Ayah 3:7محکمات و متشابہات کی حقیقت کیا ہے ؟
16: یہاں اس اصل عظیم کو بیان کیا جارہا ہے کہ کتاب اللہ کی تعلیم دو اصولی قسموں پر مشتمل ہے۔ ایک قسم محکمات کی ہے اور دوسری متشابہات کی۔ محکمات سے مراد وہ مطالب ہیں جو اصل و بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے انسانی عقل کے لیے صاف صاف اور کھلے احکام ہیں مثلاً توحید و رسالت ، اوامرونواہی ، حلال و حرام اور متشابہات سے مراد وہ مطالبیں جن کا تعلق ماوراء عقل حقائق سے ہے اور انسانی علم و حواس کے ذریعہ ان کا ادراک نہیں ہوسکتا۔ مثلاً اللہ کی ذات ، مرنے کے بعد زندگی ، عالم آخرت کے احوال ، عذاب وثواب کی اصل حقیقت ، پس ناگزیر طور پر ان کا بیان ایسے پیرایہ میں کیا جاتا ہے کہ فہم انسانی کے لیے ناقابل برداشت نہ ہو اس لیے وہ تشبیہ و مجاز سے خالی نہیں ہوسکتا۔ ایسی صورت میں اگر ایک شخص کج فہمی سے کاوش کرنی چاہے تو طرح طرح کے معانی و مباحث کے احتمالات پیدا کرسکتا ہے۔ اس کی کچھ تفصیل بیان کیجاتی ہے تاکہ بات سمجھ میں آسکے۔
مختصر بات یہ ہے کہ عربی زبان میں محکم اس بات کو کہتے ہیں جو ایسی صفات ہو جس سے ایک ہی مطلب سمجھ میں آئے اور دوسرے مطلب کو نہ آنے دے اور متشابہ اس بات کو کہتے ہیں جس کے کئی مطلب سمجھ میں آتے ہوں اور بخوبی سمجھ میں نہ آتے ہوں اور بخوبی تمیز بھی نہ ہو سکتی ہو کہ کون سا مطلب مقصود ہے یا جو معنی اس کے الفاظ سے متبادر ہوتے ہوں وہ مقصود نہ ہوں بلکہ وہ الفاظ بطور تمثیل یا بطور مجاز و استعارہ کے آئے ہوں۔
اس پر لوگوں نے بہت بحث کی ہے کہ قرآن کریم میں آیات متشابہات کیوں لائی گئی ہیں۔ مگر ہر ایک سمجھ دار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جب قرآن کریم انسانوں کی زبان میں نازل ہوا ہے اور اس سے عوام و خواص سب کو ہدایت مقصود ہے تو اس میں آیات متشابہات کانہ ہونا ناممکن ہے۔ قرآن کریم میں بہت سی ایسی باتیں بیان کی گئی ہیں جن کو انسان کے حواس خمسہ ظاہری و باطنی نے محسوس نہیں کیا ہے اور نہ ہی ان کی کیفیت کو جانا ہے۔ پس امکان ہی نہیں ہے کہ وہ مطلب آیات محکمات میں بیان ہو سکے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ تمثیل کے پیرایہ میں آیات متشابہات کے ذریعہ بیان کیا جائے۔ علاوہ اس کے قرآن کریم تمام لوگوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے اس کا مقصود یہ ہے کہ جس طرح ذی علم و دانش مند اس سے ہدایت پائیں اسی طرح جاہل و نادان عوام بھیڑوں ، بکریوں اور اونٹوں کے چرانے والے بھی ویسی ہی ہدایت پائیں۔ عوام اکثر حقائق امور کے سمجھنے کے قابل نہیں ہوتے بلکہ بلحاظ زمانہ اور بلحاظ اس قدر ترقی علم و معلومات کے جو اس زمانہ میں ہوئی ہے اکثر ذی علم بھی حقائق اشیاء یا حقیقتہ الامر کے سمجھنے سے عاری ہوتے ہیں۔ صاحب مذہب کو یا یوں کہو کہ روحانی ہادی یا پیغمبر کو جب تک نبوت قائم تھی ان امور سے چنداں بحث نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ روحانی اصلاح و تربیت کو مدنظر رکھ کر ان مطالب کو ایسے الفاظ میں بیان کرتا ہے جن پر متشابہات کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگر اس کے ایک پہلو پر خیال کرو تو اس سے وہ مطلب پایا جاتا ہے جو عوام کے خیالات یا اس زمانہ کے اہل علم کی معلومات کے مناسب ہوتا ہے لیکن اس میں ایک دوسرا پہلو بھی مخفی ہوتا ہے اور جب علم کی اور معلومات کی ترقی ہوتی جاتی ہے جب سمجھ میں آتا ہے۔ پس ایک ایسی کتاب میں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہو جیسے قرآن کریم آیات متشابہات کا ہونا امر لازمی و ضروری ہے بلکہ ان کا ہونا ہی دلیل ان کی صداقت اور منزل من اللہ ہونے کی ہے اور قرآن کریم کا بھی بہت بڑا معجزہ ہے۔ اس کے ساتھ بعض امور ایسے بھی ہوتے ہیں جو اصل اصول اور دارومدار اس روحانی تربیت کے ہیں جن کے بغیر روحانی تربیت کا ہونا جو مقصود اصل ہے ناممکن ہے۔ وہ امور بالضرور اس طرح پر بیان ہونے چاہئیں جن کا ایک ہی مطلب ہو اور نہایت صفائی سے سمجھ میں آسکے اور دسورے مطلب کو اس میں آنے کی گنجائش ہی نہ ہو اور یہی مطالب وہ ہیں جن پر آیات محکمات کا اطلاق ہوا ہے۔
اسلام کا سب سے بڑا اصول توحید ہے اور اس کے بعد اعمال حسنہ وہ اس خوبی و عمدگی اور صفائی سے قرآن کریم کی آیات محکمات میں بیان ہوئے ہیں جن میں کسی طرح دوسرا احتمال ہو ہی نہیں سکتا۔ دیکھو سورة الانعام میں فرمایا :
ذٰلِكُمْ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ خَالِقُ کُلِّ شَىْءٍ فَاعْبُدُوْهُ وَھُوَ عَلٰى کُلِّ شَىْءٍ وَّكِیْلٌ. (الانعام 6 : 102)
” یہی ہے اللہ ! تمہارا پروردگار۔ کوئی معبود نہیں ہے مگر وہی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا۔ سو دیکھو اس کی بندگی کرو۔ ہرچیز اس کے حوالے سے۔ “
ایک جگہ فرمایا : ” اے پیغمبر اسلام ! کہه دیجیے کہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ وہی ہرچیز کا خالق ہے اس کی عبادت کرو۔ “
ایک جگہ فرمایا : ” اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود مت بناؤ ۔ “ (البقرہ 2 : 255 )
ایک جگہ فرمایا : ” كه جو شخص اللہ پر ایمان لایا بیشک اس نے مضبوط ذریعہ پکڑ لیا جس کے لیے ٹوٹنا ہی نہیں ہے۔ “ (البقرہ 2 : 256 )
ایک جگہ فرمایا : ” اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک مت کرو۔ ماں باپ کے ساتھ۔ رشتہ داروں کے ساتھ۔ یتیموں کے ساتھ۔ مسایہ میں جو رشتہ دار رہتے ہوں ان کے ساتھ۔ ہمسایہ میں جو اور لوگ رہتے ہیں ان کے ساتھ۔ جو غیر لوگ ساتھی ہوں ان کے ساتھ۔ مسافر غریب الوطن کے ساتھ احسان کرو۔ “
اور ایک جگہ فرمایا : ” غلاموں کے آزاد کرانے اور کرنے میں مال خرچ کرو۔ “
ایک جگہ فرمایا : ” اللہ صرف مشرک ہی کو نہیں بخشنے کا اور اس کے سوا جتنے گناہ ہیں اگر چاہے گا تو بخش دے گا۔ “
ایک جگہ فرمایا : ” جس شخص نے تابعداری کے ساتھ اپنا منہ اللہ کے سامنے کیا اور وہ نیکی کرنے والا ہوا تو اس کا اجر وثواب اس کے پروردگار کے پاس ہے ان کو کچھ خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ “
اس طرح کی سینکڑوں آیات کریمات ہیں جو محکمات ہیں جن کا مطلب سوائے ایک کے کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔
ذات الٰه کی تعبیر بجز اس کے کہ موجود ہے۔ ” احد لا ندولا شریک لہ ولیس کمثل شی“ نہ تو آیات محکات سے ہو سکتی ہے اور نہ ہی متشابہات سے۔ اس لیے قرآن کریم میں جابجا اس کی صفات کو بیان کیا ہے مگر جہاں جہاں صفات باری بیان ہوئی ہیں وہ سب از قبیل آیات متشابہات کے ہیں۔ غور کرو کہ : ” ھُوَ حَىٌّ لَا یَمُوْتٌ “ کے الفاظ سے ہم اس زندگی اور موت کا خیال کرسکتے ہیں جو ہم انسانوں اور حیوانوں میں دیکھتے ہیں۔ حالانکہ ذات باری اس حیات و ممات سے جس کو ہم جانتے ہیں پاک ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی ذات میں سمیع وبصیر و علیم ہونے کی صفات تسلیم کرتے ہیں لیکن ان صفات کو بجز اس قوت اور حس کو جہ ہم کو بذریعہ کانوں ، آنکھوں اور بعد وجود معلومات کے ان کے ادراک سے حاصل ہوتی ہے اور کچھ نہیں جانتے حالانکہ ذات باری اس قسم کی صفات سے بری ہے۔ رحم و غضب اور قہر سے ہم انہیں صفات کو سمجھتے ہیں جو ہمارے دل میں کی حالت زار کو دیکھ کر لاحق ہوتی ہیں اور ہمارا دل اس سے متاثر ہو کر مضطر و رقیق ہوجاتا ہے یا کسی مخالف کی مخالفت یا خلاف طبع امر سرزد ہونے کے سبب ہمارے دل میں ایک جوش انتقام لینے کا اور ایسے فعل کے کرنے کا جس سے ہمارے جوش قلب کو تسکین ہو پیدا ہوتا ہے مگر ذات باری اس قسم کی صفات رحم و فہر سے پاک و مبرا ہے۔ خدا کی نسبت عرش پر بیٹھنا۔ اس کے ہاتھ ہونا۔ اس کا منہ ہونا بیان ہوا ہے۔ ان الفاظ سے بجز ایسے تخت کے جس کو ہم نے دیکھا ہے اور بجزان ہاتھوں کے جو ہمارے بدن میں ہیں اور بجز اس منہ کے جو زیادہ سے زیادہ شان و شوکت والا ہم نے دیکھا ہے اور کوئی معنی ہمارے خیال میں نہیں آسکتے۔ مگر اللہ تعالیٰ اس طرح کے تخت پر بیٹھنے اور ایسے ہاتھوں اور اس طرح کے منہ کے ہونے سے مبرا ہے۔ حشرِ اجر ، نعیم جنت ، عذاب دوزخ کا جن آیتوں میں بیان ہوا ہے وہ سب آیات متشابہات میں سے ہیں۔ جسد کے موجود ہونے کا خیال بجز اس طریقہ کے جس کو ہم دیکھتے ہیں اور طرح پر آهی نہیں سکتا اور اس میں کچھ شبہ نہیں ہے حشر اجساد سے اسی معموی اور عرفی طریقہ پر محشور ہونا مقصود ہے تو ہمارے ذہن میں وہ کسی طرح سما سکتا ہے چناچہ ان سب باتوں کو تماثیل ہی میں بیان کرنا ممکن ہے ویسے بھی ان دیکھی چیزوں کو سوائے تماثیل کے بیان کیا ہی نہیں جاسکتا ان کا جو بیان بھی ہوگا وہ تمثیل ہی ہوگا۔
یہ سب باتیں ہمارے ایمان کا جز ہیں۔ ہم ان کو ایمانیات کی حد تک تسلیم کرتے ہیں اور حقیقت حال کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔ ہمیں بحث ان چیزوں سے ہوگی جو مشاہدہ میں آسکتی ہیں اور آتی ہیں اور یہی باتیں ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مبین میں پوری وضاحت بھی فرما دی ہے۔ ان چیزوں میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں ہے جو مافوق العقل ہو ہاں ! ماوراء العقل ہو سکتی ہے۔
جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ اور کجی ہے وہ خرابی ڈالنے کے لیے ان کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کی غلط تاویل کرتے ہیں اور جو لوگ علم میں راسخ ہیں وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ بیان ہوا ہے وہ سب اللہ ہی کے پاس سے آیا ہے۔ اس لیے وہ اس قسم کی تاویلوں کے درپے نہیں ہوتے۔
اب بات سمجھنا آسان ہو گئی آپ ذرا غور کریں گے تو انشاء اللہ حقیقت تک پہنچ جائیں گے۔ وہ باتیں جو مشاہدہ میں آتی ہیں اور روزمرہ زندگی میں سب لوگوں کو پیش آتی رہتی ہیں وہ سب کی سب محکمات ہیں اور جو چیزیں انسانی دسترس سے باہر ہیں اور مشاہدہ میں آهی نہیں سکتیں وہ سب کی سب متشابہات ہیں۔ ایک بات کو سنتے ہی سب سے پہلا اور بنیادی فیصلہ یہ کرنا ہوگا کہ آیا یہ بات مشاہدہ کی ہے یا نہیں۔ اللہ نے اس کا کوئی اصول و قاعدہ مقرر فرما کر اعلان کردیا ہے یا نہیں۔ اس کے ہونے نہ ہونے کا فیصلہ فرما دیا ہے یا نہیں۔ اگر جواب ہاں میں ہے تو وہ یقیناً محکمات میں داخل ہے اور اگر نہیں تو وہ متشابہات ہیں۔ محکمات اپنی جگہ پر اٹل ہیں۔ اس لیے کہ وہ صرف اور صرف ایک ہی مفہوم رکھتی ہیں اور متشابہات میں بات کرنے سے بحث کرنے کی گنجائش باقی ہے لیکن جو بات یا بحث ہوگی وہ افہام و تفہیم کے لیے ہوگی جھگڑے اور مناظرے کے لیے نہیں۔ جب کسی جگہ ایسی صورت پیش آئے گی تو خاموش ہونا ضروری ہے اور اپنا کام کرتے جانے کا حکم ہے۔ شک و تردد میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔
وہ مسبّب الاسباب اور علة العلل جس کو ہم اللہ کہتے ہیں۔ وہ وحدہ لا شریک ہے۔ وہی سب چیزوں کا خالق حقیقی ہے۔ ایسے مسبب الاسباب کے لیے ضروری ہے کہ اس میں ایسی چیز بھی ہو جس کو ہم زندگی کہتے ہیں اور ایسی چیز اس میں بالکل نہ ہو جس کو ہم موت کہتے ہیں۔ اس میں کوئی چیز ایسی بھی ہونی ضروری ہے جس کو ہم لفظ سمع و بصر و علم حلم اور رحم و غضب اور قہر سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس میں کوئی ایسا امر بھی ہونا ضروری ہے کہ جن کاموں کو ہم ہاتھ پاؤں اور منہ وغیرہ کے ساتھ منسوب کرسکیں کیونکہ اس کے علة العلل اور مسبب الاسباب اور خالق جمیع اشیاء کے ہونے کو ایسی چیزوں کا اس میں ہونا لازم ہے اس لیے ہم اس کی حی لا یموت ، سمیع وبصیر ، علم ، رحمن و رحیم ، قھار و جبار ہونے پر یقین کرتے ہیں مگر اس امر کی کہ اس کی حیات کیا ہے ؟ اور عدم موت کیا ہے ؟ اس کا سمیع وعلیم و بصیر و رحمان و رحیم اور جبار وقہار ہونا کیا ہے ؟ اور کیسا ہے ؟ کچھ تاویل نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ’ ’ لَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗ اِلَّا اللّٰهُ “ ہاں ! اس قدر کہه سکتے ہیں کہ وہ ہمارا سا نہیں۔ ہمارے نزدیک آیات متشابہات پر ایمان لانے کے یہی معنی ہیں اور فطرت انسانی کا یہی مقتضیٰ ہے۔
کتاب اللہ کی اصل و بنیاد ہونے کا مطلب کیا ؟
17: جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا محکم پکی اور پختہ چیز کو کہتے ہیں۔ اصل و بنیادہونے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم جس غرض کے لیے نازل ہوا ہے اس غرض کو یہی آیات پورا کرتی ہیں۔ انہی میں اسلام کی طرف دنیا کو دعوت دی گئی ہے۔ ان ہی میں عبرت اور نصیحت کی باتیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ ان ہی میں گمراہیوں کی تردید اور راہ راست کی توضیح کی گئی ہے۔ ان ہی میں دین کے بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ ان ہی میں عقائد و عبادات ، اخلاق و فرائض اور اوامرو نواہی کے احکام ارشاد ہوئے ہیں اور خصوصاً مسیح کی الوہیت کا مسئلہ بھی اصولی و بنیادی ہے یہ فروعی اور متشابہ بات نہیں کیونکہ الٰه ایک ہی ہے اور وہ بہت سی اقنوم یا صرف تین اقنوموں سے مل کر نہیں بنا بلکہ وہ وحدہ لا شریک ذات ہے جس کے اجزاء ممکن ہی نہیں۔
پس جو شخص طالب حق ہو اور یہ جاننے کے لیے قرآن کریم کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہے کہ وہ کس راہ پر چلے اور کس راہ کے قریب بھی نہ جائے۔ اس کی پیاس بجھانے کے لیے آیات محکمات ہی اصل مرجع ہیں جن کو عقل کی کسوٹی پر بھی رکھا جاسکتا ہے اور فطرةً انہی پر اس کی توجہ مرکوز ہوگی اور وہ انہی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے اور وہی اس کو سیدھی راہ پر قائم رکھ سکتی ہے۔
متشابہات کیا ہیں اور کیوں ؟
18: تفہیم کے لیے ضروری ہے کہ ایک بات کو پکڑ لیا جائے اور اس پر بات کر کے کوئی نتیجہ نکالا جائے پھر جب وہ نتیجہ سامنے آجائے تو باقی ساری چیزوں اور باتوں کو اس پر محمول کرلیا جائے ورنہ بات سے بات نکالی جائے گی اور کسی کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل سکے گا اور نہ ہی باقی چیزوں کو اس پر محمول کیا جاسکے گا مثلاً آپ جنت کے انعامات ہی کو لے لیں۔ قرآن کریم کو کسی جگہ سے کھولیں تو سورتوں کی سورتیں اور آیتوں کی آیتیں اور رکوعات کے رکوعات ان انعامات جنت کے بیان سے بھرے ہوئے ہیں جن کو پڑھنے سے ایک سرور طبیعت میں محسوس ہوتا ہے اور ایک خاص حالت طاری ہوتی ہے۔ الفاظ کی ترتیب ہی ایسی ہے کہ مطلب نہ جاننے والا بھی حظ اور لطف محسوس کرتا ہے اور یہی قرآن کریم کا زندہ وجاوید معجزہ ہے اور اس لیے اس کو معجزانہ کلام کہا جاتا ہے۔ سب صحیح اور سب درست لیکن اس کے باوجود جب ہم حقیقت پر غور کرتے ہیں تو قرآن کریم ہم کو یہ بات بتاتا ہے کہ
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِىَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ جَزَاءً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ.
” پھر جو کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزا میں ان کے لیے چھپا کر رکھا ہے اس کی کسی نفس کو بھی خبر ہے۔ “
(الم السجدہ 32 : 17 )
دوسری طرف نبی کریم ﷺ نے خود اشارہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
ععع انی اعدت لعبادی الصالحین ما لا عین رات ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر .
” میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کیا ہے جو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں اور کسی کان نے سنا نہیں اور کسی انسان کے دل میں اس کا تصور پیدا ہونا بھی ممکن نہیں۔ “
اس طرح کی آیات کریمات اور احادیث ہم کو بتاتی ہیں کہ جنت کے جن انعامات کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کے لیے جو الفاظ اور مفہوم متعین کیا گیا وہ صرف اور صرف اس لیے ہے کہ اگر ان کو اس طرح بیان نہ کیا جاتا تو انسان کی سمجھ میں ان چیزوں اور ان انعامات کا آنا ممکن ہی نہ تھا۔ اس کی اصل حقیقت انسانی مشاہدہ اور احاطہ عقل دونوں سے باہر ہے اور اس چیز کو بیان کرنے کے لیے جو فطرة انسانی کے مشاہدہ اور احاطہ عقل سے باہر ہو ان ہی تمثیلات میں بیان کیا گیا ۔ اس لیے ان آیات کا مفہوم متشابہات میں سے ہے۔ رہی یہ بات کے متشابہات کیوں ہیں ؟ اس لیے کہ محکمات کا پتہ چل جائے اور وہ معلوم ہو سکیں۔
کیونکہ ان انعامات کا انسانی گرفت میں آنا جب تک کہ انسان اس عالم میں موجود ہے ناممکنات میں سے ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جو چیزیں انسان کے حواس سے ماوراء ہیں۔ جو انسانی علم میں نہ کبھی آئی ہیں اور نہ ہی آسکتی ہیں جن کو اس نے نہ کبھی دیکھا ، نہ چھوا ، نہ چکھا۔ ان کے لیے انسانی زبان میں نہ ایسے الفاظ مل سکتے ہیں جو انہی کے لیے وضع کئے گئے ہوں اور نہ ایسے معروف اسالیب بیان ہی مل سکتے ہیں جن سے ہر سامع کے ذہن میں ان کی صحیح اور اصل تصویر کھنچ جائے۔ لا محالہ یہ ناگزیر ہے کہ اس نوعیت کے مضامین کو بیان کرنے کے لیے الفاظ اور اسالیب بیان وہ استعمال کیے جائیں جو اصل حقیقت سے قریب تر مشابہت رکھنے والی محسوس چیزوں کے لیے انسانی زبان میں پائے جاتے ہیں۔ چناچہ ما بعد الطبعی مسائل کے بیان میں قرآن کریم کے اندر ایسی ہی زبان استعمال کی گئی ہے اور متشابہات سے وہ آیات مراد ہیں جن میں یہ زبان استعمال ہوئی ہے۔
فتنہ سے کیا مراد ہے اور وہ فتنہ کیوں چاہتے ہیں ؟
19: فتنہ کے معنی ہر جگہ ایک ہی جیسے نہیں بیان کئے جاسکتے کیونکہ یہ لفظ ہی بہت سے مفہومات کا متحمل ہے۔ اس جگہ فتنہ کے معنی کیا ہیں ؟ اس جگہ اس کا مفہوم حق سے پھیر دینا ہے فتن الرجل یعنی جس حالت پر وہ تھا اس سے اس کو ہٹا دیا۔ چناچہ قرآن کریم میں ایک جگہ رشاد الٰہی ہے کہ :
وَاِنْ کَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِىْ اَوْحَیْنَا اِلَیْكَ (بنی اسرائیل 17 : 73) ” اور اے پیغمبر اسلام ! ان لوگوں نے تو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی کہ تجھے فریب دے کر اس تبلیغ کے کام سے روک دیں جو ہم نے بذریعہ وحی نازل کیا ہے۔ “
پس ” ابتغاء الفتنة “ کے معنی ہوئے حق سے پھیر دینے کو چاہتے ہوئے یا گراہی چاہتے ہوئے یا اختلاف چاہتے ہوئے پھر تینوں ہی کا نتیجہ ایک ہے۔ گویا متشابہات ہی میں الجھے رہنے سے ان کی غرض حق کی بجائے گمراہی کا پیدا کرنا ہوتا ہے۔ دین حق سے پھیرنا یا اختلاف ڈالنا۔ رہی یہ بات کہ وہ ایسا کیوں چاہتے ہیں ؟ منافق منافقت کیوں کرتا ہے ؟ کافر کفر کیوں کرتا ہے ؟ جو جواب ان کا ہے وہی ان کا بھی ہے۔ خود محکمات پر عمل کرنا نہیں چاہتے اور اس جھگڑے اور بحث و مباحثہ میں مسلمانوں کو بھی محکمات پر عمل کرنے سے روک دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ آدمی ایک طرف مصروف ہو تو دوسری طرف متاثر ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اس طرح سے سچے مسلمانوں کے دلوں میں بھی شبہات پیدا ہونے لگتے ہیں اور یہی ان کی مراد اور یہی ان کا مطلوب ہے۔
اصلیت اور حقیقت صرف ان چیزوں کی معلوم ہو سکتی ہے جو مشاہدہ میں آئیں :
20: ” تاویل “ اول سے ہے جس کے معنی ہیں ایک چیز کا اصل کی طرف رجوع کرنا اور ” تاویل “ کے معنی ہوئے ایک چیز کا اس غایت کی طرف لوٹانا جس کا اس سے ارادہ کیا گیا ہو علمی طور پر یا فعلی طور پر (امام راغب) یہاں تاویل بلحاظ علم مراد ہے۔
ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ یَوْمَ یَاتِىْ تَاْوِیْلُهٗ (الاعراف 7 : 53) اور ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلًا (اسرائیل 17 : 35 ) تاویل فعلی یعنی مال یا انجام مراد ہے اس جگہ ” ابتغاء تاویلہ “ سے مراد مخصوص تاویل ہے یا ایسی تاویل ہے جو محکمات کے خلاف ہے اور تاویل کرنے والا اپنی خواہش کے مطابق تاویل کرے۔ جس طرح وَاَقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا (المزمل 20:73) ” اور اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دیتے رہو۔ “ کی اہل کتاب نے یہ تاویل کی کہ : یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ (المائدہ 5 : 64) ” اللہ کا ہاتھ تنگ ہوگیا۔ “ کیونکہ وہ قرض کی اپیل کر رہا ہے۔ حالانکہ صدقہ و خیرات کو قرض اس لیے کہا گیا تھا کہ وہ قابل واپسی ہے ایس نہیں کہ تمہارا خرچ کیا اکارت چلا جائے۔ لیکن جن لوگوں کے دلوں میں کجی یا ٹیڑھا پن تھا انہوں نے اس کو اپنی مرضی کے معنی پہنائے اور اس کو ایک بحث کا موضوع بنالیا۔ اس کی مثالیں قرآن کریم میں بیسیوں موجود ہیں۔
مسیح (علیہ السلام) کے متعلق اناجیل میں بھی محاورات و استعارات کثرت سے استعمال ہوئے تھے اور قرآن کریم نے بھی ان کا استعمال کیا ہے جس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ یہی وہ طریقہ کلام ہے جس میں بڑے بڑے مضامین چند الفاظ میں بیان کئے جاسکتے ہیں اور دوسرے یہ کہ یہی محاورات و استعارات کلام کی روح و جان ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگوں نے ان کی تاویل اس طرح کی کہ مسیح (علیہ السلام) کو مخلوق سے اٹھا کر خالق ، عبد سے اٹھا کر معبود اور پروردہ سے اٹھا کر پروردگار بنا دیا۔
مفسرین نے عموماً ” طلب تاویل الذی یشتھونہ “ یعنی اس تاویل کو چاہتے ہوئے جو ان کی اپنی خواہش ہوتی ہے اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ وہ اس کی تاویل کی طلب میں حد سے تجاوز کرتے ہیں اور وہ حد سے تجاوز کرنا یہ ہے کہ اسے محکمات کی طرف نہیں پھیرتے متشابہ الفاظ کے معنی میں ” ابتغاء “ یہی ہے کہ انسان ان الفاظ کے پیچھے اس طرح پڑے کہ دوسرے الفاظ یا اصول کی طرف توجہ ہی نہ کرے اور اکثر متشابہ کی پیروی کرنے والوں کو یہی غلطی لگتی ہے کہ وہ ان الفاظ کے پیچھے اس طرح پڑتے ہیں کہ باقی بڑی بڑی روشن اور واضح اور غیر مبہم باتوں کی پرواہ تک نہیں کرتے اور اس میں شک نہیں کہ یہ محض اپنی خواہش کی پیروی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اپنی خواہش کیا ہے ؟ یہ کہ جس جماعت یا فرقہ یا گروہ سے انسان وابستہ ہوتا ہے اس جماعت فرقہ اور گروہ کے کسی بزرگ نے کوئی بات کہی اور ایک مدت گزرنے کے بعد اس گروہ کا آدمی اس بات پر محض اس لیے ڈٹ گیا کہ اس کے بزرگوں سے یہ منقول ہے اور یہ اس کی خواہش ہو گئی کہ ہمارے بزرگوں کا کہنا غلط نہیں ہو سکتا۔ اس کے سامنے ہزار دلائل رکھو لیکن وہ سب کی طرف سے آنکھیں بند کرے گا کوئی جواب نہ آیا تو وہ یہ راگ الاپتا رہے گا کہ یہ ہمارے بزرگوں نے کہا ہے اور ان کا کہنا غلط نہیں ہو سکتا۔ ان سے زیادہ آپ سمجھدار کیسے ہوگئے ؟ ان کو یہ بات کیوں معلوم نہ ہوئی جو آپ کو معلوم ہو ﴾گئی۔ قرآن کریم میں اس کی ان گنت مثالیں موجود ہیں۔ چناچہ سورة شعراء میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر میں فرمایا گیا ہے کہ :
” اے پیغمبر اسلام ! انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ پڑھ کر سنائیں جب انہوں نے اپے باپ اور اپنی قوم سے کہا یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ انہوں نے کہا ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور ہم انہیں کے گرد معتکف بیٹھتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ کیا جب تم ان کو پکارتے ہو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہیں یا تمہیں کوئی نفع و نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمے اپنے بڑوں کو ایسا ہی کرتے پایا ہے۔ “ بَلْ وَجَدْنَا اٰبَآءَ نَا کَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ (الشعراء 26 : 74)
اسی مضمون کو وضاحت کے یے مزید دیکھنا مقصود ہو تو ان مقامات کا مطالعہ کرو : (الاعراف 7 : 28) (یونس 10 : 78) (الانبیاء 21 : 53) (لقمان 31 : 21) اور (الزخرف 43 : 20 ۔ 22)
علم میں پکے لوگ کون ہیں ؟
21: ” رسوخ “ کے معنی ہیں کسی چیز کا نہایت ہی مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجانا اور ” راسخ فی العلم “ علم میں متحقق کو کہا جاتا ہے (راغب) یہاں ” الا اللہ “ اور ” راسخون فی العلم “ دونوں جگہ پر وقف ہے اس لیے ” وراسخون فی العلم “ کا جملہ دونوں طرف ملتا ہے۔ یعنی اس کی تاویل کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے اور راسخون فی العلم کے اور یہ بتانے کے لیے کہ وہ راسخون فی العلم کس طرح اس تاویل کو جانتے ہیں یہ الفاظ فرمائے گئے کہ : ” یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا “ یعنی متشابہات اور محکمات دونوں اللہ کی طرف سے مانتے ہیں۔ گویا ان کا اصول یہ ہے کہ متشابہات کو محکمات پر عرض کرتے ہیں اور ان کے معنی متعین ہوجاتے ہیں۔
چنانچہ بخاری میں اس طرح پر ان الفاظ کے معنی کئے گئے ہیں۔ بخاری میں ہے : والراسخون یعلمون یقولون امنا بہ ، یعنی راسخ بھی ان معنوں کو جانتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے اور یہ ظاہر ہے کہ اگر متشابہات کے معنی راسخون فی العلم کو بھی معلوم ہو سکتے تو ان کا انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل کرنا بےمعنی ہوجاتا ہے۔ رہی وہ چیزیں جو جنت کے انعامات اور دوزخ کے عذاب نار وغیرہ کے متعلق ہیں تو اس کے معلوم کرنے کی یہاں ضرورت کیا ؟ کیونکہ جب وہ مشاہدہ میں آهی نہیں سکتے تو بس ان کو ماننا اور تسلیم کرنا ہی مراد ہوسکتا ہے جس کو ” ایمان بالغیب ” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ہاں ! جب اس عالم سے کوچ کر کے دوسرے عالم میں منتقل ہوں گے تو ان کی حقیقت بھی یقیناً کھل جائے گی۔
عقل مند ہی ہمیشہ نصیحت قبول کرتے ہیں :
22: محاورہ ہے کہ ” عاقل را اشارہ کافی است “ زیر نظر آیت میں محکم اور متشابہ کا ایک اصول بیان فرمایا ہے اور اس سورت کے ان مضامین کی مناسبت ہی سے یہ بیان اس جگہ درج کیا گیا ہے کہ اس میں عیسائیت کے بطلان کی طرف اشارہ ہے کیونکہ عیسائیوں نے محکمات اور متشابہات میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے ہی غلطی کھائی ہے۔ عیسائی مذہب کی بنیاد خصوصاً اس وقت جس کو عیسائیت کہا جاتا ہے اس کی بنیاد صرف متشابہات پر ہے۔ سب سے بڑی دلیل حضرت مسیح کی خدائی کی یہ دی جاتی ہے کہ پیش گوئیوں میں آپ کو خدا کہا گیا ہے اور آپ کی آمد کو خدا کی آمد قرار دیا گیا ہے۔ غور کرو کہ یہ کس قدر لغو بنیاد ہے کیوں ؟ اس لیے کہ پیش گوئی تو خود متشابہات میں سے ہوتی ہے اور پیش گوئیوں کی زبان میں استعارہ اور مجاز کا استعمال بکثرت ہوتا ہے چناچہ خود مسیح (علیہ السلام) کی آمد کے جو نشانات تھے یعنی کتب سابقہ میں ان ہی کو دیکھا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ کس قدر استعارہ و مجاز ہے کیونکہ ان کا استعمال بکثرت ہوا ہے حق تو یہ ہے کہ جن پیش گوئیوں میں خدا کا لفظ آیا وہ حضرت مسیح کے لیے نہیں بلکہ وہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی آمد کے متعلق ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ خود حضرت مسیح نے بھی خدا کے آنے کی پیش گوئی کا ذکر کیا ہے۔ (متی 40 , 23:21) جہاں انگورستان کے مالک کی تمثیل میں بیٹے کے آنے کا ذکر کر کے لکھا ہے کہ پھر انگور ستان کا مالک خود آئے گا اور ٓاگے چل کر آیت 43 میں صفائی سے بتادیا کہ ” خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور ایک اور قوم کو جو اس کے پھل لائے دی جائے گی۔ “ پس وہ خدا جس کے آنے کی پیش گوئی بائبل میں ہے وہ بھی محمد رسول اللہ ﷺ ہیں مگر باوجود ان پیش گوئیوں کے وہ خدائی کا دعویٰ نہیں کرتے کیونکہ آپ ﷺ کے نزدیک ان استعارات کا مطلب ہی یہ نہیں ہے اس لیے کہ یہ محکمات اور بدیہی کے خلاف ہے اور جو بدیہی کے خلاف ہو وہ مطلب صحیح ہو ہی نہیں سکتا۔
کیونکہ بائبل میں لفظ ” خدا “ کا استعمال بطور مجاز نیک لوگوں کے حق میں موجود ہے۔ ” میں نے تو کہا کہ تم الٰه ہو اور تم سب حق تعالیٰ کے فرزند ہو۔ “ (زبور 6:82) ، (یوحنا 43:10) میں حضرت مسیح اس قول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں جب کہ اس نے انہیں جس کے پاس خدا کا کلام آیا ” خدا “ کہا پس اول پیشگوئی بھی حضرت مسیح کے لیے نہیں بلکہ بنی کریم حضرت محمد ﷺ کے لیے ہیں پھر بغیر پیش گوئیوں کے بھی اس بائبل میں لفظ ” خدا “ بطور مجاز نیک لوگوں کے حق میں استعمال ہوا ہے اس لیے اس کے معنی دوسری جگہ بھی یہی مراد ہوں گے۔ پس ایک متشابہ امر کی بنیاد پر تمام محکمات کا رد کرنا یہ عیسائی مذہب کی خطرناک غلطی ہے۔ پھر خود مسیح (علیہ السلام) نے بھی ان کو بتا دیا تھا کہ وہ جو لفظ ” خدا کا بیٹا “ اپنے لیے استعمال کرتے ہیں تو اسی مجازی معنی کی رو سے جس مفہوم کو مدنظر رکھ کر سارے راست بازوں کو خدا اور خدا کا فرزند قرار دیا گیا ہے۔ چناچہ جب یہودیوں نے حضرت مسیح کو سنگسار کرنے کی دھمکی دی تو حضرت مسیح نے ان سے دریافت کیا کہ میں نے خدا کی طرف سے بہت نیک کام کیے ہیں میے کس نیک کام کے عوض مجھے سنگسار کرتے ہو تو انہوں نے جواب میں کہا کہ اچھے کم کے لیے ہم تم کو سنگسار نہیں کرتے بلکہ اس لیے کہ تو کفر کہتا ہے اور ” انسان ہو کر اپنے تئیں خدا بناتا ہے۔ “ (یوحنا 33:10) تو حضرت مسیح نے اس کا جواب یہ دیا کیا تمہاری شریعت میں یہ نہی لکھا کہ میں نے کہا تم خدا ہو جب کہ اس نے انہیں جن کے پاس خدا کا کلام آیا خدا کہا… تم اسے جس کو خدا نے مخصوص کیا اور جہاں میں بھیجا کہتے ہو کہ تو کفر بکتا ہے کہ میں نے کہا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔ “ (یوحنا 36 , 34:10)
اس سوال و جواب پر غور کرو کہ اگر حضرت مسیح (علیہ السلام) کا دعویٰ واقعی خدائی کا ہوتا تو جب آپ پر یہ الزام لگایا گیا کہ تم انسان ہو کر اپنے آپ کو خدا کہتے ہو تو اس کا جواب یوں دیتے کہ میں تو خدا ہی ہوں اور تمہاری پیشگوئیوں میں خدا کا آنا لکھا ہے مگر بجائے اس کے آپ نے یہ جواب دیا کہ تمہارے بزرگوں کو بھی ” خدا “ کے کلام میں ” خدا “ کہا گیا ہے۔ اگر ان کا خدا کہلانا کفر نہیں تو میرا خدا کا بیٹا کہلانا کفر کیوں ہوگیا ؟ بالفاظ دیگر جن معنوں میں وہ خدا کہلائے انہیں معنوں میں میں خدا کا بیٹا ہوں۔ نہ وہ حقیقت میں خدا تھے نہ میں حقیقت میں خدا کا بیٹا ہوں مگر مجازی طور پر ان کو بھی خدا کہا گیا ہے۔ مجازی طور پر ہی میں بھی خدا کا بیٹا ہوں۔ اس قدر صفائی کے ہوتے ہوئے عیسائیوں نے متشابہات کو لیا اور محکمات کو چھوڑ دیا۔ اس لیے ان کے عقیدہ کے بطلان میں اس مسئلہ کی توضیح کرنی ضروری تھی۔ پس اس بحث کی ابتداء میں اصولی طور پر بیان کر کے خدا کی صفات مسیح میں نہ پائی جاتی تھیں اب بتایا جاہا ہے کہ ان کو ٹھوکر متشابہات سے لگی تھی اور یہ ٹھوکر ٹھوکر ہی نہیں بلکہ یہ ان کے دلوں کی سراسر کجی کا نتیجہ ہے کہ محکمات کو چھوڑ کر متشابہات میں الجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سے مسلمانوں کو بھی متنبہ فرمایا گیا تھا کہ تم ایسی غلطی میں نہ پڑنا مگر افسوس ہے کہ آج بعینہٖ یہی غلطی مسلمانوں نے کی اور کرتے ہی چلے جا رہے ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) کی پوری زندگی کو ایک اعجوبہ بنا کر ررکھ دیا ہے لیکن یاد رہے کہ عقل مند وہی ہے جو دوسروں کی ٹھوکر سے فائدہ اٹھا کر خود گرنے سے بچ جائے۔
Ayah 3:8صاحب عقل لوگوں کی صدائے حال اس طرح ہوتی ہے :
23: مطلب یہ ہے کہ صاحب عقل لوگ اپنے رب سے اس طرح پکار پکار کر دعائیں کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم کو اس راہ مستقیم پر قائم رکھ اور ہمارا حال بھی یہودو نصاریٰ کا سانہ ہوجائے جو کتاب و نبوت کے بعد گمراہ ہوگئے اور متشابہات میں ہی الجھ کر رہ گئے۔ یہ ساری دعا اور اسی طرح کی دوسری دعائیں الراسخون فی العلم ہی کی زبانوں سے نکلتی ہیں جو دعا کرتے وقت بھی سمجھ سوچ کر دعا کرتے ہیں اندھے بہرے ہو کر دعا نہیں کرتے۔ جن کے دل اس حقیقت پر یقین کر گئے ہیں ان کے دلوں میں یہ دعائیں اٹھ کر زبان سے جاری ہوجاتی ہیں اور اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ علم دین میں پختہ کاروں کی زبان سے نکل رہی ہیں۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ لوگ اپنے رسوخ فی العلم اور پختہ کاری پر نازاں نہیں ہوتے بلکہ اس نعمت کے زوال سے ہمیشہ ڈرتے رہتے ہیں۔ انہیں خود انپے کسی علم پر نازیا دعویٰ نہیں ہوتا۔ یہ نہیں کہتے کہ ہمیں ہمارے حسن عمل کے انعام میں راہ راست پر قائم رکھ بلکہ کہتے ہیں کہ محض اپنے فضل و کرم سے اور لطف و عنایت سے راہ راست پر مستقیم رکھ اور یہی ادب دعا ہے جس کو ملحوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ وہ لوگ یوں کہتے ہیں۔
الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ 1ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا 1ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ 00191 رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ 1ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ 00192 رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا 1ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ کَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ00193 رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ 1ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ 00194
(آل عمران)
” وہ ارباب عقل و دانش جو کسی حال میں بھی اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتے ، کھڑے ہوں۔ بیٹھے ہوں۔ لیٹے ہوں۔ ہر حال میں اللہ کی یاد ان کے دلوں میں بسی ہوتی ہے۔ جس کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ آسمان و زمین کی خلقت میں غورو فکر کرتے ہیں اور وہ پکار اٹھتے ہیں کہ خدایا ! یہ سب کچھ جو تو نے پیدا کیا ہے بلاشبہ بیکار و عبث نہیں پیدا فرمایا۔ یقیناً تیری ذات اس سے پاک ہے کہ ایک بیکار کام اس صادر ہو۔ خدایا ! ہمیں عذاب آتش سے بچا لیجیو۔ اے اللہ ! اے ہمارے رب ! جس بدبخت کے لیے ایسا ہوا کہ تو نے اسے دوزخ میں ڈال دیا تو بلاشبہ تو نے اسے بڑی ہی خواری میں ڈالا یعنی یقیناً وہ بڑی ہی خرابی میں گر پڑا اور جس دن ایسا ہوگا تو اس دن ظلم کرنے والوں کے لیے کوئی مدد گار نہ ہوگا۔ “
اے ہمارے رب ! ہم نے ایک منادی کرنے والے کی منادی سنی جو ایمان کی طرف بلا رہا تھا وہ کہه رہا تھا کہ لوگو ! اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور ایمان لے آئے۔ پس اے ہمارے رب ! ہمارے گناہ بخش دے ہماری برائیاں مٹا دے اور اپنے فضل و کرم سے ایسا کر کہ ہماری موت نیک کرداروں کے ساتھ ہو۔
” الوہاب “ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے یعنی ” عطا کرنے والا “ :
24: ” ھبہ “ کے معنی ہیں اپنی ملک بغیر عوض کے غیر کو دے دینا (غ) وھاب یعنی ہر ایک کو بقدر استحقاق دینے والا۔ جس سے یہ بات بھی بخوبی واضح ہوگئی کہ اللہ کی ذات ہی اس کی مستحق ہے کہ اس سے دعا کی جائے اس لیے کہ عطا کرنے والا صرف اور صرف وہی ہے۔ کیونکہ ہر ایک چیز کا مالک بھی وہی ہے اور مالک ہی کو حق ہے کہ وہ جس کو چاہے عطا کر دے ، رزق دینا ، صحت دینا بھی اسی سے خاص ہے اور خصوصاً دلوں کی کجی کو دور فرما کر ہدایت کرنا بھی اسی کے اختیار میں ہے۔
نبی کریم ﷺ کے دل میں اپنی امت کے لیے اس قدر رحمت جوش مارتی تھی کہ ان کی تعلیم کے لیے آپ ﷺ اس دعا کو بہت کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔ چناچہ سیدہ ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ :
عععان النبی ﷺ کان یقول یا مقلب القلوب تبث قلبی علی دینک ثم قراء رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ہَدَیْتَنَا وَ ہَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً 1ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ 00
رسول اللہ ﷺ اس طرح دعا کیا کرتے تھے اے دلوں کے پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر مضبوط رکھ پھر آپ ﷺ یہ دعاپڑھتے : رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا الخ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی نسبت بھی روایت ہے کہ آپ سورة فاتحہ کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ اس میں ایک مؤمن کو سکھایا گیا ہے کہ اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ ہر حال میں اپنے رب ذوالجلال کی مدد کا طالب ہو۔
Ayah 3:9سب لوگوں کا جمع ہونا موعود ہے اور اللہ اپنے وعدے کا خلاف نہیں کرتا :
25: اوپر جو دعا سکھائی گئی ہے یہ آیت بھی اسی دعا کا حصہ ہے۔ جس میں سب انسانوں کے جمع ہونے کا اعتراف ہے۔ یہ جمع ہونا کیا ہے ؟ اس لیے کہ سب لوگ اپنے اپنے کئے کا جواب دیں۔ گویا اس بات کا اعتراف ہے کہ ہمیں اپنے اعمال کی جزا سزا ضرور مل کر رہے گی ہمیں اس میں کسی طرح شک نہیں ہے اور اس لیے بھی کہ یہ جمع کرنا تیرا وعدہ ہے اور تیرا وعدہ کبھی خطا نہیں ہوتا۔ مؤمنین کاملین کی یہ دعائیں خوف آختر سے ہوتی ہیں کسی مادی اور دنیوی غرض سے نہیں۔ جاہل قوموں کے عجیب عجیب اعتقادات ہوتے ہیں ان ہی عقیدوں میں سے ایک یہ عقیدہ بھی ہے کہ خدا کے لیے جائز ہے کہ وہ وعدہ کر کے بھول جائے یا وعدہ کا ایفاء اسے خلاف مصلحت نظر آئے او اس لیے اسے وہ ٹال جائے اور افسوس ہے کہ بعض مسلمان کہلانے والے لوگ بھی ان خرافات میں ان کے ساتھ شریک ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہی ہے کہ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا اور نہ ہی خلاف ہونے دیتا ہے جاہل ہیں وہ لوگ جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ اپنے کسی وعدہ کا پابند نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ اللہ کو کی نے کسی وعدہ کا پابند نہیں کیا اور نہ ہی اس سے کوئی وعدہ کرایا گیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی اپنے فیصلے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا ہے اور وہی اس کا فیصلہ اس کا وعدہ ہے پھر اللہ وعدے کا خلاف کیوں کرے گا ؟ مجبور اس کو کہتے ہیں جس سے کوئی دوسرا وعدہ لے یا کرائے اللہ سے نہ کسی نے کوئی وعدہ لیا اور نہ کرایا بلکہ اللہ نے خود ہی اپنے فیصلوں اور وعدوں کا اعلان فرمایا ہے اور پھر خود ہی وعدہ کر کے خود ہی اس کے خلاف نہیں کرے گا بلکہ ایسا کہنا اور ایسا سمجھنا سراسر جہالت اور لا علمی ہے۔
قرآن کریم میں یہ مضمون بہت دفعہ آیا ہے اور ہر جگہ یہی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کئے ہوئے وعدوں کا خلاف نہیں کرتا اور نہ ہی کرے گا۔ چناچہ سورة بقرہ میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے اور آئندہ بھی اس کا ذکر ہوتا رہے گا اور اسلام کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف ورزی نہیں کرتا۔ اس لیے کہ اس نے خود ہی اس کا اعلان کیا ہے۔
Ayah 3:10کفر کی راہ اختیار کرنے والوں کو اللہ کی پکڑ سے کوئی نہیں بچا سکتا :
26: جاہل قوموں نے ایسے عقائد خود ہی گھڑ لیے ہیں جن کی کوئی اصل موجود نہیں۔ ان عقیدوں میں سے ایک عقیدہ ان کا یہ بھی ہے کہ اولاد اپنے مرے ہوئے باپ کی طرف سے کچھ ” پن دان “ کرے تو والدین کی نجات ہوجائے گی خواہ وہ ایمان کی دولت سے مالا مال نہ بھی ہوئے ہوں۔
تعجب ہے کہ اسلام نے ماں باپ کی موجودگی میں اولاد کو مجبور کیا ہے کہ وہ ان کی ضروریات زندگی کو پورا کریں اور ان کو ہر لحاظ سے خوش رکھیں اور دنیوی زندگی میں ان کی ہر طرح مدد کریں۔ مالی امداد بھی ان کو دیں اور روحانی امداد کے طور پر ان کی اصلاح کی اسی طرح کوشش کریں کہ ان کو اف تک بھی نہ کہیں اور تبلیغ کا فرض ادا کرتے ہوئے بھی نرم لہجہ اختیار کریں اور پاکیزہ گفتگو کریں اور اگر وہ کفر ہی پر مرجائیں تو ان کے لیے دعائے مغفرت سے باز رہیں اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں۔ لیکن ہمارے ہاں کی تعلیم یہ ہے کہ زندگی میں ان سے سلام و دعا تک کو بند کردیں اور ان کی ضروریات کا ہرگز خیال نہ کریں اور ان کے کام بالکل نہ آئیں لیکن اگر ہماری موجودگی میں وفات پا جائیں تو پھر ان کی بخشش کا سامان کریں اور آئے دنوں ان کے لیے ثواب کی مجلسیں قائم کریں۔ قرآن خوانی کرائیں ، قل پڑھائیں اور ان کی قبر پر حفاظ کو بٹھا کر قرآن پڑھاتے رہیں۔
افسوس کہ یہ دین کہاں سے نکل آیا ؟ قرآن کریم تو بار بار کہتا ہے کہ مرنے والے کا عمل منقطع ہوجاتا ہے جو کچھ اس نے کرنا ہے وہ کرچکا اب اس کے کرنے کا کوئی کام نہ رہا۔ ہاں ! وہ اگرچہ وفات پا گیا لیکن اس کا کوئی زندہ عمل اگر باقی ہے تو اس کا اجروثواب بوجہ اس کے اپنے عمل ہونے کے ملتا رہے گا اور چونکہ اس کی اولاد اور اس کا مال بھی اس کا عمل ہے اگر اس کی اولاد اچھے کام کرے گی تو یقینا اس کا عمل ہونے کی وجہ سے اس کو فائدہ پہنچے گا لیکن اس میں بھی یہ بات کہ فلاں شخص اس کو اجروثاب پہنچائے تب ہی اجر مل سکتا ہے بالکل بےاصل ہے۔
جیسا کہ پہلے بھی گزر چکا ہے کہ اس سورة کے مضامین کا خاص تعلق قوم عیسائیت سے ہے اس لیے اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ اپنے مالوں اور قومی جمیعت پر جس قدر فخر عیسائی قوم کو ہے شاید ہی کسی قوم کو ہوا ہو۔ خصوصاً اس لحاظ سے بھی کہ وہ انبیاء کی اولاد میں سے تھے مگر الفاظ عام ہیں اس لیے ہر قسم کے کافر خواہ پہلی امتوں کے ہوں یا بظاہر مسلمان کہلا کر کفر کرنے والے سب اس کے اندر شامل ہیں جو حقیقی اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ :
27: کفر کی راہ اختیار کرنے والوں کو اللہ کی پکڑ سے نہ تو ان کی دولت بچا سکے گی اور نہ ہی آل و اولاد “ اس سے یہ غلط فہمی پیدا نہ ہو کہ جو لوگ کفر کی راہ تو اختیار نہیں کرتے لیکن دوسرے برے کام کرنے کے عادی ہیں اگرچہ وہ کافر نہ ہوں تو گویا ان کا مال یا اولاد کام آسکیں گے۔ ہرگز نہیں اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی کافر اپنے کفر کے سبب اگر اتنا حد سے بڑھ گیا ہے کہ بظاہراس کو اس کے کفر سے اس وقت کوئی باز نہیں رکھ سکتا تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اس کی یہ حالت اس کو اللہ کے ذاب سے بھی بچا لے گی خواہ وہ حالت مال کی وجہ سے ہو خواہ آل و الواد کی وجہ سے۔ نہیں ، ایسا نہیں ہوسکتا یہ جو اس کو وقتی طور پر کفر کرتے دیکھ کر اللہ کی پکڑ نہیں آرہی تو یہ اس کا دراصل قانون ہے کہ وہ کسی مجرم کو جرم کرتے ہی نہیں پکڑ لیتا بلکہ اکثر اوقات اس کو ڈھیل دیتا رہتا ہے اس لیے کہ اس کا قانون مشیت یہ نہیں چاہتا کہ اس کو فوراً پکڑ لیا جائے لیکن جب اس کی پکڑ کا وقت آجاتا ہے تو اس کو اس طرح دھر لیا جاتا ہے کہ نہ تو اس کو وہ طاقت ہی کچھ کام آتی ہے جو آل و اولاد کی وجہ سے تھی اور نہ ہی اس کے کام وہ خزانے اور دولت کے ڈھیر آسکتے ہیں۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَلَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْـًٔا وَاُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ.
(آل عمران 3 : 116)
” بلاشبہ جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی تو نہ تو مال و دولت کی طاقت انہیں عذاب الٰہی سے بچا سکے گی اور نہ آل و اولاد کی کثرت ہی ان کے کچھ کام آئے گی۔ وہ دوزخی ہیں اور ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے۔ “
Ayah 3:11موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں قوم فرعون تھی اور آپ ﷺ کے مقابلہ میں اہل کتاب :
28: ” داب “ کے اصل معنی ہیں کہ کوشش اتنی کی کہ کوشش کر کر کے تھک گئے۔ یہاں مراد ہے ان کا کفر میں سخت زور لگانا اور پیغمبر اسلام ﷺ کے مقابلہ یا مخالفت میں ایک دوسرے کے مددگار بننا۔ جیسا کہ فرعون کے لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ یا مخالفت میں ایک دوسرے کے مددگار ہوئے تھے۔ پھر فرمایا کہ فرعون وران کے لوگوں نے بھی تو موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف وہی کچھ کیا تھا جو اس سے بھی پہلی قوموں کے لوگ اپنے اپنے نبی کے ساتھ کرتے آرہے تھے۔ ان سب نے کیا کیا تھا ؟ یہی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی تعلیم کو ٹھکرا دیا وقت کے نبی اور اس پر نازل شدہ آیات کریمات کو جھٹلایا اور آج یہی کام خود بنی اسرائیل کے دونوں گروہ یعنی یہودو نصاریٰ اسلام اور بانی اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کر رہے ہیں۔
پھر ان کو یہ بھی تو یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح ان لوگوں کو اللہ نے عذاب میں مبتلا کیا یعنی فرعون اور اس کے لاؤلشکر کو اور پہلی قوموں کے رؤسا اور مترفین کو بالکل اسی طرح ان کو بھی پکڑ لیا جائے گا جو اس نبی امی ﷺ کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے ہیں اس لیے کہ اللہ کی طرف سے جب پکڑ آتی ہے تو وہ بھی اتنی ہی سخت ہوتی ہے جتنی کہ اس نے پہلے ڈھیل دے رکھی تھی۔
گناہ سے یہاں وہی گناہ مراد ہیں جو ان سے سرزد ہوئے بلکہ انہوں نے جان بوجھ کر کئے :
29: ” ذنوب “ جمع ہے ذنب کی اور اس کے معنی بہت وسیع ہیں دراصل یہ ہر ایک اس فعل پر استعمال ہوتا ہے جس کا انجام ناگوار اور گراں ہو۔ جس طرح ” اثم “ ہر ایک فعل کا نام ہے جو ثواب سے انسان کو روکتا ہے اور ” ذنب “ کے منی الزام کے بھی ہوتے ہیں۔ جو فرق ملزم اور مجرم میں ہے وہ سب پر واضح ہے کہ ملزم بعض اوقات مجرم نہیں ہوتا اس پر فقط ایک الزام ہوتا ہے جو دلائل وبراہین سے رفع بھی ہو سکتا ہے اور مجرم جرم کا مرتکب ہوتا ہے جو جرم سے بری نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ” ذنب “ کی نسبت نیک اور بد دونوں کی طرف ہو سکتی ہے۔ چونکہ ” ذنب “ کے معنی دم اور پچھلے حصہ کے بھی ہوتے ہیں اس لیے ” ذنب “ کبھی اس گناہ بھی بولا جاتا ہے جو کی انسان کے پیچھے دب کی طرح لگا دیے جاتے ہیں جس طرح پراپیگنڈہ کرنے والے فرضی دلائل دے کر کی کی ذات کو مجروح کردیتے ہیں حالانکہ وہ شخص اس فعل کا مرتکب نہیں ہوتا بالکل اسی طرح بعض نیک لوگوں کے پیچھے بھی بدبخت لوگ کچھ ایسے الزام لگا دیتے ہیں جن کے وہ بالکل مرتکب نہیں ہوتے اور آج کل یہ مرض عام ہے اس لیے زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں۔
اس جگہ وہ گناہ مراد ہیں جن کے وہ لوگ مرتکب ہوئے ہیں کیونکہ ان ” ذنب “ کا نتیجہ یہ بات واضح کر رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اندھیر تو نہیں ہے کسی نے ایک گناہ نہ کیا ہو اور اللہ اس کی سزا دے دے۔ ہاں لوگوں کی طرف سے کوئی سزا ہوتی تو ممکن تھا۔ یہاں الفاظ خود اس کی وضاحت کر رہے ہیں کہ وہ لوگ ان گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں اور بار بار ہوئے ہیں اروان کو کافی مدت تک ڈھیل دی جاتی رہی ہے لیکن انجام کار جب وہ ان گناہوں سے باز نہیں ہوئے بلکہ روز افزوں ترقی ہی کرتے گئے تو آخر کار قانون الٰہی کے مطابق اپنے وقت پر اللہ نے ان پر گرفت کرلی اور اللہ کی گرفت جب آتی ہے تو کوئی اس کو نہ تو روک سکتا ہے اور نہ ہی ٹال سکتا ہے مگر وہ خود ہی۔
Ayah 3:12مخالفین کو للکارا جارہا ہے کہ اپنا پورا زور لگا لو :
30: كها جاتا ہے کہ ” جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے “ للکارتا کون ہے ؟ جس میں پوری طاقت و قوت ہوتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ “ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں “ اس جگہ اعلان اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا جارہا ہے اور حکم الٰہی ہو رہا ہے کہ ان کفر کی روش اختیار کرنے والوں کو بتاؤ کہ خوب کان کھول کر سن لو کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم مغلوب کردیے جاؤ گے اور تمہارا یہ زور اس طرح بیٹھ جائے گا جس طرح پانی کا جھاگ کہ پانی کا زور ختم ہوا اور جھاگ کا نشان تک باقی نہ رہا ، گویا اس طرح ان پر یہ بات واضح کی جاتی رہی ہے کہ اس دنیا میں بھی تمہارا زور اب زیادہ دنوں تک نہیں چلے گا اور یہ بات تمہیں اس وقت بتائی جا رہی ہے جب تم کو اپنے زوال کا خیال تک بھی نہیں تاکہ اگر سنبھلنا چاہو تو سنبھل جاؤ اور وقت ہے توبہ کرلو اگر نہیں تو دنیا کی جن چیزوں پر تم کو انحصار ہے ان کو اور جمع کرلو تاکہ کل تم کو پچھتاوا نہ رہے کہ ہم سے سستی ہو گئی اور ہم یہ نہ کرسکے نہیں تم خوب چوکس ہوجاؤ اور کان کھول کر سن لو کہ تمہاری ڈھیل کے دن اب گنے جا چکے ہیں۔ سبحان اللہ ! کیا معجزہ قرآنی ہے کہ مخالفین کے ساتھ کوئی داؤ اور فریب نہیں لگایا جارہا بلکہ ان کو بطور نصیحت آگاہ کیا جارہا ہے اس پروگرام سے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں طے ہوچکا ہے۔ دنیا کی رسوائی کے ساتھ آخرت کے انجام سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے :
31: دوہرے مجرموں کو دوہری سزا سنائی جارہی ہے لیکن اس وقت جب مجرم ابھی بپھرے ہوئے ہیں اور جرم پر مصر ہیں۔ اسی حالت میں ان کے کانوں تک صدا پہنچائی جارہی ہے کہ ” تحشرون “ کہ تمہاری جماعت کو اکٹھا کرکے تمہاری جائے قرار سے نکال کر اور تم کو بےآرام کر کے ایک بار میدان جنگ کی طرف ہانک کرلے جایا جائے گا اور پھر تمہاری دوسری سزا کے لیے جہنم کے دروازوں تک بھی اسی حالت میں جانا ہوگا جس طرح دنیوی ذلت تمہارا مقدر بن چکی ہے اسی طرح تمہاری آخرت بھی تمہارے لیے پھانسی کے پھندے سے کم نہیں ہوگی اور وہ حالت اتنی بری ہے کہ اس حالت سے تو نکلنے کی صورت کم از کم یہ ہوئی کہ موت آگئی خواہ میدان جنگ میں ذلت ہی کی موت سہی لیکن وہاں کی رسوائی تو ایسی رسوائی ہے کہ اس سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں اس لیے کہ وہاں تو موت کا کوئی تصور ہی نہیں۔