2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 2:155

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور ہم تمہاری آزمائش کرکے رہیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور مال اور جان اور پھلوں کے کچھ نقصان سے،568 ۔ اور آپ صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنادیجیے،569 ۔

568 ۔ (بہ تقاضائے حکمت) خطاب مومنین صادقین سے چلا آرہا ہے، انہیں بتایا ہے کہ مصبتیں اور بلائیں ان پر بھی یقیناً آئیں گی، لیکن بہ طور سزا و عذاب نہیں، بلکہ ابتلاء وامتحان کے رنگ میں، اور اس ارشاد سے ان کی تسلی وتسکین کا بہترین سامان بہم پہنچا دیا۔ آزمائش خداوندی سے مقصود نتائج کو دنیا پر ظاہر کردینا ہوتا ہے، ورنہ حق تعالیٰ کو تو یہ علم ظاہر ہے کہ ہمیشہ سے حاصل ہے۔ (آیت) ” بشیء “ سے یہ بتا دیا کہ امتحان بہت سخت نہیں ہوگا، ہر ملک کے جزوقلیل ہی سے متعلق ہوگا، کل سے متعلق نہیں۔ (آیت) ” الخوف “۔ خوف کا لفظ جامع ہے۔ جان، مال، عزت ہر چیز سے متعلق اندیشہ وہر اس اس کے اندر آگیا (آیت) ” الجوع “۔ بھوک کا امتحان یہ ہے۔ کہ کسی حاجت کے باوجود ہر مال حرام سے بچے، اور نہ روزہ سے ہچکچائے، نہ فقروفاقہ سے ڈرے، (آیت) ” الاموال “۔ رشوت، سود، خیانت، بیع فاسد، ہر غیر شرعی معاملات سے دستبردار ہوجائے، اور جو مالی نقصانات تکوینی طور پر واقع ہوں، چوری ہوجائے، آگ لگ جائے، ان سب پر صبر سے کام لے، (آیت) ” الانفس “۔ موت، بیماری، جہاد کے حادثون میں صبر سے کام لے ، (آیت) ” والثمرات “ اولاد سے بھی مراد ہوسکتی ہے اور تجارت، زراعت، وغیرہ کے منافع بھی، ہر قسم کی نیک نامی، ماموری کے موقع بھی اس میں شامل ہیں محققین نے کہا ہے کہ بندہ کا ہر امتحان شرک و توحید کے درمیان فارق ہوتا ہے۔ عوام کا امتحان شرک جلی سے متعلق ہوتا ہے، اور خواص کا شرک خفی سے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت نص ہے اس باب میں کہ مجاہدہ اضطراری بھی نافع ہوتا ہے۔ 569 ۔ صبر کرنے والوں کو، یعنی ان بندوں کو جو حالت غم میں بھی حدودشریعت سے قدم باہر نہیں نکالتے، صبر کرنے کے معنی یہ نہیں کہ بندہ بالکل بےحس ہوجائے۔ اور غم کو غم محسوس ہی نہ کرے، اس کا نام صبر نہیں، بےحسی ہے۔ صبر یہ ہے کہ انتہائی غمناک ودردانگیز واقعہ پر بندہ عقل کو نفس پر غالب رکھے، زبان کو شکوہ اور ناشکری سے نہ آلودہ ہونے دے اور نظر مسبب الاسباب پر، اس کی مصلحت و حکمت پر اس کی شفقت و رحمت پر رکھے۔ غم میں بھی قانون فطرت سے میں کچھ بدظن نہیں ! یہ سمجھتا ہوں کے میرا دوست ہے، دشمن نہیں ! (اکبررحمۃ اللہ علیہ)
Ayah 2:156

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

کہ جب ان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو وہ کہتے ہیں،570 ۔ کہ بیشک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور بیشک ہم اسی کی طرف واپس ہونے والے ہیں،571 ۔

570 ۔ (حضور قلب کے ساتھ) تحصیل صبر میں عقیدہ قلب، تلفظ زبانی پر مقدم ہے۔ (آیت) ” مصیبۃ “ کے لغوی معنی افتاد کے ہیں۔ اور حدیث میں اس کی حقیقت بیان کی گئی ہے کل شیء سام ال مومن فھو مصیۂ (جو شے بھی مسلمان کو ناگوار گزرے بس وہی اس کے حق میں مصیبت ہے) گویا اس کا اطلاق نہایت وسیع اور عام ہے، اور اس کے تحت میں چھوٹا بڑا ہر ناخوشگوار واقعہ تکوینی آگیا۔ بیماری ہو، مالی نقصان ہو، دوستوں عزیزوں کی مفارقت کا صدمہ ہو، موت کا غم ہو، لاولدی ہو، توہین اور بےعزتی ہو، وقس علی ھذا۔ المصیبۃ کل ما اذی ال مومن فی نفس اومال اواھل صغرت اوکبرت (بحر) ۔ زبان سے اس آیت کی تلاوت کا دستور بحمد اللہ اب بھی اکثر مسلمان گھروں میں پایا جاتا ہے۔ لیکن صبر کے لیے محض زبانی اعادہ ہرگز کافی نہیں۔ قلب کے سامنے بھی استحضار پوری طرح ہونا چاہیے، الاستر جاع تسلیم واذعان (مدارک) ولیس الصبر باالاسترجاع باللسان بل بہ وبالقلب (بیضاوی) (آیت) ” قالوا “ صورۃ صیغہ ماضی کا ہے۔ لیکن مقصود مومنین صابرین کی عادت کا بیان ہے۔ اذا بیان کسی ایک اور اتفاقی واقعہ کے لیے نہیں۔ عام عادت کے اظہار کے لیے آیا ہے۔ یعنی جب جب، یا جب کبھی بھی کوئی ناخوشگواری پیش آتی ہے۔ والمعنی فی اذا ھنا علی التکرار والعموم (بحر) 571 ۔ (خواہ آج خواہ چند روز بعد) آیت کے اندر تعلیم تین چیزوں کی ملی۔ ایک یہ کہ ہم سب عبد محض ہیں، اور تمامتر اسی کی ملک۔ ہم خود بھی اور ہماری ہر چیز بھی۔ اپنی کوئی شے ہی نہیں، نہ بیوی نہ بچے، نہ مال نہ جائیداد، نہ وطن نہ خاندان، نہ جسم نہ جان ! ع : جو کچھ ہے سب خدا کا، وہم و گمان ہمارا ! (اکبر (رح)) انسان کے سارے رنج وغم، درد و حسرت کی بنیاد صرف اس قدر ہوتی ہے کہ وہ اپنی محبوب چیزوں کو اپنی سمجھتا ہے۔ لیکن جب ذہن اس عام مغالطہ سے خالی ہوگیا، اور کوئی سی بھی شے ہو، سرے سے اپنی رہی ہی نہیں تو اب گلہ و شکوہ، رنج وملال کا موقع ہی کیا ؟ دوسری بات یہ کہ بڑے بڑے رنج اور صدمے اور دل کے داغ بھی عارضی اور فانی ہیں، رہ جانے والے کوئی بھی نہیں، عنقریب انہیں چھوڑ چھاڑ مالک کی خدمت میں حاضری دینا ہے۔ تیسرے یہ کہ وہاں پہنچتے ہی سارے قرضے بیباق ہوجائیں گے۔ ہر کھوئی ہوئی چیز وصول ہو کر رہے گی، یہ تینوں عقیدے جس کے جتنے زیادہ مضبوط ہوں گے اسی قدر اس کے دل کو دنیا میں امن و سکون حاصل رہے گا، غم وحزن کے بار کو ہلکا کرنے کا جو عارفانہ اور تیربہدف نسخہ یہاں بتادیا گیا ہے، یہ صحائف کا ئنات میں بےنظیر ہے۔ بلکہ حق یہ ہے کہ قرآن مجید میں اگر صرف یہی ایک آیت ہوتی تو یہی اسے حکیم مطلق کا کلام ثابت کرنے کے لیے واللہ کافی تھی، صبر ایک کیفیت نفسی کا نام ہے۔ اور اصلا اس کا تعلق قلب سے ہے۔ ؛ زبان سے کلمہ صبر دوہرانے کا حکم اسی کیفیت کو قوی اور مؤکد بنانے کے لیے ہے، محققین کہتے ہیں کہ آیت میں جو حکم ہے اس کی تعمیل کے تین مرتبے ہیں ( 1) درجہ اعلی۔ دل میں آیت کے معنی منقش ہوں، اور زبان پر بھی اس کے الفاظ جاری ہوں ، (2) درجہ اوسط۔ دل میں معنی کا خیال کرلے، اور زبان سے ادا نہ کرے ، (3) درجہ ادنی۔ دل میں استحضار نہ ہو مگر زبان سے دہرا دے۔ چوتھی ممکن صورت یہ ہے کہ دل میں اعتقاد کسی درجہ میں بھی موجود نہ ہو محض زبان سے دہرادے۔ اس مقام کا نام منافقت ہے، اور یہ ایمان والوں کی دنیا سے خارج ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی بابت تاریخ کا بیان ہے کہ آپ ﷺ ادنی ادنی تکلیف یا ناگواری کے موقع پر بھی یہ کلمہ زبان پر لاتے رہتے تھے اور یہی معمول آپ ﷺ کے صحابیوں کا رہا ہے۔ (آیت) ” رجعون “ سے یہ مراد نہیں کہ انسان ابھی کہیں اور ہے، اور پھر کسی ایسے مقام یا جہت میں آجائے گا جہاں خدا ہے۔ خدا کے پاس تو وہ اب بھی ہے۔ مراد یہ ہے کہ عالم آخرت میں جس طرح اللہ کی ملکیت و ربوبیت اور سارے ظاہری اسباب کے ٹوٹ جانے سے بالکل واضح ونمایاں ہوجائے گی، اسی طرح یہ خدا ہی کی طرف رجوع بالکل آشکار ہو کر رہے گا، درمیانی واسطے سب غائب ہو کر رہیں گے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ کلمہ استرجاع تمام مصیبتوں کا علاج ہے اور انہی میں قبض بھی داخل ہے۔ ، جو سالکوں کو اکثر پیش آتا رہتا ہے۔
Ayah 2:157

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

یہ لوگ وہ ہیں کہ ان پر نوازشیں ہوں گی ان کے پروردگار کی طرف سے اور رحمت (بھی) یہی لوگ راہ یاب ہیں،572 ۔

572 ۔ (دنیا اور آخرت دونوں میں) اوپر کی آیت میں صابرین کے حق میں جس خوشخبری کا ذکر تھا یہ سب اسی کا بیان ہورہا ہے۔ (آیت) ” علیھم صلوت من ربھم “ یعنی لوگ عنایت خاصہ کے مورد ہوں گے۔ ہر شخص اپنے اپنے درجہ کے متناسب (آیت) ” ورحمۃ “ یعنی یہ لوگ رحمت عام کے مورد رہیں گے۔ (آیت) ” ھم المھتدون “ دنیا میں ان کی رسائی اس حقیقت تک ہوچکی تھی کہ کوئی چیز بھی اپنی نہیں، یہاں تک کہ خود ان کے جسم وجان، نفس وروح کا مالک حق تعالیٰ ہی ہے۔ چناچہ جب یہ اس کے پاس پہونچیں گے تو سب ہی کچھ پالیں گے۔ جس نے اللہ کی رحمت عامہ وخاصہ کو پالیا، اس سے دنیا اور آخرت کی بچی ہوئی کونسی نعمت ؟ اولئک ھم الفائزون بمطالبھم الدینیۃ والدنیویۃ فان من نال تزکیۃ اللہ تعالیٰ ورحمتہ لم یفتہ مطلب (روح)
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

صفاومروہ بیشک اللہ کی یادگاروں میں سے ہیں،573 ۔ سو جو کوئی بیت (اللہ) کا حج کرے یا عمرہ کرے،574 ۔ اس پر (ذرا بھی) گناہ نہیں کہ ان دونوں کے درمیان آمد ورفت کرے،575 ۔ اور جو کوئی خوشی سے کوئی امر خیر کرے، سو اللہ تو بڑا قدر دان ہے، بڑا علم رکھنے والا ہے، 576 ۔

573 ۔ (نہ کہ دیوی دیوتاؤں کی یادگاروں میں سے) صفاومروہ کسی زمانہ میں مسجد الحرام کے پاس دو پہاڑیاں تھیں۔ اب معمولی بلندیاں محض چٹان کی سی رہ گئی ہیں۔ صفا حرم شریف کی داہنی جانب ہے اور مروہ بائیں جانب۔ دونوں کے درمیان فاصلہ 493 قدم کا ہے، یا تقریبا 7 فرلانگ۔ صفا کے لغوی معنی صاف پتھر یا خالص چٹان کے ہیں اور مروہ کے بھی لفظی معنی سفید نرم پتھر کے ہیں۔ الصفا الحجارۃ الصافیۃ (راغب) قال المبرد وھو کل حجر لا یخالطہ غیرہ من طین اوتراب (روح) المروۃ فی الاصل الحجر الابیض (روح) حدیث صحیح میں یہ مضمون آیا ہے کہ حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کو شیر خوارگی کے زمانہ میں خانہ کعبہ کے پاس پیاسا اور تنہا چھوڑ کر اس تلاش میں نکلی تھیں کہ کہیں کوئی قابلہ آتا جاتا نظر آجائے، تو اس سے پانی ہاتھ آئے، اور اس وقت اضطراب میں دوڑ کر اس پہاڑی سے اس پہاڑی پر جاتی تھیں کہ شاید بلندی سے کسی قافلہ پر نظر پڑجائے۔ (آیت) ” شعآئر اللہ۔ یعنی اللہ کے دین کی نشانیاں یا علامتیں، دین الہی کے وہ شعائر جو طاعتوں میں بہ طور علم کام دیں۔ (آیت) ” شعآئر “ جمع ہے شعیرہ کی اور اس کے معنی ہیں علامت کے۔ جمع شعیرۃ وھی العلامۃ (مدارک) اے اعلام طاعۃ وکل شی جعل علما من اعلام طاعۃ اللہ فھو من شعائر اللہ (کبیر) ھی العلائم التی ندب اللہ الیھاوامر بالقیام بھا (بحر عن الزہری) اصطلاح میں مراد مناسک حج کی علامتیں ہیں۔ اے من اعلام مناس کہ ومتعبداتہ (مدارک) من معالم اللہ فی الحج (ابن عربی) 574 ۔ حج۔ عبادات اسلامی کا چوتھا رکن، یا نماز، روزہ، زکوٰۃ، کے بعد چوتھا فریضہ۔ امت کے ہر فرد پر خواہ وہ دنیا کے کسی علاقہ کا باشندہ ہو بہ شرط استطاعت وصحت وامن راہ، عمر میں ایک بار فرض ہے۔ گویا دنیائے اسلام کی بین الاقوامی سالانہ کانگریس، ارکان حج، یعنی جو چیزیں فرض ہیں، وہ تین ہیں :۔ ( 1) پوشش احرام۔ یعنی حدود حرم میں داخلہ سے پہلے عام لباس اتار کر احرام یا بےسلا ہوا لباس پہن لینا (2) میدان عرفات میں 9 ذی الحجہ کو حاضری۔ اصطلاح میں اسے وقوف کہتے ہیں۔ (3) طواف زیارت۔ یعنی وقوف کے بعد خانہ کعبہ کا طواف۔ اور واجبات حج چار ہیں :۔ ( 1) 9، 10 ذی الحجہ کی درمیانی شب میں مزدلفہ میں قیام (2) صفاومروہ کے درمیان آمد ورفت۔ اصطلاحی نام سعی ہے۔ (3) مزدلفہ میں قیام کے بعد منی میں کنکریاں پھینکنا۔ اصطلاحی نام رمی جمرات ہے (4) طواف کعبہ (یہ طواف فرض کے علاوہ ہے اور طواف صدر کہلاتا ہے) قربانی کرنا، سر کے بال اتروانا، وغیرہا بہت سے سنن ومستحبات ان کے علاوہ ہیں، عمرہ۔ اس کا دوسرا نام حج اصغر ہے۔ اس میں حج کی طرح مہینہ اور تاریخ کی قید نہیں۔ اور نہ اس میں وقوف عرفات ہے، اور قیام مزدلفہ ومنی، سال کے ہر موسم میں اور ہر وقت ہوسکتا ہے۔ عمرہ کی نیت سے احرام حدود حرم سے باہر باندھے، طواف کعبہ اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کرکے بال اتروائے، بس عمرہ ہوگیا۔ احرام کھول دے۔ 575 ۔ (آیت) ” لاجناح علیہ۔ صفا ومروہ کو نسبت تو توحید کے خاص الخاص گھرانے سے حاصل تھی۔ یعنی ہاجرہ اور اسمعیل اور ابراہیم (علیہم السلام) سے۔ لیکن زمانہ جاہلیت میں قبضہ ان پر بھی مشرکوں کا ہوگیا تھا۔ اور ایک ایک پہاڑی پر ایک ایک دیوی کی مورتی نصب ہوگئی تھی۔ مشرک تیرتھ کرنے جاتے تو انہیں بھی دوڑ دوڑ کر چھوتے اور چومتے۔ قرن اول کے مسلمانوں، صحابیوں کی توحید پرستی اور شرک بیزاری کا کیا پوچھنا۔ قدرۃ خیال گزرا کہ کہیں ان پہاڑیوں کے درمیان آمد ورفت شعائر شرک میں نہ قرار پائے۔ آیت میں ا نہی کا شبہ دور کیا گیا ہے۔ اور ارشاد ہوا ہے کہ یہ جاہلیت کی نہیں عین توحید کی یادگاریں ہیں۔ اس لیے اگر ان کے درمیان آمد ورفت اسلامی، وتوحیدی حج کا جزو رکھی جائیں، تو اس میں مطلق مضائقہ نہیں (آیت) ” یطوف بھما “ طوف کے اصلی معنی کسی چیز کے گرد گھومنے یا چکر کاٹنے کے ہیں۔ لیکن وسعت دے کر اس کے معنی مطلق آس پاس جانے کے بھی کیے گئے ہیں۔ اور یہاں مراد دو مقاموں کے درمیان آمد ورفت سے ہے۔ الطوف المشی حول الشیء (راغب) والمراد ھنا السعی بینھما (مدارک) یہ سعی صفا ومروہ کے درمیان، حنفیہ کے ہاں واجب ہے۔ امام احمد (رح) کے ہاں سنت ہے۔ اور مالکیہ وشافعیہ کے ہاں فرض ہے۔ یہ آمد ورفت سات بار ہوتی ہے۔ درمیان کا کچھ فاصلہ، تقریبا دو فرلانگ دوڑ کر چلنا ہوتا ہے۔ اسی لیے اس کا نام سعی (دوڑ) ہے۔ اس فاصلہ کی علامت کے طور پر سڑک کے کنارے دو پتھر سبز رنگ کے نصب کردیئے گئے ہیں۔ کسی زمانہ میں یہاں بالکل ویرانہ تھا۔ لیکن اب تو عین بازار ہے، اور صفا ومروہ کے درمیان خوب آبادی اور چہل پہل رہتی ہے۔ 576 ۔ (اس لیے اس کے ہاں نہ اعزاز واکرام کی کمی کسی نیک کار کے لیے ہوگی، اور نہ وہ کسی کے اخلاص عمل سے ناواقف ہے) (آیت) ” تطوع “ تطوع ہر ہو چیز ہے فرض کے علاوہ جو انسان اپنی خوشی سے انجام دے۔ (آیت) ” خیرا “ خیر عام معنی میں ہے۔ ہر عمل خیر کو شامل۔ المراد منہ جمیع الطاعات (کبیر عن الحسن) وھذا اولی لانہ اوفق لعموم اللفظ (کبیر) مطلب یہ ہے کہ کوئی سا بھی نیک کام ہو، کسی نوعیت اور کسی درجہ کا، جو بھی انسان خوشی سے انجام دے گا، اس کا اجر اسے مل کر رہے گا۔ (آیت) ” شاکر “ شکر کا لفظ جب اللہ کے لیے آتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ بندہ کی تھوڑی سی اطاعت پر معاوضہ بہت زائد دیتا ہے۔ الشکر من اللہ تعالیٰ ان یعطی لعبدہ فوق ما یستحقہ بشکر الیسیر ویعطی الکثیر (معالم) (آیت) ” علیم “ یعنی نیتوں تک سے واقف۔ علیم بنیتہ (معالم) ابھی ایک ہی آیت اوپر ذکر فضائل صبر کا ہورہا تھا۔ اس کے معا بعد ذکر حج کا شروع ہوجانا، علاوہ اور بہت سی حکمتوں اور مصلحتوں کے ایک خاص مناسبت بھی صبر سے رکھتا ہے۔ ان سطور کے راقم نامہ سیاہ کا ذاتی تجربہ ہے کہ موسم حج کے ہجوم وچپقلش اور مسلسل کوچ اور مقام میں فرائض تک کی پابندی مشکل پڑجاتی ہے۔ سنن ومستحبات کا کیا ذکر ہے۔ اشتعال کے باوجود زبان پر قابو رکھیے، ہاتھ پیر پر قابو رکھیے، کان اور آنکھ پر قابو رکھیے۔ غرض صبر کا پورا امتحان ہر طرح ہوجاتا ہے۔
Ayah 2:159

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں اس چیز کو جو ہم کھلی ہوئی نشانیوں اور ہدایت میں سے نازل کرچکے ہیں بعد اس کے کہ ہم اسے لوگوں کے لیے کتاب (الہی) میں کھول چکے ہیں،577 ۔ : یہی وہ لوگ ہیں کہ اللہ ان پر لعنت کرتا ہے اور ان پر لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں،578 ۔

577 ۔ یعنی کتب سابق کے مضامین اور پشین گوئیوں کو دانستہ چھپاتے ہیں۔ مراد یہود ونصاری ہیں اور اس پر ابن عباس ؓ صحابی اور مشاہیر تابعین سب کا اتفاق ہے۔ نزلت فی اھل الکتب من الیھود والنصاری (کبیر۔ عن ابن عباس ومجاہد والحسن وقتادۃ والربیع والسدی والاصم) الاقرب انھا نزلت فی الیھود والحکم عام (روح) (آیت) ” یکتمون “ اور حق پوشی بھی اس غضب کی کہ محض سکوت پر کفایت نہیں کرتے، بلکہ الٹی حق کی مخالف شہادت دے گزرتے ہیں۔ کتمان کا اطلاق اس اخفاء پر ہوتا ہے، جو قصدا کیا جائے اور اس موقع پر جہاں اظہار ضروری ہو۔ الکتمان ترک اظہار الشیء قصدا مع مساس الحاجۃ الیہ (روح) (آیت) ” البینت والھدی “ بینات وہ نشانیاں ہیں جو بجائے خود واضح وصریح ہیں۔ (آیت) ” الھدی “ وہ ہے جو دوسروں کے لیے ذریعہ ہدایت بن سکے۔ یہاں بینات سے مراد رسالت محمدی ﷺ کے دلائل و شواہد ہیں، اور (آیت) ” ھدی “ سے مراد احکام شریعت ہیں، بیناہ میں ہ کی ضمیر (آیت) ” ماانزلنا “ کی طرف ہے۔ یعنی اس مضمون کو اس مفہوم کو (آیت) ” الکتب “ سے مراد ہے جنس کتاب، یعنی قدیم کتب آسمانی۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں ایسے شخص کی مذمت ہے جو اپنے مریدوں کے سوا دوسروں سے علوم شریعت کو چھپاتا ہے، کہ یہ علوم (آیت) ” ماانزل اللہ “ کے عموم میں داخل ہیں۔ البتہ علوم مکاشفہ کا حکم دوسرا ہے وہ منزل نہیں، بلکہ بعض اوقات ان کے اظہار میں خوف فتنہ بھی ہے۔ 578 ۔ (خواہ وہ لعنت کرنے والے جنس آدم سے ہوں یا جنات ہوں یا ملائکہ ہوں یا اور کوئی مخلوق ہوں) لعنۃ پر حاشیے پارۂ اول میں گزر چکے۔ اللہ کی لعنت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو اپنے سے دور اور اپنے فضل وکرم سے مہجور کردیتا ہے۔ اے یبعدھم عن رحمتہ (روح) وذلک من اللہ تعالیٰ فی الاخرۃ عقوبتہ وفی الدنیا انقطاع من قبول رحمتہ و توفیقہ (راغب) مخلوق کی لعنت یہ ہے کہ ان بدکاروں کے لیے بددعا کی جائے، ان کے لیے حق تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور اس کے فضل وکرم سے مہجوری طلب کی جائے۔ ومن الانسان دعاء علی غیرہ (راغب) بمعنی الدعاء علیھم بالابعاد عن رحمۃ اللہ تعالیٰ (روح) لفظ لعنت، قدیم صحیفوں کا بھی چلا ہوا محاورہ ہے۔ ملاحظہ ہوں تو ریت میں استثنا 1 1:26، 27، 28 نیز 8: 15 ۔ 2 1 وغیرہ اور انجیل میں، مرقس، 1 1:2 1 ۔ یوحنا 7:29 ۔ وغیرہ، فقہا نے آیت ماقبل سے استدلال کیا ہے کہ عالم پر تبلیغ حق اور اپنے علم کا بیان واجب ہے۔ استدل بھا علماء نا علی وجوب تبلیغ الحق وبیان العلم علی الجملۃ (ابن العربی)
Ayah 2:160

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

البتہ جو لوگ توبہ کرلیں،579 ۔ اور درست ہوجائیں،580 ۔ اور ظاہر کردیں،581 ۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ میں ان پر متوجہ ہوجاؤں گا رحمت سے،582 ۔ اور میں بڑا توبہ قبول کرنے والا ہوں بڑا رحمت والا ہوں،583 ۔

579 (اپنے پچھلے جرائم سے) توبہ کرنے سے مراد ہے باز آنا، نادم ہونا، اور عزم ترک کے ساتھ عذر خواہی کرنا، 580 ۔ یعنی آئندہ کے لیے اپنی اصلاح حال کرلیں۔ 581 ۔ (اپنی آسمانی کتابوں کے ان مضامین کو جنہیں وہ اب تک چھپاتے رہے ہیں) یہاں مراد ہیں اسلام و پیغمبر اسلام سے متعلق پچھلے صحیفوں میں پیش خبریاں، خلاصہ یہ کہ یہ مجرم اگر ماضی پر نادم ہو کر اب بھی ایمان لے آئیں، اور تلافی مافات پر آمادہ ہوجائیں ، 582 ۔ یعنی یہ تائبین نہ صرف لعنت کی زد سے باہر ہوجاتے ہیں، بلکہ رحمت ومغفرت الہی کے ماتحت بھی آجاتے ہیں، البتہ جو لوگ اپنی انہی بدکرداریوں پر اصرار رکھتے ہیں، ان پر سزا بھی قائم رہتی ہے۔ واما الذین ماتوا علی الکتمان ولم یتوبوا عنہ فقد استقرت علیھم اللعنۃ ولم تزل عنھم (روح) (آیت) ” اصلحوا وبینوا۔ توبہ اور قبول توبہ کا مضمون قرآن مجید میں بار بار آیا ہے، یہاں توقید اصلاح اور تبیین کی لگی ہوئی۔ یعنی جو فساد پھیلایا تھا اس کی اصلاح اور جو چھپایا تھا اس کا اظہار۔ محققین نے لکھا ہے کہ جن گناہوں سے صرف اللہ حقوق اللہ کی خلاف وزری ہوتی ہے۔ مثلا نماز یا روزہ کا ترک۔ ان کے لیے محض توبہ و استغفار کافی ہے، کہ اس کا تعلق صفات رحمانیت ورحیمیت سے ہے، لیکن جن گناہوں سے بندوں کی حق تلفی لازم آتی ہے۔ مثلا قتل، چوری، رشوت، غصب، فساد، بدامنی، سود خوری، عقائد باطلہ کا اعلان، ان کے لیے ضروری ہے کہ ہر متعین معصیت کے ضرر کا عملی تدارک بھی بقدر امکان کرلیے۔ جب جاکر توبہ قبول ہوگی کہ یہاں واسطہ حق تعالیٰ کی صفت عدل سے ہے۔ 583 ۔ قرآن مجید کا بار بار صفت رحیمی اور قبول توبہ پر زور دینا ایک طرف ان گمراہ قوموں (مثلا بودھ مت والوں) کے مقابلہ میں ہے جو سمجھتے ہیں کہ قانون مکافات عمل (ہندی اصطلاح میں ” کرم “ ) ہر حال اور ہر صورت میں اپناعمل کرکے رہتا ہے، اور کوئی خدائی قوت اس پر غالب نہیں آسکتی۔ اور دوسری طرف ان گمراہ قوموں (مثلا مسیحیوں) کے مقابلہ میں ہے جو سمجھتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ صفت رحیمی کا اظہار پوری طرح کر ہی نہیں سکتا، اور اس کی صفت عدل کے تقاضہ کو پورا کرنے اور گناہگاروں کو معافی دلوانے کے لیے کسی کفارہ کا وجود لازمی ہے۔
Ayah 2:161

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کفر کرتے ہیں، اور مرجائیں اسی حال میں کہ وہ کافر ہیں، سو یہ وہی لوگ ہیں کہ ان پر لعنت ہے اللہ کی، اور فرشتوں کی اور آدمیوں کی سب کی،584 ۔

584 ۔ (آیت) ” اجمعین “ کا لفظ تاکید کے لیے آیا ہے، اور اس کا تعلق اللہ اور ملائکہ اور الناس تینوں سے ہے۔ محض الناس سے نہیں۔ واجمعین تاکید بالنسبۃ الی الکل لاللناس فقط (روح) (آیت) ” لعنۃ اللہ “ اہل سنت کے ہاں کسی متعین گنہگار پر لعنت کرنا ہرگز جائز نہیں، البتہ بغیر کسی کو متعین کیے ہوئے مبہم ومطلق صورت میں جائز ہے۔ مثلا یہ کہ چور پر لعنت ہو۔ فاما العاصی المعین فلایجوز لعنہ اتفاقا واما لعن العاصی مطلقا یجوزا اجمعاعا (ابن العربی) بلکہ حدیث صحیح میں تو مومن پر لعنت اس کے قتل کے مثل بتائی گئی ہے۔ وفی صحیح مسلم لعن ال مومن کقتلہ (ابن العربی) (آیت) ” وما توا وھم کفار “ بلکہ زندگی میں تو کافر متعین تک پر بھی لعنت کی اجازت نہیں۔ (آیت) ” وماتوا “ کی قید نے صاف کردیا کہ یہاں جن پر لعنت آئی ہے ان کی موت ہی کفر پر ہوچکی تھی، اور اصل مدار ختم اعمال یا وفات پر ہے۔ قال لی کثیر من اشیاخی ان الکافر المعین لایجوز لعنہ لان حالہ عند الموافاۃ لاتعلم (ابن العربی) وقد شرط اللہ تعالیٰ فی ھذہ الایۃ فی اطلاق اللعنۃ الموافاۃ علی الکفر (ابن العربی) عبرت حاصل کرنا چاہیے ان مسلمانوں کو جو اپنے کسی بھائی کو لغزش میں مبتلا دیکھ کر جھٹ اس پر لعنت بھیجنے لگتے ہیں ،
Ayah 2:162

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

وہ اس میں پڑے رہنے والے ہیں،585 ۔ کہ نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہونے پائے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی،586 ۔

585 ۔ (ہمیشہ ہمیش کے لیے) (آیت) ” خلدین “ خلود کے معنی ہیں لازم پکڑ لینے کے۔ یعنی اسی لعنت و عذاب میں جس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ الخلود اللزوم الطویل ومنہ یقال اخلد الی کذا اے لزمہ ورکن الیہ (کبیر) (آیت) ” فیھا “ ضمیر دوزخ کی طرف ہے۔ اور بعض نے لعنت کی طرف راجع کی ہے۔ اے فی اللعنۃ اوالنار (بیضاوی) اور بجائے اسم کے ضمیر لانے سے مقصود اظہار عظمت واہمیت ہے۔ انھا اضمرت تفخیما لشانھا وتھویلا (کشاف) 586 ۔ تخفیف کا تعلق بعد عذاب سے ہے اور مہلت کا تعلق قبل عذاب سے۔ یعنی دوزخ میں پڑنے کے بعد نہ کسی قسم کی تخفیف ان کے عذاب میں ہوگی اور نہ عذاب میں پڑنے سے قبل ہی کوئی مہلت انہیں ملے گی ،
Ayah 2:163

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور تمہارا خدا ایک خدا ہے، بجز اس کے کوئی خدا نہیں،587 ۔ بےانتہا رحم وکرم کرنے والا بار بار رحم کرنے والا،588 ۔

587 ۔ (اور نہ بڑا نہ چھوٹا۔ نہ ملکی نہ غیر ملکی) یہاں خطاب ساری نوع انسانی سے ہے۔ نفس وجود باری تو مشرکین عرب کو بھی تسلیم تھا، جس طرح آج بھی ساری مشرک قوموں کو تسلیم ہے۔ لیکن مشرکین علاوہ اس خدائے اعظم یا خدائے برتر کے اور بھی بہت سے چھوٹے چھوٹے خدایا دیوتا تسلیم کرتے ہیں، بلکہ مشرکین قدیم تو اپنی قوم کے علاوہ دوسری قوموں کے، یہاں تک کہ اپنی دشمن قوموں کے بھی دیوتاؤں کے وجود کے قائل تھے۔ ان کی قوت کے قائل تھے، ان کی خدائی کے قائل تھے۔ بس صرف ان کی عبادت کے منکر تھے۔ اور اس کی توجیہ یہ کرتے تھے کہ دشمن کا دیوتا بھی دشمن ہی ہوگا ! گویا خدا بھی جذبات و احساسات کے لحاظ سے انسان کا مثنی ہوتا تھا۔ قرآن نے آکر اس عقیدہ پر بھی ضرب کاری لگائی۔ اور دعوے سے بار باراعلان کیا کہ قابل پرستش وناقابل پرستش ہونا کیسا، کسی دوسرے خدایا دیوتا کا وجود ہی سرے سے نہیں، نہ بڑے کا نہ چھوٹے کا، کسی ملکی کا نہ غیر ملکی کا ! اور اللہ کے ساتھ شریک کا وجود محض وہم انسانی کی ایک اختراع ہے ! ہمارے قدیم مفسرین بھی بغیر جدید علم الاقوام (اتھنا لوجی) کی کسی تحقیق کے اس نکتہ تک پہنچ گئے تھے، ازاحۃ لان یتوھم ان فی الوجود انھا ولکن لا یستحق منہم العبادۃ (بیضاوی) 588 ۔ یعنی مظہر کامل رحمانیت کا بھی اور رحیمیت کا بھی، دونوں صفتیں اسی پر ختم ہیں۔ کوئی اس کا شریک نہ اس صفت میں، نہ اس صفت میں۔
Ayah 2:164

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے ادل بدل میں اور جہازوں کے چلنے میں جو سمندر میں ان چیزوں کے ساتھ چلتے ہیں جو لوگوں کو نفع پہنچاتی ہیں، اور (اس) پانی میں جسے اللہ نے اتارا پھر اس زمین کو اس کے رمادہ ہونے کے بعد جلا اٹھایا اور اس میں ہر طرح کے حیوانات پھیلا دیئے، اور ہواؤں کے بدلنے میں اور بادل میں (جو) آسمان اور زمین کے درمیان مقید ہے (ان سب میں) ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں نشانیاں (موجود) ہیں،589 ۔

589 ۔ (اللہ کی حکمت و ربوبیت، قدرت، صناعی اور اس کی فردیت کی) زمین و آسمان کے یہ سارے کارخانے، جو دنیا کے ہر طلسم سے بڑھ کر حیرت انگیز اور انسانی سائنس کے ہر شعبہ سے عجیب تر ہیں، بجائے خود اس کی دلیل ہیں کہ نہ یہ اپنے آپ وجود میں آسکتے ہیں، نہ باقی رہ سکتے ہیں، جب تک کوئی صاحب شعور، صاحب ارادہ، قادر مطلق ہستی ان کی صانع و خالق نہ ہو، ان سارے مظاہر فطرت کا تسلسل و استمرار، ان کی یکرنگی وباقاعدگی، ان کا نظم اوانضباط، ہر عقل سلیم کو مجبور کررہے ہیں کہ ان کے عقب میں ایک ذی اختیار فعال کا ہاتھ تسلیم کیا جائے۔۔ اسی عقل سلیم کو جو ایک معمولی سی گھڑی کو بھی بغیر کسی ماہر فن اور صناع گھڑی ساز کے تسلیم کرنے سے انکار کردیتی ہے ! اور یہ خلاق ہستیاں اگر بہ صیغہ جمع، یعنی ایک سے زائد فرض کی جائیں، تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ ایک خالق ان سارے امور کے لیے کافی نہ تھا، اس سے اس کا عجز ثابت ہوا، اور جو عاجز یا کسی بات میں ناقص ہے، وہ خالق نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اگر کسی کی ربوبیت اور خالقیت پر اعتقاد ہے تو اسے لامحالہ واحد یکتا بھی ماننا پڑے گا۔ (آیت) ” خلق السموت والارض “۔ آسمان ہوں یا زمین، سب مخلوق ہی ہیں، غیر مخلوق یا خود آفریدہ کوئی نہیں۔ مشرک قوموں نے انہیں معبود مانا ہے، اور صاحب تصرف و حاجت روادیوی دیوتاؤں کی حیثیت سے ان کی پرستش کی ہے۔ قرآن مجید نے لفظ ” خلق “ سے ادھر اشارہ کردیا کہ یہ عظیم الشان موجودات بھی کائنات کے ادنی سے ادنی ذرہ کی طرح مخلوق ہی ہیں۔ اور آکاش دیوتا، دھرتی ماتا، وغیرہ قسم کے الفاظ نرے بےمعنی اور مہمل ہیں (آیت) ” الیل والنھار “ دنیا ایسی مشرک قوموں سے بھی خالی نہیں رہی ہے، جنہوں نے رات اور دن کو ذی حیات اور صاحب ارادہ و تصرف مان کر انہیں دیوی دیوتا کا درجہ دیا ہے، اور ان کی پوجا کی ہے۔ یہاں ان کی اختلاف (ادل بدل) کا ذکر کرکے یہ بتادیا ہے کہ ان کا غیر مخلوق یا خود آفریدہ ہونا الگ رہا، یہ وقت وزمان کے بےحس بےجان اجزاء تو خود اپنی حرکت تک پر قادر نہیں۔ قادر مطلق ہی ان میں رات دن الٹ پھیر کرتا رہتا ہے (آیت) ” الفلک “ ہندوستان میں جب شروع شروع ریل نکلی ہے، تو دیہات میں خود اس کی پوجا شروع ہوگئی تھی، اور بہت سے ” خوش عقیدہ “ مشرکوں نے اپنے معبودوں کی فہرست میں ایک ” انجن دیوتا “ کا بھی اضافہ کرلیا تھا، ایسی ہی وہم پرست قوموں نے اگر کبھی بادبانی جہازوں اور دخانی کشتیوں کی بھی پوجا کی ہو، تو کچھ عجب نہیں، فلک کے عموم کے تحت میں اسٹیمر، لائنر، ڈریڈناٹ، ہر قسم کے چھوٹے بڑے جہاز آبدوز، تباہ کن، ہر قسم کی چھوٹی بڑی کشتیاں، غرض اور کل بحری سواریاں آگئیں، جو اس وقت موجود ہیں، یا قیامت تک ایجاد ہوسکیں، سامان جنگ کے لیے یا سامان تجارت کے لیے، یابہ غرض تفریح، (آیت) ” ماینفع الناس “ (انسان کو فائدہ پہنچانے والی چیز) کا وصف سب میں عام ومشترک ہے۔ (آیت) ” ماینفع الناس “ کے عموم کی وسعت لحاظ رکھنے کے قابل ہے۔ انسانی نفع ومنفعت کی ہر ممکن شے اس میں آگئی۔ اے بالذی ینفعھم من التجارات وسائر المارب التی تصلح بھا اموالھم (قرطبی) امام قرطبی (رح) نے لکھا ہے کہ ایک معترض نے سوال کیا کہ قرآن کی جامعیت کا دعوی ہے تو اس میں نمک، مرچ، وغیرہ کھانے کے مسالوں کا ذکر کہاں ہے ؟ جواب یہ ہے کہ (آیت) ” ماینفع الناس “ کا عموم ان سب کو شامل ہے (آیت) ” السمآء “ کا لفظ، جیسا کہ اوپر تشریح ہوچکی ہے، بادل، آسمان، وغیرہ ہر اوپر والی چیز کے لیے عام ہے۔ (آیت) ” ما انزل اللہ “ لا کر یہ یاد دلا دیا کہ بارش میں حیات بخشی کی جو قوت ہے، یہ اسی خدائے واحد وحیات آفریں کی ودیعت کی ہوئی ہے۔ (آیت) ” دآبۃ “ عام ہے ہر حیوان کے لیے، حیوان پرستی شرک کا ایک جزواعظم تاریخ کے ہر دور میں رہی ہے۔ بابل، مصر، ہندوستان، وغیرہ میں گائے، بیل، بندر، لنگور، بلی، سانپ، کچھوے وغیرہ کی پوجا برابر ہوا کی ہے۔ زمین اگر 25 ہزار میل کے محیل کا کوئی گولا ہے تو، یا اگر غیر پیمائش شدہ وسعت کی کوئی چپٹی چیز ہے تو بھی، اگر تیزی اور پھرتی کے ساتھ گردش کررہی ہے، یا اگر اپنی جگہ پر ساکن ہے تو بھی ہر حال میں اور ہر صورت فرض کرنے کے بعد بھی کیسی عظیم الشان کاریگری، کیسی بےمثال صناعی کا نمونہ ہے ! فضا کی خلا میں کس کی قوت اسے تھامے ہوئے، سنبھالے ہوئے ہے ؟ اس کے اور چاند، سورج اور ستاروں، سیاروں کے درمیان فاصلہ کا ایک خاص تناسب کس نے قائم کر رکھا ہے ؟ اس کی رفتار کی ایک خاص شرح کس نے متعین کردی ہے ؟ آفتاب سے اسے ایک خاص مقدار میں روشنی اور گرمی کون پہنچا رہا ہے ؟ چاند سے روشنی اور خنکی ایک متعین حساب کے ساتھ کس کا دست قدرت اس تک لا رہا ہے ؟ آسمان اگر ٹھوس، مادی اجسام ہیں، تو یا اگر خلا میں محض حدنظر ہیں تو بھی ہر صورت میں ان کی وضع، ساخت، ترکیب ہئیت، انسانی دسترس سے کتنی بالاتر ہے ! گنتی شمار سے باہر ثوابت وسیار کے سکون و حرکت کا انتظام کون قائم کیے ہوئے ہے ؟ ستاروں کی یہ روشنی اور ان کے طلوع و غروب میں یہ باقاعدگی کس کے حکم سے قائم ہے ؟ نظام فلکی کے بیشمار اجزاء وعناصر میں یہ ترتیب اور باہمی تناسب کس کی حکمت وصنعت کے دم سے زندہ ہے ؟ رات اور دن کس طرح ایک برتر قانون کے اندر جکڑے نظر آرہے ہیں ؟ گرمی اور سردی اور برسات، ہر موسم میں ان کے اندر مناسب تبدیلیاں کون کرتا رہتا ہے ؟ مختلف ملکوں میں ان کے طلوع و ظہور کے وقت کیسے بندھے ہوئے ہیں ؟ یہ کبھی نہیں ہوتا کہ جس وقت کلکتہ میں دن نکلتا ہے، دمشق میں بھی دن نکل آئے، نہ یہ ہوتا ہے کہ امریکہ کی شام کبھی ایران کی شام بن جائے، جنوری میں جو اوقات اندھیرا چھا جانے کے ہوتے ہیں یہ نہیں ہوتا کہ جون میں وہی باقی رہ جائیں، آخر یہ رات دن کے بندھے ہوئے اور قانون کی زنجیر میں جکڑے ہوئے تغیرات کس کی حکومت قاہرہ اور حکمت کاملہ کی شہادت دے رہے ہیں ؟ بحر ذخار، سارے براعظموں کو اپنی گرفت میں لیے رہنے والا، رقبہ میں خشکی سے چہار چند، اپنی اس ساری عظمت وہیبت کے باوجود کس طرح مشت خاک انسان کے قبضہ میں آگیا ہے ! کس طرح لکڑی کے تختوں کو جوڑ جاڑ کر، ان میں لوہے کی کیلیں ٹھونک ٹھانک کر، ان پر لوہے کی چادریں چڑھا کر انسان سمندر کے بڑے سے بڑے مہیب فاصلوں اور مسافتوں کو طے کرکے رکھ دیتا ہے ! اس میں مددجزر جب ہوگا قمری مہینہ کی فلاں فلاں ہی تاریخوں پر ہوگا، اپنی ساری غضبناک تندی کے وباوجود ایک خاص رقبہ کے حدود سے آگے نہ بڑھ سکے گا، ایک مخصوص و متعین ہی وزن کی چیزوں کو وہ اپنے اوپر تیرائے گا، اور اس کے علاوہ وزن والیوں کو ڈبودے گا۔ اس کے پانی کا ایک مخصوص مزاج، خاص رنگ، خاص مزہ ہوگا، کنوؤں کے پانی سے مختلف دریاؤں کے پانی سے مختلف، اس طرح کے سیکڑوں دوسرے قانونوں کا پابند اسے کس کی مشیت، کس کی قدرت، کس کی حکومت نے رکھا ہے ؟ بارش کا خاص خاص فصلوں میں، خاص خاص موسموں میں یہ خاص خاص فضائی تغیرات کے ماتحت ہونا بخارات کا ایک خاص گرمی پاکر سمندری ذخیرۂ آب سے اٹھنا، ایک خاص فاصلہ تک اوپر جانا، ایک خاص درجہ کی سردی پاکر ان دخانی وہوائی اجزاء کا منجمد ہوجانا، ان کا بادل کی شکل اختیار کرلینا۔ ایک خاص درجہ ثقل تک بڑے بڑے بھاری اور بوجھل بادولوں کا فضا میں سنبھلے رہنا، پھر فلاں فلاں فضائی تغیرات کے ماتحت فلاں علاقہ تک جانا، پھر ایک بندھی ہوئی مقدار میں، ایک متعین مدت کے اندر برس پڑنا، اس سے ازسرنوخشک زمین میں جان پڑجانا، یہ سارے ردو بدل کسی حکیم کی حکمت، کسی آمر کی حکومت، کسی قادر کی قدرت کی کیسی کھلی ہوئی شہادت دے رہے ہیں ! پھر حیات نباتی کے علاوہ خود حیات حیوانی جن عجائب کا مجموعہ ہے۔ ہر زندہ جسم میں بیشمار ذروں اور خلیوں کا مجموعہ ہوتا ہے، ان کی جو ایک مخصوص ترتیب، اور متعین ترکیب ہوتی ہے۔ ایک خاص درجہ کی حرارت جو حیات کو قائم رکھتی ہے، ایک خاص مقدار سے بڑی ہوئی سردی جو اس لف میں نشر، اس اجتماع میں انتشار پیدا کردیتی ہے، نظام تغذیہ، نظام تنفس، نظام تناسل، نظام عصبی وغیرہ جسم کے اندر کے متعدد نظامات، پھر ہر نظام کے ماتحت بیشمار قاعدے اور ضابطے، اس سارے نظام اعظم کی تکوین و قیام پر کس کی قدرت، کس کی مشیت، کس کی حکومت کار فرما ہے ؟ اس قسم کے سیکڑوں ہزاروں سوالات پر انسان جتنا زیادہ غور اور نکتہ سنجی سے کام لے گا، توحید اور توحیدی حکمتوں کا نقش دل پر اور زیادہ ہوتا جائے گا۔ جاہلی اور غیر مومن قوموں کے فلسفہ اور سائنس کا صرف نقطہ نظر غلط ہوتا ہے، اس کی اگر تصحیح ہوجائے اور ان علوم مادی کا مطالعہ اگر ایمانی نقطہ نظر سے شروع کردیا جائے، تو بجائے الحاد، ارتیاب وشک کے عرفان وایقان ہی کی راہیں روز بروز روشن تر ہوتی جائیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا ہے کہ آیت میں مصنوعات سے صانع پر استدلال ہے، اور یہی اصل ہے مراقبہ صوفیہ کی ،
Ayah 2:165

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ اللہ کے علاوہ دوسروں کو بھی شریک بنائے ہوئے ہیں،590 ۔ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی اللہ سے (رکھنا چاہیے) ،591 ۔ اور جو ایمان والے ہیں وہ تو اللہ کی محبت سب سے قوی رکھتے ہیں،592 ۔ اور کاش ظالم جب عذاب کو دیکھ لیتے،593 ۔ تو سمجھ لیتے کہ قوت اللہ ہی کی ہے ساری کی ساری،594 ۔ اور یہ کہ اللہ کا عذاب بہت ہی سخت ہے،595

590 ۔ (آیت) ” اندادا “۔ ند کے لفظی معنی کے لیے ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 68 پارہ 1 ۔ (آیت) ” اندادا سے مراد عموما مورتیوں، بتوں، دیوتاؤں سے لی گئی ہے۔ المراد الاوثان والصنام التی کانوا یعبدونھا (قرطبی) المراد بھا الاصنام کما ھو الشایع فی القران والمروی عن قتادۃ و مجاھد و اکثر المفسرین (روح) رؤساء، سردار، اور مقتدایان، قوم بھی مراد لیے گئے ہیں، قیل الرؤساء الذی یطیعونھم طاعۃ الارباب من الرجال (روح) انھا السادۃ الذین کانوا یطیعونہم (کبیر۔ عن السدی) تیسرا قول یہ ہے کہ مفہوم ان سب سے وسیع تر ہے اور لفظ کا عموم ہر ایسی چیز کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا قلب پر مسلط ہوجائے اور امام رازی (رح) نے اس قول کو صوفیہ اور عارفین کی جانب منسوب کیا ہے۔ القول الثالث قول الصوفیۃ والعارفین وھو ان کل شی شغلت قبلک سوی اللہ تعالیٰ فقد جعلہ فی تلک ندا اللہ تعالیٰ (کبیر) قیل المراد اعم منھا وھو ما یشغل عن للہ تعالیٰ (روح) ۔ 591 ۔ چناچہ مشاہدہ ہے کہ آج بھی مسیحیوں کو محبت اور تعلق خاطر خدا سے کہیں زیادہ ” خدا کے بیٹے “ اور ” پھر روح القدس “ اور ” مقدس کنواری “ سے ہے۔ اور ہندوؤں کی محبت اور تعلق خاطر اپنے ایشور اور پر ماتما سے کہیں زیادہ درگامائی، لکشمی مائی، اگنی دیوتا وغیرہ دیویوں دیوتاؤں کے ساتھ، اور رشیوں، منیوں، سادھوؤں کے ساتھ ہے۔ (آیت) ” کحب اللہ “ اس فقرہ نے اسے بالکل صاف کردیا کہ غیر اللہ سے نفس محبت ممنوع نہیں۔ بلکہ ماں، باپ، بھائی، بہن، بیٹے، بیٹی، عزیزوں، دوستوں، رفیقوں سے تو محبت درجہ طبیعی میں رکھ ہی دی گئی ہے۔ ائمہ شریعت وطریقت سے بھی محبت رکھنا مستحب، بلکہ کسی حد تک تو واجب بھی ہے۔ البتہ جو محبت حرام ہے، وہ محبوب کو درجہ ربوبیت پر جا پہنچانے والی محبت ہے۔۔۔۔” یا علی “ ” یا حسین “ ” یا خواجہ “ ” یا غوث “ ” یا وارث “ کے نعرے لگانے والے ذرا اپنے دلوں کو ٹٹول کر دیکھیں کہ محبت کا کتنا حصہ اللہ کے لیے باقی رہ گیا، اور کتنا دوسروں کی نذر ہوچکا ہے۔ 592 ۔ یعنی مومن کی محبت کا کتنا حصہ اللہ کے لیے باقی رہ گیا، اور کتنا دوسروں کی نذر ہوچکا ہے۔ 592 ۔ یعنی مومن کی محبت عقلی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی تمام دوسری محبتوں پر غالب وحاکم رہتی ہے۔ آیت نے ضمنا اس مسئلہ کو بھی واضح کردیا کہ مومن کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ اصلا انس و محبت ہی کا ہوتا ہے۔۔۔ کاش اس آیت کو ہو مسیحی مشنری آنکھ کھول کر پڑھیں جن کے نزدیک اسلام کا خدا ایک دہشت ناک قسم کا معبود ہے ! 593 ۔ (دیکھ لیتے) یری یہاں یعلم کے معنی میں ہے۔ ویری بمعنی یعلم (قرطبی) لو کا جواب محذوف ہے۔ و جواب لومحذوف والمعنی لوعلموا فی الدنیا شدۃ عذاب اللہ (جلالین) (آیت) ” الذین ظلموا “۔ اپنے حق میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والے، یعنی مشرکین۔ 594 ۔ (اور کوئی شخص اس عذاب کے دور کرنے پر قادر نہیں) ” اور کیا خوب ہوتا اگر یہ ظالم مشرکین جب دنیا میں کسی مصیبت کو دیکھتے تو اس کے وقوع میں غور کرکے یہ سمجھ لیا کرتے کہ سب قوت حق تعالیٰ ہی کو ہے، اور دوسرے سب اس کے سامنے عاجز ہیں۔ اور اسی مصیبت کی شدت میں غور کرکے یہ سمجھ لیا کرتے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب آخرت میں کہ دارالجزاء ہے اور بھی سخت ہوگا تو اس طرح غور کرنے سے تراشے ہوئے معبودین کا عجز اور حق تعالیٰ کی قدرت و عظمت منکشف ہو کر توحید و ایمان اختیار کرلیتے “۔ (تھانوی (رح)) 595 ۔ (آخرت میں) اس شدت عذاب کا پورا ظہور عالم آخرت ہی میں ہوگا۔
Ayah 2:166

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

(اس وقت کا خیال کرو) جب مقتدا (یا متبوع) اپنے مقتدیوں (یا پیرو وں) سے الگ ہوجائیں گے،596 ۔ اور ان کے باہمی تعلقات ٹوٹ کر رہ جائیں گے،597 ۔

596 ۔ (قیامت میں) یہاں اس منظر کا نقشہ پیش کیا گیا ہے جب قیامت میں مشرکین کے خواص، علماء وامراء اپنے عوام اور اپنے مقلدین اور رعایا سے علیحدگی کا اعلان کردیں گے، اور انہیں بےیارومددگار چھوڑ دیں گے۔ 597 ۔ اہل باطل کے جتنے بھی باہمی تعلقات اور رابطے ہیں، استادی شاگردی کے ہم نسبی و قرابت کے، ہم وطنی اور دوستی کے، یہ سب اسی دنیا تک محدود ہیں، آخرت میں جو حقائق کے مشاہدہ ومعائنہ کا وقت ہوگا، سب ایک دوسرے سے بےتعلق بلکہ آپس میں مخالف نظر آئیں گے۔ یہ قرآن ہی کی نص ہے۔ الاخلاء یومئذ بعضہم لبعض عدوا الا المتقین۔ بھم میں ب۔ عن کے معنی میں بھی لی گئی ہے۔ بھم اے عنہم (معالم) قیل بمعنی عنھم (عکبری) اور ب سببیہ بھی مانی گئی ہے۔ یعنی یہ قطع تعلق بہ سبب کفر کے ہوگا۔ الباء ھنا للسببیۃ والتقدیر وتقطعت بسبب کفرھم (عکبری) الباء للسببیۃ اے تقطعت بسبب کفرھم الاسباب التی کانوا یرجون منھا النجاۃ (روح)
Ayah 2:167

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

اور پیرو کہنے لگیں گے،598 ۔ کاش ہم کو پھر ایک دفعہ (جانا) مل جاتا،599 ۔ تو ہم بھی ان سے الگ ہوجائیں، جیسے یہ ہم سے الگ ہوگئے، بس اسی طرح اللہ ان کے اعمال کو انہیں (خالی) ارمان (کرکے) دکھائے گا،600 ۔ اور وہ دوزخ سے کبھی بھی نہ نکل پائیں گے،601 ۔

598 ۔ (غم وغصہ اور جذبات انتقام کے ساتھ) 599 ۔ (دنیا میں) کافروں کی زبان سے آخرت میں، دنیا میں ایک بار پھرجانے کی تمنا و حسرت کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے۔ 600 ۔ یعنی حسرت بھی پوری نہ ہوگی، اور یہ خلش کانٹا بن کر ہمیشہ کھٹکتی ہی گی۔ 601 ۔ سزائے دوزخ کے یہ دوام وخلود پر یہ ایک نص صریح ہے۔ (آیت) ” بخرجین “ میں ب خبر کی تاکید اور تائید کا کام دے رہی ہے۔ اردو ترجمہ کبھی بھی بھی کیا جاسکتا ہے۔ دلیل علی خلود الکفار فیھا وانھم لا یخرجون منھا (قرطبی) بل ھم فیھا دائمون (مدارک) افادۃ للمبالغۃ فی الخلود والاقناط عن الخلاص وزیادۃ الباء لتاکید النفی (روح)
Ayah 2:168

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

اے انسانو ! زمین پر جو کچھ حلال اور پاکیزہ موجود ہے اس میں سے کھاؤ (پیو) ،602 ۔ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو،603 ۔ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے،604 ۔

602 ۔ یعنی کھاسکتے ہو، بالکل جائز ہے کہ کھاؤ پیو۔ کھانے کی اجازت مل رہی ہے نہ کہ حکم، مراد یہ نہیں کہ لازمی طور پر کھاؤ۔ خطاب عام نسل انسانی سے ہے۔ دین حنیف ابراہیمی کو چھوڑ کر یہود، نصاری، مشرکین، سب ہی کھانے پینے کے باب میں طرح طرح کی غلط روی اور کج راہی میں مبتلا ہوگئے تھے۔ اور خلط کرکے حرام کو حلال اور حلال کو حرام کے حکم رکھ رہے تھے (آیت) ” مما فی الارض “ میں من تبعیضیہ ہے۔ من للتبعیض اذلا یوکل کل مافی الارض (بیضاوی) (آیت) ” حللا “ جو غذائیں بجائے خود جائز ہیں۔ اور حرام نہیں کی گئی ہیں۔ فالحلال ما احلہ الشرع (معالم) المراد منہ مایکون جنسہ حلالا (کبیر) (آیت) ” طیبا “۔ یعنی جو غزائیں حاصل بھی جائز ذرائع سے ہوئی ہوں۔ اور جن میں غیر کا حق نہ ہو۔ مثلا بیع فاسد نہ ہو، اجرت فاسد نہ ہو، وغیرہا۔ المراد منہ ان لایکون متعلقا بہ حق الغیر (کبیر) الطیب الطاھر (معالم) ترجمان القرآن حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص ؓ صحابی نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ آپ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے مستجاب الدعوات بنادے۔ حضور ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ لقمہ حلال کا التزام کرلو، خود بخود مستجاب الدعوات ہوجاؤ گے۔ یہ ہے اسلام میں اکل حلال کی اہمیت ! 603 ۔ (اللہ کی جائز کی ہوئی چیزوں کو حرام، اور اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال ٹھیرا کر) حکم تو عام ہے ہر شیطانی روش کے لیے۔ لیکن یہاں خصوصیت کے ساتھ تعلق، حرام و حلال غذاؤں سے ہے۔ والصحیح ان اللفظ عام فی کل ماعد السنن والشرائع من البدع والمعاصی (قرطبی) 604 ۔ (اور اسی دشمنی کے تقاضہ سے انسان کو الٹی صلاحیں اور قانون الہی توڑنے کی ترغیب دیتا رہتا ہے اس سے کسی نفع کی، خیر خواہی کی توقع ہی نہ رکھو ،
Ayah 2:169

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

وہ تو تمہیں بس برائی اور گندگی ہی کا حکم دیتا ہے،605 ۔ اور اس کا کہ تم اللہ پر ایسی باتیں گڑھ لو جس کا تم علم نہیں رکھتے ہو،606 ۔

605 ۔ (آیت) ” انما “ کلمہ حصر کا ہے، اس کے صاف معنی یہ ہوئے کہ شیطان سے ہمیشہ شیطنت ہی کا ظہور ہوگا۔ کسی نیکی کے صدور کا اس سے امکان ہی نہیں۔ دلت الایۃ علی ان الشیطان لا یامر الا بالقبائح لانہ تعالیٰ ذکرہ بکلمۃ انما وھی للحصیر (الکبیر) سوء وفحشاء دو لفظ متقارب المعنی ہیں، لیکن متحد المعنی نہیں۔ سوء تو وہ چیز ہے جو عقلا بھی ناپسندیدہ ہو۔ اور فحشاء وہ ہے جسے شریعت نے برا ٹھیرایا ہے۔ السوء والفحشاء ماانکرہ العقل واستقبحہ الشرع والعطف لاختلاف الوصفین (بیضاوی) یہ فرق بھی کیا گیا ہے کہ سوء میں کوئی حد شرعی مقرر نہیں اور فحشاء میں حد شرعی معین ہوتی ہے۔ اور یہ معنی ابن عباس سے منسوب ہیں۔ السوء مالا حد فیہ والفحشاء ما فیہ حد حکی عن ابن عباس وغیرہ (قرطبی) 606 ۔ یعنی اپنی طرف سے نکالی ہوئی چیزوں کو احکام خداوندی کی طرح سمجھنے لگو۔ (آیت) ” تقولوا علی اللہ “ قول کا صلہ جب علی کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی ہوتے ہیں کسی کے خلاف گڑھ لینا، کسی پر بہتان لگانا۔ (آیت) ” تعلمون “ علم سے یہاں مراد علم یقینی یا علم ثابت بالوحی ہے۔ پس اس وعید کے تحت میں صرف کفر ہی کے نہیں، بلکہ بدعت کے اقوال بھی داخل ہوجاتے ہیں۔ فیدخل فی کل کافر وکل مبدع ایضا (ابن کثیر) ویدخل فیہ کل ما یضاف الی اللہ تعالیٰ ممالا یجوز علیہ (مدارک)
Ayah 2:170

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے اتارا ہے اس کی پیروی کرو، 607 ۔ تو کہتے ہیں کہ نہیں، ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ (دادوں) کو پایا ہے،608 ۔ خواہ ان کے باپ (دادا) نہ ذراعقل بھی رکھتے ہوں اور نہ ہدایت رکھتے ہوں،609 ۔

607 ۔ (آیت) ” انزل اللہ “۔ یعنی اللہ نے جو کچھ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے اتارا ہے۔ مراد یہ کہ جب ان سے عالمگیرشریعت الہی کی ماتحتی میں آنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ 608 ۔ گویا طریق آبائی میں خطاوغلطی کا امکان ہی ان کے نزدیک نہیں، اور یہی جمودعین جہالت وظلالت ہے۔ آج مشرک قوموں اور مبتدع فرقوں کا بھی یہی حال ہے۔ جب انہیں اتباع حق کی دعوت دی جاتی ہے، تو وہ جواب میں اپنے آباؤ اجداد کے رسوم کو پیش کردیتے ہیں۔ 609 ۔ یعنی نہ فہم دین اور اس کے حقائق ومعارف کی رکھتے ہوں، اور نہ ہدایت کسی کتاب آسمانی کے ماتحت رکھتے ہوں۔ (آیت) ” لایعقلون شیئا۔ المراد انھم لا یعلمون شیئا من الدین (کبیر) (آیت) ” لایھتدون۔ اے لا یھتدون الی الحق (روح) بعض کج رائے فرقوں نے آیت سے تقلید فقہی کا عدم جواز ثابت کرنا چاہا ہے۔ حالانکہ قاعدۂ اقتضاء النص اس کا متقضی ہے کہ آیت سے تقلید کے عدم جواز پر نہیں، عین جواز پر استدلال کیا جائے۔ آیت میں جس امر کی مذمت وارد ہوئی ہے وہ نفس تقلید نہیں، بلکہ گمراہ ونادان اسلاف کی تقلید ہے۔ اور یہ قیدخود اس امر کی دلیل ہے کہ محققین اہل علم کی تقلید جائز ہی نہیں بلکہ عین مطلوب ہے ! کسی مریض سے اگر یہ کہا جائے، کہ تم نے بھی کیا حماقت کی کہ ایک اناڑی اور ان پڑھ کا علاج شروع کردیا، تو ظاہر ہے کہ اس فقرہ سے مذمت نفس علاج کی ہرگز نہیں نکلی، بلکہ اناڑی اور ان پڑھ سے علاج کی نکلی، اور نفس علاج کی مقصودیت یا مطلوبیت ہی ظاہر ہوئی !
Ayah 2:171

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں ان کا حال تو اس شخص جیسا ہے،610 ۔ جو ایسے (جانور) کے پیچھے چلا رہا ہے جو کچھ سنتا ہی نہیں بجز بلانے اور پکارنے کے (یہ) لوگ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، سو (کچھ بھی) نہیں سمجھتے،611 ۔

610 ۔ (بےحسی اور نافہمی میں) ذکر داعی حق کی دعوت حق کا ہورہا ہے۔ ایک تشبیہ رسول اللہ ﷺ اور اس کی امت دعوت، کے رویہ سے متعلق پیش کی جارہی ہے۔ مضاف ” داعی محذوف ہے۔ علی حذف مضاف تقدیرہ مثل داعی الذین کفروا (بیضاوی) اے مثل داعیھم الی الایمان (کشاف) فیھا مضاف محذوف اما من جانب المشبہ اوالمشبہ بہ (روح) 611 ۔ یعنی اس جانور کی طرح جس کے کان میں پکارنے والے کی آواز اور الفاظ تو آرہے ہیں باقی وہ ومعنی ومفہوم کچھ نہیں سمجھتا، بس وہی معاملہ یہ منکرین دعوت حق کے ساتھ کررہے ہیں، داعی کے الفاظ تو سن لیتے ہیں، لیکن اس کے معنی ومفہوم پر غور ہی نہیں کرتے۔ مثل الدابۃ تنادی فتسمع ولا تعقل مایقال لھا کذلک الکافر یسمع الصوت ولا یعقل (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ (آیت) ” صم “ یعنی بہرے ہیں، آواز حق کی طرف سے۔ صم عن الحق فلایسمعونہ ولا ینتفعون بہ (ابن جریر۔ عن قتادۃ) (آیت) ” بکم “ یعنی اقرار حق کے لیے ان کی زبان گونگی ہے۔ بکم عن الحق فلا ینطقون بہ (ابن جریر۔ عن قتادۃ) (آیت) ” عمی “ یعنی اندھے ہیں، خود اپنے نفع ونقصان کے باب میں۔ عمی عن الھدی فلایبصرونہ (ابن جریر، عن قتادۃ) اس سے ملتا جلتا ایک فقرہ توریت میں بھی موجود ہے :۔ ” وہ نہیں جانتے اور نہیں سمجھتے کہ ان کی آنکھیں لپی گئیں، سو وہ دیکھتے نہیں، اور ان کے دل بھی، سو وہ سمجھتے نہیں۔ “ (یسعیاہ۔ 44: 18)
Ayah 2:172

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

اے ایمان والو، پاک چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں، کھاؤ پیو،612 ۔ اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہو،613 ۔ اگر تم خاص اسی کی بندگی کرنے والے ہو،614 ۔

612 ۔ یعنی کھا پی سکتے ہو، کھانے پینے کی اجازت ہے۔ صیغہ امر یہاں بمعنی اجازت ہے، بہ معنی حکم نہیں، کلوا فی ھذا الموضع لا یفید الایجاب ولا الندب بل الاباحۃ (کبیر) (آیت) ” کلوا “۔ یہاں لفظی معنی میں صرف کھانے تک محدود نہیں، بلکہ ہر قسم کا جائز انتفاع اس میں آگیا۔ المراد بالاکل الانتفاع من جمیع الوجوہ (قرطبی) وکلوا العموم جمیع وھوی الانتفاع دلالۃ وعبارۃ (روح) (آیت) ” یایھا الذین امنوا “ خطاب اب تک عامۃ الناس سے تھا۔ حلال و حرام کے باب میں مشرکین کی غلطی کے اظہار کے لیے اب خطاب صرف مومنین سے ہے۔ ؛ ان سے ارشاد ہورہا ہے کہ حلال و حرام کے باب میں منکرین کی پیروی نہ کریں۔ (آیت) ” طیبت “ یعنی وہ چیزیں جنہیں شریعت خداوندی نے پاکیزہ قرار دیا ہے۔ 613 ۔ (زبان سے بھی اور عمل سے بھی) (آیت) ” اشکروا “۔ شکر اس امر کا ہے کہ اس نے یہ رزق عطا کیا، اور رزق بھی حلال وطیب۔ یہاں صیغہ امروجوب کے لیے ہے نہ کہ صرف اجازت کے لیے۔ اشکروا للہ امرا ولیس باباحۃ (کبیر) 614 ۔ یعنی اگر اپنے دعوی ایمان واخلاص میں سچے ہو تو اللہ کے حکم پر عمل کرو اور اس کے مقرر کیے ہوئے حق ادا کرتے رہو۔