Ayah 3:167ہر نقصان سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے اس طرح نقصان کا بھی تم کو فائدہ ہوا :
305: میدان احد میں تمہارے ستر آدمی شہید ہوئے اور تقریباً اتنے ہی زخمی اور ہزیمت و پریشانی اس پر زائد تھی یہ بہت بڑا نقصان ہے لیکن اس کا ایک فائدہ بھی تم کو ہوا کہ مومن و منافق کی پہچان ہوگئی اور کمزور ایمان والوں کا بھی پتہ چل گیا۔ منافق کیا ہے ؟ اس کی پہچان نبی کریم ﷺ کے الفاظ میں پچھلے حاشیہ میں کرا دی گئی ہے اور قرآن کریم کے الفاظ سے اتنا مزید سمجھا جاسکتا ہے کہ :
نافقوا جس کا اصل نق ہے اور نفق کے معنی ہیں گزر گیا اور ختم ہوا۔ اس لئے یہ مادہ نق خرچ کرنے کے معنوں میں بھی آتا ہے اور اسی سے نفق ہے جس کے معنی جاری راستہ یعنی ایسا راستہ جو دوسری طرف نکل جاتا ہے۔ اس لئے سرنگ کو جو پہاڑ کی ایک طرف سے دوسری طرف نکل جائے یا زمین کے اندر سے ہوتی ہوئی دوسری طرف نکل جائے نفقاً کہا جاتا ہے۔ چناچہ قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے۔ کہ جان ” استطعت ان تبتغی نفقا فی الارض “ (الانعام :ـ 6:35) ” اگر تم سے ہو سکے تو زمین کے اندر کوئی سرنگ ڈھونڈ نکالو۔ “ اس لحاظ سے نفاق کا مطلب یہ ہوا الدخول فی الشرع من باب والخروج عنہ من باب۔ (راغب)
یعنی ایک دروازہ سے شریعت میں داخل ہونا اور دوسرے دروازہ سے نکل جانا۔ اب سمجھ میں آگیا کہ منافق کیا ہے ؟ یعنی وہ شخص جو بظاہر ایمان لاتا ہے اور ” لاَ اِلٰہَ اللہ محمدرَسُولَ اللہ “ پڑھ کر داخل ہوتا ہے اور پھر عملی نافرمانی کر کے اسلام سے نکل جاتا ہے ۔ گویا وہ جس دروازے سے داخل ہوتا ہے اسی دروازہ سے نہیں بلکہ دوسرے دروازہ سے نکل جاتا ہے اور اندر سے کافر کا کافر ہی رہتا ہے۔ قرآن کریم نے اس حالت کو اس طرح بیان فرمایا ہے :
اِِذَا جَآئَکَ الْمُنَافِقُوْنَ قَالُوْا نَشْہَدُ اِِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِم وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ وَاللّٰہُ یَشْہَدُ اِِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَکٰذِبُوْنَ (المنافقون : 63:1)
” اے پیغمبر اسلام ! جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ یقینا اللہ کے رسول ہیں۔ ہاں ! اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور اس کے رسول ہو مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جھوٹے ہیں۔ “ کیوں ؟ اس لئے کہ جو بات وہ زبان سے کہہ رہے ہیں وہ تو بجائے خود سچی ہے لیکن چونکہ ان کا عمل وہ نہیں ہے جسے وہ زبان سے ظاہر کر رہے ہیں اس لئے وہ اپنے اس قول میں جھوٹے ہیں کہ وہ آپ ﷺ کے رسول ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔
اس مقام پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ شہادت دو چیزوں سے مرکب ہوتی ہے ایک وہ اصل بات جس کی شہادت دی جائے دوسرے اس بات کے متعلق شہادت دینے والے کا اپنا عمل۔ اب اگر بات بجائے خود بھی سچی ہو اور شہادت دینے والے کا اپنے عمل بھی وہی ہو جس کو وہ زبان سے بیان کر رہا ہے تو ہر لحاظ سے وہ سچا ہوگا اور اگر بات اپنی جگہ جھوٹی ہو لیکن شہادت دینے عالا اس کو حق سمجھتا ہو تو ہم ایک لحاظ سے اس کو سچا کہیں گے۔ کیونکہ وہ اس کو حق بیان کرنے میں صادق ہے اور دوسرے لحاظ سے اس کو جھوٹا کہیں گے کیونکہ جس بات وہ شہادت دے رہا ہے وہ بات بجائے خود غلط ہے۔ مثلاً دو اور دو چار ہوتے ہیں لیکن ایک آدمی ان کو پانچ کہتا ہے۔ اس سے کوئی پوچھے گا کہ تم نے کہا ہے کہ دو اور دو پانچ ہوتے ہیں وہ کہے کہ وہاں میں نے کہا ہے تو یہ بات اس نے سچ کہی ہے۔ لیکن چونکہ دو اور دوفی الواقعہ چار ہوتے ہیں اس لئے اس پہلو سے اب بھی اس کی بات جھوٹی ہے۔
اس کے برعکس اگر بات اپنی جگہ سچی ہو لیکن شہادت دینے والے کا اپنے عمل اس کے خلات ہو تو اس لحاظ سے اس کو سچا کہیں گے کہ وہ صحیح بات کی شہادت دے رہا ہے اور اس لحاظ سے اس کو جھوٹا کہیں گے کہ اس کا اپنا عمل وہ نہیں ہے جس کا وہ زبان سے اقرار کر رہا ہے۔ اور آدھے جھوٹے کو نہ سچا کہیں گے یعنی مومن اور نہ جھوٹا کہیں گے یعنی کافر بلکہ اس کا نام شریعت نے منافق رکھا ہے اس کی یہ دوہری پوزیشن اس کے لئے بلحاظ آخرت ” نفع مند نہیں ہوگی بلکہ ہر لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ “
عبد اللہ بن ابی سردار المنافقین کا مختصر حال :
211: اس جگہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے وقت کے منافقین کے سردار کا مختصر حال بیان کردیا جائے تاکہ اس کے قول و فعل اور اس کی شخصیت سے واقفیت حاصل ہوجائے اور اس طرح اپنے زمانے کے بڑے بڑے منافقین کو پہچاننے میں آسانی ہو اور اپنی کمزوریوں کو سمجھ کر ان کی اصلاح کی توفیق حاصل ہوجائے اور اس طرح اپنا تجزیہ کرنے سے جو فائدہ حاصل ہوتا ہے وہ دوسروں کے وعظوں اور درسوں سے کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔
ابن اسحاق نے کہا مجھ سے عاصم بن عمر بن قتادہ نے جس طرح بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے باشندوں کا سردار عبداللہ بن ابی بن سلول العوفی تھا جو بنی العوف کی شاخ بن الحبلیٰ میں سے تھا۔ (ابن ہشام جلد اول ص 632 )
جب اسلام کا چرچا مدینے میں پہنچا اور ان دونوں قبیلوں یعنی اوس و خزرج کے با اثر آدمی مسلمان ہونے شروع ہوگئے اور بیعت عقبہ ثانیہ کے بعد جب نبی اعظم و آخر ﷺ مدینہ پہنچے تو انصار کے ہر گھر میں اسلام اتنا پھیل چکا تھا کی عبداللہ بن ابی بےبس ہوگیا اور اس کو اپنی سرداری بچانے کی اس کے سوا کوئی صورت نظر نہ آئی کہ خود بھی مسلمان ہوجائے۔ چناچہ وہ اپنے ان بہت سے حامیوں کے ساتھ جن میں دونوں قبیلوں کے شیوخ اور سردار شامل تھے داخل اسلام ہوگیا۔ حالانکہ دل ان سب کے جل رہے تھے اور خاص طور پر ابن ابی کو اس بات کا سخت غم تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی بادشاہی چھین لی ہے۔ کئی سال تک اس کا یہ منافقانہ ایمان اور اپنی ریاست چھین جانے کا یہ غم طرح طرح کے رنگ دکھاتا رہا ایک طرف حال یہ تھا کہ ہر جمعہ کو جب رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے بیٹھتے تو عبداللہ بن ابی اٹھ کر کہتا کہ ” حضرات یہ اللہ کے رسول آپ کے درمیان موجود ہیں جن کی ذات سے اللہ نے آپ کو عزت و شرف بخشا ہے لہٰذا آپ ان کی تائید کریں۔ “ (ابن ہشام) دوسری طرف کیفیت یہ تھی کہ روز بروز اس کی منافقت کا پردہ چاک ہوتا چلا جا رہا تھا۔ اور محض مسلمانوں پر یہ بات کھلتی جاتی تھی۔ کہ وہ اور اس کے ساتھی اسلام اور رسول اللہ ﷺ اور گروہ اہل ایمان سے سخت بغض رکھتے ہیں۔
ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کسی راستے سے گزر رہے تھے کہ ابن ابی نے آپ ﷺ کے ساتھ بدتمیزی کی آپ ﷺ نے حضرت سعد بن عبادہ سے اس کی تکلیف فرمائی تو انہوں نے عرض کیا ” یارسول اللہ ! اس شخص کے ساتھی نرمی برتیے۔ آپ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے ہم اس کے لئے تاج شاہی تیار کر رہے تھے۔ اب یہ سمجھتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس سے بادشاہی چھین لی ہے۔ (ابن ہشام ج 2) جنگ بدر کے بعد جب یہود بنی قینقاع کی صریح بد عہدی اور بلا اشتعال سر کشی پر رسول اللہ ﷺ نے ان پر چڑھائی کی تو یہ شخص ان کی حمایت پر اٹھ کھڑا ہوا اور حضور نبی کریم ﷺ کی زرہ پکڑ کر کہنے لگا کہ ” یہ سات سو مردان جنگی جو ہر دشمن کے مقابلہ میں میرا ساتھ دیتے رہے ہیں آج ایک دن میں آپ ﷺ انہیں ختم کر ڈالنا چاہتے ہیں ؟ خدا کی قسم میں آپ ﷺ کو ہرگز نہیں چھوڑوں گا جب تک آپ ﷺ میرے حلیفوں کو معاف نہ کردیں گے۔ “
جنگ احد پر اس شخص نے صریح غداری کی اور عین وقت پر اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر میدان جنگ سے الٹا واپس آگیا۔ جس نازک گھڑی میں اس نے یہ حرکت کی تھی اس کی نزاکت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ قریش کے لوگ تین ہزار کا لشکر لے کر مدینے پر چڑھ آئے تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ ان کے مقابلہ میں صرف ایک ہزار آدمی ساتھ لے کر مدافعت کے لئے نکلے تھے۔ ان ایک ہزار میں سے بھی یہ منافق تین سو آدمی توڑ لایا اور نبی کریم ﷺ کو صرف سات سو کی جمعیت کے ساتھ تین ہزار دشمنوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ اس واقعہ کے بعد مدینے کے عام مسلمانوں کو یقین کے ساتھ یہ معلوم ہوگیا کہ یہ شخص قطعی منافق ہے اور اس کے وہ ساتھی بھی پہچان لئے گئے جو منافقت میں اس کے شریک کار تھے۔ اسی بناء پر جنگ احد کے بعد جب پہلا جمعہ آیا اور وہ شخص نبی کریم ﷺ کے خطبہ سے پلے حسب معمول تقریر کرنے کے لئے اٹھا تو لوگوں نے اس کا دامن کھینچ کھینچ کر کہا ” بیٹھ جاؤ تم یہ باتیں کرنے کے اہل نہیں ہو۔ “ مدینے میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ علانیہ اس شخص کی تزلیل کی گئی جس پر برہم ہو کر وہ لوگوں کی گردنوں سے کو دتا ہوا مسجد سے باہر نکل گیا۔ مسجد کے دروازے پر بعض انصار نے اس سے کہا کہ ” یہ کیا حرکت کر رہے ہو واپس چلو اور رسول اللہ ﷺ سے استغفار کی درخواست کرو۔ ‘ لیکن اس نے بگڑ کر جواب دیا ” میں ان سے کوئی استغفار کرانا نہیں چاہتا۔ “ (ابن ہشام ج 3)
4 ھجری میں غزوہ بنی النضیر پیش آیا اور اس موقع پر اس شخص نے اور اس کے ساتھیوں نے اور بھی زیادہ کھل کر اسلام کے خلاف اعدائے اسلام کی حمایت کی۔ ایک طرف رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے جاں کو پیغام بھیج رہے تھے کہ ڈٹے رہو ہم تمہارے ساتھی ہیں تم سے جنگ کی جائے گی تو ہم تمہاری مدد کریں گے اور تم کو نکالا جائے گا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اس خفہ ساز باز کا راز اللہ تعالیٰ نے خود فاش کردیا جیسا کہ اس کا ذکر سورة حشر میں کیا گیا ہے۔ لیکن اس کی اور اس کے ساتھیوں کی اتنی پردہ دری ہوجانے کے باوجود نبی رحمت ﷺ اس کے ساتھ درگزر کا معاملہ فرما رہے تھے۔ ، کیوں ؟ اس لئے کہ منافقین کا ایک بڑا جتھا اس کے ساتھ تھا اور اوس و خزرج کے بہت بڑے بڑے لوگ بھی اس کے ساتھ تھے۔ جیسا کہ غزوہ احد میں اس کی ساری اصلیت واضح ہوگئی تھی۔ اس ھالت میں یہ کسی طرح مناسب نہ تھا کہ باہر کے دشمنوں سے لڑائی کے ساتھ ساتھ اندر کے ان دشمنوں سے بھی جنگ مول لی جاتی۔ اس بنا پر اس کی منفاقت کا حال جاننے کے باوجود نبی اعظم و آخر ﷺ ایک مدت تک ان کے ساتھ ان کے ظاہری دعوائے ایمان کے لحاظ سے معاملہ فرماتے رہے۔ دوسری طرف یہ لوگ بھی نہ اتنی طاقت رکھتے تھے۔ نہ ہمت کہ علانیہ کافر بن کر اہل ایمان سے لڑتے یا کسی کے ساتھ کھلم کھلا مل کر میدان میں نکل آتے اس لئے کہ منافقت صفت لوگوں کے اختیار کا یہ معاملہ ہی نہیں ہوتا جس طرح وہ ان کے لئے مخلص نہیں تھے بالکل اس طرح وہ دوسری طرف کے بھی مخلص نہیں رہ سکتے تھے۔ اگر آپ غور کریں گے تو ان لوگوں کی کمہ ہر زمانہ میں پائیں گے اگر وہ اس وقت موجود تھے تو آج بھی بکثرت موجود ہیں اور ہر پارٹی اور گروہ میں پائے جاتے ہیں۔
بظاہر وہ ایک جتھا بنائے ہوئے تھے۔ لیکن ان کے اندر وہ کمزوریاں موجود تھیں جن کا نقشہ رسول اللہ ﷺ نے سورة حشر میں بیان فرما دیا ہے۔ اس لئے وہ مسلمان بنے رہنے میں اپنی خیر سمجھتے تھے۔ مسجدوں میں آتے نمازیں پڑھتے تے۔ زکوٰۃ بھی ادا کرتے تھے اور زبان سے وہ لمبے چوڑے دعوے بھی کرتے تھے۔ جے کے کرنے کی مخلص مسلمانوں کو بھی کبھی ضرورت پیش نہ آئی تھی۔ ان کیا پاس اپنی ہر منافقانہ حرکت کے لئے ہزار جھوٹی تو ج ہیں موجود تھیں جن سے وہ خاص طور پر اپنے ہم قبیلہ انصار کو یہ دھوکہ دینے کی کو شس کرتے رہتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہی ان تدبیروں سے وہ اپنے آپ کو نقصانات سے بھی بچا رہے تے جو انصار کی برادری سے الگ ہوجانے کی صورت میں ان کو پہنچ سکتے تھے۔ اور فتنہ پردازی کے ان مواقع سے بھی فائداہ اٹھا رہے تھے۔ جو اس بررادی میں شامل رہ رک انہیں مل سکتے تھے۔
یہیں وہ اسباب تھے جن کی وجہ سے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی منافقین کو غزوہ بنی المصطلق کی مہم میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جانے کا مو قع مل گیا اور نہوں نے بیک وقت دو ایسے فتنے اٹھائے جو مسلمانوں کی جمعیت کو بالکل پارہ پارہ کرسکتے تھے۔ مگر قرآن کریم کی تعلمو اور رسول اللہ ﷺ کی محبت سے اہل ایمان کو جو بہترین تربیت ملی تھی۔ اس کی بدولت ان دونوں فتنوں کا بروقت قلع قمع ہوگیا اور یہ منافقین الٹے کود ہی رسوا ہو کر رہ گئے۔ ان میں سے ایک فتنہ وہ تھا۔ جس کا ذکر سورة نور میں کیا گیا اور دوسرے فتنے کا ذکر سورة منافقون میں ہے اس کی کار ستانیوں کو سمجھنے کے لئے اس کا مختصر ذکر اس جگہ کردینا مناسب معلوم ہوتا تفصیل اپنے موقع پر آئے گی اس واقعہ کو بخاری ، مسلم ، احمد ، نسائی ، ترمذی ، بیہقی ، طبرانی ، ابن مردویہ ، عبدالرزاق ، ابن جریر ، طبر اور ابن سعد وغیرہ نے بیان کیا ہیت اور ان روایات کا خلاصہ یہ ہے۔
بنی المصطلق کو شکست دینے بعد ابھی لشکر اسلام اس بستی میں ٹھہرا ہوا تھا جو ” مریسیع “ نامی کنوئیں پر آباد تھی کہ یکایک پانیء پر دو صاحبوں کا جھگڑا ہوگیا ان میں سے ایک کا نام بہجاہ بن مسعود غفاری تھا جو حضرت عمر ؓ کے ملازم تھے او ان کا گھوڑا سنبھالنے کی خدمت انجام دیتے تھے۔ اور دوسرے صاحب سنان بن وبر الجہنی تھے جو قبیلہ خزرج کے ایک قبیلہ کے حلیف تھے۔ زبانی ترش روئی سے گزر کر اور ہاتھا پائی تک پہنچی اور جہجاہ نے سنان نے انصار کو مدد کے لئے پکارا اور جہجاہ نے مہاجرین کو آواز دی۔ ابن ابی نے اس جھگڑے کی خبر سنتے ہی اوس خزرج کے لوگوں کو بھڑکایا اور چیخنا شروع کردیا کہ دوڑو اور اپنے حلیف کی مدد کرو۔ ادھر سے کچھ مہاجرین بھی نکل آئے قریب تھا۔ کہ بات بڑھ جاتی اور اس جگہ انصار اور مہاجرین آپس میں لڑ جاتے جہاں ابھی ابھی وہ مل کر ایک دشمن قبیلے سے لڑے تھے۔ اور سے شکست دے کر ابھی اس کے علاقے میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ لیکن یہ شور سن کر رسول اللہ ﷺ نکل آئے اور آپ ﷺ نے فرمایا۔ یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے ؟ تم لوگ کہاں اور جاہلیت کی پکار کہاں ؟ اسے چھوڑ دو یہ بڑی گندی چیز ہے۔ آپ ﷺ کے الفاظ یہ تھے۔ انھا منتنۃ اس پر دونوں طرف کے مصالح لوگ اٹھے اور معاملہ کو رفع دفع کرادیا اور سنان نے جو معاف کردیا۔
لیکن جن لوگوں کے دلوں میں نفاق تھا وہ عبداللہ بن ابی کے پاس اکٹھے ہوئے اور انہوں نے جمع ہو کر اس سے کہا کہ ” اب تک تو تم سے امیدیں تھیں اور تم بھی مدافعت کر رہے تھے مگر اب معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمارے مقابلہ میں کنگلوں کے مددگار بن گئے ہو۔ “ ابن ابی پہلے ہی کھول رہا تھا ان باتوں سے اور بھی زیادہ بھڑک اٹھا کہنے لگا۔ یہ سب کچھ تمہارا اپنا ہی کات دھرا ہے تم نے ان لوگون کو اپنے ملک میں جگہ دی۔ ان پر اپنے مال تقسیم کئے یہاں تک کہ اب وہ پھل پھول کر خود ہمارے حریف بن گئے۔ ہماری اور ان قریش کے کنگلوں کی حالت پر یہ مثل صادق آتی ہے کہ ” اپنے کتے کو کھلا کر موٹا کرتا کہ تجھی کو پھاڑ کھائے۔ “ تم لوگ ان سے ہاتھ روک لو تو یہ چلتے پھرتے نظر آئیں ، خدا کی قسم مدینے واپس پہنچ کر ہم میں سے جو عزت والا ہے۔ وہ ذلیل کو نکال دے گا۔ “
اس تھوڑی سی عبارت میں آج اپنے ملک پاکستان کی ساری سیاست کو سمجھا جاسکتا ہے۔ یہاں انصار ، مہاجرین اور ان دونون فریقوں کے حامی و ناصر اور پھر ان کی نیت ان کا کام ان کی تدبیریں ، ان کی تدبیروں کا انجام سب کچھ سمجھا جاسکتا ہے لیکن سمجھانے والا بھی کوئی ہو ؟ سمجھنے والے بھی کوئی جذبہ اسلامی رکھتے ہوں ؟ وہ اپنی جہالت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار بھی تو ہوں ؟ عبداللہ بن ابی کا کردار ادا کرنے والے تو شہر ہی دے سکتے ہیں کیونکہ وہ خود نہ ادھر کے ہیں اور نہ ادھر کے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اے اللہ اس ملک کے باسیوں کو بھی سمجھ کی توفیق عطا فرما۔
اس مجلس میں اتفاق سے حضرت زید بن ارقم بھی موجود تھے جو اس وقت ایک کم عمر لڑکے تھے۔ انہوں نے یہ باتیں سن کر اپنے چچا سے ان کا ذکر کیا اور ان کے چچا نے جو انصار کے رئیسوں میں سے تھے۔ جا کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کردیا۔ نبی اکرم ﷺ نے زید کو بلا کر دریافت کیا تو انہوں نے جو کچھ سنا تھا من و عن دہرا دیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا شاید تم ابن ابی سے ناراض ہو۔ ممکن ہے تم سے سننے میں غلط ہوئی ہو ، ممکن ہے کہ تم کو شبہ ہوگیا ہو کہ ابن ابی یہ کہہ رہا ہے جب کہ اس نے کہا نہ ہو مگر زید نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ ﷺ مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ میں نے یہ باتیں عبد اللہ بن ابی کو کرتے سنا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے ابن ابی کو بلا کر پوچھا تو وہ بالکل صاف صاف انکار کر گیا اور قسمیں کھانے لگا کہ میں نے یہ باتیں ہرگز نہیں کہیں۔ انصار نے بھی کہا کہ یارسول اللہ ! اس لڑکے کی بات ہے شاید اسے وہم ہوگیا ہو اور اس طرح قبیلے کے بڑے بوڑھوں نے ذید کی بھی گو شمالی کی کہ تم نے یہ کیا کیا ؟ وہ بچارے سہم کر بیٹھ گئے لیکن نبی کریم ﷺ کو بھی جانتے تھے۔ اور عبد اللہ بن ابی کو بھی۔ ان فقرات میں بھی بڑے اسباق مخفی ہیں ، لیکن کن کے لئے جن کو اللہ نے سمجھ دی ہے۔
حضرت عمر ؓ کو علم ہوا تو انہوں نے آکر عرض کیا کہ یارسول اللہ ! مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کی گردن اڑا دوں اگر مجھ حکم دینا مناسب نہ ہو تو انصار کے سردار معاذ بن جبل ، عبادہ بن بشر ، سعد بن معاذ ، محمد بن مسلمہ جیسے لوگوں میں سے کسی کو حکم دے دیں کہ کہ وہ اسے قتل کردیں۔ “ مگر آپ ﷺ نے فرمایا ایسا کرنا درست نہیں لوگ کہیں گے کہ محمد نے اپنے لوگوں کو قتل کرنا شروع کردیا ہے۔ ازیں بعد آپ ﷺ نے فوراً اس جگہ سے کوچ کا حکم دے دیا۔ راستے میں انصار کے ایک سردار حضرت اسید بن حضیر آپ ﷺ سے ملے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آج آپ نے ایسے وقت کوچ کا حکم دیا جو سفر کے لئے موزوں نہ تھا۔ اور آپ ﷺ تو کبھی ایسے وقت میں سفر کا آغاز نہیں فرمایا کرتے تھے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ تم سنا نہیں کہ تمہارے ان صاحب نے کیا گوہر افشانی کی ہے ؟ انہوں نے پوچھا کون صاحب ؟ فرمایا عبداللہ بن ابی۔ انہوں نے پوچھا کہ اس نے کیا کہا ؟ اس نے کہا کہ مدینہ پہنچ کر عزت والا ذلیل کو نکال باہر کرے گا۔ “ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! عزت والے تو آپ ﷺ ہیں اور ذلیل وہ ہے آپ جب چاہیں اسے نکال سکتے ہیں۔ “
مختصر یہ کہ عبد اللہ بن ابی اپنی طبعی موت مرا۔ کسی نے اس کو قتل نہیں کیا لیکن ساری زندگی وہ اپنے دل ہی دل میں کڑھتا رہا لیکن اس کا داؤ کبھی کامیاب نہ ہوا۔ اس میں ہماری زندگی کے کتنے سبق پوشیدہ ہیں ؟ ہر سوچنے والے اور سمجھنے والے کو معلوم ہو سکتے ہیں ؟ ہم نے اس اسباق سے کہاں تک فائدہ حاصل کیا ہے اور کہاں کہاں ہمارے قدم ڈگمگائے ہیں کتنی بار ہم سنبھلے ہیں اور کتنی بار ہم ان حالات سے زندگی میں شکست کھاچکے ہیں ؟
شاطر و چالاک اتنے ہیں کہ سوال سننے سے پہلے جواب تیار رکھتے ہیں :
306: جب ان سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو یعنی میدان جنگ کی طرف نکلو اگر جنگ ہوگئی تو جہاد کا ثواب حاصل ہوگا اور اگر دشمن ہماری جمعیت سے مرعوب ہو کر واپس ہوگیا دفاع کا مقصد پورا ہوجائے گا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس موقع پر لڑائی ہی نہیں ہوگی اور پھر لڑائی ہو بھی کیسے سکتی ہے ابھی کل میدان بدر میں جو کچھ ان کے ساتھ ہوا ہے کیا اتنی جلدی وہ اس کو بھول جائی گے۔ نہیں نہیں یہ نہیں ہو سکتا یہ تو ان کی گیدڑ بھیگیاں ہیں۔ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ لڑائی ہوگی تو ضرور ہم تمہارے ساتھ جاتے۔ یہ باتیں اس وقت کی ہیں۔ جب عبداللہ بن ابی بن سلول نے تین سو آدمیوں کی جمعیت کے ساتھ میدان احد کی کی طرف چلنے سے انکار کرتے ہوئے واپس ہوگیا۔
ان کی زبانوں پر وہ آتا ہے جس سے دل انکار کرتے ہیں :
307: ” یقین کرو جس وقت انہوں نے یہ بات کہی تھی کہ اگر ہمیں یقین ہوتا کہ لڑائی ضرور ہوگی تو ہم تمہارا ساتھ دیتے “ تو اس وقت وہ کفر سے زیادہ نزدیک تھے۔ بمقابلہ ایمان کے۔ اس لئے کہ انہوں نے زبان سے وہ بات کہی جو ان کے دل میں نہیں تھی۔ اور جو کچھ ان کے دل میں چھپا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اس سے خوب اچھی طرح واقف ہے اس لئے کہ وہ اس خمیر کو بھی جانتا ہے جس سے انہوں نے جنم لیا اور یہ بھی جانتا ہے کہ منافقت تو ان کو گھٹی میں پلائی گئی ہے وہ ان کا کبھی پیچھا نہیں چھوڑ سکتی اس لئے کہ وہ اس سے پیچھا چھڑانا ہی نہیں چاہتے۔
اللہ ہی وہ ذات ہے جو دلوں میں پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے :
308: ” جو کچھ ان کے دلون میں پوشیدہ ہے اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔ “ جزاء و سزا کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے بندہ سے نہیں اور یہ جو کچھ پوشیدہ رکھے ہوئے ہیں وہ بندوں سے پوشیدہ رکھ سکتے ہیں اللہ سے نہیں۔ اگر یہ لوگوں سے وہ بات پوشیدہ رکھنے میں کامیاب بھی ہوگئے تو کیا لوگوں کے ہاتھوں میں جزاء و سزا ہے ؟ کہ وہ سزا پانے کی بجائے جزاء حاصل کرلیں گے۔ نہیں بلکہ ان کی یہ چرب زبانی انہی کے حق میں بری ثابت ہوگی کہ ان کو کبھی توبہ کی توفیق بھی نہیں ہوگی اور جس بات کو وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتے اس کو بھی یقینا ظاہر کردیا جائے گا۔ لیکن اس کا جو وقت مینید ہے اس سے پہلے نہیں اس لئے کہ اللہ کے ہاں ہرچیز کا ایک وقت مقرر ہے اور وہ اپنے مقررہ وقت سے پہلے ہونا ممکن نہیں۔
Ayah 3:168اب تم ان سخن سازو کے دل کا حال سن لو کہ وہ کیا ہے :
309: اللہ تعالیٰ نے اب ان کے دلوں کا حال کھول دیا ان کا عمل اس کی تصدیق کرتا ہوا لوگوں نے اپنی آنگھوں سے دیکھ لیا اور بعد میں آنے والوں نے اپنے کانوں سے سن لیا۔ فرمایا کہ یہ خود تو سخن سازی کر کے گھروں میں بیٹھے رہے لیکن ان کے جو بھائی بند جہاد میں شریک ہو کر شہید ہوگئے ان کی بابت انہوں نے کہا کہ اگر ہو ہماری بات مانتے تو یوں قتل نہ ہوتے۔ مثل ہے کہ ” دروغ گورا حافظ بنا شد “ اور اس کو یوں بھی کہتے ہیں کہ ” جھوٹ کے پاؤں کہاں “ مظلب یہ ہے کہ اصل چیز جو ان کے لئے مانع ہوئی وہ تو ہے ” موت کا خوف “ لیکن انہوں نے بات یہ بنائی کہ ” وہ اس لئے نہیں اٹھ رہے ہیں کہ جنگ ونگ کچھ نہیں وہ گی۔ “ اسی کو کہتے ہیں کہ ” آپ اپنے جال میں صیاد پھنس گیا “ دیکھو جس چیز کو وہ اپنے دلوں کے اندر بند کئے ہوئے تھے۔ کس صفائی سے ظاہر ہوگئی۔
اچھا اگر موت کے ڈرنے تم کو جہاد سے باز رکھا ہے تو اب بالکل نہ مرنا :
310: زندگی اور موت کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے۔ کون ہے جو اس دنیا میں اپنی مرضی سے آیا اور کون ہے جو یہاں سے اپنی مرضی سے جاتا ہے ؟ حقیقت تو یہی ہے کہ نہ کوئی مرضی سے آیا اور نہ ہی مرضی سے جاتا ہے۔ بلکہ وہی ذات ” خالق کل شی “ جو لانے والا ہے اپنے قانون کے مطابق لاتا ہے اور اپنے قانون کے مطابق مقررہ وقت پر لے جاتا ہے۔ آنے والے کی خواہش ؟ کہ میں کبھی نہ جاؤں۔ کسی کی یہ خواہش پوری بھی ہوئی ؟ کبھی نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی اس کا امکان ہے۔ جب تک یہ نظام قائم ہے اس طرح چلاتا رہے گا۔ کب تک ؟ جب تک اس کے چلانے والے نے اس کا چلاتا رہنا مقرر کردیا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ ” اے پیغمبر اسلام ! تم ان سے کہہ دو کہ اچھا اگر تم موت و زندگی کے مواقع سے ایسے ہی باخبر ہو جیسے تم کہہ رہے ہو کہ ہماری بات پر چلتے تو کبھی نہ مارے جاتے۔ “ تو اب تم اپنے آپ کو مت سے بچائے رکھنا اور کبھی نہ مران۔ قرآن کریم نے اس طرھ چھوٹے چھوٹے جملوں میں ہر بات کو سمجھانے کی کوشش کی تاکہ بات ہر ایک کی سمجھ میں آتی جائے لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے ایک عرصہ سے قرآن کریم ہی کے ساتھ مداہنت برت رکھی ہے۔ حالانکہ یہ کافروں ، منافقوں ، اور فاسقوں کا شیوہ تھا سچے مسلمانوں کا نہیں۔ مداہنت کیا ہے ؟ جواب قرآن کریم سے سن لو ارشاد فرمایا :
تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ اَفَبِہٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُدْہِنُوْنَہ وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ اَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَ (الواقعہ 56:80 ، 82)
” یہ قرآن رب العلمین کا نازل کردہ ہے۔ پھر کیا اس کلام کے ساتھ بےاعتنائی برتتے ہو اور اس نعمت میں تم نے اپنے حصہ یہ رکھا ہوا ہے کہ اسے جھٹلاتے ہو۔ “
مُدھنون۔ ادھان کے معنی ہیں کسی چیز سے بےاعتنائی برتنا ، اس کو کچھ اہمیت نہ دینا ، اس کو سنجیدہ تو جہ کے قابل ہی نہ سمجھنا۔ مخالفین نے قرآن کریم کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا ؟ اور اس نعمت عظمیٰ کو کیوں جھٹلایا ؟
امام رازی (رح) کہتے ہیں کہ یہاں ” رزق “ معاشی کے معنی میں ہے۔ چونکہ کفار قریش جو مخاطبین اول تھے۔ قرآن کریم کی دعوت کو اپنے معاشی مفاد کے لئے نقصان دہ سمجھتے تھے۔ اور ان کا یہ خیال تھا کہ یہ دعوت اگر کامیاب ہوگئی تو ہمارا رزق مارا جائے گا اس لئے اس آیت کا ییا مطلب ہے کہ تم نے اس قرآن کی تکذیب کو اپنے پیٹ کا دھندا بنا رکھا ہے۔ تمہارے نزدیک حق اور باطل کا سوال کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اصل اہمیت تمہاری نگاہ میں روٹی کی ہے اور اس کی خاطر حق کی مخالفت کرنے اور باطل کا سہارا لینے میں تمہیں کوئی تامل نہیں ہے۔ یہ تو کفار قریش کا حال تھا۔ اس لئے کہ وہ قرآن کریم کے معنی بہر حال سمجھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے روٹی کی خاطر قرآن کو نہ مانا اور ہمارے عوام اور ملاؤں کی اکثریت چونکہ قرآن کریم کے معنی نہیں سمجھتی اس لئے انہوں نے روٹی کمانے کی خاطر قرآن کو مانا اور اس کو روٹی کا ایک ذریعہ بنایا۔ اس طرح قرآن کریم اتارنے کے اصل مقصد سے بےاعتنائی برتئی گئی اور یہی مداہنت ہے۔
Ayah 3:169شہید کبھی مرتا نہیں بلکہ صحیح معنوں میں زندہ ہوجاتا ہے :
311: یہ گویا منافقین کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو مردہ سمجھ رہے ہو نہیں۔ نہیں وہ مردہ نہیں بلکہ مردہ تو دراصل تم ہو وہ تو زندہ ہیں اور اپنے رب کے جوار رحمت میں اس کی نعمتوں سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ تم اپنی جہالت اور بےبصیرتی سے ترس کا رہے ہو کہ وہ مار دیئے گئے اور خیال کر رہے ہو بلکہ پکار پکار کر کہہ رہے ہو کہ اگر وہ تمہاری رائے پر چلتے اور تمہاری ہی طرح گھروں میں بیٹھے رہتے تو پھر وہ مارے نہ جاتے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اس فضل و نعمت پر فرحاں و شاداں ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نواز رکھا ہے۔ شہداء کی زندگی کی حقیقت کیا ہے ؟ جواب ملتا ہے : ” وَلٰکِنْ لَاّ تَشْعُرُوْنَ “ کہ تم ان کی زندگی کو سمجھنے کا شعور نہیں رکھتے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اس سے دنیا کی زندگی مراد نہیں بلکہ اس سے مراد ہے آخرت کی کامیاب و کامران زندگی۔ جس کے بعد موت نہیں۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آخرت کی کوئی چیز دنیاوی زندگی میں مشاہدہ نہیں کی جاسکتی۔
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے نزدیک تو زندگی اس دنے کی زندگی کا نام ہے جو آدمی مرا یا مار دیا گیا بس وہ ختم ہوگیا۔ لیکن ایک مؤمن اور ایمان بالاخرۃ رکھنے والے کے نزدیک یہ دنیاوی زندگی چند روزہ اور فانی زندگی ہے۔ اصل زندگی کا آغاز جو ابدی زندگی ہے اس کے نزدیک اس وقت سے ہوتا ہے جب یہ زندگی ختم ہوتی ہے۔ پھر جہاں تک موت کے بعد کی زندگی کا تعلق ہے یہ حاصل تو مؤمن و کافر سب ہی کو ہوتی ہے لیکن کفار کی زندگی چونکہ کلفت اور عذاب کی ہوتی ہے اس لئے وہ قابل ذکر نہیں لیکن اہل ایمان برزخ کی زندگی میں بھی اپنے اپنے مراتب و مدارج کے لحاظ سرور و شاد کام ہوتے ہیں مالخصوص ان میں سے جو لوگ راہ حق میں شہادت کا مرتبہ حاصل کرتے ہیں ان کی برزخی زندگی کی کامرانیوں کا تو اس ناسوتی زندگی بخشتے ہیں اس کے انعامات ان کو عالم برزخ ہی سے ملنے شروع ہوجاتے ہیں۔ چناچہ احادیث میں آتا ہے کہ :
” حضرت مسروق ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ ؓ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا ” ان کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندیلین ان کے لئے ہیں۔ ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں جائیں ، کھائیں اور پیئیں اور ان قندیلوں میں آرام کریں۔ ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ چاہتے ہو ؟ کہنے لگے اے رب العزت اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں چاہیں گھائیں پیئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں ؟ اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ نہیں تو کہنے لگے اے رب ! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے پھر ہم دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں۔ اب یہ بات واضح ہوگئی کہ انہیں کسی اور چیز کی طلب نہیں جو آخرت کی زندگی سے تعلق رکھتی ہو یعنی اخروی انعامات میں سے جو کچھ چاہتے ہیں ان کو ملتا ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو لوگ مر جائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا ہی یہ کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹا دیا جائے اور دوبارہ فی سبیل اللہ شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ چکا ہوتا ہے۔ “ (صحیح مسلم ، مسند احمد)
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے فرمایا ” اے جابر ! تمہیں معلوم ہے کہ اللہ نے تمہارے والد کو جب عالم برزخ میں زندہ کیا اور اس سے کہاں اے میرے بندے مانگ تو کیا مانگتا ہے ؟ تو اس نے کہا اے اللہ ! مجھے دنیا میں ایک بار پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو میں فیصلہ کرچکا ہوں کہ کوئی یہاں سے دوبارہ لوٹا یا نہیں جائے گا۔ اس طرح یہ بات وضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ اپنے فیصلہ کو نہیں بدلتا اگر اس میں کوئی گنجائش ہوتی تو خود ہی سوال کر کے کہ مانگو جو کچھ مانگتے ہو پھر جب بندہ مانگے تو اس کو یہ جواب چہ من دارو ؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ قادر مطلق ہے اس نے جو فیصلے اپنی ذات سے ، اپنی قدرت سے پورے علم کے ساتھ کئے ہیم وہ جانتا ہے کہ بندہ کیا طلب کرے گا لیکن پھر پوچھتا ہے کیوں ؟ اس لئے تاکہ لوگوں پر یہ بات واضح ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے بدلا نہیں کرتے نہ وہ خود بدلتا ہے نہ ہی وہ کسی کو بدلے ند یتا ہے اور یہی دراصل اس کے قدر مطلق ہونے کی دلیل ہے۔ فیصلوں کو ہمیشہ کمزور بدلتے ہیں یا ان سے بدلوا لئے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی کمزوری سے پاک ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ یہ جو داستانیں بنائی گئی ہیں کہ گلاں نے نظر کی تو اس کو زندہ کردیا فلاں نے بارہ سال کے بعد ڈوبی بیڑی کو تار دیا اور اس کے سواروں کے سواروں کو دوبارہ زندہ کردیا اور ولی اللہ جب وفات پاتے ہیں تو ان کو کئی کئی جسم عطا کردیئے جاتے ہیں اور وہ دنیا میں جہاں چاہیں پھرتے رہتے ہیں اور اپنے مریدین کی مرادیں بر لاتے ہیں اور ان کی حاجات کو پورا کرتے رہتے ہیں سب کی سب من گھڑت اور بناوٹی ہیں اور یہ جو کچھ خوابات میں دیکھا جاتا ہے سب خیالی اجسام ہوتے ہیں ان کو حقیقت پر محمول نہیں کیا جاسکتا اور ترغیب و ترہیب کے لئے جو کچھ بیان کیا جاتا ہے وہ سب شبہی اور مثالی باتیں ہیں۔ حقیقت کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔
ولی اللہ ، شہدا اور صالحین اگر اصل حقیقت میں فی الواقع آسکتے ہوتے تو رسول اللہ ﷺ ان شہداء سے ایسا کیوں فرماتے۔ غور کرو کہ رسول اللہ ﷺ سے زیادہ بڑھ کر بھی کوئی سچا ہو سکتا ہے ؟ حاشا للہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا بلکہ ایسا تصور کرنے والا دائرہ اسلام اور حدود اللہ کو پھلانک جاتا ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں کی اکثریت نے دین اسلام کو کیا سمجھا ؟ ان دو رکعت کے اماموں اور پیسواؤں نے دین کو کیا بنادیا ؟
قرآن کریم نے بہت سی جگہ خود اس کی نفی فرمائی ہے کہ اس دار فانی سے رخصت ہوجانے والے کتنی اپیلیں بھی کرتے رہیں ان کی ایک نہیں سنی جائے گی اور نہ ہی دوبارہ کسی کو اس دنیا میں بھیجا جائے گا۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ0099 لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ کَلَّا 1ؕ اِنَّهَا کَلِمَةٌ ہُوَ قَآىِٕلُهَا 1ؕ وَ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ 00100 (المؤمنون 23 : 99۔ 100)
( جب ان میں سے کسی کے سرہانے موت آکھڑی ہوگی تو اس وقت کہنے لگے گا اے اللہ ! مجھے پھر دنیوی زندگی میں لوٹا دے کہ زندگی کے جو مواقع میں نے کھو دیئے ہیں شاید ان میں نیک کام کرلوں۔ ارشاد ہوگا ہرگز نہیں۔ یہ محض ایک کہنے کی بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے اب ایسا ہونے والا نہیں ان لوگوں کے مرے پیچھے ایک آڑ ہے جو اس دن تک رہے گی کہ وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ “ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے :
” کاش تم اس وقت کی حالت کو دیکھتے جو یہ آتش دوزخ کے کنارے کھڑے ہوں گے۔ یہ اس وقت کہیں گے۔ اے کاش ! ایسا ہو کہ ہم پھر دنیا میں ایک بار لوٹا دیئے جائیں اور اپنے پروردگار کی آیتیں نہ جھٹلائیں اور ان میں سے ہوجائیں جو ایمان والے ہیں۔ “
(الانعام 6 : 27۔ 28)
ایک جگہ ارشاد ہوا :
” اس دن ظلم کرنے والے کہیں گے اے پروردگار ! تھوڑی سی مدت کے لیے ہمیں مہلت دے دے ہم تیری پکار کا جواب دیں گے اور پیغمبروں کی پیروی کریں گے۔ لیکن ان کو جواب دیا جائے گا کہ کیا تم وہی نہیں ہو کہ اب سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ ہمیں کسی طرح کا زوال نہ ہوگا ؟ تم انہیں لوگوں کی بستیوں میں بسے تھے نہوں نے اپنی جانوں کے ساتھ ناانصافی کی تھی اور تم پر اچھی طرح واضح ہوگیا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا ؟ نیز تمہیں سمجھانے کے لیے طرح طرح کی مثالیں بھی ہم نے بیان کردیں پھر تم سرکشی سے باز نہ آئے۔ ان لوگوں نے اپنی ساری تدبیریں کر ڈالی تھیں اگر وہ ان کی تدبیریں ایسی تھیں کہ پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلادیں مگر اللہ کے پاس ان کی ساری تدبیروں کا جواب تھا۔ پس ایسا خیال مت کرو کہ اللہ اپنے رسولوں سے جو وعدہ کرچکا ہے کبھی اس کے خلاف کرے گا۔ ایسا ہونا ممکن نہیں وہ غالب ہے اور اعمال بد کی سزا دینے والا ہے۔ “ (الاعراف 7 : 53) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! دراصل ہماری بدبختی ہم پر چھا گئی تھی۔ ہمارا گروہ گمراہوں کا گروہ تھا۔ اب ہمیں اس حالت سے نکال دے۔ اگر ہم پھر ایسی گمراہی میں پڑیں تو بلاشبہ نافرمان ہوئے۔ اللہ فرمائے گا جہنم میں جاؤ اور زبان مت کھولو۔ ہمارے بندوں میں سے ایک گروہ ایسا بھی تھا جو کہتا تھا اے اللہ ! ہم ایمان لے آئے پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تجھ سے بہتر رحم کرنے والا کوئی نہیں۔ لیکن تم نے انہیں اپنے تمسخر کا مشغلہ بنا لیا تھا یہاں تک کہ اس مشغلہ نے ہماری یاد بھی بھلا دی تھی۔ تم ان لوگوں کی باتوں پر ہنسا کرتے تھے آج دیکھو ہم نے انہیں ان کے صبر کا بدلہ دیا وہی ہیں جو فیروز مند ہوئے۔ “ (ابراہیم 14 : 44 ، 45) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” وہ کہیں گے اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔ کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مؤمن ہوں۔ “ (الشعراء 26 : 100۔ 102)
یہ جو فرمایا کہ وہ کہیں گے ” ہمارا کوئی سفارشی نہیں ہے۔ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں ہم دنیا میں سفارشی سمجھتے تھے اور جن کے متعلق ہمارا عقیدہ تھا کہ ان کا دامن جس نے تھام لیا بس اس کا بیڑا پار ہے۔ ان میں سے آج کوئی بھی سعی سفارش کرنے کے لئے زبان کھولنے والا نہیں۔
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” تم دیکھو گے کہ یہ ظالم جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے اب پلٹنے کی بھی کوئی سبیل ہے ؟ “ (الشوریٰ 42 : 44)
یعنی آج جب پلٹ آنے کا موقع ہے یہ پلٹنے سے انکار کر رہے ہیں۔ کل جب فیصلہ ہوچکے گا اور سزا کا حکم نافذ ہوجائے گا اس وقت اپنی شامت دیکھ کر یہ چاہیں گے کہ اب انہیں پلٹنے کا موقع ملے۔
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
” وہ عذاب دیکھ کر کہے گا کاش ! مجھے ایک موقع اور مل جائے اور میں بھی نیک عمل کرنے والوں میں شامل ہوجاؤں۔ اس کو جواب لے گا ایسا نہیں۔ میری آیات تیرے پاس آچکی تھیں پھر تو نے انہیں جھٹلایا تکبر کیا اور تو کافروں میں سے تھا۔ “ (الزمر 39 : 95)
Ayah 3:170شہداء کو اللہ تعالیٰ نے جو انعامات دیئے ہیں وہ ان کو حاصل کر کے بہت خوش ہیں :
312: حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے احد والے روذ شہید کئے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھاتی ہیں اور جنتی نہروں سے پانی پیتی ہیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قنذیلوں میں آرام و راحت حاصل کر رہی ہیں۔ جب کھانے پینے ، رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کہ کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور راہ خدا کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا ہے بےفکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں اس وقت یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
اس آیت میں فرمایا کہ ” جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے ہیں یعنی دنیا میں اور ابھی ان سے ملے نہیں ان کے لئے خوش ہو رہے ہیں۔ “ یہ امر ملحوظ رہے کہ قرآن کریم میں یہ حقیقت مختلف اسلوبوں سے واضح کی گئی ہے کہ عالی مقام اہل ایمان کے ساتھ جنت میں ان کی ذریت اور ان کے اسلاف میں سے ان لوگوں کو بھی جمع کردیا جائے گا جن کا خاتمہ ایمان پر ہوگا اگرچہ یہ لوگ اپنے عمل کے لحاظ سے ان کے درجے کے نہ ہوں گے۔ گویا یہ شہداء اور صدیقین پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوگا کہ ان کی مسرت کی تکمیل کے لیے ان کی با ایمان ذریت کو ان کے ساتھ جمع کردیا جائے گا اور ان کو انعامات سے نوازا جائے گا۔ قرآن کریم میں بہت جگہ پر اس کو بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا کُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ 1ۚ وَ اِنَّا لَهٗ کٰتِبُوْنَ 0094 وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ 0095 (الانبیاء 21 : 94 : 95)
” پس جس کسی نے نیک کام کئے اور وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے تو اس کی کوشش اکارت جانے والی نہیں ہم اس کی نیکیاں لکھ لینے والے ہیں اور دیکھو جس آبادی کے لیے ہم نے ہلاکت ٹھہرا دی تو اس کے لیے ممکن نہیں کہ وہ کبھی لوٹنے والے ہوں۔ “
ایک جگہ ارشاد ہے :
” جس کسی نے اچھا کام کیا خواہ مرد ہو خواہ عورت اور وہ ایمان بھی رکھتا ہے تو یاد رکھو ہم ضرور اسے اچھی زندگی بسر کرائیں گے اور آخرت میں بھی ضرور اسے اجر دیں گے۔ انہوں نے جیسے جیسے اچھے کام کئے ہیں اس کے مطابق ہمارا اجر بھی ہوگا۔ “ (النحل 16 : 97)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” ہاں ! جو کوئی باز آیا ، ایمان لایا اور نیک عمل میں لگ گیا تو بلاشبہ ایسے لوگوں کے لیے کوئی کھٹکا نہیں وہ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے حقوق میں ذار بھی ناانصافی نہ ہوگی۔ ہمیشگی کی جنت ، جس کا اپنے بندوں سے خدائے رحمٰن کا وعدہ ہے اور وہ وعدہ ایک غیبی بات کا ہے۔ یقیناً اس کا وعدہ ایسا ہے جیسے ایک بات وقوع میں آگئی۔ اس زندگی میں کوئی ناشائتہ بات ان کے کانوں میں نہیں پڑے گی۔ جو کچھ وہ سنیں گے سلامتی ہی سلامتی کی صدا ہوگی وہاں صبح و شام ان کا رزق ان کے لئے برابر مہیا رہے گا۔ سو دیکھو یہ جنت ہے جس کا ہم اسے وارث کردیتے ہیں جو ہمارے بندوں میں متقی ہوتا ہے۔ “ (مریم 19 : 60۔ 63)
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
” یہ لوگ ہیں جن کے لیے ہمیشگی کے باغ ہیں اور باغوں کے تلے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ سونے کے کنگن پہنے ہوئے سبز ریشم کے باریک اور دبیز کپڑوں میں آراستہ مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے ! تو کیا ہی اچھا ان کا ثواب ہوا اور کیا ہی اچھی انہیں نے جگہ پائی۔ “ (الکہف 18 : 31)
مزید تفصیل کے لئے عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة بقرہ کی آیت 155 تا 157 ملاحظہ کریں۔
Ayah 3:171ان کو مشاہدہ ہوچکا ہے کہ اللہ ایمان والوں کا اجر کبھی اکارت نہیں کرتا :
313: مثل ہے کہ ” شنیدہ کے بود دیدہ “ کہ سننے والا دیکھنے والے کے برابر نہیں ہوسکتا۔ شہداء نے ان انعامات کو ملاحظہ کرلیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے آخرت میں رکھے ہیں۔ اس لئے اس طرح ارشاد فرمایا کہ ” وہ اللہ کی نعمت اوع عطیوں سے مسرور ہیں نیز اس بات سے بھی کہ انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ اللہ ایمان والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔ “ اور اس مضمون کی آیات قرآن کریم میں بہت ہیں۔
چنانچہ ایک جگہ ارشاد خداوندی ہے :
” اور جو لوگ کتاب اللہ کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں اور نماز میں سرگرم ہیں تم ہم کبھی سنوارنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ “ (الاعراف 7 : 70)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی برائیوں سے بچتا ہے اور مصیبتوں میں ثابت قدم رہتا ہے تو اللہ نیک عملوں کا اجر کھی ضائع نہیں کرتا۔ “ ( یوسف 12 : 90)
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
” اس لئے کہ اللہ کی راہ میں انہیں جو مصیبت بھی پیش آتی ہے وہ ان کے لئے ایک نیک عمل شمار کی جاتی ہے۔ ہر پیاس جو وہ جھیلتے ہیں۔ ہر محنت جو وہ اٹھاتے ہیں۔ ہر مخمصہ جس میں وہ پڑتے ہیں۔ ہر وہ قدم جو وہاں چلتا ہے۔ جہاں چلنا کافروں کے لیے غیظ و غضب کا باعث ہوتا ہے اور ہر وہ چیز جو وہ دشمنوں سے پاتے ہیں یہ سب کچھ ان کے لئے نیک عمل ثابت کرتا ہے اور اللہ نیک کرداروں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔ “ (التوبہ 9 : 119)
Ayah 3:172رسول اللہ ﷺ کی آواز پر لبیک کہنے والے ہی متقی ہیں :
314: پچھلی آیت میں جو اصولی بات بیان فرمائی گئی تھی اس آیت میں اس کا ایک متعین محمل بھی سامنے آگیا یعنی اس اجر عظیم کے مستحق وہ لوگ ٹھہریں گے جن کے عزم و ایمان کا حال یہ ہے کہ احد کی مصیبت کا زخم کھانے کے بعد بھی ان میں کوئی خم نہیں پیدا ہوا بلکہ وہ اس کٹھیالی سے گزر کر کندن بن گئے اس لئے جوں ہی اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے ایک تازہ مہم کی منادی ہوئی۔ وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ تاریخ و سیرت کی کتابوں میں بیان ہوا ہے کہ احد میں مسلمانوں کو ایک طرح کی آزمائش میں مبتلا کرنے کے بعد قریش کی فوج پہلے تو واپس چلی گئی لیکن روحاء کے مقام پر پہنچنے کے بعد ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں اور احساس ہوا کہ انہوں نے اس قدر جلد واپس ہونے میں سخت غلطی کی۔ یہ سوچ کہ انہوں نے اپنی فوج کی ازسر نو تنظیم شروع کردی اور ادھر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لئے منافقین کے ذریعے سے یہ افواہ گرم کردی کہ قریش نئے ساز و سامان کے ساتھ مدینہ پر حملہ کرنے ہی والے ہیں۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کو جب اس کی خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے بھی قریش کے دوبارہ تعاقب کے لئے پروانہ جاری فرمادیا۔ مسلمانوں نے بڑے جوش وجذبہ سے اس آواز پر لبیک کہا اور گزشتہ حالات کی ذرہ پرواہ نہیں کی۔ اس فوج میں صرف انہی لوگوں کو شامل ہونے کی اجازت دی گئی جو پہلے احد کی جنگ میں شریک ہوئے تھے اس طرح نبی کریم ﷺ ان جاں نثاروں کی اس جماعت کے ساتھ ابو سفیان کے تعاقب کے لئے مدینہ سے نکلے اور حمراء الاسد تک گئے یہ مقام مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلے پر ہے۔ ابو سفیان نے جب دیکھا کہ ابھی مسلمانوں کے حوصلہ میں کوئی فرق نہیں آیا تو اس نے ارادہ بدل دیا اور مکہ کی طرف اپنے لشکر سمیت بھاگ گیا اور مسلمان کامیاب و با مراد واپس آگئے اور یہ معاملہ ان کے پچھلے زخموں کا کافی حد تک مداوا کرگیا۔
محمد بن عمر ؓ کی روایت ہے کہ جب ہفتہ کے دن 15 تاریخ کو احد سے لوٹے تو دشمن کے لوٹ پڑنے کا اندیشہ تھا اس لئے خزرج اور اوس کے سرداروں نے مل کر رسول اللہ ﷺ کے دروازہ پر پہرہ دیا جب رات گزر گئی اور اتوار کے دن کی فجر آئی تو بلال ؓ نے صلوٰۃ الفجر کے لئے اذان پکاری اور نبی کریم ﷺ کا انتظار کرنے لگے۔ آپ ﷺ حجرہ سے تشریف لائے تو ایک مزنی شخص نے اطلاع دی کہ مشرکین جب روحاء پر پہنچے اور وہاں پڑاؤ کیا تو ابو سفیان نے کہا مدینہ کو لوٹ چلو اور روز روز کی یہ خرخش ختم کر کے واپس چلو۔ صفوان بن امیہ نے انکار کردیا اور کہنے لگا لوگو ! ایسا نہ کرو وہ لوگ شکست کھاچکے ہیں اب مجھے اندیشہ ہے کہ خزرج کے جو لوگ رہ گئے تھے وہ تمہارے خلاف جمع ہوجائیں گے اگر لوٹ کر جاؤ گے تو یہ برائے نام فتح بھی شکست میں بدل جائے گی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صفوان سیدھے راستہ پر تو نہیں ہے مگر یہ رائے اس کی بالکل صحیح تھی۔ قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ان لوگوں پر برسنے کے لئے تو تو پتھر نامزد کردیئے گئے تھے اگر وہ لوٹ پڑتے تو گزرے ہوئے دن کی طرح گئے گزرے ہوجائے یعنی ان کا نشان بھی باقی نہ رہتا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر صدیق ؓ ، عمر فاروق ؓ کو بلوایا اور یہ خبر ان کو بتائی دونوں نے جواب دیا یا رسول اللہ ﷺ ! دشمنوں کا تعاقب کیجئے اس مشورہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا کہ منادی کردو کہ رسول اللہ ﷺ دشمن کا تعاقب کرنے کا تم کو حکم دیتے ہیں۔ لیکن ہمارے ساتھ آج وہی لوگ نکلیں جو کل کی لڑائی میں حاضر تھے۔
اسیدبن حضیر جن کو احد میں بھی زخم لگے تھے اس ندا کو سن کر بولے بسرو چشم ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر حاضر ہیں۔ خاندان بنی سلمہ کے چالیس زخمی کھڑے ہوئے۔ طفیل بن نعمان ؓ کے تیرہ زخم لگے تھے۔ خراش بن صمہ ؓ کو دس۔ کعب بن مالک ؓ کو دس سے کچھ زیادہ اور عطیہ بن عامر کو بھی نو زخم لگے ہوئے تھے غرض مسلمانوں نے اپنے زخموں کے علاج کی طرف توجہ ہی نہ کی اور دوڑ کر اسلحہ سنبھال لئے۔ رسول اللہ ﷺ ان ساتھیوں کے ہمراہ مدینے سے نکل کر حمراء الاسد تک پہنچے تھے لیکن ابو سفیان اپنے لشکر کو لے کر مکہ روانہ ہوگیا تھا۔ اس موقعہ پر سعد بن عبادہ ؓ نے تیس اونٹ سواری کے لیے دیئے تھے اور کچھ جانور ذبح کرنے کے لیے بھی ساتھ رکھے تھے اس جگہ پہنچ کر سوموار کے دن 17 تاریخ کو اور منگل کے روز 18 تاریخ کو اونٹ ذبح کئے گئے اور دو دن یہاں قیام کیا گیا۔
رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ دن کو لکڑیاں اکھٹی کرو چناچہ لکڑیاں اکھٹی کی گئیں شام ہوئی تو آگ جلانے کا حکم دیا پھر حسب الحکم ہر شخص نے آگ روشن کی اور کل پانچ سو جگہوں پر روشن کی گئی تاکہ دور سے دیکھ کر کفار کو مسلمانوں کی کثرت معلوم ہو اور یہ بات جنگی تدبیرات سے متعلق ہے۔
Ayah 3:173منافقین نے شرارتاً مجاہدین کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن وہ مزید رواں دواں ہوگئے :
315: منافقین نے اس خبر کو خبر گرم کیا اور مسلمانوں سے جو ابھی ابھی احد سے مدینہ پہنچے تھے اور زخموں سے چور تھے یہ کہنا شروع کردیا کہ ” تمہارے ساتھ جنگ کرنے کے لئے دشمنوں نے بہت بڑا گروہ اکھٹا کرلیا ہے پس چاہئے کہ ان سے ڈرو۔ “ یہ خبر بجائے اس کے کہ ان کے اندر کسی طرح کا کوئی خوف و ہراس پیدا کرتی ان کی ایمانی قوت نے اس کو دوبالا کردیا۔ ” رکتی ہے میری طبع تو ہوتی ہے رواں اور “
فطرت ہے کہ جس کنوئیں کے سوتے زور دار ہوں اس کے اندر سے جتنا ہی پانی نکالا جائے اتنا ہی اس کے سوتے اور زیادہ جوش کے ساتھ ابلتے ہیں۔ اسی طرح آگ اگر قوت کے ساتھ جل رہی ہو تو گیلی لکڑی بھی اس میں ڈالنے سے اس کو مزید بھڑکانے کا سبب بن جاتی ہے منافقین کے اس جملہ نے گویا جلتی پر تیل کا کام کیا جو بات ان عزم و ایمان کے پہاڑوں کو کمزور کرنے کے لیے کہی گئی تھی اس نے ان کی جولانیوں میں مزید اضافہ کردیا۔ اس آزمائش سے ان کی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کردیا اور یہ امتحان ہی ان کے اچھے رزلٹ کا سب بن گیا۔ دراصل ایمانی قوت شے ہی ایسی ہے کہ اس کو جتنا دبایا جائے اتنا ہی زیادہ ابھرتی ہے۔ یہی وہی ہے کہ وہ حقیقی شجاعت جو اللہ کی راہ میں موت کو دنیاوی زندگی سے بھی زیادہ عزیز و محبوب بنادیتی ہے وہ مؤمن کے اس عقیدہ سے پیدا ہوتی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونے والے مرتے نہیں بلکہ حقیقی زندگی اور اپنے رب کی ملاقات سے مشرف ہوتے ہیں۔ ان لوگوں نے بھی ایسے نازل موقعہ پر جب منافقین ان کے حوصلوں کو پست کرنے میں مصروف تھے وہی بات جو انہوں نے ان کے حوصلوں کو پست کرنے کے لئے کہی تھی ان کی ایمانی قوت کو اور بڑھانے کا سبب بن گئی۔
اس کا ایک منظر آپ پیچھے سورة بقرہ کی آیت 249 میں پڑھ چکے ہیں جب طالوت کے لشکر کے کمزور دلوں نے کمزوری کا مظاہرہ کیا تھا اور ایمانی طاقت و قوت والے ” لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ “ کہنے والوں کا جواب دے رہے تھے کہ ” كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً کَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ 1ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ 00249 “ اور بالکل یہی صورت بدر کے میدان میں مسلمانوں کو پیش آچکی تھی۔ بلاشبہ اللہ ہی ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو ڈٹ کر مقابلہ کرنا جانتے ہیں اور وہ میدان جنگ میں مرنا موت نہیں بلکہ زندگی سمجھتے ہیں کیونکہ اس طرح وہ دار فانی سے دار البقاء کی طرف منتقل ہوتے ہیں اور ان کا یہ رفع آسمان صرف ان کے لئے نہیں بلکہ ان کے بعد آنے والوں کے لئے بھی انعامات الٰہی کا مشاہدہ کرنے کا باعث ہوتا ہے اور اس طرح وہ کھجوریں پھینک کر میدان جنت میں اتر آتے ہیں کہ اب جنت کے انگور کھانے کا وقت ہے دنیا کی کھجوریں کھانے کا نہیں۔
مجاہدین کی صدا کیا ہے ؟ ” جس کا کارساز اللہ ہو کیا ہی اچھا اس کا کارساز ہے۔ “
316: منافقین کیا صدا کیا تھی ؟ ” کہ تمہارے ساتھ جنگ کرنے کے لئے دشمنوں نے بہت بڑا گروہ اکٹھا کرلیا ہے پس چاہئے کہ ان سے ڈرتے رہو “ اس ” فاخشوھم “ کے جملہ نے مجاہدین اسلام کے جسموں میں بجلی کی گویا کرونٹ چھوڑ دی کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سچے مسلمان کفار سے ڈریں۔ نہیں نہیں مسلمان تو کہتے ہی اس کو ہیں جو اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے اس لئے کہ ان کو سبق ہی پڑھایا جاتا ہے کہ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ (المائدہ 5 : 44) انسانوں سے نہ ڈرو مجھ سے ڈرو۔
اس لئے انہوں نے دو ٹوک جواب منافقین کو دیا کہ ” ہمارے لئے اللہ کا سہارا بس کرتا ہے اور جس کا کارساز اللہ ہو تو کیا ہی اچھا اس کا کارساز ہے۔ “
منافقین نے مسلمانوں کو ڈرانے کے لئے جو الفاظ بولے تھے مسلمانوں کے حوصلے ان الفاظ سے ایسے بڑھے کہ زبان الٰہی نے اس کی شہادت اس طرح دی فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا 1ۖۗ مسلمانوں کا ایمان ان الفاظ نے بڑھا دیا اور اس طرح جو شوشہ انہوں نے مسلمانوں کو پست کرنے کے لئے چھوڑا تھا وہ مسلمانوں کے لئے شجاعت و بہادری کا سبب بن گیا اور جب ایمانی قوت بڑھ گئی تو ان کی زبانوں سے جو کچھ نکلا وہ یہ تھا کہحَسْبُنَا اللّٰهُ انہوں نے کہا ” ہمارے لئے اللہ کافی ہے۔ “ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ نِعْمَ الْوَكِیْلُ 00173 بہت اچھا وکیل ہے۔ وکیل کیا ہے ؟ وہی جس کے سپرد کوئی کام کردیا جائے۔ ہمیں اللہ اس لئے کافی ہے کہ ہم نے اپنا سارا معاملہ اس کے سپرد کردیا ہے۔ یعنی ” ہمارا کارساز اللہ ہے اور جس کا کارساز اللہ ہو تو کیا ہی اچھا اس کا کارساز ہے۔ “ سبحان اللہ ، یہی جملہ ہے یعنی حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ 00173 جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اس وقت کہا تھا جب وہ لوگوں کی بیسیوں میل سے بھی چوڑی سلگائی ہوئی آگ میں ڈالے گئے تھے۔ پھر اللہ نے کیا کیا کہ اس آگ کو آگ نہ رہنے دیا بلکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے اس کو سلامتی ہی سلامتی بنادیا اور یہ جملہ ان مجاہدین کی زبانوں پر آیا تو اس نے منافقین کی سلگائی ہوئی آگ پر پانی پھیر دیا۔ (بخاری و مسلم عن عبداللہ بن عباس ؓ
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آپڑے تو تم حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ 00173 پڑھو اور اس کام میں لگ جاؤ ۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں کسی طرح فارغ ہو کر بآرام رہوں جبکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم الٰہی کا منتظر کھڑا ہے۔ صحابہ کرام ؓ یہ سن کر ڈر گئے اور پوچھا یا رسول اللہ ﷺ جب وہ وقت آئے کہ صور پھونکا جائے تو ہم کو کیا کرنا چاہئے فرمایا : حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ عَلٰی اللّٰہِ تَوَکَّلنَا پڑھو (مسند احمد)
ماحصل آپ ﷺ کے کلام کا یہ ہوا کہ موت ہر وقت انسان کا پیچھا کئے ہوئے ہے کب آمنا سامنا ہوجائے کسی کو معلوم نہیں لیکن جب وہ وقت آجائے تو اس وقت زبان سے یہ الفاظ ادا کرو اور بےخطر رفع آسمانی کی اس منزل کو رواں دواں ہوجاؤ اور فکر نہ کرو اور جس کا کارساز اللہ ہو تو کیا ہی اچھا اس کا کارساز ہے۔
Ayah 3:174جب کہنا اور کرنا ایک جیسا ہوجائے تو اللہ کا فضل ہوجاتا ہے :
317: ان مجاہدین اسلام کی زبانوں پرحَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ کا ورد تھا اور ہاتھوں میں اسلحہ تھامے میدان جنگ کی طرف رواں دواں تھے وہ سروں پر کفن باندھے بےدھڑک نکلے تھے اس طرح جب ان کا کہنا اور کرنا ایک ہوگیا تو اللہ نے ان پر بیک وقت تین انعامات فرمادیئے۔ پہلا انعام یہ ہوا کہ کافروں کے قلوب میں ایسا رعب اور اتنی ہیبت ڈال دی کہ وہ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے جس کی وجہ سے اس دفعہ قتل و قتال کی نوبت ہی نہ آئی اور اس انعام کو اللہ تعالیٰ نے خود ایک نعمت فرمایا ہے ” پھر یہ لوگ بےخوف ہو کر نکلے اور اللہ ” نعمت “ سے شاد کان واپس آگئے کوئی گزند ان کو نہ پہنچی۔ “ دوسرا انعام اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ان مجاہدین نے حمر الاسد کے بازار میں تجارت کا مال خریدا اور اس مال سے اللہ نے ان کو مالا مال ہی کردیا۔ ان کی اس تجارت سے ان کو اتنا نفع ہوا کہ اس کو خود اللہ تعالیٰ نے ” فضل “ قرار دیا۔ لیکن اس ” فضل “ سے مراد یقیناً وہ ثواب ہے جو مجاہدین کو جہاد پر نکلنے کا ہوا اگرچہ جنگ اس موقعہ پر نہیں ہوئی تھی اور آخرت کا اجر وثواب بھی اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا ” فضل “ ہے بلکہ اس سے بڑھ کر اور فضل ہو ہی کیا سکتا ہے ؟ اور پھر خصوصاً کوئی دکھ نہیں پہنچتا نہ زخمی ہونے کا ، نہ قتل ہونے کا اور نہ لوٹے جانے کا۔ اس لئے کہ معرکہ کار زار گرم ہی نہیں ہوا اور وہ بخیر و خوبی دشمنوں پر رعب و دبدبہ ڈال کر واپس آگئے۔ تیسرا انعام جو پہلے دونوں انعامات سے بھی بڑھ کر ہے وہ ہے ” وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ 1ؕ “ یعنی رضائے الٰہی کا حصول جو اس جہاد میں ان غازیوں کو خاص طور پر حاصل ہوا۔