Ayah 3:191غور و فکر کرنے والے وہی ہیں جو اللہ کی کسی پیدائش کو عبث و بےکار نہیں سمجھتے :
348: ان صاحب عقل لوگوں کی دوسری علامت یہ ہے کہ وہ آسمان و زمین کی تخلیق و پیدائش میں اور جو کچھ آسمان و زمین میں پیدا ہوا ہے اس کے ایک ایک ذرہ کے متعلق تفکر و تدبر کرتے ہیں تو پکار اٹھتے ہیں کہ اے اللہ ! تو نے یہ سب کچھ جو پیدا کیا ہے تو بےکار و عبث نہیں پیدا کیا۔ “ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ذکر سے فکر کا مقام بڑا ہے اس لئے یہ سمجھنا بھی لازم ہے کہ فکر کیا ہے ؟ فکر اور تفکر کے لفظی معنی غور کرنے اور کسی چیز کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرنے کے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر عبادت ہے اور فکر و تفکر اس کی مخلوقات میں مقصود ہے کیونکہ ذات وصفات الہیہ کی حقیقت کا ادراک انسان کی عقل سے باہر ہے کیونکہ وہ ان دیکھی ذات کا مشاہدہ اس دنیا میں ناممکن ہی نہیں بلکہ ممتنع ہے اس لئے اس میں غور و فکر اور تدبر و تفکر بجزائی کے کوئی نتیجہ نہیں رکھتا عارف رومی کہتے ہیں۔
دور بینان بارگاہ است
غیر ازیں پے نبردہ اند کہ ہست
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں زیادہ غور و فکر انسان کی ناقص عقل کے لئے گمراہی کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لئے اہل معرفت کا یہ مقولہ زبان زد عام ہے کہ ” تفکروا فی آیت اللہ ولا تفکروا فی اللہ “ یعنی اللہ کی پیدا کی ہوئی نشانیوں میں غور و فکر کرو مگر خود اللہ کی ذات وصفات میں غور فکر نہ کرو ، کیوں ؟ اس لئے کہ وہ تمہاری عقل کی رسائی سے بالاتر ہے۔ آفتاب کی روشنی میں ہرچیز کہ دیکھا جاسکتا ہے مگر خود آفتاب کو کوئی دیکھنا چاہے تو آنکھیں خیرہ ہوجائیں گی اور پھر کچھ بھی دکھائی نہ دے گا۔ البتہ غور و فکر اور عقل کی دوڑ دھوپ کا میدان معلومات الٰہیہ ہیں جن میں صحیح اور کامل غور و فکر کا لازمی نتیجہ ان کے خالق جل شانہ کی معرفت ہے۔ اتنا عظیم الشان اور وسیع و عریض آسمان اور اس میں آفتاب و مہتاب اور پھر دوسرے ستارے جن میں کچھ ثوابت ہیں جو دیکھنے والوں کو اپنی جگہ ٹھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کوئی بہت آہستہ حرکت ہو تو اس کا علم پیدا کرنے والے ہی کو ہے اور انہی ستاروں میں کچھ سیارات میں جن کے دوسرے نظام سمشی و قمری وغیرہ کے انداز میں نہایت محکم و مضبوط قانون کے تحت مقرر اور متعین ہیں نہ ایک سیکنڈ ادھر ہوتے ہیں نہ ادھر۔ ان کی مشینری کا کوئی پرزہ گھستا ہے ، نہ ٹوٹتا ہے نہ کبھی ان کو کسی ورکشاپ میں بھیجنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کی مشینری کبھی رنگ و روغن چاہتی ہے۔ ہزاروں لاکھوں سال سے ان کے مسلسل اس نظام محکم اور معین اوقات کے ساتھ چل رہے ہیں۔
اس طرح زمین کا پورا کرہ اس کے دریا اور پہاڑ اور پھر دونوں میں طرح طرح کی مخوقات درخت اور جانور اور زمین کی تہہ میں چھپی ہوئی معدنیات اور زمین و آسمان کے درمیان چلنے والی ہوا اور اس میں پیدا ہونے اور برسنے والی برق و باراں اور اس کے مخصوص نظام یہ سب کے سوچنے سمجھنے والے کے لئے کسی ایسی ہستی کا پتہ دیتے ہیں جو علم و حکمت اور قوت وقدرت میں سب سے بالاتر ہے اور اس کا نام معرفت ہے تو یہ غور و فکر معرفت الٰہیہ کا سبب ہونے کی وجہ سے بہت بڑی عبادت ہے۔ حسن بصری (رح) کا قول ہے کہتفکر ساعۃ خیر من قیام لیلۃ (ابن کثیر) بعنی ایک گھڑی آیات قدرت میں غور کرنا پوری رات کی عبادت سے بہتر اور انسانیت کے لئے زیادہ مفید ہے۔ “ اور اس طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے اس غور و فکر کو افضل عبادت فرمایا ہے۔ (ابن کثیر) حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا کہ ” ایک بزرگ کا گزر ایک عابد زاہد کے پاس ہوا جو ایسی جگہ بیٹھے ہوتے تھے کہ ان کی ایک طرف قبرستان تھا اور دوسری طرف گھروں کا کوڑا کباڑ پڑا تھا۔ گزرنے والے بزرگ نے کہا کہ دنیا کے دو خزانے تمہارے سامنے ہیں ایک انسانوں کا خزانہ جس کو قبرستان کہتے ہیں دوسرا مال و دولت کا خزانہ جو فضلات اور گندگی کی صورت میں ہے اور یہ دونوں خزانے عبرت کے لئے کافی ہیں۔ (ابن کثیر)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اپنے قلب کی اصلاح و نگرانی کے لئے شہر سے باہر کسی ویرانہ کی طرف نکل جاتے تھے اور وہاں پر پہنچ کر فرماتے تھے ” این املک “ تیرے بسنے والے کہاں گئے ؟ پھر خود ہی جواب دیتے کہ کُلُّ شَئْیٍ ھَالَکَ اِلَّا وَجْھَہٗ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا ہرچیز ہلاک ہونے والی ہے (ابن کثیر) اور اس طرح کے تفکر کے ذریعہ آخرت کی یاد اپنے قلب میں مستخصر کرتے تھے اور حضرت بشرحانی (رح) نے فرمایا ” اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی عظمت میں تفکر کرتے تو اس کی معصیت و نافرمانی نہ کرسکتے۔
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ” اے ضعیف الخلقت آدمی ! تو جہاں بھی ہو اللہ سے ڈر اور دنیا میں ایک مہمان کی طرح بسر کر اور مساجد کو اپنا گھر بنا لے اور اپنی آنکھوں کو خوف خدا سے رونے کا اور جسم کو صبر کا اور قلب کو تفکر کا عادی بنا دے اور کل کے رزق کی فکر نہ کرو۔ “
آیت مذکورہ میں اس فکر تفکر کو عقل مند انسان کا اعلیٰ و صف کر کے بیان فرمایا ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کر کے حق سبحانہ و تعالیٰ کی معرفت اور دنیا کی ناپائیداری کا علم حضوری حاصل کرلینا افضل عبادت اور نور ایمان ہے اس طرح آیات الہٰیہ کو دیکھنے اور برتنے کے باوجود خود ان مخلوقات کی ظاہری ٹیپ ٹاپ میں الجھ کر رہ جانا اور ان کے ذریعہ مالک حقیقی کی معرفت حاصل نہ کرنا سخت نادانی اور ناسمجھ بچوں کی سی حرکت ہے اور اس بےبصیرتی کی طرف حضرت مجذوب (رح) نے اس طرح فرمایا ہے۔
کچھ بھی مجنوں جو بصیرت تجھے حاصل ہوجائے
تو نے لیلیٰ جسے سمجھا ہے وہ محمل ہوجائے
بعض حکماء نے فرمایا ہے کہ جو شخص کائنات عالم کو عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا تو بقدر اس کی غفلت کے اس کے قلب کی بصیرت مٹ جاتی ہے آج کی سائنٹفک (Scientfic) اور حیرت انگیز ایجادات اور ان میں الجھ کر رو موجدین اور استعمال کرنے والے بہت سے ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اپنے انجام کار سے غفلت میں ہونے کی وجہ سے حکماء کے اس مقولہ کی کھلی شہادت ہیں کہ سائنس کی ترقیات جوں جوں اللہ تعالیٰ کی کمال صنعت کے رازوں کو کھولتی جاتی ہے اتنا ہی وہ خدا شناس اور حقیقت سے اندھے ہوتے جاتے ہیں اور اس کو اکبر نے ان الفاظ میں ادا کیا ہے۔
بھول کر بیٹھا ہے یورپ آسمانی باپ کو
بس خدا سمجھا ہے اس نے بار کو اور بھاپ کو
قرآن کریم نے ایسے ہی بےبصیرت لکھے پڑھے جاہلوں کے متعلق ارشاد فرمایا۔ وَکَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَۃٍ فِی السَّمٰواتِ وَالْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْھَا وَھُمْ عَنْھَا مُعْرِضُوْنَ (یوسف : 105:12) ” آسمان و زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن سے یہ لوگ منہ موڑ کر گزر جاتے ہیں اور ان کی حقیقت و صنعت اور ان کے صانع کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ “
مطلب کتنا واضح اور صاف ہے کہ زمین و آسمان کی ہرچیز بجائے خود محض ایک چیز ہی نہیں ہے بلکہ ایک نشانی بھی ہے جو اصل حقیقت کی طرفا اشارہ کر رہی ہے۔ جو لوگ ان چیزوں کو محض چیز ہونے کی حیثیت سے دیکھتے ہیں وہ انسان کا سا دیکھنا نہیں بلکہ جانوروں کا سا دیکھنا چاہتے ہیں۔ درخت کو درخت اور پہاڑ کو پہاڑ اور پانی کو پانی تو جانور بھی دیکھتا ہے اور اپنی اپنی ضرورت کے لحاظ سے ہر جانور اس چیزوں کا مصرف بھی جانتا ہے مگر جس مقصد کے لئے انسان کو حواس کے ساتھ سوچنے والا دماغ بھی دیا گیا ہے وہ صرف اسی حد تک نہیں ہے کہ آدمی ان چیزوں کو دیکھے اور ان کا مصرف اور استعمال معلوم کرے بلکہ اصلی مقصد یہ ہے کہ آدمی حقیقت کی جستجو کرے اور ان نشانیوں کے ذریعے سے اس کا سراغ لگائے۔ اسی معاملہ میں اکثر انسان غفلت برت رہے ہیں اور پھر وہ اپنے آپ کو معمولی انسانی بھی بھی نہیں سمجھتے بلکہ قوم کا لیڈر۔ حکمران اور علماء و مذہبی راہنما سمجھتے ہیں اور یہی غفلت ہے جس نے ان کو گمراہی میں ڈال رکھا ہے۔ اگر دلوں پر یہ قفل یہ چڑھا لیا گیا ہوتا تو انبیاء (علیہم السلام) کی بات سمجھنا اور ان کی راہنمائی سے فائدہ اٹھانا لوگوں کے لئے اس قدر مشکل نہ ہوجاتا۔
اہل منطق اور فکر ؟ اہل منطق کے نزدیک فکر کا معنی ہے نامعلوم چیز کو جاننے کے لئے معلوم چیزوں کو دماغ کے اندر مناسب ترتیب دینا۔ قاموس میں ہے کہ کسی چیز کو جاننے کے لئے غور سے کام لینا فکر ہے اور جوہری نے صحاح میں لکھا ہے کہ ” فکرہ “ وہ قوت جو نامعلوم تک پہنچنے کے لئے علم کا راستہ بتاتی ہے اور تفکر کا معنی ہے قوت فکر کی حرکت جو عقلی نظر کے موافق ہو اور یہ صرف انسان کی خصوصیت ہے دوسرے حیوان تفکر سے محروم ہیں کیونکہ حیوان کی قوت عقیلہ نہیں ملی حیوان کے پاس صرف ” حِس “ ہے تفکر کا تعلق صرف انہی چیزوں سے ہوتا ہے جن کی صورت دماغ میں آنا ممکن ہو اس لئے روایت میں آیا ہے کہ اللہ کی نعمتوں پر غور کرو لیکن اللہ کی ذات میں غور نہ کرو کیونکہ اللہ کی ذات ہر صورت سے پاک ہے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ لفظ فکر لفظ ” فوک “ کا مقلوب ہے اور ” فوک “ کے معنی ہیں تراشنا ، چھیلنا ، رگڑنا مگر فکر کا استعمال معانی میں ہوتا ہے یعنی معانی کو چھیلنا ، تراشنا ، کھودنا ، کریدنا اور رگڑنا تاکہ ان کی حقیقت تک رسائی ہوجائے تفکر ہے۔
غور و فکر کا آخر میں نتیجہ عذاب دوزخ سے پناہ طلب کرنا ہی :
349: اللہ تعالیٰ کی آیات میں غور و فکر کا نتیجہ ہے کہ صحیح معنوں میں غور و فکر کرنے والا پہلے تو یہ پکار اٹھتا ہے کہ اے میرے رب ! تو نے کوئی چیز بےکار اور بےحقیقت محض کھیل کے لئے نہیں بنائی۔ اور چونکہ یہ تمام کارخانہ ہستی اور اس کا عجیب و غریب نظام بغیر کسی اعلیٰ مقصد اور نتیجہ کے نہیں ہو سکتا اور ضروری ہے کہ انسان کی دنیوی زندگی کے بعد بھی کوئی دوسری زندگی ہو اور جو کچھ اس زندگی میں کیا جاتا ہے اس کے نتائج اس زندگی میں پیش ائیں۔ جب یہ حقیقت اس پر کھلتی ہے تو اس کی روح گویا خدا پرستی کے جوش سے معمور ہوجاتی ہے اور وہ اپنے رب حقیقی کے سامنے بندگی و نیاز کا سر جھکا دیتا ہے اور اس سے بخشش و رحمت کا طلب گار ہوتا ہے اور پکار پکار کر کہتا ہے کہ ” سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ “ اے ہمارے رب ! تو پاک ہے ہمیں عذاب سے بچالے۔ اس آیت کے مضمون کو تصریف آیات کے ذریعہ سے بار بار قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے ایک جگہ ارشاد ہے کہ :
’ـ’ وہی ہے جس نے سورج کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو روشن اور پھر چاند کی منزلوں کا اندازہ ٹھرا دیا تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرہ۔ اللہ نے یہ سب کچھ نہیں بنایا ہے مگر حکمت اور مصلحت کے ساتھ ان لوگوں کے لئے جو ماننے والے ہیں اور وہ اپنی قدرت و حکمت کی دلیلیں کھول کر بیان کردیتا ہے۔ “ (یونس : 5:10) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” وہی ہے جس نے سورج کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو روشن اور پھر چاند کی منزلوں کا اندازہ ٹھہرا دیا تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو۔ اللہ نے یہ سب کچھ نہیں بنایا ہے مگر حکمت اور مصلحت کے ساتھ ان لوگوں کے لئے جو جاننے والے ہیں اور وہ اپنی قدرت و حکمت کی دلیلیں کھول کر بیان کردیتا ہے۔ “ (یونس : 5:10) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
ہم نے زمین و آسماں کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان برحق اور ایک مدت خاص کے تعین کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ مگر یہ کافر لوگ اس حقیقت سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ جس سے ان کو خبردار کیا گیا ہے۔ “ (الاحقاف : 3:46) ایک جگہ اور ارشاد ہوا :
” ہم نے اس آسمان اور زمین کو جو کچھ بھی ان میں ہے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے۔ “
ایک جگہ اور ارشاد ہے :
” اگر ہم کوئی کھلونابنانا چاہتے اور بس یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تو اپنے ہی پاس سے کرلیتے مگر ہم تو باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتی ہے۔ اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے مٹ جاتا ہے۔ اور تمہارے لئے تباہی ہے۔ ان باتوں کی وجہ سے جو تم بناتے ہو۔ “ (الانباھء : 23:22:21)
” بس یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تو اپنے ہی پاس سے کرلیتے ؟ “ مطلب یہ ہے کہ ہمیں کھیلنا ہی ہوتا تو کھلونے بنا کر ہم خود ہی کھیل لیتے۔ اس صورت میں یہ ظلم تو ہرگز نہ کیا جاتا کہ خواہ مخواہ ایک ذی حس ، ذی شعور ، ذمہ دار مخلوق کو پیدا کر ڈالا جاتا اس کے درمیان حق و باطل کی یہ کشمکش اور کھینچا تانیاں کرائی جاتیں اور محض اپنے لطف و تفریح کے لئے ہم دوسروں کو بلاوجہ تکلیفوں میں ڈالتے۔ تمہارے اللہ نے یہ دنیا کچھ ردی اکھاڑے (Colosseum) کے طور پر نہیں بنائی ہے کہ بندوں کو درندوں سے لڑوا کر اور ان کی بوٹیاں نچوڑ کر خوشی کے ٹھٹھے لگائے اور ایک جگہ ارشاد فرمایا :
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآئَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا بَاطِلًا ذٰلِکَ ظَنُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنَ النَّارِ (ص : 27:38) ” ہم نے اس آسمان اور زمین کو اور اس دنیا کو جو ان کے درمیان ہے۔ فضول پیدا نہیں کردیا ہے۔ یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے اور ایسے کافروں کے لئے بربادی ہے جہنم کی آگ سے۔ “ اور یہی مضمون سورة المؤمنون : 115:23 اور سورة الدخان کی آیات 38 تا 40 میں بیان کیا گیا ہے ۔
Ayah 3:192اے ہمارے رب دوزخ کے عذاب سے ہم کو بچا جو دوزخ میں گیا وہ رسوا ہوگیا :
350: اللہ تعالیٰ نے خود اپنے بندوں کو آگ سے بچنے کی دعا سکھائی کیونکیہ آگ ہی قیامت کا بدترین عذاب ہے جس سے زیادہ بڑا اور زیادہ برا اور کوئی عذاب نہیں ہو سکتا۔ اور اگر غور کیا جائے تو آگ ہی اس دنیا میں انسان کے سارے امن اور اطمینان کو برباد کردیتی ہے۔ آخرت کی کامیابی بھی یہی ہے کہ انسان آگ سے بچے اور دنیا کی کامیابی بھی یہ ہے کہ انسان آگ سے بچے۔ وہ کتنے ہیں جو اس دنیا کی آگ میں جل رہے ہیں۔ اور پھر نکلنے کی صورت نظر نہیں آتی اور کتنے ہیں جو آخرت میں جلنے کے لئے زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ رسوائی سے بچائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی لیکن منکرین کے لئے عذاب ہی عذاب ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
” وہ ہماری کا انکار ہی کرتے رہے آخر کار ہم نے چند منحوص دنوں میں سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی تاکہ انہیں دنیا کی زندگی میں ذلت و رسوائی کا مز چکھا دیں اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ رسوا کن ہے وہاں کوئی ان کا مدد کرنے والا نہ ہوگا۔ “ (فصلت : 16:41)
یہ ذلت و رسوائی کا عذاب ان کے اس کبر اور غرور کا جواب تھا جس کی بناء پر وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے تھے۔ اور خم ٹھونک ٹھونک کر کہتے تھے کہ ہم سے زیادہ زور آور کون ہے ؟ اللہ نے ان کو اس طرح ذلیل کیا کہ ان کی آبادی کے بڑے حلقے کو ہلاک کردیا اور ان کے قرن کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا اور ان کا قلیل حصہ جو باقی رہ گیا وہ دنیا کی انہی قوموں کے آگے ذلیل و خوار ہوا جن پر کبھی یہ لوگ اپنا زور جتاتے تھے۔ اور پھر یہ تو دنیا کی رسوائی تھی۔ لیکن آخرت کی رسوائی وہ اس سے بہت بڑی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوا :
” اور ذرا اس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے یہ دشمن دوزخ کی طرف لے جانے کے لئے گھیر لئے جائیں گے اور ان کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا۔ پھر جب وہ سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔ “ (فصلت : 20:41) اس لئے ایک سچے مسلمان کو اللہ سے یہ دعا مانگتے رہنا چاہیے کہ ” اے ہمارے رب ! جس کے لئے ایسا ہو کہ تو اسے دوزخ میں ڈالے تو بلاشبہ تو نے اسے بڑی ہی رسوائی میں ڈالا اور یہ اس دن ہوگا جس روز ظلم کرنے والوں کے لئے کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ “ اس طرح گویا پہلی درخواست جہنم کے عذاب سے بچنے کے لئے ہے جو اس سے پہلی آیت میں کی گئی اور اس آیت میں یہ دوسری درخواست ہے کہ ہمیں آخرت کی رسوائی سے بچائے کیونکہ جن کو تو نے جہنم میں داخل کردیا اس کو سارے جہان کے سامنے رسوا کردیا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دعا میدان حشر کے عذاب سے بچنے کے لئے تعلیم کی گئی ہو کیونکہ حشر کے اندر رسوائی ایک عذاب ہوگا کہ آدمی کو اہش کرے گا کہ کاش ! اسے جہنم میں ڈال دیا جائے اور اس کی بدکاریوں کا چرچا اہل محشر کے سامنے نہ وہ۔ اللہ کی پناہ۔
Ayah 3:193نبی اعظم و آخر ﷺ کی دعوت سن لینے کی شہادت :
351: منادی ندا سے ہے اور نداء آواز کے بلند کرنے کو کہتے ہیں اور بعض اوقات مجرد صوت پر بھی یہ الفاظ بولا جاتا ہے۔ اس کے معنی و مفہوم ہو یا نہ ہو جیسے ” الا دُعائَ وَّنِدَائً “ (البقرہ : :2 171) اور بعض اوقات مرکب پر جس سے کچھ معنی و مفہوم ہوں جیسے وَاِذْ نَارٰی رَبُّکَ مُوْسیٰ (الشعراء :10:26) وَاِذَنَادَیْتُمْ اِلیَ الصَّلٰوۃِ (المائدہ :58:5)
زیر نظر آیت میں یہ ” منادی “ کرنے والے کون ہیں ؟ ظاہر ہے کہ اس سے مراد حقیقی تو نبی اعظم و آخر ﷺ ہی ہیں اگرچہ آپ ﷺ مکہ بعد ہر دعوت اسلام دینے ولاے شخص پر یہ لفظ بولا جاسکتا ہے تاہم اس جگہ سب سے اول منادی کرنے والے خود محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اگرچہ بعض نے اس سے مراد قرآن کریم بھی لیا ہے اور امام راغب کہتے ہیں منادی میں اشارہ ہے عقل کی طرف جو انسان کو دی گئی ہے۔ کتاب کی طرف جو اتاری گئی اور رسول کی طف جو بھیجا گیا اور ان تمام نشانات کی طرف جو اللہ پر ایمان لانے کی طرف دلالت کرنے والے ہیں۔ کیونکہ ان کا ظہور بھی ندا ہی کی طرح ہے۔ تاہم اس جگہ منادی کرنے والے خود رسول اللہ ﷺ ہی کو بیان کرنا زیادہ قرین قیاس ہے کیونکہ قرآن کریم نے دوسری جگہ آپ ﷺ ہی کو ” شاہد “ ” مبشر “ ” نذیر “ ” دَاعِیاَ اِلیَ اللہِ بِاِذْنِہٖ “ اور ” سِرَجاً مُنِْرَا “ جیسے ناموں سے نوازا ہے اور یہاں بھی سب لوگوں کی گواہی اور شہادت ہوگئی کہ ہاں تیرے منادی کرنے والے کی منادی سن لی۔ “
منادی کرنے والا کیا منادی کرتا ہے یہ فرمایا گیا کہ وہ ایمان کی دعوت دیتا ہے :
352: اس منادی کرنے والے نے کس چیز منادی کی ؟ فرمایا یہ ایمان کی طرف دعوت دے رہا تھا۔ کہ ” لوگو ! اپنے رب پر ایمان لاؤ ۔ “ بس ہم نے اس کی پکار سن لی اور اس پر ایمان لے آئے۔ ایمان لانے کا اقرار کرلیا تو اب سمجھ لینا چاہئے کہ ایمان کیا ہے ؟
” ایمان “ کے معنی ہیں یقین کرنا ، تصدیق کرنا “ مال لینا اور اصطلاح شریعت میں ” ایمان “ کا مطلب ہے اس حقیقت کو تسلیم کرنا اور ماننا کہ اللہ ایک ہے۔ اس کے علاوہ کوئی معبود و الٰہ نہیں وہی پروردگار حقیقی ہے اور اس کے تمام ذاتی و صفائی کمالات برحق ہیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے آخری رسول اور نبی ہیں یعنی آپ ﷺ پر رسالت و نبوت بند کردی گئی ہے آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی و رسول نہیں آئے گا اور جو بھی دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہوگا۔
آپ ﷺ کی ذات صادق و مصدوق ہے اور یہ کہ آپ ﷺ کتاب و سنت کی صورت میں اللہ کا جو آخری پیغام اس دنیا میں لائے ہیں اس کی حقانیت و مصداقت بھی شک و شبہ سے بالا تر ہے۔
ایمان کی یہ تشریح خود رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث میں اس طرح بیان فرمائی ہے کہ جب پوچھنے والے جبرئیل (علیہ السلام) تھے انہوں نے پو چھا تھا کہ ” فاخبرنی عن ال ایمان “ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” ان تؤمن باللہ و ملائکۃ و کتبہ ورسلہ و الیوم الا خروتؤمن بالقدر خیرہ و شرہ “ ” آپ ﷺ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تو اللہ کو اس کے فرشتوں کی اس کی کتابوں کو اور اس کے رسولوں اور قیامت کے دن کو ، دل کے یقین سے مان لے اور اس بات پر بھی یقین رکھ کہ برا بھلا جو کچھ پیش آتا ہے وہ سب قانون قدرت کے مطابق ہے۔ “ ہاں اس حدیث سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ایمان سے پہلے اسلام ضروری ہے کیونکہ جبرئل (علیہ السلام) نے بھی ایمان سے پہلے اسلام ہی کی متعلق سوال کیا تھا اس لئے یہاں یہ سمجھ لینا بھی ضروری ہے کہ اسلام کیا ہے ؟ حدیث میں ہے کہ جبریل (علیہ السلام) نے پوچھا تھا۔ ” اخبرنی عن الاسلام “ کہ مجھے اسلام کے بارے میں بتاؤ کہ وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : الا سلام ان تشھد ان الا لہ الا اللہ و ان محمداً رسول اللہ وتقیم الصلوۃ و تؤتی الذکوۃ و تصرم رمضان وتحج البیت ان استطعت الیہ سبیلاً “ اسلام یہ ہے کہ تم اس حقیقت کا اعتراف کرو اور گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور پھر تم پابندی سے نماز پڑھو ، ذکوٰۃ ادا کرو ، رمضان کے درواذے رکھو اور زاد روہ میسر آئے تو بیت اللہ کا حج کرو۔ “
اس حدیث میں سب سے پہلے اسلام اور ایمان کی حقیقت ہی بیان ہوئی ہے جس سے اسلام اور ایمان کے درمیان جو فرق ہے وہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ اسلام کا تعلق ظاہر یعنی اعمال اور جسمانی اطاعت و فرمانبرداری سے ہے اور ایمان کا تعلق باطن یعنی قلبی تصدیق اور اعتقاد سے ہے۔ ” اللہ کو ماننے “ کا مطلب اس بات میں یقین و اعتقاد رکھنا ہے کہ اس کی ذات اور صفات برحق ہیں اور عبادت کی سزاوار صرف اور صرف اس کی ذات ہے اس کے سوا کسی کی بھی ذات عبادت کی سزاوار نہیں اور کوئی اس کا ہمسرو شریک نہیں۔
” فرشتوں کے ماننے “ کا مطلب اس بات پر یقین کرنا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی گئی طاقتیں ہیں جو نیکی کی ممد و معاون ہیں برائی کی نہیں۔ وہ لطیف و نورانی ہیں اور ان میں تو الدو تناسل نہیں۔
اسلام کی بنیادی چیزیں پانچ ہیں جو اس حدیث میں بھی بیان کی گئی ہیں اور دوسری احادیث میں بھی جگہ جگہ یہ بیان کی گئی ہیں چناچہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے ایک حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بنی الاسلام علی خمس شھادۃ ان الا الٰہ اللہ وان محمدا عبدہ ورسولہ واقام الصلٰوۃ وایتاء الزکوٰۃ الحج وصوم رمضان (بخاری و مسلم) ” اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اول اس بات کا دل سے اقرار کرنا اور گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (e) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ دوم پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنا۔ سوم باقاعدہ زکوۃ دینا۔ چہارم حج کرنا اور پنجم رمضان کے روزے رکھنا۔
اور ایمان کی تشریح بھی کتب احادیث میں پوری تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ چناچہ ابوہریرہ ؓ سے ایک حدیث اس طرح بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ال ایمان بضع و سبعون شعبۃ فافضلھا قول لا الٰہ الا اللہ وادنا اماطۃ الاذی من الطریق والحیاء شعبۃ من ال ایمان (بخاری و مسلم ) ” ایمان کی شاخیں ستر سے کچھ اوپر ہیں ان میں سب سے اعلیٰ درجہ کی شاخ زبان و دل سے اس بات کا اقرار و اعتراف ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سب سے کم درجہ کی شاخ کسی کو تکلیف دینے والی چیز کو راستہ سے ہٹا دینا ہے اور شرم و حیاء بھی ایمان ہی کی ایک شاخ کا نام ہے۔ “ اس طرح اسلام و ایمان آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور اس سارے مرکب کو کبھی اسلام کا نام دیا جایا ہے اور کبھی ایمان کا یعنی ان سارے اجزاء کے کل کو اسلام کہیں یا ایمان ایک ہی بات ہے۔ آیت کے اس جملہ میں اس بات کی تصدیق ہے کہ اے اللہ ! وہ مندی کرنے والا ایمان کی طرف بلا رہا تھا۔ ہم نے اس کی پکار سن لی کہ ” ایمان لے آو “ چناچہ ہم ایمان لے آئے۔ “
ہمارے رب ! ہمارے گناہ معاف فرما کہ ہمیں نیک کرداروں کے ساتھ ملا دے :
353: پکارنے والے کی پکار سن لی پھر سن ہی نہیں لی بلکہ دل و جان سے اس کو قبول بھی کرلیا اور اس پر پورے عزم و جزم کے ساتھ عمل بھی رہے ہیں اور جب تک زندگی رہی عمل کرتے رہیں گے لیکن چونکہ ہم انسان ہیں پھر انسان اور خطا۔ انسان اور بھول چوک تو لازم و ملزوم ہیں۔ ہم بھول گئے اور ہم سے خطائیں بھی سرزد ہوئیں۔ اے ہمارے رب ! ہم چھوٹے ہیں تو بڑا۔ ہم گناہ گار ہیں اور تو غفور و رحیم ہے ہمارے چھوٹے بڑے گناہوں کو معاف فرما دے اے اللہ ہم کو سچی توبہ کی توفیق عطا فرما۔ اے عفو و کرم کرنے والے ! ہم نے بہت گناہ کئے ہیں گناہ گار ہیں قصور وار ہیں لیکن پھر بھی آپ کی معافی کے طلبگار ہیں اے اللہ ! درگزر فرما دیجئے۔ اے ہمارے مالک ! ہماری ان ٹوٹی پھوٹی عبادتوں کو اپنے فضل خاص سے قبول فرما لے۔
اے ہمارے پروردگار اس شیطان و نفس نے ہم کو بہت بہکایا اس کے فریب سے ہم کو بچا لے۔ اے رب العالمین ! رزق حلال عطا فرما اور حرام کھانے اور کمانے سے ہم کو بچا لے۔ اے ہمرے نگہبان ! ہماری جان و مال اور عزت و آبرو اور دنیوی مصائب سے ہم سب کو بچا لے۔ اے ہادئی برحق ! ہم سب کو ہماری اولادوں کو اور متقین کو نیک بنا دیجئے۔ دین پر چلنے کی توفیق دیجئے اور ہماری اولاد کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے اور ہماری نیک نامی اور آخرت کی کامیابی کا باعث بنا دے۔ اے احکم الحاکمین ! ہم کو ظالموں کے ظلم سے بچائیے اور ہم مظلوموں کی مدد فرما دیجئے۔ اے قادر و قدیر رب ! حاسدوں کے حسد سے اور دشمنوں کی شرارت سے ہم کو بچا اور ہماری برائی چاہنے والوں کی بھی ہدایت عطا فرما اور غیب سے ہماری نصرت کا سامان کر دے۔ اے غفور رحیم ! ہم کو ہر قسم کی بلاؤں ، ناگہانی آفتوں سے بچا لے ، مہلک بیماریوں سے جنات و شیاطین کی شرارتوں سے محفوظ فرما۔ اے ہمارے آقا و مولیٰ ! تو ہمیں آزمائش میں مت ڈال ہم بہت کمزور ہیں ہم پر رحم فرما ہمارے والدین ، ہماری اولاد اور عزیز و اقارب کو ہر طرح کی مصیبتوں سے بچاتے ہوئے آپس میں ایک دوسرے سے محبت و پیار کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے گھروں کو خیرو برکت سے بھر دے ہمارے روحانی و جسمانی بیماریوں کو شفا عنایت فرما۔ اے مالک و مہربان ! ہمارے حالت کو بھی طی کی ، بھلائی اور اچھائی کی طرف بدل دے۔ اے ہمارے رب ! امن وامان ، چین و سکون اور اطمینان قلب عطا فرما دے۔ اے رب کریم ! ہمارے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ فرما اور بری موت سے بچا ، اچانک موت سے محفوظ فرما۔ اے ہمارے مالک ! ہم کو میدان حشر کی رسوائی سے بچا دوزخ کے عذاب سے بچا۔
Ayah 3:194اے ہمارے رب ! ہمیں وہ سب کچھ عطا فرما دے جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے :
354: اپنے رب سے مانگنے میں کسی بندے کو نہ شرم آنی چاہیے نہ جھجک کیونکہ ہم سے مانگت ہیں اور وہی ہم سب کا داتا ہے۔ انبیاء کرام جو دوسرے سارے انسانوں سے افضل و اعلیٰ تھے وہ بھی اللہ سے مانگتے رہے قرآن کریم نے تقریبا ہر نبی کی پکار کا ذکر کیا ہے آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اعظم و آخر ﷺ تک سارے انبیائے کرام کو اللہ نے کود دعائیں سکھائیں اور خود ہی ان کو قبول فرما کر ساری امتوں کو یہ سبق دیا کہ جو کچھ مانگنا ہے صرف مجھ ہی سے مانگو اور یہی تعلیم محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کو دی۔ چناچہ فرمایا :
وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ (البقرہ : 186:2) ” اے پیغمبر اسلام ! میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں بتادو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے میں اس کی پکار سنتا ہوں اور جواب دیتا ہوں لہٰذا انہیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں یہ بات تم انہیں سنا دو شاید کہ راہ راست پالیں۔ “
اگرچہ تم مجھے دیکھ نہیں سکتے اور نہ ہی اپنے حواس سے مجھ کو محسوس کرسکتے ہو لیکن یہ خیال نہ کرو کہ میں تم سے دور ہوں نہیں ، میں اپنے ہر بندے سے اتنا قریب ہوں کہ جب وہ چاہے مجھ سے عرض معروض کرسکتا ہے حتیٰ کہ دل ہی دل میں وہ جو کچھ مجھ سے گزارش کرتا ہے میں اسے بی سن لیتا ہوں اور صرف سنتا ہی نیں فیصلہ بھی صادر کرتا ہوں۔ جن بےحقیقت اور بےاختیار ہستیوں کو تم نے اپنی نادانی سے الٰہ اور رب نہ ان میں یہ طاقت ہے کہ تمہاری درخواستوں پر کوئی فیصلہ صادر کرسکیں مگر میں کائنات بےپایاں کا فرماں اور سفارش کے براہ راست ہر وقت اور ہر جگہ مجھ تک اپنی عرضیاں پہنچا سکتے ہو۔ لہٰذاتم اپنی اس نادانی کو چھوڑ لبیک کہہ کر میرا دامن پکڑ لو۔ میری طرف رجوع کرو ، مجھ پر بھروسہ کرو اور میری بندگی و ا طاعت میں آجاؤ ۔
شکر گزاروں کو مزید ملتا ہے اور کفران نعمت کرنے والوں کے لئے عذاب الٰیع تیار ہے :
355: ” اور اپنے کرم خاص سے ایسا کر کہ قیامت کے دن ہمیں ذلت و خواری نصیب نہ ہو۔ “ قرآن کریم نے دوسری جگہ اس کی وضاحت خود فرما دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون اس سلسلہ میں یہ ہے کہ شکر گزاروں کو زیادہ ملتا ہے اور کفران نعمت کرنے والوں کے لئے عذاب الٰہی تیا کھڑا ہے۔ چناچہ ارشاد لٰہی ہے کہ :
وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَ لَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْد (ابراہیم : 7:14) ” اور یاد رکھو تمہارے رب نے خبردار کیا ہے کہ اگر تم شکر گزار ہو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔ “
اس آیت میں اس واقعہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی وفات سے چند روز پہلے بنی اسرائیل کو ان کی تاریخ کے سارے اہم واقعات یاد دلاتے ہیں اور پھر تورات کے ان تمام احکام کو دہراتے ہیں جو اللہ نے ان کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کو بھیجے تھے پھر ایک طویل وعظ فرماتے ہیں جس میں بتاتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنے رب کی فرمانبرداری کی تو کیسے انعامات سے نوازے جائیں گے اور اگر نافرمانی کی روش اختیار کی تو اس کی کتنی سخت سزا دی جائے گی ؟
اس جگہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذلت و خواری سے بچنے کی جو دعائیں کر رہے ہوں ان کی قبولیت کے لیے یہ شرط ہے کہ اگر تم نے محمد رسول اللہ ﷺ کی نعمت کا شکر ادا کیا کہ ان کی سچے دل سے فرمانبرداری کی تو یقینا تمہاری دنیا بھی سنورے گی اور آخرت بھی بہتر ہوگی لیکن اگر تم نے ناشکری کی یعنی رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کے مرتب ہوئے تو پھر تمہاری دعا قبول نہیں ہوگی اور مزید یہ کہ تم عذاب الٰہی کے مستحق قرار دیے جاؤ گے اس لیے کہ یہی کچھ موسیٰ (علیہ السلام) کی امت کے ساتھ ہوا تھا۔
اے اللہ ! تیری ہی وہ ذات ہے کہ جس کا کیا ہوا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا :
356: ” اے اللہ ! تو ہی ہے کہ تیرا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا۔ “ اس طرح یہ ان اللہ کے بندوں کی اپنے رب کریم کی بارگاہ میں چوتھی درخواست ہے جو دنیا و آخرت کے فوائد حاصل کرنے کے متعلق ہے کہ انبیاء کرام کے ذریعہ جو وعدہ آپ نے جنت اور جنت کی نعمتوں کا فرمایا وہ ہمیں اس طرح عطا فرمائے کہ قیامت کے روز رسوائی بھی نہ ہو یعنی اول مواخذہ اور بدنامی بعد میں معافی کی بجائے اول ہی سے معافی فرما دیجئے آپ تو کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتے اور اس طرح عرض و معروض کا مقصد حقیقی یہ ہے کہ ہمیں اس قابل بنا دیجئے کہ ہم یہ وعدہ حاصل کرنے کے مستحق ہوجائیں اور پھر اس پر قائم بھی رہیں پہلوں کی طرح وعدہ کر کے خلاف نہ کریں یعنی ہمارا خاتمہ ایمان اور عمل صالح پر ہو۔
اگر کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہو کہ جب ایک امر کا وعدہ ہو تو پھر اس کے لیے دعا کی کیا حاجت رہ گئی اور وعدہ بھی جب کہ اللہ کی طرف سے ہو کین کہ اللہ سے تو خلافِ وعدہ محال ہے ؟ سن لینا چاہیے کہ وعدہ عمل کے ساتھ وابستہ ہے جب عمل ہوگا یقینا ویسا ہی اس کے ساتھ اس کا نتیجہ قانون الٰہی میں طے ہے اور اسی نتیجہ کا نام وعدہ ہے۔ جب عمل اچھا ہے تو یقینا اس کا وعدہ الٰہی یعنی نتیجہ عمل بھی اچھا ہی ہوگا اور برائی یا خطا ہوجانے کے بعد اس کا اعتراف اور معافی کی طلب جو بذاتہ ایک عمل ہے اور پھر ایسا عمل ہے جو پہلے عمل کے نتیجہ کو مٹا کر نیا نتیجہ پیدا کردیتا ہے جو اس معافی طلب کرنے کے عمل کے ساتھ وابستہ ہے۔
Ayah 3:195اللہ کے ہاں ہر عمل کرنے والے کے عمل کا اجر محفوظ ہے وہ مرد ہو یا عورت :
357: سبحان اللہ ! دعا کی قبولیت کا اظہار ہے لیکن کتنے پیارے انداز میں۔ کیا ہیں وہ جو اس طرح دعا کرتے ہیں اور کیا ہی ان کا عمل ہے اور کیا ہی اس کا نتیجہ ؟ ادھر ان کی زبان سے دعا کے الفاظ نکلے ادھر اس بذات الصدور ذات سے قبولیت کی سند مل گئی۔ جو دعائیں صحیح عمل و جذبے کے ساتھ صحیح محل اور ٹھیک وقت پر نکلتی ہیں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ ایسا ہی ہے۔ گزشتہ دعاؤں کے مضمون پر ایک بار نظر کرو اور ان کو دعا کے طور پر پڑھو اور ان دعا مانگنے والوں کو دیکھو انہوں نے کس طرح اللہ کا ذکر بلند کیا اور آسمان و زمین کی پیدائش پر فکر کرنے کا کون سا انداز اختیار کیا اور پھر اپنے رب کو پکارتے ہوئے ” رَبَّنَا “ کے الفاظ انہوں نے دل کی گہرائی سے نکالے اور پھر پکار اٹھے کہ اللہ ! تو نے ان کو بےفائدہ نہیں پیدا کیا اور اس طرح انہوں نے نہایت عاجزی اور فرتونی کے ساتھ اپنے آپ کو رب کے آھگے ڈال دیا اور کہنے لگ جس طرح تو نے ہم کو ” آمَنَّا “ کہنے کی توفیق دی تھی اس طرح ہماری تمام کوتاہیوں سے درگزر فرما اور اس راہ کی ذمہ داریوں اور مشکلات سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق دے اور انجام کار ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔
اس طرح جب انہوں نے اچھے اعمال کرنے کے باوجود ان پر ناز نہ کیا بلکہ اپنی کمزوریوں پر نگاہ رکھتے ہوئے دعا مانگی تو رحمت الٰہی نے بھی ان کی کس طرح حوصلہ افزائی فرمائی کہ ” اس طرح دعائیں کرنے والوں کی دعاؤں کو ان کے رب نے قبول کرلیا اور فرمایا کہ ” بلاشبہ میں کبھی بھی کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم سب ایک دوسرے کی جنس ہو اور نتائج عمل کا قانون سب کے لیے ایک جیسا ہی ہے۔ “
اللہ تعالیٰ نے تمام اہل ایمان کی حوصلہ افزائی فرما دی جو اس دعوت کو قبول کرنے والے تھے جس دعوت کو پیش کرنے کے لیے نبی اعظم و آخر ﷺ مبعوث ہوئے۔ جو اس نازک مرحلے میں اس کی تائید و تصدیق کے لیے سارے خطرات سے بےنیاز اور بےپرواہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ پھر اس مرحلے کا ذکر بھی خود ہی فرما دیا کہ یہ وحی مرحلہ ہے جس میں لوگوں نے راہ حق میں ہجرت کی۔ اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے ” اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِ “ انجام کار راہ حق میں جہاد کیا اور مرنے مارنے پر تیار ہوگئے۔
اس مشکل وقت میں جو لوگ اس میدان میں سر دھڑ کی بازیاں لگا کر اترتے تھے ان میں بھی آزاد تھے اور غلام بھی مرد بھی تھے اور عورتیں بھی اور سب کے سب ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر قربانیاں پیش کر رہے تھے اور ایمان و اسلام کے جرم میں معاندین اسلام کے ہاتھوں لرزہ خیز مظالم کا ہدف بنے ہوئے تھے اور خاص طور پر کمزوروں یعنی عورتوں اور غلاموں پر جو ستم ڈھائے جا رہے تھے ان کو سن کر تو آج بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ کا یہ بہت بڑا معجزہ ہے کہ کفار کی یہ تمام ستم ظریفیاں کسی ایک شخص کو بھی اسلام سے پھیرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں بلکہ یہ کہنا بھی مبالغہ نہ ہوگا جو شخص جتنا ہی کمزور تھا اس نے اس قدر زیادہ استقلال اور پامردی کا ثبوت دیا۔ پھر ان کی دعاؤں کی قبولیت کیوں نہ ہوئی ؟ وہ وقت تو بہت مشکل وقت تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت باراں تو آج بھی اس طرح برسنے کے لیے تیار ہے کوئی دل سے ” آہ “ نکال کر تو دیکھے کوئی مانگنے والا بھی تو ہو ؟
جن لوگوں کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں اور ان کے اجر میں اضافہ کردیا جاتا ہے :ـ
358: ثَابَ یَثُوْبُ ثَوْبَا کے اصل معنی رجوع کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور اسی سے ثواب ہے جس کے معنی اس ثمر کے ہیں کسی عمل کرنے والے کے عمل کے نتیجہ میں اس کو دیا جاتا ہے گویا وہ اس کو عمل کرنے کے ردعمل کے طور پر حاصل ہوتا ہے۔ لفظ میں ہر گنجائش ہر عمل کے نتیجہ کی ہے خواہ وہ صحیح ہو یا غلط یعنی خیر و شر دونوں کی لیکن ثواب کا لفظ نیک عمل ہی کے نتیجہ کے لیے استعمال سمجھا گیا ہے۔ ہاں ! اس جگہ بندوں کے حقیر اعمال پر جو اللہ تعالیٰ ابدی اور لازوال انعامات عطا فرمائے گا اس کو ثواب کے لفظ سے ادا کیا گیا۔ گویا اس طرح اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کے اعمال صالحہ کی قدر و قیمت بڑھا دی ہے۔ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اس انعام و اکرام کو جو بندوں کو دیا جائے گا وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَاب اور اللہ ہی جس کے پاس بہتر ثواب ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد ہوا :
مَنْ کَانَ یُرِیْدُ ثَوَابَ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰہِ ثَوَابُ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ کَانَ اللّٰہُ سَمِیْعًا بَصِیْرًا (النساء : 134) ” جو شخص محض ثواب دنیا کا طالب ہو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کے پاس ثواب دنیا بھی ہے اور ثواب آخرت بھی اور سننے والا دیکھنے والا ہے۔ “ مطلب بالکل واضح ہوگیا کہ اللہ کے پاس دنیا کے فائدے بھی ہیں اور آخرت کے فائدے بھی۔ عارضی اور وقتی فائدے بھی ہیں پائیدار اور دائمی فائدے بھی۔ اب یہ تمہارے اپنے ظرف ، حوصلے اور ہمت کی بات ہے کہ تم اس سے کس قسم کے فائدے چاہتے ہو۔ اگر تم محض دنیا کے چند روزہ فائدوں پر ہی ریجھتے ہو اور ان کی خاطر ابدی زندگی کے فائدوں کو قربان کردینے کے لیے تیار ہو تو اللہ یہی کچھ تمہیں ابھی ابھی اس دنیا میں دے دے گا مگر پھر آخرت کے ابدی فائدوں میں تمہارا کوئی حصہ نہ رہے گا۔ دریا تو تمہاری کھیتی کو ابد تک سیراب کرنے کے لیے تیار ہے مگر یہ تمہارے اپنے ظرف کی تنگی اور حوصلہ کی پستی ہے کہ صرف ایک فصل کی سیرابی کو ابدی خشک سالی کی قیمت پر خریدتے ہو۔ کچھ ظرف میں وسعت ہو تو اطاعت و بندگی کا وہ راستہ اختیار کرو جس سے دنیا اور آخرت دونوں کے فائدے تمہارے حصے میں آئیں۔ ہم نے اس ثواب کا حشر کیا ہے اس کا ذکر کسی دوسرے مقام پر ہوگا۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
ٰٓیاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّکَفِّرَ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَیُدْخِلَکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ یَوْمَ لاَ یُخْزِی اللّٰہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ نُوْرُہُمْ یَسْعٰی بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَبِاَیْمَانِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا اِِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (التحریم : 8:66) ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اپنے گناہوں سے اللہ تعالیٰ کے حضور ایسی خالص توبہ کرو کہ دوبارہ اس کے ارتکاب کا خیال تک بھی نہ آئے بعید نہیں کہ تمہارا پروردگار تمہارے گناہ اور قصور معاف فرما کر ایسی جنتوں میں داخل فرمائے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں۔ یہ ایسا دن ہوگا جس میں اللہ عزوجل اپنے نبی محمد رسول اللہ ﷺ اور ان پر ایمان لانے والوں کو رسوا اور ذلیل نہیں کرے گا اور یہی وہ وقت ہے کہ اہل ایمان کا ایمان ان کے لیے روشنی کا کام دے گا جو ان کے دائیں بائیں دوڑ رہا ہوگا اور وہ اس میں چل کر جنت میں داخل ہوں گے اور نہایت خوشی سے بارگاہ ایزدی میں عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمارا نور ہمارے مکمل فرما دے اور ہمارے گناہ معاف فرما دے اور ہمارے گناہ معاف فرما دے تو بلاشبہ ہرچیز پر قادر ہے۔ “ توبہ نصوح کیا ہے ؟
اس کی تشریح ہمیں اس حدیث میں ملتی ہے جو ابن ابی حاتم نے زر بن حبیش کے واسطے سے نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب سے توبہ نصوح کا مطلب پوچھا تو انہوں نے میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہی سوال کیا تھا آپ ﷺ نے فرمایا : ” اس سے مراد یہ ہے کہ جب تم سے کوئی قصور ہوجائے تو اپنے گناہ پر نادم ، پھر شرمندگی کے ساتھ اس پر اللہ سے استغفار کرو اور آئندہ کبھی اس فعل کا ارتکاب نہ کرو۔ “ یہی مطلب حضرت عمر ؓ ، حضرت عبداللہ ؓ بن مسعود اور حضرت عبداللہ ؓ بن عباس ؓ سے بھی یہی منقول ہے اور ایک روایت میں حضرت عمر ؓ نے تَوْبَۃَ النَّصُوْحَ کی تعریف یہ بیان کی ہے کہ توبہ کے بعد آدمی گناہ کا اعادہ تو درکنار اس کے ارتکاب کا ارادہ تک نہ کرے۔ (ابن جریر)
حضرت علی ؓ نے ایک مرتبہ ایک بدو کو جلدی جلدی توبہ و استغفار کے الفاظ زبان سے ادا کرتے سنا تو فرمایا : یہ ” توبۃ الکذابین “ ہے۔ اس نے پوچھا پھر صحیح توبہ کیا ہے ؟ فرمایا اس کے ساتھ چھ چیزوں کا ہونا ضروری ہے اور وہ یہ ہیں کہ :
1۔ جو کچھ ہوچکا ہے اس پر نادم ہو۔
2۔ اپنے جن فرائض سے کوتاہی برتی ہے ان کو ادا کرے۔
3۔ جس کا حق مارا ہے اس کو واپس کرے۔
4۔ جس کو تکلیف پہنچائی ہے اس سے معافی طلب کرے۔
5۔ آئندہ کے لیے کبھی اس گناہ کا اعادہ نہ کرے۔
6۔ اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت میں لگا دے جس طرح اب تک اسے معصیت کا خوگر بنایا ہے اب اس کو اطاعت الٰہی کا تلخ مزہ چکھائے جس طرح اب تک تو اسے معصیتوں کی حلاوت کا مزا چکھاتا رہا۔ (کشاف)
توبہ کے متعلق چند امور اور بھی قابل لحاظ ہیں ان کو بھی اچھی طرح یاد رکھ لینا چاہیے تاکہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے۔
اول یہ کہ توبہ درحقیقت کسی معصیت پر اس لیے نادم ہونا ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی ہے ورنہ کسی گناہ سے اس لیے پرہیز کا عہد کرلینا کہ وہ مثلاً صحت کے لیے نقصان دہ ہے یا کسی بدنامی یا مالی نقصان کا موجب ہے تو یہ توبہ کی تعریف میں نہیں آتا۔
دوم یہ کہ جس وقت آدمی کو احساس ہوجائے کہ اس سے اللہ کی نافرمانی ہوئی ہے اس وقت اسے توبہ کرنی چاہیے اور جس شکل میں بھی ممکن ہو بلاتاخیر اس کی تلافی کر دینی چاہیے اسے ٹالنا مناسب نہیں ہے۔
سوم یہ کہ توبہ کر کے بار بار اسے توڑتے چلے جانا اور اس طرح زبان سے توبہ توبہ کرنا اور اس حرکت سے باز نہ آنا گویا توبہ کو کھیل بنا لینا توبہ کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے کیونکہ توبہ کی اصل روح گناہ پر شرمساری ہے اور بار بار کی توبہ شکنی اس بات کی علامت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی شرمساری موجود نہیں ہے اگر کوئی ایسی بات ہوتی تو اس طرح اس کو کھیل نہ بنایا جاتا یہ توبہ نہیں ہے۔
چہارم یہ کہ جو شخص سچے دل سے توبہ کر کے یہ عزم کرچکا ہو کہ پھر اس گناہ کا اعادہ نہ کرے گا اگر بشری کمزوری پر اس گناہ کا اعادہ ہوجائے تو پچھلا گناہ تازہ نہ ہوگا البتہ اسے اس بعد والے گناہ پر پھر توبہ کرنی چاہیے اور زیادہ سختی کے ساتھ عزم کرنا چاہیے کہ آئندہ وہ توبہ شکنی کا مرتکب نہ ہو۔
پنجم یہ کہ ہر مرتبہ جب معصیت یاد آئے توبہ کی تجدید کرنا لازم نہیں ہے لیکن اگر اس کا نفس اپنے سابق گناہ کارانہ زندگی کی یاد سے لطف اندوز ہو تو بار بار توبہ کرنی چاہیے۔ یہاں تک کہ گناہوں کی یاد اس کے لیے لذت کی بجائے شرمساری سے گردن جھکا دے اس لیے کہ جس شخص نے فی الواقع اللہ کے خوف کی بناء پر توبہ کی ہو وہ اس خیال سے لذت نہیں لے سکتا کہ وہ اللہ کی نافرمانی کرتا رہا ہے۔ اس سے لذت لینا اس بات کی علامت ہے کہ خوف الٰہی نے اس کے دل میں جڑ نہیں پکڑی یا یہ کہ اس نے گناہ نہیں چھوڑا بلکہ گناہ اس کو چھوڑ گیا ہے۔
Ayah 3:196کفر کی راہ چلنے والے آپ کے لیے دھوکہ کا باعث نہ ہوں :
359: یہ بات نبی اعظم و آخر ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کی تسکین و تسلی کے لیے فرمائی گئی ہے۔ یہ وقت وہ تھا کہ نبی رحمت ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی سب کے سب دنیوی زندگی کے اعتبار سے مالی کمزوریوں میں مبتلا تھے۔ مکی زندگی میں کار نبوت کی عظیم ذمہ داریوں کی وجہ سے تجارت تو پہلے ہی ختم ہوچکی تھی اور رہی سہی کسر ہجرت سے نکل گئی جو کچھ کسی کے پاس تھا وہ مکہ میں رہ گیا مدینہ پہنچنے کے بعد مہاجرین کے پاس تو پہلے ہی کچھ نہ تھا اب انصار کی باری آئی وہ اپنی طرف سے سب کچھ پیش کر رہے تھے لیکن مہاجرین میں سے قوت لا یموت اگر کسی نے کچھ لیا بھی تو اس کو واپسی کی فکر دامن گیر تھی۔ اس کے برعکس مدینہ اور مضافات مدینہ میں یہود کے سرداروں کے پاس بہت مال تھا اور دنیا کی ہر طرح کی آسائشوں اور آسانیوں سے زندگی بسر کر رہے تھے ایسی حالت میں اگرچہ صحابہ بالکل مطمئن اور پوری محنت و مشقت کی نزدگی گزار رہے تھے تاہم ان کی دلجوئی فرمائی جا رہی ہے کہ تم شکستہ خاطر نہ ہونا تم کو تو ہم نے وہ دولت عطا کی ہے جس کے مقابلہ میں دنیا کی ساری نعمتیں ہیچ ہیں اور رشک کے لائق تمہاری یہ علمی و اخلاقی دولت ہے نہ کہ ان لوگوں کی مالی دولت جو طرح طرح کے حرام طریقوں سے انہوں نے کمائی ہے اور کما رہے ہیں اور پھر اگر وہ اس حرام کمائی کو طرح طرح کے راستوں میں اڑا رہے ہیں تو آخرکار بالکل مفلس و قلاش ہو کر اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے والے ہیں۔ اور یہی بات آپ ﷺ کو مکی زندگی میں بھی ارشاد فرمائی گئی تھی۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
” ان کے مال و دولت اور ان کی کثرت اولاد کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھاؤ ۔ اللہ تو اپنے قانون کے مطابق چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعہ سے ان کو دنیا کی زندگی میں بھی مبتلائے عذاب کرے اور یہ جان بھی دیں تو انکار حق کی حالت میں دیں۔ “ (التوبہ : 55:9)
یعنی اس مال و دولت اور اہل و اولاد کے سبب اور اس دنیا کی ہو ہوا کی وجہ سے انہیں مرتے دم تک صدق ایمان کی توفیق نصیب نہ ہوگی اور اپنی دنیا خراب کرلینے کے بعد یہ اس حال میں دنیا سے رخصت ہوں گے کہ ان کی آخرت بھی خراب ہوچکی ہوگی کیونکہ وہاں جو کچھ ان کے حصے میں آئے گا وہ اس کا نتیجہ ہوگا جو وہ دنیا میں کرتے رہے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَابِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْھُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ (الحجر : 88:15) ” تم اس متاع دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے اور نہ ان کے حال پر اپنا دل کڑھاؤ ۔ انہیں چھوڑ کر ایمان والوں کی طرف جھک جاؤ ۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَابِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْھُمْ زَھْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا لِنَفْتِنَھُمْ فِیْہِ وَ رِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی (طٰہٰ : 131:20) ” اور یہ جو مختلف قسم کے لوگوں کو دنیوی زندگی کی آرائشیں دے رکھی ہیں اور ان سے وہ فائدہ اٹھا رہے ہیں تو تیری نگاہیں اس پر نہ جمیں یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالا ہے اور جو کچھ تیرے پروردگار کی بخشی ہوئی روزی ہے وہی تیرے لیے بہتر ہے اور باقی رہنے والی۔ “ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
فَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَمَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ (الشوریٰ : 36" 42) ” جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سر و سامان ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی۔ وہ ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ “
اس دنیا کا مال و متاع کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر آدمی پھول جائے۔ بڑی سے بڑی دولت بھی جو دنیا میں کسی شخص کو ملی ہے ایک تھوڑی سی مدت ہی کے لیے ملی ہے چند سال وہ اس کو برت لیتا ہے اور پھر سب کچھ چھوڑ کر دنیا سے خالی ہاتھ رخصت ہوجاتا ہے۔ پھر وہ دولت چاہے بہی کھاتوں میں کتنی بڑی دولت کیوں نہ ہو عملاً اس کا قلیل حصہ ہی آدمی کے کام آتا ہے۔ اس مال پر اترانا کسی ایسے انسان کا کام نہیں ہے جو اپنے اور اس مال و دولت کی اور خود اس دنیا کی حقیقت کو سمجھتا ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
وَ مَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُھَا وَ مَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (القصص : 60:28) ” تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے بہتر اور باقی تر ہے کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟ “
مزید تفصیل کے لیے دیکھو عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة بقرہ کی آیت 212 ۔
Ayah 3:197دنیا کا فائدہ ایک قلیل مدت کے لیے اور جہنم کا عذاب ابد الاباد ہے :
360: دنیا کی زندگی جو انسان کو ملی ہے وہ کتنی ہے ؟ فرض کرلیجئے کہ ایک سو سال پندرہ بیس سال تک انسان شعور کو پہنچتا ہے اور پچھتر اسی سال سے قبل ہی جوانی اور شعور جاتا رہتا ہے الا ما شاء اللہ اور درمیان کے پچاس ساٹھ سال ہیں کہ اگر اس کو ڈھیروں دولت مل گئی یا اس نے حاصل کرلی اور پھر جبھی آنکھیں بند ہوئیں وہ سارے خزانے گویا راکھ ہوگئے اور اب جو زندگی ملی وہ ایسی ہے جس کا کوئی آخر نہیں کیونکہ وہ خود ہی آخر ہے اور اس دنیا کو چھوڑنے والا کہاں گیا ؟ فرمایا یہ دنیا میں عیش و عشرت سے زندگی بسر کرنے والا جو مال و دولت کے ان خزانوں پر ایسا مفتوں ہوچکا تھا کہ وہ عطا کرنے والے کو بالکل بھول ہی گیا تھا اس سانس کے منقطع ہوتے ہی جہنم رسید ہوگیا۔ اس لیے کہ عالم برزخ میں اس کو جو مقام نصیب ہوا وہ دوزخیوں کی جیل ہے لہٰذا اب اس کو اس جیل خانہ میں قید کردیا گیا اور اب اسے کوئی مائی کا لال نہیں دلا سکے گا اور یہ سارے ثواب کے ٹھیکیدار کتنی ہی فیسیں اس کے پچھلوں سے وصول کرلیں لیکن اس کی وکالت نہیں کرسکیں گے اور اس کو مسلسل جیل خانہ میں رکھ کر عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا اور حشر کا دن آنے تک اس قید میں سڑتا رہے گا اور پھر حشر ہوگا اور اس کو ابدی دوزخ کی سزا سنا دی جائے گی۔ اتنے بڑے عرصے کے عذاب کو اس چند روزہ زندگی کے ساتھ آخر کیا نسبت رہی ؟ اور آخر اس نے کتنا فائدہ اٹھا لیا ؟ قرآن کریم میں یہ مضمون اس تعداد میں بیان کیا گیا ہے کہ شاید ہی کوئی صفحہ اس سے خالی ملے۔ تاہم دو ، تین مقامات کو دیکھ لینا اس جگہ بھی مفید ہوگا۔ ارشاد الٰہی ہے :
” جو لوگ بدبخت و محروم ہوں گے وہ دوزخ میں ہوں گے ان کے لیے وہاں چیخنا چلانا ہوگا۔ وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں۔ مگر ہاں ! اس صورت میں کہ تیرا پروردگار چاہے اور اس کے قانون میں ان کا وہاں رہنا ہمہشو ہمیشہ نہ ہو بلاشبہ تیرا پروردگار اپنے کاموں میں مختار ہے وہ جس طرح چاہتا ہے بالکل اسی طرح کرتا ہے۔ “ (ہود : 107 ۔ 106:11) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا حکم قبول کیا تو ان کے لیے سر تا سر خوبی ہے لیکن جنہوں نے قبول نہیں کیا ان کے تمام اعمال رائیگاں جائیں گے اور اگر ان کے اعتبار میں کرہ ارض کی ساری دولت بھی آجائے اور پھر اسے دوگنا کردیا جائے تو یہ لوگ اپنے بدلہ میں ضرور اپنے فدیہ میں دے دیں کہ کسی طرح عذاب نامرادی سے بچاؤ مل جائے مگر انہیں ملنے والا نہیں یہی لوگ ہیں جن کے لیے حساب کی سختی ہے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور جس کا ٹھکانہ جہنم ہوگیا اس کا کیا ہی برا ٹھکانہ ہوا۔ “ (الرعد : 18:13) ایک جگہ ارشاد ہوا :
” اصل یہ ہے کہ ان منکروں کی نگاہوں میں ان کی مکاریاں خوشنما بن گئیں اور وہ راہ حق میں قدم اٹھانے سے رک گئے اور جس پر اللہ کامیابی کی راہ بند کر دے تو کون ہے جو اسے راہ دکھانے والا ہو سکتا ہے ؟ ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت میں بھی اور آخرت کا عذاب یقینا بہت ہی زیادہ سخت ہوگا اور کوئی نہیں جو انہیں اللہ کے قوانین کی اس پکڑ سے بچا سکے۔ “ (الرعد : 34 ۔ 33:13) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اے پیغمبر اسلام ! کیا تم نے ان لوگوں کی حالت پر نظر نہیں کی جنہیں اللہ نے نعمت عطا فرمائی تھی مگر انہوں نے کفران نعمت سے اسے بدل ڈالا اور اپنے گروہ کو ہلاکت کے گھر میں جا اتارا ؟ یعنی دوزخ میں جا اتارا جس میں وہ داخل ہوں گے پھر جس کا ٹھکانہ دوزخ ہوا تو کیا ہی برا اس کا ٹھکانہ ہے۔ “ (ابراہیم : 29:14)
Ayah 3:198جو لوگ نیک کردار ہوئے وہ ابدی باغات اور ان کی نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے :
361: اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون سعادت و شقاوت کے مطابق جس کسی کو راہ کامیابی ملنے والی ہے اس کا دل اسلام کے لیے کھل جاتا ہے اور نیک کردار ہوجاتا ہے اور برائی سے دور بھاگتا ہے اور اس کا دل نیکی پر جم جاتا ہے۔ اب جو بات بھی اس کو اچھی معلوم ہوگی وہ اس کی طرف لپک جائے گا اور جو راہ برائی کی ہوئی اس کے قریب بھی نہیں جائے گا۔ ہاں ! اگر ایسا ہوگیا اور اللہ نے اس کو برائیوں سے بچالیا تو وہ یقینا کامیاب و کامران ہوگیا۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
” ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اللہ کی سیدھی راہ پر قدم اٹھایا ان کے پروردگار کے حضور سلامتی و عافیت کا گھر ہے اور جو کچھ ان کے نیک عمل رہے ہیں ان کی وجہ سے وہ ان کا رفیق و مددگار ہے۔ “ (الانعام : 128:6) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” ہمیشگی کی جنت جس کا اپنے بندوں سے خدائے رحمن نے وعدہ کر رکھا ہے اور وہ وعدہ ایک غیبی بات کا ہے جسے وہ اس زندگی میں محسوس نہیں کرسکتے مگر یقینا اس کا وعدہ اس ایسا ہے جیسے ایک بات وقوع میں آگئی ہو۔ پھر اس زندگی میں کوئی ناشائستہ بات ان کے کانوں میں نہیں پڑے گی جو کچھ سنیں گے وہ سلامتی کی صدا ہوگی۔ وہاں صبح و شام ان کا رزق ان کے لیے برابر مہیا ہوگا۔ سو دیکھو یہ جنت ہے جس کا ہم اسے وارث کردیتے ہیں جو ہمارے بندوں میں متقی ہوتا ہے۔ “ (مریم : 62 , 61:19)
یہی بات اس جگہ ارشاد فرمائی جا رہی ہے کہ ” جو لوگ اپنے رب سے ڈرے اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی تو ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اس حالت میں رہیں گے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیک کرداروں کے لیے ہے جو اچھائی اور خوبی کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ “