Ayah 3:30عمل نیک ہو یا بد اس کا نتیجہ عمل کرنے والے کے سامنے حاضر کردیا جائے گا :
76: گویا یہ وعدہ خداوندی ہے جو قرآن کریم کے صفحات میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ اعمال اور ان کے نتائی لازم و ملزوم ہیں اگر عمل ہے تو نتیجہ ہے اور پھر اس کی وضاحت بھی فرما دی کہ یاد رکھو کہ نتیجہ عمل کے مطابق ہوگا۔ اگر عمل درست ہے تو نتیجہ خراب نہیں ہو سکتا اور اگر عمل خرام ہے تو نتیجہ درست ممکن ہی نہیں ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے۔ کہ جب دنیا میں ان کو کہا جاتا تھا کہ
اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ005 وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ006 (الذاریات 51 : 5۔ 6) ” كه جس چیز کا تمہیں وعدہ دیاجارہا ہے یا جس چیز سے تمہیں خوف دلایاجارہا ہے وہ سچی ہے اور جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے۔ “ تُوْعَدُوْنَ اگر ” عد “ سے ہو تو اس کا مطلب ہوگا کہ ” جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے “ اور ” وعید “ سے ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ ” جس چیز سے تم کو ڈرایا جارہا ہے۔ “ زبان و ادب کے لحاظ سے دونوں ہی مطلب صحیح ہیں لیکن موقع و محل کے ساتھ دوسرا مفہوم زیادہ مناسبت رکھتا ہے کیونکہ مخاطب وہی لوگ ہیں جو کفر و شرک اور فسق و فجور میں غرق تھے اور یہ بات ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ کبھی ان کو حاسبے اور جزائے اعمال سے بھی سابقہ پیش آنے والا ہے۔ اس لیے ہم نے تُوْعَدُوْنَ کو عدے کی بجائے ” وعید “ کے معنی میں لینا زیادہ صحیح تصور کیا ہے۔ اور ” جزائے اعمال ضرور پیش آنے والی ہے۔ “ یہ بات گویا حتماً بیان کی جارہی ہے اور یہ اس کی دلیل ہے کہ جس طرح دنیا کا نظام باقاعدگی کے ساتھ چل رہا ہے اور جو حکمتیں اور مصلحتیں اس میں صریح طور پر کارفرما نظر آتی ہیں وہ اس بات پر گواہی دے رہی ہیں کہ یہ دنیا کوئی بےمقصد اور بےمعنی کھیل نہیں ہے جس میں لاکھوں ، کروڑوں برس سے ایک بہت بڑا کھیل بس یونہی الل پٹ ہوئے جارہا ہے۔ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ درحقیقت یہ ایک کمال درجے کا حکیمانہ نظام ہے جس میں ہر کام کسی مقصد اور مصلحت کے لیے ہو رہا ہے۔
اس نظام میں یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں کہ یہاں انسان جیسی ایک مخلوق کو عقل و شعور اور تصرف کے اختیارات دے کر اس میں نیکی و بدی کی اخلاقی حس پیدا کر کے اور اسے ہر طرح کے اچھے اور برے صحیح اور غلط کاموں کے مواقع دے کر زمین میں ترکتا زیاں کرنے کے لیے محض فضول اور لا یعنی طریقے سے چھوڑ دیا جائے اور اس سے کبھی یہ باز پرس نہ ہو کہ دل و دماغ اور جسم کی جو قوتیں اس کو دی گئی تھیں دنیا میں کام کرنے کے لیے جو وسیع ذرائع اس کے حوالے کیے گئے تھے۔ خدا کی بیشمار مخلوقات پر تصرف کے جو اختیارات اسے دیے گئے تھے ان کو اس نے کس طرح استعمال کیا۔ جس نظام کائنات میں سب کچھ بامقصد ہے اس میں صرف انسان جیسی مخلوق کی تخلیق کیسے بےمقصد ہو سکتی ہے ؟ جس نظام میں ہرچیز مبنی برحکمت ہے اس میں تنہا ایک انسان ہی کی تخلیق کیسے فضول اور عبث ہو سکتی ہے ؟
مخلوقات کی جو اقسام عقل و شعور نہیں رکھتیں ان کی تخلیق کی مصلحت تو اسی عالم طبعی میں پوری ہوجاتی ہے اس لیے اگر وہ اپنی مدت عمر ختم ہونے کے بعد ضائع کردی جائیں تو یہ عین معقول بات ہے کیونکہ انہیں کوئی اختیارات دیے ہی نہیں گئے ہیں کہ ان سے محاسبے کا کوئی سوال پیدا ہو مگر عقل و شعور اور اختیارات رکھنے والی مخلوق جس کے افعال محض عام طبیعت تک محدود نہیں ہیں بلکہ اخلاقی نوعیت بھی رکھتے ہیں اور جس کے اخلاق نتائج پیدا کرنے والے اعمال کا سلسلہ محض زندگی کی آخری ساعت تک ہی نہیں چلتا بلکہ مرنے کے بعد بھی اس پر اخلاقی نتائج مرتب ہوتے رہتے ہیں۔ اسے صرف اس کا طبعی کام ختم ہوجانے کے بعد نباتات و حیوانات کی طرح کیسے ضائع کیا جاسکتا ہے ؟ اس نے تو اپنے اختیار و ارادہ سے جو نیکی یا بدی بھی کی ہے اس کی ٹھیک ٹھیک مبنی برحق و انصاف جزاء و سزا اس کو لازماً ملنی ہی چاہیے کیونکہ یہ اس مقصد کا بنیادی تقاضا ہے جس کے تحت دوسری مخلوقات کے برعکس اس کو ایک ذی اختیار مخلوق بنایا گیا ہے اس سے محاسبہ نہ ہو اس کے اخلاقی اعمال پر جزا و سزا نہ ہو اس کو بھی بےاختیار مخلوقات کی طرح عمر طبعی ختم ہونے پر ضائع کردیا جائے تو لامحالہ اس کی تخلیق سراسر عبث ہوگی اور ایک حکیم پھر ہو بھی حکیم کل جو عام الغیب بھی ہے سے فعل عبث کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
وہ وقت آنے والا ہے کہ عامل عمل اور اس کے نتیجہ میں دوری کا طالب ہوگا لیکن یہ ممکن نہیں :
77: جرم کرنے والے انسان جب جرم کے نتیجے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو حسرت و افسوس سے کہیں گے کہ کاش آج مجھ میں اور اس میرے عمل میں ایک بہت بڑی دوری کردی جائے اور میں اس کے نتیجہ کو نہ دیکھوں اور پھر وہ پکار کر کہیں گے کہ اے اللہ ! ایک بار ہمیں دارالعمل میں دوبارہ لوٹا دے لیکن ان کی یہ پکار بالکل لاحاصل ہوگی۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے :
” اور ان منکروں کا حال ایسا ہی ہوگا یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سرہانے موت آکھڑی ہوگی تو اس وقت وہ کہنے لگے گا خدایا مجھے پھر دنیوی زندگی میں لوٹا دے کہ زندگی کے جو مواقع میں نے کھو دیے شاید اس دفعہ ان میں نیک کام کرسکوں۔ حکم ہوگا ہرگز نہیں۔ یہ محض ایک کہنے کی بات ہے جو یہ کہه رہا ہے۔ اب ویسا ہی ہونے والا ہے ان لوگوں کے مرے پیچھے ایک آڑ ہے جو اس دن تک رہے گی کہ دوبارہ اٹھائے جائیں ۔
پھر جب وہ گھڑی آجائے گی کہ نرسنگا پھونکا جائے یعنی تمام انسانی ہستیوں کو دوبارہ کھڑا ہونے اور اکٹھا ہوجانے کا حکم ہوگا تو اس دن نہ تو ان لوگوں کی باہم رشتہ داریاں باقی رہیں گی نہ کوئی ایک دوسرے کی بات ہی پوچھے گا۔ اس دن جن لوگوں کے نیک عملوں کا پلہ بھاری نکلا بس وہی ہیں جو کامیاب ہوں گے اور جن کا پلہ ہلکا ہوگا وہی ہیں جنہوں نے اپنے کو بربادی میں ڈال دیا ہمیشہ جہنم میں رہنے والے۔ آگ کے شعلوں کی لپیٹ ان کے چہروں کو جھلستی ہوگی اور وہ اسی میں منہ بگاڑے پڑے ہوں گے۔ کیا ایسا نہیں ہوچکا کہ میری آیتیں تمہارے آگے پڑھی جاتی تھیں اور تم انہیں جھٹلاتے رہتے تھے ؟ یعنی ان سے یہ بات کہی جائے گی کہ وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! دراصل ہماری بدبختی ہم پر چھا گئی تھی۔ ہمارا گروہ گمراہوں کا گروہ تھا۔ اب ہمیں اس حالت سے نکال دے اگر ہم پھر ایسی گمراہی میں پڑیں تو بلاشبہ نافرمان ہوئے۔ “
اللہ فرمائے گا جہنم میں جاؤ اور زبان مت کھولو۔ ہمارے بندوں میں سے ایک گروہ ایسا بھی تھا جو کہتا تھا خدایا ! ہم ایمان لے آئے پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرمای۔ تجھ سے بہتر رحم کرنے والا کوئی نہیں لیکن تم نے انہیں اپنے تمسخر کا مشغلہ بنالیا تھا یہاں تک کہ اسی مشغلہ نے ہماری یاد بھی بھلا دی تھی۔ تم ان لوگوں کی باتوں پر ہنسا کرتے تھے۔ آج دیکھو ہم نے انہیں ان کے صبر کا بدلہ دے دیا وہی ہیں جو آج فیروزمند ہوئے۔ “ (المؤمنون 23:111 , 99) (المؤمنون 23 : 99۔ 111)
اللہ کا اپنے قانون مواخذہ سے ڈرانا محض اپنے بندوں کے پیار سے ہے :
78: اللہ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے کیوں ؟ اس لیے کہ قابل عظمت اور صاحب اقتدار ذات صرف اسی کی ہے۔ اسی کا قانون بھی اَن ٹل ہے اور اس کو اپنے بندوں سے محبت بھی بےپناہ ہے۔ لہٰذا اس کی رضا تو یہی ٹھہری کہ اس کے قانون مواخذہ سے بچ کر رہو لیکن اگر اس کے باوجود کوئی نہیں بچتا تو اس کا قانون مواخذہ بھی لچک نہیں رکھتا۔
اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا شفقت کرنے والا ہے اس لیے یہ بار بار کی تنبیہه وتحدید کی جارہی ہے ، جو دراصل اسی شفقت ورافت کا نتیجہ ہے کہ کاش بدے اب بھی سنبھلیں اور راہ ہلاکت پرچلنے سے باز رہیں۔
Ayah 3:31اللہ کی محبت سچے لوگوں کی پہچان قرآن کریم کی زبان میں :
79: اہل کتاب کی دونوں جماعتوں یعنی یہودونصاریٰ کا دعویٰ تھا کہ ہم اللہ کے محبوب ہیں اس لیے سب کچھ معاف ہے
کیونکہ ہم انبیاء کرام کی اولاد ہیں۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے کہ :
وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ (المائدہ 5 : 18) ” او دیکھو یہودی اور عیسائی کہتے ہیں ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ ہم جو کچھ بھی کریں ہمارے لیے نجات ہی نجات ہے۔ “
ان کو ایک جواب تو یہ دیا گیا کہ تمہارے لیے نجات ہی نجات ہے تو دنیوی زدنگی میں تم کو عذاب دیا جاتا ہے اور خصوصاً جب تم کو دوسری قومیں دبا لیتی ہیں اور تمہارا تہس و نہس کردیتی ہیں تو اس وقت کیا تم اللہ کے محبوب نہیں رہتے اور مرنے کے بعد فوراً تم اللہ کو محبوب ہوجاؤ گے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے :
قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ 1ؕ (المائدہ 5 : 18) ” اے پیغمبر اسلام ! تم کہه دو کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر اللہ تمہاری بد عملیوں کی وجہ سے تمہیں وقتاً فوقتاً عذاب کیوں دیتا رہتا ہے۔ “ جس کا تمہیں خود بھی اعتراف ہے۔ اور تمہاری کتاب بھی خدا کے سرزنشوں اور چذابوں کی سرگزشتوں سے بھری ہوئی ہے ؟ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیدا کردہ انسانوں میں سے تم بھی انسان ہو اور انسانوں کی بخشش و نجات کا سررشتہ اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے نہ بخشے کیونکہ اس نے نجات پانے اور عذاب دیئے جانے کے لیے قانون بنا دیا ہے۔ پھر اس قانون میں تمہارے لیے یہ گنجائش کہاں سے نکل آگی کہ تم جو کچھ بھی کرو بس نجات یافتہ ہو۔ اگر تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل ہے تو وہ لے کیوں نہیں آتے اس نجات کے پٹے کی تحریر کہاں ہے ؟
چنانچہ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے اور اپنے اس زعم کی بناء پر جو توقع رکھتے ہو کہ اللہ بھی تم سے محبت کرے گا تو اس کی صرف اور صرف ایک ہی صورت ہے کہ تم میری پیروی کرو۔ کیوں ؟ اس لیے کہ تمہاری اپنی کتابوں میں میرے رسول ہونے کی بشارات موجود ہیں اور یہ بھی کہ میری پیروی کے سوا اور کوئی راستہ ہی نہیں ہے کہ اس راستے سے اللہ کی محبت کسی کو حاصل ہو یا اللہ کسی کو محبت کرنے لگے اور یہ بات بھی تمہاری اپنی مذہبی کتابوں میں موجود ہے۔ اگر تم یہ نہیں کرتے یا اس بات کو سچا نہیں سمجھتے تو گویا اپنی ہی الٰہی کتابوں کی تکذیب کرتے ہو ؟ تم ہی بتاؤ کہ الٰہی کتابوں کی تکذیب کرنے والے اللہ کی نظر میں محبوب ہو سکتے ہیں ؟
کھرے اور کھوٹے کا معیار محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات ہی ہے :
80: محمد رسول اللہ ﷺ سے اعلان کرایا جارہا ہے کہ آپ فرما دیجیے ” میری پیروی کرو “ کیوں ؟ اس لیے کہ دنیا میں اب میں ہی جامع کمالات انساین بنا کر بھیجا گیا ہوں اور میری زندگی ساری ائنات انسانی کے لیے دین کے کاموں میں معیار اور نمونہ کا کام دے گی۔ محبت الٰہی کے دعویٰ کی جانچ کے لیے کیا اچھا معیار بتادیا گیا یعنی اتباع رسول جو شخص جتنا زیادہ متبع رسول ہوگا اسی قدر اس کی محبت الٰہی مسلم و معتبر ہوگی۔ اس معیار پر صرف یہودو نصاریٰ ہی کو نہیں پوری دنیا کے انسانوں کو بشمول مسلمان کہلانے والوں کو پرکھا جائے گا۔ کون اس پر پورا اترتا ہے اور کون نہیں ارتا یہ بات صرف دعویٰ سے ثابت نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے لیے معیار اور کسوٹی رسول اللہ ﷺ کی پیروی ہے۔ گویا کھرے اور کھوٹے کے لیے اس کسوٹی پر پر کھا جائے گا۔
اگر خالی دعویٰ کی بات ہو تو وہ تو یہودونصاریٰ کو بھی ہ۔ لیکن اگر اس معیار پر آج بڑے بڑے مدعیان میشخیت اور مدعیان محبت الٰہی اور عشاقان رسول کے ناموں سے یاد کیے جانے والوں کو جانچیے تو بہتوں کی کلی کھل جائے گی اور سارے دعویٰ دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ ان خالی برتنوں کی طرح بولنے والوں کو اپنا اندازہ خود لگا لینا ہی بہتر ہے تاکہ وہاں رسوائی نہ جہاں ساری وپشیدہ چیزیں ظاہر ہوجائیں گی۔
رسول اللہ ﷺ کی پیروی سے اللہ کی محبت حاصل ہوگی :
81: اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا کیونکہ اس کے آگے اور کوئی درجہ کمال نہیں۔ یہ طریقہ جو پچھلوں کو بتایا گیا یعنی یہ کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی ہی سے اللہ کی محبت حاصل ہوگی یہی آواز اگلوں کے کان می ڈال دی ﴾گئی ہے۔ سیدنا مسیح (علیہ السلام) کے جو الفاظ اناجیل مروجہ میں نقل ہوئے ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔ ” اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو اور میں باپ سے درخواست کروں گا وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔ “ (یوحنا 14 : 15۔ 16)
یہ مددگارکا لفظ اردو انجیلوں کے متن میں ہے اور حاشیہ پر وکیل اور شافع دونوں لفظ درج ہیں گویا اصل لفظ یونانی کے یہ سب معنی ہو سکتے ہیں اور انگریزی انجیل میں لفظ ” کمفارٹر “ (Comfortar) آیا ہے جس کے معنی تسلی دہندہ کے ہیں تو چوتھا مفہوم اس لفظ کا یہ ہوا۔ بہرحال وہ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ سب کا مددگار یعنی دین الٰہی کی طرف دعوت دینے والا اور وکیل اور شافع اور تسلی دہندہ اس پیشین گوئی کرنے والے رسول یعنی مسیح (علیہ السلام) کے پانچ صدی بعد آیا اور ایک ابدی اور غیر منسوخ شریعت لے کر ابد تک من حیث النبوة ساتھ رہنے ہی کے لیے آیا۔ گویا جب تک یہ دنیا کا نظام قائم ہے رسالت محمد رسول اللہ ﷺ ہی کی ہے اور آپ ﷺ ہی کی رہے گی اس لیے آپ ﷺ نبی اعظم و آخر قرار پائے۔ وہ نبی آخر الزمان تشریف لائے پر صلیب کے پرستاروں اور مسیح کو اللہ ، اللہ کا بیٹا یا اللہ کا تیسرا جزء قرار دینے والوں نے اللہ کو چھوڑ کر مسیح کی عبادت شروع کردی اور اس آخر الزمان نبی ﷺ کو جھٹلانا شروع کردیا۔ جس کے نتیجہ میں وہ خود جھوٹے قرار پائے۔
” یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ “ اللہ کی محبت بند کے ساتھ کیا ہے ؟ یہی ہے کہ اسے یعنی اپنے بندہ کے گناہ معاف فرما دے اور اسے مغفرت سے سرفراز فرما دے اور یہی بات اللہ نے ارشاد فرمائی۔
اللہ کی بخشش اور اللہ کا پیار کرنا یہی ہے کہ وہ بندہ کے گناہ معاف فرما دے :
82: اللہ ” الغفور “ بھی ہے اور ” الغفار “ بھی ” غفور “ بمعنی غفارہی ہے لیکن غفور میں ایک طرح کا مبالغہ پایا جاتا ہے۔ غفار میں بالحاظ مغفرت کے مبالغہ پایاجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بار بار مغفرت فرماتا ہے اور غفور سے مراد نام الغفران ہے کہ انتہائی سے انتہائی مغفرت کا درجہ عطا فرماتا ہے۔
انسان کو چاہیے کہ اللہ کے بندوں سے ان کی بےاعتدالیوں پر عفو و درگزر کرے اور ان کی قصور معاف کردیا کرے۔ یہ اس کے حق میں بہتر ہوگا کہ جب وہ اللہ سے مفغرت طلب کرے گا تو اس کو فوراً معاف کردیاجائے گا کیونکہ اس نے اس کے بندوں سے بھی درگزر کیا ہے۔ ارشاد الٰہی ہے کہ :
” اعلان کردو کہ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں۔ اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو بالیقین اللہ تعالیٰ تو سب کے گناہ بخش دیتا ہے کہ اسکی بخشش قانون عام ہے کیونکہ وہ واقعی بڑا بخشنے والابہت ہی پیار کرنے والا ہے۔ “ (الزمر 39 : 53)
پھر وہ اللہ تعالیٰ ” الرحیم “ بھی ہے نہایت ہی رحم کرنے والا یعنی پیار کرنے والا۔ رحمت سے مراد یہ ہے کہ محتاجوں سے بھلائی کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں کون ہے وہ جو محتاج نہیں۔ ساری مخلوق اللہ کے سامنے محتاج ہے اور محتاجوں سے بھلائی اس کا اپنا حکم ہے اور یہ بھی کہ اللہ کی رحمت دنیا اور آخرت کی نعمتوں پر شامل ہے اور یہ محض اس کی عنایت ہے جس میں کوئی غرض اور کسی معاوضہ کا خیال نہیں ہے۔
جب انسان کو معلوم ہوگیا کہ سری نعمتوں کا منعم حقیقی فقط وہی ہے تو اس کا فرض ہے کہ اسی پر توکل کرے کسی دوسرے سے مدد نہ مانگے۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر رحم کھائے جہاں تک ہو سکے محتاجوں کی حاجت روائی کرے اور اس خدمت میں سوائے نیکی کے ارادے کے کسی معاوضہ کا خیال نہ کرے۔
چنانچہ ارشاد الٰہی ہے کہ ” مسلمان تو آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرنے الے ہوتے ہیں۔ “ (الفتح 48 : 29)
” مانگنے اور نہ مانگنے الے حاجت مندوں کے لیے اپنے مال میں سے حصہ بطور ان کے حق کے نکالتے ہیں۔ “ (ق 50 : 12)
” اللہ تعالیٰ کی محبت سے مسکینوں ، یتیموں اور قیدیوں کو محض رضائے الٰہی کے لیے کھانا پیش کرتے ہیں اور ان کی طرف سے کسی قسم کا بدلہ یا شکریہ نہیں چاہتے۔ “ (الدھر 76 : 8 ، 9)
زیرنظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ دونوں صفات یکجا کردیں تاکہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنے والے اچھی طرح جان لیں کہ اللہ یقیناً ان کی تقصیروں کو نظر انداز کر دے گا اور ان کے مراتب قرب میں ذرا بھی کمی نہیں فرمائے گا۔
Ayah 3:32نبی اعظم و آخر ﷺ کی اہمیت :
83: رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے عامة الناس کو مخاطب کرکے فرمایا جارہا ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو کیونکہ اللہ ہی کی اطاعت اصامة اور بطور مقصود ہے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرو جو تبعاً ” ونیابتہ “ بطورآلہ و واسطہ کے ہے۔ یعنی اس حیثیت سے کہ پیغمبر ﷺ اللہ ہی کا پیغام لے کر آئے ہیں۔
اس سے یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہو گئی کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی شخصیت کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے کہ اللہ نے اپنی اطاعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو ” مقرون “ کردیا ہے یعنی خدا کی اطاعت اور رسول کریم ﷺ کی اطاعت کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی اہمیت کو بڑھانے کی غرض سے ہے۔ کیا اس اہمیت پر زور دینے کا مقصد صرف اتنا ہی ہو سکتا ہے کہ جب رسول کریم ﷺ قرآن کی کوئی آیت پڑھ دیا کریں تو تم ان کی اطاعت کرلیا کرو ؟ کیوں کہ اس کے لیے تو صرف ” اطیعوا اللہ “ ہی کافی تھا اور اس کے ساتھ ” اطیعوا الرسول “ کے الفاظ کو بڑھا دینا لا حاصل تکرار ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے ” اطیعوا اللہ و اطیعوالرسول “ کے الفاظ قرآن کریم اور حدیث رسول ﷺ میں بار بار دہرائے گئے ہیں۔ نہیں بلکہ خود قرآن کریم نے اس کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ رسول کریم ﷺ کی اطاعت کرنا ہی اللہ کی اطاعت کرنا ہے۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے :
” مَنْ یُّطْعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰه ‘ ‘ ” جس شخص نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی اس نے گویا اللہ ہی کی اطاعت کی۔ “ اللہ کی اطاعت تب ہی ممکن ہے جب کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی جائے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ایک مثال پر غور کرو بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے گی۔ انشاء اللہ۔
نبی اعظم و آخر ﷺ حدیبیہ کے مقام پر مؤمنین کو مخاطب کر کے ارشاد فرماتے ہیں کہ حالات ایسے پیدا ہوگئے ہیں کہهم کو مر مٹنے کے لیے آمادہ ہوجانا چاہیے یعنی ہم سب کو یہاں مرنا چاہیے یا کامیاب ہو کر واپس لوٹنا چاہیے۔ اس غرض کے لیے صحابہ کرام ] نے رسول کریم ﷺ کے ارشاد کے مطابق آپ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت علی الموت کی جس سے آپ ﷺ کا دل باغ باغ ہوگیا اور صحابہ ؓ کی اس اطاعت رسول ﷺ اور اس بیعت الی الموت پر اللہ تعالیٰ بھی خوش ہوا اور فرمایا :
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (الفتح 48 : 18) ” بلاشبہ اللہ ان مؤمنوں سے راضی ہوگیا جو درخت کے نیچے آپ ﷺ سے بیعت کر رہے تھے۔ “
اللہ رب العزت ان مؤمنین کو اپنی رضا کا سرٹیفکیٹ دیتا ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرتے ہوئے بیعت علی الموت کی۔ اللہ نے رسول کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا اور اس پر اپنی خوشنودی کا اظہار فرمایا ہے۔ بس یہی معنی ہیں ” اطیعوا الرسول “ کے۔
اس جگہ ان لوگوں کو مزید غور کرنا چاہیے جو ” حدیث رسول “ کو کوئی مقام دینے کے لیے تیار نہیں کہ اگر حدیث رسول خاکم بدہن کوئی چیز نہیں تو پھر قرآن کریم کیا ہے ؟ اور یہ کہ اگر کھرا اور کھوٹا مل جائے تو کھرے کو بھی چھوڑ دینا عقل مندی کی دلیل ہے ؟ اگر نہیں تو پھر تم بھی علم کی بات کرو جہالت کی کیوں کرتے ہو ؟
یاد رکھو کہ اللہ کی اطاعت کرنا اور رسول ﷺ کی اطاعت کرنا دو علیحدہ علیحدہ احکام الٰہی ہیں اگر ان کو اکٹھا کریں گے تو رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اللہ کی اطاعت قرار دی جاسکتی ہے کیوں ؟ اس لیے کہ اللہ کی اطاعت ممکن ہی نہیں جب تک رسول کی اطاعت کا پٹا گلے میں نہ لٹکایا جائے۔ اس اجلال کی مزید تائید ذیل کے حکم سے ہوتی ہے فرمایا :
” وَتُعِزِّرُوْهُ وَتَوَقِّرُوْهُ “ نبی کریم ﷺ کی اطاعت کرنے کے ساتھ ساتھ رسول اللہ کی تعظیم و تکریم کو مدنظر رکھنا بھی ازبس ضروری ہے یہ نص صریح ہے جس کا رد کرنا قرآن کریم کے رد کرنے اور قرآن کریم جیسی کتاب نازل کرنے والے کے رد کردینے کے مترادف ہے۔
اس نص صریح کے خلاف یہ عقیدہ رکھنا کہ رسول کریم نعوذ باللہ محض ایک ڈاکیہ کی حیثیت رکھتے ہیں مستلزم کفر ہوگا۔ جب ڈاکیہ یا اردلی کوئی مراسلہ یا کوئی حکم لے کر آتا ہے تو اس ڈاکیہ یا اردلی کا اکرام ملحوظ نہیں ہوتا بلکہ وہ مراسلہ جو پہنچایا جاتا ہے قابل احترام اور قابل توجہ ہوتا ہے اور اگر ڈاکیہ یا اردلی کا کوئی اکرام کیا بھی جائے تو وہ اس پیغام یا پروانہ سے کیا جائے گا۔ ہاں ! اگر اس طرح کا کوئی نام رکھنا ہی ہے تو آپ سفیر کہه سکتے ہیں ڈاکیہ یا اردلی نہیں۔ آج کون ہے جو سفیر کے مفہوم اور سفارت کے عہدہ کو نہ جانتا ہو ؟
اطاعت رسول ﷺ کی مزید وضاحت :
84: اس ہدایت کے باوجود اگر وہ روگرداں رہیں تو اللہ کافروں سے ذرا محبت نہیں رکھتا اور یہ لوگ کافر ہی تو ہیں جو اطاعت رسول ﷺ سے منہ موڑے ہوئے ہیں خواہ محبت الٰہی کے وعدے کیسے ہی ان کی زبانوں پر ہوں۔ اس کی مزید وضاحت قرآن کریم نے ایک تیسری اطاعت کا حکم دے کر فرما دی جیسا کہ ارشاد فرمایا :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ 1ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ 1ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلًا . (النسا 4 : 59)
” مسلمانو ! اللہ کی اطاعت کرو ، اللہ کے رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں حکم اور اختیاررکھتے ہوں ان کی اطاعت کرو۔ پھر اگر ایسا ہو کہ کسی معاملہ میں اس تیسری اطاعت میں باہم جھگڑا پڑجائے یعنی اختلاف و نزاع پیدا ہوجائے تو چاہیے کہ اسکو اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو اور جو کچھ وہاں سے فیصلہ ملے اسے تسلیم کرلو۔ اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو تمہارے لیے راہ عمل یہی ہے اس میں تمہارے لیے بہتری ہے اور اس میں انجام کار کی خوبی۔ “
جس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے اصل دین یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کریں ، اللہ کے رسول کی اطاعت کریں اور جو لوگ ان میں سے صاحب حکم و اختیار ہوں ان کی اطاعت کریں۔ پھر اگر ایسا ہو کہ کسی معاملہ میں اولیٰ الامر اور دوسرے مسلمانوں میں نزاع پیدا ہوجائے تو چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی طرف رجوع کریں کیونکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں اختلاف و نزاع ایمان و اسلام سے خارج کردیتا ہے ان کی اطاعت مستقل اطاعت ہے اور پھر وہاں سے جو فیصلہ ملے اس کے آگے حاکم و محکوم سر تسلیم خم کردیں۔
اس حکم سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو اپنے تمام مذہبی اختلافات کے لیے قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنا چاہیے نہ کہ عام انسانوں کے اقوال و آراء کی طرف خواہ وہ انسان کتنے ہی مکرم و معظم ہوں۔ یہی حیثیت رسول کو دوسرے تمام انسانوں سے خواہ وہ کتنے ہی زیرک اور پاکباز کیوں نہ ہوں لگ کردیتی ہے اور رسول کا درجہ اتنا بلند وبالا ہوجاتا ہے کہ اللہ اور اس کی مخلوق کے درمیان واسطہ کا کام دیتا ہے اور اسی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
كاش کہ آج اگر مسلمانوں نے اس حکم قرآنی پر عمل کیا ہوتا تو مذہبی اختلاف و تفرقہ سے محفوظ ہوگئے ہوتے اور ان کی ایک اور صرف ایک ہی جماعت ہوتی بہت سی جماعتوں اور مذہبوں میں متفرق ہو کر شرک کی اس لعنت سے بھی بچ جاتے۔ تفصیل و تشریح اس کی اپنے مقام پر ملے گی اور خصوصاً سورة انساء میں۔
زیر نظر آیت یعنی اس سورة کی آیت 32 کی تفسیر کی جارہی ہے کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ.“ ” یعنی اگر یہ لوگ روگردانی کریں تو اللہ کفر کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ “ یہ روگردانی کس سے کرنا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے۔ پھر یہ بات پہلے ثابت ہوچکی ہے کہ اطاعت وہی ہے جو رسول کی اطاعت ہے۔ بال بالکل صاف ہوگئی کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے روگردانی کرنے والا کافر ہے اگرچہ اس کا نام مسلمانوں والا ہے۔ اگرچہ اس کا مذہب کے خانہ میں اسلام درج ہو۔ اگرچہ وہ زبان سے کلمہ اسلام بھی پڑھتا ہو اور مسلمانوں کے معاشرہ میں مسلمان ہونے سے متعارف بھی ہو اور لوگ اس کو مسلمان ہی سمجھیں لیکن عند اللہ وہ کافر ٹھہرے گا۔
اس پوری آیت کا ماحصل یہ ہے کہ جو کوئی اللہ سے محبت رکھنے کا دعویدار ہے خو واہ وہ کوئی ہو اسے چاہیے کہ اللہ کے رسول ﷺ کی پیروی کرے۔ اللہ کی محبت کا دعویٰ اور اس کی راہ بتلانے والے کی پیروی سے انکار ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔
قانون الٰہی یہ ہے کہ ہدایت خلق کے لیے اپنے رسولوں کو معبوث کرتا رہا ہے اور جس سلسلہ کے خاتمہ پر اس نے محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا اب جو ان کی پیروی اور اطاعت کریں گے وہ کامیاب ہوں گے اور جو انکار و سرکشی سے مقابلہ کریں گے وہ اللہ کی نصرت سے محروم رہیں گے اور جو اللہ کی نصرت سے محروم کردیایا وہ مسلمان کیسے ہوا ؟
Ayah 3:33اللہ نے جن لوگوں کو برگزیدگی عطا فرمائی تھی ان کا ذکر
85: سلسلہ انسان کی اور نبوت کی پہلی کڑی سیدنا آدم (علیہ السلام) اور سلسلہ نبوت کی آخری کڑی محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کا مفصل تذکرہ سورة البقرہ میں گزر چکا وہاں سے ملاحظہ کرلیاجائے۔ یہ وہی بزرگ ہیں جو ” باوا آدم “ کے نام سے معروف ہیں۔
سیدنا نوح (علیہ السلام) بھی ایک عظیم الشان نبی گزرے ہیں اور آدم (علیہ السلام) کے بعد نبوت سید نوح (علیہ السلام) ہی کی ذریت کے ساتھ خاص کردی گئی تھی جن کی پیدائش بائبل کے بیان کے مطابق تین ہزار سا قبل مسیح بیان کی گئی ہے لیکن نئے مفسرین بائبل اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے قبل کے واقعات کے متعلق کوئی صحیح تاریخی اندازہ موجود نہیں اور قرآن کریم ایسے تاریخی حقائق کے پیچھے بالکل نہیں پڑتا کیونکہ وہ ایک تذکیرہ نصیحت کی کتاب ہے اور اس مضمون میں ان بکھیڑوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہاں ! قرآن کریم سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بعد ایک عظیم الشان نبی حضرت نوح (علیہ السلام) ہوئے ہیں جن سے ایک نئے سلسلہ کی بنیاد پڑی۔ یعنی نبوت کا سلسلہ ان کے ساتھ خاص کردیا اور ان کا تذکرہ انشائ اللہ سورة ہود میں بتفصیل آئے گا۔
اور پھر نبوت کا یہ سلسلہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) تک نوح کے ساتھ خاص تھا اور بعد ازیں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو جب نبوت عطا ہوئی تو یہ سلسلہ انہی کے ساتھ خاص کردیا گیا جو موسیٰ (علیہ السلام) تک بدستور جاری رہا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو جب نبوت عطا ہوئی تو یہ سلسلہ انہی کے ساتھ خاص کردیا گیا۔
” عمران “ یہ امر تاریخی طور پر ثابت ہے کہ حضرت موسیٰ و ہارون کے والد گرامی کا نام عمران بن بصیر تھا۔ اس لیے جو سلسلہ نبوت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ چلا تھا وہ آل عمران کے اندر داخل ہے گویا عمران سلستہ موسویہ کے قاإم مقام ہیں۔ مفسرین نے بھی اس جگہ انہیں عمران کو مراد لیا ہے جو سیدناموسیٰ اور ہارون کے والدماجد تھے۔ لیکن اکثر و بیشترمفسرین نے یہ خیا ال ظاہر کیا ہے کہ سیدنا مریم (علیہ السلام) کے والد ماجدکانام عمران بن ماتان ہے اگرچہ اس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں تاہم سیدہ مریم مسیح (علیہ السلام) جو مریم کے بیٹے تھے آل عمران ہی میں شامل ہیں خواہ مریم کے والد ماجد ہونے کی حیثیت سے یا موسیٰ (علیہ السلام) کی ذریت میں داخل ہونے کی وجہ سے اور تفصیل اس کی آگے آئے گی۔
آدم (علیہ السلام) سے شروع کرنے میں اور پھر بعد کے قومی نبیوں کا ذکر کرنے میں ایک یہ اشارہ بھی ہے کہ جس طرح آدم اول کا پیغام بتقاضائے ضرورت تمام انبیا کرام سے ایک الگ نوعیت کا تھا اسی طرح نبی اعظم و آخر محمد رسول اللہ ﷺ کا پیغام بھی بتقاضائے ضرورت تمام انبیا کرام سے الگ نوعیت کا ہونا ضروری ہے۔ جس طرح آدم (علیہ السلام) کا پیغام اس کی ساری ذریت جو اس وقت موجود تھی کی طرف تھا گو وہ محدود تھا کیونکہ وہ موجودہ نسل انسانی کی ابتدا تھی اور حضرت آدم (علیہ السلام) اپنی ہی ذریت کی طرف مبعوث ہوئے تھے اس طرح نبی اعظم و آخر ﷺ کا پیغام بھی ساری نسل آدم یعنی نسل انسانی کیطرف ہوا گو وہ اس وجہ سے سب سے زیادہ وسیع ہوگیا کیونکہ آپ ﷺ کے وقت نسل انسانی تمام روئے زمین پر پھیل چکی تھی۔ آدم (علیہ السلام) اور نبی اعظم و آخر ﷺ کا پیغام تمام نسل انسانی کی طرف تھا اور درمیان میں جس قدر نبی ہوئے ان کا پیغام ایک ایک قوم کی طرف تھا۔
برگزیدگی جس کا ذکر انبیا کرام کے ذکر کے ساتھ کیا گیا جس کو اصطفی کے نام سے موسوم کیا یا ہے جس کے معنی اکثر چن لینا اور پسند کرنا کے لیے جاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان انبیائے کرام کو اپنے اپنے زمانے کے لوگوں یا قوموں میں سے چن لیا گیا یعنی انتخاب کرلیا گیا۔ کل دنیا لازمی طور پر مراد نہیں کیونکہ کل دنیا پر اصطفا کے ضروری تھا کہ ایک اور صرف ایک کا ذکر کیا جاتا۔ زیادہ کا ذکر خود دلیل ہے کہ اپنے اپنے زمانہ کے لوگوں پر ہی اصطفا مراد ہوگا اور پھر کل انبیا کرام میں سے انتخاب شدہ یعنی نبی اعظم و آخر محمد ﷺ ہی ہیں۔
Ayah 3:34یہ سب انبیا کرام ایک نسل اور اصل سے تعلق رکھتے تھے :
86: مذکورہ بالا انبیائ کرام اور اللہ کے برگزیدہ بندے ایک دوسرے کی ذریت ہیں۔ ذریہ اس لفظ کا وزن ” فعلة “ اور ” فعولہ “ ہے صورت اول میں اس کا مادہ وہ ” ذر “ چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کو کہتے ہیں اور دوسری صورت میں ذرئ مادہ ہوگا اور ذر کے معنی پیدا کرنے کے ہیں۔
ذریت کا اطلاق اولاد پر بھی ہوتا ہے اور باپ دادا پر بھی۔ اولاد پر تو عام اور عام بول چال میں بھی لوگ اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں کہ فلاں فلاں کی ذریت یعنی اولاد سے ہے اور دوسری صورت کے لیے بھی قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوا :
وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ0041 (یسٰین 36 : 41)
اولاد ذریت اس لیے ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو باپ سے پیدا کرتا ہے اور آبائ کو ذریت اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اولاد کا مبدائ تخلیق ہوتے ہیں۔ ذریت کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے اور جمع پر بھی۔ ” بَعْضًا مَّنْ بَعْضٍ “ بعض بعض کی ذریت سے ہیں مراد ایک دوسرے کی نسل سے ونا جیسے آل عمران ابراہیم کی نسل ہے اور آل ابراہیم آل نوح کی نسل سے ہے اور آل نوح سیدنا آدم (علیہ السلام) کی نسل سے ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں اشارہ اتحادنسل کی طرف نہیں بلکہ ایک اور قسم کی یگانگت کی طرف ہے جو دین سے تعلق رکھتی ہے چناچہ یہ تفسیر قتادہ ﷺ سے مروی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ” سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ “ کے یہاں لانے سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ ” سننے والا ہے تمام زبان سے نکلے ہوإے الفاظ و کلمات کا “ اور ” جاننے والا ہے تمام اندر کے جذبات و خیالات کا “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی دعایں کو سنتا ہے اور پھر جانتا ہے کہ کون شخص کس بلندمقام پر کڑھا کیے جانے کے لائق ہے اور دونوں ہی باتیں صحیح اور درست ہیں۔
Ayah 3:35عمران کی بیوی سیدہ حنہ کی دعا بارگاہ قاضی الحاجات :
87: جیسا کہ اوپربیان کیا گیا ہے کہ عمران موسیٰ و ہارون کے والد ماجد کا نام بھی ہے اور اسی عمران سے کچھ مفسرین نے اسی عمران کو مراد لیا ہے اور انہوں نے ” امرة عمران “ کا ترجمہ کیا ہے کہ عمران کے گھرانے کی ایک عورت یعنی حنہ اور بعض بلکہ زیادہ مفسرین نے عمران مریم کے والد ماجد کا نام بتایا ہے اور کہا ہے کہ یہ عمران بن ماثان کا ذکر ہے اور ہم نے بھی یہی مراد لی ہے جو عمران والد مریم ہیں۔ چونکہ مسیحی نوشتوں میں ان کا نام حنہ (Hannaa) آیا ہے بعض مفسرین نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ شام وغیرہ میں کلیسا کلیسائے حنہ کے نام سے مشہور ہیں اور ان کا مقبرہ دمشق میں ہے۔
قرآن کریم کا یہ خاص اعجاز ہے کہ وہ کسی واقعہ کو بیان کرتے وقت ایسا پیرایہ بیان اختیار کرتا ہے کہ چند ہی لفظوں میں سارا واقعہ بھی نظروں میں گھوم جائے اور پڑھنے اور دیکھنے والوں کے لیے وہ نصیحت کا کام بھی دے۔ اب غور کرو کہ ” امراة عمران “ کہہ کر پھر اسی دعا کا مختصر الفاظ میں ذکر کر کے کیا کچھ ہے جو سمجھا نہیں دیا ؟ ” عمران کی بیوی “ کے الفاظ نے پورا نقشہ سامنے کھینچ دیا کہ عمران کی برگزیدہ انسان تھے کہ ماشائ اللہ ان کی بیوی تھیں۔ عورت حاملہ ہوتی ہے تو اس کو جس اولاد کا تصور ہوتا ہے اس اولاد کے لیے اپنے تصور ہی تصور میں وہ کیا کیا سوچتی ہے۔ اس کے پیدا ہونے پر اپنی خوشیوں کے متعلق اور ان تقریبات کے متعلق اس کے چھوٹے ہونے کے تصور میں اس کے کپڑوں ، خوراک اور تعلیم و تربیت کے متعلق اور پھر جو ان ہو کر ان کی شادی اور عہدوں کے متعلق اگرچہ یہ سب کچھ تصور ہی خیال ہی خیال میں ہوتا ہے لیکن ہوتا کیا کیا اور کیسا کیسا ہے ؟
ادھر اس کی ماں کو دیکھو کہ وہ نہ معلوم کتنی مدتوں کے بعد حاملہ ہوئی ہے لیکن اس کا تصور کیا ہے ؟ کہ ” اے اللہ ! میرے پیٹ یعنی رحم میں جو بچہ ہے اس کو ترے گھر کی خدمت کے لیے مخصوص کرتی ہوں۔ “ کیا اب عورتیں حاملہ ہوتی ہیں یا نہیں کہیں یہ تصور موجود ہے ؟ کیا اس تصورکو اچھا تصور خیال کیا جاتا ہے۔ اگر کسی کا بچہ اپنی معصومیت کے دور میں مسجد میں آناشروع کردے توکتنے گھروں میں اس کو فال بد سمجھا جاتا ہے کہ بچے کو کیا ہوگیا۔
کتنے پیارے انداز کے ساتھ یہ بات سمجھا دی کہ حنہ حاملہ ہوچکی تھی کہ انہوں نے یہ دعا مانگی۔ کتنافرق ہے اسکلام میں کہ ایک عورت بانجھ ہے اس کو کوئی امید نہیں کہ اسے اولاد ہوگی لیکن پھر بھی وہ منتیں مانتی ہے کہ اگر میرے اولاد ہوجائے تو میں یہ کروں گی اور وہ کروں گی۔ اگرچہ جو کچھ وہ کہے گی وہ بھی شرک ہی ہوگا الا ماشائ اللہ۔ مگر یہ کوئی جانتا ہے کہ عرف عام میں نذر کہتے ہیں اس کو ہیں کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو یہ کروں گی اور ایسا کروں گی۔ یہ نذر اس طرح کی مشروط نذر نہیں۔ یہاں اللہ اور اس کے گھر کی محبت کا تقاضا ہے۔ حنہ حاملہ ہوجاتی ہیں کتنی مدت کے بعد ؟ کتنی دعائوں اور آروئوں کے بعد لیکن جب حاملہ ہوچکتی ہیں تو کتنے نیک ارادہ کا اظہار کرتی ہیں وہ بھی اپنے مالک حقیقی کے سامنے تخلیہ کے اندر کسی محبت اور کس پیار کے ساتھ۔
اپنی اولادوں کو دنیا کے دھندوں میں لگانے والوں اور دنیاوی خواہشات کی وابستگیاں کرنے والے لوگوں کی کوئی کمی نہیں لیکن اس اللہ کی نیک بندی کے دل میں جو پوشیدہ راز تھا اپنی اس اولاد کے متعلق جس کے متعلق ابھی وہ یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ بچی ہے یا بچہ اس نے اپنے مالک پروردگار کے سامنے اپنے پوشیدہ راز کو کھول دیا۔ اگرچہ یہ چھپے رازوں کو بھی جاننے والا ہے لیکن انسان کے ارادے کا انسان کو تو اس وقت ہی پتہ چلتا ہے جب وہ اس کو اپنی زبان کی نوک پر لے آتا ہے۔ سیدہ حنہ کے نطق جو گویا ہوئی تو اس کے پوشیدہ راز سے ساری دنیا واقف ہوگئی کہ ایک اللہ کی بندی اپنے بطن کے بچہ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کر رہی ہے اور پکارپکارکر کہتی ہے کہ اللہ میری اس دعا کو قبول فرمالے۔
عمران کی بی بی نے نذر ماننے والوں کے لیے ایک مثال قائم کردی :
88: انسان کو چاہیے کہ وہ نذر جب بھی مانے تو صرف اور صرف بارگاہ ایزدی یعنی رب ذوالجلال والاکرام کے لیے مانے۔ غیر کے لیے ہرگز ہرگز نہ مانے پھر مشروط طور پر نہ مانے بلکہ اس انداز سے مانے کہ گویا وہ دعا کر رہا ہے شرط نہیں لگا رہا۔ اللہ سے طلب کرنے اور ماگنے کی ہر وقت ضرورت محسوس کرے اور پھر طلب کرنے کا ڈھنگ بھی سیکھے۔ جیسے سیدہ حنہ نے کہا کہ اے اللہ میں اس کو جو کچھ میرے بطن میں ہے تیرے نام پر آزاد کرتی ہوں۔ یعنی اس کو تیرے گھر کی خدمت کے لیے مختص کرتی ہوں میں اپنی دنیوی خواہشات کو اس سے پورا نہیں کرنا چاہتی بلکہ تیری عطای کردہ چیز کو تیرے ہی نام پر چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔ ہاں ! فطرت انسانی کے مطابق ان کے دل میں بیشک یہ خواہش ہوگی کہ یہ میری نرینہ اولاد ہوگی جو ہیکل کی خدمت میں سرگرم عمل رہے گی۔ ” فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ “ ” میرے اللہ ! میری طرف سے یہ نیاز قبول فرما لے۔ “ مسلمانوں کے لیے اس جملہ میں ایک خاص لمحہ فکر ہے۔ کاش کہ کوئی فکر کرنے والا بھی ہو۔ وہ یہ کہ اس بیان میں یہ اشارہ ہے کہ بنی اسرائیل کی اس گئی گزری حالت میں بھی ان کے اندر ایسے لوگ ابھی موجود تھے جو محض خدمت دین الٰہی کے لیے اپنی اولاد وقف کردیتے تھے یہی وجہ تھی کہ اس گئی گزری حالت میں بھی سینکڑوں سال تک اپنی تاریخ کو زندہ رکھ سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی دین قائم ہی نہیں رہ سکتا جب تک اس کے اندر وہ لوگ موجود نہ ہوں جو اپنی زندگیوں کو دین کی خاطر وقف کردیں۔ کیا یہ عبرت کا مقام نہیں ! کاش کہ ! مسلمان قوم بھی اس سے سبق حاصل کرے اور خصوصاً وہ لوگ جو دنیوی عزت و جاہ بھی رکھتے ہیں تاکہ اولاد کی صحیح تربیت کر کے دین کی خدمت ان سے لے سکیں افسوس کہ آج اللہ کے دین کو دکانداری بنا دیا گیا پھر جس کے پاس کوئی سرمایہ نہ ہو اور کوئی علم حاصل نہ کرسکا ہو ، لولا لنگڑا ہو اس طرح کے سارے لوگ دین کے پیشوا و امام بن گئے۔ انہوں نے اللہ کے دین کو ” برباد “ کرنے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی اللہ کا دین دین نہ رہا بلکہ ہنسی اور مذاق بن گیا۔
آج بدقسمتی سے مساجد کو مساجد نہ رہنے دیا گیا بلکہ کاروباری مرکز بنادیا گیا ہے جہاں ثواب کے ٹھیکدار رہ رہے۔ رقمیں وصول کر کے ثواب عطا کرتے ہیں۔ دین کیا ہے ؟ موم کی ناک ہے چاہو جدھر موڑ کرلے جائو۔ اللہ ان ٹھیکیداروں سے بچائے۔ ہاں ! ہاں ! قوم مسلم یاد رکھو اگر تم ساری دنیا کے بادشاہ بھی بن جائو تو بھی دین اسلام کی شوکت و عظمت دنیا میں قائم نہیں ہو سکتی جب تک کہ تم میں وہ لوگ کثرت سے نہ ہوں جو اللہ کے دین کے لیے اعلائے کلمة اللہ کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔
Ayah 3:36سیدہ حنہ کے ہاں لڑکے کی بجائے لڑکی کی پیدائش ہوئی :
89: سیدہ حنہ نے اپنے پیٹ کے حمل کو بارگاہ ایزدی میں وقف کرنے کی نذر مانی تھی یقینا ان کو خیال ہوگیا کہ میرے پیٹ سے لڑکا پیدا ہوگا کیونکہ بچہ ہی اس خدمت کو زیادہ مناسب طریقے سے سر انجام دے سکتا تھا۔ پس جب حنہ کا حمل وضع ہوا تو معلوم ہوا کہ اس حمل میں لڑکا نہیں لڑکی تھی۔ ظاہر ہے کہ خیال میں یہ بات ضرور آئی ہوگی کہ اگر یہ لڑکا ہوتا تو اس خدمت کے لیے موزوں تھا جو خدمت اس سے لیے لینے کا میرا خیال تھا اب معلوم نہیں مشیت ایزدی کا یہ فیصلہ کس رنگ میں پورا ہوگا ؟ اس نے فطرةً یہ کہا کہ اے میرے اللہ ! مجھے تعجب ہے کہ میرے ہاں ! تو لڑکی پیدا ہوئی ہے۔ ” اللہ خوب جانتا جو اس کے پیدا ہوا “ اللہ نے اس ایک ہی جملہ میں یہ بتا دیا کہ جب خدمت کے لیے تو نے اپنے حمل کو وقف کیا تھا اس خدمت کو لڑکی بھی ادا کرسکتی ہے گویا اس کی وضاحت بھی فرما دی کہ اس میں تعجب کی کوئی ضرورت نہیں جو کچھ پیدا ہوا ہے وہ اللہ کے علم سے پوشیدہ نہیں۔ اگر یہود کی رسم و رواج کے مطابق لڑکی ہیکل کی خدمت گزار نہ ہو سکتی ہو کیونکہ ہیکل کے وقف ہونے والا شادی نہیں کرسکتا تو یہ ان کی رسم ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ شدہ بات نہیں۔ قانون الٰہی اس بات کا مخالف نہیں پاکیزگی اور طہارت میں اگر مرد کا کوئی مقام ہے تو عورت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ مرد نیک اور پاکباز ہو سکتا ہے تو عورت کیوں نہیں ہو سکتی ؟
علم الٰہی میں تیرا وہ لڑکا جس کے متعلق تجھے خیال تھا اس لڑکی سے بہتر نہیں تھا :
90: انسان کی سوچ محدود ہے اور مشیت ایزدی کے فیصلے لا محدود ہیں یعنی انسان کی ہر سوچ سے وہ ذات الٰہ واقف اور ہر خواہش کو جانتی ہے لیکن اس ذات الٰہ کے فیصلوں سے کوئی بھی واقف نہیں۔ وقتاً فقوتا وہ جتنا چاہتا ہے کسی کے علم میں ڈال دیتا ہے۔ وہی ذات ہے جو علیم بھی ہے اور سمیع بھی اس کے علم کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا اور وہ سب کے علموں سے واقف ہے۔ وہ پوشیدہ سے پوشیدہ رازوں کو جانتا ہے اور کسی کے لبوں پر بات آئے یا نہ آئے وہ سب کچھ جانتا ہے کیونکہ وہدلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے۔ اے عمران کی بی بی ! تیری تمنا لڑکے کی تھی ! کیوں ؟ اس لیے کہ تیرے خیال میں لڑکی سے یہ نذر پوری ہوتی نظر نہیں آتی ؟ کیونکہ اسرائیلی قانون اجازت نہیں دیتا۔ قانون الٰہی میں یہ بات موجود نہیں ہے اس لیے قانون الٰہی غالب آیا ہے اور یاد رکھ اے عمران کی بیوی ! اس لڑکی کی عظمت ومنزلت تو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ تو بیشک اس کی ماں ہے لیکن ماں اتناہی جانتتی ہے جتنا کہ تو نے اظہار کردیا۔ یعنی اس مولود سے جو جو عظمتیں وابستہ ہیں ان کی خبر غریب ماں کو کیسے ہو سکتی ہے ؟ ان سے تو بس اللہ ہی خوف واقف ہے۔ اس لیے یہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ لڑکا اس لڑکی جیسا نہیں ہو سکتا تھا۔ جن رسومات اور رواجات کو اس لڑکی کے ذریعے توڑا جاسکتا ہے ان کو لڑکے سے توڑنا ممکن ہی نہ تھا۔ لیکن یہ بات علم الٰہی کے اندرتھی ایکانسان اس سے کیسے آگاہ ہو سکتا تھا جب تک اس کو اللہ نہ بتا دے۔
والدہ مریم کا اپنی نومولودہ کا نام ” مریم “ رکھنا :
91: سیدہ حسنہ کے اس بیان میں کتنی نشانیاں اور کتنی نصائح ہیں اگر کوئی مستفید ہونے والا ہو۔ دیکھو انہوں نے اپنے ذہن میں ایک بات رکھی تھی کہ میرے لڑکا پیدا ہوگا لیکن ان کے ذہن کے مطابق نہیں ہوا کیونکہ لڑکی پیدا ہوگئی۔ لیکن اپنے خیال کے خلاف پاکر وہ شکایت زبان پر نہیں لائیں کہ اللہ نے یہ کیا کیا ؟ میرے دل کی حسرت پوری نہ ہوئی وغیرہ۔ نہیں بلکہ وہ صرف اظہار خیال کر کے اس پر قانع ہوگئیں جو عطا کرنے والے نے عطا کیا۔ وہ قطعاً بددل نہیں ہوئیں بلکہ مشیت ایزدی پر وہ بہرحال راضی ہیں۔ اب اللہ سے اپنے دل ہی دل میں کہہ رہی ہیں کہ میرے اللہ ! میں نے اس کا نام مریم رکھا گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دل میں ” مریم “ نام ڈال دیا گیا اور اپنے دل کی بات کو اس ڈالنے والے ہی پر اظہار کررہی ہیں کہ مجھے وہ نام قبول ہے جو تو نے ہی میرے دل میں ڈالا ہے ہاں ! اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نومولود کا نام رکھنے کا حق ماں کو بھی ہے۔ اے میرے رب ! میں اسے یعنی اپنی بچی کو اور اس کی ذریت یعنی اولاد کو تیری ہی پناہ میں دیتی ہوں۔ سبحان اللہ ! یہ اس بات کا اظہار ہے کہ میری خواہش میں لڑکا تھا اور تیرے قانون مشیت میں لڑکی تھی۔ تیرا لکھا غالب آیا اور میں تیرے قانون مشیت پر دل و جان سے راضی ہوگئی اور اب میں اس کو اور اس کے ہونے والی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں کیونکہ شیطان لعین تو ہر آن انسان کو بہکانے اور پھسلانے کے کام سر انجام دے رہا ہے اور یہ بھی تیرا ہی قانون مشیت ہے کہ تو نے اس کو یہ ڈھیل دے رکھی ہے۔ میری بچی بھی آخر انسان ہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تیری امان میں رہی تو اس کو شیطان کا چوکا متاثر نہیں کرسکے گا اور تو ہی عالم الغیب اور حی وقیوم ہے۔ جب تو نے اس کو لڑکی بنایا ہے اور عام معاشرہ کے خلاف اس کے مقام کو میرے خیالی لڑکے سے بڑھ کر مقام عطا فرمایا ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ تو نے اس پر کوئی بڑی ہی بھاری ذمہ داری ڈالنے کا ارادہ کیا ہے اور اب ان بھاری ذمہ داریوں کو نبھانے کی توفیق بھی تیرے سوا کسی کے پاس نہیں۔ تو ہی ہے جو اس کے حال اور مستقبل دونوں سے ہر وقت ایک جیسا واقف ہے اور میں تیریرپا پر بالکل راضی ہوں۔ میں نے تو صرف اپنے دل کی خواہش کا اظہار تیرے سامنے کردیا ہے تو ہی ہے جو میری نیت سے بھی واقف ہے اور مریم کی معصومیت سے بھی آگے جو کچھ ہونے والا ہے تو سب سے واقف ہے میرے دل کی تمنا تو یہی ہے کہ وہ خود اور اس کی ساری اولاد اور اولاد کی اولاد جو کچھ ہو سب تیری ہی امان میں رہیں۔ دعائوں کا سننے والا بھی تو ہی ہے میری ہی مناجات قبول فرما۔ صحیح بخاری میں مس شیطان کے متعلق جو بیان ہے اس کا ذکر آگے آئے گا۔
سیدہ مریم کی ولادت سے قبل آپ کی والدہ ماجدہ نے جو نذر مانی تھی اور جو باتیں ان پر ظاہر ہوئی تھیں اس کی بابت بہت سی تفصیلات قدیم ترین مسیحی نوشتوں میں درج تھیں لیکن بزرگان کلیسانے جب کانٹ چھانٹ کر کے مستند اناجیل اربعہ مرتب کرنا شروع کی تو ان مضامین اور بیانات کو ان سے خارج کردیا اور اس کی شہادت آج ان کے اکابر دے رہے ہیں۔ ہم اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔ ملاحظہ ہو۔ کتھولک ڈکشنری ص 48 ہیسٹگز کی ڈکشنری آف دی بائبل ج 3 ص 288 تفسیر ماجدی انگریزی ص 180 ۔
قرآن کریم کے ان چند ہی الفاظ سے بھی اس کی وضاحت ہو رہی ہے کہ والدہ مریم نہایت ہی عابد اور زاہدہ خاتون تھیں اور توحید ان کے دل میں پیوست تھی کیونکہ ان کی مناجات کے لفظ لفط سے وہ نمایاں ہے اور ” وَذُرِّیَّتَھَا “ میں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ والدہ مریم اللہ سے امید رکھتی تھیں کہ لڑکی کا سلسلہ نسل سے آگے چلے گا اور یہ بھی کہ جس طرح ہر انسان اپنی نرینہ اولاد سے اولاد کی خواہش رکھتا ہے بالکل اسی طرح اپنی نسوانی اولاد سے بھی اولاد کا خواہش مند ہوتا ہے اگرچہ وہ اس کا برملا اظہار نہ کرتا ہو۔