Ayah 3:181یہودیت اور منافقت کا جوڑ :
آیت 116 تک اہل کتاب کا حال چلا آ رہا تھا خصوصاً یہود کا پھر آیت 117 سے منافقین کا بیان شروع ہوگیا جو آیت 180 تک چلتا رہا اور اب آیت 181 سے پھر موضوع اہل کتاب کی طرف منتقل ہورہا ہے اور خصوصاً یہود کی طرف گویا یہودیت سے منافقت کو گھیرے میں لے رکھا ہے یا منافقت یہودیت کی لپیٹ میں ہے اور اس کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہودیت اور منافقت کا مزاج ملتا جلتا ہے۔
جن لوگوں نے اللہ کے فقیر ہونے کی پھبتی کسی ہے ان کی بات اللہ نے سن لی ہے :
329: منافقین کے جس گروہ کا ذکر پیچھے ہو رہا تھا بڑے حامی اور جنگ احد کے بعد مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن جو بالکل منافقوں کی طرح اندرونی دشمن ہی تھے کیونکہ بظاہر مسلمانوں سے معاہدہ بھی کر رکھا تھا ، یہودی تھے۔ یہاں ان ہی کا ذکر شروع ہو رہا ہے جیسا کہ قتل انبیاء کے جملہ نے صاف وضاحت کردی ہے۔ نظام اسلام میں زکوٰۃ کا قائم کرنا ، صدقات میں ترغیب دینا اور خصوصاً جنگوں کے لئے مالی قربانیوں پر زور دینا معاشرہ اسلامی کا ایک اہم جز تھا اور ہے باوجود اس کے کہ مسلمان اس وقت ابھی حالت غربت میں تھے اور مال اور فراوانی نہیں تھی۔ ادھر یہود ہمیشہ سے بوجہ اپنی سود خواری اور بخل کے ایک مال دار قوم تھی۔ اس لئے یہ لوگ اسلام کی ان باتوں پر استہزاء کرتے رہتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیبات پر انہوں نے یہ پھبتی کسی کہ اب اللہ فقیر ہوگیا ہے اور ہم غنی ہیں اس لئے اللہ کی غربت کو دور کرنے کے لئے اب مسلمان چندہ کی اپیلیں کر رہے ہیں فرمایا ” بلاشبہ اللہ نے ان لوگوں کا کہنا سن لیا ہے جنہوں نے یہ بات کہی کہ اللہ محتاج ہے اور ہم دولت مند ہیں۔ “ انہوں نے اس طرح کا استہزاء کیوں کیا اور کیسے کیا ؟ بعض لوگوں اور قوموں کی خصوصیت ہے کہ وہ لفظوں کے پھیر میں الجھے رہتے ہیں اور حقیقت ، لب لباب اور راز کی طرف نہیں آتے ایسا پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے یہودیوں کی یہ قومی خصوصیت ہے اور انہوں نے اسی طرح کی بیسیوں باتیں بنائی ہیں جن کا قرآن کریں نے ذکر کیا ہے جیسے ” رَاعِنَا “ کے لفظ کو زبان کے پیچ کے ساتھ پڑھنا جس سے اس کا اصلی مفہوم بدل جائے یعنی ” رَاعِنَا “ کو رَائِی نَا کہنا کہ ” اے ہمارا چرواہے “۔ السلام علیکم کو سام علیکم کہنا کہ ” تم پر موت آئے “ محمد ﷺ کو مزمم کہنا کہ ” مزمت کیا گیا۔ “
اس جگہ ان کو یہ استہزاء اس لئے سوجھا کہ قرآن کریم میں جگہ جگہ فی سبیل اللہ خرچ کرنے کو ” یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا “ یعنی اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دو سے بیان کیا ہے اور یہ الفاظ اپنے اندر کیا پوشیدہ راز رکھتے ہیں ؟ اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انہوں نے اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ 1ۘکے الفاظ کہہ کر گویا اللہ اور اس کے رسول پر پھبتی کسی۔ قَرْضًا حَسَنًا ، اصطلاح قرآنی میں کیوں لایا گیا ؟ اس کی تفصیل کے لیے عروۃ الوثقیٰ جلد اول بقرہ 2 : 245 ، حاشیہ 411 ص 831 ملاحظہ کریں۔ اس جگہ ان آیات کی فہرست ملاحظہ کریں ، جہاں یہ اصطلاح استعمال کی گئی۔
ارشاداتِ الٰہی سے متعلق : قَرْضًا حَسَنًا ، اصطلاح قرآنی۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے :
مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا کَثِیْرَةً 1ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ 1۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ 00245
(البقرہ 2 : 245)
” کون ہے جو اللہ کو خوشدلی کے ساتھ قرض [ 2 ] دیتا ہے تاکہ اللہ اس کا دیا ہوا (قیامت کے روز) دوگنا ، سہ گنا کر کے ادا کرے ، اور (رزق کی) تنگی اور کشائش کا رشتہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے (کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں) اور اسی کے حضور تم سب کو لوٹنا ہے۔ “
اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ 1ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ0017 (التغابن 64 : 17)
” اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو گے تو وہ اس کو تمہارے لیے بڑھاتا جائے گا اور تمہاری کوتاہیاں بھی معاف کر دے گا اور اللہ بڑا قدردان ، بڑا تحمل والا ہے ۔ “
مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ کَرِیْمٌۚ0011 (الحدید 57 : 11)
” کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے تو اللہ اس کو اس سے دوگنا دے اور اس کے لیے بڑا ہی عزت والا صلہ ہے۔ “
اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ کَرِیْمٌ 0018 (الحدید 57 : 18)
” بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ جو اللہ کو نیک قرض دیتے ہیں ان کو دوگنا (اَجر) دیا جائے گا اور ان کے لیے بڑا ہی باعزت اجر ہے۔ “
وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا 1ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ ......
(المزمل 73 : 20)
” اور نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ کو اخلاص کے ساتھ قرض دیا کرو اور تم جو بھی نیک عمل اپنے لیے پہلے بھیجو گے اسے تم اللہ کے ہاں بہتر اور اجر کے لحاظ سے بڑھا ہوا پاؤ گے ۔۔۔۔۔۔ “
اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ (المائدہ 5 : 12)
” میرے تمام رسولوں پر ایمان لائے اور ان کی مدد کی اور اللہ کو قرض نیک دیتے رہے (یعنی اللہ کی رضا کے لیے فی سبیل اللہ مال خرچ کیا) تو میں ضرور تم پر سے تمہاری برائیاں محو کر دوں گا ۔
اسی طرح انفاق فی سبیل اللہ کے لیے دوسرے الفاظ میں بھی ترغیب دی گئی تاکہ لوگ خوشدلی اور اپنی مرضی اور جذبہ اسلامی کے ساتھ خرچ کرتے رہیں کیونکہ قانون کے ڈنڈے سے لیا ہوا دینے والے کے لیے اس اجر کا باعث نہیں ہو سکتا جس اجر کا باعث اپنی مرضی سے دیا ہوا ہوتا ہے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ 1ؕ (البقرہ 2 : 272) ” جو کچھ بھی تم خیرات کرو گے تو خود اپنے ہی فائدہ کے لیے کرو گے۔ “
وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ (ایضاً ) ” جو کچھ بھی تم خیرات کرو گے تو اس کا بدلہ پوری طرح تم کو مل جائے گا۔ “
فرمایا : اللہ کی راہ میں خرچ کرنا عبادت ہے اور عبادت کا فائدہ عابد ہی کو ہوتا ہے اس میں تمہاری زندگی کو عبادت بنانے کی تعلیم اس لیے ہے کہ تم اللہ کے ہاں سے روزی اور اس کی عنایات کے مستحق بنو۔ اللہ اس تمہارے دیئے ہوئے کو خود نہیں کھاتا اور نہ ہی وہ کھانے کا محتاج ہے ، یہ جو کچھ ہے وہ تمہارے ہی فائدے کے لیے ہے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ 0057 (الذاریات 51 : 57)
” میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں پلائیں۔ “
ایک جگہ فرمایا :
وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْـَٔلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ 0036 (محمد 47 : 36)
” دُنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور بچتے رہو تو وہ تم کو تمہارا اجر دے گا اور تمہارے مال طلب نہ کرے گا۔ “
یعنی وہ غنی ہے اسے اپنی ذات کے لیے تم سے لینے کی کچھ ضرورت نہیں ہے ، اگر وہ اپنی راہ میں تم سے کچھ خرچ کرنے کے لیے کہتا ہے تو وہ اپنے لیے نہیں بلکہ تمہاری ہی بھلائی کے لیے کہتا ہے۔
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ 1ۚ وَ اللّٰهُ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ 0015 (فاطر 35 : 15)
” اے لوگو ! تم ہی اللہ کے محتاج ہو اور اللہ ہی بےنیاز سزاوار حمد (وثنا) ہے۔ “
یہود کی یہ بات کہ اللہ فقیر اور ہم غنی ہیں لکھ لی گئی ہے ، یہ خود اس کا جواب دیں گے :
330: جس وقت ان لوگوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کے اس پیغام کو استہزاء کا نشانہ بنایا تھا اس وقت یہ مذاق اڑانے والے اپنے قلعوں میں رہتے اور اپنے باغوں میں عیش و عشرت کی زندگی گزارتے تھے اور مہاجن بن کر مسلمانوں اور دوسرے غریب طبقوں کا خون چوس رہے تھے۔ ان کا اصل کاروبار سود اور سود دَر سود کا تھا۔ لیکن ان کے اس طرح کے مذاق کو محفوظ کرلیا گیا تھا۔ تاکہ وقت آنے پر یہ خود اس کا جواب ہوجائیں ۔ چناچہ ارشاد الٰہی یہ ہوا کہ : ” عنقریب جو بات انہوں نے کہی ہے ہم ان ہی کے لیے لکھ دیں گے “۔ انہوں نے کہا تھا : ” اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں “ ارشاد ہوا کہ یہ بات ہم ان کے لیے لکھ دیں گے۔ کیا ؟ ان کو جلدی معلوم ہوجائے گا کہ اللہ غنی ہے اور وہ خود فقیر ہیں۔ ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ دنیا نے دیکھ لیا اور وہ خود بھی سمجھ گئے کہ جو بات اللہ نے کہی تھی وہ حرف بہ حرف پوری ہوگئی۔
نَحْنُ اَغْنِیَآءُ 1ۘ ، کہنے والوں کو اس دنیا ہی میں عذاب الحریق کا ایک جھونکا پہنچا دیا اور ان کا غنا حالت فقر میں تبدیل ہوگیا اور ان کو اپنے املاک وغیرہ چھوڑ کر ملک بدر ہونا پڑا اور جن کو وہ فقیر کہتے تھے اللہ نے ان کو اپنے فضل سے مالامال کردیا اور بےحساب رزق دے دیا ، جہاں سے ان کو اتنا رزق ملنے کی کبھی توقع نہ تھی۔
نبی اعظم و آخر ﷺ تو رحمۃ للعالمین تھے۔ آپ ﷺ نے بنی نضیر کے اخراج کا حکم کیوں دیا ؟ اس جگہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے تاکہ اس معاملہ میں ذہن صاف ہوجائے۔ نبی کریم ﷺ سے بنی نضیر کا باقاعدہ تحریری معاہدہ تھا اور اس معاہدے کو انہوں نے رد نہیں کیا تھا کہ معاہدہ ختم ہوجاتا لیکن جس وجہ سے ان پر چڑھائی کی گئی تھی وہ یہ تھی کہ انہوں نے بہت سی چھوٹی بڑی خلاف ورزیاں کرنے کے بعد آخرکار ایک صریح فعل ایسا کیا تھا جو نقص عہد کا ہم معنی تھا۔ وہ یہ کہ انہوں نے دوسرے فریق معاہدہ یعنی مدینہ کی اسلامی ریاست کے صدر کو قتل کرنے کی سازش کی تھی اور وہ کچھ اس طرح کھل گئی تھی کہ جب ان کو نقض معاہدہ کا الزام دیا گیا تو وہ اس کا انکار نہ کرسکے اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کو دس دن کا نوٹس دے دیا کہ اس مدت میں مدینہ چھوڑ کر نکل جاؤ ورنہ تمہارے خلاف جنگ کی جائے گی۔ یہ نوٹس قرآن کریم کے اس حکم کے ٹھیک مطابق تھا کہ : ” اگر تم کو کسی قوم سے خیانت و بدعہدی کا اندیشہ ہوا تو اس کے معاہدہ کو اعلانیہ اس کے آگے پھینک دو “ (الانفال 8 : 58) اس لیے ان کے اخراج کو اللہ تعالیٰ نے اپنا فعل قرار دیا جیسا کہ سورة الحشر کی آیت 2 سے و اضح ہے ، کیونکہ یہ ٹھیک قانون الٰہی کے مطابق تھا ، گویا ان کو رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں نے نہیں بلکہ اللہ نے نکالا۔
خیال رہے کہ بنو نضیر صدیوں سے یہاں جمے ہوئے تھے ، مدینہ کے باہر ان کی پوری آبادی یکجا تھی جس میں ان کے اپنے قبیلے کے سوا کوئی دوسرا عنصر موجود نہ تھا۔ انہوں نے پوری بستی کو قلعہ بند کر رکھا تھا اور ان کے مکانات گڑھیوں کی شکل میں بنے ہوئے تھے۔ جس طرح عموماً قبائلی علاقوں میں جہاں ہر طرح بدامنی پھیلی ہوئی ہو بنائے جاتے ہیں۔ پھر ان کی تعداد بھی اس وقت کے مسلمانوں سے کچ ھ کم نہ تھی اور خود مدینے کے بہت سے منافقین ان کی پشت پر تھے۔ اس لیے مسلمانوں کو ہرگز یہ توقع نہ تھی کہ یہ لوگ لڑے بغیر صرف محاصرے ہی سے بدحواس ہو کر یوں اپنی جگہ چھوڑ دیں گے۔ اس طرح خود بنی نضیر کے بھی وہم و گمان میں یہ بات نہ تھی کہ کوئی طاقت ان سے چھ دن کے اندر یہ جگہ چھڑا لے گی۔ اگرچہ بنی قینقاع ان سے پہلے نکالے جا چکے تھے اور اپنی شجاعت پر ان کا سارا زعم دھرے کا دھرا رہ گیا تھا۔ لیکن وہ مدینہ کے ایک محلہ میں آباد تھے اور ان کی اپنی کوئی قلعہ بند بستی نہ تھی۔ اس لیے بنو نضیر یہ سمجھتے تھے کہ ان کا مسلمانوں کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکنا بعید از قیاس نہ تھا۔ بخلاف اس کے وہ اپنی محفوظ بستی اور اپنی مضبوط گڑھیوں کو دیکھ کر یہ خیال بھی نہ کرسکتے تھے کہ کوئی انہیں یہاں سے نکال سکتا ہے۔ اس لیے جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو دس دن کے اندر مدینہ سے نکل جانے کا نوٹس دیا تو انہوں نے بڑے دھڑلے کے ساتھ کہہ دیا کہ ہم نہیں نکلیں گے ، آپ سے جو کچھ ہو سکتا ہے کر لیجیے۔
بنی نضیر بظاہر اپنے قلعوں کا استحکام دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے حملے سے بچ جائیں گے مگر حقیقت یہ تھی کہ ان کا مقابلہ اللہ سے تھا اور اس سے ان کے قلعے نہ بچ سکتے تھے لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہودی اس دنیا میں ایک ایسی عجیب قوم ہے جو جانتے بوجھتے اللہ کا مقابلہ کرتی رہی ہے۔ اللہ کے رسولوں کو جانتے ہوئے اس نے قتل کیا۔ اس قوم کی روایات یہ ہیں کہ ان کے مورث اعلیٰ حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کی رات بھر کشتی ہوتی رہی اور صبح تک لڑ کر بھی اللہ تعالیٰ ان کو نہ پچھاڑ سکا پھر جب صبح ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا اب مجھے جانے دے تو انہوں نے کہا کہ میں تجھے نہ جانے دوں گا ، جب تک تو مجھے برکت نہ دے۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا : تیرا نام کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : یعقوب۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : ” آئندہ تیرا نام یعقوب نہیں بلکہ اسرائیل ہوگا کیونکہ تو نے خدا اور آدمیوں کے ساتھ زور آزمائی کی اور غالب ہوا۔ “
(ملاحظہ ہو یہودیوں کی جدید ترجمہ کتب مقدسہ (The Holly Scriptures) شائع کردہ جیوش پبلیکیشنز سوسائٹی آف امریکہ 1954 ء کتاب پیدائش باب 32 آیات 25 ، 29)
پھر بائبل کی کتاب ” ہیوسیع “ میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے کہ : ” وہ انی توانائی کے ایّام میں خدا سے کشتی لڑا۔ وہ فرشتے سے کشتی لڑا اور غالب آیا۔ “ (باب 12 آیت 4) اب ظاہر ہے کہ یہ بنی اسرائیل جو مدینہ کے قریب بستے تھے وہ ان ہی کے صاحبزادے ہی تھے ، جنہوں نے اپنے عقیدے کے مطابق خدا سے زور آزمائی کی تھی اور اس سے کشتی لڑ کر خدا کو پچھاڑ دیا تھا۔ انہوں نے خود اپنے اعتراف کے مطابق خدا کے نبیوں کو قتل کیا اور اس بنا پر انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے زعم کے مطابق صلیب پر چڑھایا اور خم ٹھونک کر کہا : ” ہم نے مسیح بن مریم رسول اللہ کو قتل کیا۔ “ لہٰذا یہ بات ان کی روایات کے خلاف نہ تھی کہ انہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول جانتے ہوئے ان کے خلاف جنگ کی لیکن اس کا نتیجہ کیا رہا کہ جب ان کی بستی کا محاصرہ کیا گیا اور بستی کے اطراف میں کھجوروں کے باغ تھے وہ کاٹ دیئے گئے ، انہوں نے خوب شور مچایا اور ظلم ظلم کے نعرے بلند کیے اور اپنے کیے ہوئے مظالم کو چھپانے کے لیے ہر طرح کا شور و غوغا کیا لیکن انجام کار ان کو اپنی بستی خالی کر کے اس جگہ سے نکل جانا پڑا اور اسی میں انہوں نے عافیت سمجھی اور اپنے ظلم کا بدلہ دنیا ہی میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ جس نبی اعظم و آخر ﷺ کو قتل کرنے کی انہوں نے سازش کی تھی اس کا خمیازہ بھگت کر یہاں سے نکل گئے اور اس طرح انہوں نے اپنے فقیر ہونے کو مانا یا نہیں ؟ اس واقعہ کی پوری تفصیل ان شاء اللہ سورة الحشر ہی میں آئے گی کیونکہ وہی مقام اس کی تفصیل کا ہے۔
جو لوگ انبیائے کرام (علیہ السلام) کے قتل سے باز نہ رہے ان کو نبی سے استہزاء میں کیسے شرم آتی :
331: یہ مثل مشہور عام ہے کہ جو ماں کا نہیں وہ خالہ کا کیسے ہوگا ؟ جن لوگوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو قتل کرنے کیں جھجک محسوس نہ کی ان کو محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ استہزاء و مذاق سے کون باز رکھ سکتا تھا ؟ ہاں ! ایک مثل یہ بھی ہے کہ ” سو سنار کی اور ایک لوہار کی “ اور یہ بھی ہے کہ ” سو دن چور کا اور ایک شاہ کا “ بلاشبہ انہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو قتل کیا اور دکھ دیئے اور ایذا پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن اس وقت وہ اس نبی ﷺ کے ساتھ مذاق کے مرتکب ہوئے تھے جس پر اللہ تعالیٰ نے نبوت کا دروازہ بند کردیا تھا لہٰذا اس مذاق و استہزاء کی سزا بھی لازم تھی ، جو دی گئی اور ایسی دی گئی کہ وہ رہتی دنیا تک یاد رکھیں گے کہ وہ کس کی درگاہ سے راندے گئے ہیں۔ ہاں ! یہاں یہ بات قابل نظر ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کے مخاطب تو یہود مدینہ ہیں اور قتل انبیاء کے مرتکب صدیوں سے پہلے گزر چکے تھے کیونکہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تو کوئی نبی آیا ہی نہ تھا۔ بلاشبہ سیدنا زکریا اور سیدنا یحییٰ (علیہما السلام) کو یہودیوں نے قتل کیا تھا لیکن وہ قاتل اب تک کہاں موجود تھے ؟ پھر ان مخاطبین کی طرف قتل انبیا (علیہ السلام) کا جرم کیسے منسوب کیا گیا ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہود مدینہ اپنے سابق یہودیوں کے اس فعل پر راضی تھے اور خوش تھے کہ ان کے بڑوں نے یہ ” کارہائے نمایاں “ انجام دیئے اس لیے یہ بھی اس حکم میں شمار کیے گئے۔
یہ بات بالکل واضح ہے کہ کفر پر راضی ہونا بھی کفر اور معصیت میں داخل ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جب زمین پر کوئی گناہ کیا جاتا ہے تو جو شخص وہاں مو وجد ہو مگر اس گناہ کی مخالفت کرے اور اس کو برا سمجھے تو وہ ایسا ہے گویا یہاں موجود نہیں یعنی وہ اس کا شریک نہیں اور جو شخص اگرچہ اس مجلس میں موجود نہیں مگر ان کے اس فعل سے راضی ہے وہ باوجود غائب ہونے کے ان کا شریک گناہ سمجھا جائے گا۔ پھر قرآن کریم میں جگہ جگہ ان کے بزرگوں کی بداعتدالیوں کا ذکر موجود ہے کبھی کسی یہودی نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے یا آپ ﷺ کے وقت میں یہ سوال نہ اٹھایا کہ یہ کام ہمارے آباء و اجداد یا ہمارے فکر کے لوگوں نے کیے تھے ہم تو ان کے مرتکب نہیں ہوئے یا ہم ان کاموں کو اچھا نہیں سمجھتے جو انہوں نے کیے تھے۔ جب کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی تو یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ان کے کاموں کو برا خیال نہیں کرتے تھے پھر وہ خود وہی کام کرتے تھے جو ان کے و ڈیرے کرتے رہے۔ وہ جس جرم میں مدینہ سے نکالے گئے تھے وہ بھی تو یہی تھا کہ انہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کے قتل کردینے کی سازش کی تھی جو موقع پر پکڑی گئی اور اسی جرم کی پاداش میں ان کو مدینہ بدر ہونا پڑا۔ چناچہ اس جگہ ارشاد فرمایا کہ : ” اور ان کا نبیوں کو قتل کرنا بھی لکھا جا چکا ہے اور وہ وقت آنے و الا ہے کہ ہم کہیں کہ اب پاداش عمل میں عذاب جہنم کا مزہ چکھو۔ “ اور قرآن کریم میں جگہ جگہ ان کی دیدہ دلیری کو بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے :
فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ کُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ۠ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ 1ؕ (النساء 4 : 155)
” پس ان کے عہد توڑنے کی وجہ سے اور اللہ کی آیتیں جھٹلانے کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے ، نیز اس شقاوت کی وجہ سے کہ انہوں نے کہا کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔ “
اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ 1ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ (آل عمران 3 : 21)
” جو لوگ اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں اور اس کے نبیوں کے ناحق قتل میں چھوٹ ہیں ، نیز ان لوگوں کو قتل کرتے ہیں جو حق و عدالت کا حکم دینے والے ہیں۔ “
كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَبِغَیْرِ حَقٍّ 1ؕ (آل عمران 3 : 112)
” وہ اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور نبیوں کے ناحق قتل میں بےباک تھے۔ “
كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ 1ؕ (البقرہ 2 : 61)
” وہ اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور انبیاء کے ناحق قتل میں بےباک و چھوٹ تھے۔ “
یاد رہے کہ سب قوموں میں جو قومی بیماریاں ہوتی ہیں ان میں ہر دور کے لوگ برابر کے شریک ہوتے ہیں ، اس لیے کہ وہ ان بیماریوں کو بیماریاں نہیں بلکہ قومی فخر اور قومی امتیازات مانتے ہیں اگر یہ بیماریاں ان سے دور کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ ممنون نہیں ہوتے بلکہ درپے آزار ہوجاتے ہیں۔ ہاں ! دَور بدلنے کے ساتھ ساتھ یہ بیماریوں خود بخود بدلتی رہیں ، یہ دوسری بات ہے لیکن ایسی قومی بیماریاں جب بدلتی ہیں تو اپنی جگہ پہلے سے بھی بری بیماریاں چھوڑ جاتی ہیں ، بالکل ختم نہیں ہوتیں۔ آج قوم مسلم خود اپنا تجزیہ کر کے دیکھے تو اس کا بھی یہی حال ہے کہ صدر اوّل کے بعد جب ہم کسی بیماری میں مبتلا ہوئے تو وہ بیماریاں ہم میں بڑھتی چلی گئیں ، نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں بیماریوں نے ہم کو مختلف مذہبی ، گروہوں اور سیاسی پارٹیوں میں تقسیم کردیا اور جس کو جو بیماری لگی وہ روز بروز پختہ ہوتی گئی اگر کوئی بیماری گئی تو اس سے بھی بدتر آئی جس کے نتیجہ میں اختلاف ، افتراق مزید بڑھتا گیا اور جو حال ہمارا ہے وہ سب پر روشن ہے۔
Ayah 3:182ان کو اپنے کئے کی اور تم کو اپنے کئے کی سزا بھگتنا ہوگی ، اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا :
332: قرآن کریم کے الفاظ بالکل صاف صاف بتا رہے ہیں کہ یہود کو جس سزا دیئے جانے کا ذکر ہے وہ ان کے اپنے کئے کے نتیجہ میں ہے نہ کہ ان کے پہلوں کے کئے ہوئے گناہوں کی پاداش میں اور اس میں ذلک بما قدمت ایدیکم کے الفاظ اس بات کو پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ تم جو کچھ اپنے ہاتھوں اپنے لئے مہیا کرچکے ہو یہ اس کا نتیجہ ہے پھر جو کچھ انہوں نے کیا تھا اس کی پوری تفصیل تفسیر ، سیرۃ ، تاریخ اور احادیث کی کتابوں میں موجود ہے اور پیچھے تفصیل سے پڑھ چکے ہیں کہ یہود نے رسول اللہ ﷺ سے معاہدے کر کے ان معاہدوں کا کیا اور ایک بدعہدی نہیں کی بلکہ باربار بد عہدیاں کیں عہد کرنا اور اس سے پھرنا ان کا معمول زندگی تھا اور پھر ان ساری چیزوں سے بڑھ کر جو رسول اللہ ﷺ کے قتل کی سازش انہوں نے کی تھی کیا یہ سب کچھ انہوں نے خود نہیں کیا تھا ؟ ہاں یہ سب کچھ انہوں نے اپنے ہاتھوں سر انجام دیا اور بڑی ترکیب اور ترتیب سے سر انجام دیا لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین نے ” ایدیکم “ سے مراد وہ اشخاص اور نفوس لئے جو قتل انبیاء کے مرتکب ہوئے تھے اور یہ لکھا کہ ” ید “ کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ اکثر حسی افعال ہاتھوں ہی سے ہوتے ہیں۔ اس لئے پہلے انسانوں کو جنہوں نے صحیح معنوں میں انبیاء کرام کو قتل کیا تھا۔ ان یہود کے ہاتھ قرار دیا گیا اور کون پوچھے کہ آخر اس طرح کی توجیہات اور دور از کار بحثوں کی ضرورت ؟ پھر یہ کہ پیچھے آنے والے پہلوں کے ہاتھ قرار دیئے جاسکتے ہیں پہلے ہونے والے پچھلوں کے ہاتھ کس طرح ہوگئے ؟ تعجب ہے کہ کچھ لوگوں نے کیا کیا مغز ماریاں کیں اور کیوں کیں ؟ اس سے رسول اللہ ﷺ کی امت کو کیا فائدہ ہوا ؟
ارشاد الٰہی ہے کہ ” اللہ کے لیے تو یہ بات کبھی نہیں ہو دسکتی کہ اپنے بندوں کے لئے ظلم کرنے والا ہو۔ “ اللہ ظالم نہیں اور نفی ظلم کے لئے عدل لازم ہے اور عدل کا تقاضا ہے کہ نیک کو ثواب اور بد کو عذاب دیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ظالم نہ ہونے کا تقاجا ہے کہ کافروں کو عذاب دیا جئھ۔ پھر اس پر بحث چھیڑ دی کہ یہ مفہوم مسلک اشاعرہ کے خلاف ہے کیونکہ یہ معتزلہ کا مسلک ہے۔ معتزکہتے ہیں کہ ظلم کی نفی اللہ کی ذات کو مستلزم ہے اور عدل کے لئے لازم ہے کہ نیک کو ثواب اور گنہگار کو عذاب دیا جائے۔ پس فرمانبردار کو ثابت اور نافرمان کو عذاب دینا اللہ پر لازم قرار پادیا اور یہ شاعرہ کے مسلک کے خالف ہے کیونکہ وہ اللہ پر کسی چیز کو لازم قرار نہیں دیتے اور اس طرح بیان کرنے سے ظلم نہ کرنا لازم آتا ہے۔
پھر اس بحث کو اتنا طول دیا کہ صفحات کے صفحات تحریر کئے گئے اور انجام کار یہ ثابت کیا کہ ” اس جگہ لفظ ظلم حقیقی معنوں میں نہیں بلکہ نفی ظلم سے مراد یہ ہے کہ جو فعل بندوں کے باہمی معاملات میں ظلم کہلاتا ہے اگرچہ اللہ سے اس کا صدور ظلم نہیں۔ “ اور دوسرا مطلب اس کا بیان کیا گیا ہے کہ ” آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ کافر عذاب کے اتنے مستحق ہیں کہ اگر اللہ ان کو عذاب نہ دے تو ان پر ظلم اور ان کی حق تلفی ہوگی پس گویا اس طرز کلام سے کافروں پر عذاب ہونے کو موکد طور پر ظاہر کردیا۔ “
اس طرح کی سر دردیاں پڑھ کر فی الواقع درد سر شروع ہوجاتا ہے اور پھر بھی جب کچھ سمجھ میں نہیں آتا تو دوست کہتے ہیں کہ ہاں ! حقیقت تسلیم کرلو کہ سمجھ کر پڑھنا گناہ عظیم ہے اور جو سمجھ میں نہیں آتا اس پر اجر عظیم ہے۔
زیرِ نظر آیت میں ارشاد الٰہی ہے کہ ” ان اللہ لیس بظلام للعبید “ اور ظلام مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں بہت ظلم کرنے والا۔ یعنی ” اللہ بہت ظلم کرنے والا نہیں “ اور تھوڑا سا ظلم ۔۔۔ ؟ جواب غور سے سن لو کہ قرآن کریم نے کئی دفعہ یہ جملہ بیان کیا ہے کہ ” لا یظلمون فتیلاً “ (النساء : 50:4) ” ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔ “ پھر اس طرح بھی ارشاد فرمایا کہ ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ (النساء : 40:4) ” اللہ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ “ اس لئے مجھے کہہ لینے دو کہ ” اللہ اپنے بندوں کے لئے مطلق ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ “ ہاں ! لوگ جو کرتے ہیں خود اپنے ہاتھوں کرتے ہیں اور اللہ نے اپنے قانون کے مطابق عمل کے ساتھ نتیجہ لازم کردیا ہے جو کبھی خطا نہیں کرتا۔
Ayah 3:183بےدلیل باتیں بنانے والوں کے جو منہ میں آئے وہ بےدھڑک کہہ دیتے ہیں :
333 : مدینے کے علمائے یہود جب دعوت اسلام کے خلاف تمام دلیلوں میں ہار چکے تو آخر ڈھونڈ ڈھانڈ کر یہ بات نکالی کہ ہمیں تورات میں سو ختنی قربانی کا حکم دیا گیا ہے اس لئے ہم اس نبی کو سچا مانیں گے جو سو ختنی قربانی کے عمل کے ساتھ آیا ہو اور یہ بات بالکل ان کی بناوٹی تھی تورات میں بلاشبہ سو ختنی قربانی کا ذکر ہے لیکن اس طرح نہیں جس طرح ان لوگوں نے بیان کیا ہے تورات آج بھی موجود ہے اور اس میں ایسا کوئی حکم موجود نہیں۔ توراۃ میں جو کچھ ہے اس میں سو ختنی قربانی سے مقصود یہ ہے کہ یہودی جانوروں کی قربانی کر کے ان کے کچھ حصے آگ میں جلایا کرتے تھے۔ اور یہ ان کے کاہنوں کے ذمہ تھا کہ وہ جو کچھ جلانے کے قابل ہے جلا دیں اور باقی اپنے گھر لے جائیں۔ اور یہ ان کے پیٹ کے دھندا تھا جو انہوں نے کتاب اللہ میں داخل کردیا۔ اس بات کا اس سے کوئی تعلق نہیں جو انہوں نے نبی کریم سے بیان کی۔
کتاب سلاطین۔ میں جس قربانی سو ختنی کا ذکر ہے اس میں یہ بات مطلق نہیں ہے کہ اللہ نے کہیں کسی نبی کی نبوت کے لئے یا ہر آنے والے نبی کی نبوت کے لئے یہ معیار مقرر کیا ہے۔ حاشا اللہ کہ یہ بات کہیں موجود ہو۔ احبار میں جو بیان ہے وہ اتنا لمبا ہے کہ احبار باب اول سے شروع ہو کر 14 , 13 باب تک چلا گیا ہے۔ لیکن جو بات اوپر مذکور ہوئی وہ کہیں دستیاب نہیں ۔ احبار میں جو کچھ ہے وہ اس طرح سے ہے۔
” اگر اس کا چڑھاوا گائے بیل کی سو ختنی قربانی ہو تو وہ بےعیب نرکولا کر اسے خیمہ اجتماع کے دروازہ پر چڑھائے تاکہ وہ خود خداوند کے حضور مقبول ٹھہرے اور وہ ختنی قربانی کے جانور کے سر پر اپنے ہاتھ رکھے تب وہ اس کی طرف سے مقبول ہوگا تاکہ اس کے لئے کفار ہو اور وہ اس بچھڑے کو خداوند کے حضور ذبح کرے اور ہارون کے بیٹے جو کاہن ہیں خون کو لا کر اس مذبح پر گردا گرد چھڑکیں جو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر ہے تب وہ اس سو ختنی قربانی کے جانور کی کھال کھینچے اور اس کے عضو عضو کو کاٹ کر جدا جدا کرے۔ پھر ہارون کاہن کے بیٹے مذبح پر آگ رکھیں اور آگ پر لکڑیاں ترتیب سے چن دیں اور ہارون کے بیٹھے جو کاہن ہیں اس کے اعضا کو اور سر اور پانی سے دھو لے تب کاہن سب کو ذبح پر جلائے گا وہ سو ختنی قربانی یعنی خداوند کے لئے راحت انگیز خوشبو کی آتشیں قربانی ہو۔ “ (احبار باب اول : 9 , 3)
بیل کے بعد بیڑت بکری کی سو ختنی قربانی کا ذکر ہے۔ پھر پرندوں کی سو ختنی قربانی کا ذکر ہے پھر باقی کا ذکر ہے پھر باقی چیزوں کی سو ختنی قربانی کا ذکر ہے پھر نذر کی قربانی کا ذکر ہے اور اس میں اتنا مزید ہے کہ :
” اور کاہن اس نذر کی قربانی میں سے اس کی یادگاری کا حصہ اٹھا کر مذبح پر جلائے یہ خداوند کے لئے راحت انگیز خوشبو کی آتشیں قربانی ہوگی اور جو کچھ اس نذر کی قربانی سے بچ رہے وہ ہارون اور اس کے بیٹوں کا ہوگا۔ یہ خداوند کی آتشیں قربانی میں پاک ترین چیز ہے۔ “
اس کی نقالی میں آج بھی قوم مسلم کے افراد جو کچھ مردوں کو ثواب پہنچانے کی خاطر دینا چاہتے ہوں ملاؤں کے سامنے پیش کرتے ہیں وہ کچھ قدر گھٹیا قسم کا ان لوگوں میں تقسیم کردیتے ہیں جو مجلس میں حاضر ہوتے ہیں اور کام کی چیزیں جو ستھری اور دیر پا ہوتی ہیں از قسم کپڑے ، غلہ ، نقدی اور پھل وہ اپنے گھر بھجوا دیتے ہیں گویا یہ ہارون کی اولاد میں سے کاہن ہیں جن کا کام مردوں کو ثواب پہنچا کر چیزیں اڑا لے جانے کا حکم خداوندی ہے جو ان کی کتاب میں درج ہے۔ نذر کی قربانی کے بعد پھر دوسری قربانیوں کا لامتناہی ذکر چھیڑ جاتا ہے جو دور تک کتاب میں چلا گیا ہے۔ جس کو شوق ہو وہاں سے دیکھ لے۔ اس بیان کا مقصود یہ ہے کہ یہ بےلگام اور چھوٹ یہودیوں کے منہ کی بات تھی کہ اللہ نے ہم سے عہد لیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائی جب تک وہ ہمارے پاس ایسی قربانی نہ لائے جسے آگ کھا لیتی ہو۔ “
تورات میں جہاں کہیں بھی سو ختنی قربانی کا ذکر ہے جیسے تواریخ و سلاطین وغیرہ میں تو وہ بھی اس شرط کے ساتھ نہیں اس لئے ہم یہ علمائے یہود کی بڑیا بھبک ہی کہہ سکتے ہیں۔
لیکن بد قسمتی سے ہمارے مفسرین اور علماء کی اکثریت نے یہودیوں کی اس بڑ کو حقیقت تسلیم کرلیا اور اس کو اتنا بڑھا چڑھا کر بیان کیا کہ علمائے یہود سے بھی بہت آگے نکل گئے اور یہاں تک لکھ دیا کہ ” قربانیاں اور مال غنیمت بنی اسرائیل کے لئے خود کام میں لانے کا حکم نہیں تھا۔ اس لئے جب کوئی قربانی کرتے یا مال غنیمت پاتے تھے۔ تو اللہ کے لئے پیش کرتے تھے۔ اور قبول یا عدم قبول کی کیفیت یہ ہوتی تھی کہ آسمان سے ایک آگ سفید بےدرد یعنی بغیر دھوئیں کے آتی تھی۔ جس کے آنے سے ایک گونج اور گڑگڑاہٹ کی آواز آتی تھی اور وہ آگ آ کر اس قربانی کو کھا جاتی تھی۔ اور یہ اس قربانی کے قبول ہونے کی علامت تھی اور اگر آگ نہ آتی اور وہ قربانی اصلی حالت پر رہ جاتی تو نامقبول سمجھی جاتی۔
سعدی ؓ کا بیان ہے کہ ” اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ اگر کوئی شخص اللہ کی طرف سے پیغمبر ہونے کا دعوی کرے تو تم اس کی تصدیق نہ کرنا تاوقتیکہ وہ ایسی قربانی نہ پیش کرے جس کو آگ کھا جاوے۔ ہاں ! مسیح (علیہ السلام) اور محمد ﷺ اگر آئیں تو تم ان پر ایمان ضرور لانا وہ قربانی پیش نہیں کریں گے۔ “ گویا یہ علامائے یہود کے نہلہ پر علمائے اسلام کا دہلہ ہے جس کی کوئی اصل موجود نہیں۔
قرآن کریم جو اللہ تعالیٰ کے آخری رسول محمد ﷺ کے قلب اقدس پر اتار گیا اس میں اس طرح کی کوئی بات نہیں ہے الا یہ کہ یہود کی اس گھڑی ہوئی شرارت کا ذکر کردیا ہے اور ان کو اس طریقہ سے جواب دیا ہے کہ وہ سر اٹھا کر دیکھنے کے نہیں رہے اور ایسے دبے کہ انہوں نے پھر کبھی ایسی لچر اور لغوبات کا ذکر تک نہ کیا۔
یہود کے منہ جو کچھ آیا انہوں نے کہہ کدیا تھا لیکن تعجب تو یہ ہے کہ علمائے اسلام اور مفسرین حضرات نے یہ بھی نہ سوچا کہ آگ کسی چیز کو ہڑپ کر جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی صورت ہے نہ کہ قبولیت کی اور قرآن کریم میں اس کی مثالیں بکثرت موجود ہیں چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے :
اَیَوَدُّ اَحَدُکُمْ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ جَنَّۃٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ لَہٗ فِیْھَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ اَصَابَہُ الْکِبَرُ وَ لَہٗ ذُرِّیَّۃٌ ضُعَفَآئُ فَاَصَابَھَآ اِعْصَارٌ فِیْہِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ (البقرۃ : 266:265)
” کیا تم میں سے کوئی شخص بھی یہ بات پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجوروں کے درخت اور انگوروں کی بیلوں کا ایک باغ ہو۔ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں نیز اس میں اور بھی ہر طرح کے پھل پھول پیدا ہوتے ہوں کہ جب اس صاحب باغ کو بڑھابا آجائے اور ناتواں اولاد اس شخص کے چاروں طرف جمع ہو تو اچانک ایک جھلستی ہوء آندھی چلے اور آن کی آن میں باغ جل کر ویران ہو جاء ؟ “
تفصیل کے لئے عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة بقرہ کی آیت 266 کی تفسیر دیکھیں۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
خٰلِدُوْنَ مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْھَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ فَاَھْلَکَتْہُ وَ مَا ظَلَمَھُمُ اللّٰہُ وَ لٰکِنْ اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ (ال عمران :117:3)
” دنیا کی اس زندگی میں ہم لوگ جو کچھ بھی خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس ہوا کا چلنا جس کے ساتھ پالا ہو فرض کرو ایک گرو نے اپنے اوپر ہر طرح کی محنت و مشقت برداشت کر کے ایک کھیت تیار کیا ہو لیکن پالا پڑے اور پورا کھیت برباد ہو کر رہ جائے اور یاد رکھو یہ جو کچھ ان کو پیش آیا تو اس لئے نہیں کہ اللہ نے ان پر ظلم کیا ہو یہ خود اپنے ہاتھوں اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں۔
تفصیل کے لئے جلد ہذا سورة ال عمران کی آیت 117 کا مطالعہ کفایت کرے گا۔
یہود کو رودر رو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی زبان سے اس کا جواب دلوا دیا :
334: چناچہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام سے فرمایا کہ ” تم اس سے کہہ دو کہ مجھ سے پہلے اللہ کے کتنے ہی رسول سچائی کی روشن دلیلوں کے ساتھ تمہارے پاس آئے اور بقول تمہارے اس بات کے ساتھ جسے تم کہہ رہے ہو ” بالذی تُلتُم “ پھر اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو کیوں تم انہیں قتل کرتے رہے ؟ “
سبحان اللہ ! جو بات علمائے یہود نے کہی تھی اگرچہ اس کا بھی کوئی سر پیر نہیں تھا اگر ان سے یہ کہا جاتا کہ لاؤ دکھاؤ تو رات میں کہاں یہ لکھا ہوا ہے تو اس طرح سے ایک نئی بحث چھڑ جاتی اور اصل موضوع سے دور ہٹ جاتے۔ پھر وہی ہوتا جو آج تک ہوتا آیا ہے۔ اور آج بھی ہو رہا ہے۔ اور یہ کبھی نہ ختم ہونے والی لڑائی شروع ہو جائی اور زبانوں کا بھیڑ کبھی ختم ہونے میں نہ آتا۔ لیکن مقابلہ میں محمد رسول اللہ ﷺ جیسے رحمت بھری الفاظ سے دلوایا کہ وہ دم بخود ہوگئے۔ جس کا نہ ان کے پاس کوئی جواب تھا اور نہ وہ دے سکتے تھے۔ کیونکہ یہود نے زکریا (علیہ السلام) اور زکریا کے بیٹے یحییٰ (علیہ السلام) دونوں کو نبی تسلیم کیا اور دونوں نبی جو باپ بیٹا بھی تھے یہود کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ جس سے انکار کی ان کے پاس کوئی گنجائش نہ تھی۔
سو ختنی قربانی کا ذکر آپ اوپر پڑھ چکے۔ ایک چیز خود اپنے ہاتھوں جلائی جائے پھر اس کے متعلق اتنا بڑا جھوٹ گھڑ کر بیان کیا جائے جو علامائے یہود نے گھڑا تھا تو ان کے جواب کے کئی طریقے اختیار کئے جاسکتے تھے۔ لیکن جو طریقہ بھی اختیار کیا جاتا اس پر مزید سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہو سکتا تھا۔ اور پھر یہ مذہبی وکیل جس طرح بات سے بات نکالتے چلے جاتے ہیں ۔ وہ سب کو معلوم ہے۔ لیکن بانئی اسلام نبی اعظم و آخر ﷺ نے سوال کو نہیں چھیڑا جس سے بحث آگیء بڑھ سکے اور اللہ نے ایسی بات آپ ﷺ سے کہلوا دی جس کا جواب دنیا کے کسی یہودی کے پاس نہ تھا اور نہ ہی کبھی ہونے کا امکان ہے۔ لیکن آپ نے غور کیا کہ جو جواب ان کو دیا گیا وہ خالصتا عقلی ہے اور دین میں تو عقل کو دخل نہیں ہے۔ آج کے علماء ہوتے تو ان کو یہ کہتے شاید دیر نہ لگتی کیونکہ اکثر دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ جب کسی عالم کہلانے والے کو جواب نہیں آتا تو یہ جواب فٹ کردیتا ہے کہ یہ بات تو عقلی ہے اور دین میں عقل کو دخل نہیں ہے اور اس کو اتنی بار دہرایا جاتا ہے کہ عوام بیچارے دب کر رہ جاتے ہیں۔
Ayah 3:184پیغمبرِ اسلام ﷺ سے خطاب کہ یہود نے آپ ﷺ کو جھٹلا کر کوئی نیا کام نہیں کیا :
335: اس آیت میں نبی اعظم و آخر ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اگر یہ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں تو تم اس کا غم نہ کرو۔ نہ یہ باتن تمہاری کسی کوتاہی کے سبب ہے اور نہ اس وجہ سے کہ تم کو ان کے حسب منشاء معجزہ نہیں دیا جا رہا کیونکہ آپ ﷺ نے ان کے سامنے کوئی ایسا دعویٰ پیش نہیں کیا بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ پر ایمان لانا ہی نہیں چاہتے اور جب کوئی ایک بات پہلے ہی ٹھان لے کہ مجھے یہ نہیں کرنا ہے تو اس کا کوئی علاج نہیں پھر یہ معاملہ خاص تمہیں کو پیش نہیں آیا۔ تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کی تکذیب ہوچکی ہے حالانکہ وہ روشن دلائل ، صحیفے اور اللہ کی طرف سے کتاب بھی لے کر آئے تھے۔ اس آیت میں تین لفظ استعمال ہوئے ہیں بینات ، زبر ، کتاب منیر۔
بینات کے معنی واضح اور روشن کے ہیں۔ یہ لفظ آیات کی صفت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں جہاں یہ لفظ تنہا بغیر موصوف کے استعمال ہوا ہے دو معنوں میں استعمال ہوا ہے ایک واضح اور مسکت دلائل کے معنی میں دوسرا حسی معجزات کے معنی میں اور معجزہ کی تعریف اصول تفسیر میں بیان کردی گئی ہے وہاں سے ملاحظہ کرلیں۔
زبر۔ زبور کی جمع ہے۔ اس کے معنی ٹکڑے ، قطعے اور صحیفے کے ہیں۔ مزامیرداؤد کے لئے اس کا استعمال معروف ہے اس جگہ بھی اس سے مراد انبیاء کرام کے وہ صحائف ہیں جو تورات کے مجموعہ میں شامل ہیں۔
کتاب منیر سے مراد تورات ہے۔ قرآن کریم سے پہلے کی نازل شدہ چیزوں میں تورات ہی ہے جس پر اس لفظ کا استعمال ہو سکتا ہے اور قرآن کریم نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ اگرچہ دوسری قوموں کے دعویٰ بھی آسانی کتب کے موجود ہیں۔
Ayah 3:185دنیوی زندگی کا حجاب اٹھے گا تو اعمال کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا :
236: گزشتہ آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو انبیاء (علیہ السلام) کی معاندانہ مخالفت کرتے رہے۔ اس جگہ وضاحت فرما دی کہ ہر مخالفت فرما دی کہ ہر مخالفت کا فوراً بدلہ دیا جائے۔ یہ تو قانون الٰہی کے خلاف ہے کیونکہ یہ دارالعمل ہے اور ہر مخالفت کا اگر اسی وقت بدلا مل جائے تو پھر دنیا کا ہے کو رہی اور آخرت ہے تو وہ اس لئے ہے کہ اس میں اعمال کی جزاء دی جائے۔ پھر آخر ان کی مخالفت سے ہمارا کیا بگڑ رہا ہے۔ جو کچھ بگڑ رہا ہے۔ وہ ان کا اپنا ہی تو ہے اور یہ جو انبیاء کرام اور نیک لوگوں کی مخالفت سے ان کو دکھ پہنچ رہا اس کے بدلہ کے لئے بھی دارالجزاء ہی ہے اس لئے فرمایا کہ ہر عمل کا کھلا کھلا بدلہ تو اس زندگی میں نہیں ملتا اس کے لئے ہر شخص پر موت آنے والی ہے۔ اور کھلے کھلے اور کامل اجر کے لئے اللہ تعالیٰ نے بعث بعد الموت یعنی قیامت کا دن مقرر کیا ہوا ہے اس لئے قانون الٰہی میں جو کچھ یہاں ملنا ان کا مقدر ہے وہ بھی ملتا ہے اور ملتا رہے گا لیکن اعمال کی پوری پوری جزاء و سزا تو تم قیامت کے دن ہی پاؤ گے۔ اس طرح آیت زیر نظر میں تہدید اور تسکین دونوں کے پہلو موجود ہیں۔ منافقین و معاندین کے لئے کہ تہدید ہے اور اہل ایمان کے لئے پیغام تسکین ، مطلب صاف ہے کہ تم کو اور تمہارے مخالفوں کو سب کو موت کی منزل سے گزرنا ہے اور بالآخر اللہ کے پاس حاضر ہونا ہے اور پوری پوری جزاء و سزاء کے لئے قیامت کا دن مقرر ہے ہاں ! یاد رہے کہ جو شخص اٹھا لیا گیا گویا اس کی قیامت آگئی۔ اس لئے کہ اس کو دوبارہ دارالعمل میں نہیں آنا ہے۔ اس لئے کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ کب قیامت آئے گی اور کب جزاء و سزاء ملے گی ؟ تمہاری قیامت بس آئی کہ آئی۔
جو آتش دوزخ سے ہٹا لیا گیا گویا کامیابی اس کا مقدر ہوگئی :
337: وہاں بازی کون جیتا اور کون ہارا۔ فرمایا بس جو بازی جیت گیا وہ صحیح معنوں میں کامیاب ہوگیا اور اس کی کامیابی کا نشان ؟ جنت میں داخلہ اور وہاں وہ کچھ ملے گا۔ ” مالا عین رات ولا اذن سمعت ولا حضر علیٰ قلب بشر “ جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کی اصل حقیقت آسکتی ہے کیونکہ وتصور میں سمانے والی چیز نہیں ہے۔ صحیح بخاری ، مسلم ، ترمز ، مسند احمد میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد موجود ہے اور قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان جس کی یہ تفسیر ہے وہ اس طرح ہے :
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْن (السجدہ :17:16) ” پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزاء میں ان کے لئے چھپا رکھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے۔ “
اور یہ کامیابی جن کے حصے میں آئے گی ان کا ذکر اس طرح فرمایا :
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ ھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ اَعْظَمُ دَرَجَۃً عِنْدَ اللّٰہِ وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفَآئِزُوْن (التوبہ :20:9) ” اللہ کے ہاں تو انہیں لوگوں کا درجہ بڑا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جان و مال سے جہاد کیا وہی کامیاب ہیں۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا :
وَیُنَجِّی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اتَّقَوا بِمَفَازَتِہِمْ لاَ یَمَسُّہُمُ السُّوٓئُ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ (الزمر :61:39) ” جن لوگوں نے یہاں تقویٰ اختیار کیا ہے ان کے اسباب کامیابی کی وجہ سے اللہ ان کو نجات دے گا ان کو نہ کوئی گزند پہنچے گی اور نہ وہ غم گین ہوں گے۔ “ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
وَمَنْ تَقِ السَّیِاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَہٗ وَذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (ال مومن : 40:9) ” اے اللہ ! جس کو تو نے قیامت کی برائیوں سے بچا دیا اس پر تو بڑا رحم کیا اور یہ بڑی کامیابی ہے۔ “
روز قیامت کی برائیوں سے مراد میدان حشر کا ہول ، سائے اور ہر قسم کی آسائشوں سے محروم ، محاسبے کی سختی ، تمام مخلوق کیا سامنے زندگی کے راز فاش ہونے کی رسوائی اور دوسری وہ تمام ذلتیں اور سختیاں ہی جن سے وہاں مجرمین کو سابقہ پڑنے ولال ہے۔ ظاہر ہے کہ جو ان سارے مواقع کی سختیوں سے بچالیا گیا کامیابی اس کا مقدر بن گئی اور اس سے بڑھ کر کون خوش قسمت ہوگا اور ایسا رزلٹ جس کے حصے میں آئے گا یقینا وہ پکار پکار کر کہے گا کہ آؤ میری سند کامیابی کو پڑھ کر دیکھو ھاؤم اقرئُ و اکتابیہ۔
دنیا کیا ہے ؟ خواہشوں اور ولولوں کا کارخانہ فریب ہے ، اس کے سوا کچھ نہیں :
338: ” اور دنیا کی زندگی تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ خواہشوں اور ولولوں کا کارخانہ فریب ہے “ غرور غار کی جمع ہے جس کے معنی ہیں دھوکہ دینے ولاے۔ یعنی اس کے سارے عارضی فائدے دھوکہ ہی دھوکہ ہیں جن کی حقیقت پانی کے حباب کی طرح کچھ بھی نہیں کہ دکھائی بہت کچھ دیتا ہے لیکن حقیقت اس کی ایک آہ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ کیوں ؟ اس لئے کہ دنیا ایک ایسا سامان ہے جو دوسروں کو چھوڑا ہوا ہے اور پھر چھوٹ جانے والا ہے۔ عنقریب دنیا اور دنیا دار سب مٹ جائیں گے لہٰذا اس سامان میں سے تم اللہ کی فرنبرداری کے ساتھ حسب توفیق لے لو لیکن اس پر انحصار کر کے بیٹھ مت رہو۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے :
اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّلَہْوٌ وَزِیْنَۃٌ وَّتَفَاخُرٌم بَیْنَکُمْ وَتَکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلاَدِ کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَبَاتُہُ ثُمَّ یَہِیْجُ فَتَرٰہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَکُوْنُ حُطَامًا وَّفِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیْدٌم (الحدید :20:57) ” خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دلی لگی اور ظاہر ٹیپ ظاپ اور تمہارآپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثالی ایسی ہے جیسے بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہوگئے پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی اور انجام کار وہ پھس بن کر عہ جاتی ہے اور اس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے۔ “ ایک جگہ ارشاد ہے :
مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَھَا نُوَفِّ اِلَیْھِمْ اَعْمَالَھُمْ فِیْھَا وَ ھُمْ فِیْھَا لَا یُبْخَسُوْنَ (ھود : 11:15) ” جو لوگ دنیوی زندگی میں مگن ہیں۔ حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں ایک متاع قلیل کے سوا کچھ بھی نہیں۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
وَ مَا ھٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا لَھْوٌ وَّ لَعِبٌ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَھِیَ الْحَیَوَانُ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ (العنکبوت : 69:64) ” اور دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا۔ اصل زندگی کا گھر تو دار آخرت ہے۔ کاش یہ لوگ جانتے۔ “
مختصر یہ کہ اس دنیائے دوں کی حقیقت بس اتنی ہے جیسے بچے تھوڑی دیر کے لئے کھیل کود لیں اور پھر اپنے اپنے گھر کو دھا ریں یہاں جو بادشاہ بن گیا ہے وہ حقیقت میں بادشاہ نہیں بن گیا ہے بلکہ صرف بادشاہی کا ڈرامہ کر رہا ہے۔ ایک وقت جب اس کا یہ کھیل ختم ہوجاتا ہے اور اس بےسرو سامانی کے ساتھ وہ تخت شاہی سے رخصت ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ اس دنیا میں آیا تھا۔ اس طرح زندگی کی کوئی مشکل بھی یہاں مستقل اور پائیدار نہیں ہے جو جس حال میں بھی ہے عارضی طور پر ایک محدود ملت کے لئے ہے۔ اس چند روزہ زندگی کی کامرانیوں پر جو لوگ مرمٹتے ہیں اور نہیں کے لئے ضمیر و ایمان کی بازی لگا کر کچھ عیش و عشرت کا سامان اور کچھ شوکت و حشمت کے ٹھاٹھ فراہم کرلیتے ہیں ان کی یہ ساری حرکتیں دل کے بہلاوے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ان کھلونوں سے اگر وہ دس بیس یا ساٹھ ستر سال دل بہلا لیں اور پھر موت کے دروازے کے خالی ہاتھ گزر کر اس عالم میں پہنچیں گے جہاں کوئی دائمی زندگی میں ان کا یہی کھیل بلائے بےدرماں ثابت ہو تو آخر اس طفل تسلی کا فائدہ کیا ؟ ہاں اگر یہ لوگ اس حقیقت کو جانتے کہ دنیا کی موجودہ زندگی صرف ایک مہلت امتحان ہے اور انسان کے لئے اصل زندگی جو ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والی ہے وہ آخرت کی زندگی ہے تو وہ اس جگہ امتحان کی مدت کو اس لہو ولعب میں ضائع نہیں کرتے اور اس کے بجائے اس کا ایک ایک لمحہ ان کاموں میں استعمال کرتے جو اس ابدی زندگی میں بہتر نتائج پیدا کرنے والے ہوں۔ جس کی سمجھ میں یہ بات آجائے اس کا اپنا فائدہ ہے اور گزرا ہوا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا۔ مزید تفصیل کے لئے عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة بقرہ کی آیت 155 کی تفسیر کو دیکھیں۔
Ayah 3:186جان و مال کی آزمائش میں تم بھی مبتلا ہو گے اور اہل باطل کی تلخ کلامی بھی سننا ہوگی :
339: کسی یہودی کی اس دریدہ دہنی پر کہ ” ان اللہ فقیر ونحن اغنیاء “ اچھا ! بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو غصہ آگیا اور یہ بات بولنے والے کو طمانچہ رسید کردیا کہ کیسی بکواس کر رہے ہو ؟ یہودی نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے شکایت کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس میں مسلمانوں کو بتلایا گیا کہ دین کے لئے جان و مال کی قربانیوں سے اور کفار و مشرکین اور اہل کتاب کی بد زبانی کی ایزاؤں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ یہ سب ان کی آزمائش ہے اور اس میں ان کے لئے بہتر یہی ہے کہ صبر سے اور برداشت سے کام لیں اور اپنے اصل مقصد کی تکمیل میں مصروف رہیں۔
اگر تم نے قیام حق کی خدمت عظیم اپنے سر لی ہے تو ضروری ہے کہ اس راہ کی تمام آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑے۔ اہل کتاب اور مشرکین عرب دونوں تمہاری مخالفت میں کمر بستہ ہوگئے ہیں وہ طرح طرح کی اذیتیں تمہیں پہنچائیں گے اور تمہیں برداشت کرنا پڑیں گی تمہاری کامیابی کے لئے اصل چیز صبر اور تقویٰ ہے۔ اگر تم نے صبر کیا تو تمہارا اجر محفوظ رہے گا اور بلاشبہ تم خود کامیابی سے ہم کنار ہو گے۔ قرآن کریم نے ان کی اس طرح کی ایزا رسانیوں کا ذکر دوسرے مقالات کیا ہے۔ مثلاً ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَاوَ عَصَیْنَا وَاسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّام بِاَلْسِنَتِھِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ (النساء : 46:4) ” اے پیغمبر اسلام ! ان یہودیوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں اور زبانوں کو توڑ موڑ کر مطلب کچھ کا کچھ کردیتے ہیں۔ “
یعنی جب ان کو اللہ کے احکام سنائے جاتے ہیں تو زور سے کہتے ہیں کہ سمعنا ہم نے سن لیا اور اہستہ دل میں کہتے ہیں عصینا کہ ہم نے قبول نہیں کیا یا اطعنا ہم نے قبول کیا کا تلفظ اس انداز سے زبان کو پیچ دے کر کہتے ہیں کہ وہ عصینا بن جاتا ہے۔ اس طرح دوران گفتگو جب وہ کوئی رسول اللہ ﷺ سے کہنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں اسمع یعنی ہماری بات سنئے اور پھر اس کے ساتھ غیر مسمع “ بھی بڑھا دیتے ہیں جس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ خدا تمہیں بری بات نہ سنوائے اور دوسرے یہ بھی کو ” بہر ہوجاؤ “ اسی طرح ” راعینا “ بولتے جس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ہماری طرف التفات کیجئے اور دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اے ہمارا چرواہے اس طرح وہ زبانوں کو پیچ دے دے کو سہ بات کو کچھ سے کچھ بنا دیتے ہیں اور پھر جب مجلس سے اٹھتے ہیں اور کہیں دوسری جگہ اکٹھے ہوتے ہیں تو پھر ان حرکات پر پھبتیاں کستے ہیں اور مذاق اڑاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی باتوں سے دلی دکھ پہنچنا فطری امر ہے لیکن کہا یہ جا رہا ہے کہ اس کو برداشت کرو کہ عنقریب نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ھٰٓؤُلَآئِ اَھْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا (النساء : 51:4) ” اور وہ کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں۔ “
علمائے یہود کی ہٹ دھرمی اور ضجد وعناد یہاں تک پہنچ گیا تھا کہ جو لوگ نبی اعظم و آخر ﷺ پر ایمان لائے تھے ان کو وہ مشرکین عرب کی بہ نسبت زیادہ گمراہ قرار دیتے تھے اور کہتے تھے۔ کہ ان سے تو یہ مشرکین زیادہ راہ رست پر ہیں حالانکہ وہ صریح طور پر دیکھ رہے تھے کہ ایک طرف خالص توحید ہے جس میں شریک کا شائبہ تک نہیں اور دوسری طرف صریح بت پرستی ہے۔ جس کی مذمت سے ساری بائبل بھری پڑی ہے۔ لیکن ستیاناس اس مخالفت کا یہ کسی پہلو چین نہیں لینے دیتی اور اپنے مخالف کی اچھی سے اچھی بات سے بھی کیڑے نکالنے پر مجبور کرتی رہتی ہے اور دوسروں کی بھلی بات بھی بری لگتی ہے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
وَاِِذَا جَآئُ وْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہٖ اللّٰہُ وَیَقُوْلُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ لَوْلاَ یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوْلُ (المجادلۃ : 8:58) ” اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو ہمیں اس طریقہ سے سلام کرتے ہیں جس طریقہ سے اللہ نے تم پر سلام نہیں کیا اور پھر اپنے دلوں میں یا اپنی مجلسوں میں اپنے لوگوں سے کہتے ہیں ہماری ان باتوں پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔ “ مزید تفصیل کے لئے دیکھو آل عمران کی آیت 111: 118 کی تفسیر زیر نظر جلد میں۔
مشرکین اور یہود کی ایذا رسانیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھو :
340: آیت کے آخر میں فرمایا کہ ” اگر رتم نے صبر کیا اور پرہیزگاری اختیار کی تو بلاشبہ اسلام کی راہ میں یہ بڑے ہی عزم و ہمت کی بات ہے۔ “ کیوں نہ ہو جتنا کام مشکل ہوگا اتنا ہی عزم و ارادہ پختہ کرنا ہوگا۔ مخلافین کی ایذا رسانیوں کو برداشت کرنا اور صبرو استقلال سے اپنا کام جاری رکھنا بلاشبہ بہت بڑی ہمت اور دل گردہ کی بات ہے خصوصا جب اللہ نے طاقت بھی دی ہو تو مصلحتاً طاقت کا استعمال نہ کرنا اور بھی مشکل امر ہے صبر کیا ہے ؟ آزمائشوں کے وقت بےقرار نہ ہون اور فرمانبردار رہتے ہوئے مصائب پر کسی طرح کا دھیان دیئے بغیر اپنا کام جاری رکھنا اور تقویٰ کا بھی تقاجا کچھ اس طرح کا ہے کہ کانٹوں سے بچ بچا رکر صحیح سالم منزل مقصود تک پہنچ جانا اور صبر اور تقویٰ دونوں کا امتزاج ایک راہ رو سے جو تقاضا کرتا ہے اس کا انجام بلاشبہ عزم و ہمت کی بات ہے اور پھر جس چیز کو خود اللہ تعالیٰ عزم الامور فرما رہا ہے۔ جس کو یہ میسر آجائے اس کی کیا ہی شان ہوگی ؟ قرآن کریم میں ایک جگہ لقمان (علیہ السلام) کی نصیحت جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی اس کا بیان اس طرح کیا ہے :
یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَاْمُرْ بِالْمَعْروْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاصْبِرْ عَلٰی مَآ اَصَابَکَ اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ (لقمان : 17:31) ” بیٹا ! نماز قائم کر ، نیکی کا حکم دینے اور بدی سے روکنے کا کام کرے گا اس پر مصائب کا نزول ناگزیر ہے۔ دنیا لازماً ایسے شخص کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑجاتی ہے۔ اور اسے ہر قسم کی اذیتوں سے سابقہ پیش آکر رہتا ہے۔ فرمایا کہ بیٹے ! یہ بڑے حوصلے کا کام ہے اصلاح خلق کے لئے اٹھنا اور اس کی مشکلات کو انگیز کرنا کم ہمت لوگوں کے بس کی بات نہیں یہ ان کاموں میں سے ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کام لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے۔ ہاں ! ہاں ! یہ کام لوہے کے چنے چبانا ہی ہے۔