3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 3:20

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں تو تم کہہ دو میرا اور میرے پیروؤں کا طریقہ تو یہ ہے کہ ہم نے اللہ کے سامنے سراطاعت جھکا دیا ہے اور اہل کتاب اور اَن پڑھ لوگوں سے پوچھو تم بھی اللہ کے سامنے جھکتے ہو یا نہیں ؟ اگر وہ اب بھی اللہ کے سامنے جھک جائیں تو انہوں نے راہ پا لی ، اگر روگردانی کریں تو پھر تمہارے ذمے پیام حق پہنچا دینا ہے اور اللہ اپنے بندوں کے حال سے غافل نہیں وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے

جھگڑنے والوں سے مراد اہل کتاب اور خصوصاً نصاریٰ ہیں : 56: اہل کتاب ہی وہ لوگ تھے جن کو پیغمبر اسلام ﷺ سے جھگڑنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ اس لیے کہ وہ اپنی مذہبی کتابوں تورات و انجیل میں نبی اعظم و آخر ﷺ کے نشانات اپنی آنکھوں سے دیکھ اور کانوں سے سن چکے تھے اور اس بات کی طلبگار بھی تھے کہ وہ نبی اعظم ﷺ جل آئے تاکہ اس کی رسالت کا اقرار کر کے اس کی ہدایت پر عل کر کے ہم دنیا و آخرت میں آمیاب ہوں۔ لیکن جب وہ موعود نبی اعظم و آخر ﷺ مبعوث ہوگیا اور انہوں نے اس کو اچھی طرح پہچان بھی لیا کیونکہ ان کے پاس نشانات و علامات اس نبی اعظم و آخر ﷺ کی موجود تھیں تو انہوں نے بجائے اقرار کے انکار کردیا کیوں ؟ محض اس لیے کہ وہ بنی اسرائیل سے کیوں نہیں اور وہ بنی اسماعیل سے کیوں ہے ؟ پیغمبر اسلام ﷺ سے کہا جارہا ہے کہ تم کہه دو میرا اور میرے پیرو وں کا طریقہ تو یہ ہے کہ ہم نے اللہ کے سامنے سر اطاعت جھکادیا ہے اور اس کے قانون مشیت پر راضی ہیں جو ہو سو ہو۔ جھگڑا ہمارا شیوہ نہیں ہے اور یہی نہیں کہ ہم جھگڑا نہیں ڈالتے بلکہ ہم جھگڑنے والوں کو کوئی جواب بھی نہیں دیتے کیونکہ جھگڑا تب ہی ہوتا ہے جب کوئی دلیل موجود نہ ہو۔ جس کے پاس دلیل موجود ہو اس کو جھگڑے کی آخر ضرورت کی ہے ؟ ہمارے پاس دلیل موجود ہے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کی علامتا کی دلیل موجود ہے۔ پھر دلیل بھی ایسی جو تمہاری کتابوں میں ہو اگر تم نبی آخر کا انکار کرتے ہو تو نبی کا انکار ہی کیوں ہوا ؟ خود تمہاری اپنی کتابوں کا انکار کیوں نہ ہوا ؟ اور پھر جب تم اپنی ہی کتابوں کو ماننے کے لیے تیار نہیں تو اس سے ہمارا کیا نقصان ہوگا ؟ جو نقصان ہوگا ظاہر ہے کہ وہ تمہارا ہی ہوگا۔ سورج طلوع ہوجائے اور کوئی ضدی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر سورج کا طلوع ہونا تسلم نہ کرے تو آخر سورج کا کیا نقصان ہوگا ؟ جو نقصان ہوگا وہ اس کا ہوگا جو اس کے طلوع ہونے سے انکار ہے اگر کوئی اندھا ہے اس کو سورج نظر نہیں آتا تو بھی اسکے انکار کا سورج کو کوئی نقصان نہیں۔ اے پیغمبر اسلام ! کہه دیجیے کہ میں تو اپنا رخ الہل کی طرف کرچکا اور جو میرے پیرو ہیں وہ بھی۔ اب تم مانو یا نہ مانو تمہیں اختیار ہے یہ کیوں فرمایا ؟ اس لیے کہ جب وضوح حق کی پوری پوری کوشش ہو لے اور مخاطب پھر بھی قبول نہ کرے تو با بحث مباحثہ بالکل فضول ہے اس سے قبل و قال ترک کردینا ہی مناسب ہے۔ اے اہل کتاب اور مکہ کے لوگو ! کیا تم بھی اپنی پوزیشن بنا سکتے ہو ؟ 57: اب اہل کتاب اور خصوصاً اہل کتاب کا گروہ نصاری اور دوسرے معاندین سے مخاطب ہو کر پوچھا جارہا ہے کہ ہم نے تو پوزیشن واضح کردی کیا تم بھی اپنی پوزیشن بنا سکتے ہو یا نہیں ؟ تمہارا کیا ارادہ ہے کیا تم بھی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری قبول کرتے ہو یا نہیں ؟ ” اسلمتم “ کے معنی تو وہی ہیں جو اوپر بیان کیے جاچکے ہیں کہ ” کیا تم بھی اسلام لاتے ہو ؟ “ ” کیا تم بھی اللہ کے سامنے جھکتے ہو یا نہیں ؟ “ لیکن اس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ” اسلام لاؤ “ یعنی صیغہ امر کے لحاظ سے اور نحوین نے کہا ہے کہ الف استفہام کبھی امر کے بھی معنی دیتا ہے بلکہ امر کے معنی میں زور اور زیادہ پیدا کردیتا ہے : قال النحویون انما جاء الامر فی صورة الاسفہام (کبیر) پھر استفہام کی صورت میں بھی استفادر محض مراد نہیں بلکہ مقصود تہدید ہے جیسے اردو محاورہ میں بھی تہدید کے موقع پر کہتے ہیں ” کیوں جی سنتے ہو کہ نہیں “ ” الامیین “ مطلقاً ان پڑھ اور یہ لقب ہے مکہ والوں کا خصوصاً کیونکہ وہ اسی لقب سے ملقب تھے۔ ان پڑھ اور اجڈ قسم کے لوگ۔ بدو ، آسمانی کتابوں سے نابلد اور لاعلم۔ ماد بہرحال مشرکین مکہ ہیں۔ مختصر الفاظ میں اس بات کو یوں سمجھیے کہ میں اور میرے پیرو تو اس دین ” اسلام “ کے ماننے والے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے۔ اب تم بتاؤ کیا تم اپنے اسلاف کے بڑھائے ہوئے چاشیوں کو چھوڑ کر اصل و حقیقی دین کی طرف آتے ہو ؟ اگر انہوں نے مان لیا اور ” ہاں “ کہه دی تو راہ پا لی : 58: ان کو ہدایت کی طرف دعوت دیتے ہوئے ایک عرصہ گزر چکا۔ انہوں نے ہر سنی کو اَن سنی کردیا۔ آخر کب تک ان کی اس حرکت کو برداشت کیا جائے گا ؟ نبی اعظم و آخر ﷺ کی رسالت کو تسلیم بھی نہ کیا اور تسلیم نہ کرنے کا کوئی عذر بھی پیش نہ کرسکے۔ اب اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوچکا انجام کار اس کا فیصلہ ہونا بھی تو لازمی ہے۔ آخر کچھ تو بتاؤ ؟ اچھا ان سے آخری بات یہ ہے کہ وہ اللہ کے سامنے جھک جائیں تو انہوں نے راہ راست پا لی اور اگر روگردانی کریں تو اے پیغمبر اسلام ! آپ زیادہ غمگین نہ ہوں آپ ﷺ کے ذمہ جو کچھ ہے وہ صرف پیغام پہنچانے کی حد تک ہے وہ آپ ﷺ نے پہنچا دیا اور بار بار پہنچایا۔ آپ ﷺ کی ذمہ داری پوری ہو گئی وہ ” ہاں “ کریں گے یعنی مان لیں گے تو ان کا اپنا فائدہ ہے اور اگر نہیں مانتے تو نہ ماننے والوں کا علاج ہمارے پاس موجود ہ۔ بات صرف اتنی ہے کہ ہمارے ہاں ایک کام کے لیے ایک وقت مقرر ہے اور جبوہ آجاتا ہے تو جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔ ان کا مقررہ وقت بھی آئے گا تو یقیناً ان کا کام بھی تمام ہوجائے گا۔ اللہ ان کی حالت سے خوب اچھی طرح واقف ہے : 59: ” بَصِیْرٌم بِالْعِبَادِ “ اللہ خود اپنے بندوں کے معاملات کو دیکھنے والا ہے۔ ” بصیر “ یعنی وہ ذات پاک ہے جو زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو کچھ ہے ہر ایک کے ذرہ ذرہ کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ گہرے سمندر کی تہه میں جو چیز ہو یا سربفلک پہاڑ کی جڑ میں جو چیز پوشیدہ ہو ہر ایک اس کی نظر کے سامنے موجود ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اپنے دل کے شیشہ کو ہر عیب سے پاک رکھے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی حق تلفی ، آبرو ریزی ، دل آزاری کا خیال تک دل میں نہ لائے۔ ہر وقت اس تصور کو یکائے کہ میرے دل پر ہر وقت ہر گھڑی اس ذات کی نگاہ پڑ رہی ہے۔ میری کوئی شوپیدہ سے پوشیدہ حرکت بھی اس سے مخفی نہیں۔ میں اپنے دل کے راز کو بھی اس سے چھپا نہیں سکتا کہ وہ بذات الصدور ہے۔ اس تصور کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آدمی گناہوں سے پرہیز کرتا کرتا انشاء اللہ بالکل ہی پاک ہوجائے گا۔ وَمَا ذلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزِ اللہ کے لیے بھی مشکل نہیں ہے۔ ارشاد الٰہی ہے کہ : ” اللہ تعالیٰ نے تم کو آنکھیں دی ہیں تاکہ تم اس کی آیات تکوینیہ جو کھلی کائنات میں موجود ہیں اور آیات تنزیلیہ جو کتب آسمانی کے اندر ہیں کو دیکھ کر اس پر ایمان لے آؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تم میں شکر گزار بہت کم ہیں۔ “ (المؤمنون 23 : 78) ” زمین و آسمان میں کتنی نشانیاں ہیں جن پر تمہارا گزر ہوتا ہے اور تم ان سے اعراض کرتے ہو۔ “ (یوسف 12 : 105 ) ” جو لوگ اپنی آنکھوں سے حق کو نہیں دیکھتے۔ وہ جانوروں کی مانند ہیں بلکہ جانوروں سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ “ (الاعراف 7 : 179) ” جو لوگ اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں خواہ وہ انکار قولی ہوی اعلمی ان کی آنکھیں بھی ان کے کام نہیں آتیں اور بصیرت بھی وہ ضائع کرچکے ہیں۔ “ (المائدہ 46 : 26) ” اللہ تعالیٰ تو تمہاری آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو کچھ تمہارے سینوں میں چھپا ہے وہ بھی اس کو معلوم ہے۔ “ (المؤمن 40 : 19 ) اب پوری آیت کا ماحصل یہ ہوا کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب سے اتمام حجت کا اصل دین خدا پرستی ہے ساری باتیں چھوڑو یہ بتاؤ کہ تمہیں خدا پرستی سے اقرار ہے یا انکار ؟ اگر اقرار ہے تو سارا جھگڑا ختم ہوگیا۔ کیونکہ اسلام کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اگر انکار ہے تو پھر جن مدعیان مذہب کو خدا پرستی ہی سے انکار ہو ان سے بحث و نزاع کیا سود مند ہو سکتی ہے ؟
Ayah 3:21

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں اور اس کے نبیوں کو ناحق قتل کرنے کے مرتکب رہ چکے ہیں نیز (لوگوں میں سے) ان لوگوں کو قتل کرتے ہیں جو حق و عدالت کا حکم دینے والے ہیں تو انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری پہنچا دو

اللہ سے مقابلہ کرنے والوں کو جان لینا چاہیے کہ مقابلہ کس سے ہے ؟ 60: کتاب الٰہی خصوصاً قرآن کریم سے یا اس کے کسی جز سے انکار یہ سب ” کفربایت اللہ “ ہے۔ جو لوگ اتنے چھوٹ ہیں کہ انہوں نے کتاب اللہ کا انکار کردیا ہے ان سے کیا توقع ہو سکتی ہے۔ اب ان کا مقابلہ گویا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ بس ان کو خود ہی جان لینا چاہیے کہ اللہ سے مقابلہ کر کے کیا وہ کامیاب ہو سکتے ہیں ؟ جو خود ہی موت کو ماسی کہے اس کو رنے ہی دو ۔ ایسے ہی تو لوگ تھے جو انبیاء اللہ تک کے قتل کے مرتکب ہوئے اور ان کو بےدریغ قتل کیا۔ وہ ان ہی کے آباء تھے اور آج یہ بھی کیا کر رہے ہیں ؟ کہ جو لوگ حق و صداقت کا حکم دینے والے ہیں یہ ان کو قتل کے درپے ہیں۔ اے پیغمبر اسلام ! کیا آپ ﷺ کے قتل کی سازشیں انہوں نے نہیں کیں ؟ ان سے جو کچھ ہوسکا انہوں نے اس میں کوئی کسر اٹھا رکھی ؟ وہ حق و صداقت کے دشمن ہیں اور ان کی یہ دشمنی بہت پرانی ہے۔ ان کی حق بیزاری کی تصریح ان کی اپنی کتب آسمانی میں بھی موجود ہے۔ مثلاً : ” وہ اس کا کینہ رکھتے ہیں جو دروازہ پر سرزنش کرتا ہے اور وہ اس سے نفرت رکھتے ہیں جو حق بات کہتا ہے۔ “ (عموس 5 : 10 ) آپ ﷺ ان کے کان تک عذاب الٰہی کی خبر پہنچادیں ! بس : 61: ” آپ ﷺ انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری پہنچا دیں۔ “ یہ طنزیہ انداز بیان ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے جن کرتوتوں پر وہ آج بہت نازاں اور بہت خوش ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ ہم بہت خوب کام کر رہے ہیں۔ برائی کے بھی مرتکب ہیں اور پاک بازوں کا مذاق بھی اڑاتے ہیں آپ ﷺ انہیں بتا دیں کہ تمہارے ان اعمال بد کا انجام کیا ہونے والا ہے ؟ ” عَذَابٌ اَلِیْمٌ “ ایسے مجرموں کا خطا کاروں پر دنیوی لعنت کی خبر آپ ﷺ سے پہلے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زبان سے بھی ہم ان کو سنا چکے ہیں جس کا مفصل ذکر کتاب مقدس میں موجود ہے۔ ” وہ جلد یہی گھاس کے مانند کاٹ ڈالے جائیں گے اور ہرے سبزے کی طرح مرجھا جائیں گے اور شہر میں نہ ہوگا تو غور کر ۔ گویا اس آیت 21 میں اہل کتاب کی قومی گمراہیوں اور بد عملیوں کی طرف اشارہ ہے۔ جس گروہ کی ذہنیت اس درجہ مسخ ہو گئی ہو کہ حق و عدالت کی دشمن اور ظلم و فساد کی پرستار ہو اس سے قبولیت حق کی کیا امید ہو سکتی ہے ؟ عوام کے بگاڑ کا اصل سبب علماء قوم ہوتے ہیں : 62: قوم کو تعلیم الٰہی سے ہٹا کر اہواء و خواہشات کے پیچھے لگا دینا عوام کا کام نہیں یہ ہمیشہ سے علماء کے گروہ ہی کا کام رہا ہے اور اب بھی ہے۔ تاریخ مذاہب عالم کا مطالعہ کرلو اگر نہیں تو خود قرآن کریم ہی کی آیات پر غوروفکر کر کے یکھو آپ یقینا اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ عوام کے بگاڑ کا اصل سبب خواص قوم ہی ہوتے ہیں۔ خواص قوم کون ہیں ؟ علمائے قوم اور مترفین قوم۔ مترفین کون ہیں ؟ قوم کے و ڈیرے یعنی سیاستدان۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے : وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ کُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا . رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا کَبِیْرًا . (المائدۃ 33 : 67 ۔ 68) ” اور وہ کہیں گے اے پروردگار ! ہم نے اپنے سرداروں ، چودھریوں اور علماؤں اور بڑوں اور سرغنوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ راست سے گمراہ کردیا ، ہم بےقصور ہیں نظر کرم فرما۔ اے ہمارے آقا و پروردگار ! ان سرداروں ، چودھریوں ، علماؤں ، بڑوں اور سرغنوں کو جنہوں نے ہمیں سیدھی راہ سے بھٹکایا انہیں دوہرا عذاب دے اور لعنت زدہ قرار دے کر اپنی رحمت سے دور اور بہت ہی دور کر دے۔ “
Ayah 3:22

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کا سارا کیا دھرا ، دنیا و آخرت دونوں میں اکارت گیا اور کوئی نہیں جو ان کا مددگار ہو گا

یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہوگئے۔ کیوں ؟ اس لیے کہ انہوں نے اپنی قوتیں اور کوششیں ایسی راہ میں صرف کی ہیں جس کا نتیجہ دنیا میں بھی خراب ہے اور آخرت میں بھی خراب۔ ان کا مددگار کوئی نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جو ان کے اس غلط کو صحیح بنا دے یا کماز کم بد انجامی سے بچا سکے۔ جن جن قوتوں پر وہ بھروسہ رکھتے تھے کہ وہ دنیا میں یا آخرت میں یا دونوں جگہوں میں انکے کام آئیں گے ان میں سے فی الواقع کوئی بھی ان کی مددگار ثابت نہ ہوگی کیونکہ یہ طے شدہ بات ہے اور طے بھی کس نے کی ؟ خود اللہ تعالیٰ نے اس لیے اس میں ترمیم نہ کی جاسکتی ہے نہ کرائی جاسکتی ہے۔
Ayah 3:23

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کی حالت نہیں دیکھی جنہیں کتاب اللہ کے علم میں سے کچھ حصہ ملا ہے انہیں اللہ کی کتاب کی طرف بلایا گیا کہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے اس پر بھی ایک گروہ اس سے صاف رو گرداں ہے اور اصل یہ ہے کہ کتاب اللہ کی طرف سے ان کے رخ ہی پھرے ہوئے ہیں

ان کو کتاب اللہ کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو منہ پھیر جاتے ہیں : 63: تم نے دیکھا کہ جن لوگوں کو کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ ملا ہے ان کا حال کیا ہے ؟ وہ کون ہیں جن کو کتاب سے کچھ حصہ ملا ہے ؟ ظاہر ہے کہ علماء قوم ہی ہیں۔ انہیں جب بلایا جاتا ہے۔ کہاں بلایا جاتا ہے ؟ کتاب اللہ کی طرف بلوایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے یعنی ان سے کہا جاتا ہے کہ کتاب اللہ کو آخری سند مان لو۔ اس کے فیصلے کے آگے سر جھکا دو اور جو کچھ اس کی رو سے حق ثابت ہو اسے حق اور جو اس کی رو سے باطل ثابت ہو اسے باطل تسلیم کرلو تو وہ منہ پھیر جاتے ہیں۔ یہ گمراہی عوام کی گمراہی نہیں بلکہ علمائے اہل کتاب کی گمراہی تھی کہ جس کتاب کو وہ کتاب الٰہی مانتے تھے یعنی تورات کو انجیل کو اور اس کے علم و عمل کے وہ مدعی تھے۔ جب اس کتاب کے عمل کرنے کی دعوت دی گئی تو صاف انکار کر گئے کیونکہ اس کے احکام پر عمل کرنا ان کی نفسانی خواہشوں اور مطلب براریوں کے خلاف تھا۔ یہ تو اہل کتاب کا حال ہے کیا آج اہل اسلام کا یہ حال نہیں ؟ وہ مختلف مکاتب فکر میں تقسیم ہوگئے اور مکتب فکر کے ساتھ وابستہ اپنے مکتبہ فکر سے ہٹ کر کوئی بات کرنے پر تیار ہے ؟ اچھا جس عذاب کے مستحق اہل کتاب ہوئے ، کیوں ؟ اس لیے کہ وہ اپنی کتاب سے منہ موڑ کر اپنی اہوا و خواہشات کے پیھے لگ گئے تھے آج اس عذاب کے مستحق مسلمان کہلانے والے نہیں۔ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ بھی اپنی کتاب یعنی قرآن کریم سے منہ موڑ کر اپنی اہواء و خواہشات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ اگر اعمال ایک طرح کے ہوں تو کیا نتائج ایک طرح کے نہ ہوں گے ؟
Ayah 3:24

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

اور ان کی یہ حالت اس لیے ہوئی کہ انہوں نے کہا دو زخ کی آگ ہمیں کبھی نہیں چھوئے گی اور اگر چھوئے گی بھی تو گنتی کے چند دنوں کیلئے اس طرح سے وہ جو اللہ پر افتراء پردازی کرتے رہے ہیں اس نے انہیں دین کے متعلق مبتلائے فریب کردیا ہے

انہوں نے کہا کہ دوزخ کی آگ ہم پر حرام ہوچکی ہے : 64: ان کا یہ طرز عمل اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں آتش دوزخ تو ہمیں مس تک نہیں کرے گی اور اگر دوزخ کی سزا ہم کو ملے گی بھی تو بس چند روز تک کیوں ؟ اس لیے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کا چہیتا سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہ اس خیال خام میں مبتلا ہیں کہ ہم خواہ کچھ ہی کریں بہرحال جنت ہماری ہے۔ ہم اہل ایمان ہیں۔ ہم فلاں فلاں کی دو لاد ہیں اور فلاں کی امت اور پھر فلاں کی مرید اور فلاں کے دامن گرفتہ۔ سگان درگاہ فلاں۔ بھلا دوزخ کی کیا مال ہے کہ ہمیں چھو جائے اور بالفرض اگر ہمدوزخ میں ڈالے بھی گئے تو بس چند روز وہاں رکھے جائیں گے تاکہ گاہوں کی جو آلائش لگ گئی ہے وہ صاف ہوجائے۔ دوزخ کیا ہے ؟ ایک سفا خانہ ہی تو ہے وہاں داخل ہوں گے تو شفا یقینی ہے پھر صحت یاب ہوتے ہی جنت پہنچا دیے جائیں گے۔ اس قسم کے خیالات نے ان کو اتنا جری اور بےباک بنادیا ہے کہ وہ سخت سے سخت جرائم کا ارتکاب کر جاتے ہیں بدترین تناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔ کھلم کھلا حق سے انحراف کرتے ہیں اور ذرا خوف خدا ان کے دلوں میں نہی آتا۔ دراصل ان کے خود ساختہ عقیدوں نے ان کو اپنے دین کے معاملہ میں بڑی غلط فہمیوں میں ڈال رکھا ہے۔ وہ پوچھتا ہے یہ بات تمہیں کہاں سے معلوم ہو گئی کہ یہودی کہلوانے والا ہر فرد نجات یافتہ ہے ؟ اور عذاب اخروی سے اسے چھٹکارا مل چکا ہے ؟ کیا تمہیں اللہ نے غیر مشروط نجات کا کوئی پٹہ لکھ دیا ہے کہ جہاں ایک انسان یہودی ہوا او ور آتش دوزخ اس پر حرم ہو ﴾ئى؟ اگر نہیں دیا تو پھر بتلاؤ ایسا اعتقاد رکھا اللہ پر افتراء نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ قرآن کریم کہتا ہے : ” نہیں اللہ کا قانون تو یہ ہے کہ کسی نسل اور کسی گروہ کا انسان ہو لیکن جس کسی نے بھی برائی کمائی اور اپنے گناہوں میں گھر گیا تو وہ دوزخی گروہ میں سے ہے۔ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہنے والا اور جس کسی نے بھی ایمان کی راہ اختیار کی اور نیک عمل ہوا تو وہ بہشتی گروہ میں سے ہے ہمیشہ ہمیشہ بہشت میں رہنے والا۔ “ (البقرہ 2 : 81) وہ صاف صاف لفظوں میں خدا کے قانون عمل کا اعلان کرتا ہے وہ کہتا ہے جس کسی نے بھی اپنے عمل سے برائی کمائی اس کے لیے برائی ہے جس کسی نے بھی بھلائی کمائی اس کے لیے بھلائی ہے۔ یعنی جس طرح سنکھیا کھانے سے ہر کھانے والا ہلاک ہوجاتا ہے خواہ یہودی یا غیر یہودی اور دودھ پینے سے صحت و توانائی ملتی ہے خود وہ پینے والا کسی نسل و قوم اور گروہ سے تعلق رکھتا ہو اس طرح عالم معنویات میں بھی ہر عمل کا ایک خاصہ ہے اور وہ اس لیے بدل نہیں سکتا کہ عمل کرنے والے کی نسل یا گروہ بندی کیا ہے۔ ہاں ! اگر کوئی فرق ہے تو وہ اس دنیا کے نظام سے فارغ ہو کر دو سے نظام میں داخل ہونے کے ساتھ خاص ہے اور وہ بھی صرف اور صرف ” ایمان “ کی شرط ہے اور ” ایمان “ بھی کسی نسل یا قوم سے تعلق نہیں ہے۔
Ayah 3:25

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

لیکن ان کا حال کیا ہوگا جب قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ہم انہیں اپنے حضور جمع کریں گے اور ہر جان نے جیسا کچھ کمایا ہے اس کے مطابق اسے پورا پورا بدلہ ملے گا اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو گی

نجات کا دارومدار کسی کی وہم پرستی پر نہیں بلکہ اس کے لیے مستقل قانون ہے : 65: ان بدبختوں ، وہم پرستوں اور شامت زدوں کا حال اس روز کیا ہوگا جس روز کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ” یَوْمٌ لَّا رَیْبَ فِیْهِ “ یعنی قیامت کے دن۔ اس طرز سے مقصود محض قیامت کا ذکر کردینا ہی نہیں ہے بلکہ اس کے وقوع کی قطعیت کو ذہن نشین کرا دینا ہے۔ بڑے تاسف اور افسوس سے کہا جارہا ہے کہ کیا بنے گا ان پر جب ہم انہیں اس روز جمع کریں گے جس روز کا آنا یقینی ہے۔ اس روز تو ہر ایک شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا کہ کسی کو سزا بلا جرم یا زائد از جرم مل جائے یا کسی کی کوئی نیکی بغیر اجر کے چھوٹ جائے۔ ” مَا کَسَبَتْ “ جو کچھ اس نے کمایا ہے یا حاصل کیا ہے خواہ وہ حسنات ہوں یا سیئات ہوں۔ ہاں ! کسی کو اس کے عمل کے برابر دینے کے بعد اس پر انعام کے طور پر زیادہ دے دیا جائے خواہ وہ کتنا ہو یا کسی کو اس کے عمل کے برابر دینے کے بعد اس کے نتیجہ پر لکیر پھیر دی جائے یہ دوسری بات ہے کیونکہ اس کے قانون میں وضاحت موجود ہے کہ انعام بھی دیا جاسکتا ہے اور ” حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ “ کے مطابق ان کے نیک اعمال پر لکیر بھی پھیری جاسکتی ہے جس سے ان کا کیا کرایا سب اکارت ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ بات ظلماً نہیں بلکہ عدلاً ہوگی۔
Ayah 3:26

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

تم کہو اے اللہ ! شاہی و جہانداری کے مالک ! تو اپنے قانون کے مطابق جسے چاہے بخش دے ، جس سے چاہے ملک لے لے ، جسے چاہے عزت دے ، جسے چاہے ذلیل کر دے ، تیرے ہی ہاتھ میں ہر طرح کی بھلائی ہے اور تو نے ہر بات کیلئے ایک اندازہ مقرر کردیا ہے

اب طریقہ دعا سکھایا جاتا ہے جس میں ان کے وہم کا علاج بھی ہے : 66: رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے طریق دعا کی تعلیم امت کو دی جارہی ہے اور اس کا انداز ایسا اختیار کیا جارہا ہے کہ ان سارے وہم پرستوں کے وہم کا علاج بھی اس میں مضمر ہے کہ ملک کس کا ہے اور مالک کون ہے ؟ آج اگر کوئی بادشاہ ہے تو وہ کل کیا تھا اور آئندہ کل کو کیا ہوگا ؟ کس کو معلوم ہے ؟ قیامت کے روز جن کے پلو پکڑنے کی ، امیدیں ہیں آخر ان کی دلیل کیا ہے ؟ کون ہے جس کو یہاں ہمیشگی جو آج اور کل نہیں ہوگا۔ جو کل تھا اور آج نہیں۔ جس کے اپنے ہی وجود کو ثبات نہیں وہ کسی کا سہاراکیونکر ہو سکتا ہے ؟ جو خود مصیبت میں مبتلا ہے وہ دوسرے کی مصیبت کو کیا دور کرے گا۔ جو خود مختاج ہے کیا وہ دوسرے کی حاجت کو پورا کرسکتا ہے ؟ ” مالک الملک “ کون ہے ؟ ملک سے مراد سارا جہان ہے۔ مالک کا لفظ دعا کے شروع ہی میں لا کر یاد دلا دیا کہ مالکانہ تصرف کا حق و اختیار اس کو ہے جس سے دعا کی جارہی ہے اس جگہ کوئی بھی کسی شے کا مستقل مالک نہیں۔ یہاں ہر مالک کو بھی فنا ہے اور ہر ملکیت کو بھی۔ فنا نہیں تو صرف ایک کو اور ہرچیز کا مالک ہے تو صرف وہی۔ جس چیز کے آج تم مالک ہو کل اس کا کوئی اور مالک تھا۔ جس چیز کے آج تم مالک ہو کل کوئی اور اس کا مالک ہوگا۔ كیا یہ ملکیت تم خود بدل رہے ہو۔ اپنی مرضی سے بدل رہے ہو۔ سوچ کر جواب دو ؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر وہ کون ہے جو اس کو بدل رہا ہے ؟ ہاں ! وہ وہی ہے جو دراصل مالک ہے اس نے ایک چیز تمہاری ملک میں دی اور کل کسی دوسرے کی ملکیت میں دے دے گا۔ تم کو اختیار نہیں۔ نہیں ، نہیں یہاں کسی کو بھی اختیار نہیں۔ جن کا تم اختیار سمجھتے ہو ان کا بھی اختیار نہیں۔ تم کو دھوکا ہوا ہے۔ ” تُؤْتِى الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ “ تو جس سے چاہے ملک واپس لے لے۔ اگر اس میں دینے لینے کا قانون ہے تو وہ بھی اسی عطا کرنے والے نے خود بنایا ہے وہ بیشک اپنے قانون کے مطابق عطا کرے اور قانون کے مطابق لے لے۔ اس قانون پر بھی کسی کا اختیار نہیں۔ حکومت جیسی نعمت کو دینا یا اس نعمت کو واپس لے لینا تمام تر اس احکم الحاکمین کے ساتھ میں ہے اور نفس بادشاہت یا حکومت میں تقویٰ یا الوہیت ذرا سی بھی نہیں اور ابکل نہیں۔ اس میں کثرت سے پھیلے ہوئے اس جاہلی عقیدہ کا رد آگیا کہ بادشاہ خود ایک درجہ الوہیت یا نیم الوہیت کا ہے اور کسی کا بادشاہ ہوجانا گویا خدا کے اوتار کے مرتبہ پر پہنچ جانا ہے۔ جیسے مصر میں فرعون کی پرستش ہوتی رہی۔ ہندوستان میں چندر بنسی اور سورج بنسی۔ راجہ مہاراجہ خدائی اوتار سمجھے جاتے تھے۔ جاپان میں میکاڈوکل تک مظہر خدا کی حیثیت رکھتا تھا۔ سب اسی عقیدہ شاہ پرستی کے مظاہر اور علامات ہیں۔ اسلام نے آکر بتایا کہ بادشاہی بھی دوسری نعمتوں کی طرح ایک الٰہی تصرف ہے اور بادشاہ بھی بندگی۔ بےبسی۔ بےچارگی میں بالکل ایسا ہی ہوتا ہے جیسے سارے دوسرے انسان اور سارے دوسرے بندے۔ حقیقت ہمیشہ سے اپنی جگہ پر قائم ہے۔ اس وقت اس کا نظارہ پوری قوت اور شدت کے ساتھ مسوللینی آمز اٹلی اور ہٹلر آمر جرمنی کے انجام کار سے کرایا جاسکتا ہے اور اب بھی باوجود جمہوریت کے دعویٰ کے ان آمروں کی کمی نہیں جن سے یہ درس لیا جاسکتا ہے کہ مالک ہر شے کا خدا وحدہ لا شریک لہٗ ہی ہے۔ باقی سب نام ہی نام ہیں۔ ایک گیا اور دوسرا آگیا۔ اور یہ ” گیا “ اور ” آگیا “ کا مسلسل عمل جاری ہے۔ ظاہر ہے کہا گر عمل جاری ہے تو کوئی اس عمل کا عامل بھی ضرور ہے کیونکہ کوئی عمل بغیر عامل کے ممکن نہیں۔ عزت کے خواہش مند اچھی طرح جان لیں کہ عزت بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے : 67: اے ہمارے رب ! تو جسے چاہے اپنی حکمت کاملہ کے مطابق عزت دے ” جسے تو چاہے “ کی وسعت میں قومیں بھی آگئیں اور افراد بھی۔ عزت کا سب سے بڑا مرتبہ جو بڑے سے بڑا ہوسکتا ہے یاد کیا جائے کہ وہ کیا ہے ؟ خوب غور کرو گے تو معلوم ہوگا کہ وہ نبوت ہے جب تک وہ جاری تھی۔ اس طرح گویا اہل کتاب کو یہ یاد دلادیا کہ جس قوم کے جس فردکو چاہے جب تک نبوت جاری تھی مرتبہ نبوت سے سرفرار کر دے اس لیے یہ اعتراض تمہارا بالکل بےمعنی اور بےمحل ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ بنی اسماعیل سے کیوں آگیا ؟ وہ بنی اسرائیل سے کیوں نہ ہوا ؟ نبوت نہ تو بنی اسرائیل کے اختیار میں تھی اور نہ ہی بنی اسمعٰیل کے اختیار میں۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق جاری تھی جب تک کہ جاری تھی اور اب بالکل بند ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق جو وقت اس نے اس کے بند کرنے کا مقرر کیا تھا اس پر اس کو بند کردیا۔ ” وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ “ تو جسے چاہے ذلت دے اس کی پاداش عمل میں۔ اس کا اطلاق بھی فرد و قوم دونوں پر حاوی تھا۔ کوئی فرد تو مرتبہ نبوت سے معزول نہیں ہوا اور نہ ہی معزول ہو سکتا تھا۔ البتہ یہ نعمت قوموں سے سلب ہو سکتی تھی جب تک نبوت جاری تھی۔ اب نبی اعظم و آخر ﷺ کے بعد کسی قوم سے یہ نعمت سلب نہیں ہوئی بلکہ منصب نبوت ختم کردیا گیا۔ چناچہ قوم بنی اسرائیل صدیوں تک اس نعمت سے سرفراز رہنے کے بعد معزول کی ﴾گئی اور یہ نعمت اپنی انتہائی اور آخری شکل میں عرب قوم کے ایک ممتاز فرد کے حصے میں آئی جو بنی اسماعیل سے تعلق رکھتا تھا۔ هر طرح کی بھلائی بھی اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے : 68: ” تیرے ہی ہاتھ میں بھلائی ہے “ اہل کتاب اس پر حیرت زدہ کیوں ہیں کہ نعمت نبوت سے عرب قوم کا ایک فرد سرفراز کیا ارہا ہے۔ ” الخیر “ یعنی بھلائی ہر قسم کی اور ہر مرتبہ ، درجہ کی۔ کائنات میں وجود ایجابی صرف خیر کا ہے اس لیے ذکر اس کا کیا گیا اس کے مقابل کی چیز یعنی شر محض ایک سلبی چیز کا نام ہے۔ اس جگہ صرف ” خیر “ کا ذکر ہے ” شر “ کا نہیں کیوں ؟ اس لیے کہ جس چیز میں بندہ کے ارادہ اور اختیار کو دخل نہ ہو وہ محض خیر ہی خیر ہے۔ اسے ناگوار نہ جاننا چاہیے اور اسے اپنے حق میں عذاب و مصیبت نہ سمجھنا چاہیے۔
Ayah 3:27

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

ہاں ہاں ! تو ہی ہے جو رات کو دن میں لے آتا ہے اور دن کو رات میں ، جاندار کو بےجان سے نکالتا ہے اور بےجان کو جاندار سے اور جسے چاہتا ہے بےحساب بخش دیتا ہے

تصرفات الٰہی کی ایک مثال پیش کی جارہی ہے : 69: پیچھے تصرفات الٰہی کا ذکر کیا تھا اب اس کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے تاکہ بات کی وضاحت ہوجائے اور اچھی طرح انسان کے ذہن میں بیٹھ جائے کہ جو کچھ ہے سب قبضہ قدرت الٰہی میں ہے اس سے باہر کچھ نہیں۔ ” تورات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ “ غور طلب بات یہ ہے کہ جب رات دن میں داخل ہوتی ہے تو کیا رات رات بھی رہتی ہے اور دن میں بھی داخل ہوجاتی ہے ؟ نہیں جتنی رات دن میں داخل ہوتی ہے وہ دن ہوجاتا ہے اور رات نہیں رہتی۔ اسی طرح جب دن رات میں داخل ہونا شروع ہوتا ہے تو جتنا دن رات میں داخل ہوجاتا ہے وہ دن دن نہیں رہتا بلکہ رات ہوجاتا ہے۔ گویا یہ بیان ہے رات دن کے گھٹنے اور بڑھنے کا۔ پھر ایسا کیوں ہے ؟ یہ سب کچھ خال یاز حکمت نہیں اس کمی بیشی میں انسانی زندگی کے کتنے فائدے ہیں موسم کے اس تغیر و تبدل میں کیا کچھ راز پنہاں ہیں ؟ اگر یہ کچھ نہ ہوتا تو کیا انسانی زندگی کا قیام ممکن تھا ؟ اس پر قوموں کے عروج وزوال پر قیاس کرلو۔ جب کوئی قوم عروج پر ہوتی ہے تو اس کی قومی زندگی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جب کوئی قوم زوال پذیر ہوتی ہے تو اس کو اس کی قومی موت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جس طرح موسموں کا تغیر بغیر کسی مقصد کے نہیں بالکل اسی طرح قوموں کا عروج وزوال بھی بغیر کسی مقصد کے نہیں۔ جس طرح رات دن کی کمی بیشی میں ایک الٰہی قانون کام کر رہا ہے بالک اسی طرح قوموں کے عروج وزوال میں بھی الٰہی قانون جاری وساری ہے۔ یہاں بغیر ضرورت اور بغیر مقصد کے کچھ نہیں۔ انسان کی سمجھ میں وہ مقصد اور ضرورت آئے یا بالکل نہ آئے۔ انسان اس مقصد اور ضرورت پر غور کرے یا بالکل نہ کرے۔ یاں جو کچھ ہے سب کا سب باقاعدہ ایک نظم و نسق کے تحت ہے۔ اس سے کیا سمجھایا جارہا ہے ؟ جب انسان ایک طرف کافروں اور نافرمانوں کے کرتوت دیکھتا ہے اور پھر یہ دیکھتا ہے کہ وہ دنیا میں کس طرح پھل پھول رہے ہیں دوسری طرف اہل ایمان کی اطاعت شعاریاں دیکھتا ہے اور پھر ان کو اس فقروفاقہ اور ان مصائب و آلام کا شکار دیکھتا ہے جن میں خود نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام 3 ھ کے لگ بھگ زمانے میں مبتلا تھے تو قدرتی طور پر اس کے دل میں ایک عجیب حسرت آمیز استفہام گردش کرنے لگتا ہے اللہ تعالیٰ نے یہاں اسی استفہام کا جواب دیا ہے اور ایسے لطیف پیرائے میں دیا ہے کہ اس سے زیادہ لطافت کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اچھا ! اس قانون قدتر پر ذرا غور کرو کہ دن رات میں کمی بیشی ، تسلیم ، کیا تم نے کبھی ایسا بھی دیکھا کہ آج رات 14 گھنٹے کی اور دن 10 گھنٹے کا ہے۔ لیکن معاً کل دن 14 گھنٹے کا اور رات 10 گھنٹے کی ہوجائے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں نہ کبھی ایسا ہوا ہے اور نہ ہی ہوگا۔ کیوں ؟ اس لیے کہ یہ اس قانون قدرت کے خلاف ہے جو اس ذال الٰه نے دن کی کمی بیشی کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ پھر تم یہ ضد نہ کرو کہ ہم رب کو تب ہی رب مانیں گے کہ آج اور کل میں معاً دو یا چار گھنٹے کا فرق کر کے دکھائے۔ بالکل اسی پر قیاس کرلو آج جو قوم من حیث القوم مردہ نظر آتی ہے حالانکہ اس کے اندر اللہ اور اس کے رسول کے سارے دشمن جمع ہیں۔ یہ حالت خود بخود اس بات کی دلیل ہے کہ جو قوم تم کو آج مردہ نظر آرہی ہے وہ دراصل زندہ ہے اور جو قوم من حیث القوم تم کو زندہ نظر آرہی ہے وہ زندگی کے آخری سانس پر ہے دن گزرنے دو ۔ وقت نکلنے دو تم خود دیکھو گے کہ کونسی قوم زندہ ہے اور کون سی قوم مردہ۔ پھر غور کرو کہ ابھی ٹھیک سات سال بھی نہیں گزرے تھے کہ یہ بات روشن ہو گئی تھی یا نہیں ؟ سو یاد رکھو کہ قوموں کی حیات و ممات کا اصول بھی اللہ کے ہاں طے شدہ اصول ہے۔ بہرحال اب وقت آگیا ہے کہ دنیا ہی میں حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے جسے اٹھنا ہے وہ اٹھ کھڑا ہو اور جسے گرنا ہے وہ گرا دیا جائے۔ پھر دنیا نے دیکھ لیا کہ اٹھنا کس کے لیے تھا اور گرنا کس کا مقدر بن گیا۔ ” اے اللہ تو بےجان سے جاندار نکالتا ہے۔ “ اس کی مثالیں کائنات کی کھلی کتاب میں عام ہیں اور کتب آسماین کے اندر بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر دیکھنا ہی ہے تو اس مثال کو دیکھو۔ قرآنی اوراق میں اس کو بار بار بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہے : وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً 1ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَقَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ.(االانعام 6 : 74) ” اور دیکھو جب ایسا ہوا تھا کہ ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا کیا تم ان بتوں کو معبود مانتے ہو ؟ میرے نزدیک تو تم اور تمہاری ساری قوم کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ کفر کی موت مرچکا تھا اللہ نے اس مردہ باپ سے ابراہیم جیسا زندہ و تابندہ انسان پیدا فرما کر ” تُخْرِجُ الْحَىَّ مِنَ الْمَیِّتِ “ کی مثال پیش فرما دی جس میں غور کرنے والوں کے لیے سینکڑوں نشانیاں موجود ہیں۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے کی داستان سے کون ناواقف ہے ذرا قرآن کریم کی اس آیت پر غورکرو۔ ارشاد ہوتا ہے : وَ نَادٰى نُوْحُ ا۟بْنَهٗ وَ کَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ. قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ 1ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ 1ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ.(ھود 11 : 42 ۔ 43) ” اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو پکارا وہ کنارے پر کھڑا تھا کہ اے میرے بیٹے ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجا کافروں کے ساتھ نہ رہ۔ اس نے کہا ، میں کسی پہاڑ پر پناہ لے لوں گا وہ مجھے پانی کی زد سے بچا لے گا۔ نوح (علیہ السلام) نے کہا تو کس خیال خام میں پڑا ہے ؟ آج اللہ کی ٹھہرائی ہوئی اس بات سے بچانے والا کوئی نہیں مگر ہاں ! وہی جس سے رحم کرے اور دیکھو ! دونوں کے درمیان ایک موج حائل ہو گئی پس وہ انہیں میں ہوا جو ڈوبنے والے تھے۔ “ نوح (علیہ السلام) جیسے زندہ بلکہ اسلامی زندگی کے داعی جیسے باپ سے آپ کے اس بیٹے جیسا مردہ انسان پیدا فرما کر اللہ تعالیٰ نے ” تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَىِّ “ کی مثال پیش فرما دی جس میں غور کرنے والوں کے لیے ان گنت نشانایاں موجود ہیں۔ اس طرح کی مزید مثالوں پر غور کرنا ہو تو سورة الکہف کی پچاسی آیت اور سورج الاحقاف کی آیت سترہ کا بغور مطالعہ کرو اور انڈے سے مرغی اور مرغی سے انڈے کی مثال تو آپ پڑھتے اور دیکھتے ہی رہتے ہیں۔ ” بےحساب “ رزق دینے کا مطلب کیا ہے ؟ اور روزی رساں کون ؟ 70: اس کا یہ مطلب تو ہو ہی نہیں سکتا کہ اللہ جس کو چاہے اتنا رزق دے دیتا ہے کہ اس کو حساب بھی نہ ہو کہ میں نے کتنا دے دیا ہے۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ جس کو رزق دیا گیا ہے اس کو یہ حساب نہ رہے کہ اس کو کتنا رزق دیا گیا ہے کیونکہ رزق دینے والا اللہ ہے اور جس کو رزق دیا گیا ہے وہ انسان ہے۔ انسان کے حساب میں ایک چیز نہ آئے ممکن ہے لیکن اللہ کے حساب میں نہ رہے یہ ممکن نہیں۔ لیکن یہاں بغیر حساب کے رزق دینے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو کسی کام سے اتنا رزق عطا فرما دے جتنا کہ اس کام سے رزق حاصل کرنے کا انسان کو وہم و گمان بھی نہ ہو اور ایسا اکبر ہوتا ہی رہتا ہے۔ چناچہ دوسری جگہ خود قرآن کریم نے اس کی وضاحت بھی فرما دی ہے۔ جہاں فرمایا : وَیَرْزُقُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ. (الطلاق 65 : 3) ” اور اللہ اسے ایسی جگہ سے رزق پہنچائے گا جہاں سے کچھ ملنے کا اسے خیال تک نہ تھا۔ “ کیوں اور کیسے ؟ اس لیے رزق دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے : 1: ” اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا اور وہی تم کو روزی دیتا ہے۔ “ (الروم 30 : 40 ) 2: ” اسی نے تمہارے لیے معیشت کے سامان پیدا کیے اور جانوروں کی قسم سے بھی ایسی ایسی چیزیں پیدا فرما دیں جن کو تم روزی نہیں دیتے۔ “ (الحجر 15 : 20) 3: ” ذرا بتاؤ تو سہی کہ کتنے جانور ہیں جو اپنی اپنی روزی اٹھائے پھرتے ہیں۔ اللہ ہی تو ہے جو ان کو بھی اور تم کو بھی روزی دیتا ہے۔ “ (العنکبوت 20 : 60) 4: ” اللہ تعالیٰ تم سے رزق نہیں چاہتا اور نہ ہی یہ چاہتا ہے کہ تم اسے کھلاؤ ۔ وہ تو خود روزی دینے والا صاحب قوت اور متین ہے۔ “ (طہٰ 20 : 32) (الذاریات 51 : 57۔ 58 ) 5: ’ ’ ذرا بتاؤ تو سہی کہ کون ہے جو تم کو آسمان و زمین سے روزی دیتا ہے۔ ارے وہی اللہ تو ہے۔ “ (السباء 34 : 42)
Ayah 3:28

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

جو لوگ ایمان والے ہیں وہ مومنوں کو چھوڑ کر منکرین حق کو اپنا رفیق و مددگار نہ بنائیں اور جس کسی نے ایسا کیا تو وہ یاد رکھے کہ اس کا اللہ کے ساتھ کوئی سروکار نہیں رہا ، ہاں ! اگر تم ان کے شر سے بچنے کیلئے اپنا بچاؤ کرنا چاہو اور کرلو تو یہ دوسری بات ہے اور دیکھو اللہ بھی تمہیں اپنے قانون مواخذہ سے ڈرا رہا ہے اور آخر کار تم سب کو لوٹ کر اسی کی طرف جانا ہے

ایمان والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ منکرین حق کو رفیق و مددگار نہ بنائیں : 71: مؤمنوں کو چاہیے کہ وہ مؤمنوں کے ہوتے ہوئے کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں نہ ظاہری طور پر اور نہ باطنی طور پر۔ کیونکہ جسے دوستی کا علاقہ کہتے ہیں وہ ایک کیفیت قلب و دماغ اور پھر عملی برتاوا ہے۔ مسلمانوں کو کافروں ، منکروں اور اللہ کے باغیوں کے ساتھ یہ تعلق قائم کرنے کی قطعی ممانعت ہے اور عقلاً بھی یہ ملی خودداری اور قومی تشخص کے بالکل منافی ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کل یہ نفرت مختلف مکاتب فکر نے اسلام کے اندر رہتے ہوئے ایک دوسرے سے کرنا شروع کردی ہے اور پھر وہ اس کو اپنی اپنی جماعت اور گروہ بندی کے لیے اتنا ہی ضروری قرار دیتے ہیں جتنا کہ اسلام نے کفر کے مقابلہ میں ضروری قرار دیا تھا جس کا آخری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس گروہ بندی کو پکا کرنے کے لیے ایک دوسرے کو کھلم کھلا کافر کہنا شروع کردیتے ہیں اور پھر مزید دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ منافرت پھیلانے والا وہی طبقہ ہے جو علمائے کام کے نام سے معروف ہے۔ کیا یہ علم ہے یا سرا سر جہل ؟ قرآن کریم نے اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ مسلمانوں کو یہ حق نہیں کہ کافروں کو دلی دوست بنا لیں اور اپنے رازوں سے ان کو واقف کریں اور اپنوں کی طرح انحصار ان پر رکھیں۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ 1ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ 1ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ 1ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ 0051 فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآىِٕرَةٌ 1ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ0052 (المائدہ 5 : 51۔ 52) ” مسلمانو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق و مددگار نہ بناؤ وہ تمہاری مخالفت میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور دیکھو اب تم میں سے جو کوئی انہیں رفیق و مددگار بنائے گا تو وہی انہیں میں سے سمجھا جائے گا اللہ اس گروہ پر کامیابی وسعادت کی راہ نہیں کھولتا جو ظلم کرنے والا گروہ ہے۔ پھر اے پیغمبر اسلام ! تم دیکھو گے کہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کا روگ ہے وہ ان لوگوں کی طرف دوڑے جا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ ان لوگوں سے الگ تھلگ رہنے کی وجہ سے کسی مصیبت کے پھیر میں نہ آجائیں۔ تو یقین کرو وہ وقت دور نہیں جب اللہ تمہیں فتح دے گا یا اس یک طرف سے کامیابی اور غلبہ کی کوئی اور بات ظاہر ہوجائے گی اور اس وقت یہ لوگ اس بات پر شرمندہ ہوں گے جو انہوں نے انپے دل میں چھپا رکھی ہے۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اے مسلمانو ! یہودونصاریٰ اور کفار میں سے جن لوگوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بھنا رکھا ہے یعنی تحقیر و تذلیل کے لیے اس کی ہنسی اڑاتے رہتے ہیں تم انہیں اپنا مدد گار و رفیق نہ بناؤ اور اللہ کی نافرمانی کے نتیجوں سے ڈرتے رہو اگر فی الحقیقت تم ایمان رکھنے والے ہو۔ “ (المائدہ 5 : 75) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” مسلمانو ! ایسا نہ کرو کہ مسلمان کے سوا کافروں کو جو تمہارے خلاف لڑ رہے ہیں اور تمہاری بربادی پر تلے ہوئے ہیں اپنا رفیق و مددگار بناؤ ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کا صریح الزام اپنے اوپر لے لو ؟ “ (السباء 4 : 144) ایک جگہ ارشاد ہوا : ” مسلمانو ! ایسا نہ کرو کہ اپنے آدمیوں کے سوا کسی دوسرے کو اپنا ہم راز اور معتمد بناؤ ۔ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ تمہارے خلاف فتنہ انگیزی میں کمی کرنے والے نہیں۔ جس بات سے تمہیں نقصان پہنچے وہی انہیں اچھی لگتی ہے۔ ان کی دشمنی تو ان کی باتوں ہی سے ظاہر ہے لیکن جو کچھ ان کے دلوں میں چھپا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ “ (ال عمران 3 : 118) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اگر یہ تم مسلمانوں میں گل مل کر نکلتے تو تمہارے اندر کچھ زیادہ نہ کرتے مگر ہر طرح کی خرابی اور ضرور تمہارے درمیان فتنہ انگیزی کے گھوڑے دوڑاتے کہ ادھر کی بات ادھر لگاتے اور ادھر کی بات ادھر اور تم جانتے ہو کہ تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ان کی باتوں پر کان دہرنے والے ہیں اور اللہ جانتا ہے کون ظلم کرنے والا ہے۔ “ (التوبہ 9 : 74) ایک جگہ وضاحت سے فرما دیا کہ : ” مسلمانو ! اگر تمہارے باپ اور تمہارے بھائی ایمان کے مقابلہ میں کفر کو عزیز رکھیں تو انہیں اپنا رفیق و کارساز نہ بنائو اور جو کوئی بنائے گا تو ایسے ہی لوگ ہیں جو خود اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں۔ اے پیغمبر اسلام ! مسلمانوں کو کہه دو کہ اگر ایسا ہی ہے کہ تمہارے باپ ، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں ، تمہاری برادری ، تمہارا مال جو تم نے کمایا ہے ، تمہاری تجارت جس کے مندا پڑجانے سے ڈرتے ہو ، تمہارے رہنے کے مکانات جو تمہیں اس قدر پسند ہیں۔ یہ ساری چیزیں تمہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اللہ کی راہ میں جہاں کرنے سے زیادہ پیاری ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ جو کچھ اللہ کو کرنا وہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسقوں پر کامیابی کی راہ نہیں کھولتا۔ “ (التوبہ 9 : 23۔ 24 ) ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : ” وہ لوگ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر منکرین حق کو اپنا رفیق و مددگار بناتے ہیں اور مسلمانوں کی دوستی پر دشمنوں کی دوستی کو ترجیح دیتے ہیں تو کیا وہ چاہتے ہیں کہ انکے پاس عزت دھونڈیں ؟ اگر ایسا ہی ہے تو یاد رکھیں عزت جنتی بھی ہے سب کی سب اللہ ہی کے لیے ہے یعنی اس کے اختیار میں ہے جسے چاہے اپنے قانون کے مطابق دے دے۔ دشمنان حق کے ہاتھ میں نہیں ہے اگرچہ وہ اس وقت عارضی طور پر دنیوی عزت اور شوکت رکھتے ہیں اور پیروان حق بےسروسامان اور کمزور ہیں۔ “ (النسا 4 : 138) ” مسلمانو ! اللہ کے دشمنوں اور مسلمانوں کے دشمنوں کو اپنا دوست مت بناؤ کہ ان کے ساتھ محبت و اعانت سے پیش آنے لگو حالانکہ اللہ نے جو سچائی تمہاری طرف بھیجی ہے وہ اس سے انکار کرچکے ہیں اور اس کے دشمن ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اور تم کو یعنی صحابہ کرام ؓ کو محض اس بنا پر جلا وطن کیا کہ تم اپنے پروردگار یعنی اللہ پر ایمان لائے ہو لہٰذا اگر تم میری راہ میں جہاں اور میری رضا جوئی کی خاطر اپنے گھروں سے نکلے ہو تو یہ دوستی مت کرو۔ تم پوشیدہ ان کو دوستی کے پیغامات بھیجتے ہو حالانکہ جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو اعلانیہ کرتے ہو ہرچیز کو میں خوب جانتا ہوں اور جو کوئی بھی تم میں سے ایسا کرے گا تو یقین جانو کہ وہ راہ راست سے بھٹک گیا۔ “ (الممتحنہ 60 : 1) اللہ اور اس کی ممانعت کو قبول نہ کرنے والوں کا حال : 72: اور یادرکھو کہ جو کوئی ایسا کرے گا تو وہ اللہ کے ہاں کسی شمار میں نہیں یعنی دشمنان خدا کے ساتھ دوستی رکھنے والے کی دوستی اللہ کے ساتھ کسی درجہ میں بھی معتبر اور مقبول نہیں۔ کیونکہ اس نے گویا اللہ تعالیٰ کا کہنا مان کر شیطان کی پیروی کی اور شیطان کو دوست بنایا چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : ” اور جو کوئی اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق و مددگاربناتا ہے تو یقیناً وہ تباہی میں پڑگیا ایسی تباہی جو کھلی تباہی ہے۔ “ (النساء 4 : 119) دوسری جگہ ارشاد الٰہی ہے : ” کیا تم مجھے یعنی اللہ کو چھوڑ کر کہ میں تمہارا پروردگار ہوں اسے یعنی شیطان کو اور اس کی نسل کو اپنا کارساز بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں ؟ دیکھو ! ظلم کرنے والوں کے لیے کیا ہی بری تبدیلی ہے۔ “ (الکہف 18 : 50) هاں ! غیر مسلموں کے شر سے بچنے کے لیے ظاہری میل جول دوسری بات ہے : 73: مگر ایسی صورت میں کہ تم کو ان سے کچھ ضرر کا اندیشہ ہو تو رفع ضرر کے لیے بقدر ضرورت ظاہری تعلقات میل جول کے ہوں تو یہ دوسری بات ہے یعنی اس میل جول میں مواخذہ نہ ہوگا کیونکہ یہ کوئی جرم نہیں ہے اور نہ ہی اس میل جول کو دوستی کہا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ حسن سلوک کی تین ہی صورتیں ممکن ہوتی ہیں۔ 1 موالات یعنی دوستی اور محبت و یگانگت۔ 2 مدارات یعنی ظاہری خوش خلقی جس کو ہنس مکھ سے تعبیر کرتے ہیں اور خاطر داری کہتے ہیں۔ 3 مواسات یعنی احسان اور نفع رسانی۔ صورت اول جس کو ” موالات “ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے معاندیں اسلام کے ساتھ کسی حال میں جائز اور درست نہیں ہے۔ مسلمانوں کو اس سے ہر حال میں پرہیز کرنا چاہیے۔ صورت دوم جس کو ” مدارات “ کے نام سے یاد کیا گیا ہے یہ تین حالتوں میں درست ہے۔ اول نفع ضرر کے لیے۔ دوم خود اس کافر و غیر مسلم کی مصلحت دینی ہو یعنی یہ توقع ہو کہ شاید وہ میرے حسن سلوک سے ہدایت پا جائے یا کم از کم دین اسلام کو اچجھی نظروں سے دیکھے۔ تیسرے اکرام ضیف کے طور پر یعنی کافر ہے لیکن وہ مہمان بھی ہے گویا یہ روادایر ہے کہ وہ کافر ہو کر مسلمان کا مہمان ہو سکتا ہے تو مسلمان کو بھی مسلمان ہو کر کافر کی میزبانی کرنا جائز و درست ہے اس میں امان بھی داخل ہے۔ صورت سوم جس کو ” مواسات “ کہا گیا ہے یعنی احسان کرنا اور اس کو نفع پہنچانا حربی کافروں کو جائز نہیں اور غیر حربی کے ساتھ جائز ہے۔ یعنی جب کسی غیر مسلم ملک سے جنگ جاری ہو تو اس کو نفع پہنچایا اور اس پر احسان کرنا درست نہیں۔ ہاں ! اگر حالت امن ہو اور کسی طرح کا جنگ وجدال جاری نہ ہو تو ایسی صورت میں انسانی ہمدردی سے روکا نہیں جاسکتا کیونکہ غیر مسلم بیشک غیر مسلم ہے لیکن بہرحال انسان تو ہے لہٰذا انسانی حقوق بحال رکھنا کوئی گناہ کی بات نہیں۔ هاں ! یہ بات ہر حال میں یاد رکھنا چاہیے کہ اپنے ذاتی فائدہ اور حصول مال و جاہ پر قومی فائدہ اور قومی عزت وجاہ کو ہمیشہ اولیت دینی چاہیے کیونکہ قومی نفع کے سامنے کی کے ذاتی نفع کی کوئی حیثیت نہیں اور اس طرح قومی نقصان کے سامنے ذاتی نقصان کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ گویا کسی انسان کا ذاتی فائدہ ہو رہا ہو لیکن اس کے ساتھ قومی نقصان بھی تو اس ذاتی فائدہ کو ہرگز حاصل نہ کرنا چاہیے جس سے قومی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔
Ayah 3:29

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

ان لوگوں سے کہہ دو تمہارے دلوں کے اندر جو کچھ ہے تم اسے چھپاؤ یا ظاہر کرو ، ہر حال میں اللہ اسے خوب جانتا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب اس پر روشن ہے اس کی قدرت کے احاطہ سے کوئی چیز باہر نہیں ہے

انجام کار انسان کو اپنے کیے کا جواب دہ ہونا ہے وہ بھی علم وخبیر کے سامنے : 74: یہ بات ہر وقت اور ہر آن یاد رہنی چاہیے کہ اس دنیا کی زندگی بالکل عارضی ہے اور ہر ایک انسان کو اپنے کیے ہوئے کاموں کا اپنے مالک حقیقی کے سامنے جوابدہ ہونا ہے لہٰذا اس کے احکام کی ظاہری اور باطنی ہر مخالفت سے باز رہنا چاہیے۔ اللہ ہی وہ ذات ہے جو بذات الصدور ہے اور وہ سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے : مَنْ کَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَىِٕنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ 1ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ.(النمل 16 : 106) ” جو کوئی ایمان لانے کے بعد پھر اللہ سے منکر ہوا اور اس کا دل اس انکار پر رضامند ہوگیا پھر ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ “ مگر ہاں ! جو کوئی کفر پر مجبور کیا جائے اور اس کا دل اندر سے ایمان پر مطمئن ہو تو ایسے لوگ مواخذہ سے بری ہوں گے اگرچہ یہ بھی کوئی خوبی کی بات نہیں۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” مسلمانو ! جب کافروں کے لشکر سے تمہاری مڈ بھیڑ ہوجائے تو انہیں پیٹھ نہ دکھاؤ یعنی مقابلہ سے بھاگ نہ جاؤ بلکہ سینہ سپر ہو کر مقابلہ کرو اور جو کوئی ایسے موقع پر پیٹھ دکھائے گا تو سمجھ لو کہ وہ خدا کے غضب میں آگیا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوا اور جس کا ٹھکانہ دوزخ ہوا تو اس کا کیا ہی برا ٹھکانہ ہے مگر ہاں ! جو کوئی لڑائی کی مصلحت سے ہٹ جائے یا اپنے گروہ سے کسی کے پاس جگہ لینی چاہے یعنی جماعت سے الگ ہوگیا ہو تو جماعت سے مل کر لڑنا چاہے تو اس میں مضائقہ نہیں۔ “ (الانفال 8:16 , 15) ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : ” اور اپنی لونڈیوں کو کہ وہ پاک دامن رہنا چاہتی ہیں محض دنیا کے فائدے کے لیے حرام کاری پر مجبور نہ کرو جو انہیں مجبورکرے گا وہ اپنے آپ کو حالت بےبسی میں پائیں گے تو ایسی حالت میں جو گناہ ہے وہ سارے کا سارا مجبور کرنے والوں پر ہے اور لونڈیاں رحمت سے مایوس نہ ہوجائیں اللہ بخشنے والا اور نہایت ہی پیار کرنے والا ہے۔ “ (النور 24 : 33) اللہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اس کے لیے چھپا اور ظاہر برابر ہے : 75: گزشتہ آیت میں معاندین و مخالفین اسلام کا ذکر تھا اور اہل اسلام کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ انہیں اپناوی و دوست نہ بنائیں اس آیت میں مخالفین اسلام کو مخاطب کر کے فرمایا جارہا ہے کہ تم اپنی خفیہ تدابیر کو جو اسلام کی بیخ کنی کے لیے کر رہے ہو اپنے دلوں کے اندر مخفی رکھو اور خواہ ان کو ظاہر کرو یعنی خواہ پوشیدہ طور پر دشمنی کرو یا ظاہر طور پر اللہ تعالیٰ کو سب علم ہے کیونکہ اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ یاد رکھو کہ وہ پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف تمہاری کسی تدبیر کو بھی کارگر نہ ہونے دے گا بلکہ یقیناً وہ اس کی سزا بھی تمہیں دے گ۔ یہ گویا اعلان ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اعلان کرایا جارہا ہے خود پیغمبر اسلام ﷺ کی زبان اقدس سے تاکہ معاندین و مخالفین مزید چوکنے ہو کر جو کچھ کرنا چاہتے ہیں یا وہ جو کچھ وہ کرسکتے ہیں پورا زور لگا کر کرلیں تاکہ ان کو کوئی پچھتاوا باقی نہ رہے اور دنیانے دیکھ لیا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ سو فیصدی پورا ہوا۔ اس سے مخالفین کو سمجھ لینا چاہیے تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول ہیں لیکن نصیحت پکڑنے کے سو دلائل موجود ہوں نصیحت تو پھر بھی وہیں پکڑیں گے جو نصیح تحاصل کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ یہ دارالعمل ہے اور اس کے لیے انسانی سعی و کوشش لازم کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا زمانہ تو ایسا تھا کہ اس وقت مخالفین تقریباً علی الاعلان ہی دشمن تھے سوائے منافقین کے جو پردہ میں رہ کر مخالفت کر رہے تھے اس لیے مخفی دشمنی میں ان کی طرف ہی اشارہ ہے جو آج بھی مسلمانوں کے ساتھ دوستی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی دوستی کا دم بھرتے ہیں مگر درحقیقت وہ ہر وقت ایسیا تدابیر کے سوچنے میں مصروف ہیں جس سے اسلام اور مسلمانوں کی بےچینی بڑھے اور ان کی بیخ کنی ہو۔ کاش کہ آج بھی مسلمان اس کو سمجھنے کی کوشش کریں تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی مخفی تدبیروں کا وہی حشرکرے گا جو اس وقت ان کی کھلی تدابیر کا کیا تھا۔