Ayah 3:84اب اعلان کیا جا رہا ہے کہ سب نبیوں کی نبوت کا اقرار ایمان کی شرط ہے :
170: ” اے پیغمبر اسلام ! تم کہہ دو “ الخ یہ خطاب یا تو رسول اللہ ﷺ کو ہے اور آپ ﷺ کی عظمت کے پیش نظر شاہانہ طریقہ کلام کا حکم دیا اور یا یہ حکم دیا کہ اپنے ساتھ اپنے متبعین کو بھی شامل قرار دے کر اظہار ایمان کرو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خطاب تو ہر مومن کو ہے اور حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنے ساتھ دوسرے مومن بھائیوں کو شامل سمجھ کر اظہار ایمان کرو۔
” ہم ایمان لتے ہیں اس پر جو کچھ ہم پر نازل ہوا “ یعنی قرآن کریم پر جو ہم پر اتارا گیا ہے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے جو کچھ ہم تک پہنچا ہے اور ظاہر ہے کہ وہ بھی قرآن کریم میں ہے اور اس میں وہ سب کچھ شامل ہے جو آپ ﷺ نے قرآن کریم کی تشریح و تفسیر میں امت کو سمجھایا اور بتایا ہے۔ یعنی جو کچھ ہمارے رسول ﷺ پر نازل ہوا وہ ہم پر بھی نازل ہوا ہے اس لیے جو کچھ اترا ہے وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک ہی جیسا ہے اور سب اس کے پابند اور اس کے تابع ہیں۔ رسول بھی اور ایمان والے بھی ہاں ! جو باتیں اور ہدایتیں رسول کے لیے مخ (رح) صوص ہیں ان کی پہلے اس میں وضاحت کردی گئی ہے اور جو کچھ ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر نازل ہوا ہے۔ ان دونوں رسولوں کا خاص کر ذکر کیا گیا اس لیے کہ ان کے متبعین ہی اس وقت زیادہ تر موجود تھے اور انہی کو یہ اعتراض تھا کہ مسلمان ان نبیوں کی تعلیم کو نہیں مانتے حالانکہ حقیقت یہ تھی ان کے ماننے والوں نے ان کی تعلیم ہی کو بگاڑ دیا تھا اس لیے سب کچھ اپنے پاس سے گھڑ کر ان کے ذمہ گا دیا گیا تھا جس کا ذکر قرآن کریم میں بار بار کیا گیا اور ان دونوں گروہوں کو دعوت دی گئی کہ جو باتیں آج تم ان کے نام منسوب کرتے ہو انہوں نے ان کی کہاں تعلیم دی ہے ذرا اس جگہ کی نشاندہی کرو لیکن وہ اس کی نشاندہی نہ کرسکے اس لیے کہ دراصل وہ ان دونوں کی تعلیم ہی نہ تھی۔ اور یہ بھی انبیاء کرام کی تعلیم ایک ہی جیسی ہوتی ہے اس لیے کہ ان کا مخرج ایک اور صرف ایک ہی ہے۔ اور وہ وہی ہے جس کی تعلیم خودرسول اللہ ﷺ دے رہے ہیں۔
فرمایا کہ جن انبیاء کرام (علیہم السلام) کے ناموں کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے ان کی تعلیم پر بھی ہمارا ایمان ہے اور جن کا ذکر کیا گیا ان سب کی تعلیم پر ہم ایمان رکھتے ہیں اس لیے کہ ہم ان میں سے کسی ایک کو بھی الگ نہیں کرتے نہ ہی ان کی تعلیم میں کوئی تضاد تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سب کی تصدیق کرتے ہیں اور کسی ایک کی بھی تکذیب نہیں کرتے۔ ہاں ! محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے آنے والوں کی تعلیم پر ہمارا ایمان ہے اور اس کے ساتھ ہی ہم اس پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور اگر کوئی دعویٰ نبوت کرے گا تو وہ جھوٹا اور کذاب ہی ہوگا اس لیے اس کی یقینا تکذیب کریں گے اور ببانگ دہل کریں گے اور اس کو کذاب کہیں گے اور سمجھیں گے اور تحریر کریں۔
Ayah 3:85دین اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا دین قبول کرنے والوں کا حال :
171: اگر کوئی تاجر راس المال ہی کو ضائع کر دے تو وہ کیا تجارت کرے گا ؟ دین اسلام کو چھوڑنے والوں کا بھی ایسا ہی حال ہے کہ گویا انہوں نے راس الامال ہی کو ضائع کردیا۔ دین اسلام ہی تو وہ دین ہے جو سب انبیاء کرام (علیہم السلام) کا موعود دین ہے اور یہی دین ہے جو سارے رسولوں کی تصدیق کا ضامن ہے اور بلحاظ اپنے معنی کے سارے ذرات عالم کا مذہب بھی ہے تو جو شخص ایسے کامل اور مکمل دین کو چھوڑ کر کسی ناقص دین کو قبول کرے گا وہ خسارہ میں ہے اور خسارہ بھی وہ جو راس المال میں ہو اس لیے اس نے اپنے راس المال کو تباہ کردیا اور یاد رہے کہ دین اسلام میں راس المال انسان کی فطرت ہے اور حدیث رسول صل اللہ علیہ وسلم گواہ ہے کہ ” کل مولود یولد علی الفطرۃ “ ہر ایک انسانی بچہ اس فطری دین پر پیدا ہوتا ہے۔ پس جو شخص اسلام یا کامل فرمانبرداری کی راہوں کو ترک کر کے ادھر ادھر بھٹکتا پھرتا ہے اس نے دراصل اپنی فطرۃ ہی کو بگاڑ دیا۔ زیر نظر آیت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کامل راہیں نجات کی صرف اسلام میں پائی جاتی ہیں گو قرآن کریم دوسرے مذاہب کی خوبیوں کا اعتراف کرتا ہے اور اس بات کا بھی اعلان کرتا ہے کہ سب مذاہب کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے مگر اس کے ساتھ ہی اس امر حق کا بھی اظہار فرماتا ہے کہ سب مذاہب میں غلطیوں کے راہ پا جانے اب انسان ان کے ذریعہ سے گناہ سے نجات حاصل نہیں کرسکتا۔
یہی وجہ ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ من عمل عملاً لیس علیہ امرنا فھو رد ” جو ایسا عمل کرتا ہے جس پر ہمارا امر نہیں وہ مردود ہے۔ “ ہاں ! ہر ایک نیکی کے کام پر خدا اور اس کے رسول کا امر موجود ہے پس نیکی کا کام کوئی بھی کرے وہ مردود نہیں اور اس لیے یہ ضروری ہے ہر نیکی کا کام رسول اللہ ﷺ نے خود کیا اور کرنے کا حکم دیا اور ہر نیکی کے عمل پر آپ ﷺ کی مہر ثبت ہے اور اس لیے یہ بھی ضروری ہے کہ سب لوگ دین واحد پر جمع ہو کر گناہ کی غلامی سے بھی نجات حاص کریں اور دنیا میں ایک عظیم الشان اخوت نسل انسانی کے قائم کرنے کا موجب بھی ہوں۔ مختصر لفظوں میں یوں سمجھو کہ یہی دین نوع انسانی کے لیے ہدایت کی عالمگیر راہ ہے لیکن لوگوں نے اسے چھوڑ کر اپنی الگ الگ گروہ بندیاں بنا لیں ہیں اور ہر گروہ دوسرے گروہ کو جھٹلانے لگا ہے۔ قرآن کریم اس لیے آیا ہے کہ اس گمراہی سے دنیا کو نجات دلائے وہ کہتا ہے کہ سچائی کی راہ یہ ہے کہ تمام راہنمایان عالم کی یکساں طور پر تصدیق کرو اور سب کی متفقہ اور مشترکہ تعلیم کو دستور العمل بناؤ یہی راہ ہدایت اور دین اسلام کا ماحاصل ہے لیکن افسوس کہ آج اس دین اسلام کو دین تسلیم کرنے والے خود گروہ بندیوں کی سب سے بڑی لعنت میں مبتلا ہو کر متفرق ہوگئے۔ اس کا جتنا ماتم کیا جائے اتنا ہی کم ہے کہ ادراک باد مٹانے کے لیے تسلیم کیا جاتا تھا لیکن جب ادراک خود ہی باد ہوگیا تو وہ باد کو کیا مٹائے گا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھو (عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة بقرہ : 173:2 ، سورة بقرہ : 258:2)
دین اسلام کی راہ سے انحراف کرنے والوں کا حال قرآن کریم نے مختلف طریقوں اور حالتوں سے بیان فرمایا ہے ایک دو جگہوں کو زیرنظر کرلو اور غور کرتے رہو کہ غور و فکر ہی سے حق کی راہ واضح ہوجاتی ہے لکیر کا فقیر راہ راست پر کم ہی گامزن ہو سکتا ہے جیسے لکیر پے ٹن والے کو کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ چناچہ دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے :
” اور جس شخص پر ہدایت کی راہ کھل جائے اور اس پر بھی وہ اللہ کے رسول سے مخالفت کرے اور مومنوں کی راہ چھوڑ کر دوسری راہ چلنے لگے تو ہم اسے اسی طرف لے جائیں گے جس طرف کو اس نے جانا پسند کرلیا ہے اور اسے دوزخ میں پہنچا دیں گے اور یاد رکھو کہ جس کے پہنچنے کی جگہ دوزخ ہوئی تو یہ کیا ہی بری جگہ پہنچنے کی ہے۔ (النساء : 115:4) ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہوا کہ :
” اے پیغمبر اسلام ! جب منافق آپ ﷺ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کہ بیشک آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق یقینا جھوٹ بولتے ہیں۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا ہے اس طرح یہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں بیشک یہ برے کام ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں یہ اس لیے کہ وہ ایمان لائے پھر کفر کرنے لگے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی اب یہ لوگ حق بات کو نہیں سمجھ پاتے۔ “ (المنافقون : 1:63 تا 3)
ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ :
” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لیے بخشش کی دعا کرے تو یہ لوگ اپنے سرپھیرلیتے ہیں اور آپ ﷺ ان کو دیکھیں گے کہ متکبرانہ انداز میں بےرخی برتتے ہیں۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ ان کے لیے بخشش کی دعا کرو یا نہ کرو ان کے حق میں یکساں ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کبھی ان کو معاف نہیں کرے گا اور اللہ تعالیٰ کبھی حق سے تجاوز کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (المنافقون : 6 ۔ 5:63)
ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ :
” اے پیغمبر اسلام ! تم ان کے لیے دعا مغفرت کرو یا نہ کرو اب ان کی بخشش ہونے والی نہیں۔ تم اگر ستر مرتبہ بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو جب بھی اللہ انہیں کبھی نہیں بخشے گا۔ یہ اس بات کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ دائرہ ہدایت سے نکل جانے والوں پر کامیابی وسعادت کی راہ کبھی نہیں کھولتا۔ “ (التوبہ : 80:9)
Ayah 3:86ایمان کے بعد کفر اختیار کرنے والوں کے لیے کامیابی کی راہ نہیں کھولی جاتی :
172: جنت کی راہ ان لوگوں کے لیے کیسے کھولی جاسکتی ہے جو ایمان کی دولت سے مالامال ہونے کے بعد کفر کی طرف لوٹ گئے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ان لوگوں کا بیان ہے جو ایمان لانے کے بعد مرتد ہوگئے اور مشرکین مکہ سے جا ملے اور ان میں سے اکثر مفسرین نے ابوعامر راہب کا نام بھی لیا ہے مگر عبداللہ بن عباس ؓ سے جو رویات ہے اس میں اہل کتاب ہی کا ذکر ہے اور اس رکوع کا سیاق وسباق بھی اس کی تصدیق کرتا ہے کیونکہ اس رکوع میں اصل مخاطب تو اہل کتاب ہی ہیں۔ اسلام لانے کے بعد کفر کرنے کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ لوگ مسلمان ہونے کے بعد پھر اپنے دین میں لوٹ گئے لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ پہلے انبیاء کرام (علیہم السلام) پر ایمان لائے اور اس کے بعد جب نبی کریم ﷺ مبعوث ہوئے تو ان کا انکار کردیا یہ بھی ہر لحاظ سے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرنے کے مترادف ہے۔ ایک اس لحاظ سے کہ پہلے وہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کو مانتے تھے اور ظاہر ہے نبی کی نبوت کو تسلیم کرنے والا اللہ تعالیٰ کو مانتا ہی ہے لیکن جس نبی کی نبوت کو بھی وہ مانتے تھے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو یا ان کے بعد سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ان پر سچا ایمان لانے کا مطلب تو یہ تھا کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کو بھی تسلیم کرلیتے اور اس طرح وہ اپنی ہی کتابوں اور اپنے ہی انبیاء کی تصدیق کرتے کیونکہ ان کی کتابوں اور ان کے انبیاء کرام (علیہم السلام) نے محمد رسول اللہ ﷺ کی آمد کی پیش گوئیاں بیان کی تھیں۔ انہوں نے سابق انبیاء کو نبی مانا لیکن آپ ﷺ کی نبوت کا انکار کر کے پھر وہ کافر ہی ہوگئے کہ انہوں نے گزشتہ کتابوں اور نبیوں کو مانا تھا ان کا بھی انکار ہوگیا اس لحاظ سے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرنے کے زمرہ میں وہ خودبخود داخل ہوگئے۔
فرمایا جا رہا ہے کہ جن لوگوں نے اسلام اختیار کرنے کے بعد پھر کفر اختیار کرلیا ایسے گروہ پر کامیابی کی راہ کیسے کھولی جاسکتی ہے ؟ گویا یہ استفہام انکاری ہے کہ ایسے لوگوں پر ہدایت کی راہ نہیں کھل سکتی اس لیے کہ انہوں نے خود ہدایت کی راہ چھوڑ کر کفر کی روش اختیار کرلی۔ حالانکہ اس گروہ نے گواہی دی تھی سابق کتابوں اور سابق نبیوں سے تعلیم پا کر اللہ کا رسول یعنی محمد رسول اللہ ﷺ برحق ہے۔ اور اس کے برحق ہونے کی وہ روشن دلیلیں بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے جو پہلے انبیاء کرام (علیہم السلام) کی پیشین گوئیوں میں موجود تھیں پھر یہ سب کچھ دیکھ سن لینے کے بعد انہوں نے آپ ﷺ کی نبوت کا انکار کردیا حالانکہ اب ان کے پاس انکار کا کوئی جواز موجود نہیں تھا۔
جب انہوں نے جان بوجھ کر کفر کی روش کو پسند کرلیا تو پھر اللہ کے قانون تو پہلے ہی موجود تھا کہ کفر کی روش اختیار کرنے والوں کو وہ کبھی راہ ہدایت نہیں عطا کرتا۔ جس ظلم کے مرتکب ہوئے تھے جان بوجھ کر اور سمجھ سوچ کر ہوئے تھے اس لیے ان کی ہدایت کی اب کوئی راہ کھلی نہ رہ گئی اس لیے کہ انہوں نے جان بوجھ کر وہ راستہ اختیار کیا جو کفر کا راستہ تھا اور اس طرح دیکھ سمجھ کر انہوں نے اس راستہ سے منہ پھیرا جو سیدھا جنت کو جا رہا تھا ایسے ظالموں کے لیے قانون الٰہی میں بھی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی اور قانون الٰہی یہی ہے کہ اپنی حالت کے بدلنے کی خود نہ سوچے اس کی حالت کو اللہ کبھی نہیں بدلتا۔ سوئے ہوئے کو تو جگایا جاسکتا ہے ، لیکن جاگتے کو کون جگائے۔ جو جان بوجھ کر سویا ہوا بن چکا ہو۔
Ayah 3:87لعنت الٰہی برسنے کا صحیح مفہوم اور فرشتوں اور انسانوں کی لعنت کا مطلب :
173: ایمان کے بعد کفر اختیار کرنے والوں کے عمل کا نتیجہ یا ردعمل کیا ہوگا ؟ ارشاد ہو رہا ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی لعنت اس کے فرشتوں اور انسانوں کی لعنت کے مستحق ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت کا مطلب جیسا کہ پہلے بیان ہوا یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق قرار پائے اور پھر اللہ تعالیٰ کا غضب یہی کہ اس کی رحمت سے دوری ہو جاء یعنی رحمت الٰہی سے محروم ہوگئے اور اللہ کی لعنت کا مطلب یہی قرار پایا کہ وہ اس کی رحمت سے دور کردیے گئے اور فرشتوں کی لعنت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور رہنے کی وہ بددعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! ایسے انسانوں کو جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر کی روش اختیار کرلی تھی اپنی رحمت سے دور رکھ اور سب انسانوں کی لعنت کا مفہوم یہ ہوا کہ کوئی شخص بھی ان کو پسند نہ کرے گویا کہ وہ ایسے برے ہیں کہ برے بھی ان کو برا کہتے ہیں۔ جیسے یہودیوں کے لیے ان کی لعنتوں کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ :
” لیکن اگر تو ایسا نہ کرے کہ خداوند اپنے خدا کی بات سن کر اس کے سب احکام اور آئین پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں احتیاط سے عمل کرے تو یہ سب لعنتیں تجھ پر نازل ہوں گی اور تجھ کو لگیں گی۔ شہر میں تو لعنتی ہوگا اور کھیت میں بھی لعنتی ہوگا۔ تیرا ٹوکرا اور تیری کھٹوتی دونوں لعنتی ٹھہریں گے تیری اولاد اور تیری زمین کی پیداوار اور تیرے گائے بیل کی بڑھتی اور تیرے بھیڑ بکریوں کے بچے لعنتی ہوں گے۔ تو اندر آتے لعنتی ٹھہرے گا اور باہر جاتے بھی لعنتی ٹھہرے گا۔ خداوند ان سب کاموں میں جن کو تو ہاتھ لگائے لعنت اور اضطراب اور پھٹکار کو تجھ پر نازل کرے گا جب تک کہ تو ہلاک ہو کر جلد نیست و نابود نہ ہوجائے۔ “ (استثناء : 15:28 تا 20)
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ زیرنظر آیت میں دونوں جگہ لعنت کو دوزخ قرار دیا جائے کیونکہ رحمت الٰہی سے محرومی کا نتیجہ یقینا دوزخ ہوگا اور اس جگہ الفاظ بھی اس کی تاکید کرتے ہیں کیونکہ فرمایا گیا ہے خَالِدِیْنَ فِیْھَا یعنی وہ اس لعنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یعنی دوزخ کے عذاب کے ہمیشہ کے لیے مستحق ہوجائیں گے۔
Ayah 3:88ان کا عذاب ان سے کبھی ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ ہی ان کو مہلت ملے گی :
174: جس طرح وہ اسلام سے نکلے اور کفر میں داخل ہوئے اور پھر کفر ہی پر ان کو موت آگئی یعنی ان کا خاتمہ کفر پر ہی ہوا اسی طرح ان کے لیے عذاب بھی اب ہمیشہ ہمیشہ ہی کے لیے رہے گا اور وہ کبھی ہلکا نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ اس سے نکل سکیں گے کیونکہ ان کے عذاب میں تخففہ بھی نہیں ہوگی اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی یعنی نہ ایسا ہوگا کہ کچھ دیر کے لیے عذاب سے چھوٹ جائے اور پھر گرفتار ہوگئے بلکہ یہاں سے چھوٹنے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے کیونکہ دنیا کی زندگی کے بعد موت یقینی تھی لیکن اس زندگی میں موت کا کوئی تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ گویا یہ غیر متغیر عذاب ہے جس میں تبدیلی کا کوئی امکان ہی نہیں۔
Ayah 3:89ہاں ! توبہ کرنے والوں کے لیے رحمت الٰہی پھر تیار نظر آتی ہے :
175: ٹھوکر کھائی اور گر گئے جو نقصان ہونا تھا وہ ہوگیا۔ صبح کا روٹھا شام کو بھی گھر آجائے تو خیر ہے۔ جن لوگوں نے توبہ کرلی اور اپنے آپ کو سنوار لیا یعنی اصلاح نفس کرلی ، دوبارہ ایمان میں داخل ہوگئے اور کفر کی راہ کو ترک کردیا اور جو بگاڑ کیا تھا اس کو درست کرلیا تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے یقینا ان کی توبہ قبول کرے گا اور ان سے جو جو حق تلفیاں ہوئی ہیں ان کو معاف کر دے گا بلاشبہ اس کی ذات کے سوا کوئی بخشش کرنے والا نہیں جتنی چھوٹ وہ دے سکتا ہے کوئی دوسرا نہیں دے سکتا۔ وہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے ایسے ہی لوگوں کے متعلق جو بھول کر پھر سنبھل جاتے ہیں۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ :ـ
” بلاشبہ منافقوں کے لیے یہی ہوتا ہے کہ دوزخ کے سب سے نچلے درجہ میں ڈالی جائیں اور اس دن کسی کو بھی تم تم ان کا رفیق و مددگار نہ پاؤ گے پھر بھی کیا تم چاہتے ہو کہ ان کی سی روش تم بھی اختیار کرو ؟ ہاں ! ہاں ان میں سے جن لوگوں نے توبہ کرلی ، اپنی عملی حالت سنوار لی اللہ کے حکم پر مضبوطی کے ساتھ جم گئے اور اپنے دین میں صرف اس کے لیے ہوگئے تو بلاشبہ ایسے لوگ منافقوں میں سے نہیں سمجھے جائیں گے بلکہ مومنوں کی صف میں ہوں گے اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو ان کا اجر عطا فرمائے ایسا اجر جو بہت ہی بڑا اجر ہوگا۔ لوگو ! اگر تم شکر کرو اور اللہ پر ایمان لاؤ تو اللہ تعالیٰ نے تم کو عذاب دے کر کیا کرنا ہے ؟ یعنی وہ تم کو عذاب کیوں دے گا ؟ اللہ تعالیٰ تو انسانی اعمال کا قدرشناس اور ان کی ہر طرح کی حالت کا علم رکھنے والا ہے۔ “ (النساء : 146:4 ، 174)
Ayah 3:90وہ لوگ کون ہیں جن کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور وہ توبہ کیسی توبہ ہے ؟
176: گزشتہ آیت 89 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ : ” جن لوگوں نے کفر کے بعد توبہ کرلی اور اپنے آپ کو سنوار لیا تو بلاشبہ اللہ رحمت کرنے والا بخش دینے والا ہے۔ “ اور اس آیت 90 میں ہے کہ ” ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی “ ہاں ہاں ! ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوگی ؟ کیسے لوگوں کی ؟ جنہوں نے کفر اختیار کیا اور برابر کفر میں بڑھتے ہی گئے اور منہ سے توبہ توبہ بھی کرتے رہے تو آخر نا کی توبہ توبہ کرنے کو کیوں کر قبول کرلیا جائے گا جب کہ ان کا عمل بتا رہا ہے کہ انہوں نے توبہ نہیں کی۔ پہلے لوگوں کے متعلق ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی اور اپنے آپ کو سنوار لیا یعنی سچے دل سے کفر سے توبہ کر کے ایمان و اسلام قبول کرلیا اور ایسی توبہ کی کہ دوبارہ اس کفر اور اس گناہ کے مرتکب نہ ہوئے اور دوسرے لوگ وہ ہوئے جو منہ سے توبہ توبہ کرتے رہے لیکن عملاً پہلے سے بھی بدتر ہوتے گئے اور انہوں نے اپنے آپ کو سنوارنے کی بجائے مزید بگاڑا اس لیے ارشاد الٰہی ہوا کہ ” جن لوگوں کا حال ایسا ہے کہ انہوں نے ایمان کے بعد کفر کیا یعنی کفر کی راہ اختیار کی اور اپنے کفر میں بڑھتے ہی گئے ” ثُمَّ اَزْدَادُوْ کُفْراً “ ” لَنْ تُقْبَلَ تَوْبُتُھُمْ “ تو ایسے لوگوں کی توبہ کبھی قبول نہیں ہوگی اس لیے کہ ان کو سچی توبہ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی اور وہ اپنے توبہ کرنے میں سچے نہیں بلکہ جھوٹے ہیں اور سیدھی راہ سے ایسے بھٹکتے ہیں کہ بھٹکتے ہی چلے جا رہے ہیں۔
حضرت قتادہ ؓ اور حسن بصری (رح) کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول یہودیوں کے حق میں ہوا جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات پر ایمان لانے کا دعویٰ کیا لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کو ماننے سے انکار کردیا اور اس طرح انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) اور توراۃ سے عملاً انکار کردیا کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی آمد کی پیش گوئیاں بھی تورات میں موجود تھیں جن کو انہوں نے تورات ماننے کے دعویٰ کے باوجود جھٹلایا اور اس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کر کے مزید کفر میں ترقی کی گویا وہ ایمان لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے اور برابر کفر میں بڑھتے ہی گئے اور ایمان لانے کے دعویٰ کو بھی ساتھ دہراتے رہے اور ان کے اس دعویٰ کو کیونکر قبول کرلیا جائے جب کہ ان کا دعویٰ ایمان سوفی صدی غلط ہے۔
بلاشبہ شان نزول یہود ہی کے حق میں ہوگا لیکن بظاہر یہ حالت جس شخص کی بھی ہو آیت کا مفہوم اس پر چسپاں ہوق گا اس لیے کہ حکم عام ہے صرف یہودیوں سے خاص نہیں۔ عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور انجیل کو مانا لیکن جب محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے باوجود اس کے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے آپ ﷺ کی آمد کی اطلاع دو ٹوک الفاظ میں دی تھی اور آج بھی وہ انجیل میں موجود ہے جس کا ذکر پیچھے گزر چکا لیکن انہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کو نہیں مانا اس طرح وہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کو بھی جھٹلانے والے ہوئے اور محمد رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم سے پھر اعراض کرنے کا کفر اختیار کیا تو آخر وہ اس آیت کے مفہوم میں کیوں نہیں آئیں گے بالکل آئیں گے اس لیے کہ جو ان کا دعویٰ ہے وہ اس دعویٰ میں بالکل جھوٹے ہیں اور اس کفر میں وہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔
” اَلَّذِیْنَ کَفَرُوا “ سے مراد وہ منافق بھی ہوسکتے ہیں اس لیے اعلانیہ کافروں سے منافقوں کا کفر زیادہ خطرناک ہے اور ان کا دعوی بھی کفر کی بجائے ایمان کا ہے نہ وہ منافقت سے باز آئیں اور نہ ہی دعویٰ ایمان سے تو وہ دعوی ایمان میں آخر کیوں کر سچے ہوئے ؟ اور ان کے دعویٰ ایمان کو کیسے قبول کیا جاسکتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں ترقی ہی کرتے جائیں گے منہ سے سو بار وہ ایمان کا دعویٰ کریں اور کفر سے تبہ کا اظہار کریں ان کی یہ توبہ کبیھ مقبول نہیں ہوگی اور قرآن کریم نے ان گنت مقامات پر اس کی وضاحت فرما دی ہے اور ان کی اس توبہ کا انکار کیا ہے اور ان کے دعویٰ ایمان کو قبولیت نیں بخشی اگرچہ وہ مسلمان قوم میں شمار بھی ہوتے رہے اور کاغذی پوزیشن میں وہ مسلمان گنے جاتے رہے لیکن باوجود اس کے کہ وہ نماز ، روزہ کی مشقت بھی برداشت کرتے رہے اور کفر میں بھی ترقی پذیر ہی رہے اور آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اللہ کے خالق ہونے کا اقرار کرنے کے باوجود شرک کرتے ہیں اور دن بدن اس کفر میں بڑھتے ہی جاتے ہیں اور مرتے دم تک اس کفر پر قائم رہتے ہیں۔ مجاہدنے اس آیت سے ایسے ہی کافر مراد لیے ہیں جو شرک کے کفر میں مبتلا ہیں اور ایمان کا دعویٰ بھی رکھتے ہیں۔
ایسے ہی لوگوں کے متعلق قرآن کریم نے دوسرے مقامات پر مزید وضاحت فرما دی ہے چناچہ ایک جگہ ارشد الٰہی ہے :
” جن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایمان لائے پھر کفر میں پڑگئے ، پھر ایمان لائے پھر کفر میں پڑگئے اور پھر برابر کفر میں ہی بڑھتے رہے تو فی الحقیقت ان کا ایمان لانا ایمان لانا نہ تھا۔ اللہ انہیں بخشنے والا نہیں اور ہرگز ایسا نہ ہوگا کہ انہیں کوئی راہ دکھائے “ (النساء 4 : 137) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم میں بےباک ہوگئے اور مرتے دم تک اسی حالت میں رہے تو اللہ تعالیٰ انہیں کبھی بخشنے والا نہیں نہ انہیں کامیابی کی کوئی راہ دکھائے گا۔ بجز جہنم کی راہ کے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اللہ کے لیے ایسا کرنا بالکل مہمل ہے کوئی نہیں جو اس کے قانون میں رکاوٹ ڈال سکے۔ “ (النساء 4 : 168 ، 169)
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
” کتنے ہی چہرے اسروز یعنی قیامت کے روز کالے پڑجائیں گے اور جن لوگوں کے چہرے کالے پڑجائیں گے ان سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کی راہ اختیار کی تو جیسی کچھ تمہاری منکرانہ چال تھی اب اس کی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھ لو۔ “ (ال عمران 3 : 106) ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ :
” دراصل جو لوگ ہدایت کے واضح ہونے کے بعد پھر اس ہدایت سے پھرگئے ان کے لیے شیطان نے یہ بات آراستہ کر دکھائی ہے اور جھوٹ امیدوں کا سلسلہ ان کے لیے درازکر رکھا ہے۔ “ (محمد 74 : 25)
مزید تفصیل کے لیے دیکھو عروۃ الوثقیٰ جلد الو سورة بقرہ آیت : 317
Ayah 3:91کفر پر قائم رہنے والے جب دارالعمل سے نکل گئے تو اب ان کے ایمان کی کوئی صورت باقی نہ رہی :
177: ” جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اور مرتے دم تک کفر پر جمے رہے۔ “ ان کی حالت کا بیان ہورہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ یہ دنیا دارالعمل ہے اور آخرت دارالجزاء۔ دارالعمل یعنی دنیا میں جو کچھ انسان کرے گا آخرت میں اسکا بدلہ پائے گا۔ دارالاخرة، دارالعمل نہیں اس لیے اس میں پہنچ کر کوئی ہزار حیلے کرنے کہ اب اس کے لیے کوئی عمل کی صورت نکل آئے اور اب وہ اچھے اعمال کرے تو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ اس احکم الحاکمین کا فیصلہ ہے جو نہ اپنے فیصلہ کو بدلتا ہے اور نہ ہی بدلنے دیتا ہے۔
فرمایا جارہا ہے کہ فرض کرو کہ ایسے لوگوں کے لیے زمین و آسمان کے خلا کے برابر بھی سونا ہو اور وہ اس وقت فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات چاہیں تو ان کو نجات نہیں ملے گی اس لیے کہ وہ مقام مقام جزاء ہے مقام عمل نہیں اور یہ سونا اس وقت پیش کرنا اس کا ایک عمل ہوا اور اب اس کے عمل کا وقت نہیں بلکہ عمل کا وقت دنیا تھی اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔
ذرا غور کرو بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے گی بچہ پیدا ہوتا ہے اور آهستہ آهستہ وہ بڑھتا جاتا ہے ایک وقت آتا ہے کہ اس کے مکتب میں داخل ہونے کا وقت آجاتا ہے لیکن اسے مکتب میں داخل نہیں کیا گیا وہ سن بلوغ کو پہنچتا ہے تو اس کو کچھ پچھتاوا نہیں ہوتا تاکہ اب ہی اس کا کچھ مداواہو جائے۔ اب جو ان ہوجاتا ہے شادی ہوتی ہے محنت مزدوری کر کے وہ اپنا اور بچوں کا پیٹ پالتا ہے پھر آهستہ آهستہ بوڑھا ہوجاتا ہے کہ اب مزدوری کے قابل بھی نہیں رہتا اور اب اس کو یہ غم کھائے جاتا ہے کہ کاش وہ بچہ بن جائے اور اب مکتب میں داخل ہو کر تعلیم حاصل کرے ، جوان ہو کر اور تعلیم سے فارغ ہو کر فلاں مقام پر حج لگ جائے۔ کیا ایسا ممکن ہے ؟ کیا اس کی سوچ صحیح ہے ؟ اس کے لیے جو کچھ بھی وہ خرچ کرسکتا ہے کر دے کامیاب ہوجائے گا ؟ ہرگز ہرگز نہیں معلوم ہوگیا کہ گیا وقت کبھی ہاتھ نہیں آتا یہی بات اس آیت زیر نظر میں سمجھائی جارہی ہے کہ اے انسان جب وقت نکل جائے تو وہ دوبارہ لوٹ کر واپس نہیں آتا۔ لیکن افسوس کہ آج جس قوم کو یہ درس دیا گیا تھا اس نے اس اصول سے مکمل طور پر انحراف کردیا اور اس نے وقت کی کوئی قدر نہ کی اور راہنمایاں قوم نے قوم کو ایسے راستہ پر ڈال دیا کہ انہوں نے اس تیزی سے گزرنے والے وقت کے متعلق کبھی سوچا تک بھی نہیں بلکہ انہوں نے ایسے طریقے اختیار کیے کہ قوم کی سوچ کبھی اس طرف منتقل ہی نہ ہو۔ یہی نہیں بلکہ قوم کو ایسی گہری نیند سلادیا گیا کہ وہ کبھی جاگ ہی نہ سکے اگر کسی کی آنکھ کھل گئی تو اس کو ایسی تھپکیاں دیں کہ وہ پھر سو گیا اگر کسی کی آنکھ پھر بھی کھلی دیکھی تو اس کو ایسی گولی کھلا دی کہ اس کی ہوش گم ہوگئی۔
راہنمایانِ وقم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس لیے کہ انگریز سرکار اور امریکہ بہادر نے ان کے بھتے کردیے اور ان کے کان میں پھونک دیا کہ تمہاری قوم سوئی رہی تو مرے میں رہو گے اگر یہ جاگ گئی تو تمہاری خیر نہیں اس لیے کہ اس قوم کے جاگنے کا وقت انکو اب تک یاد ہے۔ اللہ کرے کہ کوئی ایسا جرنیل اٹھے جو ان راہنمایانِ قوم پر ہاتھ صاف کرے اور قوم کو جگا کر اس تیزی سے گزرنے والے وقت کا احساس دلا دے۔
مختصر یہ کہ انسان کو بتایا جارہا ہے کہ اے انسان ! جب تک تو دارالعمل میں ہے تیری کوتاہیوں کا مداوا ممکن ہے اور جب تو دارالعمل سے نکل کر دارالجزاء میں داخلل ہوگیا اس وقت تیری کوتاہیوں کا کوئی مداوا ممکن نہیں۔ اس لیے جو کرنا ہے کرلے آخر موت ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ہمیں مذہبی رہنماؤں نے باور کرا دیا کہ کوتاہیاں کرتے رہو اور کرتے کرتے ہی مرجاؤ مداوا ہم کرالیں گے تم مرکر دیکھو ہم تمہری قبر پر ڈیرہ ڈال دیں گے اور عذاب کے فرشتوں کو ایسی نتھ ڈالیں گے کہ وہ تمہارے قریب نہیں جانے پائیں گے۔ ان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ گیا ہوا کبھی واپس نہیں آسکتا اس لیے نہ وہ آئے گا نہ کچھ بتائے گا ، لہٰذا انہوں نے اپنی دکانداری ایسی چلائی کہ اس دارالعمل میں رہنے والوں کو اپنے اپنے دارالجزاء میں جانے والوں کے لیے کچھ کرنے کی سوچ دے دی کہ ان کے لیے کچھ کرلو تاکہ تمہارے دارالجزاء میں جانے کے بد دارالعمل میں آنے والے تمہارے متعلق کچھ سوچ سکیں۔ اب یہ مذہبی راہنما اتنی ترقی کر گئے اور ان کا کاروبار اتنا چل گیا جس کے بند ہونے کا ان کو کوئی فکر نہیں اس لیے کہ نہ ہلدی لگتی ہے نہ پھٹکڑی اور الکھوں کماتے ہیں جانے والے جائیں جہنم میں ان کی بلا سے لیکن آخر یہ خود کب تک رہیں گے۔
جس طرح پچھلی قوم میں یہ دکانداریاں ہوتی آئی ہیں اور با بھی دنیا کی ساری قوموں میں ہورہی ہیں اسی طرح قوم مسلم میں بھی چل رہی ہیں اور چلتی رہیں گی تم کو خود سوچنا ہے معاملہ کا حل اسی میں ہے اللہ توفیق دے تو خود سوچو قرآن کریم کو پڑھو اور سمجھو او اس کے مطابق عمل کی کوشش کرو۔ دیکھو قرآن کریم پکار پکار کر کہه رہا ہے کہ ” جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اور مرتے دم تک کفر پر جمے رہے اور اب مرنے کے بعد ان کی طرف سے کوئی کرہ ارض بھی سونے سے بھر کر دے کہ اس کا فدیہ دے کر اس کو چھڑا لیاجائے جب بھی اس کا فدیہ قبول نہیں ہوگا۔ اس کے لیے دردناک عذاب ہے اور کوئی شخص بھی ان کا مددگار نہیں ہو سکتا جو ان کو اس عذاب سے نجات دلوا دے۔ “
یہ تیسرے ، چوتھے ، ساتویں ، دسویں ، چالیسوں اور برسیاں تو ہمارے مذہبی راہنماؤں کی دکانداری کا راس المال ہیں دارالجزاء میں جانے والوں کو اس سے کیا حاصل ہوگا ؟ کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا اور یقیناً نہیں ہوگا۔
بخاری و مسلم میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” قیامت کے دن خفیف ترین عذاب والے دوزخی سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اگر تیرے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو کیا آج عذاب سے چھوٹنے کے لیے تو وہ سب چیزیں دے دے گا وہ دوزخی کے گا جی ہاں ! دے دوں گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا جب تو آدم کی پشت میں تھا تو اس وقت میں نے تجھ سے اس سے بہت زیادہ آسان چیز کی خواہش کی تھی کہ پیدا ہونے کے بعد میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا مگر تو بغیر شرک کرنے کے نہ رہا “ اب تو جو کچھ ہونا تھا وہ ہوگیا۔
جن کے لیے درد ناک عذاب ہے ان کے لیے کوئی مددگار نہیں ہوگا :
178: جو لوگ کفر کی راہ پر گامزن ہوئے اور اس پر گامزن رہے کہ موت نے کام تمام کردیا یقیناً ان کے لیے دردناک عذاب ہے اور اس عذاب سے نکالنے کے لیے کوئی بھی اب ان کی مدد نہیں کرسکتا۔ دوسری جگہ قرآن کریم نے اس مضمون کی اس طرح وضاحت فرما دی :
” بلاشبہ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکا پھر وہ کفر ہی کی حالت میں مر گئے تو اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ “ (محمد 47 : 34 ) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” لیکن ان لوگوں کی توبہ کوئی توبہ نہیں جو ساری عمر تو برائیاں کرتے رہے لیکن ان میں سے جب کسی کے سامنے موت آکھڑی ہوئی تو کہنے لگا اب میں توبہ کرتا ہوں ظاہر ہے کہ ایسی توبہ سچی توبہ نہیں اس طرح ان لوگوں کی توبہ بھی کوئی توبہ نیں جو دنیا سے کفر کی حالت میں جاتے ہیں۔ ان تمام کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ “ جو انہیں پاداش عمل میں پیش آئے گا۔ “ (النساء 18:4) ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
” کفر کی موت مرنے والے کے لیے کوئی نہیں کہ اس کی شفاعت کر کے اسے بچا لے اور جس قدر بھی بدلے ہوسکتے ہیں اگر وہ سب دے دے تو بھی اس سے وصول نہیں کیے جائیں گے کیونکہ بدعملی کے نتیجہ سے کوئی بھی فدیہ نہیں بچا سکتا یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی بدعملی کی وجہ سے ہلاکت میں چھوڑ دیے گئے ان کے لیے کھولتا ہوا پاین پنیے کو ہوگا اور دردناک عذاب جو انکار حق کی پاداش میں بھگتنا ہوگا۔ “ (الانعام 70:6)
ایک جگہ ارشاد ہوا کہ :
” اگر ہر ظالم انسان کے قبضہ میں وہ سب کچھ آجائے جو روئے زمین میں ہے تو وہ ضرور اسے اپنے فدیہ میں دے دے ۔ “ جو کی حال میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ (یونس 10 : 54 )
ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
” جن لوگوں نے حکم الٰہی قبول نہیں کیا ان کے تمام اعمال رائیگاں جائیں گے وہ نامرداری اور بدحالی سے کسی طرح بھی بچ نہیں سکتے اگر کرہ ارض کی تمام دولت ان کے اختیار میں آجائے اور پھر اسے دوگنا بھی کردیا جائے تو یہ لوگ اپنے بدلہ میں ضرور اسے بطور فدیہ کے دے دیں لیکن وہ نہیں بچ سکیں گے یہی لوگ ہیں جن کے لیے حساب کی سختی ہے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور جہنم کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ “
(الرعد 13 : 18 )
ایک جگہ ارشاد خداوندی ہے کہ :
” جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے اگر ان کے قبضہ میں وہ تمام مال و متاع آجائے جو روئے زمین میں موجود ہے اور اتنا ہی اور بھی وہ پا لیں پھر یہ سب کچھ روز قیامت عذاب سے بچنے کے لیے فدیہ میں دے دیں جب بھی اسے قبول نہیں کیا جائے گا ان کے لیے عذاب درد ناک ہے۔ “ (المائدہ 36:5)
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
” اگر ان ظالموں کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اتناہی اور بھی ہو تو یہ لوگ قیامت کے روز بڑے عذاب سے بچنے کے لیے سب کچھ فدیہ میں دینے کے لیے تیار ہوجائیں گے اور وہاں اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا وہ وہم و گمان بھی نہ رکھتے تھے۔ “ (الزمر 39 : 47 )
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
” لہٰذا آج کے دن نہ تو کوئی فدیہ تم سے قبول کیا جائے گا اور نہ ہی ان لوگوں سے جو کھلے کافر تھے اور تم سب کا ٹھکانہ جہنم ہے وہی تمہارے لوٹنے کا مقام ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ “ (الزمر 39 : 57)
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
” لہٰذا آج کے دن نہ تو کوئی فدیہ تم سے قبول کیا جائے گا اور نہ ہی ان لوگوں سے جو کھلے کافر تھے اور تم سب کا ٹھکانہ جہنم ہے وہی تمہارے لوٹنے کا مقام ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ “ (الحدید 57 : 15)
مزید تفصیل کے لیے دیکھو عروة الوثقیٰ جلد الو سورة بقرہ آیت : 162
Ayah 3:92اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے وقت کس بات کا خیال رکھناضروریات دین میں سے ہے ؟ :
179: اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرتے وقت یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ مال حلال و طیب ہو اور اچھی قسم کا ہو ادنی قسم کا مال چھانٹ چھانٹ کر نہ دیا جائے۔ ” بر “ کے معنوں میں بہت وسعت ہے اس کے مطلب و مفہوم میں انعام ، جنت ، بھلائی، احسان کی وسعت ، سچائی اور طاعت سب آتے ہیں۔ اگر ” بر “ کی نسبت بندہ کی طرف کی جائے تو اس سے مراد اطاعت ، سچائی اور احسان کی وسعت ہوگی اور اس وقت اس کے مقابل فجور اور عقوق کا لفظ آئے گا لیکن جب نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے مراد رحمت ، جنت اور رضائے الٰہی ہوگی اور اس کے مقابل غضب اور عذاب کا لفظ آئے گا۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ” سچائی اختیار کرو کیونکہ سچائی” بر “ کی طرف لے جاتی ہے اور ” بر “ جنت کی طرف۔ آدمی سچ بولتا رہتا ہے اور سچ ہی کی نیت کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کو ” صدیق “ لکھ دیاجاتا ہے اور جھوٹ سے پرہیز کرو کیونکہ جھوٹ بدکاری کی طرف لے جاتا ہے اور بدکاری دوزخ کی طرف جب آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کی نیت کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں اس کو ” کذاب “ لکھ دیا جاتا ہے۔ “ (رواہ مسلم)
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی مرفوع روایتے کہ صدق کو اختیار کرو صدق ” بر “ کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ دونوں جنت میں لے جاتے ہیں اور کذب سے پرہیز کرو کذب فجور کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ دونوں دوزخ میں لے جاتے ہیں۔ (رواہ احمد وابن ماجہ والبخاری فی الادب)
پیچھے سے سلسلہ مضمون اس رنگ میں چل رہا تھا کہ اہل کتاب اگر ساری زمین کو بھی سونے سے بھر دیں تو وہ ان کی بدیوں کا فدیہ نہیں ہوسکتا اس لیے اب مسلمانوں کو بتایا جارہا ہے کہ وہ ” البر “ یعنی خیر کثیر یا سب قسم کی خیر کے ابواب میں کس طرح داخل ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ سونے سے زمین بھرنے والوں کے بالمقابل جنہوں نے اپنی ساری طاقتوں کو اس سفلی زندگی پر لگا دیا ہے اس گروہ کا ذکر بھی ضروری تھا جو ہر قسم کی خیر اور نیکی کو حاصل کرے تو اس کا گریہ بتایا کہ جن چیزوں سے تم کو محبت ہے وہ خرچ کر دو تو جمیع ابواب خیر میں داخل ہوجاؤ گے۔ ” البر “ کے مختلف معنی لیے گئے ہیں اور سارے کے سارے ہی اپنے اپنے مقام پر صحیح ہیں۔ ” البر “ کے معنی جنت بی لیے گئے ہیں مگر ماحصل دونوں کا ایک ہی ہے کیونکہ جس نے جمیع خصال خیر حاصل کرلیے وہ اس دنیا میں جنت کا مستحق ہوگیا۔ مِمَّا تُحِبُّوْنَ سے مراد صرف مال و ذر ہی نہیں بلکہ ضرورت ہو تو اپنے اوقت عزیز کو اللہ کی راہ میں لگانا اپنی عزت اور مرتبہ کو جس سے انسان یقیناً محبت کرتا ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کو راہ الٰہی یعنی رضائے الٰہی میں لگا دینا یہ سب کچھ اس کے اندر داخل ہے۔ ہاں مال و جائیداد سب سے زیادہ محسوس ہونے عالی چیز ہیں۔ اس لیے ان کا ذکر جب ہوگیا تو سب کچھ اس میں داخل ہوگیا۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگوں نے اس آیت کو حکم زکوٰة والی آیت سے منسوخ تسلیم کیا ہے حالانکہ اس آیت میں بیان کیا گیا اصول اتنا پختہ اور اتنا ہی مضبوط اصول ہے کہ جب تک انسان اس دنیا میں ہے یہ کبھی منسوخ نہیں ہوسکتا۔ نسل انسانی کی ساری ترقیات کا مدار ہی محبوب اشیاء کے خرچ کرنے پر ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے اس اصول کو خوب سمجھا تھا اور اپنی جانیں مال اور جائیدادیں سب کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کردی تھیں یہی وجہ ہے کہ وہ ہر بڑائی اور بزرگی کے وارث قرار پائے تھے۔
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ تمام انصار میں سے حضرت ابو طلحہ ؓ زیادہ مال دار تھے وہ اپنے تام مال اور جائیداد میں ” بیئر حاء “ نامی باغی جو مسجد نبوی ﷺ کے سامنے تھا سب سے زیادہ پسند کرتے تھے اور نبی کریم ﷺ بھی اکثر اسی باغ میں جایا کرتے تھے اور اس کو کنوئیں کا میٹھا اور عمدہ پانی پیا کرتے تھے حب یہ آیت زیر نظر نازل ہوئی تو حضرت ابو طلحہ ؓ نے حضر ہو کر آپ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے اور میرا سب سے زیادہ عزیز مال یہی ” بیئر حاء “ ہے لہٰذا میں اس کو اس امید میں کہ جو بھلائی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بھی میرے لیے جمع رہے میں اس باغ کو راہ خدا میں صدقہ کرتا ہوں ، لہٰذا آپ ﷺ کو اختیار ہے کہ جس طرح مناسب سمجھیں اس کو تقسیم کردیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ تم اس باغ کو اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔ “ حضرت ابو طلحہ ؓ نے عرض کی کہ بہت اچھا اور پھر اس باغ کو اپنے رشتہ داروں ، چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کردیا۔ (بخاری و مسلم ، مسند احمد)
اس طرح کے اور بھی بہت سے واقعات کتب احادیث میں ملتے ہیں اور سارے کے سارے صحیح اور سچے ہیں اس لیے کہ صحابہ کرام ؓ کے دلوں میں جو محبت اللہ تعالیٰ کی کتاب اور محمد رسول اللہ ﷺ کی تھی وہ کسی دوسری چیز کی ہرگز نہ تھی اس کے سامنے دنیا کے مال کی حقیقت ہی کیا ہے ؟
علم الٰہی میں کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں کہ اس کو انسان کی نیت کا بھی علم ہے :
180: ہر عمل کا مدار نیت پر ہے اور اللہ تعالیٰ انسانوں کی نیتوں سے بھی خوب واقع ہے اس پر کوئی پوشیدہ سے پوشیدہ چیز بھی مخفی نہیں مطلب یہ ہے کہ نیک کام کے لیے جو کچھ بھی لگاؤ گے اس کا اجر تو بہرحال ملے گا ، باقی خیر کامل کا جو درجہ اعلیٰ ہے وہ تو اسی وقت حاصل ہوگا جب راہ حق میں اپنے محبوبات و مرغوبات کی قربانی پیش کرو گے۔ مِنْ شَىٍٔ یعنی عام اس سے کہ وہ محبوب ہو یا محبوب نہ ہو۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھو عروة الوثقیٰ جلد اول سورة بقرہ آیت :267 ۔ 215 ۔ 177 ۔
Ayah 3:93وہ طعام جو مسلمان کھاتے ہیں وہ سب کے سب بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھے :
181: طعام ہر وہ چیز ہے جو بطور غذا کھائی جاتی ہے نہ کہ بطور ذوا۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف قرآن کریم میں یہ دعویٰ شائع و ذائع ہے کہ متبع ملت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ اس سے یہود نے علت نکالی کہ تم ملت ابراہیمی کا دعویٰ کیسے کرسکتے ہو جب کہ تم اونٹ کا گوشت کھاتے ہو اس لیے اونٹ کا گوشت تو نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) پر بھی حرام تھا۔ تو یہ آیت گویا ان کی تکذیب کر رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ الفاظ اس اعتراض کے جواب میں ہیں کہ کھانے کی چیزوں میں مسلمانوں کا ملت ابراہیمی سے کوئی اختلاف نہیں۔ ان یعنی یہود کو جواب دینے کے بعد پھر اپنا دعویٰ بیان کیا ہے کہ جو چیزیں ابراہیم (علیہ السلام) نے خود اپنے لیے حرام قرار دے لیا تھا۔ وہ کیا تھا ؟ جیسا کہ اوپر بیان ہوا اور بعض روایات میں آیا ہے کہ وہ اونٹ کا گا شت تھا جو سیدنا یعقوب (علیہ السلام) نے ایک لمبی بیماری کے باعث اس کو حرام ٹھہرا لیا تھا یا بعض روایات کے مطابق اپنے محبوب ترین طعام کو جو اونٹ کا گوشت تھا بطور نذر ترک کردیا تھا۔ کچھ مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے عبادت کے رنگ میں اس کو ترک کیا تھا اور اجازت الٰہی سے ایسا ہوا تھا۔ بہرحال اہل کتاب کا جو اعتراض تھا کہ یہ چیزیں ہمیشہ سے حرام تھیں اور ملت ابراہیمی میں بھیحرام تھیں اس کا جواب دیا ہے کہ اس پر جو دلیل تمہارے پاس ہے وہ پیش کرو اس لیے کہ دعویٰ بغیر دلیل صحیح نہیں ہوتا۔ آج بھی تورات تمہارے پاس موجود ہے اگر کوی ایسی بات اس میں ہے تو سامنے لاؤ ۔ یہود کے پاس نہ کوئی اس کی دلیل تھی نہ وہ پیش کرسکے۔
آج بھی کچھ لوگ اونٹ کی حلت و حرمت میں بحث کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اونٹ اس اس وجہ سے حرام ہے لیکن ان کی اس بحث کی تار عنکبوت کی طرح کوئی وقعت نہیں رکھتی۔
كسی چیز کو بیماری یا مرغوب نہ ہونے کے باعث ترک کردینا فی الواقع حرام نہیں ہوتا :
182: اللہ تعالیٰ نے ان کو حرام نہیں کیا تھا صرف یعقوب (علیہ السلام) کے ترک کرنے سے بنی اسرائَل نے اپنے رواج میں ان کا کھانا ترک کردیا تھا اس سے اس کی حقیقی حرمت ثابت نہیں ہوسکتی اس لیے کہ ایسا تو اکثر ہوتا آیا ہے اور ہو رہا ہے کہ کسی بیماری کی وجہ سے کسی شخص کے لیے کسی چیز کی ممانعت ہوگئی یا اس کی طبیعت کی کراہت کیوجہ سے کسی نے کسی چیز کو کھانا ترک کردیا۔ بحیثیت انسان ہر شخص کو حق ہے کہ جس چیز کو طبیعت مانتی ہے کھائے جسکو نہیں مانتی نہ کھائے لیکن اس کی حلت و حرمت سے کوئی تعلق نہیں۔ خود رسول اللہ ﷺ کے سامنے کسی جانور کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تم کھاؤ میری طبیعت اس کو کھانے کی نہیں ہے۔ اس طرح سے آپ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ کوئی چیز جو حلال و طیب ہو پکا کر جب تمہارے سامنے لائی جائے تو طبیعت چاہے کھاؤ نہ چاہے مت کھاؤ لیکن اس کا غلط نام مت رکھو اور منہ مت چڑھاؤ ۔
الہامی کتاب توراة ہے اس میں کہاں تحریرے کہ اونٹ حرام ہے ؟ :
183: جیسا کہ اوپر مذکورہوا اور بعض روایتوں میں اس کا ذکر بھی آتا ہے کہ سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کو عرق النساء جو ایک بیماری کا نام ہے کی شکایت تھی اس وجہ سے آپ نے بعض غذائیں ترک کی تھیں جن میں اونٹ کا گوشت اور اونٹ کا دودھ بھی شامل تھا۔ ظاہر ہے کے طبعی پرہیز کا حرمت شرعی کے ساتھ کچھ تعلق نہیں تھا۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ توراة کو لے آؤ اور اس کو پڑھ کر سناؤ کہ کہاں لکھا ہے کہ اونٹ کا گوشت یا دودھ حرام ہے اور اگر توراة میں نہیں تو آخر تمہارے پاس کیا دلیل ہے جس سے یہ بات ثابت ہو کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر یہ چیزیں حرام تھیں۔
آج کل جو بعض صوفیہ کا یہ کہنا ہے کہ بعض جانوروں کا گوشت یا بعض غذائیں ترک کرنے سے قرب حاصل ہوتا ہے یہ بھی بالکل من گھڑت باتیں ہیں جن کا شریعت اسلامی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ سرا سر ان ان کی نادانی اور جہالت ہے۔ ان لوگوں کی مشقتیں اور ریاضتیں سب اختراعی چیزیں ہیں جو غذائیں انسان کی روحانی ترقی میں مانع تھیں وہ سب کی سب حرام کردی گئیں ہیں۔ کسی غذا کے حلال و طیب ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ اس راہ میں مانع نہیں۔ توراة میں تو آج تک یہ لکھا چلا آرہا ہے کہ ” وہ سب جیتے چلتے جانور تمہارے کھانے کے لیے ہیں اس میں نے ان سب کو نباتات کی مانند تمہیں دیا ہے۔ “ (پیدائش 3:9)
یاں ! یہود ان واضح اور صریح شہادتوں کے بعد بھی اپنے جھوٹ پر قائم ہیں اور یہ کہے جا رہے ہیں کہ فلاں فلاں چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حرام کی گئی ہیں تو آخر اس کا بھی کوئی علاج ہے ؟ ظاہر ہے کہ ضد و ہٹ دھرمی کانہ کوئی پہلے علاج تھا اور نہ ہی آج ہے۔ نہ ماننے والوں کے لیے کوئی دلیل بھی کارگر نہیں ہوتی اس لیے کہ ” لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ “
Ayah 3:94” میں نہ مانوں “ کہنے والوں کے لیے کوئی دلیل کارگر ثابت نہیں ہوتی :
184: كهاوت ہے کہ کسی نے ماں سے کہا تھا کہ ماں میں شرط لگا کر آیا ہوں کہ کوا سفید ہوتا ہے۔ ماں نے کہا بیٹا ! یہ شرط تو آپ ہی کو ادا کرنا ہوگی۔ کیوں ؟ ماں نے کہا اس لیے کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ کوا سفید نہیں ہوتا بلکہ سیاہ ہوتا ہے۔ بیٹے نے جواب دیا کہ واہ ماں ! میں مانوں گا تو شرط پڑے گی۔ میں مانوں ہی گا کب ؟ جو مجھے شرط پڑے گی سو جن لوگوں نے نہ ماننے کی قسم کھائی ہے ان کا کوئی علاج ؟
قرآن کریم نے امرحق واضح کردیا اور تم نے جو جھوٹ اپنے ہی اکابر اور اپنے نوشتوں کی بابت کھڑ رکھے تھے ان کی کلی کھول دی اور ظاہر ہے کہ جھوٹ گڑنے والے ہی ظالم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ کی وضاحت فرما دی اب تو یہ طریقہ اختیار کرلو :
Ayah 3:95185: اللہ تعالیٰ نے سچائی ظاہر کردی اور اس کی وضاحت فرما دی کہ یہود ونصاریٰ جھوٹے ہیں جو اپنے اپنے گرہوں کو دین ابراہیمی پر بتاتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی یا عیسائی ہیں ۔ حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی اس لیے کہ یہودی اور عیسائیت تو ابراہیم (علیہ السلام) سے ہزاروں برس بعد میں معرض وجود میں آئی۔ غور کرو کہ اللہ تعالیٰ آجانے کے بعد کسی کی گواہی جو تمہاری باتوں کی تصدیق کردے گی ؟ تم ہی بتاؤ کہ ” مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا “ (النساء 4 : 87) وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِیْلًا 00122 (النساء 4 : 122) اور اللہ سے بھ کر بات کہنے میں کون سچا ہو سکتا ہے ؟
پس اے طلبگارانِ دینابراہیم یاد رکھو کہ ملت ابراہیم ہی دراصل دین اسلام ہے اب اگر ملت ابراہیمی کے دعویدار ہو تو یہی وہ ملت ہے جس کا دوسرا نام دین اسلام ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) چونکہ تمہاے سب کے مسلم بزرگ ہیں ان کے اصول دین سے تمہارا انحراف کرنا کسی صورت بھی جائز اور درست نہیں یاد رہے کہ ملت کا اطلاق دین کی طرح ان امور پر ہوتا ہے جو بندوں کو مرتبہ قرب تک پہنچانے اور دونوں جہان میں کامیاب بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کی معرفت بندوں تک بھیجے اور ان کا مکلف کیا ہے دین اور ملت کا فرق یہ ہے کہ ملت کی اضافت صرف انبیاء کرام ہی کی طرف ہوتی ہے اور دوسرے افراد کی طرف نہیں اس لیے ملت خدا بھی نہیں کہه سکتے اور نہملت زید و عمرو کہی جاسکتی ہے ملت کی اضافت ہر حال میں نبی ہی سے ہوتی ہے جیسے ملت محمد ﷺ ملت موسیٰ (علیہ السلام) ملت ابراہیم (علیہ السلام) اور دوسرے یہ کہ ملت کا اطلاق پوری شریعت کے مجموعہ ہوتا ہے جیسے ملت اسلام لیکن ایک ایک رکن کو ملت نہیں کہه سکتے۔ لفظ ملت امللک سے ماخوذ ہے ، امللت میں لکھوایا گویا ہر ملت جس نبی کی لکھوائی ہوئی ہوگی اس کی اضافت بھی اسی نبی کی طرف ہوگی۔
” حَنِیْفًا “ وہ جو ہر طف سے منہ موڑ کر صرف اللہ ہی کا ہو رہا تھا۔ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) نے تمام باطل مذاہب سے مہ موڑ کر دین حق کی طرف رخ کرلیا تھا اور یہ بھی کہ وہ افراط وتفریط سے رخ پھیر کر اعتدال کی طرف مائل تھا۔
” اور یقیناً ابراہیم (علیہ السلام) شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھے “ یہ گویا یہودو نصاریٰ پر تعریض ہے تاکہ یہ دونوں گروہ شرک کرنے کے باوجود دین ابراہیم پر ہونے کے دعویدار تھے۔ “