Ayah 3:105اسلام کے اندر الگ الگ گروہ بندیاں اختیار کرنے کی واضح الفاظ میں ممانعت :
203: یہودو نصاریٰ کی طرح اصولوں اور بنیادی عقائد میں اختلاف کر کے مختلف گروہ بندیاں اختیار کرنے کی سختی کے ساتھ ممانعت فرمادی۔ یعنی ازراہ نفسانیت و شرارت وحدت دینی کو پارہ پارہ کرکے اپنے اپنے الگ مذہب نہ گھڑو۔ اس لیے کہ تمہارے پاس قطعی دلائل اور آیات محکمات آچکی ہیں اب اختلافات کی کوئی گنجائش حقیقت میں باقی نہیں رہی۔ الفاظ قرآنی خود بخود مفہوم آیت متعین کرنے میں بالکل واضح اور صاف ہیں۔ اس لیے کہ ارشاد یہ ہو رہا ہے کہ دیکھو ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو متفرق ہو کر بٹ گئے اور الگ الگ فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ یہودو نصاریٰ کی طرح مت بنو جنہوں نے واضح اور روشن دلائل آنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے احکام میں پہنچ جانے کے بعد محض اوہام و اہواء کی پیروی کر کے اصول دین میں متفرق ہوگئے اور باہمی جنگ وجدال سے عذاب الٰہی میں مبتلا ہوگئے یہ آیت درحقیقت پہلی آیت کا تتمہ ہے۔ جس آیت میں مرکز وحدت اعتصام بحبل اللہ کی طرف دعوت دی گئی اور اشارةً بتا دیا کہ اجتماع او اتحاد تمام امت اور قوم کو ایک شخص واحد میں تبدیل کردیتا ہے پھر دعوت الی الخیر اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے اس دعوت و اجتماع کو غذا پہنچائی جاتی ہے اور نشونما کیا جاتا ہے پھر ” لَا تَفَرَّقُوْا “ اور آیت ” وَلَا تَكُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا “ سے اس کی ہدایت کی گئی ہے کہ تفرق اور اختلاف نے پچھلی قوموں کو تباہ کردیا ان سے عبرت حاصل کرو اور اپنے میں یہ مرض پیدا نہ ہونے دو ۔
اس آیت میں جس تفرق و اختلاف کی مذمت ہے اس سے مراد وہ تفریق ہے جو اصول دین میں ہو یا فروع میں نفسانیت کے غلبہ کی وجہ سے ہو جس سے ” تفریق بین المؤمنین “ ہوجائے۔ چناچہ آیت میں یہ قید کہ ” احکام واضح آنے کے بعد “ اس امر پر واضح اور صاف قرینہ ہے کیونکہ اصول دین سب واضح ہوتے ہیں اور فروع بھی بعض ایسے واضح ہوتے ہیں کہا گر نفسانیت نہ ہو تو اختلاف کی گنجائش نہیں ہوتی لیکن جو فروع غیر واضح ہیں کسی نص صریح نہ ہونے کی وجہ سے یا نصوص کے ظاہری تعارض کی وجہ سے ایسے فروع میں رائے و اجتہاد سے جو اختلاف پیدا ہوتا ہے وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل نہیں اور وہ حدیث صحیح اس کی اجازت کے لیے کافی ہے جس کو بخاری و مسلم نے مرفوعاً عمرو بنالعاص سے روایت کیا ہے کہ جب کوئی اجتہاد کرے اور حکم ٹھیک ہوتومجتہد کو دو اجرملتے ہیں اور جب اجتہاد میں غلطی کرے تو اس کو ایک اجرملتا ہے۔
معلوم ہوا کہ جس اختلاف اجتہادی میں خطا ہونے پر بھی ایک ثواب ملتا ہے وہ مذموم نہیں ہوسکتا لہٰذا وہ اجتہادی اختلاف جو صحابہ کرام ؓ اور ائمہ کرام (رح) میں ہوا ہے اس کو اس آیت مذکروہ سے کوئی تعلق نہیں بقول حضرت قاسم بن محمد ؓ و حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) صحابہ ؓ کا اختلاف لوگوں کے یے موجب رحمت و رخصت ہے۔
یہاں سے ایک بہت اہم اصولی بات واضح ہوگئی کہ جو اجتہادی اختلاف شرعی اجتہاد کی تعریف میں داخل ہے اس میں اپنے لیے اجتہاد سے جس امام نے جو جانب اختیار کرلیاگرچہ عنداللہ اس میں سے صواب اور صحیح صرف ایک ہے دوسرا خطا ہے لیک یہ صواب و خطا کا فیصلہ صرف حق تعالیٰ کے کرنے کا ہے وہ محشر میں بذریعہ اجتہاد و صواف پر پہنچنے والے عالم کو دوہرا ثواب عطا فرما دے گا اور جس کے اجتہاد نے خطا کی ہے اس کو ایک وثاب دے گا۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اجتہادی اختلاف میں یہ کہنے کا حق نہیں کہ یقینی طور پر یہ صحیح ہے دوسرا غلط ہے ہاں ! اپنے فہم و بصیرت کی حد تک ان دونوں میں جس کو وہ اقرب الی القرآن والسنہ سمجھے اس کے متعلق یہ کہه سکتا ہے کہ میرے نزدیک یہ صحیح و صواب ہے لیکن احتمال خطا کا بھی ہے اور دوسری جانب خطا ہے مگر احتمال صواب کا بھی ہے اور یہ وہ بات ہے جو تمام آئمہ و فقہا اسلام میں مسلم ہے۔
اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ اجتہادی اختلاف میں کوئی جانب منکر نہیں ہوتی کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکے ماتحت اس پر نکیر کیا جائے اور جب وہ منکر نہیں تو غیر منکر پر نکیر خود امر منکر ہے جس سے پرہیز لازم ہے یہ وہ بات ہے جس سے آج کل بہت سے اہل علم بھی غفلت میں مبتلا ہیں کہ وہ اپنے مخالف نظریہ رکھنے والوں پر تبرا اور سب و شتم سے بھی پرہیز نہیں کرتے جس کا نتیجہ مسلمانوں میں جنگ وجدال اور انتشار و اختلاف کی صورت میں جگہ جگہ مشاہدہ میں آرہا ہے۔
اجتہادی اختلاف جب کہ اصول اجتہاد کے مطابق ہو وہ تو ہرگز آیت مذکورہ ” وَلَا تَفَرَّقُوْا “ سے خلاف اور مذموم نہیں البتہ اس اجتہاد میں اختلاف کے ساتھ جو معاملہ آج کل کیا جاتا ہے کہ اس کے بحث و مباحثہ کو دین کی بنیاد بنا دیا جاتا ہے اور اس پر باہم جنگ وجدل اور سب و شتم تک نوبت پہنچا دی جاتی ہے یہ طرز عمل بلاشبہ ” وَلَا تَفَرَّقُوْا “ کی کھلی مخالفت اور مذموم اور سنت کے بالکل خلاف ہے۔ اسلام امت میں کبھی کہیں نہیں سنا گیا کہ اجتہادی اختلاف کی بناء پر اپنے سے مختلف نظریہ رکھنے والوں پر اس طرح نکیر کیا گیا ہو۔
مثلاً امام شافعی (رح) اور بہت سے دوسرے آئمہ کا مسلک یہ ہے کہ جو نماز جماعت کے ساتھ امام کے پیچھے پڑھی جائے اس میں بھی مقتدیوں کو سورة فاتحہ پڑھنا فرض ہے اور ظاہر ہے کہ جو اس فرض کو ادا نہیں کرے گا اس کی نماز ان کے نزدیک نہیں ہوتی۔ اس کے بالمقال امام ابوحنیفہ ﷺ کے نزدیک مقتدی کو امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا درست نہیں اس لیے حنفیہ نہیں پڑھتے لیکن پوری امت کی تاریخ میں کسی سے نہیں سنا کہ شافعی مسلک والے حنفیوں کو تارک نماز کہتے ہوں کہ تمہاری نمازیں جب ہوتی ہی نہیں تو تم اس لحاظ سے تارک نماز ہو اور تمہایر وہی حکم ہے جو بالکل نماز ادانہ کرنے والوں کا ہے یا ان سے اس طرح نکیر کرتے ہوں جیسے منکرات شرعیہ پر کی جاتی ہے۔
امام ابن عبدالبر پانی کتاب جامع العلم میں اس معاملہ کے متعلق سنت سلف کے بارے میں یہ بیان دیتے ہیں کہ : عَن یحییٰ بن سعید قال برح اھل الفتوی یفتون فیحل ھذا ویحرم ھذا فلایری المحرم ان المحل ھلک لتحلیلہ ولا یری المحل ان المحرم حلک لتحریمہ (جامع بیان العلم ص :80)
” یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ ہمیشہ اہل فتوی فتویٰ دیتے ہیں ایک شخص غیر منصوص احکام میں ایک چیز کو اپنے اجتہاد سے حلال قرار دیتا ہے اور دوسرا حرام کہتا ہے مگر نہ حرام کہنے والا یہ سمجھتا ہے کہ جس نے حلال ہونے کا فتوی دیا ہے وہ ہلاک اور گمراہ ہوگیا اور نہ حلال کہنے والا یہ سمجھتا ہے کہ حرام کا فتویٰ دینے والا ہلاک اور گمراہ ہوگیا۔ “
گروہ بندی اختیار کرنے والوں کو عذاب عظیم کی اطلاح سنائی جاتی ہے :
204: اسلامی اصولوں اور بنیادوں میں اختلاف کرنے والوں کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ ” جن لوگوں کے پاس روشن دلیلیں آچکی تھیں پھر بھی وہ باہم دگر اختلاف میں پڑگئے یقین کرو یہی لوگ ہیں جن کے لیے عذاب عظیم ہے۔ “
غوروفکر کا مقام ہے کہ اس وقت جو اختلاف مکتبہ ہائے فکر میں پائے جاتے ہیں وہ کس طریقہ کے ہیں فروعی ہیں یا اصولی ؟ ان میں نفسانیت اور اہواء کہاں تک ہیں اور کہاں تک نہیں ؟ ان اختلافات کا انجام کیا ہے ؟ کیا ان اختلافات کو مدنظر رکھتے ہوئے گروہ بندیاں تشکیل پاچکی ہیں یا نہیں ؟ کیا ہر گروہ دو سے گروہ کی نظر میں صواب پر ہے یا کفر پر ہے ؟ کیا ہر فرقہ والے اپنے فرقہ والوں کو جنتی اور دوسرے فرقہ والوں کو جہنمی سمجھتے ہیں یا نہیں ؟ ہم ان سارے سوالوں کا جواب قارئین پرچھوڑتے ہیں جو رائے ان کی وہی ہماری۔ ہاں گروہ بندی کا یہ مرض اتنا مذموم ہے کہ قرآن کریم میں جگہ جگہ اس کی مذمت کی گئی ہے لہٰذا چند مقامات ملاحظہ فرمالیں۔
مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ وَاتَّقُوْہُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ وَ کَانُوْا شِیَعًا کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ. (الروم 30 : 31 32 )
” اے مؤمنو ! اس کی طرف رجوع رہو او اس سے ڈرتے رہو اور نما قائم کرو اور شرک کرنے والوں میں سے مت ہو جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا اور گروہ گروہ ہوگئے پھر ہر فرقہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔ “
تم سب ایک امت ہو مختلف گروہ بندیاں مت بناؤ :
اِنَّ ھٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ. وَ تَقَطَّعُوْٓاا َمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ کُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ.(الانبیاء 21 : 92 ، 93) ” سب رسولوں کے ذدریعہ جو تعلیم دی تھی وہ یہ تھی کہ یہ تم سب کی امت فی الحقیقت ایک ہی امت ہے اور میں ہی تم سب کا پروردگار ہوں۔ پس چاہیے کہ میری بندگی کرو اور الگ الگ گروہوں میں تقسیم مت ہو لیکن لوگوں نے آپس میں اختلاف کر کے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے اور انجام کار سب کو ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔ “
ایک دوسرے سے کٹ کر الگ الگ مت ہوجاؤ :
وَ اِنَّ ہٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ 0052 فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا 1ؕ کُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ 0053 (المؤمنون 23 : 52 ، 53) ” اور دیکھو یہ تمہاری امت دراصل ایک ہی امت ہے اور تم سب کا پروردگار میں ہی ہوں پس انکار و بدعمل کے نتائج سے ڈرو۔ لیکن لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کٹ گئے اور الگ الگ ہوگئے اور اپنا دین ٹکڑے ٹکڑے کرلیا اب جو جس کے پلے پڑگیا ہے وہ اسی میں مگن ہے۔ “
اختلاف کرنے والوں کو قیامت کے روز معلوم ہوگا کہ انہوں نے کیا کیا ؟ :
وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ 1ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ 1ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ 0093 (یونس 10 : 93) ” اور ہم نے بنی اسرائیل کو بسنے کا بہت اچھا ٹھکانہ دیا تھا اور اپکیزہ چیزوں سے ان کی روزی کا سامان کردیا تھا پھر جب کبھی انہوں نے دین حق کے بارے میں اختلاف کیا تو علم کی روشنی ضروری ان پر نمودار ہوگئی لیکن پھر بھی وہ حقیقت پر متفق نہ ہوئے قیامت کے دن تمہارا پروردگار ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں یہ باہم اختلاف کرتے رہے ہیں۔ “
علم آنے کے بعد آپس میں اختلاف کرنے والوں کا انجام :
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ0016 وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ 1ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ 1ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ 1ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ 0017 (الجاثیہ 45 : 16 ، 17) ” اور آپ ﷺ کیا مت سے پہلے ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت بخشی تھی اور پاکیزہ رزق عطا کیا تھا اور ان کو تمام عالم پر فضیلت بھی دی تھی اور یہ بھی کہ ہم نے ان کو دین کے نہایت واضح احکام دیے تھے پھر انہوں نے علم کے آنے کے بعد آپس کی ضد سے اختلاف کیا بیشک آپ کا پروردگار ان کے درمیان قیامت کے دن جن امور میں وہ جھگڑتے تھے فیصلہ کر دے گا۔ “
اے پیغمبر اسلام ! دین میں تفرقہ ڈالنے والوں سے آپ ﷺ کو کچھ سروکار نہیں :
اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ کَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ 1ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ 00159 (الانعام 6 : 159 ) ” اے پیغمبر اسلام ! جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور الگ الگ گروہ بن گئے تمہیں ان سے کچھ سروکار نہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے پھر وہی بتلائے گا کہ جو کچھ وہ کرتے رہے اس کی حقیقت کیا تھی ؟ “
مختصر آپ یوں سمجھیں کہ پیروان مذہب کی سب سے بڑی گمراہی یہ ہے کہ انہوں نے دین میں تفرقہ ڈال کر الگ الگ گروہ بندیاں اور باہم دگر مخالف جتھے بنالیے نتیجہ یہ نکلا نجات وسعادت کا دارومدار ایان و عمل پر نہ رہا بلکہ گروہ بندیوں پر آٹھہرا پس فرمایا کہ جن لوگوں کا شیوہ یہ رہا ہے تمہیں ان سے کچھ سروکار نہیں کیونکہ وہ نہ تیرے اور نہ تو ان کا۔ ہاں آپ ﷺ ان کی جس بات کی تصدیق کرتے ہیں وہاصل دین ہے نہ کہ ان کی بنائی ہوئی گروہ بندیاں۔
Ayah 3:106وہ دن کیسا ہوگا جس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ سیاہ نظر آئیں گے ؟ :
205: اس آیت میں دنوں جگہ ” وجوہ “ کی تنوین ہے اور تنوین مضاف الیہ کے عوض میں بھی آتی ہے اور تنوین تکثیر کے لیے بھی۔ کوئی ایک مرادلی جائے یا دونوں مطلب ہر لحاظ سے واضح اور صاف ہے۔ اگر مضاف الیہ کی تنوین ہو تو ترجمہ ہوگا ” نیکو کاروں کے چرے سفید ہوں گے اور بدکاروں کے چہرے سیاہ ہوں گے “ اور اگر تکثیر کے لیے ہوتوترجمہ ہوگا ” اس روز بہت سے چہرے سفید ہوں گے اور بہت سے سیاہ ہوں گے یا کتنے ہی چہرے سفید ہوں گے اور کتنے ہی چہرے سیاہ ہوں گے۔ “
ابن عباس ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ اہل سنت کے چہرے گوے ہوں گے اواہل بدعت کے چہرے کالے ہوں گے۔ چہروں کا گورے (سفید) یا کالے (سیاہ) ہونے کا مطلب کیا ہے ؟ سفیدی اور سیاہی رنگوں میں ہوگی یہ تو عام ہے لیکن عزت وذلت پر بھی ان الفاظ کا استعمال ہوتا ہے۔ عربوں کے محاورہ میں بھی وہ شخص جو کسی عیب سے آلود نہ ہو اس کو ” ابیض الوجہ “ یعنی سفید چہرہ والا کہتے ہیں۔ مفسرین نے مونہوں کی سفیدی کے معنی ” خوشی “ اور سیاہی سے مراد ” غم “ لیا ہے۔ اور قرآن کریم نے خود بھی اس محاورہ کو دوسری جگہ خود استعمال کر کے ساری بات کی وضاحت فرما دی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے : ” وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُھُمْ بِالْاُنْثٰی ظَلَّ وَجْھُہٗ مُسْوَدًّا وَّ ھُوَ کَظِیْمٌ. یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءٍ مَا بُشِّرَ بِہٖ .“ (النمل 16 : 58 ، 59) ” جب ان لوگوں میں سے کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو مارے رنج کے اس کا چہرہ کالا پڑجاتا ہے اور وہ غم میں ڈوب جاتا ہے جس بات کی اس کو خوشخبری دی گئی ہے وہ گویا ایسی برائی کی بات ہوئی کہ شرم کے مارے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے۔ “
یہ ضروری نہیں ہے کہ جس کو بیٹی پیدا ہونے کی خبردی گئی ہو وہ سیاہ رنگ ہی کا ہوتا ہے۔ بلکہ اس کو جب بیٹی کی خوشخبری دی گئی تو اس کا چہرہ سیاہ پڑگیا مطلب یہ ہے کہ وہ خبر سنتے ہیں مغموم ہوگیا۔ بلکہ یہ محاورہ اردو میں بھی عام بولا جاتا ہے کہ فلاں نے ” منہ کالا کرلیا “ یعنی وہ گناہ میں آلودہ ہوگا۔ پھر فطرةًبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان جب کوئی اچھاکام کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں تو اس کا چہرہ چمک دمک اٹھتا ہے اور اگر کوئی چور چوری کرتے پکڑا جائے و وہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ گویا اس کا چہرہ سیاہ پڑگیا یعنی مرونی سی چھا گئی ہشاش بشاش دکھائی نہیں دیتا۔
جب کسی پر کوئی الزام لگایاجاتا ہے تو اگر وہ مجرم ہو تو اس کے چہرہ سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس نے جرم کیا ہے او اگر غلط الزام لگایا گیا ہو تو بھی اس کا چہرہ عام طور پر چہرہ شناسوں کو بتا دیتا ہے کہا صل صورت حال کیا ہے۔ آیت زیرنظر میں ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے خواہ مخواہ اختلاف کر کے لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کرنے کا کام سرانجام دیا ہے یا دے رہے ہیں ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور جن لوگوں نے لوگوں کو اختلاف ختم کر کے ایک جسم وجان ہونے کی دعوت دی اور گروہ بندی سے روکنے کی کوشش کی ان کے چہرے سفید ہوں گے۔ آئیے اب قرآن کریم سے پچھتے ہیں کہ وہ کیا ارشاد فرماتا ہے ؟ وہ کہتا ہے کہ :
وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ مُّسْفِرَةٌۙ0038 ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ0039 وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌۙ0040 تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌؕ0041 اُولٰٓىِٕكَ ہُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ (رح) 0042 (العبس 83 : 38۔ 42) ” کتنے ہی چہرے اس دن نور ایمان سے منور ہوں گے۔ ہشاش بشاش ، خوش و خرم (یہ نیکوکاروں کی جماعت ہوگی) اور کتنے ہی چہرے اس دن غبار آلودہ ہوں گے۔ جن پر سیاہی چھائی ہوگی۔ یہی لوگ کافر و بدکار ہوں گے۔ “ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہوتا ہے :
وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ002 عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ003 تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ004 تُسْقٰى مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍؕ005 (الغاشیة 88 : 2۔۔ 5) ” کتنے ہی چہرے اس دن اپنی بداعمالیوں کے باعث ذلیل و خوار ہوں گے۔ دنیا میں یہ لوگ بلا ایمان کے محنت کرنے والے تھے لیکن آخرت میں تھکے ہوئے خستہ حال ہوں گے۔ یہ لوگ دھکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔ ان کو کھولتے ہوئے چشمہ سے پانی پلایاجائے گا۔ “ پھر ارشاد ہوتا ہے :
وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌۙ008 لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌۙ009 فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ0010 لَّا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةًؕ0011 (الغاشیہ 88 : 8۔ 11) ” کتنے ہی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اپنے نیک اعمال سے وہ خوش ہوں گے۔ یہ عالی شان جنت میں ہوں گے۔ جس میں وہ کوئی فضول بات نہیں سنیں گے۔ “ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ . اِِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ . وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ بَاسِرَۃٌ . تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ . (القیمہ 75 : 22 ، 25) ” کتنے چہرے اس روز تروتازہ ہوں گے۔ اپنے پروردگار کے دیدار میں محو ہوں گے۔ اور کتنے ہی چہروں پر اسدن غم سے اداسی چھائی ہوگی۔ وہ خیال کرتے ہوں گے کہ ان پر ایسی سختی ہوگی جوان کی کمر توڑ دے گی۔ “
ان آیات کے پیش نظر اس بات میں شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ زیر نظر آیت میں جن چیزوں کے گورے ہونے کا ذکر ہے وہ وہی لوگ ہیں جو قوم کے اختلاف و افتراق کو مٹانے کی کوشش کرتے رہے اور وحدت قوم کا درس دیتے رہے اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینے کی تلقین کرتے اور جن چہروں کے سیاہ ہونے کا ذکر ہے وہ وہی لوگ ہیں جو اختلاف ڈال کر گروہ گروہ متفرق ہوئے اور تفریق بین المؤمنین کے مرتکب ہوئے اور ایک دوسرے پر کفر کے فتوی لگا کر اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کرتے رہے۔
جن لوگوں کے چہرے بد اعمالیوں کی وجہ سے سیاہ ہوں گے ان کی سزا کا اعلان الٰہی :
206: آیت کے اس حصہ میں ان لوگوں کی سزاؤں کو بیان کیا جارہا ہے جن لوگوں نے قوم میں اختلاف ڈال کر اس کو متفرق کردیا یا ان کے چہرے بداعمالیوں کی وجہ سے قیامت کے دن سیاہ پڑگئے۔ چہروں کا سیاہ ہونا خود ہی کوئی کم سزا نہ تھی ان سے مزید کہا جا رہا ہے کہ چونکہ رسول اللہ ﷺ اور کتاب اللہ پر ایمان لانے کے بعد پھر تم نے قطعی دلائل کا انکار کیا اور دین میں تفرقہ کیا اور طرح طرح کے اختلاف کے پیچھے پڑگئے۔ پس اب انپے اس کفر کرنے کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو۔ یہ آیت اس امت اور گزشتہ امتوں کے بدعتیوں کے حق میں نازل ہوئی۔
حضرت ابو امامہ ؓ اور قتادہ ؓ کا یہی قول ہے امام احمد ﷺ نے ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ خارجی ہیں لیکن حضرت اسماء کی روایت کردہ حدیث بتا رہی ہے کہ اس آیت میں اہل الرائے مراد ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حوض پر دیکھتا رہوں گا کہ کون کون میرے پاس آتا ہے کچھ لوگ مجھ سے پرے ہی پکڑ لیے جائیں گے یعنی ان کو حوض پر نہیں آنے دیاجائے گا میں کہوں گا اے رب ! یہ تو میرے ہیں کیونکہ میری امت کے افراد ہیں جواب دیا جائے گا تم کو معلوم ہے کہ تمہارے بعد انہوں نے کیا کیا ؟ خدا کی قسم یہ برابر اپنی ایڑیوں کے بل تمہاری ہدایت سے لوٹتے رہے۔ (بخاری)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ان فتنوں سے پہلے عمل کرلو جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح آئندہ چھا جائیں گے صبح کو آدمی مؤمن ہوگا اور شام کو کافر۔ شام کو کافر ہوگا اور صبح کو مؤمن۔ دین کو دنیا کے حقیر سامان کے عوض بیچ ڈالے گا۔
(رواہ احمد و مسلم والترمذی)
Ayah 3:107جن کے چہرے گورے ہوں گے ان کا مختصر حال :
207: جن لوگوں کے چہرے سفید یعنی گورے ہوں گے نیک اعمال کرنے والے اور لوگوں کے درمیان اختلاف کو مٹانے والے اور مسلمانوں کو اللہ کی رسی کو مضبوط تھامنے کا درس دینے والے ” فَفِىْ رَحْمَةِ اللّٰهِ “ وہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت یعنی جنت اور لازوال ثواب و اجر میں ہوں گے اس جگہ جنت کی تعبیر لفظ رحمت کے ساتھ کرنے سے اس امر پر تنبیہه کی گئی ہے کہ مؤمن کی چاہے پوری عمر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف ہوئی ہو مگر جنت میں اس کا داخلہ اللہ کی رحمت اور فضل کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا راستی اختیار کرو اور درمیانی رفتار سے چلو اور خوش رہو کیونکہ جنت کے اندر کسی کو صرف اس کے اعمال نہیں لے جائیں گے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کیا آپ ﷺ کو بھی ؟ فرمایا ہاں مجھ کو بھی اللہ اپنی مغفرت اور رحمت سے مجھ کو ڈھانک لے گا۔ (مسلم و بخاری)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ تم میں کسی کو صری اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا اور نہ دوزخ سے بچائے گا اور نہ مجھے سوائے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے۔
یاد رہے کہ جنت میں مختلف مدارج و مراتب ہیں بلند سے بلند درجات تک پہنچنا بھی جنت ہی میں پہنچنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی کے سہارے بلند سے بلند مقامات پر آدمی فائز ہوسکتا ہے۔ یہ الفاظ اس طرح بیان کیے ﴾گئے اور دراصل اس سے مراد جنت کے بلند درجات تک پہنچنے سے ہے کہ جنت کے بلند مقامات پر پہنچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت و فضل ہی شامل حال ہوناچاہیے ورنہ ان مقامات پر پہنچنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں خواہ وہ کوئی ہو۔ یہ اس لیے بیان کرنا پڑا کہ قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ اُدْخُلُوْا الْجَنَّةَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلَوْنَ اس آیت میں اعمال کو جنت کے داخلہ کا سبب بتایا گیا ہے اور اس کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت شامل حال نہ ہو تو انسان نیک اعمال کر ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کا اپنا نفس بھی نیک کاموں کے راستہ میں حائل ہوجاتا ہے۔ لہٰذا جس کو نیک عمل کی توفیق دی گئی اس نے خیر کثیر حاصل کرلی۔ کیونکہ کسی شخص کا نیک اعمال کرنا بھی اس وقت ممکن ہے جب اللہ کا فضل شامل حال ہو۔
آخر میں فرمایا کہ ” ھُمْ فِیْھَا خَالِدُوْنَ “ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت یا جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ مستقل جملہ ماقبل کی تاکید بھی ہے اور اس امر کی طرف اشارہ بھی کہ رحمت یعنی ابتدائی داخلہ مستقل نعمت ہے اور جنت کے اندر ہمیشہ ہمیشہ کا قیام ایک الگ مستقل نعمت ہے کہ چپڑی بھی اور دو دو بھی ہوں تو پھر کیا ہی بات ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم ہی سے ہوسکتا ہے کسی انسان کے اختیار کی بات نہیں۔
Ayah 3:108اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے وہ کسی پر کبھی ظلم نہیں کرتا :
208: اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہمیشہ عادلانہ اور حکیمانہ ہی ہوتے ہیں۔ اس نے انسانوں پر حق کھول کھول کر بیان فرمادیا اب جو کچھ کرے گا اس کا نتیجہ پائے گا یہ اس لیے کہ اسلام کا اللہ تمام تر رحیم ہے ، عادل ہے ، شفیق ہے۔ مشرک قوموں کے دیوی دیوتاؤں کی طرح ظالم خونحوار نہیں ہے قرآن کریم بار بار اللہ تعالیٰ کی تنزیہ کا اثبات ان صفات ذمیمہ سے ضرور سمجھتا ہے کیوں ؟ اس لیے کہ دوسرے مذاہب میں اللہ تعالیٰ کی صفات قہری بہت ہی زیادہ زور و قوت کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہیں۔ ” بالحق “ اے بالصدق یعنی بالکل صحیح جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے معاملات میں کبھی ظلم نہیں کرتا کہ نیکی کرنے والوں کا ثواب کم کر دے یا بالکل ثواب نہ دے یا جرم کرنے والوں کی سزا کو جرم کی مقدار سے بڑھا دے ایسا نہیں ہوسکتا۔ ہاں معاف کرسکتا ہے کہ وہ رحیم وکریم ہے اس طرح نیکی کی جزا کئی گناہ بڑھا کر عطا فرما دے اور کفر چونکہ سب سے بڑا گناہ ہے اس لیے اس کا عذاب بھی سارے گناہوں کے عذاب سے زیادہ اور دائمی ہوگا۔
Ayah 3:109هر شے کا مالک حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے :
209: آسمان ہو یا زمین کا خلا حتیٰ کہ زمین کے نیچے تخت الثریٰ ان میں جو کچھ ہے سب کا مالک حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے اس لیے کہ وہی ان سب چیزوں کا خالق ہے اور ہرچیز اسی کی ملک ہے۔ اور کوئی دیوی دیوتا ، نبی ، ولی اور پیر فقیر اسکا شریک و سیہم ہیں جس طرح جاہلی قومیں سمجھتی ہیں اور ان سے مرادیں مانگتی ہیں۔ یہ اس لیے ارشاد فرمایا اور قرآن کریم میں اس کی بار بار اید دہانی کرائی جاتی ہے کیونکہ یہی وہ نظریہ ہے جو ہر طرح کے شرک کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیتا ہے لیکن افسوس کہ انسان کو یہی بات سب سے زیادہ بھول جاتی ہے۔ پھر فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سارے کام لوٹائے جائیں گے۔ “ یعنی ہر کام کو قبول و مردود بھی وہی کرتا ہے اس لیے وہاں کسی واسطے اور وسیلے کی ضرورت نہیں وہ علیم کل ہے کسی کے کہنے سے قبول ہونے والے کو مردود یا مردود ہونے والے کے قبول نہیں کرتا۔ ہر ایک فیصلے پر اس کے ہاں اپیل ہوسکتی ہے لیکن اس کے فیصلے پر کہیں اپیل دائر نہیں کی جاسکتی۔ دوسرے لفظوں میں اگر وہ کسی کو پکڑ لے تو کوئی اس کو چھڑا نہیں سکتا اور وہ کسی کو چھوڑ دے تو کوئی اس کو پکڑ ہیں سکتا۔
Ayah 3:110تم صحیح معنوں میں ایمان لانے والے اور اچھے عمل کرنے والے ہو تو تم ہی بہتر امت ہو :
210: یہ محمد رسول اللہ ﷺ کی امت سے خطاب ہے اور ملت اسلامی ہی مخاطب کی جارہی ہے کہ تم تمام امتوں میں سے بہتر امت ہو۔ روایات میں آتا ہے کہ مالک بن انصیف اور وہب بن یہود نے جو یہودی تھے انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ معاذ بن جبل ؓ اور سالم مولیٰ ابی حذیقہ سے کہا کہ ہم تم سے افضل ہیں اور ہمارا مذہب اس دین سے بدرجہا بہتر ہے جس کی دعوت تم ہی کو دیتے ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی” خیر “ صفت ہے اور ” امت “ موصوف۔
” کنتم “ ماضی ہے ” یعنی تم بہترین امت تھے۔ “ کیا اب بہترین امت نہیں ؟ جواباً عرض کہ ” کان “ کا استعمال عربی زبان میں کوئی طرح پر ہوتا ہے۔ گز رے ہوئے زمانہ پر بھی بولا جاتا ہے اور ایک وصف کو لازم و ضروری کرنے کے لیے بھی۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے اوصاف کے بیان میں جہاں اس کا استعمال ہوگا تو ازلیت ہی کے لیے ہوگا۔ جیسے کَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِیْمًا ظاہر ہے کہ اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوسکتا کہ ” اللہ ہرچیز کا جاننے والا تھا “ اور اب نہیں کان اللہ غفورا رحیما اللہ غفور و رحیم تھا اب نہیں۔ بلکہ اصل مطلب یہ ہے کہ اللہ ہرچیز کا جاننے والا تھا۔ ہے اور رہے گا۔ جس کا صاف معنی یہی ہے کہ ” اللہ ہرچیز کا جاننے والا ہے “ اور یہ لازم ہے کہ جو زمانہ بھی آئے گا اللہ جاننے والا ہی رہے گا۔ کبھی یہ صفت اس سے الگ نہیں کی جاسکتی۔ اور اسی طرح جب کسی شے کی جنس میں اس کی وصف کے متعلق استعمال کیا جائے جو اس میں موجود ہو تو یہ ظاہر کرنے کے لیے ہوتا ہے کہ یہ وصف اس میں لازم ہے جیسے : کَانَ الْاِنْسَانُ کَفُوْرًا۔ کَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا۔ کَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَىْءٍ جَدَلًا اور مطلب یہ ہے کہ ” انسان ناشکرا گزرا ہے۔ “ انسان جلد باز ہے۔ “ انسان اکثر جھگڑالو ہے۔ اسی طرح اس جگہ بھی حال کے معنی ہیں یعنی ” تم بہترین امت ہو “ ہاں ! یہ بھی احتمال ہے کہ امت اسلامیہ کے خیر الامم ہونے سے مراد یہ ہو کہ تم علی الٰہی میں خیر الامم تھے یا ذکر کرتے وقت گزرشتہ اقوام میں تم خیر الامم تھے۔
اَخْرِجَتْ ، خر کے معنی ہیں اپنی قرار گاہ یا اپنی حالت سے ظاہر ہوگیا یا نکل آیا خواہ اس کی قرار گاہ گھر ہو ، شہر ہو ، لباس ہو اور خواہ اس کا حال اپنے نفس میں اس کی کوئی حالت ہو یا اسباب خارجی میں راغب اخرج اے اظھرت یعنی ظاہر کیے گئے۔
” للناس “ میں لام انتفاع کے لیے ہے یعنی ” تمہارا ظہو لوگوں کی بھلائی کے لیے ہے۔ “ اس لیے آگے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذکر کیا ہے یعنی تمہارا کام دنیا میں نیکیاں کرنا نیکیوں کی تعلیم دینا اور نیکیوں پر لوگوں کو لگانا اور قائم رکھنا اور بدیوں سے رکنا اور روکنا ہے۔ اس لیے تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ کو جو کمال نفس کا مرتبہ ہے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے جو دوری کی تکمیل کے لیے ہوتا ہے پیچھے رکھا ہے۔ کیونکہ اصل غرض اس جگہ یہی ظاہر کرنے کی ہے کہ تمہارا کام دوسروں کی تکمیل ہے اور جملہ ” تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ “ سے ان کے لیے اپنے کمال نفس کا ذکر اس لیے کیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو کہ وہ ایسی باتیں دوسروں کو نہیں کہتے جو خود نہ کرتے ہوں بلکہ وہ دوسروں کی تکمیل چاہتے ہیں تو اسی لیے کہ وہ اپنے نفس کی تکمیل بھی کرتے ہیں۔
اس آیت میں مسلمانوں کو بہترین امت قرار دیا گیا ہے اور یہ بات اپنی جگہ صحیح اور درست ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا زمانہ سارے زمانوں سے افضل و اعلیٰ تھا اور پھر جتنا قرب اس زمانہ کو رسول اللہ ﷺ سے رہا اتنا ہی وہ دوسرے زمانہ سے افضل رہا اور یہی بات وصف میں بھی ہے کہ جو شخص اپنے اوصاف کے لحاظ سے اپنے رسول اللہ ﷺ کے قریب رہا اتنا ہی وہ بہتر بھی رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک حدیث میں آپ ﷺ کا ارشاد اس طرح ہے کہ میری امت کی مثال ایسی ہے جیسے بارش کی معلوم نہیں کہ اسکا ابتدائی حصہ بہتر ہے یا آخری حصہ اور یہ حدیث ترمذی نے حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کی ہے۔
بعض نے کہا ہے کہ یہ صرف صحابہ ؓ کے لیے ہے لیکن اول تو اس جگہ کان کا استعمال کے خلاف ہے دوسرے کوئی وجہ اس قید کی نہیں باتی جاسکتی تیسرے حدیث سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ ساری امت کو ہی ” خیر الامم “ کہا گیا ہے۔ چناچہ احمد ﷺ نے یہ حدیث روایت کی ہے : قال رسول اللہ ﷺ اعطیت مالم یعط احمد من الانبیاء نصرت بالرعب واعطیت مفاتیح الارض وسمیت احمد وجعل التراب لی طھورا وجعلت متی خیر الامم (رواہ احمد) ’ ’ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے وہ کچھ دیا گیا جو پپپ اور کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔ میری نصرت رعب سے کی گئی اور مجھے زمین کے خزانے دیے گئے۔ میرا نام احمد رکھا گیا۔ میرے لیے مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی اور میری بہترین امت بنائی گئی۔ اس حدیث کی تشریح اور اس کا مفہوم اتنا زیادہ ہے کہ اس کے لیے ایک مستقل کتاب درکار ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی صاحب علم کو اس طرف توجہ دے یہ میری دعا ہے۔
بلاشبہ صحابہ کرام ؓ خود اس امت میں سے بھی بہترین گروہ ہے اور اس کی شہادت خود اللہ تعالیٰ نے دی ہے کہ فرمایا : رَضِىَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ لیکن یہاں ساری امت کی افضیلت کا دوسری امم پر ظاہر کرنا مقصود ہے۔ اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب اس امت کا معلم اور مزکی محمد رسول اللہ ﷺ دین کے تمام معلموں اور مزکیوں سے اعظم و افضل ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ ﷺ کے شاگرد تمام انبیاء کے شاگردوں سے اعظم و افضل نہ ہوں۔ اور آپ ﷺ کی امت تمام امتوں سے اعظم و افضل نہ ہو اور یہ جو کچھ ہے سب آپ ﷺ کے نقش قدم سے ہے۔
مذکورہ فضیلت کس بات اور کس صلہ میں ہے ؟
211: فرمایا تمہاری یہ افضیلت اس صلہ میں ہے کہ ” تم نیکی کا حکم دینے والے ، برائی سے روکنے والے اور اللہ پر ایمان لانے والے ہو “ مطلب واضح ہے کہ یہ امت دنیا کے تمام لوگوں کی بھلائی کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ وہ بھلائی دنیوی ہو یا اخروی۔ ہر ایک نبی کی امت زیادہ تر اپنی قوم کی بہتری میں ہی کوشاں رہی مگر محمد رسول اللہ ﷺ کی امت میں سے قومیت کا نشان مٹا کر ان تمام لوگوں کی بھلائی چاہنے والے قرار دیا گیا۔ قومی تفرقوں کو اسلام نے ہمیشہ کے لیے مٹا دیا اور قومی تفرقہ ڈالنے والوں کو امت اسلامیہ سے الگ کردیا۔ دوسری وجہ ان کی اصلیت کی ان کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہونا ہے یعنی بھلائیاں کرنے کے ساتھ ساتھ بھلائیوں کا حکم دینے والے اور برائیوں سے خود رکنے والے اور دوسروں کو روکنے والے ہیں اور یہ وہی کام ہے جو انبیاء کرام (علیہ السلام) کرنے کے لیے دنیا میں آتے رہے۔ اب جب نبوت نبی اعظم و آخر ﷺ پر ختم کردی گئی تو یہ کام آپ ﷺ کی امت کے ذمہ لگا دیا گیا اور اس کی تصدیق نقل سے بھی کرا دی اور عقل سے بھی۔
بلاشبہ یہ کام دوسرے انبیاء کرام کی امتیں بھی کرتی رہی تھی۔ مگر ان کا کام محدود تھا۔ اور ہر لحاظ سے محدود تھا۔ پھر ان کے اندر وقتاً فوقتاً انبیاء کی بعثت بھی ہوتی رہی تھی۔ اب نبوت کے ختم کردینے کے بعد یہ انبیاء کرام والا کام پہلے سے کہیں زیادہ اور نہایت ہی وسیع پیمانہ پر اس امت کے ذمہ لگا دیا گیا۔ کل دنیا میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا اور قوائے انسانی کی ساری شاخوں کی پرورش کرنا اور سب کا یکساں تزکیہ کرنا یہ وہ عظیم الشان کام ہے۔ جو محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے کسی نبی کی امت کے ذمہ نہیں لگایا گیا تھا۔ چناچہ سورة بقرہ میں اس وجہ سے فضیلت کو صاف صاف لفظوں میں بیان کردیا گیا۔ تفصیل کے لئے دیکھو عروقہ الوثقی جلد اور تفسیر سورة بقرہ آیت 143۔
کیا اس دعویٰ پر کوئی دلیل بھی ہے ؟
جب کوئی دعویٰ بغیر دلیل ثابت ہی نہیں ہوتا تو اس دعویٰ پر دلیل کیوں نہیں ہوگی ضرور ہوگی اور ہے۔ پھر اتنی سچی اور اتنی پکی کہ زمین و آسمان سے زیادہ وزنی اور سورج سے بھی زیادہ روشن۔ غور کرو کہ جس روی حالت میں نبی اعظم و آخر ﷺ نے عربوں کو پایا کیا بلحاظ عقائد اور کیا بلحاظ جہالت۔ ایسی بدترین حالت کی قوم اور کسی نبی کی اصلاح کے لیے نہیں دی گئی۔ مگر باوجود ایسی روی حالت میں پانے کے نبی کریم ﷺ کی قوت قدسی نے ان کو ایمان اور عمل پہلو کے لحاظ سے تعلیم و تہذیب کے لحاظ سے ایسے اولیٰ مقام پر پہنچایا کہ کسی نبی نے اپنی امت کو اس مقام تک نہیں پہنچایا۔ وہ نہ صرف رہد و عبادت اور تقویٰ و پرہیز گاری میں تمام دنیا کی قوموں سے آگے بڑھ گئے بلکہ ہر طرح کے اخلاق فاضلہ کے زیور سے آراستہ و پیراستہ ہو کر ہر پہلو میں دنیا کے ہادی و رہبر بن گئے۔ کیا فتوحات ملکی کے لحاظ سے اور کیا سیاست کے لحاظ سے۔ کیا تمدن معاشرت کے لحاظ سے اور کیا علوم و فنون کے لحاظ سے۔ کیا تہذیب کے لحاظ سے اور کیا آزادی خیال کو قائم کرنے کے لحاظ سے۔ کیا ایجادات کرنے کے لحاظ سے اور کیا مساوات نسل انسانی کے قائم کرنے کے لحاظ سے۔ پھر سوچ لو کہ اس دعویٰ پر اس سے زیادہ دلیل اور کیا ہو سکتی ہے ؟
دوسروں کی فکر کا نچوڑ الفاظ کی صورت میں :
212: وہ بات جو شروع کی تھی۔ جوں جوں آگے بڑھتی گئی مزید صاف ہوتی گئی۔ اس امت کی نشانی یہ بتائی گئی تھی کہ دوسروں کی فکر رکھنے والی امت ہے۔ اور ان الفاظ نے اس کی مزید تصدیق کردی فرمایا : ” اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو یہ ان کے یہ ان کے لیے بہتری کی بات ہوتی۔ “ اہل کتاب کا لفظ ویسے تو بہت وسیع معنی رکھتا ہے مگر اکثر جگہ صرف عیسائیوں اور یہودیوں کو اس سے خطاب کیا ہے۔ مثلاً یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ (النساء : 171:4) اور اس زیر نظر آیت میں صرف یہودی مراد ہیں اور اس طرح کے خطابات اور جگہوں پر بھی ہیں۔ ان یہود کو خاص کر کیوں مخاطب کیا گیا ؟ اچھے طبیب و ڈاکٹر کی یہ نشانی ہے کہ اس کے پاس بیک وقت جب بہت سے مریض آجائیں تو سب سے پہلے توجہ اس پر دے گا جو سب سے زیادہ خطرناک حالت میں ہوگا۔ جبکہ اس کے بچنے کی اس کو کچھ بھی امید ہو۔ جب نبی اعظم و آخر ﷺ کی بعثت ہوئی تو ساری قوموں میں سے زیادہ خطرناک امراض میں مبتلاء اہل کتاب میں سے یہودیوں کی جماعت ہی تھی۔ اس لئے آپ ﷺ کو ان کی زیادہ فکر لاحق تھی۔
علاوہ ازیں اب اس سورة کے مضامین کو جنگ احد کے واقعات کی طرف لانا ہے اور ان جنگوں میں ہمیشہ یہودیوں کی طرف سے مسلمانوں کو زیادہ خطرہ رہتا تھا۔ کیونکہ ایک بڑی یہودی آبادی مدینہ منورہ میں موجود تھی۔ اس لئے جنگ کی تمہید میں ان کے تعلقات کا ذکر دیا ہے کہ کاش ! یہ لوگ ایمان لے آتے تو ان کے لئے دنیا و آخرت دونوں میں بہت اجرو ثواب ملتا اور وہ امت مسلمہ میں شامل ہو کر ان انعامات کے مستحق قرار پاتے جن کا ذکر اوپر ہوتا چلا آرہا ہے۔
ہاں ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں لیکن زیادہ تعداد شریروں ہی کی ہے :
213: اور پھر آخری جملہ میں ارشاد فرمایا ” ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ایمان رکھنے والے ہیں۔ لیکن بڑی تعداد انہی لوگوں کی ہے جو دائرہ ہدایت سے یکسر باہر ہوچکے ہیں۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کا کام مخالفت برائے مخالفت ہے۔ حق ناحق کی پہچان نہیں۔ کمالات اسلامی میں سے ایک کمال اس کا یہ بھی ہے کہ وہ کسی قوم کو من حیث القوم برا یا اچھا نہیں کہتا بلکہ ہر اچھا کرنے والے کو اچھا اور ہر برا کرنے والے کو برا کہتا ہے۔ خواہ وہ کوئی ہو۔ قوم یہود کی ساری مخالفتوں کے باوجود اگر ان میں اتنی تعداد بھی نیک لوگوں کی ہے جتنا آٹے میں نمک تو وہ ان کی نیکی کا اعتراف کرتا ہے۔ اور یہی اس نے اس جگہ بیان فرمایا کہ ان میں ایمان والے بھی ہیں۔ اگرچہ وہ تعداد میں بہت کم ہیں اور حقیقت حال یہ ہے کہ ان میں سے اکثر یعنی زیادہ تر فاسق یعنی حدود سے تجاوز کرنے والے اور حد عبودیت سے باہر نکل جانے والے ہیں۔
یاد رہے کہ عبداللہ ؓ بن سلام جو نبی اعظم و آخر ﷺ کے صحابہ کرام ؓ میں سے ایک ہیں ایمان صحابہ کرام ؓ میں سے ایک ہیں اس یہودی قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے۔ جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایمان لے آئے تھے۔ اس لئے ” منھم المومنون “ کے الفاظ اس صداقت کا اعلان کر رہے ہیں۔
ایک دوسری جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے :
وَ لَوْ اَنَّ اَھْلَ الْکِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَکَفَّرْنَا عَنْھُمْ سَیِّاٰتِھِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰھُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ وَ لَوْ اَنَّھُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِھِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِمْ مِنْھُمْ اُمَّۃٌ مُّقْتَصِدَۃٌ وَ کَثِیْرٌ مِّنْھُمْ سَآئَ مَا یَعْمَلُوْنَ (المائدہ : 66 ۔ 65:5) ” اور اگر اہل کتاب ایمان رکھتے اور پرہیز گار ہوتے تو ہم ضرور ان پر ان کی خطائیں محو کردیتے اور ضرور انہیں نعمت کی جنتوں میں داخل کردیتے۔ اور اگر وہ توراۃ و انجیل کو اور جو کچھ ان کے پروردگار کی جانب سے ان پر نازل ہوا اسے سچائی کے ساتھ قائم رکھتے تو ضرور ایسا ہوتا کہ ان کے ایک گروہ ضرور میانہ رو ہے۔ لیکن زیادہ ایسے ہی ہیں کہ جو کچھ کرتے ہیں برائی ہی برائی ہے۔ “
اور ایک جگہ ادرشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
وَ لَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُرٰٓی اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰکِنْ کَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ (الاعراف : 96:7) ” اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لاتے اور برائیوں سے بچتے تو ہم آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے ضرور ان پر کھول دیتے لیکن انہوں نے جھٹلایا پس اس کمائی کی وجہ سے جو انہوں نے حاصل کی تھی۔ ہم نے انہیں پکڑ لیا اور وہ مبتلائے عذاب ہوگئے۔ “ جو ان کے اپنے ہی کئے کا نتیجہ تھا۔
Ayah 3:111ان کی مخالفت سے تمہارا کچھ نہی بگڑے گا ایک پیش گوئی کا اعلان :
214: اس آیت کی تین پیش گوئیوں میں سے ایک پیش گوئی ہے۔ جو اس وقت کی گئی جب ابھی یہود پوری طاقت اور قوت کے ساتھ مدینہ منورہ اور مضافات مدینہ میں رہ رہے تھے۔ اس وقت ابھی ان کا مدینہ اور حوالی مدینہ میں بڑا زور اور غلبہ تھا۔ قرآن کریم میں نبی اعظم و آخر ﷺ سے اللہ تعالیٰ نے اس بات کا اعلان کوا دیا کہ یہود اپنے بڑاے بڑے اور مضبوط قلعوں کے باوجود اور بڑے بڑے خزانوں کے مالک ہونے کے باوجود مسلمانوں کو ہرگز کوئی قابل ذکر نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور یہ اعلان گویا رسول اللہ ﷺ کا ایک زندہ جاوید معجزہ ہے جو آج بھی زندہ موجود ہے اور قیامت تک زندہ و تابندہ رہے گا۔ اور اس کو غلط ثابت کرنے والے حرف غلط کی طرح مٹادیئے جائیں گے۔ اور اس کی صداقت دنیا دیکھتی آئی ہے اور یہ دیکھتی رہے گی۔
ہاں ! ان کا معمولی دکھ دینا۔ وہ بھی اس لئے کہ جب مسلمان قوم سونے لگے تو اس کو پھر جگا دیا جائے۔
اذی حیض کے خون کو بھی کہا گیا ہے۔ اس لئے ان دنوں کو جو عورت کے لئے حیض کے دن ہوتے ہیں اذیت کے دن کہا جاتا ہے۔ اس میں معمولی تکلیف تو ضرور ہوتی ہے۔ لیکن یہ معمولی تکلیف ایک بہت بڑی خوشخبری کا پیش خیمہ ہوتئی ہے اور اس معمولی تکلیف کے نہ ہونے سے نسوانی زندگی زندگی نہیں بلکہ موت بن کر رہ جاتی ہے۔ اس لئے تکلیف کا ہونا بھی باعث برکت ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اس کا ہوتے رہنا ہی بہت بڑے ضر سے بچاؤ ہے۔ ایک دوسری جگہ ارشاد الٰہی اس طرح بیان ہوا ہے :
وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِرًہوا وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ (ال عمران : 186:6) اور مسلمانوں ! ایسا تو ہوتا ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین سے تمہیں دکھ پہنچانے والی باتیں بہت کچھ سننی پڑیں لیکن اگر تم نے صبر کیا یعنی ان مصیبتوں میں ثابت قدم رہے اور تقویٰ کا شیوہ اختیار کیا یعنی احکام حق کی نافرمانی سے بچتے رہے تو بلاشبہ بڑے کاموں کی راہ میں یہ بڑے ہی عزم و ہمت کی بات ہے۔ “
عالم دنیا میں اس وقت جو مسلمانوں کو حالات پیش آرہے ہیں ان سے کہیں زیادہ خطرناک حالات سے پہلے گزارے جا چکے ہیں۔ غیر مسلم مل کر جو ریشہ دوانیاں اس وقت کر رہے ہیں اس سے کہیں بہت بڑھ کر وہ پہلے کرچکے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت دنیا میں جتنے مسلمان موجود اتنے اس سے پہلے کبھی نہیں تھے جو وسائل اور خزائن او وقت عالم اسلام کے پاس موجود ہیں وہ اس وقت نہیں تھے۔ فرق یہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں کا ایمان و عزم اتنا پختہ تھا۔ کہ وہ قرآن کریم کی آیت پڑھتے تھے۔ تو ان کے دل اتنے نطمئن ہوجاتے تھے۔ اور وہ جس میدان میں جا اترتے تھے۔ سچے دل اور پوری ایمانی قوت سے اترتے تھے۔ اس وقت بھی اگر قوم مسلم اس عزم و ہمت اور ایمانی قوت سے کام لے اور اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی ان آیت محکمات کو دل و جان سے قبول کرے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو نیچا نہیں دکھا سکتی اور نصرت الٰہی آج بھی اس کی اس طرح مدد گار ثابت ہوگی کہ صدر اول میں مددگار ہوئی تھی۔
آگے چل کر ارشاد الٰہی ہوتا ہے کہ :
وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُھُمْ شَیْئًا اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ (ال عمران : 3:120) ” یاد رکھو اگر تم نے صبر کیا یعنی مصائب و مشکلات میں ثابت قدم رہے اور تقویٰ کی راہ اختیار کی یعنی احکام الٰی کی نافرمانی سے پور طرح بچتے رہے تو ان کا مکرو و فریب تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکے گا جیسے کچھ بھی ان کے کرتوت ہیں خدا کی قدرت انہیں گھیرے ہوئے ہے۔ “
یہود کے متعلق دوسری پیش گوئی کا اعلان خداوندی :
215 : آیت زیر نظر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوسری پیش گوئی مسلمانوں کو یہ سنائی گئی کہ ” اگر وہ تم سے لڑیں گے تو انہیں لڑٓئی میں پیٹھ ہی دکھانا پڑے گی۔ “ پوری دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ پیش گوئی بھی آج تک بحمداللہ پوری ہوتی آئی ہے اور رہتی دنیا تک پوری ہوتی رہے گی۔ یہ آئت آج بھی للکار رہی ہے کہ کوئی ایک مثال ایسی بتا دو جہاں یہودیت نے اپنے سارے وسائل کے باوجود اسلام کے مقابلہ میں میدان جنگ میں کامیابی حاصل کی ہو۔ یاد یہ رکھنا ہے کہ اس آیت میں قوم یہود مخاطب ہے نصاریٰ نہیں۔
دوسری بات یاد رکھنے کی یہ ہے کہ یہود کے بالکل نیست و نابود ہوجانے کی پیش گوئی نہیں بلکہ یہود کے من حیث القوم دنیا میں موجود رہنے کی پیش گوئی ہے اور اعلان یہ کیا گیا ہے۔ کہ یہود اپنی ساری طاقت اور ساری قوت خواہ وہ مالی ہو یا افرادی اسلام کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ہاں ! مسلمانوں کو ان سے معمولی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ فلسطین میں یہودآج سے نہیں بلکہ اسلام کے جنم لینے سے بھی ہزاروں سال پہلے سے آباد چلے آرہے ہیں۔ ان کی پوری تاریخ ان کی بزدلی ان کے چین پر شہادت دے رہی ہے اور خصوصا ً محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد وہ ہمیشہ ذلیل و خوار رہے ہیں آج بھی وہ مسلمانوں کی گروہ بندیوں اور فرقہ بازیوں کے باوجود مسلمانوں کا مقابلہ نہی کرسکتے اور رہتی دنیا تک نہیں سکیں گے۔ نہ معلوم مسلمان بادشاہوں نے قرآن کریم کو کبھی دیکھا ہی نہیں پڑھا اور سنا ہی نہیں اس قدر وہ پست ہمت ہوچکے ہیں کہ وہ دوسرے غیر مسلموں کے سہارے ڈھونڈ رہے ہیں۔
انہی پیش گوئیوں کی بناء پر یہود آج بھی مسلمانوں سے خائف ہیں اور وہ نصاریٰ کے سہارے اپنے وجود کی بقاء چاہتے ہیں۔ ان کو اچھ طرح یہ بات معلوم ہے اور آج سے نہیں بڑی مدت سے جب سے اسلام نے اس سر زمین میں قدم رکھے کہ وہ بغیر کسی سہارے کے زندہ نہیں رہ سکتے یعنی من حیث القوم ان کا وجود کسی سہارے کے بغیر روئے زمین پر باقی نہیں رہ سکتا۔ دنیا گواہ ہے کہ پوری دنیا میں جتنی مال دار دنیوی وسائل رکھنے والی یہ قوم ہے کہ کوئی اور قوم نہیں لیکن اس کے باوجود ان کو محمد رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئیاں آج بھی اسی طرح ذلیک و خوار کئے ہوئے ہیں جیسا کہ ان پیش گوئیوں نے خود رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں ان کو ذلیل و خوار کیا تھا۔ لیکن مسلمان ہیں کہ وہ ان پیش گوئیوں کی روشنیوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہے۔
یہود و انصاریٰ کے گٹھ جوڑنے عالم اسلام کو اکٹھا نہیں ہونے دیا اور ان کا جب تک بس چلے گا وہ ایسا کبید نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن قانون الٰہی اپنی جگہ پر اٹل اور ان مٹ شے ہے وہ کسی قوم کی ریشہ دوانیوں اور گٹھ جوڑ سے کبھی خائف نہیں ہوتا۔ حقیقت تو قادر مطلق ہی جانتا ہے ہم اتنا یہ کہ سکتے ہیں کہ جو مسلمانوں کے کرنے کا کام ہے وہ انہوں نے چھوڑ دیا تو اللہ کے پاس ایسی مخلوق کی کمی نہیں وہ جس سے چاہے گا کام لے لے گا۔ لیکن اس کی پیش گوئیاں کبھی غلط نہیں ہو سکتیں۔ دعویٰ کیا ہے ؟ کان کھول کر سن لو اور یاد رکھو دعویٰ یہ ہے کہ ” اگر یہود تم سے لڑیں گے تو انہیں لڑائی میں پیٹھ دکھانی پڑے گی۔ “
اس سلسلہ کی تیسری پیش گوئی جس کا اعلان اس آیت میں موجود ہے :
216 : اس آیت میں جو تین پیش گوئیاں کی گئی ہیں ان میں سے تیسری یہ ہے کہ ” وہ کبھی فتح مند نہیں ہوں گے “ ظاہر ہے کہ اس فتح مندی سے وہی فتح مندی مراد ہے جو اسلام کے مقابلہ میں جنگ لڑکر فتح حاصل کی جائے اور یہ آج تک نہیں ہوا اور آئندہ قیامت تک نہیں ہو سکے گا۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس سے مراد یہود ہیں نصاریٰ نہیں۔ اس وقت مشرق و سطیٰ کی جو حالت ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن اس کے باوجود جب بھی کوئی انسان ذرا کہرائی میں اتر کر تاریخ اکامطالعہ کرے گا تو اس کو معلوم ہوجائے گا کہ وہاں جو کچھ ہو رہائے اس میں زیادہ حصہ خود مسلمانوں کا پنا ہے۔ مسلمانوں میں وہ دیانت و امانت نہ رہی جو ہانا چاہیے تھی۔ اسلام نے غیروں کی دوستی کے لیے جو کچھ کہا تھا وہ ہم کو یاد نہ رہا۔ اسلام نے جن باتوں سے منع کیا تھا ان سے ہم باز نہ رہے۔ اسلام نے سیاست دان کے لئے جو ہدایت دی تھیں ان کو ہم نے پس پشت ڈال دیا۔ پھر اس علاقے کے اندر جو اتار چڑھاؤ جو دوسروں کے سہارے ہوتا چلا آیا ہے۔ وہ پورے علام اسلام کے مقابلہ میں اذی تو ہو سکتا ہے لیکن ضرر نہیں۔ ان کو شرارتیں تو کہا جاسکتا ہے۔ لیکن عالم اسلام کے ساتھ مضمون پر قرآن کریم کی مزید شہادتیں ایک نظر دیکھ لو اور ان پر اسی طرح ایمان رکھو جس طرح ایک مسلم کو قرآن کریم پر ایمان رکھنے کا حکم ہے اور غیروں پر نظر رکھنے کی بجائے قرآن کریم کی ان ہدایت پر نظر رکھو یقینا یہ ہم سب کے لئے دین میں کامیاب و کامران رہنے کا ایک نہایت پختہ اور نہ ٹوٹنے والا سہارا ہے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے :
وَلَوْ قٰتَلَکُمْ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوَلَّوْا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّلاَ نَصِیْرًا سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا (الفتح : 48: 23 ۔ 22) اور اگر تم سے یہ کافر لڑتے تو یہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے۔ پھر وہ نہ کسی کو دوست پاتے اور نہ مددگار۔ اللہ کا یہ دستور پہلے سے چلا آرہا ہے۔ اور آپ اللہ کی سنت میں کبھی فرق یعنی ردوبدل نہ پائیں گے۔
بلاشعبہ آیت کا شان نزول صلح حدیبیہ کے متعلق ہے لیکن آیت کا حکم عام ہے کسی خاص واقعہ کی وجہ سے حکم عام کو منسوخ نہیں کیا جاسکتا۔ ایک دوسری جگہ ارشاد اس طرح ہوتا ہے :
اَلَمْ تَرَ اِِلَی الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِِخْوَانِہِمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَکُمْ وَلاَ نُطِیْعُ فِیْکُمْ اَحَدًا اَبَدًا وَّاِِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّکُمْ وَاللّٰہُ یَشْہَدُ اِِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْنَ لَئِنْ اُخْرِجُوْا لاَ یَخْرُجُوْنَ مَعَہُمْ وَلَئِنْ قُوْتِلُوْا لاَ یَنْصُرُوْنَہُمْ وَلَئِنْ نَّصَرُوْہُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ ثُمَّ لاَ یُنْصَرُوْنَ لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَہْبَۃً فِیْ صُدُوْرِہِمْ مِّنَ اللّٰہِ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَّ یَفْقَہُوْنَ لاَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ جَمِیْعًا اِِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوْ مِنْ وَّرَآئِ جُدُرٍ بَاْسُہُمْ بَیْنَہُمْ شَدِیْدٌ تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعًا وَّقُلُوْبُہُمْ شَتّٰی ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَّ یَعْقِلُوْنَ (الحشر : 89:14 ۔ 11)
” تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہوں نے منافقت کی روش اختیار کی ہے ؟ یہ اپنے کافر اہل کتاب بھائیوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اور تمہارے معاملہ میں ہم کسی کی بات ہرگز نہ مانیں گے اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔ مگر اللہ گواہ ہے کہ یہ لوگ قطعی جھوٹے ہی اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ ہرگز نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد کریں بھی تو پیٹھ پھیر جائیں گے اور پھر کہیں سے کوئی مدد نہ پائیں گے۔ ان کے دلوں میں اللہ سے بڑھ کر تمہار خوف ہے اس لئے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔ کبھی بھی اکٹھے ہو کر کھلے میدان میں تمہارا مقابلہ نہ کریں گے۔ لڑیں گے بھی تو قلعہ بند بستیوں میں بیٹھ کر دیواروں کے پیچھے چھپ کر۔ یہ پس کی مخالفت کے بڑے سخت ہیں تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں۔ “
اس مضمون پر غور کرنے والوں کے لئے بہت سی راہنمائیاں ہی اور تفصیل کس یہ مقام نہیں۔