Ayah 3:137حق جھٹلانے والوں کا انجام نگاہ میں رکھو اور اپنا انجام سمجھ جاؤ :
252: ” سُنَنٌ “ سنۃ کی جمع ہے ، ” سنت “ طریقہ کو کہتے ہیں اور عرف اسلام میں رسول اللہ ﷺ کے دیے گئے احکام یا کیے گئے کاموں کو کہا جاتا ہے اس جگہ مطلب یہ ہے کہ تم سے پہلے بہت سی قومیں آئیں اور ان کے انبیاء نے ان کو اللہ کا پیغام پہنچایا لیکن بہت ہی کم تھے جنہوں نے اس پیغام کو قبول کیا اور بہت سے لوگوں نے انکار کردیا۔ کیا تم کو معلوم نہیں کہ اس کے متعلق انہوں نے کون کون سی راہیں اختیار کی ہیں اور کیا کیا طریقے اختیار کیے اور آخرکار ان کا انجام کیا ہوا ؟ یعنی امم سابقہ کی ہلاکت اور استیصال کے طریقے کیا تھے ؟
مختصر یہ کہ آیت زیر نظر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خبردار کردیا کہ خبردار ہوجاؤ اگر احد میں تم کو کچھ کو فت پہنچی ہے تو وہ تمہارے اپنے کیے کے نتیجے میں پہنچی ہے اور بجائے اس کے کہ تم اپنے کیے پر پچھتاؤ کہ ہم نے کیا کردیا اور اس کا افسوس کرو اگر تم نے ہمارے رسول ہی کا انکار کردیا تو پھر رسول کے انکار کرنے والوں کا انکام بھی اچھی طرح ذہن نشین کرلو۔ اس سے ایک طرف مسلمانوں کو خبردار کردیا اور دوسری طرف منافقین کے کان بھی کھول دیے کہ تم بھی اچین طرح غور کرلو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور رسول کبھی بھی ناکام نہیں ہوئے بلکہ ہمیشہ کامیاب ہی ہوئے اور ناکامی ہمیشہ مخالفین ہی کے حصے میں آئی۔ اگر تم کو اس بات میں کوئی شک ہے تو پچھلے مخالفین کا انجام دیکھ لو اور زمین میں چل پھر کر اچھی طرح اپنی تسلی کرلو۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) کے وقت سے شروع ہوجاؤ اور عیسیٰ (علیہ السلام) تک جتنے انبیاء کرام کی داستانوں سے تم واقف ہو ایک ایک کر کے اچھی طرح دیکھتے جاؤ کہ کون کامیاب ہوا اور کون ناکام ؟ پھر اگر کسی معاملہ میں تم کو ابہام ہے تو معلوم حاصل کرلو یقینا تم کو ہر جگہ یہی بات نظر آئے گی کہ کامیابی رسول ﷺ کے حصے میں آئی اور ناکامی مخالفنی کا مقدر بنی اور اب بھی وہی ہوگا جو پہلے ہوتا آیا۔ رہی یہ وقتی صورت حال تو یہ تمہارے اپنے عمل کا نتیجہ تھی اور تم کو بتا دیا گیا ہے کہ جو بھی غلط عمل کرتا ہے وہ اس کے نتیجہ سے دو چار ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص فضل تم پر کیا اور تمہیں ایک طرح کی ہزیمت دکھانے کے بعد پھر فتح مند کردیا اور تمہارے مخالفین فتح حاصل کرتے کرتے رہ گئے اور انجام کار بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔
ایک بار پھر سن لو کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے :
253: جیسے تم نے اعمال کیے ہیں ویسے ہی نتائج تم نے پا لیے اور آئندہ بھی تم کو یہ بات نہ بھولنا چاہیے کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ رسول کے حکم کی نافرمانی اتنا بڑا جرم ہے کہ اس سے بڑا کوئی اور جرم نہیں۔ پھر قومی کاموں میں یہ بھی قانون خداوندی ہے کہ کام ایک بگاڑتا ہے اور خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس لیے جن لوگوں کے ذمہ قومی کام لگائے جائیں ان کی سوچ اور ان کی فکر بہت بلند ہونی چاہیے اور یہ بھی کہ ان لوگوں کو اپنے ذاتی فوائد قومی فائدوں پر قربان کرنے چاہئیں اگر وہ ایسا نہ کریں تو وہ حقیقت میں قومی کام کرنے کے اہل نہیں ہوتے۔ جن لوگوں کو رسول اللہ ﷺ جبل عینین پر مقرر کیا تھا اور ان کی کمان عبداللہ بن جبیر کے ہاتھ میں دی تھی ان کو خصوصاً یہ ہدایت بھی کی گئی تھی کہ تم دوبارہ حکم ملنے تک یہیں رہو گے اور اس جگہ کو خالی نہیں چھوڑو گے۔ انہوں نے کیا کیا ؟ کہ فتح کی خبر سنتے ہی غنیمت لوٹنے میں مصرفو ہوگئے حالانکہ امیر نے بھی ان کو منع کیا۔ کفار میدان سے بھاگ رہے تھے کہ خالد بن ولید ؓ جو اس وقت کفار کے سپہ سالار تھے نے دیکھا کہ پیچھے سے وہ گھاٹی خالی ہے تو اس نے اچانک پلٹ کر اس طرف سے حملہ کردیا اور جو لوگ ابھی وہاں رہ گئے تھے ان کو قتل کر کے اسلامی لشکر پر پیچھے سے ٹوٹ پڑا جب کہ مسلمانوں کو اس طرف سے حملہ کی کوئی امید نہ تھی کیونکہ ان کے خیال میں یہ طرف بالکل محفوظ تھی۔ اس طرح اس حملہ نے مسلمانوں کے اوسان خطا کردیے اور ان گھاٹی پر مقرر کیے گئے لوگوں کی غلط عملی کا خمیازہ جو ان کو بھگتنا پڑا وہ بھگت گئے۔ اور ایک گزر جانے والے واقعہ پر جتنا افسوس کیا جائے وہ دوبارہ واپس نہیں آسکتا۔ آئندہ کے لیے اس سے عبرت حاصل کرتے رہنا چاہیے اور دوبارہ ایسی غلطی نہ کرنی چاہیے عقلمندی کا یہی تقاضا ہے۔
Ayah 3:138گزشتہ پر افسوس کرنے کی بجائے آئندہ کے لیے احتیاط ضروری ہے :
211: مطلب یہ ہے کہ اس واقعہ کی حقیقت کھول کھول کر ہم نے تمہارے سامنے رکھ دی ہے اور اس کا بیان تم کو بار بار اس لیے سنایا جا رہا ہے کہ آئندہ ایسی حرکت تم سے سرزد نہ ہو اور اس سے وہی لوگ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں جو بھلائی کی راہ چلنے کے لیے تیار ہوں اور گزشتہ پر افسوس کرنے کی بجائے آئندہ کے لیے احتیاط کرنے کی تلقین کو قبول کرنے والے ہوں۔ جب بھی کوئی بات کی جاتی ہے تو اس کو سب لوگ سنتے ہیں لیکن جب وقت آتا ہے تو وہ کام صرف انہی لوگوں کے آتی ہے جو اس کے مطابق عمل کرتے ہیں اور جو سنی اَن سنی کردیتے ہیں ان کے لیے وہ بات کبھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوتی۔ اس لیے جو ہدایات تم کو دی جا رہی ہیں اور آپ سب لوگ ان کو بگوش ہوش سن رہے ہو ان سے نصیحت وہی حاصل کرسکیں گے جو متقین یعنی ان ہدایات کے مطابق عمل کرنے والے ہوں گے۔
Ayah 3:139مومن کون ہے ؟ وہی جو نہ ہمت ہارے اور نہ دل چھوڑے :
255: ” یاد رکھو کہ نہ ہمت ہارو اور نہ غمگین ہو اور تم ہی سربلند ہو اگر تم سچے مومن ہو۔ “ انسان جو کچھ کھو دے اس پر غمگین ہو کر بیٹھ رہے اور جو کچھ مل جائے اس پر بغلیں بجانا شروع کر دے تو یہ ایک عقل مند اور سمجھ سوچ رکھنے والا آدمی نہیں ہو سکتا۔ غزوہ احد کا واقعہ پیچھے چلتا آ رہا ہے اور یہ بات پہلے معلوم ہوچکی ہے کہ اس جہاد میں مسلمانوں کی بعض کوتاہیوں کے سبب ابتدائی فتح کے بعد پھر مسلمانوں کو شکست ہوئی اس کے نتیجہ میں ستر صحابہ کرام ؓ شہید ہوئے اور نبی کریم ﷺ کو بھی زخم آئے مگر یہ سب کچھ ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جنگ کا پانسہ بدل دیا اور مسلمانوں کی شکست کو دوبارہ فتح میں تبدیل کردیا اور دشمن انجار کار پسپا ہوگئے۔
اس عارضی شکست کے تین اسباب تھے : 1۔ رسول اللہ ﷺ نے جبل عینین پر پچاس تیراندازوں کو کھڑا رہنے کا حکم دیا تھا اور ہدایت فرمائی تھی کہ تم لوگ اس جگہ کو نہ چھوڑنا حالات خواہ کچھ ہوں۔ لیکن جب پہلے ہی حملہ میں کفار کا لشکر پسپا ہوگیا اور مسلمان ان کو بھگانے میں کامیاب ہوگئے تو ان پچاس آدمیوں میں اختلاف رائے ہوگیا جس کے نتیجے میں چند صحابہ ؓ کے علاوہ باقی سب نے وہ جگہ چھوڑ دی اور غنیمت لوٹنے میں مصروف ہوگئے۔ کفار کے سپہ سالار نے پیچھے سے حملہ کر کے ان صحابہ کو قتل کیا اور باقی لشکر اسلام پر حملہ کردیا۔ اس سے حالات ایسے الجھے کہ کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا اور اس بھگدڑ میں رسول اللہ ﷺ بھی زخمی ہوگئے اور مشرکین نیت اس موقع سے فائدہ حاصل کرتے ہوئے آپ ﷺ کے قتل کی خبر مشہور کردی۔ 2۔ چناچہ دوسرا سبب یہی خبر ہوگئی۔ یہ بات آگ کی طرح پھیل گئی اور مسلمانوں کے اوسان بالکل خطا ہوگئے۔ 3۔ تیسرا سبب جو پہلے دونوں سے بھی بڑا تھا کہ آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل میں اختلاف پیش آیا۔ بس یہ تین لغزشیں ایسی تھیں جن سے مسلمانوں کو گویا عارضی طور شکست ہوئی۔ یہ عارضی شکست اگرچہ بعد میں جلد ہی فتح میں تبدیل ہوگئی تاہم کچھ مسلمان مجاہدین شہید ہوگئے اور بہت سے مجاہدین زخموں سے چور چور ہوگئے اور سب سے بڑھ کر اپنی لغزش کی ان کو بہت ندامت تھی اور اس سارے واقعہ کے جو اثرات مرتب ہونے والے تھے ان کے متعلق گہری سوچ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان ساری چیزوں کا مداوا اس آیت کریمہ سے کردیا۔ فرمایا کہ تم آئندہ کے لیے کمزوری اور سستی اپنے پاس نہ آنے دو اور گزشتہ پر رنج و ملال نہ کرو اور انجام کار تم ہی غالب ہو کر رہو گے بشرطیکہ ایمان و ایقان کے رستہ پر مستقیم رہو اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر پورا یقین رکھتے ہوئے اطاعت رسول ﷺ اور جہاد فی سبیل اللہ سے قدم پھے نہ ہٹاؤ ۔
مطلب بالکل صاف ہے کہ گزشتہ باتیں اور لغزشیں جو ہوچکی ہیں اس پر رنج و غم میں اپنا وقت اور توانائی صرف نہ کرو بلکہ مستقبل میں اپنے کام کی درستی کی فکر کرو اور اسے کامیاب بناؤ اور یاد رکھو کہ ایمان و ایان اور اطاعت رسول ﷺ ہی تمہارے درخشاں مستقبل کا ضامن ہے ان کو ہاتھ سے نہ جانے دو اور انجام کار تم ہی غالب رہو گے۔
Ayah 3:140آج جس دکھ میں تم مبتلا ہو کل دشمنوں کو بھی تم ایسے ہی دکھ میں مبتلا کرچکے ہو :
256: اس آیت میں ایک دوسرے انداز میں مسلمانوں کو تسلی کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اس لڑائی میں تم کو زخم پہنچایا تکلیف اٹھانی پڑی تو اس طرح کے حوادث تمہارے فریق مخالف کو بھی پیش آ چکے ہیں اگر احد میں تمہارے ستر آدمی شہید ہوئے ہیں اور بہت سے زخمی بھی تو ایک ہی سال پہلے تم ان کے ستر آدمی جہنم رسید کرچکے ہو اور بہت سے زخم بھی کھاچکے ہیں اور اس سے لڑائی میں بھی لڑائی شروع ہوتے ہی تمہارے ہاتھوں میں وہ قتل ہوچکے ہیں اور یہ بات بھی ہے کہ ہم ان ایام کو باری باری بدلتے رہتے ہیں جس میں بہت سی چیزیں پوشیدہ ہیں۔
اس دنیا کے متعلق قانون الٰہی یہی ہے کہ وہ سختی ، نرمی ، دکھ ، سکھ اور تکلیف و راحت کے دنوں کو لوگوں میں ادلتا بدلتا رہتا ہے۔ جس میں لوگوں کے اپنے اعمال کا بھی بہت کچھ دخل ہوتا ہے اور اعمال میں جس کا بھی عمل قانون الٰہی کے خلاف ہو اس کو ضرور سزا ملتی ہے کیونکہ ہر عمل کے ساتھ اس کا نتیجہ بھی وابستہ کردیا گیا ہے۔ اگر کسی وجہ سے کسی باطل قوت کو فتح و کامرانی ہوجائے تو جماعت حقہ کو اس سے بددل نہیں ہونا چاہیے بلکہ سبق حاصل کر کے اپنی اصلاح کرنی چاہیے اور اس سے انجام کار فتح جماعت حقہ ہی کو ہوگی۔
مصیبت کے وقت دوست و دشمن کی پہچان ہوجاتی ہے :
257: اگر دکھ اور تکالیف نوبت بہ نوبت آتی رہنے والی چیزیں ہیں تو اس کی غرض کیا ہے ؟ اور کیوں مسلمانوں کو جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں دکھ اور تکلیفیں پہنچیں ؟ پہلی بات کا جواب تو یہ ہے کہ مصیبت کا وقت ہی ایک ایسا وقت ہے جب دوست و دشمن کا پتہ چلتا ہے کہ کون دوست ہے اور کون دشمن ؟ مسلمانوں کی اس تکلیف نے بھی جو ان کو میدان احد میں پہنچی دوست و دشمن کو بالکل واضح کردیا۔ رہی یہ بات کہ مسلمانوں کو کیوں تکالیف پہنچیں ؟ اس لیے کہ ایمان لانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کے بعد اپنی مرضی کرتے رہیں اور صرف ایمان کے دعویٰ پر آزاد ہوجائیں اور کسی بات کے پابند نہ رہیں۔ بلکہ ایمان لانے کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ اب ہم آزاد نہیں رہے کہ اپنی مرضی سے جو چاہیں کرتے پھریں بلکہ ایمان کے دعویٰ نے تو ہم کو پابند کردیا ہے کہ اب ہماری اپنی کوئی مرضی نہیں رہی بلکہ اب ہماری مرضی وہی ہے جو اللہ کے رسول ﷺ کی مرضی جو وہ کہیں گے ہم کریں گے اور جس سے منع کریں گے اس کے قریب بھی نہیں جائیں گے۔
اس حکم میں غلطی ہوئی اور اس کا خمیازہ اٹھانا پڑا جس سے ہمارا ایمان پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہوگیا کہ یہ تکلیف محض اس لیے پہنچی کہ ہم نے حکم عدولی کی اب ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ہم حکم عدولی نہیں کریں گے اور یہ بھی کہ آج تک مسلم و منافق اکٹھے رہ رہے تھے کسی کو کسی کی کوئی پہچان نہ تھی اللہ تعالیٰ نے جنگ احد میں نکلنے کا حکم دے کر مسلم و منافق دونوں گروہوں کو الگ الگ کردیا۔ اب مسلمان اچھی طرح جان گئے اور ان کے چہروں سے یہ بات پہچان گئے کہ کون مسلم ہے اور کون منافق ہے ؟ پھر یہ بھی کہ اس کی پہچان میدان جنگ میں پہنچنے سے پہلے ہی کرا دی گئی۔ اس طرح جو پکے اور سچے مسلمان میدان جنگ میں اترے ان میں سے وہ لوگ جو جبل عینین پر مقرر کیے گئے تے ان کے عمل سے یہ بات بھی واضح کرا دی کہ قومی امور میں جب کوئی آدمی غلطی کرتا ہے تو اس کو صرف ایک فرد کی حیثیت سے سزا نہیں دی جاتی بلکہ پوری جماعت کو سزا دی جاتی ہے تاکہ کوئی جماعت جس انسان پر کوئی ذمہ داری ڈالے وہ اس کو قومی ذمہ داری کے لحاظ سے پورا کرے اور پھر جو کچھ کرے وہ قوم کے سامنے کا جواب دہ ہو اور ایک دنیا جان لے کہ کس نے غلطی کی ہے اور اس کو اس کی غلطی کی کیا سزا دی گئی اور یہ بھی کہ ہر غلطی زیادتی ہے خواہ وہ اپنی جان کے ساتھ ہو یا پوری قوم کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔
Ayah 3:141جنگ احد کے نتائج نے کھرے اور کھوٹے میں نکھار پیدا کردیا :
258: اس آیت میں مزید دو نتائج کی وضاحت فرما دی گئی فرمایا کہ اس سے جو تکلیف پہنچی وہ تو پہنچ ہی گئی لیکن اس واقعہ نے کھرے اور کھوٹے کو الگ الگ کردیا۔ یعنی مومنوں کی تمحیص ہوگئی جو ایمان کے مضبوط تھے ان کا اور جو کمزور تھے ان کا سب کو علم ہوگیا سب کو اپنی اپنی جگہ بھی اور ایک دوسرے کے متعلق بھی اور مخالفین کی بےبرکتی اور نقصان بھی واضح ہوگیا۔ پھر یہ بھی کہ جو تکلیف مومن کو پہنچتی ہے وہ اس کے ذنوب و عیوب سے تطہیر کا موجب ہو کر اس کی ترقی کا باعث ہوتی اس طرح تکلیف سے اس کا یہ فائدہ بھی ہوتا ہے اور کافر چونکہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا اس لیے اس کے لیے اس کی تکلیف کا نتیجہ ہمیشہ نقصان اور بےبرکتی سے ظاہر ہوتا ہے۔ چناچہ ایک انگریز مورخ لکھتا ہے کہ ” گو احد میں قریش فتح مند ہوگئے لیکن یہی عارضی فتح مندی ان کے مستقل زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ “ اس طرح کہ مصیبت مسلمانوں کے حق میں کیا ہوتی ہے ؟ فرمایا : اس کا نتیجہ مومنوں کے حق میں یہ نکلتا ہے کہ :
” ان کے لیے ان کے اس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کردیتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں پسند کیا ہے اور یہ بھی کہ ان کی موجودہ حالت خوف کو امن سے بدل دیتا ہے۔ “ (النور : 55:24) اور کفار کے حق میں اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ؟ فرمایا :
” اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہو کر رہ جائے۔ “ (الانفال : 8:8)
Ayah 3:142آزمائش کے وقت ثابت قدم رہنا ہی دعویٰ ایمان کی تصدیق ہے :
259: کیا تمہارا خیال ہے کہ خالی دعویٰ ایمان کے ساتھ ہی تم جنت میں داخل کردیے جاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی تک تو وہ وقت نہیں آیا وہ تمہاری آزمائش بھی کرلی جاتی یہ پہلا ہی موقع ہے کہ تمہاری ثابت قدمی کا امتحان ہو ا ہے۔ جس سے یہ بات روشن ہوچکی ہے کہ کون لوگ ہیں جو راہ حق میں پوری پوری کوشش کرنے والے ہیں اور اس طرح کی مشکلوں اور شدتوں کے وقت ثابت قدم رہنے والے ہیں۔ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ اللہ نے نہیں جانا یعنی اللہ نے ظاہر نہیں کیا۔ علم الٰہی میں جو کچھ اس کے ظاہر ہونے کا مطلب اور۔ علم الٰہی میں جو کچھ ہونا ہے سب موجود ہے لیکن علم الٰہی میں جو کچھ ہونا ہے اس کا اظہار تو اسی وقت ہی ہوگا جب وہ ہوجائے گا اور اظہار کا مطلب ہے دوسروں کو معلوم کرانا تاکہ سب کے علم میں اصل حقیقت آجائے جو پہلے علم الٰہی میں مستور تھی۔
چنانچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَکُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰھَدُوْا مِنْکُمْ وَلَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ لَا رَسُوْلِہٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ لِیْجَۃً وَ اللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ (التوبہ : 16:9) ” حالانکہ ابھی تو اللہ نے ظاہر کیا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے جاں فشانی کی اور اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو جگری دوست نہ بنایا جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ تو اس سے باخبر ہے۔ “ یہ خطاب ہے ان نئے لوگوں سے جو قریب کے زمانہ میں ایمان لائے تھے ان سے کہا جا رہا ہے کہ جب تم اس آزمائش سے گزر کر یہ ثابت نہ کر دو گے کہ واقعی تم خدا اور اس کے دین کو اپنی جان و مال اور اپنے بھائی بندوں سے بڑھ کر عزیز رکھتے ہو ، تم سچے مومن قرار نہیں دیے جاسکتے۔ اب تک تو تمہاری ظاہر پوزیشن یہ ہے کہ اسلام چونکہ مومنین صادقین اور سابقین الاولین کی جانفشانی سے غالب آگیا اور ملک پر چھا گیا اس لیے تم مسلمان ہوگئے۔
ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَ ھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ (العنکبوت : 3 ۔ 2:29) ” کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ بس وہ اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ” ہم ایمان لائے۔ “ اور ان کو آزمایا نہ جائیگا ؟ حالانکہ ہم ان سب لوگوں کی آزمائش کرچکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں اللہ کو یہ ضرور ظاہر کرنا ہے کہ سچے کون ہے اور جھوٹے کون ؟ “ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ (العنکبوت : 11:29) ” تاکہ ظاہر کر دے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور ظاہر کر دے منافقوں کو۔ “
وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ جس کا ترجمہ ہم نے کیا ہے ” اور تاکہ اللہ تم کو ظاہر کر دے۔ “ یعنی نمایاں کر دے۔ اور عام طور پر جو ترجمہ کیا جاتا ہے وہ ” تاکہ اللہ جان لے “ ایسا کیوں کہا گیا ؟ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تو سب کو جانتا ہی ہے اور یہ کہنا کہ پہلے جانتا نہیں تھا اب جان لے کسی حال میں صحیح و درست نہیں۔ لیکن جب تک ایک شخص کے اندر کسی چیز کی صرف صلاحیت اور استعداد ہوتی ہے عملاً اس کا ظہور نہیں ہوتا اس وقت تک ازروئے عدل و انصاف نہ تو وہ کسی جزاء کا مستحق ہو سکتا ہے نہ سزا کا۔ مثلاً ایک آدمی میں امین ہونے کی صلاحیت ہے اور ایک دوسرے آدمی میں خائن ہونے کی صلاحیت موجود ہے ان دونوں پر جب تک آزمائش نہ آئے اور ایک سے امانت داری کا اور دوسرے سے خیانت کا عملاً ظہور نہ ہوجائے یہ بات اللہ تعالیٰ کے انصاف سے بعید ہے کہ وہ محض اپنے علم کی بناء پر ایک کو امانت داری کا انعام دے دے اور دوسرے کو خیانت کی سزا دے ڈالے۔ اس لیے یہ وہ علم سابق جو اللہ تعالیٰ کو لوگوں کے اچھے اور برے اعمال سے پہلے ان کی صلاحیتوں کے بارے میں اور ان کے آئندہ طرز عمل کے بارے میں حاصل انصاف سے بعید ہے کہ وہ محض اپنے علم کی بناء پر ایک کو امانت داری کا انعام دے دے اور دوسرے کو خیانت کی سزا دے ڈالے۔ اس لیے یہ وہ علم سابق جو اللہ تعالیٰ کو لوگوں کے اچھے اور برے اعمال سے پہلے ان کی صلاحیتوں کے بارے میں اور ان کے آئندہ طرز عمل کے بارے میں حاصل ہے انصاف کی اغراض کے لیے کافی نہیں ہے۔ اللہ کے ہاں انصاف اس علم کی بنیاد پر نہیں ہوتا کہ فلاں شخص چوری کرے گا یا کرنے والا ہے بلکہ اس علم کے ظاہر کردینے پر ہوتا ہے کہ اس شخص نے چوری کر ڈالی۔ اس طرح بخششیں اور انعامات بھی اس کے ہاں اس علم کی بناء پر نہیں دیے جاتے کہ فلاں شخص اعلیٰ درجے کا مومن و مجاہد بن سکتا ہے یا بنے گا بلکہ اس علم کے ظاہر کردینے پر دیے جاتے ہیں کہ فلاں شخص نے اپنے عمل سے اپنا صادق ال ایمان ہونا ثابت کردیا ہے اور اللہ کی راہ میں جان لڑا کر دکھا دی ہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے ترجمہ ” ظاہر کر دے “ کیا ہے۔ یا ” نمایاں کردیا “ مزید وضاحت اور تسلی کے لیے عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة بقرہ کی آیت نمبر 214 کو دیکھیں۔
Ayah 3:143تمنا موت کی دو صورتیں اسلام میں جائز اور درست رکھی گئی ہے :
260: موت کی ایک تمنا جو اسلام نے جائز اور درست رکھی ہیں یہ ہے کہ انسان یہ خواہش رکھے کہ مجھے میدان جنگ میں شہادت نصیب ہو۔ اس نظریہ کے ساتھ جہاد میں شریک ہو اور جہاد کرتے ہوئے شہادت پا جاتے اور دوسرے موت کی تمنا یہ ہے کہ ایک آدمی قرآن و سنت سے اپنے مخالف کو دلائل دے اور اپنا موقف ثابت کر دے لیکن مخالف بضد ہو کر نہ تو اس کے دلائل کو تسلیم کرے اور نہ ہی اس کے دلائل کا شافی جواب دے۔ پھر اس طرح بات ختم ہونے کی طرف نہ آئے تو وہ اپنے مخالف کو دعوت مباہلہ دے دے جس میں اللہ تعالیٰ سے دعا طلب کی جائے کہ ہم دونوں میں جو جھوٹا ہے اس کو موت دے دے تو یہ دونوں صورتیں جائز ہیں حالانکہ ان میں موت کی تمنا کی گئی اور باقی کسی صورت میں بھی موت کی تمنا جائز نہیں خواہ انسان کسی دکھ اور مصیبت میں مبتلا ہوجائے۔
یہ لوگ بھی راہ حق میں شہادت پانے کے لیے دعائیں کرتے تھے یہ لوگ کون تھے ؟ ایک تو وہ تھے جو بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے اور بدر کی فتح کو دیکھ کر ان کو خیال آتا تھا کہ اگر ہم بھی شریک جنگ ہوتے تو ان فوائد کثیرہ سے تمتع ہوتے اس لیے وہ اکثر اس کی خواہش کرتے تھے کہ اب اگر جنگ ہوئی تو ہم جہاد کے لیے ضرور نکلیں گے حالات خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہوں۔ دوسرے وہ نوجوان تھے جو مدینہ کے اندر رہ کر لڑنے پر راضی نہ تھے بلکہ کھلے میدان میں لڑنا چاہتے تھے تاکہ مریں تو شہادت کی موت داد شہادت لیتے ہوئے ورنہ اپنے جوہر دکھائیں گے اور اس کے لیے میدان ہی بہتر مقام ہے۔
یہ دونوں طرح کے مسلمان جنگ احد میں شریک تھے۔ اس لیے ارشاد الٰہی ہوا کہ ” جب تک موت یعنی جہاد کا سامنا نہیں ہوا تھا تم راہ حق میں مرنے کی یعنی شہادت پانے کی آرزوئیں کیا کرتے تھے یعنی جہاد میں شریک ہونے کی آرزو رکھتے تھے اور یہ تمنا موت کی ایسی ہے جیسے ایک حدیث میں خود رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لوددت ان اقتل فی سبیل اللہ ثم احییٰ ثم اقتل ثم احییٰ ثم قتل ” میں اس بات سے محبت رکھتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کیا جاؤں۔ “ اس اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینے کی آرزو ساری آرزوؤں سے بہتر اور اچھی آرزو ہے۔
پھر جب وہ وقت آگیا کہ جہاد میں نکلنے کا بگل بجنے لگا تو تم میں سے کچھ لوگ ششدر رہ گئے :
261: پھر ایسا ہوا کہ جب تم نے یعنی تم میں سے بعض نے موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ یعنی جہاد سر پر آگیا۔ کیوں ؟ اس لیے کہ موت دکھائی دینے کی چیز نہیں اور نہ ہی آج تک کسی کو دکھائی دی۔ ہاں ! اسباب موت نظر آنے والی چیز ہیں اور وہ ہر ایک کو نظر آتے ہیں۔ جہاد بھی ایک موت کا سبب بہرحال ہے اس لیے موت کا سبب نظر آنا گویا موت ہی کا نظر آنا ہے اور پھر جب تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے وہ وقت آگیا تو گویا تم دیکھتے ہی رہ گئے مکہ میں جس موت کے تم طلبگار تھے وہ تمہیں آنکھوں کے سامنے آ کھڑی ہوئی اور تم ششدر ہو کر رہ گئے اور اس حالت کو قرآن کریم میں دوسری جگہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ :
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَھُمْ کُفُّوْٓا اَیْدِیَکُمْ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللّٰہِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَۃً وَقَالُوْا رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ لَوْ لَآ اَخَّرْتَنَآ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ وَ الْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰی وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا (النساء : 77:4) ” اے پیغمبر اسلام ! کیا تم نے ان لوگوں کی حالت پر نظر نہیں کی جنہیں حکم دیا گیا کہ جنگ و خونریزی سے ہاتھ روک لو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو پھر جب ایسا ہوا کہ ان پر لڑنا فرض کردیا گیا تو یکایک ایک گروہ نے انسانوں کے ڈر سے لگا اس طرح ڈرنے جیسے کوئی خدا سے ڈر رہا ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ ! اب بھی وہ کہتے ہیں کہ خدا ! تو نے ہم پر جنگ کرن کرنا کیوں فرض کردیا ؟ کیوں نہ ہمیں تھوڑے دنوں کی اور مہلت دے دی۔ اے پیغمبر اسلام ! تم ان سے کہہ دو کہ تم موت سے بھاگ رہے ہو اور دنیا کا سرمایہ تو بہت ہی تھوڑا ہے اور جو کوئی اللہ سے ڈرا تو اس کے لیے تو آخرت ہی کا سرمایہ بہت ہوا وہاں ذرا بھر بھی کسی کی حق تلفی ہونے والی نہیں۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْلاَ نُزِّلَتْ سُوْرَۃٌ فَاِِذَآ اُنزِلَتْ سُوْرَۃٌ مُّحْکَمَۃٌ وَّذُکِرَ فِیْہَا الْقِتَالُ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِِلَیْکَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ فَاَوْلٰی لَہُمْ (محمد : 20:47) ” اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی سورت کیوں نہیں نازل کی جاتی جس میں جنگ کرنے کا حکم دیا جائے مگر ایک محکم سورت نازل کردی گئی جس میں جنگ کی فرضیت کا ذکر تھا تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے تھے جیسے کسی پر موت چھا گئی ہو۔ افسوس ان کے حال پر۔ “
Ayah 3:144محمد ﷺ کیا ہیں ؟ اللہ کے ایک رسول ہیں :
262: جنگ احد میں کسی مخالفت نے یہ بات پکار دی تھی کہ پیغمبر اسلام ﷺ مارے گئے۔ یہ سن کر بہت سے مسلمانوں کے دل بیٹھ گئے۔ بعض مسلمانوں نے کہا کہ جب پیغمبر ہی نہ رہے تو اب لڑنے سے کیا فائدہ ؟ کچھ لوگ جو ایمان کے کمزور تھے یا ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ اگر وہ نبی ہوتے تو ممکن نہ تھا کہ جنگ میں مارے جاتے۔ یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا۔
” محمد “ حمد سے سے ہے اور یہ سب سے زیادہ مشہور اسم ہمارے نبی کریم ﷺ کا ہے جس کے معنی ہیں ” وہ جس کی قابل تعریف خصلتیں بہت ہی بڑھی ہوئی ہیں۔ “ آپ ﷺ کا نام محمد آپ ﷺ کا نام احمد رکھا اور اس کا برعکس بھی بیان کیا گیا ہے اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے یہ دونوں نام ہی اسم ذات تھے محمد بھی اور احمد بھی۔ قرآن کریم میں بھی رسول اللہ ﷺ کا اسم مبارک احمد آیا ہے اور اس طرح محمد بھی۔ احمد بطور پیش گوئی سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے اور محمد ﷺ خود اللہ کی طرف سے اور اوپر جملہ محمد رسول اللہ ﷺ بھی آیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خود بھی ارشاد فرمایا ہے کہ اَنَا مُحَمَّدُ وَاَنَا اَحْمَدُ میں محمد بھی ہوں اور احمد بھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھ سے قریش کی لعنت و ملامت اور گالی گلوچ کو پھیر دیا ہے وہ ایسے ہیں کہ مذمم کو گالیاں دیتے ہیں اور میں محمد ہوں مذمم نہیں۔
اس سے پہلے بھی کفار مکہ نے کئی بار یہ اعتراض کیا کہ یہ کیسا رسول ہے کہ خود بازاروں میں جاتا ہے سودا سلف خریدتا ہے۔ کھاتا ہے پیتا ہے اور اس کے ایسی ہی ساری ضروریات لگی ہیں جیسے ہم دوسرے انسانوں کے ساتھ۔ بھلا کبھی بشر بھی رسول ہو سکتا ہے ؟ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ : مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَلاَ بِکُمْ (الاحقاف : 9:46) ” ان سے کہو میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا۔ “
جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے آپ کو خدا کے رسول کی حتثی سے پیش کیا تو لوگ اس پر طرح طرح کی باتیں بنانے لگے وہ کہتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے جو بال بچے رکھتا ہے ، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ، کھاتا پیتا ہے اور ہم جیسے انسانوں کی طرح زندگی بسر کرتا ہے آخر اس میں وہ نرالی بات کیا ہے جس میں یہ عام انسانوں سے مختلف ہو اور ہم یہ سمجھیں کہ خاص طور پر اس شخص کو خدا نے اپنا رسول بنایا ہے پھر وہ کہتے تھے کہ اگر اس شخص کو خدا نے رسول بنایا ہوتا تو وہ اس کی اردلی میں کوئی فرشتہ بھیجتا جو اعلان کرتا کہ یہ خدا کا رسول ہے اور ہر اس شخص پر عذاب کا کوڑا برسا دیتا جو اس کی شان میں ذرا بھی گستاخی کرتا۔ یہ آخر کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا کسی کو اپنا رسول مقرر کرے اور پھر اسے یونہی مکہ کی گلیوں میں پھرنے اور ہر طرح کی زیادتیاں سہنے کے لیے بےسہارا چھوڑ دے اور کچھ نہیں تو کم از کم یہی ہوتا کہ خدا اپنے رسول کے لیے ایک شاندار محل اور ایک لہلہاتا ہوا باغ ہی پیدا کردیتا یہ تو نہ ہوتا کہ خدا اپنے رسول کے لیے ایک شاندار محل اور ایک لہلہاتا ہوا باغ ہی پیدا کردیتا یہ تو نہ ہوتا کہ اس کی بیوی کا مال جب ختم ہوجائے تو اسے فاقوں کی نوبت آجائے اور کسی جگہ جانے کے لیے اسے سواری تک میسر نہ آئے۔
مختصر یہ کہ ایسے موقعہ پر بھی لوگوں میں طرح طرح کی چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں اور جو جس کے منہ میں آتا وہ کہہ دیتا۔ لیکن اچانک رسول اللہ ﷺ اپنی بغل پر سوار ہو کر کہنے لگے ” انا النبی لا کذاب انا ابن عبدالمطلب “ میں نبی ہوں جھوٹا نہیں اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں اور یہ ارشاد فرمانے سے آپ ﷺ کا مطلب صرف یہ تھا کہ میں اللہ کا رسول بحمدللہ زندہ ہوں مرا نہیں اور میں نے بالکل سچ کہا کہ میدان ہمارے ہاتھ میں رہے گا۔ اور اسلام کو فتح نصیب ہوگی۔ آپ ﷺ کا یہ ارشاد فرمانا تھا کہ پورے کا پورا سماں ہی بدل گیا۔ مسلمان آپ ﷺ کے اردگرد جمع ہوگئے اور ایک بار پھر گھمسان کا رن پڑا مسلمانوں نے پورا زور لگا کر کفار مکہ کو دوبارہ پسپا کردیا اور دیر تک ان کا پیچھا کرتے گئے۔
رسول کا کام اللہ کا پیغام پہنچانا ہے اس کے لیے ہمیشہ زندہ رہنا نہیں :
263: محمد رسول اللہ ﷺ کوئی نئے رسول نہیں ہیں۔ وہ ایسے ہی رسول ہیں جیسا کہ رسول کے دوسرے رسول تھے۔ ظاہر ہے کہ انہیں ابھی ایک دن دنیا سے رخصت ہونا ہے جس طرح پچھلے تمام رسول دنیا سے رخصت ہوگئے پھر اگر وہ دنیا سے اٹھا لیے گئے جس طرح دوسرے رسول اٹھا لیے گئے ہیں تو کیا تم حق پرستی کی راہ سے پھر جاؤ گے ؟ کیا تمہاری حق پرستی حق کے لیے نہیں ہے ؟ بلکہ محض ایک خاص شخصیت کے لیے تھی ؟ فرض کرو کہ جنگ احد والی بات صحیح ہوتی تو پھر کیا ان کی موت کے ساتھ تمہاری خدا پرستی پر بھی موت طاری ہوجاتی ؟ اگر تم حق کے لیے لڑ رہے تھے تو جس طرح وہ آپ ﷺ کی زندگی میں حق تھا اسی طرح ان کی موت کے بعد بھی حق ہوتا اور ظاہر ہے کہ حق تو ہمیشہ رہے گا۔ نبی یقینا دنیا سے اٹھا لیا جائے گا لیکن نبوت رہتی دنیا تک جاری وساری رہے گی۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق تو بنائے کار اصول اور عقائد ہیں نہ کہ شخصیت اور افراد۔ کوئی شخصیت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو لیکن اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کسی اصل اور سچائی کی راہ دکھانے والی ہے۔ پس اگر کسی وجہ سے شخصیت ہم میں موجود نہ رہے یا درمیان سے ہٹ جائے تو ہم سچائی کی راہ سے کیوں منہ موڑ لیں یا ادائے فرض میں کیوں کوتاہی کریں ؟ سچائی کی وجہ سے شخصیت قبول کی جاتی ہے۔ یہ بات نہیں ہے کہ شخصیت کی وجہ سے سچائی سچائی ہوگئی ہے۔
کوئی رسول اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آیا اور نہ ہی یہ لازم ہے کہ کوئی رسول قتل نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ کے رسول قتگل ہوتے رہے اور لوگوں نے ان کو قتل کیا اور اس طرح آپ ﷺ سے پہلے جتنے رسول آئے وہ دنیا سے رخصت ہوگئے اور ایک روز آپ ﷺ کو بھی یقینا اٹھا لیا جائے گا۔ کیا رسول یعنی محمد رسول اللہ ﷺ دنیا سے اٹھا لیے جائیں تو تم بھی راہ حق سے پھر جاؤ گے ؟ اچھا اگر خدانخواستہ تم حق سے پھر ہی گئے تو اس سے اللہ کا کیا بگڑے گا ؟ ظاہر ہے کہ کچھ بھی نہیں ، جو کچھ بگڑے گا وہ حق سے پھرنے والوں ہی کا بگڑے گا۔ دوسرے جگہ ارشاد ہوا کہ :
وَمَا جَعَلْنَا لِبَشْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْد اَفَائِنْ مِّتَ فَھُمْ خَالِدُوْنَ ” اے پیغمبر اسلام ! ہمیشگی تو ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کے لیے نہیں رکھی ہے اگر تم مر گئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ جیتے رہیں گے ؟ “
گویا یہ جواب ہے ان ساری دھمکیوں ، بددعاؤں ، طعن وتشنیع اور قتل کی سازشوں کا جن سے نبی اعظم و آخر ﷺ کی تواضع کی جاتی تھی۔ ایک طرف اکابر قریش تھے جو آئے دن آپ ﷺ کو اس تبلیغ کے خوفناک نتائج کی دھمکیاں دیتے رہتے تھے اور ان میں سے بعض پرجوش مخالفین بیٹھ بیٹھ کر یہ تک سوچا کرتے تھے کہ کسی طرح آپ ﷺ کا کام تمام کردیں۔ دوسری طرف ہر وہ گھر جس کا کوئی فرد اسلام قبول کرلیتا تھا آپ ﷺ کا دشمن بن جاتا تھا۔ اس کی عورتیں آپ ﷺ کو کلپ کلپ کر کو سنے دیتی تھیں اور آپ ﷺ کے لیے بددعائیں مانگا کرتی تھیں اور ان کے مرد آپ ﷺ کو ڈراوے دیتے تھے۔ خصوصاً ہجرت حبشہ کے بعد تو مکہ بھر کے گھروں میں کہرام مچ گیا تھا کیونکہ مشکل ہی سے کوئی گھرانہ بچا رہ گیا ہوگا جس کے کسی لڑکے یا لڑکی نے ہجرت نہ کی ہو۔ یہ سب لوگ نبی کریم ﷺ کے نام دہائیاں دیتے تھے کہ اس شخص نے ہمارے گھر برباد کیے ہیں۔ انہی باتوں کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ نبی ﷺ کو بھی تلقین کی گئی ہے کہ تم ان کی پروا کیے بغیر بےخوف اپنا کام کیے جاؤ ۔
آپ ﷺ کی وفات کے بعد جو کچھ ہونا تھا وہ آپ ﷺ کی زندگی ہی میں کر کے دکھا دیا گیا :
264: اس میں گویا تنبیہ فرما دی کہ رسول اللہ ﷺ تو ایک نہ ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد بھی مسلمانوں کو اس دنیا میں دین پر ثابت قدم رہنا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اس عارضی شکست کے وقت نبی اعظم و آخر ﷺ کے زخمی ہونے اور وفات کی خبر مشہور ہونے میں یہ قدرتی راز بھی پوشیدہ تھا کہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد جو حالات صحابہ کرام ؓ پر پیش آسکتے تھے وہ آپ ﷺ کی دنیوی حیات ہی میں ظاہر کردیے گئے تاکہ ان میں جو لغزش ہو اس کی اصلاح خود نبی کریم ﷺ کی زبان اقدس سے ہوجائے اور آئندہ جب یہ واقعہ حقیقت میں پیش آجائے تو یہ فدایان رسول ﷺ ازجا رفتہ نہ ہوجائیں۔ چناچہ یہی ہوا کہ آپ ﷺ کے اٹھائے جانے کے بعد جب بڑے بڑے صحابہ کرام ؓ کے ہوش و حوس بجا نہ رہے تھے تو سیدنا صدیق اکبر ؓ نے اس آیت قرآنی کی سند لے کر ان کو سمجھایا اور وہ سب کے سب سنبھل گئے اور اس طرح وہ اپنے آپ پر قابو پا گئے۔ اور اس آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرما دیا کہ ایسے مشکل اوقات میں عقل و فکر کو ہاتھ سے رخصت نہ ہونے دینے والے لوگ ہی ” دراصل شکر گزار ہیں اور وہ وقت دور نہیں کہ اللہ انہیں ان کا اجر عطا فرما دے گا۔ “
اس آیت میں پیچھے ارشاد فرمایا ہے کہ ” وَمَنْ یَّنْقَلَِبُ عَلٰی عَقِیْبِہٖ فَلَنْ یَضُرُّ اللّٰہَ شَیْئًا ” اور جو کوئی راہ حق سے الٹے پاؤں پھرجائے گا وہ اللہ کا کیا بگاڑے گا ؟ “ جس کا مطلب بھی واضح ہے کہ جو شخص ایک حقیقت کو تسلیم نہ کرے تو اس کے ایسا کرنے سے اللہ کا کیا بگڑے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا تو کوئی بھی کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ آج بھی ان الفاظ پر ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو نت نئے عقیدے گھڑ کے یا دوسروں کے بنے بنائے عقیدوں پر جم چکے ہیں اور کسی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں وہ اس طرح کے عقداے رکھ کر اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ رہے اور نہ ہی اپنے خلاف عقیدہ رکھنے والوں کا کچھ بگڑ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی کے لیے جو قانون بنا دیا ہے وہ اپنی جگہ پر ان اٹل ہے۔ اس دنیا میں بڑی بڑی شخصیتیں آئیں اور پھر اپنے وقت پر چلی گئیں اللہ تعالیٰ کا نظام باقاعدگی سے چل رہا ہے کسی کے آنے جانے سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چناچہ دوسری جگہ قرآن کریم نے اس کی مزید وضاحت فرما دی ہے۔ فرمایا :
اِنْ یَّشَاْیُذْھِبْکُمْ اَیُّھَا النَّاسُ وَ یَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی ذٰلِکَ قَدِیْرًا (النساء : 133:4) ” لوگو ! اگر وہ چاہے تو تمہیں اس جگہ سے ہٹا دے اور تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے وہ بلاشبہ ایسا کرنے پر قادر ہے۔ “ ایک جگہ فرمایا :
اِنْ یَّشَاْ یُذْھِبْکُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ وَّ مَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ (الانعام : 133:6) ” اگر وہ چاہے تو تمہیں ہٹا دے اور تمہارے بعد جس گروہ کو چاہے تمہیں جانشین بنا دے جس طرح ایک دوسرے گروہ کی نسل سے تمہیں اٹھا کھڑا کیا ہے۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ وَ لَا تَضُرُّوْہُ شَیْئًا وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (التوبہ : 39:9)
” اگر تم قدم نہ اٹھاؤ گے تو یاد رکھو وہ تمہیں ایک ایسے عذاب میں ڈالے گا جو دردناک ہوگا اور تم اللہ کا کچھ بگاڑ نہیں سکو گے اور اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے۔ “ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِہٖٓ اِلَیْکُمْ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ وَ لَا تَضُرُّوْنَہٗ شَیْئًا اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ حَفِیْظٌ (ھود : 57:11) ” پھر اگر تم نے روگردانی کی تو جس بات کے لیے میں بھیجا گیا تھا وہ میں نے پہنچا دی اور میرا پروردگار کسی دوسرے گروہ کو تمہاری جگہ دے دے گا اور تم اس کا کچھ بگاڑ نہ سکو گے یقینا میرا پروردگار ہرچیز کا نگران حال ہے۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّھُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ (المائدہ : 54:5) ” مسلمانو ! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرجائے گا تو قریب ہے کہ اللہ ایک ایسا گروہ پیدا کر دے جنہیں اللہ دوست رکھتا ہو اور وہ بھی اللہ کو دوست رکھتے ہوں ، مومنوں کے لیے نہایت ہی نرم اور جھکے ہوئے لیکن دشمنوں کے مقابلہ میں نہایت سخت۔ اللہ کی راہ میں جان لڑا دینے والے اور کسی ملامت کرنے والی کی ملامت سے نہ ڈرنے والے ہوں گے۔ اور یہ تو اللہ کا فضل ہے جس گروہ کو چاہے عطا فرما دے اور وہ بڑی وسعت رکھنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ “
Ayah 3:145ہر ذی نفس کے لیے ایک میعاد مقرر کردی گئی ہے وہ اس میعاد سے پہلے نہیں مر سکتا :
265: اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ تم کو چاہیے کہ حوادث و مصائب کے وقت ثابت قدم رہو اور یاد رکھو کہ ہر انسان کی موت اللہ تعالیٰ کے نزدیک لکھی ہوئی ہے۔ اس کی تاریخ ، دن اور وقت معین ہے نہ اس سے پہلے کسی کو موت آسکتی ہے اور نہ ہی اس کے بعد وہ زندہ رہ سکتا ہے پھر کسی کی موت سے ایسے سراسیمہ ہوجانے کے کوئی معنی نہیں۔ چناچہ قرآن کریم میں دوری جگہ ارشاد فرمایا کہ :
قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَکُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِالْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا (الاحزاب : 16:33) ” اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ بھی نفع بخش نہ ہوگا کیونکہ اس کے بعد زندگی کے مزے لوٹنے کا تھوڑا ہی موقع تمہیں مل سکے گا۔ “ مطلب یہ ہے کہ اس فرار سے تمہاری عمر بڑھ نہیں جائے گی اور نہ اس کا نتیجہ کبھی یہ ہو سکتا ہے کہ قیامت تک تم جیتے رہو گے اور روئے زمین کی دولت پا لو گے۔ بھاگ کر جیو گے بھی تو اتنا ہی جتنا کہ تمہارے جینے کا وقت باقی ہے اور اس دنیا سے تم کو اتنا ہی حصہ ملنا ہے جتنا کہ تمہارے لیے مقدر ہے۔ ایک جگہ فرمایا کہ :
اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ (النساء : 78:4) ” تم کہیں بھی ہو موت تمہارا ٹھکانہ پا کر رہے گی اگر تم اونچے اور مضبوط قلعوں اندر چھپے ہو جب بھی اس کی پکڑ سے بچنے والے نہیں۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
قُلْ فَادْرَئُ وْا عَنْ اَنْفُسِکُمُ الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (آل عمران : 168:3) ” اے پیغمبر اسلام ! تم ان سے کہہ دو اچھا اگر تم واقعی اپنے اس خیال میں سچے ہو تو جب موت تمہارے سرہانے آ کھڑی ہو تو اسے نکال باہر کرنا۔ “
دنیا کے طلب گار کو دنیا اور آخرت کے طلب گار کو دنیا و آخرت مل جائے گی :
266: مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنے عمل سے دنیا ہی کا بدلہ چاہتا ہے ہم اس کو دنیا میں کچھ حصہ دے دیتے ہیں اور جو شخص آخرت کا ثواب چاہتا ہے تو اس کو آخرت کا ثواب بھی یقینا ملے گا اور ہم عنقریب شکر گزاروں کو بدلہ دیں گے۔ یہ گویا تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اس لیے کہ جن حضرات کو رسول اللہ ﷺ نے جبل عینین پر نگراں بنا کر کھڑا کیا تھا وہ ابتدائی فتح کے وقت ہی عام مسلمانوں کو مال غنیمت جمع کرنے میں مشغول دیکھ کر ان سے بھی اکثر کے دل میں یہ خیال پیدا ہوگیا کہ اب تو فتح ہوگئی اور اس جگہ ٹھہرنے کی ضرورت نہ رہی پھر ہم بھی مال غنیمت جمع کرنے میں کیوں حصہ نہ لیں ؟ وہ اپنی جگہ سے ہٹ گئے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ مال غیمت جمع کرنے کی فکر میں نبی کریم ﷺ کے مقرر کردہ کام کو چھوڑ بیٹھنے میں ان سے غلطی ہوئی۔ بلاشبہ حقیقت کے اعتبار سے مال غنیمت جمع کرنا بھی نرمی دنیا طلبی نہ تھی جو شرعاً مذموم ہے بلکہ غنیمت جمع کر کے محفوظ کرنا اور پھر اس کو اس کے مصرف میں خرچ کرنا بھی جزو جہاد ہے اس لیے عبادت ہے۔ ان صحابہ ؓ کا اس میں شریک ہونا صرف طمع دنیوی کی وجہ سے نہ تھا کیونکہ شرعی ضابطہ سے اگر وہ اس مال کو جمع کرنے میں شریک نہ ہوتے جب بھی ان کو مال غنیمت میں سے وہ حصہ ملتا جو ملنا تھا۔ اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان حضرات نے طمع دنیا کی خاطر اس مقام کو چھوڑا۔ اس مقام کو چھوڑنا اس لیے خطا تھی کہ ان کو تاکید کی گئی تھی کہ اس مقام کو نہ چھوڑنا لہٰذا دراصل ان کو اس نافرمانی کا گناہ ہوا جو بعد میں معاف بھی کردیا گیا اور اس سے جو کچھ پہنچنا مقدر تھا وہ بھی پہنچ گیا اور ویسے بھی یہ بات اپنی جگہ رست ہے کہ بڑوں کی تھوڑی لغزش بھی بڑی سمجھی جاتی ہے اس لیے ان کے اس معمولی جرم یا خطا کو بڑا سخت جرم قرار دیا گیا تاکہ امت مسلمہ کے دورے بڑے لوگ بھی متحاط رہیں اور یہاں بھی مال غنیمت جمع کرنے میں کچھ نہ کچھ دنیوی منفعت کا تعلق ضرور تھا اور اس تعلق کا طبعی اثر قلوب میں ہونا بھی مست بعد نہ تھا۔ صحابہ کرام ؓ کے معیار اخلاق کو بلند سے بلند کرنے کے لیے ان کے اس عمل کو بھی ارادہ دنیا سے تعبیر فرمایا گیا کہ طمع دنیا کا ادنیٰ سا غبار بھی ان کے قلوب تک نہ پہنچ سکے اور اس سے قوم کے بڑوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے کہ بڑوں کی معمولی لغزش سے قوم کا کتنا بڑا نقصان ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔ مزید وضاحت کے لیے عروۃ الوثقیٰ جلد اول تفسیر سورة بقرہ آیت 202 کا مطالعہ کریں۔
Ayah 3:146سابق انبیاء کرام کے ساتھ ہو کر بھی اللہ کی راہ میں لوگوں نے جہاد کیا :
247: اس سے گویا محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ اور امت کے دوسرے لوگوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ جہاد صرف تم لوگوں ہی پر فرض کیا گیا بلکہ پہلی امتوں میں بھی یہ ضروری قرار دیا گیا تھا اور رسول اللہ ﷺ سے پہلے انبیائے کرام بھی کفار کے ساتھ جنگ کرتے رہے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر بھی اللہ کے بندوں نے جہاد کیا اور وہ میدان جنگ میں ثابت قدم رہے اس طرح تم کو بھی ثابت قدم رہنا چاہیے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
” پس جب ان کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہوجائے تو پہلا کام تمہارا یہی ہے کہ ان کی گردنیں مارو فَضَرَبَ الرِّقَابِ یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو ۔ تب قیدیوں کو مضبوط باندھو اس کے بعد تمہیں اختیار ہے کہ احسان کرو یا فدیہ کا معاملہ طے کرلو تاکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے اور یہ تمہارے کرنے کا کام ہے۔ اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے نمٹ لیتا لیکن اللہ چاہتا ہے کہ تم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزمائے۔ “
مسلمانوں کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اگر محض باطل پرستوں کی سرکوبی کرنی ہوتی تو وہ اس کام کے لیے تمہارا محتاج نہ تھا یہ کام تو اس کا ایک زلزلہ یا ایک طوفان بھی چشم زدن میں کرسکتا تھا مگر اس کے پیش نظر تو یہ ہے کہ انسانوں میں سے جو حق پرست ہوں وہ باطل پرستوں سے ٹکرائیں اور ان کے مقابلہ میں مجاہدہ کرلیں تاکہ جس کے اندر جو کچھ اوصاف ہیں وہ اس امتحان سے نکھر کر پوری طرح نمایاں ہوجائیں اور ہر ایک اپنے کردار کے لحاظ سے جس مقام اور مرتبے کا مستحق ہے وہ اس کو دیا جائے۔ اس لیے یہی پہلے ہوتا چلا آ رہا ہے اور یہی آئندہ بھی ہوگا۔
گزشتہ مجاہدین نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا لیکن عجز و بےچارگی کا اظہار نہ کیا :
268: گزشتہ انبیاء کرام کے ساتھ مل کر جہاد کرنے والوں کے مناقب میں یہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں سے بھی ایسے مجاہدین تھے۔ جنہوں نے جان کی بازی لگائی اور اس طرح ڈٹ کر کفار کا مقابلہ کیا اور وقت آنے پر کبھی سستی نہ کھائی اور نہ ہی وہ مصائب و شدائد سے گھبرائے۔ دیکھو طالوت بادشاہ کی معیت میں لڑنے والوں کا حال تم پڑھ آئے جو طالوت کے ساتھ میدان جنگ میں اترے تھے انہوں نے دنیا پر ثابت کردیا کہ جو طاقت اور قوت اللہ نے ایمان میں رکھی ہے وہ کسی اسلحہ میں بھی نہیں رکھی اور اس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانوں کی قربانیاں دیں کہ لوگوں پر واضح کردیا کہ جب کوئی اللہ کا ہوجائے تو وہ جسم و جان کی پروا نہیں کرتا
ہر کس کہ ترا شناخت جاں راچہ کند
فزند و عیال و خانماں راچہ کند
دیوانہ کنی ہر دو جہانش بخشی
دیوانہ تو دو جہاں راچہ کند
Ayah 3:147وہ مجاہدین بھی ایسے تھے کہ جہاد کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں بھی کرتے تھے :
269: اس آیت میں گویا اس طرف اشارہ فرما دیا کہ ان لوگوں کے عمل میں تو کیا لغزش ہوتی زبان تک بھی ان کی کلمات تحمید و تمجید اور اعتراف عجزو قصور کے لئے وقف رہی اور وہ اپنے رب سے اس طرح دعائیں کرتے رہے کہ :
اے اللہ ! ہمارے پچھلے گناہ معاف فرما دے
اے اللہ ! اس عمل جہاد میں ہم سے جو کوتاہی ہوگی ہو اس کو معاف فرما دے۔
اے اللہ ! منکرین حق کے گروہ پر ہمیں فتح مند کر دے۔
اللہ کے نیک بندوں کی اند دعاؤں میں ہمارے لئے کتنے ہی سبق محفوظ کر دئے گئے اگر ہم یاد کرنے والے ہوں اور اللہ کرے کہ ہم کو یاد رہیں۔
1 ۔ یہ کہ حقیقت شناس مومن کا کام یہ ہے کہ وہ کتنا ہی بڑا نیک کام اور کتنی ہی جدوجہد اللہ کی راہ میں کر رہا ہو اس کو یہ حق نہیں کہ اپنے عمل پر مان کرے کیونکہ در حقیقت اس کا عمل بھی اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے۔ اس کے بغیر کوئی نیک عمل ہو ہی نہیں سکتا چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ فو اللہ لولا اللہ ما اھتدینا۔ ولا تصد قنا ولا صلینا ” اگر اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو ہمیں نہ سیدھے راستے کی ہدایت ملتی اور نہ ہم سے زکوٰۃ و نماز ادا ہو سکتی۔
2 ۔ جو نیک عمل کوئی انسان کرتا ہے وہ کتنا ہی درست کر کے کرے لیکن اس مالک الملک و الملکوت کی شان جلائی کے مطابق کرلینا اس کے بس میں نہیں۔ اس کے ادرئے حق میں کوتاہی ناگزیر ہے اس لئے اس سے حالت عمل میں بھی استغفار کی ضرورت ہے۔
3 ۔ کبھی یہ اطمینان نہیں ہو سکتا کہ جو نیک عمل وہ اس وقت کر رہا ہے آگے بھی اسے اس کی توفیق ہوگی اس لئے موجودہ عمل میں کوتاہی پر ندامت اور آئندہ کے لئے اس پر قائم رہنے کی دعا مومن کا وظیفہ ہونا لازمی ہے۔
4 ۔ اپنے گناہوں کی معافی کی درخواست کرنے میں اس طرف بھی اشارہ ہے کو اس دنیا میں انسان کو جو رنج و غم یا کوئی کسی طرح کی تکلیف یا دشمن کے مقابلہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ اکثر اس کے سابقہ گناہوں کا اثر ہوتا ہے جس کا علاج استغفار و توبہ ہی ہو سکتا ہے جیسا کہ مولانا رومی نے کہا۔
غم چو بینی زعد استغفار کن
غم بامرا خالق آمد کارکن
Ayah 3:148جن کو دین و دنیا میں کامیاب ہونے کی ضمانت دے دی گئی :
211: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوشش کرتے ہیں۔ یعنی جہاد کرتے ہیں اور دنیا کو دین پر قربان کردیتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ دنیا کا ثواب بھی دیتا ہے اور آخرت کا ثواب تو ان کو نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا ملتا ہے۔ بس ان لوگوں کو زیر نظر آیت میں ” محسنین “ کہا اور احسان کے معنی حدیث شریف میں آئے ہیں کہ ” تعبد اللہ کانک تراہ “ کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ اور جو شخص اپنے فوائد دنیوی اللہ کی راہ میں قربان کردیتا ہے یا قربان کر دیھے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ وہ واقعی احسان کی اس تعریف کے زمرہ میں آتا ہے۔
Ayah 3:149مسلمانوں کو غیروں کی چالوں میں نہ آنے کی ہدایت الٰہی :
271: غزوہ احد مئیں مسلمانوں کی عارضی ہزیمت اور رسول اللہ ﷺ کی وفات کی افواہ گرم ہونے منافقین نے جب جنگ کا پانسہ پلٹتے ہوئے دیکھا تو ان کو شرارت کا موقعہ مل گیا۔ مسلمانوں سے کہنے لگے کہ جب محمد رسول اللہ ﷺ ہی نہ رہے تو ہم اپنا دین ہی کیوں نہ اختیار کرلیں جس سے سارے جھگڑے مٹ جائیں۔ اس سے منافقین کی خباثت اور مسلمانوں کا بد خواہ ہونا بالکل واضح ہے اس لئے آیت مذکورہ میں ہدایت دے دی گئی کہ ان شمنوں کی بات پر کان نہ دھریں اور ان کو اپنے کسی مشورہ میں شریک بھی نہ کریں اور نہ ہی ان کے کسی مشورہ کا اتباع کریں گویا گزشتہ آیت میں اللہ والوں کا اتباع کرنے کی ہدایت تھی اس میں منافقین اور مخالفین اسلام کے مشورہ پر عمل نہ کرنے اور ان سے بچتے رہنے کی ہدایت ہے۔
اطاعت سے اس جگہ یا تو کافروں کے سامنے کمزور ہو کر عاجزی اختیار کرلینا اور ان کی ماتحتی قبول کرلینا ہے جیسا کہ آیت 145 میں فرمایا تھا۔ کہ یاد رکھو نبی کے ساتھی ایسے نہیں ہوتے کہ دشمن کو ذرا غلاب دیکھا تو فوراً اس کے آگے جھک گئے اور یہ اس لئے کہ وہ منافق جو رستہ سے واپس ہوگئے تھے۔ اب اس مصیبت کو دیکھ کر اس بات پر تلے بیٹھے تھے کہ ابو سفیان مدینہ کا رخ رکے تو فوراً اس کی اطاعت کرلیں اس لئے مومنوں کو مخاطب کر کے فرمایا گیا کہ ان کافروں اور منافقوں کی اطاعت کا نتیجہ صر فایک ہی ہو سکتا ہے کہ وہ دین اسلام سے تم کو پھیردیں جیسا کہ سورة بقرہ میں بیان کردیا گیا تفصیل کے لئے دیکھو عروۃ الوثقیٰ جلد اول تفسیر سورة بقرہ آیت 217 ۔ اور اس سے یہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے کہ ان کی رائے دین کے بارے میں مت قبول کرو اور ان کو اپنے خیر خواہ سمجھ کر ان کے پیچھے مت چلو۔ اور فی الحقیقت دونوں معنی درست ہیں۔ اگر مسلمانون کو کفار کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچے یا وہ کسی میدان میں جنگ سے نبرد آزما ہو کر غالب بھی آجائیں تو مسلمانوں کو یہ نہیں چاہیے کہ فوراً ہمت ہار کر ان کی اطاعت قبول کرلیں اور اس طرح امور دینی میں بالخصوص اور ویسے بھی ہر حال میں کافروں کے تتبع سے بچنا ہی چاہیے۔
Ayah 3:150جب تمہارا کار ساز حقیقی اللہ تعالیٰ ہے تو پھر اس سے بہتر کون کار ساز ہو سکتا ہے :
272: صحیح بخاری میں ہے کہ احد کے دین جب مسلمان بہت سا نقصان اٹھا چکے اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے گرد ایک مقام پر جمع ہوئے اور اس وقت رسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبر پھیل چکی تھی تو ابو سفیان ایک گھاٹی پر چڑھا اور آواز دی کہ کیا قوم محمد (رسول اللہ ﷺ ہیں تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے ارشاد فرمایا کہ جواب مت دو ۔ پھر اس پر سیدنا عمر فاروق ضبط نہ کرسکے اور روز سے جواب دیا کہ ہم سب تم کو ذلیل کرنے کے لئے زندہ ہیں۔ اس وقت ابو سفیان نے پکارا ” اھل ھبل “ یعنی ھبل کا نعرہ بلند کیا۔ جس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو جواب دو ” واللہ اعلیٰ واجل “ اللہ ہی سب سے بلند اور زیادہ جلالت والا ہے۔ پھر ابو سفیان نے کہا ” لنا العزی ولا عزی لکم “ ہمارے لئے یعنی ہمارا مدد گار عزّٰی ہے اور تمہاری کوئی عزّٰی نہیں۔
اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کو جواب دو ” اَللّٰہُ مَوْ لَا نَا وَلاَ مَوْلیٰ لَکُمْ “ اللہ ہمارا مدد گار ہے اور تمہارا کوئی مدد گار نہیں۔ زیر نظر آیت میں جو الفاظ بیان فرمائے گئے ” بَلِ اللّٰہُ مَوْلٰکُمْ “ بلکہ اللہ تمہارا کار ساز ہے میں اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوجاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو توحید الٰہی کے ساتھ کیسی محبت تھی کہ جب اپنی زندگی اور موت کا سوال ہوا تو خاموشی کا حکم دیا لیکن جب غیر اللہ کی بڑائی کی گئی تو اس طرح گویا اس کا حملہ توحید الٰہی پر تھا اس لئے آپ ﷺ نے فوراً جواب دیا اور بتایا کہ ہم مسلمان کا کار ساز حقیقی اللہ تعالیٰ ہے ہم کبھی ذلیل نہیں ہو سکتے۔ یہ جو کچھ ہوا اس میں ہمارے لوگوں کی غلطی بھی شامل ہے اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ بالآخر کافر ہی ذلیل ہوں گے۔ بلاشبہ ہمارا نقصان بھی ہوا لیکن اسلام کی یہ خوبی زبان زد ہے کہ ” اتنا ہی ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے۔ “