Ayah 3:58عیسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے :
131: آیت زیر نظر میں ” آیات “ یعنی دلائل کا لفظ لانا اور پھر ان باتوں کو پر حکمت قرار دینا اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ جو کچھ اوپر بیان کیا گیا وہ صرف دعویٰ نہیں بلکہ دلائل ہیں اور دلائل بھی ایسے جو اپنے اندر حکمت رکھتے ہیں۔ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ، ان کا بچپن ، ان کی نبوت کا پورا زمانہ وار ان کا اٹھایا جانا سب کے سب حالات و واقعات ایسے ہیں جن میں انسانوں کی زندگی کے لیے بیشمار نشانات اور دلائل موجود ہیں اور یہ وہ پر حکمت باتیں ہیں جو اپنے اندر بیشمار اسباق رکھتی ہیں۔ جو لوگ ان کی باتوں کو محض قصہ کہانی کی حد تک سمجھتے ہیں وہ لوگ ان ” روشن دلائل “ و نشانات سے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے۔ یہ واقعہ ایسا نہیں کہ گزشت آنچہ گزشت بلکہ یہ ایک ایسا تذکرہ ہے جس میں انسانی زندگی کے لیے بیحد و شمار اسباق رکھ دیے گئے ہیں اور قرآن کریم میں کسی نبی کا بھی کوئی واقعہ ایسا نہیں بیان کیا گیا جو صرف بطور قصہ یا کہانی سن لیا جائے یا سنا دیا جائے بلکہ ہر نبی کے قصہ یا کہانی کا اتنا حصہ ہی بیان کیا گیا ہے جس کا ہماری زندگی سے ہر حال میں تعلق ہو یعنی ہماری زندگی کے لیے کوئی نہ کوئی سبق اس میں موجود ہوتا ہے اور وہی سبق سکھانے کے لیے اس واقعہ کو بیان کیا جاتا ہے۔
” الذکر “ قرآن کریم کے ناموں میں سے ایک نام بھی ہے اور ” الذکر “ اصل میں یاد کرنے یا یاد دلانے کو بھی کہا جاتا ہے اور قرآن کریم کو بھی ذکر اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ ان تمام باتوں کو جو فطرت انسانی میں رکھی گئی ہیں ان کو یاد دلاتا ہے اور اس لیے بھی کہ وہ انسان کو شرف و بزرگی کے اصل مقام تک پہنچا دیتا ہے بشرطیکہ وہ اس سے نصیحت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
گویا یہاں ارشاد یہ ہو رہا ہے کہ سیدنا مسیح (علیہ السلام) کے حالات و واقعات جن پر یہود و نصاریٰ دونوں گروہوں کی تاریخوں نے گہرے پردے ڈال دیے ہیں اور دونوں گروہوں میں سے ایک نے افراط سے کام لیا ہے تو دوسرے نے تفریط سے۔ اب آپ جو کچھ اس میں سے سنا رہے ہیں وہ بالکل صحیح و معتبر طور پر سنا رہے ہیں۔ آپ کا سنایا ہوا خود اس کی دلیل ہے کہ آپ موید من اللہ ہیں اور آپ وہی کہہ رہے ہیں جو عالم الغیب و الشہادہ آپ سے سنوانا چاہتا ہے اور ” الذکر الحکیم “ کہہ کر یہ اشارہ فرمایا گیا ہے کہ آپ کی رسالت پر دلیل ہونے کے قطع نظر یہ مضامین بجائے خود بھی پر حکمت اور پر معرفت ہیں۔ ہاں ! جو ئیندہ یا بندہ کا اصول اپنی جگہ اٹل ہے کہ پاتا وہی ہے جو تلاش کرتا ہے۔
Ayah 3:59عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت کے عقیدہ باطلہ کا مکمل رد :
132: اس آیت میں عیسائیوں کی اس گمراہی کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے من حیث القوم سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت کا اعتقاد باطل پیدا کرلیا حالانکہ تمام بنی نوع انسان کی طرح وہ بھی ایک انسان تھے اور اللہ نے انہیں اپنی رسالت کے لیے چن لیا تھا جیسا کہ دوسرے انبیاء کرام کو رسالت و نبوت کے لیے چن لیا گیا۔
تعجب ہے کہ اس آیت کو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے لیے دلیل کس طرح بنا لیا گیا اور مسئلہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مختلف فیہ کب رہا ؟ قرآن کریم کا مطالعہ کرو اور احادیث کی کتابوں کو ایک ایک کر کے دیکھ جاؤ تاریخ کی ورق گردانی کرلو کسی ایک جگہ بھی سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان زیربحث نہیں آئی۔ یہود و نصاریٰ کے درمیان جو اختلاف تھا وہ بھی نسب عیسیٰ (علیہ السلام) میں تھا۔ یہود نامسعود (علیہ السلام) کے حسب و نسب میں طعن وتشنیع سے کام لیتے تھے جس کا ان کو جواب دیا گیا نصاریٰ کی طرف سے بھی اور اسلام کی طرف سے بھی لیکن یہ اختلاف یہود و نصاریٰ کا تھا۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کا نہیں تھا۔
زیرنظر آیت میں یہود مخاطب نہیں بلکہ نصاریٰ مخاطب ہیں اور نصاریٰ اور اسلام کے درمیان مسئلہ مختلف ” الوہیت “ عیسیٰ (علیہ السلام) کا ہے یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ” ابن اللہ “ ہونے اور ” تین میں سے تیسرا “ ہونے کا ہے۔ اور ان باتوں کا تعلق عیسیٰ (علیہ السلام) کی پدوائش سے متعلق نہیں ہے۔
بلاشبہ وہ شخص انعام کا مستحق ہے جو یہ ثابت کر دے کہ عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس لیے ” الٰہ “ مانا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ نہیں تھا۔ یا یہ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” ابن اللہ “ کہا تو اس لیے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ تھا یا ” تین میں تیسرا “ ہونے کا دعویٰ کیا تو اس لیے کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ نہیں تھا۔
یہ ثابت کرنے کے لیے دلیل کیا ہے ؟ قرآن کریم اور صحیح حدیث رسل ﷺ تو اصل حجت ہیں لیکن اس میں وسعت سے کام لیتے ہوئے صحیح حدیث کے بعد حدیث کی مشہور اقسام اور صحابہ کرام ؓ کے آثار تاریخ کی شہادت اور اناجیل سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ یہ مسئلہ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ تھا یا بلا باپ تھے اس بحث کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ بات کو خلط ملط کرنے سے الجھاؤ پیدا ہوتا ہے اور الجھاؤ ہم نہیں چاہتے۔
نصاریٰ کے یہ تینوں نظریات جو اس وقت زیربحث ہیں قرآن کریم نے بڑی تحدی سے بیان کیے ہیں اور ان کو چیلنج کیا ہے کہ ان تینوں ہی نظریات میں تم غلط ہو اور تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ نہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ کہا اور نہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے قبل کسی سند سے تم اس کا جواز پیش کرسکتے ہو اور یہ کفر جو تم بکتے ہو اس سے باز آجاؤ ورنہ عذاب الٰہی کے لیے تیار رہو۔
حضرت مسیح (علیہ السلام) خدا نہیں تھے قرآن کریم میں مسیحیوں کے اس عقیدہ کا رد کیا گیا چناندہ ارشاد الٰہی ہے :
لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ (المائدہ : 72 , 17:5) ” یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا خدا مریم کا بیٹا مسیح ہے۔ “ (اور یہی الفاظ آیت نمبر 72 میں ارشاد فرمائے گئے)
سیدنا مسیح (علیہ السلام) اور ان کی والدہ محترمہ سیدہ مریم کو بھی مسیحیوں نے ” الٰہ “ مانا جن کے لیے ان کے پاس کوئی دلیی نہ تھی قرآن کریم فرماتا ہے :
وَ اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ئَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ۔ (المائدہ : 116)
” اور پھر جب ایسا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : ” اے مریم کے بیٹے عیسیٰ ! کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو ؟ “ مسیحیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” اللہ کا بیٹا “ تسلیم کیا تو قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے :
وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ ۔ (التوبہ : 30:9)
” اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ “
وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ ۔ (البقرہ : 116:6)
” اور عیسائیوں کو دیکھو کہ انہوں نے کہا مسیح کو اللہ نے اپنا بیٹا بنا لیا ہے۔ “
مسیحیوں نے مسیح (علیہ السلام) کے متعلق ” تین میں سے تیسرا “ ہونے کا دعویٰ کیا جس کی قرآن کریم نے دو ٹوک الفاظ میں تردید کردی فرمایا :
لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ (المائدہ : 73:5)
” یقینا وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا ” خدا تین میں کا ایک ہے “ یعنی باپ بیٹا اور روح القدس۔ “
وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَۃٌ اِنْتَھُوْا خَیْرًا لَّکُمْ اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ سُبْحٰنَہٗٓ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗ وَلَدٌ ۔ (النساء : 171:4)
” اور یہ بات نہ کہو کہ خدا تین ہیں دیکھو ایسی بات کہنے سے باز آجاؤ کہ تمہارے لیے بہتری ہو حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ اکیلا معبود ہے۔ وہ اس سے پاک ہے کہ اس کے لیے کوئی بیٹا ہو۔ “
ایک جگہ ارشاد ہوا ہے کہ یہود و نصٓریٰ دونوں فریق یہ آواز بلند کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ :
وَ قَالَتِ الْیَھُوْدُ وَ النَّصٰرٰی نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰہِ وَ اَحِبَّآؤُہٗ (المائدہ : 18:5) ” اور دیکھو یہودی اور عیسائی کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ “
ان آیات کے اس جگہ درج کرنے کا مطلب یہ ہے کہ خوب اچھی طرح غور کرو عیسائیوں نے جب ان عقائد کا اعلان کیا تو کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” اللہ “ ” اللہ کا بیٹا “ یا ” تین میں کا تیسرا “ اس لیے مانتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ نہیں تھا اور نہ ہی کہیں قرآن کریم نے یہ اشارہ دیا ہے کہ عیسائیوں نے یہ عقائد اس لیے اختیار کیے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا چونکہ کوئی باپ نہیں تھا۔
پھر اگر کوئی ایسی بات ہوتی تو وہ ” مریم اور عیسیٰ (علیہ السلام) دونوں کو جو خدا قرار دے رہے ہیں کبھی نہ دیتے اس لیے کہ مریم کے متعلق تو اس کے باپ نہ ہونے کا کوئی تصور موجود نہ تھا۔
مزید یہ کہ جب یہود و نصاریٰ کے بزرگوں نے یہ اعلان کیا کہ ” ہم اللہ کے بیٹے ہیں “ تو کیا ان سب کے باپ نہیں تھے تب انہوں نے یہ اعلان کیا تھا۔ حالانکہ ان سب کے باپ موجود تھے۔ باپ نہ ہونے سے یہ نظریہ انہوں نے اختیار ہی نہ کیا تھا بلکہ اس کے وجوہ کچھ اور ہی تھے اور وہی تھے جس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ دے دیا کہ ” وہ اللہ کا محبوب اور دوست “ ہونے کی بنیاد پر یہ الفاظ اختیار کرتے تھے اور جو کچھ کہتے تھے وہ استعارۃً کہتے تھے لیکن اسلام نے ان کے اس استعارہ کو کبھی قبول نہیں کیا بلکہ اس کا دو ٹوک الفاظ میں رد کیا کہ تمہارا یہ کہنا کسی حال میں بھی درست نہیں ہے اور ایسا استعارہ استعمال کرنا صرف برائی ہی نہیں بلکہ صاف صاف کفر ہے جس کے کفر ہونے میں کسی طرح کا شبہ نہیں کیا جاسکتا۔
مثال دیتے ہوئے ان کو اس طرح تفہیم کرایا کہ جس کو تم اللہ کہتے ہو ، اللہ کا بیٹا مانتے ہو اور تین میں سے تیسرا قرار دیتے ہو وہ ان اوصاف کا کبھی بھی متحمل نہیں ہو سکتا وہ کیا تھا ؟ فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی حالت اللہ کے نزدیک آدم (علیہ السلام) کی حالت کی طرح ہے کہ اس کو مٹی سے پیدا کیا پھر اسے کہا کہ وہ ہوگیا۔ آدم کا ذکر قرآن کریم میں دو طرح سے ملتا ہے ابوالبشر ہونے کیت لحاظ سے یعنی بشریت کے لوازمات تامہ اس میں موجود تھے اور اللہ کے برگزیدہ بندوں میں سے ایک بندہ ہونے کے لحاظ سے۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس میں بھی انہیں دو باتوں کا ذکر ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) میں بھی بشر ہونے کی ساری صفات پائی جاتی ہیں اور دوسرے وہ اللہ تعالیٰ لیے برگزیدہ بندوں میں سے ایک بندہ ہیں۔ وہ پیدا ہوئے ، طفولیت میں رہے ، کہولت میں آئے اور انجام کار اٹھا لیے گئے اور ان پر یہ سارے ادوار اسی طرح گزرے جیسے نسل آدم کے لیے مقرر کیے گئے ہیں وہ اس طرح آدم (علیہ السلام) کی ذریت قرار دیے گئے جس طرح باقی انسان آدم (علیہ السلام) کی ذریت قرار دیے گئے ہیں۔ آخر وہ کون سی بات ہے جو دوسرے انسانوں سے ان کو جدا کرتی ہے اور انسانوں کے زمرہ اٹھا کر اللہ۔ اللہ کا بیٹا یا اللہ کا تیسرا حصہ بنا دیتی ہے۔ عقل کے ناخن لو۔ غور و فکر کرو اور جواب دو کہ آخر کس بناء پر عیسیٰ (علیہ السلام) کو ذریعت آدم سے باہر نکال کر اللہ کی ذریت قرار دے رہے ہو پھر ایسے بوکھلا گئے ہو کہ کبھی اللہ کہتے ہو کبھی اللہ کا بیٹا اور کبھی اللہ کا تیسرا حصہ۔ عیسائیوں کے پاس نہ اس وقت کوئی جاب تھا اور نہ اب ہے لیکن ڈھیٹ قومیں اپنے عقائد کا کوئی جواب نہ رکھنے کے باوجود ڈٹی رہتی ہیں ان کے پاس ساری باتوں کا ایک اور صرف ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ آج تک ہماری قوم اس طرح مانتی چلی آرہی ہے کیا وہ سارے کے سارے لوگ غلط تھے۔ کیا ہم یہ مان لیں ؟ نہیں نہیں یہ قوم کے دشمن کب پیدا ہوگئے ؟ کیا اللہ قادر نہیں وہ جس کو چاہے اپنے جیسا اللہ بنا دے یا اپنا بیٹا بنا لے یا تین اقنوم مل کر ایک اللہ ہوجائے۔ ان عقائد کی مخالفت کرنے والے تو سراسر عقل کی باتیں کرتے ہیں بھلا دین و مذہب کا بھی کوئی تعلق عقل سے ہے پھر ہر قوم میں کچھ نہ کچھ ایسی باتیں پائی جاتی ہیں جن کا عقل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ من حیث القوم کبھی غلط نہیں ہوتی۔ یہ عقائد تو ہماری قوم کے لیے حیات جاوداں ہیں اور ساری قوم ان کو تسلیم کرتی چلی آرہی ہے۔
قرآن کریم جو سراسر دعوت عقل و فکر ہے وہ کہتا ہے عیسائی قوم کے لوگو ! اچھی طرح سن لو پیدا ہونا بشریت کے تقاضوں میں سے ایک تقاضا ہے اور جس طرح پید اہونا تقاضا ہے اسی طرح مرنا بھی اور اس دنیا کی زندگی میں ان تغیرات کے ماتحت آنا ہے جو طفولیت سے لے کر کہولت تک انسان پر آتے ہیں۔ خدا نہ پیدا ہوتا ہے اور نہ مرتا ہے نہ اس پر تغیرات آتے ہیں کہ بچپن کی حالت سے ترقی کرتا کرتا ترقی کے آخری مرتبہ پر پہنچ کر پھر اس کے قویٰ میں تنزل واقع ہونا شروع ہوجائے اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) سے اس بات کا اعلان کرا دیا کہ :
وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ َو یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا (مریم : 33:19) ” اور مجھ پر اس اللہ کی طرف سے سلامتی کا پیام ہے جس دن پید اہوا جس دن مروں گا اور جس دن پھر زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔ “
دنیا میں جو کچھ پیدا ہوا ، اور آئندہ ہوگا سب کلمہ ” کن “ ہی سے ہے :
133: اور قرآن کریم کی آیات میں ” کن فیکون “ کے الفاظ تعریف آیات میں مختلف جگہوں پر بیان کر کے یہ بیان واضح کردی کہ دنیا میں جو کچھ ہے آپ ، میں اور سب بلکہ دنیا کی ہرچیز خواہ جاندار ہو یا بےجان متحرک ہو یا جامد سب کی سب اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن ہی سے پیدا ہوئی ہیں اور پیدا ہو رہی ہیں اور پیدا ہوتی رہیں گی کوئی چیز بھی اس کے کلمہ کن سے باہر نہیں ہے اور نہ ہی ہو سکتی ہے۔ یہاں جس کے لیے جو ضابطہ اس نے مقرر فرمایا ہے وہ بھی اس کلمہ کن ہی سے ہے اس سے باہر ہرگز نہیں اس لیے وہ اس ضابطہ کے تحت ہوتی رہیں گی اس کے خلاف ممکن نہیں کہ ضابطہ الٰہی کسی انسان کا بنایا ہوا نہیں اور اللہ کے بنائے ہوئے طریقوں میں تبدیلی ممکن نہیں۔ لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِیْمٰتِ اللّٰہِ ۔
Ayah 3:60رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے پوری امت کو سبق دیا جا رہا ہے :
134: اے پیغمبر اسلام ! سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے وہ سب کا سب حق ہے جو تمہارے رب کی طرف سے اعلان کیا جا رہا ہے اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ ہاں ! آپ ﷺ کے توسط سے پوری دنیائے انسانیت کو یہ درس دیا جا رہا ہے انسان ہونے کے رشتہ سے تم سب کا حق ہے کہ تم خوب غور و خوض کرلو اور اگر غور و فکر سے کام لو گے تو عیسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت اس کے سوا کچھ بھی ثابت نہیں ہوگی جو بیان کی جا رہی ہے۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ :
ذٰلِکَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْہِ یَمْتَرُوْنَ ۔ (مریم : 34:19) ” یہ ہے مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت۔ سچائی کی بات جس میں لوگ اختلاف کرنے لگے ہیں۔ “
مطلب یہ ہے کہ یہ جو بیان کیا گیا ہے اس سے زیادہ جو کچھ ہے وہ عیسائیوں نے خود بنا لیا ہے اس لیے دراصل وہ جہل و گمراہی ہے۔ یاد رہے کہ سینٹ پال کی طرف جو انبیت کی تعلیم منسوب ہے اس کی تمام تر بنیاد اس پر خیال پر رکھی گئی ہے کہ نوع انسانی کی سرشت میں گناہ ہے پس اس کی نجات کے لیے ضروری تھا کہ کفارہ ہو اور کفارہ کی یہی صورت ہو سکتی تھی کہ خدا کی صفت رحمت ابن اللہ کی شکل میں اترے اور اپنی قربانی کے خون سے اولاد آدم کا گناہ دھو ڈالے۔ قرآن کریم اس اصناعی تخیل کا رد کرتے ہوئے خدا کی بےنیازی اور قدرت کا اثبات کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تم نے خدا کو اتنا ہی بےبس اور محتاج کیوں سمجھ لیا ہے کہ جب تک ایک انسان کو اپنا بیٹا بنا کر سولی پر نہ چڑھائے وہ اپنے بندوں کو نجات دینے کی راہ نہیں پا سکتا ؟ یہ تو وہ کرے جو اپنے کاموں کی انجام دہی میں دوسروں کا محتاج ہو لیکن جب تم خود بھی مانتے ہو کہ خدا محتاج نہیں ہو سکتا بلکہ اس کا چاہنا ہی انجاموں کا قرار پانا ہے تو پھر ایسے تخیلات اور فرضی کہانیاں کیوں گھڑتے ہو ؟ یاد رہے کہ گھڑی ہوئی بات اور حقیقی بات میں فرق ہی یہ ہے کہ حق بات کے لیے دلیل کیا دلائل موجود ہوتے ہیں اور گھڑی ہوئی بات بےدلیل اور صرف لاٹھی کے ذریعہ پر منوائی جاتی ہے۔
Ayah 3:61علم و یقین کی باتوں کو جھٹلا دیا جائے تو جھگڑے کے سوا باقی کیا رہ جاتا ہے ؟
135: اصل جھگڑا کیا ؟ یہ کہ ایک فریق سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ ، اللہ کا بیٹا اور اللہ کا تیسرا جزو قرار دیتا ہے اور دوسرا فریق عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایک راست باز انسان ، اللہ کا رسول اور نبی قرار دیتا ہے۔ پہلے فریق سے دلیل طلب کی جاتی ہے تو دلیل پیش کرنے کی بجائے اپنی قومی ایچ میں جھگڑے پر اتر آتا ہے دوسرا فریق اپنے نظریہ کے اثبات میں دلائل کی بوچھاڑ کردیتا ہے لیکن فریق اول دلائل کو تسلیم کرنے کی بجائے الجھاؤ شروع کردیتا ہے اس طرح کیا دوسرا فریق بھی الجھنا شروع کر دے ؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ ہرگز نہیں آپ ﷺ کے پاس ” العلم “ یعنی دلائل برہان آپہنچے جو حتمی و قطعی باتیں ہیں اگر وہ ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں بلکہ جھگڑا اور محض جھگڑا ہی یہ لوگ چاہتے ہیں تو بھی آپ ﷺ جھگڑا نہ کریں بلکہ ان کو مباہلہ کی دعوت دیں۔
حکم ہوتا ہے کہ جھگڑا کرنے کی بجائے ان عیسائیوں کو مباہلہ کی دعوت دے دو :
136: مباہلہ کیا ہے ؟ جب دلائل وبرہان کو ٹھکرا دیا جائے اور فریقین میں نزاع ہوجائے تو اس نزاع کو ختم کرنے کے لیے بشرطیکہ فریقین اللہ پر یقین رکھنے کے دعویدار ہوں تو سب مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ جو اس امر میں فریقین کے درمیان باعث نزاع ہے باطل پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وبال و ہلاکت پڑے کیونکہ لعنت کے معنی رحمت حق سے دور ہوجانا ہے اور رحمت الٰہی سے دور ہونا قہر ربی اور عذاب الٰہی سے نزدیک ہونا ہے۔ پس حاصل معنی اس کے یہ ہوئے کہ جھوٹے پر قہر الٰہی نازل ہو سو جو شخص جھوٹا ہوگا وہ یقینا اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ اس طور پر دعا کرنے کو ” مباہلہ “ کہا جاتا ہے اور اس میں اصل خود مباحثہ کرنے والوں کا جمع ہو کر دعا کرنا ہے۔ ہاں ! اگر اپنے اعزہ و اقرباء کو بھی جمع کرلیا جائے تو اس کا اہتمام مزید بڑھ جاتا ہے۔
اس پس منظر یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے پاس نجران سے ایک وفد آیا تھا اس نے خواہ مخواہ نبی کریم ﷺ سے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) سے الوہیت عیسیٰ اور ربوبیت عیسیٰ پر بحث چھیڑ دی اور بحث کو چھیڑتے ہی اتنی تغلّی کی کہ نازیبا الفاظ تک وہ لوگ استعمال کر گئے اور یہ سوال بھی اٹھایا کہ عسیٰل (علیہ السلام) کا باپ کون تھا ؟ اور رسول کریم ﷺ کے سامنے اللہ تعالیٰ کے حق میں بےہودہ الفاظ تک استعمال کر ڈال اور شروع ہوتے ہی اس طرح برس پڑے کہ باتوں ہی باتوں میں اپنی دھاک بٹھا دیں۔ رسول اللہ ﷺ بڑی خاموشی سے ان کی ساری گفتگو سنتے رہے۔ ان کی زیادتی کی باتوں کا زیادتی سے مطلق جواب نہ دیا بلکہ تقریر کا موضوع ایسا رکھا کہ وہ ساری باتیں جو وہ ماننے کے لیے کبھی تیار نہ تھے نرم گوئی سے ان کو منوا لیں اور انجام کار وہ بھاگنے پر تیار ہوگئے۔ اس واقعہ کی پوری تفصل سورة کے شروع میں آ چکی ہے۔
ازیں بعد رسول اللہ ﷺ نے نجران کے نصاریٰ کی طرف ایک فرمان بھیجا جس میں تین چیزیں ترتیب وار ذکر کی گئی تھیں : (1) اسلام قبول کرلو یا (2) جزیہ ادا کرو یا (3) جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ ۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے ایک وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس روانہ کیا اور ان لوگوں نے آ کر پھر مذہبی بحث شروع کردی یہاں تک کہ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت ثابت کرنے میں انتہائی کوشش کی۔ رسول پاک ﷺ کے دلائل کا جواب نہ دینے کے باوجود اپنے موقف پر قائم رہے اس وقت رسول اللہ ﷺ کو حکم الٰہی ہوا کہ تم ان لوگوں سے کہو ” کہ ہم دونوں فریق میدان میں اپنے اپنے بیٹوں ، عورتوں کو بلائیں اور خود بھی شریک ہوں پھر عجز و نیاز کے ساتھ اللہ کے حضور التجا کریں کہ ہم دونوں میں سے جس کا دعویٰ جھوٹا ہے اس پر اللہ کی لعنت و پھٹکار پڑے۔ “
عیسائیوں نے الگ ہو کر مشورہ کیا اور آپس میں ایک نے دوسرے سے کہا کہ ” تم کو معلوم ہوچکا ہوگا کہ یہ اللہ کا نبی ہے نبی سے مباہلہ کرنے میں ہماری ہلاکت ہے اس لیے نجات کا کوئی دوسرا راستہ تلاش کرو۔ اس کے دوسرے ساتھیوں نے کہا کہ تمہارے نزدیک نجات کی کیا صورت ہے ؟ اس نے کہا : میرے نزدیک بہتر صورت یہ ہے کہ نبی کی رائے کے موافق صلح کی جائے۔ چناچہ اس پر سب کا اتفاق ہوگیا اور انجام کار رسول اللہ ﷺ نے ان پر جزیہ مقرر کر کے ان کو امان دے دی۔ اس کی تفصیل ابن کثیر میں موجود ہے۔
سر ولیم مسلمان نہیں بلکہ انیسویں صدی کا مسیحی تھا اور پھر محض مسیحی نہیں مشنری بھی تھا۔ اس کے قلم سے اس واقعہ کو اس طرح قلم بند کیا گیا ” اس سارے واقعہ میں محمد (ﷺ) کے ایمان کی پختگی بالکل نمایاں ہے نیز ان کے اس عقیدہ کی شہادت کہ ان کا تعلق عالم الغیب سے جڑا ہوا ہے اور اس لیے حق تمام تر انہیں کے ساتھ ہے۔ درآنحالیکہ ان کے خیال میں مسیحیوں کے پاس بجز ظن وتخمین کے اور کچھ نہ تھا۔ “ (میور کی لائف آف محمد ﷺ ، ص : 260)
Ayah 3:62اوپر بیان کیا گیا واقعہ ہر قسم کے شک و شبہ سے بالکل پاک ہے :
137: یہ جو واقعہ بیان کیا گیا بالکل حق ہے اور اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں یہ سارے انبیاء (علیہم السلام) کا اعلان ہے جو صرف مسیح (علیہ السلام) ہی کا یہ اعلان نہیں تھا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ ہی کی وہ ذات ہے جو سب پر غالب اور نہایت حکمت رکھنے والی ہے۔
Ayah 3:63حق سے منہ پھیرنے والے مفسدین علم الٰہی میں موجود ہیں آپ ﷺ فکر نہ کریں :
138: اگر حق واضح ہوجانے کے بعد بھی یہ لوگ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں تو بلاشبہ ان مفسدین کو اللہ خوب جانتا ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ اگر وہ اپنی سرتابی جاری رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکیں گے۔ حق پہنچانے والے کا کام صرف حق بیان کردینا ہے کسی کو حق پر چلانے کی ذمہ داری اس پر مطلق عائد نہیں ہوتی۔ آپ ﷺ نے حق پہنچا دیا اور ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کردیا گیا اگر وہ نہیں مانتے تو اے پیغمبر اسلام آپ ﷺ زیادہ فکر مند نہ ہوں اپنا کام کیے جائیں اور ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں وہ قانون الٰہی کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔
Ayah 3:64اختلافی باتوں کو چھوڑ کر فریقین کے درمیان مسلم باتوں کی دعوت جاری رکھنے کا حکم :
139: رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ اہل کتاب سے فرما دیں کہ اے نصاریٰ کی جماعت ! تم سب اس بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشتگرک ہے اور تم کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ یہی ہے کہ ہم سب سوائے اللہ کے اور کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائیں ، نہ فرزند کہہ کر ، نہ اقنوم ٹھہرا کر ، نہ مظہر یا اوتار بنا کر اور نہ کسی اور حیثیت سے۔ ہم میں سے کوئی بھی انسان دوسرے انسان کے ساتھ ایسا معاملہ نہ کرے کہ اللہ کو چھوڑ کر اس کو اپنا رب بنا لے۔
رسول اللہ ﷺ کے معاصر جو مسیح تھے وہ کیتھولک فرقہ یا کلیسائے رومی کے متبع تھے پروٹسٹنٹ فرقہ کئی صدیوں بعد کی پیداوار ہے جس نے اسلام سے متاثر ہو کر مسیحیوں کی اصلاح کی کوشش شروع کی۔ کیتھولک فرقہ یا کلیسائے روم کے لوگ مسیح پرستی ، روح القدس پرستی ، مریم پرستی ، پاپا پرستی ، ولی پرستی اور شہید پرستی میں مبتلا تھے اور ان سب کو اس توحید کی طرف دعوت دی جاتی تھی جس کی دعوت خود عیسیٰ (علیہ السلام) دیتے رہے تھے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نبی کریم محمد رسول اللہ ﷺ کی بھی یہی دعوت تھی۔ اس لیے یہی وہ کلمہ ہے جو مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مشترک ہے اگرچہ عیسائی اس کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوں۔
آیت زیر نظر سے تبلیغ و دعوت کا ایک اہم اصول معلوم ہوگیا کہ اگر کوئی شخص کسی ایسی جماعت کو دعوت دینا چاہے جو عقائد و نظریات میں اس سے مختلف ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ مخالف العقیدہ جماعت کو صرف اس چیز پر جمع ہونے کی دعوت دے جس پر دونوں کا اتفاق ہو سکتا ہے غور کیجئے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب شاہ روم ہرقل کو اسلام کی دعوت دی تو ایسے ہی مسئلہ کی طرف دعوت دی جو فریقین کے درمیان متفق علیہ تھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر اور آپ ﷺ نے یہی آیت اپنے دعوت نامہ میں تحریر فرمائی۔ آپ ﷺ کا نامہ اقدس آج بھی صحیح بخاری کے اندر مندرج ہے جس کا ترجمہ اس طرح ہے :
” اللہ کے نام سے جو نہایت ہی مہربان اور بہت ہی پیار کرنے والا ہے۔ یہ دعوت نامہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے روم کے بادشاہ ہرقل کی طرف تحریر کیا جاتا ہے۔ سلامتی ہر اس شخص پر جو راہ ہدایت کی پیروی کرے ” سلام علی من اتبع الھدی “ ازیں بعد تجھے اسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ اسلام لے آؤ تو سلامت رہے گا اور اللہ تعالیٰ تجھے دوہرا اجر عطا فرمائے گا اور اگر اعراض کرے گا تو تجھ پر ان سب لینے والوں کا وبال ہوگا جو تیری رعایا ہیں۔ اے اہل کتاب ! اختلاف چھوڑ کر اس بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے تمہارے درمیان یکساں مسلم ہے اگرچہ عملاً تم نے اس کو فراموش کردیا ہے اور ہم سب مل کر اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ، کسی ہستی کو بھی اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ ہم میں سے کوئی انسان دوسرے انسان کے ساتھ ایسا معاملہ نہ کرے کہ اللہ کو چھوڑ کر اسے اپنا رب بنا لے۔ “ جیسا کہ تم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بنا لیا۔
حق سے روگردانی کرنے والوں سے آخری بات کیا ہوگی ؟
140: ” تم کہہ دو کہ گواہ رہو “ اس حکم میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب دلائل واضح ہونے کے بعد بھی کوئی حق کو نہ مانے تو اتمام حجت کے لیے اپنا مسلک اس پر ظاہر کر کے کلام کو ختم کر دو اور زائد بحث و تکرار کرنا ہرگز مناسب نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ جب بھی کسی سے مذہبی گفتگو کرو تو دلائل وبرہان پیش کرو ہٹ دھرمی اور ضد سے کام نہ لو۔ اگر کوئی دلائل وبراہین کو ماننے کے لیے تیار نہ ہو تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دو لیکن اپنی طرف سے اس کے ساتھ بول چال منقطع نہ کرو باقی معاملات میں اس سے بات چیت اور میل جول رکھو۔ اس سے منہ مت پھیرو اس لیے کہ اس نے دلائل اور حقائق کو تسلیم نہیں کیا تو اس طرح تمہارا کوئی نقصان نہیں کیا بلکہ اپنا ہی نقصان کیا ہے تو پھر آخر تمہاری ناراضگی کیوں ؟
زیر نظر آیت نمبر 64 نے انسانوں کی ان ساری خود ساختہ عصمتوں پر ضرب لگا دی اور یہیں سے ان گمراہ فرقوں کی بھی تردید نکل آئی ہے جو مسلمانوں کے اندر پیدا ہوگئے وہ اپنے ان اماموں کے مجرد قول کو بلا دلیل شرعی واجب القبول ٹھہراتے ہیں۔ کسی کو ” رب “ قرار دینے کے لیے یہ ہرگز ضروری نہیں کہ اس لفظ کا بھی اطلاق اس پر کیا جائے بلکہ اس کے اندر اگر صفات ربوبیت مان لیے گئے تو عملاً وہ ” رب “ ٹھہرا لیا گیا۔ اس آیت پر گہری نظر ڈالی جائے تو مسلمانوں کو اپنی اصلاح کرلینے کا سبق یاد ہوجائے۔ کاش کہ ایسا ممکن بھی ہو ! اے اللہ ! ہم مسلمانوں کو اپنی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرما۔
Ayah 3:65اہل کتاب سے خطاب کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق تمہار اجھگڑا کیوں اور کیسے ؟
141: ” اہل کتاب “ کہہ کر خطاب یہود و نصاریٰ دونوں گروہوں سے کیا جا رہا ہے اور دونوں کو دعوت عقل دی جا رہی ہے اور ان کو کہا جا رہا ہے کہ بات کرنے سے پہلے اس کو اچھی طرح سوچ سمجھ بھی لینا چاہیے کہ ہم کہہ کیا رہے ہیں ؟ تم نے یہ کیسے کہہ دیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی یا عیسائی تھے ؟ قرآن کریم نے اس بات کی وضاحت سورة بقرہ میں فرما دی جہاں ارشاد ہوا کہ :
اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰھٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ کَانُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی۔ (البقرہ : 140:2)
” کیا تمہارا یہود و نصاریٰ کا یہ دعویٰ ہے کہ ابراہیم ، اسماعیل ، یعقوب اور اولاد یعقوب بھی یہودی اور نصرانی تھے ؟ “
اس دعویٰ پر کوئی دلیل بھی تمہاری پاس ہے ؟ کیا بعد میں آنے والا پہلے کے دین و مذہب پر ہوتا ہے یا پہلے آنے والا بعد میں آنے والے کے دین و مذہب پر ؟ غور کرو کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) پہلے آئے تھے یا رتمہاری یہودیت و نصرانیت پہلے آئی تھی ؟ یعنی جن کتابوں پر تم اپنی نام نہاد یہودیت اور نصرانیت کی بنیاد قرار دیتے ہو وہ تو خود ابراہیم (علیہ السلام) کے بہت بعد کی کتابیں ہیں۔ اب بتاؤ کہ دین ابراہیمی کے متعلق کیوں کٹ حجتی پر تلے ہو جس کے بارہ میں ذرا بھی علم تمہارے پاس موجود نہیں۔ کجا یہ کہنا کہ ہم ملت ابراہیمی ہیں اور کجا یہ کہنا کہ ابراہیم ہماری ملت اور ہمارے دین ہی کے ایک آدمی تھے ؟
قومی اور مذہبی پچ میں جب کوئی عقیدہ بنا لیا جائے تو جو منہ میں آتا ہے کہہ دیا جاتا ہے عقل و فکر سے ہاتھ دھو لیے جاتے ہیں۔ جو بات اہل کتاب سے کہی جا رہی ہے آج بدقسمتی سے اس بات کے خود مسلمان شکار نظر آتے ہیں۔ کہیں شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) سے محمد رسول اللہ ﷺ کو معراج میں کندھا دلوایا جاتا ہے اور کہیں محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ آدم (علیہ السلام) کی توبہ قبول کرائی جاتی ہے۔ کہیں رسول کا مرتبہ اللہ سے بڑھایا جاتا ہے تو کہیں امام کا رتبہ رسول پر سبقت لے جاتا ثابت کیا جاتا ہے اور کہیں اس کائنات کا سارا نمظام کسی ولی اللہ کے ہاتھوں میں دے دیا جاتا ہے۔
Ayah 3:66اہل کتاب سے کہا جا رہا ہے کہ ہر بات میں ٹانگ اڑانا تم نے کہاں سے سیکھ لیا ؟
142: ” مٰا اَنْتُم “ میں ھا قائم مقام ہمزہ استفہام کے ہے اور استفہام اس جگہ تعجب کے لیے ہے۔ تم وہ لوگ ہو کہ ان باتوں میں بھی تم نے جھگڑا کیا جن کا تم کو علم تھا “ جا کا صاف صاف مطلب یہی ہے کہ تم نے جان بوجھ کر ٹانگ اڑانے کی کوشش کی۔ مراد اس سے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات اور ان کی تعلیم ہے کہ یہود سیدنا عیسیٰ موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اور نصاریٰ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق جھگڑا کرچکے ہیں۔ یہود کے جھگڑوں کا ذکر سورة بقرہ میں بتفصیل گزر چکا اور نصاریٰ کے جھگڑے کا ذکر اس سورة آل عمران میں پیچھے پڑھتے آ رہے ہو حالانکہ ان دونوں نبیوں کے اصل حالات واقعات اور حسب و نسب سے یہ لوگ اچھی طرح واقف تھے انہوں نے جہاں جہاں ٹانگ اڑانے کی کوشش کی صرف شرارۃً اور استہزاء کی اور خصوصاً ” فِیْمَا لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ “ سے مراد وہ پیش گوئیاں بھی ہو سکتی ہیں جو ان کی کتابوں میں ہمارے نبی کریم محمد رسول ﷺ کے متعلق تھیں یعنی پیش گوئیوں کے بارے میں تم نے جھگڑا کرلیا جن کے متعلق تم کو علم تھا۔ ” تو اب اس بارے میں بھی جھگڑا کرتے ہو جس کے لیے تمہارے پاس کوئی علم نہیں ہے۔ “ یعنی اب دین ابراہیمی اور دعائے ابراہیمی کے بارے میں کیوں جھگڑا کرتے ہو اور کیوں کٹ ججتیوں پر لتے ہوئے جس کے بارہ میں کوئی شائبہ علم بھی تمہیں حاصل نہیں۔ پھر یہ کہ جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے وہ من اللہ ہے کسی انسان کی طرف سے نہیں بیان کیا جا رہا ہے نہ کوئی تاریخی واقعہ کے طور پر بیان ہو رہا ہے اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کیا جا رہا ہے جو یقینی اور حتمی ہے اور یہ بات تم بھی مانتے ہو کہ ” اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے۔ “
مختصر یہ کہ توحید و خدا پرستی کا یہی طریقہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ تھا۔ یہودیت و نصرانیت کی گروہ بندیاں اور ان کے عقائد و رسوم بعد کی پیداوار ہیں اور دراصل دین ابراہیمی سے انحراف کا نتیجہ ہیں اگر یہود و نصاریٰ اس سلسلہ میں حجت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ یہودیت و نصرانیت کا طریقہ تھا تو یہ جہل و تعصب کی انتہا ہوگئی کیونکہ یہ بات تو کسی بحث و دلیل کی محتاج نہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں یہ گروہ بندیاں مطلق نہیں تھیں اور نہ ہی ہو سکتی تھیں۔ یہ گروہ بندیاں تو حضرت موسیٰ عیہد السلام اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نام پر کی گئی ہیں اور یہ دونوں حضرت ابراہم (علیہ السلام) کے سینکڑوں برس بعد ہوئے تھے۔
Ayah 3:67ابراہیم (علیہ السلام) کیا تھا ؟ وہ اللہ کا ایک برگزیدہ بندہ تھا جو شرک سے بہت بےزار تھا :
143: ابراہیم (علیہ السلام) تو ” حَنِیْفًا مُّسْلِمًا “ ایک سیدھا سادھا مسلم یعنی ایک فرمانبردار بندہ تھا۔ وہ نہ تو یہود تھا اور نہ نصرانی اس لیے کہ یہودیت و نصرانیت تو بعد میں آئی اور ابراہیم (علیہ السلام) پہلے ہوچکے اور پھر یہ بھی کہ موجودہ یہودیت و نصرانتی وہ ادیان بھی نہیں جو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) لائے تھے اس لیے کہ سب کچھ تمہارا اپنا ہی بنایا ہوا ہے اس میں سوائے نام کے کوئی مشابہت بھی موجود نہیں۔ ہاں ! اگر اصل دین جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لائے تھے اس پر تم قائم ہوتے تو بھی یہ کہنے کا کوئی جواز ہوتا کیونکہ جو دین ابراہیم (علیہ السلام) کا تھا وہی موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا بھی تھا۔ یہ اس لیے فرمایا گیا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی توحید پرستی یہود و نصاریٰ دونوں کے ہاں مسلم تھی۔ تم وہ لوگ ہو کہ تم میں سے یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بنایا اور نصاریٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیا یہ ایک کھلا شرک ہے جس کے تم دونوں فریق مرتکب ہوچکے اور ابراہیم (علیہ السلام) ” شرک کرنے والوں کی راہ پر نہیں تھا۔ “ ” حنیف “ اس شخص کو کہتے ہیں جو ہر طرف سے رخ پھیر کر ایک خاص راستہ پر چلے۔
Ayah 3:68ابراہیم (علیہ السلام) کے قریب ترین تو وہی تھے جو حقیقت میں آپ کے متبع تھے :
144: سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سے قریب بہ لحاظ دین و عقائد تو وہ لوگ تھے جنہوں نے آپ کے زمانے میں آپ کے پیروی کی تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں بھی دوسری جگہ موجود ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے :
قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْٓ اِِبْرٰہِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اِِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ اِِنَّا بُرَئٰٓ ؤُا مِنْکُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَآئُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَحْدَہٗٓ۔ (الممتحنہ : 4:60) ” تم لوگوں کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو صاف صاف کہہ دیا کہ ” ہم تم سے اور تمہارے ان معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو قطعی طور پر بیزار ہیں ، ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہوگئی اور بیر پڑگیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ ۔ “
ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی مخصوص صفت کا یہاں خاص کر ذکر کیا گیا وہ صرف اور صرف یہی ہے کہ انہوں نے برملا قوم سے خطاب کیا اور بےدھڑک کہہ دیا کہ ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو قطعی بیزار ہیں۔ ہم نے تم سے کفر کا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہوگئی اور بیر پڑگیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ ۔ “ پھر جب قوم نے ہٹ دھرمی کی تو انہوں نے اپنی قوم اور اپنے علاقہ سے عملاً بیزاری کا اظہار کردیا اور سب کچھ چھوڑ کر فی سبیل اللہ ہجرت کر آئے۔
قوم کو برملا یہ کہنا کہ ہم تمہارے کافر ہیں نہ تمہیں حق پر مانتے ہیں نہ تمہارے دین کو اس لیے کہ اللہ پر ایمان کا لازمی تقاضا طاغوت سے فکر ہے ایمان دراصل وہی ہے جو طاغوت سے کفر کرنے کے بعد ہو۔ گویا ایمان باللہ کے لیے پہلے کفر بالطوغوت لازم و ضروری ہے۔ یہی درس و وعظ ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کا تھا اور یہی وعظ و درس قرآن کریم میں محمد رسول اللہ ﷺ نے دیا۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے :
فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی لَا انْفِصَامَ لَھَا۔ (البقرہ : 256:2)
” پس جو کوئی طاغوت سے انکار کرے یعنی سرکش اور فساد کی قوتوں سے بےزار ہوجائے اور اللہ پر ایمان لائے تو بلاشبہ اس نے فلاح وسعادت کا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے کا نہیں۔ “
محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے سچے متبعین کا طریقہ بھی وہی ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کا تھا :
145: اور اس وقت ” یہ نبی “ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ماننے والے یعنی مسلمان بھی اسی نسبت کے حق دار ہیں اور بحمداللہ فرنگی مورخین بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ قدیم اسرائیلی مذہب کا جانشین اب اگر کوئی ہے تو وہ مسیحیت نہیں جس کے اندر یونانی اور رومہ کے جاہلی مشرکانہ عقائد جمع ہوگئے ہیں بلکہ اسلام ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ” مورخین کی تاریخ عالم “ قدیم اسرائیلی مذہب وہی تھا جو اس گروہی مذہب جس کو یہودیت اور نصرانیت کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے پہلے اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد موجود پایا جاتا ہے۔
Ayah 3:69اہل کتاب خود تو گمراہ ہیں ہی لیکن ان کی کوشش ہے کہ تم بھی گمراہ ہو جاؤ :
146: یہ دراصل مسلمانوں کو چونکا دینے اور جاگتا رکھنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ اہل کتاب خود تو گمراہ ہی ہیں لیکن ان کو یہ فکر بھی دامن گیر ہے کہ کسی نہ کسی طریقہ سے تم بھی گمراہ ہوجاؤ ۔ روایات میں یہ بات واضح ہے کہ یہود کے حوصلے اتنے بڑھے ہوئے تھے اور انہیں باطل کی قوت پر اتنا غرّہ تھا کہ خود اسلام قبول کرنا تو الگ رہا۔ مسلمانوں کو بھی ان کے عقائد سے برگشتہ کردینے کی فکر میں لگے رہتے تھے۔ آج بھی کتنے مسیحیوں کے دل میں یہ تمنا جیتی جاگتی موجود ہے کہ مسلمان عیسائیت کو قبول کرلیں اور اس کے لیے جو جو راستے وہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور جن جن طریقوں سے وہ اس کام میں مصروف ہیں وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں۔ لٹریچر مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔ مذہبی کتب کی عبارات اور قصص بیان کر کے سوالنامے تحریر کیے جاتے ہیں پھر ان سوال ناموں کو حل کر کے بھیجنے والوں میں انعامات تقسیم کیے جاتے ہیں۔ جو جس لالچ میں پھنسنے کے لیے تیار ہو اس کو پھنسانے کے لیے وہی ضرورت اس کی پوری کی جاتی ہے۔ جس کی داستانیں بہت لمبی اور سازشیں بہت گہری ہیں۔
ارشاد ہوتا ہے کہ جو سچا اور پکا مسلمان ہوگا وہ ان کے لالچ میں کیوں پھنسے گا ؟ کیونکہ وہ تو اپنے دین میں اس قدر پکا ہوگا کہ اس کو کوئی لالچ بھی متاثر نہیں کرسکتا۔ ہاں ! جو مسلمان ہی نہیں بلکہ صرف لالچ کا بندہ اور اپنی خواہش کا غلام ہے وہ اگر جھک بھی گیا تو اس سے اسلام کا کیا بگڑا ؟ جو نقصان ہو ان لالچ دینے والوں ہی کا ہوا اگرچہ ان کی سمجھ میں آنے والی یہ بات نہ ہو۔ اہل کتاب کے اس عمل کی قرآن کریم نے بھی بار بار اطلاع مسلمانوں کو دی ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے :
” اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں اگرچہ حق ان پر ظاہر ہوچکا ہے مگر اپنے نفس کے حسد کی بناء پر تمہارے لیے ان کی یہ خواہش ہے۔ اس کے جواب میں تم عفو و درگزر سے کام لو یہاں تک اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ نافذ فرما دے۔ “ (البقرہ : 190:2)
راہ حق سے بھٹکانے کے لیے ایک تدبیر انہوں نے مزید سوچی جس کا ذکر قرآن کریم میں اس طرح ہے کہ : ” اور دیکھگو اہل کتاب میں سے ایک گروہ ہے جو کہتا ہے کہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے ایسا کرو کہ صبح ان کی کتاب پر ایمان لے آؤ اور شام کو انکار کر دو اس طرح عجب نہیں وہ لوگوں کو اسلام سے پھرتے ہوئے دیکھ کر خود بھی پھرجائیں۔ “ (آل عمران : 72:3)
ایک جگہ قرآن کریم نے اس طرح مسلمانوں کی رہنمائی کی ہے کہ :
” مسلمانو ! ایسا نہ کرو کہ اپنے آدمیوں کے سوا کسی دوسرے کو اپنا ہم راز اور معتمد بناؤ ۔ ان لوگوں یعنی اہل کتاب کا حال تو یہ ہے کہ تمہارے خلاف فتنہ انگیزی میں کمی کرنے والے نہیں جس بات سے تمہیں نقصان پہنچے وہی انہیں اچھی لگتی ہے۔ ان کی دشمنی تو ان کی باتوں ہی سے ظاہر ہے لیکن جو کچھ ان کے دلوں میں چھپا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ اگر تم سمجھ بوجھ رکھتے ہو تو ہم نے فہم و بصیرت کی نشانیاں تم پر واضح کردی ہیں۔ “ (آل عمران : 118:3) ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
” ان لوگوں کی دلی تمنا تو یہ ہے کہ جس طرح انہوں نے خود کفر کی راہ اختیار کرلی ہے تم بھی کرلو اور تم سب ایک ہی طرح کے ہوجاؤ ۔ “ (النساء : 89:4) ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :ـ
” اور وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ سے بھٹک جاؤ اور اللہ تمہارے دشمنوں کو اچھی طرح جانتا ہے تمہارے لیے اللہ کی دوستی اور اس کی مددگاری کافی ہے۔ “ (النساء : 46 ۔ 45:4) ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
” اور اے پیغمبر اسلام ! اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا اور اس کی رحمت کار فرما نہ ہوتی تو واقعہ یہ ہے کہ ان لوگوں میں سے ایک جماعت نے تو پورا ارادہ کرلیا تھا کہ تمہیں غلط راستہ پر ڈال دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ غلط راستہ پر نہیں ڈال رہے مگر خود اپنے آپ کو۔ یہ تمہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کردی ہے اور جو باتیں تمہیں معلوم نہ تھیں وہ تمہیں سکھا دی ہیں اور تم پر اس کا بہت ہی بڑا فضل ہے۔ “ (النساء : 113:4)
سورة بقرہ میں بھی جا بجا لوگوں کی اس خواہش اور اس طرح کی تدبیروں کا بار بار ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ عروۃ الوثقیٰ جلد اول میں آپ دیکھ چکے ہیں۔
Ayah 3:70اہل کتاب سے خطاب کہ تم کیوں اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہو :
147: اہل کتاب کی اس شفاوت کا بیان کہ وہ حق کو حق سمجھتے ہوئے اس سے انکار کردیتے ہیں۔ حق کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی آیات جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہو رہی تھیں اور جن کی صداقت وہ خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے تھے اور خود اس بات کے گواہ بھی تھے کہ ان کی کتابوں میں ایک رسول کے آنے کا ذکر موجود ہے اور اس آنے والے رسول کی بہت سی نشانیاں بھی وہ اپنی کتب سماوی میں پڑھ رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ نبی اعظم و آخر پر منطبق ہوئی دیکھ بھی رہے تھے لیکن اس کے باوجود اتنے ڈھیٹ تھے کہ صاف صاف انکار کردیتے تھے اور پھر اس کی مزید وضاحت اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرما دی کہ ان کا یہ انکار کچھ ناواقفیت اور لاعلمی کی بناء پر نہیں بلکہ جان بوجھ کر ان آیتوں میں تحریف کر رہے ہیں لفظی تحریف بھی اور معنوی تحریف بھی۔
Ayah 3:71اہل کتاب سے خطاب کہ تم حق و باطل کو کیوں ملاتے ہو اور خصوصاً حق کو کیوں چھپاتے ہو ؟
148: اس آیت زیرنظر یعنی سورة آل عمران کی آیت 71 میں یہود پر تین الزامات متعین طور پر لگائے گئے اور وہ ایک کی بھی تردید نہیں کرسکے اس لیے کہ تینوں الزامات صحیح اور واضح ہیں۔ (1) حق کو باطل کے ساتھ ملا جلا کر مشتبہ کردینا یعنی اپنی الہامی کتابوں کے احکامات کی ایسی ایسی تاویلیں کرتے ہیں کہ حق بالکل باطل کے تحت میں دب کر رہ جاتا ہے۔ باطل حق کو ڈھانپ لیتا ہے اور تاویل تاویل نہیں رہتی بلکہ تاویل سے بڑھ کر صریح تحریف بن جاتی ہے۔ یہ سب کچھ جانتے ہیں اور پھر باز بھی نہیں آتے۔ دوسرے یہ کہ حق کو سرے سے چھپا ڈالتے ہیں اور کتب آسمانی میں جہاں جہاں بشارتیں پیغمبر اسلام کی صاف صاف موجود ہیں وہاں ان عبارتوں کو کچھ سے کچھ کردیتے ہیں اور ذرا نہیں جھجکتے کہ یہ ہم کیا کر رہے ہیں اور کس سے کر رہے ہیں ؟
تیسرے یہ کہ یہ سب کچھ اپنے قصد و ارادہ سے کر رہے ہیں۔ محض اتفاق طور پر نہیں ہو رہا ہے۔ تحریفات اہل کتاب پر پوری بحث سورة بقرہ آیت نمبر 42 تا 46 کے تحت گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ کریں۔
نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج یہ تینوں بیماریاں علمائے اسلام کی اکثریت میں پائی جا رہی ہیں اور زمرہ علماء ہے کہ وہ ٹس سے مس بھی نہیں۔ قرآن و حدیث کو بالکل چھوڑ کر قوم کو قصوں اور کہانیوں پر لگا دیا گیا ہے ضمناً اگر قرآن کریم کی کوئی آیت اگر پیش بھی کی جاتی ہے تو اپنے اصل مطلب و مفہوم سے بالکل الگ کر کے اپنی خواہشات کی بھینٹ اسی کو چڑھا دیا جاتا ہے۔ عوام بےچارے تو ناواقف ہیں لیکن علماء جن کو علماء کہا جاسکتا ہے سب کچھ جان بوجھ کر کر رہے ہیں ہاں ! دو رکعت کے امام جن کو عرف عام میں ” ملانے “ کہا جاتا ہے وہ زمرہ علماء میں شامل نہیں بلکہ وہ تو چھوٹے چھوٹے دکاندار اور دیہات کے ساتویں کمین ہیں جو ملاں کا بچہ ملاں کے لحاظ سے کام کر رہے ہیں اور علاقائی رسومات کی ادائیگی کے لیے رکھے گئے ہیں جو مذہبی رسوم کے نام سے ادا کی جاتی ہیں۔
Ayah 3:72اہل کتاب کی سادہ لوح مسلمانوں کو دین اسلام سے برگشتہ کرنے کی ایک اسکیم کا بیان :
149: اس آیت کا مفہوم ایک سے زیادہ طریقوں سے سمجھا دیا گیا ہے اور ہر مفہوم اپنے اپنے مقام پر صحیح اور درست ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ کے قریب تو مفہوم یہ ہے کہ اہل کتاب نے دین اسلام کو بدنام کرنے کے لیے یہ تجویز کی کہ اپنے کچھ لوگوں کو تیار کیا کہ صبح جا کر منافقت کرتے ہوئے وہ مسلمان ہوجائیں اور شام کو کہہ دیں کہ ہم تو اس کا انکار کرتے ہیں۔ ہم نے دیکھ لیا ہے کہ اس دین میں کوئی بات بھی حق نہیں۔ اس کا اثر یہ ہوگا کہ سادہ لوح مسلمان بھی متاثر ہوں گے اور مشکوک ہو کر دین سے پھرنا شروع ہوجائیں گے یعنی اس طرح وہ سمجھیں گے کہ اہل کتاب کو کوئی دشمنی نہیں تھی وہ تو مسلمان ہو ہی گئے تھے لیکن انہوں نے جب اس دین کے اندر داخل ہو کر اس کو جھوٹا پایا تب ہی تو اس کو چھوڑا ہے اگر اس میں کوئی صداقت ہوتی تو وہ مسلمان ہی رہتے۔ اس لیے وہ بھی اسلام چھوڑ کر پھر کفر کی طرف لوٹ کر آئیں گے بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ یہودی مذہب کی طرف ہی لوٹ آئیں۔ یہ اسکیم انہوں نے اس لیے بنائی کہ وہ دیکھ رہے تھے کہ جو شخص اسلام کے اندر داخل ہوتا ہے وہ واپس پھرنے کا نام ہی نہیں لیتا خواہ اس کو جان کے لالے پڑجائیں بلکہ جان سے ہاتھ ہی کیوں نہ دھونے پڑیں۔ جیسا کہ ہرقل والی حدیث میں ابوسفیان کی زبان سے بھی یہ شہادت موجود ہے کہ ہرقل نے ابوسفیان سے سوال کیا تھا کہ کیا اس دین کو قبول کرنے والے پھر اس دین سے برگشتہ بھی ہوجاتے ہیں اس نے جواب دیا تھا کہ آج تک یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ جو شخص اسلام لایا پھر اس نے اسلام سے کبھی انحراف کیا ہو۔ ہرقل نے اس کو کہا تھا کہ پھر تو یقینا دین اسلام ایک سچا دین ہے اور یہ اسلام کی صداقت پر ایک بڑی بھاری اور وزنی دلیل و شہادت تھی۔ مسلمانوں کی اس مضبوطی کو دیکھ کر ہی اہل کتاب نے یہ حیلہ سوچا تھا کہ شاید اس طرح دین اسلام بدنام ہو حالانکہ یہ اسکیم ان کی دلائل میں عاجز ہونے کی ایک واضح دلیل تھی۔ انہوں نے جب دین اسلام کو ہر پہلو سے کامیاب ہوتا دیکھا تو ایسی ایسی مخفی تدبیروں پر اتر آئے کہ شاید اس طرح اسلام کا غلبہ ٹوٹ جائے۔ وہ وقت تو وہ تھا آج بھی اہل کتاب اس طرح کی تدبیریں اسلام کو تباہ کرنے کے لیے کرتے رہتے ہیں۔
موجودہ زمانہ میں ایران و عراق کو لڑا کر انہوں نے کیا کیا جب ان کی یہ تدبیر کامیاب ہوگئی تو عراق کو کو یت پر حملہ کی شہ انہوں نے خود دی پھر کو یت سے ہمدردی کا اظہار کر کے عراق کو کمزور سے کمزور تر کردیا اور کو یت و سعودیہ کی دولت کو کئی طرح سے سمیٹ لیا اب پاکستان کو ہڑپ کرنے کی اسکیمیں تیار ہو رہی ہیں اور اسرائیل کو بڑھا کر مسلمانوں کو اس سرطان کی بیماری میں مبتلا کردیا ہے۔ اس وقت جب کہ ابھی خود رسول اللہ ﷺ موجود تھے ان کی اسکیم کارگر نہ ہوئی اگرچہ نقصان انہوں نے اس وقت بھی پہنچایا لیکن افسوس کہ اس وقت اہل یہود اور نصاریٰ کی ملی جلی اسکیمیں مسلمانوں پر کارگر ثابت ہو رہی ہیں لیکن مسلمان ہیں کہ ان کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی کہ ہمارے ساتھ کیا کچھ ہو رہا ہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی ان اسکیموں کو ان کی تباہی کا باعث بنا دے گا یہ وقت کب آئے گا اس کو اللہ ہی جانتا ہے۔
ایک مطلب یہ بھی اس آیت کا بیان کیا گیا ہے کہ ” دن کے پہلے حصے میں ایمان لے آؤ اور پچھلے حصے میں انکار کر دو “ کا مفہوم یہ کہ نفاق کے طور پر مسلمانوں کی ہاں میں ہاں ملاتے رہو مگر فی الواقع اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہو گویا جب مسلمانوں سے ملو تو ان کو باور کرائے رکھو کہ ہم مسلمان ہی ہیں اور جب اپنے لوگوں سے ملو تو ان کی یقین دہانی کے لیے ان کے ساتھ ہونے کا عہد کرو اور اس پر مضبوطی سے قائم رہو۔ یہ مفہوم ابومسلم اصفہانی نے بیان کیا ہے اور اس کی تصدیق میں یہ آیت بھی پیش کی ہے جو خود قرآن کریم نے دوسری جگہ بیان فرمائی ہے کہ :
وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِھِمْ قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ ۔ (البقرہ : 14:2)
جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور جب اپنے سرداروں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ یہ مفہوم بھی اپنی جگہ پر صحیح اور درست ہے اور احادیث و تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ محض نفاق کے طور پر مسلمانوں کے ساتھ مل گئے تھے تاکہ اس طرح دین اسلام کو بدنام کردیں۔
ایک تیسرا مطلب اس کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے یہ اسکیم بنائی کہ احکام اسلام میں تفریق کر کے ان کو دو قسم کے ٹھہرایا جائے وہ اس طرح کہ ان میں سے بعض نے بعض کو کہا کہ اگر تم اسلام کو اس کی ساری باتوں میں جھوٹا کہو گے تو سب لوگ تم کو جھوٹا سمجھیں گے کیونکہ بہت سی باتیں جو وہ لایا ہے وہ حق ہیں اور عوام بھی ان کو حق مانتے اور تصور کرتے ہیں اگر تم اس کو ساری باتوں میں جھوٹا کہو گے تو عوام تم کو جھوٹا سمجھیں گے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ اس کی کچھ باتوں کی تم تصدیق کرو اور ان کو سچ کہو اور بعض باتوں کو جھوٹا کہو تاکہ لوگ تمہارے کلام کو انصاف پر محمول کریں اور تمہاری بات کو قبول کریں اور اس طرح خودبخود وہ دین اسلام کی طرف میلان کرنے سے باز آجائیں گے۔ یہ مفہوم ” اصم “ سے منقول ہے۔