Ayah 3:118مسلمانوں کو ہدایت کہ اپنے لوگوں کے سوا غیروں کو ہم راز مت جاؤ :
224 : مسلمانو ! ایسا مت کرو کہ اپنے آدمیوں کے سوا کسی دوسرے کو اپنا ہم راز اور معتمد بناؤ “ بطائۃ بطن “ اصل میں إ پیٹ ہے لیکن ہرچیز میں اس کے ظاہر کے خلاف کو اس کا بطن کہہ دیتے ہیں اور بطور استعارہ بطانۃ کا استعمال اس شخص پر ہوتا ہے جس کو تم اپنے معاملہ کے باطن یعنی راز پر اطلاع دینے کے لئے خاص کرلیتے ہو۔ مسلمانوں کو اپنے دشمنوں کو راز دار دوست بنانے کی ممانعت کی ہے اور یہ امر ظاہر ہے کہ اپنے دشمن کو راز دار اور دوست بنانا اپنے ہیں پاؤں پر کلہاڑی چلانا ہے کیونکہ وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کرتے بلکہ وہ تو خوش ہیں کہ ان پر کوئی ہلاک کرنے والی مصیبت آئے پھر جب وہ تمہارے رازوں سے واقف ہوں گے تو تم کو معلوم ہی ہے کہ ” گھر کا بھیدی لٹکا ڈھائے “ کا محاورہ زبان زد خاص و عام ہے۔
یہ نصیحت جو اس آیت میں مسلمانوں کو کی جا رہی ہے قرآن کریم میں بار بار دہرائی گئی ہے لیکن قوم مسلم پر اس کا کیا اثر ہوا ؟ آج عالم اسلام کے جتنے بڑے بڑے لیڈر اور ممالک اسلامی کے سربراہ ہیں انہوں نے اس نصیحت سے کیا فائدہ حاصل کیا ؟ وہ کونسی اسلامی حکومت ہے جس کا کوئی راز غیروں سے پوشیدہ ہو ؟ وہ کونسی اسلامی حکومت ہے جو اپنا ملکی راز اپنوں تک محدود رکھان چاہتی ہے۔ بی بی سی اور دوسری عالمی سروسوں کے نہیں ؟ کیا اس میں کسی مکتب فکر کو کوئی اختلاف ہے ؟ ہرگز نہیں پھر ایسا کیوں ہے کہ آج ہمارا سب کچھ غیروں پر روشن ہے ؟ ان سوالوں کے جوابات آج ہر ایک عقل وفکر رکھنے والے کو معلوم ہیں۔ اس لئے اس ممانعت کی تاکید کو اپنی آنکھوں سے اچھی طرح دیکھو باقی تمہاری خوشی چاہو تو عذاب الٰہی کو دعوت دو اور چاہو تو اللہ سے اپنے کئے کی بخشش طلب کرو۔ ارشاد الٰہی دوسری جگہ اس طرح ہے کہ :
یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَ النَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآئَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ وَ مَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (المائدہ 5:51)
” مسلمانو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق و مدد گار نہ بناؤ وہ تمہاری مخالفت میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور دیکھو اب تم میں سے جو کوئی انہیں رفیق و مددگار بنائے گا تو وہ ان ہی میں سے سمجھا جائے گا۔ اللہ اس گروہ پر کامیاب وسعادت کی راہ نہیں کھولتا جو ظلم کرنے والا گروہ ہو۔ “ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہوا :
یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا (النساء 4: 144)
” مسلمانو ! ایسا نہ کرو کہ مسلمانوں کے سوا کافروں کو اپنا رفیق و مددگار بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا صریح الزام اپنے اوپر لے لو۔ “ گویا منافقوں کی چال ہے کہ وہ اپنی قوم کو چھوڑ کر دشمنوں کو اپنا مددگار بناتے ہیں اور قوم کی مصلحتوں پر اپنی منافقانہ غرضوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
ٰٓیاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ تُلْقُوْنَ اِِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ (الممتحنۃ 60:1)
” اے ایمان والو ! میرے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم ان کو دوستی اور محبت کا پیغام بھیجتے ہو۔ “ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
لَوْ خَرَجُوْا فِیْکُمْ مَّا زَادُوْکُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاْاَوْضَعُوْا خِلٰلَکُمْ یَبْغُوْنَکُمُ الْفِتْنَۃَ وَ فِیْکُمْ سَمّٰعُوْنَ لَھُمْ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِالظّٰلِمِیْنَ لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَۃَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَکَ الْاُمُوْرَ حَتّٰی جَآئَ الْحَقُّ وَ ظَھَرَ اَمْرُ اللّٰہِ وَ ھُمْ کٰرِھُوْن
” اور اگر یہ تم مسلمانوں میں مل کر میدان جنگ میں نکلتے تو تمہارے اندر کچھ زیادہ نہ کرتے مگر خرابی اور ضرور تمہارے درمیان فتنہ انگیزی کے گھوڑے دوڑاتے اور تم کو معلوم ہے کہ تم میں ایسے لوگ بھی کو جود ہیں جو ان کی باتوں پر کان دھرنے والے ہیں اور اللہ ظلم کرنے والوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ “
ایک جگہ اور ارشاد ہے کہ :
وَدَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِکُمْ وَ اَمْتِعَتِکُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْکُمْ مَّیْلَۃً وَّاحِدَۃً (النساء 4:102)
” اور یاد رکھو جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے ان کی دلی تمنا ہے کہ تم اپنے ہتھیار اور سامان جنگ سے ذرا بھی غفلت کرو تو یک بارگی وہ تم پر ٹوٹ پڑیں۔ “
مخالفین کی دشمنی باتوں سے بھی ظاہر ہے اور دلوں کی نہ بھیجنے والی آگ سے بھی :
225: قانون اسلامی کے منکروں اور باغیوں سے تعلقات ایک خاص حد سے آگے بڑھانے کی اجازت کسی مسلم کو یا اسلامی اسٹیٹ کو ہرگز نہیں ہے اس لئے کہ اس میں فرد اور ملت دونوں کے ضرر کا اندیشہ ہے ۔ اور اس صریح ، معقول ، مناسب اور نہایت ہی ضروری انتظام کا نام بعض عقل کے دشمنوں نے ” تنگ نظری “ قرار دیا ہے۔ تعجب ہے کہ امراض وبائی میں پرہیز و احتیاط کا نام تو فخر کے ساتھ ” اصول حفظان صحت “ رکھا جائے اور جو انتظام کفر و طغیان یعنی دنیا و آخرت دونوں کی بربادی سے بچنے کے لئے کیا جئاے اس کا نام ” تنگ نظری “ پڑجائے۔ آخر عقل دشمنی کی بھی کوئی حد ہونا چاہیے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ ان کی دشمنی تو ان کی باتوں ہی سے واضح ہے لیکن جو کچھ ان کے دلوں کے اندر چھپا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے “ گویا ان کے اندر ایک نہ بجھنے والی آگ موجود ہے اور وہ چاہتے ہیں اور ان کی دلی خواہش ہے کہ ہاتھ پڑے تو ان مسلمانوں کو ایک ہی پھونک سے جلا کر راکھ کردیا جائے۔
آج اگر دنیا کے حالات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہر غیر مسلم قوم کی یہ دلی خواہش ہے کہ مسلمانوں کا وجود تو کیا نام و نشان بھی باقی نہ رہے لیکن افسوس کہ سارے اسلامی ممالک کا پورا انحصار انہی کی دوستی پر ہے حالانکہ یہ لوگ اگر دو ہتھڑ نہ مار سکیں تو دایاں دکھا کر بائیں سے تا بڑ توڑ دمارنا شروع کردیتے ہیں لیکن ان کے ہاتھ کی فکر ہوتی ہے کہ کہیں مارنے سے اس کو نقصان نہ پہنچنے اپنے وجود کی کبھی فکر نہیں ہوئی جس پر یہ برس رہی ہوتی ہیں۔ ہائے افسوس کہ مسلمانوں کو کیا کہا گیا تھا اور وہ کیا کر رہے ہیں۔ ارشاد الٰہی ہوتا ہے کہ :
وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِیْرًا (ال عمران 3:186)
” اہل کتاب اور مشرکین سے تمہیں دکھ پہنچانے والی باتیں بہت کچھ سننا پڑیں۔ “ لیکن ابھی ان کے دل کی تمنا پوری نہیں ہوئی۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ تمہیں حرف غلط کی طرح مٹا ہی دیا جائے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
یُخْفُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَکَ (ال عمران 3:154)
” اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ ان لوگوں کے دلوں میں ہے وہ تم پر ظاہر نہیں کرتے۔ “ پھر زیر نظر آیت کے الفاظ ” و دوا ما عنتم “ ان کی ذہینت کے ترجمان ہیں کہ ” جس بات سے تمہیں نقصان پہنچے وہی انہیں اچھی لگتی ہے۔ “ اس کے اندر گہری تعلیم اس بات کی دی گئی کہ کوئی غیر مسلم کسی حال میں مسلمانوں کا حقیقی دوست اور خیر خواہ ہو ہی نہیں سکتا اگرچہ اس آیت میں اصل اشارہ یہود مدینہ کی جانب ہے۔ یہ لوگ اپنا بغض اسلام مسلمانوں سے چھپا ہی نہیں سکتے اس لئے اکثر بےاختیار ہی ان کی زبانوں سے ظاہر ہوجاتا ہے۔ اس طرح ان کے دلوں کے اندر جو دشمنی کی آگ بھڑک رہی ہے اس کا کوئی شعلہ ظاہر ہو ہی جاتا ہے۔
قرآن کریم اس سے زیادہ وضاحت اور کیا کرے :
226: فرمایا ہم نے تو فہم و بصیرت کی نشانیاں تم پر واضح کردی ہیں “ اگر اب بھی تم نہ سمجھو تو تمہاری اپنی مرضی۔ اس ٹکڑے کا مفہوم دو طرح سمجھا جاسکتا ہے ایک یہ کہ ان کافروں کے بغض و عداوت کے آثار و علامات تم پر روشن ہوگئے ہیں جن سے تم فوراً انہیں پہچان سکتے ہو۔ دوسرا مطلب یہ ہوا کہ تمہارے لئے ان سے ترک موالات کی آیتیں کھول کر بیان کی جا چکی ہیں اور اس بات کو دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا گیا۔
فَتَرَی الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْھِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓی اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَۃٌ فَعَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِہٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰی مَآ اَسَرُّوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ نٰدِمِیْنَ (المائدہ 5:52)
” اے پیغمبر اسلام تم دیکھو گے کہ جن کے دلوں میں نفاق کا روگ ہے وہ ان لوگوں کی طرف دوڑے جا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں سے الگ رہ کر کسی مصیبت کے پھیر میں نہ آجائیں تو یاد رکھو کہ وہ وقت دور نہیں جب اللہ فتح دے گا یا اس کی طرف سے کوئی بات ظاہر ہوجائے گی اور اس وقت یہ لوگ اس بات پر شرمندہ ہوں گے جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھی ہے۔ “
Ayah 3:119تعجب ہے کہ تم سے جتنی دشمنی رکھتے ہیں تم اتنا ہی ان کی دوستی کا دم بھرتے ہو :
227: تعجب تو یہ ہے کہ تم تو ان کی قرابت داری یا دوستی کے پیش نظر ان سے محبت کرتے ہو حالانکہ وہ اختلاف مذہب کی وجہ سے تم سے محبت نہیں کرتے باوجود اس کے تم ہی سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو اور پوری توراۃ پر بھی تمہارا ہی ایمان ہے اور کافر تمام کتابوں پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ ہی یہود پوری تورات پر ایمان لاتے ہیں اس لئے کہ اگر ان کا ایمان ہے اور کافر تمام کتابوں پر ایمان رکھتے اور نہ ہی یہود پوری تورات پر ایمان لاتے ہیں اس لئے کہ اگر ان کا یمان پوری تورات پر ہوتا تو اس میں تو نیے اعظم و آخر ﷺ کے پورے اوصاف بیان کئے گئے ہیں اس لئے ان کو اس پر ایمان لائے بغیر چارہ ہی نہیں تھا۔ اس میں مسلمانوں کو یہ بھی تنبیہہ کردی کہ جتنے تم لوگ حق پر مضبوط ہو اس سے زیادہ تو وہ لوگ باطل پر سخت ہیں۔
پھر ان کی مزید بری عادت اور چال یہ ہے کہ وہ جب تم سے ملتے ہیں تو بڑے وثوق کے ساتھ کہتے ہیں۔ کہ ہم بھی تمہاری طرح محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا رسول اور قرآن کو اللہ کی کتاب مانتے ہیں حالانکہ وہ یہ بات کہنے میں ذرا بھی سچے نہیں ہیں۔ کوئی اسکیمر ججب ایک سکیم بناتا ہے اور وہ سکیم اس کو فیل ہوتی نظر آتی ہے تو اس کے غصے کی عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ پھر جب اس کو غصہ نکلانے کی بھی صورت نظر نہیں آتی تو ہو اپنے آپ ہی کو کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔ دانت پیستا ہے ، تیوری چڑھاتا ہے۔ انگلیاں کاٹتا ہے۔ اور بعضج اوقات اپنی بزدلی کی آخری حد تک پہنچ کر اپنی ججان ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
جو اپنی جان کا خود دشمن ہے اسے تم کیا کہو گے :
228: غیظ کیا ہے ؟ غیظ شدید غضب کو کہتے ہیں اور دراصل یہ وہ حرارت ہے جو انسان قلب کے خون کے جوش میں آنے سے اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔ فرمایا ان سے بر ملا کہو ” موتوا بغیضکم “ کہ تم اپنے غصے ہی میں مر جاؤ اور یہ کہنا تمہار زبان سے نہیں بلکہ عمل سے ہونا چاہے ‘۔ ان کو یہ غصہ کیوں آرہا ہے ؟ تم مسلمانوں کی کامیابیاں دیکھ کر جو ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں اور تم پورا زور لگا کر کامیابیوں میں مزید آگے بڑھنے کی عملی کوشش کرو اور تمہاری یہ کوشش بزہان حال یہ پکارے گی کہ ” موتوا بغیضکم “ اب تمہارے لئے چارہ ہی کیا ہے اگر تم ہماری کامیابیوں کی وجہ سے مرتے ہو تو پھر گھل گھل کر مر جاؤ تمہارے اس غصہ کا علاج ہمارے پاس نہیں ہے۔ اور اس طرح کا کہا ہوا یقینا زبان سے کہے ہوئے سے بھی زیادہ وزن رکھتا ہے۔
اس آیت میں اول تو مسلمانوں کو غیروں کے ساتھ اس دلی محبت سے روکا ہے جس سے اپنے رازوں سے دوسروں کو واقفیت ہوتی ہے اور شرارتیوں کو محبت کے رنگ میں شرارتیں کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ظاہر ہے صلح و آشتی کا دین ہے لیکن وہ اس سادگی کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس صلح کی آڑ میں کوئی نیچے سے جڑیں کاٹتا رہے تاکہ اسلام کا درخت پھلنے پھولنے کی بجائے سوکھ کر رہ جائے۔ نہیں نہیں وہ اس طرح جڑ کاٹنے والوں کی طرح اسلام کا منہدم کردینے کا اچھا موقع مل جائے گا وہ ایسے ستونوں کو فوراً گرا دینے کا حکم دیتا ہے۔ اور ان کے سہارے اسلام کی عمارت کھڑی کرنا اسلام نہیں بلکہ کفر قرار دیتا ہے۔
Ayah 3:120تمہاری خوشی سے وہ ناخوش ، تمہاری ناخوشی سے وہ خوش ہوں تو تم کو کیا کرنا چاہیے ؟
229: منافقوں کی خباثت نفس اور کینہ پرور کا بیان ہے کہ وہ مسلمانوں کی تکلیف سے خوش ہوتے ہیں اور ان کی خوشی اور خوشحالی سے رنجدوہ خاطر ہوتے ہیں حسنۃ ہر ایک خوشی کرنے والے امر کو کہتے ہیں جس میں رغبت کی ججا سکے اور اس سے مراد ہر ایک نعمت بھی ہے جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا حالت میں پہنچے اور اس کی ضد سیۃ ہے۔ اس جگہحسنۃ سے مسلمانوں کی اندرونی تنظیم یا کافروں پر ان کا غلبہ اور ان کی فتح مراد ہو سکتی ہے اور سیئۃ سے اندرونی بد نظمی یا ہنگامی اور وقتی شکست بھی مراد ہو سکتی ہے۔ اس طرح کے ارشادت قرآن کریم میں دوسرے مقامت پر بیان ہوئے ہیں مثلاً ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
وَ اِنَّ مِنْکُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ فَاِنْ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَکُنْ مَّعَھُمْ شَھِیْدًا وَ لَئِنْ اَصَابَکُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰہِ لَیَقُوْلَنَّ کَاَنْ لَّمْ تَکُنْم بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَہٗ مَوَدَّۃٌ یّٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ مَعَھُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا (النساء 4:72 ، 73)
” اور دیکھو تم میں کوئی کوئی آدمی ایسا بھی ہے کہ جنگ کا نام سن کر اس کے قدم پیچھے ہٹنا شروع ہوجاتے ہیں پھر اگر لڑائی میں تم پر کوئی مصیبت آپڑے تو خوش ہو اور کہے کہ اللہ نے مجھ پر بڑا احسان کیا کہ میں ان میں اور اس میں محبت کا کوئی رشتہ تھا ہی نہیں کہ اے کاش میں ان لوگوں کے ساتھ ہوتا تاکہ بہت کچھ کامیابی حاصل کرلیتا۔ ” لیبطن یبطئی بطؤ “ سے ہے جس کے معنی چلنے میں قدم جلدی نہ اٹھنا اور پیچھے رہ جانا (راغب) اور اسراع یعنی جلدی چلنے کا نقیض ہے۔ اور ایک جگہ ارشاد ہے کہ :
اِنْ تُصِبْکَ مُصِیْبَۃٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ ھُمْ فَرِحُوْن (التوبۃ 9:50)
” اے پیغمبر اسلام ! اگر تمہیں کوئی اچھی بات پیش آجائے تو وہ ان منافقوں کو بری لگتی ہے اور اگر کوئی مصیبت پیش آجائے تو کہنے لگیں گے اس خیال سے ہم نے پہلے ہی اپنے لئے مصلحت بینی کرلی تھی اور پھر گردن موڑ کر خوشی خوشی چل دیتے ہیں۔ “
ان کی مکاری سے آپ ﷺ کا کوئی نقصان نہیں ہوگا وہ قانون الٰہی کے شکنجے میں ہیں :
230 : اس آیت کا لفظ ” تمسسکم “ وہ بھی اپنے اندر بہت پوشیدہ مضمون رکھتا ہے مطلب یہ ہے کہ اگر تم کو کوئی بھلائی چھو بھی جائے تو ان کو دکھ پہنچا ہے جس سے ان کی اندرونی کیفیت کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ ہے لفظ مس سے اس طرح اشارہ ہے کہ تمہاری ادنیٰ بہتری بھی ان کی رنجیدہ خاطری کا سامان پیدا کردیتی ہے۔ پھر فرمایا کہ ” ان تصبروا “ یعنی اگر تم پوری ہمت لگا کر کام کرو گے اور تمہاری اندرونی تنظیم تن من دھن سے اپنے کام میں مصروف رہے گی تو ان کا مکر کبھی کامیاب نہی ہوگا اور ان کی خفیہ تدبیریں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی۔ تمہارے قدم ڈگمگا نہ گئے تو یقینا ان کی تدبیریں اور چالیں تمہارا کچھ نقصان نہیں کریں گی۔ یہ لوگ گویا اتنے گئے گزرے ہیں کہ انسانیت نام کی شے ان کے اندر موجود ہی نہیں رہی اس لئے کہ دکھ اور تکلیف تو ایسی چیزیں ہی کہ جب بھی بھی کسی شخص کو پہنچ جائے تو فطرت انسانی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ رنجش اور کدورت جو تھوڑی بہت باہم ہو وہ دور ہو کر اس کی جگہ ہمدردی پیدا ہوجاتی ہے مگر ان کی عداوت اور قدر شدید ہے کہ مسلمانوں پر مصیبت وارد ہو تو وہ خوش ہوتے ہیں۔ یہ حالت تو ان منافقین کی تھی اور ان کی عداوت کا یہ بیان ہے لیکن آج کل مسلمانوں کی حالت نہایت ہی ناگفتہ باحال ہے بلکہ اس سے بھی بدتر جو ان منافقین کی تھی آپ نے ایک سے زیادہ بار یہ بات سنی ہوگی کہ ایک پارٹی کا لیڈر مر گیا اور دوسری پارٹی مٹھائی تقسیم کر رہی ہے۔ اور ان کی خوشی کا عالم یہ ہے کہ بھنگڑے ڈالے جا رہے ہیں۔ اور شہنائیاں بجائی جا رہی ہیں۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ انسانی قدریں دن بدن مٹتی جا رہی ہیں۔ اے کاش ! اے قوم مسلم کبھی تم نے قرآن کو بھی سمجھا ہوتا تو آج تمہاری یہ حالت نہ ہوتی۔
Ayah 3:121غزوہ احد کا تذکرہ ، پس منظر اور تحریک اسلامی پر اس کے اثرات :
231: اس آیت سے غزوہ کا تذکرہ شروع کیا جا رہا ہے۔ غزوہ بدر کے بعد یہ پہلا بڑا معرکہ ہے۔ بدر میں قریش مکہ اور ان کے حلفیوں کی جو گت بنی تھی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ اس معرکہ نے مذہبی اور ملکی حالات پر گوناگوں اثرات پیدا کئے اور حقیقت میں یہ اسلام کی ترقی کا قدم اولین تھا۔ قریش کے بڑے بڑے رؤسا جن میں سے ایک ایک اسلام کی ترقی میں سد راہ تھا فنا ہوگئے۔ خصوصاً عتبہ اور ابو جہل کی موت نے قریش کی سیاست کا تاج ابو سفیان کے سر پر رکھ دیا تھا۔ لیکن قریش کے اصلی زور قوت کا معیار بیت ماند پڑگیا تھا۔
مدینہ میں فتح بدرتک عبداللہ اب سلول اعلانیہ کافر تھا۔ لیکن وہ بظاہر اسلام کے دائرہ میں داخل ہوگیا تھا۔ اگر وہ تمام عمر منافق رہا۔ قریش کو پہلے صرف حضرمی کے قتل کا رونا تھا۔ اور اب یعنی بدر کے بعد ہر گھر ماتم کدہ تھا۔ قریش نے ایک سال تک اپنے مقتولین کا بدلہ لینے کے لیے بیسیوں کوششیں کیں لیکن ہر بار ناکام رہے۔ اب انہوں نے مکمل تیاری کرلی اور ایک بہت بڑا لشکر تشکیل دیا اور بہت کچھ سروسامان تیار کیا۔ رسول اللہ ﷺ قبا میں تھے کہ آپ ﷺ کو مکہ سے اپنے آدمیوں کا روزانہ کیا ہوا خط ملا۔ جس میں یہ تحریر تھا کہ قریش مکہ کا لشکر مدینہ پر حملہ آور ہونے کے لئے مکہ سے روانہ ہوچکا ہے۔ اس خبر کو آپ ﷺ نے عام پھیلنے نہ دیا اور اپنی تیاری مکمل کرنے کی فکر شروع کردی۔ جب تک قریش کے اس طرح سے آنے کی خبر عام ہوئی تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کو مسجد نبوی ﷺ میں جمع کیا اور مشورے لئے رائے طلب فرمائی۔ آپ ﷺ نے اپنی رائے کا اظہار بھی کیا کہ شہر کے اندر رہ کر اگر دفاع کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ شہر کے اندر رہ کر لڑنے کے تمام فوائد بھی آپ ﷺ نے بیان فرمائے تا ہم یہ سب کچھ بیان کرنے کے بعد آپ ﷺ نے رائے طلب کی تعجب ہے کہ آپ ﷺ کی اس رائے سے عبداللہ بن ابی بھی متفق ہوگیا۔ تاہم چونکہ اس اجتماع عام میں یہ نوجوان لوگ بھی تھے۔ جو بدر میں شریک معرکہ نہ ہوئے تھے وہ چاہتے ہیں کہ وہ بھی اپنے جوش اپنے ایمان اور اپنے جزبہ جانثاری کو عملی طور پر پیش کریں اس لئے انہوں نے اصرار کیا کہ باہر کھلے میدان میں جا کر لڑائی کی جائے۔ نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد نبی اعظم و آخر ﷺ اپنے گھر تشریف لے گئے اور جب آپ ﷺ دوبارہ مسجد میں تشریف لائے تو آپ ﷺ لباس جنگ میں ملبوس تھے۔
لوگوں نے جب یہ دیکھا تو نادم ہوئے کہ انہوں نے آپ ﷺ کی رائے سے اپنی رائے پر اصرار کیا اس لئے آپ ﷺ ان کے کہنے پر لباس جنگ پہن کر تشریف لائے اب وہ سب معزرت خواہ تھے اور فرمایا جو آپ ﷺ کی رائے ہے اس پر عمل فرمائیں ہم آپ ﷺ کے ساتھ ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” نبی کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ لباس جنگ پہن لے اور پھر لڑے بغیر اس کو اتار دے۔ “ اب رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو مسجد نبوی ﷺ کے باہرجمع ہونے کا حکم دیا اور ازیں بعد پورے لشکر کو مدینہ کے باہر ایک مقام جو ” شوط “ کہلات تھا اس کو معسکر قرار دیا یہ جگہ شہر سے باہر ایک میل دور بھی نہ تھی اس لئے کہ لڑائی کی روانگی کے لئے لشکر کے کوچ کا آغاز معسکر سے ہی ہونا چاہیے۔
شوط کے معسکر میں مدنی لشکر عصر اور مغرب کے درمیان پہنچا آپ ﷺ نے مغرب کے بعد تک سارے انتظامات مکمل کر لئے۔ دشمن بمشکل دو میل کے فاصلہ پر خیمہ زن تھا۔ اور اس کے افراد ارد گرد کے کھیتوں میں اپنے ججانور چرا رہے تھے۔ شوط اور مکی لشکر کے درمیان کوئی بھی ایسی جغرفیائی حد حائل نہ تھی جس کی وجہ سے کہا جائے کہ اہل مکہ سے مدنی لشکر کا مدینہ سے خروج پوشیدہ رہ سکتا ہے۔ اس وجہ سے ضروری تھا کہ رات کے لئے مکی جانب سے لشکر اسلامی کی حفاظت کی جائے آپ ﷺ نے اس کا مکمل انتظام کیا۔ حضرت سعد بن عبادہ ؓ اور حضرت سعد بن معاذ ہتھیار باندھ کر تمام رات پہرہ دیتے رہے۔
اور حضرت زبیر بن العوام جو گھوڑا سوار دستے کے کماندار تھے انہیں مکی معسکر کی جانب تعین فرمایا کہ مکی رسالہ کے خلافہ پہلی رکاوٹ وہ ثابت ہوں اور گشت کی ذمہ داری محمد بن مسلمہ کو تفویض کی گئی۔
ابھی پورا لشکر شوط ہی میں تھا کہ عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر مدینہ واپس چلا گیا اس نے بہانہ یہ بنایا کہ چونکہ مدینہ کے اندر رہ کر لڑنے کی تجویز دی تھی۔ اس پر عمل نہیں کیا گیا اور کھلے میدان میں اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ وہ صحیح نہیں سمجھتا اس لئے اپنے آدمیوں کو مروانا مناسب خیال نہیں سمجھتا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ ” اللہ اپنے رسول ﷺ کو تمہاری ضرورت سے بےنیاز کر دے گا۔ “ اب آپ ﷺ کے لشکر کی تعداد تین ہزار بتائی جاتی ہے اگرچہ قرائن سے جا اندازہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی قریش کا صرف اپنا لشکر جو مکہ سے نکلا تھا اس کی تعداد دو ہزار نو سو افراد پر مشتمل تھی۔ جس میں سے تین صد سانڈنی سوار اور دو صڈ گھوڑ سوار بھی تھی اور قریش کے حلیف بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے تھے اس لئے ان کی تعداد اس سے بھی زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ لشکر قریش کے ساتھ بہت سی عورتیں بھی تھیں جو قریش کے نوجوانوں کو بھڑکانے کے لئے لائی گئی تھی۔ جن میں سے چند کے نام ذکر کردینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔
1 - ہند عتبہ کی بیٹی جو ابو سفیان کی بیوی اور امیر معاویہ ؓ کی والدہ تھی۔ 2 - ام حکیم جو عکرمہ کی والدہ اور ابو جہل مقتول بدر کی بیوی تھی۔ 3 - فاطمہ بنت ولید جو خالد بن ولید جو اس وقت مکی فوج کے سپ سالار تھے۔ ان کی بہن ۔ 4 برزہ مسعود ثقفی جو طائف کا امیر تھا اس کی بیٹی تھی۔ ۔ 5 ریطہ عمرو بن عاص کی زوجہ اور ۔ 6 حناس جو مصعب بن عمیر کی ماں تھی اور پھر ان کے ساتھ ان کی باندیاں اور خدمت گزار عورتیں بھی تھیں جن کا ذکر تاریخ کے صفحات میں موجود ہے۔
عام مورخین و مفسرین کی رائے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز شوط ہی میں ادا کی لیکن کچھ رلوگوں کی رائے میں صبح کی نماز سے قبل ہی یہاں سے اٹھنا ان کے نزدیک سپ سالاری اصولوں کے منافی ہے۔ حالانکہ اسلام میں صبح کی نماز بہت سویرے ادا کرنے کی ہدایات بھی موجود ہیں اور خصوصاً سفر جاری کرنے کے لیے تو نماز بہت جلد ادا کی جاسکتی ہے۔ مختصر یہ یہیں سے اٹھ کر لشکر کو ترتیب دینے کا ذکر زیر نظر آیت میں دیا گیا ہے اور یہ صرف ایک جملہ ” اذغدوت من اھلک “ کے الفاظ سے سب کچھ قلمبند کردیا گیا کہ اس رات رسول اللہ ﷺ اپنے اہل یعنی سیدہ عائشہ ؓ کو اپنے کئے گئے انتظامات کے مطابق اپنے خیمہ ہی میں چھوڑ کر لشکر کی ترتیب کے لئے باہر نکل کھڑے ہوئے اور یہ بات صحیح احادیث سے واضح ہے کہ اس غزوہ احد میں سیدہ عائشہ ؓ شریک تھیں اور یہ بھی کہ اسلامی لشکر کی مدد گار عورتوں کی نگہبان بھی تھیں۔ اس میں یہ ہدایت بھی مضمر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے تو اس کی تعمیل میں اہل و عیال کی محبت سنگ راہ نہیں ہونی چاہیے۔ پھر اس کے بعد وہاں سے نکل کر محاز جنگ تک پہنچنے کے جزئی واقعات کا ذکر نہیں فرمایا اور محاذ جنگ میں پہلے کام کا ذکر کردیا کہ ” تبوء المومینین مقاعد اللقتال “ یعنی آپ ﷺ مسلمانوں کو قتال کے لئے مناسب مقامات پر جما رہے تھے۔
اس ٹکڑے میں اس وقت کے تمام کئے گئے انتظامات کا ذکر کردیا کہ جگہ کا تعین ، صفوں کی آراستگی ، رسد کا انتظام ، ذخمیوں کی دکیکھ بھال ، حملے کی صورت میں دفاع اور بہادروں کی جنگ آزمائی کے لیے میدان میں نکلنا۔ اپنے پرچم کی حفاظت بطور کمک پیچھے رکھنے والوں کے لیے ہدایات یعنی یہ سارے کام جو ایک سپ سالار کے ذمہ ہیں آپ ﷺ نے خود ادا کئے۔ جن میں سے پچاس آدمیوں کو جبل عینین پر تعین کرنا بھی شامل تھا۔ اور ” واللہ سمیع علیم “ میں اشارہ فرما دیا کہ اس وقت مخالفین و موافقین کے ساتھ جو کچھ پیش آیا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا اور کوئی شے اس کے علم سے باہر نہیں تھی۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا۔ کہ کون مدنان جنگ تک پہنچے گا اور کون راستہ سے ہٹ کر واپس چلا جائے گا۔ کس کس کے لئے اس میدان میں کام آنا ہے او کس کس کو غازی بننا ہے اور اس طرح اس جنگ کا انجام بھی وہ اچھی طرح جانتا ہے۔ اور اس سے پیدا ہونے والے حالات سے بھی وہ اچھی طرح واقف ہے۔
Ayah 3:122ہاں ! تم میں سے دو جماعتوں نے ہمت ہارنے کا ارادہ کیا تھا لیکن اللہ نے ان کی ہمت بندھا دی :
232: یہ دو جماعتیں کونسی تھی جن کے دل ڈھیلے پڑگئے تھے اور وہ ہمت ہارے ہی والے تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہمت بندھا دی۔ جیسا کہ پیچھے ذکر کیا جا چکا ہے کہ عبد اللہ بن ابی جو غزوہ بدر کے بعد ایمان لایا تھا اور غزوہ احد کے وقت اس نے مدینہ کے اندر رہ کر ہی جنگ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی رائے کو خود چھوڑ کر دوسرے نوجوانوں کی رائے کو قبول کرلیا اور یقینا مشیت ایز دی سے ایسا ہوا تھا اگر وہ مخلص ہوتا تو وہ بھی نبی کریم ﷺ کی اختیار کردہ راہ کو اختیار کرلیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اور مدینہ سے باہر نکل کر دوبارہ اپنے ساتھیوں کو لے کر واپس مدینہ لوٹ گیا۔ در اصل اس وقت مدینہ سے باہر نکل کر واپس جانے میں اس کا مقصد ہی یہ تھا کہ باقی لوگ یہ منظر دیکھ کر بددل ہوجائیں۔ یہ گویا اس کی ایسے نازک وقت میں ایک چال تھی۔ اس کے نکلنے کے ساتھ ہی اوس و خزرج کے کچھ لوگوں کے دلوں میں بھی کچھ ایسی بات نے جنم لیا لیکن ان کے اظہار کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو مضبوط کردیا۔ اس طرح اس کی یہ چال بھی کامیاب نہ ہوسکی بلکہ وہ بری طرح ناکام ہوگیا۔ اور اس کی منافقت کھل کر سامنے آگئی۔ بس انہی دو جماعتوں کا اس جگہ ذکر کیا جا رہا ہے۔ ” ھم “ اس دلی ارادہ کو کہتے ہیں جو انسان کے دل میں پیدا ہو اور عملی طور پر اس کا ابھی اظہار نہ ہوا ہو خواہ وہ ارادہ اچھا ہو یا برا ۔ فرمایا ان کے دلوں میں یہ پیدا ہوا ہی تھا کہ اللہ نے ان کے دلوں کو مضبوط کردیا اور انہوں نے عمل طور پر ابھی اس کا کوئی اظہار نہیں کیا تھا۔ اور یہ بات بھی اس سے واضح ہوگئی کہ اس نے اندھا بہرا ہو کر اپنے دل میں پیدا ہونے والے ارادہ سے باز آجائے تو اس کو اس بات پر اجر ملتا ہے کہ اس نے اندھا بہرا ہو کر اپنے دل میں پیدا ہونے والے ارادہ سے باز آجائے تو اس کو اس بات پر اجر ملتا ہے کہ اس نے اندھا بہرا ہو کر اپنے دل میں پیدا ہونے والے ارادہ کے مطابق عمل نہیں شروع کیا بلکہ اس کو سمجھ سوچ کر ترک کردیا کہ اس کے مطابق عمل صحیح نہیں۔
اس جگہ بھی ارشاد فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ ان دنوں گوہوں کا مدد گار تھا “ اس لئے ان کے دل میں پیدا ہونے والا وہم وہیں روک لیا گیا۔ اور یہ خیال بھی انہیں پیدا ہوا اپنی قلت تعداد ، قلت سامان اور مادی کمزوری کی بناء پر نہ کہ ضعف ایمان کی بناء پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اللہ ولیھما “ خود ان کے ایمان کامل کی شہادت دے رہا ہے۔ اس لئے گویا ان دونوں قبیلوں کے لئے اگر کچھ عتاب بھی پایا جاتا ہے۔ تاہم یہ بشارت بھی ان ہی کے لئے ہے کہ ان دونوں جماعتوں کا دوست ہے یا کر ساز ہے۔
اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کامل ایمان کی ایک نشانی ہے :
233: جو یمان رکھنے والے ہیں انہیں تو چاہیے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ اس سے یہ بات مزید واضح ہوگئی کہ کثرت تعداد اور کثرت سازو سامان پر مسلمانوں کو اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ ہاں ! اپنی مکمل اور ہر لحاظ سے بھر پور تیاری بیشک ضروری ہے اور بقدر استطاعت مادی سامان جمع کرنے کے بعد بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ کی پاک ذات پر ہی رکھان چاہیے۔ چونکہ بنو حارثہ اور بنو سلمہ کو کمزوری اور کم ہمتی کا جو وسوسہ پیدا ہوا تھا۔ وہ اس مادی ضعف کی بناء پر تھا اس لئے ان کے وسوسہ کا علاج تو کل ہی سے بتلایا گیا کہ توکل و اعتماد ان وساوس کے لئے نسخہ اکسیر ہے۔
توکل انسان کی اعلیٰ صفات میں سے ایک ہے۔ محقیقین نے اس کی حقیقت پر بحثیں کی ہیں اس جگہ اتنا سمجھ لینا کافی ہوگا کہ توکل کے معنی یہ نہیں کہ اسباب ظاہری سے بالکل قطع تعلق کر کے اللہ پر اعتماد کیا جائے۔ بلکہ توکل یہ ہے کہ تمام اسباب ظاہری کو اپنی قدرت کے مطابق جمع کرے اور ان سب کو اختیار کرے اور پھر نتائج اللہ کے سپرد کر دے اور ان ظاہری اسباب پر جو اس نے بڑی محنت اور مشقت سے اکٹھے کئے ہیں کسی طرح کا فخر و ناز نہ کرے۔ شیخی نہ بگھارے اور اپنا مکمل اعتماد اللہ تعالیٰ کی ذات پر رکھے جس نے ان ظاہری اسباب کو اکٹھا کرنے کی توفیق دی اور ان ظاہری اسباب کو پیدا فرمایا۔ نبی اعظم و اخر ﷺ اسوہ حسنہ ہمارے سامنے ہے اور اس جہاد میں مسلمانوں کے لشکر کو جنگ کے لئے منظم کرنا۔ رات کے وقت اپنی قیام گاہ کو چھوڑ کر لشکر کی تیاری میں مصروف ہوجانا۔ سپ سالاروں کے قواعد کے مطابق جگہ کا انتخاب کرنا۔ مختلف لوگوں کے ذمہ ان کی ڈیوٹیوں کا تقسیم کرنا خود اپنی ذات اقدس کا جنگی لباس زر ہیں ، خود ، تلوار ، بندوق اور دوسرے اسباب کا اختیار کرنا اور اسب سے بڑھ کر یہ کہ خود بنفس نفیس جنگ میں شریک ہونا یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ مادی اسباب بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں ان سے قطع نظر کرنے کا نام توکل نہیں ہے۔ اس جگہ مومن اور غیر مومن میں فرق صرف یہ ہوتا ہے۔ اور غیر مومن کو یہ نظریہ اور عقیدہ نصیب نہیں ہوتا اس کو صرف اپنی مادی طاقت پر بھروسہ ہوتا ہے اور اس فرق کا ظہور ایک سچے مسلم اور ایک پکے دنیا دار کے عمل سے وضح ہوجاتا ہے جو ہمیشہ دیکھنے میں آتا رہتا ہے۔
Ayah 3:123ذرا میدان بدر کا نقشہ اپنے ذہن میں لاؤ تمہاری کیا حالت تھی اور اللہ نے کیا کر دکھایا :
211: نبی اعظم ﷺ جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو قریش نے مدینہ کے سردار عبداللہ بن ابی کو جسے ہجرت رسول ﷺ سے پہلے اہل مدینہ اپنا بادشاہ بنانے کی تیاری کرچکے تھے۔ اور جس کی تمناؤں پر نبی کریم ﷺ کے مدینہ پہنچ جانے اور اوس و خزرج کی اکثریت کے مسلمان ہونے کی وجہ سے پانی پھر چکا تھا خط لکھا کہ تم لوگوں نے ہمارے آدمی کو اپنے ہاں پناہ دی ہے ہم اللہ کی قسم کھاتے ہیں و کہ یا تو تم خود اس سے لڑو یا اسے نکال دو ورنہ ہم سب تم پر حملہ آور ہوں گے اور تمہارے مردوں کو قتل اور عورتوں کو لونڈیاں بنا لیں گے۔ عبداللہ بن ابی اس پر کچھ آمادہ ہوا مگر رسول اللہ ﷺ نے بروقت اس کی شر کی روک تھام کرلی۔ پھر سعد بن معاذ رئیس مدینہ عمرے کے لئے مکہ گئے وہاں عین زمزم کے دروازے پر ابو جہل نے اس کو روک کر کہا کہ تم تو ہمارے دین کے مرتدوں کو پناہ دو اور ان کی امداد و اعانت کا دم بھرو اور ہم تمہیں اطمنان سے مکہ میں طواف کرنے دیں ؟ اگر تم امہ بن خلف کے مہمان نہ ہوتے تو زندہ یہاں سے نہیں جاسکتے تھے۔ حضرت سعد ؓ نے جواب دیا واللہ اگر تم نے مجھے اس چیز سے روکا تو میں تمہیں اس چیز سے روک دوں تا جو تمہارے لئے اس سے شدید تر ہے یعنی مدینہ کی راہ سے تمہاری راہ گزر۔ یہ گویا اہل مکہ کی طرف سے اعلان تھا کہ زیارت بیت اللہ کی راہ مسلمانوں پر بند ہے اور اسی کا جواب اہل مدینہ کی طرف سے یہ دیا گیا کہ شامی تجارت کا راستہ مخالفین اسلام کے لئے پر خطر ہے۔
اور فی الواقع اس وقت مسلمانوں کے پاس اور کوئی تدبیر نہ تھی کہ اس تجارتی شاہراہ پر اپنی گرفت مضبوط کریں تاکہ قریش اور ان کے حلیف قبائل جن کا مفاد اس راستہ سے وابستہ تھا۔ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ اپنی معاندانہ اور مزاحمانہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے کے لئے مجبور ہا جائیں۔ چناچہ مدینہ پہنچتے ہی نبی کریم ﷺ نے تو خیر اسلامی سوسائٰ کے ابتدائی نظم و نسق اور اطراف مدینہ کی یہودی آبادیوں کے ساتھی معاملات طے کرنے کے بعد سب سے پہلے جس چیز پر توجہ فرمائی وہ اس شاہراہ کا مسئلہ تھا۔ اس مسئلے میں آپ ﷺ نے دو اہم تدبیریں اختیار کیں۔
ایک یہ کہ مدینہ اور ساحل بحراحمر کے درمیان اس شاہراہ سے متصل جو قبائل آباد تھے۔ ان کے ساتھ گفت و شنید شروع کی تاکہ وہ حلیفانہ اتحاد یا کم ازکم ناطرفداری کے معاہدے کرلیں۔ چناچہ اس میں آپ ﷺ کو پوری پوری کامیابی ہوئی کیونکہ تقریباً سارے قبائل سے آپ ﷺ کے معاہدے ہوگئے۔ دوسری تدبیر آپ ﷺ نے یہ اختیار کی کہ قریش کے قافلوں کو دھمکی دینے کے لے اس شاہراہ پر پہم چھوٹے چھوٹے دستے بھیجنے شروع کر دئے اور بعض دستوں کے ساتھ آپ ﷺ خود بھی تشریف لے جاتے رہے جن کی داستانیں تاریخ کے صفحات میں آج تک محفوظ ہیں۔
حالات اس طرح چلتے رہے یہاں تک 2 ہجری کے شعبان میں جو فروری یا مارچ 623 ھ کے برابر ہوگا قریش کا ایک بہت بڑا قافلہ جس کے ساتھ تقریباً پچاس ہزار اشرفی کا مال تھا اور تیس یا چالیس سے زیادہ محافظ نہ تھے شام سے مکہ کی طرف پلٹتے ہوئے اس علاقہ میں پہنچا جو مدینہ کی زد میں تھا چونکہ مال زیادہ اور محافظ کم تھے۔ اور سابق حالات کی بناء پر خطرہ قومی تھا۔ کہ کہیں مسلمانوں کا کوئی طاقتور دستہ اس پر چھاپہ نہ مار دے اس لئے سردار قافلہ ابو سفیان نے اس پر خطر علاقے میں پہنچنے سے پہلے ہی ایک آدمی کو مکہ کی طرف دوڑا دیا تاکہ وہاں سے مدد لے آئے۔ اس شخص نے مکہ پہنچتے ہی عرب کے قدیم قاعدے کے مطابق اپنے اونٹ کا کان کاٹے ، اس کی ناک چیر دی اس کے کجاوے کو الٹ کر رکھ دیا اور اپنی قمیض پھاڑ کر شور مچانا شروع کردیا اور کہنے لگا کہ قریش والو ! اپنے تجارتی قافلہ کی خبر لو تمہارے اموال جو ابو سفیان کے ساتھ ہیں محمد ﷺ اپنے آدمی لے کر ان کے درپے ہوگیا ہے مجھے امید نہیں کہ تم انہیں پا سکو گے دوڑو مدد کے لئے۔ اس پر سارے مکہ میں ہیجان پیدا ہوگیا۔ قریش کے تمام بڑے بڑے سردار جنگ کے لئے تیار ہوگئے۔ تقریباً ایک ہزار جنگی بہادر جن میں سے چھ سو زرہ پوش تھے۔ اور جن میں سو سواروں کا رسالہ بھی شامل تھا پوری شان و شوکت کے ساتھ لڑنے کے لئے چلے ان کے پیش نظر صرف یہ کام نہ تھا کہ اپنے قافلے کو بچالائیں بلکہ وہ اس ارادے سے نکلے تھے۔ کہ اس آئے دن کے خطرے کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیں اور مدینہ میں یہ مخالفت طاقت جو بھی نئی نئی مجتمع ہونا شروع ہوء ہے اس کو پورے زور سے کچل کر رکھ دیں اور اس نواح کے قبائل کو اس حد تک مرعوب کردیں کہ آئنداہ کے لئے یہ تجارتی رستہ بالکل محفوظ ہوجائے۔
اب نبی کریم ﷺ نے جو حالات سے ہر وقت باخبر رہتے تھے۔ محسوس فرمایا کہ فیصلہ کی گھڑی آپہنچی ہے اور یہ ٹھیک وہ وقت ہے جب کہ ایک جسورانہ اقدام اگر نہ کر ڈالا گیا تو تحریک اسلامی ہمیشہ کے لئے بےجان ہوجائے گی بلکہ بعید نہیں کہ اس تحریک کے لئے سر اٹھانے کا پھر کوئی موقع ہی باقی نہ رہے۔ اس دارالہجرۃ میں آئے ابھی قورے دو سال بھی نہیں ہوئے تھ۔ مہاجرین بےسروسامان ، انصار ابھی نا آزمودہ ، یہودی قبائل بر سر مخالفت۔ خود مینہ میں منافقین ایک اچھا خاصا طاقت ور عنصر موجود اور گردو پیش کے تمام قبائل قریش سے مرعوب بھی اور مذہباً ان کے ہمدرد بھی ایسے حالات میں اگر قریش مدینہ پر حملہ آور ہوجائیں تو ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کی مٹھی بھر جماعت کا خاتمہ ہوجائے۔ لیکن اگر وہ حملہ نہ کریں اور صرف اپنے زور سے قافلے کو بچا کر ہی نکال لے جائی اور مسلمان دبکے بیٹھے رہیں تب بھی مسلمانوں کی ایسی ہوا اکھڑے گی کہ عرب کا بچہ بچہ ان پر دلیر ہوجائے گا۔ اور ان کے لئے ملک بھر میں کوئی جائے پناہ باقی نہ رہے گی اور آس پاس کے سارے قبائل قریش کے اشاروں پر کام کرنا شروع کردیں گے۔ مدینہ کے یہودی اور منافقین و مشرکین علی الاعلان سر اٹھائیں گے اور اس دارالہجرۃ میں جینا مشکل کردیں گے۔ مسلمانوں کو کوئی رعب و اثر نہ رہے گا کہ اس کی وجہ سے کسی کو ان کی جانو مال اور آبرو پر ہاتھ ڈالنے میں تامل ہو۔ اس بناء پر نبی رحمت ﷺ نے عزم فرمایا کہ جو طاقت بھی اس وقت میسر ہے اسے لے کر نکلیں اور میدان میں فیصلہ کریں کہ جینے کا بل بوتا کس میں ہے۔ کس میں نہیں۔
اس فیصلہ کن اقدام کا ارادہ کر کے آپ ﷺ نے انصار و مہاجرین کو جمع کیا اور ان کے سامنے ساری پوزیشن صاف صاف رکھ دی کہ ایک طرف شمال میں تجارتی قافلہ ہے اور دوسری طرف جنوب میں قریش کا لشکر چلا آ رہا ہے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک تمہیں مل جائے گا بتاؤ تم کس کے مقابلہ میں چلنا چاہتے ہو ؟ جواب میں ایک بڑے گو وہ کی طرف سے اس خواہش کا اظہار ہوا کہ قافلہ پر حمل کیا جائے لیکن رسول اللہ ﷺ کے پیش نظر کچھ اور تھا۔ اس لئے آپ ﷺ نے اپنا سوال دہرایا اس پر مہاجرین میں سے مقداد بن عمرو نے اٹھ کر کہا ” یا رسول اللہ ﷺ جیسا آپ ﷺ کا رب آپ کو حکم دے رہا ہے اس طرف چلئے ہم آپ ﷺ کے ساتھ ہیں۔ ہم بنی اسرائیل کی طرح یہ کہنے والے نہیں ہیں جاؤ تم اور تمہارا خدا دنوں لڑیں ہم تو یہاں بیٹھیں گے نہیں ہم کہتے ہیں کہ چلئے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کا خدا اور ہم آپ ﷺ کے ساتھ ہیں اور اپنی جانیں لڑائیں گے جب تک ہم میں ایک آنکھ بھی گردش کر رہیں ہے۔ مگر لڑائی کا فیصلہ انصار کی رائے معلوم کئے بغیر نہیں کیا جاسکتا تھا کیونکہ ابھی تک فوجی اقدامات میں ان سے کوئی مدد نہیں لی گئی تھی۔ اور ان کے لئے یہ آزمائش کا پہلا موقع تھا کہ اسلام کی حمایت کا جو عہد انہوں نے اول روز کیا تھا۔ اسے وہ کہاں تک نباہنے کے لئے تیار ہیں۔ اس لئے آپ ﷺ نے براہ راست ان کو مخاطب کئے بغیر پھر سوال دہرایا۔ اس پر سعد معاذ اٹھے اور انہوں نے عرض کیا شاید حضور ﷺ کا رؤئے سخن ہماری طرف ہے ؟ آپ ﷺ نے فر مایاہاں ! انہوں نے کہا ” ہم آپ ﷺ پر ایمان لائے ہیں۔ آپ ﷺ کی تصدیق کرچکے ہیں کہ آپ ﷺ جو کچھ لائے ہیں وہ حق ہے اور آپ ﷺ سمع وطاعت کا پختہ عہد باندھ چکے ہیں۔ پس اے اللہ کے رسول ﷺ ! جو کچھ آپ ﷺ نے ارادہ فرما لیا ہے اسے کر گزریئے قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر آپ ﷺ ہم کو لے کہ سامنے سمندر پر جا پہنچیں اور اس میں اتر جائیں تو ہم آپ ﷺ کے ساتھ کو دیں گے اور ہم میں سے ایک بھی پیچھے نہیں رہے گا۔ ہم کو یہ ہرگز ناگوار نہیں ہے کہ آپ ﷺ کل ہمیں لے کر دشمن سے جا بھڑیں۔ ہم جنگ میں ثابت قدم رہیں گے۔ مقابلہ میں سچی جاں نثاری دکھائیں گے اور بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو ہم سے وہ کچھ دکھوا دے جس کو دیکھ کر آپ ﷺ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں۔ پس اللہ کی برکت کے بھروسے پر آپ ﷺ ہمیں لے چلیں۔
اب فیصلہ ہوگیا کہ قافلہ کے بجائے لشکر کفار ہی کے مقابلہ پر چلنا چاہئے لیکن یہ فیصلہ لوئی معمولی فیصلہ نہ تھا۔ جو لوگ اس تنگ وقت میں لڑائی کے لئے اٹھے ان کی تعداد تین سو سے کچھ زائد تھی 86 مہاجر 61 قبیلہ اوس کے 170 قبیلہ خزرج کے جس میں سے صرف دو تین کے پاس گھوڑے تھے اور باقی آدمیوں کے لئے 70 اونٹوں سے زیادہ نہ تھے جن پر تین تین ، چار چار اشخاص باری باری سوار ہوتے تھے۔ سامان جنگ بھی بالکل ناکافی تھا اور صرف ساٹھ آدمیوں کے ساتھ زرہیں ۔ اس لئے چند سرفروش فدائیوں کے سوا اکثر آدمی ججو اس خطرناک مہم میں چریک تھے دلوں میں سہم رہے تھے اور انہیں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جانتے بوجھتے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ مصلحت پرست لوگ جو اگرچہ دارئرہ اسلام میں داخل ہوچکے تھے مگر ایسے ایمان کے قائل نہ تھے جس میں مال و جان کو زیاں ہو۔ اس مہم کو دیوانگی سے تعبیر کرر ہے تھے اور ان کے خیال تھا کہ دینی جز بےنے ان لوگوں کو پاگل بنا دیا ہے مگر نبی اور مومنین صادقین نہ سمجھ چکے تھے کہ یہ قوت جان کی بازی لگانے ہی کا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر وہ نکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے سیدھی جنوب مغرب کی راہ لی جدھر سے قریش کا لشکر آرہا تھا حالانکہ اگر ابتداء میں قافلہ کو لوٹنا مقصود ہوتا تو شمال مغرب کی راہ لی جاتی۔ 17 رمضان کو بدر کے مقام پر قریقین کا مقابلہ ہو جس وقت دونوں لشکر ایک دو سے کے مقابل ہوئے اور نبی کریم ﷺ نے دیکھا کہ تین کافروں کے مقابلہ میں ایک مسلمان ہے اور وہ بھی پوری طرح مسلح نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلا دئیے اور نہایت خضوع و تضرع کے ساتھ عرض کرنا شروع کی۔ ــ” خدایا یہ ہیں قریش اپنے سامان غرور کے ساتھ آنے والے تاکہ تیرے رسول کہ جھوٹا ثابت کریں۔ خداوند ! بس اب آجائے تیری وہ مدد جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ اللہ ! اگر آج یہ مٹھ بھر جماعت ہلاک ہوگئی تو روئے زمین پر پھر تیری عبادت نہ ہوگی۔ “
اس معرکہ کا رزار میں سب سے زیادہ سخت امتحان مہاجرین مکہ کا تھا جن کے اپنے بھائی بند سامنے صف آراء تھے۔ کسی کا باپ ، کسی کا بیٹا ، کسی کا چچا ، کسی کا ماموں ، کسی کا بھائی اس کی اپنی تلوار کی زد میں آرہا تھا اور اپنے ہاتھوں اپنے جگر کے ٹکڑے کا ٹنے پڑ رہے تھے۔ اس کڑی آزمائش سے صرف ہی لوگ گزر وکتے تھے جنہوں نے پوری سنجیدگی کے ساتھ حق سے رشتہ جوڑا تھا اور جو باطل کے ساتھ سارے رشتے قطع کر ڈالنے پر تل گئے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی دعائوں کو قبولیت بخشی گئی اور ان لوگوں کی صداقت ایمانی اللہ تعالیٰ کی نصرت کا انعام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اور قریش اپنے سارے غرور اور طاقت کے ساتھ آنے کے باوجود ان بےسرو سامان فدائیوں کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔ کفار کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر ہی قیدی ہوئے اور ان کا سروسامان غنیمت بھی مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ قریش کے بڑے بڑے سردار جوان گل ہائے سرسبد اور اسلام کے مخالف تحریک کے روح رواں تھے اس معرکہ میں ختم ہوگئے اور اس فیصلہ کن فتح نے عرب میں اسلام کو ایک قبل لحاظ طاقت بنا دیا۔ اس زیر نظر آیت میں اس واقع کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
تم نہایت کمزور تھے لیکن اللہ نے زور آوروں کے مقابلہ میں تم کو کامیاب کردیا :
235: ” اَنْتُمْ اَذِلَّۃِ “ یعنی تم تعداد کے لحاظ سے اور سر و سامان کے لحاظ سے بہت تھوڑے تھے۔ لیکن تمہاری کمزوریوں کے باوجود اللہ نے تمہاری مدد فرما دی اور تم کامیاب ہوگئے اور بظاہر تمہاری کامیابی کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ تعداد کے لحاظ سے بھی تم غالب آنے کے قابل نہ تھے۔ کیا ابھی بھی تم کو الٰہی نصرت کا یقین نہیں آیا۔ پھر فرمایا کہ تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم شکر کرنے والے بن جاؤ ۔ مومن تو پہلے ہی شکر گزار ہوتا ہے۔ پھر اس جگہ اس کا کیا مطلب ہوا ؟ مطلب بالکل صاف اور واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی انسان کو کوئی نئی نعمت عطا فرماتا ہے تو گویا نئی شکر گزاری کا موقع بھی عطا کرتا ہے۔ پس شکرگزار بننے میں اس نئی نعمتک کی طرف اشارہ ہے جو فتح مندی کی صورت میں نصیب ہوئی تھی۔ فرمایا اگر اب بھی تم تقویٰ اختیار کرو تو پھر تمہیں نصرت الٰہی اپنی مدد میں لے لے گی اور مزید شکرگزاری کا موقع مل جائے گا۔
Ayah 3:124تمہارے مقابلہ میں کفار تین ہزار ہیں تو تمہاری مدد کے لیے تین ہزار فرشتے نازل ہوں گے :
236: غزوہ احد میں مسلمانوں کی تعداد جو اس وقت مدینہ طیبہ سے نکلے تھے ایک ہزار تھی لیکن مدینہ طیبہ سے نکلنے کے بعد مقام شوط سے عبداللہ بن ابی منافقین کا سردار اپنے گروہ کے تین صد لوگوں کے ہمراہ الگ ہوگیا اور اس طرح مخلص مومنوں کی تعداد صرف سات سو باقی رہ گئی تھی جن میں سے پچاس آدمی معرکہ احد سے بالکل الگ کر کے جبل عیتین پر کفار کے لشکر کی روک کے لیے مستقل مقرر کردیے گئے تھے باقی چھ صد پچاس مجاہدین میں سے تقریباً بیس پچیس آدمیوں کو مختلف ڈیوٹیوں پر تعین کیا گیا تھا اور باقی 265 مجاہدین میدان کارزار میں جنگ آزما ہوئے تھے جن کو دو صفوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ نبی اعظم و آخر ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر مسلمانوں کے حوصلے بلند کرنے کے لیے یہ ارشاد فرمایا کہ تمہاری مدد اللہ تعالیٰ تین ہزار فرشتوں سے فرمائے گا جو ایک طرح سے گویا اللہ تعالیٰ کی مدد کا اعلان تھا۔ اس طرح کی مدد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی بدر کے دن بھی فرمائی تھی جس کا ذکر آگے چل کر سورة الانفال میں آئے گا۔ چونکہ میدان بدر میں کفار مکہ کی تعداد ایک ہزار تھی اور مسلمان ان کے مقابلہ میں صرف تین صد تیرہ (313) تھے۔ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتوں کی مدد کی خوشخبری سنائی تھی جیسا کہ ارشاد فرمایا :
اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُرْدِفِیْنَ (الانفال : 9:8) ” بلاشبہ میں تمہاری مدد کے لیے پے درپے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں۔ “ اور اس معرکہ میں مخالفین کی تعداد تین ہزار تھی اس لیے مسلمانوں کے حوصلے بڑھانے کے لیے ارشاد الٰہی ہوا کہ اَلَنْ یَّکْفِیَکُمْ اَنْ یُّمِدَّکُمْ رَبُّکُمْ بِثَلٰثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُنْزَلِیْن (ال عمران : 124:3) ” کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار تمہاری مدد تین ہزار اتارے ہوئے فرشتوں سے کر دے۔ “
Ayah 3:125جب مخالفین کی تعداد بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی تعداد کو بڑھا دیا :
237: اس آیت میں فرشتوں کی تعداد کو پانچ ہزار کردیا گیا۔ یہ جنگ احد ہی کا واقعہ ہے یا کسی دوسری جنگ کا۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ دراصل بدر میں کفار کی تعداد ایک ہزار تھی اور اللہ نے ایک ہزار فرشتوں سے مسلمانوں کی مدد فرمائی جیسا کہ الانفال میں فرمایا گاگ اور پھر احد کے میدان میں کفار کی تعداد تین ہزار تھی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد بھی تین ہزار فرشتوں سے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور بعض نے کہا ہے کہ پہلی دونوں مددیں تو بدر میں تھیں لیکن احد میں پہلے تین ہزار کی مدد تھی اور بعد میں بڑھا کر پانچ ہزار کی مدد کردی گئی اور دراصل یہ ساری باتیں ہی درست ہیں اس لیے کہ ہر معرکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ اور مومنین کی مدد فرمائی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی نصرت فرماتا ہی رہتا ہے اور پھر آئندہ آنے والی آیت نے خود اس ساری مدد کی تفصیل بیان کردی ہے۔
آیت زیر نظر میں ارشاد فرمایا کہ ” منْ فَوْرِھِمْ “ فور دراصل شدت جوش کا نام ہے اور اس کا استعمال آگ کے متعلق ہوتا ہے جب وہ بھڑک جائے اور ہانڈی کے متعلق ہوتا ہے جب وہ ابلنے لگے۔ اور غصہ کی انتہائی حالت پر اس لفظ کو بولا جاتا ہے اور اس لفظ سے فوراً ہے جو ہماری زبان میں استعمال ہے اور بطور استعارہ ” فور “ کے معنی فی الحال بھی کیے جاتے ہیں۔
مُسَوِّمِیْنَ جس کا اصل ” سوم “ اس کے معنی ہیں ” کسی چیز کی تلاش میں جانا “ (راغب) اور لسان العرب میں ہے کہ ” سام “ چار معنوں میں آتا ہے۔ چرنے کے لیے چھوڑا ، طلب کیا ، بیچا اور عذاب دیا۔ اس جگہ ” مُسَوِّم “ میں یہی آخری معنی مراد ہیں یعنی عذاب دینے والے مُسَوِّمِیْنَ تباہی ڈالنے والے یا عذاب دینے والے اور عام معنی ” نشان کیے گئے “ کیے جاتے ہیں۔