3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 3:151

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

وہ وقت دور نہیں کہ جب منکرین حق کے دلوں میں ہم تمہاری ہیبت بٹھا دیں گے یہ اس لیے ہوگا کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ان ہستیوں کو بھی شریک ٹھہرا لیا ہے جن کیلئے اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور ان لوگوں کا بالآخر ٹھکانا دوزخ ہے اور جو ظالم ہیں تو ان کا ٹھکانا کیا ہی برا ٹھکانا ہے

گزشت آنچہ کفار مکہ کے دلوں میں اب بھی تمہارا رعب موجود ہے : 273: حالات و واقعات سے ظاہر ہے کہ احد کے میدان میں باوجود مسلمانوں کو اس قدر نقصان پہنچانے کے کفار کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب موجود تھا ان کو صاف معلوم ہوگیا تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ بھی زندہ ہیں اور ابوبکر ؓ و عمر ؓ بھی زندہ ہیں جیسا کہ پیچھے صحیح بخاری شریف کی حدیث سے ظاہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابو سفیان نے جب دیکھا کہ مسلمان دوبارہ محمد رسول اللہ ﷺ کے گرد جمع ہوگئے ہیں تو اس نے اپنی بہتری اس میں خیال کی کہ فوراً مکہ کی راہ لے۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ جاتے وقت کفار مکہ کو خود اس پر ندامت ہوئی کہ ہم اس طرح واپس آگئے اور یہ اچھا نہیں ہوا اور بغیر استیصال کے مسلمانوں کو چھوڑ آئے مگر پھر بھی اس رعب کی وجہ سے وہ دوبارہ لوٹ نہ سکے۔ ہاں ! نبی کریم ﷺ نے باوجود زخمی ہونے کے ان کا تعاقب کیا اور اگلے روز حمرالاسد تک ان کے پیچھے گئے۔ اس رعب کی وجہ سے ہی یہ ہوا کہ اگلے سال باوجود وعدہ کر جانے کے ابو سفیان مقابلہ کے لئے نہ نکلا۔ اور جنگ احزاب میں جب دس ہزار آدمیوں کو ساتھ لے کر آیاتب بھی راتوں رات یہ اتنا بڑا لشکر جس کے سامنے مسلمانوں کی کوئی خاص تعداد نہ تھی بھاگ اٹھا اور ایسا گیا گہ پھر کبھی آنے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔ وہ ایسے مرعوب ہوئے کہ نہ صرف یہ کہ ان کے حملوں کا انقطاع ہوگیا بلکہ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کی عہد شکنی کی وجہ سے دس ہزار صحابہ کے ساتھ چڑھائی کی تو وہ کچھ بھی مقابلہ نہ کرسکے اس طرح اس ایک چھوٹی سے جماعت کے سامنے سارے ملک کا عاجز آجانا اسی رعب خداوندی کی وجہ سے تھا۔ احادیث صحیحہ سے یہ بات بھی معلوم ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے اپنی جو خصوصیات دوسرے انبیاء کرام سے بتائی اور بیان فرمائی ہیں ان میں سے ایک رعب کا دیا جانا بھی ہے۔ چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ ان میں سے ایک بات یہی ہے کہ نصرت بالرعب مسیرۃ شھر میری امداد ایک مہینہ کی مسافت کے برابر رعب سے کی گئی ہے اور یہ رعب فرضی بات نہ تھی بلکہ رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی اس پر گواہ ہے اور اس کی ہزاروں شہادتیں لئے کھڑی ہے کہ دنیا میں جو کامیابی اتنی تھوڑی مدت میں آپ ﷺ نے حاصل کی وہ آپ ﷺ سے پہلے کسی کو بھی نصیب نہ ہوئی بلکہ آج تک اس کی مثال نہیں دے جاسکتی۔ اور یہ آپ ﷺ کا رعب ہی تھا کہ عرب کے پورے خاندان ، بہادری اور جنگجوئی میں نام پیدا کرنے والے آپ ﷺ کا کچھ نہ بگاڑ سکے بلکہ مکہ میں آپ ﷺ نے تیرہ برس گزارے اور جب تک حکم الٰہی نہیں آیا ہجرت نہیں کی۔ خون کے پیاسے وہیں پھرتے رہے لیکن آپ ﷺ کا بال بھی بیکانہ کرسکے۔ مشورے طے کرنے والے جب آپ ﷺ کے سامنے آئے تو نظروں سے نظریں بھی نہ ملا سکے۔ آپ ﷺ کا یہ رعب پوری دنیا میں اس طرح چھا گیا کہ آپ ﷺ کے بعد مدتوں تک صحابہ ، تابعین اور تبع تابعین کے ادوار گزر گئے اور آپ ﷺ کا وہی رعب کام دکھاتا رہا۔ دورنہ جائیں آج بھی اس مادی ترقی کے باوجود مسلمانوں کا رعب اس قدر ہے کہ غیر مسلم سب اس بات پر متفق ہیں کہ اگر مسلمان متفق و متحد ہوگئے تو ہمارا جینا محال ہوجائے گا اور اسلام کا یہی رعب ان سب کو متحد کئے ہوئے ہے اور سارے اختافات کو بد قسمتی سے خود بھول چکے ہیں کہ ہم کونسی قوم ہیں اور ہمارا رعب دوسری اقوام کے دلوں میں کتنا ہے اور وہ ہم سے کس قدر خائف ہیں۔ آج مسلمانوں کی اس گئی گزری حالت میں بھی اکثر عیسائی مدبرین کی حالت یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو کسی نہ کسی طرح کمزور کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ ان کی قوت سے خائف ہیں حالانکہ مسلمانوں کی سیاستی قوت جو کچھ ہے اس سے اتنی بڑی بڑی سلطنتوں کا خائف ہونا جو کروڑوں کی تعداد میں افواج رکھتی ہیں جن کے ایٹمی پروگراموں کے مقابلے میں مسلمان بالکل نہتے ہیں ایک مضحکہ خیز خیال ہے۔ مسلمانوں کی اسلامی زندگی جنازہ نکلا کھڑا ہے تاہم عیسائی مشزیوں کو اگر کسی مذہب کا خوف ہے تو وہ اسلام ہی ہے۔ یہ رعب حق ہے اور یہ انشاء اللہ اسی طرح رہے گا اور اللہ کرے کے مسلمان خود ہی اس حکمت الٰہی کو محسوس کرلیں کیونکہ مخبر صادق نبی اعظم و آخر ﷺ کے الفاظ بالکل حق ہیں اس لحاظ سے ہو خدائی وعدہ بھی ہے اور خدائی وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ سبحان اللہ ! پھر اس رعب کی وجہ بھی خود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمادی کہ ” مَا اَشْرَکُوْابِاللّٰہِ “ اس لئے کہ وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھراتے ہیں اور یہ آج بھی حقیقت ہے اور رہتی دنیا تک رہے گی مشرک بزدل اور کمزور ہوتا ہے کیونکہ جو شخص ادنیٰ سے ادنیٰ طاقت کے سامنے سر جھکانے کو تیار رہے حتیٰ کہ بادو باراں کی اور دوسری ادنیٰ و سماری طاقتیں تو ایک طرف رہیں نے جان چیزوں سے بھی جیسے پتھروں ، درختوں ، بتوں اور مردہ انسانوں کی پرستش کرتا پھرتا ہے اس لئے کہ وہ ان سب کو خدا سمجھتا ہے اور ان کی عبادت کرتا ہے ان پر قربانیاں پیش کرتا ہے اور ان سے مرادیں مانگتا ہے ان سے دعائیں کرتا ہے اور اس طرح کے افعال سے اس کا دل کمزور سے طاقتور خیال کرتا ہے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ اس ایک ہی سے ڈرتا ہے۔ وہ اپنے اوپر صرف یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی غیر اللہ سے نہیں ڈرتا وہ اتنا قوی القلب ہے کہ ساری دنیا کی مخالفت سے بھی نہیں ڈرتا اور حق پر قائم رہتا ہے۔ اس بات کے پیش نظر اب قرآن کریم کے دوسرے مقامات کا مطالعہ کرو چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ : سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْھُمْ کُلَّ بَنَانٍ (الانفال : 8:12) عنقریب ایسا ہوگا کہ میں کافروں کے دلوں میں مومنوں کی دہشت ڈال دوں گا۔ سو مسلمانو ! ان کی گردنوں پر ضرب لگائو اور ان کے ہاتھ پائوں کی ایک ایک انگلی پر ضرب لگائو۔ “ یاد رہے کہ ایک افرادی جوٹ ہوتے ہیں اور جماعتی اور اس جگہ دونوں ہی مراد ہیں۔ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : وَلَوْ قٰتَلَکُمْ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوَلَّوْا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّلاَ نَصِیْرًا (الفتح : 22:48) ” اور اگر تم سے یہ کافر لڑتے تو یہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے پھر وہ نہ کسی کو دوست پاتے اور نہ مددگار۔ “ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہوا : ہُوَ الَّذِیْٓ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَظَنُّوْٓا اَنَّہُمْ مَّانِعَتُہُمْ حُصُوْنُہُمْ مِّنَ اللّٰہِ فَاَتٰہُمُ اللّٰہُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَہُمْ بِاَیْدِیْہِمْ وَاَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ (الحشر : 2:59) ” وہی تو ہے جس نے ان لوگوں کو جو اہل کتاب سے کافر ہوئے ان کے گھروں سے پہلی ہی بار جمع کر کے نکال دیا۔ تم کو گمان بھی نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور انہیں بھی غلط فہمی تھی کہ ان کے قلعے ان کو اللہ کے عذاب سے پچالیں گے۔ پھر اللہ نے ان کو وہاں سے آلیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا کہ وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے اجاڑ رہے تھے۔ پس اے اہل بصیرت ، عبرت حاص کرو “ ایک جگہ ارشاد ہوا الٰہی ہوا : وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاھَرُوْھُمْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْھِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًا وَ اَوْرَثَکُمْ اَرْضَھُمْ وَ دِیَارَھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْھَا وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرًا (الاحزاب : 27 , 26:33) ” اور اہل کتاب میں سے جو ان کے پشت پناہ ہوتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے قلعوں سے نیچے اتار دیا اور ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی۔ بعض کو تم قتل کرنے لگے اور بعض کو قید اور اللہ نے ان کے ذہن اور ان کے گھر اور ان کے مال اور اس زمین کا جس پر تم نے پیر بھی نہ رکھا تھا تم کو مالک بنا دیا اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔ “ اور اس کے فیصلے ان مٹ ہیں۔ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہوا : کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ اِِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ (المجادلۃ :21 , 58) ” اللہ نے یہ بات لکھ دی ہے کہ اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے بیشک اللہ بڑا قوت والا اور غلبہ والا ہے۔ ” ایک جگہ اور ارشاد الٰہی ہے۔ اِِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ (ال مومن :51:40) ” بیشک ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور جس دن گواہ کھڑے ہو گے۔ “ یعنی قیامت کے دن جبکہ مومنین رسولوں کی تبلیغ اور کافروں کی تکذیب پر شہادت دیں گے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا : ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کَذٰلِِکَ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ (یونس :103:10) ” پھر جب عذاب کی گھڑی آجاتی ہے تو ہمارا قانون ہے کہ اپنے رسولوں کو اور مومنوں کو اس سے بچا لیتے ہیں۔ اس طرح ہم نے اپنے اوپر ضروری ٹھہرا لیا ہے کہ مومنوں کو بچالیا کریں۔ آپ غور کریں گے تو اس سچی بات پر سر دھن کر رہ جائیں گے کہ نزول قرآن کے وقت مسلمانوں کی جو طاقت ور تھے مگر ایمنا و یقین کی روح میں محروم تھے۔ مسلمان تعداد میں بلا شبہ تھوڑے اور سرو سامان سے محروم ہے مگر ایمان و یقین کی روح سے معمور تھے۔ نتیجہ کیا نکلا ؟ سب کو معلوم ہے کہ قلت کی ہیبت سے کثرت کے کانپ اٹھے اور مٹھی بھر انسانوں نے عرب کی پوری آبادی کو شکست دے دی۔
Ayah 3:152

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور دیکھو اللہ نے اپنا وعدہ نصرت سچا کر دکھایا تھا جب کہ تم اس کے حکم سے دشمنوں کو بےدریغ تہ تیغ کر رہے تھے لیکن جب تم نے کمز [ وری دکھائی اور جنگ کے بارے میں باہم دگر جھگڑنے لگے اور بالآخر اپنے سردار کے حکم سے کہ وہ اللہ کا رسول تھا نافرمانی کر بیٹھے ، تم میں کچھ لوگ تو ایسے تھے جو دنیا کے خواہش مند تھے ، کچھ ایسے تھے جن کی نظر آخرت پر تھی پھر ہم نے تمہارا رخ دشمنوں کی طرف سے پھرا دیا تاکہ تمہیں آزمائیں ، بہرحال اللہ نے تمہارا قصور معاف کردیا اور بلاشبہ وہ مومنوں کے لیے بڑا ہی فضل رکھنے والا ہے

واقعہ یاد کرو جب کہ ہم نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا تھا اور تن کفار کو تہ تیخ کر رہے تھے : 274: وہ وعدہ الٰہی کیا تھا جو پورا ہوا ؟ پیچھے آپ پڑھ گئے ہیں کہ اللہ تعلای نے ارشاد فرمایا کہ ’ وہ وقت یاد کرو جب تم مومنوں سے کہہ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری تین ہزار ملا ئ کہ سے مدد فرمائے گا۔ “ یہاں ارشاد ہوا کہ ” اور دیکھو یہ واقعہ ہے کہ اللہ نے اپنا وعدہ جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا وہ اللہ نے پورا کر دکھایا۔ وعدہ کیا تھا کہ ملائکہ تمہاری نصرت کریں گے اور ملائک معاون مددگار رہے اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیا لیکن جنگ کرنے والے کافروں کی تہ تیخ تم مسلمان کر رہے تھے۔ یہ بات بالکل حقیقت ہے کہ مسلمانوں کا کافروں کو قتل کرنا اور یہاں تک قتل کرنا کہ وہ میدان جنگ سے بھاگ اٹھے تاریخی وقعات ہیں جو آج بھی صفحات تاریخ میں محفوظ ہیں۔ کفار کے لشکر کو مسلمانوں نے یہاں تک تہ تیغ کیا کہ ان کا صاحب لوا مار گیا بلکہ نو آدمی جن کے ہاتھ میں یکے بعد دیگرے جھنڈا آیا سب مارے گئے۔ اور اس پر تاریخ شاہد ہے کہ ان میں اسی قدر لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ کہ آخر سواریوں کے کے ناکافی ہوجانے کی وجہ سے ایک دوسرے کو پیٹھوں پر اٹھا کر لئے گئے تھے۔ اور کژرت سے زخمی ہوجانے کی وجہ سے ہی ان کو یہ جرات نہ ہوئی کہ باوجود بعد میں مسلمانوں کے منتشر ہوجانے کے ان کا استحصال کرسکتے یا ان کو قیدی ہی کرلیتے جن لوگوں کی تباہی کے لئے وہ اس قدر سامان کر کے آئے تھے۔ اسی سامان کا اس طرح میدان جنگ میں چھوڑ کر بھاگ جان صاف بتاتا ہے کہ لئے وہ اس قدر سامان کرکے آئے تھے اسی سامان کا اس طرح میدان جنگ میں چھوڑ کر بھاگ جانا صاف بتاتا ہے کہ پہلی دفعہ ان میں بھگدڑ مچ گئی تھی اور وہ سب کچھ چوڑچھاڑ کر بھاگ نکلے تھے۔ ان کا لشکر ہزیمت اٹھا چکا تھا اور میدان چھوڑ کر بھاگ نکلا تھا۔ جنگ احد کی دوسری حالت کا ذکر کہ تم نے بزدلی کا مظاہرہ کیا : 275: یہ جنگ کی گویا دوسری صورت ہے کہ تم نے کمزوری دکھائی۔ 2 ۔ جنگ کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے۔ 3 ۔ اپنے سردار یعنی رسول اللہ ﷺ کے حکم کی نافرمانی کے مرتکب ہوئے۔ قرآنی کریم نے ان تین باتوں کو ان الفاظ میں بیان فرمانی کے مرتکب ہوئے۔ قرآن کریم نے ان تین باتوں کو ان الفاظ میں بیان فرمایا۔ ” فشلتم “ ، تنازعتم ، عصیتم ، اور یہ تینوں صورتیں ان حضرات کی ہیں جو جب عینین پر متعین تھے جن کی تعداد پچاس کے قریب تھی جن کے سردار عبداللہ بن جبیر تھے۔ جن کا کام دشمنوں پر تیر پھینکنا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اس جگہ ڈیوٹی پر متعین کرتے وقت اس طرح ارشاد فرمایا تھا۔ لاتبرحوان رایتمونا ظھرنا علیھم فلا تبراحوا وان رایتموھم ظھروا علناح فلا تعینونا (بخاری) ” تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا اگر دیکھو کہ ہن ان پر غالب آگئے ہیں تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا اگر تم دیکھو کہ وہ ہم پر غالب آگئے ہیں تو تم ہماری مدد کے لئے نہ آؤ ۔ “ جنگ کے دوران اس حکم کی کیا حیثیت ہے ؟ اور یہ حکم کس نوعیت کا ہے ؟ اس حقیقت کو وہی اچھی طرح سمجھتا ہے جو کبھی فوجوں کی کمان کے جھنڈا تھامے والے لوگ یکے بعد دیگرے قتل ہونا شروع ہوگئے تو کفار میدان سے بھاگ نکلے اور مسلمان تلواریں لہراتے اور للکارتے ہوے ان کے پیچھے لگ گئے۔ کفار نے سارا سامان جہاں تھا وہیں چھوڑا اور اپنے زخمیوں اور مقتولوں کو اٹھا کر بھاگتے بنے اس طرح گویا مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگئی۔ یہ سارا ماجرا ان لوگوں نے جو جبل عینین پر تھے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ان کو یقین ہوگیا کہ دشمن بھاگ گیا۔ انہوں نے کمزوری یہ دکھائی کہ آرڈر ملنے سے پہلے اپنی جگہ کو چھوڑ کر نیچے اترنے لگے۔ ان کے سردار عبد اللہ بن جبیر نے ان کو روکا لیکن ان میں خوشی کی جو لہر دوڑ گئی تھی اس نے ان کو رکنے نہ دیا۔ یہ تنازع اس طرح ہوگیا کہ جبل عینین پر متعین یعنی گیر اندازوں کی جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ ان میں سے کچھ کی رائے میں چونکہ فتح ہوگئی۔ اس لئے اب اس جگہ رکنے کا کوئی جواز نہ رہا اور 5 دوسرے گروہ نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کا حوالہ دیا لیکن اتفاق رائے نہ ہوا۔ زیادہ لوگ دوسرے مجاہدین سے آ کر مل گئے اور قتریباً دس آدمی وہاں رہ گئے۔ مشرکین مکہ کے سپہ سالار کالد بن ولید نے جب یہ دیکھا کہ جبل عینین پر صر چند اڈمی نظر اٹے ہیں تو اس نے اپنی فوج کو اس طرف سے ہو کر حملہ کرنے کا اچارہ دے دیا۔ لہٰذا ان لوگوں نے اچانک حملہ کردیا اور اس طرح گویا وہ لوگ جنہوں نے اپنی جگہ چھوڑی تھی نافرمانی کے مرتکب ہوئے اور ان کی نافرمانی کا اثر سب پر پڑا۔ جس سے یہ بات واضح ہو گیک کہ قومی کاموں پر متعین لوگ اگر کسی طرح کی کوئی غلطی کریں تو اس کا وبال پوری قوم پر پڑتا ہے اس لئے اس طرح کی ذمہ دارانہ جگہوں پر جن لوگوں کو متعین کیا جائے ان کو ہر حال میں اپنی ذمہ داری میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ یہاں جو کچھ ہوا وہ غلطی ضرور تھی۔ اگرچہ وہ غلطی بدنیتی پر مبنی نہ تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دی۔ کچھ لوگوں کی نظر دنیا کی خواہش پر تھی : 276: دنیا کی خواہش کیا تھی ؟ غنیمت کا مال جمع کرنا در اصلخ خالصتہً جہاد کا حصہ تھا اور ضروری تھا کہ وہ جمعی کیا جاتا اور پھر اسلامی اصولوں کے مطابق تقیم کیا جاتا لیکن یہ کام دین کا اس وقت نہ رہا جب جن کی ذمہ داری یہ نہ تھی انہوں نے بھی کرنا شروع کردیا۔ گویا انہی تیر اندازوں کے دو گروہوں کا ذکر ان الفاظ میں اس طرح کردیا کہ ” تم میں سے کچھ لوگ تو ایسے تھے جو دنیا کے خواہش مند تھے “ ظاہر ہے اس دنیا کا مال یعنی مال غنیمت اس دنیا ہی کا کہلائے گا خصوصاً اس لئے بھی کہ ان چالیس تیر اندازوں نے جو مال غنیمت کے جمع کرنے پر لگ گے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کی تھی۔ اگرچہ وہ کسی بدنیتی کی بنیاد پر نہ تھی۔ کچھ لوگوں کی نظر آخرت پر ٹک گئی اور وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹے : 277: یہ ان ہی تیر اندازوں میں سے دس صحابہ کرام ؓ تھے۔ جو اپنی جگہ پر قائم رہے اور اپنا فرض ادا کرتے کرتے شہید ہوگئے اور اس طرح وہ اس دنیا سے تو رخصت ہوگئے۔ لیکن وہ ابدی زندگی پا گئے جس کے بعد کبھی موت نہیں آئے گی اور اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کے مستحق ہو کر بلا حساب جنت میں داخل ہوگئے۔ اور پہلے ہی بلاشبہ جنت کے مستحق تو ہوئے لیکن ان کو یہ شرمندگی بھی اٹھانا پڑی جس کی معافی کا اعلان الٰہی آگے آرہا ہے۔ انجام کار جن سے غلطی سرزد ہوئی تھی ان کی غلطی کی معافی کا اعلان کردیا گیا : 278: یہ غلطی ان سے کیوں سرزد ہوئی ؟ فرمایا مشیت ایزدی کے تحت جس کا نقصان اٹھانے کے باوجود فائدہ بھی تھا اور وہ فائدہ ہوا فائدہ کیا ہوا ؟ فرمایا ” لیبتلکیکم “ تمہاری جانچ کرنے کے لئے تاکہ اہل نفاق سے مومن ممتاز ہوجائیں۔ اس لئے کہ مومن کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرتا ہے اور منافق گلے شکوے پر اتر آتا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ بعض لوگوں کی غلطی کی وجہ سے کبھی غلطی نہ کرنے والوں کو بھی نقصان پہنچ جاتا ہے اور یہ نقصان یقینا فرمانبرداری کے لئے زیادتی اجر کا باعث ہوتا ہے۔ پھر فرمایا کہ ” ولقد عفا عنکم “ تم کو معاف کردیا گیا یعنی غلطی تو ایسی خطرناک تھی کہ معمولی حالات میں ایک قوم کے استیصال کے لیے کافی تھی مگر اللہ تعالیٰ چونکہ انسانوں کی نیتوں اور ارادوں سے واقف ہے وہ جانتا ہے کہ جن لوگوں سے یہ غلطی سرزد ہوئی ان کی نیت خراب نہ تھی بلکہ سہواً خطاء ہوئی اس لئے معاف کردی گئی۔ ان الفاظ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑے بڑے بھاری کناہوں کو جن کو کبیرہ گناہ کہنا چاہیے انسانوں کی بعض دوسری خوبیوں کی وجہ سے بلا توجہ بھی معاف کردیتا ہے اور یہ بھی کہ مرنے والوں کی توبہ کا انحصار ان کی نیت پر ہی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نیتوں سے وقف ہے جب ان کے گناہ سے درگزر فرمایا اور ان کی معافی کا اعلان کردیا تو ظاہر ہے کہ ان کی نیت میں کوئی خرابی نہیں تھی اور یہی بات ان کی معافی کا سبب ہوئی۔ اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقابِلِ التَّوْبِ (ال مومن :3:40) کہ وہ یعنی ” اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف کرنے والا اور توبہ کو قبول کرنے والا ہے۔ “
Ayah 3:153

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

جب تم میدان سے بھاگ رہے تھے اور ایک ، دوسرے کی طرف مڑ کر دیکھتا تک نہ تھا اور اللہ کا رسول ﷺ تھا کہ پیچھے سے تم کو بلا رہا تھا سو جب تمہارا یہ حال ہوا تو اللہ نے بھی تمہیں رنج پر رنج دیا تاکہ آئندہ نہ تو اس چیز کے لیے غم کرو جو ہاتھ سے جاتی رہی ہے نہ اس پر غمگین ہو جو سر پر آپڑے اور جو تم کرتے ہو اللہ اس کی خبر رکھنے والا ہے

غزوہ احد کا تیسرا مرحلہ جس میں لشکر اسلام کو ہزیمت کا سامنا ہوا : 279: ہ وہ وقت ہے جب خالد بن ولید کی معیت میں لشکر کفار نے جبل عینین پر رہ گئے صحابہ کرام کی چھوٹی سی جماعت کو شہید کرتے ہوئے لشکر اسلام پر پیچھے سے حملہ کردیا تھا۔ ایسی حالت میں جب مسلمان فتح کے زعم میں ایک طرف سے لشکر کفار کو دبائے چلے جا رہے تھے۔ دوسری طرف سے ان پر اچانک حملہ نے ان کے اوسان خطا کردیئے اور کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ کیا ہوا ؟ وہ چھوٹی سی جماعت جس کے ختم ہونے کا امکان بدر کے دن بھی تھا اور جو اللہ کے فضل و کرم اور اپنے استقلال کے نتیجہ میں میدان کار زار فتح و کامرانی کے ساتھ لوٹی تھی۔ آج پھر بہت بڑے امتحان سے گزر رہی تھی۔ اور آپ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے لئے شوال 3 ھ کو دوپہر سے غروب آفتاب کے تقریباً پانچ گھنٹے مکہ کے تیرہ سالوں سے بھی زیادہ صبر آزما تھے۔ غزوہ احد کے اس تیسرے دور کا نقشہ کھینچنا آساں بھی ہے اور مشکل بھی۔ اس لئے کہ ہزیمت اٹھانے والے لشکر کے متعلق بہت کچھ کہا جاسکتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے لیکن مشکل اس لئے کہ ایسے نازک و وقت میں کسی لشکر کا دوبارہ تیار ہو کر مخالفین کو نئے سرے سے شکست سے دوچار کردینا کیسے ہوا ؟ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا۔ جب مسلمان دشمن کی زد میں آکر بھاگ اٹھے اور رسول اللہ ﷺ ان کو اجتماع کے لئے بلا رہے تھے۔ اور بآواز بلند فرما رہے تھے۔ ” اِلی عباد اللہ الی عباد اللہ انارسول اللہ “ اے اللہ کے بندو میری طرف آجاؤ ۔ اے اللہ کے بندوں میری طرف آجاؤ ۔ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ایسے خطرناک موقعہ پر اپنے آپ کو آگے بڑھانا اور دشمن کے حملہ کا خطرہ دل میں ہرگز نہ لانا نبی کریم ﷺ کی کمال شجاعت کو دکھاتا ہے۔ اور ظاہر کرتا ہے۔ کہ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی نصرت پر کس قدر بھروسہ تھا کہ میدان جنگ میں دشمن کے غلبہ کے وقت آپ چھپے نہیں بلکہ مزید ظاہر ہوتے ہیں اور بےخطر اپنے ساتھیوں کو پکارتے ہیں کہ بھاگو نہیں ادھر آؤ ۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کی اس آواز ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ مسلمانوں نے آپ ﷺ کے گرد جمع ہونا شروع کردیا اور ایک چھوٹی سی جماعت نے آپ ﷺ کے ارد گرد ایک حلقہ سا بنا لیا یہ چودہ سر فروش مجاہدین تھے۔ جن کی قیادت صدیق اکبر ؓ کے سپرد تھی اور صدیق اکبر ؓ کی راہنمائی آپ ﷺ خود فرما رہے تھے۔ اس طرح لشکر اسلام کے سپ سالار اعظم ﷺ کے ہمرکاب صرف چودہ محافظوں کا دستہ ہے اور آپ ﷺ پر دو سو گھوڑ سواروں کا عقب کی جانب سے حملہ ہوتا ہے۔ یہ گھوڑا سوار چندہی لمحے قبل تیر اندازوں کی ایک جماعت کو روندتے ہوئے حملہ آور ہوئے ہیں مگر ان چودہ پندرہ پاپیادہ مجاہدوں نے جس پامردی ، جس ہمت ، جس استقلال اور جس اولو العزمی سے اس لشکر کے حملہ کو روکا اس کی مثال عالمی عسکری تاریخ پیش کرنے سے یقینا قاصر ہے اور ان کے اس کامیاب دفاع کی تفصیل یا اس ناممکن تصور کار کردگی کا نقشہ کھینچا اس قلم کے بس کی بات نہیں۔ ان چودہ جلیل القدر اصحاب رسول ﷺ میں وہ کو اکب شامل تھے جن کے کارناموں کی مثال ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔ ان میں سرفہرست سیدنا ابوبکر صدیق ؓ رفیق سفر ہجرت اور یار غار موجود ہیں۔ عام زندگی میں صدیق اکبر ؓ بیشک نرم گفتار ، نرم رفتا ، غریبوں اور یتیموں کے مونس و غمگسار تھے مگر میدان کر زار میں اپنے ہادی و رہبر کے بعد سب سے زیادہ دلیر اور شجاع معروف تھے۔ انہوں نے اس لشکر کفار کے حملہ کور روکنے کے لئے وہ جوہر دکھائے جن کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے اپنے باقی ساتھیوں سے مل کر آپ ﷺ کے گرد ناقابل تسخیر دیوار قائم کرنے میں پورا پوراکردار ادا کیا۔ اس موقع پر صدیق اکبر ؓ نے ان چودہ نامور دلیروں کے حلقہ کو اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ ﷺ کے گرد قائم رکھنے میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو استعمال کیا اور پورے میدان کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کی آواز پر لبیک کہنے والے اس دستہ میں فاروق اعظم ؓ علی المرتضیٰ ؓ زبیر بن عوام ؓ ، ابوعبیدہ ؓ بن الجراح اور عبدالرحمٰن بن عوف ؓ ، مہاجرین میں عاصم بن ثابت ؓ ، حارث بن اسمہ ؓ ، سہل بن حنیف ؓ ، سعد بن معاذ ؓ اور عبید بن حضیر ؓ انصار میں سے شامل تھے۔ اس طرح جوں جوں لڑائی ہوتی رہی لشکر اسلام کے سپاہی جو بکھر چکے تھے دوبارہ جمع ہونا شروع ہوگئے۔
Ayah 3:154

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

پھر اللہ نے تم پر بےخوفی کی خود فراموشی طاری کردی ، یہ حالت ایک گروہ کی تھی لیکن تم میں ایک دوسرا گروہ بھی تھا جسے اس وقت بھی اپنی جانوں کی پڑی تھی اور اللہ کی جناب میں عہد جہالت کے سے ظنوں و اوہام رکھتا تھا ، سمجھتا تھا کہ اس کام میں ہماری رائے کا کوئی دخل نہیں ، ان سے کہہ دیجئے کہ ان کا کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے سب اختیارات صرف اللہ کیلئے ہیں جس بات کو وہ ظاہر نہیں کر رہے تھے بلکہ دلوں میں چھپی تھی وہ یہ تھی کہ اگر ہمارے اختیار میں کچھ ہوتا تو ہمارا اتنا جانی نقصان نہ ہوتا ، ان سے کہہ دو اگر تم اپنے گھروں کے اندر بیٹھے ہوتے جب بھی جن کیلئے مارا جانا تھا وہ گھر سے ضرور نکلتے اور اپنے مارے جانے کی جگہ پہنچ کر رہتے اور اللہ کو منظور تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں چھپا ہوا ہے اس کیلئے تمہیں آزمائے اور جو کدورتیں تمہارے دلوں میں پیدا ہوگئی تھیں انہیں پاک و صاف کر دے اور اللہ جانتا ہے جو انسانوں کے دلوں میں پوشیدہ ہوتا ہے

احد کی ان مشکل گھڑیوں میں ایک مزید مشکل کا اضافہ : 280: غم بالائے غم یعنی متواتر غم ہی غم۔ فتح کا شکست سے بدل جانے کا غم۔ ساتھیوں کا میدان احد شہید ہونے کا غم۔ قدم اکھڑجانے کا غم۔ مجاہدین کے ذخمہ ہونے کا غم۔ ایسی مشکل گھڑیوں میں ایک مزید مشکل کا اضافہ اس طرح ہوا کہ عبد اللہ بن قمیہ جو قریش کا مشہور بہادر تھا اپنے ہی لشکر کو چیرتا پھاڑتا ہوا آگے بڑھا اور نبی ﷺ کے قریب آگیا اور تلوار کا وار کیا اور آپ ﷺ کے چہرہ اقدس پر تلوار ماری اس کے صدمہ سے مغفر کی دو کڑیا چہرہ اقدس پر تلوار ماری اس کے صدمہ سے مغر کی دو کڑیا چہرہ مبارک میں چبھ کر رہ گئیں۔ اس طرح آپ ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہوگیا۔ یہ دیکھ کر جاں نثاروں نے آپ ﷺ کو پھر دائرہ میں لے لیا۔ ابو دجانہ ؓ جھک کر سپر بن گئے اب جو تیر آتے تھے ان کی پیٹھ پر آتے تھے۔ حضرت طلحہ ؓ نے تلواروں کو ہاتھ پر روکا۔ ایک ہاتھ کٹ کر گر گیا۔ لیکن دوسرے ہاتھ سے برابر کفار پر تلوار برساتے رہے ایسے نازک موقعہ پر بھی آپ ﷺ کی زبان سے نکلا تو یہی نکلا کہ ” رب اغفر قومی فانھم لا یعلمون “ اے اللہ ! میری قوم کو بخش دے کہ وہ جانتے نہیں۔ اس کی تفصیل مسلم شریف غزوہ احد جلد دوم میں ملاحظہ کریں۔ یہی وہ مقام ہے کہ جس وقت سعد بو وقاص ؓ جو ایک مشہور تیر انداز تھے اور اس وقت آپ کے رکاب میں حاضر تھے۔ اور کفار کے لشکر پر تیر پھیک رہے تھے کہ ان کا ترکش ٹوٹ گیا تو نبی ﷺ نے اپنا ترکش ان کے آگے ڈال دیا اور فامایا کہ ” تم پر میرے ماں باپ قربان تیر مارے جاؤ ۔ “ (بخاری : 580) بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ اقدس زخمی ہوا لیکن مسلمانوں کو آپ ﷺ کی اس تکلیف کا اتنا صدمہ پہنچا ہوا کہ ” تمہیں رنج پر رنج دیا تاکہ اس حادثے سے تم عبرت پکڑو اور آئندہ نہ تو اس چیز کے لئے غم کرو جو ہاتھ ہوئے آئندہ چوکس رہنے اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کی صحٰح معنوں میں پیروی کرنے کی ہمت بڑھ جائے اور کہیں زیادہ صبرو استقلال سے کام جاری رکھا جائے نہ کہ ماتم اور مسلسل ماتم پر ماتم شروع کردیا جائے۔ علم الٰہی میں انسانوں کے سارے کاموں کی حقیقت موجود ہے : 281: کوئی کس ارادہ سے شریک جنگ ہوتا ہے اور شریک جنگ ہو کر کیا کیا کرتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ سے انسانوں کی کوئی حرکت بھی پوشیدہ نہیں۔ جو جس ارادہ سے آیا ہے یقینا اس کے مطابق اس کو اجر ملے گا اور ” الاعمال بالنیات “ کی حدیث مشہور اور واضح ہے۔ مختصر یہ کہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ احد کے میدان میں جو کچھ پیش آیا اس کی حقیقت کیا ہے ؟ اللہ کا وعدہ نصرت اس موقع پر بھی پورا ہوا تھا اور دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے تھے۔ لیکن جب تمہاری ہی جماعت کے لوگوں نے عین حالت جنگ میں حکم رسول ﷺ کی نافرمانی کی اور ایک گروہ مال غنیمت کی طمع میں مورچہ چھوڑ کر تتر بتر ہوگیا۔ تو میدن جنگ کی ہوا پلٹ گئی اور فتح ہوتے ہوتے شکست میں بدل گئی پھر تم نے صبرو استقلال سے کام لیا تو اس کا نتیجہ بھی تم نے آنکھوں سے دیکھ لیا کہ تمہاری شکست کو پھر فتح میں بدل دیا گیا۔ پس یہ جو کچھ ہوا دشمنوں کی طاقت و کثرت سے نہیں ہوا بلکہ تمہاری نافرمانی اور بےہمتی سے ہوا۔ اب اس کا نتیجہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ تم دشمنوں کی طاقت و کثرت سے مرعوب ہونے لگو بلکہ ہونا یہ چاہیے کہ اپنے اندر صبر وتقویٰ کی سچی روح پیدا کرو۔ تمہارے اعمال درست ہوں گے تو ان کے نتائج بھی یقینا درست ہی ہوں گے لیکن اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اس بات کا اچھی طرح خیال رکھو۔ مصیبت کو برداشت کر جانا بھی اطمینانِ قلب کا باعث ہوتا ہے : 282 : مصیبت ہر حال میں مصیبت ہی ہوتی ہے۔ دعا یہی کرنا چاہیے کہ اللہ کسی کو مصیبت میں مبتلا نہ کرے لیکن مشیت ایزدی سے اگر مصیبت آ ہی جائے تو بجائے جزع فزع کے صبر و ثبات سے کام لینے کی توفیق میسر آجائے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و انعام ہے۔ میدان احد میں جب مسلمانوں کی بڑی تعداد مضطرب ہو کر بھاگنے لگی تو نبی اعظم و آخر ﷺ نے پکارنا شروع کیا۔ ” الی عباد اللہ “ اللہ کے بندو ! میری طرف آؤ ۔ تم کہاں بھاگے جا رہے ہو ؟ جو لوگ ایمان و اخلاص میں پکے تھے اور محض صورت حال کے فوری اثر نے انہیں گھبرا دیا تھا وہ اپنے رسول ﷺ کی آواز سنتے ہی چونک اٹھے۔ انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے اچانک ایک مدہوشی کی سی حالت طاری ہوگئی اور اس مدہوشی میں سارا خوف و ہراس فراموش ہوگیا۔ چناچہ وہ فوراً پلٹے آسمانی بجلی کی طرح کڑکے اور اس بےخودی کی حالت میں تلوار و تیر کو اس انداز سے چلایا کہ دشمنوں کے اوسان خطا کردیے اور ان کو میدان جنگ سے بالاخر بھگا دیا بلکہ حمراء الاسد نامی مقام تک جو مدینہ سے آٹھ دس میل کے فاصلہ پر ہے ان کے تعاقب میں بڑھتے ہی چلے گئے۔ اس طرح جو مصیبت ان کو اس میدان میں پہنچی تھی اس کو برداشت کر کے اطمینان قلب حاصل کرلیا۔ بالکل اس طرح کی صورت میدان بدر میں پیش آئی تھی جس کا ذکر سورة الانفال میں آئے گا۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہوا کہ :ـ اِذْ یُغَشِّیْکُمُ النُّعَاسَ اَمَنَۃً مِّنْہُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ مَآئً لِّیُطَھِّرَکُمْ بِہٖ وَ یُذْھِبَ عَنْکُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ وَ یُثَبِّتَ بِہِ الْاَقْدَامَ (الانفال : 11:8) ” جب ایسا ہوا تھا کہ اس نے چھا جانے والی غنودگی تم پر طاری کردی تھی کہ یہ اس کی طرف سے تمہارے لیے تسکین و بےخوفی کا سامان تھا اور آسمان سے تم پر پانی برسا دیا تھا کہ تمہیں پاک و صاف ہونے کا موقعہ دے دے اور تم سے شیطانی وسوسوں کی ناپاکی دور کر دے نیز تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھ جائے اور تمہارے قدم جما دے۔ “ ان دونوں مواقع پر وجہ ایک ہی تھی کہ جو موقع شدت خوف اور گھبراہٹ کا تھا اس وقت مسلمانوں کے دلوں کو ایسے اطمینان سے بھر دیا کہ ان پر غنودگی طاری ہونے لگی۔ بدر میں ظاہری حالت کو درست کرنے کے لیے بارش برسا دی گئی اور اس بارش کے تین فائدے ہوئے ایک مسلمانوں کو پانی کی کافی مقدار مل گئی جب کہ ان کے پاس پانی بالکل موجود ہی نہ تھا اور انہوں نے فوراً حوض بنا کر نشیب میں پانی روک لیا دوسرے یہ کہ مسلمان چونکہ وادی کے بالائی حصہ پر تھے جو سخت ریتلا علاقہ تھا اور پاؤں ٹکتے نہ تھے اس لیے بارش کی وجہ سے ریت جم گئی اور زمنت اتنی مضبوط ہوگئی کہ قدم اچھی طرح جم سکیں اور نقل و حرکت بآسانی ہو سکے۔ تیسرے یہ کہ لشکر کفار نشیب کی جانب تھا اس لیے وہاں اس بارش کی حالت کیچڑ کی سی ہوگئی اور ان کے پاؤں پھسلنے لگے اور یہاں احد کی لڑائی میں اگرچہ مسلمانوں کو اپنے ہی کیے کے نتیجہ میں تکلیف بھی پہنچی تاہم میدان میں نکلنے کا یہ فائدہ حاصل ہوا کہ مسلم اور منافق کا نکھیڑ ہوگیا جو اس سے پہلے اس طرح واضح نہ تھا اور قومی زندگی کے لیے یہ ایک بہت بڑا اور اہم معاملہ تھا بلکہ یہ اسلامی عمارت کی بنیاد تھی۔ اس میں اس جماعت کا ذکر ہے جو میدان احد میں لشکر کفار کے مقابلہ کے لیے نکل کھڑے ہوئے تھے اور ان کو کسی طرح کی لیعت و لعل نہ تھی اگرچہ ان ہی میں سے چند لوگوں کی غلطی سے پوری جماعت کو نقصان اٹھانا پڑا لیکن باوجود نقصان اٹھانے کے ان کے دلوں میں کمزوری پیدا نہ ہوئی بلکہ وہ خالص سونے کی طرح ” اب کندن “ بن گئے۔ ان کو جو غم و افسوس ہوا وہ بالکل وقتی تھا جو اسی میدان میں کافور ہوگیا۔ وہ واپس لوٹے تو ان کے دل ہر طرح سے مطمئن تھے اور خوف و ہراس نام کی کوئی شے اب ان میں موجود نہ تھی۔ بہانے تراشنے والوں کو بھی ایک بہانہ مل گیا : 283 : لیکن ایک دوسری جماعت بھی تھی جو نام کے لحاظ سے تو مسلمان ہی تھی اگرچہ کام کے لحاظ سے وہ کفار سے بھی بدتر تھی۔ یہ جماعت کیا تھی ؟ وہی عبداللہ بن ابی کی پارٹی جو میدان جنگ میں آنے کے لیے راضی نہ تھی اور اسی بات کو بہانہ بنا کر وہ واپس مدینہ لوٹ گئی تھی۔ ان لوگوں کو گھر بیٹھے ہی یہ فکر کھائے جا رہی تھی جب انہوں نے یہ سنا کہ لشکر اسلام تتر بتتر ہوگیا اور بہت سے لوگ میدان جنگ میں کام آئے۔ ان کا خیال تھا کہ اب مکہ کا لشکر مدینہ پر حملہ آور ہوگا اور اگر ایسا ہوا تو ہمارا کیا بنے گا ؟ اس لیے کہ یہ لوگ منہ سے تو اسلام کے مدعی تھے۔ اس طرح ان کو اپنی جانوں ہی کی فکر لگی رہی۔ وہ کہتے تھے جو کچھ ہوا اس میں ہمارا کیا قصور ہے ؟ اگر رسول اللہ ﷺ اللہ کا رسول ہوتا تو ایسی حالت پیش ہی کیوں آتی ؟ اور یہ بھی کہتے تھے کہ میدان احد میں جانے والوں نے ہماری بات نہ مانی اس لیے اب چکھ لیں مزہ وہ میدان جنگ میں جانے کا اور یہ کہ اگر ہماری بات مانی ہوتی تو یہ لوگ میدان جنگ میں کیوں مارے جاتے ؟ یہ اور اس طرح کی بت سی باتیں وہ بناتے رہے۔ لیکن جب بہت سے خیال ان کے غلط نکلے۔ مکہ والے مدینہ پر حملہ کی جرأت کیا کرتے وہ تو بمشکل جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہوئے تھے تاہم ایک بات ان کے لیے بہانہ بن گئی کہ ” ہماری بات نہ مان کر پیغمبر اور اس کے ساتھیوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔ “ اس طرح گویا ایک ہی واقعہ نے دونوں گروہوں کو اپنے اپنے موقف میں پکا کردیا۔ سچے مسلمانوں کو اسلام کی سچائی اور منافقین کو نفاق پر اور یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ فائدہ میں کون رہا اور نقصان کس کا ہوا ؟ دوسری جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ : بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ اِِلٰٓی اَہْلِیْہِمْ اَبَدًا وَّزُیِّنَ ذٰلِکَ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْئِ وَکُنْتُمْ قَوْمًام بُوْرًا (الفتح : 12:48) ” تم نے یوں سجھا کہ رسول اللہ اور مومنین اپنے گھروں میں پلٹ کر نہ آسکیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوں کو بہت بھلا لگا اور تم نے بہت بڑے گمان کیے اور تم سخت بدباطن لوگ ہو۔ “ یعنی تم اس بات پر خوش ہو کہ رسول اور اس کا ساتھ دینے والے اہل ایمان جس خطرے کے منہ میں جا رہے تھے اس سے تم نے اپنے آپ کو بچالیا ہے۔ تمہاری نگاہ میں یہ بڑی دانشمندی کا کام ہے اور تمہیں اس بات پر خوش ہوتے بھی شرم نہ آئی کہ رسول اور اہل ایمان ایک ایسی مہم پر جا رہے ہیں جس سے وہ بچ کر نہ آئیں گے۔ ایمان کا دعویٰ رکھتے ہوئے بھی تم اس پر مضطرب نہ ہوئے بلکہ اپنی یہ حرکت تمہیں بہت اچھی معلوم ہوئی کہ تم نے اپنے آپ کو رسول کے ساتھ اس خطرے میں نہیں ڈالا۔ تف ہے تم پر کہ تم نے کیا سوچا ؟ منافقین کہہ رے تھے کہ ہمارا کوئی اختیار چلتا ہے ؟ 284 : غزوہ احد میں منافقین نے جس بات کا اظہار کیا تھا تو وہ یہی تھے کہ اتنے بڑے لشکر کے ہاتھ سے کھلے میدان میں مسلمان مارے جائیں گے لیکن ان کے دلوں میں جو کچھ چھپا تھا وہ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا تھا۔ اب جو اقعات جنگ کی خبر ان کو پہنچی تو وہ اور بھی باتیں بنانے لگے اور اپنے مشوروں کی اہمیت کھل کر بیان کرنے لگے اور اس نازک موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہنے لگے کہ ہمارا بھی اس معاملہ میں کچھ اختیار ہے ؟ یعنی اگر ہماری بت مان لی جاتی تو یہ تکلیف نہ پہنچتی ” مَا قُتْلِنَا ھٰھُنَا “ تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ یہ فقرہ استعمال کر کے گویا وہ یہ باور کرا رہے ہیں کہ مسلمانوں کا نقصان ان ہی کا نقصان ہے حالانکہ وہ تو اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کا یہ کہنا حقیقت کے بالکل خلاف تھا اور منافق ہمیشہ جو کہتا ہے وہ حقیقت کے خلاف ہی ہوتاے اور یہی اس کے نفاق کی علامت ہے۔ ان کی اس بیہودہ گوئی کا جواب یہ دیا گیا کہ جن مسلمانوں نے جاں نثاری کی ہے اور وہ اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس طرح جان دینے کو تیار تھے کہ اگر مدینہ میں رہ کر جنگ ہوتی تو بھی وہ کوئی اپنے گھروں میں چھپے نہ بیٹھے رہتے بلکہ دشمن کے مقابلہ میں جنگ کرتے اور جن کو شہادت پانا تھی وہ یقینا یہاں بھی شہادت پاتے لیکن اللہ تعالیٰ کو یقینا یہ منظور تھا کہ دشمنوں کے مقابلہ کے لیے باہر کھلے میدان میں نکل کر جاں نثاری کا سچا نمونہ دکھائیں اور اس طرح کامیابی و کامرانی سے اس دنیا سے رخصت ہوں کہ جاتے ہی اس ابدی زندگی کی کامرانیوں کو حاصل کرلیں اور ان کی شہادت کا خون باقی رہنے والوں کے لیے وہ رنگ لائے کہ ان کی قومی زندگی میں ایک نئی زندگی کی روح پھونک دے۔ پھر فرمایا کہ اس کا نتیجہ یہ بھی ہوا کہ جو کچھ بعض سینوں کے اندر مخفی تھا وہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردیا جن دلوں میں منافقت اور کھوٹ تھا ان کا کھوٹ ظاہر ہوگیا اور جن کے دلوں میں بعض کمزوریاں تھیں جو انہی منافقوں کے کہنے سننے سے آگئی تھیں ان کی وہ کمزوریاں دور کردی گئیں اگر اس طرح حالات کھل کر سامنے نہ آتے تو کھرا اور کھوٹا کس طرح واضح ہوتا ؟ موت تو ہر ایک کے لیے لازم و ضروری ہے اگر ان لوگوں کی شہادت تم کو ناگوار گزرتی ہے تو آخر کیوں ؟ وہ تو شہادت پا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ جاوید ہوگئے۔ تم اس طرح کی الٹی ٹیڑھی باتیں کہنے والے تو ہمیشہ زندہ رہو گے ؟ آخر کیسے ؟ جب کوئی یہاں ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے آیا ہی نہیں اور کسی شخص کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کب اور کہاں مرے گا ؟ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتٍ (لقمان : 34" 31) ” کس شخص کو خبر ہے کہ سک سرزمین میں اس کو موت آئے گی ؟ اس طرح کی باتیں بنانے والوں کے متعلق دوسری جگہ اس طرح ارشاد فرمایا گیا ہے : قُلْ فَادْرَئُ وْا عَنْ اَنْفُسِکُمُ الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (ال عمران : 168:3) ” اے پیغمبر اسلام ! تم کہہ دو اچھا اگر تم واقعی اپنے اس خیال میں سچے ہو تو جب موت تمہارے سرہانے آ کھڑی ہو تو اسے باہر نکال کرنا اور خود ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ رہنا۔ “ مزید تفصیل کے لیے دیکھو 265 تا 266 جلد ہذا۔ جس شخص کو جہاں مرنا ہے وہ دوڑ کر وہاں پہنچ جاتا ہے : 285: اس کی وضاحت جملہ کے اندر موجود ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ احکام تکوینی تقدیری سے باہر رہنا کسی کے لیے کسی صورت بھی ممکن نہیں کوئی نہ کوئی ظاہری سبب بھی انسان کے مرنے کی جگہ تک اس کے کھنچ کر آنے کا ضرور نکل آتا ہے اور روزمرہ کے حالات اس کی شہادت آج بھی پیش کر رہے ہیں۔ دعا یہ کرنا چاہیے کہ موت جب بھی ہو اور جہاں بھی ہو بامقصد ہو بےمقصد نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونے سے آخر بڑا مقصود اور کیا ہو سکتا ہے ؟ مومن اگر کفر کے مقابلہ میں میدان جنگ میں قتل ہوجائے تو اس کی بڑی سے بڑی فتح مندی ہے ایسی فتح مندی جس سے بڑی فتح مندی کی وہ اپنی ذات کے لیے آرزو کر ہی نہیں سکتا۔ آنا ن کہ غم تو برگزید ند ہمہ درکوئے شہادت آرمیدنہ ہمہ در معرکہ دو کون فتح از عشق است با آنکہ سپاہ او شہیدند ہمہ دوسرے اگر لڑیں اور دشمنوں پر غالب نہ آسکیں تو ان کی ہار ہوئی لیکن موت وہ ہے جو ہار کے معنی سے ناواقف رکھا گیا ہے۔ وہ اگر کسی میدان میں غالب نہ آئے جب بھی جیت اس کی ہے کیونکہ اس کی ہار جیت کا معیار میدان جنگ نہیں ہوتا بلکہ خود اس کی طلب وسعی ہوتی ہے اگر وہ اپنی سعی و طلب میں پورا نکلا تو اس نے میدان مار لیا اگرچہ میدان جنگ میں اس کی لاش ہزاروں لاشوں کے نیچے دبی ہوئی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس راہ میں وہ کبھی مر نہیں سکتا اس لیے کہ اس کی موت بھی اس کی زندگی ہوتی ہے اگرچہ وہ ” وَلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ “ کی قید اپنے اندر رکھتی ہے۔ مومن کی منزل مقصود کیا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ حق کی راہ میں رواں دواں رہے اور کبھی رکے نہیں اس کا ہر قدم جو چلتا رہا فتح مندی ہے اور ہر قدم جو رک گیا وہ نامردی۔ رہرواں راخستگی براہ نیست عشق ہم راہ است و ہم خود منزل است ایک بار پھر اس جملہ کا ترجمہ پڑھو کہ ” اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہہ دو اگر تم اپنے گھروں میں بیٹھے ہوتے جب بھی جن کے لیے مارا جانا تھا وہ گھر سے خود نکلتے اور اپنے مارے جانے کی جگہ پہنچ کر رہتے۔ “ آزمائش ہی سے کھرا اور کھوٹا نکھرتا ہے اور قومی زندگی کے لیے نکھار ضروری ہے : 286 : واقعہ احد میں جو لغزشیں اور خطائیں بعض اصحاب کرام سے صادر ہوئیں وہ اپنی ذات میں بڑی شدید اور سخت تھیں جس مورچہ پر پچاس تیرانداز صحابہ کرام ؓ کو یہ حکم دے کر بٹھایا گیا تھا کہ ہم پر کچھ بھی حال گزرے تم یہاں سے نہ ہٹنا ان کی بڑی تعداد یہاں سے ہٹ گئی اگرچہ یہاں سے ہٹنے کا سبب اجتہادی غلطی سہی کہ اب فتح ہوچکی ہے لہٰذا اس حکم کی تعمیل پوری ہوچکی ہے یہاں سے نیچے آ کر صحابہ ؓ سے مل جانا چاہیے مگر درحقیقت نبی اعظم و آخر ﷺ کی واضح ہدایات کے خلاف تھا اس خطا و قصور کے نتیجہ میں میدان جنگ سے بھاگنے کی غلطی سرزد ہوئی اور پھر اس غلطی کا نتیجہ بھی بھگتنا پڑا تاہم رسول اللہ ﷺ کی اصل حیثیت اور سپہ سالار اعظم کی ہدایت پر قائم رہنے کی اہمیت اس سے واضح ہوگئی۔ شہادت جن کا مقدر تھی ان کو مل گئی اور باقی مجاہدین پر یہ واضح ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ؟ اور سپہ سالار کے آرڈر کی پابندی کس قدر ضروری ہے ؟ ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ جس پھسلان سے انسان کے قدم پھسلنے کے ساتھ ہی سنبھل جائیں اور پھر وہ ایسی پھسلان کے قریب نہ جائے وہ یقینا اس کی ترقی کا باعث ہوتی اور اس لحاظ سے یقینا جنگ احد مسلمانوں کی ترقی کا باعث ہوئی۔ پھر اس سے یہ سب بھی حاصل ہوا کہ جس لغزش کو انسان لغزش تسلیم کرتے ہوئے ازالہ کی کوشش کرے وہ لغزش لغزش نہیں رہتی بلکہ اس سے کھرا اور کھوٹا نکھر جاتا ہے اور اس طرح زندگی میں وہ نکھار آتا ہے کہ وہ اپنے مقصد کے زیادہ قریب ہوجاتا ہے۔ غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا جو شہادت کا جام نوش نہ کرسکے اور غازی بن کر میدان جنگ سے نکلے اور ان کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا جو شہادت کا جام پی گئی۔ پہلے دوبارہ اس زندگی میں کبھی اس طرح کی لغزش میں مبتلا نہ ہوئے اور دوسرے بامقصد موت پا کر ابدی زندگی حاصل کر گئے اور اس طرح دونوں فریق کامیاب و کامران قرار پائے اس لیے کہ ان دونوں کا دعویٰ ایمان سچا تھا اور منافقین کی جماعت سے پہلے ہی گلو خلاصی ہوچکی تھی۔ جنگ احد کے اس واقعہ میں مسلمانوں کے لیے بیشمار اسباق رکھے گئے ہیں اور سب سے بڑا سبق اس میں یہ ہے کہ ایک گناہ کو کھینچ لاتا ہے جیسے ایک نیکی دوسری نیکی کو کھینچتی ہے یعنی اعمال حسنہ اور سئیہ دونوں میں تجاذب ہے۔ جب انسان کوئی ایک نیک کام کرلیتا ہے تو تجربہ شاہد ہے کہ اس کے لیے دوسری نیکیاں بھی آسان ہوجاتی ہیں۔ اس کے دل میں نیک اعمال کی رغبت بڑھ جاتی ہے اس لیے کہا جاتا ہے کہ ” نیک کام کی ایک نقد جزاء وہ دوسری نیکی ہے جس کی توفیق اس کی ہوجاتی ہے اور برے عمل کی ایک سزا وہ دوسرا گناہ ہے جس کے لیے پہلے گناہ نے راستہ ہموار کردیا ہے۔ “
Ayah 3:155

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 3:155 in the Quran reader

جن لوگوں نے اس دن لڑائی سے منہ موڑ لیا تھا جس دن دونوں لشکر ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تھے تو شیطان نے ان کے قدم ڈگمگا دیئے تھے اور اللہ نے ان کی یہ لغزش معاف کردی تھی وہ یقینا بخش دینے والا بہت ہی بردبار ہے

جن لوگوں سے لغزش ہوئی تھی ان کی معاف کا اعلان الٰہی : 287 : ” زلۃ “ دراصل بلاقصد و ارادہ پاؤں کے پھسل جانے پر بولا جاتا ہے گویا لفظ کے اندر ہی یہ بات واضح کردی کہ احد کے روز جو میدان کارزار سے بھاگنے کی صورت پیش آئی تھی تو اس میں ان لوگوں کا مقصد و ارادہ بھاگ نکلنے کا نہ تھا بلکہ کچھ حالات اس طرح کے پیدا ہوگئے تھے کہ وہ بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ منافقین کا گروہ پہلے ہی الگ ہوچکا تھا اس لیے کہ وہ شریک جنگ نہ ہوئے تھے۔ یہ خالص مسلمان تھے تاہم ان سے یہ کمزوری ظاہر ہوگئی اور اس کی تفصیل پیچھے گزر چکی کہ جب تیراندازوں کے جگہ چھوڑ دینے کی وجہ سے کفار کا ہزیمت خوردہ لشکر لوٹا اور پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ آور ہوگیا تو مسلمانوں کی فوج بوجہ تعاقب کے پراگندہ حالت میں ہوگئی اور کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ کیا ہوا اور کیسے ہوا ؟ اس لیے وہ اپنی جمعیت قائم نہ رکھ سکے۔ اس حالت میں نبی کریم ﷺ نے آواز دے کر لوگوں کو اکٹھا کرنا چاہا مگر ایسی حالت میں سارے لشکر کا جمع ہونا محال تھا۔ بعض لوگ لشکر اسلام سے بالکل الگ ہوگئے تھے اور ان کے لیے اصل جمعیت کے ساتھ ملنا مشکل ہوگیا اگرچہ ان کے دلوں میں کسی قسم کا کوئی روگ نہ تھا اس لیے لغزش کا سرزد ہونا شاطلن کی طرف سے منسوب کیا گیا۔ کتنے آدمی بھاگے تھے اور وہ کون کون تھے ؟ اس میں لوگوں نے بہت لے دی کی ہے لیکن حقیقت میں اس طرح کی بحث کرنا اور گزشتہ واقعات سے کیڑے نکالنا ایک سچے اور پکے مسلمان کا کام نہیں ہو سکتا بلکہ ایسی بحثیں وہی اٹھاتے ہیں جن کے اپنے دلوں میں کسی نہ کسی طرح کا کوئی روگ موجود ہوتا ہے اور وہ اسلام سے مخلص نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان سب کی لغزش کو معاف کردیا اور کسی ایک کو بھی اس میں سے مستثنیٰ نہیں کیا تو ایرے غیرے کو کیا حق ہے کہ وہ اس طرح کی چھان بین شروع کر دے اور اپنے پاس سے ہی جس کو چاہے اس فعل میں ملوث کر دے اور جس کو چاہے بری کر دے۔ ایسے سارے واقعات عبرت حاصل کرنے کے لیے بیان کیے جاتے ہیں۔ ذہنی عیاشی کے لیے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس لغزش و خطا کے بعد کیا معاملہ کیا ؟ اس کی وضاحت خود فرما دی کہ اول ظاہری انعام اونگھ کا بھیج کر ان کی ظاہری تکان ، تکلیف اور پریشانی دور فرمائی پھر فرمایا کہ جو مصیبت اور غم مسلمانوں کو اس وقت پہنچا وہ نری سزا و عقوبت نہ تھی بلکہ اس میں ؟ کچھ مربیانہ حکمتیں بھی پوشیدہ تھیں اور آخر میں صاف صاف لفظوں میں ان کی اس لغزش کی معافی کا اعلان فرما دیا ” تم میں سے وہ لوگ جنہوں نے اس دن پیٹھ پھیر دی جس دن دو گروہ میدان جنگ میں آمنے سامنے ہوئے تھے۔ شیطان ہی نے ان کو پھسلانا چاہا جس کا اصلی سبب بعض کا فعل تھا جو انہوں نے کمایا پھر یقینا اللہ نے ان کو معاف کردیا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا بردبار ہے۔ “ یہی وجہ ہے کہ اہل سنت کا یا یوں کہو کہ اہل اسلام کا متفقہ مسئلہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ اگرچہ معصوم عن الخطا نہیں تھے اس لیے کہ معصوم صرف اور صرف انبیاء کرام ہی کی جماعت تھی تاہم جو بھی اور جب بھی ان سے کوئی خطا یا لغزش سرزد ہوئی اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف فرمایا اور پھر صرف معاف ہی نہیں فرمایا بلکہ ان کے ساتھ لطف و کرم کا خاص معاملہ فرمایا اور ان سب کو ” ؓ و رضوعنہ “ کا مقام عطا فرمایا تو پھر کسی کو کیا حق کہ ان میں سے کسی کا برائی کے ساتھ تذکرہ کرے ؟ بلکہ ایسا کام سرانجام دینے والے دراصل شیشہ میں اپنا منہ دیکھتے ہیں اور برے کو ہمیشہ برا ہی چہرہ نظر آتا ہے۔ اور وہ یہ فراموش کردیتا ہے کہ یہ چہرہ خود اس کا اپنا ہے۔ اس لیے ایسے ہی کئی بروں کو ان میں سے برا چہرہ نظر آ رہا ہے۔ عثمان بن مواہب سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ایک شخص نے بیت اللہ کا حج کیا اور اس نے دیکھا ایک جگہ لوگ جمع ہیں اس نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ اس کو بتایا گیا کہ یہ قریش ہیں اس نے پر پوچھا کہ یہ بوڑھا شخص ان میں کون ہے ؟ اسے بتایا گیا کہ یہ ابن عمر ؓ ہیں وہ شخص ابن عمر ؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں آپ سے کچھ سوال پوچھنا چاہتا ہوں اور پھر اس طرح بولا کہ میں تم کو اس گھر کی حرمت کی قسم دیتا ہوں کہ مجھے ضرور جواب دینا پھر اس نے سوال کیا کیا تم جانتے ہو کہ عمان بن عفان احد کے روز بھاگ گئے تھے ؟ اس نے کہا کہ تم جانتے ہو کہ بدر کے دن بھی وہ غائب تھے اور اس میں شریک نہ تھے ؟ اور پھر اس نے کہا کہ تم کو معلوم ہے کہ بیعت رضوان میں بھی وہ موجود نہ تھے ؟ اس کے جواب میں ابن عمر ؓ نے جواب دیا اور فرمایا کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ جنگ احد سے فرار ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا اور پھر یہی زیر نظر آیت تلاوت فرمائی اور بدر سے عثمان ذوالنورین ؓ کی غیر حاضری کی وجہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ رقیہ ؓ کی بیماری تھی جو سیدنا عثمان ؓ کی زوجیت میں تھیں اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ شرکاء بدر کے برابر تم کو اجر وثواب بھی ملے گا اور حصہ بھی اور تم یہاں مدینہ میں اپنی زوجہ محترمہ کی تیمارداری کے لیے ٹھہر جاؤ ۔ رہا بیعت رضوان سے غیر حاضری کا معاملہ تو وہ تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ بیعت رضوان کیوں ہوئیَ اس کا سبب ہی یہ تھا کہ وادیٔ مکہ کے اندر حضرت عثمان غنی ؓ سے زیادہ کوئی معزز شخص ہوتا تو قریش مکہ کے پاس رسول اللہ ﷺ اس کو قریش مکہ کے پاس بھیجتے چونکہ عثمان ؓ ہی سب سے زیادہ عزت والے تھے اس لیے نبی کریم ﷺ نے آپ کو مکہ بھیجا تھا اور ان کے متعلق یہ خبر اڑا دی گئی کہ عثمان ؓ شہید کردیے گئے اس لیے تو بیعت رضوان ہوئی تھی پس نبی کریم ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا یہ عثمان کا ہاتھ ہے پھر اس کو اپنے دوسرے ہاتھ پر خود ہی مارا اور فرمایا یہ عثمان کی بیعت ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے یہ تفصیل بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اے نکتہ چینی کرنے والے ان باتوں کا یہ جواب بھی اپنے ساتھ لے جا۔ (بخاری بحوالہ مظہری)