2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 2:111

وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:111 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ جنت میں کوئی ہرگز داخل نہ ہوگا مگر یہاں وہی جو یہودی یا نصرانی ہوں ، 396 ۔ یہ ان کی (نری) آرزوئیں ہیں،397 ۔ آپ کہہ دیجئے کہ اپنی سند لاؤ اگر تم سچے ہو،398 ۔

396 ۔ یہ کہنے والے یہود ونصاری تھے۔ قرآن مجید نے انہیں کی ترجمانی کی ہے۔ یہود کا یہ عقیدہ شروع سے چلا آرہا ہے کہ نجات انہیں کی قوم اور وابستگان قوم کے ساتھ مخصوص ہے۔ چناچہ انجیل میں بھی ان کا یہ مقولہ نقل ہوا ہے کہ :۔ ” نجات یہود میں ہے “ (یوحنا۔ 4:22) یہود ونصاری دونوں کے ہاں کے مزید حوالوں کے لیے ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریزی۔ ظہور اسلام کے وقت یہود ونصاری کا کہنا یہ تھا کہ اس نئے دین کے قبول کرنے کی ضرورت کیا، نجات تو ہمارے دینوں کے ساتھ وابستہ ہے۔ 397 ۔ (جو کچھ پوری ہونے والی نہیں اور جن کی تائید میں نہ کوئی دلیل معقول ہے اور نہ سند منقول) محض بزرگ زادگی اور نسلی ونسبی شرافت جب پیغمبروں کی اولاد کے کام نہ آسکی تو ہمارے زمانہ کے پیرزادوں اور مشائخ زادوں کا اپنے شرنسلی پر قناعت کیے ہر نا کس درجہ بےعقلی ہے۔ امنیۃ واحد ہے امانی کا من سے مشتق۔ اضحوکہ اور عجوبہ کے وزن پر۔ 398 ۔ (اپنے اس دعوی میں کہ نجات یہودیت یا نصرانیت کے ساتھ وابستہ ہے) پیغمبر ﷺ کو ہدایت ہوتی ہے کہ اہل کتاب سے کہ ہے کہ خالی زبانی دعوؤں اور خالی آرزوؤں سے کیا ہوتا ہے، اگر حقانیت کے مدعی ہو تو اپنی تائید میں کوئی دلیل عقلی یانقلی لاؤ۔
Ayah 2:112

بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ Open ayah 2:112 in the Quran reader

ہاں البتہ،399 ۔ جو کوئی بھی اپنی ذات کو اللہ کے آگے جھکائے اور وہ مخلص بھی ہو،400 ۔ تو ایسے کے لیے اس کے پروردگار کے پاس اس کا اجر ہے اور ایسوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ مغموم ہوں گے،401 ۔

399 ۔ یعنی نجات کا صحیح قانون یہ ہے جواب بیان ہورہا ہے، بکی۔ اپنے سبق کی نفی وتردید کے لئے ہے۔ یعنی تمہارا دعوی غلط محض ہے۔ صحیح قاعدہ یہ ہے جو آگے آرہا ہے۔ 400 ۔ (اپنے اس ایمان و اعتقاد میں) یعنی اس کا عمل بھی اس کے عقیدہ توحید کے مطابق ہو۔ گویا ایمان وحسن عمل دونوں جمع ہوں۔ وجہ کے لفظی معنی چہرہ کے ہیں۔ لیکن محاورہ میں اکثر مراد ذات سے یا عین شے سے ہوتی ہے اور وہی یہاں مراد ہے۔ ربما عبر عن الذات بالوجہ (راغب) فالوجہ اما مستعار للذات واما مجاز عن القصد (روح) اسلم وجھہ للہ یعنی توحید کا پوری طرح قائل ہوجائے بلاآمیزش شرک۔ اے اخلص نفسہ لہ لا یشرک بہ غیرہ (کشاف) لم یقصد سواہ (روح) 401 ۔ خوف واندیشہ کا تعلق مستقبل سے ہے اور حزن وغم ماضی کے واقعات پر ہوتا ہے۔ ذکر قیامت کا ہے کہ اس روز اہل ایمان نہ اپنے ماضی پر حسرت وتاسف کریں گے نہ آئندہ کے لیے دہشت زدہ ہوں گے۔
Ayah 2:113

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 2:113 in the Quran reader

اور یہود کہتے ہیں کہ نصاری کسی بنیاد پر نہیں،402 ۔ اور نصاری کہتے ہیں کہ یہود کسی بنیاد پر نہیں،403 ۔ درآنحالیکہ وہ سب (ایک ہی) کتاب (آسمانی) پڑھتے ہیں،404 ۔ اسی طرح وہ لوگ بھی کہنے لگے انھیں کا ساقول جو (کچھ بھی) علم نہیں رکھتے،405 ۔ سو اللہ ان کے درمیان قیامت کے دن اس باب میں فیصلہ کردے گا جس میں وہ جھگڑتے رہتے ہیں۔406 ۔

ترجمہ :402 ۔ یعنی ان کا دین تمامتر باطل ہے۔ یہودی قوم عقیدۃ بہرحال موحد تھی، نصرانیت کا شرک اور الوہیت کی تثلیث وہ برداشت ہی نہ کرسکتی تھی اور نہ اس کی قائل ہوسکتی تھی کہ ایسے گڑھے ہوئے دین میں کچھ بھی صداقت ہوسکتی ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ 403 ۔ یعنی ان کا دین تمامتر باطل ہے۔ شریعت موسوی سے متعلق موجودہ انجیلوں میں تذکرہ الفاظ ذلیل میں ملتا ہے :۔ ” آدمی شریعت کے اعمال سے نہیں بلکہ صرف یسوع مسیح پر ایمان لانے سے راستباز ٹھہرتا ہے “۔ (گلیتون 2: 16) ” شریعت کے ایمان سے کوئی بشر راستباز نہ ٹھہرے گا “ (ایضا 2: 17) ” راستبازی اگر شریعت کے وسیلہ سے ملتی تو مسیح کا مرنا باعبث ہوتا “۔ (ایضا 2:20) ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (اصطلاح انجیل میں مطلق شریعت (Law) سے مراد شریعت موسوی ہی ہوتی ہے) ۔ 404 ۔ (آیت) ” الکتب “۔ یعنی مجموعہ صحائف انبیاء بنی اسرائیل اسی کو آج عہد نامہ عتیق کہتے ہیں۔ یہود ومسیحی دونوں ان صحیفوں کے الہامی اور مقدس ہونے کے قائل ہیں۔ وھم میں وحالیہ ہے، عطف کے لیے نہیں۔ الواوللحال (کشاف) افسوس ہے کہ انہیں گمراہ قوموں کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی باوجود اپنی مشترک کتاب قرآن کے گروہ درگروہ ہو کر ایک دوسرے کی تحقیر بلکہ تفسیق وتصلیل شروع کردی۔ اور نوبت تکفیر کی آآجاتی ہے۔ حد یہ ہے کہ شافعیہ حنیفہ کو ذلیل سمجھنے لگے اور اشعریہ اور ماترید یہ کے نزدیک ہدایت انہیں کے اپنے اپنے حلقوں میں محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ، 405 ۔ (وحی اور نبوت کا) وہ کہنے لگے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی حق پر نہیں۔ علم سے آیت میں مراد کتاب آسمانی کا علم ہے۔ یہ کہنے والے کون تھے عموما ان سے مراد مشرکین عرب لیے گئے ہیں اور ہر ایسے مذہب کے پیرو جس کی بنیاد کسی کتاب آسمانی پر نہ ہو۔ یعنی ہر دین جاہلی کے پیرو اس کے تحت میں آجاتے ہیں۔ عنی بذلک مشرکی العرب لانھم لم یکونوا اھل الکتب ونفی عنھم من اجل ذلک العلم (ابن جریر) اے الذین لا علم عندھم ولا کتاب کعبدۃ الاصنام والمعطلۃ ونحوھم (کشاف) وھم مشرکوا العرب فی قول الجمھور (روح) قرآن مجید نے علم اور اس کے مختلف صیغوں (آیت) ” یعلمون “ وغیرہ کو جہاں جہاں استعمال کیا ہے عموما علم حقیقی، علم وحی ونبوت ہی کے معنی میں کیا ہے، ان آیتوں سے آج کل کے رواجی ” علوم وفنون “ اور اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں کی ” تعلیم “ پر استدلال کرنا کس قدر شدید ظلم قرآن مجید اور فہم سلیم دونوں پر ہے۔ 406 ۔ فیصلہ سے عملی حسی فیصلہ مراد ہے۔ ورنہ جہاں تک دلائل و شواہد کا تعلق ہے، حق و باطل، کفر و ایمان کے درمیان یقینی فیصلہ تو اس دنیا میں بھی موجود ہے (آیت) ” بینھم “ سے مرا د ہے ایک فریق اہل حق و ایمان کا۔ اور دوسرا گروہ اہل باطل وکفر کا، یقضی بین المحق والمبطل (معالم) یحکم بین المحق والمبطل (کبیر)
Ayah 2:114

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 2:114 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں کو اس سے روک دے کہ ان میں اس کا نام لیا جائے،407 ۔ اور اس کی بربادی کی کوشش کرے،408 ۔ یہ لوگ اس لائق ہی نہیں کہ ان میں (داخل) ہوں مگر ہاں یہ کہ ڈرتے ہوئے،409 ۔ ان کے لیے دنیا میں (بھی بڑی) رسوائی ہے اور آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے،410 ۔

407 ۔ (جیسا کہ مشرکین مکہ نے عین حرم کعبہ میں ذکر و عبادت الہی سے مسلمانوں کو روک دیا تھا۔ خصوصا واقعہ حدیبیہ میں) ھؤلاء المشرکون حین حالوا بین رسول اللہ ﷺ یوم الحدیبیۃ وبین ان یدخل مکۃ (ابن جریر عن ابن زید) بعض نے مراد بیت المقدس سے لی ہے کہ وہاں ٹائیٹس titus رومی کے عہد میں رومی مشرکین نے یہود اہل توحید کو ذکر الہی سے روک دیا تھا۔ بہرحال حکم عام ہے قریبی سبب نزول جو کچھ بھی رہا ہو۔ اور حکم کو کسی خاص مسجد یا خاص زمانہ کے ساتھ مخصوص کرنا درست نہیں۔ انہ کل مسجد وھو الصحیح لان اللفظ عام اراد بصیغۃ الجمع فتخصیصہ ببعض المساجد اوفی بعض الازمنۃ محال (ابن عربی) مسجد کے لفظی معنی جائے سجدہ کے ہیں۔ مراد اس سے مسلمانون کی عبادت گاہ ہوتی ہے۔ مسجد کے حسن وتاثر، کشش ودلآویزی صفائی وسادگی کی شہادت غیر مسلموں کی زبان سے بھی منقول ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” اظلم “ یعنی ظالم تر، خبیث تر، مجرم تر۔ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ منع ذکر وداخلہ مسجد اگر کسی ضرورت دینی اور مصلحت شرعی سے ہوتوبالکل درست ہے کہ ایسے موقع پر یہ امور مسجد کی بربادی وویرانی میں نہیں، عین اصلاح وآبادی میں داخل ہیں۔ مسائل ذیل بھی فقہاء نے آیت کے تحت میں ذکر کیے ہیں۔ ( 1) مسجد میں اذن عام ہونا شرط ہے ، (2) مسجد کا دروازہ کسی مملوک زمین پر نہ ہو، بعض عارفوں نے لکھا ہے کہ جب اینٹ اور چونے کی بنی ہوئی عمارت میں ذکر حق روک دینے والوں کے حق میں قرآن نے یہ وعید اور پھٹکار رکھی ہے تو اس قوم یا شخص کے جرم کی اہمیت یا عظمت کا کیا ٹھکانا ہے جو قلوب انسانی کو کہ وہ معنوی سجدہ گاہ حق ہیں۔ ذکر حق سے روک۔ اسلامی تعلیم کی روک تھام میں سعی کرنا، اشاعت مذہب حق میں روڑے اٹکانا سب اس کے تحت میں آجاتے ہیں۔ 408 فقہاء نے کہا ہے کہ جس طرح اللہ کے ذکر سے مسجد آباد ہوتی ہے۔ ممنوعات وبدعات کے ارتکاب سے مسجد کی بربادی بھی سمجھی جائے گی، نیز وہ تمام امور جو نمازیوں کی کمی اور مسجد کی ویرانی کے باعث ہوں آیت کے تحت میں داخل ہوجاتے ہیں۔ 409 (مسلمانوں کے رعب ودبدبہ سے) یعنی داخلہ کی اجازت غیر مسلم کو صرف اس حال میں دی جاسکتی ہے کہ وہ مسلمانو کا محکوم، اور اس کا داخلہ سرکشا نہ نہیں مطیعانہ ہو، قرآن مجید میں لفظ مسجد یہ صیغہ جمع ہے۔ لیکن ایک قول ہے کہ مساجد سے یہاں مراد مسجد حرام یاحرم کعبہ ہی ہے۔ المراد بالمساجد المسجد الحرام (معالم عن ابن زید) اور اس شبہہ کا کہ لفظ جمع سے مراد واحد کیونکر ہوگی، جواب یہ دیا گیا ہے کہ محاورۂ زبان میں یہ جائز ہے۔ مثلا اگر کوئی محض ایک ہی مرد نیک کو ایذا پہنچائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ نیکوں کو ستانے والا بڑا ظالم ہے۔ کمانقول لمن اذی صالحا واحدا ومن اظم ممن اذی الصالحین (کشاف) ایک قول یہ بھی ہے کہ آیت سارے کافروں کے حق میں ہے کہ عبادت سے روکنے والے تو سارے ہی کافر ہیں۔ اور مساجد سے مراد کل روئے زمین ہے۔ چناچہ کافروں کو دارالاسلام میں داخلہ کا کوئی حق نہیں۔ بجز اس کے مسلمانوں ہی کے شرائط پر ہو۔ اور یہ قول امام ماتریدی (رح) کی جانب منسوب ہے (احمد) مراد اگر مسجد حرام لی جائے تو قانونی وتشریعی حیثیت سے قطع نظر، واقعاتی رنگ میں بات بالکل صحیح نظرآئے گی، چناچہ مسجد حرام اس وقت سے آج تک بحمد اللہ ! مسلمانوں ہی کے قبضہ میں چلی آرہی لیے مخصوص کردی جائے اور اس کے لیے اذن عام دے دیا جائے وہ شخصی ملکیت سے خارج ہوجاتی ہے البتہ اگر کسی نے اپنے گھر کا کوئی حصہ عبادت کے لیے مخصوص کردیا، اور اس کے لیے اذن عام نہیں رکھا تو اس پر مسجد کا اطلاق ہی نہ ہوگا اور وہ اس شخص کی ذاتی ملک باقی رہے گی (ابن عربی) 410 ۔ عذاب آخرت کا تجربہ تو آخرت ہی میں ہوگا۔ باقی دنیا میں ان لوگوں کی ذلت ورسوائی کا مشاہدہ تو چند روز میں سب کو ہوگیا۔ یہود، مشرکین، منافقین، سارے اعدائے اسلام جزیرۂ عرب میں اور اس کی سرحدوں میں دیکھتے دیکھتے نیست ونابود ہوکر رہے اور قرآن مجید کی پیشگوئی لفظ بہ لفظ پوری ہوئی۔
Ayah 2:115

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

اور اللہ ہی کا ہے مشرق (بھی) اور مغرب (بھی) ،411 ۔ سو تم جدھر کو بھی منہ پھیرو،412 ۔ اللہ ہی کی ذات ہے،413 ۔ اللہ بڑا وسعت والا ہے،414 ۔ بڑا علم والا ہے،415 ۔

411 ۔ (بہ حیثیت مخلوق وبہ حیثیت مملوک بھی) یعنی انھما لہ ملکا وخلقا (ابن جریر) للہ من لام اختصاص کا ہے۔ نحو میں لام جارہ کی کئی قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک لام اختصاص بھی ہے۔ یعنی مشرق ومغرب سب اسی کے ہیں۔ اللام لام الاختصاص اے ھو خالقھما وما لکھما (کبیر) امت محمدی جواب ساری دنیا کے لیے امت عادلہ بنا کر بھیجی جارہی تھی، لازمی تھا کہ اس کی مزکریت ویکجہتی کے لیے ایک قبلہ بھی ہو۔ اور وہ قبلہ اب خانہ کعبہ مقرر ہورہا تھا، اہل کتاب نے اس پر اعتراضات شروع کیے۔ یہ نقل اعتراض و جواب اعتراض کی تمہید ہے۔ المشرق والمغرب۔ دونوں سمتیں اور انہیں دو پر کیا موقوف ہے ہر سمت اور ہر جہت اللہ کے لیے یکساں ہے۔ وہ سب کا یکساں خالق ہے، حاکم ہے، مالک ہے۔ کسی خاص سمت میں کوئی بھی خاص تقدیس کوئی شائبہ الوہیت، کوئی شان حق نمائی موجود نہیں، مذاہب جاہلی کی تاریخ انسانی حماقتوں، جہالتوں، وہم پرستیوں کی ایک مسلسل تاریخ ہے۔ ایک مشترک گمراہی مشرک قوموں میں یہ رہی ہے کہ خدا چونکہ متمکن ہے اور مجسم ہے، اس لیے لازمی ہے کہ اس کی ہستی کسی نہ کسی متعین سمت یا جہت میں ہو اور اس تلبس کی بنا پر خود وہ سمت یا جہت مقدس ہے، مصری، ہندی، رومی تمام مشرک قوموں نے خدا کو کسی نہ کسی جہت میں فرض کرکے خود اسی جہت کو مقدس مانا ہے اور چونکہ سورج دیوتا کا مرتبہ مذاہب شرکیہ میں عموما اہم ومقدم رہا، اس لیے شاہ خ اور کے طفیل میں سمت مشرق ہی عموما مقدس سجھی گئی اور دنیا کے اکثر علاقوں میں پجتی رہی۔ مسلمان جس کی آنکھیں ہی توحید کے آغوش میں کھلی ہیں، اس کے خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی کہ سمت وجہت جیسی خیالی چیز بھی قوموں کی معبود ہوسکتی ہے ! مشرکوں ہی کے اثر سے یہ سمت پرستی کا شرک اہل کتاب میں بھی سرایت کرگیا۔ اور مسیحی مذہب چونکہ عقائد و عبادات دونوں میں اپنے وقت کے رائج وشائع رومی مذہب ہی کی مثنی یا پر تو ہے اس لیے وہ تو کھلم کھلا مشرق پرستی میں مبتلا ہوگیا ! یہود جنہیں اپنی توحید پر ناز تھا وہ بھی تمامتر محفوظ نہ رہ سکے۔ بلکہ ان کے بعض فرقے تو پوری طرح اس صف میں آگئے۔ بعض قوموں نے مشرق کے جوڑ پر مغرب کے تقدس کا کلمہ پڑھنا شروع کردیا۔ انہوں نے دیکھا کہ مشرق اگر خطہ حیات ہونے کی محفوظ نہ رہ سکے۔ بلکہ ان کے بعض فرقے تو پوری طرح اس صف میں آگئے۔ بعض قوموں نے مشرق کے جوڑ پر مغرب کے تقدس کا کلمہ پڑھنا شروع کردیا۔ انہوں نے دیکھا کہ مشرق اگر خطہ حیات ہونے کی بنا پر مقدس ہے تو مغرب بھی خطہ موت ودیار ہلاکت ہے شاہ خ اور طلوع اگر ادھر سے ہوتا ہے تو روزانہ غروب اور فنا تو ادھر ہی ہوتا ہے۔ پھر اس کے تقدس کا بھی کیوں نہ قائل ہولیا جائے۔ چناچہ یہ دونوں سمتیں خوب پجتی رہیں۔ مشرق زیادہ اور مغرب اس سے کچھ کم، اصل انگریزی حوالوں کے لیے ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریزی، دنیا کی دنیا اس سمت پرستی کے شرک، مشرق پرستی اور مغرب پرستی کی ضلالت میں مبتلا تھی کہ توحید قرآنی نے ساری دنیا کے عقائد کو چیلنج کرکے اس مشرکانہ عقیدہ پر ضرب لگا کے ایک عالم کو چونکا دیا۔ قدیم مذاہب یہ آواز سن کر بھو چکے سے رہ گئے۔ 412 ۔ (دعا کے لیے، نماز کے لیے، یا کسی عبادت کی بھی غرض سے، اے مسلمانو ! ) خطاب اس امت سے ہورہا ہے جس کا کام ہی دنیا میں خدائے واحد کی پرستاری تھی، اور شرک اور ہر شائبہ شرک سے بیزاری۔ 413 ۔ یعنی وہ خدائے واحد جو ہر مکان، ہر ظرف کی قید سے پاک ہر سمت وجہت سے منزہ ہے، اس کی ذات پاک کی تجلیات ہر طرف ہیں۔ سب کہیں ہیں، جدھر بھی رخ کروگے جلوہ اسی کا پاؤگے۔ اس کی تجلیات کو کسی خاص جہت کے ساتھ محدود ومخصوص کرلینا عین جہل ہے۔ (آیت) ” وجہ “ لفظی معنی چہرہ کے ہیں، ثانوی معنی ذات کے ہیں، (آیت) ” وجہ اللہ “ کی ترکیب جب آئے گی، مراد ذات ہی سے ہوگی، اور وہی یہاں بھی مراد ہے۔ ربما عبرعن الذات بالوجہ (راغب) فثم ذاتہ (بیضاوی) قیل الوجہ بمعنی الذات جعل ھنا کنایہ عن علمہ واطلاعہ بما یفعل ھناک (روح) ۔ آیت میں پوری تردید آگئی عقیدہ تجسیم کی جس کے لیے انگریزی میں ایک لمبا سانام ، Anthropomorphism ہے ہمارے اکابر نے بھی آیت کو اسی معنی میں لیا ہے۔ الایۃ من اقوی الدلائل علی نفی التجیسم و اثبات التنزیہ (کبیر) ھذا یدل علی نفی الجھۃ والمکان عنہ تعالیٰ لاستھالۃ ذلک علیہ (ابن العربی) مسیحیوں کے ہاں آج تک ایک مذہبی اصطلاح Orientation شرق روی کی چلی آرہی ہے اور گرجے وغیرہ شرق رویہ ہی بنائے جاتے ہیں (آیت) ” فثم وجہ اللہ “۔ بعض صوفیہ نے کہا ہے کہ ہم بھی اسی طرح کائنات میں جس چیز پر بھی نظر ڈالتے ہیں انوار حق ہی کا جلوہ دیکھتے ہیں۔ 414 ۔ وہ تو خود ہی بےپایاں وسعتوں والا ہے، بڑی سی بڑی وسعت خود اس کے اندر شامل ہے۔ اسے بھلا کون اپنے اندر لے سکتا ہے ؟ اس کی سمائی کس بڑے سے بڑے ظرف ومکان میں ہوسکتی ہے ؟ ہر سمت اور ہر جہت میں گھر سکتا ہے۔ واسع باحاطتہ بالاشیاء (بیضاوی) 415 ۔ وہ اپنے اس علم کامل اور حکمت بالغہ کے لحاظ سے جو قبلہ چاہے مقرر کردے۔ اس کے مصالح وحکم کا احاطہ کون کرسکتا ہے ؟ وہ وحدت امت کے لیے تعیین قبلہ جب کرے گا مناسب ہی کرے گا۔ اس میں کسی جہت کی قد وسیت کو اصلادخل نہیں۔
Ayah 2:116

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا نے ایک بیٹا بنالیا ہے،416، پاک ہے وہ !417 ۔ اصل یہی ہے کہ اسی کی ملک ہے جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے،418 ۔ سب اسی کے حکم بردار ہیں۔419 ۔

416 ۔ یہ کہنے والے کون تھے ؟ مراد بہت سے اہل باطل لیے جاسکتے ہیں۔ لیکن خاص طور پر اشارہ اس گڑھے ہوئے مذہب تثلیت کی جانب ہے۔ جس کا نام ایک پیغمبر برحق کی جانب منسوب کرکے مسیحیت رکھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ اس کے عقائد باطلہ سے (نعوذ باللہ) حضرت مسیح (علیہ السلام) کو کوئی نسبت نہیں۔ اتخذوا ولداکا صحیح ترجمہ ہے ” لے رکھا ہے ایک بیٹا “۔ ” بنا رکھا ہے ایک بیٹا “ یہاں مسیحیوں کا یہ قول نقل ہو رہا ہے کہ خدا کے ایک بیٹا ہے۔ بلکہ یہ کہ خدا نے ایک بیٹا بنا لیا ہے۔ اتخاذ ولد کا صاف مفہوم یہ ہے کہ خدا نے گویا کسی کو متبنی کرلیا ہے۔ “ قرآن مجید کی تلمیحات کو پوری طرح سمجھنے کے لیے قرآن کے صدہا مقامات کی طرح یہاں بھی اس کی ضرورت ہے کہ نظر اہل باطل کے عقائد وخیالات پر ذرا گہری ہو۔ مسیحیوں کے ہاں ایک زبردست فرقہ Adoptioists کے نام سے گزرا ہے۔ ان کے مرکزی عقیدہ کے لیے اصطلاحی لفظ تبنیت Adoptionism کا ہے۔ عقیدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ مسیح (علیہ السلام) حلقۃ خدا نہیں۔ وہ خدا پیدا نہیں ہوئے، وہ خدا شروع سے بنے بنائے اور خود بخود نہیں ہیں۔ بلکہ اصلا وخلقۃ وہ انسان ہی تھے۔ البتہ اقنوم ثالثہ یعنی روح القدس کا فیضان ان پر شروع ہی سے ہونے لگا تھا۔ اس لیے وہ قدوسیت کے ایسے اوج کمال پر پہنچ گئے اور روح الہی ان کے اندر ایسی حلول کرگئی کہ اقنوم اول یعنی خدائے برترواعظم نے انہیں اپنا بیٹا قرار دے کر، اپنا متبنی بنا کر، شریک الوہیت کرلیا۔ اور اب وہ ربوبیت، مالکیت وغیرہ جملہ صفات الہی میں شریک وسہیم ہیں، اس عقیدہ کے وجود کی شہادت تاریخ میں 185 ء میں ملتی ہے آٹھویں عیسویں میں پاپائے روم نے اسے الحاد زندقہ قرار دیا۔ بارہویں صدی عیسوی میں اس نے پھر زور پکڑا اور پھر یہ لوگ زندیق قرار پائے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگیریز ی۔ آیت میں صاف اشارہ مسیحیت کی اس شاخ کی جانب ہے۔ بڑے سے بڑا محقق مفسر بھی بہر حال بندہ اور بشر ہی ہوتا ہے۔ کسی کی نظر سے کوئی پہلو رہ جاتا ہے کسی کی نظر سے کوئی۔ مسیحیت کے سلسلہ میں یہ خوب یاد رہے کہ مسیحی مذہب میں عقیدہ ابنیت کوئی ثانوی درجہ یا فرعی حیثیت نہیں رکھتا۔ مسیحیت کی روح اور جان یہی عقیدہ ہے۔ 417 ۔ (ہرقسم کی بشری رشتہ داریوں سے جو اس کے لیے ہر حال میں پست اور باعث توہین ہیں) تنبیہ ہے مسیحیوں کو کہ معاذ اللہ، خدا کو خدا بھی کہے جاتے ہو اور پھر اس کے لیے یہ بشری سطح والی رشتہ داریاں بھی مانے جاتے ہو ! الوہیت کے باب میں کتنا گھٹیا تخیل اور کیسا کریہہ نظریہ رکھتے ہو ! 418 ۔ مخلوق کا رشتہ اپنے خالق کے ساتھ صرف ملکیت ومملوکیت مطلقہ کا ہے۔ نہ کہ فرزندی ودلبندی وغیرہ خرافات کا۔ توحید کی صاف وسادہ تعلیم یہی ہے کہ حق تعالیٰ ان سارے امتیازات وتعینات سے پاک ہے جو اہل شرک نے اس کے لیے گڑھ رکھے ہیں۔ ضمنا آیت شرک کی دوسری قسموں پر بھی ضرب لگاتی جاتی ہے۔ ہر ہستی اللہ کی مملوک ہے، کوئی ہستی اس کی مملوکیت سے خارج نہیں اور ہر ہستی صرف اللہ ہی کی مملوک ہے یہ نہیں کہ کچھ ہستیاں اس کی مملوک ہوں اور کچھ کسی اور کی۔ 419 ۔ (اگر ارادہ نہیں تو جبلۃ واضطرار) اللہ کی تکوینی محکومی اور فرمانبرداری سے چارہ کسی کو بھی نہیں۔ (آیت) ” کل “ یعنی جمیع مخلوق، مومن و کافر، بلند وپست، کبیر وصغیر، زندہ وبیجان ، (آیت) ” قنتون “ سب اس کے آگے جھکے ہوئے، سب کی تقدیر اس کی مشیت سے وابستہ، اے منقادون لا یمتنع شیء منہم علی تکوینہ وتقدیرہ ومشیتہ (کشاف) منقادون لایمتنعون عن مشیتہ وتکوینہ (بیضاوی) قنوت کے بہترین معنی یہی کیے گئے ہیں کہ اپنے جسم کی شہادت سے اور زبان حال سے اللہ کی عبودیت وطاعت کا اقرار کیا جائے۔ واولی معانی القنوت والطاعۃ والاقرار اللہ عزوجل بالعبودیۃ بشھادۃ اجسامھم بما فیھا من اثارالصنعۃ (ابن جریر) بڑی یا چھوٹی، وحشی یا ترقی یافتہ کسی مخلوق کی مجال ہے جو اللہ کے بنائے ہوئے دن اور اللہ کی بنائی ہوئی رات کے چوبیس گھنٹوں کے علاوہ کوئی گھنٹہ، کوئی منٹ، کوئی لمحہ اپنے لیے پیدا کرسکے۔ بڑے سے بڑے ماہرین سائنس میں سے کس کے امکان میں ہے کہ اللہ کی مقرر کی ہوئی فضائے کائنات سے باہر، ایک گز، ایک فٹ، ایک انچ جگہ اپنے لیے تلاش کرسکے ؟ کون ایسا ہے جو اس کے خلق کیے قانون حرارت، برودت، رطوبت سے بےنیاز رہ سکے ؟ کون ایسا ہے جو اس کے باندھے ہوئے قانون کشش اجسام سے بغاوت کرسکے ! عدد وزن، مقدار کے جو ضابطے خدا نے مقرر کر رکھے ہیں۔ کس میں اتنی ہمت ہے کہ گنجائش ان سے عدول و انحراف کی پاسکے ؟۔ بڑے سے بڑے موجد، بڑے سے بڑے صناع کا کمال بجز اس کے کیا ہے کہ اس نے نظام تکوینی کے ضابطوں اور قاعدوں کی مزاج شناسی میں کمال پیدا کرلیا ہے۔ اور مسبب الاسباب کے حضور میں وہ دوسروں سے بڑھ کر بندہ قانت ہے ؟ (آیت) ” کل لہ قنتون “ اس میں رد آگیا ہر مشرک قوم کا کہ جن جن کو تم ابن اللہ یا دیوی یا دیوتا مانتے ہوے وہ اللہ کے شریک وسہیم وہمسر تو کسی حییت سے بھی کیا ہوتے سب کے سب اس کے محکوم ، ، اس کے مخلوق، اس کے قوائے تکوینی کے تابع ومسخر ہیں۔
Ayah 2:117

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

(وہ) موجد ہے آسمانوں اور زمین کا،420 ۔ اور جب کسی کام کا کرنا ٹھہرا لیتا ہے،421 ۔ تو بس اتنا ہی اس سے کہتا ہے (کہ) ہوجا،422 ۔ بس وہ ہوجاتا ہے،423 ۔

420 ۔ (اور اسی طرح ساری مخلوق کا نیز ان سب سے سابق ومتقدم بھی ہے) بصیر یہاں مبصر کے معنی میں اور بدیع یہاں مبدع کے معنی میں ہے جیسے الیم مولم کے معنی میں اور سمیع مسمع کے معنی میں آتا ہے۔ البدیع یقال للمبدع (راغب) اے مبدعھا وانما ھو مفعل صرف الی فعیل کما صرف المؤلم الی الیم (ابن جریر) اور مصدر ابداع کے معنی ہیں نیست سے ہست کرنا۔ عدم محض سے وجود میں لانا بغیر کسی مثال یا نمونہ کے اور بغیر کسی سابق مادہ یا ہیولی کے الابداع انشاء صنعۃ بلااحتذاء واقتداء (راغب) واذا استعمل فی اللہ تعالیٰ فھو ایجاد الشیء بغیر الۃ ومادۃ ولا زمان ولا مکان (راغب) (آیت) ” بدیع “ وہ ہے جو نہ کسی آلہ کا محتاج ہو نہ کسی مال مسالہ کا۔ نہ مقام ومکان کا پاند نہ زمان ووقت سے مقید محتاج نہ کسی نمونہ کا، نہ استاد کا، وہ صناع ہے، کاریگر نہیں، اصلی اور حقیقی معنی میں خالق اور موجد ہے۔ بغیر کسی کی اعانت وشرکت کے وجود میں لانے والا۔ معنی المبدع المنشیء ولالمحدث مالم یسبقہ الی انشاء مثلہ واحداثہ احد (ابن جریر) ھو بارءھا وخالقھا وموجدھا من غیر اصل احتذاھا علیہ (ابن جریر) (آیت) ” بدیع “ کا لفظ ان مشرک قوموں کے رد میں ہے جو خدا کو محض صانع کی حیثیت دیتے ہیں اور روح یا مادہ یا دونوں کو کسی نہ کسی وجہ میں اس کا شریک وسہیم رکھتے ہیں گویا مادہ پہلے سے موجود ہی تھا وہ قدیم وغیر حادث ہے، یا روح بھی اس کے ساتھ ساتھ قدیم وغیر حادث ہے۔ اب خدا نے صرف اتنا کیا کہ ایک اعلی درجہ کے کیمسٹ کی طرح ان میں باہمی ترکیب وترتیب سے نئی نئی صورتیں نمودار کردیں۔ ابداع کا لفظ ان سارے مشرکانہ تخیلات کی تردید کے لیے کافی ہے۔ تقدم ذاتی کے علاوہ تقدم زمانی بھی تمام صفات کمال کی طرح اس کی ذات کے لیے ثابت ہے وہ سب پر زمانہ بھی مقدم ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ صرف وہ تھا اور کچھ بھی نہ تھا۔ نہ جہات نہ اعیان۔ انہ تعالیٰ خالق الجھات کلھا والخالق متقدم علی المخلوق لا محالۃ (کبیر) فقد کان الباری تعالیٰ قبل خلق العالم منزھا عن الجھات والاعیان (کبیر) 421 ۔ (محض اپنے ارادہ ومشیت سے اور محض اپنی حکمت مطلقہ کے متقضی کی حیثیت سے) ومعنی قضی ھنا اراد (بحر) حکم بانہ یفعل شیئا (کبیر) اے حکم۔۔ (مدارک) قرآن کا خدا صاحب ارادہ ذی حیات، صاحب اقتدار خدا ہے۔ یونان کے فلسفیوں اور بعض دوسرے مشرکوں کے خدا کی طرح صرف ایک بیجان، مسلوب الارادہ علت العلل یا آخری سبب نہیں۔ 422 ۔ یعنی عدم محض سے وجود میں آجا، نیست سے ہست ہوجا، (آیت) ” یقول “ کہتا ہے “ کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری آپ کی طرح یہ دو حرفی لفظ (آیت) ” کن “ بولتا ہے۔ لفظ وحروف تو خود ہی حادث ہیں اور نہ حق تعالیٰ کا تلفظ زبان، ہونٹ یا اعصاب کا محتاج ہے۔ بندوں کی سمجھ کے لائق آخر اس کے سوا قریب سے قریب پیرایہ بیان اور اسلوب تعبیر اور کیا اختیار کیا جائے۔ اے بروں از وہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من مقصود صرف اس قدر ہے کہ ادھر حق تعالیٰ کا ارادہ ہوا اور ادھر معا اور بلاتوسط وتوقف اس کا ظہور عملا ہوگیا۔ وھذا مجاز عن سرعۃ التکوین والتمثیل اذلا قول ثم (مدارک) قلنا ان کن لیس بامر حقیقۃ اذلا فرق بین ان یقال واذا قضی امرا فانما یکونہ فیکون وبین ان یقال فانما یقول لہ کن فیکون (مدارک) لیس المراد بہ حقیقۃ امر والمتثال بل تمثیل حصول ماتعلقت بہ ارادتہ بلامھلۃ لطاعۃ المامور المطیع بلا توقف (بیضاوی) (آیت) ” لہ “ میں ضمیر اس چیز کی جانب سے جس کا وجود ابھی خارج میں ہوا لیکن علم الہی میں تو بہرحال موجود ہی ہے۔ اور امر الہی کے اعتبار سے مامور و موجود میں کوئی فرق ہی زمانی حیثیت سے نہیں۔ ہر مامور کے معنی موجود ہونے کے ہیں۔ اور ہر موجود کے معنی مامور ہونے کے ہیں۔ امرہ للشئی بکن لایتقدم الوجود ولا یتاخر عنہ فلایکون لالشئی مامورا بالوجود الاوھو موجود بالامرولا موجودا بالامر الا وھو مامور بالوجود (ابن جریر) اطلق علی تعلق الارادۃ الالھیۃ بوجود الشئی من حیث انہ یوجبہ (بیضاوی) ھو بمنزلۃ الموجود اذھو عندہ معلوم (بحر) المخاطب ھو ذلک الشی الموجود فی علم اللہ تعالیٰ المامور بہ الدخول فی الوجود الخارجی (گازرونی) ۔ (آیت) ” کن فیکون “ کان یہاں تامہ ہے، ناقصہ نہیں۔ یعنی ” ہوجا “ وجود میں آجانے کے مرادف ہے۔ فلاں چیز ہوجا یا بن جا کے مرادف نہیں، من کان التامۃ بمعنی احدث فیحدث (بیضاوی) 423 ۔ یعنی بس وہ شے معا وجود میں آجاتی ہے۔ اس کے ہونے میں نہ کچھ دیر لگتی ہے نہ اس کے لیے کسی اعانت وساطت شر کی کی ضرورت ہوتی ہے۔ المراد من ھذہ الکلمۃ سرعۃ نفاذ قدرۃ اللہ تعالیٰ فی تکوین الاشیاء (کبیر) یہ بھی گویا مشرکین ہی سے خطاب ہے کہ تم عمل تخلیق خداوندی کو سمجھے کیا ہو ؟ اس میں تو بجز ارادہ الہی کے اور کسی چیز کی شرکت کا گزر ہی نہیں اور اس سے تمہارے شرک کی بنیاد ہی منہدم ہوجاتی ہے۔
Ayah 2:118

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 2:118 in the Quran reader

اور جنہیں علم سے بہرہ نہیں،424 ۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا ؟425 ۔ یا ہمارے پاس کوئی نشان (عظیم) کیوں نہیں آجاتا ؟426 ۔ اسی طرح وہ لوگ کہہ چکے ہیں جو ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہیں کا سا کہنا،427 ۔ ان کے قلوب متشابہ ہوگئے،428 ۔ ہم نے اپنے نشان تو کھول کھول دیے ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں، 429 ۔

424 ۔ یعنی علم حقیقی سے، علوم آسمانی سے۔ مراد مشرکین ہیں۔ وھم کفار العرب (ابن جریر عن قتادۃ والربیع) والمراد جھلۃ المشرکین وقدروی ذلک عن قتادہ والسدی والحسن جماعۃ وعلیہ اکثر المفسرین (روح) 425 ۔ (براہ راست اور بلاواسطہ انبیاء ورسل) کما یتکلم رسلہ وانبیاءہ (ابن جریر) (آیت) ” لولا “ یہاں ھلا کے معنی میں ہے اور ھلا کا اردو میں ترجمہ ” کیوں نہیں “ ہی ہوسکتا ہے اور محاروۂ قرآنی میں لولا عموما اسی معنی میں آتا ہے۔ یعنی ھلا یکلمنا اللہ (ابن جریر) وکل مافی القرآن لولا فھو بمعنی ھلا الا واحدا “ (معالم) اور سیوطی نے بھی اتقان (نوع 40) میں یہ قول خلیل نحوی اور مالک سے نقل کیے ہیں۔ مشرکین کا ایک اعتراض یہ تھا کہ خدا اگر اپنے فلاں فلاں بندہ سے بقول انہیں کے کلام کرسکتا ہے اور کرتا ہے تو آخر ہم سے کیوں نہیں کرتا ہم بھی تو انسان ہی ہیں۔ احمقوں کے نزدیک مکالمہ الہی کے لیے گویا صرف بشریت کافی تھی۔ 426 ۔ (جس سے ہم چاروناچار ان پیغمبر کے دعوی کے تصدیق کر ہی دیں) (آیت) ” ایۃ “ کے لفظی معنی نشان کے ہیں۔ قرآن مجید میں بہ کثرت معجزہ کے معنی میں آیا ہے اور یہاں بھی یہ مراد ہے۔ اور معجزہ سے مرا دوہ واقعہ ہے جو معمول عام سے ہٹا ہوا ہو اور بلااسباب ظاہری اس کا ظہور تائید رسول کے لیے ہو۔ رسول اللہ ﷺ کی صداقت پر معنوی دلائل و شواہد تو کثرت سے موجود تھے لیکن مشرکین کی طرف سے پیہم فرمائشیں یہ جاری رہیں کہ کوئی عظیم الشان، حیرت انگیز، حسی معجزہ دکھایا جائے جس کے بعد گنجائش ہی چون وچرا کی نہ رہے۔ جن لوگوں کی عقلی، روحانی، اخلاقی سطح پست ہے۔ ان کی طرف سے اولیاء ربانی سے فرمائشیں آج بھی اس قسم کی خارق عادت کرامات ہی کے ظہور کی ہوتی رہتی ہیں۔ (آیت) ” آیۃ “ کی تنوین اظہار عظمت کے لیے ہے یعنی کوئی عظیم الشان لرزہ انگیز معجزہ۔ 427 ۔ (اپنے اپنے زمانہ کے پیغمبروں اور داعیان حق سے) یعنی ان کی یہ فرمائشیں کوئی انوکھی اور ان کا یہ مطالبہ کوئی نرالا نہیں۔ جاہلوں نے ہر دور اور ہر ملک میں اس قسم کی فرمائشیں پیش کی ہیں۔ رسالت محمدی ﷺ سے حضرات انبیاء میں قریب ترین زمانہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا گزرا ہے آپ عرب میں نہیں شام میں تھے۔ آپ سے بھی تعلیمات اور اصل پیام کو چھوڑ کر تقاضے انہیں آسمانی نشانیوں کے ہوتے رہتے تھے۔ ” فریسیوں اور صدوقیوں کے پاس آکر آزمانے کے لیے اس سے درخواست کی کہ ہمیں کوئی آسمانی نشان دکھا۔ “ (متی 16: 1) یہاں تک کہ خود حق تعالیٰ کو لا دکھانے کی فرمائش شروع ہوگئی تھیں، ” فلپس نے اس سے کہا کہ اے خداوند ہمیں باپ کو دکھاپس ہمیں کافی ہے “۔ (یوحنا 14:8) 428 ۔ یعنی اگلوں اور پچھلوں کے قلب بالکل ایک سے ہیں بےبصیرتی اور ناحق شناسی میں۔ انجیل میں غضبانی کی کے لیجہ میں :۔” اس زمانہ کے برے اور زناکار لوگ نشان طلب کرتے ہیں مگر یونس کے نشان کے سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا۔ “ (متی 16:4) ” اے گردن کشو اور دل اور کان کے نامختونو، تم ہر وقت روح القدس کی مخالفت کرتے ہو جیسے تمہارے باپ دادا کرتے تھے۔ ویسے ہی تم بھی کرتے ہو، نبیوں میں کس کو تم نے نہیں ستایا ؟ “ (اعمال، 7:5 1، 52) 429 ۔ مطالبہ ایک نشان (آیت) بہ صیغہ واحد) کا تھا جواب میں یہ ملا کہ یہاں تو نشان پر نشان (الآیات بہ صیغہ جمع) پیش کیے جاچکے ہیں۔ تاریخ اور سیرت میں جن معجزوں کا ذکر آتا ہے ان سے قطع نظر دو معجزے تو بالکل بین ونمایاں تھے۔ 1 ۔ رسول اللہ ﷺ کا سچائی، امانت، پاکبازی، عقل وفہم کے لحاظ سے بےنظیر ہونا، آپ کی سیرت مبارک کے ایک ایک جزکا بجائے خود معجز ہونا۔ 2 ۔ قرآن مجید کا لفظی، معنوی، ظاہری، باطنی، تعلیمی وادبی اعتبار سے بےمثل ہونا، (آیت) ” بینا “ یعنی یہ نشانات کچھ ان سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ ہم نے انہیں بالکل واضح وآشکار کر رکھا ہے۔ ان میں کسی طرح کا خفا نہیں۔ (آیت) ” قد بینا “ قد کی تاکید نے (آیت) ” بینا “ کی صراحت کو اور زیادہ زور دار بنادیا۔ اور اسی کے اظہار کے لیے اردو ترجمہ میں ” کھول کھول “ لایا گیا ہے۔ (آیت) ” لقوم یوقنون “ یعنی یہ کھلے ہوئے نشان بھی نظر انہیں لوگوں کو آتے ہیں جن کے قلب جہل وعناد کی گندگی اور شک وارتیاب کی آلودگیوں سے پاک ہیں۔ شواہد و دلائل مادی قسم کے ہوں یا معنوی، بہرحال ان سے نفع حاصل کرنے لیے دیدہ بصیرت وچشم بینا ضروری ہے۔ آنکھ رکھنے والے کے لیے پیغمبر کی کتاب زندگی کی ایک ایک سطر معجزہ ہے۔ عارف رومی نے اسی حقیقت کی ترجمانی کی ہے۔ دردل ہر کس کہ از دانش مزاست روئے وآواز پیغمبر معجزہ است امامن کان فی ارتیاب اوشک اوتغافل اوجھل فلا ینفع فیہ الایت ولوکانت فی غایۃ الوضوح (بحر) یقین شک کی ضد ہے اور علم وتحقیق کے مرادف ہے۔ الیقین ازاحۃ الشک والعلم وتحقیق الامر ونقیضہ الشک (تاج) (آیت) ” لقوم یوقنون “ کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کے لیے ہیں جو یقین کی طلب اور پیاس اپنے اندر رکھتے ہیں اے طالبون معرفۃ حقایق الاشیاء علی یقین وصحۃ (ابن جریر) اے یطلبون الیقین (بیضاوی)
Ayah 2:119

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ Open ayah 2:119 in the Quran reader

ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر،430 ۔ اور آپ سے اہل دوزخ کی بابت کچھ بھی پوچھ نہ ہوگی،431 ۔

430 ۔ (سارے عالم کے لیے اے ہمارے پیغمبر) (آیت) ” بالحق “ حق کے ساتھ، دین حق کے ساتھ یا راہ حق کا ہادی بنا کر یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ حقانیت وصداقت کے ساتھ مع اس کی ساری قوتوں اور دلائل کے۔ (آیت) ” بشیر “ مومنین مطیعین کے حق میں کہ جو آپ کے پیغام کو مان لیں گے ان سے دنیا وآخرت دونوں کی فلاح کا وعدہ ہے (آیت) ” نذیر “ منکروں اور سرکشوں کے حق میں کہ جو آپ ﷺ کے پیام سے بغاوت کریں گے ان کی آخرت تو یقیناً اور دنیا اکثر تباہ ہو کر رہے گی۔ اقبال، لطف وقہر اوسراپا رحمتے آں بہ یاراں ایں بہ اعدارحمتے۔ 431 ۔ ( اور اہل دوزخ وہی ہوں گے جو آپ کے منکر ہیں) تو مطلب یہ ہوا کہ منکرین کے انجام کی ذمہ داری آپ پر کیا ہے ؟ آپ کیوں ان کے لیے اس قدر فکروتشویش میں مبتلا ہوتے ہیں۔ آپ کا فرض تو پیام پہنچا دینے ختم ہوجاتا ہے۔ آگے کی ذمہ داری آپ پر ذرا بھی نہیں۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ جو کوئی خود اپنی اصلاح نہ چاہے مرشد کو اس کے زیادہ درپے نہ رہنا چاہیے۔
Ayah 2:120

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

اور آپ سے یہود ونصاری ہرگز خوش نہ ہوں گے،432 جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے پیرو نہ ہوجائیں ف، 433 ۔ آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کی (بتلائی ہوئی) تو راہ بس وہی ہے،434 ۔ اور اگر آپ بعد اس علم کے جو آپ کو پہنچ چکا ہے ان کی خواہشوں کی پیروی کرنے لگے،435 ۔ تو آپ کے لیے اللہ (کی گرفت) کے مقابلہ میں نہ کوئی یار ہوگا نہ مددگار،436 ۔

432 ۔ (خواہ آپ ان کی کتنی ہی رعایت ملحوظ رکھیں اور ان کے ساتھ برتاؤ کتنی ہی غمخواری اور دلسوزی کا رکھیں) یہ حکم۔ نصرانیوں سے متعلق ہے جو بہرحال اہل کتاب تھے اور مسلمانوں کے ساتھ مشترک ایمان سلسلہ وحی ونبوت پر رکھتے تھے، تو جو کھلے ہوئے اہل شرک ہیں، اور اسلامی عقائد سے اشتراک کسی درجہ کا بھی نہیں رکھتے، ان کی رضا جوئی اور ان سے توقع صلح رکھنے کا جو حکم ہوگا ظاہرہی ہے۔ 433 ۔ (یعنی اس مذہب کے جو انہوں نے گڑھ رکھا ہے۔ اور اپنے دین حق سے دستبردارنہ ہوجائیں) ملۃ کے معنی مذہب اور طریقہ کے ہیں۔ الملۃ الشریعۃ اوالدین (قاموس) قال ابو اسحاق الملۃ السنۃ والطریقۃ (تاج) دین اور ملت میں فرق یہ ہے کہ دین کا استعمال اللہ اور افراد امت کے سلسلہ میں ہوتا ہے۔ مثلا دین اللہ یا دین زید اور ملۃ کا استعمال نبی اور جماعت کے سیاق میں ہوتا ہے۔ مثلا ملت ابراہیم (علیہ السلام) یا ملت یہود (راغب) لفظ ملۃ کے صیغہ واحد سے فقہاء نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کفر جس قسم کا بھی ہو بہرحال ایک ہی ملت کے حکم میں ہے۔ وقد استدل کثیر من الفقھاء علی ان الکفر کلہ ملۃ واحدۃ (ابن کثیر) اور اسی اصل کی بنا پر وراثت کافروں اور مسلموں کے درمیان جائز نہیں رکھی ہے۔ لیکن کافروں کافروں کے درمیان جائز رکھی ہے۔ خواہ ان کا کفر آپس میں مختلف ہی ہو۔ وھذا مذھب الشافعی وابی حنیفۃ واحمد فی روایۃ عنہ (ابن کثیر) 434 ۔ (حق وصواب کی) اسی پر عقل ونقل کے دلائل کا اتفاق ہے اور اسی اللہ کی بتلائی ہوئی راہ کا نام طریق اسلام ہے ، 435 ۔ (مسائل دین میں۔ اور یہ پیروی ان کے لیے محال ہے) لئن میں لام قسم کا ہے تاکید وقطعیت کے لیے ہے۔ لام قسم (جلالین) قرآن ہے خدا کا کلام لیکن ہے بہرحال محاورۂ انسانی ہی میں، انسانی کلام میں جہاں جہاں قسم کا موقع آتا ہے قرآن میں بھی اس کی رعایت کی جائے گی۔ اھواء سے مراد وہ رائیں اور خیالات ہیں جو علم و حقیقت کے بجائے نفسانی خواہشوں پر مبنی ہوں۔ اے آراء ھم الزائغۃ (بیضاوی) والھوی رأی یتبع الشھوۃ (بیضاوی) (آیت) ” العلم “ سے مراد علم وحی ہے۔ ہر طرح پر قطعی ویقینی اور ہر اشتباہ سے بالاتر۔ العلم الوحی (بضاوی) اے من بعد الذی اقتصصت علیک من نبءھم (ابن جریر) گویا ایک سرے پر العلم ہے، حقیقت سے تمامتر لبریز۔ اور دوسرے سرے پر اھواء حقیقت سے تمامتر خالی۔ استدلال قرآنی کی منطقی شکل گویا اب یہ ہوئی :۔ 1 ۔ یہود ونصاری کی رضا طلبی کے لیے لازمی ہے کہ آپ ان کا دین اختیار کریں، لیکن ان کا دین سرتارسر محرف و باطل ہے۔ اس لیے ان کی رضا طلبی کے لیے لازم ہوا کہ آپ دین محرف و باطل اختیار کریں۔ 2 ۔ جو رحمت خداوندی سے مالامال اور توفیق الہی سے سرفراز ہو اس کے لیے باطل کی پیروی محال ہے۔ آپ رحمت خداوندی سے مالا مال اور توفیق الہی سے سرفراز ہیں۔ اس لیے آپ کے لیے پیروی باطل محال ہے۔ 3 ۔ اور جب آپ کے لیے پیروی باطل محال ہے۔ تو ملت یہود ونصاری کی پیروی جو خود ایک شکل زیغ و باطل ہی کی ہے، اس کی پیروی بھی محال ہے۔ اور اس لیے ان باطل پرستوں کی حصول رضا کی بھی کوئی شکل آپ کے لیے نہیں۔ آگے جو وعید اتباع باطل پر آئی ہے اور اس کے ساتھ قید (آیت) ” بعد الذی جاءک من العلم “ کی لگی ہوئی ہے۔ اس قید سے امام رازیرحمۃ اللہ علیہ نے استنباط کیا ہے کہ وعید ہمیشہ دلائل صریح کے بعد ہی ہوگی۔ یدل علی انہ لایجوز الوعید الابعد نصب الادلۃ (کبیر) ۔ 436 ۔ (آیت) ” ولی (یار) اس دنیا میں اور (آیت) ” نصیر “ (مددگار) عالم آخرت میں۔ خوب خیال رہے کہ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے یہ بات محض بطور فرض کے کہی گئی ہے۔ اور فرض جب محالات عقلی تک کیے جاسکتے ہیں تو محالات عادی یا منفیات شرعی کے فرض کرلینے میں تو اور بھی کوئی اشکال نہیں۔ اور اس طرز مخاطبت سے مقصود بھی غالبا مسئلہ کی اہمیت پرزور دینا ہ۔ منکروں کی طرف میلان پر اتنا تشدد جب خود رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہے تو دوسروں کا کیا ذکر ہے۔ فیہ تھدیدو وعید شدید للامۃ عن اتباع طرائق الیھود والنصاری (ابن کثیر) اور بعض نے کہا ہے کہ یہاں خطاب رسول اللہ ﷺ سے صرف لفظ ہے ورنہ مراد امت ہی ہے اور اصل حکم اسی کو ہے۔ الخطاب مع الرسول والامر لامتہ (ابن کثیر) قیل الخظاب مع النبی والمراد بہ الامۃ (معالم) قیل المقصود منہ امتہ ، (روح)
Ayah 2:121

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے اور وہ اسے اسی طرح پڑھتے ہیں جس طرح اس کے پڑھنے کا حق ہے،437 ۔ وہ لوگ اس پر ایمان لے آئیں گے،438 ۔ اور جو کوئی اس س سے کفر (اختیار) کرلے گا تو یہی لوگ (پورا) نقصان اٹھانے والے ہیں،439 ۔

437 ۔ یعنی دل سے اس کی تعظیم واحترام کرتے ہیں۔ اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔ اس میں تحریف و تغیر کو راہ نہیں دیتے۔ حق تلاوت ادا کرنے میں یہ سب کچھ آگیا۔ یتبعونہ حق اتباعہ (ابن عباس) لایحرفون الکلم عن مواضعہ ولا یتاولونہ علی غیر الحق (کبیر) (آیت) ” الکتب “ سے مراد توریت ہے۔ یعنی التوراۃ (ابن عباس) (آیت) ” الذین اتینھم الکتب “ سے مراد یہود ونصاری ہیں۔ ہم الیھود والنصری وھو قول عبدالرحمن بن زید واختارہ ابن جریر۔ (ابن کثیر) 438 ۔ (اور اسلام قبول کرلیں گے) مطلب یہ ہے کہ جو اہل کتاب ضد، نفسانیت، ہٹ دھرمی سے کام نہیں لیتے، وہ خود اپنی کتاب کے مطالعہ سے قرآن کی حقانیت وصداقت کے قائل ہوجائیں گے۔ اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے۔ (آیت) ” یؤمنون بہ “ میں ضمیر رسول اللہ ﷺ کی جانب بھی پھیری جاسکتی ہے۔ اس تاویل سے کہ اوپر آپ کا ذکر (آیت) ” انا ارسلنک بالحق “ میں مضمر ہے۔ قیل یعود علی النبی ﷺ وقد تقدم ذکرہ فی قولہ (آیت) ” انا ارسلنک بالحق “ (بحر) اکثر نے (آیت) ” الکتب “ کی طرف پھیری ہے۔ ظاہرہ اے الضمیر فی بہ یعود الی ما یعود الضمیر فی یتلونہ اے الکتب (بحر) لیکن سب سے انسب یہ ہے کہ ضمیر میں مرجع الحق (آیت 1 19) اور (آیت) ” العلم “ (آیت 120) کو مانا جائے گا اور معنی یہ کیے جائیں کہ یہ لوگ اس دنی حق اور علم وحی پر ایمان لے آئیں گے۔ مفسر تھانوی (رح) اور مفسر دہلوی (رح) (شاہ عبدالعزیز (رح)) دونوں نے یہی ترکیب اختیار کی ہے۔ یہ اختلافات صرف ترکیب نحوی کے لحاظ سے ہیں۔ مال ومقصود کلام ہر صورت میں تقریبا ایک ہی ہے۔ 439 ۔ (دنیا وآخرت میں) منکرین اسلام یہود کی ہلاکت آخرت میں تو یقینی ہے۔ دنیا میں بھی ان کی بربادی سب کے مشاہدہ میں آچکی ہے۔ (آیت) ” یکفربہ “ میں بھی ضمیر کے مرجع کے بارے میں اختلافات ہیں اور انسب یہاں بھی یہی ہے کہ الحق والعلم کو مانا جائے۔
Ayah 2:122

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:122 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل میری وہ نعمتیں یاد کرو جو میں نے تم کو بخشیں،440 ۔ اور یہ کہ میں نے تمہیں دنیا جہاں والوں پر فضیلت دی،441 ۔

440 ۔ قوم بنی اسرائیل اور ان پر جو احسانات خداوندی تھے ان کا تعارف رکوع 5 میں مفصل کرایا جاچکا ہے۔ وہیں کے حاشیے ملاحظہ فرما لیے جائیں شروع میں تاریخ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ سے بیان ہوئی۔ یعنی اس کے اس عہد کی جب وہ مستقل صاحب کتاب و شریعت ہو کر آزاد وخود مختار رہے اور ہر طرح کی نافرمانی وسرکشی میں بھی مبتلا۔ اب اسے اس کے قدیم ترین دور یعنی ابراہیمی کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کے بعد سے تو آپ کی نسل کی دو شاخیں ہوئیں اور ایک کا نام دو پشتوں کے بعد بنی اسرائیل پڑا۔ 441 ۔ (توحید کی علمبردار اور مبلغ کی حیثیت سے) قرآن مجید جو دعوی کرتا ہے کہ کسی کی پروا کیے بغیر، بےتکان اور بےدھڑک کرتا ہے۔ بنی اسرائیل کو اس نے مطلق صورت میں بلاکسی قید وشرط کے، اس وقت تک کی تمام قوموں کے مقابلہ میں افضل قرار دیا ہے۔ یہ افضلیت اسی نعمت توحید کی بنا پر تھی، دنیا کی دنیا شرک کی لعنت میں مبتلا تھی۔ توحید پر قائم صرف یہی قوم تھی۔ اور سلسلہ نبوت کی قائل صرف یہی نسل تھی۔ تفصیل کے لیے رکوع 6 کے حاشیے ملاحظہ فرمائے جائیں۔ بنی اسرائیل کو ان کے عروج اور ان کی گمراہیوں کی سرگزشت سنا کریاد یہ دلایا جارہا ہے کہ ان کی افضلیت واشرافیت کا راز تھا کیا ؟ یہی تھا کہ وہ موحد اعظم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں تھے۔ اور توحید ونبوت کی امانت انہیں کی نسل کے سپرد کی گئی تھی۔ انہیں اگر پھر استفادہ انہیں انعامات سے منظور ہے تو چاہیے کہ اسی دین ابراہیمی کی طرف رجوع کریں۔
Ayah 2:123

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:123 in the Quran reader

اور اس روز سے ڈرو جب نہ کوئی کسی کے بھی کام آئے گا اور نہ اس کے طرف سے معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ اسے سفارش نفع پہنچا سکے گی اور نہ انہیں مد ہی پہنچ سکے گی،442 ۔

442 ۔ (کسی طرف سے بھی۔ اور نہ ان کی فریاد رسی کسی سے بھی ہوسکے گی) یہ آیت بھی رکوع 6 میں گزر چکی اور وہیں اس پر متعدد حاشیے دیئے جاچکے ہیں۔ بنی اسرائیل نے اس وقت ایک تو عقیدہ قیامت کو بالکل بھلا دیا تھا اور جزاوسزا کی ساری صورتیں اسی دنیا میں محدود سمجھ لی تھیں۔ چناچہ موجودہ توریت میں بھی جہاں جہاں سعادت وشقاوت کے ثمرات مذکور ہیں، اسی دنیا کی خوشحالی و بدحالی کا بیان ہے۔ اس لیے پہلے تو انہیں یوم آخرت کی یاد دلائی گئی۔ اور پھر ان کی گمراہی کے ایک ایک مرکزی عقیدہ، شفاعت، کفارہ وفدیہ پر ضرب لگائی گئی۔ آیت کے الفاظ اتنے جامع ہیں کہ یہودیت کے ساتھ نصرانیت کی بھی جڑکٹی جاتی ہے۔ نصرانیت کی بنیاد ہی شفاعت، کفارہ وفدیہ ہی کے عقائد باطلہ پر ہے۔
Ayah 2:124

وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:124 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ابراہیم کو،443 ۔ ان کے پروردگار نے چند امور میں آزمایا444 ۔ اور انہوں نے وہ انجام دے دئیے،445 ۔ ارشاد ہوا کہ میں یقیناً تمہیں لوگوں کا پیشوابنانے والا ہوں،446 ۔ بولے اور میری نسل سے بھی،447 ؟ ارشاد ہوا کہ میرا وعدہ نافرمانوں کو نہیں پہنچتا،448 ۔

443 ۔ یہ نام پہلی بار قرآن میں آیا ہے۔ قرآن کے مخاطب اول اہل عرب تھے۔ جو شخصیتیں ان کے لیے معلوم ومعروف تھیں، قرآن ان کے نام ان کے سامنے بےتکلف بغیر کسی مزید تعارف کے لیے آتا ہے۔ اور پھر ابراہیم (علیہ السلام) تو وہ بزرگ تھے جن سے علاوہ مشرکین عرب کے یہود ونصاری بھی خوب ہی واقف تھے، ان کا تعارف اور بھی غیر ضروری تھا۔ یہ ابراہیم (علیہ السلام) وہی ہیں۔ جو اسلامی عقیدہ کے علاوہ یہودی ونصرانی عقیدہ میں بھی ایک جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ توریت میں آپ کا نام ابرام اور ابراہم دونوں طرح سے آیا ہے۔ توریت کی روایت ہے کہ آپ (علیہ السلام) کے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان دس پشتوں کا فرق ہوا ہے۔ یعنی آپ (علیہ السلام) ان کی گیارہویں پشت میں تھے۔ لیکن خود توریت ہی کے شارحین کا خیال بعض قرائن کی بنا پر یہ ہے کہ توریت۔۔۔ میں نسب نامہ کی کچھ پشتیں چھوٹ گئی ہیں۔ سال ولادت سرچارلس مارسٹن محقق اثریات کی جدید ترین تحقیق کے مطابق 2 160 ؁ ق، م اور عمر شریف توریت میں 175 سال درج ہے۔ سال وفات اس حساب سے 1985 ؁ ق، م ٹھہرتا ہے۔ والد کا نام تارح تھا۔ یا عربی تلفظ میں آزر نام کا تلفظ قدیم زبانوں میں کئی کئی طرح آیا ہے۔ مسلمانوں کے لیے قرآنی لفظ آزر کافی ہے۔ وطن آبائی ملک بابل کے کلدانیہ (انگریزی تلفظ میں کا لڈیا) تھا۔ جدید جغرافیہ میں اسی کو ملک عراق کہتے ہیں۔ جس شہر میں آپ (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی اس کا نام توریت میں اور (UR) آیا ہے۔ مدتوں یہ شہرنقشہ سے غائب رہا۔ اب ازسرنونمودار ہوگیا ہے۔ کھدائی کے کام کی داغ بیل 1894 ؁ء ہی میں پڑگئی تھی۔ 1922 ء ؁ میں بر طانیہ اور امریکہ کے ماہرین اثریات کی ایک مشترک تحقیقی مہم برٹش میوزیم اور پنسیلوینیایونیورسٹی کے زیر اہتمام عراق کو روانہ ہوئی۔ اور کھدائی کا کام پورے سات سال تک جاری رہا۔ رفتہ رفتہ پورا شہر نمودار ہوگیا ہے۔ اور عراق گورنمنٹ کے محکمہ آثار قدیمہ نے عجائب خانہ کے حکم میں لاکران کھنڈروں کو محفوظ کردیا ہے۔ یہ شہرخلیج فارس کے دہانہ فرات اور عراق کے پایہ تخت بغداد کے تقریبا درمیانی مسافت پر ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی بزرگی اور نبوت چونکہ مسلمانوں کے علاوہ یہود اور نصرانیوں کو بھی مسلم ہے۔ اس لیے ان قوموں کے علماء نے بھی آپ کے حالات کی تحقیق و جستجو میں کوئی درجہ کاوش کا اٹھا نہیں رکھا ہے۔ موجودہ محرف بائبل میں تاریخی غلطیوں کی کثرت سے اکتا کر بعض ” روشن خیال “ محققین نے انیسویں صدی کے ربع آخر میں کہنا شروع کردیا تھا کہ ابراہیم نامی کوئی تاریخی شخصیت گزری ہی نہیں۔ بلکہ یہ محض ایک نوعی نام تھا یا ہر شیخ قبیلہ کا لقب، لیکن اب پھر تحقیق کا رخ بدلا اور بیسویں صدی کے ربع اول کے ختم ہوتے ہوتے پھر آپ کی تاریخی شخصیت کا پوری طرح قائل ہوجانا پڑا ،۔ نسل اسرائیلی اور نسل اسمعیلی دونوں میں ایک طرح کی رقابت اور چشمک مدتوں سے چلی آرہی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دونوں سلسلوں کے مورث اعلیٰ تھے۔ اللہ کی نعمت خاص الخاص یعنی توحید کی علمبرداری اب نسل اسرائیل سے اس کی مسلسل نافرمانیوں کی پاداش میں چھن کر ایک اسمعیلی پیغمبر کے واسطہ سے اب ساری دنیا کے لیے عام ہورہی ہے۔ ضرورت ہے کہ ابراہیمی شخصیت (اور ان کے ضمن میں اسمعیلی شخصیت) کی مرکزیت اور اہمیت سے دنیا کو روشناس کردیا جائے۔ چناچہ یہاں یہی ہورہا ہے۔ 444 (اور وہ چند امور، احکام تھے اوامرونواہی کی قسم کے) ابتلی۔ آزمایا اپنی واقفیت کے لیے نہیں کہ وہ تو خود علیم کل ہے، بلکہ علی الاعلان تاکہ دوسروں کو ان کے ایمان کامل کا مشاہدہ ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ کے سلسلہ میں آزمانے کا لفظ جب بھی استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد یہی ہوتی ہے۔ وابتلاء اللہ العباد لیس لیعلم احوالھم بالابتلاء فانہ عالم بھم ولکن لیعلم العباد احوالھم (معالم) کلمات۔ یہ کلمات کیا تھے۔ ان کی تعیین میں بڑا اختلاف ہے۔ قد اختلف العلماء فیھا اختلافا کثیرا (ابن عربی) لیکن تفصیل ان کی جو کبھی بھی ہو، بہرحال تھے وہ احکام شرائع ہی۔ اے شرائع الاسلام۔ (معالم عن ابن عباس) اے اختیارہ لہ بما کلفہ من الاوامر والنواھی (ابن کثیر) 445 ۔ یعنی آپ ان امتحانوں میں پورے اترے اور ان احکام کی تعمیل کردی۔ اے (آیت) ” فاذا ھن “ (ابن جریر عن ابن عباس) اے عمل بھن (ابن جریر عن قتادۃ) روایات یہود میں بھی یہ ذکر آیا ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ 446 ۔ (کہ امور دین و شریعت میں تمہاری اقتدا کریں۔ اے یاتمون بک فی دینک (کبیر) اے یاتمون بک فی دینم (مدارک) (آیت) ” اماما “۔ امام کہتے ہی اسے ہیں جس کی پیروی کی جائے۔ لغت میں بھی اور اصطلاح شریعت میں بھی، ھو اسم من یؤتم بہ (مدارک) اسم الامامۃ مستحق لمن یلزم اتباعہ والاقتداء بہ فی امور الدین اوفی شی منھا (جصاص) توریت میں بھی یہ وعدہ امامت ان الفاظ میں ملتا ہے :۔ ” اور میں تجھ کو ایک بڑی قوم بناؤں گا اور تجھ کو مبارک اور تیرا نام بڑا کروں گا۔ اور تو ایک برکت ہوگا، اور ان کو جو تجھے برکت دیتے ہیں برکت دوں گا، اور ان کو جو تجھ پر لعنت کرتے ہیں لعنتی کروں گا۔ اور دنیا کے سارے گھرانے تجھ سے برکت پائیں گے “۔ (پیدائش۔ 12: 1، 2) یہ دینی سرداری اور امامت پورے ایک عالم کی آج تک آپ (علیہ السلام) کے حصہ میں چلی آرہی ہے۔ اور اسلام کے علاوہ بھی جو مذاہب توحید سے کچھ بھی لگاؤ رکھتے ہیں یعنی یہودیت ونصرانیت وہ آپ (علیہ السلام) کی امامت پر متفق ومتحد ہیں۔ ایک نامور فرنگی فاضل، بیسویں صدی کے ثلث اول کے ختم پر آپ (علیہ السلام) کا رتعارف ان الفاظ میں کرتا ہے :۔ ” ابراہیم (علیہ السلام) کی ہستی کسی بدوی سردار کی نہ تھی کہ وہ لوٹ مار کرتے اور ملک گیری کرتے رہتے۔ ان کی اصلی اہمیت مذہب کے دائرہ میں ہے۔ وہ حقیقۃ مورث اعلی کسی نسل کے نہیں، بانی و امام وہ مذہبی تحریک کے تھے۔ محمد ﷺ کی طرح جو ان کے دو ہزار سال بعد پیدا ہوئے وہ سامی قوموں اور قبیلوں کے رہنما کی حیثیت رکھتے تھے، اور توریت کے حسب روایت وہ اسرائیلی مذہب کے بانی تھے “۔ (انسائیکلوپیڈیابرٹانیکا جلد اول صفحہ 60 ۔ طبع چہاردہم) جن لفظوں کو یہاں ترجمہ میں جلی کردیا گیا ہے، انہیں ایک بار پھر پڑھ لیا جائے۔ یورپ کی زبان سے اللہ کی حبیب ﷺ اور اللہ کے خلیل (علیہ السلام) کے درمیان مماثلت کا یہ اعتراف ! بس اللہ ہی کی شان ہے ! آیت سے ایک نتیجہ فقہاء نے یہ بھی نکالا ہے کہ احکام کی تعمیل اور امتحان الہی میں کامیابی انسان کو دینی پیشوائی وسرداری کا مستحق بنا دیتی ہے۔ اور انبیائے کرام کے بعد اولیاء امت اور علماء امت کی امامت، اپنے اپنے ظرف وحیثیت کے مطابق، اسی قانون کی مظہر ہے۔ فقیہ جصاص رازی (رح) نے کہا ہے کہ فالانبیاء علیھم السلام فی اعلی مرتبۃ الامامۃ ثم الخلفاء الراشدون بعد ذلک ثم العلماء والقضاۃ العدول ومن الزم اللہ تعالیٰ باقتداء ھم ثم الامامۃ فی الصلوۃ ونحوھا (احکام القرآن) ۔ (امامت کے جو معنی بیان ہوئے اس کے لحاظ سے امامت کے اعلی مرتبہ پر تو حضرات انبیاء فائز ہوتے ہیں۔ ان سے اتر کر خلفائے راشدین ہیں۔ پھر نمبر علماء اور عادل ججوں کا آتا ہے اور ان کا جن کی پیروی خدا نے لازم کردی ہے، پھر امامت نماز ہے وغیرہا) 447 ۔ (امام ہوتے رہیں گے) عالم کی پیشوائی، سرداری، و امامت کی بشارت پاکر ابراہیم (علیہ السلام) کا دل قدرتی طور پر باغ باغ ہوگیا اور اس جوش مسرت میں سوال کربیٹھے کہ اس انعام میں میری نسل اور میری اولاد بھی شریک ہے نا ؟ (آیت) ” ذریۃ “ کے معنی ہیں اولاد اور اولاد در اولاد۔ اس میں سارا سلسلہ نسل آگیا۔ اور یہ سلسلہ ابراہیمی شاخ اسرائیلی اور شاخ اسمعیلی دونوں کو شامل ہے۔ اسرائیلیوں کو جو دعوی تخصیص تھا اس کی جڑ یہیں سے کٹ گئی، (آیت) ” من ذریۃ “ میں من تبعیضیہ ہے اور فقرہ کی ترکیب نے اسے صاف کردیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا سوال کے رنگ میں اپنی ساری نسل سے متعلق نہیں اس کے ایک جزو سے متعلق تھی، من تبعیضیۃ اے وجاعل بعض ذریتی (ابو سعود) ومن ذریتی۔ یدل انہ (علیہ السلام) طلب ان یکون بعض ذریتہ ائمۃ للناس (کبیر) (آیت) ” من ذریتی “ کا عطف جاعلک کے ک پر ہے۔ گویا تقدیر کلما یوں ہے۔ وجاعلک بعض ذریتی۔ محاورۂ عرب میں جب ساکرمک بولا جاتا ہے تو جواب استفہامی میں بجائے پورے فقرہ سا کرم زیدا کے صرف وزیدا کافی ہے (کشاف) گوصاحب بحر کے نزدیک یہ عطف یہاں صحیح نہیں۔ آیت سے معلوم ہوا کہ مسرت ونعمت میں اپنی اولاد کو شریک کرنا نہ صرف امر طبعی ہے بلکہ سنت انبیاء بھی ہے۔ 448 ۔ یعنی برکت وفضل کا سلسلہ تمہاری نسل میں بھی ضرور رہے گا۔ لیکن اس کے تحقق کے لیے محض ارث، نسب، نسل کافی نہیں۔ بلکہ ایمان وعمل صالح بھی حاصل کرنا ہوگا۔ گویا دعائے ابراہیمی اولاد صالح کے حق میں قبول ہوگئی۔ دل علی انہ ینالہ غیر الظالم “ (جلالین) اور حضرت کو خبر دے دی گئی کہ آپ کی نسل میں دونوں طرح کے لوگ ہوں گے۔ کچھ صالح ومطیع اور کچھ ظالم ونافرمان۔ صالحین کو امامت کی بشارت ملک گئی اور ظالم اس سے محروم کردیئے گئے، تنبیہ علی انہ قد یکون من ذریتہ ظلمۃ وانھم لا ینالون الامامۃ وانما ینالھا البررۃ الاتقیاء منہم (بیضاوی) عھدی میرا وعدہ یعنی دینی منصب امامت و پیشوائی کا وعدہ۔ معنی العھد عھد الامامۃ (ابن جریر عن مجاہد) ھذا العھد ھو الامامۃ المذکورۃ فی ماقبل (کبیر) (آیت) ” الظلمین “ ظلم سے یہاں مراد کفر بھی لی گئی ہے اور فسق بھی۔ کافر کو امامت دینی نہ ملنا بالکل ظاہر اور متفق علیہ ہے۔ بعض نے اس منصب سے محرومی کے لیے فسق بھی کافی سمجھا ہے۔ قد فسر الظلم ھھنا بالکفر وھو قول ابن جبیر وبظلم العاصی غیر الکفر وھو قول عطاء والسدی (بحر) اے اھل الکفر (مدارک) اخبران امامۃ المسلمین لا یثبت لاھل الکفر (مدارک) المراد بالظالم الکافر ھھنا اذھو الظالم المطلق (مدارک) المتبادر من الظلم الکفر لانہ الفرد الکامل من افرادہ (روح) فقہاء امت نے آیت سے یہ استنباط کیا ہے کہ فاسق کی امامت کا انعقاد جائز نہیں۔ واجتح الجمھور علی ان الفاسق لا یصلج ان تعقدلہ الامالۃ بھذا الایۃ (کبیر) مرشد تھانوی نے آیت سے یہ استنباط کیا ہے کہ اختیاری بدعملی کے ساتھ فضل الہی وانعام خداوندی جمع نہیں ہوتے۔