہر پہلو کو پوری طرح وضاحت سے بیان کردیا گیا۔ اس آیت میں سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ایک ” پاکباز انسان “ ہونے کا فرمایا جارہا ہے اور یہ تو ان کی پیدائش سے بھی پہلے اعلان کیا تھا جب وہ دنیا میں تشریف لائے تو ان کی زبان سے بھی بالکل اسی طرح کا اعلان کرایا ” قَالَ اِنِّىْ عَبُدُ اللّٰهِ “ عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میں تو اللہ کا بندہ ہوں “ ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” مسیح (علیہ السلام) کور گز اس بات میں عار نہیں کہ وہ خدا کا بندہ سمجھا جائے اور نہ ہی خدا کے مقرب فرشتوں کو اس بات سے ننگ و عار ہے جو کوئی خدا کی بندگی میں ننگ و عار سمجھے اور گھمنڈ کرے تو وہ گھمنڈ کر کے آخر جائے گا کہاں ؟ وہ وقت دور نہیں کہ خدا سب کو اپنے حضور جمع کرے گا۔ “ (النساء 4 : 172) یہودیوں کی باتوں کو فی الحال چھوڑ دو کہ انہوں نے مسیح (علیہ السلام) کی نبوت کو تسلیم ہی نہ کیا لیکن جب لوگوں نے مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول مانا اور نصاریٰ کہلائے انہوں نے جو مسیح (علیہ السلام) کے متعلق عقائد و نظریات گھڑے ان میں سے صرف ایک عقیدہ یا نظریہ کا اس جگہ جائزہ لو تم کو معلوم ہوجائے گا جب کوئی قوم کسی نظریہ کو اپنا لیتی ہے تو وہ کس طرح اس پر پختگی سے قائم ہوجاتی ہے اور پھر اس کو چاہیے جتنے دلائل پیش کرو وہ کبھی ان دلائل کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتی۔ عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت کے متعلق ایک عقیدہ تراش لیا کہ وہ انسان یعنی بشر نہیں بلکہ بشر سے ماورا کوئی چیز ہیں۔ پھر وہ چیز کیا ہیں ؟ کچھ نے کہا کہ وہ اللہ ہیں۔ کچھ نے کہا کہ وہ تین اقنوم میں سے ایک اقنوم ہیں اور یہ تین اقنوم مل کر یعنی اتحاد ثلاثہ کا نام اللہ ہے اور کچھ نے کہا نہیں وہ اللہ کا بیٹا ہیں۔ بنی اسرائیل کا وہ گروہ جس نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” اللہ “ مانا تھا ان کی تردید قرآن کریم نے ان الفاظ میں کی۔ ارشاد الٰہی ہوا : لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰهَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ (المائدہ 5:72 ۔ 71) ” یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا اللہ مریم کا بیٹا مسیح (علیہ السلام) ہے۔ “ پھر سورة مائدہ کی آیت سترہ کے اس نظریہ کفر کا ان کو اس طرح جواب دیا کہ : قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنْ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّھْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا . (المائدہ 5 : 17) ” اے پیغمبر اسلام ! تم ان لوگوں سے کہو یہ کیسی بےعقلی کی بات ہے جو تم کہتے ہو ؟ اگر اللہ مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں ہی نہیں بلکہ روئے زمین پر جتنے انسان بستے ہیں سب کو ہلاک کردیناچا ہے تو کون ہے جو اس کو روک سکتا ہے ؟ “ اور سورة مائدہ کی آیت 72 کے اس نظریہ کفر کا ان کو مسیح (علیہ السلام) کی زبان میں اس طرح جواب دیا کہ : وَقَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَرَبَّكُمْ 1ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ 1ؕ وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ. (المائدہ 5 : 72) ” اور مسیح نے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل ! اللہ کی بندگی کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے ! بلاشبہ جس کسی نے اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرایا تو اس پر اللہ نے جنت حرام کردی۔ اس کا ٹھکانہ آتش دوزخ ہوا اور ظلم کرنے والوں کے لیے کوئی نہیں جو مددگار ہوگا۔ “ بنی اسرائیل کا وہ گروہ جس نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” اتحاد ثلاثہ “ میں سے ایک اقنوم مانا تھا ان کی تردید قرآن کریم نے ان الفاظ میں فرمائی: لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ (المائدہ 5 : 73) ” یقیناً وہ لوگ کافر ہوئے جنہوں نے کہا ” اللہ تین میں کا ایک ہے “ یعنی باپ ، بیٹا اور روح القدس “ ایک اللہ دوسرا مسیح اور تیسرا جبرئیل۔ پھر ساتھ ہی ان کو اس طرح جواب بھی دے دیا۔ وَمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ 1ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ. (المائدہ 5 : 73) ” حالانکہ کوئی معبود نہیں مگر وہی معبود یگانہ ! اور دیکھو جو کچھ یہ کہتے ہیں اگر اس سے باز نہ آئے تو ان میں سے جن لوگوں نے انکار حق کیا ہے انہیں عذاب درد ناک پیش آئے گا۔ “ اور ایک جگہ اسی طرح ارشاد فرمایا : وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ 1ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ 1ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ 1ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ. (النساء 4 : 171 ) ” اور یہ بات نہ کہو کہ اللہ وہ تین ہے۔ دیکھو ، ایسی بات کہنے سے باز آجاؤ کہ تمہارے لیے بہتری ہو۔ حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ ہی اکیلا معبود ہے۔ وہ اس سے بھی پاک ہے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو۔ “ بنی اسرائیل کا وہ گروہ جس نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” ابن اللہ “ مانا تھا ان کی تردید اللہ نے قرآن کریم میں فرما دی۔ وَقَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ ا۟بْنُ اللّٰهِ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ 1ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاہِهِمْ 1ۚ یُضَاہِـُٔوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ 1ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ (التوبہ 9 : 30) ” عیسائیوں نے کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ ان کی باتیں ہیں محض ان کی زبان سے نکالی ہوئی۔ ان لوگوں نے بھی انہی کی سی بات کہی جو ان سے پہلے کفر کی راہ اختیار کرچکے ہیں ان پر اللہ کی لعنت ! یہ کدھر بھٹکے جا رہے ہیں۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا : وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا 1ۙ سُبْحٰنَهٗ 1ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 1ؕ کُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ (البقرہ 2 : 116) ” اور عیسائیوں کو دیکھو انہوں نے کہا اللہ نے مسیح کو اپنا بیٹا بنایا۔ حالانکہ ذات الٰه اس سے پاک ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب اس کا ہے اور سب ہی اس کے فرمان کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔ “ ان کے رد میں ایک جگہ اس طرح ارشاد فرمایا کہ : بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنّٰى یَكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ (الانعام 6 : 101) ” وہ آسمان و زمین کا موجد ہے بغیر میٹریل کے پیدا کرنے والا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو ؟ جب کہ کوئی اسکی بیوی نہیں ہے۔ “ غور کرو بنی اسرائیل کے ان تین گروہوں کے اس عقیدہ کفریہ کا اللہ تعالیٰ نے کتنے واضح اور صاف الفاظ میں رد کیا ان کے اس باطل عقیدہ پر ان سے دلیل طلب کی لیکن ان تینوں ہی نے اپنے عقیدہ کو مزید پختہ کرنے کے لیے نئے نئے طریقے اختیار کیے تاہم وہ کوئی دلیل پیش نہ کرسکے اور نہ ہی اپنے اس عقیدہ کفریہ سے توبہ کی۔ عیسائیوں کی ان جماعتوں میں کیا کوئی علم رکھنے والا نہیں ؟ ان میں کوئی ایک بھی سمجھ دار انسان نہیں ؟ انہوں نے زمین و آسمان اور اس کی فضا میں کیا ہل چل مچا دی کیا کبھی انہوں نے اپنے ان عقائد پر نظر ثانی کرنے کی کوشش کی ؟ آخر کیوں ؟ اس لیے کہ جب کوئی قوم کسی نظریہ و عقیدہ کو مان لیتی ہے وہ خواہ کتنا ہی لچر اور بیہودہ کیوں نہ ہو اس کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتی اور اس جماعت کے علماء کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی اپنی قوم کے نظریات کی ترجمانی کرتے رہیں اور ان نامعقول نظریات کو معقول بناتے رہیں جس طرح عیسائی پادریوں نے تین کو ایک اور ایک کو تین بنایا۔