Ayah 3:73اہل کتاب کی مذکورہ اسکیم کا بقیہ حصہ :
150: اہل کتاب کی اسکیم کا بقیہ حصہ اس طرح ہے کہ ” وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان لوگوں کے سوا جو تمہارے دین کی پیروی کرنے والے ہوں اور کسی کی بات نہ مانو۔ “ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو اس طرح تفہیم کراتے کہ حقیقی ایمان تمہارا صرف اس نبی پر ہو جو شریعت اسرائیتے کا پیرو ہو۔ پس جب کہ ایک طرف بعض لوگوں کو اس چالبازی کے لیے تیار کیا کہ وہ جھوٹے طور پر ایمان کا اظہار کر کے پھر انکار کردیں یا کچھ حصہ کو صحیح تسلیم کرلیں تو دوسری طرف اپنے پیروؤں کو یہ بھی کہہ دیا کہ تم صرف ایسے نبی کو مانو جو تمہاری شریعت کا پیرو ہو اور اس طرح نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے سے روکا کیونکہ آپ ﷺ کی شریعت میں بہت سی باتیں ان کی بنائی ہوئی شریعت موسوی کے خلاف تھیں اور ان کا یہ قول قرآن کریم کی اس آیت کے بھی مطابق ہے : قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَکْفُرُُوْنَ بِمَا وَرَآئَ ہٗ (البقرہ : 91:2) ” وہ کہتے ہیں کہ ہم تو صرف وہی بات مانیں گے جو ہم پر اتری ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے اس سے انہیں انکار ہے۔ “ انہوں نے ایسا کیوں کہا ؟ اس لیے کہ دراصل ان کا کہنا یہ ہے کہ جو نبی آئے شریعت موسوی اور قوم یہود یعنی بنی اسرائیل ہی میں سے آئے بنی اسماعیل سے آیا ہوا نبی ہم نہیں مان سکتے۔
اصل ہدایت تو وہی ہدایت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ہے :
151: اہل کتاب کا یہ کہنا تھا کہ ” سوائے اس نبی کے جو تمہاری شریعت کا پیرو ہو اور کسی کی نہ مانو “ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ” یہ بات بھی نہ مانو کہ جیسا کچھ دین تمہیں دیا گیا ہے ویسا ہی کسی دوسرے انسان کو بھی دیا جاسکتا ہے۔ “ ارشاد ہوتا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہہ دو کہ ہدایت تمہاری اسکیموں کے تحت نہیں ہے بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنے قانون کے مطابق دیتا ہے جس کو دیتا ہے۔ لیکن تعجب تو یہ ہے کہ ان یہود کو اتنا خیال بھی نہیں رہتا کہ ہم کم از کم ایسی باتیں تو نہ کریں جو خود ہماری تسلیم شدہ کتابوں کی ہدایت کے خلاف ہوں۔ اسی رسالت کے متعلق تو یہ رہنمائی ان کی اپنی کتاب میں موجود ہے۔ چناچہ تورات میں ہے کہ :
” خداوند تیرا خدا تیرے لیے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا۔ تم اس کی سننا۔ “ (استثناء : 15:18)
یہ جو فرمایا کہ ” تیرے بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی “ یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جو بنی اسرائیل کے نبی تھے نبی اسماعیل میں سے آنے والے نبی کی اطلاع دی تھی اور مثیل موسیٰ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی ویسی ہی ہدیات دی گئی جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی۔ اب یہود یہ کہیں کہ ” تم یہ بات نہ مانو کہ جیسا کچھ دین تمہیں دیا گیا ہے ویسا ہی کسی دوسرے انسان کو بھی دیا جاسکتا ہے۔ “ تو بات ان یہود کی درست ہے یا اس اللہ کی جو اصلی ہدایت دینے والا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہود اس طرح سے جو کچھ کہتے ہیں ان کے اپنے ہی دین کے وہ خلاف ہے۔
اس بات کو سورة بقرہ آیت 76 میں بھی بیان کیا ہے جہاں فرمایا گیا ہے کہ ” جب یہ لوگ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو اپنے آپ کو مومن ظاہر کرتے ہیں لیکن جب اکیلے میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں تو کہتے ہیں جو کچھ تمہیں خدا نے علم دیا ہے وہ ان لوگوں پر کیوں ظاہر کرتے ہو ؟ کیا اس لیے کہ وہ تمہارے خلاف تمہارے پروردگار کے حضور اس سے دلیل پکڑیں۔ “ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ کی آیت 76 ۔
قرآن کریم نے علمائے یہود کی یہ گمراہی کہ وہ کتاب اللہ کے احکام پر اپنی رائیوں اور خواہشوں کو ترجیح دیتے اور پھر اپنے گڑھے ہوئے حکموں اور مسئلوں کو کتاب اللہ کی طرح واجب العمل بتلاتے تھے۔ آج بدقسمتی سے علمائے اسلام کی اکثریت بھی وہی کچھ کر رہی ہے جو کبھی علمائے یہود کے ذمہ لگایا جاتا تھا۔
اہل کتاب سے کہا جا رہا ہے کہ فضل و بخشش تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے :
152: انعاماتِ الٰہی میں سے سب سے بڑا انعام نبوت کا انعام تھا جب تک کہ نبوت جاری تھی۔ اب جب نبوت ختم ہوگئی جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نعام اب کسی کو نہیں دیا جاسکتا کہ یہ انعام جس جس کو دیا جانا تھا یا دیا جا چکا کیا یہ انعام ختم ہوچکا ؟ نہیں بلکہ انعام پانے والے ختم ہوگئے اس لیے کہ اب کوئی اس انعام کا مستحق پیدا ہی نہیں ہو سکتا تو انعام کیونکر دیا جاسکتا ہے ؟ یہود سے کہلوایا جا رہا ہے کہ ” تم ان لوگوں سے کہو فضل و بخشش تو اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق اپنے فضل و کرم سے مالامال کردیتا ہے۔ “ تمہاری طرف سے پابندی کیسے لگائی جاسکتی ہے جب کہ ایک چیز تمہارے اختیار ہی کی نہیں ہے۔ تم کو تو چاہیے تھا کہ تم وہی کرتے جو تمہارے اختیار میں ہے۔ اختیار سے تجاوز تو انسانیت سے تجاوز کا دوسرا نام ہے۔
Ayah 3:74اللہ جس کو چاہتا ہے حسب مصلحت تکوینی پنی رحمت کے ساتھ خاص کرلیتا ہی :
153: فضل و رحمت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے اپنی مصلحت تکوینی کے مطابق عطا کردیتا ہے۔ سب کام اس کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ وہی داتا ہے اس کے سوا کوئی داتا نہیں جسے چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق ایمان و عمل اور علم و فضل کی دولت سے مالامال کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق راہ حق سے اندھا اور کلمہ اسلام سے بہرا اور صحیح سمجھ سے محروم کردیتا ہے۔ اس کے سب کام اپنے قانون کے مطابق ہوتے ہیں جو کبھی بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتے وہ وسعت علم رکھتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی بھی علم نہیں رکھتا۔ وہ جسے چاہے اپنی رحمت سے خاص کر دے اس نے ہرم کام کے لیے ایک قانون مقرر کردیا ہے اس کا فضل و کرم سب پر بھاری ہے۔
اے مسلمانو ! اس خالق حقیقی نے بیحد و بےپایاں انعامات تم پر کیے اور سارے انعامات سے بڑا انعام اس نے تم پر یہ کہا کہ تمہارے نبی محمد رسول اللہ ﷺ کو تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) پر فضیلت دی اور ہر لحاظ سے کامل اور ہر حیثیت سے مکمل شریعت اس نے تم کو دی اور فائدہ حاصل کرنے کا اختیار بھی تم کو دے دیا۔
Ayah 3:75اسلام ہی دین فطرت ہے وہ اہل کتاب کی خوبی کو خوبی تسلیم کرتا ہے :
154: اسلام ہی وہ دین فطرت ہے جس میں کسی مخالف سے مخالف انسان کی خوبی بھی چھپانے کا درس نہیں دیا جاتا بلکہ یہی سمجھایا جاتا ہے کہ نیکی نیکی ہے اور خوبی خوبی ہے خواہ کوئی کرے۔ برائی برائی ہے اور کمزوری کمزوری ہے خواہ وہ کسی سے ہو۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کسی غیر مسلم کے اچھے اوصاف کی مدح کرنا جائز اور درست ہے۔ زیر نظر آیت میں بعض اہل کتاب کے امانت دار ہونے پر ان کی مدح کی گئی ہے۔ اگر اس بعض سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو ایمان لا چکے تھے تو ان کی تعریف کرنے میں کوئی اشکال ہی نہیں لیکن وہ مراد ہوں جو ایمان نہیں لائے تھے تو پھر خیال پڑتا ہے کہ ان کے کفر کے باوجود ان کی مدح کیوں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی کی مدح کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ مسلم ہو غیر مسلم کی مدح بھی کی جاسکتی ہے جب کہ اس میں وہ خوبی موجد ہو۔ ان اہل کتاب میں یہ خوبی موجود تھی کہ وہ اتنے دیانت دار ہیں کہ ” اگر تم چاندی سونے کا ایک ڈھیر بھی ان کی امانت میں چھوڑ دو تو وہ تمہاری طلب پر تمہارے حوالے کردیں گے “ سوال یہ ہے کہ جب کافر کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا تو پھر ان کی مدح کا فائدہ ؟ جواب یہ ہے کہ دینات و امانت کا تعلق آخرت ہی سے نہیں بلکہ اس دنیا کی زندگی سے بھی ہے۔ کسی کی مدح کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس فعل کا تعلق آخرت ہی سے ہو اس سے بتلانا یہ مقصود ہے کہ اچھی بات اگرچہ کافر کی ہو وہ بھی اچھی ہے جس کا فائدہ اس کو دنیا میں ” نیک نامی “ سے ملتا رہتا ہے اور آخرت میں بھی عذاب کی کمی سے یقینا فائدہ ہوگا اس سے تو یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام تعصب اور تنگ نظری سے کام نہیں لیتا بلکہ کھلے دل سے اپنے مخالف کے ہنر و خوابی کی بھی اس کے مرتبے کے مطابق داد دیتا ہے۔
فرمایا جا رہا ہے کہ جس قوم میں ایسے دیانت دار لوگ موجود ہیں اس قوم میں ایسے بددیانت بھی ہیں کہ صرف ایک دینار دے کر دیکھ لو کبھی وہ واپس کرنے کے لیے تیار نہ ہوں گے گویا انہوں نے واپس دینے کے لیے لیا ہی نہ تھا۔ ہاں ! اگر واپس دیں گے بھی تو آسانی سے نہیں بلکہ جب تم تقاضا پر تقاضا کرتے رہو گے اور ہر حال ان کا پیچھا نہیں چھوڑو گے گویا ہر وقت تم ان کے سر پر بیٹھ گئے اور ان کا ناطقہ بند کردیا وہ اتنے مجبور ہوگئے کہ اب ادائیگی کے سوا کوئی چارا نہ رہا تو چار و ناچار ان کو واپس دینا پڑا۔ یہ مال تو ایک چھوٹی سی رقم کا ہے اگر ان کے ہاتھ بڑی رقم لگ گئی تو پھر کیا ہوگا ؟ فرمایا جا رہا ہے کہ اس کے لیے انہوں نے حیلہ گھڑا ہوا ہے وہ کبھی واپس کرنے کے نہیں بلکہ ہر حال میں وہ ہضم کریں گے اور پھر ہضم کرنے کے لیے اس حیلہ سے کام لیں گے۔
جو بددیانت ہیں انہوں نے بددیانتی چھپانے کے لیے حیلہ بنا رکھا ہے :
155: فرمایا حق دار کا حق ادا نہ کرنے کے لیے انہوں نے ایک حیلہ اختیار کر رکھا ہے وہ کہتے ہیں کہ ” امیوں سے معاملہ کرتے ہوئے ہمارے لیے کوئی مواخذہ نہیں ہے “ امی سے مراد ان پڑھ اور جاہل بھی ہو سکتا ہے لیکن اس جگہ مراد مکہ کے وہ لوگ ہیں جو اہل کتاب نہ تھے اور وہ اسی لقب یعنی امی سے پہچانے جاتے تھے۔ اہل کتاب کہا کرتے تھے کہ ان امیوں کا مال کھا جانے میں کوئی گناہ نہیں۔ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ اللہ پر کھلا جھوٹ اور بہتا ہے۔ اس کا علم ان کو بھی ہے کیونکہ ان کی کتابوں میں اس کی وضاحت موجود ہے کہ ناحق مال کھانا حرام ہے لیکن یہ ان لوگوں نے اپنی خواہش نفس سے بات گھڑ لی ہے یا ان کے پادریوں اور مذہبی پیشواؤں کی کارستانی ہے اس لیے کہ یہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے یہ اتنے شاطر لوگ ہیں کہ خود بات گھڑتے ہیں اور شریعت کے رنگ میں اس کو اس طرح رنگ دیتے ہیں کہ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا غیر یہود کے ساتھ کاروباری تعلق کے سلسلہ میں بدمعالگی کے لیے برابر بدنام رہے ہیں قومی مفاخرت نخوت کا نتیجہ عموماً یہی ہوتا ہے۔ گوروں کا برتاؤ کالوں کے ساتھ آج بھی دنیا کے ہر علاقے میں کیا ہے ؟ سب پر واضح ہے۔
اہل کتاب کے اس گروہ کا ذکر ان کی ذم کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ اس قابل ہیں کہ ان کی بددیانتی کو واشگاف الفاظ میں بیان کیا جائے تاکہ مسلمان اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ بددیانتی بہرحال بددیانتی ہے خواہ کسی سے بھی کی جائے اور اس کو کوئی حیلہ جائز و درست نہیں کرسکتا۔
شومئی قسمت کہ آج مسلمانوں نے بھی ایسے بیسیوں حیلے گھڑ لیے ہیں اور انہی حیلوں بہانوں سے ایک دوسرے کا مال ہڑپ کیا جاتا ہے۔ مرنے والوں کی روحوں کو مال پہنچانے کے ٹھیکہ دار جو ثواب کی صورت میں منی آرڈر پہنچاتے ہیں ان کی تو کوئی کمی نہیں کوئی قصبہ یا شہر ان کی زد سے نہیں بچا۔
زیرنظر آیت میں دینار کا لفظ آیا ہے سوال پوچھا جا رہا ہے کہ دینار کو دینار کیوں کہتے ہیں ؟ جواب یہ ہے کہ دینار کو اس لیے دینار کہتے ہیں کہ وہ دین یعنی ایمان بھی ہے اور نار یعنی آگ بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جائز طریقہ سے لو گے تو دنیا میں تا کام دے ہی گا لیکن آخرت میں کوئی نقصان نہیں کرے گا۔ لیکن اگر ناحق لو گے تو نار یعنی آتش دوزخ ہے دنیا میں اگرچہ اس سے کام لے لو گے لیکن آخرت میں آتش دوزخ بھی ملے گی اس لیے اس کو ہاتھ لگانے سے پہلے ذرا سوچ لو کہ کیا لے رہے ہو اور یاد رکھو کہ ناحق جس سے بھی لو گے فی الواقع نار ہی ہوگی۔
ہر بددیانتی کرنے والا جانتا ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں :
156: قرآن کریم کہتا ہے کہ دیانت تو ہر حال میں دیانت ہے اور خیانت ہر حال میں خیانت ہے۔ دین و مذہب کے اختلاف سے اچھائی اور برائی کے حقائق معطل نہیں ہوجاتے۔ جو شخص بددیانتی کرتا ہے خواہ وہ کسی گروہ یا کسی اعتقاد والے آدمی کے ساتھ کرے گناہ ہے اور وہ قیامت کے روز اللہ کی بخشش و رحمت سے محروم رہے گا اور یہ بات کسی سے بھی پوشیدہ نہیں جو کرتا ہے بالکل جان بوجھ کر کرتا ہے اور ایک برائی کی بجائے برائیوں کا مرتکب ہوتا ہے ایک بددیانتی اور دوسری دھوکہ بازی اور دونوں ہی برائی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔
Ayah 3:76عہد کرنے والے اور دیانتدار ہی متقی لوگ ہیں :
157: اس آیت میں اسلام کی پوری وسعت بیان فرما دی گئی۔ ذکر تو صرف امانت کا تھا مگر ایک قسم کی ذمہ داری کو اس کے اندر داخل کرنے کے لیے پہلے عہد کے پورا کرنے کی طرف توجہ دلائی اور پھر تقویٰ کی طرف اس کو منتقل کردیا گیا۔ عہد کو تو ہر ایک شخص سمجھتا ہے یعنی کوئی بھی ذمہ داری جو انسان علی الاعلان اپنے اوپر لے لیتا ہے عہد میں داخل ہوجاتی ہے مگر تقویٰ کے اختیار کرنے میں اشارہ زیادہ تر باریک امور کی طرف ہے جس کا تعلق امانت اور دیانت داری سے ہے کیونکہ امانت کی ادائیگی میں ہر قسم کے ان حقوق کی ادائیگی داخل ہے جو انسان کے ذریعہ امانت ہوں خواہ وہ عہد کے اندر آتے ہوں یا نہ آتے ہوں۔ گویا کھلا عہد ہو یا بطور امانت کوئی ذمہ داری خواہ کسی کے متعلق ہو تو ان عہدوں اور امانتوں کو ادا کرنا ضروری و لازمی ہے اور اس طرح انسان اللہ کا محبوب بنتا ہے اور اتقی کا مرتبہ ایک ایسا کامل ہے کہ ایفائے عہد بھی اس میں آجاتا ہے اس لیے آخر آیت میں صرف ” یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ “ کے الفاظ فرما دیے اور انہی عہود میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے گئے عہد و پیمان جن کو ” عہد میثاق “ کا نام بھی دیا جاتا ہے داخل ہیں۔ کیونکہ اس کے احکام جن کو ایمان لا کر انسان علی ال ایمان قبول کرچکا ہے اس لیے ان کی تعمیل بھی ضروری ہے اور اس کے بعد اب اللہ تعالیٰ ہی کے عہد کا ذکر شروع ہو رہا ہے۔
Ayah 3:77اللہ کے عہد توڑنے والوں اور جھوٹی قسمیں کھانے والوں کا حال :
158: عہد اس قول کا نام ہے جو فریقین کے درمیان باہمی بات چیت سے طے ہوتا ہے جس پر جانبین کو قائم رہنا ضروری ہوتا ہے بخلاف وعدہ کے کہ وہ صرف جانب واحد سے ہوتا ہے یعنی عہد عام ہے اور وعدہ خاص ہے۔ ایفائے عہد کی قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کی سنت میں بہت تاکید آئی ہے چناچہ اس آیت میں بھی عہد کے خلاف ورزی کرنے والے پر پانچ وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔
(1) ان کو جنت کی نعمتوں میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔
(2) اللہ تعالیٰ ان سے خوش کن بات نہیں کرے گا۔
(3) اللہ تعالیٰ ان کی طرف قیامت کے روز رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا۔
(4) اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف نہیں کرے گا کیونکہ عہد کے خلاف کرنے کی وجہ سے عبد کا حق تلف ہوا ہے اور حق العبد کو اللہ تعالیٰ نے معاف نہ کرنے کا خود عہد فرمایا ہے۔
(5) اور ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔
یہ گویا آیت کا ماحصل تھا اب ذرا تفصیل بیان کی جاتی ہے :
” ابو وائل ؓ کی وساطت سے عبداللہ ؓ کی روایت بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی مسلمان کا مال مارنے کے لیے جھوٹی قسم کھائے گا تو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی پیشی ایسی حالت میں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوگا اور یہ بیان کرنے کے بعد آپ ﷺ نے یہ پوری آیت ولھم عذاب الیم تک تلاوت فرمائی۔ حضرت عبداللہ یہ حدیث بیان کرچکے تو حضرت اشعث ؓ جو قیس کے بیٹے تھے باہر سے اندر تشریف لائے اور لوگوں سے دریافت کیا کہ ابوعبدالرحم نے تم سے کیا حدیث بیان کی تھی ؟ لوگوں نے بتا دیا کہ یہ یہ بیان کیا تھا حضرت اشعث کہنے لگے کہ یہ آیت میرے متعلق نازل ہوئی تھی۔ بات اس طرح ہوئی کہ میرا ایک کنواں میرے چچا کے بیٹے کی زمین میں تھا میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر گزارش کی آپ ﷺ نے فرمایا اپنے گواہ پیش کرو ورنہ اس کی قسم کو تسلیم کرلو۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! وہ تو اس پر قسم کھالے گا آپ ﷺ نے فرمایا جس نے مسلمان آدمی کا مال مارنے کے لیے جھوٹی قسم کھائی جب کہ وہ اس قسم کے کھانے میں جھوٹا ہو تو قہ قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ کی پیشی میں حاضر ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہوگا۔ (بخاری و مسلم)
ایک حدیث میں حضرت اشعث بن قیس ؓ کا قول اس طرح منقول ہے کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ زمین کا نزاع تھا یہودی میرے حق کا منکر تھا میں اس کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گیا۔ آپ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا کیا تیرے پاس گواہ ہیں ؟ میں نے عرض کیا نہیں۔ آپ ﷺ نے یہودی سے فرمایا تو قسم کھا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! یہ تو قسم کھالے گا اور میرا مال لے جائے گا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ابوداؤد ، ابن ماجہ)
حضرت عبداللہ بن ابی بن اوفیٰ سے روایت ہے کہ ایک شخص کچھ تجارتی سامان بازار میں لایا اور کسی گاہک کو پھانسنے کے لیے اللہ کی قسم کھا کر کہنے لگا کہ مجھے اس کی اتنی قیمت ملتی ہے حالانکہ اس کو اتنی قیمت نہیں ملتی تھی۔ یا اس طرح کہا کہ میں نے اس سامان کی اتنی قیمت دی ہے اور اس پر تاکیداً قسم بھی کھائی حالانکہ اس نے اتنی قیمت نہیں دی تھی اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری)
حافظ ابن حجر (رح) فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں کہ ان دونوں احادیث میں کوئی تضاد نہیں اس لیے کہ بات تقریباً ایک ہی جیسی ہے اور مختلف واقعات بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ ایک آیت کے نزول کے دو سبب بھی ہو سکتے ہیں اور ایک بار آیت نازل ہوئی ہو تو اس جیسے دوسرے واقعہ پر وہ آیت تلاوت کی جاسکتی ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس آیت کا نزول یہ تھا۔ بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اگر آج کوئی ایسا واقعہ پیش آئے تو بھی اس آیت کی تلاوت کی جاسکتی ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ کام یا یہ بات اس آیت کے خلاف ہے۔
ثمنا قَلِیْلًا “ سے مراد متاع دنیا ہے وہ کثیر ہو قلیل کیونکہ جنت کی نعمتوں کے بالمقابل پوری دنیا کی دولت بھی ہیچ ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ادائے امانت کے عہد اور جھوٹی قسموں کے عوض مال حاصل کرتے ہیں وہ ثمن قلیل ہی ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ آیت کا شان نزول کوئی بھی ہو اور کسی واقعہ کے متعلق بھی ہو پہلی بار نازل ہوئی ہو اس جیسے ہر واقعہ پر اس کا اطلاق جائز اور درست ہے اور یہی وجہ ہے کہ کتب تفاسیر میں اس کے کئی ایک شان نزول درج ہوئے ہیں اور مقام و حکم کے لحاظ سے سب صحیح ہیں جن میں سے یہاں دو کا ذکر اوپر کردیا گیا۔
ان احادیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر فریقین میں اختلاف ہوجائے تو ظاہر ہے کہ ایک ان میں سے مدعی ہوگا ہوگا اور دوسرا مدعا علیہ۔ مدعی کو گواہ پیش کرنا ہوں گے اگر وہ گواہ پیش نہ کرسکے تو مدعا علیہ پر قسم ہوگی اور مدعا علیہ قسم کھالے تو مدعی کو تسلیم کرنا ہوگا اور حقیقت حال اللہ کے سپرد کرنا ہوگی۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ فریقین میں سے ایک مسلم اور دوسرا غیر مسلم ہو تو بھی فیصلہ تم پر ہی ہوگا اور قسم اللہ کی کھائی جائے گی غیر اللہ کی قسم نہیں کھائی جاسکتی۔
خیانت کرنے والوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا :
159: ” جو لوگ دنیاداری کی جگہ خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں تو یہی لوگ ہیں کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا “ ابوامامہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جس شخص نے قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارا اللہ نے اس کے لیے دوزخ لازم کردی اور جنت حرام کردی ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اگرچہ تھوڑی سی چیز ہو آپ ﷺ نے فرمایا اگر درخت یلو کی ایک ٹہنی ہو ایک روایت میں ہے کہ یہ آخری لفظ رسول اللہ ﷺ نے تین بار دہرایا (مسلم) تاکید کے لیے آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ ایک لفظ کو بار بار کم از کم تین بار دہراتے تھے۔
احادیث و آثار سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ انسانی اعمال نامہ کے تین حصے ہوں گے۔ ایک حصہ وہ جس کی پرواہ سختی کے ساتھ نہیں ہوگی۔ دوسرا حصہ وہ جس میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑی جائے گی اور بعد میں وہ معاف ہو یا نہ ہو اور تیسرا حصہ وہ ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ ہرگز ہرگز معاف نہیں فرمائے گا۔ جو معاف نہیں فرمائے جائیں گے وہ تو شرک ہے اور جس حصہ کا کوئی خاص پروا نہیں فرمائے گا وہ انسان کا خود اپنی جان پر ظلم ہے یعنی وہ حقوق جو براہ راست خدا کے انسان پر ہیں و اگر ان کو ادا نہ کیا گیا جیسے روزہ یا نماز کا ترک ہوگیا جس میں کوئی چیز بھی نہیں چھوڑی جائے گی وہ حقوق العباد ہیں یعنی انسانوں کو باہم حق تلفیاں ہیں جن کا لامحالہ بدلہ دینا ہوگا۔ ہاں ! جس کی حق تلفی ہوگی اگر وہ معاف کر دے یہ دوسری بات ہے۔
دردناک عذاب میں کون کون لوگ ہو سکتے ہیں اور آج مسلمانوں کی حالت کیا ہے ؟
160: ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین لوگ ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ کلام نہیں فرمائے گا اور نہ ان کی طرف نظر شفقت سے دیکھے گا اور نہ ہی ان کو پاک کرے گا اور ان ہی کے لیے عذاب دردناک ہے۔ آپ ﷺ نے یہ آیت تین بار تلاوت فرمائی۔ حضرت ابوذر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ ناکام و نامراد ہوں گے مگر وہ ہیں کون لوگ ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک تو وہ جو غرور تکبر کی وجہ سے تہبند نیچی لٹکانے والے ہیں یعنی ٹخنوں سے نیچے اور دوسرے وہ جو احسان جتلانے والے ہیں کہ جب کسی کو کوئی چیز احساناً دے دی پھر بار بار جتلاتے رہے اور جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اپنے مال کو فروخت کرنے والے۔ (مسلم ، ابوداؤد ، نسائی ، ترمذی)
مقام غور ہے کہ آج خود مسلمان ان تینوں چیزوں کے مرتکب نظر آتے ہیں۔ آگے گزرنے سے پہلے اپنا جائزہ لے لیں کہ کیا آپ بھی ان تینوں چیزوں میں سے کوئی موجود تو نہیں ؟ یاد رہے کہ اس کا علاج بھی یہی ہے کہ ہر آدمی خواہ وہ کوئی ہو خود اپنا جائزہ لے بجائے اس کے کہ ہم سب ایک دوسرے کا جائزہ لیتے رہیں اس سے مسئلہ کا حل نہیں نکل سکتا۔ مذکورہ تینوں باتیں ایسی ہیں کہ کسی دوسرے سے پوچھنے اور سوال کرنے کی نہیں بلکہ ہر انسان بغیر کچھ پوچھے اپنا جائزہ لے سکتا ہے کہ میرا تہبند ، شلوار یا پاجامہ و پینٹ کی کیا پوزیشن ہے۔ احسان جتانا بھی بالکل عام ہے اور ہر آدمی کو اس سے واسطہ پڑ سکتا ہے اور یاد رہے کہ دکھاوا بھی دراصل احسان جتلانے کی ایک صورت ہے بلکہ احسان جتلانے کی ساری صورتوں سے زیادہ اور نہایت بری صورت۔ لیکن آج ہمیں محسوس بھی نہیں ہو رہی بلکہ جو دکھاوا نہ کرے وہ محسوس ہوتا ہے کہ اس نے ایسا کیوں نہیں کیا اور نہ کرنے والے کو برا سمجھا جاتا ہے کیا اپنی عزیز بیٹی کو رخصت کرتے وقت دکھاوا نہیں کیا جاتا ؟ عزیزوں اور رشتہ داروں کے ہاں کوئی چیز لے جاتے وقت دکھلاوا نہیں ہوتا معمولی باتوں میں بھی اور بڑے بڑے کاموں میں بھی آخر کیوں ؟ اس لیے کہ سب کو معلوم ہو کہ فلاں نے یہ کیا اور یہ کیا ، اگر یہ معلوم نہ ہو تو بےعزتی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلِیْہِ رَاجِعُوْنَ پھر آج دیا تو کل واپسی کا مطالبہ جو واپس نہ کرسکے یا اس قدر واپس نہ کرے اس سے کیا سلوک ہوتا ہے ؟ سب کو معلوم ہے۔ بھائیو اور بہنو ! یہ سب بری رسومات ہیں جن کا تعلق اسلام سے نہ ہے۔ اپنا اپنا جائزہ لے کر ہی ان کا تدارک کیا جاسکتا ہے۔ خریدو فروخت میں مال بیچنے کی جو صورت آج کل رائج ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ قسموں پر قسمیں خدا کی اور غیر خدا کی اور یہ بات تو آج کل اتنی عام ہے کہ اس سے کوئی بھی شاید مستثنیٰ نہ کیا جاسکے کہ مجھے اس چیز کے اتنے دام ملتے ہیں یا یہ چیز میں نے اتنے کی خود خریدی ہے حالانکہ نہ اتنے دام ملے ہوتے ہیں اور نہ ہی اتنے کی خریدی ہوتی ہے۔
یاد رکھو کہ کسی چیز کے صرف پڑھ لینے یا سن لینے میں نجات نہیں جب تک اس کے مطابق عمل نہ ہو بلکہ پڑھ لینا اور سن لینا اور پھر اس کے مطابق عمل نہ کرنا نتیجہ عمل کو لازم و ضروری کردیتا ہے۔ ان تینوں چیزوں کو عمل میں نہ لانے کا نتیجہ کیا ہے کہ ان کے لیے دردناک عذاب کی وعید ہے۔ اس لیے یہ معمولی باتیں نہیں ہیں بلکہ نہایت اہم ضروری باتیں اور ہر انسان کا اپنا فرض ہے کہ وہ خود اپنا عمل نگاہ میں رکھے کہ میں کیا کر رہا ہوں یا مجھ سے کیا سرزد ہو رہا ہے ؟
یہ جو فرمایا کہ ” تین ہیں جن سے قیامت کے روز اللہ کلام نہیں فرمائے گا۔ “ تین ہیں سے مراد ہے کہ تین قسم کے لوگ ہیں اور پھر یہ ” تین ہیں “ بہت سی احادیث میں مختلف کاموں سے بھی نظر آتے ہیں مثلاً کسی حدیث میں ” تین ہیں “ کے بعد ہوگا کہ ایک ان میں سے وہ جو ضرورت سے زائد پانی رکھتا ہے اور بیابان کے اندر پانی کی ضروت رکھنے والے کو وہ پانی نہ دے اور دوسرا وہ جو امام کی بیعت کرے لیکن صرف دنیا کے لیے اگر امام نے کچھ دے دیا تو وفادار ورنہ غدار وغیرہ وغیرہ تو یہ کوئی اختلاف نہیں بلکہ کسی موقع پر کوئی تین باتیں ارشاد فرمائیں اور کسی موقع پر کوئی سی تین باتیں اور یہ انداز گفتگو ہوتا ہے جو ہر دور اور ہر زمانہ میں پایا جاتا ہے اس کے پیچھے پڑ کر کسی بات کو جھٹلانا یا شک کرنا جہالت اور نادانی کے سوا کچھ بھی نہیں۔
مثلاً کسی حدیث میں آیا کہ تین بچوں نے یہ بات کی ہے اور پھر ان کی وضاحت کرتے وقت کبھی کوئی تین بیان فرمائے اور کبھی کوئی بیان فرما دیے دراصل وہ حسب ضرورت بیان ہوتا ہے جو ضرورت کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ پھر تین بچوں سے مراد بھی تین ہی بچے نہیں بلکہ تین قسم کے بچے ہوتے ہیں اس طرح بولنے سے مراد بھی بزبان قال نہیں بلکہ بزبان حال مراد ہوتا ہے۔ جس کو بیان کرتے وقت اس طرح بیان کیا کیا جاتا ہے جس طرح زمین بولتی ہے آسمان بولتا ہے اور زمین و آسمان کی ہرچیز بولتی ہے جاندار بولتے ہیں اور بےجان اور ٹھوس چیزیں بولتی ہیں لیکن ان سب کے بولنے کا مطلب ہر کوئی سمجھتا ہے کہ ان کا بولنا کیا ہے ؟ اور کیسا ہے ؟ ایسی باتیں ٹھوکر کا باعث نہ ہوں بلکہ جس سے جو مراد ہے وہی مراد لینا عقل مندی ہے لفظی بحث اور تکرار بےکار ہوتا ہے۔ اس طرح کچھ احادیث میں سات سات آدمیوں کا ذکر ہے اور کچھ حادیث میں دس دس آدمیوں کا جس سے مراد بھی اتنی اقسام ہی ہوں گی۔
ایک حدیث میں تین آدمیوں کی تفصیل اس طرح ارشاد فرمائی گئی ہے جو حضرت سلیمان ؓ کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ” ایک بوڑھا زانی ، دوسرا شیخی خوار مفلس اور تیسرا وہ جس کا سرمایہ ہی قسم ہے کہ بیچے گا تو قسمیں اور خریدے گا تو قسمیں۔ “ مطلب یہ ہے کہ بیچے گا تو قسمیں کھا کھا کر کہے گا کہ مجھے اتنے دام ملتے ہیں اور خریدے گا تو کہے کہ یہ چیز مجھے اتنے کی ملتی تھی اور اس بات پر قسموں اور قسمیں کھاتا رہے گا۔
Ayah 3:78اہل کتاب کی یہ گمراہی کہ وہ کتاب اللہ کو توڑ موڑ کر پیش کرتے رہتے ہیں :
161: ” اہل کتاب میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو کتاب اللہ کو پڑھتے ہوئے الٹ پھیر کرجاتا ہے۔ “ ظاہر ہے کہ یہ گروہ علماء و مشائخ ہی کا ہو سکتا ہے کیونکہ وہی ایسا کام کرسکتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اہل کتاب کے علماء و مشائخ کی گمراہیوں نے پوری قوم کو روح ہدایت سے محروم کر رکھا ہے ان عالموں اور فقیہوں کا ایک گروہ ہے جو کتاب اللہ کی تلاوت کرتا اور اس کی شرح و تفسیر بیان کرتا ہے لیکن ہوائے نفس کے معانی میں تحریف کردیتا ہے۔ عوام سمجھتے ہیں کہ یہ اللہ کی کتاب کا بیان ہے حالانکہ وہ اللہ کی کتاب کا بیان نہیں ہے بلکہ ان کی رایوں کی افتراء پردازیاں اور ان کی اپنی گھڑی اور بنائی ہوئی وہ کہانیاں ہیں۔ اگر غور کرو گے تو آج یہ بیماری علماء و مشائخ اسلام میں بھی عام ہے اور ہوبہو وہ بھی انہی کے نقش قدم پر رواں دواں ہیں۔ اس کی تفصیل سورة بقرہ آیت 75 ، حاشیہ نمبر 101 ، 102 میں ملاحظہ فرما لیں۔
Ayah 3:79عصمت انبیاء (علیہم السلام) کی ایک دلیل اور علمائے اسلام کو تنبیہ :
162: ابن اسحاق ، ابن جریر ، ابن المنذر ، ابن ابی حاتم اور دلائل بیہقی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ روایت ہے کہ جب نجران کے نصاریٰ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جمع ہوئے اور آپ ﷺ نے ان کو اسلام کی دعوت دی اور ابورافع قرظی نے جو مدینہ ہی کا ایک فرد تھا رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ” محمد کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم تمہاری ایسی ہیں پوجا کریں جیسے نصاریٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کی کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ میں اللہ کے علاوہ کسی اور کو پوجنے کی تلقین کروں ؟ اللہ نے اس لیے مجھے نہیں بھیجا نہ اس کا مجھے حکم دیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی اور اس طرح سے اور بھی اس کے شان نزول تفاسیر میں مذکور ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ جس بشر کو حق تعالیٰ کتاب و حکمت اور قوت فیصلہ عطا کرتا ہے اور خصوصاً پیغمبری کے منصب جلیل پر فائز کرتا ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک پیغام الٰہی پہنچا کر لوگوں کو اس کی بندگی اور وفاداری کی طرف متوجہ کرے اس کا یہ کام کبھی نہیں ہو سکتا کہ ان کو خالص ایک خدا کی بندگی سے ہٹا کر خود اپنا یا کسی دوسرے کا بندہ بنانے لگے۔ اس کے تو یہ معنی ہوں گے کہ خداوند قدوس نے جس کو جس منصب کا اہل جان کر بھیجا تھا فی الواقعہ وہ اس کا اہل ہی نہ تھا۔ دنیا کی کوئی حکومت بھی اگر کسی شخص کو ایک ذمہ داری کے عہدے پر مامور کرتی ہے تو پہلے دو باتیں اچھی طرح سوچ لیتی ہے۔
1۔ یہ شخص حکومت کی پالیسی کو سمجھنے اور اپنے فرائض انجام دینے کی لیاقت رکھتا ہے یا نہیں۔
2۔ حکومت کے احکام کی تعمیل کرنے اور رعایا کو وفاداری پر قائم رکھنے کی کہاں تک اس سے توقع کی جاسکتی ہے۔ کوئی بادشاہ یا پارلیمنٹ ایسے آدمی کو نائب سلطنت یا سفیر مقرر نہیں کرتی جس کی نسبت حکومت کے خلاف بغاوت پھیلانے یا اس کی پالیسی اور احکام سے انحراف کرنے کا ادنیٰ شبہ بھی ہو۔ بیشک یہ ممکن ہے کہ ایک شخص کی قابلیت یا جذبہ وفاداری کا اندازہ حکومت صحیح طور پر نہ کرسکی ہو لیکن خداوند قدوس بھی احتمال ممکن نہیں اگر کسی انسان کی نسبت اس کو یہ علم ہے کہ یہ میری وفاداری اور اطاعت شعاری سے بال برابر بھی تجاوز نہ کرے گا تو محال ہے کہ وہ آگے چل کر اس کے خلاف ثابت ہو سکے ورنہ علم الٰہی کا غلط ہونا لازم آتا ہے۔ العیاذ باللہ ! یہیں سے عصمت انبیاء کرام (علیہم السلام) کا مسئلہ واضح ہوجاتا ہے پھر جب انبیائے کرام عصیان سے پاک اور معصوم ہیں تو شرک اور اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں بغاوت کرنے کا امکان کہاں باقی رہ سکتا ہے ؟
اس آیت سے نصاریٰ کے اس دعویٰ کا بھی رد ہوگیا جو کہتے تھے انبیت و الوہیت مسیح کا عقیدہ ہم کو خود مسیح (علیہ السلام) نے تعلیم فرمایا تھا اور ان مسلمانوں کو بھی اس سے نصیحت کردی گئی جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا تھا کہ ہم سلام کی بجائے آپ ﷺ کو سجدہ کیا کریں تو کیا حرج ہے ؟ جب کہ بادشاہوں کے دربار میں ایسا کیا جاتا ہے اور اہل کتاب سے بھی تعریض ہوگئی جنہوں نے اپنے احبارو رہبان کو خدائی کا درجہ دے رکھا تھا۔ اس لیے کہ اہل کتاب کے علماء و مشائخ نے بندگان الٰہی کو اپنا غلام اور بندہ سمجھ رکھا تھا اور ہدایت دینے کی جگہ خدائی کرنے لگے تھے عوام سمجھتے تھے کہ نیک و بد ، حلال و حرام اور جنت و دوزخ کا تمام اختیار انہی کے قبضہ و اختیار میں ہے حالانکہ کسی انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی جگہ انسان کے گھڑے ہوئے احکام کی اطاعت کرے اگر اللہ نے اپنے کسی بندہ کو کتاب و نبوت عطا فرمائی ہے تو اس لیے عطا فرمائی ہے کہ احکام الٰہی کی طرف لوگوں کو دعوت دے اس لیے نہیں کہ اپنی بندگی کرائے اور آج علماء و مشائخ اسلام کو بھی اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے کہ وہی کچھ نہ کریں جو ان سے قبل یہود و نصاریٰ کے علماء و مشائخ کرچکے ہیں۔
Ayah 3:80کسی فرشتہ یا نبی کو بھی رب بنا لینا کفر ہے اور کوئی اللہ کا بندہ کفر کی تعلیم نہیں دے سکتا :
163: یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک اللہ کا سچا بندہ لوگوں سے یہ کہنے لگے کہ تم توحید الٰہی چھوڑ کر میرے پرستار بن جاؤ اس لیے کہ عبادت خداوندی کا حق صرف توحید میں ہے اور اگر غیر اللہ کو عبادت میں شریک کیا تو عبادت اللہ نہیں ہو سکتی مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو عطاء کتاب اور نبوت ہو اور بندہ کی طرف سے غیر اللہ کی عبادت کا حکم ہو ایسا ہونا ممکن نہیں کیونکہ کوئی نبی غیر اللہ کی پوجا کا حکم نہیں دے اس لیے کہ نبوت اور غیر اللہ کی عبادت کا حکم ” متضاد چیزیں ہیں پہلی دعوت توحید ہے اور دوسری دعوت شرک۔ بلکہ وہ تو جب کہے گا یہی کہے گا کہ رب والے ہوجاؤ ۔ “ ” ربانیین “ کون ہیں ؟ ابن عباس ؓ نے فرمایا فقہاء و علماء۔ قتادہ (رح) نے کہا حکماء وعلماء۔ سعید بن جبیر ؓ کی روایت میں فقہاء و معلّمین۔ عطاء نے کہا باوقار دانش مند علماء جو اللہ کی طرف سے مخلوق کے خیرخواہ ہوں۔ ابوعبیدہ ؓ نے کہا جو حلال و حرام اور امر و نہی کو جانتے ہوں اور امت کے احوال سے صحیح طور پر آگاہ ہوں اور بعض نے یہ بھی کہا کہ حبر سے ربانی کا درجہ بڑا ہے اس لیے کہ جبر صرف عالم کو کہتے ہیں اور ربانی وہ ہے جو عالم باعمل بھی ہو اور صاحب بصیرت بھی۔
ماحصل سب کا یہ ہوا کہ ربانی وہ ہوگا جو علم ، اخلاص اور درجات قرب میں خود بھی کامل ہو اور لوگوں کو بھی اپنی تعلیم سے کامل بنا دینے والا ہو اور حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ ” ربانین “ وہ لوگ ہیں جو اپنے اعمال سے علم کی تکمیل کرتے ہیں اور علاوہ ازیں بھی اقوال پائے جاتے ہیں اور آج کل بعض خاندان ایسے ہیں جو اپنے آپ کو خاندانی طور پر ربانی کہلاتے ہیں جو اس خاندان کی طرف منسوب ہوگا وہ ربانی ہوگا۔ ربانیوں کی بستیاں اور محلے آباد ہونا شروع ہوگئے ہیں اور اس طرح ہر گدھا ہانکنے والا ربانی ہوگیا ہے۔
فرمایا ایک اللہ کا بندہ کسی کو فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لینے کی دعوت کیوں دے گا ؟ اس لیے کہ یہ دعوت تیو کھلا کفر ہے کیا کوئی اللہ کا بندہ بھی کفر کی دعوت دیتا ہے یا دے سکتا ہے ؟ قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دے دینے کا ذکر بھی موجود تھے جب اللہ نے ان کو پیدا کر کے اپنی بیٹیاں قرار دیا تھا۔ خدا سے ڈرو اور اللہ پر بہتان نہ باندھو اور یہود و نصاریٰ کا ذکر بھی فرمایا کہ انہوں نے عزیر و عیسیٰ (علیہما السلام) کو اللہ کے بیٹے اور عیسائیوں کی ایک جماعت نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” اللہ “ بن لیا اور یہ جو کچھ ہوا سب کا سب ان لوگوں کے اختراعی عقیدے تھے اور سب کے سب کفر کے عقائد تھے ان کی تعلیم کوئی اللہ کا بندہ نہیں دے سکتا تھا اور نہ کسی نے دی بلکہ یہ شیطان کی فریب کاری تھی جو اس نے اپنے چیلوں اور ملنگوں کو سکھائی اور انہوں نے عام لوگوں میں پھلا دی۔ فرمایا : تمہارے اسلام لانے کے بعد ایسی تعلیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو دی ہی نہ جاسکتی تھی اور نہ کبھی دی گئی۔
Ayah 3:81اس میثاق سے کیا مراد ہے اور یہ کہاں ہوا ؟
164: میثاق کیا ہے ؟ اس کی تصریح تو خود قرآن کریم کی اس آیت کے اندر موجود ہے کہ ہم نے تمہیں کتاب اور حکمت دی پھر اگر ایسا ہو کہ کوئی دوسرا رسول اس کتاب کی تصدیق کرتا ہوا تمہارے پاس آئے تو ضروری ہے کہ تم اسے مانو اور اس کی تائید کرو “ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک نبوت ختم نہ کردی گئی اور یہ عہد کہاں ہوا ؟ عالم ارواح میں ہوا یا دنیا میں بذریعہ وحی الٰہی ہوا دونوں احتمال ہیں اور جو بھی مراد لیا جائے بالکل صحیح اور درست ہے۔
میثاق کیا ہے ؟ کا مطلب بھی دو طرح بیان کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے یہ پختہ وعدہ لیا تھا کہ اپنے بعد آنے والے نبی کی تصدیق کرنا اور اپنی امت کو بھی حکم دینا کہ وہ آنے والے نبی کی پیروی کریں۔ ابن عباس ؓ نے جو تشریح کی ہے اس کا بھی یہی مطلب ہے لیکن حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) اور آدم (علیہ السلام) کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) تک ہر نبی سے اللہ نے یہ عہد لیا تھا کہ تم اور تمہاری امت محمد رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کرنا اور اگر تمہاری زندگی میں محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوجائے تو تم سب ان کی مدد کرنا۔ گویا ابن عباس ؓ کے قول پر رسول سے مراد عام پیغمبر ہیں اور حضرت علی ؓ کی تشریح پر صرف رسول اللہ ﷺ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک مراد ہے۔
ہمارے خیال میں پہلا مطلب زیادہ صحیح اور زیادہ واضح ہے اور متواتر قرأت کے موافق ہے اگرچہ دوسرے مطلب کا بھی احتمال ہے اور زیادہ تر دوسرا مطلب ہی مراد لیا گیا ہے پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عہد لیا تھا کہ تم خود عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرو اور اپنی امت کو بھی حکم دو کہ وہ بھی ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں اور اس طرح سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) سے بھی عہد لیا تھا کہ تم خود محمد رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کرو اور اپنی امت کو بھی حکم دو کہ وہ ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں چناچہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ کہنا خود قرآن کریم میں دوسری جگہ اس طرح موجود ہے کہ :
یٰـبَنِیْٓ اِِسْرَآئِیْلَ اِِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ (الصف : 6:61) ” اے بنی اسرائیل ! میں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا تمہاری طرف آیا ہوں میں کوئی نئی شریعت نہیں لایا بلکہ میرا کام صرف یہی ہے کہ کتاب تورات کی جو مجھ سے پہلے آ چکی ہے تصدیق کرتا ہوں اور ایک آنے والے رسول کی خوشخبری دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور جس کا نام احمد ہوگا۔ “
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ کہنا کہ ” میں تورات کا مصدق ہوں “ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ان بشارتوں کا مصداق ہوں جو میری آمد کے متعلق تورات میں موجود ہیں لہٰذا میری مخالفت کی بجائے تمہیں چاہیے کہ میرا خیر مقدم کرو اور اس کے بعد والے فقرے کو ملا کر پھر پڑھو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ کے رسول محمد ﷺ کے متعلق تورات کی دی ہوئی بشارت کی تصدیق کرتا ہوں اور خود بھی ان کے آنے کی بشارت دیتا ہوں۔ تورات میں جو بشارت ہمارے نبی کریم ﷺ کے متعلق مذکور ہے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے دی گئی ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی تصدیق کا اعلان کیا ہے چناچہ استثناء میں وہ آج بھی موجود ہے۔ جو اس طرح مذکور ہے کہ :
” میں ان کے لیے انہیں کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں حکم دوں گا وہ وہی ان سے کہے گا۔ “ (استثناء : 18:18)
سارے عالم انسانیت کی طرف مبعوث ہونے والے رسول بھی محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہیں :
دو مواقع کے لیے جیسا کہ قرآن کریم میں بار بار ذکر آیا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک قوم میں اور ہر ایک امت میں ایک رسول مبعوث فرمایا ہے یا بعض قوموں میں ایک سے زیادہ رسول بھی بھیجے گئے ہیں لیکن اس میں شک نہیں کہ جس قدر رسول محمد ﷺ سے پہلے آئے تھے وہ سب خاص خاص قوموں کی طرف آتے کل دنیا اور پوری عالم انسانیت کی طرف مبعوث ہونے والا نبی ایک اور صرف ایک ہی مخصوص رکھا گیا تھا جو سب سے آخر اور سب سے اعظم اور سب کو ایک دین پر جمع کرنے کے لیے آیا۔ چونکہ اسی رسول نے ساری قوموں کو جمع کرنا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ساری قوموں کو بذریعہ ان کے نبیوں کے یہ عہد لیا کہ جب وہ رسول آجائے تو تم سب نے اس دین پر چلنا ہوگا کیونکہ اصل غرض یہی تھی کہ نسل انسانی کے اندر سے قومیت کی تفریقوں کو مٹایا جائے اور سب کو ملا کر بھائی بھائی بنا دیا جائے گو مختلف قوموں میں مختلف نبیوں کے آنے سے قومی امتیازات ایک حد تک مضبوط ہوتے چلے گئے کیونکہ ہر قوم ہدایت کے لیے اپنے ہی نبی کو دیکھتی تھی اور اس کو دوسری قوم کے نبی سے کوئی سروکار نہ تھا اگرچہ ان سب کی تعلیم بھی ایک ہی جیسی تھی اور چونکہ تعلقات بین الاقوام بھی اس وقت نہ تھے سب قومیں اپنے اپنے ملکوں میں علیحدہ علیحدہ پڑی ہوئی تھیں اس لیے ان حالات کا اقتضاء بھی یہی تھا کہ ہر قوم کے اندر جدا جدا نبی معبوث ہو مگر یہ علیحدگی جو ملکوں اور قوموں کی حدبندی سے قائم ہوئی ہمیشہ رہنے والی نہ تھی اس لیے یہ ضروری ہوا کہ جب وہ وقت آجائے کہ تعلقات بین الاقوام کی راہیں کھل جائیں تو ان قومی رسولوں کی بجائے ایک ہی رسول ساری دنیا کی طرف مبعوث ہو یہی وجہ ہے کہ ایک رسول پوری دنیا میں ایسا ہوا جس نے علی الاعلان بار بار کہا کہ میں کل عالمین کی طرف آیا ہوں اور جس کے متعلق ارشاد ہوا کہ ہم نے آپ کو ” کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ “ بھیجا ہے جس نے قومیتوں کی ساری تفریقوں کو مٹایا اور نسل انسانی کو وہ حکم خداوندی سنایا جو ان سب کو بھائی بھائی بنانے والا تھا چناچہ ارشاد الٰہی ہوا کہ :
ٰٓیاََیُّہَا النَّاسُ اِِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ (الحجرات : 13:49) ” اے لوگو ! ہم نے دنیا میں تمہاری خلقت کا وسیلہ مرد و عورت کا اتحاد رکھا اور نسلوں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا اس لیے کہ باہم پہچانے جاؤ ورنہ دراصل یہ تفریق و انشعاب کوئی ذریعہ امتیاز نہیں اور امتیاز شرف اس کے لیے ہے جو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ متقی ہے۔ “
چونکہ اس رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے سب قوموں کو دین واحد پر جمع کرنا تھا اس لیے سب قوموں سے یہ عہد لیا گیا کہ تم نے اس رسول پر ایمان لانا اور اس کی نصرت کرنا ہوگی اور یہ عہد ہر ایک قوم سے بذریعہ اس کے نبی کے لیا گیا اور یہی مضمون ہے جس کو اس آیت زیرنظر میں بیان کیا گیا ہے۔
رسول اعظم و آخر کی سب سے بڑی علامت تصدیق رسل ہے :
165: اس رسول کی سب سے بڑی علامت جو یہاں بیان ہوئی ہے وہ ” مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ “ یعنی اس کی تصدیق کرتا ہے جو پہلی قوموں کے پاس ہے یہ وہ امتیازی نشان ہے جو رسول عربی فداہ ابی و امی میں پایا جاتا ہے کیونکہ یہی وہ رسول ہے جس نے اپنے سے پہلے دنیا کے تمام رسولوں پر ایمان لانا ضروری قرار دیا جس کا ذکر قرآن کریم میں بار بار آیا ہے۔ الم شروع کرتے ہیں ارشاد ہوا یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ (البقرہ : 4:2) وہ ایمان لانے والے ہیں اس چیز پر جو آپ ﷺ پر نازل ہوا اور اس چیز پر جو آپ ﷺ سے پہلے انبیاء کرام (علیہم السلام) پر بھی نازل ہوا۔ اور پھر بار بار یہ ارشاد بھی فرمایا گیا لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ ۔ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مّنْھُمْ “ ان آیات میں واضح کردیا گیا کہ محمد رسول اللہ صی اللہ علیہ وسلم ہی وہ نبی و رسول ہیں جو کل نبیوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ کیونکہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسرا کوئی نبی نہیں جو پوری عالم انسانیت کے لیے مبعوث ہوا ہو اور جس نے دنیا کے کل نبیوں کی تصدیق کی ہو اور ان سب پر ایمان لانا ضروری و لازمی قرار دیا ہو۔
انبیاء کرام (علیہم السلام) سے لیے گئے عہد کے تاکیدی الفاظ :
166: انبیاء کرام (علیہم السلام) کو مخاطب کر کے ارشاد الٰہی ہوا تھا کہ ” کیا تم اس بات کا اقرار کرتے ہو ؟ اور اس کا ذمہ لیتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا تھا کہ بیشک ہم اقرار کرتے ہیں “ وَاَخَذْتُمْ عَیٰا ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ ۔ ” اصر “ کے معنی بوجھ اور مضبوط باندھ دینے کے ہیں اور کسی عہد کے توڑنے کے گناہ کو بھی کہا جاتا ہے جو عہد توڑنے والے کو ثواب سے پیچھے رکھتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ” اصر “ کے معنی اس جگہ مطلق بوجھ یا ثقل کے ہوں جو اس کے اصل معنی ہیں۔ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ ۔ کا مطلب ہی یہ ہو کہ یہ بوجھ جو میں تم پر ڈال رہا ہوں کہ رسول موعود کی نصرت کرنا ہوگی اس بوجھ کو تم قبول کرتے ہو کیونکہ دوسری جگہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں فرمایا گیا ہے کہ وَ یَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ (الاعراف : 157:7) وہ ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پر پڑے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی آمد کی پیش گوئیاں توراۃ و انجیل کے مندرجہ ذیل مقامات پر آج بھی بالکل صاف صاف الفاظ میں موجود ہیں۔ (استثناء : 15:18 تا 19 ، متی : 33:21 تا 46 ، یوحنا : 19:1 تا 21 ، یوحنا : 15:14 تا 17 اور 25 تا 26 ، اعمال : 23:3)
شہادت الٰہی نے انبیاء کرام کے عہد کو مزید مؤکد کردیا :
167: نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی کے متعلق لیے گئے عہد انبیاء (علیہم السلام) کی زبان سے ویسے ہی اقرار صالح اور حلف مؤکد کے برابر تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی گواہی نے اس مؤکد عہد کو مزید مؤکد تر کردیا جب ارشاد الٰہی ہوا کہ وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِیْنَ ۔
نبی اعظم و آخر ﷺ کی اتباع کی دعوت بنی اسرائیل کو بار بار دی گئی اور ان کو یاد دلایا گیا کہ تم پر خدا کی رحمت نازل ہونے کے لیے جو شرائط موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں عائد کی گئی تھیں وہی آج تک قائم ہیں اور دراصل یہ انہیں شرائط کا تقاضا ہے تم نبی اعظم و آخر پر ایمان لاؤ ۔ زیر نظر آیت کا یہ آخری حصہ بھی اس بات کا تقاضا کر رہا ہے جس پر الٰہی گواہی قائم ہے کہ اگر اب بھی نہ مانو گے تو یقینا ہلاک ہو گے۔
Ayah 3:82جو شخص بھی اس سے اعراض کرے گا وہ نافرمانی کا مرتکب ہوگا :
168: اس آیت نے اس بات کی مزید وضاحت فرما دی کہ یہ مذکورہ عہد انبیاء کرام (علیہم السلام) سے اور پھر ان کی وساطت سے ان کی امتوں کے لوگوں سے بھی لیا گیا تھا کہ ” تم ضرور اس رسول موعود یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کرنا “ اور یہ کہ اگر تم کو اس کا زمانہ مل جائے تو خود اس کی مدد کرنا اور اگر وہ تمہارے زمانہ میں آئے تو اپنے متبعین کو نصیحت کردینا کہ جو بھی اس کے زمانہ میں موجود ہو اس کی مدد کرے۔ “ اب زیر نظر آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ ” اب اس اقرار کے بعد جس شخص نے بھی پیغمبروں کی اتباع سے اپنا رخ پھیرا یہ رخ پھیرنے والا خواہ کوئی ہو پس وہی ایمان سے خارج ہوجائے گا۔ “ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ چونکہ پیشواؤں کے ذکر کے بعد متبعین کے ذکر کی ضرورت نہ تھی اس لیے پیشواؤں ہی کے ذکر پر اکتفا کیا۔
Ayah 3:83دین الٰہی یعنی اسلام میانہ روی سکھاتا ہے :
169: کیا وہ اللہ کے دین سے بغاوت چاہتے ہیں ؟ بغا کے معنی میانہ روی سے تجاوز کرنے کی خواہش کرنے کے ہیں۔ جس کا صف صاف مطلب یہ ہے کہ دین الٰہی یعنی اسلام میانہ روی سکھاتا ہے اور جو اس کو چھوڑ کر کچھ اور چاہتا ہے وہ میانہ روی سے تجاوز کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح اسلم اسلام کے اصلی معنی فرمانبرداری کرنے کے ہیں اور یہی وسیع معنی یہاں مراد لیے گئے ہیں جیسا کہ تم مخلوق ارض و سماء کی طرف اَسْلَمَ منسوب کرنے سے ظاہر ہو رہا ہے۔ ” طوعًا وَّکَرْھًا “ دونوں مصدر ہیں جو حال کی جگہ استعمال ہوئے ہیں یعنی مراد ان سے طائفین و کا رمنی ہیں اور ” طوع “ کے معنی ہیں فرمانبرداری اختیار کرنا یعنی رضا ورغبت سے اور ” کرہ “ اس کی ضد ہے۔
اسلام کے عالمگیر مذہب ہونے کی طرف بھی اس سے اشارہ ہے کیونکہ اسلام ہی وہ دین ہے جو تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کا موعود دین ہے اس لیے وہ ساری نسل انسانی کا مذہب ہے اور یہی اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام اپنی حقیقت میں کل عالم کا مذہب ہے پھر یہ کہ زمین میں صرف انسانوں ہی کا نہیں بلکہ جو آسمان و زمین میں ہے سب اس کے فرمانبردار ہیں اور یہ بھی کہ مذہب کے رنگ میں قوانین اسلام یعنی شریعت اسلامی کی فرمانبرداری کا نام اسلام ہے اور عام رنگ میں قوانین الٰہی کی فرمانبرداری بھی اسلام ہی ہے۔ پس معلوم ہوا کہ اسلام جمیع مخلوقات کا مذہب ہے کیونکہ اس وسیع عالم میں جو چیز قوانین الٰہی کی فرمانبرداری نہ کرے گی اس کا وجود دہی نہیں رہ سکتا اور بالفاظ دیگر ہر شے کا وجود ہی قوانین کی فرمانبرداری پر ہے۔ پس حقیقی معنی میں اسلام ہی عالمگیر مذہب ہے کیونکہ چھوٹے سے چھوٹے ذرہ سے لے کر بڑے سے بڑے کرہ ارضی یا سماوی تک سب اللہ قوانین کی فرمانبرداری میں لگے ہوئے ہیں اور کوئی چیز اس کی فرمانبرداری سے باہر نہیں۔
طوعا وَّکَرْھَا سے یہ بھی مفہوم واضح ہوتا ہے کہ خواہ کچھ ہو کوئی چیز قانون الٰہی کی فرمانبرداری سے باہر نہیں نکل سکتی کیونکہ فرمانبرداری تو طوعا ہی ہوتی ہے یعنی اپنی رضا ورغبت سے لیکن اگر ان چیزوں کو اختیار ہوتا فرمانبرداری کریں یا نہ کریں اور اپنی رضاء ورغبت سے وہ فرمانبرداری نہ کرتیں تو ” کَرْمًا “ بھی ان کو فرمانبرداری اختیار کرنا ہی پڑتی یا طَوْعًا وَّکَرْھًا میں دو قسم کی فرمانبرداری کا ذکر ہے ایک تو وہ چیزیں ہیں جن کی خواہش فرمانبرداری کے خلاف ہو ہی نہیں سکتی جیسے فرشتے یعنی ملائکہ یا خود زمین و آسمان اور اس کی طاقتیں جیسا کہ اَتَیْنَا طَائِفَیْنَ (حم السجدہ : 11:41) سے ظاہر ہے۔ طبعی امور میں انسان بھی اس طرح فرمانبرداری اختیار کرتا ہے مگر وہ امور جن کا تعلق اختیار اور ارادہ سے ہے ان میں ” کرہ “ بمعنی مشقت کے ساتھ فرمانبرداری ہے یعنی اس کام کو انسان طبعاً نہیں کرتا بلکہ مشقت اس کے لیے درکار ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ” کَرِہَ “ بمعن ناخوشی سے اس طرح فرمانبرداری ہے کہ کافر جب خوشی سے ان قوانین کی فرمانبرداری نہیں کرتا تو ناخوشی سے بھی اس کو کرنا پڑتی ہے کیونکہ ایسے قوانین میں فرمانبرداری دو طرح پر ہے جو شخص ان قوانین پر چلتا ہے وہ سکھ پاتا ہے جو نہیں چلتا وہ دکھ اٹھاتا ہے پس جس نے قانون کی فرمانبرداری طَوْعًا نہ کی اس کو کَرْھًا یعنی دکھ اور سزا کے رنگ میں کرنی پڑتی ہے۔ اس لحاظ سے مفسرین اسلام نے طَوْعًا فرمانبرداری مومن کے لیے اور کَرْھَا کافر کے لیے قرار دی ہے۔
اس کو مختصراً اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ اللہ کا دین اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اس کے ٹھہرائے ہوئے قوانین فطرت کی اطاعت ہے اور آسمان و زمین میں جس قدر مخلوق ہے سب قوانین الٰہی کی اطاعت کر رہی ہے پھر اگر تمہیں اللہ کے قانون فطرت سے انکار ہے تو اللہ کے قانون کے سوا کائنات ہستی میں اور کوئی قانون ہو سکتا ہے ؟ کیا تمہیں اس راہ پر چلنے سے انکار ہے جس پر تمام کارخانہ ہستی چل رہا ہے ؟