3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 3:50

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

توراۃ کی جو میرے سامنے موجود ہے تصدیق کروں اور بعض چیزیں جو تم پر حرام ہوگئی ہیں انہیں تمہارے لیے حلال کر دوں اور میں تمہارے رب کی طرف سے نشانی یعنی پیغام نبوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں دیکھو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت و فرمانبرداری کرو

عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہود کی حلت و حرمت میں دخل اندازی کی نشاندہی فرما دی : 118: نبوت کے اجراء سے لے کر ختم نبوت تک جتنے انبیاء کرام اس دنیا میں تشریف لائے وہ کسی قوم کی طرف اور کسی علاقہ میں بھی مبعوث ہوئے چونکہ ان سب کا مخرج انبعاث ایک تھا لہٰذا ان کے اصول تعلیم ایک ہی طرح کے تھے اور ہر آنے والا اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والا تھا۔ ہر نبی نے اس بات کی نشاندہی فرمائی کہ یہ تعلیم نبی کی ہے اور یہ یہ باتیں تم نے یعنی اس کی قوم نے اپنی طرف سے داخل تعلیم کردی ہیں جن کا نبوت کی دلائی ہوئی تعلیم کے ساتھ قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی اصول کے مطابق سیدناعیسیٰ (علیہ السلام) بھی یہود سے یہی کہه رہے ہیں کہ میں شریعت موسوی کو مٹانے کے لیے نہیں اس کی تجدید و تصدیق کے لیے آیا ہٟں اور اس قسم کی تصریحات مروجہ انجیل میں موجود ہیں مثلاً : ” یہ نہ سمجھو کہ میں توریث یا نبیوں کی کتاب کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔ “ (متی 17:5) ” آسمان و زمین کا ٹل جانا شریعت کے ایک نقطہ کے مٹ جانے سے آسان ہے۔ “ (لوقا 17:16) ہاں ! علمائے یہود نے فقہی موشگافیوں سے بعض حلال چیزیں حرام کرلی ہیں اور حرام چیزیں حلال کرلی ہیں اور ان کی نشاندہی کر کے قانون الٰہی میں جو حلال ہیں ان کو حلال اور جو حرام ہیں ان کو حرام بیان کرتا ہوں اس سے شریعت موسوی کی تصدیق ہوتی ہے تکذیب نہیں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) قوم یہود کو اس طرح مخاطب کرتے ہیں مثلاً : ” اے محنت اٹھانے والو ! اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو ! سب میرے پاس آؤ میں تمہیں آرام دوں گا۔ میرا جوا اپنے اوپر اٹھا لو اور مجھ سے سیکھ لو کیونکہ میں حلیم ہوں اور دل کا فروتن تو تمہاری جانیں آرام پائیں گی کیونکہ میرا جوا نرم ہے اور میرا بوجھ ہلکا۔ “ (متی 30 , 28:12) یعنی تمہاے صبروں اور ربیوں نے اپنی طرف سے جو احکام توریت میں خلط ملط کردیے ہیں اس سارے بوجھ کو تم سے دور کرنے آیا ہوں۔ متقی وہی ہے جو رسول کی اطاعت کرے : 119: ” میں تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر تمہارے پاس آیا ہوں۔ “ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کردہ بہت سے نشانات کے بعد دوبارہ ارشاد فرمانا کہ میں تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں کا مطلب کیا ہوا ؟ یہی کے سارے نشانات میں سے بڑی نشانی تو خود منصب نبوت و رسالت ہے۔ جس سے بڑھ کر کوئی بڑی نشانی نہیں ہو سکتی۔ انبیاء کرام کو جو ” آیات بینات “ دیے گئے ان کا ماحصل کیا تھا ؟ یہی کہ تم میرے نبی و رسول کی نبوت و رسالت کو قبول کرلو۔ اب بتایا جارہا ہے کہ خدا کی طرف سے رسول اس لیے نہیں آتا کہ بس اس کی رسالت پر ایمان لے آؤ اور بار بار منہ سے کہتے رہو کہ ہم تو ایمان لے آئے نبوت و رسالت کو ہم نے مان لیا۔ رسول کی رسالت پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ جب تم ایمان لے آئے تو با اطاعت و فرمانبرداری بھی صرف اور صرف اسی کی کرنا ہے۔ اور اسی چیز کا نام رسول کی رسالت پر ایمان لانا ہے یہ نہیں کہ زبان سے اس کی رسالت پر ایمان لے آؤ اور پھر اطاعت جس کی چاہو کرتے رہو۔ فقہی مسالک اختیار کرنے والوں کو گوش ہوش سے سن لینا چاہیے کہ رسول کے آنے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ زندگی کا جو قانون وہ لے کر آیا ہے تمام قوانین کو چھوڑ کر صرف اسی کی پیروی کی جائے اور خدا کی طرف سے جو احکام وہ دیتا ہے تمام احکام کو چھوڑ کر صرف انہی پر عمل کیا جائے۔ اگر کسی نے یہی نہ کیا تو پھر اس کا محض رسول کو رسول مان لینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس کی مزید تشریح سورة الشعراء میں ملے گی جہاں پر رسول کی مختصر تعلیم کے بعد یہ جملہ بار بار دھرایا گیا ہے۔ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوْنِ “ ۔ مختصر یہ کہ نبی و رسول کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے جیسا کہ قرآن کریم میں بھی بیان ہوا کہ : مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ 1ۚ (النساء 4 : 80) ” جس شخص نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی “ اس لیے کہ اللہ کی اطاعت ممکن ہی نہیں جب تک کہ رسول کی اطاعت نہ کی جائے کیونکہ رسول ہی وہ ذات ہے جو یہ بتاتا ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے خواہ وہ حکم نفی ہو یا اثبات ہو انسان ہر معاملہ میں یہ فیصلہ نہیں کرسکتا اور کامیابی کا انحصار بھی اس بات پر ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی جائے۔ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا (الاحزاب 33 : 71) ” اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی۔ “ اور یہی بات اس آیت میں سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمائی۔
Ayah 3:51

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ میرا اور تمہارا سب کا رب ہے پس اس کی بندگی کرو ، یہی دین کا سیدھا راستہ ہے

عیسیٰ (علیہ السلام) کا اعلان کہ ربوبیت صرف اللہ ہی کو سزا وار ہے : 120: سیدنا مسیح (علیہ السلام) کی زبان رسالت سے اس کا اعلان کرایا جارہا ہے کہ ” میری قوم کے لوگو ! اللہ میرا اور تمہارا سب کا رب ہے۔ پس اس کی بندگی کرو یہی دین کا سیدھا راستہ ہے۔ “ جب سے نظام کائنات مشیت ایزدی نے ترتیب دیا اس وقت سے لے کر محمد رسول اللہ ﷺ تک جتنے انبیاء کرام آئے سب کی دعوت یہی تھی کہ ” اللہ کی ذات کے سوا کوئی الٰه اور معبود نہیں وہی ساری کائنات کا رب بھی ہے۔ “ لیکن تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قوموں اور امتوں نے ہمیشہ انہیں لوگوں کو جو یہ صدا بلند کرنے والے تھے الٰه اور معبود بنایا اور رب بنا کر ان کی پوجا و پرستش کرنی شروع کردی۔ قرآن کریم سے یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) دونوں بھائیوں کو رسول بنا کر جب فرعون کی طرف بھیجا تو ان سے کہا کہ تم دونوں بھائی جاؤ اور کہو کہ ہم دونوں تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے ہیں۔ انہوں نے الٰہی پیغام جب فرعون تک پہچا دیا تو فرعون بڑا متعجب ہوا اور کہنے لگا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تم دونوں کا رب کون ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی بزبان رسالت جواب دیا اور فرمایا ” ہمارا رب وہ ہے جس نے ہرچیز کو اس کی ساخت بخشی اور پھر اس کو راستہ بھی بتا دیا۔ “ فرعون کے اس سوال کا منشا کیا تھا ؟ یہی کہ تم دونوں کسے رب بنا بیٹھے ہو۔ مصر اور اہل مصر کا رب تو میں ہوں۔ اس نے ایسا کیوں کہا ؟ اس لیے کہ وہ اہل مصر سے انی ربوبیت کو منوا چکا تھا۔ اور وہ استفسار ان سے اس سے پہلے بھی دریافت کرچکا تھا کہ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى اے اہل مصر کیا تمہارا رب اعلیٰ میں ہوں ؟ ( سورة ناعات) اور ایک جگہ اس کی زبان سے قرآن کریم نے یہ جملہ بھی درج کیا ہے کہ : یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ ہٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ 1ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ0051 (الزخرف) اے قوم ! کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہه رہی ہیں ؟ خیال رہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فرعون اپنی قوم کا واحد معبود تھا اور وہاں اس کے سوا کسی کی پرستش نہ ہوتی تھی یہ بات پیچھے گزر چکی ہے کہ فرعون خود سورج دیوتا کے اوتار کی حیثیت سے بادشاہی کا استحقاق جتاتا تھا اور یہ بات بھی مصر کی تاریخ سے ثابت ہے کہ اس قوم کے مذہب میں بہت سے دیوتاؤں اور دیویوں کی عبادت ہوتی تھی اس لیے فرعون کا دعویٰ ” واحد مرکز پرستش “ ہونے کا نہ تھا بلکہ وہ عملاً مصر کی اور نظریے کے اعتبار سے دراصل پوری نوع انسانی کی سیاسی ربوبیت و خداوندی کا مدعی تھا اور یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھا کہ اس کے اوپر کوئی دوسری ہستی فرمانروا ہو جس کا نمائندہ آکر اسے ایک حکم دے اور اس حکم کی اطاعت کا مطالبہ اس سے کرے۔ بعض لوگوں کو اس کی لن ترانیوں سے یہ غلط فہمی ہوئی تھی کہ وہ اللہ کی ہستی کا منکر تھا اور خود خدا ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا مگر یہ بات قرآن کریم سے ثابت ہے کہ وہ عالم بالا پر کسی اور کی حکمرانی مانتا تھا۔ اس کی تصدیق مطلوب ہو تو سورة المؤمن آیت 28 تا 34 اور سورة زخرف آیت 53 ملاحظہ کریں۔ یہ آیات اس بات کی شہادت دے رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی ہستی سے اس کو انکار نہ تھا البتہ جس چیز کو وہ ماننے کے لیے تیارنہ تھا وہ یہ تھی کہ اس کی سیاسی خدائی میں اللہ کا کوئی دخل ہو اور اللہ کا کوئی رسول آکر اس پر حکم چلائے۔ علمائے امت مسلمہ ایسی آیات پر غوروفکر کر کے اپنی حیثیت نائبین رسالت کا تحفظ کرتے ہوئے اپنے زمانہ کے ان فرعونوں کو جو حکومت کے ایوانوں تک مال و دولت اور دھونس و دھاندلی کے ساتھ پہنچ جاتے ہیں اور آج بھی وہ اپنی سیاسی خدائی میں اللہ کا کوئی دخل عملاً تسلیم نہیں کرتے ان کو وہی درس دیتے جو سارے انبیاء کرام اپنی اپنی امتوں کو دے چکے ہیں تو آج اس ملک کی حالت اس سے بالکل مختلف ہوتی اور علمائے امت مسلمہ بھی اپنے منصب کے صحیح ترجمان ہوتے۔ کاش کہ آج تک ایسا نہ ہوسکا بلکہ علمائے امت ایک بار بھی اجتماعی قدم نہ اٹھا سکے اور اس المیہ کا اصل سبب تشتت و تفریق کے سوا کچھ بھی نہیں حالانکہ یہ شیطان کا علم تھا جو علما نے تھام لیا۔ زیر نظر آیت میں بتایا گیا ہے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی اصل تعلیم اسی عبدیت اور اسی توحید الٰہی کی تھی ظالموں نے اسے مسخ کر کے تثلیث بنا دیا جو شرک کی ایک کھلی ہوئی شکل ہے۔ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ میں اشارہ اس طرف ہے کہ اللہ کی مخلوق مربوب اور عبد ہونے کے اعتبار سے پیغمبر اور امتی سب یکساں ہیں کیونکہ نبی و رسول بھی اس طرح کی مخلوق ہے جس طرح کے سارے انسان مخلوق ہیں پھر مخلوق کی صفات خالق کی صفات سے کیونکر مل سکتی ہیں اور خالق کی صفات کا متحمل ایک انسان کیسے ہو سکتا ہے ؟ تثلیث کا شرک جن ظالموں کی بھی ایجاد ہو بہرحال حضرت مسیح (علیہ السلام) کا دامن اقدس اس آلودگی سے بالکل پاک اور منزہ ہے۔ اسی طرح ساری دنیا عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدائی صفات میں شریک ٹھہرائے لیکن مسیح (علیہ السلام) اللہ ہی کی الوہیت اور خالقیت کا اعلان کرتے رہے تھے انہوں نے کبھی بھی اپنے خالق ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔
Ayah 3:52

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

پھر عیسیٰ نے بنی اسرائیل میں کفر دیکھا تو وہ پکار اٹھا کون ہے جو اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہو ؟ اس پر اس کے چند حواریوں نے اس کی دعوت قبول کرتے ہوئے جواب دیا کہ ہم اللہ کے دین کے مددگار ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور تم گواہ رہو کہ ہم اس کی فرمانبرداری میں مکمل طور پر داخل ہو گئے

مسیح (علیہ السلام) کی گزشتہ تمثیل کی وضاحت : 121: غور کرو کہ اگر ایک شخص مردوں کو زندہ کردے ، کوڑھیوں کو چنگا کر دے اور نابینوں کو بینا کردکھائے تو اس کے اس طرح کے کاموں کو انکار کیسے ہو سکتا ہے ؟ نبوت کوئی مانے یا نہ مانے۔ ان مشاہدہ میں آنے والی باتوں کا وہ انکار نہیں کرسکے گا ؟ پھر یہ کام جو سارے کے سارے اللہ ہی کے متعلق ہیں کسی انسان کے اختیار میں نہیں جب انسان سے ان کا ظہور ہونے لگے تو اس کو لوگ کیا مانیں گے ؟ قرآن کریم نے صاف صاف بتا دیا کہ مسیح (علیہ السلام) نے کفر کی موت مرے ہوؤں کو زندہ اور منافقت کے کوڑھیوں کو چنگا کرنے کے لیے جب تعلیم دینا شروع کی تو جن لوگوں نے اس پر دھیان دیا اللہ نے ان پر ایمانی زندگی کا راستہ کھول دیا اگرچہ وہ چندے معدودے ہی تھے لیکن اکثریت نے مسیح (علیہ السلام) کی اس تعلیم سے انکار کردیا اور یہ ان کا کفر تھا۔ فرمایا : فَلَمَّا اَحَسَّ مِنْھُمْ الْكُفْرَ ” جب مسیح (علیہ السلام) نے ان سے کفر محسوس کیا ؟ واضح کردیا کہ ان کا کفر بھی ایسا کفر تھا جس کو مسیح (علیہ السلام) نے محسوس کیا یعنی ان کا کفر واضح اور ظاہر تھا کیونکہ وہ مسیح کی ہر طرح کی مخالفت کا کفر تھا اور مسیح (علیہ السلام) بھی ان کی اس مخالفت کو اچھی طرح بھانپ گئے اور ان ایمانی زندگی اختیار کرنے والوں کو پکار پکار کر کہا کہ کون ہے جو اللہ کی راہ میں میری معاونت کرے یعنی اللہ کے دین کی اشاعت کے لیے میرا کھلا کھلا ساتھ دے۔ ان الفاظ نے ایک طرف یہ وضاحت کردی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ایک انسان تھے اللہ ، اللہ کا بیٹا یا اللہ کا جز نہیں تھے۔ اس لیے اللہ کے دین کی نصرت کے لیے لوگوں کو پکارا اور دوسری طرف یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ نبی کی دعوت کا منشا ہی اصل یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلایا جائے اور ایک اللہ کی الوہیت کے پیغام کو عام کیا جائے اس طرح کہ دوسروں کی الوہیت کی نفی بھی ہو۔ دوسری طرف اس بات کی بھی وضاحت ہو گئی کہ اہل دین کی نصرت کے لیے معاونت طلب کرنا تو کل کے خلاف نہیں ہے۔ ہاں ! معاونت کرنے والا کوئی نہ ہو تو دین سے منحرف ہونا توکل کے بھی خلاف ہے اور ایمان کے بھی۔ ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ کسی حال میں بھی اس سے انحراف نہ ہو کیونکہ وہ جان سے زیادہ عزیز چیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ 1ؕ (آل عمران 3 : 52) کی تشریح ابن جریر نے اس طرح کی ہے کہ : من اعوانی علی المکذبین بحجة اللّٰه ” یعنی کون ہے جو تکذیب کرنے والوں کے خلاف اللہ کی حجت کے ساتھ میرا مددگار ہوگا۔ “ اور مزید فرمایا کہ اِلَى اللّٰهِ 1ؕ اس جگہ بمعنی ” مع اللّٰه “ اور پھر مسیح (علیہ السلام) کے حواریوں نے جو جواب نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ 1ۚ دیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ” ہم اللہ کے دین کے مددگار ہیں “ اور اس سلسلہ میں اللہ کے رسول کی مدد کرنا اللہ کے دین کی مدد کرنا ہے کیونکہ یہ بات اصول دین میں ہے کہ اللہ کی کی مدد کا محتاج نہیں ہے۔ الحواریین حواری کی جمع ہے جو دراصل حور سے مشتق ہے اور حور کے معنی ایک چیز سے لوٹ آنا یا ایک چیز کی طرف لوٹ جانا کے ہیں اس سے ” یحور “ ہے۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے : ” اَنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَ “ (الانشقاق 84 : 41 ) اس نے سمجھ رکھا تھا کہ وہ پلٹ کر نہیں جائے گا۔ اور پھر اس سے ” تحاور “ ہے اور تحاور ایک دوسرے کی طرف لوٹانے کو کہتے ہیں۔ قرآن کریم میں ہے : وَاللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَ کُمَا “ (المجادلہ 58 : 1 ) اور اللہ تم دونوں کی بات کو جو ایک دوسرے سے کر رہے تھے سن رہا تھا۔ حور سفیدی کو بھی کہتے ہیں اس لیے ” حوراء “ اس عورت کو کہتے ہیں جس کا رنگ بھی سفید ہو اور اس کی آنکھوں کی سفیدی بہت سفید اور سیاہی نہایت سیاہ ہو۔ اہل لغت کے نزدیک لفظ حواری اس سے مشتق ہے رہی یہ بات کہ یہ لفظ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے برگزیدہ احباب پر کیوں بولا گیا تو اس کی وجہ یہی معروف و مشہور ہے کہ حواری قضاء کو کہتے ہیں یعنی جو کپڑوں کو دھو کر سفید کرتا ہے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے یہ احباب چونکہ دھوبی کا کام کرتے تھے یہی لوگ سب سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور اس لیے ان کے بعد ایمان لانے والوں کو بھی اسی نام سے پکارا جانے لگا۔ حدیث میں آتا ہے کہ : والزبیر ابن عمتی وحواری من امتی یعنی زبیرمیری پھوپھی کا بیٹا اور میری امت سے مرا حواری ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ خلوص نیت اور سیرة کی پاکیزگی کی وجہ سے ان کی حواری کہا گیا یعنی تن من دھن کو قربانی کردینے والے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارہ حواریوں کا ذکران کے ناموں کے ساتھ انجیل میں کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو لوقا 14:6 اور مرقس 3:10 ۔ ان میں سے بارہویں حواری کا نام یہودا اسکریوطی تھا اور اسی نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو پکڑوا بھی دیا تھا۔ ان بارہ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ ” اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا اور چلتے چلتے یہ منادی کرنا کہ آسمان کی بادشاہت بہت نزدیک آگئی ہے۔ “ (متی 7:10) ان کے ذمہ جو کام لگایا گیا اس کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ ” بیماروں کو اچھا کرنا ، مردوں کو جلانا ، کوڑھیوں کو پاک و صاف کرنا ، بدروحوں کو نکالنا۔ تم نے مفت پایا مفت دینا۔ “ (متی 9 ۔ 8:10) قرآن کریم کی اس معجزانہ تعلیم میں حواریوں کی خوبی کا ذکر تو کیا گیا لیکن ان کی کمزوریوں کا نام تک نہ لیا گیا حالانکہ انجیل کے مطالعہ سے ان حواریوں کی کمزوریوں کا بڑی وضاحت سے ذکر کیا گیا ہے۔ دیکھنے کا شوق ہو تو متی اور لوقا کی انجیل کا مطالعہ کریں۔ خصوصاً متی کا باب 16 اور لوقا کا باب 62 ۔ 57 ۔ 22 ۔ پھر غور کرو کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو کام اپنے حواریوں کے ذمہ لگائے وہ وہی تھے خود عیسیٰ (علیہ السلام) سر انجام دیتے رہے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی جو نبوت کے ساتھ خاص تھی جیسا کہ عام طور پر سمجھ لیا گیا ہے۔ اگر ان کو روحانی بیمار ، کفر کی موت مرے ہوئے مراد نہ لیا جائے تو معلوم ہوگیا کہ بیماروں کا اچھا کرنا ، مردوں کا زندہ کرنا ، کوڑھیوں کو چنگا کرنا اگر عیسیٰ (علیہ السلام) باذن اللہ کرتے تھے تو اس طرح وہ اپنے اذن سے اپن حواریوں سے بھی کرایا کرتے تھے۔ کیونکہ ان کے ذمہ بھی انہوں نے بالکل وہی کام لگائے ہیں جس سے یہ بات مزید صاف ہوجاتی ہے کہ دراصل یہ وہی امثال و استعارات ہیں جو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے اختیار کیے اس لیے کہ اس سے کلام کا وزن اور اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ چناچہ خود عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ حواریوں کو کہا اس کی آخری تلقین اس طرح تھی کہ ” اگر تم کو کوئی قبول نہ کرے اور تمہاری باتیں نہ سنے تو اس گھر یا اس شہر سے باہر نکلتے وقت اپنے پاؤں کی گرد جھاڑ دینا۔ “ (متی 15:10) ” دیکھو میں تم کو بھیجتا ہوں گویا بھیڑوں کو بھیڑیوں کے بیچ میں۔ پس سانپوں کی مانند ہوشیار اور کبوتروں کی مانند بےآزاد بنو مگر آدمیوں سے خبردار ہو کیونکہ وہ تم کو عدالتوں کے حوالے کریں گے۔ “ (متی 18:10)
Ayah 3:53

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! جو کچھ تو نے نازل کیا ہے اس پر ہمارا ایمان ہے اور ہم نے تیرے رسول (عیسیٰ علیہ السلام) کی پیروی کی ، ہمارا شمار ان لوگوں میں ہو جو شہادت دینے والے ہیں

عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کی شہادت سے کیا سبق حاصل ہوا ؟ : 122: سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت قبول کرتے ہوئے جواب دیا کہ ” اے عیسیٰ (علیہ السلام) آپ گواہ رہیے گا کہ ہم اللہ کی فرمانبرداری میں مکمل طور پر داخل ہوگئے۔ “ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَاشْھَدُ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ مسلم کا لفظی ترجمہ فرمانبردار ہے۔ یاد رہے کہ مسلم کا اطلاق ہر نبی کے پیرو پر ہوتا ہے کہ حقیقتاً ہر نبی کی دعوت اللہ کی فرمانبرداری ہی کی ہوتی ہے پھر غور کرو کہ حواریوں کا سارا زور ایمان باللہ پر ہے وہ زبان کھولتے ہی کہتے ہیں کہ امنا باللہ ہم اللہ پر ایمان لائے۔ جس سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ ابن اللہ کا تخیل مسیح (علیہ السلام) اور ان کے حواریوں سے بہت بعد کا تخیل ہے اور یقیناً اس سے آشنا ہی نہ تھے۔ اگر یہ بات ذہن میں راسخ ہوجائے کہ ہر نبی کے ماننے والوں نے نبی کا زمانہ حیات گزرنے کے بعد نبی کی تعلیم میں بہت کچھ اپنی طرف سے ملا کر نبی کے ذمہ لگا دیا تو آج کل کے بدعتیوں کے کارہائے نمایاں خود بخود واضح ہوجائیں گے۔ اس جگہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے یہ الفاظ اس طرح بیان فرمائے کہ آپ نے حواریوں کو کہا کہ ” مَنْ اَنْصَارِىْ اِلَى اللّٰهِ “ کون ہے جو اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہو ؟ اور دوسری جگہ اللہ نے ارشاد فرمایا : وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ 1ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ 00111 (المائدہ 5 : 111) ” اور جب ایسا ہوا تھا کہ میں نے حواریوں پر الہام کیا تھا کہ مجھ پر اور میرے رسول یعنی مسیح پر ایمان لاؤ ۔ انہوں نے کہا تھا ہم ایمان لائے اور اللہ ! تو گواہ رہیو کہ ہم فرمانبردار ہیں۔ “ واضح ہوگیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے جو بات حواریوں تک پہنچائی گئی اس جگہ اس کو براہ راست حواریوں پر وحی کرنے سے تعبیر کیا گیا اگر اس عبارت پر غور کیا جائے تو بہت سی باتیں ہیں جو از خود صاف ہوجاتی ہیں۔ قرآن کریم میں تدبر کرو گے تو بہت کچھ پاؤ گے۔ انشاء اللہ۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کی مناجات کیا ہی مناجات ہے ؟ : 123: مسیح (علیہ السلام) کے حواری ابھی مسیح (علیہ السلام) سے گفتگو کر ہی رہے تھے کہ دفعتہً براہ راست حق سبحانہ و تعالیٰ سے مناجات کرنے لگے۔ قرآن کریم کا معجزانہ انداز اکثر مقامات پر یہی ہے کہ اچانک بندوں کے خطاب کا رخ والہانہ انداز میں اللہ تعالیٰ کی طرف پھیر دیتا ہے جس سے توحید کا اعلیٰ درس ملتا ہے کیا ٹھکانہ ہے اس اہتمام توحید کا۔ سبحان اللہ ! پھر ” وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ “ کے الفاظ بول بول کر شہادت دے رہے ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) کے معاصر آپ کی تعلیم پر ایمان لانے والے آپ کو رسول ہی تسلیم کرتے تھے ابن اللہ نہیں مانتے تھے اور نہ ہی کہتے تھے اور یہ تخیل کی مسیح ” ابن اللہ “ ہیں یا تین اقنوم مل کر اللہ کی واحد ذات قرا پاتی ہے بالکل ایک من گھڑت اور مدت بعد کے نظریات ہیں جن کا عیسیٰ (علیہ السلام) کے وقت میں کم از کم نام و نشان تک موجود نہیں تھا۔ الشّٰهِدِیْنَ کی تفسیر میں ایک سے زیادہ قول درج کیے گئے ہیں زیادہ واضح بات یہی ہے کہ ” گواہ تیری توحید کے اور تیرے رسولوں کی رسالت کے۔ “ اس پوری آیت کی مناجات بلاشبہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کی ہے لیکن ہم میں سے ہر ایک کے دل کی آواز اس طرح ہونا چاہیے۔ سچائی ہر حال میں سچائی ہے اس کا کہنے والا خواہ کوئی ہو۔ قرآن کریم نے حواریوں کی اس مناجات کا ذکر کر کے واضح کردیا ہے کہ : ہو غیروں کا غیر کوئی اس کو غیر نہ سمجھئے كاش کہ آج مسلمان بھی یہ اصول ملحوظ خاطر رکھتے۔ ہمارے یہاں کیا ہے ؟ کس کی بات کے رد و قبول کے لیے سارے اصول بدل کر رکھ دیئے۔ اپنی پارٹی کا ہو ، اپنی گروہ بندی کا ہو تو سب کچھ قبول اور دوسری پارٹی اور دوسری گروہ بندی کا ہو تو سب کچھ رد اور کسی گروہ بندی اور پارٹی کو قبول کرنے والا نہ ہو تو بالکل مردودگویا وہ انسان انسان ہی نہ رہا دھوبی کا کتا ہوگیا۔ انا للّٰه وانا الیہ راجعون . یہ سورة آل عمران کی آیت نمبر 53 ہے اس کو بار بار پڑھو۔ اپنی دعاؤں میں اس کو شامل کرو خوب سمجھ کر اور دل لگا کر ورد زبان بھی بنائو اور حرز جان بھی۔ کیا پیاری دعا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تعلیم فرمائی: رَبَّنَا اٰمَنَّا بِمَا اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاھِدِیْنَ. آمین یا رب العٰلمین۔
Ayah 3:54

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

اور انہوں نے (برائی کی) خفیہ تدبیریں کیں اور اللہ نے ان کی (برائی کی) خفیہ تدبیروں کو ضائع کردیا اور لوگوں کی خفیہ تدبیروں کو ضائع کرنے میں اللہ سے بہتر کوئی نہیں ہے

عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف بنی اسرائیل کی خفیہ سازشیں اور حواریوں کا قبول حق : 124: حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے قبل بنی اسرائیل ہر قسم کی برائیوں میں مبتلا تھے اور انفرادی و اجتماعی عیوب و نقائص کا کوئی پہلو ایسا نہیں تھا جو ان سے بچ رہا ہو وہ اعتقاد و اعمال دونوں ہی قسم کی گمراہیوں کا مرکز و محور بن گئے تھے حتیٰ کہ اپنی ہی قوم کے ہادیوں اور پیغمبروں کے قتل تک پر جری اور دلیر ہوگئے تھے۔ یہودیہ کے بادشاہ ہیرودیس کے متعلق معلوم کر کے ہو کہ اس نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو اپنی محبوب کے اشارہ پر کیسے عبرتاک طریقے سے قتل کرادیا تھا اور اس نے یہ سفاکانہ اقدام صرف اس لیے کیا کہ وہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی بڑھتی ہوئی روحانق مقبولیت کو برداشت نہ کرسکے اور اپنی محبوبہ سے ناجائز رشتہ پر ان کے نہی عن المنکر یعنی برائی سے بچنے کی ترغیب کی تاب نہ لاسکا اور یہ عبرت ناک سانحہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی مبارک ہی میں ان کی بعثت سے قبل پیش آچکا تھا۔ اس کی مزید وضاحت بھی تاریخ کے صفحات میں موجود ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے یہود کے عقائد و اعمال کا یہ حال تھا کہ وہ مشرکانہ رسوم و عقائد کو جزو مذہب بنا چکے تھے اور جھوٹ ، فریب ، بغض و حسد جیسی بد اخلاقیوں کو تو عملاً اخلاق کریمانہ کی حیثیت سے درکھی تھی اور اسی بنا پر بجائے شرمسار ہونے کے وہ ان پر فخر کا اظہر کرتے تھے اور ان کے علماء و احبار نے تو دنیا کے لالچ اور حرص میں کتاب اللہ یعنی توراة تک کو تحریف کیے بغیر نہ چھوڑا تھا۔ اور درہم و دینار پر اللہ کی آیات کو فروخت کر ڈالا یعنی عوام سے نذر اور بھینٹ حاصل کرنے کی خاطر حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنانے سے بھی دریغ نہ کیا اور اس طرح قانون الٰہی کو مسخ کرڈالا چناچہ توراة ہی میں موجود ہے کہ خاوند فرماتا ہے یہ امت بنی اسرائیل سے تو میری عزت کرتی ہے مگر ان کا دل مجھ سے دور ہے اور یہ بےفائدہ میری پرستش کرتے ہیں کیونکہ میرے حکموں کو پیچھے ڈال کر آدمیوں کے حکموں کی تعلیم دیتے ہیں۔ لیکن بدبخت یہود اپنی فطرت کج ، صدیوں کی مسلسل سرکشی اور تعلیم الٰہی سے بغاوت کی بدولت اس درجہ متشدد ہوگئے تھے اور انبیاء و رسول کے قتل نے ان کے دلوں کو حق و صداقت کے قبول میں اس درجہ سخت بنا دیا تھا کہ ایک مختصر سی جماعت کے علاوہ ان کی جماعت کی بڑی اکثریت نے ان کی مخالفت اور ان کے ساتھ حسد و بغض کو اپنا شعار اور اپنی جماعتی زندگی کا معیار بنالیا اور اس لیے انبیاء کی سنت راشدہ کے مطاق رشدو ہدایت کے حلقہ بگوشوں میں دنیوی جاہ و جلال کے لحاظ سے کمزور ناتواں اور زیردست پیشہ و طبقہ کی اکثریت نظر آتی تھی۔ صعفاء کا یہ طبقہ اگر اخلاص و دیانت کے ساتھ حق کی آواز پر لبیک کہتا تو بنی اسرائیل کا وہ سرکش اور مغرور حلقہ ان پر اور اللہ کے پیغمبر پر پھبتیاں کستا ، توہین و تذلیل کا مظاہرہ کرتا اور اپنی عملی جدوجہد کا بڑا حصہ معاندت و مخالفت میں صرف کرتا رہتا تھا۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے۔ وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ 1ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ 0063 اِنَّ اللّٰهَ ہُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ 1ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ 0064 فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ 1ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ 0065 (الزخرف 43 : 53 ، 65) ” اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) کھلی نشانیاں لے کر آئے تو اس نے کہا ، لوگو ! میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ تمہارے سامنے بعض ان باتوں کی حقیقت واضح کردوں جنمیں تم اختلاف کر رہے ہو سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ بلاشبہ اللہ یہ میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہ۔ پس اس کی بندگی کرو یہی صراط مستقیم ہے۔ مگر ان کے بہت سے گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا سو ایسے ظالموں کے لیے ایک درد ناک عذاب کے دن کی تباہی ہے۔ “ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : ” اور وہ وقت یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا۔ اے بنی اسرائیل بلاشبہ میں تمہاری جانب اللہ کا پیغمبر ہوں۔ تصدیق کرنے والا ہوں توراة کی جو میرے سامنے ہے اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا کہ نام اس کا احمد ہے۔ پس جب عیسیٰ (علیہ السلام) آیا ان کے پاس روشن دلائل لے کر تو وہ بنی اسرائیل کہنے لگے یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ “ (الصف 6 : 61 ) عیسیٰ (علیہ السلام) معاندین و مخالفین کی ان دریدہ دہنیوں اور ہرزہ رسائیوں کے باوجود اپنے فرض منصی دعوة الی الحق میں سرگرم عمل رہتے اور شب و روز بنی اسرائیل کی آبادیوں اور بستیوں میں پیغام حق سناتے اور روشن دلائل اور واضح آیات کے ذریعے لوگوں کو قبول حق اور صداقت پر آمادہ کرتے رہے اور خدا اور حکم خدا سے سرکش اور باغی انسانوں کی اس بھیڑ میں ایسی سعید روحیں بھی نکل آتی تھیں جو عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت حق پر بیک کہتی اور سچائی کے ساتھ دین حق کو قبول کرلیتی تھیں۔ انہی پاک بندوں میں وہ مقدس ہستیاں بھی تھیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے شرف صحبت سے فیض یاب ہو کر نہ صرف ایمان ہی لے آئی تھیں بلکہ دین حق کی سربلندی اور کامیابی کے لیے انہوں نے جان و مال کی بازی لگا کر خدمت دین کے لیے خود کو وقف کردیا تھا اور اکثر و بیشتر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ رہ کر تبلیغ و دعوت کو سرانجام دیتی تھیں۔ اس خصوصیت کی وجہ سے وہ ” حواری “ اور ” انصار اللہ “ کے مقدس القاب سے معزز ممتاز کی گئیں چناچہ ان بزرگ ہستیوں نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی حیات پاک کو اپنا اسوہ بنایا اور سخت سے سخت اور نازک سے نازک حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ہر طرح معاون و مددگار ثابت ہوئیں۔ ان معدودے چند آدمیوں کے سوا جو ” حواری “ کے لقب سے یاد کیے گئے یہود کے اکابر اور سرداروں نے مخالفت و ایذا کے بہت سے درجے طے کرنے کے بعد بالآخر یہ طے کرلیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ختم کر ہی دینا چاہیے۔ چناچہ انہوں نے پہلے اپنی مذہبی عدالت میں الحاد کا الزام لگایا جس کے نتیجہ میں آپ کو واجب القتل قرار دیا پھر رومی حاکموں کی ملکی عدالت میں لا کر ان پر بغاوت کا مقدمہ چلایا۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے مخالفین کا یہ معرکہ اس وقت کے ملک شام کے صوبہ فلسطین میں پیش آیا تھا۔ شام اس وقت رومی سلطنت کا ایک جزء تھا اور یہاں کے یہودی باشندوں کو اپنے معاملات میں نیم آزادی اور نیم خود مختاری حاصل تھی۔ اس وقت شہنشاہ رومہ کی طرف سے ایک نائب السلطنت یعنی وائسرائے شام کا تھا اور اس کے ماتحت ایک والی یا امیر فلسطین کا تھا۔ رومیوں کا مذہب شرک و بت پرستی کا تھا۔ تاہم یہود کو اتنا اختیار حاصل تھا کہ اپنے لوگوں کے مقدمات اپنی مذہبی عدالتوں میں لائیں لیکن سزاؤں کے نفاذ کے لیے انہیں پھر انہیں مجرموں کو ملکی عدالتو کے سامنے لانا پڑتا تھا۔ جرم الحاد میں فتویٰ قتل خود یہود کی مذہبی عدالت دے سکتی تھی لیکن واقعتہً سزائے موت کا نفاذ صرف رومی ملکی عدالت کے قبضہ میں تھا اور سزائے موت رومی حکومت کے قانوں میں سولی کے ذریعہ سے دی جاتی تھی۔ قرآن کریم نے مکروا کے الفاظ سے یہود کی اس گہری اسکیم کی طرف اشارہ کیا ہے۔ بنی اسرائیل کی ان خفیہ سازشوں کا ناکام ہوجانا : 125: وَمَكَرُ اللّٰه کے الفاظے یہ بات واضح کردی کہ اللہ تعالیٰ نے ان مسیح (علیہ السلام) کے مخالفین و معاندین کی ساری سازشوں اور خفیہ کاریوں کو ناکام بنادیا اور کسی ایک سازش کو بھی کامیاب نہ ہونے دیا۔ یعنی ان کی ساری سازشوں اور مکاریوں میں بڑی سازش اور مکاری مسیح (علیہ السلام) کو سولی چڑھاوان کی تھی اس کے باوجود کہ ان کی مذہبی عدالت نے یہ فیصلہ دے دیا کہ مسیح واجب القتل ہے اس لیے ملکی عدالت اس کو سولی چڑھادے لیکن ملکی عدالت نے اس پر عمل درآمد روک دیا۔ اس طرح اللہ نے ان کی اس آخری سازش کو بھی کامیاب نہ ہونے دیا اور مسیح (علیہ السلام) کو سولی کی موت سے بچالیا سولی چڑھنے نہیں دیا۔ اس بات کو دوسری جگہ قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : وَّقَوْلِهِمْ اِنَّاقَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ 1ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ 1ؕ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ 1ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ 1ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢا . (النساء 4 : 107 ) ” اور ان کا یعنی یہود کا یہ کہنا کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو جو اللہ کے رسول تھے سولی پر چڑھا کر قتل کردیا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ تو انہوں نے قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھا کر ہلاک کیا بلکہ اس واقعہ کی اصل حقیقت ان پر مشتبہ ہو گئی اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا یعنی عیسائیوں نے تو بلاشبہ وہ بھی شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ ظن و گمان کے سوا کوئی علم ان کے پاس نہیں اور یقیناً یہودیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل نہیں کیا۔ “ مکر اللہ کے الفاظ کے متعلق سمجھ لینا چاہیے کہ عربی زبان میں ایک قاعدہ مشاکلت کا ہے یعنی کسی فعل کی سزا یا جواب کو بھی بجنسہ اس فعل کے لفظ سے ادا کردیا جاتا ہے اور اسطرح ادا میں مطلق کوئی عیب نہیں سمجھا جاتا۔ مثلاً کسی نے زید پر حملہ کیا اور زید نے اس کا جواب دیا تو عربی محاورہ میں اس طرح کہیں گے کہ فلاں نے زید پر حملہ اور زید نے اس پر حملہ کیا حالانکہ زید کا ” حملہ “ مطلق نہ ہوگا بلکہ صرف سزائے حملہ ہوگی یا زیادہ سے زیادہ وہ جوابی حملہ یا کوئی کسی کو ٹھگ لے اور وہ اس سے انتقام لے لے تو عربی میں پیرایہ ادا یہ ہوگا کہ اس نے فلاں کو ٹھگا لیکن اس فلاں نے اسے ٹھگ لیا۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ اس فلاں نے تو صرف ٹھگنے کی سزا ہی اس کو دی۔ اس اصول کو ذہن نشین کرلینے کے بعد قرآن کریم کی آیتوں سے کہ 1: مَكَرُوْا وَمَكَرَاللّٰهَ انہوں نے مکر کیا اور اللہ نے بھی مکر کیا یعنی ان کے مکر کی سزا دی۔ 2: اِنَّھُمْ یَكِیْدُوْنَ کَیْدًا وقَاَكِیْدُ کَیْدًا کہ وہ کید سے کام لیتے ہیں اور میں بھی ان کے کید کی ان کو خوب سزا دوں گا۔ 3: قَالُوْا اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَھْزِءُوْنَ اللّٰهَ یَسْتَھْزِئُ بِھِمْ وہ کہتے ہیں کہ ہم تو محض ہنسی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو ہنسی کی یقیناً سزا دے گا۔ ان امثال میں جو بای اور سزائی ” مکر “ نہ مکر ہے نہ کیں ” كید “ ہے اور نہ استہزاء ” استہزاء “ ہے۔ بلکہ مراد صرف اور صرف سزائے مکر۔ سزائے کید اور سزائے استہزاء۔ اس لیے یہ بات جان لینا چاہیے کہ جس کسی نے اردو کے مکروفریب پر قیاس کر کے ” مکر اللہ “ پر حرف گیری کی ہے اس نے خود اپنی جہالت کا اظہار کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہود نے ہر ممکن خفیہ تدبیروں سے کام لیا تاکہ کسی نہ کسی طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کو پھانسی پر لٹکا دینے میں کامیاب ہوجائیں لیکن اللہ نے ان سب خفیہ تدبیروں کو ناکام بنادیا اور واللہ خیر الماکرین اور اللہ ہی کی تدبیریں دراصل کامیاب ہونے والی ہیں اس لیے اللہ نے ان کی خفیہ تدبیروں کو بالکل مؤثر نہ ہونے دیا اور وہ اپنے پختہ ارادہ میں ہرگز کامیاب نہ ہو سکے۔ قرآن کریم نے اس واقعہ کو بالکل صاف کردیا تھا لیکن اس کے باوجود کلیسا کا آج عام عقیدہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے مصلوب ہونے اور صلیب پر وفات پانے اور پھر تیسرے روز جی اٹھنے کا ہے جس کا نہ کوئی سر ہے اور نہ پیر۔ بس ایک عقیدہ ہے جو من حیث القوم عیسائیت نے قبول کرلیا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ کوئی قوم من حیث القوم جب کسی عقیدہ کو مان لیتی ہے تو اس کے لیے وہ خود ہی دلیل ہوجاتی ہے۔ جس کا چھوڑنا ممتنع نہیں تو ممکن بھی نہیں کہا جاسکتا ہے۔
Ayah 3:55

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 3:55 in the Quran reader

اس وقت کا ذکر کرو جب اللہ نے فرمایا تھا اے عیسیٰ ! میں تیرا وقت پورا کروں گا ، تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا ، تیرے منکروں سے تجھے پاک کر دوں گا اور جن لوگوں نے تیری پیروی کی انہیں قیامت تک تیرے منکروں پر برتری دوں گا اور بالآخر تم سب کو میری طرف لوٹنا ہے ، اس دن ان باتوں کا فیصلہ کر دوں گا جن میں لوگ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے رہے ہیں

سیدنا مسیح (علیہ السلام) کی پوری زندگی کا خاکہ بدل کر رکھ دیا گیا : 126: ” جن بزرگوں کی نبوت معلوم و مسلم ہے ان میں سب سے بڑھ کر ظلم سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر کیا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ویسے ہی ایک انسان تھے جیسے سب انسان ہوا کرتے ہیں۔ بشریت کی تمام خصوصیتیں ان میں بھی اس طرح موجود تھیں جس طرح ہر انسان میں ہوتی ہیں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اللہ نے ان کو حکمت و نبوت اور اعجاز کی قوتیں عطا فرما کر ایک بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح کے لیے معمور فرمایا تھا لیکن اول تو ان کی قوم نے ان کو جھٹلایا اور پورے تین سال بھی ان کے وجود مسعود کو برداشت نہ کرسکی یہاں تک کہ عین عالم شباب میں انہیں قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا اگرچہ وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ پھر جب وہ ان کے بعد ان کی عظمت کے قائل ہوئے تو اس قدر حد سے تجاوز کر گئے کہ ان کو خدا کا بیٹا بلکہ عین خدا بنا دیا اور یہ عقیدہ ان کی طرف منسوب کیا کہ خدا مسیح کی شکل میں اس لیے نمودار ہوا تھا کہ صلیب پر چڑھ کر انسابن کے گناہوں کا کفارہ ادا کرے کیونکہ انسان فطرتاً گناہ گار ہے اور خود اپنے عمل سے اپنے لیے نجات حاصل نہ کرسکتا تھا۔ “ ” تم دیکھو گے کہ اس کی ذات پر سب سے زیادہ ظلم اس کے معتقدین ہی نے کیا ہے انہوں نے اس پر اپنے تخیلات و اوہام سے اتنے پردے ڈال دیے ہیں کہ اس کی شکل و صوت دیکھنا ہی محال ہوگیا ہے صرف یہی نہیں کہ ان کی محرف کتابوں سے یہ معلوم کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ اس کی اصل تعلیم کیا تھی بلکہ ہم ان سے یہ بھی معلوم نہیں کرسکتے کہ وہ خود اصل میں کیا ہے ؟ اس کی پیدائش میں اعجوبگی اس کی طفولیت میں اعجوبگی اس کی جوانی اور بڑھاپے میں اعجوبگی۔ اس کی زندگی کی ہر بات میں اعجوبگی اور اس کی موت تک میں اعجوبگی۔ غرض ابتداء سے انتہاء تک وہ ایک افسانہ ہی افسانہ نظر آتا ہے اور اس کو اس شکل میں پیش کیا جاتا ہے کہ یا تو وہ خدا کا بیٹا یا خدا اس میں حلول کر گیا تھا یا کم از کم خدائی میں وہ کسی حد تک شریک و مبہم تھا۔ “ ” اس کے معتقدوں نے جوش عقیدت میں اس پر یہ بہتان اٹھایا اور اس کی تعلیمات میں اپنے ہوائے نفس کے مطابق اتنی تحریف کی کہ آج دنیا کی کسی کتاب میں سوائے قرآن کریم کے مسیح کی اصل تعلیم اور خود ان کی حقیقت کا نشان نہیں ملتا۔ بائبل کے عہد جدید میں جو کتابیں اناجیل اربعہ کے نام سے موجود ہیں انہیں اٹھا کر دیکھو تو سب کی سب حلول انیتخ اور عیسایت کے فاسد تخیلات سے آلودہ ہیں۔ کہیں حضرت مریم (علیہ السلام) کو بشارت ہوتی ہے کہ ” تیرا بچہ خدا کا بیٹا کہلائے گا “ (لوقا : 35) کہیں ” خدا کی روح کبوتر کی ، مانند یسوع پر اتر آتی ہے اور پکار کر کہتی ہے کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے “ (متی : 17:16) کہیں مسیح خود کہتا ہے کہ ” میں خدا کا بیٹا ہوں اور تم مجھے قادر مطلق کی داہنی جانب بیٹھے ہوئے دیکھو گے۔ “ (مرقس : 63:14) کہیں خود مسیح (علیہ السلام) کے منہ سے کہلوایا گیا کہ ” باپ مجھ میں ہے اور میں باپ میں ہوں۔ “ (یوحنا : 42:8) کہیں اس کی طرف یہ قول منسوب کیا جاتا ہے کہ ” جس نے مجھے دیکھا اس نے باپ کو دیکھا “ اور وہ باپ مجھ میں رہ کر اپنے کام کرتا ہے۔ “ (یوحنا : 10 ۔ 9:14) لیکن افسوس کہ ” جب قرآن کریم نے اس قوم کے انبیاء (علیہم السلام) کی صفائی پیش کی اور ان کا لگایا ہوا ایک ایک داغ ان کے دامنوں سے دھویا تو یہ خوش ہونے کی بجائے مقابلے پر اتر آئے اور انہوں نے ان سب داغوں کو جنہیں قرآن کریم نے دھویا تھا پھر سے داغدار کرنے کی کوشش کی۔ قرآن کریم جب نازل ہوا تو مدینہ میں یہودی موجود تھے اور نزول قرآن سے چند سال بعد جب مسلمان ایشیاء اور افریقہ کے وسیع علاقوں پر پھیلتے چلے گئے تو یہودیوں کی ایک کثیر تعداد کو ان سے میل جول کا موقع ملا۔ ان لوگوں نے ہر نبی کے متعلق وہی تمام پرانے قصے جو ان کے ہاں موجود تھے مسلمانوں میں بھی پھیلا دیے نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کریم کی بہت سی تفاسیر جو مسلمانوں نے لکھیں ان کے اثر سے مسموم ہو کر رہ گئی اور یہ معاملہ متداول تفاسیر کا مطالعہ کرنے والوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔ “ توفی کے معنی میں پورا پورا دینے کا مفہوم شامل ہے اس لیے اشارۃً یہ بات سمجھا دی کہ تمہیں طول حیات پورا پورا ملے گا یعنی تمہاری وفات تو اپنے وقت پر جب ہوگی یقینا ہوگی تمہارے دشمن تمہاری ہلاکت کے کسی منصوبہ میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور یقینا وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ تیرے منکر یعنی یہود تیرا بال بھی بیکا نہیں کرسکیں گے : 127: سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو پیش گوئی کے طور پر گویا یہ بتا دیا گیا کہ تیرے خون کے پیاسے نہ صرف یہ کہ تجھے قتل نہیں کرسکیں گے بلکہ ان کو تہس نہس کردیا جائے گا اور پوری قوم کی قوم تیرے مقابلے میں خائب و خاسر ہوگی۔ اس سے زیادہ اور بڑی کون سی رسوائی ہوگی کہ جب پوری قوم کی قوم عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کے درپے تھی اور آپ کو ان سے اس طرح نکال دیا گیا جیسے مکھن سے بال نکالا جاتا ہے اور یہ بات بھی بالکل صحیح ہے کہ انبیاء کرام سب کے سب پاک و مطہر ہی ہوتے ہیں مگر لوگ ان پر جھوٹے الزامات لگا کر ان کو نعوذ باللہ ناپاک مشہور کرتے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان الزامات کی قرار واقعی تردید بھی ہوتی رہی ہے اور آج بھی بتوفیقہ ان بدباطنوں کے لگائے گئے الزامات رد کرنے والے موجود ہیں اور ان شاء اللہ قیامت تک موجود رہیں گے۔ اگر انبیاء کرام (علیہم السلام) کے مخالفین و معاندین زندہ ہیں تو ان کو ہر طرح سے زک پہنچانے والے بھی بحمدللہ موجود ہیں۔ ان کا منہ کھلنے کی دیر ہوتی ہے کہ ان کی زبان نکالنے والے ان کے سروں پر پہنچ جاتے ہیں جو ان کے کہے کا مزا چکھا کر دم لیتے ہیں۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) بھی اس تطہیر کا ذکر یہاں فرمایا گیا کہ تیرے دشمنوں کی طرف سے آپ پر الزامات تراشیاں ہوں گی یقینا ان کا دفاع ہوتا رہے گا اور تیرے دشمن کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین یقینا کامیاب و کامران ہوں گے : 128: ” اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ سے یہاں پہلی اور واضح مراد یہی ہے جیسا کہ اوپر بھی وضاحت کی گئی ہے اور ” اَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ “ یعنی جو عیسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کے قائل ہیں مراد مسلمان اور سچے عیسائی ہیں۔ سچے عیسائیوں سے مراد اس وقت کے عیسائی ہیں جو مسیح (علیہ السلام) کو نبی مان گئے اور یہود کے ان الزامات کی تردید کرتے رہے جو انہوں نے اس وقت عیسیٰ (علیہ السلام) پر لگائے اور ایک مسلمان تو آج بھی تب ہی مسلمان ہو سکتا ہے کہ وہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو تسلیم کرے اور دل و جان سے قبول کرے جو عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا اقرار نہ کرے وہ مسلمان ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اسلام کا یہ متفق علیہ عقیدہ ہے کہ کیی ایک نبی کا انکار سارے انبیاء کرام (علیہم السلام) کے انکار کے مترادف ہے جن کی نبوت کا اعلان قرآن کریم میں ہوچکا کیونکہ نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی اور قرآن کریم کے بعد کوئی وحی آسمان سے نازل نہ ہونے کا اعلان قرآن کریم میں کردیا گیا ہے۔ آیت کریمہ کے جس حصہ کا یہ ترجمہ ہے کہ ” جن لوگوں نے تیری پیروی کی ہے انہیں قیامت تک تیرے منکروں پر برتری دوں گا “ اس کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور غیر تو غیر اپنے بھی اس میں مبہوت ہوتے دکھائی دیتے ہیں کیوں ؟ اس لیے کہ دن بدن اسرائیلی حکومت قدم جماتی نظر آتی ہے اور مسلمان جو صحیح معنوں میں اس آیت کا مصداق ہیں وہ دن بدن دبتے چلے جا رہے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہود من حیث القوم پوری دنیا میں مالدار قوم ہونے کے باوجود اب بھی دوسروں کے سہارے زندہ ہے اور جو قوم بھی کسی کے سہارے زندہ ہو اس کو زندہ نہیں کہا جاسکتا عرف اسلام میں وہ مردہ ہی ہوتی ہے۔ اس نگاہ سے آپ دیکھیں گے تو یقینا آج بھی نہ کہیں یہود کی حکومت قائم ہے اور نہ ہی قائم ہونے کا امکان ہے۔ بلکہ وہ آج بھی اور کل بھی جب تک اس کا وجود قائم ہے دوسروں کے سہارے پر ہے۔ ابھی سہارا ٹوٹا اور ابھی حکومت دھڑام سے گر جائے گی اور ایسا یقینا ہوگا یہ ممکن نہیں کہ ایسا نہ ہو۔ ظاہری طور پر جو حالاتپدہا ہوچکے ہیں ایک طرف مسلم قوم کی فرقہ بندی اور گروہی سیاسی کا نتیجہ ہے اور دوسری طرف ان سہارا دینے والوں کے لیے ایک عذاب الٰہی تیار ہو رہا ہے اور وہ خود اپنے ہاتھوں اپنی موت کا سامان کر رہے ہیں۔ ایک سچے مسلمان کا یہ حق نہیں کہ وہ ڈانواں ڈول ہو بلکہ اس کا ایمان تو اتنا ہی پختہ اور مضبوط ہونا چاہیے کیوں ؟ اس لیے کہ سنت اللہ یہی ہے کہ جب کسی قوم کو اللہ تعالیٰ عذاب میں مبتلا کرنا چاہتا ہے تو وہ قوم اپنی ہلاکت کے سامان خود تیار کرنا شروع کردیتی ہے جس کے نتیجہ میں وہ تہہ وبالا کر کے رکھ دی جاتی ہے اور ان لوگوں کو جو زمین میں نہایت ہی کمزور ، گرے پڑے نظر آتے ہیں ان کی حیات کا سامان وہیں سے پیدا ہوجاتا ہے کسی چیزم کا دھڑام سے گرنا کتنا وقت لیتا ہے اور اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے بینا آنکھ رکھنے والوں سے ذرا بھی پوشیدہ نہیں۔ عیسائی قوم جو بظاہر سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو مانتی اور تسلیم کرتی ہے دراصل عیسیٰ (علیہ السلام) کی متبع نہیں رہی کیونکہ انہوں نے بالکل ایک نیا دین بنا کر عیسیٰ (علیہ السلام) کے نام سے شائع کردیا ہے تاہم ظاہری طور پر وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے اقراری ہیں یہی وجہ ہے کہ ظاہری طور پر دنیا میں ان کی فوقیت بھی موجود ہے۔ جس طرح صرف ظاہری طور پر ایمان آخرت میں کچھ کام نہ آئے گا اسی طرح ظاہری طور کی یہ فوقیت بھی چند روزہ ہے۔ مسلمان یقینی طور پر عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو مانتے ہیں اور دوسرے انبیاء کرام (علیہم السلام) کی طرح ان کی حیثیت بھی صرف ایک نبی ہی کی تسلیم کرتے ہیں نہ ان کو خدا اور نہ خدا کا بیٹا اور نہ ہی خدائی میں کوئی حصہ دار مانتے ہیں۔ ہاں ! محمد رسول اللہ ﷺ کو خوشخبری دینے والا قوم بنی اسرائیل کا آخری رسول تسلیم کرتے ہیں اس لیے سچے متبع وہی کہلانے کا حق رکھتے ہیں۔ ان شاء اللہ یقینا وہ وقت آئے گا کہ عیسائی قوم بھی ایک دن اپنے کیے کے نتیجہ میں اسی طرح نیست و نابود ہوگی جس طرح یہود ہوچکے ہیں اور مسلمان اپنا آپ سنبھالیں گے اور اپنی اصلی حیثیت کو پہچان جائیں گے کہ وہ کیا تھے اور آج کیا ہوگئے ؟ یہ وقت کب آئے گا اور کون اس تحریک کا بانی ہوگا جو مسلمانوں کو من حیث القوم ایک اور صرف ایک ہونے کی دعوت دے گا۔ یہ ساری باتیں مستقبل سے تعلق رکھتی ہیں جس کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی کو ہے جس کے لیے ماضی ، حال اور مستقبل ایک ہی جیسا ہے۔ ہم سنت اللہ کے تحت یہ بات یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں اور کہہ رہے ہیں اور آیت زیر نظر اسی نظریہ کے متقاضی ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں ان سے کیے گئے وعدوں کا بیان : مختصر یہ کہ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) سے چار کیے گئے الٰہی وعدوں کا ذکر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کبھی اپنے وعدوں کا خلاف نہیں کرتا اور نہ ہی خلاف ہونے دیتا ہے۔ وہ سب طاقتوروں سے زیادہ طاقت ور اور سارے قوت والوں کی قوت کو زائل کرنے والا ہے۔ وہ سب تدبیر کنندوں سے زیادہ تدبیر کنندہ اور سارے مکاروں کی مکاریوں کو زائل کرنے والا ہے۔ اس کا سب سے پہلا وعدہ یہ تھا کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت یہودیوں کے ہاتھوں قتل کے ذریعہ یا سولی پر چڑھانے سے نہیں ہونے دے گا بلکہ طبعی طور سے وقت موعود پر ہوگی۔ اس آیت نے ” وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًاُ “ کے الفاظ سے اس کی وضاحت فرما دی۔ یہود لاکھ کہیں کہ ہم عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی چڑھا دیا یہ بات اس سے بھی زیادہ غلط ہے جتنی یہ بات کہ کوئی کہے گدھے کے سر پر سینگ۔ اور پھر بَلْ رَفَعُہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ کہہ کر اس کی مزید توثیق کردی۔ دوسرا گروہ دشمنوں کی تہمتوں سے پاک کرنے کا تھا وہ اس طرح پورا ہوا کہ خاتم الانبیاء ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ نے یہود کے سارے غلط الزامات کو صاف کردیا۔ مثلاً یہود سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے نسب کو مطعون کرتے تھے قرآن کریم نے اس کی پوری پوری وضاحت کردی اور ان کو وَجِیْھًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَ بیان کیا۔ یہود نامسعود نے آپ کی والدہ ماجدہ کے متعلق وریدہ دہنی سے کام لیا اللہ تعالیٰ نے مریم (علیہ السلام) کو اس وقت کی ساری دنیا کی عورتوں پر فضیلت دینے کا اعلان کیا۔ یہود نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر خدائی کے دعویٰ کا الزام لگایا تھا قرآن کریم کی کثیر التعداد آیات و مقامات پر عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف بیان نقل کر کے ثابت کردیا کہ وہ اپنی عبدیت اور بشریت کا اعلان کرتے تھے اور ایک اللہ کی بندگی کا اقرار کرتے تھے اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے تھے۔ تیسرا وعدہ یہ ہے کہ تیرے متبعین کو تیرے منکرین پر قیامت تک غالب رکھا جائے گا۔ یہ وعدہ بھی یقینا پورا ہوا اور پورا رہے گا کہ یہاں اتباع سے مراد عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا اقرار و اعتقاء ہے اسی طرح نصاریٰ اور اہل اسلام دونوں اس میں داخل ہوگئے کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کے معتقد ہیں اور یہ اعتقاد دنیوی سیادت و کامیابی کے لیے کافی تھا کیونکہ اس سے یہود کی عداوت و دشینس واضح ہوجاتی ہے اور دنیوای کامیاب و کامرانی آج بھی نصاریٰ ہی کی تسلیم ہے اور آخرت کی کامیابی کا ذکر ہی اس میں موجود نہیں بلکہ نجات آخرت اس پر موقوف ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے تمام احکام پر اعتقاد و ایمان رکھے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے قطعی اور ضروری احکام میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ان کے بعد خاتم الانبیاء ﷺ پر بھی ایمان لائیں چونکہ نصاریٰ نے اس پر اعتقاد و ایمان اختیار نہ کیا اس لیے وہ یقینا نجات آخرت سے محروم رہے۔ مسلمانوں نے اس کو بھی قبول کیا اس لیے وہ نجات آخرت کے مستحق ہوگئے۔ لیکن دنیا میں یہودیوں پر غالب رہنے کا وعدہ صرف عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو تسلیم کرنے پر موقوف تھا وہ آج بھی یہود کے مقابلہ میں نصاریٰ اور مسلمانوں کو حاصل ہے اور یقینا تا قیامت حاصل رہے گا جیسا کہ پیچھے اس کا بیان گزر چکا۔ یہود کو ان کے کئے کا نتیجہ مل رہا ہے تو ان شاء اللہ نصاریٰ کو بھی ان کے کیے کا نتیجہ مل کر رہے گا جس کا متعین وقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ چوتھا وعدہ قیامت کے روز ان مذہبی اختلافات کا فیصلہ فرمانے کا ہے اور یہ وعدہ بھی ان شاء اللہ یقینا اور حتماً اپنے وقت پر ضرور پورا ہوگا جیسا کہ زیر نظر آیت میں فرمایا گیا کہ ” اس دن ان باتوں کا فیصلہ کر دوں گا جن میں لوگ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے رہے ہیں “ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاحْکُمْ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُم فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ ۔ مرزا جی کا ایک پھندا اور علمائے اسلام کی سادگی : ہیں معلوم ہے کہ آیت زیر نظر یعنی سورة آل عمران کی آیت 55 پر پچھلے سو سال سے ایک معرکہ بپا رہا جس کی اصل وجہ مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو ایک خواہ مخواہ بحث میں مبتلا کردیا جس میں ان کا اپنا فائدہ تو نظر آتا ہے کہ اس کو بنیاد بنا کر انہوں نے اپنی نبوت کی عمارت کھڑی کی لیکن علمائے اسلام کو کیا ہوا انہوں نے اس مسئلہ کو مرزا جی کی نبوت کی بنیاد کیوں تسلیم کرلیا جب کہ نبوت کا منصب ختم ہوجانے کے بعد کسی کی نبوت کا جواز ہی نہ تھا اور مرزا جی کے پاس نبوت کے لیے کوئی بنیاد ہی نہ تھی جس چیز کو انہوں نے بنیاد بنایا وہ کسی صورت بھی بنیاد نہ بن سکتی تھی۔ متوفیک کے معنی ممیتک کے صدر اول سے ہوتے چلے آ رہے تھے۔ مرزا جی نے صرف ایک شاطرانہ چال چلی اور علمائے اسلام کی اکثریت اس پھندے میں پھنس گئی۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب اس بھان متی کے تماشا کے اختتام کا وقت آیا تو اس وقت بھی علمائے اسلام نے ” احمدی غیر مسلم “ کے الفاظ ملک کے قانون میں تحریر کروانے پر رضامندی ظاہر کردی اور یہ الفاظ تحریر کرا دیے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مرزائی قادیانی قوم کو ” احمدی “ کسی صورت بھی نہیں کہا جاسکتا تھا اور مرزائیوں یا قادیانیوں کے پاس ” احمدی “ کہلانے کی کوئی دلیل نہ تھی اور نہ ہے۔ مسیلمہ کذاب سے لے کر آنجہانی مرزا ادیانی تک بائیس تئیس لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا جن کا ذکر آج بھی تاریخ اسلام میں موجود ہے لیکن الحمدللہ کہ مسلمانوں نے کسی ایک کو بھی چند یوم یا چند مہینوں سے زیادہ وقت نہیں دیا کہ اس کو واصل جہنم کردیا۔ صرف مرزا جی واحد وہ شخص ہیں جنہوں نے اسلام کو اتنی مدت تک نقصان پہنچایا یہاں تک کہ وعدہ الٰہی نے اسے آ لیا۔ اس کے کیا وجوہ تھے ایسا کیوں ہوا ؟ تاریخ میں یہ سب کچھ روشن ہے اور تفسیر کے موضوع سے یہ بات حتمی طور پر باہر ہے اس لیے اس سے صرف نظر کی جا رہی ہے۔
Ayah 3:56

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:56 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی (اور برائی کی خفیہ تدبیریں کرنے میں تیزگام رہے) انہیں دنیا و آخرت دونوں جگہ سخت سزا دوں گا اور پھر کوئی بھی ان کا مددگار نہیں ہوگا

کفر کی راہ اختیار کرنے والوں کا انجام : 129: اس جگہ کفر کی راہ اختیار کرنے والوں سے مراد وہی لوگ ہو سکتے ہیں جنہوں نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا اقرار کرنے سے انکار کیا اور وہ یہود کے نام سے پکارے گئے۔ تاریخ یہود کے واقعات آج بھی تاریخ کے صفحات ہیں قلمبند ہیں وہاں کوئی ورق الٹ کر دیکھ لیجئے کہ کون سی تباہیاں ہیں جو دو ہزار سالوں میں ان پر نہیں آ چکی ہیں۔ اور آج بھی دولت و ثروت کے باوجود کیسی نکبت ان پر سوار ہے۔ مسلمانوں کو بار بار یاد دلایا جا رہا ہے کہ کسی کے سہرے زندہ رہنا ہرگز ہرگز زندگی نہیں ہے بلکہ عرف قرآن میں وہ موت ہے کل سے یہود اگر کسی کے سہارے زندہ رہ کر مردہ کہلاتے ہیں تو آج تم بھی ہوشیار رہو اگر دوسروں کے سہارے زندہ رہنے کی کوشش کرو گے تو تم بھی مر جاؤ گے۔ یاد رکھو کہ زندگی کا سہارا ایک اور صرف ایک ہی ہے کیونکہ اس کے ہاتھ میں زندگی و موت ہے اور پھر یاد رکھو کہ سنت اللہ ہرگز تبدیل ہونے والی نہیں۔ یہ تو دنیا کا معاملہ ہے اور رہی آخرت تو سزا و جزا کا پورا پورا ظہور تو وہیں ہوگا۔
Ayah 3:57

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:57 in the Quran reader

اور ہاں ! جو لوگ ایمان لائے ہیں اور ان کے عمل بھی نیک ہیں تو ان کا اجر ان کو پورا پورا مل جائے گا اور اللہ ظلم کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں ہوگا : 130: ایمان لانے کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کو دیکھا جائے گا۔ ان کے اعمال بھی نیک ہوں گے تو ان کے ایمان لانے کا دعویٰ یقینا سچا ہوگا اگر اعمال اچھے نہ ہوئے تو ان کے ایمان کا اعتبار کیونکر کیا جاسکتا ہے ؟ نہیں نہیں بلکہ دعویٰ کے مطابق دلیل نہ رکھنے والے ہی وہ لوگ ہیں جو ظالم ہوتے ہیں اور ظلم کی حقیقت افراط وتفریط ہے۔ آیت زیر نظر میں ظالموں سے مراد یہود کا ہونا تو ظاہر ہے کیونکہ وہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و صداقت بلکہ شرافت نسب تک کے منکر تھے جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے لیکن دوسری طرف اس کے تحت نصاریٰ بھی آجاتے ہیں جو عیسیٰ (علیہ السلام) کو عبد کے بجائے معبود اور رسول کے بجائے اللہ یا اللہ کا بیٹا یا اللہ کا تیسرا جزو قرار دے رہے ہیں۔ یہود نے تفریط سے کام لیا ہے تو نصاریٰ افراط میں مبتلا ہیں یعنی مقام عدل و اعتدال سے دونوں ہی ہٹے ہوئے ہیں اور اسلام کی زبان میں یہ سب ظلموں سے بڑھ کر ظلم ہے۔ مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ضابطہ الٰہی ایسی شے نہیں جو ہر ایک قوم کے لیے الگ الگ ہو بلکہ ضابطہ الٰہی سب کے لیے یکساں ہے۔ جو بھی خلاف ورزی کرے گا وہ ضابطہ الٰہی کی زد میں آئے گا یہود و نصاریٰ اگر افراط وتفریط کے سبب ظالم قرار پا گئے ہیں تو کل تم بھی افارط وتفریط کے سبب ظالم قرار پاؤ گے اس لیے ضروری ہے کہ ظلم کی پاداش سے بچنے کے لیے افراط وتفریط سے بچا جائے۔