Ayah 3:96پہلا گھر جو عبادت کے لیے بنایا گیا وہ مکہ ہی میں ہے :
186: یعنی مانہ کے لحاظ سے عبادت کے لیے بنایا گیا پہلا گھر بیت اللہ ہی ہے اور مرتبہ کے لحاظ سے سے بھی وہ سب عبادت خانوں پر فوقیت رکھتا ہے اور آخری مرجع عالم بھی وہی قرار پایا۔ ” وُضِعَ “ کا استعمال ایجاد اور خلق کے معنی میں ہوا ہے۔ ” بُكَّه “ اور ” مکہ “ ایک ہی نام کی دو مختلف صورتیں ہیں اور ایک ہی شہر کو مکہ اور بکہ کے نام سے بلایا گیا ہے جو مکہ ہے وہی بکہ ہے اور جو بکہ ہے وہی مکہ ہے۔ ” مُبَارَكًا “ برک سے ہے۔ یعنی برکت والا مبارک وہ ہے جس کی طرف خیر کثیر آتی رہی ہو اور بکہ کو ” مُبَارَكًا “ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس کی طرف سے خیر کثیرآتی رہے گی۔ یہ خیر کثیر صرف عبادت میں اور اس کے ثواب میں یا قبولیت دعا میں عرف میں اس کو یوں سمجھ لو کہ اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ انسانوں کے لیے تام خیرات دینی کا یہ مرکز رہے گا۔ اس جگہ سے وہ سرچشمہ توحید بھی پھوٹا جو قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔ ” بکہ “ کیا ہے ؟ فرمایا ” ھدی “ مراد ہے ” زاھدی “ یعنی ہدایت والا کیونکہ اس جگہ سے وہ ہدایت نکلی جو تمام دنیا و جہان کے لیے تھی۔ باقی ہدایتیں ایک ایک قوم کے لیے آئیں صرف ایک ہی ہدایت ایسی ہے جو علی الاعلان ساری دنیا کے لیے آئی اور وہ ہدایت اس مقام مبارکہ سے نکلی۔
كیا خانہ کعبہ دنیا کا سب سے پہلا معبد ہے ؟ قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں میں تو یہ بالکل واضح ہے کہ بیت اللہ ہی دنیا میں سب سے پہلا عبادت خانہ ہے لیکن مخالفین بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں چناچہ سرولیم میور ایک مخالف اسلام عیسائی یہ تسلیم کرتا ہوا رقم طراز ہے ” مکہ کے مذہب کی نمایاں خصوصیات کے لیے ایک نہایت ہی قدیم زمانہ تجویز کرنا پڑتا ہے۔ ڈائیڈورس سکولس سنہ عیسوی سے بھی نصف صدی پیشتر لکھتا ہوا عرب کے ذکر میں لکھتا ہے کہ اس ملک میں ایک معبد ہے جس کی عرب لوگ بہت ہی عزت کرتے ہیں۔ “ بائبل میں بیت ایل کا ذکر آتا ہے جس کا تعلق سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سے ہے اگرچہ بائیبل کا بیان اس مقام کی تعیین میں قابل اعتبار نہیں۔ بس دنیا میں آج صرف ایک ہی مقام ہے اور ہمیشہ ایک ہی رہا ہے جس پر بیت ایل یا بیت اللہ کا نام بولا گیا ہے اور وہ خانہ کعبہ ہی ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھو عروة الوثقیٰ جلد الو سورة البقرہ آیت : 125
بیت اللہ کی فضیلت کا مختصر بیان اور بیت العتیق ہونے کا شرف :
” حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے فرمایا کہ مکہ بڑے بڑے جابروں کی گردنیں توڑ دیتا ہے جس جابر نے اصحاب فیل کی طرح کعبہ کو ڈھانے کا ارادہ کیا اللہ نے اس کی گردن توڑ دی “ کہا جاتا ہے کہ مکہ کہنے کی وجہ سے تسمیہ یہ ہے کہ ” مَكٌّ“ کا معنی ہے پانی کی قلت چونکہ مکہ میں پانی بہت کم تھا اس لیے اس کا نام ہی مکہ ہوگیا۔ اور ” مَكٌّ“ کے معنی ماں کی چھاتیوں سے دودھ چوسنے کے بھی ہیں اور یہ وجہ بھی بیشک صحیح ہے۔
حضرت علی بن الحسین یعنی امام زین العابدین نے فرمایا کہ اللہ کے عرش کے نیچے ایک مقام ہے جسے بیت المعمور کے نام سے پکارا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے زمین پر آنے والے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ بیت اللہ کی طرح زمین پر ایک مقام بنائیں فرشتوں نے حسب الحکم کعبہ کی تعمیر کی۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) سے بھی دو ہزار سال پہلے فرشتوں نے کعبہ کی عمارت بنائی تھی اور آدم (علیہ السلام) نے بھی اس کا حج کیا تھا اور فرشتوں نے کہا کہ آپکا حج مبرور ہے اور ہم نے بھی آپ سے دو ہزار سال پہلے اس کا حج کیا تھا ۔
اور یہ بھی بیان ہوا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) ہی نے اس کی تعمیر کی تھی اور ایک عمارت بنائی تھی۔ یہ سب روایات تاریخی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور صحیحین میں حضرت ابوذر غفاری ؓ کی روایت موجود ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ زمین پر کون سی مسجد سب سے پہلے قائم کی گئی آپ ﷺ نے فرمایا ” مسجد حرام “ میں نے عرض کیا پھر کون سی فرمایا ” مسجد اقصیٰ “ میں نے عرض کی کہ دونوں میں کتنا فرق تھا فرمایا چالیس سال۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ کعبہ کی عمارت سب سے اول حضرت آدم (علیہ السلام) نے بنائی تھی جو طوفان نوح کے وقت اٹھائی گئی یعنی طوفان نوح سے مٹ گئی پھر اس کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر کیا پھر مٹ گئی تو قبیلہ جرہم نے بنائی پھر عمالقہ نے بنائی اور پھر قریش نے تعمیر کی۔
یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ بعض عبادتیں تو کعبہ کے ساتھ خاص ہیں کسی دوسری جگہ وہ نہیں ہو سکتیں جیسے حج اور حج کی قربانی اور دوسرے مناسک حج اور عمرہ۔ اور بعض عبادتیں اس جگہ ادا کرنے کا اتنا اجروثواب ہے کہ کسی اور جگہ اس کے برابر نہیں۔ جیسے نماز ، روزہ اور اعتکاف۔
حضرت انس بن مالک ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے گھرکے اندر آدمی کی نماز ایک نماز ہی کے برابر ہے اور محلہ کی مسجد میں ایک نماز پچیس نمازوں کے برابر ہے اور جامع مسجد میں پانچ سو نمازوں کے برابر ہے اور مسجد اقصیٰ میں ایک نماز ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے اور میری مسجد میں پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے اور مسجد حرام میں ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔ (ابن ماجہ)
مکہ مکرمہ کے ناموں اور بیت اللہ کے ناموں کا ذکر :
مکہ مکرمہ کے بہت سے نام ہیں جن میں سے بعض کا ذکر قرآن کریم میں بھی موجود ہے جیسا کہ زیر نظر آیت میں ” بَكَّه “ کا لفظ آیا جو دراصل مکہ ہی کا ایک نام ہے۔ اسی طرح ” اُمُّ الْقُرٰى“ (الانعام 16 : 92) یعنی بستیوں کی ماں اور یہ نام مکہ کی وجہ تسمیہ سے ملتا ہے کیونکہ مکہ بھی مکہ سے ہے جس کے ایک معنی ماں کی چھاتیوں سے دودھ چوسنے کے ہیں اور ” اُمُّ الْقُرٰى“ اس لیے اس کو کہا گیا ہے کہ علم الٰہی میں موجود تھا کہ اس کی چھاتیوں سے ساری زمین توحید الٰہی اور دین حق کا دودھ چوسے گی اس لیے ساری دنیا کا یہی حقیقی مرکز ہے اور مفسرین نے اس کو زمین کا مرکز بھی بیان کیا ہے جس سے مرادروحانی مرکزہی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ کاش کہ مسلمان اس بات کو مدنظر رکھ کر دشمنان اسلام کو بتا دیتے کہ ہمارا دارالخلافہ مکہ مکرمہ ہے اور ہمارے ممالک اسلامی کا مرکز اس کے سوا دوسرا نہیں ہوسکتا اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو توفیق دے اور وہ پورے عالم اسلامی کا مرکز صحیح معنوں میں اس کو مان لیں اور وہاں کا حکمران پورے عالم اسلامی کا حکمران قرار پا جائے اور باقی تمام ممالک اسلامی اس کے صوبہ جات طے پاجائیں اور پورے عالم اسلامی کا دفاعی ادارہ ایک اور صرف ایک ہی ہو باقی سب ضمنی چھاؤنیاں بن جائیں۔ اور اس کو شہر خاص یعنی ” اَلْبَلَدَ “ کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور ” اَلْبَلَدُ الْاَمِیْنِ “ یعنی امن والا شہر بھی کیونکہ اس جیسی کوئی جائے امن باقی دنیا میں نہیں اور احادیث میں دو عظیم فتوں کا ذکر کر کے بتایا گیا ہے کہ اس میں دجال اور طاعون داخل نہیں ہوں گے یعنی ہر طرح کے فتنوں سے امن ہی میں رہے گا۔ اللہ کرے مسلمان بھی اس کی پاسبانی کے لیے ایک ہوجائیں اور جن فتنوں کا اس وقت خدشہ ہو کررہا ہے ان سے بھی اللہ اس کو محفوظ رکھے۔
خانہ کعبہ کے جتنے نام ہیں وہ سبھی گویا مکہ ہی کے نام ہیں جیسے ” مقام ابراہیم “ بیت اللہ کا نام بھی ہے اور بیت اللہ میں ایک خاص مقام کا بھی نام ہے۔ ” البیت “ یعنی خاص گھر اور ” بیت العتیق “ یعنی پرانا گھر ” البیت الحرام “ پاک گھر۔
” البیت الحرام “ عزت والا گھر۔ ” الکعبة “ عام ہے اور ” الحاطمة “ یعنی توڑ دینے والا ” القادس “ ” المقدس “ ” البینة “ ” الدارس “ ” المامون “ ” ام رحم “ ” صلاح “ ” عرش “ وغیرہ۔
بیت اللہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے گویا آخری عبادت گاہ بھیے اس لیے کہ ” اول بیت “ خود اللہ تعالیٰ ہی نے فرمایا ہے اور ” مبارکاً “ میں یہ اشارہ بھی ہے کہ نبی اعظم و آخر کا یہ قبلہ وہ قبلہ ہے جس سے خیروبرکت کبھی نقطع نہیں ہوگی گویا جس طرح دو سے قبلے ایک وقت کے لیے تھے اور آخر ایک وقت آیا کہ ان کی خیر و برکت منقطع ہونے والی تھی یہ صورت اس پاک گھر کینہ ہوگی اور تاریخ گواہ ہے کہ اس کے بعد کوئی مقام اس قسم کا مرکز دنیا میں نہیں بنا اور یقیناً اب بھی رہتی دنیا تک نہیں بنے گا اور پھر یہ کہ سب سے بڑھ کر وہ ” ھُدًى لِّلْعَالَمِیْنَ “ بھی ہے اس لیے کہ اس کی ہدایت صرف عرب والوں ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کی کل قوموں کے لیے ہدایت کا مرکز یہی ہے کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے حقیقت یہی ہے۔
Ayah 3:97بیت اللہ کی مختلف نشانیاں اور خصوصاً مقام ابراہیم :
187: ” اس میں روشن نشانیاں ہیں جن میں سے ایک مقام ابراہیم بھی ہے۔ “ وہ روشن نشانیاں کیا ہیں ؟ قرآن کریم نے خود ان کا ذکر کردیا ہے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ ” بلاشبہ صفا اور مروہ نامی دو پہاڑیاں اللہ کی حکمت و رحمت کی نشانیاں ہیں پس جو شخص حج یا عمرہ ادا کرے اس کے لیے کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کے درمیان طواف کرے۔ “ (البقرة 2:158) اور ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے۔
” پس جب عرفات نامی مقام سے انبوہ درانبوہ واپس لوٹو تو ” مشعر الحرام “ جو مزدلفہ میں ایک خاص مقام ہے میں ٹھہر کر اللہ کا ذکر کرو۔ “ (البقرة 2:199) ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ
اونٹ تو ہم نے اسے ان چیزوں میں سے ٹھہرا دیا ہے جو تمہارے اللہ کینشانیوں میں سے ہیں۔ اس میں تمہارے لیے بہتری کی بات ہے پس چاہیے کہ انہیں قطار در قطار ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام یاد کرو۔ “ (الحج 36:22)
مقام ابراہیم کیا ہے ؟ وہ پتھر کہ جس پر کھڑے ہو کر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت اللہ کی دیواریں اونچی کی تھیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نشانوں میں سے ایک نشانی ہے اور خصوصاً بہت بڑی نشانی کیونکہ آثار انبیاء (علیہم السلام) میں سے ایک اثر ہے جو اتنے لمبے زمانہ سے محفوظ چلا آرہا ہے اور یہ بیت اللہ کی تین خصوصیات میں سے پہلی ہے۔ جو بیت اللہ کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی ہے۔
بیت اللہ کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ جو شخص اس میں داخل ہوجائے وہ امن والا ہوجاتا ہے اور ہر لحاظ سے محفوظ ہوجاتا ہے اور جب تک وہ خود کسی پر حملہ نہ کرے کوئی اس پر حملہ نہیں کرسکتا اور کوئی اس کو قتل نہیں کرسکتا۔
بیت اللہ کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمانوں پر اس بیت اللہ کا حج فرض ہے بشرطیکہ وہاں تک پہنچنے کی استطاعت ہو اور قدرت رکھتے ہوں۔
بیت اللہ کی پہلی خصوصیت کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بڑی نشانیاں ہیں اس کی توضیح یہ ہے کہ جب سے بیت اللہ قائم ہوا اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو مخالفین کے حملوں سے محفوظ فرمادیا۔ ، ابرہا نے ہاتھیوں کے لشکر سے اس پر چڑھائی کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قدرت کاملہ سے ان کو پرندوں کے ذریعے تباہ و ہلاک کردیا۔ حرم مکہ میں داخل ہونے والا انسان بلکہ جانور تک محفوظ ہے اور تعجب ہے کہ جانوروں کو بھی اس کا احسا ہے اور حدود حرم کے اندر جانور بھی اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں اور یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ وہاں وحشی جانور بھی انسان کو دیکھ کر نہیں بھاگتا۔ مقام ابراہی کی نشانی آج بھی بیت اللہ کے سامنے بئر زمزم کے قریب رکھی ہوئی ہے اور اس پر ایک چھوٹی سی عمارت کی نشانی بنادی گئی ہے جو بلوری خول سا نظر آتا ہے اور حجاج کرام طواف کے بعد کی دو رکعتیں اس کے قریب اگر جگہ مل جائے تو ادا کرتے ہیں اور اس مقام کے قریب یہ دو رکعت ادا کرنا زیادہ افضل مانا گیا ہے تاہم مقام ابراہیم لفظی معنی کے اعتبار سے بھی مسجد حرام کو حاوی ہے لہٰذا یہ دو رکعت جہاں جگہ میسر آئے ادا کرلینے سے ادا ہوجاتی ہیں۔
بیت اللہ کی دوسری اور تیسری خصوصیات :
188: آیت زیر نظر میں بیت اللہ کی دوسری خصوصیت یہ ذکر کی گئی ہے کہ جو اس میں داخل ہوجاتے مامون و محفوظ ہوجاتا ہے۔ اس میں داخل ہونے والے کا ” مامون و محفوظ ہونا ایک تو شرعی اعتبار سے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو یہ حکم ہے کہ جو شخص اس میں داخل ہجائے اس کو ہرگز ہرگز نہ ستاؤ نہ قتل کرو ۔ “ اگر کوئی شخص کسی کو قتل کرکے یا کوئی اور جرم کر کے وہاں چلا جائے اس کو بھی اس جگہ سزا نہ دی جائے بلکہ اس کو مجبور کیا جائے کہ وہ حرم سے باہر نکلے اور باہر نکال کر سزا دی جائے مگر ہاں جب کوئی مجبوری لاحق ہوجائے۔ دوسرے حرم میں داخل ہنے والے کا مامون و محفوظ ہونا اس طرح بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تکوینی طور پر ہر قوم وملت کے دلوں میں بیت اللہ کی تعظیم و تکریم ڈال دی ہے اور وہ سب عموماً ہزاروں اختلافات کے باوجود اس عقیدے پر متفق ہیں کہ اس میں داخل ہونے ولا اگرچہ مجرم یا ہمارا دشمن ہے تاہم حرم کا احترام اس کا مقتضی ہے کہ واں اس کو کچھ نہ کہیں اور حرم کو عام جھگڑوں اور لڑائیوں سے بھی محفوظ رکھاجائے۔
تعجب ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عرب اور ان کے مختلف قبائل خواہ کتنی ہی عملی خرابیوں میں مبتلا تھے مگر بیت اللہ اور حرم محرم کی عظمت پر سب کے سب جان دیتے تھے ان کی جنگ جوئی اور تند خوئی ساری دنیا میں مشہور ہے لیکن حرم کے احترام کا یہ حال تھا کہ باپ کا قاتل بیٹے کے سامنے آتا تو مقتول کا بیٹا جو اس کے خون کا پیاسا ہوتا تھا اپنی آنکھیں نیچی کر کے گزر جاتا تھا اور اس کو کچھ نہ کہتا تھا۔
تاریخ میں ایک دو واقعات جو بیت اللہ یا حرم میں قتل و غارت کے ملتے ہیں ان میں بھی کسی حد تک مبالغہ پایا جاتا ہے تاہم سیاست و حکومت کے مصالح سے جو کچھ ہوا اس کو بھی مستحسن اور جائز سمجھ کر نہیں کیا گیا بلکہ حرام اور ناجائز سمجھتے ہوے خاص حالات کے تحت ہوا۔
بہرحال یہ بات واضح ہے کہ عامہ خلائق بیت اللہ اور حرم کو اسدرجہ واجب الاحترام سمجھتے رہتے ہیں اور اب بھی بحمداللہ سمجھتے ہیں اور انشاء اللہ العزیز قیامت تک سمجھاجائے گا کہ اس میں قتل و قتال اور لڑائی جھگڑے کو بد ترین گناہ سمجھتے ہیں اور یہ ساری دنیا میں صرف اور صرف بیت اللہ اور حرم محترم ہی کی خصوصیت ہے۔
بیت اللہ کی تیسری خصوصیت یہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر بیت اللہ کا حج کرنا لازم و واجب رقاردیا ہے بشرطیکہ وہ بیت اللہ تک پہنچنے کی قدرت و استطاعت رکھتے ہوں جس کی تفصیل یہ ہے کہ اس کے پاس ضروریات زندگی سے فاضل اتنا مال ہو جس سے وہ بیت اللہ تک آنے جانے اور وہاں کے قیام کا خرچ بردشت کرسکے جس کی مقدار فی زماننا حکومت یعنی ہر ملک کی حکومت مقرر کردیتی ہے۔ ہاں علاوہ ازیں حاجی حضرات کو اپنے اہل و عیال کا بھی انتظام ، نان و نفقہ کا کرنا لازم و ضروری ہے۔
حج کی باقی تمام تفصیلات تفسیر عروة الوثقیٰ جلد اول سورة بقرہ آیت 159 ۔ 158 اور 193 سے 203 تک میں ملاحظہ کریں۔
منکرین کو خیال رہے کہ اللہ کی ذات ایک بےنیاز ذات ہے :
189: پر بھی جو کوئی انکارکرے تو خیال رہے کہ اللہ تعالیٰ تمام دنیا سے بےنیا ہے۔ یہ الفاظ خود بتا رہے ہیں کہ بڑے بڑے لوگ اس کا کفر بھی کریں گے مگر وہ اس کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور آیت 97 صاف بتا رہی ہے کہ بڑے بڑے کفر کرنے والے بھی اہل کتاب ہی ہوں گے اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ اس وقت اہل کتاب کیا کچھ نہیں کر رہے ہیں ہمارا ایمان ہے کہ یہودونصاریٰ کا یہ گٹھ جوڑ انشاء اللہ ان ہی کے لیے ایک ایسا عذاب بن کر سامنے آئے گا کہ ان کو جان کے لالے پڑجائیں گے اور وہ جو کنوں کھود رہے ہیں انشاء اللہ دنیا دیکھے گی کہ وہ خود اس میں کس طرح دھڑام سے جا گریں گے۔ مسلمان اگر سو گئے ہیں تو اللہ کی ذات تو نہیں سو سکتی کیونکہ اس پر تو نیند حرام ہے نیند تو نیند وہ تو کبھی اونگھتا بھی نہیں اس لیے ہمارا ایمان ہے کا یک دن عذاب الٰہی ان کو اپنی لپیٹ میں ضرور لے لے گا۔
Ayah 3:98اہل کتاب کو تنبیہ کہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والو باز آجاؤ :
190: اہل کتاب کو مخاطب کر کے فرمایا جارہا ہے کہ اے اہل کتاب تم اللہ کی آیات کا کیونکر انکار کرتے ہو یعنی تمہارے پاس محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی آیات بینات کے انکار کی ٓاخر کیا دلیل ہے ؟ اس لیے کہ محمد رسول اللہ ﷺ بنی اعظم و آخر کو تسلیم کرنے اور ماننے کی تلقین تو تمہاری مذہی کتابوں توراة و انجیل میں تاکیداً درج ہے۔ دوسری قومیں انکار کریں تو ان کے انکار کی وجہ تو لاعلمی اور نادانی ہو سکتی ہے۔ لیکن تمہارے انکار کی وجہ کیا ہو سکتی ہے کیا تم کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ تم نے محمد رسول اللہ ﷺ اور اللہ کریم کا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آری وحی ہے انکار کر کے اپنے اپنے نبی یعنی موسیٰ اور عیسیٰ اور اپنی اپنی کتب سماوی یعنی تورات و انجیل کا انکار کیا ہے اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ حق کو پہچان کر اور سمجھ کر پھر اس سے انکار کرنا حق کو حق نہ سمجھ کر انکار کرنے سے زیادہ برا ہے۔ دوسرے لفظوں میں علماء کا تساہل دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں بہت بڑا جرم ہے مزید فرما دیا کہ تم کو بھی ہی بات معلوم ہے اور اچھی طرح معلو ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کفر اور تحریف کتاب کے عمل سے اچھی طرح باخبر ہے اس لیے یقینی بات ہے کہ وہ تم کو اس کی سزا بھی دے۔ گا اس لیے حق کو پوشیدہ رکھنے کی تمہاری یہ خواہش تمہارے ہی لیے وبان جان بن جائے گی۔
Ayah 3:99اہل کتاب کی یہ کوتاہی کہ وہ خود بھی انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں :
191: اہل کتاب کی یہ کوتاہی کہ وہ خود تو انکار کرتے ہی ہیں اور پھر ان کو اس بات پر بس نہیں بلکہ دوسروں کو اسلام سے روکنے کا باعث بھی ہیں کیونکہ وہ طرح طرح کی اسکیمیں لڑاتے رہتے ہیں جس سے دوسرے لوگ بھی اسلام سے برگشتہ ہوجائیں۔ جس طرح پیچھے گزر چکا کہ انہوں نے یہ اسکیم بھی شروع کی تھی کہ اپنے لوگوں کو منافقت کی بنا پر اسلام قبول کرنے کی تلقین کی کہ تم لوگ دن کے پہلے حصہ میں ایمان لاؤ اور دن کے پچھلے حصہ میں ایمان سے برگشتہ ہوجاؤ اور یہ پروپیگنڈا جاری کرو کہ ہم نے اسلام میں داخل ہو کر دیکھ لیا جو کچھ وہ ہے ؟ یعنی وہ کچھ بھی نہیں صرف پچھلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔
زیر نظر آیت میں گویا ان سے باز پرس کرنے کا حکم ہے اور وہ بھی پوری قوت کے ساتھ کہ آخر تمہارے پاس ان حرکتوں کا کیا جواز ہے جو تم آئے دنوں کر رہے ہو۔ جو لوگ ایمان قبول کرچکے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں تم ان کو برگشتہ کرنے کے لیے جو مختلف طریقے اختیارکر رہے ہو ہم ان سے اچھی طرح باخبر ہیں ان سے باز آجائو ورنہ تمہارے اس عمل کا نتیجہ تم کو بھگتنا پڑے گا یاد رکھو کہ ہم سوئی ہوئی قوم نہیں کہ تمہاری ان حرکتوں سے واقف نہ ہوں جن کو تم چھپ چھپا کر کرتے آرہے ہو۔ تمہارے ان ہتھکنڈوں کا وبال تم پر پڑنے والا ہے اور تمہاری اس ٹیڑھی راہ سے ہم پوری طرح باخبر ہیں اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ جو کچھ تم کر رہے ہو جان بوجھ کر کر رہے ہو تم خود اس پر گواہ ہو کہ تم جو کچھ کر رہے ہو جان بوجھ کر اور سمجھ بوجھ کر کر رہے ہو اور اللہ تعالیٰ بھی تمہارے ان اعمال کی خبر رکھتا ہے اور ہم بس اس کے حکم ہی کے منتظر ہیں وہ وقت دور نہیں کہ تمہاری ان شرارتوں کا مزا تم کو چھکا دے گا۔
اہل کتاب تم جانتے ہو کہ خدا کی لاٹھی بےآواز ہے :
192: اہل کتاب کو مزید تنبیہ کی جارہی ہے کہ ” یقین رکھو جو کچھ تم کر رہے اللہ اسے سے غافل نہیں ہے۔ “ یہ بات بھی تم کو اچھی طرح معلوم ہے کہ خدا کی لاٹھی بےآواز ہے وہ جب بدلہ لینا چاہتا ہے تو حالات کو اس طرح بدل دیتا ہے کہ بڑے بڑے اسکیمر اپنی موت کو خود دعوت دینے لگتے ہیں۔ تم بھی ان باتوں سے باخبر ہو کہ ایک وقت تھا کہ فرعون کے ہاتھوں تم پر ظلم پر ظلم جاری تھے کہ اس اللہ نے ظالم فرعون کو اس کے ظلم کا مزا چکھانے کے لیے گھر سے نکال کر تمہاری آنکھوں کے سامنے غرض کرکے رکھ دیا اور تم مظلومین کو اس ظالم کے سارے خزانوں کا وارث بنادیا۔ آج تم کو وہ وقت یاد نہیں رہا اور تم خود فرعون کے بھیس میں ظالم بن کر ظلم پر اتر آئے ہو ذرا اپنے گریبان میں جھان کر تم بھی دیکھ لو۔
فرعون اور اس کی قوم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قو کو ستایا تھا اس لیے پنے انجام کو پہنچ گیا اور آج تم محمد رسول اللہ ﷺ کو جو نبی اعظم و آخریں اور ان کی امت مسلمہ کے درپے آزاد ہو اور طرح طرح سے ان کے راستے میں روٹے اٹکا رہے ہو تو کیا تم اپنے انجام کو نہیں پہنچو گے ؟ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے ہر کام کے لیے ایک وقت متعین ہے اور جب وہ وقت متعین آجاتا ہے تو پھر اس میں تاخیر ممکن نہیں ہوتی۔
Ayah 3:100مسلمانوں کو مخاطب کیا جاتا ہے کہ تم اہل کتاب کی باتوں میں کیوں آتے ہو ؟ :
193: ” باتوں میں آنا “ ایک محاورہ ہے جس کا مطلب ہے کہ ناسمجھی کی بناء پر کسی سے دھوکہ کھا کر مسلمان اور ایسی ناسمجھی آخر کیوں ؟ مسلمان کی شان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اسلامی روشنی سے دیکھتا ہے اور اس کے مقابلہ میں ایک کافر اندھا ، بہرا اور گونگا ہوتا ہ۔ کیا نابینا بینا کو راہ دکھائے گا تم بھی عقل کے ناخن لو اور اپنی حیثیت کو سمجھو تم مسلمان ہو تم کو ان کے دھوکا میں آنا نہایت شرم کی بات ہے۔
قرآن کریم کی ہدایت جب سے وہ نازل ہوا اس وقت سے اس دنیا کے نظام کے قیام تک باقی رہنا تھیں ، اس لیے وہ صرف ان ہی لوگوں کے لیے نہ تھیں جو نزول کے وقت موجود تھے بلکہ آج بھی ہمارے لیے اسی طرح ہے جیسے آج ہی نازل ہوئی ہیں اور ہر آنے والے زمانے میں نئے آنے والوں کے لیے بھی ایسی ہی رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اہل کتاب اور خصوصاً یہود کی اتباع سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ حاسد لوگ ایمان و اسلام کے پکے دشمن ہیں اور عرب کی رسالت ان و ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ اگر چ کفر تم سے بہت دور ہے کیونکہ تم خود ایمان کا دعویٰ رکھتے ہو تاہم تمہارا انکی چالوں میں آجانا تمہیں زیبا نہیں دیتا اگر تم ان سے دھوکا کھا گئے تو گویا تم ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس لیے کہ ان کی چال تو یہ تھی ، ہے اور رہے گی کہ تم کو تمہارے ایمان سے پھیر دیں اور اس طرح پھیریں کہ تم کو معلوم بھی نہ ہو۔ اس لیے آج تک کوئی مذہبی دھوکا باز ایسا تو نہیں آیا کہ اس نے یہ اعلان کیا ہو کہ ایمان کو چھوڑ کر کفر قبول کرلو بلکہ ہمیشہ اس نے ایمان کو کفر اور کفر کو ایمان بنانے کی کوشش کی اور اس طرح ناواقفوں کو اپنے پھندے میں پھنسا لیا۔ یہی کچھ یہودونصاریٰ کرتے آئے ہیں ، کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
یاد رکھو کہ اسلام ایک ضابطہ حیات ہے وہ صرف رسم و رواج کا نام نہیں۔ اسلام ایک ایسا راہ مستقیم ہے جس پر وہ ہر مسلمان کو چلنے کی دعوت دیتا ہے اس کو خوب سمجھ رکھو۔ وہ جانتا ہے کہ ایک سچے مسلمان کی زندگی اور موت کے سارے طور طریقے اللہ کی تعالیٰ کی رضا کے لیے ہیں اس کے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ کا دیا ہے کسی اور کا نہیں وہ طلب کرتا ہے تو صرف اسی سے طلب کرتا ہے کسی اور سے نہیں۔ وہ خرچ کرتا ہے تو صرف اسی کی رضا کے لیے کسی اور کی رضا کے لیے نہیں۔ وہ اپنے اموال کا مالک خود اپن کو نہیں سمجھتا بلکہ اصل مالک اللہ ہی کو تصورکرتاے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ جو کچھ میرے پاس ہے میں صرف اس کا امین ہوں اور اس امانت کو امانت دینے والے کی رضا کے مطابق صرف کرنا ہے۔
مسلمانوں کو تنبیہ کی جارہی ہے صرف ایک ہی بار نہیں بلکہ بار بار قرآن کریم میں دہرائی گئی ہے تاکہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے چوکنے رہیں اور اپنی حیثیت کو بھول نہ جائیں۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
” مسلمانو ! اگر تم ان لوگوں کے کہنے میں آگئے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو یاد رکھو وہ تمہیں راہ حق سے الٹے پاؤں پھرا دیں گے اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ تم تباہی ونامرادی میں جاگرو گے۔ تمہارا کار ساز و رفیق تو اللہ ہے مدد کرنے والوں میں اس سے بہتر مددگار کون ہو سکتا ہے ؟ “ (آل عمران 3 : 149)
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہوتا ہے کہ :
” ان لوگوں کی دلی تمنا تو یہ ہے کہ جس طرح انہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تم بھی کرلو اور تم سب ایک ہی طرح کے ہوجاؤ ۔ “ (النساء 4 : 89) کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ ایک جگہ ارشدا فرمایا :
” اگر وہ تم پر قابو پالیں تو تمہارے دشمن بن جائیں اور ہاتھ اور زبان سے تمہیں دکھ پہنچائیں کیوں ؟ لیے کہ وہ چاہتے ہیں کہ تم کسی نہ کسی طرح کافر ہوجاؤ ۔ “ (الحج 60 : 2)
مزید وضاحت کے لیے عروة الوثقیٰ جلد اول سورة بقرہ آیت 109 ۔ 217 پر ایک نظر ڈال لیں۔
Ayah 3:101تم کفر کی راہ کیسے اختیار کرتے ہو جبکہ اللہ کی آیتیں تمہیں سنائی جارہی ہیں ؟ :
194: ” كیف “ استفہامیہ تعجب کے لیے ہے یعنی تعجب ہے کہ تم کفر کی طرف جائو حالانکہ اللہ کی آیات تم کو پڑھ کر سنائی جارہی ہیں اور کسی چیز کا سننا اس وقت مفید ہوسکتا ہے جب اس کو سن کر اس کو سمجھ کر اس کے مطابق علم کرنے کی کوشش کی جائے ورنہ بھینس کے سامنے بین بجانے کے مترادف ہے۔ تم انسان ہو پھر اس سے آگے بڑھ کر تم مسلمان بھی ہو اس پر طرہ یہ کہ تم کو اللہ کی آیات سنائی جارہی ہیں کیوں ؟ اس لیے کہ تم ان کو سمجھو اور اس کے مطابق عمل کرو۔
مقام غور ہے کہ آج ہم میں کتنے ہیں جو قرآن کریم کو پڑھتے یا سنتے ہیں ؟ پھر پڑھنے اور سننے والوں میں کتنے ہیں جو سمجھتے یا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ؟ اور پھر کتنے ہیں جو سمجھ جانے کے بعد اس پر عمل کرتے ہیں ؟ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج ہم مسلمانوں کی اکثریت کو یہ باور کرایا دیا گیا ہے کہ قرآن کریم صرف پڑھنے کے لیے ہے بس پڑھا اور مروں کو بخش دیا۔ گویا قرآن کریم زندوں کے لیے نہ ہوا بلکہ مرنے والوں والوں کو بخشوانے کے لیے ہوا۔ تعجب پر پھر تعجب ہے کہ ایسا کیونکرسمجھ لیا گیا ؟ اور کس نے سمجھا دیا ؟ سارے سوالوں کا ایک ہیجواب ہے کہ بہت سے مذہبی پیشواؤں نے۔ اس لیے کہ یہی تفہیم کرا دینا ان کا سرمایہ حیات ہے اور یہ لوگ ان انشورنس کمپنیوں کے مالک ہیں جہاں مردوں کی بخشش کی انشورنس کرائی جاتی ہے۔ جس کو تعجب ہوتا ہے ہوا کرے ان کی بلا سے ان کو گاہک ملتے ہیں اور ملتے رہیں گے۔ رہیں اللہ کی آیتیں وہ تو وہ بھی پڑھتے ہیں اور دن رات پڑھتے ہیں ور اسپیکر لگا کر پڑھتے ہیں اور قبرستان میں جاجا کر پڑھتے ہیں۔ پھر یہ بھی کہ ان آیتوں کو پڑھنے اور سمجھنے والا اللہ کا رسول ہے :
195: ” مطلب یہ ہے کہ تم کفرکیراہ کیونکر اختیار کرسکتے ہو کہ ” تم میں اللہ کے رسول بنفس نفیس موجود ہیں ؟ “ یعنی محمد رسول اللہ a
سردست تو بفنس نفیس تشریف فرما ہیں اور تمہارا ہر شبہ مٹا سکتے ہیں اور راہ بتا سکتے ہیں باقی ان کے بعد ان کے آثار و سنن بھی یہی کام دیں گے جو وہ خود انجام دے رہے ہیں اس لیے کہ اب نبوت تو ختم ہوچکی جب تک دنیا باقی ہے اس وقت تک محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت قائم ہے اور قائم رہے گی۔ کتاب اللہ کا نزول بھی اس وقت تک جاری رہا جب تک خود نبی اعظم و آخر ﷺ زندہ موجود تھے اور آپ ﷺ کے اٹھا لیے جانے کے بعد گویا نزول قرآن کریم ختم ہوگیا۔ وہ آیتیں جو اس وقت پڑھی جاتی تھیں اب بھی اسی طرح پڑھی جائیں گی اور ان آیات سے جو کام اس وقت لیا جاتا تھا اب بھی لیا جائے گا بالکل اسی طرح جب تک محمد رسول اللہ ﷺ موجود تھے آپ ﷺ کا ہر ارشاد فیصلہ کن اور اسلام میں حجت تھا بالکل اسی طرح آپ ﷺ کے اٹھائے جانے کے بعد بھی آپ ﷺ کے ارشادات فیصلہ کن اور دین اسلام میں حجت ہیں اور رہیں گے۔
” وَفِیْكُمْ رَسُوْلُهٗ “ کے الفاظ سے اگر کوئی یہ سمجھے کہ نبی کریم ﷺ حاضر و ناظر ہیں تو یہ اس کی یا تو جہالت ہوگی یا دھوکہ دہی۔ اس لیے کہ کسی حاضر وناظر انسان کے لیے یہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی کہ وہ حاضر و ناظر ہے یہ الفاظ ادا ہی اس جگہ ہوں گے جہاں کوئی انسان حاضر و ناظر نہ ہو اور عقیدةً اس کو حاضر وناظر بتایا جائے اور یہ بات محتاج بیان نہیں کہ نبی کریم ﷺ انسان تھے۔
یاد رکھو کہ جو اللہ کا ہوگیا اس پر سیدھی راہ کھل گئی:
196: ” جو شخص مضبوطی کے ساتھ اللہ کو پکڑتا ہے۔ “ یعنی مضبوطی کے ساتھ اللہ کا ہو کر رہتا ہے تو اس کے لیے سیدھی راہ کھل جاتی ہے کسی کا ہو کر رہنے کا مطلب ہر شخص جانتا ہے۔ عصمت کے منی ہیں حفاظت اور کسی چیز کی حفاظت کرنے سے اس کا بچاؤ ہوجاتا ہے لہٰذا عاصم کے معنی ہوئے بچانے والا یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کے ذریعہ سے اپنا بچاؤ کرنے والا۔ اعتصام باب افتعال کے معنی ہوئے مضبوطی سے کسی چیز کو پکڑ لینا تاکہ ہلاکت سے محفوظ ہوجائے۔ مطلب واضح ہوگیا کہ جس شخص نے بھی اللہ کے دین کو مضبوطی سے پکڑ لیا وہ یقینا کامیاب ہوگیا اور آگ دوزخ سے کوہ بچالیا گیا۔ اس لیے کہ یہی وہ کامیابی ہے جو ساری کامیابیوں سے بڑی کامیابی ہے۔ بلاشبہ لوگ مال اور دولت عہدہ و اقتدار کو کامیابی تسلیم کرتے ہیں حالانکہ یہ ساری چیزیں آزمائش بھی ہوسکتی ہیں اور ہوتی ہیں اسی لیے قرآن کریم کی روشنی میں اس چیز کا اعلان کیا گیا ہے کہ ” جو شخص آگ سے بچالیا گیا وہ حقیقی طور پر کامیاب ہوگیا اس لیے کہ اس نے بڑی کامیابی حاصل کرلی “ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا۔
اس لیے زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ” بلاشبہ اس پر سیدھی راہ کھل گئی“ اور وہ شخص کامیاب و کامران ہوگیا۔ اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ اس طرح ارشاد فرمایا :
” لوگو ! تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے برہان آگئی اور ہم نے تمہاری طرف چمکتی ہوئی روشنی بھیج دی پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس کا سہارا مضبوط پکڑ لیا تو وہ انہیں عنقریب اپنی رحمت کے سائے میں داخل کردے گا اور ان پر اپنا فضل کرے گا اور انہیں اپنے تک پہنچنے کی راہ دکھادے گا ایسی راہ جو بالکل سیدھی راہ ہے۔ “ (النساء 4 : 174 ، 175)
اس آیت میں دین حق کو ” برہان “ فرمایا یعنی سرتا سر دلیل و حجت اور قرآن کریم کو ” نور مبین “ کہا یعنی واضح اور آشکارا روشنی۔ ظاہر ہے کہ ” برہان “ کے ساتھ جہل و گمان اکٹھا نہیں ہو سکتا اور ” نور مبین “ کے ساتھ تاریکی و کو ری راہ نہیں پا سکتی۔ ایک جگہ ارشاد ہوا :
” جن لوگوں نے توبہ کرلی اور اپنی عملی حالت سنوار لی اللہ کے حکم پر مضبوطی کے ساتھ جم گئے اور اپنے دین میں صرف اسی کے ہوگئے تو بلاشبہ ایسے لوگ مؤمنوں کی صف میں شامل ہوگئے اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو اجر عطا فرمائے ایسا اجر جو بہت ہی بڑا اجر ہوگا۔ “
(النساء 4 : 164)
Ayah 3:102مسلمانوں کی اجتماعی قوت کا پہلا اصول :
197: زیر نظر آیت میں مسلمانوں کی اجتماعی قوت کا پہلا اصول بتایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے یعنی اس کی ناپسندیدہ چیزوں سے بچنے کا مکمل اہتمام جو اللہ تعالیٰ کے حق کے مطابق ہو۔ لفظ تقویٰ اصل عربی زبان میں بچنے اور اجتناب کرنے کے معنوں میں آتا ہے۔ اس کا ترجمہ ڈرنا بھی اسی مناسبت سے کیا جاتا ہے کہ جن چیزوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے وہ ڈرنے ہی کی چیزیں ہوتی ہیں اور ان سے عذاب الٰہی کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس ڈرنے کی چیز یعنی تقویٰ کے بہت سے درجات ہیں جن میں سے ادنی درجہ کفرو شرک سے بچنا ہے۔ ان معنی کے لحاظ سے ہر مسلمان متقی کہا جاسکتا ہے اگرچہ رہ گناہوں میں مبتلا ہو۔ ان معنوں میں بھی قرآن کریم میں کئی جگہ لفظ متقین اور تقویٰ استعمال ہوا ہے۔ دوسرا درجہ جو اصل میں مطلوب ہے وہ ہے اس چیز سے بچنا جو اللہ تعالیٰ او اس کے رسول ﷺ کے نزدیک غیر پسندیدہ ہو۔ تقویٰ کے فضائل و برکات جو قرآن کریم اور حدیث رسول اللہ ﷺ میں آتے ہیں وہ اسی درجہ پر موعود ہیں۔ تیسرا درجہ تقویٰ کا اعلیٰ مقام ہے جو انبیاء (علیہ السلام) اور دوسرے اللہ کے خاص بندوں کو نصیب ہوتا ہے کہ اپنے قلب کو ہر غیر اللہ سے بچانا اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی رضاجوئی سے معمور ہونا۔ ، زیر نظر آیت کریمہ میں ” اِتَقُوا اللّٰه “ کے بعد ” حَقَّ تُقَاتِهٖ “ کے الفاظ بڑھائے گئے ہیں یعنی تقویٰ کا وہ درجہ حاصل کرو جو تقویٰ کا حق ہے۔ اس لیے اس سے یہ دیکھنا چاہیے کہ حق تقویٰ کیا ہے۔
اس کی تفسیر حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ حضرت ربیع ؓ حضرت قتادہ ؓ حسن بصری ﷺ نے یہ فرمائی ہے اور یہی مرفوعاً خود رسول اللہ ﷺ سے بھی منقول ہے جس کا ترجمہ اس طرح ہے کہ ” حق تقویٰ یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت ہر کام میں کی جائے ، کوئی کام طاعت کے خلاف نہ ہو اور اس کو ہمیشہ یاد رکھیں کبھی نہ بھولیں اور اس کا شکر ہمیشہ ادا کریں کبھی بھی ناشکری نہ کریں۔ “ اس مفہوم کو ائمہ تفسیر نے دوسرے عنوانات سے بھی ادا کیا ہے مثلاً بعض نے فرمایا ہے کہ ” حق تقویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی کی ملامت اور برائی کی پروانہ کرے اور ہمیشہ انصاف پر قائم رہے اگرچہ انصاف کرنے میں خود اپنے نفس یا پانی اولاد یا ماں باپ ہی کا نقصان ہوتا ہو “ اور بعض نے کہا کہ ” كوئی آدمی اس وقت تک حق تقویٰ ادا نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ اپنی زبان کو محفوظ نہ رکھے۔ “
قرآن کریم ہی کی ایک دوسری آیت میں اس طرح ارشاد ہوا ہے کہ : ” اِتَّقُوا اللّٰه مَا اسْتَطَعْتُمْ “ یعنی اللہ سے ڈرو جتنا تمہاری قدرت میں ہے اس پر ابن عباس ؓ اور طحاوی (رح) نے فرمایا کہ درحقیقت یہ حَقَّ تُقٰتِهٖ کی ہی تفسیر و تشریح ہے اور مطلب یہ ہے کہ معاصی اور گناہوں سے بچنے میں اپنی پوری توانائی اور طاقت صرف کر دے تو حق تقویٰ ادا ہوگیا اگر کوئی شخص اپنی پوری توانائی صرف کرنے کے بعد کسی ناجائز ہی میں مبتلا ہوگیا تو وہ حق تقویٰ کے خلاف نہیں۔
اسی آیت کے اگلے جملے میں ارشاد فرمایا : فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ جس سے معلوم ہوا کہ تقویٰ درحقیقت پورا اسلام ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مکمل اطاعت اور اس کی نافرمانی سے مکمل پرہیز ہی کا نام تقویٰ ہے اور ظاہر ہے کہ اسی کو اسلام بھی کہا جاتا ہے۔ رہا حکم کہ تمہاری موت اسلام ہی پر آنی چاہیے اسلام کے سوا کسی حال پر موت نہ آنی چاہیے تو اس جگہ یہ بھی نہ کہا جائے کہ موت تو کسی آدمی کی اختیاری چیز نہیں کسی وقت اور کسی حال میں بھی آسکتی ہے چناچہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ :
كما تحبون تموتون وکما تموتون تحشرون یعنی ” جس حالت پر بھی تم اپنی زندگی گزار دو گے اس پر موت آئے گی اور جس حالت میں موت آئے گی اسی حالت میں حشر میں کھڑے کیے جاؤ گے۔ “
تو جو شخص اپنی پوری زندگی اسلام پر گزارنے کا پختہ عزم رکھتا ہے اور مقدور بھر اس پر عمل کرتا ہے اس کی موت انشاء اللہ العزیز اسلام ہی پر آئے گی ہاں ! بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ بعض آدمی ایسے بھی ہوں گے کہ ساری عمر اعمال صالحہ کرتے ہوئے گزر گئی آخر میں کوئی ایسا کام کر بیٹھے جس سے سارے اعمال ضبط و برباد ہوگئے تو یہ ایسے ہی لوگوں کو پیش آسکتا ہے جن کے عمل میں اول اخلاص اور پختگی نہیں ہوتی ہے۔ جو کچھ وہ کرتے نظر آتے ہیں وہ بالکل ظاہر داری ہوتی ہے اور ان کی اندرونی حالت صحیح نہیں ہوتی اگرچہ دوسروں کو معلوم نہ ہو سکے۔
مختصر یہ کہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا پہلا اصول یہی ہے کہ فرداً فرداً ہر ایک مسلم کو ذمہ داری کا احساس ہو اور اجتماع درست کرنے کے لیے افراد کا درست ہونا لازمی و ضروری۔ افراد درست ہونگے تو یقیناً ان فراد کا مل کر اجتماع جب بھی اور جسیے بھی ہوگا وہ درست ہی ہوگا۔ افرادی اکائیاں درست نہ ہوں تو ان کا اجتماع کبھی بھی درست نہیں ہو سکتا۔ اسلام اسی اصول کا داعی ہے اسی لیے اس نے اجتماع کرنے سے پہلے افراد کی حالت اور قوت ایمانی کی اصلاح کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے ہر ایک مسلم بچا رہتا ہے۔