3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 3:18

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ Open ayah 3:18 in the Quran reader

اللہ نے اس بات کی گواہی آشکارا کردی ہے کہ کوئی معبود نہیں مگر صرف اسی کی ذات فرشتے بھی اس کی شہادت دیتے ہیں اور وہ لوگ بھی جو علم رکھنے والے ہیں ، ہاں ! کوئی معبود نہیں ہے مگر وہی ایک طاقت و غلبہ والا اور حکمت والا

الٰه صرف اور صرف ایک ہے اور وہ اللہ ہی کی ذات ہے : 46: ’ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا ہُوَ : ہُوَبھی اسم ذات باری تعالیٰ ہے اور اسمائے حسنیٰ میں سب سے پہلے واقع ہوا ہے۔ ھُوَ صرف اشارہ اور اشارہ اس وقت کیا جاتا ہے جب کہ مشار الیہ نظر آئے یا اس کی بابت کوئی اطلاع و خبر دی جارہی ہو۔ اسم ھُوَ ایک حرف ہے اس میں جو حرف ” واؤ “ نظر آتا ہے وہ پیش کو کھینچ کر پڑھنے کے سبب پیدا ہوا ہے۔ اس لیے بھی یہ اسم مقدس دراصل وحدت مسمّٰى کی دلیل ہے اس کے سوائے کسی اور اسم میں ایسی مشابہت نہیں ہے۔ ھُوَ وہ اسم اعظم ہے جس کے انوار کی تجلیات سے پروردگار کے خصوصی اسرار ظاہر ہوتے ہیں اور جب کہ یہ اسم اشارہ ہے تو بیان کی وضاحت کے لیے اسم ” اللہ “ کو اس کے ساتھ لگا دیا جو ” ھو اللہ “ اسم ” ھو کا مسمی تمام کیفیات سے منزہ اور ابتدا و انتہا سے بالا تر و مقدس ہے کوئی ابتداء اس تک نہیں پہنچ سکتی اور کسی انتہاء کی اس تک رسائی نہیں ” اللہ “ کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ اس کی اولیت سے ابتداء عاجز اور اس کے آخری ہونے سے نہایت و انتہاء قاصر ہے۔ ” اللہ “ یہ اس ذات کا علم (نام) ہے جو الوہیت کی تمام صفات کی جامع ہے۔ یہ اسم اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ حقیتہً یا مجازاً کسی دوسرے کے حق کے لیے نہیں بولا جاتا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ اسم ایسا جامع ہے کہ اس کے حروف میں سے کسی حرف کو ہٹادینے سے بھی مراد ذات باری تعالیٰ ہی رہتی ہے مثلاً اگر پہلاحرف ” ا “ ہٹا دیا جائے تو ” للہ “ باقی رہ جاتا ہے جس کے معنی ہیں ” اس یعنی اللہ کے لیے “ اور اگر ” الف “ کے بعد ایک ” لام “ کو بھی ہٹا دیا جائے تو ” لہ “ رہ جاتا ہے جس کے معنی ہیں اس یعنی اللہ کے لیے اور اگر دوسرا ” لام “ بھی ہٹا دیا جاتا ہے تو ” ہ “ باقی ہ جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا اسم ذات ہے جیسا کہ اوپر ” ھو “ میں بیان کیا گیا۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ دل کی پوری توجہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی یاد میں مستغرق رہے۔ اس کے سوا کسی دوسری طرف توجہ نہ کرے کسی غیر سے کوئی امید نہ رکھے اس کے سوا کسی سے نہ ڈرے۔ اور ” الٰه “ کا مفہوم و مطلب بڑا وسیع ہے اور اس کی وسعت قرآن کریم میں جگہ جگہ ارشاد فرمائی گئی ہے ” الٰه “ کا معنی صرف ” معبود “ کیا جاتا ہے جو کسی صورت اور کسی حال میں بھی درست نہیں۔ بلاشبہ الٰه کے معنی معبود کے ہیں لیکن ہر جگہ صرف اور صرف یہی معنی مراد نہیں لیے جاسکتے۔ اس کی تفصیل کے لیے چند آیات کریمات بیان کی جاتی ہیں جو قابل غور ہیں۔ ارشاد الٰہی ہے : اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْبتْنَا بِهٖ حَدآئِقَ ذَاتَ بَھْجَةٍ مَا کَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْبِتُوْا شَجَرَھَا ءِ الٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ بَلْ ھُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَ. ” وہ کون ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا یا اور جس نے آسمان سے تمہارے لیے پانی برسایا۔ پھر اس آبپاشی سے خوش نما باغ اگا دیے حالانکہ تمہارے بس کی یہ بات نہ تھی کہ ان باغوں کے درخت اگائے کیا ان کاموں کے کرنے والے اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بھی ہے ؟ مگر یہ لوگ وہ ہیں جو اللہ کے ساتھ برابری کرتے ہیں۔ “ اس جگہ ” الٰه “ کے معنی کیا ہوئے ؟ 1 آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا۔ 2 آسمانوں سے پانی برسانے والا۔ 3 باغات کے درخت اگانے والا۔ یہ تینوں کام کرنے والا کون ہے ؟ ” اللہ اور اللہ کے سوا ظاہر ہے کہ کوئی معبود نہیں اور اللہ ہی ” الٰه “ ہے۔ “ اب آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا اللہ ہو اور جو کچھ آسمان و زمین میں موجود ہے سب کا خالق بھی اللہ ہو تو انسان کہاں رہتا ہے ؟ اس زمین کے اندر اور اسی آسمان کے نیچے پھر انسان اللہ کے سوا کسی دوسرے کو خالق سمجھے تو انسان نے کیا کیا ؟ اللہ کے ساتھ دوسرے کو برابر کردیا اور یہی شرک ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوا : ” اچھا بتاؤ وہ کون ہے جس نے زمین کو زندگی و معیشت کا ٹھکانہ بنا دیا۔ اس کے درمیان نہریں اری کردیں۔ اس کی درستی کے لیے پہاڑ بلند کردیے اور اس نے سمندر کے اند دو پانیوں میں نہ نظر آنے والی ایسی دیوار حائل کردی کہ دونوں اپنی اپنی جگہ محدود رہتے ہیں کیا اللہ کے ساتھ دوسرا معبود بھی ہے جو یہ سارے کام یا ان میں کوئی کام سر انجام دینے والا ہے۔ مگر ان لوگوں میں اکثر ایسے ہیں جو نہیں جانتے۔ “ الٰه مع اللہ (النمل 27 : 61 ) الٰه کون ہوا ؟ 1 زمین کو قرار بخشنے والا۔ 2 زمین میں دریاؤں کو بہانے والا۔ 3 پہاڑوں کو بلند کرنے والا۔ 4 دو پانیوں کے درمیان پردہ حائل کرنے والا۔ بات واضح ہو ﴾گئی کہ زمین کو قرار بخشنے والا دریا بہانے والا۔ پہاڑوں کو بلند کرنے والا۔ دو پانیوں کے درمیان آڑ بنانے والا اللہ ہی ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے اور وہی عبادت کے لائق ہے اور یہ سارے کام کرنے والے ہی کو ” الٰه “ کہا جاتا ہے۔ گویا اس جگہ الٰه کے معنی ایسے سارے کام کرنے والے کے ہیں۔ فرمایا حقیقت یہ ہے کہ لوگ ان باتوں کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ پھر ارشاد الٰہی ہوا : ” اچھا بتاؤ وہ کون ہے جو بےقرار دلوں کی پکار سنتا ہے جب وہ ہر طرف سے مایوس ہو کر اسے پکارنے لگتے ہیں اور وہ کون ہے وہ جو ان کے دکھ درد ٹال دیتا ہے ؟ وہ کون ہے جس نے تم کو زمین کا جانشین بنایا ؟ کوئی ہے جو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود بھی ہو افسوس تمہاری غفلت پر ، بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ تم نصیحت پذیر ہو۔ “ (النمل 27 : 62 ) ” الٰه “ کون ہوا ؟ 1 بےقرار دلوں کی پکار سننے والا۔ 2 دکھ درد اور تکلیف کو دور کرنے والا۔ 3 اس زمین میں بسانے والا۔ جس نے ان سارے کاموں میں سے کسی ایک کام کا کرنے والا بھی اللہ کے سوا کسی دوسرے کو جانا تو گویا اس نے اللہ کے سوا ” الٰه “ بنا لیا۔ خواہ وہ کون ہو کیونکہ ” الٰه “ کے یہ معنی مرادف ہیں اور ” الٰه “ ہی معبود حقیقی ہے۔ فرمایا یہ بہت ہی کم ہوتا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرسکو۔ کیونکہ اکثر انسان سنی بات کو ان سنی کردیتے ہیں۔ ارشاد فرمایا : ” اچھا بتاؤ وہ کون ہے جو باران رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے جو یہ کام کرتا ہو کہ اس کو معبود کہا جائے۔ اللہ بہت بلند ہے اس سے جس طرح یہ لوگ شرک بناتے ہیں۔ “ (النمل 27 : 63 ) ” الٰه “ کون ہوا ؟ وہی جو بران رحمت لاتا ہے اور ان ہواؤں کو بھی جو ان بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں اور یہی ہے جو عبادت کے بھی لائق ہے۔ اب بادل کو کسی دوسرے کے حکم کے تابع سمجھ کر بارش کرنے کے لیے جس کو بلایا گیا گویا وہ ” الٰه “ قرار دے دیا حالانکہ ” الٰه “ اللہ ہی ہے۔ پھر فرمایا کہ لوگ کیسے ہیں جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے سے باز نہیں آتے۔ اس طرح کی آیات کریمات بیشمار ہیں جن میں ” الٰه “ کے مختلف معنی بیان کیے گئے ہیں اور ” الٰه “ ہی سب معنوں کے مرادف ہے۔ جس نے ایسی کوئی صفت کسی غیر سے متصف کی تو اللہ کے ساتھ ایک طرح کا شریک بنایا حالانکہ وہ ہر طرح کے شرک سے پاک و منزہ ہے۔ یہ اور اس طرح کی بیسیوں آیات کریمات یہ بتاتی ہیں کہ ” الٰه “ کے معنی صرف معبود ہی نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات اس میں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات سے بڑھ کر کوئی عادل نہیں ہے : 47: ” وہ عدل کے ساتھ تدبیر و انتظام کرنے والا ہے۔ “ ” عادل “ برابر یا انصاف کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ ایسا عادل ہے جس کا ہر فعل عدل محض ہے۔ یعنی اس کا ہر کام بےعیب اور اپنی خوبیوں کے لحاظ سے بہترین ہے۔ ایک سچے مؤمن کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں اور اپنی خوبیوں کے لحاظ سے عمدہ ترین ہے تو اس کا فرض ہے کہ کسی مصیبت اور رنج میں اللہ تعالیٰ پر اعتراض نہ کرے۔ جو اس پر گزرے اس پر صابر رہے۔ تیوری نہ چڑھائے بلکہ اس کا شکر بجا لائے۔ اللہ تعالیٰ کی اس صفت کے مظہر پر لازم ہے کہ عدل و انصاف کرے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : وَ تَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا 1ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ 1ۚ وَ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ 00115 (الانعام 6 : 115) ” اور تمہارے پروردگار کی بات سچائی اور انصاف کے ساتھ پوری ہو کر رہے گی۔ اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں۔ وہ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ “ ایک جگہ ارشاد خداوندی ہے : ” اے مسلمانوں ! اللہ حکم دیتا ہے کہ ہر معاملہ میں انصاف کرو ” یَاْمُرُبِالْعَدْلِ “ اور سب کے ساتھ بھلائی کرو اور قرابت داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور تمہیں روکتا ہے کن باتوں سے ؟ بےحیائی کی باتوں سے۔ ہر طرح کی برائیوں سے اور ظلم وزیاتی کے کاموں سے اور وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ سمجھو اور نصیحت پکڑو۔ “ عدل تمام محاسن کی اصل ہے۔ جس انسان کے اندر یہ بات پیدا ہوگئی کہ جو بات کرنی چاہے انصاف کے ساتھ کرے اس نے گویا سب کچھ پا لیا اور حاصل کرلیا۔ ” وَالْاِحْسَانِ “ احسان سے یہاں مقصود حسن عمل ہے۔ جو بات کرو حسن و خوبی کی کرو۔ نیکی اور بھلائی کی کرو۔ یعنی بنیاد عمل بھلائی ہو ، برائی نہ ہو۔ جس نے یہ بات پا لی اس کے لیے اور کیا باقی رہا ؟ پھر جو ہم سے قرب کا رشتہ رکھتے ہیں وہ ہمارے حسن و سلوک کے زیادہ حق دار ہیں اس لیے ” اِیْتَانِى ذِى الْقُرْبٰى“ کی رعایت بھی ضروری ہوئی اور اس حکم پر اوامر کا معاملہ پورا ہوگیا۔ پھر ” فحشاء “ ” منکر “ اور ” بغی“ سے روک کر نواہی کے سارے مقاصد پورے کردیے۔ ” فحش “ سے مقصود وہ برائیں ہیں جو حد درجہ کی برائیاں تسلیم کرلی گئی ہیں مثلاً : زنا ، افتراء پردازی ، کنجوی وغیرہ۔ ” منکر “ میں ہر طرح اور ہر قسم و درجہ کی برائیاں آگئیں ” بغی“ میں ہر طرح کی زیادتی آگئی خواہ وہ کسی گوشہ اور کسی شکل میں کی گئی ہو جو کتاب ایسے سانچے لے کر آئی ہو۔ جس سے ایسے اعمال ڈھلتے ہوں۔ جو ایسی زندگیاں بناتی ہو ، اگر وہ ہدایت ، رحمت اور بشارت نہیں ہے تو اور کس طرح سے اسے پکارا جاسکتا ہے ؟ اور یہ سب کیا ہے ؟ عدل ہی عدل تو ہے۔ یہ تمام کام عدل و انصاف کے ہیں اور اللہ تعالیٰ ” عادل “ ہونے ہی کی باعث ان کا حکم دیتا ہے چناچہ ارشاد ملاحظہ ہوں 1: ” اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ جب تم فیصلہ کرو تو عدل و انصاف سے کرو۔ یہ بات اچھی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ “ (النساء 4 : 58 ) (المائدہ 5 : 42) (الاعراف 7 : 29) 2: بات جب کہو عدل کی کہو چاہے کسی رشتہ دار ہی کے خلاف پڑتی ہو۔ (الانعام 6 : 152 ) 3: جب تم کو حکومت ملے تو لوگوں میں انصاف کرو اور اپنی خواہشات نفسانی پر مت چلو ورنہ تم اللہ کے راستے سے بھٹک جاؤ گے اور جو کوئی اللہ کے راستے سے بھٹک جائے تو ایسے لوگوں کو سخت عذاب ہوگا۔ بسبب اس کے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا۔ (ص 38 : 26) 4: ایسا نہ ہو کہ کسی شخص یا قوم کی دشمنی تم کو بےانصافی پر آمادہ کردے۔ عدل کرو ، یہی بات تقویٰ سے قریب تر ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے عملوں سے باخبر ہے۔ (المائدہ 5 : 8) احادیث میں بھی ” عدل “ کی بہت فضیلت آئی ہے : 1: حضرت ابو سعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” اللہ کو سب سے زیادہ محبوب امام عادل ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بیٹھنے والوں میں سب سے زیادہ امام عادل ہی ہوگا۔ “ (ترمذی) 2: حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا عادل اور منصف بادشاہ کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔ (ترمذی ) 3: حضرت عیاض بن عمار ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا امام عادل جنت کا مستحق ہے۔ (مسلم) 4: حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے روز عرش الٰہی کے سایہ میں سات قسم کے لوگ ہوں گے اور ایک ان میں امام عادل ہوگا۔ (بخاری) فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود حقیقی ہے : 48: ” فرشتے بھی اس کی شہادت دیتے ہیں “ ، ” الملئکة “ فرشتوں کا تصور ہر قوم میں موجود رہا ہے اور اس طرح اہل کتاب اور مشرکین مکہ میں بھی یہ تصور موجود تھا اور یہ وہی مخلوق ہے جسے اکثر مشرک قومیں دیوتا کا لقب دے کر شریک خدائی سمجھ رہی ہیں۔ کسی گروہ نے ان کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا اور مقصد سب کا اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنا سفارشی بنانا ہی تھا۔ مطلب یہ ہوا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی وہ مخلوق ہیں جو مجسمہ بھلائی ہیں ان سے تو برائی سرزد ہی نہیں ہوتی اور شرک سے بڑھ کر تو کوئی بڑی برائی اور ہے ہی نہیں لہٰذا تم خود ہی غور کرو کہ فرشتے ان اوصاف سے متصف کیسے ہو سکتے ہیں ؟ وہ تو خود اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے او وہ تو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے ہیں اور اللہ کے حکم کے پابند ہیں ایسے پابند کہ اس کے حکم کے سوا وہ کوئی حرکت بھی نہیں کرتے چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ ہُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ 0049 یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ 0050 (النمل 16 : 49 ۔ 50 ) ” اور آسمانوں میں جتنی چیزیں ہیں اور زمین میں جنتے جانور ہیں سب اللہ کے آگے سربسجود ہیں اور نیز فرشتے بھی اور وہ کبھی سرکشی نہیں کرتے۔ وہ تو اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں جو ان کے اوپر موجود ہے اور جو کچھ حکم انہیں دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ “ ایک جگہ اہل کتاب اور خصوصاً نصاریٰ کو مخاطب کر کے کہا جاتا ہے جو اس سورة مبارکہ میں اصل مخاطین ہیں : وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ 1ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا یَشْفَعُوْنَ 1ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَهُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ 1ؕ کَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ. (المائدہ 21 : 26۔ 29) ” اور دیکھو انہوں نے کہا ہے کہ خدائے رحمن نے اپنے لیے اولاد بنائی ہے۔ پاکیزگی ہے اس کے لیے یہ لوگ جنہیں اس کی اولاد بناتے ہیں وہ تو اس بات کا وہم و گمان بھی نہیں کرسکتے بلکہ وہ تو سا کے معزز بندے ہیں اور وہ اس کے آگے بڑھ کر بات نہیں کرسکتے وہ اس کے حکم پر سرتار سر کاربند رہتے ہیں۔ جو کھ ان کے سامنے ہے او جو کچھ ان کے پیچھے ہے سب اللہ جانتا ہے۔ ان کی مجال نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنی سفارش سے بخشوا لیں مگر ہاں ! جس کی بخشش اللہ پسند فرمائے اور وہ تو اس کی ہیبت سے خود ہی ڈرتے رہتے ہیں اور ان میں سے اگر کوئی ایسی جرات کرے اور کہے کہ اللہ کے سوا میں معبود ہوں تو اس کی پاداش میں ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے ہم اسی طرح ظلم کرنے والوں کو ان کے ظلم کا بدلہ دیتے ہیں۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا : اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۠ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَیُسَبِّحُوْنَهٗ وَلَهٗ یَسْجُدُوْنَ. (الاعراف 7 : 206) ” جو اللہ کے حضور مقرب ہیں وہ کبھی بڑائی میں آکر اس کی بندگی سے نہیں جھجھکتے وہ اس کی پاکیزگی وثناء میں زمزمہ سبخ رہتے ہیں اور اس کے آگے سر بسجود ہوتے ہیں۔ “ صاحب علم لوگوں کی بھی شہادت یہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں : 49: ” جو لوگ علم رکھنے ولے ہیں “ اولوا العلم ” علم سے مراد علم حقائق ہے نہ کہ کوئی اور علم۔ جو علم والے سمجھتے ہیں وہ جاہل کہاں سمجھ سکتے ہیں ، کیوں ؟ اس یے کہ حقیقت ان کی عقل سے ہی وراء ہے۔ جیسے بعض جاہل قوموں نے خدا کا وجود تو تسلیم کیا ہے لیکن وجود معطل ” جو لینا ہے لے لیں گے محمد ﷺ سے “ سمجھا ہے یا ایسی صفات سے موصوف جانا ہے جو کمالات الٰہی کے منافی ہ۔ اسلام کا خدا خدائے معطل نہیں۔ ہاں ! منظم ہے ، کارساز ہ۔ ہر ایک اور ہر کام جو اس کی ذات کے لائق ہے بنانے والا ہے اور جو اس کی ذات کے منافی ہے وہ کبھی نہیں کرتا اور ہرگز نہیں کرتا۔ کوئی نہیں جو اسکے چڑچڑائے۔ اہل علم وہی ہیں جو اہل ذکر ہیں۔ اس لیے ایک جگہ ارشاد فرمایا : فَسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّكْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ” اگر منکریں حق ! اگر خود تمہیں یہ بات معلوم نہیں تو ان لوگوں سے دریافت کرلو جو آسمانی کتابوں کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں یعنی اہل کتاب۔ “ اس کی تفصیل ایک جگہ اس طرح ارشاد فرمائی: قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى کَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَبَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْـًٔا وَّلَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ 1ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ. (آل عمران 3 : 64) ” اے پیغمبر اسلام تم یہود و نصاریٰ سے کہه دو کہ اے اہل کتاب تم اختلاف نزاع کی ساری باتیں چھوڑ دو اس بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے دونوں کے لیے یکساں طور پر مسلم ہے۔ وہ کیا ہے ؟ یہی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ کسی کی ہستی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ ہم میں سے کوئی ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ ایسا باتاؤ نہ کرے کہ خدا کو چھوڑکر اسے اپنا پروردگار بنا لے۔ پھر اگر وہ روگردانی کریں تو تم کہه دو گواہ رہنا کہ انکاری تم ہو اور ہم تو اللہ وحدہ لا شریک لہ کو ماننے والے ہیں۔ “ ” العلیم “ بغیر کسی کے بتائے جانے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو ہرچیز کے اول ، آخر ، ظاہر ، باطن ، ماضی ، حال اور مستقبل کے ذرہ ذرہ حالات سے پورے طور پر آگاہ ہے۔ بلکہ اس کے لیے ماضی اور مستقبل کوئی حقیقت نہیں رکھتے اور یہ علم اسکا ذاتی علم ہے یعنی اشیاء کے موجود ہونے اور دیکھنے بھالنے کے بعد کا نہیں بلکہ چیزوں کے وجود سے پہلے ہی تھا اور یہ علم خاصہ خدائے قدوس و حدہ لا شریک لہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا علم اس کا ذاتی ہے اور ساری مخلوقات کا علم خواہ کوئی نبی و رسول ہو ، ولی اللہ ان سب کا علم اس کا عطا کردہ ہے اور ان سب میں سے کسی کا علم بھی اس کا ذاتی علم نہیں ہے۔ ارشاد الٰہی ہے : ” جب انسان اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے تو کچھ بھی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ اس کو کان اور سماعت آنکھیں اور بصارت ، دل اور سمجھ سوچ جیسی نعمتوں سے نوازتا ہے تاکہ وہ (انسان) شکر کرے۔ “ (النحل 16 : 78) انسان کو بولنا سکھاتا ہے۔ (الرحمٰن 4 : 55 ) اور قلم کے ذریعے سے اس کو علم سکھاتا ہے۔ (العلق 96 : 2) غرض کہ اس کو وہ کچھ سکھاتا ہے جو وہ نہ جانتا تھا۔ (العلق 96 : 5) معبود وہی ہے جو حقیقت میں طاقت و غلبہ والا اور حکمت والا ہے : 50: اصل میں ” اَلْعَزِیْزُ الحَكِیْمُ “ کے الفاظ ہیں۔ ” العزیز “ دراصل عزیز وہ ذات ہے جس کی نظیر نہ ہو اور جس کی طرف حاجت بیحد ہو۔ جس کی ہرچیز پر غلبہ حاصل ہو۔ چناچہ ارشاد خداوندی ہے : ” عزت اور غلبہ تو سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ “ (یونس 10 : 65) ” جو لوگ عزت حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار کو اپنا دوست بناتے ہیں وہ سن لیں کہ عزت تو سب اللہ ہی کے لیے ہے۔ “ (النسا 4 : 139) ” جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کو معبود بناتے ہیں کہ تاکہ وہ ان کے لیے مدد اور غلبہ کا ذریعہ بن جائیں وہ خوب سن لیں کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا وہ باطل معبود تو ان کی عباتد سے بھی منکر ہوجائیں گے۔ “ (مریم 19 : 81 ، 82) ” الحکیم “ دانا۔ حکمت کے معنی ہیں بہترین چیز کا بہترین علم کے ذریعے پہچان لینا۔ تمام چیزوں سے بہترین خدائے قدوس و حدہ لا شریک لہ کی ذات اقدس ہے اور یہ طے شدہ امر ہے کہ اس مالک الملک عزاسمہ وجل مجدہ کی حقیقت اصلیہ کو سوائے اس کی ذات کے اور کوئی نہیں جانتا۔ لہٰذا حکیم مطلق ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ہاں ! مجازی طور پر حکیم کا لفظ ایسے شخص پر بولا جاتا ہے جو کسی صنعت و حرفت میں پورا کال رکھتا ہو۔ جس شخص کو وہ حکیم کل اللہ رب العزت و الجلال حکمت عطا فرمائے اس کی نظر دنیا سے اٹھ جاتی ہے اور عاقبت پر پڑجاتی ہے۔ اس کی زبان سے کلمات بھی اس ذوق سلیم کے مطابق ہی نکلتے ہیں چناچہ سید المرسلین خاتم النّبیین ﷺ کے کلمات حکمت سازی مخلوق کے کلمات سے بڑھ کر ہیں کیونکہ وہ ہی کلمات ہیں جو براہ راست اس ” حکیم کل “ ذات نے آپ ﷺ کے سینہ پر نازل فرمائے۔ ارشاد باری ہے : ” اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے اور جس کو حکمت مل جائے تو یقیناً اسے بڑی بھلائی مل گئی۔ “ (البقرہ 2 : 269) ” جس بندے کو اللہ تعالیٰ حکمت عطا فرماتا ہے اور وہ بندہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے تو یہ شکر اس کے بندے ہی فائدے کے لیے ہے اللہ تعالیٰ تو بےنیاز اور خوبیوں والا ہے۔ “ (لقمان 31 : 12) ” اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو کتاب اور نبوت کے ساتھ ساتھ حکمت سے بھی نوازا ہے بھلا ان سے کیسے ممکن تھا کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی بجائے اپنی اور فرشتوں کی عبادت کرنے کو کہتے ؟ وہ تو یہی کہتے رہے کہ اللہ والے بن جاؤ اور فرشتوں اور پیغمبروں یا کسی اور کو بھی رب قرار نہ دو بھلا وہ اسلام لانے کے بعد مسلمانوں کو کفر کی تعلیم کیوں دیتے ؟ “ (آل عمران 3 : 79 ، 80) ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : ” یہ اللہ تعالیٰ کے وہ بندے ہیں جن کو اس نے کتاب ، حکمت اور نبوت عطا فرمائی اور ہدایت سے نوازا پس تم بھی انہیں کی ہدایت کے پیروی کرو۔ “ (النمل 16 : 125) مختصریہ کہ عبادت بدنی ہو ، ملالی ہو یا قولی ہر طرح کی عبادت کا مستحق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کے سوا کوئی بھی نہیں جو عبادت کے لائق ہو اور وہی سب طاقتوروں سے زیادہ طاقتور ہے اور سب دانائوں سے زیادہ دانا تر ہے وہی حکمت والا ہے۔ وہی خالق ومالک حقیقی ہے انسانوں کو چاہیے کہ وہ بلا شرکت غیرے اس کی اور صرف اس کی عبادت کریں۔
Ayah 3:19

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader

بلاشبہ { الدین } اللہ کے نزدیک { الاسلام } ہے اور یہ جو اہل کتاب نے آپس میں اختلاف کیا یہ محض اس لیے ہوا کہ وہ علم پانے کے بعد اس پر قائم نہیں رہے اور آپس کی ضد اور عناد سے الگ الگ ہوگئے اور یاد رکھو کہ جو کوئی اللہ کی آیتوں سے انکار کرتا ہے تو اللہ کا قانون جزا بھی حساب لینے میں سست رفتار نہیں

” دین “ کے لفظ نے جزاء کی حقیقت واضح کردی : 51: قرآن کریم نے نہ صرف اس موقع پر بلکہ عام طور پر جزاء کے لیے ” الدین “ کا لفظ اختیار کیا ہے اور اسی لیے وہ قیامت کو بھی عموماً ” یوم الدین “ سے تعبیر کرتا ہے۔ یہ تعبیر اس لیے اختیار کی گئی کہ جزاء کے بارے میں جو اعتقاد پیدا کرنا چاہتا تھا اس کے لیے یہی تعبیر سب سے زیادہ موزوں اور واقعی ہی تعبیر تھی وہ جزاء کو اعمال کا قدرتی نتیجہ اور مکافات قرار دیتا ہے۔ نزول قرآن کے وقت پیروان مذہب کا عالمگیراعتقاد یہ تھا کہ جزا محض خدا کی خوشنودی اور اس کے قہرو غضب کا نتیجہ ہے اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی اکثر لوگ مسلمان کہلانے کے باوجود یہی اعتقاد رکھتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اعمال کے نتائج کو اس میں دخل نہیں۔ الوہیت اور شاہیت کا تشابہ تمام مذہبی تصورات کی طرح اس معاملے میں بھی گمراہی فکر کا موجب ہوا تھا اور موجب ہے۔ لوگ دیکھتے تھے کہ ایک مطلق العنان بادشاہ کبھی خوش ہو کر انعام و اکرام دینے لگتا ہے اور کبھی بگڑ کر سزائیں دینے لگتا ہے۔ اس لیے خیال کرتے تھے کہ خدا کا بھی ایسا ہی حال ہے وہ کبھی ہم سے خوش ہوجاتا ہے۔ کبھی غیظ و غضب میں آجاتا ہے۔ طرح طرح کی قربانیوں اور چڑھاو وں کی رسم اس اعتقاد سے پڑی تھی۔ لوگ دیوتاؤں کا جوش غضب ٹھنڈا کرنے کے لیے قربانیاں کرتے اور ان کی نظر التفات حاصل کرنے کے لیے نذریں چڑھاتے تھے۔ یہودیوں اور عیسائیوں کا عام تصور ذرا اس سے بلند ہوا لیکن جہاں تک اس معاملے کا تعلق ہے ان کے تصور نے بھی کوئی خاص ترقی حاصل نہ کی۔ یہودی بہت سے دیوتاؤں کی جگہ خاندان اسرائَل کا ایک خدا مانتے تھے لیکن پرانے دیوتاؤں کی طرح یہ خدا بھی شامل اور مطلق العنان خدا تھا۔ وہ کبھی خوش ہو کر انہیں اپنی چہیتی قوم بنا لیتا کبھی جوش انتقام میں آکر ان کو بربادی و ہلاکت کے حوالے کردیتا۔ مطلب اس کلام کا یہ ہے کہ یہودیوں کا یہ ایک تصور تھا۔ عیسائیوں کا اعتقاد تھا کہ آدم کے گناہ کی وجہ سے اس کی پوری نسل مغضوب ہو گئی اور جب تک خدا نے اپنی صفت انبیت کو بشکل مسیح قربان نہیں کردیا اس کے نسلی گناہ اور مغضوبیت کا کفارہ نہ ہوسکا۔ لیکن قرآن کریم نے جزا و سزا کا اعتقاد ایک دسوری ہی شکل و نعیت کا پیش کیا ہے۔ وہ اسے خدا کا کوئی ایسا فعل نہیں قرار دیتا جو کائنات ہستی کے عام قوانین و ظام سے الگ ہو بلکہ اس کا ایک قدرتی گوشتہ قرار دیتا ہ۔ وہ کہتا ہے کائنات ہستی کا عالگیر قانون یہ ہے کہ ہر حالت کوئی نہ کوئی اثر رکھتی ہے اور ہرچیز کا کوئی نہ کوئی خاصہ ہے۔ ممکن نہیں یہاں کوئی شے اپنا وجود رکھتی ہو اور اثرات و نتائج کے سلسلہ سے باہر ہو۔ پس جس طرح جسم انسانی کے قدرتی انفعالات ہیں اسی طرح روح انسانی کے لیے بھی قدرتی انفعالات ہیں۔ جسمانی وثرات جسم پر مرتب ہوتے ہیں معنوی موثرات سے روح متاثر ہوتے ہیں۔ اعمال کے یہی قدرتی خواص و نتائج ہیں جنہیں سزا و جزاء سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اچھے عمل کا نتیجہ اچھائی ہے اور یہ ثواب ہے۔ برے عمل کا نتیجہ برائی ہے اور یہ عذاب ہے۔ ثواب و عذاب کے ان اثرات کی نوعیت کی ہوگی ؟ وحی الٰہی نے ہماری قہم و استعداد کے مطابق اس کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس نقشہ میں ایک مرقع بہشت کا ہے۔ ایک دوزخ کا۔ بہشت کے نعائم ان کے لیے ہیں جن کے اعمال اچھے ہوں گے دوزخ کی عقوبتیں ان کے لیے ہیں جن کے اعمال برے ہوں گے۔ اس مضمون کو سمجھنے کے لیے قرآن کریم کی اس آیت پر غور کرنا چاہیے پھر اس مضمون کی دوسری آیات پر نظر رکھنے سے بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے گی۔ ارشاد الٰہی ہے : لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ 1ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ہُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ 0020 (الحشر 59 : 20) ” اصحاب جنت اور اصحاب دوزخ اپنے اعمال و نتائی میں یکساں نہیں ہو سکتے کامیاب انسان وہی ہیں جو اصحاب جنت ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ کا ٹھہرایا ہوا دین ” الاسلام “ ہی ہے : 52: یقیناً دین تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہی ہے نہ کہ مطلقاً ہر وہ چیز جسے دین کے نام سے موسوم کردیا جائے۔ جیسا کہ تمام مذاہب نے کیا اور آج بد قسمتی سے مسلمان بھی کر رہے ہیں اور دراصل اس آیت میں رد کیا جارہا ہے بددینوی کے اس عقیدہ کا کہ ہر دین دین حق ہے اور ہر مسلک خدا ہی کی راہ ہے اور دیر و حرم۔ کفر و ایمان میں فرق صرف لفظی و اصطلاحی ہے اور آج کل پاپولر لوگ کہتے ہیں کہ ” اجی جہاں کوئی لگا ہوا ہے صحیح لگا ہوا ہے۔ “ کیا کوئی شخص دن کو رات کہه دے اور رات کو دن کہه دے تو وہ ٹھیک ہے ؟ اونٹ کو بکری اور بکری کو اونٹ کہه دے تو ٹھیک ہے ؟ روشنی کو اندھیرا اور اندھیرے کو روشنی کہه دے تو ٹھیک ہے ؟ نہیں اور یقیناً نہیں۔ ذرا غور کرو کہ خط مستقیم کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ دو نقطوں کے درمیان ایک سیدھا خط صرف ایک ہی ممکن ہے اور وہی خط مستقیم ہے اور یہ صرف اور صرف ایک ہی ممکن ہے۔ باقی سب خطوط جتنے بھیں ڈالتے جاؤ گے سب کے سب مخنی اور کج ہوں گے۔ راہ مستقیم اللہ اور بندے کے درمیان صرف ایک ہے اور اس کا نام اسلام ہے اور یہی وہ دین ہے جو تمام ھادیان حق کا ہمیشہ سے چلا آرہا ہے۔ اس کی تفصیل اس طرح کی جاسکتی ہیں۔ ” الاسلام “ کیا ہے ؟ دین اسلام۔ وہ کہتا ہے کہ اللہ کا ٹھہرایا ہوا دین جو کچھ ہے یہی ہے اسکے سوا کچھ نہیں۔ ہاں ! و کچھ بنالیا گیا ہے وہ انساین گروہ بندیوں کی گمراہیاں ہیں۔ پس تم خدا پرستی اور عمل صالح کی اصل ، جو تم سب کے یہاں اصل دین ہے اس پر جمع ہوجاؤ اور خود ساختہ گمراہیوں سے باز آجاؤ ۔ چناچہ ارشد الٰہی ہے : ” تم ہر طرف سے منہ پھیر کر ” الدین “ کی “ طرف رخ کرو یہی خدا کی بناوٹ ہے جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی نہیں ہو سکتی ” الدین القیم “ ہے یعنی سیدھا اور سچا دین۔ لیکن اکثر انسان ایسے ہیں جو نہیں جانتے۔ دیکھو اسی ایک اور صرف ایک اللہ کی طرف متوجہ ہوجاؤ اس کی نافرمانی سے بچو۔ نماز قائم کرو اور مشرکوں سے نہ ہوجاؤ جنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور گوہ بندیوں میں بٹ گئے۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس میں مگن ہے۔ “ (الروم 30 : 30) اس نے دین کے لیے ” الاسلام “ کا لفظ اسی لیے اختیار کیا ہے کہ ” اسلام “ کے معنی کسی بات کو مان لینے اور فرمانبرداری کرنے کے ہیں۔ وہ کہتا ہے دین کی حقیقت یہی ہے کہ اللہ نے جو قانون سعادت انسان کے لیے ٹھہرا دیا ہے اس کی ٹھیک ٹھیک اطاعت کی جائے۔ وہ کہتا ہے یہ سب کچھ انسان ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ تمام کائنات ہستی اس اصل پر قائم ہے۔ سب کے بقاء و قیام کے لیے اللہ نے کوئی قانون عمل ٹھہرایا ہے اور سب اس کی اطاعت کر رہے ہیں اگر ایک لمحہ کے لیے بھی روگردانی کریں تو کارخانہ ہستی درہم برہم ہوجائے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے : ” پھر کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کا ٹھہرایا ہوا دین چھوڑ کر کوئی دوسرا دین ڈھونڈ نکالیں ؟ حالانکہ آسمان و زمین میں جو کوئی بھی ہے سب چاروناچار اس کے ٹھہرائے ہوئے قانون عمل کے آگے جھکے ہوئے ہیں اور بالاخر سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ “ (آل عمران 3 : 82) وہ جب کہتا ہے کہ ” الاسلام “ کے سوا کوئی دین اللہ کے نزدیک مقبول نہیں تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ دین حقیقی کے سوا جو ایک اور صرف ایک ہی ہے اور تمام رسولوں کی مشترک تعلیم ہے۔ انسانی ساخت کی کوئی گروہ بندی مقبول نہیں۔ سورة آل عمران میں جہاں یہ بات بیان کی ہے کہ دین حقیقی کی راہ تمام مذہبی راہنماؤں کی تصدیق اور پیروی کی راہ ہے وہیں متصلاً یہ بھی کہه دیا ہے کہ : ” جو کوئی اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین چاہے گا تو یاد رکھو کہ اس کی راہ کبھی قبول نہ کی جائے گی اور وہ آخرت کے دن دیکھے گا کہ یقیناً تباہ ہونے والوں میں سے ہے۔ “ (آل عمران 3 : 85) یہی وجہ ہے کہ وہ تمام پیروان دعوت کو بار بار متنبہ کرتا ہے کہ دین میں تفرقہ اور گروہ بندی سے بچیں اور اس گمراہی میں مبتلا نہ ہوجائیں جس سے قرآن کریم نے نجات دلائی ہے۔ کیا ہم نے ایسا ہی کیا ؟ کیا ہم گروہ بندی سے بچ گئے ؟ کیا آج ہم صرف اسلام کے نام پر اکتفا کرتے ہیں ؟ کیا آج ہماری پہچان وہی ہے جو قرآن کریم چاہتا ہے ؟ وہ کہتا ہے میری دعوت نے تمام انسانوں کو جو مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے دشمن ہو رہے تھے خدا پرستی کی راہ میں اس طرح جوڑ دیا کہ ایک دوسرے کے جاں نثار بھائی بن گئے۔ ایک یہودی جو پہلے حضرت مسیح (علیہ السلام) کا نام سنتے ہی نفرت سے بھر جاتا تھا۔ ایک عیسائی جو ہر یہودی کے خون کا پیاسا تھا۔ ایک مجوسی جس کے نزدیک تمام غیر مجوسی ناپاک تھے۔ ایک عرب جو اپنے سوا سب کو اس انسانی شرف و محاسن سے تہی دست سمجھتا تھا۔ ایک صابی جو یقین کرتا تھا کہ دنیا کی قدیم سچائی صرف اسی کے حصے میں آئی ہے ان سب کو دعوت قرآنی نے ایک صف میں کھڑا کردیا ہے اور اب یہ سب ایک دوسرے سے نفرت کرنے کی جگہ ایک دوسرے کے مذہبی راہنمائوں کی تصدیق کرتے اور سب کی بتلائی ہوئی متفقہ راہ ہدایت پر گامزن ہیں۔ اگر ایسا ہے ؟ تو اسلام یقیناً ان کا دین ہے کیونکہ اسلام کا یہی منشاء ہے۔ اگر آج پھر وہی تشتت ، وہی تفرقہ ، وہی نفرت ، وہی گروہ بندی ہے جو قبل از اسلام تھی تو اسلام کا ہے کو ہوا ؟ کیا اسلام اسلام کے شور کا نام اسلام ہے ؟ کیا اسلامی نام رکھ لینے کا نام اسلام ہے ؟ مذہب کے خانہ میں اسلام لکھ لینے کا نام اسلام ہے ؟ ہرگز نہیں اور یقیناً نہیں بلکہ اسلام ایمان یعنی ولی یقین اور اعال صالح کا نام ہے اور قرآن کریم کے دوسرے مقامات پر اس کی تشریح کردی گئی ہے کہ اسلام اس وقت ہے جب سے انسانیت نے اس دنیا میں قدم رکھا اور انبیاء کرام کا سلسلہ اللہ تعالیٰ نے جاری فرمایا اور ہر نبی کی دعوت ” دین اسلام “ ہی کی دعوت تھی۔ بلاشبہ یہ مسئلہ خود الہ اسلام و اہل علم کے درمیان مختلف فیہ رہا اور بڑے بڑے جید علمائے اسلام نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ” دین اسلام “ صرف محمد رسول اللہ ﷺ ہی کے لائے ہوئے دین کا نام ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کوئی نیا دین نہیں لائے بلکہ آپ ﷺ اس ” دین “ کے آخری داعی ہیں جو سارے انبیاء کرام اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی اپنی امتوں کے سامنے پیش کرتے رہے جیسا کہ اس سورة کی آیت 85 میں اس کی تشریح موجود ہے۔ کیونکہ وہاں اللہ تعالیٰ کا یہ اعلان درج ہے کہ : وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُ 1ۚ (آل عمران 3 : 85) ” جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرے وہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا ۔ “ اور یہ بات دوسرے انبیاء کرام کے ذکر کے بعد ارشاد فرمائی گئی۔ ملاحظہ ہو سورة آل عمران کی آیت 85 کی تشریح : غور کیجیے سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بعد پہلے رسول بنا کر بھیجے گئے رسول کا نام نوح (علیہ السلام) ہے اور ان کا یہ اعلان قرآن کریم میں آج بھی موجود ہے : اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ. ” میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلموں میں شامل ہو کر رہوں۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کے متعلق ارشاد خداوندی ہوتا ہے : اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ 1ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَوَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَیَعْقُوْبُ 1ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ اَمْ کُنْتُمْ شُهَدَآءَاِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ 1ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ 1ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبَآىِٕكَ اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا 1ۖۚ وَّنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ.(البقرہ 2 : 131۔ 132) ” اس وقت کا ذکر کرو جب اس کے رب نے اس سے کہا مسلم یعنی فرمانبردار ہوجاؤ اس نے کہا میں مسلم ہوگیا یعنی تمام جہانوں کے رب کا فرمانبردار ہوگیا اور اس بات کی وصیت کی تھی ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو اور یعقوب (علیہ السلام) نے بھی کہ اے میرے بیٹو ! اللہ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند کیا ہے لہٰذا تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب (علیہ السلام) کی وفات کا وقت آیا ؟ جب کہ اس نے اپنی اولاد سے پوچھا کہ تم کس کی بندگی کرو گے میرے بعد ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم بندگی کریں گے آپ ﷺ کے معبود آپ (علیہ السلام) کے باب دادا ابراہیم (علیہ السلام) اسماعیل (علیہ السلام) اسحٰق (علیہ السلام) کے معبود کی اس کو اکیلا معبود مان کر اور اس پر اس کے مسلم یعنی فرمانبردار ہیں۔ “ مزید تشریح کے لیے عروة الوثقیٰ جلد اول سورة بقرہ کی آیت 131 تا 133 ملاحظہ کریں۔ فَمَا وَجَدْنَا فِیْھَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ.(الذاریات 51 : 36) ” ہم نے قوم لوط کی بستی میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔ “ سیدنا یونس (علیہ السلام) بارگاہ رب ذوالجلال میں اپنی عرض اس طرح پیش کرتے ہیں کہ : تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ 00101 (یوسف 12 : 101) ” اے رب کریم ! مجھے مسلم ہونے کی حالت میں صالحین کا ساتھ پورا پورا عطا فرما دے۔ “ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ : یٰقَوْمِ اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْا اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ.(یونس 10 : 84) ” اے میری قوم کے لوگو ! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو اس پر بھروسہ کرو اگر تم ” مسلم “ ہو۔ “ مرتے وقت فرعون کی زبان سے اس طرح اعلان کرایا گیا کہ : اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ 0090 (یونس 10 : 90) ” میں مان گیا کہ کوئی معبود اس کے سوا نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں ” مسلموں “ میں سے ہوں۔ “ اس سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ بنی اسرائیل کا اصل مذہب یہودیت نہیں بلکہ اسلام تھا اور اس بات کو دوست و دشمن سب جانتے تھے۔ یہودیت تو بعد کی اختراع ہے اور جب انہوں نے اپنے مذہب کا نام یہودیت رکھ لیا تو ظاہر ہے جو بھی اس کے بعد ان کو مخاطب کرے گا اسی نام سے کرے گا جو انہوں نے خود انپا نام رکھ لیا اور اس نام سے انہوں نے ” مکمل “ دین بھی گڑ لیا۔ یعنی صرف اپنا نام ہی نہیں بلکہ پورا دین ہی بدل کر رکھ دیا اور بدقسمتی سے آج مسلمانوں نے بھی وہی کچھ کیا جو پچھلی قومیں کرتی آئی تھیں کہ ” اسلام “ کے نام پر متفق نہ ہوئے بلکہ بریلوی ، دیوبندی ، مقلد اور غیر مقلد کے بہت سے اور نام رکھ لیے اور پھر صرف نام ہی نہیں رکھے بلکہ نقشہ اسلام کو بھی بدل کر اپنی اپنی گروہ بندی کے مطابق تشکیل دے لیا اور اس پر جتنا افسوس کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔ دوسرے انبیاء بنی اسرائیل کا بھی یہی دین تھا چناچہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے : اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا ہُدًى وَّ نُوْرٌ 1ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ہَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ (المائدۃ 5 : 44) ” ہم نے توراة نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی اس کے مطابق وہ نبی جو مسلم تھے ان لوگوں کے معاملات کے فیصلے کرتے تھے جو یہودی ہوگئے تھے۔ “ یہی ” دین “ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا تھا چناچہ ملکہ سبا کا بیان قرآن کریم میں ہے کہ : اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ.(النمل 44 : 27) ” میں سلیمان کے ساتھ رب العالمین کی ” مسلم “ ہو گئی۔ “ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے حواریوں کے متعلق ارشاد الٰہی ہوتا ہے : وَاِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَبِرَسُوْلِیْ 1ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَاشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ. (المائدہ 5 : 111) ” اور جبکہ میں نے حواریوں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ایمان لائو مجھ (اللہ) پر اور میرے رسول پر تو انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور گواہ رہو کہ ہم سب ” مسلم “ ہیں۔ “ اس معاملہ میں اگر کسی صاحب کو یہ شک ہو کہ عربی زبان کے الفاظ ” اسلام “ اور ” مسلم “ ان مختلف ملکوں اور مختلف زبانوں میں کیسے مستعمل ہو سکتے تھے تو ظاہر ہے ہے کہ یہ محض ایک ناسمجھی کی بات ہے کیونکہ اصل عربی کے ان الفاظ کا نہیں بلکہ اس معنی کا ہے جس کے لیے یہ الفاظ عربی میں مستعمل ہوتے ہیں۔ دراصل جو حقیقت ان آیات میں سمجھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوا حقیقی دین مسیحیت ، یہودیت ، موسویت ، محمدیت یا کسی اور نام سے آیا ہوا نہیں بلکہ انبیاء کرام اور اور کتب آسمانی کے ذریعے سے آئے ہوئے فرمان الٰہی کے آگے سر اطاعت جھکا دینا ہے اور یہ رویہ جہاں جس بندہ خدا نے بھی جس زمانے میں اختیار کیا ہے وہ ایک ہی عالمگیر ، ازلی و ابدی دین حق کا متبع ہے۔ پھر اس دین کو جن لوگوں نے ٹھیک ٹھیک شعور اور اخلاص کے ساتھ اختیار کیا ہے ان کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد مسیح (علیہ السلام) اور مسیح (علیہ السلام) کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ کو ماننا تبدیلی مذہب نہیں بلکہ حقیقی دین کے اتابع کا فطری و منطقی تقاضا ہے بخلاف اس کے جو لوگ انبیائے کرام کے بعد ان کے ناموں سے بےسوچے سمجھے گھس گئے یا پیدا ہوگئے اور قومی ، گروہی و نسلی تعصبات نے جن کے لیے ان کے ناموں سے ایک مذہب کی حیثیت اختیار کرلی وہ بس یہودی یا عیسائی بن کر رہ گئے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت پر ان کی اس جہالت کی کلی کھل گئی اس لیے کہ انہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کا انکار کر کے نہ صرف یہ کہ آئندہ کے لیے مسلم رہنا قبول نہ کیا بلکہ اپنے اس فعل سے یہ ثابت کردیا کہ وہ پہلے ہی ” مسلم “ نہ تھے محض کسی اپنے ہی بنائے ہوئے گروہ کے افراد تھے اور اسی کے رہنا چاہتے ہیں۔ اہل کتاب ” اہل کتاب “ کہلانے کے باوجود کتاب کے اہل نہ تھے : 53: یہودی کیا تھے ؟ تورات کو کتاب الٰہی مان لینے اور تسلیم کرلینے کی وجہ سے اہل کتاب تھے۔ نصاریٰ کیا تھے ؟ انجیل کو کتاب الٰہی مان لینے اور تسلیم کرنے کی وجہ سے اہل کتاب۔ یہ دونوں گروہ آج بھی اہل کتاب ہی کے نام سے معروف ہیں۔ یہودی کھلم کھلا کہا کرتے تھے کہ نصاریٰ کا کوئی دین و مذہب نہیں اور نصاریٰ باوجود تورات کو ماننے کے ببانگ دہل کہتے تھے کہ یہودیوں کا کوئی دین و مذہب نہیں۔ اسلام آیا تو وہ دونوں گروہ باوجود اپنے سارے اختلافات کے اسلام کے مقابلہ میں اکٹھے ہوگئے اور کہنے لگے کہ جنت میں کوئی آدمی داخل نہیں ہو سکتا کب تک کہ یہودی یا نصرانی نہ ہو یعنی جب تک کوئی شخص یہودیت یا نصرانیت کی گروہ بندی میں داخل نہ ہو اور ان کی بنائی ہوئی گروہ بندی کا پٹا اپنی گردن میں نہ ڈالے وہ جنتی نہیں ہو سکتا۔ کیا اب ان کی ذاتی اور دونوں جماعتوں کے اندرونی اختلافات ختم ہوگئے ؟ ہرگز نہیں ! یہ تو اسلام کی مخالفت میں ان کا متحدہ محاذ تھا۔ ان کے اپنے رگ و ریشہ میں سارے اختلافات موجود تھے یہ تو ایک ظاہرداری تھی جو انہوں نے اسلام کے مقابلہ میں بنائی۔ پیروان مذہب نے اسلام کی مخالفت کیوں کی ؟ اس لیے کہ وہ انہیں جھوٹا کہتا ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ ان کی مخالفت اس لیے نہ تھی کہ وہ انہیں جھٹلاتا کیوں ہے بلکہ اصل مخالفت ان کی اسی وجہ سے تھی کہ وہ جھٹلاتا کیوں نہیں ؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ بالکل ایسا ہی ہوا ، ان کے مخالفت محض اس لیے تھی کہ وہ جھٹلاتا کیوں نہیں۔ یہ اس طرح کہ ہر مذہب کا پیرو چاہتا تھا کہ وہ صرف اسی کو سچا کہے باقی سب کو جھٹلائے اور چونکہ وہ یکساں طور پر سب کی تصدیق کرتا تھا اس لیے کوئی بھی اس سے خوش نہ رہ سکا۔ یہودی اس بات سے تو بہت خوش تھے کہ قرآن کریم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرتا ہے اور ان کو اولو العزم نبی تسلیم کرتا ہے لیکن وہ صرف اتنا ہی نہیں کرتا تھا بلکہ وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی بھی تصدیق کرتا تھا اور یہیں آکر اس میں اور یہودیوں میں نزاع شروع ہوجاتا تھا۔ عیسائیوں کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا تھا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) اور حضرت مریم [ کی پاکیزگی و صداقت کا اعلان کیا جائے ؟ لیکن قرآن کریم صرف اتنی ہی بات نہیں کرتا تھا وہ یہ بھی کہتا تھا کہ نجات کا دارومدار اعتقاد و عمل پر ہے نہ کہ کفارہ و اصطباغ پر اور قانون نجات کی یہ عالمگیر و سعت عیسائی کلیسا کے لیے ناقابل برداشت تھی کیونکہ یہ دونوں عقیدے ان کے مذہبی کی جان تھے اگرچہ انہوں نے ان کو خود گھڑا اور وضع کیا تھا لیکن وہ ان کو مذہبی امتیازی حیثیت سے مان چکے تھے۔ اسی طرح قریش مکہ کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی دل خوش صدا نہ تھی کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل (رح) کی بزرگی کا اعتراف کیا جائے لیکن جب وہ دیکھتے تھے کہ قرآن کریم اور پیغمبر اسلام ! جس طرح ان دونوں بزرگوں کی بزرگی کا اعتراف کرتا ہے اسی طرح یہودیوں کی پیغمبروں اور عیسائیوں کے داعی کا بھی معترف ہے تو ان کی نسلی او جماعتی غرور کو ٹھیس لگتی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ ایسے لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے پیرو کیونکر ہو سکتے ہیں جو ان کی بزرگی اور صداقت کی صفت میں دوسروں کو بھی لاکھڑا کرتے ہیں ؟ دعوت انبیاء ایک تھی اس میں کبھی اختلاف نہیں ہوا : 54: آدم (علیہ السلام) سے شروع ہو کر محمد رسول اللہ ﷺ تک سارے انبیاء کرام کی دعوت اصولی طور پر ایک ہی تھی لیکن ہر دور میں پیرو ان دعوت اس دعوت کی سچائی سے خود منحرف ہوگئے۔ وہ اپنے نبی کی تصدیق کرتے رہے اور اپنی کتاب کا نام لیتے رہے لیکن اس کے باوجود اس کی تعلیم اور اس کی لائی ہوئی ہدایت کے بجائے انہوں نے اپنی اہوا و خواہشات کی پیروی کی۔ ہر نبی کی دعوت دراصل یہی تھی اور خود نبی کریم ﷺ کی بھی دعوت یہی ہے کہ سب کو ان کی گم شدہ سچائی پر از سر نو جمع کردیا جائے۔ اگر وہ اپنے ہی نبی کی لائی ہوئی سچائی پر جمع ہوجائیں تو وہ دوسرے نبی کی لائی ہوئی سچائی کا انکار کر ہی نہیں سکتے تھے۔ اس لیے اسلام کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ کسی ایک نبی کا انکار سارے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے انکار کے مترادف ہے۔ کیوں ؟ اس لیے کہ ان سب کی دعوت اور ان سب کی لائی ہوئی سچائی ایک تھی۔ اس سلسلہ میں اس نے تمام پیروان مذاہب کی تمام گمراہیاں ایک ایک کر کے گنوائی ہیں جو اعتقادی اور عملی دونوں طرح کی ہیں پھر منجملہ ان سب کے ایک گمراہی سب سے بڑی گمراہی رہی ہے جس پر جابجا زور بھی دیا گیا ہے وہ گمراہی ویہ ہے جس کو اس نے تشتت و گروہ بندی کے نام سے موسوم کیا ہے۔ یعنی الگ الگ جتھے بنالینا اور ان میں ایسی روح کا پیدا ہوجانا جسے اردو زبان میں ” گروہ بندی “ کی روح سے تعبیر کیا جاتا ہے چناچہ قرآن کریم نے خود پیغمبر اسلام ﷺ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا۔ ” جن لوگوں نے اپنے ایک ہی دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور الگ الگ گروہ بندیوں میں بیٹ گئے اے پیغمبر اسلام ! تمہیں ان سے کوئی واسطہ نہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے جیسے کچھ ان کے اعمال رہے ہیں اس کا نتیجہ اللہ تعالیٰ انہیں بتلا دے گا۔ “ (الانعام 6 : 160) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” پھر لوگوں نے ایک دوسرے سے کٹ کر جدا جدا مذہب بنا لیے اور ہر ٹولی کے پلے پر جو کچھ پڑگیا ہے وہ اس میں مگن ہے۔ “ (المؤمنون 23 : 52) یہ اختلاف کیوں ہوا ؟ وہ کہتا ہے اختلاف کی وجہ صرف اور صرف اپنی اپنی ضد وعناد ہے۔ سب کے پاس ایک ہی تعلیم تھی لیکن تعلیم حاصل کرنے کے بعد لوگ اس پر قائم نہیں رہے اور اصل تعلیم بھلا دی ان کو ایک ہی دعوت دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود وہ آپس میں الگ الگ ہوگئے اور انہوں نے اللہ کی آیتوں سے انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کا قانون جزاء ان سب پر لاگو ہوگیا۔ حالانکہ سب کی بنیادی تعلیم صرف ایک تھی اس لیے کہ اسکا چشمہ ایک ہی تھا اس لیے ہر آنے والے کو ایک ہی جیسا پیغام دیا گیا۔ چناچہ وہ کہتا ہے کہ : وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ 0025 (الانبیا 21 : 25) ” اور اے پیغمبر اسلام ! ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول دنیا میں نہیں بھیجا مگر اس وحی کے ساتھ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس میری ہی عبادت کرو۔ “ وہ کہتا ہے دنیا میں کوئی بانی مذہب بھی ایسا نہیں ہوا جس نے ایک ہی دین پر اکٹھے رہنے کی اور تفرقہ و اختلاف سے بچنے کی تعلیم نہ دی ہو۔ سب کی تعیم یہی تھی کہ اللہ کا دین بچھڑے ہوئے انسانوں کو جمع کردینے کے لیے ہے۔ الگ الگ کردینے کے لیے نہیں ہے پس ایک پروردگار عالم کی بندگی و دنیاز میں سب متحد ہوجائو اور تفرقہ و مخاصمت کی جگہ باہمی محبت و یکجہتی کی راہ اختیار کرو۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ اللہ نے تمہیں ایک ہی جامہ انسانیت دیا تھا لیکن تم نے طرح طرح کے بھیس اور نام اختیار کرلیے اور رشتہ انسانیت کی وحدت سینکڑوں ٹکڑوں میں بکھر گئی۔ تمہاری نسلیں بہت سی ہیں اس لیے تم نسل کے نام پر ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں تمہاری قومیتیں بیشمار ہیں اس لیے ہر قوم دوسری قوم سے دست و گریباں ہورہی ہے۔ تمہارے رنگ یکساں نہیں اور یہ بھی باہمی نفرت وعناد کا ایک بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ تمہاری بولیاں مختلف ہیں اور یہ بھی ایک دو سے سے جدا رہنے کی بڑی حجت بن گئی ہے پھر ان کے علاوہ امیر و فقیر ، نوکر و آقا ، وضیع و شریف ، ضعیف و قومی اور ادنیٰ و اعلیٰ بیشمار اختلاف پیداکر لیے گئے ہیں اور سب کا منشاء یہی ہے کہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائو اور ایک دوسرے سے نفرت کرتے رہو۔ ایسی حالت میں بتلاؤ وہ رشتہ کون سا رشتہ ہے جو اتنے اختلافات رکھنے پر بھی انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دے اور انسانیت کا بچھڑا ہوا گھر انا پھر از سر نو آباد ہوجائے ؟ وہ کہتا ہے کہ غور کرو گے تو معلوم ہوجائے گا کہ وہ صرف ایک ہی رشتہ ہے اور وہ خدا پرستی کا مقدس رشتہ ہے۔ تم کتنے ہی الگ الگ ہوگئے ہو لیکن تمہارا خدا تو الگ الگ نہیں ہو سکتا ۔ تم سب ایک ہی پروردگار کے بندے ہو تم سب کی بندگی و نیاز کے لیے ایک ہی معبود کی چوکھٹ ہے۔ تم بیشمار اختلافات رکھنے پر بھی ایک ہی رشتہ عبدیت میں جکڑے ہوئے ہو۔ تمہاری کوئی نسل ہو۔ تمہارا کوئی وطن ہو۔ تمہاری کوئی قومیت ہو۔ تم کی درجے میں اور کسی حلقے کے انسان ہو لیکن جب ایک ہی پروردگار کے آگے سرنیاز جھکا دو گے تو یہ آسمانی رشتہ تمہارے تمام ارضی اختلافات مٹا دے گا تم سب کے بچھڑے ہوئے دل ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے۔ تم محسوس کرو گے کہ تمام دنیا تمہارا وطن ہے اور تمام نسل انسانی تمہارا گھرانا ہے اور تم سب ایک ہی رب العالمین کی عیال ہو۔ منکرین حق کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ ” سریع الحساب “ بھی ہے : 55: اہل کتاب ہوں یا مشرکین مکہ ان سب کو معلوم ہوناچاہیے کہ جو لوگ بھی دعوت حق کا مقابلہ کر رہے ہیں ان سب کے لیے بآلاخر نامرادی وتباہی ہے۔ گویا ایک پیش گوئی ہے جو پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانہ اقدس کے وقت سے برسوں پہلے کرائی جارہی ہے جب انسان جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کافی ہے اسے چاہیے کہ اس پر اکتفا کرے اور سب کاموں میں اس کی حسن تدبیر پر بھروسہ کرے اور جب جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے سانس بھی گنتا جارہا ہے یعنی اس کے قانون میں ہے کہ اس کی ہر حرکت شمار کی جارہی ہے اور وہ ہر ایک چیز کا حساب لے گا تو اسے چاہیے کہ اپنے تمام افعال اور حالات کو نقائص اور عیوب سے پاک رکھے۔ ارشاد الٰہی ہے کہ ” اللہ تعالیٰ حساب لینے والا کافی ہے۔ “ (الانبیاء 21 : 47) (الاحزاب 33 : 39) وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ وہ بہت جلد حساب چکا دیتا ہے۔ (المؤمنون 23 : 199 ) (المائدہ 5 : 4 ) (یوسف 12 : 13) (حم السجدہ 14 : 14) ” اللہ تعالیٰ نے پیغام پہنچانا پیغمبر اسلام ﷺ کے ذمہ اور حساب لینا اپنے ذمہ رکھا ہے۔ “ (الانعام 6 : 52) (الرعد 13 : 40) ” پس اے مسلمانو ! اللہ سے ڈرتے رہو یعنی اس کے قانون مجکافات سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو چاہیے کہ وہ دیکھ بھال لے کہ کل قیامت کے لیے اس نے کیا ذخیرہ آگے بھیجا ہے اور اللہ کے قانون مکافات سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے عملوں سے باخبر ہے اور ان لوگوں کی طرح مت ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی جانوں سے بھی غافل کردیا اور وہی لوگ فاسق ہیں۔ “ (الحشر 59 : 18۔ 19 )