3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 3:175

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ شیطان تھا جو تمہیں اپنے ساتھیوں سے ڈرانا چاہتا تھا اگر تم ایمان رکھنے والے ہو تو شیطان کے ساتھیوں سے نہ ڈرو ، فقط اللہ سے ڈرو

مکی لشکر کی دوبارہ چڑھائی کی خبر دینے والا کون تھا ؟ شیطان 318: یہ افواہ کس نے پھیلائی کہ ابو سفیان اپنے لشکر کو دوبارہ تیار کر کے مدینہ پر بس ٹوٹ پڑنے والا ہے ؟ فرمایا یہ گیدڑ بھبکی شیطان کی تھی اور یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ شیطان کہیں بھی اپنی اصلی صورت میں سامنے آکر حملہ نہیں کرتا جب وار کرتا ہے کسی نہ کسی انسانی شکل و قالب میں آکر ہی وار کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کام اس کا ہے جس کی شکل تو انسانوں جیسی ہوتی ہے لیکن اپنے کاموں کے لحاظ سے وہ شیطان ہوتا ہے گویا ” شیاطین الانس “ میں سے کسی شیطان کا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو ” اولیاء الشیطن “ کہلاتے ہیں اور ان کا کام ہی خوف و ہراس پھیلانا ہے اور یہ اپنے دوستوں ساتھیوں میں اس طرح بات کا بتنگڑ بناتے ہیں کہ لوگ ششدر و حیران رہ جاتے ہیں یہاں جس شیطان کا ذکر ہورہا ہے جس نے یہ خبر مدینہ کے منافقین تک پہنچائی تھی اس کا نام نعیم ثقفی لیا گیا ہے۔ قرآن کریم کا یہ عام انداز ہے کہ وہ ایسے مواقع پر کسی کا نام نہیں لیتا تاکہ مفہوم عام رہے اور جب بھی کوئی ایسا کام کرے وہ اس نام سے یاد کیا جائے اور یہی بات اس کے شایان شان بھی ہے کہ حکم عام رہے اور جو بھی ایسی شیطنت کرے اس کو شیطان ہی کے نام سے یاد کیا جائے اور ایس شیطان خصوصاً ہر قوم کے و ڈیرے ہی ہوا کرتے ہیں جن کے پاس دنیوی وسائل ہوتے ہیم اس لئے ان سے متاثر ہو کر بہت سے کمزور لوگ ان کے گرد اپنی اپنی ضروریات کی خاطر جمع رہتے ہیں اور ان شیاطین کو جب کوئی خبر گرم کرنا ہوتی ہے تو بس یہ اپنے انہیں حاشیہ نشینوں میں ایک شوشہ چھوڑ دیتے ہیں اور اس طرح آناً فاناً اس کو پھیلا کر اپنا مطلب حاصل کرلیتے ہیں لیکن جن لوگوں کے سینے قرآن کریم کی روشنی سے منور ہوجاتے ہیں ان پر ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن انسان خواہ کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو ہر وقت ایک جیسی حالت پر نہیں رہ سکتا اس لئے کبھی کبھی اور کہیں کہیں یہ شیطان اپنا ہاتھ دکھا بھی جاتے ہیں۔
Ayah 3:176

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

جو لوگ کفر کی راہ میں دوڑ رہے ہیں ان کی یہ حالت دیکھ کر تم آزردہ خاطر نہ ہو ، یاد رکھو وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے بلکہ قانون الٰہی چاہتا ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے

مسلمانوں کو ہدایت کہ دیکھو تم شیطان کے ہتھے مت چڑھو : 319: اب مسلمانوں کو نصیحت کی جاتی ہے کہ یہ شیطان بہت ہی شرارتی ہے یہ دراصل تم کو ” اپنے ساتھیوں سے ڈرانا چاہتا ہے اگر تم ایمان رکھنا والے ہو تو شیطان کے ساتھیوں سے مت ڈرو بلکہ فقط اللہ ہی کی ذات سے ڈرو۔ “ فرماتا ہے کہ وہ غازیان اسلام تو صحیح معنوں میں اللہ کے بندے تھے وہ شیطان کے مکر میں نہ آئے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اب شیطان نے شیطنت ترک کردی ہے۔ اس کا جوڑ توڑ تو ” اِلٰی یوم یُبعَثُونَ “ جاری رہے گا اس لئے اے مسلمانو ! تم بھی اس کے مکر و فریب میں نہ آنا۔ تم کو بار بار یاد دلایا جارہا ہے اس لئے کہ اس کے داؤ بڑے ہی گہرے ہوتے ہیں۔ قرآن کریم میں یہ مضمون بار بار اور کئی طریقوں سے سمجھایا گیا ہے۔ اس جگہ چند ارشادات الٰہی کا ترجمہ درج کیا جاتا ہے۔ آپ ان ہدایات کی روشنی میں حوالہ دیئے گئے مقامات مطالعہ کرتے رہیں انشاء اللہ یہ مطالعہ بہت مفید رہے گا۔ خصوصاً تفسیر عروۃ الوثقیٰ میں مقررہ مقامات کا مطالعہ آپ کی انشاء اللہ راہنمائی کرے گا۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ : ” اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اور اسی کے لئے دین ہے دائمی۔ پھر کیا تم اللہ کے سوا دوسری ہستیوں سے ڈرتے ہو۔ ” (النحل 16 : 25) ” جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور اللہ واحد کے سوا وہ کسی سے نہیں ڈرتے اور محاسبہ کے لئے بس اللہ ہی کافی ہے۔ “ (الاحزاب 33 : 39) اس جگہ الفاظ قرآنی ہیں کَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا جس کے دو معنی ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی اس جگہ درست ہیں ایک یہ کہ ” ہر خوف اور خطرے کے مقابلے میں اللہ کافی ہے۔ “ دوسرے یہ کہ ” حساب لینے کے لئے اللہ کافی ہے “ اس کے سوا اور کسی کی بار پرس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ” فی الحقیقت مسجدوں کو آباد کرنے والا تو وہ شخص ہے جو اللہ ، آخرت کے دن پر ایمان لایا ، نام قائم کی ، زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کے سوا اور کسی کا ڈر نہ مانا۔ جو لوگ ایسے ہیں انہیں سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ سیدھی راہ پانے والے ثابت ہوں گے۔ “ (التوبہ 9 : 18) ” اور جو اللہ سے ڈرے گاو مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ تو وہ اس کے گناہ اس سے دور کردے گا اور آخرت میں اس کو بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔ “ (الطلاق 65 : 5) ” اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا رہتا ہے تو اللہ اس کے لیے غم اور مصیبت سے نکلنے کی صورت پیدا کردیتا ہے اور اس کو روزی عطا کرتا ہے جہاں سے اس کو کبھی خیال بھی نہ ہو اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لئے کافی ہے۔ بیشک اللہ اپنا کام پورا کرتا ہے بیشک اللہ نے ہرچیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ “ (الطلاق 65 : 3) ” آپ ﷺ تو صرف اسی کو ڈرا سکتے ہیں جو آپ ﷺ کے سمجھانے پر چلے اور رحمٰن سے بلا دیکھے ڈرے۔ پس آپ ﷺ اس کو مغفرت اور بڑے اجر یا بڑے درجہ کے ثواب کی بشارت دیجئے جو ہر جگہ اس کے لئے بڑی عزت کا باعث ہوگی۔ “ (یس 36 : 11) ” کیا اللہ اپنے بندہ کو کافی نہیں ہے۔ اور یہ منکر آپ ﷺ کو اس کے سوا اوروں سے ڈراتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ جس کو گمراہ کرے یعنی اپنی مشیت کے مطابق اس کو پھر کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہوتا۔ “ (الزمر 39 : 36) یہاں قرآن کریم کے الفاظ ہیں اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ 1ؕ اور اس کے مخاطب اول خود محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس اور یہ ارشاد اس لئے فرمایا کہ کفار مکہ نبی کریم ﷺ سے کہا کرتے تھے کہ تم ہمارے معبودوں کی شان میں گستاخیاں کرتے ہو اور اس کے خلاف زبان کھولتے ہو تمہیں معلوم نہیں کہ یہ کیسی زبردست باکرامت ہستیاں ہیں۔ ان کی توہین تو جس نے بھی کی وہ برباد ہوگیا۔ تم بھی اگر اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو یہ تمہارا بھی تختہ الٹ دیں گے۔ اور آج کے مشرکین بھی اس طرح کی باتیں کرتے ہیں حالانکہ تخت الٹ دینا یا تخت بچھا دینا یقیناً ذات الٰہی کے سوا کس دوسرے کا کام نہیں خواہ وہ کوئی ہو۔ ” مسلمانو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو یعنی اس کی نافرمانی سے بچو تو وہ تمہارے لئے حق و باطل میں امتیاز کرنے والی ایک قوت پیدا کردے گا اور تم سے تمہاری برائیاں یعنی کمزوریاں دور کردے گا اور بخش دے گا۔ اللہ تو بہت ہی فضل کرنے والا ہے۔ “ (الانفال 8 : 29) ” اے پیغمبر اسلام ! اللہ تیرے لئے کفایت کرتا ہے اور ان مؤمنوں کے لئے بھی جو تیرے پیچھے چلنے والے ہیں۔ “ (الانفال 8 : 64) ” اے پیغمبر اسلام ! جو کچھ تمہیں حکم دیا گیا ہے لوگوں پر آشکارا کرو اور مشرکوں کی کچھ پروا نہ کرو۔ ان ہنسی اڑانے والوں کے لئے ہم تمہاری طرف سے بس کرتے ہیں۔ “ (الحجر 15 : 94 ، 95) ” اے پیغمبر اسلام ! اس گروہ میں سے جس نے زبان سے کہا ، ایمان لائے مگر ان کے دل مؤمن نہیں ہوئے اور اس گروہ میں سے جو یہودی ہے جو لوگ کفر میں تیز گام ہیں تو ان کی حالت تمہیں غمگین نہ کرے۔ یہ لوگ جھوٹ کے لئے کان لگانے والے ہیں اور اس لئے کان لگاتے ہیں کہ ایک دوسرے گروہ کو جو تمہارے پاس نہیں آیا خبریں پہنچائیں۔ “ (المائدہ 5 : 41) مدینہ کے علماء یہود منافقوں کو بھیجتے تھے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی مجلسوں میں بیٹھیں اور انہیں خبریں پہنچائیں اور ان کو یہ بھی کہتے کہ معاملات و قضایا ان کے سامنے پیش کرو اور دیکھو کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر ہمارے حق کے مطابق ہو تو مانو نہ ہو تو قبول نہ کرو ، اور اس طرح کی شرارتیں آج بھی باقاعدہ طور پر مسجدوں اور درسگاروں میں سکھائی جاتی ہیں اور فی زماننا تو علماء کا شیوہ ہی یہ رہ گیا ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف جہاں تک بھڑکایا جاسکتا ہے بھڑکائیں اور طلباء یہی کچھ سیکھ رہے ہیں اور ایک دوسرے کے جلسوں میں جا کر خوب بھگدڑ مچایا جاتا ہے۔ یہی دین ہے اور یہی دین کا درد۔ اِنَّا للہ وَاِنّٓا اِلیہِ رَاجِعُونَ ۔ منافقین کی آخرت برباد ہوگی اور وہ عذاب میں پڑے رہیں گے : 320: فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! جو لوگ تیزی سے کفر میں گھس رہے ہیں اور پھر گھستے ہی چلا جا رہے ہیں تم ان کے لئے رنجیدہ خاطر نہ ہو۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ ظاہر ہے کہ یہ وہی منافق ہیں جن کا سردارابن ابی تھا چونکہ یہ لوگ اندر ہی اندر کفار کی مدد کر رہے تھے اور ہر معاملہ میں ان کے معین و مددگار بلکہ قریش مکہ کا ہتھیار تھے اور وہ جب چاہتے تھے ان سے کام لے لیتے تھے اور یہ بھی ان کا کام دینے کے لئے ہر وقت مستعد رہتے تھے اس لئے ان کو کف میں تیزی سے بڑھنے والے کہا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو مطلع کیا جارہا ہے کہ ان کی حرکتوں سے اللہ کا کچھ نہیں بگڑ رہا جو کچھ بگڑ رہا ہے وہ ان کا اپنا ہی بگڑ رہا ہے اور ” اللہ کا کچھ نہ بگڑنے “ کا مغلب بھی خود واضح ہے کہ اللہ والوں یعنی سچے مسلمانوں کا ان کی حرکتوں سے کچھ نہیں بگڑے گا بلکہ یہ خود اپنی شرارتوں کے جال میں پھنس کر رہ جائیں گے۔ جو کسی کے لئے کنوا کھودتا ہے وہ خود ہی ایک روز اس میں جا گرتا ہے۔ ہاں ! آپ ﷺ کو جو جذبہ رحم رکھنے کی وجہ سے ان کا یہ رویہ غمگین کرتا ہے کہ کاش ! یہ لوگ ان حرکتوں سے باز آجائیں اور اپنے آپ کو ہلاکت کے منہ میں نہ دیں اور اس طرح یہ دوزخ کا ایندھن نہ بنیں۔ جب وہ خود اپنے لئے غمگین نہیں تو آپ ﷺ ان کے لئے کیوں غمگین ہوں ؟ یہ بدبخر مخلوق ہے اللہ اپنے قانون مشیت کے مطابق ان کو آخرت میں حصہ دار نہیں بنائے گا اور اللہ نے ان کی مدد نہیں کی اس لئے کہ قانون خداوندی یہی ہے کہ وہ کبھی ان کی مدد نہیں کرتا جو خود اپنی مدد سے ہاتھ کھینچ لیں اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خود تو کفر کی طرف بڑھ رہے ہوں لیکن اللہ ان کے سامنے اسلام کی راہیں کشادہ کردے۔ ان آخڑت سے محرومین کے لئے تم بھی کڑھنا چھوڑ دو اس لئے کہ اس آگ کا ایندھن ہیں جو اللہ نے دوزخ میں سلگا رکھی ہے۔ ان کے لئے بلاشبہ وہ عذاب عظیم ہے جس کو یہ اپنے ہاتھوں خود تیار کر رہے ہیں۔۔ دوسری جگہ ان کا حال اس طرح بیان فرمایا ہے کہ : یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِـُٔوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاہِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ کَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ 008 (الصف 631 : 8) ” یہ لوگ اپنے منہ کے پھوکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نوت کو پورا پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار گزرے۔ “ یہ گویا معجزات محمدی ﷺ میں سے ایک معجزہ ہے ؟ یہ کیسے ؟ یہ اس طرح کہ یہ آیت یعنی الصف کی آیت 8 جنگ احد 3 ھ میں نازل ہوئی جبکہ اسلام صرف مدینۃ النبی تک محدود تھا۔ مسلمانوں کی تعداد چنو ہزار سے زائد نہ تھی اور سارا عرب اس دین کے مٹا دینے پر تلا ہوا تھا۔ احد کے معرکے میں جو مصیبت مسلمانوں کو پہنچی تھی اس کی وجہ سے ان کی ہوا اکھڑ گئی تھی اور گردو پیش کے قبائل ان پر شیر ہوگئے تھے۔ ان حالات میں فرمایا گیا کہ اللہ کا یہ نور کسی کے بجھائے بجھ نہ سکے گا بلکہ پوری طرح روشن ہو کر اور دنیا بھر میں پھیل کر رہے گا۔ غور کرو کہ اللہ کے سوا اس وقت اور کون یہ جان سکتا تھا کہ اسلام کا مستقبل کیا ہے ؟ انسانی نگاہیں تو اس وقت یہ دیکھ رہی تھیں کہ یہ ایک ٹمٹماتا ہوا چراغ ہے جسے بجھا دینے کے لئے بڑے زور کی آندھیاں چل رہی ہیں۔
Ayah 3:177

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ایمان دے کر کفر کا سودا چکایا ہے وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ان کے لیے ان کے اعمال کے سبب دردناک عذاب تیار ہے

ایمان کی پونجی دے کر کفر کا سودا چکانے والے خود فیصلہ کرلیتے تو بہتر ہوتا : 321: جن لوگوں نے ایمان کے عوض کفر کا سودا چکایا ہے حالانکہ وہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے ایک رسول کے آنے کے منتظر تھے اور ان کو یقین تھا کہ وہ فاران کی چوٹیوں پر ہی اترنے والا ہے لیکن جب وہ رسول یعنہی محمد رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوگئے انہوں نے کھلی نشانیوں بھی پیش فرمادیں جن کا وہ کسی طرح رد بھی نہ کرسکے لیکن دنیوی حرص میں آکر محض عناد کی وجہ سے انہوں نے آپ ﷺ کی نبوت کا انکار کردیا اس طرح گویا انہوں نے ایمان دے کر کفر حاصل کرلیا وہ اپنے اس سودے پر خود نظر ثانی کرتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا۔ اچھا ! انہوں نے بھی ایسا کر کے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی چلائی اس سے اللہ یا ایمان والوں کا کچھ نہیں بگڑا جو کچھ بگڑا ان کا اپنا ہی بگڑا۔ دوسرے کفار کی طرح بلاشبہ یہ بھی اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے اور ان کے لئے کھ دہ عذاب تیار کردیا گیا ہے اور یہ اس میں اپنے زخموں کو چاٹتے رہیں گے اور کوئی ان کا پر سال حال نہیں ہوگا۔ دسری جگہ قرآن کریم نے ان کو اس طرح مخاطب کیا ہے : اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ0044 (النساء 4 : 44) ” کیا تم نے ان لوگوں کی حالت نہیں دیکھی جنہیں کتاب اللہ سے ایک حصہ دیا گیا تھا ؟ کس طرح وہ گمراہی خرید رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ سے بہک جاؤ ۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا : وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا 1ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ 008 (ابراہیم 14 : 8) ” اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگر تم اور وہ سب جو زمین میں بستے ہیں کفران نعمت کریں تو اللہ کو اس کی کیا پروا ؟ اللہ کی ذات تو بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔ “ محرومی و ہلاکت ہوگی تو خود تمہارے ہی لئے ہوگی۔ مزید وضاحت کے لئے دیکھو عروۃ الوسقٰی جلد اول سورة بقرہ آیت (6 : 16) ، (2 : 108) ، (2 : 175)
Ayah 3:178

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور یہ جو ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے ہم مہلت پر مہلت دیتے جا رہے ہیں تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ مہلت ان کے حق میں بہتر ہے ، ہم انہیں مہلت دے رہے ہیں کہ وہ گناہوں میں اور زیادہ ہوجائیں اور انجام کار ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے

کفار کی راہ اختیار کرنے والوں کو جو مہلت دی جارہی ہے یہ ان کے لئے کبھی مفید نہیں ہوگی : 322: جنگ احد میں کفار کو جب قرار واقعی سزا نہ ملی تو وہ یہ سمجھے بیٹھے کہ اب بس ہم کامیاب ہوگئے فرمایا یہ ایک مہلت ہے اور پھر ساتھ ہی فرما دیا کہ ہاں ! یہ مہلت ان کے لئے کبھی مفید نہیں ہو سکتی کیوں ؟ اس لئے کہ اس مہلت سے وہ کوئی فائدہ اٹھانے کے لئے تیار نظر نہیں آتے مہلت مفید تب ہوتی جب اس کو اپنی بھلائی کے لئے استعمال کرتے اور اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھتے کہ ہم کیا کر رہے ہیں رسول اللہ ﷺ جو سراسر رحمت ہی رحمت ہے جو ہماری خیر خواہی چاہتا ہے۔ جس کو کسی قسم کا کوئی لالچ نہیں ۔ حکومت وہ نہیں چاہتا۔ مال کا طلبگار وہ نہیں ہے ، کسی کا وہ ملازم بھی نہیں ہے کہ اس کو تنخواہ مل رہی ہے۔ پھر ہم اس کو خواہ کیوں تنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی اس نہج پر نہیں سوچا ان کو مہلت ملی ہے تو وہ اس کو شرارتوں میں مزید اضافہ بندیوں میں صرف کر رہے ہیں اس لئے اس مہلت کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ وہ اپنی شرارتوں میں مزید اضافہ کر کے اپنے نامہ اعمال بھی سیاہ کریں اور دنیا میں بھی ان کا منہ کا لاہو۔ اور اس طرح وہ ” خَسِرَ الدُّنیَا وَالا خرَۃَ “ کے مصداق ہوجائیں نہ ان کی دنیا رہے اور نہ دین پھر انجام کار ان پر گرفت کا متعین وقت آجائے اور ان کو رسوا کرنے والے عذاب میں پھینک دیا جائے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ ان کی دنیا یوں برباد ہوئی کہ چند سالوں کے بعد ان کو ذلیل و خوار کر کے محمد رسول اللہ ﷺ کے سامنے مغلوب اور مفتوح کی حیثیت میں پیش کیا گیا اور آخر میں بھی بلاشبہ و عذاب مہین میں مبتلا ہوں گے۔ اس آیت میں بھی یہی فرمایا گیا ہے کہ ” یہ جو ہم مہلت پر مہلت دیتے جا رہے ہیں تو وہ نہ سمجھیں کہ یہ مہلت ان کے حق میں بہتر ہے نہیں ! یہ ہمارا قانون ہے یعنی گرفت کا ایک وقت مقرر ہے جب تک وہ وقت آ نہیں جاتا ہم ان کو ابھی مزید مہلت دیں گے۔ جس کے نتیجہ میں ان کے گناہوں نے مزید اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور یہ روز بروز اس میعاد کی طرف بڑھ رہے ہیں جو ان کے لئے مقرر کردی گئی ہے وقت آئے گا تو یہ اچانک اس عذاب میں پھنس کر رہ جائیں گے جس سے پھر نکلنا محال ہے۔ اس مضمون کو دوسری جگہ اس طرح بیان کیا گیا ہے : وَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ00182 وَ اُمْلِیْ لَهُمْ 1۫ؕ اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ 00183 اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْاٚ مَا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ 1ؕ اِنْ ہُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ 00184 (الاعراف 7 : 183۔ 184) ” اور جن لوگوں نے ہماری نشانیاں جھٹلائیں ہم انہیں درجہ بدرجہ آخری نتیجہ تک لے جائیں گے۔ اس طرح کہ انہیں خبر بھی نہیں ہوگی۔ ہم انہیں ڈھیل دیتے ہیں اور ہماری مخفی تدبیر بڑی ہی مضبوط ہے۔ “ اس آیت میں قانون امہال کی طرف اشارہ ہے اور مشرکین مکہ کی نسبت خبر دی ہے کہ جزائے عمل کا قانون ان کی طرف سے غافل نہیں ہے وہ بتدریج اس نتیجہ تک پہنچ کر رہیں گے جو انکارو سرکش کا لازمی نتیجہ ہے۔ چناچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ چند ہی برسوں کے اندر قریش مکہ کی ساری طاقت نابود ہوگئی۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا : ” جس پر راہ اللہ گم کردے یعنی اپنے ٹھہرائے ہوئے قانون نتائج کے مطابق تو پھر اس کے لئے کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔ اللہ کے قانون نے ایک وقت تک انہیں چھوڑدیا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔ “ ” ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں یعنی ہمارے ٹھہرائے ہوئے قانون کے مطابق وہ سمجھ سوچ اور بصارت سے کام لینا چھوڑ دیں جس طرح پہلی مرتبہ وہ اس قرآن پر ایمان ہی نہیں لائے تھے تو پھر ہم ان کو ان کی سرکشی ہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ “ ( الانعام 6 : 110) مطلب یہ ہے کہ ان کے اندر ابھی وہی ذہنیت کام لئے جا رہی رہے جس کی وجہ سے انہوں نے پہلی مرتبہ محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت سن کر اسے ماننے سے انکار کردیا تھدا۔ ان کے نقطہ نظر میں ابھی تک کوئی تغیر واقع نہیں ہوا ہے وہی عقل کا پھیر اور وہ نظری کا مرض آج بھی ان میں موجود ہے جو انہیں اس وقت صحیح سمجھنے اور صحیح دیکھنے سے روک رہا تھا جب قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا اور آج بھی ان پر اسی طرح مسلط ہے۔ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : ” اور دیکھو جس طرح انسان فائدے کے لئے جلد باز ہوتا ہے اگر اس طرح اللہ اسے نقصان پہنچانے میں جلد باز ہوتا تو اس کا وقت کبھی کا پورا ہوچکا ہوتا۔ پس جو لوگ ہماری ملاقات کی توقع نہیں رکھتے ہم انہیں ان کی سرکشیوں میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔ ( یونس 10 : 11) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم مال و اولاد سے ان کی امداد کر رہے ہیں کہ وہ بھلائی پہنچانے میں سرگرمی دکھائیں ؟ نہیں وہ شعور نہیں رکھتے “ ۔ (المؤمنون 23 : 55۔ 56) مطلب یہ ہے کہ اس دارفانی میں مہلت سب کے لئے ہے اچھوں کے لئے بھی اور بروں کے لئے بھی پس افر مفسدوں کو دنیوی زندگی کی خوش حالیاں مل رہی ہیں تو یہ اس لئے نہیں ہے کہ ہمارا قانون مجازات معطل ہوگیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ بد عملیوں پر بھی انہیں فوائد سے بہرہ اندوز کریں بلکہ محض اس لئے کہ مقررہ وقت ابھی آیا نہیں اور یہاں ہر نتیجہ کے لئے اجل مسمی کا قانون کام کر رہا ہے۔
Ayah 3:179

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

ایسا نہیں ہوسکتا کہ اللہ ایمان والوں کو چھوڑ دے جس حالت میں تم آج کل اپنے آپ کو پاتے ہو ، وہ ضرور ناپاک کو پاک سے الگ کر دے گا اور اللہ کا یہ قاعدہ نہیں کہ وہ تمہیں غیب کی خبریں دے دے لیکن ہاں ! وہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس بات کے لیے چن لیتا ہے ، پس چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ ، اگر تم ایمان لے آئے اور برائیوں سے بچے تو یقینا تمہارے لیے اجر عظیم ہے

مسلمانوں کی حالت ایسی ہی نہیں رہے گی بلکہ پاک ناپاک سے الگ کردیا جائے گا : 323: یمز میز کے معنی ہیں ملتی جلتی چیزوں کو الگ الگ کردینا۔ الْخَبِیْثَ وہ چیز جس سے کراہت کی جائے بوجہ اس سے ردی ہونے کے خواہ محسوس ہو یا معقول اور اس میں باطل اعتقاد ، جھوٹ ، باتیں اور برے فعل سب شامل ہوجاتے ہیں الطَّیِّبِ 1ؕ طیب وہ ہے جو جہل ، فسق اور برے اعمال کی نجاست سے پاک ہو اور علم ایمان اور اچھے اعمال کے زیور سے آراستہ ہو۔ (راغب) اس آیت میں جنگ احد میں جو زخم آئے ان کے فوائد بتائے جا رہے ہیں کیونکہ گزشتہ واقعات سے جو مفید بات ہو اس کو لے کر باقی کو چھوڑ دینا ہی عقلمندی کی دلیل ہے کمزوریوں کو بار بار دہراتے رہنا مزید کمزور کردیتا ہے۔ چناچہ اس جگہ بتایا جا رہا ہے کہ ایک پاک گروہ کو مصائب کے ہاون میں کیوں ڈالا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف منہ کی باتوں سے خوش نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کچے پکے اور مؤمن و منافق یکساں ہو سکتے ہیں اس لئے ان دونوں گروہوں کو الگ الگ کرنے کے لیے اور مؤمنوں کی کمال وفاداری دکھانے کے لئے الہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق مصائب لاتا ہے اور اس طرح ہر ایک ملے جلے گروہ میں خبیث و طیب کو الگ الگ کردیتا ہے۔ ہاں ! مؤمن اور منافق میں امتیاز وحء کے ذریعہ بھی ہو سکتا تھا لیکن اس کو عملی طور پر کیا گیا جس میں یقیناً حکمت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے افعال کی پوری حکمتیں تو اس کو معلوم ہیں یہاں ایک حخمت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر مسلمانوں کو بذریعہ وحی بتلا دیا جائے کہ فلاں منافق ہے تو مسلمانوں کو اس سے قطع تعلق اور معاملات میں احتیاط کے لئے کوئی ایسی واح حجت نہئیں ہوتی جس کو منافق بھی تسلیم کرلیں اور وہ کہتے کہ تم غلط کہتے ہو ہم تو سچے اور پکے مسلمان ہیں۔ اور اس طرح یہ بحث ختم ہونے میں ہی نہ آتی۔ بخلاف اس پر عملی امتیاز کے جو مصائب کے ابتلاء کے ذریعہ ہوا کہ منافق مدینہ سے نکلتے ہی الگ ہوگئے اور اس طرح طرح ان کے بھاگ جانے سے عملی طور پر ان کا نفاق کھل گیا۔ اب ان کا یہ منہ نہ رہا کہ مؤمن ومخلص ہونے کا دعویٰ کریں اور پھر اس طرح نفاق کھل جانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ مسلمانوں کا ان کے ساتھ ظاہری میل جول بھی قطع ہوگیا ورنہ دل میں اختلاف کے باوجود ظاہتی اختلاط رہتا تو وہ بھی یقیناً کفر ہی ہوتا۔ اس مضمون کو دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا : وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ 003 (العنکبوت 29 : 3) ” اور اللہ کو تو ضرور یہ ظاہر کردینا ہے تاکہ سب جان لیں کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون ؟ اور ہم ان لوگوں کی آزمائش کرچکے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ “ یہ کوئی نیا معاملہ نہیں جو تمہارے ساتھ پیش آیا۔ تاریخ میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ جس نے بھی ایمان کا دعویٰ کیا ہے اسے آزمائشوں کی بھٹی میں ڈال کر ضرور پتایا گیا اور جب دوسروں کو امتحان کے بغیر کچھ نہیں دیا گیا تو تمہاری کیا خصوصیت ہے کہ تمہیں صرف زبانی دعوے پر نواز دیا جائے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا : وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ 0011 (العنکبوت 29 : 11) ” اور اللہ کو تو ضرور یہ ظاہر کر دکھانا ہے کہ ایمان لانے والے کون ہیں اور منافق کون “ اس لئے یہاں فرمایا گیا کہ ” اللہ ایمان والوں کو اس حالت میں نہیں چھوڑ رکھے گا جس حالت میں تم ہو وہ ضرور ایسا کرے گا کہ ناپاک پاک سے الگ کردے۔ “ اور اس طرح الگ الگ کرے گا کہ سب کو معلوم ہوجائے گا۔ غیب کی خبریں ہر ایک کو نہیں دی جاسکتیں کیونکہ یہ قانون الٰہی کے خلاف ہے : 324: اللہ تعالیٰ کا یہ قانون نہیں ہے کہ وہ ہر ایک کو غیب کی خبریں پہنچائے اور تم کو اس طرح ہر بات سے مطلع کرنا مفید مطلب بھی نہیں کیونکہ اسطرح مزید الجھنیں بڑھیں گی ہاں ! اللہ دونوں گروہوں کو عملی طور پر الگ الگ کر کے دکھا دے گنے کیا کہ اب دونوں فریق الگ الگ ہوگئے اور یہ بات بھی اب سب پر واضح ہوگئی اور سنت اللہ یہی ہے کہ واقعات کو اس طرح واضح کردیا جائے کہ کسی کو کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے۔ پھر غیب کی باتوں کے لئے وہ اپنے رسولوں کو چن لیتا ہے اور ان کو امور غیب میں سے جس چیز سے چاہتا ہے آگاہ فرمادیتا ہے اور یہ کوئی راز نہیں ہے کہ جو بات کسی پر ظاہر کردی جائے اور بتادی جائے وہ غیب نہیں ہوتی غیب صرف اسی وقت تک تھی جب تک اس کو اس سے آگاہی نہیں تھی۔ آگاہ ہونے کے بعد وہ غیب کیسے رہا ؟ اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی غیب کو جانتا ہے تو اس کو مفہوم یہی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے ہے جو اس کو نہیں جانتے جو جانتا ہے اس کی نسبت سے وہ غیب نہیں ہوتا۔ آط ایک چیز جس کو جانتے پہنچاتے ہیں اپنی مٹھی میں بند کر کے دوسرے سے کہیں کہ بتاؤ میری مٹھی میں کیا ہے ؟ تو ظاہر ہے ہے کہ جو کچھ آپ کی مٹھی میں ہے وہ اس کے لئے جس سے تم پوچھ رہے ہو غیب ہے لیکن آپ کے لئے یقیناً وہ غیب نہیں کیونکہ آپ نے دیکھ سمجھ کر اس کو مٹھی میں بند کیا ہے۔ اس لئے یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز غائب نہیں اور نہ ہی اس سے کوئی چیز پوشیدہ رہ سکتی ہے۔ جو چیز ہم نہیں جانتے وہ ہمارے لئے غیب ہے لیکن اللہ اس کو جانتا ہے اس لئے ہم کہتے ہی اللہ ہی غیب کا جاننے والا ہے یعنی جو چیز ہمارے لئے غائب ہے اس کو اللہ ہی جانتا ہے۔ قرآن کریم نے بار بار اس بات کا اعلان کیا ہے کہ انبیاء کرام بھی غیب کو نہیں جانتے تھے ہاں ! اللہ جن جن چیزوں کے متعلق چاہتا وہ ان کو بتا دیتا۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ : یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ 1ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ 1ؕ (التوبہ 9 : 94) ” جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو وہ آئیں گے اور تمہارے سامنے معذرتیں کریں گے ، تمہیں چاہیے کہ اس وقت کہہ دو کہ معذرت کی باتیں نہ بناؤ اب ہم تمہارا اعتبار کرنے والے نہیں اللہ نے ہمیں پوری طرح تمہارا حال بتلا دیا ہے “ ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی تجھ پر وحی کر رہے ہیں ورنہ جس وقت یوسف کے بھائی سازش میں مصمم ہوگئے تھے اور پوشیدہ تدبیریں کر رہے تھے تو تم اس وقت ان کے پاس کھڑے نہ تھے “ کہ سب کچھ دیکھ سن لیا ہو۔ ( یوسف 12 : 102) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اے پیغمبر اسلام ! یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جسے وحی کے ذریعہ ہم تجھے بتلا رہے ہیں اس سے پہلے نہ تو جانتا تھا نہ تیری قوم ، بس صبر کر (منکروں کی شرارت سے دل گیر نہ ہو) انجام کار متقیوں ہی کے لیے ہے “ (ھود 11 : 49) ایک جگہ ارشاد الٰہی ہوا : ” منافق اس بات سے ڈرتے ہیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے بارے میں کوئی سورت نازل ہوجائے اور جو کچھ ان کے دلوں میں ہے وہ انہیں جتا دے ، تم ان سے کہہ دو تم تمسخر کرتے رہو یقینا اللہ اب وہ بات نکال کر ظاہر کردینے والا ہے جس کا تمہیں اندیشہ رہتا ہے “ (التوبہ 9 : 64) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اور ان اعرابیوں میں جو تمہارے آس پاس بستے ہیں کچھ منافق ہیں اور خود مدینہ کے باشندوں میں بھی جو نفاق میں مشاق ہوگئے ہیں ، تم انہیں نہیں جانتے لیکن ہم جانتے ہیں ہم انہیں دو مرتبہ عذاب دیں گے پھر اس عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے جو بہت ہی بڑا عذاب ہے “ (االتوبہ 9 : 101) اس میں منافقین کے ایک خاص گروہ کا ذکر ہے جو اطراف مدینہ میں بدوی قبائل میں بھی تھے اور شہری باشندوں میں بھی فرمایا مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ 1۫ یہ انفاق میں مشاق اور حاذق ہوگئے ہیں یعنی منافقانہ زندگی میں رہتے رہتے اس کی ایسی مشق ہوگئی ہے کہ نو آموزوں کی طرح پکڑے نہیں جاسکتے اور جو کچے اور نو آموز ہیں ان کے لئے مشکل ہے کہ اپنی دلی حالت چھپائے رکھیں وہ تو ان کے چہروں پر ابھر ہی آتی ہے اور باتوں سے ٹپکنے ہی لگتی ہے لیکن یہ لوگ اس بناوٹ کے ایسے عادی ہوگئے ہیں کہ ممکن ہی نہیں ان کو عام نگاہیں تاڑ سکیں۔ ” ہم انہیں دو مرتبہ عذاب دیں گے “ یعنی یہ اپنی دوہری استعداد و نفاق کی وجہ سے دہرے عذاب کے مستحق ہوگئے پہلی استعداد یہ کہ منافق ہوئے دوسری یہ کہ اس میں کامل اور مشاق ہوگئے۔ مزید وضاحت کے لئے عروۃ الوثقیٰ جلد اول سے تفسیر سورة بقرہ کی ان آیات کا مطالعہ کرو (2 : 23) ، (2 : 175) ، (2 : 255) ، اور جلد دون سورة آل عمران (3 : 44) اور قرآن کریم کے یہ مقامات بھی دیکھ لو (72 : 26) ، (54 : 45) ، (30 : 1۔ 4) ، (9 : 94) ، (11 : 100) ، (11 : 125) ، (7 : 101) ، (20 : 99) ، (6 : 34) ، 66 : 3) ، (33 : 63) ، (21 : 109۔ 111) ، (72 : 25) ، (46 : 9) ، (38 : 67 تا 70) جب تک دارفانی میں ہیں توبہ کا وقت ہے جب دارالبقاء کو گئے وقت ختم ہوگیا : 325: غور کرو کہ مخاطب منافقین ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کے دعویدار ہیں لیکن ان کا دعویٰ صحیح نہیں کیونکہ وہ ایک دروازہ سے داخل ہو کر دوسرے سے نکل چکے ہیں تاہم ان کا اپنا دعویٰ ایمان ہی کا ہے۔ اس وقت وہ منافقت کس سے کر رہے ہیں رسول اللہ ﷺ سے لیکن جب ان کو سچا ایمان لانے کی تلقین کی جا رہی ہے تو کہا جاتا ہے کہ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ 1ۚ یہ نہیں فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول محمد ﷺ پر ایمان لاؤ بلکہ فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ایک رسول کا انکار دراصل سارے رسولوں کا انکار ہے اور ایک رسول سے منافقت گویا سارے رسولوں سے منافقت ہے۔ دراصل یہ اہتمام ہے قرآن کریم کا جو وہ وحدت پیام اور سلسلہ وحی کی اہمیت و عظمت کا رکھتا ہے۔ کوئی کتنا ہی بدعمل کیوں نہ ہو جب تک وہ اٹھا نہیں لیا جائے اس وقت تک اس کے پاس موقع ہے اپنی اصلاح کرلینے کا اور سچے دل سے توبہ کرنے کا اسئے منافقین کو کہا جارہا ہے کہ ” چائیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر سچے دل سے ایمان لے آؤ ۔ اگر اب بھی تم ایمان لے آئے اور برائیوں سے بچے تو یقیناً تمہارے لئے اجر عظیم ہے۔ “ اور جب اس دارالعمل سے نکل کر تم دارالبقاء میں پہنچ گئے تو پھر عمل کا دروازہ بند ہوگیا۔
Ayah 3:180

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

جن لوگوں کو اللہ نے اپنے خاص فضل و کرم سے مال دیا ہے اور وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں بخیل ہیں تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ ایسا کرنا ان کیلئے کوئی بھلائی کی بات ہے ، نہیں ، وہ تو ان کیلئے بڑی ہی برائی ہے ، قریب ہے کہ قیامت کے دن یہی مال و متاع ان کی گردنوں میں طوق بنا کر پہنا دیا جائے اور جو کچھ زمین و آسمان میں ہے سب اللہ کی میراث ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اس کے علم سے مخفی نہیں

منافق خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخیل بناتے ہیں : 326: منافقین پر جنہوں نے مصلحت وقت دیکھ کر دعوت اسلام کا ساتھ دیا تھا راہ حق میں مال و دولت کا خرچ کرنا بہت شاق گزرتا تھا۔ وہ خود بھی بخل کرتے تھے اور دوسروں کو بھی بخل کی تلقین کرتے تھے۔ اس آیت میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ چونکہ اس جگہ بخل کی مذمت کی گئی ہے اس لئے یہ سمجھنا ہوگا کہ بخل کیا ہے ؟ بخل جود کی ضد ہے اور جود یعنی سخاوت سے سب واقف ہیں اور بخل کے معنی ہوئے مال وہاں سے روکنا جہاں سے روکنا مناسب نہیں (راغب) اور بخل کے شرعی معنی ہیں کہ جو چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرنا کسی پر واجب و ضروری ہو اس کو خرچ نہ کرے۔ اس لئے بخل حرام ہے اور اس پر وعید بھی شدید ہے اور جن مواقع پر مال خرچ کرنا ضروری و لازم نہیں بلکہ جائز ہے وہاں بھی بخل اچھا نہیں تاہم حرام بھی نہیں لیکن عام معنی کے اعتبار سے اس کو بھی بخل کہہ دیتے ہیں اور بخل کے معنی میں ایک دوسرا لفظ بھی قرآن و حدیث میں آیا ہے یعنی ” شح “ اس کی تعریف یہ ہے کہ اپنے ذمہ جو خرچ کرنا ضروری تھا وہ خرچ نہ کرنا اور اس کے ساتھ ہی مال بڑھانے کی حرص میں مبتلا ہونا۔ اس لحاظ سے یہ بخل سے بھی زیادہ شدید جرم ہے۔ چونکہ ” بخل “ اور ” شح “ دونوں ہی انسانیت کے لئے سّمِ قاتل ہیں اس لئے ان کا استعمال قرآن کریم میں جہاں بھی ہوا ہے اس پر نظر دال لینا مفید ہے۔ بخل کے متعلق ارشادات الٰہی۔ فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ ہُمْ مُّعْرِضُوْنَ 0076 (التوبہ 9 : 76) ” پھر جب اللہ نے اپنے فضل سے مالامال کردیا تو لگے کنجوسی کرنے اور اپنے عہد سے پھرگئے اور حقیقت یہ ہے کہ ان کے دل ہی پھرے ہوئے ہیں ۔ “ ا۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ 1ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ0037 (النساء 4 : 37) ” جو خود بھی بخیلی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کرنا سکھاتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے دے رکھا ہے اسے چھپا کر رکھتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو ناشکری کرتے ہیں ہم نے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ “ ا۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ 1ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ 0024 (الحدید 57 : 24) ” جو لوگ خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کرنا سکھاتے ہیں اور جو منہ موڑتے ہیں بلاشبہ اللہ تو غنی ہے اور لائق حمد (و ثنا) ہے۔ “ اِنْ یَّسْـَٔلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ 0037 ہٰۤاَنْتُمْ ہٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ 1ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ 1ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ 1ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ 1ۚ (محمد 47 : 37۔ 38) ” اگر وہ تم سے تمہارے مال طلب کرے اور تم کو تنگ کرے تو تم بخل کرنے لگو اور وہ تمہاری ناگواری ظاہر کر دے گا۔ دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ تم کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے تو تم میں سے بعض لوگ بخل کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے وہ خود اپنی ذات سے بخل کرتا ہے اور اللہ تو بےنیاز ہے اور تم محتاج ہو ۔ “ وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ008 وَ کَذَّبَ بِالْحُسْنٰى ۙ009 فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰى ؕ0010 (الیل 92 : 8۔ 10) ” اور جس نے بخل کیا اور بےنیازی برتی اور بھلائی کو جھٹلایا اس کو ہم سخت راستے کے لئے سہولت دیں گے۔ “ ” الشُّخِ “ کے متعلق ارشادات الٰہی بھی ملاحظہ کریں : اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ 1ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ کَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ 1ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ 1ؕ اُولٰٓىِٕكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ 1ؕ وَ کَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا 0019 (الاحزاب : 33 : 19) ” (یہ لوگ) تمہارے بارے میں بخیل ہیں پھر جب خوف کا موقع آتا ہے تو آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں چکر کھاتی ہیں جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہوتی ہے پھر جب ڈر جاتا رہے گا تو وہ فوراً تم کو تیز تیز زبانوں سے ملیں گے (کیوں ؟ ) اس لیے کہ وہ مال (غنیمت) پر گرے پڑتے ہیں ، یہ لوگ ہرگز مؤمن نہیں ہیں اللہ نے ان کے تمام اعمال اکارت کردیئے اور اللہ کے لیے یہ بات بالکل آسان ہے۔ “ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ009 (الحشر 59 : 9) ، (64 : 16) ” حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لئے گئے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ “ وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ 1ؕ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ 1ؕ (النساء 4 : 128) ” صلح ہر حال بہتر ہے نفس تنگ دلی کی طرف جلد مائل ہوجاتے ہیں۔ “ مَنْ یُّوْقَ فرمایا یعنی جو شخص بچالیا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی مدد کے بغیر کوئی شخص خود اپنے زور بازو سے دل کی تونگری نہیں پا سکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ہے جو اللہ ہی کے فضل سے کسی کو نصیب ہوتی ہے ” شُّحَّ 1ؕ “ کا لفظ عربی زبان میں کنجوسی اور بخل کے لئے آتا ہے مگر جب اس لفظ کو نفس کی طرف منسوب کر کے ” شح نفس “ کہا جائے تو یہ تنگ نظری ، تنگ دلی ، کم حوصلگی ، دل کے چھوٹے پن کا ہم معنی ہوجاتا ہے جو بخل سے کہیں وسیع تر چیز ہے بلکہ خود بخل کی بھی اصل جڑ وہی ہے۔ اس صفت کی وجہ سے آدمی دوسرے کا حق ماننا اور ادا کرنا تو درکنار اس کی خوبی کا اعتراف تک کرنے سے جی چراتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ دنیا کا سب کچھ اس کو مل جائے اور کسی کو کچھ نہ ملے۔ دوسروں کو خود دینا تو درکنار کوئی دوسرا بھی اگر کسی کو کچھ دے تو اس کا دل دکھتا ہے۔ اس کی حرص کبھی اپنے حق پر قانع نہیں ہوتی بلکہ وہ دوسروں کے حقوق پر دست درازی کرتا ہے یا کم از کم دل سے یہ چاہتا ہے کہ اس کے گرد و پیش دنیا میں جو اچھی چیز بھی ہے اسے اپنے لئے سمیٹ لے اور کسی کے لئے کچھ نہ چھوڑے۔ اسی وجہ سے قرآن کریم نے اس برائی سے بچ جانے یا بچا لئے جانے کو فلاح کی ضمانیت قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو ان بدترین انسانی اوصاف میں شمار کیا ہے جو فساد کی جڑ ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اتقوا الشح فان الشح اھلک من قبلکم حملھم علیٰ ان سفکوا دماءھم واستحلوا محارمھم ) (مسلم ، بخاری فی الادب ، مسند احمد ، بیہقی) اور حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت میں الفاظ اس طرح ہیں : ( امرھم بالظلم فظلموا وامرھم بالفجور ففجروا وامرھم بالقطیعۃ فقطعوا ) (مسند احمد ، ابوداؤد ، نسائی) شح سے بچو کیونکہ شح ہی نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا اس نے ان کو ایک دوسرے کے خون بہانے اور دوسروں کی حرمتوں کو اپنے لئے حلال کرلینے پر اکسایا۔ ان کو ظلم پر آمادہ کیا اور انہوں نے ظلم کیا۔ اس نے ان کو فجور کا حکم دیا اور انہوں نے فجور کیا۔ اس نے ان کو قطع رحمی کے لئے کہا اور انہوں نے قطع رحمی کی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے فرمایا : ” ایمان اور شح نفس کسی دل جمع نہیں ہوسکتے۔ “ (بیہقی فی شعب ال ایمان ، نسائی ، ابن ابی شیبہ) حضرت ابو سعید خدری ؓ کا بیان ہے کہ حضور اکرام ﷺ نے ارشاد فرمایا ” دو خصلتیں ہیم جو کسی مسلمان کے اندر جمع نہیں ہوسکتیں۔ بخل اور بدخلق۔ “ یعنی ایمان اور بخل یا ایمان اور بدخلقی۔ دونوں جمع نہیں ہوسکتے کیونکہ حقیقت میں بخل کرنے والا بدخلق ہوتا ہے اور بد خلق کا بخیل ہونا بعید نہیں۔ (ابو داؤد ، ترمذی ، بخاری فی الادب) قرآن کریم کہتا ہے کہ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں۔ جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل کرنے پر اکساتے ہیں اور قرآن کے الفاظ کا گویا یہ اشارہ ہے اس سیرت کی طرف جو خود مسلم معاشرے کے منافقین میں اس وقت بھی سب کو نظر آرہی تھی۔ ظاہری اقرار ایمان کے لحاظ سے ان میں اور مخلص مسلمانوں میں کوئی فرق نہ تھا لیکن اخلاص کے فقدان کی وجہ سے وہ اس تربیت میں شامل نہ ہوتے تھے جو مخلصین و مؤمنین کو دی جارہی تھی۔ اس لئے ان کا حال یہ تھا کہ جو ذرا سی خوش حالی اور مشیخت ان کو عرب کے ایک معمولی قصبے میں میسر ہوئی تھی وہی ان کے چھوٹے سے ظرف کو پھیلائے جا رہے تھی اور اس پر ہی وہ پھٹے پڑے تھے اور اس کا پر تو دیکھنا ہو تو اب اپنی بستیوں کا چکر لگا کر دیک لو۔ ان میں دل کی تنگی اس درجہ کی تھی کہ جس اللہ پر ایمان لانے اور جس رسول کو پیرو ہونے اور جس دین کو ماننے کا دعویٰ کرتے تھے اس کے لئے خود ایک پیسہ تو کیا دیتے ، دوسرے دینے والوں کو بھی یہ کہہ کہہ کر روکتے تھے کہ کیوں اپنا پیشہ بھاڑ میں جھونک رہے ہو۔ ظاہر بات ہے کہ اگر مصائب کی بھٹی گرم نہ کی جاتی اور احد کی اس بھٹی میں مسلمانوں کو ڈالا نہ جاتا تو اس کھوٹے مال کو جو اللہ کے کسی کام کا نہ تھا زر خالص سے الگ نہ کیا جاسکتا تھا۔ اور اس کو الگ کئے بغیر سچ ہے کہ مسلمانوں کی ایک مخلوط بھیڑ کو دنیا کی امامت کا وہ منصب عظیم نہ سونپا جاسکتا تھا جس کی عظیم الشان برکات کا مشاہدہ آخر کار دنیا نے آپ ﷺ کے مختصر دور حکومت اور خلافت راشدہ میں کیا۔ قرآنی تعلیمات مسلم معاشرہ کے لوگوں کو تفہیم کراتی ہیں کہ لوگو ! یہ مال نہ ہمیشہ سے تمہارے پاس تھا اور نہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تمہارے پاس رہے گا کل یہ دوسرے لوگوں کے پاس تھا پھر اللہ نے تم کو ان کا جانشین بنا کر اسے تمہارے تصرف میں دے دیا پھر ایک وقت ایسا آئے گا جب یہ تمہارے پاس نہ رہے گا اور کچھ دوسرے لوگ اس پر تمہارے جانشین بن جائیں گے اور یہ مال ان کے تصرف میں چلا جائے گا۔ اس عارضی جانشینی کی تھوڑی سی مدت میں جبکہ یہ تمہارے قبض و تصرف میں ہے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو تاکہ آخرت میں اس کا مستقل اور دائمی اجر تمہیں حاصل ہو۔ یہی بات ہے جس کو نبی کریم ﷺ نے ایک حدیث میں بیان فرمایا ہے۔ ترمذی کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ کے ہاں ایک بکری ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا گیا۔ آپ ﷺ گھر میں تشریف لائے تو پوچھا اس بکری کا کیا ہوا ؟ سیدہ عائشہ ؓ نے عرض کیا ( ما بقی الا کتفھا) ایک شانے کے سوا کچھ نہیں بچا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : (بقی کلھا غیر کتفھا) ایک شانے کے سوا ساری بکری بچ گئی ۔ مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اللہ کی راہ میں صرف ہوا وہی دراصل باقی رہ گیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ! کس صدقے کا اجر سب سے زیادہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : (ان تصدق وانت صحیح شحیح تخشی الفقر وتامل الغنی ولا تمھل حتی اذا بلغت الحلقوم قلت للان کذا و لگلان کذا وقد کا لفلان) ” یہ کہ تو صدقہ کرے اس حال میں کو تو صحیح و تندرت ہو مال کی کمی کے باعث اسے بچا کر رکھنے کی ضرورت محسوس کرتا ہو اور اسے کسی کام میں لگا کر زیادہ کما لینے کی امید رکھتا ہو۔ اس وقت کا انتظار نہ کرے کہ جب جان نکلے گی تو تو کہے کہ یہ فلاں کو دیا جائے اور یہ فلاں کو۔ اس وقت تو یہ مال فلاں کا ہو ہی جانا ہے۔ “ (بخاری ومسلم) ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( یقول ابن ادم مالی مالی ، وھل لک من مالک الا ما اکلت فافنیت ، او لبست فابلیت ، او تصد قت فا مضیت وما سویٰ ذلک فذا ھب وتارک للناس) ۔ ” آدمی کہتا ہے میرا مال ، میرا مال۔ حالانکہ تیرے مال میں سے تیرا حصہ اس کے سوا کیا ہے جو تو نے کھا کر ختم کردیا یا پہن کر پرانا کردیا یا صقہ کر کے آگے بھیج دیا ؟ اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ تیرے ہا تھے جانے والا ہے اور تو اسے دوسروں کے لیے چھوڑ جانے والا ہے۔ “ (مسلم شریف) زیر نظر آیت میں جس کی یہاں تفسیر کی جارہی ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ” جن لوگوں کو اللہ نے اپنے خاص فضل و کرم سے مال دیا ہے اور واللہ ہی کی راہ میں خرچ کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں یعنی وہ بخیل ہیں تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ ایسا کرنا ان کے لئے کوئی بھلائی کی بات ہے نہیں وہ و ان کے لئے بڑی ہی برائی ہے۔ “ بخل کی مذمت اور صدقہ کے فوائد سمجھ میں آگئے۔ جو عم کرے گا فائدہ اس کا ہوگا خواہ میں ہوں یا آپ۔ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والوں کا مال ان کے گلے کا طوق بنادیا جائے گا : 327: سَیُطَوَّقُوْنَ طوق وہ چیز ہے جو گلے میں ڈالی جائے خواہ پیدائشی لحاظ سے ہو جیسے کبتر کا طوق یا خود ڈالا جائے جیسے مالا یا ہار بخل کی سزا دنیوی زندگی میں جو ملتی ہے وہ تو ظاہر ہی ہے کہ نہ اچھا کھائیں گے اور نہ پئیں گے اور نہ ہی اچھا پہنیں گے۔ شم ، کنجوسی اور بخیل کی مثالیں بھی زبان زد خاص و عام ہیں اور مال کے حریص لوگوں کو مال جس جس طرح کی مصیبتوں میں مبتلا کرتا ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن قیامت کے روز ان بخیلوں کو منافقوں ، کافروں زیاں کاروں کی صفوں میں کھڑا ہونا ہوگا۔ زیاں کار وہی ہوں گے جن کے نیک اعمال بھی وہاں ضائع ہوچکے ہوں گے۔ علاوہ ازیں بخیلوں کے گلے میں ان کے بخل کا ہار بھی ہوگا جو ان کی اس پہچان کو واضح کردے گا کہ یہ لوگ بخیل تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کوئی مال عطا فرمایا پھر اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی تو قیامت کے روز یہ مال ایک سخت زہریلا سانپ بنا کر اس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا۔ وہ اس شخص کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں تیرا سرمایہ ہوں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : اَلَّذِینَ یَبخَلُونَ الخ۔ مسلمانو ! بخل نہ کرو۔ اللہ نے جو کچھ رزق و دولت عطا فرمائی ہے اس کے بندوں کی خدمت میں خرچ کرو جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اس کا ہاتھ انفاق فی سبیل اللہ سے کبھی نہیں رک سکتا۔ ہاں ! جو کچھ خرچ کرو اللہ کی رضا کے لئے اور اس کے حکم کے مطابق خرچ کرو۔ نام و نمود کے لئے مت خرچ کرو۔ جو شخص نام و نمود کے لئے خرچ کرتا ہے وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ اپنا تجزیہ خود کرتے رہو کہ کیا اللہ کی رضا میں خرچ کیا ہے اور کیا ناک و نمود کے لئے ؟ وہ کیا ہے جو خرچ کرنا چاہئے تھا لیکن خرچ نہیں کیا ؟ یہ بھی کہ جو خرچ کیا ہے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہے یا غیر اللہ کی راہ میں ؟ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والوں کے لئے وعید الٰہی قرآن کریم میں۔ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ 1ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ0034 یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاہُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ 1ؕ ہٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ 0035 (التوبہ 9 : 34۔ 35) ” اور جو لوگ چاندی سونا اپنے ذخیروں میں ڈھیر کرتے رہتے ہیں اور اللہ کی راہ میں اسے خرچ نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کو عذاب دردناک کی خوشخبری سنا دو ۔ وہ دن جب کہ سونے چاندی کے ڈھیروں کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا اور ان سے ان کے ماتھے ، ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی اور کہا جائے گا کہ یہ ہے جو تم نے اپنے لیے ذخیرہ کیا تھا سو جو کچھ ذخیرہ کر کے جمع کرتے رہے اس کا مزہ آج چکھ لو۔ “ اسلام نے مال کھانے اور خعو کرنے کے اصولی ضابطے قائم کردیئے ہوئے ہیں ان ضابطوں کے خلاف کمایا ہوا مال اور جتنا خرچ کرنا لازم و ضروری ہے اتنا بھی اس میں سے خرچ نہ کیا گیا تو مال ” خزانہ “ یا ” ذخیرہ “ کہلاتا ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ تو سونے اور چاندی کے ذخائر کی بات ہے گندم یا دوسرے غلہ جات چینی یا دوسری خوردنی اشیاء کے ذخائر سے زکوٰۃ سے بچنے کے لئے کو ٹھیاں ، زمینیں اور باغات اگر جمع کرلی جائیں تو پھر تو ایسا نہیں ہوگا اور یہ بھی کہ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں کیونکہ اگر ان سب کو دوزخ کی آگ میں ڈال ہی دیا جائے گا تو یہ سب مل کر راکھ ہوجائیں گے پھر کا ویہ کیونکر ہوگا۔ کوئی بڑا ہی بدبخر ہوگا جو ایسی بات کرے گا کیونکہ مراد اس جگہ ” کا ویہ “ کرنے سے عذاب میں مبتلا کرنا ہے اور ” کا ویہ “ کرنے کے عذاب سے انسان واقف ہے کہ وہ کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے اور اس کی اصلی نوعیت کیا ہے ؟ علم الٰہی میں موجود ہے۔ انسانوں کو سمجھانے کے لئے ان ہی کی زبان استعمال کی جاسکتی تھ اور وہی کی گئی ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ ” قریب ہے کہ قیامت کے دن یہی مال و متاع جس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے وہ بخل کرتے تھے ان کے گلوں میں طوق بنا کر پہنچایا جائے گا۔ “ وارث حقیقی ہرچیز کا اللہ تعالیٰ ہی ہے انسان کی ملکیت عارضی اور مستعار ہے : 328: ” مِیُرَاث “ ورث سے ہے وراثت اور ارث کے معنی ہیں ایک شخص کی طرف کسی وسرے سے مال کا منتقل ہونا بغیر کسی معائدہ یا اس امر کے جو قائم مقام معائدہ ہو۔ (راغب) اس لئے جو مال میت کی طرف سے منتقل ہوتا ہے اس کو اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں سے میں سے ایک نام ” الوارث “ بھی ہے اس لئے کہ سب کی سب اشیاء اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے والی ہے۔ چناچہ قرآن کریم میں بھی ہے : وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ 0023 (الحجر 15 : 23) ” اور یہ ہم ہی ہیں کہ زندہ کرتے ہیں اور موت طاری کرتے ہیں اور ہمارے ہی قبضہ میں سب کی کمائی آتی ہے۔ “ یعنی اللہ ہی کی ذات ہے جو زندہ کرتا اور موت طاری کرتا ہے اور اس کا علم رکھتا ہے کون پہلے آئے گا اور کون بعد ؟ جس طرح اللہ نے تمام چیزوں کی تقدیر کردی ہے۔ مقررہ اندازہ ٹھہرا دیا ہے۔ اسی طرح موت وحیات کا بھی ایک خاص اندازہ ٹھہرا دیا ہے اور قوموں کے تقدم و تاخر کے لئے بھی مقررہ اندازہ ہے ہر ہستی جو پیدا ہوتی ہے اور ہر ہستی جو مرتی ہے اپنے مقررہ اندازہ کے مطابق پیدا ہوتی ہے اور مقررہ اندازہ کے مطابق مرتی ہے تقدیر اشیاء اور اجسام کا قانون عالمگیر قانون ہے۔ ہستی کا کوئی گوشہ نہیں جو اس سے باہر ہو سوائے اس کی اپنی ذات کے کہ ھُوَ الاَوَّلُ والاٰخِرُ والظَّاھِرُ وَالبَاطِنُ ۔ آسمان و زمین کی وراثت اللہ ہی کو حاصل ہے کیونکہ مخلوق کو فنا ہے اور اللہ باقی رہنا والا ہے سب مر جائیں گے اور مال چھوڑ جائیں گے۔ اللہ کی طرف ہرچیز لوٹا دی جائے گی۔ مرنے والوں کی گردن پر اس کا عذاب رہ جائے گا اور مرتے وقت مال چھوڑنے کی حسرت ہوگی پھر کیا وجہ ہے کہ وہ بخل کرتے ہیں اور راہ خدا میں مال خرچ نہیں کرتے ؟ فرمایا ” جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب اللہ کی میراث ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اس کے علم سے مخفی و پوشیدہ نہیں۔ “