2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 2:284

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے،1110 ۔ اور جو کچھ تمہارے نفسوں کے اندر ہے اگر تم اس کو ظاہر کردو،1 1 1 1 ۔ یا اسے چھپائے رکھو بہرحال اللہ اس کا حساب تم سے لے گا،1112 ۔ پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا،1113 ۔ اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے،1114 ۔

1110 ۔ (اور کسی دیوی، دیوتا، بروز، مظہر، اوتار کی شرکت اس میں نہیں) قرآن مجید کی طویل ترین سورة کا آخری رکوع شروع ہورہا ہے یہاں پر عقیدۂ توحید کامل کا اعادہ و اثبات ہے۔ سورة کا آغاز اصول دین سے متعلق جامع تعلیم سے ہوا تھا۔ سورة کا خاتمہ بھی اسی طرح جامعیت ومانعیت کے ساتھ بنیادی عقائد پر ہورہا ہے۔ 1 1 1 1 ۔ (زبان سے یا عمل سے) (آیت) ” مافی انفسکم “ جو کچھ دلوں کے اندر ہے۔ افعال ارادی واختیاری میں ہے مثلا کوئی عقیدہ فاسد یا عزم معصیت، اس میں وسوسہ اور گزرنے والے خیالات داخل نہیں کہ وہ حدود مؤاخذہ سے خارج ہیں۔ ولا تدخل الاوساوس و حدیث النفس فیما یخفیہ الانسان لان ذلک ممالیس فی وسعۃ ولکن مااعتقدۂ وعزم علیہ (مدارک) 1112 ۔ (مثل تمام معاصی کے) 1113 ۔ مغفرت ہوگی تو قانون رحمت عامہ کے مطابق اور عذاب ہوگا تو قانون حکمت کاملہ کے ماتحت۔ 1114 ۔ اللہ فاعل بالارادہ ہے، مختار کل ہے اور اس سے منزہ ہے کہ عفو ومغفرت کے لیے اسے ضرورت بطور فدیہ یا کفارہ کے کسی ” خدائے مصلوب “ کی ہو۔ آیت میں اشارۃ رد آگیا عقیدہ نصاری کا اور متعدد مشرک قوموں کے عقائد کا۔ خدا بس اپنے ہی ارادہ یا مشیت کے علاوہ کسی اور قانون کا پابند نہیں جیسا کہ ہندی مشرک قوموں نے عقیدہ کرم سے خیال کر رکھا ہے۔
Ayah 2:285

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

پیغمبر ایمان لائے اس پر جو ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے،1115 ۔ اور مومنین (بھی) یہ سب ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیمبروں پر،1116 ۔ ہم اس کے پیغمبروں میں باہم کوئی فرق بھی نہیں کرتے،1117 ۔ اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کی،1118 ۔ اہم تیری مغفرت (طلب کرتے ہیں) اے ہمارے پروردگار،1119 ۔ اور تیری ہی طرف واپسی ہے

1115 ۔ (یعنی قرآن پر) (آیت) ” امن الرسول “۔ اپنی رسالت یعنی پیام حق کی حقانیت کامل پر ایمان لانے والے سب سے پہلے خود پیغمبرہی ہوتے ہیں۔ ایمان ایمان تو سب برابر ہے۔ لیکن بہ اعتبار ظرف وبہ لحاظ کیفیت پیغمبر کے ایمان عام اور عام افراد امت کے ایمان کے درمیان آسمان اور زمین کا فرق ہے۔ ہر ایک کے ایمان کا مرتبہ بھی اس کی حیثیت اور مرتبہ کے متناسب ہوتا ہے۔ 1116 ۔ اس جامع آیت کے اندر تمام لوازم ایمان بیان ہوگئے ہیں۔ (آیت) ” امن باللہ “۔ اللہ پر ایمان لانا ہے کہ اس کی ذات اور صفت دونوں کی تصدیق کی جائے۔ حسب تصریحات قرآنی وتعلیمات نبوی، یہ تردید ہوگئی دہریت، لاادریت، ارتیاب وغیرہ کی۔ خدائے واحد کی جزم کے ساتھ تصدیق کرنا لازمی ہے۔ (آیت) ” وملئکتہ “ فرشتہ کی تعریف اوپر گزر چکی ہے کہ وہ ایک نوری مخلوق ہے جس سے صدور معصیت کا امکان نہیں۔ کثرت سے مشرک قوموں کو ٹھوکر اسی عقیدہ میں لگی ہے۔ فرشتوں کو بجائے تمامتر خدائی کا رندہ ہونے کے ان کی عظمت سے متاثر ہو کر انہیں کائنات کے مختلف شعبوں میں مستقلا متصرف سمجھنے لگے، اور انہیں دیوی دیوتا کہہ کر پکارنے لگے مثلا فلاں آگ کا دیوتا ہے فلاں ہوا کی دیوی ہے فلاں بارش کا دیوتا ہے۔ وقس علی ھذا۔ قرآن مجید نے جو فرشتوں کے عقیدہ پر بار بار زور دیا ہے اس کا مقصد شرک کی اس خاص قسم یعنی دیوتا پرستی کا اسیتصال ہے۔ فرشتہ گونوری ہوتے ہیں۔ معصوم ہوتے ہیں لیکن بہرحال خالق کائنات کے سامنے انسان ہی کی طرح ایک عاجز وبے بس مخلوق ہوتے ہیں، اللہ کے ساتھ ان کے سامنے انسان ہی کی طرح ایک عاجز وبے بس مخلوق ہوتے ہیں۔ اللہ کے ساتھ ان کی ذات یا صفات کو مدغم کردینا انتہائی حماقت ہے۔ (آیت) ” وکتبہ “۔ آسمانی نوشتوں اور ہدایت ناموں کے باب میں بھی بڑی افراتفری ہوتی آئی ہے۔ کسی کسی قوم نے تو ان کے وجود ہی سے انکار کردیا اور صاف کہہ دیا کہ خدا ہے لیکن کوئی ہدایت نامہ نہیں بھیجتا۔ اور بہت سی قوموں نے انہیں ذہن انسانی کی پیداوار قرار دیا۔ جنہیں چند بڑے اور ہدایت یاب انسانوں نے مل کر لکھ لکھا لیا۔ (آیت) ” ورسلہ “۔ رسالت کا عقیدہ بھی مشرک قوموں نے بالکل مسخ کردیا تھا۔ دنیا رسولوں کو بھول چکی تھی اور قائل اس کی رہ گئی تھی کہ جس کے ذریعہ سے ہدایت اور پھر نجات ہوتی ہے، وہ یا تو خدا کا اکلوتا بیٹا ہوتا ہے یا خود خدا کسی انسانی یا حیوانی قالب میں۔ قرآن مجید نے آکر بتایا کہ یہ انسان اور بندے ہی ہوتے ہیں جن پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوتی رہتی ہے۔ سلسلہ وحی کو ماننا بھی گویا ” اوتار “ کے عقیدہ پر ضرب لگانا ہے۔ 1117 ۔ (کہ بعض کے قائل ہوں اور بعض کے منکر۔ بلکہ سب کو برحق سمجھتے ہیں اور سب کے مسلک ہدایت پر اللہ کی طرف سے ہونے کا یقین رکھتے ہیں) یہ مقولہ مومنین کا ہے۔ ای یقولون لا نفرق (بیضاوی و مدارک) یہود کی طرح نہیں کہ بجز اپنی نسل یعنی اسرائیل انبیاء کے اور کسی کو نہ مانیں اور ان میں سے بھی جس کا جی چاہے انکار کردیں۔ یہاں تک کہ سلسلہ اسرائیلی کے خاتم (حضرت مسیح علیہ السلام) سے تو وہ عداوت رکھیں کہ اپنے خیال میں انکی جان ہی لے ڈالیں۔ اور نہ نصرانیوں کی طرح کہ ایک اسرائیلی نبی کے ماننے میں تو وہ غلو کریں کہ پیغمبری پانے والے سے عداوت ہی ٹھان لیں۔ انگریزوں میں ایک مشہور مؤرخ گبن ہوا ہے۔ قرآن مجید اس کے نزدیک کلام الہی نہیں، کلام محمدی ﷺ ہی ہے۔ باایں ہمہ اس آیت کی وسعت پر حیران ہو کر کہتا ہے :۔ ” محمد کی وسیع المشربی نے اپنے پیش رو وں کے لیے بھی وہی درجہ رکھا جو خود اپنے لیے اور ہبوط آدم (علیہ السلام) سے لیے کر نزول قرآن تک سلسلہ وحی کو قائم رکھا “۔ (تاریخ زوال رومن امپائر۔ جلد 340) (آیت) ” لانفرق “۔ بعض اہل طریق نے اسی پر قیاس کرکے کہا ہے کہ اولیاء کاملین میں بھی یہ تفریق نہ کرنا چاہیے کہ کسی سے اعتقاد رکھے اور کسی سے انکار کرے۔ 1118 ۔ (آیت) ” سمعنا “۔ سن لیا ہم نے اللہ کے پیام کو۔ (آیت) ” اطعنا “۔ اطاعت کی ہم نے پیامبر کی۔ 1119 ۔ (آیت) ” غفرانک ربنا “۔ یعنی وہ مغفرت جو تو ہی عطاکرے گا۔ اس میں رد آگیا نصاری اور دوسری قوموں کا۔ جو مغفرت کو عطیہ الہی نہیں، بلکہ ” ابن اللہ “ یا کسی اور کی عنایت کا ثمرہ سمجھتے ہیں :۔
Ayah 2:286

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 2:286 in the Quran reader

اللہ کسی کو ذمہ دار نہیں بناتا مگر اس کی بساط کے مطابق،1120 ۔ اسے ملے گا وہی جو کچھ اس نے کمایا اور اس پر پڑے گا وہی جو کچھ اس نے کمایا،1121 ۔ اے ہمارے پروردگار ہم پر گرفت نہ کر اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں،1122 ۔ اے ہمارے پروردگار ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ڈالا تھا ان لوگوں پر جو ہم سے پیشتر تھے،1123 ۔ اے ہمارے پروردگار ہم سے وہ نہ اٹھوا جس کی برداشت ہم سے نہ ہو،1124 ۔ اور ہم سے درگزر کر اور ہم کو بخش دے،1125 ۔ اور ہم پر رحم کر تو ہی ہمارا کارساز ہے،1126 ۔ سو ہم کو غالب کر کافر لوگوں پر،1127 ۔

1120 ۔ (آیت) ” لا یکلف “۔ اللہ کسی کو ذمہ دار نہیں بناتا احکام شرعیہ میں بجز الخ۔ احکام شرعی کی قید لگا دینے سے امور تکوینی خارج ہوگئے، ذمہ دار بنا دینے سے مراد ہے ان اعمال سے متعلق سوال وباز پرس ہونا۔ (آیت) ” الا وسعھا “۔ یعنی اس کے اختیار کے اندر ہوں۔ گوبعض کسی قدر مشکل ہوں اس قید کے لگادینے سے وسوسہ اور خیالات غیراختیاری سب حد محاسبہ سے نکل گئے۔ الوسع من القدرۃ ما یفضل عن قدر المکلف (راغب) قال لا یکلف اللہ نفسا الا وسعا تنبیھا انہ یکلف عبدہ ما ینوء بہ قدرتہ (راغب) الا طاقتھا وقدر تھا لان التکلیف لایرد بفعل لا یقدر علیہ المکلف (مدارک) الا ما تسعہ قدر تھا فضلا ورحمۃ (بیضاوی) صوفیہ محققین نے اس آیت سے ایک سبق تو یہ لیا ہے کہ مجاہدہ میں طالب کی حالت کی رعایت رکھنا ضروری ہے۔ اور دوسرا نتیجہ یہ نکالا ہے کہ تجلیات کا ورود ونزول بھی طالب کی طاقت و استعداد کے متناسب ہی ہوتا ہے۔ اور اگر ان میں کبھی کمی ہو تو طالب کو تنگدل نہ ہونا چاہیے۔ ،1121 ۔ یعنی اس نیک عمل پر ثواب وجزا جو بندہ اپنے ارادہ واختیار سے کرے، اور اس بدعمل پر عذاب وسزا جو بندہ اپنے ارادہ اختیار سے کرے یہ رد ہے۔ ہندی وبدھ مت کے عقیدہ ” کرم “ کا۔ یعنی انسان جو بھی کرے گا وہ لازمی نتیجہ ہوگا پچھلے جنم میں اس کے افعال و اعمال کا، گویا اس قالب میں انسان اپنے ارادہ واختیار سے کچھ کر ہی نہیں سکتا۔ یہ جبریت کی انتہائی شکل ہے۔ اور تناسخ اور عقیدہ جبریت لازم وملزوم ہیں۔ قرآن مجید نے اس فاسد عقیدہ پر ضرب لگائی اور بتایا کہ نیکی اور بدی کی راہیں تو انسان کے اپنے اختیار کی چیزیں ہیں۔ اور یہیں سے نصاری کے عقیدۂ کفارہ کا بھی ردنکل آیا۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ انسان کو اب عمل صالح کی ضرورت ہی نہیں۔ ” ابن اللہ “ سب کی طرف سے بھینٹ چڑھ گئے ہیں اور سب کی نجات کا سامان ان کی مصلوبیت سے ہوگیا ہے ! 1122 ۔ یہ مومنین کو جامع وکامل دعا کی تعلیم ہو رہی ہے (آیت) ” ان نسیئا “ یعنی باوجو یادرکھنے کی کوشش کے بھول جائیں (آیت) ” اخطانا “۔ یعنی باوجود عزم اہتمام کے بھی چوک جائیں۔ ،1123 ۔ (اور جیسی جیسی آزمائشوں سے انہیں دو چار ہونا پڑا، وہ ہم پر نہ ڈال) (آیت) ” علی الذین من قبلنا “۔ یعنی بعض سابق امتوں پر۔ انجیل، میں بطرس، حواری مسیح (علیہ السلام) کا قول غیر اسرائیلی مسیحیوں کے باب میں نقل ہوا ہے کہ اب تم ان کی گردن پر ایسا جوا رکھ کر جس کو نہ ہمارے باپ دادا اٹھا سکتے تھے نہ ہم، خدا کو کیوں آزماتے ہو ؟ (اعمال 15: 10) گویا اسرائیلی شریعت ان کے حق میں ایسا سخت جوا تھا جو اٹھائے اٹھ نہ سکتا تھا۔ (آیت) ” اصرا “ سے مراد ہے سخت حکم جو حد بشری سے خارج تو نہ ہو لیکن اس کی تعمیل میں مشقت وکلفت زیادہ پڑے۔ استعیر للتکلیف الشاق (کشاف) والمراد بہ التکالیف الشاقۃ (روح) قرآن مجید نے ضمنا اس مبالغہ بیان کی بھی اصلاح کردی اور یہ اشارہ کردیا کہ گو وہ احکام سخت ضرور تھے لیکن نہ ایسے کہ ان پر ناقابل برداشت ہونے کا اطلاق ہوسکے۔ 1124 ۔ (نہ حوادث تکوینی میں نہ احکام شرعی میں اور حق پرستی کو ہمارے لیے آسان کردے) دعا کا یہ جزوکمال عبدیت کا مظہر ہے۔ شان رحمت کا اقتضاء تو خود ہی یہ ہے کہ ایسا بار ہم پر نہ ڈالا جائے گا لیکن عقلا اس کا امکان تو بہرحال تھا اور ہے۔ مالک کامل کو مملوک پر اور خالق کو عبد پر اختیار و تصرف تو ہر وقت، ہر طرح کا حاصل ہے۔ 1125 ۔ (بلاکسی روکاٹ کے۔ بغیر ادنی شائبہ سزا کے) (آیت) ” غنا “۔ ہم سے یعنی ہماری بھول چوک سے۔ 1126 ۔ (ہر عالم میں) (آیت) ” وارحمنا “ یعنی ہم پر رحمت کامل ہو دنیا اور آخرت دونوں میں۔ 1127 ۔ (کہ یہ دشمن ہیں تیرے دین اور تیرے آئین کے) (آیت) ” فانصرنا علی “۔ نصر کا صلہ جب علی کے ساتھ آتا ہے تو معنی غلبہ کے ہوجاتے ہیں۔ اور غلبہ سے مراد دونوں میں بہ لحاظ دلائل وعلوم غلبہ علمی ومعنوی اور بہ لحاظ فتوحات جہاد، غلبہ مادی وملکی، ای فی محاربتنا معھم وفی مناظرتنا بالحجۃ معھم وفی اعلاء دولۃ الاسلام علی دولتھم (کبیر)