Ayah 3:187یہود کو کتاب اللہ دی گئی تھی لیکن انہوں نے اس کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا :
341: زیر نظر آیت میں علماء یہود کے اس جرم کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کو کتاب دی گئی تھی۔ کہ اس میں جو احکام ہیں بےکم وکاست لوگوں تک پہنچا دو اور اس میں سے کچھ مت چھپاؤ لیکن انہوں نے اپنی دنیوی اغراض کے لئے اور طمع نفسانی کی خاطر اس عہد کی پرواہ نہ کی اور بہت سے احکام کو لوگوں سے پوشیدہ رکھا اگر وہ اس جرم کے مرتکب نہ ہوتے اور لوگوں تک صحیح صحیح حق پہنچاتے تو پیغمبر اسلام ﷺ کی بعثت کے ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلیم کرلیتے اور آج مخالفت اور سب و شتم سے جو وہ کام لے رہے ہیں اس کی بجائے وہ پیغمبر اعظم و آخر ﷺ کے معین و مدد گار ہوتے کیونکہ اللہ کی کتاب تورات میں تو پیش گوئیاں کھلے اور واضح الفاظ میں موجود ہیں جو نبی اعظم و آخر ﷺ کی بعثت کے متعلق ہیں۔ پھر اس مخالفت سے انہوں نے دراصل اپنی کتاب جس کو وہ خود بھی کتاب اللہ مانتے ہیں پیٹھ پیچھے پھینک دیا ہے اور ان کی پرواہ نہیں کی پھر ان پیشین گوئیوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے اور بھی بہت سے احکام کو جو تورات میں بڑی وضاحت سے بیان کئے گئے ہیں چھپایا اور بہت کچھ اپنے پاس سے اور اپنے رسم و رواج سے اٹھا کر اللہ کے احکام میں رکھ دیا ہے اور یہ انہیں پر زور دیتے ہیں اور ان کو ثابت کرنے کی دن رات کوشش کرتے رہتے ہیں۔
یہود کی اس گمراہی کا ذکر کر کے ایک طرف یہود کو ان کے اس جرم سے آگاہ کیا ہے اور دوسری طرف اہل اسلام کو یہ سمجھایا ہے کہ دیکھو اہل کتاب ایسے جرائم کے مرتکب ہوچکے ہیں تم کو بھی اللہ کا آخری پیغام پہنچایا جا رہا ہے تم چوکنے رہنا اور ایسے جرائم کا مرتکب نہ ہونا بلکہ پیشن گوئی کے طور پر یہ فرما دیا کہ تم پر بھی وہ وقت آئے گا کہ تمہارے علامء بھی اللہ کی کتاب قرآن کریم کو کھول کر لوگوں کے لئے بیان نہیں کریں گے بلکہ اس کے احکام کے چھپانے کے مرتکب ہوں گے اور اس کے عوض دنیا کی زندگی کے عارضی فائدے حاصل کریں گے اور اس طرح آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے کہ قرآن کریم کو چھوڑ دیا گیا ہے اور دنیا داری کو حاصل کرنے کی دوڑ لگائی جا رہی ہے۔
اس جگہ اس جرم کے دو پہلو بیان کئے گئے ہیں ایک کتاب کو کھول کر بیان نہ کرنا دوسرا اس کو چھپانا۔ کتاب کا کھول کر بیان کرنا کیا ہے ؟ کھول کر بیان کرنا یہ ہے کہ جو احکام اس عمل کے لئے ہیں ان کو کھول کر عمل کے لئے پیش کیا جائے اور لوگوں کو ان اعمال کی طرف دعوت دی جائے بلکہ ان کو ان اعمال پر مجبور کیا جائے اس لئے کہ وہ اس کو کتاب اللہ مان چکے ہیں اور خود اعمال کر کے ان لوگوں کو متاثر کیا جائے جو ابھی ایمان ہی نہیں لائے اور اس طرح لوگوں کی ان اعمال کی طرف دعوت دی جائے لیکن افسوس کہ آج ہم ان قصوں میں پڑگئے ہیں جن کا نام و نشان بھی قرآن کریم میں نہیں ہے اور شنیدہ قصوں کو قرآن کریم کی تفسیر قرار دے دیا ہے اور اس طرح قرآن کریم کے ان سادہ اور واضح اور روشن احکام کو اپنی دماغی عیاشی سے عجیب سے عجیب تر بنا دیا ہے اور پھر جب اس پر ایک مدت گزر گئی اور اس طرح کی یہ ساری باتیں یہود کی پیروی میں کتاب اللہ میں بطور تفسیر بھر دی گئیں تو آج وہ ہمارے لئے حجت اور دلیل بن گئیں کہ دیکھو فلاں تفسیر میں یہ لکھا ہے اور فلاں نے اس طرح کہا ہے۔ کوئی پوچھے کہ تم اللہ کی کتاب کو بیان کر رہے ہو تو وہ اللہ کے فضل سے تمہارے پاس من بطور تفسیر بھر دیں گئیں تو آج وہ ہمارے لئے حجت اور دلیک بن گئیں کہ دیکھو فلاں تفسیر میں یہ لکھا ہے اور فلاں نے اس طرح کہا ہے۔ کوئی پوچھ کہ تم اللہ کی کتاب کو بیان کر رہے ہو تو وہ اللہ کے فضل سے تمہارے پاس مِن و عَن موجود ہے اور اللہ نے اس کے محفوظ رکھنے کی جو ذمہ داری لی تھی وہ اس طرح پوری کی ہے کہ اس میں ایک حرف بھی اوپر نیچے نہیں ہونے دیا تم اس کو بیان کرو ان قصوں کو کیوں بیان کرتے ہو جو اس کے اندر لا کر باہر سے رکھ دیئے گئے۔ تمہارا کام تو یہ چاہئے تھا کہ تم ان کو اٹھا کر قرآن کریم کی اصلی حقیقت لوگوں کے سامنے پیش کرتے۔ لیکن تم نے کیا کیا ؟ وہی جو اہل کتاب اور خصوصاً یہود تم سے پہلے کرچکے۔ پھر اگر انہوں نے کتاب اللہ کے ساتھ ظلم کیا تھا تو وہ اس پاداش میں ذلیل و خوار ہوئے اور تم جب اس جرم کے مرتکب ہوچکے تو تم کو اس کے نتیجہ سے دو چار نہیں ہونا تھا ؟ کیا اللہ ظالم ہے ؟ ایک گروہ کو تو ایک جرم کی سزا دے اور دورے کو اس جیسے جرم پر انعام و اکرام دے۔ عقل کے ناخن لو اور حق کو لوگوں کے بنائے ہوئے قصے کہانیوں میں مت چھپاؤ ۔
تعجب ہے کہ آج ہم نے لوگوں کو صرف یہ بتایا کہ اہل کتاب نے کتاب اللہ کی طرف پیٹھ کردی تھی تم اس کی طرف پیٹھ نہ کرنا بلکہ اس کو آنکھوں اور ماتھے پر رکھنا۔ اور پھر لوگوں کے سامنے قرآن کریم کو کھول کر اس پر ہاتھ پھیر پھیر کر منہ پر مارے اور چوم کر ماتھے سے لگایا ، اس لئے لوگوں نے آج یہ سمجھ لیا کہ جس شخص نے قرآن کریم کو کھول کر اس سے یہ کام کرلیا کہ ہاتھ پھیر کر منہ سے مل لئے اور الٹی سیدھی چار آیتیں بغیر سمجھے پڑھ لیں پھر اس کو چوم کر ماتھے پر بھی لگا لیا اور اس طرح کے سارے کام کے بعد اس کو غلاف میں بند کر کے اوپر کہیں طاق پر ٹکا دیا تو گویا وہ اس حکم سے بری الذمہ ہوگیا اور اب وہ دنیا کے کاموں میں مصروف ہو کر کم تولے ، کم ماپے ، جھوٹ بولے ، فریب مکاریاں کرے ، لوگوں کی چیزوں میں ملاوٹ کرے ، ملک کی لوگوں کی مشکلات میں چاہے جتنا اضافہ کرے آخر وہ ماشاء اللہ پکا مومن اور متقی ہے۔ اب اس کو کون کہہ سکتا ہے کہ تو نے قرآن کریم کی طرف پیٹھ کردی ہے۔ اس طرح جو بھی کہے گا وہ جھوٹا ہوگا کہ اس نے جھوٹ بولا کیونکہ اس اللہ کے بندے نے تو قرآن کریم کی طرف پیٹھ کردی ہے۔ اس طرح جو بھی کہے گا وہ جھوٹا ہوگا کہ اس نے جھوٹ بولا کیونکہ اس اللہ کے بندے نے تو قرآن کریم کو اتنا اوپر لے جا رکھا ہے کہ کوئی مائی کا لال کی طرف پیٹھ کر ہی نہیں سکتا۔
اس پر طرہ یہ کہ یہ اللہ کا بندہ اتنا نیک اور اتنا مخیر ہے کہ ہر ماہ دو ماہ کے بعد کو ٹھی میں قرآن ختم کراتا ہے اور ہر جمعرات کو دیگ پکا کر تقسیم کرتا ہے۔ کتنی مسجدوں میں چندہ دیتا ہے اور علمائے کرام کی خدمت اس سارے کام سے سوا ہے۔ حج بھی کیا ہے اور ہر مہینے اس کی منتھلی بھی درس گاہ میں باقاعدہ پہنچ جاتی ہے یہ صدقہ جاریہ کے اتنے کام اس نے سنبھال رکھے ہیں۔ آخر وہ دنیا میں اس طرح کے کام نہیں کرے گا تو یہ سارے نیک کام کون سر انجام دے گا اور ان مساجد کا کیا بنے گا جن میں وہ چندہ دیتا ہے اوف ان علماء کرام کا کیا ہوگا جن کی خدمت وہ کر رہا ہے اور وہ درسگاہیں کیسے قائم رہیں گی جہاں اس کی منتھلی پہنچتی ہے۔ کوئی اندھا ہی ہوگا جو یہ سارے کام دیکھنے کے بعد بھی کہے گا کہ اس نے قرآن کریم کی طرف پیٹھ کردی ہے۔
اس کو کون سمجھائے کہ قرآن کریم کے احکامات پر عمل نہ کرنے سے قرآن کی طرف پیٹھ ہوجاتی ہے اور قرآن کو پیٹھ پیچھے پھینکنے کا مطلب یہی ہے کہ اس کے اوامرو نواہی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی من مانی کی جائے جیسے چاہے کمائے اور جیسے چاہے خرچ کرے۔ قرآن کریم کی طرف پیٹھ نہ کرنے اور اس کے پیٹھ پیچھے نہ پھینکنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ تاجر ہے تو تجارت ان احکامات کے مطابق کرے جو احکام قرآن نے تجارت کرنے کے دیے ہیں اور ان اشیاء کی تجارت کرے جن اشیاء کی تجارت کرنے کا حکم دیا ہے اور تجارت کے ان کاموں سے رک جائے جن سے قرآن کریم نے روکا ہے اور ان اشیاء کی تجارت سے بھی پیچھے ہٹ جائے جن کی تجارت سے منع کیا ہے۔ ان طریقوں کے مطابق عمل کرنے کے بعد اس کو جو نفع حاصل ہو اس کو وہ اپنی مرضی کے مطابق نہیں کیا بلکہ اللہ کی رضا کے مطابق خرچ کرے تاکہ وہ دین و دنیا میں سرفراز ہو۔
حق فروشی کے دام جہنم ہی میں پہنچائیں گے کیونکہ یہ راستہ جہنم ہی کو جاتا ہے :
342: حق حق ہے اور باطل باطل ۔ یہ دونوں کبھی ایک نہیں ہو سکتے اس لئے کہ جو حق ہے وہ باطل نہیں تب ہی وہ حق ہے اور جو باطل ہے وہ حق نہیں تب ہی وہ باطل ہے۔ مذہبی علماء کا کام تو یہ ہے کہ وہ حق کو حق اور باطل کو باطل کر کے لوگوں تک پہنچائیں لیکن انہوں نے کیا کا۔ ؟ کہ حق اور باطل کو ملا کر رکھ دیا کبھی باطل کو حق کے نیچے چھپایا اور کبھی دونوں کو ملا جلا کر ایک کرنے کی کوشش کی۔ فرمایا یہ سارا کچھ کیوں کیا ؟ اس لئے کہ اس سے ان کو خوب دام ملتے ہیں اور آخر وہ کون ہے جس کو دام نہیں چاہئیں ؟ غور کرو۔ فکر کرو کہ جب بھی کسی مذہبی راہنما نے دام کمائے تو اس طرح کمائے اور جس نے ایسا نہیں کیا اس کو دھکے ملے۔ گا لیاں ملیں۔ استہزاء کا نشانہ بنا۔ کفر کے فتوے لگے اس کے سا اس کو کیا ملا ؟
فرمایا بالکل صحیح ہے کہ دام اس کو ملے جس نے حق و باطل ملایا یا باطل کو حق کے نیچے چھپایا۔ لیکن یہ دام اس کو کہاں لے گئے ؟ ارشاد ہوا کہ یہ دام برے تھے۔ اور بری چیز کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہوا سکتا۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد ہوا :
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّھْبَانِ لَیَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (التوبہ : 9:34) ” مسلمانو ! یاد رکھو کہ علماء و مشائخ میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو لوگوں کا مال ناحق ، ناروا کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے انہیں روکتے ہیں۔ “
یعنی یہ ظالم اتنے دلیر ہیں کہ لوگوں کا مال بھی کھاتے ہیں اور ان کو سیدھی راہ سے بھی روکتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے ؟ یہ ستم یہ لوگ اس طرح ڈھاتے ہیں کہ فتوے بےچت ہیں۔ رشوتیں کھاتے ہیں۔ نذرانے لوٹتے ہیں۔ ایسے ایسے مذہبی ضابطے اور مراسم ایجاد کرتے ہیں جن سے لوگ اپنی نجات ان سے خریدتے ہیں اور ان کا مرنا جینا اور شادی و غم کچھ بھی ان کو کھلائے بغیر نہ ہو سکے اور وہ اپنی قسمتیں بنائے اور بگاڑنے کا ٹھیکہ دار ان کو سمجھ لیں بلکہ مزید برآں اپنی انہی اغراض کی خاظر یہ حضرات خلق خدا کو گمراہیوں کے چکر میں پھنسائے رکھتے ہیں اور جب کبھی کوئی دعوت حق اصلاح کے لئے اٹھتی ہے تو سب سے پہلے اپنی عالمانہ فریب کاریوں اور مکاریوں کے حربے لے لے کر اس کا راستہ روکنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اور ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے۔
فَخَلَفَ مِنْم بَعْدِ ھِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْکِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ ھٰذَا الْاَدْنٰی وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُلَنَا وَ اِنْ یَّاْتِھِمْ عَرَضٌ مِّثْلُہٗ یَاْخُذُوْہُ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْھِمْ مِّیْثَاقُ الْکِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْہ (الاعراف : 169:7) ” پھر ان لوگوں کے بعد ناخلفوں نے ان کی جگہ پائی اور کتاب اللہ کے وارث ہوئے۔ وہ دین فروشی کر کے اس دنیائے حقیر کی متاع بےتامل لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی تو ہمیں معافی مل ہی جائے گی اور اگر انہیں کوئی متاع اس طرح فریق ثانی سے ہاتھ آجائے تو اسے بھی بےتامل لے لیں کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا ہے کہ خدا کے نام سے کوئی بات نہ کہیں مگر وہی جو سچ ہو اور کیا جو کچھ کتاب میں حکم دیا گیا ہے وہ پڑھ نہیں چکے ہیں ؟ “
یعنی ان کی حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ یہ لوگ گناہ کرنے ہیں اور جانتے ہیں کہ گناہ ہے مگر اس بھروسے پر اس کا ارتکاب کرتے ہیں کہ ہماری تو کسی نہ کسی طرح بخشش ہو ہی جائے گی کیونکہ ہم خدا کے چہیتے ہیں اور خواہ ہم کچھ ہی کریں بہر حال ہماری مغفرت ہونا ضروری ہے اس غلط فہمی کا نتیجہ یہ ہے کہ گناہ کرنے کے بعد نہ وہ شرمندہ ہوتے نہ توبہ کرتے ہیں۔ بلکہ جب پھر ویسے ہی گناہ کا موقع سامنے آتا ہے تو پھر اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ بد نصیب لوگ ! اس کتاب کے وارث ہوئے جو ان کی دنیا کا امام بنانے والی تھی مگر ان کی کم ظرفی اور پست خیالی نے اس نسخہ کیمیا کو لے کر دنیا کی متاع حقیر کمانے سے زیادہ بلند کسی چیز کا حوصلہ نہ کیا اور بجائے اس کے کہ دنیا میں عدل و راستی کے علمبردار اور خیرو صلاح کے رہنما بنتے محض دنیا کے کتے بن کر رہ گئے۔
کیا دینی مصلحت کے لئے حکم الٰہی چھپایا جاسکتا ہے اور دبایا بھی :
ہاں ! چلتے چلتے ایک بات مزید سن لیں کہ ہمارے علماء نے اس آیت کے تحت یہ بھی تحریر کیا ہے کہ ” یہود نامسعود اپنی دنیوی اغراض و مقاصد کے تحت حق کو چھپاتے تھے اور لوگوں سے مال بھی وصول کرتے تھے۔ اور اگر کسی دینی اور شرعی مصلحت سے کوئی حکم عوام پر ظاہر نہ کیا جاے تو وہ اس میں داخل نہیں کیونکہ تعلیمات اسلامی سے یہ بات روشن ہے کہ بعض اوقات کسی حکم کے اظہار سے عوام کی غلط فہمی اور فتنہ میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہوتا ہے اس خطرہ کی بناء پر کوئی حکم پوشیدہ رکھا جائے تو مضائقہ نہیں۔ “ پھر اس خطرہ کے تحت ان کو جتنے احکام حق و باطل کے نیچے کسی نہ کسی زمانے میں دبائے گئے نظر آتے ہیں تو وہ ان کا نام لینا ” گناہ عظیم “ جانتے ہیں کہ اس سے فتنہ کھڑا ہوگا لہٰذا حق کو اس طرح چھپا رہنے دینا دینی مصلحت ہے اور پھر جب بھی کوئی ایسے حق کو ان باطل کے تہہ در تہہ پردوں کے نیچے سے اٹھا باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ کلہاڑیاں ، لاٹھیاں ، ڈنڈے اور رسیاں لے کر اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ ہیں اور شور کرتے ہیں کہ مارو مارو اس کم بخت نے ایک فتنہ کھڑا کردیا ہے۔ ان کا یہ شور سن کر عوام اٹھتے ہیں اور جنت حاصل کرنے کے نشہ میں وہ ان ہی کی کہلاڑیوں ، ڈنڈون اور لاوٹھیوں سے اس بچارے کو قتل کر کے انہی کی رسیوں سے باندھ کر جب تک کسی اندھے کنوئیں میں نہیں ڈال دیتے یہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔
ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس لئے کہ اس طرح کے دینی مسئلے انہوں نے اپنی طالب علمی کے زمانے میں گھوٹ گھوٹ کر پئے تھے۔ کیونکہ بہت سی دینی درسگاہوں میں صر یہی کام ہوتا ہے اور اس طرح یہ گھوٹ گھوٹ کر پینے والے اب گرینڈ کر کر کے آگے آنے والوں کو پلاتے ہیں اور اگر کسی قسمت کے مارے نے یہ رگڑا نہ لگایا ہو تو ان کا تکیہ کلام ہی یہ ہوتا ہے کہ ” اجی یہ تو کہیں پڑھا نہیں نہ اس کے پاس کوئی سند ہے۔ “
یہ کیا جانے کہ دو اور دو پانچ کیسے ہوتے ہیں ؟
اپنے قریب کے زمانہ کے ان پڑھوں کی فہرست کے چند نام بھی سن لیں تاکہ یہ بات ذہن نشین ہوجائے۔
شبلی نعمانی (رح) ، الطاف حسین حالی (رح) ، ڈاکٹر محمد اقبال (رح) ، عنایت اللہ مشرقی (رح) ، ثناء اللہ امر تسری (رح) ، عبدلاماجد دریا بادی (رح) ، عبدالحی لکھنوی (رح) ، محمد علی لاہوری (رح) ، ابو الکلام آزاد (رح) ، امین احسن اصلاحی (رح) ، حافظ عنایت اللہ اثری (رح) ، ابولاعلیٰ مودودی (رح) ، اور سر سید مرحوم و مغفور کو سارے ان پڑھوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے اس لئے کہ اس اوپر کے ان پڑھوں کا یا تو ان کو علم نہیں یا جان بوجھ کر کسی دینی مصلحت کے لئے چھپائے ہوئے ہیں۔
مزید تفصیل کے لئے عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة بقرہ کی آیت (البقرہ : 101:2) ، (102:2) ، (2:159) اور (2:174) کا مطالعہ کریں۔
Ayah 3:188کچھ لوگ اپنے اس کرتوت پر خوش ہیں کہ کام لوگ کریں اور مدح سرائی ان کی ہو :
343: اس سے مراد یہود بھی ہو سکتے ہیں اور منافق بھی کیونکہ یہ بات ان دونوں گروہوں کی صفات سے ملتی جلتی ہے اور تفہیم یہ مقصود ہے کہ اگر کوئی شخص نیک عمل کرنے کے بعد اس پر مدح وثناء کا انتظار و اہتمام کرے تو نیک عمل کرنے کے بعد اس پر مدح وثناء کا انتظار و اہتمام کرے تو نیک عمل کرنے کے باوجود بھی قواعد شرعیہ کی رو سے یہ مذموم ہے اور یہ ان لوگوں کی صفت ہے جو میٹھا میٹھا ہپ ہپ کرنے کے عادی ہوتے ہیں خواہ وہ کسی قوم سے ہوں۔ جب بھی کہیں کوئی تعریف کی بات ہو خواہ وہ کیسی ہو اس لئے کہ بہت سی ایسی باتیں ہیں جو شرعاً اچھی نہیں لیکن لوگ ان کو اچھا سمجھتے ہیں اور ایسی بھی ہیں کہ وہ شرعاً بہت اچھی ہوتی ہیں لیکن لوگ ان کو اچھا نہیں سمجھتے ۔ لیکن ان لوگوں کا وصف یہ ہے کہ وہ بات جو لوگ اچھی سمجھتے ہیں فی نفسہ وہ اچھی ہو یا بری بہر حال وہ اس میں اپنا نام رکھنے کے عادی ہوتے ہیں اور وہ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہر وہ بات جس کی لوگ تعریف کریں اس میں ہمارا نام پہلے ہونا چاہیے۔ حاصل کلام یہ کہ یہ لوگوں کے منہ سے اپنی تعریف ہی سننے کی خواہش رکھتے ہیں اور جب بھی کوئی کلام کرتے ہیں تو اس میں یہ پہلو ضرور ہوتا ہے کہ وہ اپنے برے کو بھی اچھا کر کے بیان کریں اور دوسروں کے اچھے کا بھی ان کے سامنے ذکر نہ ہو اگر ہو تو کسی برائی کے رنگ ہی میں ہو۔
حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ اس کا وقع اس طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو طلب فرمایا اور ان سے کوئی بات پوچھی۔ یہودیوں نے اصل بات چھپا لی اور کوئی دوسری بات بتائی اور رسول اللہ ﷺ پر ظاہر یہ کیا کہ آپ ﷺ نے جو کچھ دریافت کیا تھا ہم نے وہی بتایا اور اس فعل پر انہوں نے مستحق تعریف بھی بننا چاہا لیکن اپنی جگہ پر وہ اندر ہی اندر خوش تھے کہ ہم نے وہ بات چھپا لی جو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمائی پھر ابن عباس ؓ نے اس آیت کو تلاوت کیا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ غلط بیانی کر کے اس پر اپنی تعریف رسول اللہ ﷺ سے سننا چاہتے تھے۔ اگرچہ ان کو یہ بات نصیب نہ ہوئی اور ہوتی بھی کیسے کہ آپ ﷺ کے رسول تھے اور اس طرح اس واقعہ کو بیان کر کے رسول اللہ ﷺ کی امت کو یہ درس دے دیا گیا کہ وہ بھی اچھے اور برے ، کھوٹے اور کھرے ، صحیح اور غلط میں امتیاز پیدا کریں اس لئے کہ ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی۔
اس لئے کہ وہ خود بھی ایسی بیماری میں مبتلا نہ ہوں اور دوسروں کی تعریفوں سے بھی خوشامد کے طور پر ان کی تعریفوں کے پل نہ باندھیں بلکہ ہر حال میں حقیقت کا دامن تھا میں۔ اسی طرح کا ایک واقعہ کتب احادیث میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ” کچھ منافق ایسے تھے کہ فب رسول اللہ ﷺ کسی جہاد پر جاتے تھے وہ پیچھے رہ جاتے تھے اور جہاد میں شامل نہیں ہوتے تھے اور اس طرح اپنے بیٹھ رہنے سے خوش ہوتے تھے لیکن جب نبی اعظم و آخر ﷺ بخیریت واپس تشریف لاتے تو یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر معذرت پیش کرتے تھے اور ناکردہ نیکی پر آپ ﷺ کے منہ سے تعریف کے خواستگار ہوتے تھے اور اس پر اس آیت کا نزول ہوا۔ بہر حال آیت کا نزول کچھ بھی ہو۔ آیت کا حکم عام ہے اس صفت کے لوگ اس وقت بھی تھے اور آج بھی ہیں۔ بلکہ کثرت سے ہیں اور کسی شہر ، قصبہ یادہ میں جتنے و ڈیرے اور کھاتے پیتے لوگ ہیں ان میں تو اکثریت ایسے ہی لوگوں کی ہے اور پھر علماء کے طبقہ میں تو یہ بات دن رات دیکھنے میں آتی ہی رہتی ہے کہ وہ اپنے علم کی ڈینگیں مارتے ہیں اور ہم چوں مادیگر سے نیت کی نعرہ بازی ان کی طبیعت ثانیہ ہوجاتی ہے۔ ان کی اس فرحت کا ذکر قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر آیا ہے۔
اِنَّہٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌ (10:11) لَاتَفْر َحْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ (76:28) وَاْبتَغِ فِیْمَا اَتَاکَ اللّٰہُ الدَّارَ الْاٰ خِرَۃَ وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا وَاَحْسِنْ کَمَا اَحَسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفِسِدِیْنَ (77:28) حَتّٰی اِذَا کُنْتُمْ فِی الْفُلْکِ وَجَرَیْنَ بِھِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَۃٍ وَفَرِحُوْا بِھَا جَآئَ تْھَا رِیْحٌ عٰصِفٌ (22:10) فَرِحُوْ بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا فِی الاٰ خِرَۃِ اِلَّا مَتَاعٌ (26:13) بَلْ اَنْتُمْ اَذَقْنَا النَّاسَ مِنَّا رَحْمَۃً فَرِحَ بِھَا (48:46) فَلَمَّا جَآئَ تْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِنَاتِ فَرِحُوْ بِمَا عِنْدَھُمْ (40:83) کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْن ِ (83:23) وَفَرَّقُوْ دِیْنَھُمْ وَکَانُوْ شِیَعًا کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ (32:30) فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیُھِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَئْیٍ حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْا بِمَا اُوْتُوآ (44:6) فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقُعَدِھِمْ (81:9) اِنْ تُصِبْکَ مُصِیْبَۃٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَا اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَیَتَوَلَّوْ وَھُمْ فَرِحُوْنَ (50:9) ۔
ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس لئے کہ انہوں نے جو کچھ کیا اللہ سے بےنیاز اور آخرت سے بےفکر ہو کر صرف دنیا کے لئے کیا۔ دنیوی زندگی کو ہی اصل زندگی سمجھ لیا۔ لوگوں کو راہ بتاتے رہے لیکن اپنی راہ گم ہونے کا انہوں نے کبھی نہ سوچا۔ دنیا کی کامیابیوں اور خوشحالیوں ہی کو اپنا مقصد بنایا۔ خدا کی ہستی کے اگر قائل ہوئے بھی تو اس بات کی کبھی فکر نہ کی کہ اس کی رضا کیا ہے اور ہمیں کبھی اس کے حضور جا کر اپنے اعمال کا حساب بھی دینا ہے۔ اپھے آپ کو محض ایک خود مختار وغیرہ ذمہ دار حیوان عاقل و عالم سمجھتے رہے۔ جس کے لئے دنیا کی اس چراگاہ سے تمتع کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اس کو خود ہی اچھا سمجھتے ہیں فی نفسہ و کتنا برا کیوں نہ ہو۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا (الکہف : 104:18) ” یہی لوگ ہیں جن کے سارے کام اکارت گئے اور وہ اپنے کاموں میں سب سے زیادہ نامراد ہوئے ؟ وہ جن کی ساری کوششیں دنیا کی زندگی میں کھوئی گیئں۔ اور اس دھوکے میں پڑے ہیں کہ بڑا اچھا کارخانہ بنا رہے ہیں۔ “
ان کے سارے غلط صحیح کام ان کی نظر میں کیسے اچھے ہوگئے قرآن کریم کہتا ہے کہ ” الشیطٰنُ سول لھم “ شیطان نے ان کے لئے اس روش کو سہل بنا دیا ہے اور پھر شیطان کی اس روش کا ذکر قرآن کریم میں جگہ جگہ کیا گیا۔ آپ کے مطالعہ کے لئے ایک فہرست پیش خدمت ہے قرآن کریم کے ان مقامات کا مطالعہ انشاء اللہ تمہاری آنکھیں کھول دے گا۔
وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ عَلٰی شَئْیٍ اَ لَا اِنَّھُمْ ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ (18:58) زَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَھُمْ فَصَدَّھُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَھُمْ لَا یَھْتَدُوْنَ (4:27) وَزَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَھُمْ فَصَدَّھُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَکَانُوْ مُسْتَبْصِرُوْنَ (38:29) وَزَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (43:6) اَفَمَنْ زُیِّنَ لَہٗ سُوْٓئُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا (8:38) اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُوْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ زَیَّنَّا لَھُمْ اَعْمَالَھُمْ فَھُمْ یَعْمَھُوْنَ (4:27) زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْ مَکْرُھُمْ وَصُدُّوْعَنِ السَّبِیْلِ (33:13) وَکَذٰلِکَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓئُ عَمَلِہٖ وَصُدَّعَنِ السَّبِیْلِ (37:40) کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْکٰفِرِیْنَ مَاکَانُوْ یَعْمَلُوْنَ (122:13) وَاِخْوَانُھُمْ یَمُدُّوْنَ ھُمْ فِی الْغَیِّ ثَُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ (202:7) قَالَ قَائِلٌمِّنْھُمْ اِنّی کَانَ لِیْ قَرِیْنٌ یَقُوْلُ ئَ اِنِّکَ لَمِنَ الْمُصِّدِّقِیْنَ (82:37) تَاللّٰہِ لَقَدْ اَرْسَلْنَا اِلٰی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَزَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَھُمْ فَھُوَ وَلِیُّھُم عَذَابٌاَلِیْمٌ (16:63) وَمَنْ یَّکُنِ الشَّیْطٰنُ لَہٗ قَرَیْناً فَسَآئَ قَرِیْناً (4:38) قاَلَ قَرَیْنُہٗ رَبََّنَا مَآ اَطْغَیْتُہٗ وَلَکِنْ کَانَ فِیْ ضَلٰلٍ بَعِیْدٍ (50:27) وَقَیَّضْنَا لَہُمْ قُرَنَآئَ فَزَیَّنُوْا لَہُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ (41:25) وَحَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِّنْ قَبْلِہِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِِنْسِ اِِنَّہُمْ کَانُوْا خٰسِرِیْنَ (الانعام 6:27) یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا (6:112) اِنَّاجَعَلْنَا الشَّیْطٰنَ اَوْلِیَآئَ لِلّلَذِیْنَ لَا یُوْمِنُوْنَ (7:27) اِنَّھُمُ اتَّخَذُوا الشَّیَاطَیْنَ اَوْلِیَآئَ مَنْ دُوْنِ اللہِ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّھُم مُھْتَدُوْنَ (7:30) وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہٗ شَیْطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیْنٌ (43:36) وَیَجْعَلُوْنَ لِلہِ مَا یَکْرَھُوْنَ وََتَصِفُ اَلْسِنَتُھُمُ الْیَوْمَ اَذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّکُمْ فَی الْعَذَابِ مُشْتَرِکُوْنَ (43:39) وَیَجْعَلُوْنَ لِلہِ مَا یَکْرَھُوْنَ وَتَصِفُ اَلْسِنَتُھُمُ الْکَذِبَ اِنْ لَھُمُ الْحُسْنی لَا جَرَمَ اَنَّ لَھُمُ النَّارَ وَ اَنَّھُمْ مُّفْرَطُوْنَ (16:62) یَحْلِفُوْنَ بِاللِ لَکُمْ لِیُرْضُوْکُمْ وَ اللہُ وَرِسُوْلُہٗ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْہُ اِنْ کَانُوْا مُؤمِنِیْنَ (9:62) یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْھُمْ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْھُمْ فَاِنَّ اللہَ لِا یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ (9:96) یَحْلِفُوْنَ بِاللہِ اِنْ اَرَدِنَا اِلَّا اِحْسِاناً وَّتَوْفِقْیاً (4:26) وَلِیَحْلَفَنَّ اِنْ اَرَدْنَا اِلَّا الْحُسْنٰی وَاللہُ یَشْھَدُ اَنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ (9:107) اِنَّھُمْ اَلْفُوْ اٰبَآئَ ھُمْ ضَّآلِّیْنَ فَھُمْ عَلٰی اٰثَارِھِمْ یُھْرَعُوْنَ (37:69:70)
دنیا ہی کے ہو کر رہ جانے والے رسوا کن عذاب میں پھنس کر رہ جائیں گے :
344: ذرا غور کرو کہ کتنی ہی زندگیاں ہیں جن کا ہر لمحہ طرح طرح کو کوششوں میں بسر ہوتا ہے لیکن ان کی کوئی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوتی اور جب پردہ غفلت ہٹتا ہے تو صاف دیکھ لیتے ہیں کہ جدوجہد کی ساری زندگی رائیگاں گئی ! وہ ہمیشہ اس دھوکے میں رہتے ہیں کہ ہم نے فلاں بنائی اور فلاں فلاں کام میں کامیابی حاصل کرلی اور فلاں کارخانہ لگا لیا حالانکہ بنتا ونتا کچھ بھی نہیں بلکہ سر تا سر بگڑتا ہی جاتا ہے دنیا کی چند روز زندگی بلحاظ دنیا اچھی بین گزر گئی اور آخرت میں ناکامی کا سامنا گزرے دنوں پر پانی پھیر دے گا اور ان سے کہا جاے گا کہ تم کو معلوم ہے کہ تم نے صرف اتنے ہی پر اکتفا نہ کیا کہ جو چیز حق نہ تھی اس کی تم نے پیروی کی بلکہ تم اس غیر حق پر ایسے مگن رہے کہ جب حق تمہارے سامنے پیش کیا گیا تو تم نے اس کی طرف التفات نہ کیا اور الٹے اپنی باطل پرستی پر اتراتے رہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے :
ذلِکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَفْوَحُوْنَ فَی الْاَرْضِ بِغیْرِ الْحَقِّ وَبِمَا کُنْتُمْ تُمْرَحُوْنَ ۔ (المؤمن : 40:75) ” ان سے کہا جائے گا کہ تمہارا یہ انجام اس لئے ہوا کہ تم زمین میں غیر حق پر مگن تھے اور پھر اس پر اتراتے تھے۔ “
Ayah 3:189آسمانوں اور زمین کی اصل بادشاہی تو اللہ ہی کی ہے باقی سب بکھیڑے ہیں :
آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے یعنی اللہ کے زیر فرمان ہے۔ پس اگر وہ تمہیں کا مییابی و کمرانی اور سر بلندی عطا فرمانا چاہے تو تمہاری راہکو کون روک سکتا ہے ؟ لیکن ہاں ! شرط کامیابی یہ ہے کہ ہم راہ حق پر استوار رہو۔ لیکن کفر و شرک حماقت میں جو لوگ مبتلا ہیں وہ اگر سمجھانے سے نہیں مانتے تو نہ مانیں حقیقت اپنی جگہ حقیقت ہے کسی کے ماننے نہ ماننے سے حقیقت کبھی بدل نہیں جاتی زمین و آسمان کی بادشاہی دنیا کے نام نہاد بادشاہوں ، جباروں اور سرداروں کے حوالے نہیں کردی گئی ہے نہ کسی نبی یا ولی یا دیوی اور دیوتا کا اس میں کوئی حصہ ہے بلکہ اس کا مالک اکیلا اللہ ہی ہے اس سے بغاوت کرنے والا ہے اپنے بل بوتے پر جیت سکتا ہے نہ ان ہوستیوں میں سے کوئی آکر اسے بچا سکتی ہے جنہیں لوگوں نے اپنی حماقت دبے وقوفی سے خدائی اختیارات کا مالک سمجھ رکھا ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد ہوا :
لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْد (لقمان : 31:26) ــ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ بیشک بےنیاز ہے اور آپ سے آپ محمود ہے۔ “
وہ آپ سے آپ محمود ہے کا مطلب ؟ مطلب یہ ہے کہ وہ ایسا بےنیاز ہے کہ وہ کسی کے شکر کا محتاج نہیں اور نہ کسی کے کفر سے اس کا کوئی نقصان ہے۔ جو شخص کفر کرتا ہے اس کا کفر اس کے اپنے لئے نقصان دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ وہ تو آپ سے آپ محمود ہے خواہ کوئی اس کی حمد کرے یا نہ کرے۔ کاینات کا ذرہ ذرہ اس کے کمال و جمال اور اس کی خلاقی و رزاقی پر شہادت دے رہا ہے اور ہر مخلوق زبان حال سے اس کی حمد بجالا رہی ہے ایک انسان ہی ایسا ناکارہ ہے جو اس سے سر پھیر جائے تو پھیر جائے لیکن اس سے سر پھیر کر وہ کس کا نقصان کرے گا ؟ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَخْلُقُ مَا یَشَآئُ یَہَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ اِِنَاثًا وَّیَہَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ الذُّکُوْرَ اَوْ یُزَوِّجُہُمْ ذُکْرَانًا وَّاِِنَاثًا وَیَجْعَلُ مَنْ یَّشَآئُ عَقِیْمًا اِِنَّہٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ (الشوریٰ : 46:49:50) ” اللہ ہی زمین و آسمان کی بادشاہی کا مالک ہے وہ جو کچھ چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے ، جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے۔ جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑ کیا ملا جلا کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔ وہ سب کچھ جانتا اور ہرچیز کا اندازہ مقرر کرنے والا ہے۔ “
گویا اللہ تعالیٰ کے مطابق العنان ہونے کا ایک کھلا ہوا ثبوت۔ ہوں ۔ کوئی انسان خواہ وہ بڑے سے بڑے دنیوی اقتدار کا مالک بنا پھرتا ہو یا روحانی اقتدار کا مالک سمجھا جاتا ہو کبھی اس پر قادر نہیں ہوسکا ہے کہ دوسروں کو دلواناتو درکنار خواہ اپنے ہاں اپنی خواہش کے مطابق اولاد پیدا کرسکے۔ جسے اللہ نے بانجھ کردیا وہ کسی دوار اور کسی علاج اور کسی تعویذ گنڈے سے اولاد والانہ بن سکا۔ جسے اللہ نے لڑکیاں ہی لڑکیاں دیں وہ ایک بیٹا بھی کسی تدبیر سے نہ کرسکا اور جسے اللہ نے لڑکے ہی لڑکے دیئے وہ ایک بیٹی بھی کسی طرح نہ پاسکا۔ اس معاملہ میں ہر ایک قطعی بےبس رہا ہے بلکہ بچے کی پیدائش سے پہلے کوئی یہ حتمی بات معلوم نہ کرسکا کہ رحم مادر میں لڑکا پرورش پا رہا ہے یا لڑکی اور اس مشینی دور میں کسی آلہ کے ذریعہ معلوم ہو بھی جائے تو کیا وہ لڑکے کو لڑکی یا لڑکی کو لڑکا بنا دے گا تو پھر ایسا علم مفید کیا رہا ؟ یہ سب کچھ کر بھی اگر کوئی خدا کی خدائی میں مختار کل ہونے کا زعم کرے یا کسی دوسری ہستی کو اس کے اختیارات میں دخیل سمجھے تو ظاہر ہے کہ یہ اس کی اپنی ہی بےبصیرتی ہے جس کا خمیازہ وہ بھگتے گا۔ کسی کے اپنی جگہ کچھ سمجھ بیٹھنے سے حقیقت میں ذرہ بھر بھی تغیر واقع نہیں ہوتا۔
Ayah 3:190کائنات کے ذرہ ذرہ میں توحید الٰہی کے نشانات موجود ہیں :
ذوق نے کیا ہی عجیب کہا کہ :
گلہائے رنگا رنگ سے ہے زینت چمن
اے ذوق اس جہاں میں ہے زیب اختلاف سے
چنانچہ اسی زیر نظر آیت میں قرآن کریم رات اور دن کے اختلاف کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر غور کرو تو اس اختلاف میں حکمت الٰہی کی کتنی ہی نشانیاں پوشیدہ ہیں۔ یہ بات کہ شب و روز کی آمدورفت کی دومختلف حالتیں ٹھہرا دی گئی ہیں اور وقت کی نوعیت ہر معین مقدار کے بعد بدلتی رہتی ہے زندگی کے زندگی کے لئے بڑی ہی تسکین و دل بستگی کا ذریعہ ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا اور قوت ہمیشہ ایک ہی حلت پر برقرار رہتا تو دنیا میں زندہ رہنادشوار ہوجاتا۔ اگر قطبین کے اطراف میں جائوجہاں روز و شب کا اختلاف اپنی نمود نہیں رکھتا تو تمہیں معلوم ہوجائے کہ یہ اختلاف گزران حیات کے لئے کیسی عظیم الشان نعمت ہے اس لئے اشارہ فرمایا ” آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں اور رات دن ایک کے بعد ایک آتے رہنے میں ارباب عقل و دانش کیلئے بڑی ہی نشانیاں ہیں۔ “
رات اور دن کے اختلاف نے معیشت کو دور مختلف حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ ان کی روشنی ، جدوجہد کی سرگرمی پیدا کرتی ہے۔ رات کی راری کی راحت و سکون کا بستر بچھا دیتی ہے۔ ہر دن کی محنت کی بعد رات کا سکون ہوتا ہے اور ہر رات کے سکون کے بعد نئے دن کی نئی سر گرمی اور یہی وہ رحمت الٰہی ہے جس کو خود قرآن کریم نے بھی ذکر فرمایا ہے۔
وَ مِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ وَ النَّھَارَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْن (القصص : 28:73) ” اور دیکھو یہ اس کی رحمت کی کار سازی ہے کہ تمہارے لئے رات اور دن الگ الگ ٹھہرا دیئے گئے تاکہ رات کے وقت راحت پاؤ اور دن میں اس کا فضل تلاش کرو۔ “ یعنی کاروبار معیشت میں سرگرم رہو۔ پھر رات اور دن کا اختلاف صرف رات اور دن ہی کا اختلاف ہمارے احساسات کا ذائقہ بدلتا رہتا ہے اور یکسانیت کی افسردگی کی جگہ تبدل و تجرد کی لذت و سرگرمی پیدا ہوتی رہتی ہے۔ یہی بات قرآن کریم کی اس آیت میں اس طرح بیان کی گئی ہے :
فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ موَ لَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْھِرُوْنَ (الروم : 30:18) ” پس پاکیزگی ہے اللہ کے لئے اور آسمان و زمین میں اس کے لئے ستائش ہے یعنی ہر قسم کی اچھی تعریف جبکہ تم پر شام آتی ہے ، جب تم پر صبح ہوتی ہے ، جب دن کا آخر وقت ہوتا ہے اور جب تم پر دوپہر آتی ہے۔ “
اسی طرح انسان خود اپنے وجود کو دیکھے اور تمام حیوانات کو دیکھے کہ فطرت نے کس طرح طرح کے اختلافات سے اس میں تنوع اور دل پذیری پیدا کردی ہے ؟ چناچہ ارشاد الٰہی ہوتا ہے :
وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ (فاطر : 35:28) ” اور انسان ، جانور ، چارپائے طرح طرح کی رنگتوں کے۔ “ پھر عالم نباتات میں دیکھو۔ درختوں کے مختلف ڈیل و ڈول ہیں ، مختلف رنگتیں ہیں ، مختلف خوشبوئیں ہیں ، مختلف خواص ہیں اور پھر دانہ اور پھل کھاؤ تو مختلف قسم کے ذائقے ہیں۔ چناچہ ارشاد الٰہی اس طرح ہوا ” کیا ان لوگوں نے کبھی زمین پر نظر نہیں ڈالی اور غور نہیں کیا کہ ہم نے نباتات ہر دو دو بہتر قسموں میں سے کتنے بیشمار درخت پیدا کردیئے ہیں۔ “ (26:7) اور ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور دیکھو اللہ نے جو پیداوار مختلف رنگتوں کی تمہارے لئے زمین میں پھیلا دی ہے سوا اس میں بھی عبرت پذیر طبعتوں کے لئے حکمت الٰہی کی بڑی ہی نشانی ہے۔ “ (16:13) ” اور وہ حکیم و قدیر جس نے طرح طرح کے باغ پیدا کردیئے۔ ٹہنیوں پر چڑھائے ہوئے اور بغیر چڑھائے ہوئے اور کھجور کے درخت اور طرح طرح کی کھیتیاں جن کے دانے اور پھل کھانے میں مختلف ذائقے رکھتے ہیں۔ “ (6:141)
پھر حیوانات اور نباتات ہی پر موقوف نہیں جمادات میں بھی یہی قانون فطرت کام کر رہا ہے۔ جس طرح ارشاد خداوندی ہے کہ ” پہاڑوں کو دیکھو ، گوناگوں رنگتوں کے ہیں کچھ سفید کچھ سرخ کچھ کالے کلوٹے۔ “ اس طرح ہر ایک چیز کے متعلق غور کرتے جاؤ تو یقینا تم کو ایک ایک ذرہ میں اللہ کی توحید و وحدانیت کے دلائل نظر آتے جائیں گے لیکن آخر عقل و فکر سے کام لینا تو تمہارا ہی کام ہے اگر تم اس پر تالا لگا دو گے تو پھر غور و فکر کس طرح کرو گے ؟ جو لوگ عقل و فکر پر تالا لگانے کا حکم صادر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ دین عقل سے نہیں سمجھا جاسکتا ان سے پوچھ کر بتا دو ؟ لیکن اس کا جواب دے گا کون اور کیسے ؟ کیونکہ جواب بھی تو عقل کا تقاضا کرتا ہے اور اس پر ہے ” تالا “ ہاں ! جب ضرورت ہوئی تو تالا کھول لیا اور جب چاہا تالا بند کردیا۔ اگر بات اس طرح ہے تو ہٹ دھرمی ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔
ہر حال میں اللہ کی یاد رکھنے والے ہی صاحب عقل و دانش ہیں :
347: پچھلی آیت میں فرمایا ہے کہ اللہ کی توحید و وحدانیت کے نشانات ان ہی لوگوں کو نظر آتے ہیں جو صاحب عقل و فکر ہیں اور اس آیت میں اس بات کی وضاحت فرما دی کہ صاحب عقل و دانش کون لوگ ہیں ؟ کیونکہ ساری دنیا عقل مند ہونے کی مدعی ہے کوئی بیوقوف بھی اپنے آپ کو بےعقل تسلیم نہیں کرتا اور اس لئے یہ کہا جاتا ہے کہ دین عقل سے نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ اگر یہ مال لیا جاتا کہ دین عقل سے سمجھا جاتا ہے تو پھر عقل مند لوگوں اور بیوقوفوں کی پہچان ہوجاتی اور اس طرح نہ معلوم کس کس کا نقصان ہوتا اس لئے یہاں لا کر رسی کاٹ دی گئی اور دین کو ایک جھمیلا بنا کر ریکھ دیا گیا۔ بہر حال قرآن کریم نے عقل والوں کی مند علامات بتلائی ہیں جو درحقیقت عقل کا صحیح معیار ہیں۔ ان علامات میں سے پہلی علامت اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے۔ غور کیجئے کہ محسوسات کا علم کان ، آنکھ ناک اور زبان وغیرہ جو بےعقل جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے اور عقل کا کام یہ ہے کہ وہ علامات و قرائن اور دلائل کے ذریعہ کسی ایسے نتیجہ تک پہنچ جائے جو محسوس نہیں ہے اور جس کے ذریعہ سلسلہ اسباب کی اس آخری کڑی کو تلاش کیا جاسکے اس اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے کائنات عالم پر غور کیجئے آسمان اور زمین اور ان میں سمائی ہوئی تمام مخلوقات اور ان کی چھوٹی بڑی چیزوں کا مستحکم اور حیرت انگیز نظام عقل کو کسی ایسی ہستی کا پتہ دیتا ہے جو علم و حکمت اور قوت وقدرت کے اعتبار سے سب سے بالاتر ہے اور جس نے ان تمام چیزوں کو خاص حکمت سے بنایا ہے اور جس کے ارادہ اور مشیت سے یہ سارا نظام چل رہا ہے اور وہ ہستی ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ہو سکتی ہے۔ کسی نے کیا عجب کہا ہے :
ہر گیا ہے کہ زمین روید
وحدہ لا شریک گوید
انسان ارادوں اور ندبیروں کے فیل ہونے کا ہر جگہ اور ہر وقت مشاہدہ کرتا رہتا ہے۔ اس کو اس نظام کا چلانے والا نہیں کہا جاسکتا اس لئے آسمان اور زمین کی پیدائش اور ان میں پیدا ہونے والی مخلوقات کی پیدائش میں غور و فکر کرنے کا نتیجہ عقل کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی اطاعت و ذکر ہے جو اس سے غافل ہے وہ عقل مند کہلانے کا مستحق نہیں اور یہی وہ چیز ہے جو دوسرے حیوانوں سے جن کے پاس ظاہری لحاظ سے کان ، ناک ، آنکھ اور زبان سب کچھ ہے لیکن غور و فکر نہیں جس کو حقیقت میں عقل کہا جاتا ہے اس لئے اس جگہ عقل والوں کی یہ علامت بتائی گئی اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیِامًاوَّقُعُوْدًا وَّعَلیٰ جُنُوْبِھِمْ ” یعنی عقل والے وہ لوگ ہیں جو کسی حال میں اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتے کھڑے ہوں ، بیٹھے ہوں یا لیٹے ہوں جن کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آسمان و زمین کی خلقت میں غور کرتے ہیں۔ ذکر کیا ہے ؟ یہی ہے کہ اللہ کی یاد سے دل کبھی خالی نہ ہو۔ اللہ کی یاد سے دل کب خالی ہوجاتا ہے ؟ جب غور و فکر اور تدبر کرنا وہ چھوڑ دے۔ غور و فکر کیا ہے ؟ یہ کہ آسمان و زمین کی خلقت اور کائنات فطرت کے حوادث و مظاہر پر نظر کر کے یہ معلوم کرنا کہ ان کا بنانے والا کون ہے ؟ اور ان میں یہ خاصیتیں کس نے بھردی ہیں ؟ اس طرح سے وہ آخری سبب یا علت العلل تک پہنچ گیا تو گویا اس کو مقصود حاصل ہوگیا کیونکہ آخری سبب اور آخری علامت اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اللہ پر اس طرح سے ایمان لانے والے کا ایمان کبھی متزلزل نہیں ہوتا۔ وہ ہر اس شے سے مضبوط ہوگا جس کو اللہ نے تخلیق کیا۔ اور اس ایمان والا جو کام کرے گا ہو صحیح کرے گا غلط کے قریب بھی نہیں جائے گا اور جو کچھ کرے گا بےخوف و خطر کرے گا۔ اس لئے کہ اس کے نزدیک دنے کی کوئی شے اس سے زندگی نہیں لے سکتی جب تک اس کو اللہ نہ لینا چاہے اور جب اللہ ہی لینا چاہے تو آخر وہ اس کو رکھے گا کیوں ؟ اس لئے کہ وہ جان گیا ہے کہ اللہ ہی کی وہ ذات ہے جو سارے سیوں کا آخری سبب ہے۔
اسی بات کو ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے۔ مثال یوں سمجھئے کہ ایک جنگل کا رہنے والا یعنی جنگلی آدمی جو کچھ بھی لکھا پڑھا نہیں کسی ریلوے اسٹیشن پر پہنچ جاتا ہے کہ ریل جیسی عظیم الشان سواری ایک سرخ جھنڈی کے دکھانے سے رک جاتی ہے اور سبز کے دکھانے سے چلنے لگتی ہے اس بات کو وہ مشاہدہ کرتا ہے ایک بار چاہے دس بار تو وہ یہ کہتا ہے کہ یہ سرخ جھنڈی اور سبز جھنڈی بڑی پاور رکھتی ہے کہ اتنے طاقت والے انجن کو روک دیتی ہے اور چلا دیتی ہے تو ایک علم و عقل والا ہے جو اس کو کہتا ہے کہ طاقت ان جھنڈیوں میں نہیں بلکہ اس گارڈ کے پاس ہے جس کے ہاتھ میں وہ جھنڈیاں ہیں اس کی یہ بات سن کر ایک اور علم و عقل والا اٹھتا ہے وہ اس کو کہتا ہے کہ نہیں طاقت اس کے پاس نہیں ہے جس کے ہاتھ میں جھنڈیاں ہیں بلکہ طاقتور تو وہ ہے جو انجن چلا رہا ہے کیونکہ اگر وہ گاڑی چلانا چھوڑ دے گا تو گاڑی کی جھنڈی کے کرے گی یہ بات سن کر ایک اور علم و عقل والا بولتا ہے کہ انجن ڈرائیور کو بھی پاور یا طاقت کا مالک سمجھنا جہالت ہے کیونکہ در حقیقت اس کی طاقت کو انجن میں کوئی دخل نہیں بلکہ طاقت تو ساری انجن کے اپنے کل پرزوں میں ہے اور ان کا اس طرح جوڑ جوڑ دینے میں اور وہ بہت خوش ہے کہ میں بڑا عقلمند ہوں کہ میں نے پہلواں کی غلطی ثابت کردی ہے لیکن یہ بات سن کر ایک عقل و علم والا اٹھتا ہے ہو کہتا ہے کہ نہیں تیری بات صحیح نہیں ہے بلکہ ان بےحس کل پرزوں میں تو کچھ بھی نہیں بلکہ اصل طاقت تو اس بھاپ اور اسٹیم کی ہے جو انجن کے اندر آگ اور پانی کے ذریعہ پیدا کی گئی ہے اور یہ اپنے اس بیان کی وجہ سے حکیم اور فلا سفر کہلاتا ہے اور ایک زبان میں سائنس دان لیکن حکمت و فلسفہ اس جگہ پہنچ کر تھک جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس کائنات میں تفکر و تدبر کرنے والے یعنی انبیائے کرام فرماتے ہیں کہ اے ظالم اس طرح بھاپ اور سٹیم کو طاقت کا مالک سمجھنا بھی تیری غلطی ہے اپنے اس فلسفہ سے ایک قدم آگے بڑھ کر دیکھ کہ اس الجھی ہوئی ڈور کا سرا تیرے ہاتھ آجائے اور سلسلہ اسباب کی آخری کڑی تک تیری رسائی ہوجائے کہ دراصل ان ساری طاقتوں و پاوروں کا مالک وہ ہے جس نے آگ اور پانی پیدا کئے اور ان کا جوڑ جوڑنے والے کو عقل دی جس سے اس نے اس جوڑ کو جوڑا اور یہ اسٹیم تیار ہوئی۔
اس تفضیل سے آپ نے یقینا معلوم کرلیا ہوگا کہ عقل والے کہلانے کے مستحق صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو صحیح معنوں میں پہچانیں اور ہر وقت اور ہر حالت میں اس کو یاد کرلیں اس لئے اولی الباب کی صفت قرآن کریم نے یہ بتائی کہ اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیِامًاوَّقُعُوْدًا وَّعَلیٰ جُنُوْبِھِمْ ” جو لوگ کھڑے بیٹھے اور لیٹے کسی حال میں بھی اللہ کی یاد میں غافل نہیں ہوتے اور جن کا شیوہ یہ ہے کہ وہ آسمان و زمین کی خلقت میں غور کرتے ہیں “ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰووَاتِ وَالْاَرْضِ ۔