3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 3:126

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

یہ بات جو کہی جا رہی ہے تو صرف اس لیے کہ تمہارے لیے خوشخبری ہو اور تمہارے دل اس کی وجہ سے مطمئن ہوجائیں ، مدد و نصرت جو کچھ بھی ہے اللہ کی طرف سے ہے اس کی طاقت سب پر غالب ہے اور وہ اپنے تمام کاموں میں حکمت رکھنے والا ہے

اس طرح تم کو فتح و نصرت کی خوشخبری دی گئی تاکہ تمہارے دل مطمئن ہوجائیں : 238: بدر ، احد اور احزاب تینوں جنگوں میں مسلمانوں کی تعدادکفار کی تعداد کے مقابلے میں کوئی نسبت نہ رکھتی تھی۔ تینوں جنگوں کی ابتداء کفار کی طرف سے ہوئی جو بدنیتی پر مبنی تھی کیونکہ تینوں ہی جنگوں کی غرض مسلمانوں اور اسلام کا استیصال تھا۔ تینوں ہی جنگوں میں امداد الٰہی یعنی نزول ملائکہ کی خوشخبری مسلمانوں کو سنائی گئی اور تینوں ہی جنگوں میں کفار اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ جنگ احد میں اگرچہ مسلمانوں کو کافی نقصان ہوا لیکن وہ مسلمانوں کی اپنی کوتاہی کا نتیجہ تھا تاہم انجام کار فتح اسلام ہی کو نصیب ہوئی اور خصوصاً جنگ احزاب جس کا دوسرا نام خندق بھی ہے کہ بعد دوبارہ کفار کو مدینہ پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں ہوئی بلکہ اس کے بعد نبی اعظم و آخر ﷺ دس ہزار صحابہ کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے اور کفار کو اپنے گھر میں بھی مقابلہ کی جرأت نہ ہوئی اور دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ کفار کو دو طرح کا وعدہ دیا گیا تھا جس کے متعلق وہ بار بار مطالبہ بھی کرتے تھے جیسا کہ سورة نحل میں فرمایا گیا کہ ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِیَھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّکَ ۔ (النحل : 33:16) ” اے پیغمبر اسلام ! یہ لوگ جو انتظار کر رہے ہیں تو اس بات کے سوا اور کون سی بات اب باقی رہ گئی ہے کہ فرشتے ان پر اتر آئیں یا تیرے پروردگار کا مقرر حکم ظہور میں آجائے ؟ سو اللہ تعالیٰ نے ان تینوں ہی جنگوں میں جہاں کفار کی چڑھائی مسلمانوں پر تھی ملائکہ کے ساتھ مسلمانوں کی نصرت فمرائی اور کفار کو سزا دی اور ان کو ان کے ارادے میں ناکام رکھا اور فتح مکہ میں گویا امر رب ہی آگیا کیونکہ اسلام کی حکومت قائم ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا۔ وہی کفار جو ہزارہا کا لشکر لے کر مٹھی بھر مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کے لیے جایا کرتے تھے اب ان میں اتنی بھی ہمت نہ رہی کہ وہ نبی کریم ﷺ کے دس ہزار قدوسیوں کے مقابلہ میں باہر میدان میں ہی نکل سکیں اور یہ بات واضح ہوگئی کہ امر حق کا مقابلہ کوئی شخص کر ہی نہیں سکتا۔ پس ملائکہ کے نزول میں گویا دراصل اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدے کو پورا فرمایا جس کا مطالبہ بار بار کفار کی طرف سے ہوتا تھا اور بروقت خوشخبری دے کر مسلمانوں کے دلوں کو بھی مضبوط کردیا گیا کہ وہ کفار کی اکثریت سے دل برداشتہ نہ ہوجائیں اللہ اور اس کے فرشتوں کی مدد ان کے ساتھ ہے اور پھر جس کا اللہ مددگار ہو اس کو کون شکست دے سکتا ہے ؟ پھر اس زیرنظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نزول ملائکہ کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے صرف تمہارے لیے بشارت ٹھہرایا اور تاکہ تمہارے دل اس خوشخبری کے ساتھ مطمئن ہوجائیں اور بالکل اس طرح سورة الانفال میں ارشاد فرمایا : وَمَا جَعَلَ اللّٰہُ اِلَّا بُشْرٰی وَالِتَطْمَئِنَّ بِہٖ قُلُوْبُکُمْ ” اور یہ بات اللہ نے تمہیں صرف اس لیے بتا دی کہ تمہیں خوشخبری ہو اور تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں۔ “ ازیں بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ : اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْھُمْ کُلَّ بَنَانٍ (الانفال : 12:8) ” اے پیغمبر اسلام ! وہ وقت یاد کرو جب تمہارا رب فرشتوں کو اشارہ کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاؤ ۔ “ اصولی باتیں جو ہم کو قرآن کریم کے ذریعہ سے معلوم ہیں ان کی بناء پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فرشتوں سے قتال میں یہ کام تو نہیں لیا گیا کہ وہ خود حرب و ضرب کا کام کریں بلکہ اس کی صورت یہ تھی کہ کفار پر جو ضرب مسلمان لگائیں وہ فرشتوں کی مدد سے ٹھیک ٹھیک ان کے مارنے کی جگہ پر بیٹھے اور کاری لگے اور اس کے مقابلہ میں کفار کی طرف سے جو وار اہل اسلام پر ہو وہ فرشتوں کی مدد سے خالی جائے جس سے کفار کی خوب پٹائی ہو اور مسلمانوں کو کوئی گزند نہ آئے۔ مدد و نصرت جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے جو سب طاقتوروں سے زیادہ طاقتور ہے : 239: یہ نزول ملائکہ کی کوئی فرضی بات نہ تھی بلکہ ایک حقیقت تھی ورنہ یہ ناممکن تھا کہ معدودے چند مسلمان اس قدر فوجوں کا مقابلہ کر کے کامیاب ہو سکتے۔ غور کا مقام ہے کہ ایک آدھ میدان میں اگر تھوڑے بہتوں پر غالب آجائیں تو اسے اتفاق کہا جاسکتا ہے گو وہاں بھی کوئی نہ کوئی وجہ کامیابی کی ضرور ہوتی ہے مگر یہاں تو یہ حالت ہے کہ اول میدان بدر میں کفار کی جمعیت تگنی تھی۔ میدان کا چھا حصہ ان کے ہاتھ میں تھا۔ پانی ان کے قبضہ میں تھا۔ ان کی فوج تجربہ کار جنگی جوان تھے اور بالمقابل مسلمانوں میں بچے ، بوڑھے شامل تھے۔ ہتھیار نہ ہونے کے برابر تھے۔ میدان کی مشکلات اس پر متزاد تھیں پھر بھی کفار سخت نقصان اٹھاتے ہوئے بھاگ جاتے ہیں۔ پھر میدان احد میں بجائے تگنے کے اب کفار کی تعداد مسلمانوں سے چوگنی ہے سواروں کی ایک بڑی جمعیت ان کی فوج میں ہے۔ خالد بن ولید جیسے بہادر بھی ان کے ساتھ ہیں مگر پھر بھی کفار خالی ہاتھ اور ناکام واپس جاتے ہیں۔ جنگ احزاب میں کفار کی تعداد مسلمانوں سے دس گنی علاوہ ازیں مدینہ کے اندر یہودی دشمن اور منافق جاسوسوں کا کام کرنے والے موجود تھے مگر وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اس بڑی فوج کو ناکام اور نامراد کر کے واپس پھیرا اور وہ سخت پریشانی کے عالم میں بھاگے یقینا یہ نزول ملائکہ ہی کا نتیجہ تھا۔ رہی یہ بات کہ جب ملائکہ کا نزول ہوا تھا تو کیا انہوں نے انسانوں کی شکل میں ہو کر جنگ بھی کی ؟ جس غرض کے لیے اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو نازل کیا وہ تو خود ہی بتا دی ہے اور حق بھی یہی ہے کہ ملائکہ کا تعلق قلوب سے ہوتا ہے۔ پس مومنوں کو اطمینان قلب عطا کرنا اور کفار کے دل میں رعب ڈالنا یہ وہ غرض تھی جس کے لیے ملائکہ کا نزول ہوا۔ اس طرح یہ بات واضح ہوگئی کہ اصل مدد تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے اور وہی سب طاقتوروں سے زیادہ طاقتور ہے۔ جس کام کے لیے اس نے جو اصول مقرر کیے ہیں وہ سب کے سب گویا اس کے وعدے ہیں اور ان کا پورا ہونا یقینی اور لازمی ہے۔ وہ سب کام اس طرح طے ہوئے جیسے ان کا ہونا علم الٰہی میں طے پایا تھا۔ اس طرح مدد الٰہی کا ذکر قرآن کریم میں کئی ایک دوسرے مقامات پر بھی کیا گیا ہے جس کی ایک سے زیادہ صورتیں بتائی گئی ہیں جس کو نزول ملائکہ سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے اور مسلمانوں کی ہدایات پر بھی محمول کرسکتے ہیں تاہم حقیقت سب جگہ ایک ہی جیسی ہے اگر فرق ہے تو اگر فرق ہے تو صرف الفاظ کا یا طریق بیان کا جو تفہیم کے لیے ایک لازمی اور لابدی امر ہے تاکہ اچھی طرح ایک بات ذہن نشین ہوجائے۔ اگرچہ ہر جگہ بدر و احد ہی مراد نہیں لیا گیا۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَ اذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْھَبَ رِیْحُکُمْ وَ اصْبِرُوْا اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ (الانفال : 46 ۔ 45:8) ” مسلمانو ! جب کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہوجائے تو لڑائی میں ثابت قدم رہو اور زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ ۔ “ اور اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو۔ ایسا کرو گے تو تمہاری طاقت سست پڑجائے گی اور ہوا اکھڑ جائے گی اور جیسی کچھ بھی مصیبتیں پیش آئیں تم صبر کرو۔ اللہ ان کا ساتھی ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔ “ سورة الانفال کی ان دو آیات میں پانچ باتیں تلقین کی گئیں اور یقینا ان پانچوں باتوں میں ایک سے ایک بڑھ کر نصرت الٰہی اور مدد خداوندی پر مبنی ہے۔ 1۔ فرمایا ثابت قدم رہو کیونکہ میدان جنگ کی ساری کامیابی اس کے لیے ہوتی ہے جو آخر تک ثابت قدم رہے۔ 2۔ فرمایا اس نازک حالت میں بھی اللہ کو یاد کرو کیونکہ جسم کا ثبات دل کے ثبات پر موقوف ہے اور دل اس کا مضبوط رہے گا جو اللہ پر کامل ایمان رکھتا ہے۔ 3۔ فرمایا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور رسول کے بعد اپنے امام و سردار کی کیونکہ بغیر اطاعت یعنی ڈسپلن کے کوئی جماعت بھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ 4۔ باہمی نزاع سے بچو ورنہ سست پڑجاؤ گے اور بات بگڑ جائے گی۔ 5۔ کتنی ہی مشکلیں پیش آئیں پوری مردانگی سے جھیلتے رہو بالآخر جیت اس کی ہے جو زیادہ جھیلنے والا ہوگا۔ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہوا : اِذْ یُرِیْکَھُمُ اللّٰہُ فِیْ مَنَامِکَ قَلِیْلًا وَ لَوْ اَرٰکَھُمْ کَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ سَلَّمَ اِنَّہٗ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ وَ اِذْ یُرِیْکُمُوْھُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْٓ اَعْیُنِکُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُکُمْ فِیْٓ اَعْیُنِھِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰہُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُوْلًا وَ اِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (الانفال : 44 , 43:8) ” اے پیغمبر اسلام ! یہ وہ دن تھا کہ اللہ نے تجھے خواب میں ان کی تعداد تھوڑی کر کے دکھائی اور اگر انہیں بہت کر کے دکھاتا تو مسلمانو ! تم ضرور ہمت ہار دیتے اور اس معاملہ میں جھگڑنے لگتے۔ اللہ نے تمہیں اس صورت حال سے بچا لیا۔ یقین کرو جو کچھ انسان کے سینے میں چھپا ہوتا ہے وہ اس کے علم سے پوشیدہ نہیں ہے اور پھر دیکھو جب تم دونوں فریق ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تھے اور اللہ نے ایسا کیا تھا کہ دشمن تمہاری نظروں میں تھوڑے دکھائی دیے اور ان کی نظروں میں تم تھوڑے دکھائی دیے اور یہ اس لیے کیا تھا تاکہ جو بات ہونے والی تھی اسے کر دکھائے اور سارے کاموں کا دار و مدار اللہ کی ذات پر ہے۔ “ آیت 43 میں اس خواب کی طرف اشارہ کیا ہے جو جنگ بدر سے پہلے پیغمبر اسلام نے دیکھا تھا اور جس میں دشمن ناکام اور مسلمان فتح مند دکھائی گئے تھے۔ خواب مسلمانوں کے لیے مزید تقویت کا باعث ہوا تھا اور آیت 44 میں دونوں جماعتوں یعنی مدنی جماعت اور مکی جماعت کے آمنے سامنے میدان جنگ میں کھڑے ہونے کی جگہ کا نقشہ بتایا گیا ہے کہ دونوں جماعتوں کے آمنے سامنے کے وقت دونوں ہی ایک دوسرے کو تھوڑا دیکھ رہ تھیں حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ مسلمان تو فی الواقعہ تھوڑے تھے لیکن کفار مکہ کی تعداد ان سے تگنی تھی تاہم مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے جو لوگ تھے وہ تھوڑے ہی نظر آ رہے تھے ایسا کیوں ہوا ؟ فرمایا : اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی ہمت بڑھا کر جس فتح کا وعدہ ان کو دیا تھا اس کو پورا کر دکھائے سو وہ پورا ہوگیا۔ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے : وَ اِذْ زَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَھُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَکُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌلَّکُمْ فَلَمَّا تَرَآئَ تِ الْفِئَتٰنِ نَکَصَ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓئٌ مِّنْکُمْ اِنِّیْٓ اَرٰی مَا لَا تَرَوْنَ ۔ (الانفال : 48:8) ” اور پھر جب ایسا ہوا تھا کہ شیطان نے ان کے کرتوت ان کی نگاہوں میں خوشنما کر کے دکھا دیے تھے اور کہا تھا آج لوگوں میں کوئی نہیں جو تم پر غالب آسکے اور میں تمہارا پشت پناہ ہوں مگر جب دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں تو الٹے پاؤں واپس ہوا اور کہنے لگا مجھے تم سے کوئی سرو کار نہیں۔ مجھے وہ بات دکھائی دے رہی ہے جو تم نہیں دیکھتے۔ “ اس سورة الانفال کی آیت 48 میں وہ شیطان کون تھا جس نے یہ کام کیا کہ پہلے مکہ والوں کو خوب ابھارا اور جب وہ اسلامی لشکر کے سامنے کھڑے ہوگئے تو خود بھاگ گیا ؟ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ سراقہ بن مالک ابن جعثم تھا جس نے مشرکین مکہ کا ساتھ دیا تھا لیکن لڑائی شروع ہوتے ہی بھاگ کھڑا ہوا تھا۔ چناچہ مکہ کے لوگ بھی کہتے تھے کہ ہم کو سراقہ نے مروا دیا۔ اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کردی کہ مخالفین میں پھوٹ پڑگئی اور ان کے کچھ لوگ دل چھوڑ گئے۔ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ : ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا وَعَذَّبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَذٰلِکَ جَزَآئُ الْکٰفِرِیْنَ (التوبۃ : 40:9) ” اللہ نے اپنا سکون وقرار اس پر نازل کیا اور پھر ایسی فوجوں سے مددگاری کی جنہیں تم نہیں دیکھتے اور بالآخر کافروں کی بات پست کی اور تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ ہی کی بات ہے جس کے لیے بلندی ہے اور اللہ غالب آنے والا حکمت والا ہے۔ “ یہ ہجرت کی رات کا واقعہ جب نبی اعظم و آخر ﷺ اپنے رفیق خاص حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ساتھ لے کر نکلے تھے اور اس خیال سے کہ آپ ﷺ کا تعاقب ضرور کیا جائے گا آپ ﷺ نے مدینہ کی راہ چھوڑ کر جو شمال کی جانب تھی جنوب کی راہ اختیار کی یہاں تین دن تک آپ ﷺ غارِ ثور میں چھپے رہے۔ خون کے پیاسے دشمن آپ ﷺ کو ہر طرف ڈھونڈتے پھر رہے تھے اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب وہ اسی غار کے دہانے تک پہنچ گئے اس وقت صدیق اکبر ؓ کو سخت خوف ہوا لیکن نبی رحمت ﷺ کے اطمینان میں ذرا فرق نہ آیا۔ اس آیت میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے اور تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔ ان شاء اللہ !
Ayah 3:127

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

تاکہ منکرین حق کی طاقت کا ایک حصہ بیکار کر دے یا انہیں اس درجہ ذلیل و خوار کر دے کہ نامراد ہو کر الٹے پاؤں پھر جائیں

جنگ احد کے انجام کا ذکر کہ اس نصرت الٰہی کا نتیجہ کیا رہا ؟ 240: جنگ احد میں نصرت الٰہی کی دو اغراض بیان فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک کر دے اور دوسری یہ کہ ان کو بےنیل و مرام واپس کر دے۔ یہی وہ جنگ ہے کہ اس میں جنگ نے کئی پہلو بدلے شروع میں مسلمانوں کو فتح ہوتی دکھائی گئی اور مسلمان مال غنیمت کے اکٹھے کرنے میں مصروف ہوچکے تھے کہ کفار نے دوسری طرف سے حملہ کردیا یہ وہ وقت تھا جب جبل عینین والے مجاہدین کی اکثریت بھی اس مقام کو چھوڑ چکی تھی کہ فتح ہوگئی لیکن اس طرف سے مخالفین نے حملہ کردیا اور بھگدڑ سا مچ گیا۔ مسلمانوں کا بھی بہت نقصان ہوا خصوصاً نبی کریم ﷺ کی شہادت کی غلط خبر پھیلا دی گئی جس سے لوگوں کے دل بیٹھ گئے۔ آپ ﷺ کو بھی سخت زخم آئے لیکن زخمی ہونے کے باوجود آپ ﷺ اپنی سواری کے جانور پر بیٹھ گئے اور نعرہ تکبیر بلند کیا۔ جاں نثاروں کو آواز دی دشمنوں کو للکارا اور اس طرح اللہ نے پھر اس ہزیمت سے نکال دکھایا۔ مسلمانوں نے جمع ہو کر دوبارہ حملہ کیا جس کی تاب نہ لا کر کفار دوبارہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ چناچہ یہ دونوں باتیں اس طرح وقوع میں آئیں کہ ابتدائے جنگ میں مسلمانوں نے کفار کے ایک حصہ کو ہلاک کیا اور بہت سے لوگوں کو زخمی کیا اور پھر جب دوبارہ مسلمان پلٹے تو مشرکین کو پھر ذلیل ہو کر لوٹنا پڑا اور جس غرض کے لیے وہ آئے تھے اسے حاصل کیے بغیر واپس ہوئے اور اس آیت نے یہ بات واضح کردی کہ جنگ احد میں کفار کو فتح نہیں ہوئی بلکہ قرآن کریم نے انہیں نامزد قرار دیا۔ کفار کا یہ حملہ اس لیے تھا کہ مسلمانوں کو نیست و نابود کردیں اور اس سے کسی کو بھی انکار نہیں کہ وہ اپنی یہ غرض پوری نہ کرسکے اور یہ ان کے لیے بڑی ذلت تھی خصوصاً ان کی اکثریت جو مسلمانوں سے پانچ گنا زیادہ تھی ان کے کچھ بھی کام نہ آئی۔ بلاشبہ مسلمانوں کو بھی اپنی غلطی کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا لیکن اللہ تعالیٰ کی خاص مدد سے وہ دوبارہ اسی میدان میں سنبھل گئے اور نقصان اٹھانے کے باوجود دشمنوں کو بھگانے میں کامیاب ہوگئے اور مسلمان اس میدان میں پھر جم گئے۔ اتنا کچھ ہونے کے باوجود اتنے بڑے لشکر کا شکست کھا جانا اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم کی ایک کھلی دلیل ہے اور یہ سارے واقعات قریش کے لشکر جرار کو ناکام و نامراد ٹھہراتے ہیں۔
Ayah 3:128

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

اس معاملہ میں تمہیں کوئی دخل نہیں یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے کہ چاہے تو ان سے درگزر کرے اور چاہے تو عذاب دے (کوئی نہیں جو اس کا ہاتھ پکڑنے والا ہو) یقینا وہ ظلم کرنے والے ہیں

آیت لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ کا شان نزول : 241: جنگ احد کا انجام بلاشبہ مسلمانوں کے حق میں اچھا رہا تاہم جو تکلیف مسلمانوں کو پہنچی اور خصوصاً نبی کریم ﷺ جس طرح اس جنگ میں زخمی ہوئے اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ صحیح بخاری میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ” شج النبی “ ﷺ یوم احد فقال کیف یفلح قوم شجوا لذیھم فنزلت لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٍ ۔ یعنی احد کے دن نبی کریم ﷺ کے سر میں زخم آیا تو اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا کس طرح وہ قوم کامیاب ہوگی جنہوں نے اپنے نبی کو زخمی کیا تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ ” اس معاملہ میں تمہیں کوئی دخل نہیں یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ “ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس جنگ میں مسلمانوں کا خاصا نقصان ہوا بہت سے مسلمان مجاہدین شہید بھی ہوئے اور کفار نے ان شہداء احد کی بےحرمتی بھی کی کہ ان کی نعشوں کا مثلہ کیا۔ ان کے کان ، ناک ، ہونٹ تک کاٹ دیے گئے اور سیدنا حمزہ ؓ کا پیٹ چاک کر کے کلیجہ نکالا گیا جو ہندہ نے اپنے دانتوں سے نوچ کھانے کی کوشش کی اگرچہ وہ نگل نہ سکی۔ یہ سارے کام ایسے تھے جو نہایت حد تک دکھ دہ تھے اس پر ظالموں کی سزا کی خواہش بالکل فطری چیز ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ پھر اس سزا کی دعا اپنے خالق ومالک حقیقی سے مانگی گئی ان کفار کو جنہوں نے یہ بےحرمتی کی تھی کبھی بھی اس طرح کی کوئی سزا نہیں دی گئی۔ اس لیے کہ اس کے بعد بھی جنگیں لڑی گئیں اور میدان جنگ میں کفار مارے بھی گئے لیکن اس طرح کی کوئی حرکت مسلمانوں کی طرف سے انتقام کے طور پر بھی نہیں کی گئی۔ بعض مفسرین نے اس آیت کو بیئر معونہ کے واقعہ کے متعلق بھی بیان کیا ہے اور وہ واقعہ بھی صحیح احادیث میں مذکور ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے ستر قاریوں کو ایک سردار قوم کی درخواست پر اس کی قوم کی تعلیم و تربیت کے لیے بھیجا یہ سب حضرات جا رہے تھے اور جب اس کنوئیں کے قریب پہنچے جس کا نام معونہ ہے تو اس قوم کے قبیلوں نے غداری سے ان سب کو قتل کردیا اور یہ قبائل رعل ، زکوان ، عصیہ اور بننی لحیان تھے تو نبی کریم ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی تو بہت ہی دکھ ہوا اور آپ ﷺ نے ایک مہینہ تک نماز صبح کی دوسری رکعت میں دعائے قنوت پڑھی اور ان لوگوں کے لیے بددعا کی جنہوں نے دھوکہ اور فریب کی حد کردی اور نبی کریم ﷺ اور اہل اسلام کی اذیت کا باعث ہوئے اور ان سب واقعات میں دراصل کوئی اختلاف نہیں اس لیے کہ جب حکم عام ہے اور جب عالم اسلام پر کوئی ایسی ناگہانی مصیبت ڈال دی جائے یا ایسے تکلیف دہ واقعات رونما ہوں تو یہ دعائے قنوت پڑھی جاسکتی ہے اور یہی کچھ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے تور بار کے لیے یہ آیت بھی حکماً موجود ہے کہ اس میں مسلمانوں کے اختیار کا مسئلہ نہیں بلکہ جب کسی کی بدبختی اور روسیاہی کا وقت آجاتا ہے تو وہ ایسے واقعات پیدا کردیتا ہے جس سے ایک فریق کو تکلیف پہنچتی ہے تو بہرحال اس کے منہ سے بددعا تو نکلتی ہی ہے اور نکلنی ہی چاہیے اور پھر انجام کار آج بھی کہنا پڑتا ہے کہ ایسے حالات میں انسان کے اپنے اختیار میں کچھ نہیں کہ ان کو روک سکے یا رونما نہ ہونے دے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا تکوینی امر ہے جس کو ٹالا نہیں جاسکتا۔ ہاں ! جس نے یہ واردات کی ہے وہ سزا کا مستحق ہے۔ دراصل اس میں سبق یہ دیا گیا ہے کہ جب کسی کو کوئی تکلیف دی جاتی ہے تو اس کے منہ سے مظلوم ہونے کے باعث جو کچھ نکلتا ہے وہ غیر اختیاری ہوتا ہے اس لیے نکل جاتا ہے لیکن آپ ﷺ رحمت للعالمین ہیں آپ ﷺ کی اس بددعا کو بھی اس طرح منظور فرمایا گیا ہے کہ وہ تینوں شخص جن پر آپ ﷺ نے بددعا کی بعد میں مسلمان ہوگئے ایسے ہی قبائل بھی مسلمان ہوگئے اس میں ان لوگوں کے لیے سبق ہے جو بات بات میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بزرگوں تک کے لیے لعنت بھیجنے کو اپنے مذہب کا ایک حصہ قرار دے بیٹھے ہیں۔
Ayah 3:129

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

آسمان و زمین میں جو کچھ ہے (سب کا سب) اللہ ہی کیلئے ہے جسے چاہے بخش دے جسے چاہے عذاب دے اور وہ بخشنے والا اور بڑی ہی رحمت رکھنے والا ہے

رحمت و مغفرت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہی جانتا ہے کہ کون اس کا مستحق ہے ؟ 242: اللہ تعالیٰ نے ہر کام کا ایک نتیجہ مقرر کیا ہوا ہے اور کوئی کام ایسا نہیں جو نتیجہ نہ رکھتا ہو۔ گویا یہ قانون الٰہی ہے اس طرح یہ مغفرت بھی اس کے عام قانون رحمت کے مطابق ہوتی ہے انسان کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے ہوتا وہی ہے جو اس کے قانون میں طے ہے۔ اس لیے انسانوں کو عملاً اور قولاً اچھی بات کی طلب کرتے رہنا چاہیے اور بالکل اسی طرح یہ عذاب بھی اس کے خاص قانون حکمت ہی کے ماتحت ہوگا اس لیے کہ جو کچھ اس کائنات میں ہے اس کا اصل اور حقیقی مالک صرف اور صرف وہی ہے۔
Ayah 3:130

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے مسلمانو ! حرام کی کمائی سے اپنا پیٹ مت بھرو جو دوگنی چوگنی ہوجایا کرتی ہے اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ

مسلمانوں کو سود کی کمائی سے باز آنے کا حکم دیا جاتا ہے : 243: ” اَضْعَا فَا مُضَاعَفَۃ “ سود در سود کو کہا گیا ہے۔ عربوں میں دستور تھا اور غالباً ایسا ہی دستور تمام سود خواروں میں ہے کہ جب قرضہ کی میعاد پوری ہوجاتی ہے اور قرضہ ادا کرنے والا قرضہ ادا نہیں کرسکتا تو سود کو اصل رقم میں بڑھا کر دوبارہ میعاد مقرر کرلی جاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص نے اپنی مجبوری کے باعث ایک بنئے سے سو روپے قرض لیے اور ایک سال کے بعد ایک سو بیس ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ سال گزر گیا لیکن وہ قرض ادا نہ کرسکا تو اب بنئے کی طرف سے 120 روپے اصل زر ہوگیا اور سال کے لیے جو رقم طے ہوئی اب وہ ایک صد بیس روپے پر ادا کرنا پڑے گا اس طرح رقم بڑھتے بڑھتے چار چھ سال میں مقروض کو اس قدر دبا کر بیٹھ گئی کہ اس کو زمین ، مکان ، جانور ، غلہ جو کچھ اس کے پاس ہے سب دینا پڑا اور آہستہ آہستہ وہ ساری چیزوں سے ہاتھ دھو بیٹھا اور آیت کا یہ مطلب نہیں کہ کئی گنا کر کے سود نہ کھاؤ لیکن تھوڑا تھوڑا کھالو بلکہ مراد اس سے مذمت یا تو بیخ سود ہے کہ تم سود مت کھاؤ ۔ انسان جب اصل راہ سے ہٹ جائے تو اس کے لیے ہلاکت و پریشانی اور نقصان ہی نقصان ہوتا جاتا ہے۔ دراصل مسلمانوں کو یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ جنگ احد میں تم نے ایک غلطی کی اور غلطی کا نتیجہ کیا رہا ہے ؟ اور کتنی تکلیف اٹھانی پڑی ہے ؟ پھر یہ کہ انسان جب ایک قدم غلط اٹھا بیٹھتا ہے تو وہ غلط پر مزید غلط قدم اٹھاتا ہی جاتا ہے اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ میں نے ایک غلطی کی اس کا یہ نتیجہ پایا تو اب باز آجاؤں اعتراف کرلوں اور مزید غلط قدم نہ اٹھاؤں۔ لیکن ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا ہے ، کیوں ؟ اس لیے کہ غلطی کا اعتراف اس کو دل پر شاق گزرتا ہے۔ یہاں یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ سود اور جنگ عملاً لازم و ملزوم ہیں۔ جس قوم کو یہ بیماری لگ جاتی ہے وہ ہمیشہ جا بجا انسانی خون سے ہاتھ رنگتی رہتی ہے۔ کفار مکہ نے جو جنگیں لڑیں دراصل ان کی بھی اصل وجہ یہی تھی۔ مشرکین نے جو مال اکٹھا کیا وہ سارے کا سارا اسی طرح کا مال تھا کہ و ڈیرے قوم کے غریبوں کو سود پر روپیہ دیتے اور ان سے سود کی رقم اکٹھی کر کے اصل زر خود رکھتے تاکہ ان کا کوئی نقصان نہ ہو اور سود کا روپیہ جن سے کماتے انہی لوگوں پر وہ روپیہ خرچ کر کے ان کو آمادہ پیکار کرتے اور اسی طرح قوم کے غریب و نادار لوگ اپنے ہی روپے سے میدان کارزار میں لڑنے مرنے پر تیار ہوجاتے۔ آج بھی اگر آپ دیکھیں گے تو آپ کو یہی صورت حال نظر آئے گی ان دنیا کے وڈیروں نے غریب ملکوں کو کیا دیا ؟ سود پر قرض دیا اور پھر سود در سود قرض بڑھتا گیا بلکہ ان کی ضرورت کو دیکھ کر مزید ان کو قرض لینے کی راہیں بتائیں کہ اگر تم یہ کرو گے تو تمہیں اتنا قرض مزید مل جائے گا اس طرح غریب ملکوں نے قرض لے لے کر اتنا قرض بڑھا لیا کہ اب اس سے نکلنے کی کوئی صورت ہی باقی نہ رہی۔ جن ملکوں کے پاس ایسے وسائل تھے کہ ان کو قرض لینے کی ضرورت نہ تھی ان کو ایسی ایسی الجھنوں میں مبتلا کردیا کہ ان کے ان قدرتی وسائل پر قبضہ کرلیا۔ اب وسائل رکھنے والے برائے نام ان کے مالک ہیں اصل مالک ان کے وہ خود قرار پا گئے۔ جوں جوں آگے بڑھتے گئے حالات بدلتے گئے اور سود کی نئی نئی راہیں کھلتی گئیں۔ ان کے ہاتھ اس سود در سود سے اتنے مضوط ہوگئے ان غریب ملکوں میں سے جس کو جی چاہا قرض دینا بند کردیا اور اگر ضرورت پڑ تو پچھلے قرض مانگنے شروع کردیے۔ ملک کی پوری پیداوار وہ اٹھا کرلے گئے۔ کسی ملک نے اگر پھر بھی برداشت رکھی تو اس کے خلاف کسی ہمسائے ملک کو اکسا دیا اور شرارت شروع کرا دی حتیٰ کہ وہ پہلا ملک ہاتھ جوڑنے پر مجبور ہوگیا۔ اس طرح کے گٹھ جوڑ اور ان سودی کاروباروں نے سارے اسلامی ممالک کا ستیاناس کردیا۔ انہوں نے جب دیکھا کہ ہمرے ہاں اتنا اسلحہ ہوگیا کہ اب اس کی کوئی کھپت نہ ہوئی تو یہ پڑا پڑا بےکار ہوگا اور ہمیں خسارہ اٹھانا پڑے گا فوراً کسی مسلک سے اسلحہ بیچنے کے لیے اس کو قرض کی پیش کش کردی اگر ایک ملک متوجہ نہ ہوا تو دوسرے کے ساتھ کاغذی معاہدہ کرلیا پھر اس کے ہمسایوں میں کھسرپھسر شروع ہوگئی تو ان پر بھی احسان کی ٹانگ رکھ دی۔ اس سودی کاروبار نے ہمارے سارے اسلامی ممالک کو اس مقام پر پہنچا دیا اور اس وقت تقریباً سب دیوالیہ ہیں اور جو اپنے پاؤں پر کھڑے تھے ان کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑا کر اور ان کو اسلحہ دے کر کنگال کردیا حتیٰ کہ آہستہ آہستہ ان کے وسائل پر قبضہ کر کے ان کی حفاظت کے ٹھیکہ دار بن گئے۔ اسلام نے جہاں ایک طرف جنگ کو تسلیم کیا ہے خصوصاً ان حالات میں جب ایک قوم کو تباہ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہو تو اسے نہایت ضروری قرار دیا ہے تو دوسری طرف ان موجبات جنگ کو جو بلا ضرورت جنگ جاری رکھنے کا موجب ہو سکتے ہیں دور یا کم کرنے کی پوری پوری کوشش کی ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جب بھی جنگ لڑی ہے دفاعی جنگ لڑی ہے ملک گیری کی ہوس میں ایک جنگ بھی نہیں لڑی گئی اور مخالفین نے جو بھی جنگ بھی لڑی ہے صرف ملک گیری کی ہوس میں لڑی ہے۔ اب مسلمانوں کو مل کر دنیا کے ان و ڈیرے مہاجنوں کے خلاف جنگ لڑنے کی ضرورت شدید نظر آرہی ہے اور یہ اس دفاع میں لڑی جانی چاہیے تاکہ ان کے چنگل سے قوم مسلم نجات حاصل کرے اور ان کی اپنی بھڑکائی ہوئی آگ ان کو بھسم کر کے رکھء دے۔ آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں ہر حال میں اس کا علاج یہی ہے اور یہی ہوگا وقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اس کے لیے کون سا مقرر کیا گیا ہے ؟ حرمت سود کا صرف دو موقعوں پر ذکر کیا گیا ہے ایک اس جگہ جہاں انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر کیا ہے اور دوسری وہ جگہ جہاں جنگوں کا ذکر کیا گیا ہے اس لیے کہ سود ایک طرف انفاق فی سبیل اللہ کے جذبہ سے روکتا ہے اور دوسری طرف جنگ بھڑکانے کے لیے نئے نئے طریقے سجھاتا ہے اور اسلام ایک طرف انفاق فی سبیل اللہ پر زور دیتا ہے اور اس میں یہ حکمت سکھاتا ہے کہ اس طرح اموال بڑھتے ہیں کم نہیں ہوتے اور قوم میں خوشحالی آتی ہے اور اس کی تنگی دور ہوتی ہے اور سود سے اموال کم ہوتے ہیں اس لیے کہ وہ پوری قوم سے سمٹ کر چند افراد کے ہاتھوں میں جمع ہوجاتے ہیں جس سے قومی خوشحالی کو اور قوم دن بدن بدحالی کی طرف بڑھنے لگتی ہے اور جن ہاتھوں میں دولت سمجٹ کر رہ جاتی ہے وہ اس دولت سے جنگ کے جھونکے تیز کردیتے ہیں تاکہ ان کے سود پر قرض دینے کی راہیں نکلتی رہیں اور اس طرح پوری قوم کا امن برباد ہوجاتا ہے اور پھر انجام کار وہ وقت آجاتا ہے کہ یہ جنگ بھڑکانے والے خود اپنی ہی بھڑکائی ہوئی آگ کی نذر ہوجاتے ہیں۔ اس طرح نہ بانس رہتا ہے نہ بانسری بجتی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة بقرہ کی آیت 275 تا 281 کا مطالعہ کریں۔
Ayah 3:131

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اور اس آگ کے عذاب سے ڈرو جو منکرین حق کیلئے تیار کی گئی ہے

آگ کا عذاب ان ہی کے لیے ہے جو حق کا انکار کرتے ہیں : 245: بلاشبہ جہنم کی آگ اصولاً ان ہی لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو حق سے انکاری ہیں اور اگر تم نے وہ اعمال شروع کردیے جو کافروں کے اعمال ہیں تو پھر ظاہر ہے کہ تم بھی اس کی لپیٹ میں آجاؤ گے۔ گویا یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہوئی جو سود خوری کو چھوڑنے کے لیے اتیار نہیں بلکہ اس کے جواز کے فتوے صادر کرتے ہیں جس کا صف صاف مطلب یہ ہوا کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام اور اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حلال نہیں سمجھتے وہ گویا عذاب الٰہی کو خود دعوت دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ایک چیز اپنی جگہ پر قائم بھی رہے تو دوسری اس کی طرف بڑھتی ہی رہے تو ملاقات یقینی ہے۔ اس طرح گویا اللہ کا عذاب ان کی طرف نہیں بڑھتا بلکہ یہ کم بخت خود عذاب الٰہی کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور پھر انجام اس کا واضح ہے۔
Ayah 3:132

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرو تاکہ رحمت الٰہی کے مستحق ہوجاؤ

اطاعت رسول ﷺ ہی رحمت کا باعث ہے : اس آیت نے رحمت الٰہی کے حصول کا ذریعہ انسانوں پر واضح کردیا اور صدر اول کے مسلمانوں کی کامیابیوں نے اس پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ قرآن کریم کی اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات سے جس طرح یہ ثابت ہوگیا کہ رحمت الٰہی کے حاصل کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری لازمی و جروری ہے اسی طرح خود نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں جن لوگوں نے آپ ﷺ کی صحیح معنوں میں فرمنابرداری کی ان کو بام عروج پر پہنچا کر دنیا پر یہ بات عملاً ثابت کردی گئی اور پھر مسلمان کہلانے والوں نے بھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو چھوڑ دیا تو اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ ان کو اسی بام عروج سے اٹھا کر قر مذلت میں گرا دیا اب اگر مسلمان دنیا میں اٹھ سکتے ہیں تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہی سے اٹھ سکتے ہیں۔ فی زماننا جب مسلمانوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی بجائے کی اطاعت کا جوا اپنی گردنوں پر رکھ لیا اور آنکھیں بند کر کے اپنے علماء اور پیروں اور وڈیروں کے پیچھے لگ گئے اور پھر کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہنے کے باوجود رسول ﷺ کی اطاعت کے جوئے کو گردنوں سے مستقل اتار دینا چاہتے ہیں اور اللہ کی اطاعت کے ساتھ رسول ﷺ کی اطاعت کو شامل کرنے کو شرک قرار دیتے ہیں۔ شاید انہوں نے اطاعت کا مفہوم سمجھنے میں غلطی کھائی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت نہیں سمجھا حالانکہ رسول ﷺ کی اطاعت ہی دراصل اللہ کی اطاعت ہے اور اسی لیے اولاوالامر کی اطاعت کا جب حکم دیا تو اس کو مشروط کردیا کہ ان کی اطاعت اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب ان کا حکم اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف نہ ہو اگر خلاف ہوا تو ان کی اطاعت نہیں ہوگی اس کی وضاحت سورة النساء میں ہوگی۔ ان شاء اللہ ! پھر جب حکم یہ ہوا کہ مَنْ یُّطِیعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ کہ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور یہ بات ویسے بھی حق ہوئی کہ اگر رسول کی اطاعت نہ کی جائے تو اللہ کی اطاعت ممکن ہی نہیں۔ پھر یاد رکھنے کی بات تو یہ تھی کہ قرآن کریم کو اللہ کی کتاب ماننے اور تسلیم کرنے کے لیے ضروری ہوا کہ رسول کی بات مانی جائے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اگر رسول کی بات ماننا ضروری نہ ہوا تو قرآن کریم کو اللہ کی کتاب کیسے مان لیا جائے گا۔ ہم تو یقینا قرآن کریم کو اس لیے اللہ کی کتاب مانتے ہیں کہ اللہ کے رسول محمد ﷺ نے یہ فرمایا : اگر رسول کی حیثیت کو ختم کردیا جائے تو دین کی کوئی بات بھی باقی نہیں رہتی بلکہ پورے دین کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔
Ayah 3:133

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

اپنے رب کی بخشائش کی طرف تیزگام ہوجاؤ اور اس جنت کی طرف بھی جس کے پھیلاؤ کا یہ حال ہے کہ تمام آسمان و زمین کی چوڑائی ایک طرف اور اس کا پھیلاؤ ایک طرف جو پرہیزگار انسانوں کے لیے تیار کی گئی ہے

بھلائیوں کی طرف دوڑو کہ بھلائی ہی جنت تک پہنچنے کا ذریعہ ہے : 246: جنت کیا ہے ؟ انعام الٰہی۔ ظاہر ہے کہ انعام کسی کام کے صلہ میں ہی دیا جاتا ہے۔ جس کام کے صلہ کا یہ انعام ہے وہ کام کیا ہوگا ؟ وہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری جس کا پچھلی آیت میں ذکر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ” الی الاسلام “ اور حضرت عکرمہ نے فرمایا ” الی التوبۃ “ اور حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” ادائے فرض “ اور مفہوم سب کا ایک ہی ہے۔ کیونکہ سب کی مراد تو یہی ہے کہ ” اعمال صالحہ “ جن سے گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے اور رحمت کے سائے میں پہنچنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ پھر سب کا ماحصل کیا ہوا ؟ وہی رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سات امور سے پہلے اچھے اعمال کرلو۔ وہ سات امور ہیں۔ 1۔ ایسا اخ (رح) اص ہے جو ہرچیز کو فراموش کردینے والا ہے۔ 2۔ ایسی مالداری جو سرکش بنا دینے والی ہو۔ 3۔ ایسی بیماری جو نظام صحت کو بگاڑ دینے والی ہو۔ 4۔ ایسا بڑھاپا جو چب کچھ جاننے کے بعد کچھ نہ جاننے والا کر دے۔ 5۔ اچانک آجانے والی موت جو چلتے پھرتے انسان کو دبوچ لے۔ 6۔ قیامت کہ وہ عظیم ترین مصیبت ہے اور نہایت ہی تلخ چیز یا فرمایا کہ دجال ہے جو بدترین انتظار کی چیز ہے۔ ” جنت کا پھیلاؤ آسمانوں اور زمین کے پھیلاؤ کے برابر ہے۔ “ گویا یہ کلام تمثیل ہے حقیقت مراد نہیں۔ چونکہ انسانی ذہن میں زمین و آسمان کی وسعت بہت زیادہ ہے اس لیے جنت کا پھیلاؤ ان کے ساتھ تشبیہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جس طرح دوسری جگہ اس طرح تشبیہ دی کہ ” خَالِدِیْنَ فِیْھَا مَادَامَتِ السَّمٰوٰاتُ وَالْاَرْضُ “ یہ جنت میں گویا رہنے کی تشبیہ ہے جو دوام سکونت پر دال ہے۔ اور یہ بھی عام انسانوں کی نظر مں آسمان و زمین سے زیادہ کسی چیز کی مدت کا بقاء نہیں ہے۔ اسی طرح انسانوں کے خیالات کے مطابق اس جگہ بھی تشبیہ دی گئی ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے کسی نے پوچھا کہ جنت آسمانوں میں ہے یا زمین میں فرمایا کس زمین و آسمان میں جنت کی سمائی ہو سکتی ہے ؟ مطلب یہ کہ اس کا عرض آسمانوں و زمین سے بہت زیادہ ہے اور پھر جو وسعت بھی بیان ہوگی خیالی ہوگی۔ جنت کیوں ہے ؟ فرمایا وہ کامل متقی لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے اور کامل متقی وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی چیز سے وابستگی نہیں رکھتے اور جو کچھ کرتے ہیں اس میں اصل مطلوب ان کو اللہ تعالیٰ کی رضا ہوتی ہے۔ جن متقین کے لیے جنت تیار کی گئی ہے اب ان کی نشاندہی فرمائی جا رہی ہے تاکہ متقی بننے کے لیے انہی نشانات راہ پر چلنا آسان ہوجائے۔
Ayah 3:134

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

وہ خوشحال و تندرست ہوں یا بیمار و بدحال ، اپنی بساط کے مطابق اللہ کی رضا کیلئے خرچ کرتے ہیں ، غصہ [ میں آ کر بےقابو نہیں ہوجاتے ، لوگوں کے قصور معاف کردیتے ہیں اور اللہ ایسے ہی نیک کرداروں کو دوست رکھتا ہے

وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے فی سبیل اللہ مال خرچ کرتے ہیں : 247: ان متقی انسانوں کا پہلا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ وہ جس حال میں بھی ہوں تنگ دست ہوں یا خوشحال وہ اپنی بساط کے مطابق خرچ کرتے ہیں اس خرچ کرنے سے ان کی مراد کسی دوسرے کی خوشنودگی ہرگز نہیں ہوتی بلکہ ان کا اصل مطلوب رضائے الٰہی ہوتا ہے۔ ہاں ! رضائے الٰہی کو حاصل کرنے والے سخی لوگ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا کہ ” سخی اللہ سے قرب رکھنے والا ہے۔ جنت سے قرب رکھنے والا ہے۔ لوگوں سے قرب رکھنے والا ہے۔ اور دوزخ سے دور رہنے والا ہے اور کنجوس اللہ سے دور رہنے والا ہے۔ لوگوں سے دور رہنے والا اور دوزخ کے قریب رہنے والا ہے اور جاہل سخی اللہ کے نزدیک بخیل عابد سے بہتر ہے۔ “ اور اس طرح کے اور ارشادات بھی آپ ﷺ کے موجود ہیں۔ چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ : ” سخاوت جنت کے درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کی شاخیں دنیا میں لٹکی ہوئی ہیں جو شخص ان ٹیواوں میں سے کسی ٹہنی کو پکڑ لے گا وہ ٹہنی اس کو جنت کی طرف کھینچ کرلے جائے گی اور کنجوسی دوزخ کے درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کی شاخیں دنیا میں لٹکی ہوئی ہیں جو شخص ان ٹہنیوں میں سے کوئی ٹہنی پکڑ لے وہ ٹہنی اس کو کھینچ کر دوزخ کی طرف لے جائے گی۔ یہ روایت دارقطنی اور بیہقی میں بیان ہوئی ہے اس کے راوی علی ؓ و ابن عدی ؓ اور ابن سعید ؓ ہیں۔ ابن عساکر میں حضرت انس ؓ سے بیان کی گئی ہے اور الدیلمی مسند الفردوس میں معاویہ ؓ سے بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک درہم ایک لاکھ سے بازی لے گیا۔ ایک شخص نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ! یہ کیسے ہوگیا ؟ فرمایا ایک آدمی ہو جو بہت ہی بڑا مالدار ہو اور اپنے مال میں سے وہ ایک لاکھ درہم خیرات کر دے اور ایک دوسر آدمی جس کے پاس صرف دو درہم ہیں اور وہ ان دو درہموں میں سے ایک درہم خیرات کر دے تو اس کا ایک درہم پہلے کے ایک لاکھ سے بہتر ہوگا۔ یہ روایت نسائی اور ابن خزیمہ میں بیان کی گئی ہے۔ (کیونکہ ایک درہم خرچ کرنے والے نے آدھا مال خرچ کردیا) ۔ وہ غصہ میں بےقابو نہیں ہوتے اور لوگوں کے قصور معاف کردیتے ہیں : 248: ان متقین کی دوسری نشانی آیت زیر نظر میں یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ ” وہ سخت غصہ کو پی جانے والے ہیں “ کسی مشک کو پانی کے ساتھ بھر کر اس کا منہ بند کردینا تاکہ اس سے پانی نکلنے نہ پائے۔ گویا یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کو اللہ کی راہ میں اتنا تنگ کیا گیا کہ تنگ کرنے والے تنگ کر کے تھک گئے لیکن انہوں نے اپنے سارے غصہ کو اندر ہی اندر بند کردیا۔ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ اپنی اس تنگی کو اس لیے نہیں برداشت کرتے کہ وہ اس کا جواب دے سکتے بلکہ محض اس لیے برداشت کرتے ہیں کہ اللہ کی رضا ان کو مطلوب تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے سخت غصہ کو روک لیا باوجودیکہ اس کو اس کے بدلے کی قدرت تھی اللہ تعالیٰ اس کے دل کو امن وامان سے بھر دے گا۔ یہ حدیث احمد اور عبدالرزاق میں بیان کی گئی۔ حضرت انس ؓ نے کہا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ” جو شخص غصہ کو پی گیا باوجود اس کے اپنا غصہ نکالنے کا اس کو قابو تھا۔ قیامت کے روز ساری مخلوق کے سامنے اللہ تعالیٰ اس کو بلائے گا اور اس کو اختیار دے گا کہ اس کے عوض جو تیری رضا ہو وہ لے لے۔ “ فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے ہی محسنین کو پسند کرتا ہے۔ محسنین کون ہیں ؟ وہی جو متقین ہیں جن کا ذکر اوپر بیان ہوا۔ سفیان ثوری ؓ نے فرمایا کہ برائی کرنے والے سے نیکی کرنا احسان ہے اور بھلائی کا بدلہ بھلائی ہے اور اس طرح کی بھلائی گویا تجارت ہے۔ شیخین نے صحیحین میں حضرت عمر ؓ کی روایت سے نقل کیا کہ جب حضرت جبریل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ سے احسان کی تشریح پوچھی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” احسان یہ ہے کہ تم اپنے رب کی عبادت اس طرح کرو جیسے تم اس کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم اس کا تصور نہ کرسکو تو یہ خیال رکھو کہ وہ یقینا تم کو دیکھتا ہے۔ “ اور تنگی اور فراخی میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف لینا ہی نہیں جانتے بلکہ دینا بھی جانتے ہیں گویا ان کے دل دنیوی سر و سامان سے وابستہ نہیں ہوتے۔ دیکھو سیدنا یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) سے کیا سلوک کیا ؟ کسی سے یہ واقعہ پوشیدہ ہے ؟ لیکن سیدنا یوسف (علیہ السلام) نے اس غصہ کو کس طرح پی کر دنیا کو بتا دیا کہ مشیت ایزدی کے مطابق جو شخص جو عمل کرتا ہے اس کا نتیجہ وہ پا لیتا ہے بھائیوں نے جب مصر میں یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا اور جب یہ بات ان پر واضح ہوگئی کہ یہ وہی یوسف ہے جس کے متعلق ہم یہ بیان دے چکے ہیں کہ اس کو بھیڑیا کھا گیا تو انہوں نے اپنی خطا کو تسلیم کرلیا جب کہ یوسف (علیہ السلام) نے ان کو محسوس ہی نہیں کرایا تھا تو یہ احساس فرماتے ہوئے کہ بھائیوں نے اپنی زیادتی کا خودبخود اقرار کرلیا ہے آپ (علیہ السلام) نے خود ارشاد فرمایا : ” لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمُ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ “ آج تم پر کوئی گرفت نہیں ، اللہ تم کو معاف فرمائے۔ “ اور اس سے زیادہ کچھ نہیں فرمایا۔ پھر یوسف (علیہ السلام) کے والد بزرگوار سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کو جو دکھ بیٹوں نے پہنچایا جس کے نتیجہ میں مدت تک یعقوب (علیہ السلام) پریشان حال رہے جب یہ معلوم ہوگیا کہ میرا بیٹا مصر میں بخیریت ہے اور وہ بشاء اللہ اس وقت مصر کا بادشاہ ہے اور بیٹوں کو یہ نہیں فرمایا کہ تم ایسے ویسے ہو اور کسی غصہ کا اظہار نہیں فرمایا پھر جب بیٹوں نے اپنے جرم کی معافی کا مطالبہ کیا تو اس کے جواب میں کچھ نہیں فرمایا بلکہ فرمایا تو یہی کہ ” سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّیْ “ عنقریب میں اپنے رب سے تمہارے لیے بخشش طلب کروں گا۔ قرآن کریم کے یہ واقعات تو درس دیتے ہیں کہ معاف کردینے سے زیادہ کوئی نیکی نہیں ہے۔ پھر قرآن کریم کی صرف ایک آیت کو یاد رکھا جائے تو ساری تشنگی خودبخود ختم ہوجاتی ہے کیونکہ اس حکیم کل سے زیادہ کون بات کو اچھا سمجھا سکے گا چناچہ فرمایا کہ : قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰہِ لِیَجْزِیَ قَوْمًا بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ (الجاثیہ : 14:45) ” اے پیغمبر اسلام ! ایمان لانے والوں سے کہہ دو کہ جو لوگ اللہ کی طرف سے برے دن آنے کا کوئی اندیشہ نہیں رکھتے ان کی حرکتوں پر درگزر سے کام لیں تاکہ اللہ تعالیٰ خود ایک گروہ کو اس کی کمائی کا بدلہ دے۔ “ ظاہر ہے کہ اس جگہ ” اَیَّامِ اللّٰہِ “ سے مراد کسی قوم کے وہ برے دن ہیں جب اللہ کا غضب اس پر ٹوٹ پڑے اور اپنے کرتوتوں کی پاداش میں وہ تباہ کر کے رکھ دی جائے۔ یعنی جن لوگوں کو یہ خیال نہیں ہے کہ کبھی وہ دن بھی آئے گا جب ہمارے ان افعال پر ہماری شامت آئے گی اور اسی غفلت نے ان کو ظلم و ستم پر دلیر کردیا ہے۔ پھر اس آیت کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں اور آیت کے معنوں میں دونوں معنوں کی گنجائش ہے۔ ایک یہ کہ اہل ایمان اس ظالم گروہ کی زیادتیوں پر درگزر سے کام لیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو یعنی درگزر کرنے والوں کو اپنی طرف سے ان کے صبر و حلم اور ان کی شرافت کی جزا دے اور راہ خدا میں جو اذیتیں انہوں نے برداشت کی ہیں ان کا اجر ان کو عطا فرمائے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان اس گروہ سے درگزر کریں تاکہ اللہ تعالیٰ خود اس کی زیادتیوں کا بدلہ اسے دے۔ لیکن افسوس کہ بعض لوگوں نے اس آیت کو منسوخ قرار دے کر قرآن کریم کی اس آیت کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کی ہے۔ آیت کے الفاظ پر غور کرنے سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ نسخ کا یہ دعویٰ بالکل لغو ہے۔ ” درگزر کریں۔ معاف کردیں یا بخش دیں “ کے الفاظ اس معنی میں کبھی نہیں بولے جاتے کہ جب آدمی کسی کی زیادتیوں کا بدلہ لینے پر قادر ہی نہ ہو تو اس سے درگزر کرے ، معاف کر دے یا بخش دے۔ آیت میں لفظ ” یَغْفِرُوْا “ استعمال ہوا ہے تو اس سے خودبخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اہل ایمان انتقام کی طاقت و قوت رکھنے کے باوجود ان لوگوں کی زیادتیوں کا جواب دینے سے پرہیز کریں جنہیں خدا سے بےخوفی نے اخلاق و آدمیت کی حدیں توڑ ڈالنے پر جری کردیا ہے۔ اس حکم کا کوئی تعارض ان آیات سے نہیں ہے جن میں مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی گئی ہے۔ جنگ کی اجازت کا تعلق اس حالت سے ہے جب مسلمانوں کی حکومت کسی کافر قوم کے خلاف باقاعدہ کاروائی کرنے کی کوئی معقول وجہ پائے اور عفو و درگزر کرنے کا حکم ان عام حالا تکے لیے ہے جن میں اہل ایمان کو خدا سے بےخوف لوگوں کے ساتھ کسی نہ کسی طرح سے سابقہ پیش آئے اور وہ انہیں اپنی زبان و قلم اور اپنے برتاؤ سے طرح طرح کی اذیتیں دیں۔ اس حکم کا مقصود یہ ہے کہ مسلمان اپنے مقام بلند سے نیچے اتر کر ان پست اخلاق لوگوں سے الجھنے اور جھگڑنے اور ان کی ہر بیہودگی کا جواب دینے پر نہ اتر آئیں۔ جب تک کہ شرافت اور معقولیت کے ساتھ کسی الزام یا اعتراض کا جواب دینا یا کسی زیادتی کی مدافعت کرنا ممکن ہو اس سے پرہیز کیا جائے مگر جہاں بات ان حدود سے گزرتی نظر آئے وہاں چپ سادھ لی جائے اور معاملہ اللہ کے سپرد کردیا جائے۔ مسلمان ان سے خود نہ الجھیں گے تو اللہ خود ظالموں سے نمٹے گا اور مظلونوں کو ان کے تحمل کا اجر عطا فرمائے گا۔ افسوس کہ آیت قرآنی سے ہمارے علمائے کرا ، ہمارے صوفیاء عظام اور ہمارے سیاست دان حضرات نے کیا سبق سیکھا ؟ کیا قرآن کریم کو پیٹھ پیچھے پھینک دینے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اس کے احکام کی پرواہ نہ کی جائے ؟
Ayah 3:135

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

نیز وہ لوگ کہ جب ان سے کوئی سخت برائی کی بات ہوجائے یا اپنی جانوں کو کسی مصیبت میں ڈال لیں تو فوراً اللہ کی یاد ان میں جاگ اٹھتی ہے وہ اپنے اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور جو کچھ ہوچکا ہے اس پر جان بوجھ کر اصرار نہیں کرتے اور انہیں یقین ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جو گناہوں کو بخشنے والا ہو ؟

اپنی برائی کو خود دیکھ کر اپنی ضمیر کو ملامت کرنے والے لوگ : 249: ” فَاحِشَۃٌ “ ایسا فعل یا قول جس کی قباحت بہت بھاری ہو اور ہر کوئی اس کی برائی کو محسوس کرے جیسے زنا یا متعلقات زنا یا متعلقات زنا اس طرح کی دوسری ناپاکیاں ایسی برائیاں جن کا اثر دوسروں پر بھی پڑے۔ ” ظَلَمُوْا اَنْفُسَھُم “ ایسے گناہ جن کا بداثر اگرچہ دوسروں پر نہ پڑے مگر اپنے آپ کو ان کا نقصان ہو۔ اس آیت سے پہلے جو نشانیاں متقین کی بیان فرمائی تھیں وہ تو نہایت ہی اعلیٰ درجہ کے متقین کی تھیں۔ ان درجات تک سب لوگوں کا پہنچنا بلاشبہ مشکل تھا اب اس آیت میں بھی متقین ہی کی نشانیاں بتائی گئی ہیں لیکن وہ متقین جو ان پہلے متقین سے کم درجہ کے متقین ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن سے کبھی کوئی ایسی بھاری لغزش بھی ہوجاتی ہے لیکن وہ جلد ہی اپنی کمزوری کو سمجھ جاتے ہیں اور اعتراف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنے لگتے ہیں اور جب کبھی اپنی جان پر کوئی ظلم کر بیٹھتے ہیں تو استغفار کرنے لگتے ہیں۔ ان سے کوئی برائی کا کام ہوجاتا ہے تو فوراً اس کے بعد نیکی کرنے کی جستجو کرتے ہیں یعنی جب بھی اور جو بھی لغزش ہوگئی تو اس کے بداثرات سے بچنے کی دعا کرتے ہیں اور آئندہ ایسے گناہ میں پڑنے سے بچنے کی دعا کرتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ اپنے قصوروں پر پختہ نہیں ہوتے اور یہ بھی کہ ایک قصور کو بار بار نہیں کرتے۔ گناہ کرنا اور گناہ ہوجانا دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ پھر جب گناہ ہوجائے تو اس پر ندامت یقینا انسانوں کے ہاں بھی وہ گناہ کو ہلکا کردیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں تو ایسا انسان مقبولین میں شمار ہوتا ہے۔ گناہ ہوجائے تو اس کا افشاء کرنا اور خود لوگوں کو فخریہ بتانا اس گناہ کو اور زیادہ بڑا اور مضبوط کردیتا ہے بلکہ اکثر اوقات یہ گناہ کرنے سے بھی بڑا گناہ ہے۔ اس آیت میں ان ہی لوگوں کا ذکر ہے جن سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو اس پر وہ نادم ہوتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں یعنی اللہ سے اپنے گناہ کی معافی طلب کرتے ہیں اور اس گناہ پر پردہ ڈالنے کی اپیل کرتے ہیں اور اپنے قصوروں کی بخشش طلب کرتے ہیں اور وہ اس بات کا بھی یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور نہیں ہے جو ہماری غلطیوں اور قصوروں کو معاف کر دے اور جو غلطی ان سے ہوجاتی ہے یا غلطی جس کو وہ کر بیٹھتے ہیں اس پر اصرار نہیں کرتے اور نہ ہی اس غلطی کی عادت کو پختہ کرتے ہیں۔ دوسری جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ : اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّھُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا ھُمْ مُّبْصِرُوْنَ وَ اِخْوَانُھُمْ یَمُدُّوْنَھُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ (الاعراف : 202:7) ” جو لوگ متقی ہیں ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انہیں چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہوجاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریق کار کیا ہے۔ رہے ان کے بھائی بند تو وہ انہیں ان کی کج روی میں کھینچے چلے جاتے ہیں اور انہیں بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ “ ایک جگہ ارشاد ہے کہ : وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْ بَعْدِھَا وَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ رَبَّکَ مِنْ بَعْدِھَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (الاعراف : 153:7) ” اور جن لوگوں نے برائیوں کے ارتکاب کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو بلاشبہ تمہارا پروردگار توبہ کے بعد بخش دینے والا اور رحمت والا ہے۔ “ وہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جو گناہوں کو بخشنے والا ہو : 250: متقی لوگ وہ ہیں جو یہ بھی جانتے اور سمجھتے ہیں کہ گناہوں کی معافی دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں خواہ وہ کوئی ہو یعنی وہ کسی نبی ، ولی ، فرشتہ اور جن کو گناہوں کا بخشنے والا تصور نہیں کرتے اور اس آیت میں خصوصاً رد ہے اس مسیحی عقیدے کا کہ گناہوں کی معافی مسیح (علیہ السلام) بلکہ اس کے ناکبوں کے اختیار میں ہے۔ چناچہ آج بھی انجیل میں موجود ہے کہ ” جس طرح باپ نے مجھے بھیجا ہے میں تمہیں بھیجتا ہوں اور یہ کہ ان پر پھونکا اور ان سے کہا کہ روح القدس کو لو ، جن کے گناہ تم بخشو ، ان کے بخشے گئے اور جن کے گناہ تم قائم رکھو ان کے قائم رکھے گئے۔ (یوحنا : 24 ۔ 21:20) اور دیکھو تم سے پہلے بھی دنیا میں دستور اور قانون رہ چکے ہیں۔ پس دنیا کی سیر کرو : حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی بندہ نے گناہ کیا پھر عرض کیا کہ اے میرے رب ! مجھ سے ایک گناہ ہوگیا ہے تو اسے معاف فرما دے۔ اللہ کہتا ہے کہ میرے بندہ نے جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہوں کو معاف کرتا ہے اور چاہے تو پکڑ بھی کرتا ہے۔ میں نے اپنے بندہ کا گناہ معاف کردیا۔ کچھ مدت کے بعد اس شخص نے پھر ایک گناہ کیا اور عرض کیا پروردگار ! مجھ سے ایک اور گناہ ہوگیا تو معاف فرما دے۔ اللہ نے فرمایا :ـ میرا وہ بندہ واقف ہے کہ اس کا ایک مالک ہے جو گناہ بخش دیتا ہے اور کبھی چاہے تو گرفت بھی کرلیتا ہے۔ میں نے اپنے بندہ کا گناہ بخش دیا۔ کچھ وقت کے بعد اس بندہ نے ایک اور گناہ کیا اور پھر عرض کی کہ اے میرے پروردگار ! مجھ سے ایک گناہ اور ہوگیا تو معاف فرما دے اللہ نے فرمایا : میرا بندہ سمجھتا ہے کہ اس کا ایک مالک ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گرفت بھی کرلیتا ہے تو میں نے اپنے بندہ کو بخش دیا۔ (رواہ بخاری و مسلم) ایک لحاظ سے یہ فطرت انسانی کا بیان ہے کہ انسان گناہ کرتا ہے پھر نادم ہوتا ہے پھر کرتا ہے پھر نادم ہوتا ہے اور اسی طرح جب تک اس کو ندامت ہوتی رہتی ہے اس کا گناہ معاف کردیا جاتا ہے اور سب برائیوں سے بڑی برائی اور سارے گناہوں سے بڑا گناہ یہ ہے کہ انسان سے جب گناہ ہوجائے تو پھر گناہ کرتا ہی جائے لیکن معافی کی طلب اس کے اندر پیدا ہی نہ ہو تو گویا وہ صرف گناہ گاری ہی نہ ہوا بلکہ دائرہ انسانیت سے بھی خارج ہوگیا اس لیے کہ وہ فطرت انسانی پر قائم نہ رہا۔
Ayah 3:136

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں کہ ان کے رب کی طرف سے ان کیلئے عفو و بخشش کا اجر ہے اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ انہی باغوں میں رہیں گے اور کتنا ہی اچھا بدلہ ہے جو اچھے کام کرنے والوں کے حصہ میں آئے گا

جس شخص نے جنت حاصل کرلی گویا وہ صحیح معنوں میں کامیاب ہوگیا : 251: اس طرح کے وہ سارے متقی لوگ ہیں جو صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور بخشش حاصل کرلیں گے اور اس انعام خداوندی کو جیت جائیں گے جس کے صلہ میں ان کو جنت الفردوس کا وارث بنا دیا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہ جنت کیا ہے ؟ وہ باغات ہیں جن میں ہر طرح کے پھل اور ہر طرح کی آسانیاں وہاں میسر ہوں گی۔ ” اُوْلٰٓئِکَ “ کا اشارہ صاف انہی لوگوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے کہ غلطیاں ، خطائیں اور لغزشیں بھی ان سے صادر ہوتی رہتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ وہ ان کی تلافی اور تدارک بھی کرتے رہتے ہیں بس انہی کے لیے یہ جنت کی نعمتیں بیان ہو رہی ہیں۔ فرمایا : ” دیکھو ! کتنا ہی اچھا بدلہ ہے جو اچھے کام کرنے والوں کے حصے میں آئے گا۔ “ ” عَامِلِیْنَ “ کے لفظی معنی تو صرف عمل کرنے والے کے ہیں لیکن نظم قرآنی میں اس سے مراد عمل صالح کرنے والے ہی مراد لیے جاتے ہیں۔ اور اچھے اعمال کی وضاحت اوپر آ چکی ہے۔