3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 3:37

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

پس مریم کو اس کے رب نے بڑی ہی اچھی قبولیت کے ساتھ قبول کیا اور ایسی نشو ونما دی جو بہت ہی بہتر نشو ونما تھی اور زکریا (علیہ السلام) کو اس کا نگران حال بنا دیا ، جب کبھی ایسا ہوا کہ زکریا اس کے پاس محراب میں جاتے تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے کی چیزیں موجود پاتے اس پر کبھی وہ پوچھتے کہ اے مریم یہ چیزیں تجھے کہاں سے مل گئیں ؟ وہ کہتی ، اللہ سے ، اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے

مریم کو اللہ نے اس کی والدہ ماجدہ کی دعا کے مطابق قبول فرما لیا : 92: پھر اس کے پروردگار نے اس کی بوجہ احسان قبول کر یا۔ یعنی والدہ مریم کی نذر کو اس لڑکی کی شکل میں بھی اللہ نے قبول کرلیا جو تاریخ خدمت ہیکل میں ایک نئی بات تھی۔ مسیحی نوشتوں کے مطابق سیدہ مریم تین سال کی عمر میں ہیکل کی خادمہ کی حیثیت سے قبول کرلی گئی تھیں اور معبد کے چھوٹے بڑے خادم جن کی تعداد ستائیس کے قریب تھی سب کے سب اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے کیونکہ وہ نہایت ہی کم سن اور پھر وہ بچی ہونے کی صورت میں ہیکل میں رکھی گئی تھیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیدہ مریم جب سن شعورکو پہنچیں تو اس وقت یہ سوال پیدا ہوا کہ مقدس ہیکل کی یہ امانت کس کے سپرد کی جائے۔ زیادہ قرین قیاس یہ دوسریبات ہے اگرچہ یہ بھی ممکن ہو کہ تین سال کی عمر میں عام کفالت ہیکل کے سپردکر دی گئی اور بلوغت کے بعد کی کفالت خاص قسم کی کفالت ہو جس میں از سر نو سب نے خواہش کی ہو کہ کفیل ہم ہوں اور بالاخر فیصلہ زکریا (علیہ السلام) کے متعلق ہوا ہو۔ کیونکہ دلائل ان کے زیادہ وزنی تھے۔ وہ بہتر نشو ونما کیا تھی جو سیدہمریم کے حصہ میں آئی : 93: بہتر نشو ونما سے کون واقف نہیں ؟ جس بچے کو ماحول اچھا میسر آجائے۔ مادی اور اخلاقی یعنی جسم اور روح کو جن چیزوں کی فطرةً ضرورت ہوتی ہے وہ اچھی طرح دستیاب ہوں۔ خوراک کا اچھا بندوبست ہو۔ اصول صحت اور حفظان صحت اور ماحول کی نگہداشت مل جائے۔ انحالات میں بچہ کی جو نشونما ہوی ہے اس سے کون واقف نہیں ؟ اور یہ بات بھی اپنی جگہ صحیح اور سچ ہے کہ اس طرح کا ماحول ہر بچے کو میسر نہیں آتا۔ اب اس سے اگر کوئی یہ مراد لے کہ مریم ایک دن میں اتنا بڑھتی تھی جتنا کہ عام بچے ایک سال میں بڑھتے ہیں تو یہ خوش فہمی اور تعجب کا موجب تو ہو سکتی ہے اور جن لوگوں نے ہر بات میں ایک تعجب پیدا کرنا ہو ان کے لیے درست ہے لیکن قرآن کریم کی عبارت اور سیاق کلام دونوں میں ایک تعجب کی کوئی بات موجود نہیں۔ ہاں ! اگر اس معاملہ میں غوروفکر کی اجازت ہو تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ مریم اس طرح دس بارہ دن میں جوان ہوگئی ہوں گی اور دو ماہ کی مدت کے اندر اندر وہ ساٹھ برس کی ہو کر اس دنیا سے رخصت بھی ہوگئی ہوں تو پھر اس کفالت کے بکھیڑے کی یقیناً ضرورت ہی پیش نہیں آئی ہوگی جو عام بچوں کے لیے پیش آتی ہے لیکن اس کا ذکر نقلی روایات میں موجود ہے اور نہ ہی عقلی دلائل میں اور سینہ گزٹ اگر بعد کی تحریرات میں نقل بھی ہوجائے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی مگر یہ حکایت میں چاشنی ڈالنے اور باتوں کو نمک مطالحہ سے چٹ پٹا کرنے کے لیے اس طرح کے بیانات دیے جاتے ہیں۔ وہ پہلے بھی تھے اب بھی ہیں اور جب تک قوم بوڑھی ماں کی کہاوتوں کو اسلام سمجھتی رہے گی ایسی حکایات بیان ہوتی ہی رہیں گی۔ قرآن کریم کے الفاظ ہیں : ” اَنْبَتَھَا نَبَاتًا “ اور نبات دراصل نامیات یعنی بڑھنے والی چیزوں میں سے وہ ہیں جو زمین سے اگتی ہیں اور خاص کر استعمال اس کا ان اشیا میں ہوتا ہے جن کی ساق یعنی تنانہ ہو پھر اس کا استعمال ہر بڑھنے والی شے پر ہونے لگا خواہ وہ سبزی میں سے ہو یا درخت ہو یا حیوان ہو یا انسان۔ كَفَّلَ ۔ کِفْلٌ اور کفیل وہ حصہ ہے جس میں کفالت ہو اس لیے کفالة بمعنی ضمانت ہے اور تکفیل دوسرے کی کفالت میں دے دیتا ہے۔ ” زَكَرِیَّا “ زکریا حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے والدماجد کا نام ہے اور یہ نام قرآن کریم ہی میں زمرہ انبیا میں بھی آتا ہے اور یہ وہ زکریا ہیں جو سیدہ مریم کے کفیل مقرر ہوئے تھے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کاہنوں میں سے ہر ایک نے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ اس مقدس امانت کا کفیل مجھ کو بنایا جائے۔ لیکن اس امانت کا اہل سیدنا زکریا (علیہ السلام) سے زیادہ کوئی نہ تھا ؟ کیوں اس لیے کہ وہ مریم کی خالہ ایشاع جس کو انجیل کی زبان سے الیشیع کہا جاتا ہے خاوند بھی تھے اور وقت کے نبی بھی اور مقدس ہیکل کے سردار بھی تھے۔ ظاہر ہے کہ انسب حقوق میں سب سے بڑا حق قرابت داری کا تھا اور یہی وجہ تھی کہ کفالت کا حق انہیں کے حصے میں آیا۔ کہا جاتا ہے کہ مریم کی کفالت کا یہ معاملہ اس لیے پیش آیا کہ وہ یتیم ہوگئی تھیں اور مردوں میں سے کوئی ان کا کفیل نہیں تھا اور بعض کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں قحط کا بہت زور تھا اس لیے کفالت کا سوال پیدا ہوا جیسا کہ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 360 میں ہے۔ لیکن اگر یہ دونوں باتیں نہ بھی ہوتیں تب بھی کفالت کا سوال اپنی جگہ پر باقی رہتا اس لیے کہ مریم اپنی والدہ نذر کے مطابق ” نذرہیکل “ یعنی منذورہ ہوچکی تھیں اس لیے از بس ضروری تھا کہ وہ کسی مردنیک کی کفالت میں اس خدمت کو انجام دیتیں۔ زکریا (علیہ السلام) نے مریم کے لیے ایک الگ تھلگ حجرہ تعمیر کرادیا : 94: غرض زکریا (علیہ السلام) نے سیدہ مریم کے صنفی احترامات کا لحاظ رکھتے ہوئے ہیکل کے قریب ایک حجرہ ان کے لیے تعمیر کروا دیاتا کہ وہ ان میں وہاں رہ کر عبادت الٰہی سے بہرہ ورہوں اور جب رات آتی تو ان کو اپنے مکان پر ان کی خالہ ایشاع کے پاس لے جاتے اور وہیں شب بسر کرتیں۔ ابن کثیر ﷺ فرماتے ہیں کہ جمہور کا قول ہے کہ ایشاع سیدہ مریم کی ہمشیرہ تھیں اور حدیث معراج میں نبی کریم ﷺ نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے متعلق یہ فرمایا ہے ” وھما ابناخالة “ کہ وہ دونوں خالہ زاد ہیں اس سے بھی جمہور کے قول کی تصدیق ہوتی ہے۔ لیکن جمہور کا یہ قول کریم اور تاریخ دونوں کے خلاف ہے اس لیے کہ قرآن کریم نے مریم کی ولادت کے واقعہ کو جس اسلوب کے ساتھ بیان کیا ہے وہ بتا رہا ہے کہ عمران اور حنہ سیدہ مریم کی ولادت سے قبل اولاد سے قطعاً محروم تھے۔ (قصص القرآن ج 4 ص 20) حقیقت حال تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن حق یہ ہے کہ قرآن کریم میں اس کی صراحت موجود نہیں کہ حنہ اور عمران سیدہ مریم کی پیدائش سے پہلے اولاد سے بالکل محروم تھا اور نہ ہی اس بات کی کوئی صراحت یا اشارہ پایاجاتا ہے کہ ان کے ہاں مریم کی پیدائش سے پہلے یا بعد کوئی اولاد ہوئی۔ ہاں ! تاریخ یہود اور اسرائیلیات کا مشہور قول یہ ہے کہ ایشاع مریم کی خالہ تھیں اور اس کے پیش نظر مفسرین قرآن اور مورخین اسلام کی کثیرتعداد نے اور اصحاب سیر نے ایشاع زوجہ زکریا (علیہ السلام) اور حنہ زوجہ عمران کی ہمشیرہ لکھا ہے اور یہ بتایا ہے کہ ایشاع سیدہ مریم کی خالہ تھیں۔ مختصر یہ کہ مریم شب وروز عبادت الٰہی میں رہتیں اور جب خدمت ہیکل ان کی نوبت آتی تو اس کو بھی بخوبی انجام دیتی تھیں حتیٰ کہ انکا زہد وتقویٰ بنی اسراإیل میں ضرب المثل بن گیا اور ان کی زہادت و عبادت کی مثالیں دیجانے لگیں۔ زکریا (علیہ السلام) بھی مریم کی خبرگیری اور ضروری نگہداشت کے لیے کبھی کبھی ان کے حجرہ میں تشریف لے جایا کرتے تھے اکثر جب وہ ان کے خلوت کدہ میں داخل ہوتے تو مریم کے پاس کھانے پینے کی چیزیں پھل اور میوہ جات پاتے جیسا کہ اللہ کے نیک بندوں کے پاس ان چیزوں کی کثرت و فراوانی رہتی ہے۔ سیدنازکریا (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے اور سیدہ مریم کے کفیل بھی انہوں نے غالباً امتحاناً سیدہ مریم سے دریافت فرمایا ” یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَكِ ھٰذَا “ اے مریم ! یہ چیزیں تجھے کہاں سے مل گئیں ؟ مریم بھی ماشائ اللہ اپنے اس امتحان میں پاس نکلیں اور فرمانے لگیں ” ھُوَ مِنْ عِنْدِاللّٰہِ “ کہ یہ رزق اللہ کی طرف سے ہے۔ یہ کتناشاندار جواب تھا ؟ وہ بھی اتنی کم عمری میں وہی سمجھ سکتا ہے جو اللہ ہی کو داتا جانتا ہو اور علاوہ ازیں وہ کسی کو داتا نہ سمجھے۔ اس جواب نے سیدنا زکریاجو اللہ کے نبی بھی تھے ان کے دل اور رگ و ریشہ میں جو اثر کیا اس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق عطا فرما دیتا ہے : 95: سیدہ مریم نے رزق دہندہ صرف اللہ کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا : ” اِنَّ اللّٰہَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَائُ بِغَیْرِ حَسَابٍ “ اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ بغیر حساب کے رزق دینے کا مطلب بالکل واضح ہے کہ جہاں سے بندہ کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا وہاں سے رزق وافر مہیا فرمادیتا ہے اور یہ بھی کہ جتناوسیع رزق ملنے کی امید نہیں ہوتی وہ اتنا وسیع رزق عطا فرما دیتا ہے کہ انسان کی سمجھ میں کبھی وہاں سے اتنا رزق ملنے کی امید نہیں ہوتی۔ گویا اس بات کو اللہ نے دوسری جگہ خود اس طرح فرمایا ہے : ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ 1ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ002 وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ 1ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ 1ؕ (الطلاق 65 : 2۔ 3) ” اس سے ہر اس شخص کو نصیحت کی جای ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے مخلصی کی کوئی صورت پیدا کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق پہنچائے گا جہاں سے کچھ ملنے کا اسے خیال تک نہ تھا اور جس نے اللہ پر بھروسہ کیا سو اللہ کی اعانت و نصرت اس کے لیے بس کرتی ہے۔ “ بس یہی مطلب ہے اس جملہ کا جو سیدہمریم نے زکریا (علیہ السلام) کے جواب میں فرمایا۔ گویا اس اللہ کی بندی نے وہ جواب دیا جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے عین مطابق تھا۔ اس جملہ کا سننا تھا کہ سیدنا زکریا (علیہ السلام) کو اپنی کمی یاد آگئی اور دل سے ایسی آہ اٹھی کہ اس نے عرش والے کا دروازہ کھٹ کھٹا دیا۔ پھر کیا ہوا ؟ دل سے جو آہ اٹھتی ہے اثررکھتی ہے بادل بنتے ہی رہتے ہیں لیکن برسنے کا وقت اللہ ہی جانتا ہے کہ کب ہے ؟ انسان دعائیں کرتا ہی رہتا ہے لیکن قبولیت کا وقت وہی جانتا ہے کہ کب ہے ؟ اللہ کے بندوں کی نشانی یہی ہوتی ہے کہ وہ غیر اللہ سے طلب نہیں رکھتے وہ جو کچھ مانگتے ہیں صرف اسی ایک سے مانگتے ہیں جو ارض سمائ کا مالک حقیقی ہے۔
Ayah 3:38

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

اس جگہ کا یہ واقعہ ہے کہ زکریا نے اپنے رب کے حضور دعا مانگی کہ اے میرے رب ! تو اپنے خاص فضل سے مجھے پاک اولاد عطا فرما بلاشبہ تو ہی دعائیں سننے والا اور التجائیں قبول کرنے والا ہے

زکریا (علیہ السلام) کے دل سے ایک آہ اٹھی اور سیدھی قبول کرنے والے کے ہاں پہنچ گئی : 96: مریم جو مجسمہ نیکی تھیں اور وہ بھی اس دور شباب میں۔ ان کی زبان سے نکلے ہوئے جملے نے زکریا (علیہ السلام) جیسے نبی کے دل کو بلا کر رکھ دیا اور قدرت الٰہی کے اس تازہ مشاہدہ سے جو وہ اپنی آنکھوں دیکھ رہے تھے متاثر ہو کر ایک آہ کھینچی کہ اللہ ! اولاد اور پھر وہ بھی نیک اور صالح۔ عرض کی مولا ! اے میرے رب ! اے میرے خالق ومالک ! مجھے بھی اپنے پاس سے ایسی پاکیزہ اور ایسی ستھری اولاد عطا فرما جیسی تو نے عمران کو عطا فرمائی۔ سبحان اللہ ! مریم بھی کیا ہی مریم تھیں ؟ کہ نبوت کی زباان سے ضرب المثل بن گئیں۔ آپ کی مثل طلب کرنے کے لیے نبی کی زبان گویا ہوئی۔ کیوں نہ ہوتا ؟ خود اللہ نے جو فرمایا تھا کہ اے مریم کی ماں ! تو کس زعم میں ہے ” لَیْسَ الذَّكَرُ کَالْاُنْثٰی “ تیرا طلب کردہ لڑکا بھیایسانہ ہوتاجیسی تجھ کو لڑکی عطا کردی گئی۔ جب اس لڑکی کے کمالات کھلیں گے تو فرشتے بھی اس کی پاکیزہ و طہارت کی قسمیں کھائیں گے اور نبی بھی اس کی مثل طلب کرنے کے لیے زبان کھولیں گے۔ زکریا (علیہ السلام) کی دعاجاری ہے فرماتے ہیں : ” اِنَّكَ سَمِیْعُ الدَّعَا “ اے میرے اللہ ! دعائیں سننے والا اور التجائیں قبول کرنے والا تو صرف تو ہی ہے۔ تو نے عمران کے گھرانے کی کیسی سنی۔ جیسی ان کی سنی ایسی ہی میری بھی سن لے۔ ہاں ! ہاں ! تیرے سوا کون ہے جو کسی کے دل کی سننے والا ہو ؟ اور کون ہے جو پکارنے کے لائق ہو ؟ اور کون ہے جو قبولیت بخشنے والا ہو ؟ کوئی نہیں صرف تو ہے اور تجھ ہی سے میں التجائیں کرتا کرتا بوڑھا ہوا چلا جارہا ہوں۔ میرا سفید سر دیکھ لے۔ میری کھوکھلی ہڈیاں ملاحظہ فرما۔ میری بیوی کے بڑھاپے پر رحم فرما۔ تیری بزرگی والوہیت کی قسم تیرے سوا کوئی نہیں جس سے ہم التجا کریں۔ پھر دیکھ کہ تیرے اس پیغام کا وارث کون ہوگا جو تو نے میرے ذمہ لگایا۔ اولاد کی خواہش امرطبعی ہے جو زہد وتقویٰ و طہارت کے بھی منافی نہیں بلکہ تقویٰ و طہارت کا باعث ہے۔ نکاح ، اولاد اور ضروریات زندی کو زہد اور تقویٰ و طہارت کے خلاف خیال کرنا ایک جہالت ہے۔ قرآن کریم نے بار بار پیغمبروں کی زبان سے اس قسم کی دعائیں اور التجائیں نقل کر کے بتادیا ہے کہ وہ مذاہب حقیقت سے کتنے دور ہیں جنہوں نے بیوی بچوں کو مطلق صورت میں ایک جنجال قراردیا ہے۔ شریعت اسلامی میں اولاد کی خواہش تو سنت انبیا و صدیقین بتائی گئیں ہے اور کتب حدیث اور خصوصاً صحیح بخاری میں تو ایک مستقل عنوان ” طلب اولاد “ کے فضائل میں باندھ کر بات کو مزید واضح کردیا۔ دعا قبول ہوجائے تو لازم نہیں آتا کہ اسی وقت کا نتیجہ سامنے آجائے۔ پھر ” ذُرِّیَّةً طَیَّبَةً “ طیبہ کے اضافہ نے اسے اور بھی صاف کردیا کہ اہل اللہ کی نظرہرحال میں آخرت پر رہتی ہے اولاد کی خواہش میں بھی مطلق کوئی مضائقہ نہ تھا لیکن حضرت زکریا (علیہ السلام) تو محض اولاد ہی نہیں چاہتے اولاد صالح چاہتے ہیں جس طرح کی اولاد انہوں نے اپنی آنکھوں دیکھ لی تاکہ ان کے مشن تبلیغ کو اور درس توحید کو جاری رکھ سکے۔ اللہ کے بندوں اور پھر وہ بھی خاص بندوں کی نگاہ میں اخلاق اور روحانی فضائل ہر حال میں مقدم رہتے ہیں جو قوم کے لیے درس عبرت ہوتے ہیں۔
Ayah 3:39

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

پھر ایسا ہوا کہ فرشتوں نے زکریا (علیہ السلام) کو پکارا اور وہ محراب میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا کہ (اے زکریا ! ) اللہ تجھے یحییٰ (علیہ السلام) کی بشارت دیتا ہے وہ حکم الٰہی سے تصدیق کرنے والا ، جماعت کا سردار ، پارسا اور اللہ کے بندوں (اور نبیوں) میں سے ایک نبی ہو گا

قبولیت کا وقت ہو تودیر کب ہوتی ہے ؟ ہاں ! اس وقت کو بھی تو کوئی نہیں جانتا : 97: زکریا (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوگئی اور ان کو فرشتوں نے آواز دی اس حال میں کہ وہ حجرہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ ” فَنَادَتْہُ الْمَلَائِكَةُ “ بعض مفسرین نے اس سے مراد جبرئیل (علیہ السلام) فرشتہ کو لیا ہے اور بعض کے نزدیک ایک جماعت ملائکہ نے پیغام بشارت سنایا تھا۔ بہرحال اگر وہ پوری جماعت فرشتوں کی ہو تو بھی ظاہر ہے کہ ان کے قائد نے پیغام الٰہی پہنچایا ہوگا۔ مقصد اصلی پیغام بشارت پہنچانا ہے اس کی جو صورت بھی تھی پھر زکریا (علیہ السلام) صرف کاہن ہیکل ہی نہ تھے بلکہ اللہ کے نبی بھی تھے انبیا کو وحی کا پیغام پہنچانے کے لیے جو طریقہ تھا اس طریقہ سے یہ پیغام وحی جو ایک بشارت کا درجہ رکھتا تھا پہنچا دیا گیا۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا : یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ ا۟سْمُهٗ یَحْیٰى (مریم 19 : 7) ” اے زکریا (علیہ السلام) ! ہم تجھے ایک لڑکے کی پیدائش کی خوشخبری دیتے ہیں کہ اس کا نام یحییٰ رکھا جائے۔ “ عہد جدید میں ان کا نام یوحنا آتا ہے۔ چناچہ انجیل میں ہے کہ : ” فرشتہ نے اس سے کہا اے زکریا ! خوف نہ کر کیونکہ تیری دعا سنی گئی اور تیری بیوی الیشع تیرے لیے بیٹاجنے گی تو اس کا نام یوحنا رکھنا اور تجھے خوشی و خرمی ہوگی۔ “ (لوقا 41 : 1 ) یحییٰ (علیہ السلام) کی بشارت زکریا (علیہ السلام) کو سنائی گئی : 98: ” یحییٰ “ مفردات امام راغب میں ہے کہسمائ بذلک منحیث انہ لم تمتہ الذنوب کما اماتت کثیراً من ولد آدم یعنی اس کا نام یحییٰ رکھا اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ گناہ سے اس موت نہیں آئے گی جیسا کہ بہت سے آدم کے بیٹوں پر آئی ” بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یحییٰ کا نام بتانے میں اشارہ تھا کہ جس طرح بنی اسرائیل کی عامہ حالت اس وقت تھی کہ وہ فسق و فجور میں مبتلا تھے اور اعلیٰ درجہ کے نیک اور نہایت سچے اور راست باز انسان ان میں عموماً نہ رہے تھے۔ یہ لڑکا ایسانہ ہوگا بلکہ وہ بھی اپنے والد سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی طرح روحانی زندگی کا وارث ہوگا۔ گویا بیٹے کی خوشخبری کے ساتھ ہی بیٹے کی عمر کی رجسٹریشن بھی کردی کہ پیدا ہونے کے بعد جلد ہی نہیں مرجائے گی بلکہ اتنی زندگی پائے گا کہ اس کو نبی بنا دیا جائے گا وہ نبوت کا پیغام لوگوں تک پہنچائے گا اور سب سے بڑی اور یقینی بات یہ ہوئی کہ اس طرح گناہ کی موت اس پر نہ آئے گی۔ بعض نے یہ بھی کہا کہ یحییٰ نام اس طرف اشارہ کے لیے بتایا کہ اللہ تعالیٰ اس کے قلب کو ایمان سے زندہ کرے گا یا اس لیے کہ وہ علم و حکمت سے زندہ ہوگا۔ (لسان عرب) یا اس لیے کہ اس کے ذریعے سے لوگ ہدایت کے ساتھ زندہ کیے جائیں گے اور وہ کفر کی موت سے نکال لیے جائیں گے۔ اناجیل میں ان کا نام یوحنا آتا ہے اور یوحنا بپتسمہ دینے والے کے نام سے یہ مشہور ہیں۔ انجیل کے مطابق انہوں نے ہی سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی بپتسمہ دیا تھا حالانکہ وہ اناجیل کے بیان کے مطابق ہی عیسیٰ (علیہ السلام) سے صرف 6 ماہ بڑے تھے۔ اس طرح ان کا اور سیدنا مسیح (علیہ السلام) کا زمانہ ایک ہی تھا۔ ان کا ظہور کچھ حضرت مسیح سے پہلے ہوا یہ عجیب بات ہے کہ سلسلہ موسیٰ کی ابتدا بھی دونبیوں سے موسیٰ اور ہارون سے ہی ہوتی ہے اور اس کا خاتمہ بھی دو نبیوں یعنی یحییٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) پر ہی ہوتا ہے۔ جس طرح سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی اصلاح کا ساراکام اکیلے نہ کرسکتے تھے بالکل اسی طرح حضرت یحییٰ (علیہ السلام) بھی اکیلے ہی کام نہ کرسکتے تھے اور اس بات کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ جو کام سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے سپرد کیا جانے والا تھا علم الٰہی میں موجود تھا کہ وہ اکیلے اس کام کو نباہ نہیں سکتے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے قبل ہی اس کام کو یحییٰ (علیہ السلام) کے سپرد کردیا تاکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے آسانی پیدا ہوجائے۔ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے کام کا کچھ حصہ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے کیا اس طرح حضرت یحییٰ نے بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے لوگوں کو تیار کرنا شروع کردیا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دونوں کے لیے سابقہ میں کچھ پیش گوئیاں تھیں۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے لیے پیش گوئی ان الفاظ میں ملاکی نبی کی کتاب میں موجود تھی ” دیکھو خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پیشتر میں الیاہ نبی کو تمہارے ہاں بھیجوں گا۔ “ (ملاکی 5 : 4) بظاہر اس پیشگوئی میں الیاس کے آنے کا ذکر ہے اور الیاس کے متعلق یہودیوں کا یہ خیال تھا کہ وہ زندہ آسمان پر چلا یا ہے کیونکہ ان کی کتاب میں اس طرح بھی لکھا تھا کہ ” ایلیاہ بگولے میں ہو کے آسمان پر جاتا رہا۔ “ (سلاطین 11 : 1 ) جب حضرت مسیح (علیہ السلام) نے دعویٰ رسالت کیا تو یہودیوں نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ ہماری پیشگوئیوں میں لکھا ہے مسیح سے پیشتر ضروری ہے کہ الیاس آئے چناچہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے شاگردوں نے یہ اعتراض حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے یہ جواب دیا ” ایلیاہ تو آچکا اور انہوں نے اس کو نہیں پہچانا بلکہ جو چاہا اس کے ساتھ کیا اس طرح ابن آدم بھی ان کے ساتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ “ اس کے بعد لکھا ہے کہ : ” تب شاگرد سمجھ گئے اس نے ہم سے یوحنا بپتسمہ دینے والے کی بابت کہا ہے۔ “ (متی 13 : 12۔ 17 ) اور دوسری جگہ اس کی وجہ اس طرح بیان کی ہے ” اور وہ ایلیاہ کی روح اور قوت میں اس کے آگے آگے چلے گا۔ “ كیا عقل مند کے لیے اشارہ کافی ہوتا ہے یا نہیں ؟ : آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات سمجھ لینا چاہیے کہ بائبل کا وہ بیان جو سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے متعلق ابھیاوپر گزرا ہو آپ نے پڑھ لیا کہ یہود کے زعم میں سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی آمد سے پہلے ایلیا نبی کا آنا ضروری تھا اور ایلیاہ نبی کا آنا ضروری تھا اور ایلیاہ کون ہیں ؟ بائبل نے بتا دیا کہ وہ الیاس ہیں اور پھر آپ نے الیاس (علیہ السلام) کے متعلق پڑھا کہ یہودکاخیال تھا کہ وہ آسمان پر اٹھا لیے گئے ہیں اور ان کو مسیح (علیہ السلام) سے پہلے آسمان سے اترنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہوئی کہ یہود نے حضرت مسیح کو نبی ماننے سے انکار کیا۔ لیکن یہ بات اعتراضاً حضرت مسیح سے پوچھی گئی تو انہوں نے یحییٰ (علیہ السلام) کو مثیل یا بزورالیاس کہہ کر یہود کو مطمئن کرنے کی کوشش کی دراصل و ایلیاہ یا الیاس جس کی آمد کے تم منتظر ہو وہ آگیا۔ اس لیے کہ میرے سے پہلے یحییٰ (علیہ السلام) جو آئے وہی دراصل الیاس یا الیاہ ہیں۔ ہمارے پنجابی نبی علیہ ما علیہ نے یہودکایہ بنا بنایامعاملہ سیدنامسیح (علیہ السلام) کے سہارے سے اپنے اوپر فٹ کرلیا اور اس طرح انہی کے دلائل کو جو بقول مرزاجی مسیح نے یہود کے خلاف استعمال کئے تھے انہوں نے مسلمانوں کے خلاف استعمال کیے۔ کیونکہ مسلمان بھی ایک تصور رکھتے تھے کہ مہدی موعود آنے والے ہیں اور اس طرح یہ خیال عام ہے کہ مسیح (علیہ السلام) زندہ آسمان پر اٹھا لیے گئے ہیں اور ایک وقت آئے گا کہ ان کا نزول ہوگا۔ ان دونوں نظریوں کو مرزا جی اپنی نبوت کے لیے سہارا بنالیا اور اس سہارا کی بنیاد پر کبھی وہ مہدی موعود کہلائے اور کبھی وہ مثل مسیح یا بزورمسیح موعود بنتے رہے۔ حکومت وقت چونکہ دیار غیر سے آئے ہوئے لوگوں کی تھی یعنی انگریز کی ان کو ہر وقت اس بات کی فکر رہتی تھی کہ کسی نہ کسی طرح مسلمان مختلف گروہوں میں تقسیم ہوجائیں تاکہ ان کاشیرازہ بکھرا رہے۔ اس وقت کی تاریخ کو اگر آپ اٹھا کر دیکھیں تو آپ پر یہ باتروزروشن کی طرح واضح ہوجائے گی کہ اس وقت جتنی گروہ بندیاں موجود ہیں وہ ساری کی ساری اس دور کی پیدوار ہیں۔ خلافت راشدہ کے دور کے بعد عبداللہ بن سبائ جو دراصل ایک یہودی تھا اسلام کا لبادہ پہن کر مسلمانوں میں گھس گیا اور اس کا کمال یہ تھا کہ مسلمانوں کو مستقل دو گروہوں میں تقسیم کردیا ایک شیعان علی کے نام سے موسوم ہو کر آج تک شیعہ کہلاتے ہیں اور دوسرے اہل سنہ کے نام سے منسوب ہوئے اور اس فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی جماعت… تقسیم ہو کر دو گروہوں میں بٹ گئی اور اس طرح جو طاقت انہوں نے غیر مسلموں پر خرچ کرنا تھی وہدونوں گروہ آپس میں خرچ کرتے رہے۔ حکومت انگلیسیہ نے ان دو گروہ کو مزید بیسیوں گروہوں میں تقسیم کردینے کی کوشش کی اور اس کوشش میں مرزا جی نے بھی ان کا پورا پورا ساتھ دیا کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے متعلق جو پوری امت کا متفقہ مسئلہ تھا جس کی وضاحت قرآن و حدیث میں واضح الفاظ میں موجود تھی اس کے خلاف ان ہی پیش گوئیوں کے سہارے جو بائبل میں الیاس اور مسیح (علیہ السلام) کے متعلق تھیں وہیں سے اٹھا کر نظریہ مہدی موعود کے سہارے مسلمانوں میں تفریق کے لیے ایک نیا دروازہ کھول دیا اور شاطر انگریز نے ان کی دل کھول کر مدد گی۔ جس کی شہادتیں آج بھی تحریری طور پر موجود ہیں۔ یہ ایک اشارہ ہے جو عقلمندوں کے کام آئے گا۔ یحییٰ (علیہ السلام) کے کمالات کا ذکر قرآن کریم میں : 99: وہ حکم الٰہی سے ایک ہونے والے ظہور کی تصدیق کرنے والا ہوگا۔ “ قرآن کریم کے الفاظ اس طرح ہیں ” مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰہِ “ یحییٰ (علیہ السلام) کی جو بشارت سیدنا زکریا (علیہ السلام) کو سنائی جارہی ہے اس میں یحییٰ (علیہ السلام) کی جو صفات بیان کی گئی ہیں ان میں سے یہ پہلی صفت ہے جو قرآن کریم میں درج ہے اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ وہ ” كَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰہِ “ کیا ہے ؟ قرآن کریم میں ” كلمة “ کا لفظ وسیع معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ عام معنوں میں بھی استعمال ہے جس کو عام بول چال میں استعمال کیا جاتا ہے جس طرح مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قراردینے والے مسیحیوں کو مخاطب کرکے فرمایا گیا : کَبُرَتْ کَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاہِهِمْ 1ؕ (الکف 18 : 5) ” ان لوگوں نے کیسی سخت بات منہ سے نکالی ہے کہ اللہ بھی اولاد رکھتا ہے “ یہ کلمہ تو عام معنوں میں ہے۔ اس جگہ کس کلمہ کی تصدیق ہے اس کے متعلق تین اقوال بیان کیے گئے ہیں کہ یہ کلمہ التوحید یعنی توحید کی بات ہے۔ اس سے مراد کتاب اللہ ہے اور یہ کہ اس سے مرادعیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ کیونکہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے : ” كَلِمَةً اَلْقَاھَا اِلٰی مَرْیَمَ وہ کلمہ ہے کہ مریم کی طرف ڈالا گیا۔ گویا اس طرح یہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا لقب ہے جس طرح جبرئیل (علیہ السلام) کالقب ” روح اللہ “ ہے۔ اس طرح ” مُصَدِّقًابِكَلِمَةً مِّنَ اللّٰہِ “ کا مطلب یہ ہوا کہ وہ یعنی یحییٰ (علیہ السلام) مسیح (علیہ السلام) کے مصدق بھی ہوں گے اور مسیحیوں کا عقیدہ بھی اس کے مطابق ہے کہ یحییٰ کی اصل حیثیت مسیح کے پیش رو اور نقیب ہی کی تھی۔ سَیِّدًا ” جماعت کا سردار “ مسیحی تو خیر آپ کے تقدس کے قائل ہی ہیں یہود جو آپ کے منکر اور آپ کے سخت دشمن ہیں وہ بھی آپ کی مرجعیت اور مقولیت سے انکار نہیں کرتے اور یہ بھی کہا گیا کہ سیداکامفہوم یہ ہے کہ ایساحلیم جس کو کسی وجہ سے غصہ نہ آئے اور کہا گیا ہے کہ سید وہ ہے جس نے دونوں جہان دے کر خالق جہاں کو لے لیا ہے۔ ” حصوراً “ یعنی لذات و شہوات پر اسے قابو حاصل ہوگا اور وہ نہا ایت حد تک محتاط اور متقی ہوگا۔ انجیل میں بھی ان کے زہدو تبتل کا ذکر تصریح کے ساتھ موجود ہے۔ مثلاً یہ کہ ” وہ خداوند کے حضور میں بزرگ ہوگا اور ہرگز نہ مے نہ کوئی اور شراب پئے گا اور اپنی ماں کے پیٹ ہی سے روح القدس سے بھرجائے گا۔ “ (لوقا 1 : 16) ” اور بہت سے بنی اسرائیل کو خداوند کی طرف جوان کا خدا ہے پھیرے گا اور وہ انبیا کی روح اور قوت میں اس کے آگے آگے چلے گا کہ والدوں کے دل اولاد کی طرف اور نافرمانوں کو راست بازوں کی دانائی پر چلنے کی طرف پھیرے اور خداوند کے لیے ایک مستعد قوم تیارکرے۔ “ (لوقا 1 : 17 ، 18 ) ” اور وہ لڑکا بڑھتا اور روح میں قوت پاتا گیا اور اسرائیل کے ظاہر ہونے کے دن جنگلوں میں رہا۔ “ (لوقا 1 : 80 ) بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی اللہ کا بندہ ایسا نہیں کہ اللہ کے سامنے بغیر گناہ کیے جائے سوائے یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) ۔ اللہ تعالیٰ نے خود ان کے متعلق فرما دیا ہے ” سَیِّدًا وَّحُصُوْرًا “ آپ معصوم تھے اور انبیائ کرام معصوم ہی ہوتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمام ابن آدم جب اللہ تعالیٰ کے سامنے جائیں گے تو اس گناہ کے ساتھ جائیں گے جو ان کے ذمہ لگایا گیا ہوگا سوائے یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) کے ان کے ذمہ قوم کوئی گناہ بھی نہ لگا سکے گی۔ وہ صالحین میں سے تھے اور صالحین کی اولاد میں سے بھی تھے۔ عبدالرزاق نے اپنی تفسیر میں قتادہ ﷺ کا قول موقوفاً اور ابن عسا کرنے اپنی تاریخ میں حضرت معاذ بن جبل کی روایت سے مرفوعاً بیان کیا ہے کہ یحییٰ بچپن میں کچھ بچوں کی طرف سے گزرے۔ لڑکوں نے ان کو کھیلنے کے لیے بلایا آپ نے فرمایا : ” ہم کھیلنے کے لیے نہیں پیدا ہوئے۔ “ ” وَنَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ “ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا اثبات یہود کے مقابلہ میں تو مسلم ہے لیکن خود مسیحیوں کے مقابلہ میں بھی ہے جن کے نزدیک عصمت تقویٰ لازمہ نبوت ہے۔ نبی تو سب کے سب ہی صالحین ہوتے پھر یہ تخصیص کیوں ؟ ابھی اوپر بیان ہوا ہے کہ وہ نہایت حدتک پاکباز تھے اور خصوصاً یہ کہ وہ ” حصور “ تھے۔ اس لفظ حصور کی تشریح میں لوگ بہت دور نکل گئے اور انہوں نے یہ کوشش کی کہ دراصل اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ عورت کے قابل نہ تھے اور یہ کہ وہ مرد نہیں بلکہ دراصل وہ نامرد تھے۔ حالانکہ اگر کوئی ایسی بات کسی میں ہو بھی تو یہ کوئی خوبی نہیں بلکہ نقص ہے اور ایسا انسان اگر نفسانی خواہشات سے بچتا ہے تو یہ اس کا کوئی کمال نہیں ہے۔ کیونکہ ایک چیز جب اس کے اندرموجود ہی نہیں تو پھر اس سے بچنے کے معنی ہی کیا ہیں ؟ اس آخری فقرہ کو بول کر اللہ تعالیٰ نے خود وضاحت فرما دی کہ ایسی کوئی بات نہیں کہ وہ اس قابل نہ تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ نہایت حد تک پاکباز تھا اور اس کی وضاحت دوسری جگہ خود قرآن کریم نے کردی ہے۔ فرمایا گیا : وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ0012 اور وہ ابھی لڑکا ہی تھا کہ ہم نے اسے علم و فضیلت بخش دی۔ (مریم 19 : 12) گویا دوسرے انبیائ کرام کے مقابلہ میں سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) اور سیدنا مسیح (علیہ السلام) کو پہلے نبی بنادیا گیا۔ انجیل میں ہے کہ ان کی تمام ابتدائی زندگی صحرا میں بسر ہوگئی۔ پھر وہیں ان پر اللہ کا کلام نازل ہوا تب انہوں نے دریائے یرون کے نواح میں توبہ وانابت کی منادی شروع کردی۔ وہ پکارتے تھے کہ آنے والے وقت کے لیے تیار ہو جائو۔ (لوقا 1 باب 3) عیسائی لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ کمال بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے شادی نہیں کی۔ قرآن کریم ان کی تفہیم کس پیارے انداز میں کرا رہا ہے کہ کچھ کہا بھی نہیں اور سب کچھ کہہ بھی دیا۔ کیونکہ قرآن کریم نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بالمقابل یحییٰ (علیہ السلام) کو پیش کردیا کہ اگر کوئی خوبی ہے تو پھر حضرت یحییٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کچھ کم نہیں ہیں۔ حضرت یحییٰ کی زندگی دنیا کی ان معمولی معمولی آسائشوں سے بھی خالی تھی جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو میسر تھیں۔ چناچہ انجیل میں ان کا یہ نقشہ کھینچا ہے کہ ” وہ مے نہ پیتے تھے اور نہ زیادہ کھائو پیو تھے۔ “ قرآن کریمم نے تو یحییٰ (علیہ السلام) کو انبیائ ہی میں سے ایک نبی بیان کیا ہے مگر حضرت مسیح (علیہ السلام) نے یوحنا کو نبیوں سے بھی بڑھ کر کہا ہے جو مسیح (علیہ السلام) نے یحییٰ (علیہ السلام) کے متعلق کہا اگر یحییٰ (علیہ السلام) نے مسیح (علیہ السلام) کے متعلق کہا ہوتا تو نہ معلوم عیسائی مسیح (علیہ السلام) کو کیا کچھ بنا دیتے ؟ مسیح (علیہ السلام) نے یوحنا کے متعلق فرمایا ” تو پھر کیوں گئے تھے ؟ ایک نبی کو دیکھنے کو ہاں ! میں تم سے کہتا ہوں بلکہ نبی سے بڑے کو ، میں تم سے بچ کہتا ہوں کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں ان میں یوحنا بپتسمہ دینے والے سے کوئی بڑا نہیں ہوا۔ “ (متی 11 : 9۔ 11) سوال یہ ہے کہ کیا مسیح عورت سے پیدا نہیں ہوئے ؟ پھر اس صریح بیان کے مطابق بڑا کون ہوا ؟ یحییٰ (علیہ السلام) ہاں ! یہ عیسائیوں کے لیے بیان کیا جارہا ہے کہ وہ خود جواب دیں اور جہاں فرشتہ زکریا (علیہ السلام) کو بشارت دیتا ہے وہاں ان الفاظ میں بشارت ہے ” اور بہت سے لوگ اس کی پیدائش کے سبب خوش ہوں گے کیونکہ وہ خداوند کے حضور میں بزرگ ہوگا اور ہرگز مے نہ پئے گا اور اپنی ماں کے پیٹ ہی سے روح القدس سے بھرجائے گا۔ “ (لوقا 1 : 14 ، 15) اور احادیث میں آتا ہے کہ ما من عبد یلقی اللّٰہ الا زا ذنب الا یحییٰ بن زکریا کوئی بندہ نہیں جو خدا کو ملے گا مگر وہ قصور وار نہ ٹھہرایا گیا ہو سوائے یحییٰ بن زکریا کے۔ یہ باتیں محض تحریرہی نہیں کردی گئیں بلکہ تورات میں موجود ہیں جو حوالے درج کیے گئے ہیں وہاں سے نکال کردیکھیں یہ اور اس طرح کی دوسری آیات جو تورات میں ہیں ان کو اگر ظاہر پر محمول کیا جائے تو حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ لیکن یحییٰ (علیہ السلام) نہ اللہ ہیں نہ اللہ کا بیٹا اور نہ ہی اللہ کا تیسرا جزو۔ ہاں ! اللہ کے بندے ہیں اور بعض فضیلتوں میں دوسرے نبیوں سے بڑھ کر بھی ہیں خصوصاً مسیح (علیہ السلام) پر جیسا کہ انبیائ کرام کے متعلق قرآن کریم نے خود نظریہ دیا ہے کہ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یہ رسولوں کی جماعت ہے ہم نے ان کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کیے ہیں اگرچہ رسول ہونے کے لحاظ سے سب ہی کو رسالت دی گئی۔
Ayah 3:40

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

زکریا (علیہ السلام) نے جب یہ سنا تو کہا اے میرے رب ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوسکتا ہے جب کہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہوچکی ہے ؟ حکم الٰہی ہوا اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے

زکریا (علیہ السلام) لڑکے کی بشارت سن کر متعجب کیوں ہوئے ؟ : 100: زکریا (علیہ السلام) نے لڑکے کی بشارت سن کر فرمایا : ” اے اللہ ! اے میرے رب ! میرے ہاں ! لڑکا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ؟ “ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جب مریم [ کے حجرہ اطہر میں زکریا (علیہ السلام) نے مناجات کی تھیں جس میں لڑکے کے لیے دعا تھی اس میں اور اس بشارت میں کچھ مدت یقینی طور پر گزر چکی تھیں خواہ وہ پانچ سات سال ہو یا آٹھ دس سال۔ تب ہی تو آپ کو تعجب ہوا کہ مدت درازتک تو دعائیں کرتارہا لیکن اب تو ظاہری حالات مایوس کن حد تک پہنچ چکے ہیں۔ پھر سوال تعجب کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے استعظام پر اور ایک ایسے بڑے نشان کے ظاہر ہونے پر ہے جو انسان فطرتاً کرتا ہے۔ کیونکہ ظاہر حالات اس کے مخالف تھے اور ایک مدت مدیر شادی کو گزر چکی تھی۔ اگرچہ اب بھی فی زماننا ہمارے پاس ایسی مثالیں موجود ہیں اور جن کو ہم ذاتی طور پر جانتے ہیں کہ شادی ہوئے اٹھارہ بیس سال گزر گئے اور حالات مایوسی کی حد تک پہنچ گئے جوانی گئی اور کہل آنے لگا اور اولاد ہوگئی۔ لیکن ان کے ہاں ! اولاد کی خبر پا کر ہر سننے والے کو ایک بار تعجب سا ہوا کیونکہ یہ فطری بات ہے۔ ہاں ! یہ بات ضروری ہے کہ اگر دعا کرنے کے دونوں ہی میں یعنی دو چار یا سات آٹھ روز تک بلکہ ایک ماہ تک بھی یہ بشارت آئی ہوتی تو یقیناً اتنا تعجب یا ایسا استفسار بھی نہ ہوتا۔ جو بات بنتی نظر آتی ہے کیونکہ اگر دعا کی قبولیت اتنی جلدی ہوئی ہوتی تو جواب یقیناً یہ ہوتا کہ کل تو بچے کے لیے دعائیں کر رہے تھے اور آج خوشخبری پر اظہار حیرانی کیوں ؟ بالکل اسی طرح سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اپنے وطن مالوف سے ہجرت کرتے وقت اللہ تعالیٰ سے دعافرماتے ہیں کہ رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ 00100 (الصفت 37 : 100 ) ” اے میرے رب ! مجھے نیک اولاد عطافرما۔ “ اور ایک مدت کے بعددعا کی مقبولیت کا نتیجہ برآمد ہونے کی آپ کو خوشخبری دی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرستدہ کہتے ہیں : اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ 0053 (الحجر 15 : 53) ” اے ابراہیم ! ہم آپ کو بیٹے کی خوشخبری دینے کے لیے حاضر ہیں۔ “ تو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) فرماتے ہیں : اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ 0054 (الحجر 15 : 54) ” تم مجھے اس بات کی خوشخبری دیتے ہو حالانکہ مجھ پر بڑھاپا طاری ہوگیا ہے۔ کوئی امید اب رہ گئی ہے کہ یہ خوشخبری مجھے سناؤ ؟ “ اللہ تعالیٰ کے فرستادہ اس کا جواب اس طرح دیتے ہیں کہ بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ 0055 (الحجر 15 : 55) ” ہم نے تمہیں سچائی کے ساتھ خوشخبری سنائی ہے۔ تمہیں ناامید نہ ہونا چاہیے۔ بالکل اسی طرح کا معاملہ سیدنا زکریا (علیہ السلام) کے ساتھ بھی ہوا۔ چونکہ ایک مدت گزر چکی تھی اور حالات مایوس کن تھے اس لیے زکریا (علیہ السلام) نے بھی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح جواب فرمایا۔ حالات کا مایوس کن ہونا اور بات ہے اور خود انسان کا مایوس ہوجانا دیگر امر ہے۔ نہ ابراہیم (علیہ السلام) ہی مایوس تھے اور نہ ہی زکریا (علیہ السلام) ہاں ! حالات کا تقاضا تھا کیونکہ ایک مدت گزر چکی تھی کہ اولاد نہ ہوئی۔ جب حالات و وقت کا تقاضا تھا اس وقت تو اولاد نہ ہوئی اور اب ! حالانکہ اب تو بیوی بھی بانجھ ہوچکی ہے۔ اللہ نے ارشاد فرمایا زکریا یہ بھی علم الٰہی میں موجود ہے کیونکہ ” وَاَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ “ ہم نے تیری بیوی کی اصلاح کردی ہے۔ هر ہونے والے کام کے لیے قانون الٰہی میں ایک وقت طے ہے : 101: ارشاد الٰہی ہوا کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے یعنی علم الٰہی میں جس کام کا ہونا تحریر ہے وہ ہو کر ہی رہے گا اور پھر ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر ہے اگر سویر سے دینے والا وہ ہے تو دیر سے دینے والا بھی وہی ہے اور جو بات قانون الٰہی میں طے ہے اس کا وقت بھی یقیناً معین ہے اور جو روک تیرے ذہن میں ہے ہم بھی اس کو اچھی طرح جانتے ہیں ہم تجھے یہ بات بھی بتا دیں کہ آپ کی وہ روک بھی دور کردی گئی ہے اس لیے کہ آپ کی بیوی کو بھی آپ کے لیے تندرست کردیا گیا ہے۔ ” غُلٰمٌ “ آپ قرآن کریم کے قصص پر غور کریں گے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ جہاں جہاں بھی اللہ تعالیٰ نے لڑکوں کی خوشخبری دی ہے وہ جس نبی کو بھی دی ہے ” غُلٰمٌ “ کے لفظ ہی سے دی ہے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو یکے بعد دیگر دو بچوں کی خوشخبری دی گئی تو ایک کے متعلق فرمایا : ” فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ “ اور دوسرے بیٹے کی خوشخبری کے ساتھ فرمایا ” فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ “ زیر نظر آیت میں ” غُلٰمٌ “ کا لفظ آیا ہے اور سیدہ مریم کو جس لڑکے کی بشارت دی گئی تھی فرمایا ” لِاَھَبَ لَكِ غُلٰمَّا “ جس سے یہ بات معلوم ہوا جاتی ہے کہ چونکہ یہ سب ایک طرح کی پیشگوئیاں ہیں لہٰذا ان پیشگوئیوں میں ان کے والدین کو یہ بات بھی ضمناً بتا دی ہے کہ جن بچوں کی تم کو خوشخبری دی جارہی ہے یہ یقیناً جوانی کو پہنچ گے اور ان میں کوئی بچہ بھی ایسا نہیں ہوگا جو پیدا ہو کر جوانی تک پہنچنے سے پہلے ہی وفات پا جائے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ یہ وضاحت اس لیے عرض کرنا پڑی کہ دراصل غلام کہتے ہی اس لڑکے کو ہیں جس کی مونچھیں نکل چکی ہوں یعنی جوانی کو پہنچ چکا ہو گویا ان بشارات کے ساتھ ہی ان کی زندگی کے لیے بھی ارشاد کردیا گیا ۔ ” كَذٰلِكَ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ “ اصل ترکیب اس جملہ کی اس طرح ہے کہ ” الامرکزلک “ یعنی ایسا ہی ہونا ہے : ” اَللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ “ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ پس یہ دو الگ جملے ہیں اور پہلے میں مبتدا محذوف ہے۔ (راغ)
Ayah 3:41

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

زکریا (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے رب ! اس کے متعلق میرے لیے کوئی نشانی ٹھہرا دے ، ارشاد الٰہی ہوا تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تین دن رات تک عام بات چیت نہ کر مگر اشارہ کنایہ سے اور اپنے رب کا کثرت کے ساتھ ذکر کر اور صبح و شام اس کی حمد و ثنا میں مشغول رہ

اس خاص موقع پر خاص طرح کا شکریہ ادا کرنے کا شوق : 102: زکریا (علیہ السلام) کا یہ اشراد کہ اے میرے رب ! اس بشارت کے متعلق میرے لیے کوئی بات بطور شکریہ نشانی ٹھہرا دے۔ جس طریقہ سے میں تیرے اس انعام بےپایاں کا شکریہ ادا کرسکوں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی خبر میں کوئی شک اور ابہام تو رہ نہیں جاتا اب یہ بات تو نہیں کہی جاسکتی کہ شایدبچہ ہو یا نہ ہو۔ ظاہر ہی ہے کہ بچہ تو ہوگا اور پھر بچہ بھی کوئی معمولی بچہ نہیں ہوگا بلکہ ایک شاندار بچہ ہوگا جس کی عمر کی بھی ایک حد تک وضاحت فرما دی گئی ہے اور پھر یہ بھی ہوا کہ وہ بچہ تیرا نبی بنے گا۔ گویا ” یَرِثُنِىْ وَیَرِثُ اٰلِ یَعْقُوْب “ کی دعا کو قبولیت بخشی گئی۔ اے میرے رب ! تیرے اس انعام کا میں شکریہ کس طرح ادا روں اس کا کوئی طریقہ تو میرے دل میں ڈال دے یعنی مجھے الہام فرما دے جو تیرے اس شاندار عطیہ کی شان کے مطابق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ تیرا ، میرے شکریہ کا طریقہ یہ ہے کہ تین دن قیام مسجد میں رہ کر اعتکاف کے طریقہ پر پورا کردے تیری طرف سے یہ بطور شکریہ ہم نے قبول کرلیا اور جس طرح اعتکاف کی حالت میں عام بول چال بند کردی جاتی ہے تو بھی بند کر دے اور یہ گویا نشانی ہوئی اس بات کی کہ تو نے اللہ کی اس نعمت کا شکریہ ادا کیا اور تیرے اس اعتکاف سے لوگوں کو بھی یہ بات معلوم ہوجائے گی جب یہ بات کھلے گی کہ آپ نے یہ معمول کی عبادت کے علاوہ عبادت کا طریقہ کیوں اختیار کیا ؟ اس میں عام بول چال تو بند رہے گی مگر ہاں ! کسی سے کوئی بات کرنا لازمی اور ضروری ہو تو اشارہ کنایہ سے کی جاسکتی ہے جس طرح اعتکاف کے دوران کیا جاتا ہے۔ ” ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ “ تین دن تک یعنی آپ کا یہ اعتکاف تین دن تک برابر چلتا رہے گا دن ہو یا رات اس لیے سورة مریم میں ” ثَلٰثَةِ لَیَالٍ “ یعنی تین راتیں کہہ کر ذکر کیا گیا اور حقیقت یہی ہے کہ جب دن فرمایا تو رات ساتھ شامل تھی اور رات فرمایا تو دن خود بخود شامل ہوگیا۔ یعنی برابر تین دن رات اعتکاف کی حالت میں رہو اور قرآن کریم نے اس بات کی مزید وضاحت فرما دی کہ یہ تین دن رات کی خاموشی صرف بطور خاموشی نہیں ہے بلکہ اس کا ایک خاص مقصد ہے یہ مقصد چپ رہنا نہیں ہے اور جو مقصد ہے وہ یہ ہے کہ عبادت الٰہی میں پوری گرم جوشی دکھائی جائے اور نبوت کے پروگرام اور سا کے بوجھ کو خوب اچھی طرح اٹھانے کا عہد اپنے مالک حقیقی سے تازہ کیا جائے اور صبح و شام اللہ کا ذکر جاری رہے۔ دل سے بھی اور زبان سے بھی۔ گویا اس جملہ کو ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تردید کردی جنہوں نے یہ کہا کہ زکریا (علیہ السلام) نے نشانی طلب کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی زبان کو تین رات تک بند کردیا تھا تاکہ وہ کسی سے بات چیت نہ کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی وضاحت فرما دی کہ ایسا بالکل نہیں کہ آپ کی زبان بطور مرض یا سزا بالکل بند ہوجائے اور آپ بالکل گونگے ہوجائیں جیسا کہ انجیل میں بتایا گیا ہے بلکہ ذکر و تسبیح میں آپ برابر لگے رہیں گے البتہ لوگوں سے عام گفتگو نہ کریں گے اور کمال بھی اسی میں ہے کہ انسان کی زبان بند نہ ہو بلکہ وہ عام گفتگو کو بند کر دے۔ بولنے کی طاقت ہونے کے باوجود انسان لغویات سے بچے یہ تو کمال ہے لیکن اگر کوئی بات غلو منہ سے نکال لینے پر قادر ہی نہ رہے اور پھر وہ کوئی لغو بات نہ کرے تو کمال کیونکر ہوا وہ تو مجبوری ہوئی۔ نہ معلوم ہمارے ہاں ہر بات کا بتنگڑ بنانے کی کیوں عادت ہے ؟ انسان کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ کسی کی کوئی بات سے تو اس کو خود بھی سمجھنے کی کوشش کرے۔ جو کوئی کہے مان لینا تو کوئی کمال کی بات نہیں۔ ہم اس بات کے بالکل پابند نہیں کہ جو کچھ تورات و انجیل میں اس وقت موجود ہے اس کے ماننے پر مجبور ہوں ہاں ! تورات و انجیل کا وہ حصہ جو قرآن کریم نے محفوظ کرلیا ہمارا ایمان ہے کہ وہ انجیل میں تھا۔ اس وقت موجود ہو تو بھی اور اگر نہ موجود ہو تو بھی کیونکہ تورات و انجیل میں تحریف یہی نہیں کہ ایک بار ہوئی ہو بلکہ بار بار ہوتی رہتی ہے۔ آج بھی اگر آپ تورات و انجیل کے مختلف نسخے اکٹھے کر کے ان کو آپس میں ملائیں تو بہت فرق نکلے گا۔ کیونکہ جب ایک بار کمی بیشی ہوگئی تو اب ہوتی ہی رہے گی اور اس سے ان کا محفوظ رہنا ممکن ہی نہ رہا۔ چونکہ انجیل کی یہ عبارت تھی کہ ” اور دیکھو جس دن تک یہ باتیں واقع نہ ہو لیں تو چپکا رہے گا اور بول نہ سکے گا اس لیے کہ تو نے میری باتوں کا جو اپنے وقت پر ہوں گی یقین نہ کیا۔ جب وہ باہر آیا تو ان سے بول نہ سکا۔ پس انہوں نے معلوم کیا کہ اس نے مقدس رویا دیکھی اور وہ ان سے اشارے کرتا تھا اور وہ گونگا ہی رہا۔ “ (لوقا 1 : 22 ۔ 23) قرآن کریم جو تمام صحیفوں پر مہیمن و نگران اور نگہبان ہے اور ان کی تمام غلطیوں اور غلط بیانیوں کی تصحیح کرتا جاتا ہے یہاں بھی اس نے حسب معمول اپنا فرض ادا کیا اور حضرت زکریا (علیہ السلام) سے یہ بہتان رفع کر کے صحیح صورت حال کو بیان کردیا کہ ایک شکریہ ادا کرنے کی علامت غیبی تھی کہ انہوں نے خود درخواست کی تھی جس پر یہ ہدایت الٰہی نازل ہوئی تھی آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تہلیل میں لگے رہو اور عام بول چال بند کردو اور یہ حالت اعتکاف کی مدت بھی خود ہی متعین فرما دی اور زکریا (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا اور تسبیح و تہلیل کے اوقات میں دو اوقات کا خاص ذکر فرما دیا پہلا وقت ” عش “ تھا جو زوال آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک کا سارا وت اس میں اور ” ابکار “ طلوع فجر سے دن چڑھے تک کا وقت اس میں شامل ہے اور محاورہ میں مراد صبح و شام کے اوقات کی تعین و تخصیص ہی نہیں بلکہ اس سے مراد دوام بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی صبح سے شام اور شام سے صبح گویا پورے اوقات حوائج و ضروریات انسانی کے علاوہ سارا وقت اس طرح صرف کرو۔
Ayah 3:42

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اور پھر اس واقعہ کا ذکر کرو ، جب فرشتوں نے کہا تھا ، اے مریم اللہ نے تجھے اپنی قبولیت کے لیے چن لیا ہے اور ہر برائی کی آلودگی سے پاک کردیا ہے اور تجھے تمام دنیا کی عورتوں پر برگزیدگی عطا فرمائی ہے

سیدہ مریم کو اللہ کی طرف سے بزگزیدگی و قبولیت کی بشارت : 103: حضرت مریم جب کہ نہایت مرتاض ، عابد و زاہد اور تقویٰ و طہارت میں ضرب المثل تھیں اور علم الٰہی میں عن قریب ان کو ایک جلیل القدر نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہونے والا تھا تو من جانب اللہ ان کی تقدیس و تطہیر کا یہ اعلان بلاشبہ حق بحق دار رسید کا مصداق ہے۔ تاہم علمی و تاریخی اعتبار سے بلکہ خود قرآن و حدیث کے مفہوم کے لحاظ سے یہ مسئلہ قابل توجہ ہے کہ آیت وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ 0042 کی مراد کیا ہے ؟ اور کیا درحقیقت سیدہ مریمکو بغیر کسی استثناء کے کائنات کی تمام عورتوں پر برتری اور فضیلت حاصل ہے ؟ اور پھر یہی نہیں بلکہ اس آیت فضیلت نے مریم کی ذات سے متعلق علمائے سلف میں چند اہم مسائل کو یر بحث بنا دیا ہے مثلاً 1 کیا عورت نبی ہو سکتی ہے ؟ 2 کیا سیدہ مریم نبی تھیں ؟ 3 اگر نبی نہیں تھیں تو زیر نظر آیت کا جملہ کیا مطلب کیا ہے ؟ كیا عورت نبی ہو سکتی ہے ؟ : مشاہیر علمائے اسلام میں اس مسئلہ میں دو رائیں رکھتے ہیں۔ کچھ کی رائے میں اس سوال کا جواب ” ہاں “ میں ہے اور کچھ کی رائے میں ” نہیں۔ “ ابن حزم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت حواء ، سارہ ، ہاجرہ ، ام موسیٰ ، آسیہ اور مریم یہ سب نبی ات تھیں اور محمد بن اسحٰق کہتے ہیں کہ اکثر فقہاء اس کے قائل ہیں کہ عورت نبیہ نہیں ہو سکتی اور قرطبی فرماتے ہیں کہ مریم نبیہ تھیں اور دوسری طرف بھی بہت سے مشاہر علمائے اسلام ہیں جن میں قاضی عیاض کا رجحان اس جانب ہے کہ عورت نبیہ نہیں ہو سکتی۔ اس لیے سیدہ مریم نبیہ نہیں تھیں۔ قاضی عیاض (رح) اور ابن کثیر (رح) یہ بھی کہتے ہیں کہ جمہور کا مسلک یہی ہے اور امام الحرمین تو اجماع تک کا دعویٰ کرتے ہیں کہ عورت نبی نہیں ہو سکتی۔ دلائل دونوں طرف موجود ہیں تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو۔ (المال و النمل مطبوعہ مصبر 1348 ھ ج 5 ص 14 ۔ 12) كیا سیدہ مریم نبیہ تھیں ؟ پہلے سوال کے جواب کے بعد ہی اس سوال کا جواب ممکن ہے۔ ہم نے اس سلسلہ میں بحث نہیں کی اور نہ ہی مقام اس بحث کا متحمل ہے۔ ہاں ! عورتوں کی نبوت کے انکار پر اجماع کا دعویٰ صحیح نہیں خواہ اس کو کوئی کہے کیوں ؟ اس لیے کہ دلائل دونوں طرف موجود ہیں اور جس مسئلہ میں اختلاف رائے موجود ہو اس کے متعلق جمہور کے اجماع کا لفظ صحیح نہیں۔ ہاں ! قلت و کثرت رائے کی بات کی جاسکتی ہے کہ قلت کس طرف ہے اور کثرت کس طرف اور اب اس بحث کی یوں بھی کوئی ضرورت نہیں کہ اب جب کہ نبوت ختم ہوچکی اور کوئی مرد اب نبی نہیں ہو سکتا تو عورتوں کی تو بہرحال حیثیت ثانوی ہے اور خود بخود ختم ہوجاتی ہے اور گزشتہ نظریات کی نبی اعظم و آخر ﷺ کے بعد اشاعت کی چنداں ضرورت ہی نہیں اور یہ مسئلہ ایسا نہیں ہے کہ موضوع بحث بنایا جائے۔ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ 0042 کا مطلب کیا ہے ؟ جو بزرگ عورتوں کی نبوت کے قائل ہیں اور سیدہ مریم کو نبیہ تسلیم کرتے ہیں ان کے مسلک کے مطابق تو زیر نظر آیت کے اس ٹکڑے کا صاف مطلب ہے وہ یہ کہ سیدہ مریم کی تمام دنیا کی عورتوں پر فضیلت حاصل ہے۔ جو عورتیں نبیہ نہیں ہیں ان پر بھی کیونکہ وہ یعنی مریم نبیہ ہیں اور جو عورتیں نبیہ ہیں ان پر بھی کیونکہ ان کے فضائل و کمالات قرآن و حدیث میں زیادہ تر بیان ہوئے ہیں۔ لیکن جن لوگوں عورتوں کی نبوت کا انکار کیا ہے اور مریم کو بھی نبیہ نہیں تسلیم کرتے وہ اس آیت کی مراد میں دو جدا جدا خیال رکھتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ زیر نظر آیت کا جملہ نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ 0042 عام ہے اور ماضی ، حال اور مستقبل کی تمام عورتوں کو شامل ہے اس لیے بلاشبہ حضرت مریم کو بغیر کسی استثناء کے کائنات انسانی کی تمام عورتوں پر فضیلت و برتری حاصل ہے اور اکثر کا قول یہ ہے کہ آیت کے لفظ الْعٰلَمِیْنَ کا یہ اطلاق وہی حیثیت رکھتا ہے جو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی امت بنی اسرائیل کے لیے اس آیت میں اختیار کی گئی ہے۔ وَلَقَدْ اخْتَرْنٰھُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ (الدخان 32 : 44 ) ” اور بلاشبہ ہم نے بنی اسرائیل کو ان کی حالت جانتے ہوئے دوسری قوموں پر ترجیح دی۔ “ اوریہ بات بالاتفاق تسلیم ہے کہ بنی اسرئیل کی فضیلت ” الْعٰلَمِیْنَ “ سے ان کے معاصرامم و اقوام مراد ہیں کہ ان میں سے امت موسیٰ (علیہ السلام) کی فضیلت حاصل ہے تو حضرت مریم کی فضیلت کے باب میں بھی یہی معنی مراد لینے چاہئیں۔ هاں ! یہ حقیقت بھی فراموش نہیں ہونی چاہیے کہ باب فضیلت ایک وسیع باب ہے اور جس طرح کسی شے کی حقیقت بیان کرنے میں بلیغ اور عمدہ طریق بیان یہ ہے کہ وہ جامع و مانع ہو یعنی اس کی حقیقت پر اسی طرح حاوی ہو کہ تمام دوسری چیزوں سے ممتاز ہوجائے نہ ایسی کمی رہ جائے کہ اصل حقیقت پوری طرح بیان ہو سکے اور نہ ایسا اضافہ ہو کہ بعض دوسرے حقائے بھی اس کے ساتھ شامل ہوجائیں۔ اس طرح اس کے برعکس بیان فضیلت کے لیے فصاحت و بلاغت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو بیان حقیقت کی طرح حدود و قبود میں نہ جکڑ دیا جائے کیونکہ اس مقام پر حقیقت شے نہیں بلکہ فضیلت شے کا اظہار ہو رہا ہے جو اگر اس طرح کے دوسرے افراد پر بھی صادق آجائے تو بیان حقیقت کی طرح اس میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا بلکہ اس موقع پر وسعت بیان از بس ضروری ہوتا ہے تاکہ مخاطب کے دل میں اظہار فضیلت سے جو نفسیاتی اثر پیدا کرنا ہے وہ دل نشیں اور مؤثر ہو سکے۔ اس صورت میں عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ 0042 کے معنی یہ نہیں ہو گے کہ حضرت مریم کے علاوہ دوسری کوئی مقدس عورت اس شرف کو نہیں پہنچ سکتی یا نہیں پہنچی بلکہ مطلب یہ ہوگا کہ حضرت مریم کو فضائل و کمالات میں بلند سے بلند مرتبہ حاصل ہے اور رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کی بھی اس طرح سے تصدیق ہوی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : كمل من الرجال کثیر ولم یکمل من النساء الا مریم بنت عمران و اسیة امراة فرعون ، یعنی سابق امتوں میں سے مردوں نے تو بہت بڑے بڑے مقامات روحانی حاصل کیے ہیں مگر عورتوں میں سے بہت کم ہی ایسی عورتیں ہیں جن کی کمالیت ضرب المثل ہوئی ہے سوائے مریم بنت عمران اور آسیہ بی بی فرعون کے۔
Ayah 3:43

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

اے مریم ! اب تو اپنے رب کی اطاعت و فرمانبرداری میں مزید سرگرم ہوجا اور رکوع و سجود کرنے والوں کے ساتھ تو بھی رکوع و سجود کرتی رہ

سیدہ مریم کو مزید سرگرم عمل رہنے کی ہدایت : 104: سیدہ مریم بھی ان شخصیات میں سے ایک ہیں جن کے متعلق لوگ مختلف نظریات رکھتے ہیں۔ یہود مریم کے متعلق ان کے بچپنے کے متعلق تو بہت اچھے خیالات رکھتے تھے لیکن جب مریم جوان ہوئیں تو یہود کے خیالات میں تبدیلی آگئی اور یہ کوئی ایسی بات نہیں جو تسلیم نہ کی جاسکتی ہو کیونکہ سارے انبیاء کرام کے متعلق ان کی اپنی اپنی اقوام کے لوگ اچھے خیالات رکھتے تھے لیکن نبوت مل جانے کے بعد وہ لوگ جو نہایت اچھے خیالات رکھنے والے ہوتے تھے اتنے ہی مخالفت ہوجاتے تھے۔ خود رسول اللہ ﷺ کی زندگی پر نظر ڈالیں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجائے گی۔ آپ ﷺ کی نبوت سے پہلے برادری اور خاندان ہی کے لوگ نہیں بلکہ مکہ کے تمام لوگ آپ ﷺ کو ” الامین “ اور ” الصادق “ کے نام سے یاد کرتے تھے لیکن نبوت کے بعد کیا ہوا ؟ سب کو معلوم ہے اور اس طرح آپ ﷺ کے صحابہ ؓ و جانثاروں کا حال بھی یہی ہے بالکل اسی طرح جب سیدہ مریم جوان ہو کر یہود کی عملی اور علمی خرابیوں کی اصلاح کرنے لگیں تو وہ وہ ایسے مخالف ہوئے کہ طرح طرح کے الزامات لگانے لگے۔ دوسری طرف جن لوگوں یعنی نصاریٰ نے آپ کو برگزیدہ اور پاکباز سمجھا انہوں نے خدا کی ماں اور بعض نے اللہ کا ایک حصہ اور جز تک تسلیم کرلیا گویا یہود کی تفریط کی تو نصاریٰ نے بھی افراط میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ چنانچہ اس آیت بلکہ گزشتہ آیت میں بھی ان دونوں گروہوں کا ایک طریقہ سے رد کیا گیا۔ یہود کو صاف صاف بتا دیا کہ مریم اللہ کی نیک کردار بندی اور اس کے منتخب شدہ انسانوں میں سے ایک انسان تھیں۔ لہٰذا تمہارے سارے الزامات و اتہامات خود تراشیدہ ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ تم خود بھی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہو۔ جہاں یہود کو یہ بتایا گیا کہ آپ نہایت حد تک عبادت گزار اور اطاعت شعار خاتون تھیں وہاں نصرانیوں کو بھی یہ جتلا دیا گیا کہ مریم نعوذ باللہ نہ خدا کی ماں تھیں اور نہ ہی کوئی دیوی کہ ان کی پرستش کی جائے یا انہیں اللہ کے ساتھ شریک عبادت کیا جائے بلکہ ان کی ساری بزرگی و برگزیدگی تو بس یہ تھی کہ وہ اپنے مالک و مولیٰ کی نہایت ہی مخلص پرستار ، فرمانبردار اور نہایت درجہ عبادت گزار وطاعت شعار تھیں۔ وہ ایک بندہ تھیں اور ایک بندہ کی ماں تھیں تم نے ان کو دیوی اور اوتار کیسے سمجھ لیا ؟ فرمایا گیا اے مریم ! تم اللہ کی فرمانبرداری میں مزید سرگرم عمل ہوجاؤ اس لیے کہ نیکی اور اچھائی کی کوئی حد مقرر نہیں کہ اس سے آگے نیکی نہ کی جاسکتی ہو۔ بھلائی میں جتنی زیادہ سعی و کوشش کی جائے اتنی ہی کم ہے کیونکہ اس زندگی کی مدت متعین ہے اس لیے کہا جاتا ہے کہ خیرے کن اے فلاں و غنیمت شمار عمر ۔ کہ بانگ بر آید کہ فلاں نہ ماند یہ فرمانبرداری جس کی تم کو ہدایت کی جارہی ہے یہ صرف اور صرف اپنے رب کی ہونی چاہیے اور یاد رکھو کہ سجدہ و رکوع کرو تو دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر کیا کرو یعنی نماز باجماتع ادا کیا کرو۔ اور نماز میں لمبا قیام کیا کرو خصوصاً جب تم اکیلی نماز میں مصروف ہو اور اشارةً یہ بات بھی سمجھا دی کہ کسی نیکی کا حکم صرف ان ہی لوگوں کو نہیں دیا جاتا جو پہلے نیکی نہ کرتے ہوں بلکہ نیکو کاروں کو مزید نیکی کا حکم کرتے رہنا بھی تبلیغ ہے۔ اس سے عیسائیوں کو یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ وہ جو نبی اکرم ﷺ کو کوئی حکم ہوتا ہے تو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اس کے خلاف کیا تھا اس لیے یہ حکم ہوا کہ ایسا کرو۔ اس موقعہ پر ان کو اس طرح غور کرنا چاہیے کہ کیا مریم پہلے اللہ کی فرمانبردار اور عبادت گزار نہ تھیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے رب کی فرمانبردار رہو ؟ حالانکہ بات دراصل یہ ہے کہ بعض اوقات مشکلات کے لحاظ سے ایک بات کی بار بار تاکید کی جاتی ہے جس سے مشکلات کا سامنا کرنے والے کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ اس کا دل بڑھتا ہے اور ان مشکلات کا مزید ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے مریم بھی بڑے ابتلاؤں کا وقت آنے والا تھا جو علم الٰہی میں موجود تھا اور اس طرح ہدایت فرما کر گویا اس وقت کے لیے ان کو تیار کیا جا رہا ہے کہ اللہ کی فرمانبرداری میں مزید آگے بڑھو اور جب دل تنگ ہو تو اپنے مالک حقیقی کے سامنے گڑگڑاؤ کہ سارے دکھوں کا مداوا اسی میں ہے۔