Ayah 3:112یہود مخضوب الٰہی ہوچکے ہیں ان پر ذلت کی مار ہی پڑے گی :
217 : ذلت کیا ہے ؟ ذلت شخص محکومیت پر بولا جاتا ہے۔ مگر انتہا اس کی یہ ہے کہ ایسی قتل و غارت ان پر واقع ہو غارت ان پر واقع ہو کہ کسی حالت میں آرام نہ ملے۔ چونکہ محض محکومیت مسکنت میں بھی شامل ہے اس لئے اس جگہ انتہائی ذلت ہی مراد ہو سکتی ہے۔ خیال رہے کہ دعوت حق کی مخالفت میں سب سے زیادہ حصہ یہودیوں کا ہے۔ کیونکہ ان کا حال یہ ہے۔ کہ اپنی بد عملیوں اور سرکشیوں سے مغضوب الٰہی ہوچکے ہیں اور دنیا کا کوئی گوشہ نہیں جہاں اپنے بل بوتے پر زندگی بسر کر رہے ہوں خواہ وہ فلسطین ہو یا کوئی دوسرا علاقہ۔ ججہاں کہیں بھی ان کو پناہ ملی ہے۔ وہ آخر دوسروں کے سہارے ہے اور یہی سب سے بڑی ذلت و نامرادی ہے یعنی یا تو اہل کتاب ہونے کی وجہ سے لوگوں نے چھوڑ رکھا ہے یا پھر حکمران قومون نے محکومیت اور اطاعت کے قول وقرار پر زندگی کی مہلت دے دی ہے۔ چناچہ پہلی حالت عرب میں تھی اور دوسری روم و ایران میں۔ کہا جا رہا ہے کہ کوئی وجہ نہیں کہ تم ان کی مخالفت سے پریشان خاطر ہو وہ وقت دور نہیں جب عرب میں بھی ان کی رہی سہی طاقت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس جگہ یہ بات بھی واضح ہوجائے گی کہ قرآن کریم محکومی کی حالت کو کس نظر سے دیکھتا ہے ؟ اس زمانے میں یہودی رومیوں کے ماتحت امن کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ اور عرب میں بھی ان کی بڑی بڑی بستیاں تھیں لیکن چونکہ حکومت و فرمانروائی سے محروم ہوچکے تھے۔ اس لئے اس کو ذلت و رسوائی قرار دیا گیا۔ مسلمان اس بات کو یاد رکھتے تو ان کی حالت جو اس وقت دنیا میں ہے یقینا نہ ہوتی۔
یہود کو دنیا میں زندگی کے دن گزارنے کے لئے کوئی نہ کوئی سہارا پکڑنا ضروری ہوگیا :
218: جہاں کہیں بھی یہ رہیں گے ان دو صورتوں میں سے ایک ضرور ہوگی یا تو وہ ” حَبْلُ مِنَ اللہ “ ہوں گے یا ” حَبْلُ مِنَ ا النَاس “ رہیں اس کے علاوہ ان کے رہنے کی کوئی تیسری صورت نہیں ہا سکتی۔ ” حَبْلُ مِنَ اللہ “ کیا ہے ؟ یعنی قانون الٰہی میں جو ان کو چھوٹ دی جا چکی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر وہ رہیں تو رہ سکتے ہیں۔ اور قانون الٰہی نے مسلمانوں پر یہ بات لازم کردی ہے کہ جب تم کو حکومت مل جائے اور تمہاری حکومت میں جو کافر لوگ ہوں خواہ وہ اہل کتاب سے ہوں یا مشرکوں سے جو بھی تم سے امن کا طالب اس کو امن دے دو اور اس کو کہو کہ جزیہ دے کر وہ امن وامان کی ضمانت حاصل کرلیں۔ جس کو اسلام قانون میں ذمی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور اس کی تفصیل قرآن کریم میں بھی موجود ہے اور حدیث رسول اللہ ﷺ میں بھی اور اسلامی قانون میں اس کی پوری پوری وضاحت موجود ہے۔ جس کا مکمل بیان اپنے موقع پر ہوگا۔ اور ” حَبْلُ مِنَ النَاس “ یہ ہے کہ وہ غیر مسلم حکومتوں سے جو یہود کے علاوہ دوسرے لوگوں کی ہو سکتی ہیں جیسے نصاریٰ کی ان سے کوئی عہد و پیمان کرلیں اور اس طرح وہ اس حکومت کے ماتحت یا اس حکومت کے بل بوتے پر کسی علاقہ میں زندگی بسر کرتے رہیں۔ یہود کی ذلت و مسکنت اور اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق ہونے کا ذکر بتفصیل دیکھنا ہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة بقرہ کی آیت 61 سے آیت 120 تک کا مطالعہ کریں۔
ہاں ! یاد رہے کہ ذلت و مسکنت ان کی دنیوی حالت ہے اور غضضب من اللہ ان کی دینی حالت کے متعلق ہے مگر ذلت یعنی قتل و غارت کی حالت سے وہ اس طرح نکل سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذمگی میں آجائیں یعنی حکومت اسلامی کے ماتحت آجائیں یا کسی دوسری حکومت سے معاہدہ کر کے رہیں۔ اور اسی صورت حال کے تحت وہ آج تک موجود ہیں۔ اور یقینا اس حالت سے وہ کبھی بھی نہیں نکل سکتے۔ اس وقت جو نصاریٰ نے ان کے وجود کی بقاء کے لئے اہل اسلام سے جو رویہ اختیار کر رکھا ہے یقینا وہ دن دور نہیں کہ ان کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ یہ لوگ یعنی نصاریٰ اور دوسرے غیراسلامی مذاہب مل کر ججو یہود کی سرپرستی کر رہے ہیں وہ اپنے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی چلانے کے مصداق ہیں۔
بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے۔ کہ ” حَبْلُ مِنَ اللہ “ سے ان کی ایسی آبادی مراد ہے جسے خود شریعت الٰہی نے قتل ہلاکت اور تعزیری و انتقامی کاروائیوں سے مستثنیٰ رکھا ہے۔ مثلاً ان کے بچے ، عورتیں ، بوڑھے ، اور مزاحمت نہ کرنے والے لوگ اور وہ گوشہ نشین زاہد و درویش جو کسی حال میں ہاتھ اٹھانے کو تیار نہیں۔ اور ” حَبْلُ مِنَ اللہ “ سے مراد ان کی وہ جماعتیں ہیں جو معاہدوں کے ژریعہ امن حاصل کرلیں چونکہ معاہد لوگوں ہی سے ہوں گے خواہ وہ لوگ مسلمان ہوں یا غیر مسلم اس لئے کہ ” حَبْلُ “ بمعنی عہد و ذمہ ہی ہے خواہ وہ ججس سے بھی ہو۔ ان کی اسی حالت کا بیان قرآن کریم میں کگء ایک مقامات پر کیا گیا ہے۔
چنانچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّ ھُمْ صٰغِرُوْنَ (التوبۃ : 9:29)
” اہل کتاب میں سے جن لوگوں کا یہ حال ہے کہ نہ تو خدا پر سچا ایمان رکھتے ہیں نہ آخرت کے دن پر نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں۔ جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے ان کی کتاب میں حرام ٹھہرا دیا ہے۔ اور نہ سچے دین ہی پر وہ عمل پیرا ہیں تو مسلمانو ! ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اپنی خوشی سے جزیہ دینا قبول کرلیں اور حالت ایسی ہوجائے کہ ان کی سرکشی ٹوٹ جائے۔ “
ایک جگہ اور ارشاد ہے کہ :
ہُوَ الَّذِیْٓ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَظَنُّوْٓا اَنَّہُمْ مَّانِعَتُہُمْ حُصُوْنُہُمْ مِّنَ اللّٰہِ فَاَتٰہُمُ اللّٰہُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَہُمْ بِاَیْدِیْہِمْ وَاَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ وَلَوْلَآ اَنْ کَتَبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمُ الْجَلَآئَ لَعَذَّبَہُمْ فِی الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابُ النَّارِ (الحشر : 59:2:3)
” وہ اللہ ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو پہلے ہی حملے میں ان کے گھروں سے نکال باہر کیا تمہیں ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور وہ یہ سمجھے بیٹے تھے۔ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے مگر اللہ ایسے رخ سے ان پر آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ گیا تھا۔ اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا وہ خود اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گھروں کو برباد کر رہے تھے۔ اور مومنوں کے ہاتھوں بھی برباد کروا رہے تھے۔ پس عبرات حاصل کرو اے دیدہ بینا رکھنے والو۔ اور اگر اللہ نے ان کے حق میں جلا وطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دناا ہی میں ان کو عذاب دے ڈالتا اور آخرت میں تو ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے ہی۔ “
یہود کے ساتھ یہ سب کچھ کیوں ہوا اور یہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق کیونکر ہوئے ؟ اس کی تفصیل آپ سورة بقرہ میں پڑھ چکے ہو گے اگر نہیں تو سورة بقرہ کی آیات 62 تا 126 کا مطالعہ کریں انشاء اللہ بات واضح ہوجائے گی۔ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا محض ان کی حرکات کی وجہ سے ہوا اور داعی اسلام سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے ہی وہ اس غضب الٰہی کے نئچے دب چکے تھے۔ لیکن آپ ﷺ کی بعثت کے بعد ان پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہی پڑی اس لئے کہ وہ اپنی ان حرکات سے باز نہیں آئے بلکہ من حیث القوم ان کی اکثریت جو اس وقت حجاز کے اندر موجود تھی۔ ان شرارتوں میں مزید ترقی کرتی گئی۔ اس لئے حجاز کے اندر بھی ان سے وہی کچھ ہوا جو ایک مدت سے ان کے ساتھ ہوتا چلا آ رہا تھا۔ اس جگہ اگر صرف حجاز کے یہودیوں کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈال لی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجائے گی۔ کہ رسول اللہ ﷺ جو رحمت اللعالمین کا لقب پانے ولاے تھے۔ انہوں نے آخر کار ان کے مختلف قبائل کے ساتھ جو معاملہ کیا اس کے حقیقی اسباب کیا تھے۔
مدینہ النبی اور اس کے مضافات میں بسنے والے یہود کا تاریخی پس منظر :
اس بات کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ مدینہ طیبہ اور حجاز کے یہودیوں کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈال لی جائے کیونکہ اس کے بغیر آدمی ٹھیک ٹھیک یہ نہیں جان سکتا کہ ایسا کیوں ہوا ؟ یہ جان لینا اس لئے ضروری ہے کہ اسلام جو صلح و آشتی کا مذہب ہے کسی پر زیادتی معلوم ہوتی ہے اور یہود کے ساتھ یہی کچھ ہوا ۔
عرب کے یہودیوں کی کوئی مستند تاریخ دنیا میں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے خود اپنی کوئی ایسی تحریر کسی کتاب یا کتبے کی شکل میں نہیں چھوڑی ہے جس سے ان کے ماضی پر کوئی روشنی پڑ سکے اور عرب سے باہر کے یہودی مورخین و مصنفین نے ان کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے جس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جزیرۃ العرب میں آ کر وہ اپنے بقیہ ابنائے ملت سے بچھڑے گئے تھے۔ اور دنیا کے یہودی سرے سے ان کو اپنوں میں شمار ہی نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ انہوں نے عبرانی تہذیب ، زبان ، حتیٰ کہ نمام تک چھوڑ کر عربیت اختیار کرلی تھی۔ حجاز کے آثار قدیمہ میں جو کبتات ملے ہیں ان میں پہلی صدی عیسوی سے قبل یہودیوں کا کوئی نشان نہیں ملتا اور ان میں بھی صرف چند یہودی نام ہی پائے جاتے ہیں۔ اس لئے یہود عرب کی تاریخ خا بیشتر انحصار ان زبانی روایات پر ہے۔ جو اہل عرب میں مشہور تھیں اور ان میء اچھا خاصا حصہ یہودیوں کا پانا پھیلایا ہوا تھا۔
حجاز کے یہودیوں کا یہ دعویٰ تھا کہ سب سے پہلے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے آخر یہد میں یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔ اس کا قصہ وہ یہ بیان کرتے تھے۔ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک لشکر یژب کے علاقے سے عمالقہ کو نکالنے کے لئے بھیجا تھا اور اسے حکم دیا تھا کہ اس قوم کے کسی شخص کو زندہ نہ چھوڑیں۔ بنی اسرائیل کے اس لشکر نے یہاں آکر فرمان نبی ﷺ کی تعمہ کی مگر عمالقہ کے بادشاہ کا ایک لڑکا بڑا خوبصورت جوان تھا۔ اسے انہوں نے زندہ رہنے دیا اور اس کو ساتھ لئے ہوئے فلسطین واپس پہنچے۔ اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا انتقال ہوچکا تھا۔ ان کے جانشینوں نے اس بات پر سخت اعتراض کیا کہ ایک عمالیقی کو زندہ چھوڑ دینا نبی کے فرمان اور شریعت موسیٰ کے احکام کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس بناء پر انہوں نے اس لشکر کو اپنی جماعت سے خارج کردیا۔ اور اسے مجبوراً یژب واپس آ کر یہیں بس جانا پڑا (کتاب الاغانی ج : 19 ، ص : 94) اس طرح یہودی گویا اس بات کے مدعی تھے کہ وہ 12 سو برس قبل مسیح یہاں سے آباد ہیں۔ لیکن درحقیقت اس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے اور اغلب یہ ہے کہ یہودیوں نے یہ افسانہ اس لئے گھڑا تھا کہ اہل عرب پر اپنے قدیم الاصل اور عالی نسب ہونے کی دھونس جمائیں۔
دوسری یہودی مہاجرت ، خود یہودیوں کی اپنی روایت کے مطابق 5877 قبل مسیح میں ہوئی جبکہ بابل کے بادشاہ بخت نصر نے بیت لمقدس کو تباہ کر کے یہودیوں کو دنیا بھر میں تتر بتر کردیا تھا۔ عرب کے یہودی کہتے تھے۔ کہ اس زمانے میں ہمارے متعدد قبائل آکر وادی القریٰ ، تیماء اور یژب میں آباد ہوگئے تھے۔ (فتوحالبلد ان ، البلاذری) لیکن اس کا بھی کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے۔ بعید نہیں کہ اس سے بھی وہ اپنی قدامت ثابت کرنا چاہتے ہوں۔
درحقیقت جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ جب 70 عیسوی میں رومیوں نے فلسطین میں یہودیوں کا قتل عام کیا اور پھر 132 ء میں انہیں اس سرزمین سے بالکل نکال باہر کیا ، اس دور میں بہت سے یہودی قبائل بھاگ کر حجاز میں پناہ گزین ہوئے تھے۔ کیونکہ یہ علاقہ فلسطین کے جنوب میں متصل ہی واقع تھا۔ یہاں آکر انہوں نے جہاں جہاں چشمے اور سرسبز مقامات دیکھے وہاں ٹھہر گئے اور پھر رفتہ رفتہ اپنے جوڑ توڑ اور سود خواری کے ذریعہ سے ان پر قبضہ جما لیا۔ ایلہ ، مقنا ، تبوک ، تیماء ، وادی القریٰ ، فدک اور خیبر پر ان کا تسلط اس دور میں قائم ہوا اور بنی قریظہ ، بنی بہدل اور بنی قینقاع بھی اس دور میں آکر یژب پر قابض ہوئے۔
یژب میں آباد ہونے والے قبائل میں سے بنی نضیر اور بنی قریظہ زیادہ ممتاز تھے۔ کیونکہ وہ کاہنوں (priests یا choens) کے طبقہ میں سے تھے۔ انہیں یہودیوں میں عالی نسب منا جاتا تھا۔ اور ان کو اپنی ملت میں مزہبی ریاست حاصل تھی۔ یہ لوگ جب مدینہ میں آکر آباد ہوئے اس وقت کچھ دوسرے عرب قبائل یہاں رہتے تھے۔ جن کو انہوں نے دبا لیا اور عملاً اس سرسبزو شاداب مقام کے مالک بن بیٹھے۔ اس کے تقریباً تین صدی بعد 450 یا 451 ء میں یمن کے اس سیلاب عظیم کا واقعہ پیش آیا جس ما ذکر سورة سبا کے دوسرے رکوع میں گزر چکا ہے۔ اس سیلاب کی وجہ سے قوم سباء کے مختلف قبیلے یمن سے نکل کر عرب کے اطراف میں پیل جانے پر مجبور ہوئے۔ ان میں سے غسانی شام میں ، لخمی حیرہ (عراق) میں بنی خزاعہ جدہ و مکہ کے درمیان اور اوس و خزرج یژب میں جا کر آباد ہوئے۔ یژب پر چونکہ یہودی چھائے ہوئے تھے۔ اس لئے انہوں نے اول اول اوس و خزرج کی دال نہ گلنے دی اور یہ دونوں عرب قبیلے چار و ناچار بنجر زمینوں پر بس گئے جہاں ان کو قوت لایموت بھی مشکل سے حاصل ہوتا تھا۔ آخر کار ان کے سرداروں میں سیایک شخص اپنے غسانی بھائیوں سے مدد مانگنے کیے لئے شام گیا اور وہاں ایک لشکر لا کر اس نے یہودیوں کا زور توڑ دیا۔ اس طرح اوس و خزرج کو یژب پر پورا غلبہ حاصل ہوگیا۔ یہودیوں کے دو بڑے قبیلے ، بنی نضیر اور بنی قریظہ شہر کے باہر جا کر بسنے پر مجبور ہوگئے۔ تیسرے قبیلے بنی قینقاع کی چونکہ ان دونوں یہودی قبیلوں سے ان بن تھی۔ اس لئے باہر جا کر بسنے پر مجبور ہوگئے۔ تیسرے قبیلے بنی قینقاع کی چونکہ ان دونوں یہودی قبیلوں سے ان بن تھی۔ اس لئے وہ سہر کے اندر ہی مقیم رہا ، مگر یہاں رہنے کے لئے اسے قبیلہ خزرج کی پناہ لینی پڑی اور اس کے مقابلہ میں بنی نضیر و بنی قریظہ نے قبیلہ اوس کی پناہ لی تاکہ اطراف یژب میں امن کے ساتھ رہ سکیں۔
رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے ، آغاز ہجرت تک ، حجاز میں عموماً اور یژب میں خصوصاً یہودیوں کی پوزیشن کے نمایا خدوخال یہ تھے۔
زبان ، لباس تہذیب ، تمدن ہر لحاظ سے انہوں نے پورے طرح عربیت کا رنگ اختیار کرلیا تھا۔ حتیٰ کہ ان کی غالب اکثریت کے نام تک عربی ہوگئے تھے۔ 12 یہودی قبیلے جو حجاز میں آباد ہوئے تھے۔ ان میں سے بنی زعوراء کے سوا کسی قبیلے کا نام عبرانی نہ تھا۔ اس کے چند گئے چنے علماء کے سوا کوئی عبرانی جانتا تک نہ تھا۔ زمانہ جاہلیت کے یہودی شاعروں کا جو کلام ہمیں ملتا ہے ان کی زبان اور خیالات اور مضامین میں شادی بیاہ تک کے تعلقات قائم ہوچکے تھے۔ در حقیقت ان میں اور عام عربوں میں دین کے سوا کوئی فرق باقی نہ رہا تھا۔ لیکن ان ساری باتوں کے باوجود وہ عربوں میں جذب بالکل نہ ہوئے تھے اور نہوں نے شدت کے ساتھ اپنی یہودی عصبیت برقرار رکھی تھی۔ یہ ظاہری عربیت انہوں نے صرف اس لئے اختیار کی تھی کہ اس کے بغیر وہ عرب میں رہ نہ سکتے تھے۔
ان کی اس عربیت کی وجہ سے مغربی مستشرقین کو یہ دھوکا ہوا ہے کہ شاید یہ بنی اسرائیل نہ تھے بلکہ یہودی مذہب قبلو کرنے والے عرب تھے۔ یا کم ازکم ان کی اکثریت عرب یہودیوں پر مشتمل تھی۔ لیکن اس امر کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ملتا کہ یہودیوں نے حجاز میں کبھی کوئی تبلیغی سر گرمی دکھائی ہو یا ان کے علماء نصرانی پادریوں اور مشزیوں کی طرح اہل عرب کو دین یہود کی طرف دعوت دیتے ہوں اس کے برعکس ہم یہ دیکھتے ہی کہ ان کے اندر اسرائلیت کا شدید تعصب اور نسلی فخر و غرور پایا جاتا تھا۔ اہل عرب کو وہ امی (Gentiles) کہتے تھے۔ جس کے معنی صرف ان پڑھ کے نہیں بلکہ وحشی اور جاہل کے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا۔ ان امیوں کو وہ انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ جو اسرائیلیوں کے لیے ہیں اور ان کا مال ہر جائز و ناجائز طریقے سے مار کھانا انہیں دین یہود میں داخل کر کے برابر کا درجہ دیں۔ تاریخہ طور پر اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ نہ روایات عرب میں ایسی کوئی شہادت ملتی ہے کہ کسی عرب قبیلے یا کسی بڑے خاندان نے یہودیت قبول کی ہو۔ البتہ بعض افراد کا ذکر ضرور ملتا ہے جو یہودی ہوگئے تھے۔ ویسے بھی یہودیوں کو تبلیغ دین کے بجائے صر اپنے کاروبار سے دلچسپی تھی۔ اسی لئے حجاز میں یہودیت ایک دین کی حیثیت سے نہیں پھیلی بلکہ محض چندا اسرائیلی قبیلوں کا سرمایہ فخرو ناز ہی بنی رہی۔ البتہ یہودی علاماء نے تعویز ، گنڈوں ، فال گیری اور جادو گری کا کاروبار خوب چمکا رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے عربوں پر ان کے ” علم “ اور ” عمل “ کی دکھاک بیھتھ ہوئی تھی۔
معاشی حیثیت سے ان کی پوزیشن عرب قبائل کی بہ نسبت زیادہ مضبوط تھی۔ چونکہ وہ فلسطین و شام کے زیادہ متمدن علاقوں سے آئے تھے۔ اس لئے وہ بہت سے ایسے فنون جاتے تھے۔ جو اہل عرب میں رائج نہ تھے۔ اور باہر کی دنیا سے ان کے کاروباری تعلقات بھی تھے۔ ان وجوہ سے یژب اور بالائی حجاز میں غلے کی در آمد اور پارچہ بانی کا کام بھی ان کے ہاں ہوتا تھا۔ جگہ جگہ میخانے بھی انہوں نے قائم کر رکھے تھے۔ جہاں شام سے شراب لا کر فروخت کی جاتی تھی۔ بنی قینقاع زیادہ تر سنار ، لوہار اور ظروف سازی کا پیشہ کرتے تھے۔ اس سارے بنج بیوپار میں یہ یہودی بےتحاشا منافع خوری کرتے تھے۔ لیکن ان کا سب سے بڑا کاروبار سود خواری کا تھا۔ جس کے ججال میں انہوں نے گروپیش کی عرب آبادیوں کو پھانس رکھا تھا۔ اور خاص طور پر عرب قبائل کے شیوخ اور سردار ، ج جنہیں قرض لے لے کر ٹھاٹھ جمانے اور شیخی بگارنے کی بیماری لگی ہوئی تھی۔ ان کے پھندے میں پھنسے ہوے تھے۔ یہ بھاری شرح سود پر قرضے دیتے اور پھر سود در سود کا شکر چلاتے تھے۔ جس کی گرفت میں آجانے کے بعد مشکل ہی سے کوئی نکل سکتا تھا۔ اس طرح انہوں نے عربوں کو معاشی حیثیت سے کھوکھلا کر رکھا تھا۔ مگر اس کا فطر نتیجہ یہ بھی تھا کہ عربوں میں بالعموم ان کے خلاف ایک گہری نفرت پائی جاتی تھی۔
ان کے تجارتی اور مالی مفادات کا تقاضہ یہ تھا۔ کہ عربوں میں کسی کے دوست بن کر کسی سے نہ بگاڑیں اور نہ ان کی باہمی لڑائیوں میں حصہ لیں۔ لیکن دوسری طرف ان کے مفاد ہی کا تقاضہ یہ بھی تھا کہ عربوں کو باہم متحد نہ ہونے دیں اور انہیں ایک دوسرے سے لڑاتے رہیں۔ کیونکہ وہ اس بات کو جاتے تھے۔ کہ جب بھی عرب قبیلے باہم متحد ہوئے وہ ان بڑی بڑی جائیدادوں اور باغات اور سر سبز زمینوں پر انہیں قابض نہ رہنے دیں گے۔ جو انہوں نے اپنی منافع خوری اور سود خواری سے پیدا کی تھیں۔ مزید برآں اپنی حفاظت کے لئے ان کے ہر قبیلے کو کسی نہ کسی طاقت ور عرب قبیلے سے حلیفانہ تعلقات بھی قائم کرنے پڑتے تھے۔ تاکہ کوئی دوسرا زبردست قبیلہ ان پر ہاتھ نہ ڈال سکے۔ اس بناء پر بارہا انہیں نہ صرف ان عرب قبائل کی باہمی لڑائیوں میں حصہ لینا پڑتا تھا۔ بلکہ بسا اوقات ایک یہودی قبیلہ اپنے حلیف عرب قبیلہ کے ساتھ مل کر کسی دوسرے یہودی قبیلے کے خلاف جنگ آزما ہوجاتا تھا۔ جس کے حلیفانہ تعلقات فریق مخلف سے ہوتے تھے۔ یژب میں بنی قریظہ اور بنی نضیر اور اس کے حلیف تھے اور بنی قینقاع خزرج کے۔ ہجرت سے تھوڑی مدت پہلے اور خزرج کے درمیان جو خونریز لڑائی بعاث کے مقام پر ہوئی تھی۔ اس میں یہ اپنے اپنے حلیفوں کے ساتی مل کر ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے تھے۔
یہ حالات تھے۔ جب مدینے میں اسلام پہنچا اور بالآخر رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد وہاں ایک اسلامی ریاست وجود میں آئی۔ آپ ﷺ نے اس ریاست کو قائم کرتے ہی جو اولین کام کئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ اوس اور خزرج اور مہاجرین کو ملا کر ایک برادری بنائی اور دوسرا یہ تھا کہ اس مسلم معاشرے اور یہودیوں کے درمیان واضح شرائط پر ایک معاہدہ طے کیا جس میں اس امر کی ضمانت دی گئی تھی کہ کوئی کسی کے حقوق پر دست درازی نہ کرے گا۔ اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں یہ سب متحدہ دفاع کریں گے۔ اس معاہدے کے چند اہم فقرے یہ ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہود اور مسلمانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات میں کن امور کی پابندی قبول کی تھی۔
یہ کہ یہودی اپنا خرش اٹھائیں گے اور مسلمان اپنا خرچ ، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء حملہ آور کے مقابلہ میں ایک دوسرے کی مدد کے پابند ہوں گے اور یہ کہ وہ خلوص کے ساتھی ایک دوسرے کی خیر خوائی کریں گے اور ان کے درمیان نیک و حق رسانی کا تعلق ہوگا نہ کہ گناہ اور زیادتی کا اور یہ کوئی اپنے حلیف کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گا اور یہ کہ مظلوم کی حمایت کی جائے گی اور یہ کہ جب تک جنگ رہے یہودی مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس کے مصارف اٹھائیں گے اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء پر یثرب میں کسی نوعیت کا فتنہ و فساد کرنا حرام ہے اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء کے درمیان اگر کوئی ایسا قضیہ یا اختلاف رونما ہو جس سے فساد کا خطرہ ہو تو اس فیصلہ اللہ کے قانون کے مطابق محمد رسول اللہ ﷺ کریں گے۔ اور یہ کہ قریش اور اس کے حامیوں کو پنایہ دی جائے گی اور یہ کہ یثرب پر جو بھی حملہ آور ہو اس کے مقابلے میں شرکاء معاہدہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ ہر فریق اپنی ججانب کے علاقے کی مدافعت کا ذمہ دار ہوگا۔ (ابن ہشام ، ج : 2)
یہ کہ قطع اور واضح معاہدہ تھا جس کی شرائط یہودیوں نے خود قبول کی تھیں۔ لیکن بہت جلدی انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ روش کا اظہار شروع کردیا اور ان کا عناد روز بروز سخت سے سخت تر ہوتا چلا گیا۔ اس کے بڑے بڑے وجوہ تنا تھے :
ایک یہ کہ رسول اللہ ﷺ کو محضض ایک رئیس قوم دیکھنا چاہتے تھے جو ان کے ساتھ بس ایک سیاسی معاہدہ کر کے رہ جائے اور صرف اپنے گروہ کے دنیوں مفاد سے سروکار رکھے۔ مگر انہوں نے دیکھا کہ آپ ﷺ تو اللہ اور آخرت اور رسالت اور کتاب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں (جس میں خود ان کے اپنے رسولوں اور کتابوں پر ایمان لانا بھی شامل تھا) اور معصیت چھوڑ کر ان کو احکام الٰہی کی اطاعت اختیار کرنے اور ان خلاقی حدود کی پابندی کرنے کی طرف بلا رہے ہیں جن کی طرف خود ان کے انبیاء بھی دنیا کو بلاتے رہے ہیں۔ یہ چیز ان کو سخت ناگوار تھی۔ ان کو خطرہ پیدا ہوگیا کہ یہ عالمگیر اصولی تحریک اگر چل پڑی تو اس کا سیلاب ان کی جامد مذہبیت اور ان کی نسلی قومیت کو بہا لے جائے گا۔
دوسرے یہ کہ اوس و خزرج اور مہاجرین کو بھائی بھائی بنتے دیکھ کر اور یہ دیکھ کر کہ گردوپیش کے عر قبائل میں سے بھی جو لوگ اسلام کی اس دعوت کو قبول کر رہے ہیں وہ سب مدینے کی اس اسلام برادری میں شامل ہو کر ایک ملت بنتے جا رہے ہی انہیں یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ صدیوں سے اپنی سلامتی اور اپنے مفادات کی ترقی کیلئے انہوں نے عرب قبیلوں میں پھوٹ ڈال کر اپنا او سیدھا کرنے کی جو پالیسی اختیار کر رکھی تھی۔ وہ اب اس نئے نظام میں نہ چل سکے گی بلکہ اب ان کو عربوں کی ایک متحدہ طاقت سے سابقہ پیش آئے گا جس کے آگے ان کی چالیس کا میاب نہ ہو سکیں گی۔
تیسرے یہ کہ معاشرے اور تمدن کی جو اصلاح رسول اللہ ﷺ کر رہے تھے۔ اس میں کاروبار اور لین دین کے تمام ناجائز طریقوں کا سدباب شامل تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سود کو بھی آپ ناپاک اور حرام خوری قرار دے رہے تے۔ جس سے انہیں خطرہ تھا کہ اگر عرب پر آپ ﷺ کی فرمانروائی قائم ہوگئی تو آپ ﷺ اسے قانوناً ممنوع کردیں گے۔ اس میں ان کو اپنی موت نظر آتی ہے۔
ان وجوہ سے انہوں نے حضور ﷺ کی مخالفت کو اپنا قومی نصب العین بنا لیا۔ آپ کو زک دینے کے لئے کوئی چال ، کوئی تدبیر اور کوئی ہتھکندڈا استعمال کرنے میں ان کو ذرہ برابر تامل نہ تھا۔ وہ آپ کے خلاف طرح طرح کی جھوٹی باتیں پھیلاتے تھے تاکہ لوگو آپ سے بدگمان ہوجائیں۔ اسلام قبول کرنے والوں کے دلوں میں ہر قسم کے سکوک و سبہات اور وسوسے ڈالتے تے۔ تاکہ وہ اس دین سے برگشتہ ہوجائیں۔ خود جھوٹ موٹ کا اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجاتے تھے۔ تاکہ لوگوں میں اسلام اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف زیادہ سے زیادہ غلط فہمیاں پھیلائی جاسکیں۔ فتنے برپا کرنے کے لئے منافقین سے ساز باز کرتے تھے۔ ہر اس شخص اور گروہ اور قبیلے سے رابطہ پیدا کرتے تھے۔ جو اسلام کا دشمن ہوتا تھا۔ مسلمانوں کے اندر پھوٹ ڈالنے اور ان کو آپس میں لڑا دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے تھے۔ اوس اور خزرج کے لوگ خاص طور پر ان کے ہدف تھے۔ جن سے ان کے مدتہائے دراز کے تعلقات چلے آرہے تھے۔ جنگ بعاث کے تذکرے چھیڑ چھیڑ کر وہ ان کو پرانی دشمنیاں یاد دلانے کی کوشش کرتے تھے۔ تاکہ ان کے درمیان پھر ایک دفعہ تلوار چل جائے اور اخوت کا وہ رشتہ تار تار ہوجائے جس میں اسلام نے ان کو باندھ دیا تھا۔ مسلمانوں کو مالی حیثیت سے تنگ کرنے کے لئے بھی وہ ہر قسم کی دھاندلیاں کرتے تھے۔ جن لوگوں سے ان کا پہلے سے لین دین تھا۔ ان میں سے جو نہی کوئی شخص اسلام قبول کرتا وہ اس کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوجاتے تھے۔ اگر اس سے کچھ لینا ہوتا تو تقاضے کر کے اس کا نام میں دم کردیتے اور اگر اسے کچھ دینا ہوتا تو اس کی رقم مار کھاتے تھے۔ کہ جب ہم نے تم سے معاملہ کیا تھا اس وقت تمہارا دین کچھ اور تھا۔ اب چونکہ تم نے اپنا دین بدل دیا ہے۔ اس لئے ہم پر تمہارا کوئی حق باقی نہیں ہے۔ اس کی متعدد مثالیں تفسیر طبریٰ ، تفسییر فیسا بور ، تفسیر طبروسیٰ اور تفسیر روح المعانی میں سورة آل عمران ، آیت 75 کی تشریح کرتے ہوئے نقل کی گئی ہیں۔
معاہدے کے خلاف یہ کھلی کھلی معاندانہ روش تو جنگ بدر سے پہلے ہی وہ اختیار کرچکے تھے۔ مگر ججب بدر میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو قریش پر فتح مبین حاصل ہوئی تو وہ تلملا اٹھے اور ان کے بغض کی آگ اور زیادہ بھڑک اٹھی اس جنگ سے وہ یہ امید لگائے بیٹے تھے۔ کہ قریش کی طاقت سے ٹکرا کر مسلمانوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس لیے انہوں نے فتح اسلام کی خبر پہنچنے سے پہلے مدینے میں یہ افواہیں اڑانی شروع کردیں تھیں۔ کہ رسول اللہ ﷺ شہد ہوگئے۔ اور مسلمانوں کو شکست فاش ہوئی اور اب ابو جہل کی قیادت میں قریش کا لشکر مدینے کی طرف بڑھا چلا آ رہا ہے۔ لیکن جب نیجہی ان کی امیدوں اور رتمناؤں کے خلاف نکلا تو وہ ٹم اور غصے کے مارے پھٹ پڑے۔ بنی نضیر کا سردار کعب بن اشرف چیخ اٹھا کہ ” خدا کی قسم ! اگر محمد ﷺ نے ان اشراف عرب کو قتل کردیا ہے تو زمین کا پیٹ ہمارے لئے اس کی پیٹھ سے زیادہ بہتر ہے۔ “ پھر وہ مکہ پہنچا اور بدر میں جو سردار ان قریش مارے گئے تھے۔ ان کے نہایت اشتعال انگیز مرثیے کہہ کر مکہ والوں کا انتقام پر اکسایا۔ پھر مدینہ واپس آ کر اس نے اپنے دل کی جلن نکالنے کے لئے ایس غزلیں کہنی شروع کیں جن میں مسلمان شرفاء کی بہو بیٹیوں کے ساتھ اظہار عشق کیا گیا تھا۔ آخر کار اس کی شرارتوں سے تنگ آکر رسول اللہ ﷺ نے ربیع الاول 3 ھ میں محمد بن مسلمہ انصاری کو بھیج کر اسے قتل کرا دیا۔ (ابن سعد ، ابن ہشام ، تاریخ طبریٰ )
یہودیوں کا پہلا قبیلا جس نے اجتماعی طور پر جنگ بدر کے بعد کھلم کھلا اپنا معاہدہ توڑ دیا۔ بنی قینقاع تھا۔ یہ لوگ خود شہر مدینہ کے اندر ایک محلہ میں آباد تھے۔ اور چونکہ یہ سنار ، لوہار اور ظروف ساز تھے اس لئے ان کے بازار میں اہل مدینہ کو کثرت سے جانا آنا پڑتا تھا۔ ان کو اپنی شجاعت پر بڑا ناز تھا۔ آہن گر ہونے وججہ سے ان کا بچہ بچہ مسلح تھا۔ سات سو مردان جنگ ان کے اندر موجود تھے۔ اور ان کو اس بات کا بھی زعم تھا کہ قبیلہ خزرج سے انکے پرانے حلیفانہ تعلقات تھے اور خزرج کا سردار عبداللہ بن ابی ان کا پشیتبان تھا۔ بدر کے واقعہ سے یہ اس قدر مشتعل ہوئے کہ انہوں نے اپنے بازار میں آنے ججانے والوں مسلمانوں کو ستانا اور خاص طور ان کی عورتوں کو چھیڑنا شروع کردیا۔ رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک روز ان کے بازار میں ایک مسلمان عورت کو بر سر عام برہنہ کردیا گیا۔ اس پر سخت جھگڑا ہوا اور ہنگامے میں ایک مسلمان اور ایک یہودی قتل ہوگیا۔ جب حالات اس حد کو پہنچ گئے تو رسول اللہ ﷺ ان کے محلہ میں تشریف لے گئے اور ان کو جمع کر کے آپ نے ان کو راہ راست پر آنے کی تلقین فرمائی۔ مگر انہوں نے جواب دیا۔ ” اے محمد ﷺ ! تم نے شاید ہمیں بھی قریش سمجھا ہے ؟ وہ لڑنا نہیں جانتے تھے۔ اس لئے تم نے انہیں مار لیا ، ہم سے سابقہ پیش آئے گا تو تمہیں معلوم ہوجائے گا۔ کہ مرد کیسے ہوتے ہیں۔ “ یہ گویا صاف صاف اعلان جنگ تھا۔ آخر کار رسول اللہ ﷺ نے شوال (اور بروایت بعض ذی القعدہ) 2 ھ کے آخر میں ان کے محلہ کا محاصرہ کرلیا۔ صرف پندرہ روز ہی یہ محاصرہ رہا تھا۔ کہ انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور ان کے تمام قابل جنگ آدمی باندھ لئے گئے۔ اب عبداللہ بن ابی ان کی حمایت کیلئے اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے سخت اصرار کیا کہ آپ انہیں معاف کردیں۔ چناچہ حضور ﷺ نے اس کی درخوات قبول کر کے یہ فیصلہ فرما دیا کہ بنی قینقاع اپنا سب مال ، اسلحہ ، اور آلات صنعت چھوڑ کر مدینہ سے نکل جائیں۔ (ابن سعد ، ابن ہشام ، تاریخ طبریٰ )
ان دو سخت اقدامات (یعنی بنی قینقاع کے اخراج اور کعب بن اشرف کے قتل) سے کچھ مدت تک یہودی اتنے خوف زدہ رہے کہ انہیں کوئی مزید شرارت کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ مگر اس کے بعد شوال 3 ھ قریش کے لوگ جنگ بدر کا بدلہ لینے کے لئے بڑی تیاریوں کے ساتھ مدینہ پر چڑھ کر آئے اور ان یہودیوں نے دیکھا کہ قریش کی تین ہزار فوج کے مقابلہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف ایک ہزار آدمی لڑنے کے لئے نکلے ہیں اور ان میں سے بھی تین سو منافقین الگ ہو کر پلٹ آئے ہیں تو انہوں نے معاہدے کی پہلی اور صریح تھے۔ پھر جب معرکہ احد میں مسلمانوں کو نقصان عظیم پہنچا تو ان کی جراتیں اور بڑھ گئیں۔ یہاں تک کہ بنی نضیر نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے لے لئے ایک باقاعدہ سازش کی جو عین وقت پر ناکام ہوگئی۔ اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ بئر معونہ کے سانحہ (صفر 4) کے بعد عمرو بن امیہ ضمری نے انتقامی کاروائی کے طور پر غلطی سے بنی عامر کے دو آدمیوں کو قتل کردیا جو در اصل ایک معاہد قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ مگر عمرو نے ان کو دشمن قبیلہ کے آدمی سمجھ لیا تھا۔ اس غلطی کی وجہ سے ان کو کون بہا مسلمانوں پر واجب آگیا تھا۔ اور چونکہ بنی عامر کے ساتھ معاہدے میں بنی نضیر بھی شریک تھے۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ چند صحابہ کے ساتھ خود ان کی بستی میں تشریف لے گئے تاکہ خون بہا کی ادائگی میں ان کو بھی شرکت کی دعوت دیں۔ وہاں انہوں نے آپ کو چکنی چپڑی باتوں میں لگایا اور اندر ہی اندر یہ سازش کی کہ ایک شخص اس مکان کی چھت پر سے آپ کے اوپر ایک بھاری پتھر گرادے گا جس کی دیوار کے سائے میں آپ ﷺ تشریف فرما تھے۔ مگر قبل اس کے کہ وہ اپنی اس تدبیر پر عمل کرتے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بروقت خبردار کردیا اور آپ ﷺ فوراً وہاں سے اٹھ کر مدینہ واپس تشریف لے آئے۔
اب ان کے ساتھ کسی رعایت کا سوال باقی نہ رہا۔ حضور ﷺ نے ان کو بلا تاخیر یہ الٹی میٹم بھیج دیا کہ تم نے جو غداری کرنی چاہی تھی۔ وہ میرے علم میں آگئی ہے۔ لہٰذا دس دن کے اندر مدینہ سے نکل جاؤ اس کے بعد اگر تم یہاں ٹھہرے رہے تو جو شخص بھی تمہاری بستی میں پایا جائے گا اس کی گردن اتار دی جائے گی۔ دوسری طرف عبداللہ بن ابی نے ان کو پیغام بھیجا کہ میں دو ہزار آدمیوں سے تمہاری مدد کروں گا اور بنی قریظہ اور بنی غطفان بھی تماہر مدد کو آئی گے۔ تم ڈٹ جاؤ اور ہرگز اپنی جگہ نہ چھوڑو۔ اس جھوٹے بھروسے پہ انہوں نے حضور ﷺ کے الٹی میٹم کا یہ جواب دیا کہ ہم یہاں سے نہیں نکلیں گے۔ آپ سے جو کچھ ہو سکے کرلیجئے۔ اس پر ربیع الاول 4 ھ میں رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کرلیا ، اور صرف چند روز کے محاصرہ کے بعد (جس کی مدت بعض رعایات میں چھ دن اور بعض میں پندرہ دن آتی ہے) وہ اس شرط پر مدینہ چھوڑ دینے کے لئے راضی ہوگئے کہ اسلحہ کے سوا جو کچھ وہ اپنے اونٹوں پر لاد کرلے ججا سکیں گے لے جائیں گے۔ اس طرح یہودیوں کے اس دوسرے شریر قبے لل سے مدینہ کی سرزمین خالی کرائی گئی۔ ان میں سے صرف دو آدمی مسلمان ہو کر یہاں ٹھہر گئے۔ باقی شام اور خیبر کی طرف نکل گئے۔
Ayah 3:113اہل کتاب یعنی یہود ہی کے اندر اللہ کے نیک بندے بھی تھے جو رحمت الٰہی کے مستحق ٹھہرے :
219 : دین اسلام کا یہ سب سے بڑا کمال ہے کہ وہ ہر سچائی تسلیم کرتا ہے۔ اور برملا اور اعلانہ کرتا ہے دوسرے ادیان کی طرح ضد اور ہٹ دھرمی نام کی کوئی شے اس میں موجود نہیں۔ کاش کہ اس کے ماننے والے بھی آج اس نکتہ کو ذہن نشین رکھتے۔ گروہ یہود کی مختصر تاریخ آپ پڑھ چکے بلا شبہ من حثا القوم ان کی اکثریت شرارتی تھی اس لئے اوپر جو کچھ ذکر ہوا وہ ان کی اکثریت کا ذکر تھا باقی ان میں سے بعض بعض حق شناس اور انصاف دوست بھی تھے۔ اور وہ بالآخر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ اس لئے قرآن کریم نے بھی ان کی تعریف فرمائی اور ان کے اچھ اعمال و اخلاق کا ذکر واضح الفاظ میں کردیا۔ اسلام نے صرف ذکر ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے ناموں تک کو محفوظ رکھا اور دنیا کو بتا دیا کہ اگر میں بروں کی برائی کو بیان کرتا ہوں تو اس قوم کے نیکوں کی نت کی کو بھی نہیں چھپاتا۔ چناچہ عبداللہ ؓ بن سلام۔ ثعلبہ ؓ بن سعید۔ اسید ؓ بن سعید اور اسد ؓ بن عبید وغیرہم کے نام آج بھی کتب احادیث اور تفاسیر میں موجود ہیں۔
قرآن کریم کے اس مقام پر جو ان کی صفات بیان کی گئیں وہ بالکل وہی ہیں جن کو اختیار کر کے انسان اللہ کا ایک نیک اور فرمانبردار بندہ بن سکتا ہے۔ فرمایا ” امۃُ قائمَۃ “ ان میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو راہ ہدایت پر قائم ہے۔ ان کا یہ پہلا وصف جو قرآن کریم نے بیان کیا یسا وصف ہے جس نے ان کے ظاہر و باطن دونوں کی پوری پوری وضاحت کردی کہ وہ ایسے مخلص لوگ ہی کہ ان کے اخلاص کو شک کی نگاہ سے کبھی نہیں دیکھا جاسکتا۔ ان کا دوسرا وصف اس طرح بیان کیا کہ ” یَتلون اٰ یاتِ اللہِ انائَ الیلِ “ وہ راتوں کو اٹھ کر اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں۔ سبحان اللہ ! کیا اعجاز قرآنی ہے کہ الفاظ بالکل مختصر اور مضمون اتنا بڑا کہ اس کو کھولنا شروع کردیا جائے تو وہ کھلتا ہی چلا جائے اور کبھی ختم ہونے میں نہ آئے گویا پورے دریا کو کو زے میں بند کردیا۔ اللہ کی ایتوں کی تلاوت جب اور جس وقت بھی کی جائے وہ ایک نہایت ہی اچھا کام ہے۔ لیکن ایسے وقت میں جب لوگ میٹھی نیند میں سوئے ہوئے ہوں کوئی اللہ کا بندہ جاگ کر اور ہر ایک سے الگ تھلک ہو کر جب ان آیات کی تلاوت کر گا گویا وہ براہ رست اللہ سے ہم کلام ہوجائے گا اور اس طرح جو مضامین اس کے ذہن میں اتریں گے وہ دن کے شورو غوغا میں کب اتر سکتے ہیں اور کسی چیز کے پڑھنے کا حق کیا ہے ؟ یہی کہ وہ دل و دماغ میں اتر جائے تاکہ روح کو اپیئ غذا ھاصل ہو اور جس طرح جسم غذا کھانے سے تو تازہ ہوتا ہے اسی طرح روح کو بھی تازگی میسر آئے پھر فرمایا ان پر اللہ کی کتاب کی آیات پڑھنے کا اثر یو ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ” للہ تعالیٰ کے حضور سر بسجود رہتے ہیں۔ “ یعنی ان کی فرمانبرداری کا شروع قیام پر ہوتا ہے تو اخیر بارگاہ رب ذوالجلال کی سجدہ ریزی سے ہوتی ہے۔ اور یہ سارے کام وہ تب ہی انجام دے رہے ہیں جب کہ ان کے دل ایمان سے لبریز اور ان کی جانیں مشرف بہ اسلام ہوچکی ہیں۔
Ayah 3:114ان اہل کتاب کے نیک لوگوں کے مزید اوصاف بیان کئے جا رہے ہیں :
220 : اہل کتاب یعنی یہود کی جماعت سے جن لوگوں نے دعوت اسلام قبول کرلی ان کے دوسرے اوصاف سے قرآن کریم کی شہادت اس طرح قائم ہوئی فرمایا ” وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں یہ لوگ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور بھلائی کے تمام کاموں میں تیز گام ہیں۔ اور بلاشبہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں۔ جو نیک کردار ہیں۔ “ ان کے اوصاف و خصوصیات اس جگہ کسی جامعیت و اعجاز کے ساتھ ارشاد فرما دیئے گئے ہیں۔ اس آیت میں ان کے متعلق پہلی بات یہ بتائی کہ وہ ایمان میں کامل ہوں گے۔ اور جو کچھ بھی خرچ کریں گے مقصد صحیح کے ساتھ اور راہ حق میں کریں گے۔ دوسری بات یہ بتائی کہ وہ لوگ نہ صرف خود ہی ایجابی و سلبی ہر حیثیت سے اکالق اور پاکیزہ کرداری کے پتلے ہوں گے بلکہ دوسروں کو بھی اس رہا پر لائیں گے اور لگائیں گے اور نیکیوں کی طرف دلی شوق ورغبت کے ساتھ بڑھیں گے۔ ” یسارعون فی الخیرات “ کے جملہ نے کیا وضاحت فرما دی ؟ کہ وہ نیکیوں کی طرف بد دلی اور بد شوقی کے ساتھ گویا ہور اور تھک کر نہیں بلکہ بڑے شوق و اشتیاق ، چاؤ اور رغبت کے ساتھ لپکتے ہیں اس لئے لازم و ضروری ہے کہ یہ لوگ نیکو کار بھی ہیں اور نیکو کار لوگوں کے ساتھ بھی۔
Ayah 3:115ان لوگوں نے جو نیک اعمال کئے ہیں ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی :
221: فرمایا یہ خیال نہ کرو کہ کوئی متقی اللہ تعالیٰ کے علم میں آجانے سے رہ جائے گا۔ یہ ممکن نہیں ہو سکتا پھر یہاں غیر قوموں کے عقائد کی تردید کے لئے اس جملہ کا اضافہ فرما دیا کہ ” فَاِن یَکفُر وہ “ یعنی کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ جن لوگوں کا ماضی خراب رہ چکا ہے تو اب ان کے نجات و مغفرت کی امید کیسے ہو سکتی ہے ؟ اور اب ان کے ایمان و حسن عمل سے حاصل کیا ؟ یہ اس لئے فرما دیا کہ دوسرے مذاہ بےای سے ہی عقائد گھڑ رکھے تھے اس لئے یہ تنبیہ ضروری تھی۔ یا کفر بمقابلہ شکر بھی ہو سکتا ہے۔ چونکہ پہلی دو آیات میں کامل صالحین کا نقشہ کھینچا گیا تھا اس لئے اب بتایا جا رہا ہے کہ ان میں سے ہر ایک اگر اس کمال کو حاصل نہ بھی کرسکے تو جنتی بھی نیکی کرے گا اس کی بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر و قیمت ہے۔ اس کی ناقدری ہرگز کبھی نہیں کی جائے گی۔ اس مضمون کی مزید تشریح قرآن کریم میں دوسرے مقامت پر کردی گئی ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
وَ اِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰہِ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِکَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ (ال عمران 3:199)
اور یقینا اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ تم پر نازل ہوا ہے اور جو کچھ ان پر نازل ہوچکا ہے سب کے لئے ان کے دل میں یقین ہے۔ نیز ان کے دل اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔ وہ ایسا نہیں کرتے کہ اللہ کی آیتیں تھوڑے داموں پر فروخت کر ڈالیں۔ تو بلا شبہ ایسے لوگوں کے لیے کوئی کٹکا نہیں ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لیے ان کے پروردگار کے حضور ان کا اجر ہے یقینا اللہ کا قانون مکانات اعمال کے حساب سے ست رفتار نہیں۔ “ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِہٖ ھُمْ بِہٖ یُؤْمِنُوْنَ وَ اِذَا یُتْلٰی عَلَیْھِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِہٖٓ اِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلِہٖ مُسْلِمِیْنَ اُولٰٓئِکَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَھُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَئُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْہُ وَ قَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَ لَکُمْ اَعْمَالُکُمْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ لَا نَبْتَغِی الْجٰھِلِیْنَ (القصص 28:52 تا 55)
” جن لوگوں کو اس سے پہلے ہم نے کتاب دی تھی وہ اس قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں اور جب یہ ان کو سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کم ہم اس پر ایمان لائے۔ یہ واقعی حق ہے۔ ہمارے رب کی طرف سے ، ہم تو پہلے ہی سے مسلم ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا اس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی ۔ وہ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں۔ اور جو کچھ رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہوگئے کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے تم کو سلام ہے ہم جاہلوں کا سا طریق اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ “
اہل کتاب ہی کے لوگوں کے متعلق ارشاد الٰہی ہے کہ ” ہم بہ یومنون “ کہ وہ قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں۔ بلاشبہ اس سے یہ امراد نہیں کہ تمام اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ اس پر ایمان لاتے ہیں بلکہ یہ اشارہ درا صل اس واقعہ کی طرف ہے جو سورة قصص کے نزول کے زمانہ میں پیش آیا تھا۔ اور اس سے اہل مکہ کو شرم دلائی مقصود ہے کہ تم اپنے گھر آئی ہوئی نعمت کو ٹھکرا رہے ہو جبکہ دور دور کے لوگ اس کی خبر سن کر آرہے ہیں اور اس کی قدر پہچان کر اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
اس واقعہ کو بیہقی وغیرہ نے محمد بن اسحٰق کے حوالہ سے اس طرح روایت کیا ہے کہ ہجرت حبشہ کے بعد جب نبی کریم ﷺ کی بعثت اور دعوت کی خبریں حبش کے ملک میں پھیلیں تو وہاں سے غالباً بیس کے قریب عسائیوں کا ایک وفد تحقیق حال کے لئے مکہ مکرمہ آیا اور نبی کریم ﷺ سے مسجد حرام میں ملا۔ قریش کے بہت سے لوگ بھی یہ ماجرا دیکھ رہے تھے۔ وہ قریب آکر ان لوگوں کے ارد گرد کھڑے ہوگئے۔ وفد کے لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے کچھ سوال کئے جن کا آپ ﷺ نے جواب دیا۔ پھر آپ ﷺ نے ان کو اسلام کی طرف دعوت دی اور قرآن کریم کی آیات ان کے سامنے پڑھیں۔ قرآن کریم کی تلاوت سن کر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ اور انہوں نے اس کے کتاب اللہ ہونے کی تصدیق کی اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے۔ جب مجلس برخاست ہوئی تو ابو جہل اور اس کے چند شاتھیوں نے ان لوگوں کو راستے میں جا لیا اور انہیں سخت ملامت کی کہ تم ” بڑے نامراد ہو “ تمہارے ہم مذہب لوگوں نے تم کو اس لئے بھیجا تھا کہ تم اس شخص کے حالات کی تحیقیق کر کے اور انہیں ٹھیک ٹھیک خبر دو ۔ مگر تم ابھی اس کے پاس بیٹھے ہی تھے کہ اپنا دینم چھوڑ کر اس پر ایمان لے آئے۔ تم سے زیادہ احمق گروہ ہماری نظر سے نہیں گذرا۔ “ اس پر نہوں نے جواب دیا کہ سلام ہے بھائیو ! تم پر ! ہم تمہارے ساتھ جہالت بازی نہیں کرسکتے۔ ہمیں ہمارے طریقے پر چلنے دو اور تم اپنے طریقے پر چلتے رہو ہم اپنے آپ کو جان بوجھ کر بھلائی سے محروم نہیں رکھ سکتے۔
اس سورة قصص کی آیت میں اہل کتاب کے ان نیک کتاب کے ان نیک و برگزیدہ لوگوں کی طرف جو یہ جملہ قرآن کریم میں آیا ہے کہ ” اِنا کنا مِن قَبلِہ مُسلَمین “ علمائے اہل اسلام اور مفسرین حضرات کے ہاں یہ بحث موضوع رہ چکا ہے اور اس پر صفحات کے صفحات تحریر کئے گئے ہیں۔ اور بڑے بڑے اہل علم بھی اس حقیقت کے ادراک سے عاجز رہ گئے ہیں۔ علامہ سیوطی (علیہ السلام) نے بھی ایک مفصل کتاب اس موضوع پر لکھی کہ ” مسلم “ کی اصطلاح صرف امت محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے خاص ہے۔ پھر جب یہ آیت سامنے آئی تو وہ خود فرماتے ہیں کہ ” میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور میں ششدر رہ گیا اور میں اللہ سے دعائیں کرتا رہا کہ اس کا مفہوم میرے ذہن میں ڈال دے اور شرح صدر عطا فرما “ اور پھر اس آیت کی متعدد تعبیریں بھی کیں جن کی تفصیل بہت لمبی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم صرف اس ایک جگہ نہیں بلکہ بیسیوں سے بھی متجاوز مقامات پر اس اصولی حقیقت کو بیان کرتا آیا ہے کہ اصل دین صرف ” اسلام “ یعنی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے لئے اس کے سوا کوئی دوسرا دین نہیں ہو سکتا تھا۔ اور نہ ہوا اور آغاز آفرنیش سے جو نبی بھی انسانوں کی ہدایت کے لئے آیا ہے وہ یہی دین لے کر آیا ہے۔ اور سارے انبیاء کرام خود مسلم تھے۔ اور اپنے پیروؤ کو انہوں نے مسلم ہی بن کر رہنے کی تاکید کی ہے اور ان کے وہ سارے متبعین جنہوں نے نبوت کے ذریعہ سے آئے ہوئے فرمان الٰہی کے آگے سر تسلیم خم کیا ہر زمانے میں ہی تھے۔ اس کی تفصیل اس سورة آل عمران کی آیت 19 کے تحت گزر چکی ہے جہاں ” اَن الدین عِند اللہ الاسلام “ کے الفاظ آئے ہیں وہاں ملاحظہ کریں اور ایک بات یاد رکھیں کہ یہ بات آج کل کی ” جماعت المسلمین “ میں پائی ہی نہیں جاتی کیونکہ وہ تو کسی دوسرے کو ” مسلم “ تسلیم ہی نہیں کرتے بلکہ انہوں نے تو اسلام کا دارہ اتنا تنگ کردیا ہے کہ کوئی ” مسلم “ مسلم ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ کراچی کے ایک مسعود احمد کے ہاتھ بیت نہ کرے۔
اس آیت کی مزید تفصیل اس کے اپنے مقام یعنی سورة قصص پر ہوگی۔ انشاء اللہ
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
قُلْ اٰمِنُوْا بِہٖٓ اَوْ لَاتُؤْمِنُوْا اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہٖٓ اِذَا یُتْلٰی عَلَیْھِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْکُوْنَ وَ یَزِیْدُھُمْ خُشُوْعًا (بنی اسرائیل :17 ، 107 ، 109)
” اے پیغمبر اسلام ! ان لوگوں سے کہہ دے کہ تم قرآن کریم کو کلام الٰہی مانو یا نہ مانو لیکن جن لوگوں کو پچھلی کتابوں کا علم دیا گیا ہے یعنی اہل کتاب انہیں جب یہ کلام سنایا جاتا ہے تو وہ بےاختیار سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں کہ ہمارے پروردگار کے لے پاکیزگی ہو بلا شبہ ہمارے کا وعدہ اس لئے تھا کہ پورا ہو کر رہے۔ “
وَ اِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰھِدِیْن وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَا جَآئَ نَا مِنَ الْحَقِّ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْن (المائد 5: 83 ، 84)
” اور جب یہ عیسائی وہ کلام سنتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے رسول پر نازل ہوا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھیں جوش گریہ سے بہنے لگتی ہیں کیونکہ انہوں نے اس کلام کی سچائی پہچان لی ہے وہ بےاختیار بول اٹھتے ہیں کہ خدایا ہم اس کلام پر ایمان لائے پس ہمیں بھی انہیں میں سے لکھ لے جو تیری سچائی کو گوہی دینے والے ہیں۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ پر اور اس کلام پر جو سچائی کے ساتھ ہمارے پاس آیا ہے ایمان نہ لائیں اور اللہ سے اس کی توقع رکھیں کہ وہ ہمیں نیک کردار انسانوں کے گروہ میں داخل کر دے ؟ “
Ayah 3:116کفر کی راہ اختیار کرنے والوں کے کام نہ دولت آئے گی اور نہ اولاد :
222 : کفار کون ہیں ؟ وہی جنہوں نے نہ صرف اللہ تعالیٰ کی سچائیوں کو جھٹلایا بلکہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اس طرح جو روش انہوں نے اختیار کی اسی پر ان کا اختتام ہوگیا۔ یہیں وہ لوگ ہیں جو ابدی دوزخ کے مستحق ہوگئے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ” خلودنار “ کی سزا صرف کافروں کے لئے ہے گنہگار مومنوں کے لئے نہیں فرمایا گیا کہ ” نہ تو مال و دولت کی طاقت انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے گی اور نہ ہی آل و اولاد کی کثرت ہی ان کے کچھ کام آئے گی “ یعنی یہ نہیں ہوگا کہ مال کو بطور کفارہ یا توبہ پیش کر کے نجات حاصل کرلی جائے۔ یہود کے جو غلط سلط عقیدے اس باب میں ہوچکے تھے ان سب کو بند کردیا اور اس کا تفصیلی تذکرہ تفسیر عروۃ الوثقیٰ جلد اور سورة البقرہ آیت 42 سے 62 تک آپ پڑھ چکے ہیں۔ بہت سی قوموں میں یہ عقیدہ آج بھی پایا جاتا ہے کہ اولاد والدین کی بخشش کا باعث ہے چناچہ ہندوؤں اور جینیوں میں یہ گمراہی خاص طور پر بڑھی ہوئی ہے کہ لڑکا ہی مرے ہوئے باپ کو پانی دے دے کر عذاب سے چھڑا سکتا ہے۔ منو جی کا یہ قول ان کی کتابوں میں اکثر پڑھا اور دیکھا گیا ہے کہ بیٹے کو سنسکرت میں ” پتر “ کہتے ہی اس لئے ہیں کہ وہ باپ کو ” پت “ یعنی دوزخ سے چھڑا لاتا ہے۔ اور یہ فاتحہ و درود کے نظریے اس راستہ سے اسلام میں بھی گھس آئے ہیں۔ قرآن کریم نے اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ مال و اولاد مرنے والوں کے کچھ کام آنے والی شے نہیں یہ سب کی سب دنیوں زندگی کی ہوا ہے بس ! چناچہ قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے کہ :
لَنْ تَنْفَعَکُمْ اَرْحَامُکُمْ وَلاَ اَوْلاَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ” قیامت کے دن نہ تمہارے رشتہ دار ہی تمہارے کچھ کام آئیں گے اور ہی اولاد کچھ کام آئے گی۔ “ ایک جگہ اور ارشاد ہوا :
یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ مَالٌ وَّلاَ بَنُوْن ” وہ دن کہ نہ ان کو فائدہ دے گا اور نہ ہی اولاد۔ “ ایک جگہ ارشاد ہوا :
وَ مَآ اَمْوَالُکُمْ وَ لَآ اَوْلَادُکُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُکُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓی اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ” یہ تمہاری دولت اور تمہاری اولاد نہیں ہے جو تمہیں ہم سے قریب کرتی ہو۔ ہاں مگر جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ “ یعنی اللہ کے قریب کرنے والی چیز مال اور اولاد نہیں ہے بلکہ ایمان و عمل صالح ہے۔
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہوا کہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہونے والے اس طرح پکار پکار کر کہیں گے کہ :
مَآ اَغْنٰی عَنِّیْ مَالِیَہْ ہَلَکَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَہْ (الحاقہ 69: 28 ، 29) ” کہ افسوس میرا مال بھی میرے کچھ کام نہ آیا مجھ سے میری حکومت بھی جاتی رہی۔ “ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہوا کہ :
فَاِِذَا جَآئَ تِ الصَّآخَّۃُ یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ (عبس 80:33 ، 36)
” پھر جب کان بہرے کردینے عالی ، شور بپا کرنے والی آئے گی یعنی قیامت۔ اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا اور اپنی ماں اور باُ سے بھاگے گا اور اپنی بیوٰ اور بچوں سے بھی گریزاں ہوگا۔ “ ایک جگہ اور ارشاد ہوا کہ :
مَآ اَغْنٰی عَنْہُ مَالُہٗ وَمَا کَسَبَ ” اس کا مال اور اس کی کمائی اس کے کچھ کام نہ آئی۔ “
Ayah 3:117دنیوی زندگی کی ہُو ہوا کے لئے خرچ کئے گئے مال کی قرآنی مثال :
223 : پچھلی آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ ان لوگوں کے مال و اولاد جن کے فخر پر وہ تخریب اسلام کے درپے ہیں ان کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گے یہاں ان کی ان کوششوں کا انجام ایک مثال کے رنگ میں سمجھایا ہے اور ان کے مال خرچ کرنے کو ” مایُنفقون فی ھذہ الدنیا “ قراردیا کہ یہ لوگ مال خرچ کرتے بھی ہیں تو دنیا کی زندگی کے لئے کہ اچھی عزت مل جائے اچھا عہدہ ھاصل ہو ، لوگ خوش ہوں ، نام و نمود ہو ، ناک رہ جائے اور واہ واہ ہوجائے اس طرح سے خرچ کئے گئے مال کی مثال اس طرح بیان فرمائی کہ گویا ایک کھیتی ہے جس ہر یا ولی کو سردی کی شدت نے دبا لیا یا سخت گرمی نے اس کو جھلس کر رکھ دیا یا تند ہوا نے اس کو اکھاڑ پھیکا جس سے وہ تباہ و برباد ہو کر رہ گئی اور پھر اس تباہی کے بعد ان کے ہاتھ میں سوائے حسرت اور ندامت کے کچھ نہ آیا اور آخر پر فرمیا کہ ان کی کوششوں کی ناکامی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم کے طور پر نہیں بلکہ ان کے اعمال کے نتیجہ میں ظاہر ہوئی اس لئے کہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کے مرتکب ہوئے۔ کیونکہ بجائے نیکی اور تئید حق کے اپنے اموال کو معصیت اور تخریب حق پر خرچ کیا اس لئے اس اس سزا کے مستحق ٹھہرے اور اپنے ساتھ دوسروں کے لئے بھی وبال جان بن گئے کہ متاثر صرف ان کی ذات ہی نہ ہوئی بلکہ لواحق بھی ہوئے۔
زیر نظر آیت میں لفظ ” صر “ آیا ہے اور ” صر “ سخت ٹھنڈی چیز کو بھی کہتے ہیں جس میں پالا۔ برف اور اولے ہوں۔ اور ” صر “ نہایت سخت لو پر بھی بولا جاتا ہے جس سے نباتات جل بھن کر رہ جاتی ہوں اور اس تندو تیز آندھی پر بھی بولا جاتا ہے جس سے فصلیں تباہ و برباد ہوجاتی ہیں۔ اور اس کے اصل معنی ” خوب کس کر باندھنے کے ہیں۔ “ اور اس سے ” اصرار “ کا لفظ بنا ہے اور ” صرۃ “ اس تھیلی کو کہتے ہیں جس میں روپے رکھ کر اوپر سے اس کا منہ کس کر باندھ دیا جاتا ہے۔
اس طرح نام و نمود اور دکھاوے کے لئے خرچ کئے گئے۔ مال و دولت کی مثالیں اور بھی قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں۔ ایک جگہ اور بھی ارشاد ہوا ہے کہ :
مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ اَعْمَالُھُمْ کَرَمَادِ نِ اشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا کَسَبُوْا عَلٰی شَیْئٍ ذٰلِکَ ھُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْد (ابراہیم 4: 18)
” جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا تو ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے راکھ کا ڈھیر کہ آندھی کے دن ہوا اس کو لے اڑے جو کچھ انہوں نے اپنے اعمال کے ذریعے کمایا ہے اس میں سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہ آئے گا۔ یہی گمراہی کی حالت ہے جو بڑی ہی کہری کمراہی ہے۔ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہوا کہ :
وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَعْمَالُہُمْ کَسَرَابٍم بِقِیعَۃٍ یَّحْسَبُہُ الظَّمْاٰنُ مَآئً حَتّٰی۔ ٓ اِِذَا جَآئَہ ‘ لَمْ یَجِدْہُ شَئًاہی وَّوَجَدَ اللّٰہَ عِنْدَہٗ فَوَفّٰہُ حِسَابَہٗ وَاللّٰہُ سَرِیعُ الْحِسَابِ (النور 64: 39)
” جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسے ہے جیسے دشت بےآب کہ پیاسا اس کو پانی سمجھے ہوئے تھا۔ مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا بلکہ اس نے وہاں اللہ کو موجود پایا جس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا۔ اور اللہ کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ “ ایک جگہ اور ارشاد فرمایا کہ :
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَسَیُنْفِقُوْنَھَا ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْھِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی جَھَنَّمَ یُحْشَرُوْن (الانفال 8:36)
” جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے وہ اپنا مال اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکیں تو یہ لوگ آئندہ بھی اسی طرح خرچ کریں گے لیکن انجام کار ان کے لئے سراسر پچھتاوا ہوگا اور پھر بالآخر مغلوب کئے جائیں اور یاد رکھو جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی وہ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے۔ “
مزید تفصیل کے لئے دیکھئے عروۃ الوثقیٰ جلد اول تفسیر سورة بقرہ آیت 264