3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 3:160

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی نہیں جو تم پر غالب آسکے لیکن اگر وہی تمہیں چھوڑ دے توبتلاؤ کون ہے جو تمہارا مددگار ہوسکتا ہے ؟ صرف اللہ ہی کی ذات ہے پس جو مومن ہیں وہ اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں

مسلمانوں کو ہدایت کہ اگر تم اللہ کے ہو جائو اور اللہ تمہارا ہوجائے ، پھر کا ہے کا غم : اب مسلمانون کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ اے مسلمانو ! اگر تم اللہ کے ہوگئے تو اللہ یقینا تمہاری مدد کرے گا اور اگر وہ تمہارا مدد گار ہو تو پھر تم پر کون غلبہ پانے والا ہے ؟ یعنی کوئی بھی تم پر غلبہ نہیں پا سکے گا کیونکہ جو مدد الٰہی کو حاصل کرلے وہ کسی سے مغلوب ہو ہی نہیں سکتا ورنہ اللہ کا واجز اور کمزور ہونا لازم آئے گا اور یہ قطعاََ محال ہے۔ آج فی زماننا مسلمانوں کو اپنا تجزیہ کرنا ضروری اور لازمی ہے کہ وہ دنیا میں کس پہلوپر غالب ہے اور کس پر مغلوب۔ اور مغلوب ہے تو کیسے ؟ اور کیوں ؟ اور پھر اس سے کیا لازم آتا ہے کیا ہم وہ نہیں رہے جو ہم کو ہنا چایئے تھا یا اللہ وہ نہیں رہا ۔ فیصلہ خود کرلیں۔ لیکن یقینافیصلہ آپ کا بھی یہی ہوگا کہ ہم ہی وہ نہیں رہے جو ہم کو نا چاہئے تھا ورنہ وعدئہ الٰہی کبھی غلط اور خلاف واقعہ نہیں ہوتا۔ اور پھر فرمایا کہ اللہ ہی تم کو بےمدد چھڑ دے اور اپنی مدد کو تم سے روک لے تو پھر کون تمہاری مدد کرسکتا ہے یعنی کوئی تمہاری مدد نہیں کرسکتا کیونکہ بندوں کے تمام افعال اللہ ہی کے پیدا کردہ ہیں اس لئے اگر وہ بےمدد چھوڑ دے تو پھر کسی سے مدد کا تصور بھی نہیں ہو سکتا۔ مِنْ بَعْدِہٖ یعنی اس کی مدد کے بعد یا یہ مطلب ہے کہ جب تم نے اللہ سے مدد کی طلب چھوڑ دی تو کسی دوسرے سے مدد کا تصور ممکن ہی نہیں گویا اس آیت کریمہ میں توکل کے عقلی وجوب کو دلیل سے ثابت کیا ہے پھر فرمایا کہ اگر توکل کے معیھ سمجھ لیے ہیں تو پھر اہل ایمان کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے کیونکہ وہ جانتے ہیں اور یقین بھی رکھتے ہیں کہ اللہ کے سوا ان کا کوئی مدد گا نہیں۔ اس آیت کے مضمون پر محیط قرآن کریم میں بیشمار آیات اور بھی موجود ہیں جو مسلمانوں کو پکار پکار کر کہ رہی ہیں کہ غیر اللہ پر بھروسہ ترک کر کے اللہ اور صرف اللہ پر بھروسہ کرو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا صرف اور صرف اس کو سمجھو۔ ان راہوں پر چلو جو اس نے تمہارے لئے مقرر کردی ہیں اور ان راہوں کو بالکل ختم کر دو جن راہوں پر چلنے سے اس نے منع فرمایا ہے اگر تم اللہ کے ہوگئے تو وہ تقیناََ تمہارا ہوجائے گا اور جس کا اللہ ہو گایا اس کو کس کا ڈر اور کس کا خوف ہے ؟ اس لئے کہ اللہ کا ڈر اختیار کرنے والا دنیا ومافیہا سے نڈر ہوجاتا ہے جنانچہ قرآن کریم میں دورسری جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ : قُلْ اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ہَلْ ہُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہٖٓ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَۃٍ ہَلْ ہُنَّ مُمْسِکٰتُ رَحْمَتِہٖ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ عَلَیْہِ یَتَوَکَّلُ الْمُتَوَکِّلُوْنَ (الزمر : 38:39) ” اے پغیمبر اسلام ! آپ ان سے پوچھئے کہ بھلا بتائو کہ جن کی تم اللہ کے سوا پر ستش کرتے ہو اگر اللہ مجھے تکلیف دینا چاہے۔ یعنی اپنے قانون مشیت کے مطابق تو کیا وہ اسی کی دی ہوئی تکلیف دور کرسکتے ہیں یا اللہ مجھ پر اپنے قانون مشیت کے مطابق مہر بانی فرمانا چاہے تو کیا اس کی عنایت کو وہ روک سکتے ہیں ۔ پھر ان سے کہ دیجیئے کہ میرے لئے تو بس اللہ کافی ہے اور اس پر بھروسہ کرنے والے بھروسہ کرتے ہیں۔ “ مطلب یہ ہے کہ مومن متوکل نہ کافروں سے ڈرتے ہیں اور نہ ان کے معبودان باطل سے خواہ وہ کوئی ہوں۔ ایک جگہ ارشادالٰہی ہے کہ : مَا یَفْتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَۃٍ فَلَا مُمْسِکَ لَھَا وَ مَا یُمْسِکْ فَلَا مُرْسِلَ لَہٗ مِنْم بَعْدِہٖ وَ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (فاطر : 2:35) ” اللہ جس رحمت کا دروازہ بھی لوگوں کے لئے کھول دے اسے کوئی بند کرنے والا نہیں اور جسے وہ بند کر دے اسے اللہ کے بعد پھر کوئی دوسرا کھولنے والا نہیں وہ زبر دست ہے حکمت والا ہے۔ “ اس کا مقصود کیا ہے ؟ یہی کہ مشرکین کی یہ غلطی دور کردی جائے اور اس غلط فہمی کو دفع کردیا جائے کہ اللہ کے بندوں میں سے کوئی انہیں روز گار دلانے والا اور کوئی ان کو اولا دینے والا اور کوئی ان کے بیماروں کو صحت دینے والا ہے۔ شرک کے یہ تمام تصورات بالکل بےبناغد ہیں اور خالص حقیقت صرف یہ ہے کہ جس قسم کی رحمت بھی بندوں کو پہنچتی ہے محض اللہ عزوجل کے فضل سے ہی پہنچتی ہے کوئی دوسرا نہ اس کے عطا کرنے پر قادر ہے اور نہ روک دینے کی طاقت رکھتا ہے اور یہ مضمون قرآن کریم اور احادیث پاک میں بکثرت مقامات پر مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان در در کی بھیک مانگنے اور ہر آستانے پر ہاتھ پھیلانے سے بچے اور اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے کہ اس کی قسمت کا بننا اور بگڑنا ایک اللہ کے سوا کسی دوسرے کے اختیار میں نہیں ہے اور اللہ ہی کی وہ ذات ہے جو سب سے زیادہ زبردست ، سب پر غالب اور کامل اقتدار اعلیٰ کا مالک ہے کوئی اس کے فیصلوں کو نافذ ہونے سے نہیں روک سکتا اور اس کے ساتھ ہی وہ حکیم بھی ہے جو فیصلہ بھی وہ کرتا ہے سراسر حکمت کی بناء پر کرتا ہے کسی کو دیتا ہے تو اس کے لئے قانون مشیت میں کوئی حکمت اس کی متقضی ہوتی ہے اور کسی کو نہیں دیتا تو اس لئے نہیں دیتا کہ قانون مشیت میں اسے دینا حکمت کے خلاف ہے۔ ایک جگہ ارشارد الٰہی ہے کہ : قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُکُمْ مِّنَ اللّٰہِ اِنْ اَرَادَبِکُمْ سُوْٓئً ا اَوْ اَرَادَبِکُمْ رَحْمَۃًوَ لَا یَجِدُوْنَ لَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا (الاحزاب : 17:33) ” اے پیغمبر اسلام ! آپ کہہ دیجئے کہ کون ہے جو تم کو اللہ سے بچا لے اگر وہ تمہیں اپنے قانون کے مطابق نقصان پہنچانا چاہے ؟ اور کون اس کی رحمت کو روک سکتا ہے اگر وہ تم پر اپنے قانون کے مطابق مہر بانی کرنا چاہے ؟ اللہ کے مقابلہ میں تو یہ لوگ یقینا کوئی حامی و مدد گار نہیں پا سکتے۔ “ ایک جگہ ارشاد ہوا : قُلْ فَمَنْ یَّمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا اِِنْ اَرَادَ بِکُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِکُمْ نَفْعًابَلْ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا (الفتح : 11:48) ” اے پیغمبر ! ان سے پوچھو کہ وہ کون ہے جو تمہارے معاملے میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے کا کچھ کی اختیار رکھتا ہے اگر ہو تمہیں کوئی نقصان پہنچا ناچا ہے یا نفع بخشنا چاہئے ؟ تمہارے اعمال سے توا للہ بلاشبہ پوری طرح باخبر ہے۔ “ مختصر یہ کہ اس آیت میں 160 میں مسلمانوں کی جماعت سے خطاب ہے کہ جب پیغمبر اسلام کا طریق کار یہ ہے کہ ہر معاملے میں تم سے مشورہ کرلیا کریں تو تمہارا فرض یہ ہے کہ ان کے تمام احکام و عزائم کی بےچون و چارا اطاعت کرو وہ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ اللہ اپنے رسول کی نصرت اور مدد نہ کرے۔ ہاں میرے قانون مشیت کے مطابق جہاں جیسا عمل ہوگا ویسا ہی اس کا نتیجہ بھی مرتب ہوتا ہے اور یاد رکھو کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ اللہ کا رسول خلق اللہ کی اطاعت و پیشوائی کے فرائض میں کسی طرح کی کوتاہی برتے یا کسی طرح کی خیانت کا مرتکب ہو۔
Ayah 3:161

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور اللہ کا نبی یہ کبھی نہیں کرسکتا کہ وہ کسی طرح کی خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرتا ہے تو جو کچھ اس نے خیانت کی ہے قیامت کے روز چھپا نہیں سکے گا وہ اس کے ساتھ آئے گی پھر ہر جان کو اس کی کمائی کے مطابق پورا پورا بدلہ ملنا ہے ، ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی کے ساتھ ناانصافی کی جائے

نبی اور خیانت ، عقل کے ناخن لو تم کون ہو اور کیا کہہ رہے ہو ؟ 297: ” غل “ یغل کے معنی نقل کئے گئے ہیں اذا خان یعنی غل جس کا مضارع یغل آتا ہے اس کے معنی ہیں خیانت کرنا۔ لفظ ” غل “ جو قرآن کریم میں متعدد جگہ پر استعمال ہوا ہے وہ خیانت ‘ غشی ‘ عداوت ‘ کینہ ‘ حسد کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور یہ ساری چیزیں ہی نبوت کے منصب کے خلاف ہیں اور ان میں سے ہر ایک نبوت کے منافی ہے اس لئے کسی ایک کا بھی نبی مرتکب نہیں ہو سکتا۔ بعض لوگوں نے اس کو غنیمت کی خیانت کے ساتھ خاص کیا ہے۔ لیکن چونکہ الفاظ عام ہیں اور قرآن کریم میں بہت سی جگہوں پر استعمال کئے گئے ہیں اور کسی جگہ بھی ان کو غنیمت کے مال کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا بلکہ عام خیانت ہی میں استعمال ہوئے ہیں اور اس جگہ بھی یہی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ” دیکھو اللہ “ دونوں اکٹھی ہونے والی باتیں نہیں۔ اس میں خود بخود ہر طرح کی خیانت آگئی کیونکہ خیانت خیانت ہی ہے خواہ مال غنیمت ہو یا کوئی اور مال۔ جس طرح مال میں خیانت ہو سکتی ہے قول میں بھی خیانت ہو سکتی ہے اور عمل میں بھی۔ اس نبوت سے کسی طرح کی خیانت بھی ممکن نہیں نہ مالی ، نہ قولی اور نہ عملی۔ اس آیت کے شان نزول میں بھی بہت کشھ لکھا گیا ہے۔ کہیں بدر میں کسی چادر کے گم ہونے کے متعلق اور کہیں نزول وحی میں کیا نت کے متعلق کہیں تقسیم مال میں طاقتوروں کے درمیان مال تقسیم کردینے کے متعلق اور علاوہ ازیں بہت کچھ کہا گیا ہے۔ لیکن حقیقت حال اللہ ہی جانتا ہے۔ ہاں اھد میں کیا کچھ ہوا ؟ کسی سے مخفی نہیں۔ پھر جو کچھ ہوا اس کا تجزیہ کیا جائے تو جو بات متعین کیا تھا اور یہ بھی ارشاد فرمایا تھا۔ کہ حالات کچھ ہوجائیں تم اس جگہ کو نہ چھوڑنا اور اس طرف سے حملہ نہ ہونے دینا لیکن جب فتح فتح کی آوازیں بلند ہوئیں مکی لشکر فرار ہوا اور مدنیء لشکر نے ان کا تعاقب کیا تو ان تیر اندازوں کی جماعت میں اختلاف رونما ہوگیا۔ اور ان کی کثیر تعداد نے جگہ کو چھوڑ دیا اور مال غنیمت اکٹھا کرنا شروع کردیا جس کے نتیجہ میں مکی لشکر کے کمانڈر نے پیچھے ہٹ کر اس طرف مدنی لشکر پر سے حملہ کردیا اور پھر ججو کچھ ہوا وہ آپ پڑھ چکے انجام کر جانثار صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دوبارہ جمع کر ہو اس زور سے جنگ لڑی کہ مکی لشکر کے چھکے چھڑا دیئے اور ان کو دوبارہ بھاگنے پر مجبور کردیا۔ بلاشبہ رسول اکرم ﷺ جب احد سے واپس مدینہ تشریف لے گئے ان لوگوں سے پوچھ گچھ کی کہ آخر تم نے یہ حکم عدولی کیوں کی ؟ ظاہر ہے کہ ان میں سے بہت سے تو میدان احد میں شہید ہوگئے تھے۔ باقی لوگوں نے کچھ عذرات پیش کئے لیکن وہ یقینا بہت کمزور تھے کوئی معقول عذر نہیں تھا۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ ” بل ظنتم انا نغل ولا نقسم لکم “ کیا تم کو ہم پر اطمینان نہ تھا۔ کہ ہم تم کو باقاعدہ حصہ دار بنائیں گے۔ تمہیں اس بات کا گمان تھا کہ ہم تمہارے ساتھ خیانت کریں گے۔ اس آیت کو اشارہ اس طرف ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو کہ کیا تم کو یہ خیال ہے کہ یہ کسی ہماری کوتاہی کا نتیجہ ہے ؟ ہم کسی خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں ؟ گویا لشکر اسلام کو یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ آئندہ ایسی کوتاہی نہ ہو اور نبی کریم ﷺ کے متعلق تمہارے خیال میں کبھی یہ بات نہ گزرے کہ نین ﷺ کو موجودگی میں ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ جو کچھ ہوا وہ تمہاری کوتاہیوں کا نتیجہ ہے اور اس کا صحیح اور واحد حل یہ ہے کہ آئندہ تم ایسی کوتاہی نہ کرو تاکہ ایسے نتیجہ سے تم دوچار نہ ہو۔ نبی ﷺ کے آنے کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ تم کو تمہای کوتاہیوں سے آگاہ کریں اور تمہارا فرض یہ ہے کہ تم ان کوتاہیوں سے باز آؤ ۔ خائن اپنی خیانت کو کب تک چھپا سکتا ہے : 298: انبیاء کرام تو معصوم ہوتے ہیں ان سے کسی طرح کی خیانت کا ارتکاب ممکن ہی نہیں اور نبوت اور خیانت دونوں چیزیں اکٹھی نہیں ہو سکتیں اس لئے کسی نبی کے متعلق تو ایسا خیال ہی مردود ہے۔ اگر کوئی ایسا خیال رکھے تو یقینا وہ نبوت کا منکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص بھی کسی قسم کی خیانت کا مرتکب ہوا اس کی خیانت آنے والے روز میں ظاہر کردی جائے گی اور وہ اپنی خیانت کو چاہیے کتنا ہی چھپائے نہیں چھپا سکے گا اس لئے کہ میدان حشر میں جہاں ساری مخلوق جمع ہوگی۔ سب کے سامنے اس کو اس طرح رسوا کیا جائے گا کہ ججو مال چوری کیا تھا۔ وہ اس کی گردن پر دھرا ہوا ہوگا۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دیکھو ایسا نہ ہو کہ قیامت میں میں کسی کو اس طرح دیکھوں کہ اس کی گردین پر ایک اونٹ لدا ہوا ہو۔ وہ شخص اگر مجھ سے شفاعت کا طالب ہوگا تو میں اس کو صاف صاف جواب دے دوں گا کہ میں نے حکم الٰہی پہنچا دیا تھا اب میں کچھ نہیں کر دسکتا ایک اونٹ والے کے لئے تو آپ ﷺ کا یہ ارشاد ہے جو اوپر آپ نے پڑھ لیا۔ لیکن جن لوگوں کے کندھوں پر پوری پورے بنک ، خزانے ، سکول ، مدارس اور خصوصاً اسلامی درسگاہیں ، مسجدیں ، خانقائیں اور پورے کے پورے قبرستان رکھے ہوں گے وہ بھی اس حدیث کو اپنی نگاہ میں رکھیں کہ ان کا کیا حشر ہوگا ؟ اور کیا گت بنے گی۔ اس لئے کہ ان میں تو پورے ملک کے باشندوں کا حق ہے جو ان میں خیانت کرے اس نے تو سارے مالک کے باشندوں کی خیانت کی۔ چنون کہ یہی اموال ایسے ہوتے ہیں جن کا کوئی ایک شخص مالک نہیں ہوتا۔ آج کل فی زماننا دنیا میں سب سے زیادہ خیانت انہی اموال میں ہو رہی ہے اور لوگ اس کے انجام بد اور وبال عظیم سے غافل ہیں۔ پھر ان ساری چیزوں کے نگران بھی ملک کے و ڈیرے ، سیاستدان ، علمائے کرام ، مفتیان عظام ، ناظمین ، گدی نشین اور سجادہ ہوتے ہیں ان کو پوچھے تو کون ؟ یقینا یہ سب لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہیں اور ان کی خیانتیں یقینا ظاہر ہو کر رہیں گی۔ وَ قَالَتِ الْیَھُوْدُ یَدُ اللّٰہِ مَغْلُوْلَۃٌ غُلَّتْ اَیْدِیْھِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا بَلْ یَدٰہُ مَبْسُوْطَتٰنِ یُنْفِقُ کَیْفَ یَشَآئُ (المائدہ : 5:64) ” یہودیوں نے کہا کہ اللہ کا ہاتھ بندھ گیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انہی کے ہاتھ بندھ گئے ہیں اور جو کچھ انہوں نے کہا اس کی وجہ سے ان پر لعنت پڑی ہے۔ اللہ کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق خرچ کرتا ہے۔ “ ایک جگہ اور ارشاد فرمایا : وَ لَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَ لَا تَبْسُطْھَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا (بنی اسرائیل : 17:29) ” اور دیکھو نہ تو اپنا ہاتھ اتنا سکیڑ لو کہ گردن میں بندھ جائے اور نہ بالکل ہی پھیلا دو ۔ دونوں صورتوں کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہر طرف سے ملامت پڑے گی اور درماندہ ہو کر رہ جاؤ گے۔ “ غور کرلو فرمایا جا رہا ہے کہ مال و دولت خرچ کرنے میں اور ہر بات میں اعتدال کی راہ اختیار کرو۔ کسی ایک ہر طرف جھ نہ پڑو مثلاً خرچ کرنے پر آئے تو سب کچھ اڑا دیا۔ احتیاط کرنی چاہی تو کنجوسی پر اتر آئے۔ در اصل تمام محاسن و فضائل کی بنیادی حقیقت توسط و اعتدال ہے اور جتنی برائیاں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ افراط وتفریط سے پیدا ہوتی ہیں۔ ایک جگہ اور ارشاد فرمایا کہ : وَ یَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِم (الاعراف : 7:157) وہ رسول اللہ ﷺ ان کو اس بوجھ سے نجات دلائے گا۔ جس کے نیچے وہ دبے ہوں گے اور پھندوں سے نکالے گا جن میں وہ گرفتار ہوں گے۔ “ یہ پوری آیت نبی اعظم وآخر ﷺ کے مناقب اور آپ ﷺ کے کارہائے نمایا اور آپ ﷺ کی ذمہ داریوں کے متعلق ہے جن کو آپ ﷺ نے بحکم الٰہی احسن طریق سے انجام دیا اور قوم کو سائی قومی بیماریوں سے نکال کر سیدھی راہ پر گامزن کیا لیکن افسوس کہ آج کی اکثریت انہی بیماریوں میں مبتلا نظر آتی ہے۔ العیاذ باللہ۔ ایک جگہ ارشاد ہے کہ : وَالَّذِیْنَ جَآئُوْا مِنْم بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِِیْمَانِ وَلاَ تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِِنَّکَ رَئُوْفٌ رَّحِیْمٌ (الحشر : 59:10) ” وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اح ہمارے رب ! ہمیں اور ہمارے ان سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کیلئے کوئی بغض نہ رکھ۔ اے ہمارے رب ! تو بڑا مہربان اور بہت ہی پیار کرنے والا ہے۔ “ ایک جگہ اور ارشاد فرمایا : اِِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ سَلٰسِلاَ وَ اَغْلٰلًا وَّسَعِیْرًا (الدھر : 74:4) ” بلا شبہ ہم نے کافروں کے لئے زنجیریں ‘ طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “ زیر نظر آیت نمبر 161 کے اختتام پر ارشاد فرمایا ہے ” پھر ہر جان کو اس کی کمائی کے مطابق پورا پورا بدلہ ملنا ہے ایسا نہیں ہو سکتا کہ کسی کے ساتھ ناانصافی کی جائے اس میں بھی اس طرح اشارہ فرما دیا کہ جس قدر کوتاہی کسی نے فرائض و حقوق کی ادائیگی میں کی ہوگی اس قدر اس پر ذمہ داری ہوگی اور کسی پر کسی طرح کی زیادتی نہیں کی جائے گی۔
Ayah 3:162

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

کیا ایسا آدمی جس نے اللہ کی خوشنودیوں کی راہ اختیار کی ہے اس آدمی کی طرح ہوسکتا ہے جس نے اللہ کے غضب کو دعوت دی اور اس کا ٹھکانا جہنم جیسا برا ٹھکانا ہوا ؟

اللہ کی رضا کے لئے کام کرنے والے اور اس کے نافرمان ایک جیسے نہیں ہو سکتے : 299: بھلا جس شخص نے اللہ کی خوشنودی کی اتباع کی ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا مستحق ہوا جبکہ یہ بات طے ہے کہ اللہ کی ناراضگی کے ساتھ لوٹنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ گویا ان سے استفساراً فرمایا جا رہا ہے کہ کیا تمہارے نزدیک یہ بات معقول ہے کہ نیک اور بد دونوں آخر اکار یکساں ہوجائیں ؟ کیا یہ تصور تمہارے لئے اطمینان بخش ہے کہ کسی نیک انسان کو اس کی نیکی کا کوئی صلہ اور کسی بد آدمی کو اس کی بدی کا کوئی بدلہ نہ ملے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر احد میں شریک ہونے والے اور شریک نہ ہونے والے برابر کس طرح ہو سکتے ہیں ؟ ہاں یقینا وہ برابر نہیں۔ شریک ہونے والوں میں کچھ شہادت کا پیالہ پی کر اللہ رب العزت کے باغوں میں سیر کر رہے ہیں اور کچھ غازی بن کر اس راہ پر رواں دواں ہیں جو اللہ نے ان کے لئے مقرر کردی ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے اس راہ کی طرف ان کی راہنمائی کی ہے اور منافقین کا گروہ اگرچہ بظاہر ایمان کا دعویدار ہے لیکن ان کو سوائے قلق اور پریشانی کے کچھ حاصل نہیں ہوا اور گیدر کی موت مرتے ہی عذاب الیم میں مبتلا ہوجائیں گے۔ اس مضمون کی آیات قرآن کریم میں بکثرت پائی جاتی ہیں کافر ، منافق ، فاسق اور مسلم یکساں نہیں ہو سکتے نہ اس دنیا میں اعمال کے لحاظ سے اور نہ آخرت میں نتائج کے لحاظ سے۔
Ayah 3:163

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

اللہ کے نزدیک لوگوں کے مرتبے ہیں اور جیسے کچھ ان کے اعمال ہیں وہ انہیں دیکھ رہا ہے

سچوں کی سچائی ظاہر ہوگی تو جھوٹوں کا جھوٹ بھی کھل جائے گا : 300 : رضائے الٰہی کی اتباع کرنے والا اور اللہ کی ناراضگی لے کر لوٹنے والے مختلف درجات رکھتے ہیں اور ان کے مراتب بھی مختلف ہیں۔ ثواب و عذاب میں اول و دوم کا بڑا تفاوت ہے گویا اس طرح اس حقیقت کی طرف اشارہ کردیا کہ دنیا میں سچے انسان کی زندگی جھوٹے انسان سے اپنی ہر بات میں اس درجہ مختلف ہوتی ہے کہ ممکن ہی نہیں کسی طرح کا دھوکا ہو سکے۔ ایک بدکار آدمی بناوٹ سے اپنے آپ کو کتنا ہی نیک ظاہر کرے لیکن بناوٹ ہے کوئی نہ کوئی بات ایسی ضرور کر بیٹھے گا کہ اصلیت آشکار ہوجائے گی۔ اس لئے قرآن کریم نے دونوں کا تقابل بہت سے مقامات پر کر کے حقیقت کو بالکل واضح کردیا ہے : ” اب کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے کھول دیا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس کو ان باتوں سے کچھ بھی سروکار نہیں ؟ تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جن دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہوگئے اور وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ “ (الزمر : 39:22) ایک جگہ ارشاد ہے : ” کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے ہیں اور ان کو جو زمین میں فساد مچانے والے ہیں یکساں کردیں ؟ کیا متقین کو ہم فاسقوں جیسا کردیں ؟ “ کیا ایسا ممکن ہے ؟ ہرگز نہیں۔ ایک جگہ ارشاد لٰہی ہے کہ : ” بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف راستہ پر ہے اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جس کے برے اعمال اس کی نگاہ میں خوشنما بنا دئیے گئے ہیں۔ اور وہ اپنی نفسانی خوہشوں کے پیچھے چل رہا ہے۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اے پیغمبر اسلام ! کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ دونوں آدمی برابر ہوجائیں ؟ وہ جو یہ بات جان گیا ہے کہ جو بات تجھ پر تیرے پروردگار کی جانب سے اتری ہے حق ہے اور وہ جو اندھا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ وہی لوگ سمجھتے بوجھتے ہیں جو دانش مند ہیں (الرعد : 13:19) ” لیکن آج کل دانشمند ان ہی کو سمجھا جاتا ہے جو عقل سے کورے ہیں۔ “ ایک جگہ اور ارشاد فرمایا : ” کیا وہ شخص جو منہ کے بل گرتے پڑتے چلتا ہو وہ سیدھی راہ پر ہے یا وہ شخص جو سیدھا ہموار راستہ پر چلا جا رہا ہو۔ “ (الملک : 67:22) ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : ” کیا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی خوشنودی پر رکھی یا وہ جس ایک کھائی کے گرتے ہوئے کنارے پر اپنی عمارت کی بنیاد رکھی اور وہ مع اپنے مکین کے آتشیں دوزخ میں جا گری ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ انہیں سعادت کی راہ نہیں دکھاتا جو ظلم کا شیوہ اختیار کرتے ہیں۔ “ (التوبہ : 9:109) ایک جگہ اور ارشاد فرمایا : ” پھر دیکھو جو لوگ اپنے پروردگار کی جانب سے ایک روشن دلیل رکھتے ہوں اور اس کے ساتھی ہی ایک گواہ بھی اس کی طرف سے آگیا ہو یعنی قرآن کریم اور اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب بھی پیشوائی کرتی ہوئی اور سرتاپا رحمت آچکی ہو۔ یہ لوگ اس پر ایمان رکھتے ہوں اور گروہوں میں سے جو کوئی اس کا منکر ہوا تو یقین کرو آگ ہی وہ ٹھکانہ ہے جس کا اس سے وعدہ کیا گیا ہے۔ “ (ھود : 11:17) ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : ” کیا جو لوگ برائیاں کرسکتے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں کے برابر کردیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔ ان سب کا مرنا جینا یکساں ہوجائے۔ کیا ہی برا حکم ہے جو وہ لگاتے ہیں۔ “ (الجاثیہ : 45:21) ایک جگہ اور ارشاد فرمایا : ” کیا ہم فرمانبرداروں کو اور نافرمانوں کو برابر کردیں گے۔ تم کو کیا ہوا تم کیسا فیصلہ کرتے ہو ؟ “ (القلم : 68:35 ، 21) ایک جگہ اور ارشاد فرمایا : ” بھلا جو صاحب ایمان ہے تو کیا وہ اس جیسا ہے جو نافرمان ہے ؟ نہیں مومن و فاسق برابر نہیں ہو سکتے۔ “ (السجدہ : 32:18) ایک جگہ فرمایا : ” کیا تم لوگوں نے یہ ٹھہرا رکھا ہے کہ حاجیوں کے لئے سبیل لگا دینی اور مسجد حرام کو آباد رکھان اس درجہ کا کام ہے جیسا اس شخص کا کام جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا ؟ اللہ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں اور اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ ظلم کرنے والوں پر کامیابی کی راہ نہیں کھولتا۔ “ (التوبہ : 9:19) مزید تفصیل کے لئے درج ذیل دی گئی سورتوں کی نشان کردہ آیات کا مطالعہ کرو۔ (4:95) ، (57:9 ، 10) ، (47:14) ، (5:100) ، (41:34) ، (40:58) ، (39:29) ، (30:28) ، (12:71) ، (59:20) ، (39:9) ، (6:50) ، (13:16) ، (3:113) ، (35:12) ، (35:21) ، (35:22 ، 23) ، (10:28) ۔ تفسیر عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة بقرہ کی آیت 115 ، ملاحظہ کریں۔
Ayah 3:164

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

اللہ کا مومنوں پر بڑا ہی احسان ہے کہ اس نے ایک رسول ان میں بھیج دیا جو انہی میں سے ہے ، وہ اللہ کی آیتیں سناتا ہے ، ہر طرح کی برائیوں سے انہیں پاک کرتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں مبتلا تھے

رسول اللہ ﷺ رحمت عام بھی ہیں اور رحمت خاص بھی : 301: اس آیت کے پہلے جزء میں ارشاد ہے کہ ” اللہ “ کا مومنوں پر بڑا احسان ہے کہ اس نے ایک رسول ان میں بھیج دیا۔ “ اس کے متعلق پہلی بات جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی تصریح کے مطابق نبی اعظم و آخر ﷺ تو رحمت للعالمین ہیں اس لئے پورے عالم کے لئے آپ ﷺ کا وجود نعمت کبریٰ ہے اور احسان عظیم ہے اس جگہ اس کو صرف مومنوں کے لئے احسان فرمانا اپنے اندر کیا حکمت رکھتا ہے ؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح قرآن کریم کا سارے عالم کے لئے ہدایت ہونا تسلیم ہے اور قرآن کریم میں بھی اس کی تصریح موجود ہے لیکن اس کے باوجود اس کو ” ھدی للمتقین “ بھی فرمایا گیا ہے بالکل اسی طرح رسول اللہ ﷺ بلاشبہ رحمۃ اللعالمین ہیں اور آپ ﷺ کا وجود اقدس سارے عالم اور مومن و کافر کے لئے نعمت کبریٰ ہے اور احسان عظیم ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت یعنی رسول اللہ ﷺ اور اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت یعنی قرآن کریم سے مستفید کون ہوا ؟ جس طرح قرآن کریم کی ہدایت سے فائدہ متقین نے حاصل کیا بالکل اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ کی نعمت عظمیٰ سے فائدہ صرف مومنین نے حاصل کیا اس لئے اس کو اس جگہ اس طرح بیان فرمایا گیا۔ دوسری بات رسول کریم ﷺ کو مومنین کے لئے یا پورے عالم کے لئے نعمت کبریٰ اور احسان عظیم ہونے کی تشریح ہے۔ کیون ؟ اس لئے کہ آج کل انسان روحانیت کو بالکل فراموش کرچکا ہے اور مادہ پر ستئی نے اس کے اوسان بالکل خطا کردیے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہنا حقیقت کے لحاظ سے بالکل صححپ ہوگا کہ آج کل انسان دنیا کے جانوروں میں سے ہوشیار ترین جانور تو تسلیم کیا جاسکتا ہے اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں رہا۔ اس کو احسان و انعام صر وہ چیز نظر آتی ہے۔ جو اس کے پیٹ اور نفسانی خواہشات کا سامان مہیا کرے یہی وجہ ہوئی کہ آج بد قسمتی یعنی قرآن کریم اور محمد رسول اللہ ﷺ کی نعمت عظمیٰ کو پیٹ کا دھندا بنا لیا۔ انسان کے وجود کی اصل حقیقت جو اس کی روح ہے اس کی خوبی اور خرابی سے وہ یکسر خالی ہوگیا۔ اس لئے اس کی کچھ تشریح کردینا مناسب معلوم ہوا۔ ہر اس انسان کو جو اپنے آپ کو صحیح معنوں میں انسان بنانا چاہتا ہے اس کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی حقیقت صرف چند ہڈیوں اور گوشت پوست کا مجموعہ نہیں بلکہ حقیقت انسان وہ روح ہے جو اس کے بدن کے ساتھ متعلق ہے جب تک یہ روح اس کے بدن میں ہے اس وقت تک انسان کم ازکم انسان کہلاتا ہے۔ اس کے حقوق انسانیت قائم ہیں خواہ وہ کتناہی قوی اور مضبوط کیوں نہ ہو اس کا کوئی حق خود اپنی جائیداد و اموال میں بھی باقی نہ رہا۔ انبیاء کرام دنیا میں تشریف لاتے رہے اور صرف اس لئے کہ وہ انسانی روح کی صحیح تربیت کر کے انسان کو حقیقی انسان بنائیں تاکہ اس سے جو افعال و اعمال صادر ہوں وہ انسانیت کے لئے مفید ثابت ہوں وہ درندے اور زہریلے جانوروں کی طرح دوسرے انسانوں کو ایذا اور تکلیف دیتا نہ پھرے اور خود اپنے انجام کو اچھی طرح سمجھ کر آخرت کی دائمی زندگی کا سامان مہیا کرے۔ بلاشبہ ہمارے نبی اعظم و آخر ﷺ کو جیسے زمرہ انبیاء میں امامت و سیادت کا منصب حاصل ہے انسان کو صحیح معنوں میں انسان بنانے میں بھی آپ ﷺ کی شان تمام انبیاء کرم سے بیت ممتاز ہے آپ ﷺ نے مکی زندگی میں صرف اور صرف یہی کام افراد سازی کا انجام دیا اور مدنی بہت آگے تک لے گئے اور زمین و آسمان نے شیا اس سے پہلے کبھی ایسے انسان نہ دیکھے۔ ان میں ایک ایک ہمارے رسول مکرم ﷺ کا زندہ وجاوید معجزہ نظر آتا ہے۔ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے یہ مٹی کے ڈھانچے تھے۔ اور روح کیت الحاق سے یقینا چلتے پھرتے بھی تھے لیکن آپ ﷺ نے نفخہ الٰہی ان میں پھونک کر ان کی روحوں کی اصلاح فرما دی اور یہی وہ نفخہ ہے جو پہلے انبیاء کرام میں پیدائش سے بھی پہلے ان میں پھونک دیا جاتا تھا۔ اور اسی وجہ سے ہر نبی کفر کی موت مرے ہوؤں کو یمانی زندگی اللہ کے حکم سے بخشتے رہے۔ نبی رحمت محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت کے دروازہ کو بند کردیا گیا۔ اور آپ ﷺ کی دی ہوئی تعلیمات کو ابد الاباد کے لئے محفوظ کردیا گیا یقینا اب جو آپ ﷺ کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق اپنی اصلاح کرلے وہ صحیح معنوں میں انسان اور ایک سچا مسلمان بن جاتا ہے اور آپ ﷺ کی یہ تعلیمات اب بھی سارے عالم کے لئے ہیں اس لئے آپ ﷺ کا وجود پورے عالم کے لئے احسان عظیم ہے گو اس سے نفع وہی اٹھاتا ہے جو نفع اٹھانے کی صحیح سعی و کوشش کرتا ہے اور ان راہوں پر چلتا ہے جن پر چل کر انسان کو صحیح انسان بننے کی آپ ﷺ نے تعلیم دی۔ نبی کریم ﷺ کے رفع کے بعد کام نبوت کا جاری رہنا : 302: آیت کے اس حصہ میں نبی اعظم و آخر ﷺ کے کام کی مزید تشریح فرما دی گئی تاکہ آپ ﷺ کے رفع کے بعد بھی آپ ﷺ کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کو آسانی حاصل رہے ۔ گویا اس جگہ آپ ﷺ کی بعثت کے تین مقاصد بیان کیے گئے ہیں۔ پہلا آیات کریمات کی تلاوت دوسرا تزکیہ نفس اور تیسرا کتاب و حکمت کی تعلیم۔ آیت لغت میں اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز پر دلیل لائی جاسکے اس پہلو سے آسمان و زمین کی ہرچیز آیت ہے۔ اس لئے کہ ان میں سے ہر ایک چیز اللہ کی قدرت و حکمت اور اس کی مختلف صفات خلق و تدبیر پر ایک دلیل ہے اس طرح نبوت کے سارے کام جن کو معجزات بھی کہا جاسکتا ہے۔ اور پشین کی دلیل تھے۔ قرآن کریم کے الگ الگ جملوں کو بھی آیت کہا جاتا ہے۔ اس لئے کہ فی الحقیقت ان میں سے ہر آیت کی حیثیت ایک مستقل دلیل وبرہان کی ہے جس سے اللہ کی صفات اور اس کے احکام و قوانین او اس کی مرضیات کا علم ہوتا ہے۔ یہ واضح ہوچکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک خوش الحان قاری کی طرح لوگوں کو قرآن کریم سنانے کے لئے نہیں آئے تھے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سفیر کی حیثیت سے مبعوث ہوئے اور لوگوں کو آسمان و زمین کے خالق ومالک حقیقت کا بھی اظہار ہو رہا ہے کہ اللہ کا دین تحکم اور جبر پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ تمام تر دلائل وبراہین پر مبنی ہے اور اس کے ہر ٹکڑے کے اندر اس کی دلیل ہے۔ دوسرا مقصد تزکیہ بتایا ہے اور لفظ تزکیہ دو مفہوموں پر مشتمل ہے ایک پاک و صاف کرنے پر دوسرے نشو ونما دینے پر اور یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں جو چیز مخالف و مزاحم زواید و مفاسد سے پاک ہوگی وہ لازماً اپنی فطری صلاحیتوں کے مطابق پروان بھی چڑھے گی۔ نبی کریم ﷺ نے نفوس انسانی کا جو تزکیہ کیا ہے اس میں یہ دونوں باتیں پائی جاتی ہیں وہ لوگوں کے دلوں اور ان کے اعمال و اخلاق کو غلط چیزوں سے پاک و صاف بھی کرتے اور ان کے اعمال و اخلاق کو نشو ونما دے کر قوت بھی پیدا کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کتاب کے مقابلہ میں نفوس کا تزکیہ کہیں زیادہ انسانیت کی صحیح معنوں میں تکمیل ہوجاتی ہے۔ تزکیہ ہوگا تو کتاب و حکمت کی تعلیم کتاب کے مقابلہ میں نفوس کا تزکیہ کہیں زیادہ دیدہ ریزی ، مشقت اور صبر و تحمل کا طالب ہے۔ یہی انسانیت کی صحیح معنوں میں تکمیل ہوجاتی ہے۔ تزکیہ ہوگا تو کتاب و حکمت کی تعلیم موثر ہوگی اور کتاب و حکمت کی تعلیم ہوگی تو تزکیہ آسان ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کو آگے پیچھے بھی بیان کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة بقرہ آیت 129 ۔ ” تعلیم کتاب و حکمت کے الفاظ پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تعلیم تلاوت سے بالکل ایک مختلف چیز ہے۔ تلاوت آیت تو یہ ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو آگاہ کردیا کہ اللہ نے مجھ پر یہ وحی نازل کی ہے تعلیم یہ ہے کہ تہایت شفقت ، محبت اور توجہ کے ساتھ ہر استعداد کے لوگوں کے لئے اس کی مشکلات کی وضاحت کی جائے۔ اس کے اجمالات کی تشریح کی جائے اس کے مقدرات کھولے جائیں اور اس کے مضمرات بیان کئے جائیں اور اس توضیح وبیان کے بعد بھی اگر لوگوں کے ذہن میں سوالات پیدا ہوں تو ان کے سوالوں کے جواب دئے جائیں پھر مزید یہ کہ لوگوں کی ذہنی تربیت کے لئے خود ان کے سامنے سوالات رکھے جائیں اور ان کے جوابات معلوم کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ لوگوں کے اندر فکر و تدبیر کی صلاحیت و کتاب الٰہی پر غور و خوض کرنے کی استعداد پوری طرح پیدا ہوجائے۔ یہ ساری باتیں تعلیم کے ضروری اجزاء ہیں اور ہر شخص جس نے نبی ﷺ کے حالات کتاب کا دوسرا حکمت کا۔ کتاب سے مراد تو ظاہر ہے کہ قرآن کریم ہے اور لفظ حکمت کیا ہے ؟ سو وہ تعبیر ہے اس قوت و صلاحیت کی جس سے انسان معاملات کا فیصلہ حق کے مطابق کرتا ہے۔ سیدناداؤد (علیہ السلام) کی تعریف میں ارشاد ہوا ” واتینہ الحکمۃ وفصل الخطاب “ یعنی ہم نے اس کو حکمت عطا کی اور فیصلہ معاملات کی صلاحیت یہاں فصل الخطاب کے لفظ سے اس اثر کو بیان کیا ہے جو حکمت کا ثمرہ ہے۔ جس طرح فیصلہ معاملات کی صلاحیت حکمت کے ثمرات میں سے ہے اسی طرح اخلاق کی پاکیزگی اور تہذیب بھی اس کے ثمرات میں سے ہے۔ اس وجہ سے اہل عرب حکمت کا لفظ انسان کی اس قوت و صلاحیت کے لئے بھی مہذب آدمی کو حکیم کہا جاتا ہے اور جو بات عقل اور دل دونوں کے نزدیک بالکل واضح ہو اس کو حکمت سے تعبیر کرتے ہیں۔ (مفردات القرآن) حکمت کا ذکر یہاں کتاب کے ساتھ اس بات کی دلیل ہے کہ تعلیم حکمت تعلیم کتاب سے ایک زائد شے ہے اگرچہ یہ حکمت سر تا سر قرآن کریم ہی سے ماخذ و مستنبط ہو اس لئے حکمت سے مراد حدیث لیا گیا ہے۔ اور حدیث بنی کریم ﷺ کے ارشادات کو کہا جاتا ہے۔
Ayah 3:165

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

جب تم پر مصیبت پڑی اور یہ مصیبت ایسی تھی کہ اس سے دوگنی مصیبت تمہارے ہاتھوں تمہارے دشمنوں پر پڑچکی تھی تو تم بول اٹھے کہ یہ مصیبت ہم پر کہاں سے آ پڑی ؟ ان سے کہہ دو یہ مصیبت خود تمہارے ہی ہاتھوں آئی ، اللہ کے اندازہ قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے

احد کو مصیبت ہم پر کہاں سے پڑی ؟ جواب ملتا ہے کہ تمہارے اپنے ہاتھوں سے : 303: جماعتی زندگی میں کمزور و قوی دونوں طرح کے لوگ ہوتے ہیں اور یقینا اس وقت بھی تھے۔ جنگ احد میں جب ہوا کا رخ بدلا تو ان کو تعجب ہوا کہ آخر ایسا کیوں ہوا ؟ ان کو بتایا جا رہا ہے۔ کہ نتائج اعمال کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں ” قلتم انی ھذا “ کی یہ مصیبت ہم پر کہاں سے آ پڑی ہے ؟ یہ سراسر تمہارے اع ال کا نتیجہ ہے ۔ کیونکہ جماعتی زندگی میں جن لوگوں کے سپرد قومی کام ہوتے ہیں اگر وہ کوئی کوتاہی کریں تو خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے بالکل اسی طرح جیسے جسم کے کسی حصہ رکو تکلیف پہنچے تو سارا جسم اس سے متاثر ہوتا ہے یا بےچین ہوجاتا ہے کبھی اس کو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تکلیف تو انگلی میں ہے تم بےچین کیوں ہو ؟ اس طرح ایک گھر میں سے کسی فرد کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو پورے گھر میں بےچینی پیدا ہوجاتی ہے کبھی یہ نہیں کہا جاتا کہ تکلیف تمہارے ایک فرد کو ہے تم بےچین کیوں ہو ؟ آخر جماعت میں سے جب کچھ لوگوں کو ایک جگہ متعین کیا گیا تھا۔ وہ ہاں نہ رہے اور ان کی کوتاہی سے پوری جماعت اس کوتاہی کا شکار کیوں نہ ہوتی ؟ پھر یہی نہیں تم اس سے اپنی تکلیف کو مداوا کو لو کہ اب جو تم کو تکلیف احد کے میدان میں پہنچی ہے اس سے قبل تمہارے ہاتھوں کفار کے لشکر کو اس سے دوگنی پہنچ چکی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس وقت ان کے لوگوں سے کچھ ایسی کوتاہیاں ہوئی ہوں گی جس کا نتیجہ انہوں نے بھگتا اس بار تمہارے آدمیوں سے کوتاہی ہوئی تو آخر تم اس کے نتیجہ سے کیوں دوچار نہ ہوتے ؟ اسلام کا تقاضا تو یہ ہے کہ تم سے کوتاہی نہ ہونی چاہیے اس لئے کہ تم مسلمان ہو اس کا مطلب تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ اگر مسلمان ہوجائیں تو پھر کوتاہیوں پر کوتاہیاں کرتے رہیں لیکن ہماری کوتاہیوں کا نتیجہ ہی بدل دیا جائے۔ اگر آپ غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ آج قوم مسلم اس غلطی کا شکار ہے کہ اپنی کوتاہیوں سے باز نہیں آتے اور پھر جب انکے نتائج سامنے آتے ہیں تو مبہوت ہو کر رہ جاتے ہیں۔ کہ ایسا کیوں ہوا ؟ لیکن ان کو کون سمجھائے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں جماعتی زندگی میں جماعتی لوگوں سے کوتاہی ہوجائے تو اس کا نتیجہ رسول اللہ ﷺ کو بھی بھگتنا پڑے تو تم اور ہم کون ہیں ؟ میدان احد میں آپ ﷺ کا دانت شہید ہوا۔ پیشانی زخمی ہوئی۔ آپ ﷺ کے قتل ہوجانے کی خبریں گرم ہوئیں تو کیا آپ ﷺ کو اس کی تکلیف نہ ہوئی ؟ آپ ﷺ اس مصیبت میں مبتلا نہ ہوئے ؟ ضرور ہوئے۔ کیوں ؟ اس لئے کو قوم مسلم اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے کہ اعمال کے ساتھ ان کا نتیجہ بندھا ہوا ہے یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ تم عمل صحیح نہ کرو اور صحیح نتیجہ کی امید رکھو۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ اللہ نے یہ بالکل نہیں کہا کہ جب تم پر گولیاں برس رہی ہوں تو تم ہاتھ مت چلاؤ بلکہ زبان سے اللہ اللہ کرتے رہو گولی تم پر نہیں آئے گی۔ وہ تو بار بار یہ کہتا ہے کہ اپنی پوری طاقت صرف کرو ، کسی طرح کی کوتاہی نہ کرو جو وسائل تمہارے پاس ہیں سارے کے سارے اپنے دفاع میں لگا دو اگر دشمن تمہارے لئے بندوق تیار کر رہا ہے۔ تو تم بم بناؤ وہ بندوق سے گولی چلاتا ہے تو تم نے اپنے دشمن کے لئے بم تیار کیا۔ لیکن افسوس ہے کہ ہم کو اللہ کی کتاب کا یہ سبق یاد نہ رہا اور پڑھانے والے ہم کو کچھ اور ہی پڑھا رہے ہیں۔ انیٰ ھذا ؟ کہنے والوں کو اللہ کی طرف سے کیا جواب ملتا ہے ؟ سن لو اور اچھی طرح یاد رکھو۔ ارشاد ہوتا ہے اے پیغمبر اسلام ! ان کو جواب دو کہ ” ھو من انفسکم “ یہ مصیبت خود تمہارے اپنی ہی ہاتھوں سے آئی ہے۔ لڑکا بغل میں ڈھنڈورا شہر میں کوتاہی تم نے کی اور اب تم ہی یہ پوچھتے ہو کہ یہ مصیبت کہاں سے آئی ؟ تم کو یہ سبق کس نے بھلا دیا کہ ” اللہ نے ہر ایک چیز کے لئے قانون مقرر کردیا ہوا ہے اور ایسا بندھن باندھ دیا ہے جو کہیں خطا نہیں کرتا۔ جو ہونا تھا ہوگیا اب اس سے سبق حاصل کرو آئندہ ایسی کوتاہی مت کرو۔ گزرے ہوئے وقت پر صرف پچھتاوا کچھ کام نہیں دیتا اس لئے کہ گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آیا۔ وقت جس تیزی سے گزر رہا ہے تم اس سے دو بار تیز ہوجاؤ اس اس کو پکڑ لو اور وہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ تم اپنی جمعیت اکٹھی کرو ایڑی چوٹی کا زور لاگا کر ہمت صر کر کے وسائل جمع کرو اور پھر اگر میدان کار زار گرم ہوجائے تو اپنے سارے جو ہر دکھانے کے لئے پہلے سے زیادہ زور و شور کے ساتھ میدان میں اترو اور مخالفین کو تہ تیخ کر دو اور تمہارا کمانڈر جس جس ذمہ داری پر تم کو لگاتا ہے پوری دیانت و امانت کے ساتھ اس ذمہ داری کو نبھانے کی کوشش کرو پھر دیکھو کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ اس آزمائش سے سبق حاصل کرو اور زمانہ کو دکھا دو کہ ہم ایک زندہ وجاوید قوم ہیں۔ آج تم پر مذاق کرنے والے یقینا کل ہی ششدر و حیران رہ جائیں گے اور وہی زبانیں جو آج تمہارا مذاق اڑا رہی ہیں کل تمہاری شجاعت کے گیت گائیں گی اور اس سے تمہارا وہ زخم بھی یقینا مند مل ہوجائے گا۔
Ayah 3:166

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور یہ جو دو گروہوں کے مقابلے کے دن تمہیں پیش آیا وہ اللہ ہی کے حکم سے تھا اور اس لیے پیش آیا تاکہ ظاہر ہوجائے ایمان والے کون ہیں ؟

میدان احد میں جو کچھ تم کو پیش آیا وہ باذن اللہ تھا : 304: دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے روز جو نقصان تم کو پہنچا کہ تم دشمنوں کے مقابلہ سے بھاگ کھڑے ہوئے تم میں سے کچھ شہید ہوئے اور بعض زخمی ہوئے۔ تم میں سے کچھ کے قدم ایسے اکھڑے کہ وہ دوبارہ اپنے لشکر کے ساتھ مل ہی نہ سکے۔ تم میں سے بعض نے عقیدہ کی کمزوری بھی دکھائی۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے تھا۔ اس کی مشیت کے فیصلے کبھی ٹلطی نہیں ہوتے۔ اس کی حکمت اس کی مقتضی تھی۔ جو کچھ ہوا وہ تمہاری کوتاہی کا نتیجہ تھا تاہم اس سارے نقصان میں تمہارے لئے کچھ فوائد بھی مخفی تھے وہ یہ کہ تم میں ثابت قدم غیر متزلزل ایمان والے صابر بندے بھی تم کو معلوم ہوگئے اور کمزور و ضعیف بھی بالکل وضح ہوگئے۔ اور منافقین کا حلا بھی تم پر گیا۔ گویا اس مصیبت کی چھلنی نے چھانٹ چھانٹ کر ہر قسم کو الگ الگ کردیا۔ تم کو وقت مل گیا کمزور اپنی کمزوری کو دور کرلیں اور منافقین سے تم کبھی دوستی اختیار نہ کرو اس لئے کہ وہ بظاہر اسلام کا دم بھر تے ہیں اور اندر سے پکے کافر ہیں۔ ان کی پالیسی ہمیشہ دوہری رہی ہے۔ اور دوہری ہی رہے گی یہ اللہ کے نہیں بلکہ اپنی خواہش کے بندے ہیں۔ پھر ان کی خواہش جس طرف سے بھی پوری ہوتی نظر آئے گی۔ یہ اس طرف ہوں گے۔ یہ ہمیشہ بھاری پلڑے کے ساتھی ہیں۔ نبی اعظم و آخر ﷺ نے منافق کی چار علامتیں اپنی امت کو بتائہی ہیں جس میں وہ چاروں پائی جائیں وہ پکا منافق ہے اور جس میں بعض پائی جائیں وہ اس قدر منافق ہوگا۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی اس طرح ہے : ” اذا تمن خان واذا حدث کذب و اذا عاھد غدر واذ خاصم فجر “ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ خیانت کرتا ہے اور جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔ اور جب عہد کرتا ہے تو بےوفائی کرتا ہے اور جب جھگڑا کرتا ہے تو ناحق کی طرف جاتا ہے۔ “ بات واضح ہوگئی کہ ایک سچے مسلمان کے قول اور عمل میں مطابقت ہونی چاہیے جو کچھ کہے اسے کر کے دکھائے اور جو کرنے کی نیت نہ ہو یا کرنے کی ہمت نہ ہو تو زبان سے بھی نہ نکالے۔ کہنا کچھ اور کرنا کچھ اور یہ انسان کی ان بدترین صفات میں سے ہے جو اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی نگاہ میں نہایت مبغوض ہیں۔ پھر ایسا کیوں کہ ایک شخص اس اخلاقی عیب میں مبتلا ہو جو اللہ پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتا ہو۔ ایک بار پھر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ” میدان احد میں جو کچھ تم کو پیش آیا تو وہ ” باذن اللہ “ ہی تھا۔ کیا للہ ایسا پسند کرتا تھا ؟ ظاہر ہے کہ ہرگز نہیں۔ بلکہ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ہر عمل کے ساتھ اس کا نتیجہ لگا دیا ہے۔ جیسا عمل ہوگا ویسا ہی اس کا نتیجہ اور اس کو ” اذن اللہ “ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو قانون بنا دیا ہے۔ وہ کبھی اس کے خلاف نہیں کرتا اس لئے تمہاری عملی کوتاہی کا نتیجہ بھی ظاہر ہونا تھا کیونکہ یہ قانون خداوندی ہے۔ اس سے تم کو یہی سبق حاصل کرنا چاہیے کہ آئندہ پھر کبھی ایسی کوتاہی نہ کرنا۔ یہ بات اس لئے عرض کرنا پڑی کہ اس ” باذن اللہ “ کا مفہوم ذہن نشین ہوجائے تاکہ دوسری جگہوں پر جب لفظ آئے تو کوئی نئی الجھن پیدا نہ ہوجائے اس کی مزید تفصیل دیکھنا ہو تو اس جلد کا حاشیہ 117 ملاحظہ فرمائیں۔