2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 2:89

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس ایک کتاب اللہ کے پاس سے پہنچ گئی تصدیق کرنے والی اس کی جو ان کے پاس (پہلے سے) موجود ہے،308 ۔ اور اس کے قبل یہ (خود ہی) کافروں سے بیان کیا کرتے تھے،309 ۔ پھر جب ان کے پاس وہ آگیا جس کو (خوب) پہچانتے تھے تو اسی سے کفر کربیٹھے ، 310 ۔ سو اللہ کی لعنت ہو کافروں پر،311 ۔

308 ۔ (کبیر) (آیت) ” کتب من عند اللہ “ یعنی قرآن۔ (آیت) ” لما معھم “ یعنی توریت۔ قرآن مجید نے اپنی یہ صفت جابجا بیان کی ہے اور اس پر زور دیا ہے کہ بجائے خود صادق ہونے کے ساتھ ساتھ وہ پچھلی آسمانی کتابوں کا مصدق بھی ہے اور ان پچھلی کتابوں میں سب سے زیادہ مشہور توریت ہے۔ 309 ۔ (کہ عنقریب آخری نبی نجات دہندہ کا ظہور ہونے والا ہے) (آیت) ” الذین کفروا “ سے مراد اس سیاق میں مشرکین عرب ہیں۔ ایک نومسلم انصاری صحابی ؓ سے روایت ہے کہ زمانہ قبل اسلام میں جب ہم یہود کو شکست دیتے تھے تو وہ کہا کرتے کہ اچھا ٹھیر جاؤ عنقریب ایک نبی ظاہر ہونے والا ہے۔ ہم اس کے ساتھ ہو کر تمہیں قتل کرکے رکھ دیں گے۔ (سیرۃ ابن ہشام باب خبر انذار یہود بر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مسیح ماننے سے تو انکار کردیا تھا۔ لیکن اس کے بعد سے برابر ایک مسیح (نجات دہندہ) کے ظہور کے منتظر رہا کرتے تھے اور اس کا ذکر مشرکین مکہ سے اکثر کرتے رہتے (آیت) ” یستفتحون “ یہاں یفتحون کے مرادف قرار دیا گیا ہے اور فتح کے معنی عربی میں خبر دینے اور بیان کرنے کے ہیں، اے یعرفون المشرکین ان نبیا یبعث منہم (روح) اے یفتحون علیہم ویعرفونھم (کشاف) لیکن (آیت) ” یستفتحون “ اپنے عام اور مشہور معنی کے لحاظ سے مفہوم طلب فتح ونصرت کا رکھتا ہے۔ اس صورت میں مراد یہ ہوگی کہ اس کے قبل یہود اس پیغمبر منجی کا واسطہ دلا دلا کر خدا سے مدد چاہا کرتے تھے اور ائمہ تفسیر کی اکثریت نے یہی مراد لی ہے اسے یستنصرون اللہ ببعثۃ محمد (علیہ السلام) (راغب) یستنصرون بمحمد والقرآن (ابن عباس ؓ ومعنی الاستفتاح الاستنصار (ابن جریر) یسألون الفتح والنصرۃ (کبیر) 310 (اور اسی سے انکار کرنے لگے کہ یہ کلام کلام الہی ہے یا یہ شخص اللہ کا پیغمبر ہے) (آیت) ” ماعرفوا “ سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے، اور ذات رسالت بھی، حاصل دونوں صورتوں کا ایک ہی ہے۔ کنی عن الکتب ویحتمل ان یرادبہ النبی ﷺ (روح) مقصد یہ ہے کہ یہود اس آخری نبی اور اس کی نبوت کی علامتوں سے اپنے ہی دینی نوشتوں کے ذریعہ سے خوب واقف ہوچکے تھے۔ نبی کا ظہور بالکل اچانک اور ان کے علم وواقفیت سابق کے بغیر نہیں ہوا۔ انجیل یوحنا میں حضرت یحی نبی (علیہ السلام) (انجیلی زبان میں ان کا نام یہی یوحنا ہی ہے) کے ظہور کا حال یوں درج ہے کہ :۔” جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہن اور لیوی یہ پوچھنے کو اس کے پاس بھیجے کہ تو کون ہے ؟ تو اس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا بلکہ اقرار کیا کہ میں تو مسیح نہیں ہوں۔ انہوں نے اس سے پوچھا کہ پھر کون ہے ؟ کیا تو ایلیاہ ہے ؟ اس نے کہا میں نہیں ہوں۔ کیا تو وہ نبی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں، پس انہوں نے اس سے کہا، پھر تو ہے کون ؟ “ (یوحنا۔ 1: 19 ۔ 22) اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ یہود صدیوں قبل سے ایک جانے بوجھے ہوئے نبی (” وہ نبی “ ) کے انتظار میں تھے۔ 311 ۔ یعنی ان پر جو جان بوجھ کر عناد وتعصب کی راہ سے کفر و انکار کر بیٹھیں۔ لعنت پر ایک حاشیہ ابھی اوپر گزر چکا ہے۔
Ayah 2:90

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 2:90 in the Quran reader

بری ہے وہ چیز جس کے عوض میں انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا ہے،312 ۔ کہ انکار کرتے ہیں اس (کلام) کا جو اللہ نے نازل کیا ہے (محض) اس ضد پر کہ اللہ نے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہا اپنا فضل (خاص) نازل کیا،313 ۔ سو وہ مستحق ہوگئے غضب بالائے غضب کے،314 ۔ اور کافروں کے لیے عذاب ذلت والا ہے،315 ۔

312 ۔ یعنی کیسی بری وہ حالت ہے، جسے اختیار کر کے وہ بزعم خود اپنی جانوں کو عقوبت آخرت سے چھڑانا چاہتے ہیں بئس ما باعوا بہ حظ انفسھم اے اختاروا الکفر وبذلوا انفسھم للنار (معالم) اشتراء لغات اضداد میں سے ہے۔ خریدنے اور فروخت کرنے دونوں کے معنی میں آتا ہے۔ یہاں بیچنے کے معنی میں ہے۔ الاشتراء ھھنا بمعنی البیع (معالم) معناہ باعوا (بیضاوی) ، 313 ۔ قرآن نے اس حقیقت کو بار بار صاف کیا ہے کہ یہود کا یہ کفر و انکار کسی اجتہادی غلطی کی بنا پر، فکر ونظر کے کسی دھوکے یا مغالطہ کی بنا پر نہ تھا۔ بلکہ اس غصہ وعناد کا نتیجہ تھا کہ نبوت خاندان اسرائیل سے نکل کر بنی اسمعیل (علیہ السلام) کے ایک فرد کو کیوں مل رہی ہے ؟ وہی نسلیت یا قومیت کی ملعون عصبیت جو آج تک دنیا پر مسلط ہے۔ امام رازی (رح) کی خداداد نظر قرآن حکیم کے عجب عجب نکتوں تک پہنچ جاتی ہے۔ اس مقام پر لکھا ہے کہ یہود تو نبوت کو اپنا موروثی حق سمجھنے لگے تھے۔ ایک عرب کو اس کا مدعی پاکر الٹے اس کے رشک وحسد پر اسے محمول کرنے لگے۔ ظنوا ان ھذا الفضل العظیم بالنبوۃ المنتظرۃ یحصل فی قومھم فلما وجدوہ فی العرب حملھم ذلک علی البغی والحسد (کبیر) کیا حد ہے اس ضد اور نفسانیت کی کہ نسلی وخاندانی عصبیت کی بنا پر تصدیق نبوت تک سے انکار کردیا ! (آیت) ” من فضلہ “ سے مراد فضل وحی ہے۔ یعنی الوحی (بیضاوی) مرشد تھانوی نے فرمایا کہ احوال موہوبہ محض فضل ومشیت کے تابع ہوتے ہیں۔ کسب واکتساب کو دخل نہیں۔ 314 ۔ (آیت) ” غضب علی غضب “ کی تفسیر میں بہت سے قول نقل ہوئے ہیں، ان میں سے ایک قول تابعی حضرات سے منقول یہ ہے کہ یہود کی پہلی مغضوبیت کی بنیاد رسالت عیسوی سے انکار ہے۔ اور دوسری مغضوبیت کی بنیاد رسالت محمدی سے انکار۔ وھو قول الحسن والشعبی وعکرمۃ وابی العالیہ وقتادۃ (کبیر) یہ تفسیر بھی اپنی جگہ پر بہت خوب ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ دلنشین اور بےتکلف قول یہ ہے کہ پہلا عتاب ان کے بالکل بلاوجہ اور دلیل واضح وصریح کی موجودگی میں انکار تکذیب رسالت پر ہے۔ اور دوسرا عتاب ان کے جذبات حسدوعناد پر۔ لانھم کفروا بنبی الحق وبغواعلیہ (کشاف) للکفر والحسد (بیضاوی) بما اقترفوا من الکفر والحسد (روح) یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ مقصود کلام ان غضب کی تکرار نہیں بلکہ اس کی تاکید اور اشدیت ہے۔ المراد بہ تاکید الغضب وتکثیرہ (کبیر) ویحتمل ان یراد الترادف والتکاثر لاغضبان (روح) 315 ۔ عذاب الہی کا نہایت شدیدوالیم ہونا تو ظاہر ہی ہے پھر اس عذاب کی بنا چونکہ یہود کی قومی منافرت ونسلی عصبیت ہے، اس مناسبت سے یہ سزا ان کے غرور کو توڑنے والی، ان کی توہین، ذلت ورسوائی کو بڑھانے والی بھی ہوگی ،
Ayah 2:91

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:91 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ اس (کلام) پر جو اللہ نے نازل کیا ہے،316 ۔ تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر تو ایمان رکھتے ہیں جو ہمارے اوپر نازل ہوا ہے،317 ۔ اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے اس سے یہ کفر کرتے ہیں،318 ۔ حالانکہ وہ (خود بھی) حق ہے اور اس کی (بھی) تصدیق کرنے والا ہے جو ان کے پاس ہے،319 ۔ آپ کہیے کہ اچھا تو تم اس کے قبل انبیاء کو کیوں قتل کرتے رہے ہو، اگر تم واقعی ایمان والے تھے ؟320 ۔

316 (اپنے بندہ اور آخری رسول محمد ﷺ پر) ذکر وہی بنی اسرائیل کا چل رہا ہے۔ انہیں نے کہا جاتا تھا کہ آخری کتاب الہی قرآن پر ایمان لاؤ۔ 317 ۔ (اور وہ ہمارے لیے بالکل کافی ہے) (آیت) ” انزل علینا۔ ہمارے اوپر، یعنی ہماری قوم ونسل کے اوپر نازل ہوا ہے۔ یہود کا کہنا یہ تھا کہ ہم کوئی سلسلہ وحی یا مسئلہ رسالت کے منکر تھوڑے ہی ہیں، ہم بھی تو مومن ہی ہیں اور اپنی نسل اسرائیل کے انبیاء کے قائل ہیں۔ 318 ۔ یہ یہود کے قول کا تتمہ ہے۔ قرآن مجید نے یہ اضافہ کردیا کہ یہ لوگ اپنے اسرائیل سلسلہ کے باہر کسی اور نبوت کے قائل نہیں، ایک عرصہ تک الطاف الہی و عنایات خداوندی کے مورد خاص بنے رہنے، اور اسی نسل کے اندر انبیاء کے مسلسل پیدا ہوتے رہنے سے بنی اسرائیل کے دل میں یہ جم گیا تھا کہ نبوت خاندان اسرائیل کے باہر جاہی نہیں سکتی۔ 319 ۔ (آیت) ” ھوالحق۔ ضمیر ھو قرآن کی جانب ہے۔ اس کی حقانیت دلائل سے ثابت اور شواہد سے روشن ہے۔ (آیت) ” مصدقالما معھم۔ “ یعنی وہ تصدیق کرتا ہے توریت اور انبیاء بنی اسرائیل کے دوسرے صحیفوں کی۔ قرآن یہاں یہود کے مقابلہ میں اپنے دو وصف بیان کررہا ہے۔ ( 1) ایک یہ کہ وہ فی نفسہ حق ہے۔ اس کی حقانیت دلائل سے ثابت ہے۔ اس لیے اس پر ایمان لانا بجائے خود واجب ہے۔ (2) توریت اور دوسرے اسرائلی صحیفوں کے ساتھ اس کا تعلق منافات کا نہیں۔ اس کا رشتہ اتحاد وتصدیق کا ہے۔ 320 ۔ تیسرا جواب قرآن مجید نے یہود کو یہ دیا کہ خود یہی دعوی تمہارا کب صحیح ہے کہ تم اپنی قوم کے انبیاء پر ایمان رکھتے ہو ؟ ایمان وتصدیق الگ رہی، تم نے خود اس زور وشور سے ان کی تکذیب کی اور ان کی مخالفت وعداوت پر اس حد تک اتر آئے کہ انہیں قتل تک کرڈالا۔ اور تمہاری قومی تاریخ کے تو صفحات رنگین ہیں انبیاء کے خون سے۔ اسرائیل اور قتل انبیاء پر مفصل حاشیے رکوع (7) کے ذیل میں گزر چکے۔ بائبل کے ان حوالوں کے علاوہ ایک حوالہ اور ملاحظہ ہو، نحمیاہ نبی (علیہ السلام) کے زمانہ میں خود اکابر بنی اسرائیل اپنے باپ دادوں سے متعلق، مناجات میں کہتے ہیں :۔ ” وہ نافرمانبردار نکلے اور تجھ سے پھرگئے۔ اور انہوں نے تیری شریعت کو اپنی پشت کے پیچھے پھینکا اور تیرے نبیوں کو جو ان کو نصیحت دیتے تھے کہ انہیں تیری طرف پھرا لائیں قتل کیا اور انہوں نے اپنے کاموں سے تجھے غصہ دلایا “۔ (نحمیاہ۔ 9:25، 26)
Ayah 2:92

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:92 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس کھلے ہوئے نشان لے کر آئے،321 ۔ اس پر بھی تو تم نے ان کے پیچھے گوسالہ کو اختیار کرلیا322 ۔ اور تم تو ہو ہی ظالم323 ۔

321 ۔ (اور ان کھلے ہوئے نشانوں کا اثر طبعی طور پر یہ ہونا چاہیے تھا کہ تم خدا کی طاعت اور نبی کی اطاعت میں دل سے لگ جاتے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کھلے ہوئے نشانات اور معجزات جو فرعون کے مقابلہ میں تھے، عصا، ید بیضا وغیرہ، وہ تو مشہور ہی ہیں لیکن (آیت) ” جآء کم “ سے اشارہ یہ نکلتا ہے کہ کچھ معجزات موسوی خود بنی اسرائیل کے لیے بھی تھے۔ 322 ۔ (پرستش کے لیے) یہ ہے تمہارے دعوی توحید کی حقیقت ! گوسالہ پرستی پر حاشیے (رکوع 6) کے ذیل میں گزرچکے۔ ثم “ یہاں محض تاخرزمانی کے لیے نہیں، بلکہ یہ بھی ظاہر کرنے کے لیے ہے کہ تم کیسی پستی میں اتر گئے۔ اور یہ کہ تم نے یہ اس وقت کیا جب تمہارے پاس دلائل و شواہد اس کے خلاف پہنچ چکے تھے۔ تم للتراخی فی الرتبۃ والدلالۃ علی نھایۃ قبح ما صنعوا (ابوسعود) کلمۃ ثم للاستبعاد (روح) (آیت) ” من بعدہ “ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عارضی غیر حاضری کے زمانہ میں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس وقت اپنی قوم کو میدان میں چھوڑ کر سترمنتخب افراد کے ہمراہ کوہ طور پر گئے ہوئے تھے۔ تفصیلات رکوع (6) کے ؟ ذیل میں گزر چکیں۔ 323 ۔ (اپنے حق میں) یعنی تمہاری تاریخ گواہ ہے کہ تم اپنی جانوں پر اپنی روحوں پر ظلم کرنے کے کیسے عادی ہو ! یہ گویا جوابات سابقہ کا تتمہ ہے۔ اسرائیلیوں سے ارشاد ہورہا ہے کہ اور زمانوں میں تو خیرتم نے جو کچھ کیا ، ، خیر وہ تو کیا ہی شرک تو تم نے خود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کے زمانہ میں شروع کردیا۔ اور شرک بھی کیسا جلی۔ گوسالہ پرستی ! اور وہ بھی پیغمبر (علیہ السلام) کی صرف چند روزہ غیر حاضری کے زمانہ میں ! تمہارے لیے مانع نہ ان کے لائے ہوئے نشانات اور دلائل ہوسکے۔ اور نہ یہ امر کہ وہ تو ابھی زندہ سلامت موجود ہیں۔ غرض کہ نافرمانیوں میں دلیر تم آج سے نہیں، مدت دراز سے ہو۔
Ayah 2:93

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:93 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے تم سے قول وقرار لیا تھا۔ اور تمہارے اوپر کوہ طور کو بلند کیا تھا،324 ۔ (کہ) جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے،325 ۔ اسے مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور سنو،326 ۔ یہ (اس وقت) بولے تھے کہ (ہاں) ہم نے سن تو لیا مگر ہم نے مانا نہیں،327 ۔ اور ان کے دلوں میں گوسالہ ان کے کفر سابق کے سبب سے پیوست ہوگیا تھا،328 ۔ آپ کہہ دیجئے (کیسی) بری ہے وہ بات جس کا حکم تمہارا ایمان تمہیں دے رہا ہے، اگر تم (واقعی) ایمان والے ہو،329 ۔

324 ۔ (تمہارے اوپر نزول شریعت کے وقت) اس پر حاشیہ رکوع (7) میں گزر چکا۔ 325 ۔ یعنی یہ احکام وشرائع جو ابھی تم پر نازل کئے ہیں۔ 326 ۔ (ان احکام وشرائع کو گوش دل سے سنو، اور ان پر عمل کرو) اے اقبلو ما سمعتم (بحر) قال الماتریدی معنی اسمعوا اقیموا (بحر) وقیل اعملوا (بحر) ۔ 327 ۔ آیت سے یہ لازم نہیں آتا کہ (آیت) ” عصینا “ (ہم نے نہیں مانا) ان لوگوں نے زبان سے بھی کہا ہو، قال ابو مسلم و جائز ان یکون المعنی سمعوہ وتلقوہ بالعصیان فیعبر عن ذلک بالقول وان لم یقولوہ (کبیر) یہ بھی کہا گیا ہے، کہ قول یہاں بطور مجاز، زبان حال کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ نطق لسانی مراد نہیں۔ قیل یعبر بالقول للشئی عما یفھم بہ من حالہ وان لم یکن نطق (بحر) وقیل المعنی قالوا بلسان القال سمعنا وبلسان الحال عصیان (روح) چونکہ واقع میں یہ بات دل سے نہ تھی، اس لیے گویا زبان حال سے یہ یہی کہہ رہے تھے (تھانوی) قول کا لفظ یوں بھی عربی میں نہایت وسیع معنی رکھتا ہے۔ زبان سے ادار کرنا ہرگز اس کے لیے لازمی نہیں۔ راغب نے اپنے مفردات میں خود قرآن ہی سے اس کے متعدد معنی نقل کیے ہیں، اور چوتھے نمبر پر اس کے معنی دلالت حالی لکھے ہیں، اور ایک شاعر کا مصرعہ بھی سند میں پیش کیا ہے۔ یقال للدلالۃ علی الشئی نحوقول الشاعر۔ امتلا الحوض وقال قطنی اور تاج العروس میں سیبویہ وغیرہ ائمہ لغت کے حوالہ سے اس سے بھی زیادہ وسیع معنی بیان کیے گئے ہیں۔ لیکن اگر ان سرکشوں اور گستاخوں نے یہ لفظ زبان سے بھی نکالا ہو، تو ان کی عادی اور مسلسل نافرمانیوں کو دیکھتے ہوئے تعجب ذرا سا بھی نہیں۔ یرمیاہ نبی (علیہ السلام) کے صحیفہ میں ایک تصریح بالکل اس سے ملتی جلتی، گو ایک دوسرے موقع کے لیے موجود ہی ہے :۔” خداوند یوں کہتا ہے کہ راہوں پر کھڑے ہو اور دیکھو اور پرانے رستوں کی بابت پوچھو کہ پہلی راہ کہاں ہے۔ اسی میں چلو کہ تم اپنے جیوں میں آرام پاؤگے۔ پر انہوں نے کہا کہ ہم اس میں نہ چلیں گے، اور میں نے تمہارے اوپر نگہبان بھی ٹھیرائے، اور کہا کہ نرسنگے کی آواز سنو۔ پر انہوں نے کہا کہ ہم نہ سنیں گے “۔ (یرمیاہ۔ 6: 16، ، 17) 328 ۔ چناچہ بیل کے تقدس کا اعتقاد اسرائیل قوم میں مدت دراز تک قائم رہا (جیوش انسائیکلوپیڈیا، جلد 9، صفحہ 452) (آیت) ” اشربوا فی قلوبہم “ مراد یہ ہے کہ گوسالہ کی محبت ان کی رگ رگ میں رچ گئی تھی، جیسے پانی رگ رگ میں پہنچ کر جزوبدن بن جاتا ہے۔ مشروب سے یہ استعارہ شدید محبت اور شدید نفرت دونوں موقعوں پر اہل عرب کی زبان میں عام ہے۔ وان من عادتھم اذا ارادوا العبارۃ عن مخامرۃ حب اوبعض استعاروا الی اسم الشراب لانہ ھو ابلغ انجاع فی البدن (راغب) یا یہ استعارہ رنگ سے ہو، کہ وہ بھی کپڑے کے ریشہ ریشہ میں پیوست ہوجاتا ہے۔ کما یداخل الثوب الصبح (کشاف) کما یتداخل الصبغ الثوب والشراب اعماق البدن (بیضاوی) (آیت) ” بکفرھم “ ب سببیہ ہے، یعنی ان کے کفر کے باعث نتیجہ کفر کے طور پر۔ الباء للسبب اے الحامل لھم علی عبادۃ العجل ھو کفر ھم السابق (بحر) 329 ۔ حجت الزامی ہے بنی اسرائیل کے مقابلہ میں۔ گویا قرآن کا کہنا ہے کہ دعوی تو یہ کہ ہم صاحب ایمان و توحید ہیں، اور عمل یہ کہ گوسالہ کی تنزیہ و تقدیس میں لگے ہوئے ہو ! کیا اچھا تمہارا ایمان ہے !
Ayah 2:94

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:94 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اگر عالم آخرت خاص تمہارے ہی لیے ہے دوسروں کو چھوڑ کر،330 ۔ تو موت کی آرزو کردیکھو اگر تم سچے ہو،331 ۔

330 ۔ (جیسا کہ تم اپنے زعم وپندار میں سمجھ رہے ہو) بنی اسرائیل کے اس بنیادی عقیدہ کا ابتدائی خاکہ تو خود موجودہ توریت میں موجود ہے۔ مثلا ” تم خداوند اپنے خدا کے فرزند ہو “۔ (استثناء۔ 14: 1) ” تو خداوندا پنے خدا کے لیے مقدس قوم ہے۔ اور خداوند نے تجھ کو چن لیا، تاکہ سب قوموں کی بہ نسبت جو زمین پر ہیں، تو اس کے لیے خاص قوم ہو “۔ (استثناء۔ 14:2) رفتہ رفتہ یہ عقیدہ ترقی کرکے اس درجہ تک پہنچ گیا کہ یہود اپنے سوا کسی اور کو جنت کا مستحق ہی نہیں سمجھتے تھے، اور نجات اخروی کو اپنا مخصوص حق سمجھنے لگے تھے۔ اپنے کو خدا کا محبوب اور خدا کالا ڈلا اور چہیتا فرزند قرار دینے لگے تھے اور خیال یہ جما لیا تھا کہ خداوند خدا کا جو معاملہ ہماری قوم ونسل کے ساتھ ایک ناقبل تبدیل طور پر ہے وہ دنیا جہان میں کسی اور کے ساتھ نہیں۔ نسلی تقدیس کی یہی وبا ہے جو ہندوستان میں برہمنیت کے نام سے جلوہ گر ہے۔ (آیت) ” الدارالاخرۃ عنداللہ۔ مراد ہے جنت اور نجات کا حاصل ہونا، (آیت) ” دون الناس “ ناس سے مراد نوع انسانی ہے اور (آیت) ” دون الناس “ سے مراد اپنی قوم ونسل کی خصوصیت کا اظہار اور اس میں دوسروں کی شرکت سے انکار ہے۔ دون ھنا لفظ۔ یستعمل للاختصاص وقطع الشرکۃ (بحر) ۔ 331 ۔ (اپنے اس دعوی میں کہ ہماری نجات یقینی اور قطعی ہے) قدیم مفسرین نے یہاں یہ سوال اٹھایا ہے کہ یہی مطالبہ یہود بھی تو الٹ کر مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ سے کرسکتے تھے اور پھر اپنے اپنے مذاق پر اس کے جوابات دیئے ہیں۔ لیکن حقیقۃ یہ سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا، کوئی مسلمان کب اپنی نجات کو محض مسلمان گھرانے میں پیدا ہوجانے سے یقینی سمجھتا ہے ؟ مسلمان تو خود ہی ایمان اور عمل صالح کے دہرے دہرے اختیاری معیار سے ڈرتا، لرزتا رہتا ہے، کہ دیکھنا چاہیے، حشر میں اس امتحان میں پورا اترتا بھی ہے یہ نہیں ؟ یہ اطمینان اور یہ زعم کہ چونکہ ہم فلاں گھرانے، فلاں خاندان میں پیدا ہوگئے ہیں، اس لیے بغیر کسی جہدواکتساب کے ہماری نجات تو یقینی ہوچکی، یہ عقیدہ اسرائیلیوں کے ساتھ مخصوص تھا، مسلمان اس کے قریب ہی کب گیا، جو یہ سوال اس پر عائد ہوسکے ؟ اسلام تو اس نسلی تقدیس اور اس اضطراری نجات کے عین مٹانے کے لیے ہے۔ مسلمان تو خود ہی کہتا ہے کہ مجھے اپنا انجام نہیں معلوم۔ میں ایمان اور طاعت کی راہ اپنی طرف سے اختیار کرکے آگے فضل خداوندی کا منتظر ہوں، مسلمان کے سامنے اس سوال کو پیش کرنے کا کوئی محل ہی نہیں، پھر یہ بھی ہے کہ یہ مطالبہ ہر اسرائیلی سے، ہر زمانہ کے لیے ہے بھی نہیں۔ اس کا دائرہ صرف انہیں معاند یہود کے ساتھ مخصوص ہے جو رسول اللہ ﷺ کے معاصر تھے اور سارے شواہد کے بعد بھی آپ ﷺ کے منکر تھے۔ وھذا خاص بالمعاصرین لہ ﷺ (روح) یہ تفسیر خود صحابی حضرات سے مروی ہے بلکہ حضرت ابن عمر ؓ نے تو اپنے زمانہ کے ایک گستاخ یہودی کے جواب میں یہ مضمون بڑی حدت وشدت کے ساتھ ادا کیا ہے۔ توھم ھذا الکلب اللعین الجاھل ان ھذا لل یہودی اوللیہود فی کل وقت لاانما ھو لاولئک الذین کانوا یعاندون ویجحدونبوۃ النبی ﷺ بعد ان عرفوا (روح) مرشد تھانوی نے فرمایا کہ موت کی محبت، خواہ طبعی ہو یا عقلی، ولایت کی علامتوں میں سے ہے۔
Ayah 2:95

وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:95 in the Quran reader

لیکن وہ اس کی آرزو ہرگز کبھی بھی نہ کریں گے بہ سبب ان (اعمال بد) کے جو یہ اپنے ہاتھوں سمیٹ چکے ہیں،332 ۔ اور اللہ ظالموں سے (خوب) واقف ہے،333 ۔

332 ۔ یعنی ان کا خود چو رہے۔ ان کا ضمیر ان پر ملامت کررہا ہے۔ لقاء رب کا کوئی ولولہ کوئی جذبہ ان میں باقی ہی کہاں ہے، جو یہ عالم آخرت کی تمنا کرسکیں۔ (آیت) ” ابدا “ احتجاج بالا جب صرف یہود معاصرین رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مخصوص ہوگیا تو (آیت) ” ابدا “ کے معنی بھی لازمی طور پر یہ ہوں گے کہ یہ اپنی زندگی بھر ایسا نہ کریں گے۔ و یعنی بالابدھنا ما یستقبل من زمان اعمارھم (بحر) اے لن یتمنوہ ماعاشوا (روح) 333 ۔ یعنی ان لوگوں سے جو اپنے ہتھکنڈوں سے خود اپنے حق میں ظلم کرتے ہیں۔ الظلم ھو تجاوز ما حد اللہ (بحر) ۔
Ayah 2:96

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:96 in the Quran reader

اور آپ انہیں زندگی پر حریص سب لوگوں کے بڑھ کر پائیں گے،334 ۔ (یہاں تک کہ) مشرکوں سے بھی بڑھ کر،335 ۔ ان میں سے ایک ایک یہ چاہتا ہے کہ ہزار (ہزار) برس کی عمر پائے،336 ۔ حالانکہ اگر اتنی عمر وہ پا بھی جائے تو یہ (امر) اسے عذاب سے تو نہیں بچا سکتا،337 ۔ اور جو کچھ وہ کررہے ہیں اللہ اسے (خوب) دیکھ رہا ہے،338 ۔

334 ۔ یعنی اس زندگی پر حریص جو پلیدی اور گندگی سے لبریز ہے۔ زندگی سے محبت اور موت سے وحشت تو ایک حد تک طبعی ہے، اور ان طبعی حدود کے اندر ہرگز اسلام میں کوئی ملامت نہیں، لیکن یہود کا جذبہ حب دنیا طبعی حدود سے تجاوز کرگیا تھا۔ دنیا پرستی مقصود بالذات بن گئی تھی۔ اور روحانیت کا ذوق بالکل مردہ ہوچکا تھا۔ ہندوستان میں بھی جن قوموں نے جنتر منتر وغیرہ ظاہری رسول میں غلو اور ان پر تکیہ کر رکھا ہے۔ ان کے دل بھی ذوق آخرت سے یکسر محروم ہوچکے ہیں، اور یہود کی حب دنیا مال آج بھی ضرب المثل ہے۔ جیوش انسائیکلوپیڈیا میں تالمود وغیرہ کے حوالہ سے اس مضمون کے متعدد قول نقل ہوئے ہیں کہ دنیوی زندگی بجائے خود ایک بہت بڑی نعمت ہے، معصیت گوارا کرلینا چاہیے لیکن موت نہ گوارا کرنا چاہیے۔ وقس علی ہذا۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ 335 ۔ (جو بیچارے کتاب آسمانی اور پیام انبیاء کی دولتوں سے محروم ہیں) مطلب یہ ہے کہ مشرکین تو سرے سے اخروی نعمتوں کے لذت شناس ہی نہیں، وہ اگر ادھر سے غیر ملتفت ہو کر اپنا مرکز توجہ و محور زندگی اسی مادی زندگی کو بنائے رکھیں، تو کچھ ایسا حیرت انگیز نہیں، غضب تو یہ یہود کر رہے ہیں جو اپنے آسمانی صحیفوں اور پیمبرانہ ہدایتوں کے ہدایتوں کے باوجود بھی مشرکوں سے بڑھ کر دنیا سے لپٹے ہوئے ہیں، ایک عجیب بات اسی سلسلہ میں یہ ہے کہ تطویل عمر کے جو عجب عجب نظریے آج یورپ میں قائم ہو رہے ہیں اور طرح طرح کی تدبیریں اور نسخے اس کے لیے ایجاد ہورہے ہیں، ان میں سب سے زیادہ پیش پیش یہودی ہی ڈاکٹر اور اہل سائنس ہیں۔ 336 ۔ (آیت) ” احدھم “ ضمیر ھم کا مرجع یہود ہیں اے یوداحد الیھود (ابن کثیر عن السدی) بعض نے مرجع (آیت) ” الذین اشرکوا “ کو ٹھہرایا ہے لیکن سیاق قول اول کو صاف ترجیح دے رہا ہے۔ کما یدل علیہ نظم السیاق (ابن کثیر) 337 ۔ بالفرض اس قدر طویل زندگی حاصل بھی ہوگئی تو آخر کیا نتیجہ ؟ بہرحال خاتمہ تو ایک روز اس طویل سے طویل زندگی کا بھی ہونا ہے۔ اور پھر اسی مواخذہ اخروی کا سامنا۔ سو ایسی لایعنی اور لغوتمناؤں کے پھیر میں پڑے رہنا کسی دیندار شخص کے لیے ممکن ہی کیونکر ہے۔ 338 ۔ (اور ہر طرح کی جزاوسزا پر قادر ہے) خدا تعالیٰ کی ہمہ بینی، ہمہ توانی کا استحضار انسان کو راہ راست پر قائم رکھنے کے باب میں اکسیر ہے۔ انسان غفلت ومعصیت کی طرف قدم اسی وقت رکھتا ہے جب ذہن سے ایک حاضر وناظر حاکم کا تصور غائب ہوتا ہے۔ یہی راز ہے اس کا کہ قرآن مجید میں اللہ کی صفات ہمہ بینی وہمہ دانی کی یاد دہانی اس کثرت و تکرار کے ساتھ ہوئی ہے۔
Ayah 2:97

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:97 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے جو کوئی جبرائیل کا مخالف ہے،339 ۔ تو انہوں نے اس (قرآن) کو آپ کے قلب پر اللہ کے حکم سے اتارا ہے،340 (وہ) تصدیق کرنے والا ہے اس (کلام) کا جو اس کے قبل سے ہے اور ہدایت ہے اور ایمان والوں کے لیے خوشخبری ہے،341 ۔

339 ۔ (آیت) ” جبیریل “ اسلامی اصطلاح میں ایک فرشتہ اعظم کا نام ہے۔ ان کے سپرد ایک اہم خدمت انبیاء کرام تک وحی کے پہنچانے کی ہے۔ انسان، بڑے سے بڑا مقبول انسان بھی بہرحال بشر ہی ہوتا ہے، اور جسم خاکی ہی رکھتا ہے، اس کے محدود اور کثیف خاکی قوی علی العموم اتنا تحمل نہیں رکھتے کہ براہ راست تجلیات لاہوتی کی شعاعوں کو قبول کرسکیں۔ اس غرض کے لیے عموما لطیف الجسم، نور کے بنے ہوئے فرشتوں سے، سفارت وتوسط کا کام لیا جاتا ہے، یہود بھی وجود ملائکہ کے قائل تھے، بلکہ خود حضرت جبرئیل کو بھی ایک فرشتہ اعظم مانتے تھے، اور ان کا ذکر توریت میں آج تک موجود ہے، لیکن اپنی نادانی سے خیال یہ جمالیا تھا کہ وہ ایک فرشتہ عذاب ہیں، ان کا کام وحی لانا نہیں، عذاب لانا ہے۔ اور وحی لانا تو کام ایک دوسرے فرشتہ حضرت میکائیل کا ہے۔ اپنے ان مفروضہ مقدمات ومسلمات کے بعد وہ رسول ﷺ پر معترض ہوتے تھے کہ یہ نئے مدعی نبوت اپنی وحی کے سلسلہ میں نام حضرت جبرائیل کا کیوں لاتے ہیں، یہاں تعرض یہود کی اسی غلط اندیشی سے کیا جارہا ہے۔ موجودہ توریت میں بار بار ذکر ایک ایسے فرشتہ کا آتا ہے جو لوگوں کو مارتا تھا۔ “ (2 ۔ سموئیل۔ 44: 16، 17) اور علمائے یہود نے اس سے مراد فرشتہ جبرئیل ہی سے رکھی تھی، آج بھی یہود حضرت جبرئیل کو حضرت میکائیل کا ہمسر وہم پلہ نہیں، ان سے کمتر ہی سمجھتے ہیں۔ (جیوش انسائیکلو پیڈیا، جلد 5 صفحہ 54 1) 340 ۔ (پھر ان سے مخالفت وعداوت وبدگمانی کے کیا معنی ؟ ) یہاں یہود کے جہل کو رفع کیا گیا، اور بتایا گیا کہ حضرت جبرئیل کے نام سے چڑنا کیا معنی، وہ تو خدا کے ایک معتمد سفیر ہیں ، ، اور خدمت سفارت پر مامور۔ (آیت) ” باذن اللہ “۔ اذن کے معنی لغت میں علاوہ لغت میں علاوہ اجازت کے حکم یا ارشاد کے بھی ہیں، ویکون باذنہ اے بامرہ (لسان) ویکون الامر اذنا (تاج) چناچہ یہاں بھی (آیت) ” اذن اللہ “ سے مراد اللہ کا حکم یا ارشاد ہی ہے، اے باذن اللہ (معالم) فالاظہر بامر اللہ (کبیر) اے بامرہ (بیضاوی) 341 ۔ یہاں کلام مجید نے اپنے تین وصفت متعین طور پر بیان کیے :۔ ایک یہ کہ وہ گزشتہ انبیاء اور سابق صحیفوں کی تصدیق کرتا ہے۔ اس کا پیام کوئی نرالا اور انوکھا نہیں، وہی توحید کا پرانا سبق ہے جو سارے سلسلہ وحی میں مشترک رہا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ فی نفسہ ایک ہدایت نامہ ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ اہل ایمان کے حق میں مایہ بشارت ہے۔
Ayah 2:98

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:98 in the Quran reader

جو کوئی مخالف ہو اللہ کا یا اس کے فرشتوں کا یا اس کے پیغمبروں کا یا جبرئیل کا یا میکائیل کا،342 ۔ تو اللہ (بھی) بالیقین مخالف ہے (ایسے) کافروں کا،343 ۔

342 ۔ یعنی جو شخص بھی اللہ یا اس کے پیغمبروں یا اس کے فرشتوں، خصوصا جبرئیل ومیکائیل جیسے مقرب فرشتوں سے وہ رشتہ وتعلق قائم رکھتا ہے جو ان کے مرتبہ واجب کے منافی ہے۔ عدو۔ عربی میں بطور مصدر بھی آتا ہے، اور اس معنی میں یہ ضد ہے دوستی و محبت کا، منافاۃ الالتیام (راغب) دوسرا استعمال اس کا بحثییت اسم کے ہے، جیسا کہ یہاں ہے، اور اس معنی میں یہ مقابل ہے دوست کے۔ العدو للشخص ضد الصدیق (روح) اور اس کے مفہوم میں محض عداوت نہیں، بلکہ انکار، نافرمانی، حق ناشناسی، غرض دوستی و محبت کے منافی جو کچھ ہے سب داخل ہے۔ میکال یا میکائل بھی جبرئیل کی طرح ایک فرشتہ مقرب کا نام ہے، مشہور روایتوں میں آیا ہے کہ ان کے ذمہ مخلوق کی رزق رسانی اور بارش ہے گویا جس طرح احکام تشریعی کے لیے واسطہ خاص حضرت جبرئیل ہیں، احکام تکوینی کے لیے واسطہ خاص میکائل ہیں، پہلے کا تعلق خاص بارگاہ الوہیت سے ہے، دوسرے کا کارگاہ ربوبیت سے، تو بریت میں ان کا ذکر بڑے تعظیمی لہجہ میں موجود ہے۔ یہود نے اپنے سارے تعلقات انہیں سے جوڑ رکھے تھے، اور انہیں اپنا قومی محافظ سمجھتے تھے۔ یہود نے جب حضرت جبرئیل کے حامل وحی ہونے سے انکار کیا تھا (ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 339) تو اپنی عداوت ورغبت کا اظہار انہیں دو فرشتوں کا نام لے کر کیا تھا، اسی مناسبت سے قرآنی جواب میں بھی تصریح انہیں دونوں کے نام کی ہے، اور ساتھ ہی جیسا کہ قرآن مجید کا عمومی دستور کسی واقعہ خاص سے ایک ہدایت عام بیان کردینے کا ہے، ایک عام قاعدہ عمام معصوموں (یعنی انبیاء وملائ کہ) سے متعلق بیان کردیا گیا، و۔ اہل لغت نے لکھا ہے کہ حرف واؤ ہمیشہ عطف وجمع ہی کے لیے نہیں آتا، بلکہ، ” یا “ کے معنی میں ہے۔ یعنی ان اسماء کا مجموعہ مراد نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ جو کوئی ان میں سے کسی ایک کا بھی مخالف ہے۔ یعنی من کان عدوا لا حد ھولاء انہ عدو للکل (معالم) یعنی من کان عدوا لاحد من ھولاء (کبیر) 343 ۔ یعنی ایسا ہر شخص کافر سمجھا جائے گا اور اس کے ساتھ معاملہ وہ کیا جائے گا، جو دشمن کے ساتھ دشمن کرتا ہے۔ فقہاء نے آیت سے نکالا ہے کہ معصوموں کی اطاعت عین اطاعت الہی، اور معصوموں کی مخالفت عین مخالفت حق ہے، فرشتہ کی اطاعت توریت میں بھی عین اطاعت رب بتائی گئی ہے :۔ ” دیکھ میں ایک فرشتہ تیرے آگے بھجتا ہوں کہ راہ میں تیرا نگہبان ہو، اور تجھے اس جگہ جو میں نے تیار کی ہے لے آوے، اس کے آگے ہوشیار رہ اور اس کا کہا مان۔ اسے مت چڑا، کیونکہ وہ تیری خطا نہ بخشے گا کہ میرا نام اس میں ہے۔ پر اگر تو سچ مچ اس کا کہا مانے اور سب جو میں کہتا ہوں کرے تو میں تیرے دشمنوں کا دشمن اور تیرے بیریوں کا بیری ہوں گا، “۔ (خروج۔ 23:2 ۔ 2 1) یہ بھی کہا گیا ہے کہ خلفائے راشدین واصحاب رسول ﷺ جن کے فضائل گویا تواتر کی حدتک پہنچے ہوئے ہیں، ان کی مخالفت وعداوت بھی اسی حکم میں داخل ہے۔ مرشد تھانوی نے فرمایا کہ اہل اللہ سے عداوت رکھنا خود اللہ تعالیٰ کی عداوت کا سبب بن جاتا ہے۔
Ayah 2:99

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 2:99 in the Quran reader

اور بالیقین ہم نے آپ پر روشن نشان اتارے ہیں، 344 ۔ اور ان سے کوئی (بھی) انکار نہیں کرتا بجز نافرمانوں کے،345 ۔

344 ۔ (آپ کی صداقت اور نبوت کے) یعنی ایک تو قرآن خود ایک معجزہ ہے، پھر دوسرے تائیدی شواہد و دلائل، بشارات ومعجزات۔ (آیت) ” ایت بینت “ سے مراد آیات قرآنی بھی ہوسکتی ہیں، جن بینظیر تعلیمات کی حامل ہیں، ان پر نظر کرکے بعض محققین نے یہی اختیار کیا ہے الاظہران المراد ایات الفرقان الذی لایاتی بمثلہ الجن والانس (کبیر) لیکن لفظ ایات ہے عام ووسیع۔ اس لیے دوسرے بزرگوں نے سارے اقوال کو جمع کرکے لکھا ہے کہ اس سے مراد سبھی کچھ ہے قرآن بھی، معجزات بھی، کتب سابقہ پر اطلاع بھی، معجزات سابقہ پر اطلاع بھی، قرآن کا قانونی نظام بھی، وقس علی ہذا۔ اے القران والمعجزات المقرونۃ بالتحدی عما خفی واخفی فی الکتب السابقۃ اوالشرائع اوالفرائض اومجموع کل ماتقدم (بحر) یہود جو اپنے پیمبروں کے معجزات کی روایتوں کے خوب عادی ہوچکے تھے بار بار مطالبہ کرتے تھے کہ یہ کیسے نبی ہیں، نبی ہیں تو کوئی نشانی تو دکھلائیں، جواب ملا کہ تم ایک نشانی کو کہتے ہو، ہم تو انہیں متعدد نشانات (بہ صیغہ جمع) دیئے چکے ہیں اور وہ بھی دقیق وخفی نہیں، نمایاں و روشن۔ سب کو نظر آجانے والے۔ 345 ۔ یعنی ان شواہد صریح اور دلائل روشن سے انکار کوئی فطرت سلیم والا تو کرتا نہیں۔ بس وہی لوگ کرتے ہیں جو قانوں الہی کے توڑتے رہنے اور شرائع ربانی سے بغاوت کرنے کے خوگر ہوچکے ہیں۔ انجیل میں یہود کی قساوت قلب کے سلسلہ میں ہے کہ مسیح (علیہ السلام) نے ” اگرچہ ان کے سامنے اتنے معجزے دکھائے تو بھی وہ اس پر ایمان نہ لائے “ (یوحنا۔ 12:73)
Ayah 2:100

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:100 in the Quran reader

کیا یہ ہے کہ انہوں نے جب کبھی بھی کوئی عہد کیا ہے،346 ۔ تو انہیں میں سے کسی (نہ کسی) جماعت نے توڑ ہی پھینکا ہے،347 ۔ اصل یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ ترتواعتقاد ہی نہیں رکھتے،348 ۔

346 ۔ (خدایا اس کے کسی نبی کی اطاعت کا) ذکر انہیں عصیان پیشہ یہود کا چل رہا ہے ؛۔ 347 ۔ بنی اسرائیل کی تاریخ، غداری، عہد شکنی، نافرمانی، سرکشی کی ایک مسلسل تاریخ ہے۔ توریت کے صفحے، انجیل کے ورق، قدیم مؤرخین یہود جو زیفس وغیرہ کے دفتر سب اسی سرگزشت سے لبرلیز ہیں اور یہاں اشارہ ان کی اسی قومی خصوصیت کی جانب ہے۔ 348 ۔ (اپنے کسی عہد و پیمان اطاعت کا) یعنی ایفائے عہد تو الگ رہا ان میں سے بہت سے اسی کے قائل نہیں ملتے کہ کبھی اطاعت کا عہد تو الگ رہا ان میں سے بہت سے اسی کے قائل نہیں ملتے کہ کبھی اطاعت کا عہد و پیمان کیا بھی تھا۔ گویا ایمان (آیت) ” لایؤمنون “ میں اپنے اصطلاحی معنی میں نہیں لفظی معنی میں ہے۔ (آیت) ” لایؤمنون “ کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ایمان کو ایمان اصطلاحی کے مفہوم میں لیا جائے اور یہ کہا جائے کہ یہ لوگ خود اپنی کتابوں اور صحیفوں پر ایمان کب رکھتے ہیں۔ لایصدقون بکتابھم “ (کبیر) لایؤمنون بالتوراۃ (مدارک) ماحصل دونوں صورتوں کا یہ ہے، کہ وہ پاس عہد خصوصا آخری نبی کی تصدیق کرنے کے عہد کا اپنے کو پابند ہی کب سمجھتے ہیں،۔
Ayah 2:101

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘ Open ayah 2:101 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس پیغمبر اللہ کی طرف سے آئے تصدیق کرتے ہوئے اس (کتاب) کی جو ان کے پاس موجود تھی،349 ۔ تو (ان) اہل کتاب میں سے ایک جماعت نے کتاب اللہ کو اپنی پشت کے پیچھے پھینک مارا350 ۔ گویا وہ جانتے ہی (بوجھتے) نہیں،351 ۔

349 یعنی کتاب توریت کی۔ یہود کو بتایا یہی جارہا ہے کہ نئے نبی جو آئے ہیں یہ تمہاری کتاب اور اس کے دین کو مٹانے کے لیے نہیں، یہ تو عین اسے تازگی بخشنے، اسے حیات تازہ دینے کے لیے آئے ہیں۔ (آیت) ” رسول “ یہ کس پیغمبر کے آنے کا ذکر ہے ؟ جائز ہے کہ (آیت) ” رسول “ کو مطلق رسول کے معنی میں لیا جائے، اور مراد اس سے کوئی بھی پیغمبر سمجھا جائے، یہ معنی بھی یہود کی عام عادت تکذیب انبیاء ورسل کے لحاظ سے صحیح ہیں۔ لیکن ترجیح اس پہلو کو ہے کہ یہاں مراد رسول موعود، نبی آخرالزمان ﷺ ہیں۔ اور (آیت) ” رسول “ کا صیغہ نکرہ میں ہونا اس کے منافی نہیں۔ صیغہ نکرہ جس طرح تعمیم کے لیے آتا ہے، عظمت و تکریم کے لیے بھی آتا ہے۔ اور وہی یہاں مقصود ہے۔ والتنکیر للتعظیم (ابو سعود) 350 ۔ نبذوہ وراء ظہورھم۔ کتاب کے پس پشت پھینک دینے سے محاورہ میں مراد اس کی طرف سے بےالتفاتی برتنے اور اس کی عملی مخالفت کرنے سے ہے۔ اے طرحوہ بقلۃ اعتداد ھم بہ (راغب) مثل بما یرمی بہ وراء الظھر استغناء عنہ وقلۃ التفات الیہ (کشاف) کتاب اللہ سے یہاں کیا مراد ہے۔ یہود کی بےالتفاتی اور بےتعلقی قرآن سے تو ظاہر ہی تھی، اور یہ کوئی بات ایسی ذکر کرنے اور توجہ دلانے کی نہ تھی، غضب یہ تھا کہ قرآن وصاحب قرآن سے مخالفت کی دھن میں خود اپنی کتاب آسمانی کی طرف سے بھی وہ بےپرواہ اور بےتعلق ہوگئے تھے۔ کہ آخر توریت میں بھی تو نبی آخرالزمان ﷺ کی بابت پیشگوئیاں، ان کی علامتیں اور ان پر ایمان لانے کی تاکید درج تھی، اس لیے محققین نے ترجیح اس کو دی ہے کہ کتاب اللہ سے یہاں مراد توریت ہے، یعنی التوراۃ (کشاف) قیل انہ القران وقیل انہ التوراۃ وھذا ھو الاقرب (کبیر) و یعنی بقولہ کتاب اللہ التوراۃ (ابن جریر۔ عن السدی) ، 351 ۔ (کہ اس کتاب کے اندر بھی کوئی مضمون اس قسم کا موجود ہے) لایعلمون مافی التوراۃ من الامر باتباع محمد ﷺ وتصدیقہ (ابن جریر) ۔