2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 2:223

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader

تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں،830 ۔ سو تم اپنے کھیت میں آؤ جس طرح چاہو،831 ۔ اور اپنے حق میں آیندہ کے لیے کچھ کرتے رہو،832 ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے،833 ۔ اور آپ ایمان والوں کو خوشخبری سنا دیجئے،834 ۔

830 ۔ اور کھیت کہتے ہیں اس موضع زمین کو جس میں تخم ریزی ہوتی ہے اور اس میں سبزی، غلہ، نباتات کا نشوونما ہوتا ہے۔ کھیت والے اسے اپنی بہت بڑی دولت سمجھ کر نہایت درجہ عزیز رکھتے ہیں، اور اس سے خوب نفع حاصل کرتے ہیں۔ اسلام نے ہمبستری کا اصل مقصد طلب اولاد ہی کو رکھا ہے، گو اس کے دوسری پہلو یعنی طلب لذت کو بھی نظر انداز نہیں کیا ہے۔ 831 (اس تشبیہ اور اسکے مضمرات کو خوب سوچ سمجھ کر) (آیت) ” فاتوا حرثکم “ کنایہ ہے عورت کے ساتھ صحبت کرنے سے۔ اور قرآن حکیم ایسے موقعوں پر اکثر کنایہ ہی سے کام لیتا ہے، فقہاء مفسرین نے یہیں سے استنباط کیا ہے کہ ہر ایسے موقع پر مسلمان کو یہی چاہیے کہ حتی الامکان بات اشارہ کنایہ ہی میں کہے۔ فاتوا حرثکم من الکنایات اللطیفۃ والتعریضات المستحسنۃ فعلی کل مسلم ان یتادب بھا ویتکلف مثلھا فی المحاورات والمکاتبات (مدارک) (آیت) ” حرثکم “ ” کہاں “ کا یہ جواب خوب ملحوظ رہے، اتیان یا داخلہ کھیت ہی میں ہونا چاہیے۔ قبول تخم کے موضع پر عضو میں ہونا چاہیے، نہ کہ اس کے علاوہ یا اس سے خارج کسی اور موقع ومحل میں۔ اے نساؤکم مزرع اولادکم فاتوا مزرعکم کیف شئتم واین شئتم (ابن جریر) (آیت) ” انی “۔ انی “ کے مشہور ومعروف معنی کیف اور این کے ہیں، یعنی جس طرح کے، جس کیفیت کے ساتھ کے، اور جدھر سے، جس جہت سے کے، للبحث عن الحال والمکان (راغب) ھو بمعنی این وکیف (راغب) قرآن مجید میں انی کیف کے معنی میں آیا ہے۔ مثلا (آیت) ” انی یحییٰ ھذہ اللہ بعد موتھا “۔ یہاں انی یحییٰ صاف کیف یحییٰ کے معنی ہے۔ یا پھر (آیت) ” انی یکون لی غلام “۔ اس آیت میں قرآنیات کے بہترین ماہرین، ابن عباس ؓ صحابی نے اور مجاہد، قتادہ، عکرمہ وغیرہ تابعین نے انی کو اسی معنی میں لیا ہے۔ یایتھما کیف شاء (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ وعکرمہ ومجاہد) اے کیف شئتم (ابن جریر۔ عن السدی) انی حرف استفھام یکون سوالا عن الحال والمحل معناہ کیف شئتم وحیث شئتم بعد ان یکون فی ضمام واحد (معالم) گویا یہاں صاف رد ہورہا ہے یہود کا جو مباشرت کی صرف ایک ہی وضع وہیئت کو جائز سمجھتے تھے، اور باقی سب کو ناجائز۔ متعدد آثار وروایات اسی مضمون کے تفسیروں میں منقول ملیں گے۔ اور آیت میں بتایا جارہا ہے کہ کھڑے ہونے، بیٹھے رہنے، چت لیٹے رہنے، پٹ لیٹنے، کروٹ کے بل لیٹنے کی ساری ہیئتیں جائز ہیں۔ اے کیف شئتم من قیام وقعود واضطجاع واقبال وادبار (جلالین) دوسرے معنی ” انی “ کے این کے، یعنی جدھر کے، جس رخ کے ہیں۔ اور اس معنی کو لے کر بعض گندہ مذاق لوگوں نے اس کی تشریح میں اپنی گندہ سیرتی کے عجیب عجیب مظاہرے کیے ہیں۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ موضع ومحل میں کسی تبدیلی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ ابن کثیر نے تو اس معنی پر ابوحنیفہ (رح) وشافعی (رح) واحمد حنبل (رح) جیسے ائمہ فقہ اور ان کے شاگردوں اور بہت سے تابعین کا اجماع نقل کرکے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ اس معنی سے تجاوز کرکے جواز ڈھونڈھنے والوں کا ان تمام علماء وفقہاء نے شدت سے انکار کیا ہے، بلکہ بعض نے تو اس تجاوز کو کفر کے حکم میں داخل کردیا ہے۔ انھم انکروا ذلک اشد الانکار وبینہم من یطلق علی فعلہ الکفر وھو مذھب جمھور العلماء۔ موضع ومکان تو بہرحال متعین ہے۔ آزادی صرف اسی موضع ومکان میں داخلہ کے لیے، ہر رخ، ہر جہت کی دی جارہی ہے۔ اے علی ای شق من الاحوال وذلک فی مکان الحرث (بحر) سئل ابن عباس عن الذی یاتی امرأتہ فی دبرھا فقال ھذا یسالنی عن الکفر (جصاص) من حیث شئتم وای وجہ اجبتم (ابن جریر) لیکن ان دو معروف ومتداول معنوں کے علاوہ انی کے ایک تیسرے معنی متی، یعنی جب اور جس وقت کے بھی نقل ہوئے ہیں، گویا (آیت) ” انی “ یہاں ظرف زمان کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ ضحاک تابعی اور بعض محققین قرآن اس طرف گئے ہیں۔ انی بمعنی متی قال الضحاک (بحر) اے متی شئتم (ابن جریم۔ عن الضحاک) اے فی متی زمان اردتم (بحر) متی شئتم من لیل ونھار (کبیر) ای وقت شئتم من لیل ونھار (کبیر) ای وقت شئتم من اوقات الحل (کبیر) انی شئتم من اللیل والنھار (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ جس خدا کی بنائی ہوئی دنیا کی عملی زندگی میں اس قسم کے سوالات ومسائل روز مرہ پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں۔ اسی خدا کے اتارے ہوئے ہدایت نامہ میں اگر ان سے متعلق ہدایات و احکام نہ ہوتے، تو یہ بہت عجیب سی بات ہوتی۔ 832 آئندہ کے لیے کچھ بھیجنے کی چیز عمل صالح ہی ہوسکتے ہیں۔ یہ گویا اس کی تاکید ہے کہ عین لذت والتذاذ کے مشغلوں کے وقت بھی اپنی عبدیت کو، اپنی ذمہ داری کو بھول نہ جاؤ۔ تمامتر لذت پر ستی ہی میں غرق نہ ہوجاؤ، بلکہ ہوسکے تو اپنی لذتوں کو بھی عین طاعت و عبادت بنالو۔ 833 (کہ اسی کو استحضار ہر تقوی و خشیت کو آسان بنادے گا) آیت میں تعلیم اس کی ہے کہ مومن کے ہاتھ سے تقوی الہی کا سررشتہ کسی حال میں نہ چھوٹنے پائے۔ (آیت) ” واتقوا اللہ “۔ یعنی ہر حال میں، ایام حیات کے ہر ہر لمحہ میں، تقوائے الہی پر قائم رہو۔ (آیت) ” واعلموا انکم ملقوہ۔ قرآن مجید صرف احکام ہی نہیں دیتا، بلکہ وہ طریقہ اور تدبیر بھی بتاتا جاتا ہے جن سے ان احکام پر عمل آسان ہوجائے۔ حکم ابھی تقوی الہی کا ملا ہے، اور اب اس کی آسان تدبیر ارشاد ہورہی ہے کہ وہ لقاء آخرت کا استحضار ہے۔ (آیت) ” واعلموا “ سے محض جان لینا مراد نہیں، بلکہ اس علم کا تروتازہ رکھنا مراد ہے۔ 834 (اے پیغمبر ! ) یہاں جو اہل ایمان مراد ہیں، ان کے صفات ابھی اوپر بیان ہوچکے ہیں، وہ اعمال صالحہ کا اہتمام رکھتے ہیں (آیت) ”(قدموا لانفسکم) اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں (آیت) ”(واتقوا اللہ) “ اور جزاوسزا کا عقیدہ تروتازہ رکھتے ہیں (آیت) ” واعلموا انکم ملقوہ) ۔
Ayah 2:224

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:224 in the Quran reader

اور اللہ (کے نام) کو اپنی قسموں کے ذریعہ سے اپنی نیکی کے اور اپنے تقوی کے اور اپنی اصلاح خلق کے کاموں کے حق میں حجاب نہ بنا لو،835 ۔ اور اللہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے،836 ۔

835 ۔ عرب جاہلیت کے جاہلانہ دستوروں میں سے ایک دستور یہ تھا کہ خدا کی قسم کھا کھا کر یہ کہہ بیٹھتے تھے کہ ہم فلاں اور فلاں کام نیکی کا تقوی کا، اصلاح خلق کا نہ کریں گے۔ اور جب کوئی کہتا تو یہی عذر پیش کردیتے کہ ہم تو اس کی قسم کھاچکے ہیں ! ان اعمال خیر کا ترک یوں بھی ہر صورت میں مذموم تھا، چہ جائیکہ حضرت حق کے اسم بزرگ اور اس کی قسم کی بجائے قرب حق کے اس سے دوری کا ذریعہ بنا لیا جائے۔۔ آیت اسی شعار جاہلی کی تردید میں ہے۔ (آیت) ” عرضۃ “ کے عام ومتداول معنی ہدف یا نشانہ کے ہیں اور بعض نے یہاں بھی یہی معنی رکھے ہیں، عرضۃ لایمانکم اے نصبا لھا (جوہری) جعلتہ عرضتہ لکذا نصبتہ لہ (قاموس) لیکن ایک دوسرے معنی حجاب یا مانع کے بھی ہیں۔ اور یہاں یہی زیادہ چسپاں ہیں۔ اے حاجزا لما حلفتم علیہ (کشاف) قالوا العرضۃ عبارۃ عن المانع (کبیر) فقہاء نے بلاضرورت اور کثرت سے قسمیں کھاتے رہنے کو یوں بھی ناپسند کیا ہے کہ اس میں اللہ کے نام کی بےتوقیری ہے۔ چہ جائیکہ قصدا جھوٹی قسمیں کھانا ! 836 ۔ (آیت) ” سمیع “ خوب سننے والا تمہارے اقوال کا، اس لیے ہر بات سوچ سمجھ کر منہ سے نکالو، (آیت) ” علیم “ خوب جاننے والا تمہارے احوال کا۔ اس لیے نیت میں ہر وقت اخلاص رکھو۔
Ayah 2:225

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 2:225 in the Quran reader

اللہ تمہاری قسموں میں سے لایعنی (قسم) پر مؤخذہ نہ کرے گا البتہ تم سے اس (قسم) پر مؤاخذہ کرے گا،837 ۔ جس پر تمہارے دلوں نے قصد کیا ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا ہے، بڑا برد بار ہے،838 ۔

837 ۔ یعنی گرفت ان قسموں پر ہوگی، جن میں جھوٹ کی آمیزش بالقصد کی گئی ہے۔ آخرت میں بھی انہی پر داروگیر ہے، اور دنیا میں بھی ان کے لیے کفارہ ہے (آیت) ” باللغوفی ایمانکم “ مراد ان قسموں سے ہے، جو ناواقفیت کی بنا پر یا بےخیالی میں محض عادۃ زبان سے نکل جاتی ہیں، اور جھوٹ کی آمیزش ان میں بلاقصد ہوجاتی ہے، فقہاء نے اس نوعیت کی ساقط الاعتبار قسموں کی کئی قسمیں کی ہیں، ان کا تعلق ماضی کے واقعات سے بھی ہوسکتا ہے اور آئندہ کے ارادوں سے بھی۔ ان کی تفصیلات اور ان کے احکام کتب فقہ میں ملیں گے۔ 838 (آیت) ” غفور “ وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ چناچہ اسی شان غفرکاتقاضہ ہے کہ اس نے لایعنی قسموں پر مؤاخذہ کو معاف کردیا۔ (آیت) ” حلیم “ وہ بردبار ہے۔ چناچہ اسی شان حلم کا تقاضہ ہے کہ اس نے ارادی جھوٹی قسموں پر بھی سزا فورا نہ دی بلکہ قیامت تک کے لیے ملتوی کردیا۔
Ayah 2:226

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:226 in the Quran reader

جو لوگ اپنی بیویوں سے (ہمبستری کرنے کی) قسم کھا بیٹھے ہیں، ان کے لیے مہلت چار ماہ تک ہے،839 ۔ پھر اگر یہ لوگ رجوع کرلیں، تو اللہ بخشنے والا ہے بڑا مہربان ہے،840 ۔

839 ۔ ایلاء۔ عرب جاہلی کا ایک شعار یہ بھی تھا، کہ شوہر غصہ میں آکر قسم کھا بیٹھتے تھے کہ اپنی بیویوں سے ہمبستری نہ کریں گے، اصطلاح میں اس کو ایلاء کہتے، لاخلاف انہ قداضمرت فیہ الیمین علی ترک الجماع (جصاص) شریعت اسلامی نے اس میں جو اصلاحیں کیں، اور اس باب میں جو احکام دیئے یہاں ان کا ذکر ہے (آیت) ” تربص اربعۃ اشھر “ عرب جاہلی ایلاء کرلینے کے بعد، جو ایک طرح کی طلاق ہی تھی، بیوی کے نان ونفقہ اور ہر قسم کے ادائے حقوق سے معادستبردار ہوجاتے تھے۔ اسلام نے اس کی ایک اصلاح یہ کی کہ اس کو خلع نکاح یا فسخ نکاح کا مرادف نہیں، بلکہ اس کی صرف تمہید قرار دے کر غور وفکر کے لیے ایک مدت مقرر کردی، اور پھر اس مدت کی میعاد چار مہینے کی رکھی، جو اس کے لیے بالکل کافی ہے کہ سارے پہلوؤں پر ٹھنڈے دل سے غور کرلیا جائے ، 840 ۔ (آیت) ” فان فآء و “۔ یعنی اگر رجوع کرلیں اپنے قصد ترک تعلق سے، اور رشتہ نکاح کو برقرار رکھیں۔ الفئی الرجوع الی الشیء (جصاص) (آیت) ” غفور “ بڑا مغفرت والا ہے، چناچہ ایسی قسم توڑنے کا گناہ ایک خفیف سے کفارہ کے بعد معاف کردے گا۔ (آیت) ” رحیم “ بڑا مہربان ہے، چناچہ شوہر جواب از سر نوادائے حقوق پر متوجہ ہوگیا ہے، اس پر وہ رحمت سے نظر کرے گا۔
Ayah 2:227

وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:227 in the Quran reader

اور اگر طلاق (ہی) کا پختہ ارادہ کرلیں،841 ۔ تو بیشک اللہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے،842 ۔

841 (اتنے دنوں کے غوروفکر کے بعد بھی) طلاق نام ہے زن وشوہر کے باہمی تعلق کے باضابطہ وکامل انقطاع کا۔ اسلام سے قبل دنیا میں طلاق سے متعلق عجب افراط وتفریط قائم تھی، افراط یہود کے ہاں تھی اور تفریط مسیحیوں کے ہاں۔ یہود کے ہاں نہ کوئی قید طلاق پر عائد تھی، نہ شوہر پر اس باب میں کوئی ذمہ داری تھی۔ اس کا جب جی چاہتا وجہ بلاوجہ، بس ایک طلاق نامہ لکھ کر بیوی سے چھٹکارا حاصل کرلیتا۔ بیوی اسی وقت دوسرا مرد کرسکتی تھی، توریت کے قانون کے الفاظ یہ ہیں :۔ اگر کوئی مرد کوئی عورت لے کے اس سے بیاہ کرے، اور بعد اس کے ایسا ہو کہ وہ اس کی نگاہ میں عزیز نہ ہو، اس سبب سے کہ اس نے اس میں سے کوئی پلید بات پائی، تو وہ اس کا طلاق نامہ لکھ کے اس کے ہاتھ دے، اور اسے اپنے گھر سے باہر کرے، اور جب وہ اس کے گھر سے نکل گئی، تو جا کے دوسرے مرد کی ہو وئے۔ “ (استثناء۔ 24: 1، 2) اس آزادی اور بےقیدی کے مقابلہ میں مسیحیوں نے یہ سختی اور تنگی اختیار کی کہ زن وشوہر میں علیحدگی کی کوئی گنجائش ہی نہ رکھی، انجیل کے الفاظ ہیں :۔ ” جیسے خدا نے جوڑا ہے اسے آدمی جدا نہ کرے۔ جو کوئی اپنی بیوی کو چھوڑ دے اور دوسری سے بیاہ کرے، وہ اس پہلی کے خلاف زنا کرتا ہے۔ اور اگر عورت اپنے شوہر کو چھوڑ دے، اور دوسرے سے بیاہ کرے تو زنا کرتی ہے۔ “ (مرقس۔ 10:7 ۔ 12) ” میں نہیں بلکہ خداوند حکم دیتا ہے کہ بیوی شوہر سے علیحدہ نہ ہو “۔ ( 1 ۔ کرنتھیون۔ 7: 10) چناچہ مسیحی آبادی کے سوا داعظم یعنی فرقہ کیتھولک کے ہاں تو طلاق مطلقانا جائز ہے۔ اور بجز موت کے کوئی صورت میاں بیوی میں افتراق کی ممکن نہیں۔ اور یہی فرقہ اسلام سے قبل موجود تھا۔ پروٹسٹنٹ فرقہ ظہور اسلام سے صدیوں بعد پیدا ہوا۔ اسکے ہاں البتہ اجازت ہوئی ہے۔ لیکن صرف اس صورت میں کہ پہلے عدالت میں کسی ایک فریق کا ارتکاب زنا یا ظلم وجور ثابت ہولے ! یہ حال ان قوموں کا تھا۔ جو اہل کتاب تھیں، یعنی بہرحال ان کے قانون کی بنیاد آسمانی کتابوں ہی پر تھی، رہیں قدیم جاہلی اور مشرک ” مہذب “ ” ترقی یافتہ “ قومیں۔ سو ایک طرف یونانیوں میں، ہندوؤں میں، اور ایک عہد خاص تک رومیوں میں طلاق سے کوئی واقف ہی نہ تھا، بلکہ ہندو مذہب میں تو آج تک طلاق ناجائز چلی آرہی ہے۔ گوحالات سے مجبور ہو کر اس کے جائز کرانے کے آج بڑے زور انگریزی ہند میں بھی اور ریاستوں میں بھی کاؤنسلوں او اسمبلیوں میں لگائے جارہے ہیں۔ دوسری طرف رومیوں میں عہد جمہوریت کے خاتمہ پر، طلاق کے جائز ہونے کے ساتھ ہی اس کا جوز ور بندھا تو گویا شرافت اور طلاق لازم وملزوم ہوگئے ! دنیا کے دوسرے بڑے بڑے مذہبوں اور بڑی بڑی ” مہذب “ قوموں کی یہ بےاعتدالیاں اور افراتفریاں پیش نظر رہیں۔ ، جب جا کر شریعت اسلام کی حکمتوں اور اس کے پیدا کیے ہوئے توازن و اعتدال کی قدر ہوگی، اسلام نے فطرت بشری کا بالکل صحیح اندازہ کرکے یہ حکم دیا کہ جب زوجین میں ناموافقت لاعلاج حدتک پہنچ جائے (اور اس ناموافقت کے اسباب کا احاطہ واستقصاء ممکن ہی نہیں، ہر شخص کے لیے کہنا چاہیے کہ الگ الگ ایک سبب و محرک ہوتا ہے) اور دوسری صورتیں موافقت پیدا کرنے کی ناکام ہولیں، تو آخری علاج یہ ہے کہ فریقین ہنسی خوشی اور باضاطبہ معاہدۂ نکاح کو فسخ کرکے ایک دوسرے سے مستقل علیحدگی اختیار کرلیں۔ اور اسی کا اصطلاحی نام طلاق ہے اور اس انقطاعی عمل کو بھی مطلق نہیں چھوڑ دیا ہے، بلکہ اس پر متعدد پابندیاں بھی عائد کردی ہیں۔ آگے ذکر انہیں قیود و شرائط کا آئے گا۔ 842 (اس لیے خوب اپنی ذمہ داری محسوس کرکے عمل کا کوئی قدم اٹھاؤ) (آیت) ” سمیع “ وہ تو بڑا سننے والا ہے۔ اس لیے زن وشوہر کے ظاہر قول کو اور شوہروں کی قسموں کو، سب کو سنتا رہتا ہے۔ (آیت) ” علیم “ وہ بڑا جاننے والا ہے، اس لیے زن وشوہر کے دلوں کے اندر کی مخفی باتوں کو جانتا ہے، ان کے ارادوں سے واقف ہے، اور ان کے مناسب حال ہی حکم دیتا ہے۔ آیات کے آخر میں صفات باری کا اثبات محض یوں ہی اٹکل سے نہیں ہوتا۔ ہمیشہ پر معنی اور سیاق کلام کے لحاظ سے بلیغ ہی ہوتا ہے۔ یہاں مقصود زن وشوہر کو، خصوصا شوہروں کو، ان کی ذمہ داریوں پر متنبہ کرنا ہے، اس لیے انہی صفات باری کا لانا موزوں ومناسب ہوا۔
Ayah 2:228

وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:228 in the Quran reader

اور طلاقنیں اپنے کو تین میعادوں تک روکے روکے رہیں۔843 ۔ اور ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحموں میں جو پیدا کر رکھا ہے اسے وہ چھپائے رکھیں،844 ۔ اگر وہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہیں،845 ۔ اور ان کے شوہران کے واپس لے لینے کے اس (مدت) میں زیادہ حقدار ہیں،846 ۔ بشرطیکہ اصلاح حال کا قصد رکھتے ہو،847 ۔ اور عورتوں کا (بھی) حق ہے جیسا کہ عورتوں پر حق ہے،848 ۔ موافق دستور (شرعی) کے،849 ۔ اور مردوں کو ان کے اوپر ایک گونہ فضیلت حاصل،850 ۔ اور اللہ بڑا زبردست ہے، بڑا حکمت والا ہے،851 ۔

843 ۔ (دوسرے نکاح سے) (آیت) ” المطلقت “ لفظی معنی کے اعتبار سے ہر طلاقن عورت کے لیے وسیع ہے۔ لیکن یہاں مراد صرف ان بیویوں سے لی گئی ہے جو آزاد ہوں (کنیزشرعی نہ ہوں) بالغ ہوں (نابالغ نہ ہوں) اور جن سے خلوت صحیحہ ہوچکی ہو (غیر ملموس نہ ہوں) یہاں احکام صرف انہیں آزاد شوہر دیدہ بیویوں سے متعلق بیان ہوں گے، دوسری قسم کی عورتوں کے طلاق کے احکام دوسرے مقامات پر ملیں گے۔ المراد المدخول بھن من ذوات الاقراء (مدارک) اے ذوات الاقراء من الحرائرالمدخول بھن (روح) (آیت) ” یتربصن بانفسھن “ اپنے کو روکے رہیں۔ یہ نہ ہو کہ ادھر شوہر نے طلاق دی، اور ادھر بیوی نے معا دوسرا شوہر کرلیا۔ یہ پہلی پابندی طلاق پر عائد ہوئی۔ اس سے پہلے نکاح سے آزادی کے بعد کا جو تعطل کا زمانہ ہے اسے اصطلاح شریعت میں عدت کہتے ہیں۔ عورت کے لیے انتظار کی اس مدت متعین میں متعدد حکمتیں او مصلحتیں ہیں، ایک طرف تو شوہر کو ٹھنڈے دل سے غور وفکر کا پورا موقع مل جاتا ہے، دوسری طرف عورت کے حمل کی بابت پوری تحقیق ہوجاتی ہے۔ دوسرے مذہب اور دوسری قومیں سب شریعت اسلامی کے قائم کیے ہوئے زمانہ تعطل ووقفہ کے مصالح وفوائد سے محروم ہیں ! (آیت) ” ثلثلۃ قروء “ قرء کے لفظی معنی محض ایک زمانہ معلوم یا مدت متعین کے ہیں۔ اصل القرء فی کلام العرب الوقت (ابن قتیبہ) اھل اللغۃ اتفقوا علی ان القرء الوقت (ابن العربی) لیکن اس سے معیاد کا آغاز بھی مراد ہوسکتا ہے، اور معیاد کا اختتام بھی، دونوں مفہوم ایک دوسرے کے متضاد ہیں، لیکن لغت عرب میں دونوں ہی مستعمل ہیں۔ قال ابوعبیدۃ الاقراء من الاضداد فی کلام العرب (کبیر) واصل القرء فی کلام العرب الوقت لمجیء الشیء المعتاد مجیۂ لوقت معلوم ولادبار الشئی المعتاد ادبارہ لوقت معلوم (ابن جریر) کلمۃ محتملۃ للطھر والحیض (ابن العربی) اسی لیے یہاں بھی اہل شرح و تفسیر کے دو گروہ ہوئے ہیں۔ ایک جماعت نے طہریا پاکی قرار دیئے ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے یہی معنی مروی ہیں۔ اور امام شافعی (رح) اسی طرف گئے ہیں۔ قالت عائشۃ الاقراء الاطھار (جصاص) والمراد بالقرء عن الشافعی الانتقال من الطھر الی الحیض (روح) لیکن دوسری طرف حضرت عمر ؓ ، حضرت علیؓ، حضرت ابن عباس ؓ حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابو موسیٰ ؓ جیسے تیرہ صحابیوں کا قول یہ نقل ہوا ہے کہ یہاں قرء حیض یا ناپاکی کے معنی میں ہے (جصاص) اور یہی قول امام ثوری، امام اوزاعی، امام ابوحنیفہ اور تمام فقہائے حنفیہ کا ہے۔ قال اصحابنا جمیعا الاقرء الحیض وھو قول الثوری والاوزاعی والحسن بن صالح (جصاص) اور ائمہ لغت ولسان سے بھی سند اس معنی کی زیادہ مل رہی ہے۔ یقال اقرءت المرأۃ اذا حاضت ذکرہ الاصمعی والکسائی والقراء (جصاص) قرات المراۃ راف الدم واقرأت صارت ذات قرء (راغب) والقرء فی الحقیقۃ اسم للدخول فی الحیض عن طھر (راغب) ثلاثۃ قروء اے ثلاثۃ احیاض وقول من الطھر وفی الحیض۔ اور فقہاء حنفیہ نے حدیث نبوی سے قرء کے اس معنی پر شہادت بہم پہنچائی ہے۔ ملاحظہ ہو جصاص، جلد اول صفحہ 323 ۔ بہرحال حنفیہ کے ہاں کا متفقہ مسئلہ یہی ہے کہ عورت اپنے تین ایام ماہواری کے آنے تک اپنے کو عدت میں سمجھے۔ اور اس مدت میں نکاح ثانی اپنے لیے جائز نہ سمجھے۔ 844 ۔ اس لیے کہ چھپانے کی یہ کوشش زمانہ عدت کے شمار و حساب میں خلل انداز ہوگی، اور اس طرح شریعت نے جو مصلحتیں اس کے اندر رکھی ہیں وہ ضائع ہو کر رہیں گی) (آیت) ” ماخلق اللہ “ میں ما کا لفظ عام ہے۔ رحم کے اندر جو چیز بھی ہو، جاندار بچہ ہو، یا ایام ماہواری کا خون ہو، دونوں پر شامل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خواہ حمل قائم ہوچکا ہو، خواہ ایام ماہواری کا دور چل رہا ہو، کوئی بھی صورت حاصل ہو، اسے چھپانا نہ چاہیے۔ 845 ۔ دنیا کے ہر علم وفن کا یہی حال ہے کہ وہ جس درجہ مکمل ومنظم ہوگا، اسی قدر اس کا ہر جزودوسرے اجزاء سے مربوط ومرتبط ہوگا، شریعت اسلامی جملہ دنیوی علوم وفنون سے منظم تر ہے، اس لیے قدرۃ اس کے کسی معمولی جزئیہ کی طرف سے بھی بےالتفاتی، دوسرے اجزاء حیات پر لازمی طور پر مؤثر ہوگی، آیت کا یہ جزو بڑھا کر گویا یہ تاکید وتصریح کردی ہے کہ جس کسی کا اللہ کی ہمہ گیر حکومت اور آخرت کی باز پرس کا پورا عقیدہ ہے اس کی یہ شان نہیں کہ ایک جزئیہ کی بھی خلاف ورزی کی دانستہ جسارت کرسکے۔ 846 (اور یہ واپسی بلاتجدید نکاح ہوجائے گی) (آیت) ” فی ذلک “۔ یعنی تین مہینے کی میعاد ومدت کے اندر اے فی ذلک التربص (مدارک) (آیت) ” احق بردھن “۔ اس سے اشارۃ یہی نکلتا ہے کہ جہاں تک ہوسکے اسے پختہ نہ ہونے دے اور میاں بیوی از سر نو آباد ہوجائیں۔ طلاق کو شریعت الہی نے صرف ضرورت کے موقع پر بہ طور علاج اور آخری تدبیر کے جائز رکھا ہے، خواہ مخواہ اس کی ترغیب نہیں دی ہے، اور نہ بلاضرورت اسے پسند فرمایا ہے۔ اور حدیث نبوی میں جو اسے ابغض المباحات سے تعبیر فرمایا ہے، یعنی اللہ کی قانونا جائز ٹھہرائی ہوئی چیزوں میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسند، وہ اسی حقیقت کی ترجمانی ہے۔ تین مہینہ کی مدت غور وفکر کے لیے اور ناگواری وبیزاری کے ہنگامی جذبات کے سرد پڑجانے کے لیے بہت ہوتی ہے۔ اس اثنا میں اگر شوہر بیوی کو واپس لینا چاہے، تو طلاق کو قول یا عمل سے منسوخ کرسکتا ہے، اور اسی کو اصطلاح میں رجعت کہتے ہیں۔ 847 ۔ (اس رجوع ورجعت سے، نہ یہ کہ فسخ طلاق سے مزید اذیت رسانی مقصود ہو۔ اگرچہ رجعت کانفاذ قانونی وظاہری بہر صورت ہوجائے گا) قانونی احکام اور اخلاقی ہدایات دو الگ الگ چیزیں ہیں، قانون ظاہری کا نفاذ اسی دنیا تک ہے۔ مومن کو اپنا معاملہ حق تعالیٰ سے درست رکھنا چاہیے، کہ اجر و ترقی درجات کا مدار اسی پر ہے۔ اسی لیے قانونی احکام کے بیچ بیچ تصحیح نیت واخلاص کی تاکید برابر آتی جاتی ہے۔ 848 ۔ یہ قرآنی بلاغت کا ایجاز ہے کہ اتنا بڑا مضمون اتنے مختصر سے فقرہ میں آگیا۔ اردو میں یہ مضمون یوں ادا ہوگا :۔ جس طرح مردوں کا حق عورتوں پر ہے، اسی طرح عورتوں کا حق بھی مردوں پر ہے۔ گویا دنیا کو یہ بتایا ہے کہ یہ بتایا ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ بس مردوں کے حقوق عورتوں پر اور شوہروں ہی کے حقوق بیویوں پر ہوتے ہیں، نہیں، بلکہ اسی طرح عورتوں کے بھی حقوق مردوں پر اور بیویوں کے حقوق بھی شوہروں کے ذمہ عائد ہوتے ہیں، حقوق نسواں کا یہ نام عرب کے ایک امی کی زبان پر اس وقت لایا جارہا ہے، جب کہ دنیا کی دنیا اس تخیل سے ناواقف تھی اور یہودیت ونصرانیت کی مذہبی دنیا میں تو عورت گویا ہر برائی کا سرچشمہ تھی، اور ذلت و حقارت کا ایک مرقع، یہود کی معتبر ومستند جیوش انسائیکلوپیڈیا میں ہے :۔ معصیت اول چونکہ بیوی ہی کی تحریک پر سرزد ہوئی تھی، اس کو شوہر کا محکوم کرکے رکھا گیا، اور شوہر اس کا حاکم ہے۔ شوہر اس کا مالک وآقا ہے اور وہ اس کی مملوکہ ہے “۔ (جلد 6 صفحہ 8 50) اور مسیحی دنیا متعلق، مسٹر لیکی Ledky فرنگی مسیحی اپنی تاریخ اخلاق یورب History of European Morals میں لکھتے ہیں ” عقیدہ یہ تھا کہ عورت جہنم کا دروازہ ہے اور تمام آفات بشری کا باعث ہے، اسے اپنے کو ذلیل سمجھتے رہنے کے لیے یہی وجہ کافی ہے کہ وہ عورت ہے “۔ (جلد 3 صفحہ 142) یہ حال وقت کے اونچے اونچے مذہبوں کا تھا، شرک وجاہلیت کے پست مذہبوں کا ذکر ہی بےکا رہے، اور خود ملک عرب کا یہ حال تھا کہ عورتیں گویا انسان نہیں، جانور یا جائیداد ہیں، کہ شوہر کے بعد بیویاں بھی ترکہ میں سوتیلے بیٹوں کی ملک و تصرف میں آنے لگی تھیں۔ (آیت) ” مثل الذی۔ یہ مثلیت ومماثلت کس لحاظ سے ہے ؟ کیفیت یا کمیت کے اعتبار سے نہیں، بلکہ نفس وجوب کے لحاظ سے ہے، والمراد بالمماثلۃ الواجب فی کونہ حسنۃ لافی جنس الفعل (کشاف) اے فی الوجوب و استحقاق المطالبۃ علیھا (بیضاوی) یعنی شوہر کہیں اس بھول میں نہ پڑجائیں کہ ان کے صرف حقوق ہی حقوق ہیں اور فرائض کچھ نہیں۔ فرائض ان پر بھی اسی طرح عائد ہوتے ہیں، جس طرح ان کی بیویوں پر۔ اسی طرح بیویاں بھی کہیں اس افراط ” روشن خیالی “ میں نہ مبتلا ہوجائیں کہ خدمت کرنا ہمارا کام نہیں، یہ کام سب مردوں کا ہے، ہمارا کام خدمت لینا ہے۔ 849 ۔ لیکن حقوق باہمی کا آخرمیعار کیا ہے ؟ آیت کا یہ ٹکڑا اسی سوال کا جواب ہے۔ یعنی ان حقوق کے جزئیات وتفصیلات کو شریعت ہی کے اصول وکلیات کے ماتحت ہونا چاہیے، یا پھر عقل سلیم کے ماتحت۔ اے بالوجہ الذی لاینکر فی الشرع و عادات الناس (مدارک) یہ نہیں کہ محض ہوائے نفس سے یا جاہلی مزعومات کے ماتحت کوئی دستور گڑھ لیا جائے، اور ان کا نام ” ضابطہ حقوق نسواں “ رکھ دیا جائے ! 850 ۔ تہذیب جاہلی ہر زمانہ میں عجیب عجیب بےاصل اور تمامتر غلط دعوے کرتی رہتی ہے، اور بعد کو ان دعو وں کی عملی تردید بھی ہوتی رہی ہے، تہذیب جدید کے انہی بےبنیاد مفروضوں میں سے ایک دعوی یہ بھی ہے کہ مردو عورت ہر حیثیت اور ہر اعتبار سے ہم درجہ ہیں، محض دعوی، کتنی ہی کثرت سے دہرایا جائے، دعوی ہی رہے گا، دلیل نہ بن جائے گا، قرآن ابھی ابھی جاہلیت ہی کے ایک مفروضہ کی تردید میں کہہ چکا ہے کہ عورت بےحقی نہیں ہے، وہ بھی مردوں کی طرح اپنے حقوق رکھتی ہے۔ اب وہ جاہلیت کے دوسرے دعوی کی تردید میں بےدھڑک اعلان کررہا ہے کہ دونوں جنسوں میں مساوات مطلق و مساوات کامل نہیں، بلکہ مرد کو عورت پر ترجیح وفضیلت حاصل ہے، (آیت) ” درجۃ “ قرآنی لفظ (آیت) ” درجۃ “ خوب خیال میں رہے، مرد عورت کے مالک نہیں، عورت اس کی کنیز یا باندی نہیں، بلحاظ حقوق دونوں ایک سطح پر ہیں، پھر بھی مرد کو عورت پر ایک گونہ فضیلت وترجیح حاصل ہے، معناہ فضیلۃ فی الحق (معالم) اے زیادۃ فی الحق (کشاف) جدید علوم وطبیات کے ماہرین جنہوں نے مردوزن کی جسمانی ساخت و ترکیب، دماغی وذہنی قوی اور طبعی خصوصیات کے مطالعہ وتحقیق میں عمریں بسر کردی ہیں، ان کی بڑی جماعت آخر اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے متمم ومکمل ہیں، تاہم بہ لحاظ قوت وبہ لحاظ عقل مرد ہی کو فضیلت حاصل ہے۔ اور عورت جن ملکوں میں مردوں کے برابر ثابت ہوئی ہے وہاں اپنی نسائیت کا خون کر کر کے۔ 851 ۔ معاشرت انسانی اور معاملات باہمی کے بہت سے صیغوں کے اہم مسائل اس آیت میں آگئے۔ اس لیے حق تھا کہ آیت کا کا متہ ان ہی صفات باری کے اثبات پر کیا جائے (آیت) ” عزیز “ وہ بڑی قوت والا ہے۔ ہر مانع پر غالب۔ جو احکام وہ چاہے دے دسکتا ہے۔ (آیت) ” حکیم “ لیکن ساتھ ہی وہ بڑا حکمت والا بھی تو ہے، اس لیے وہ وہی احکام دیتا ہے جو بیشمار حکمتوں اور مصلحتوں کے جامع ہوتے ہیں۔ بندوں بیچاروں کی نظریں وہاں تک پہنچ کہاں سکتی ہیں۔
Ayah 2:229

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:229 in the Quran reader

طلاق تو دو ہی بار کی ہے،852 ۔ اس کے بعد (یا تو) رکھ لینا ہے قاعدے کے مطابق یا پھر خوش عنوانی کے ساتھ چھوڑع دینا ہے،853 ۔ اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ جو مال تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لو،854 ۔ ہاں بجز اس صورت کے کہ جب اندیشہ ہو کہ اللہ کے ضابطوں کو دونوں قائم نہ رکھ سکیں گے،855 ۔ سو اگر تم کو یہ اندیشہ ہو کہ تم اللہ کے ضابطوں کو قائم نہ رکھ سکوگے،856 ۔ تو دونوں پر اس (مال) کے باب میں کوئی گناہ نہ ہوگا، جو عورت معاوضہ میں دے دے،857 ۔ یہ (سب) اللہ کے ضابطے ہیں سو ان سے باہر نہ نکلنا، اور جو کوئی اللہ کے ضابطوں سے باہر نکل جائے گا، سو ایسے لوگ تو (اپنے حق میں) ظلم کرنے والے ہیں،858 ۔

852 (جب تک کہ واپسی کی گنجائش باقی ہے) طلاق سے یہاں مراد طلاق رجعی ہے۔ دو بار تک الفاظ طلاق ادا کرنے پر رجوع کرلینے کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ 853 یعنی دو ماہ کے بعد، تیسرے مہینہ، تیسری پاکی کے زمانہ میں، یا زبان سے الفاظ طلاق ادا کرے، یا خاموش رہے، دونوں صورتوں میں طلاق واقع ہوجائے گی، اور اب بغیر کسی دوسرے شوہر سے نکاح کیے اور طلاق پائے، اس پہلے شوہر سے نکاح درست نہ رہے گا، تو ایک صورت یہ ہے کہ آخری گنجائش سے فائدہ اٹھا کر طلاق واپس لے لی جائے، اور تعلق زنا شوئی از سرنوقائم ہوجائے، (آیت) ” فامساک “ یعنی اس کچی طلاق پائی ہوئی بیوی کو رجعت کرکے پھر اپنے پاس رکھ لینا ہے۔ (آیت) ” بمعروف “۔ یعنی قواعد شرعی کے مطابق۔ تفصیلی احکام طلاق کتب فقہ میں ملیں گے۔ (آیت) ” باحسان “ یعنی طلاق سے مقصود رفع نزاع ہو۔ ناخوشگوار صورت حال کا خاتمہ ہو۔ یہ نہ ہو کہ عورت کی دل شکنی، تحقیر وتذلیل مقصود ہو۔ قرآن مومن کے خاندان کی، اس کے گھر بار کی کتنی عزت و حرمت ملحوظ رکھتا ہے ! اس کی بےحرمتی کسی حال میں اسے گوارا نہیں۔ آج مسلمان کو خود اپنی اور اپنے خاندان کی عزت و حرمت کا اتنا خیال بھی ہوتا جتنا ان کے خدا کو ہے، تو آج خانگی فضیحتوں کا کوئی وجود بھی کہیں باقی نہ رہتا ! 854 ۔ (طلاق کے وقت) اکثر انسان جب غصہ میں آکر طلاق دیتا ہے تو یہ بھی کر گزرتا ہے کہ اب تک جو کچھ بیوی کو دیا لیا ہے، اس سے چھین لیتا ہے۔ عرب جاہلیت میں یہ دستور اور زیادہ پھیلا ہوا تھا، یہاں اسی ظالمانہ دستور کی ممانعت ہے۔ اور بتایا ہے کہ مہر وغیرہ جو کچھ انہیں پہلے دے چکے ہو، اب اس کے چھیننے اور واپس لینے کا کوئی محل نہیں، (آیت) ” مااتیتموھن شیئا “۔ عام مفسرین اور فقہاء نے اس سے مراد مہر کی رقم رکھی ہے۔ لیکن فقیہ ابن العربی مالکی نے اسے ہر اس مال تک وسعت دی ہے جو شوہر بیوی کو دے چکا ہو۔ قال قوم یعنی من الصداق وعندی ان من کل شی اعطاھا۔ حسن معاشرت، حسن معیشت، حسن سلوک کی تاکید ہر صورت میں ہے، بیویوں کو رکھو تو بھی خوش اسلوبی کے ساتھ۔ رخصت کرو تو بھی ہنسی خوشی، خوش عنوانی کے ساتھ۔ 855 (ادائے حقوق زوجیت کے باب میں) (آیت) ” یخافا، یقیما “۔ وہ دونوں، یعنی میاں بیوی۔ 856 ۔ یعنی حقوق زوجیت درجہ اقل میں بھی ادا نہ ہوسکیں، اور موافقت کی کوئی صورت ہی نظر نہ آئے۔ (آیت) ” حدود اللہ “۔ یعنی معاشرت زوجی کے فرائض۔ قال طاؤس فیما افترض علی کل واحد منھما فی العشرۃ والصحبۃ (جصاص) 857 یعنی بیوی اگر قید نکاح سے مخلصی پانے اور شوہر سے طلاق حاصل کرنے کے لیے اپنی مہر سے یا اس کے کچھ حصہ سے دستبر دار ہوجانا چاہے، تو یہ بھی ایک جائز صورت علیحدگی کی ہے، اور اس مال کو قبول کرلینا شوہر کے لیے درست ہوگا۔ طلاق کی اس خاص صورت کا نام جس میں طلاق کی خواستگار عورت ہو، اصطلاح شریعت میں خلع ہے اور احکام خلع کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ملے گی۔ مفسر تھانوی (رح) کی بیان القرآن میں بھی کلام مبسوط ملے گا۔ خلع کے جائز صورت طلاق ہونے اور اس کے طلاق بائن کے درجہ پر رکھنے پر حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ جیسے صحابیوں اور حسن اور ابی سلمہ اور قاضی شریح اور ابراہیم اور شعبی اور مکحول جیسے تابعین تک کا اتفاق جصاص نے نقل کیا ہے۔ اور اس کو فقہاء کا متفقہ قول بھی قرار دیا ہے۔ وھو قول فقھاء الامصار لا خلاف بینھم۔ فقہاء کے ہاں ایک بحث یہ بھی چلی ہے۔ کہ خلع آیا صرف اسی اندیشہ کے وقت جائز ہے، جس کا آیت میں ذکر ہے یا یوں بھی عام طور پر ؟ جمہور فقہاء ومجتہدین اسی طرف گئے ہیں کہ خلع ہر صورت میں اور ہر حال میں جائز ہے۔ اما جمھور المجتھدین فقالوا الخلع جائز فی حالۃ الخوف وفی غیر حالۃ الخوف (کبیر) البتہ فقیہ زہری، نخعی اور داؤد ظاہری کا مذہب یہ نقل ہوا ہے کہ خلع کی اجازت صرف اندیشہ اور غصہ کی حالت میں ہے۔ وقال الزھری والنخعی وداؤد لا یباح الخلع الاعند الغضب والخوف (کبیر) 858 ۔ یہ تاکید ہے اس امر کی کہ احکام شرعی میں کسی خفیف جزئیہ کو بھی ناقابل التفات نہ سمجھا جائے، اور شریعت جیسے بےانتہا منظم فن میں ہونا بھی یہی چاہیے تھا۔ مشین جتنی نازک اور اعلی صناعی کا نمونہ ہوگی، اسی قدر اس کا ایک ایک تنہا پرزہ بھی اپنی جگہ پر بےبدل ہوگا۔
Ayah 2:230

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 2:230 in the Quran reader

پھر اگر کوئی اپنی عورت کو طلاق دے ہی دے۔859 ۔ تو وہ عورت اس کے لیے اس کے بعد جائز نہ رہے گی، یہاں تک یہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے،860 ۔ پھر اگر وہ (بھی) اسے طلاق دے دے،861 ۔ تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ پھر مل جائیں،862 ۔ بشرطیکہ دونوں گمان غالب رکھتے ہوں کہ اللہ کے ضابطوں کو قائم رکھیں گے،863 ۔ اور یہ بھی اللہ کے ضابطے ہیں، انہیں وہ کھول کر ان لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے جو علم رکھتے ہیں،864 ۔

859 ۔ یعنی ان پہلی دونوں طلاقوں کے بعد رجعت نہ کرے، اور طلاق پر قائم ہی رہے، تو اب تیسری بار، یا پہلی طلاق سے تین مہینے گزر جانے کے بعد، اب طلاق قطعی طور پر نافذ ہوجائے گی، تین مہینے کی مدت غور وفکر کے لیے اور سعی مصالحت ومفاہمت کے لیے بہت کافی ہوتی ہے۔ 860 (اور وہ شوہر اس سے ہمبستری بھی کرلے) دوسرے شوہر سے یہ نکاح پہلے شوہر سے طلاق قطعی پانے کے تین مہینے بعد یعنی ایام عدت گزارنے کے بعد ہی ہو سکے گا، (آیت) ” تنکح “۔ نکاح۔ یہاں اپنے اصطلاح شرعی معنی میں، یعنی عقد نکاح کے مرادف نہیں، بلکہ اپنے اصلی اور لغوی معنی میں، یعنی ہمبستری کے مرادف ہے۔ محض عقد کا مفہوم تو خود لفظ (آیت) ” زوجا “ سے نکل آتا ہے۔ (آیت) ” تنکح “ سے مقصود ہم بستری کو ظاہر کرنا تھا۔ العقد فھم من زوجا والجماع من تنکح (روح) یحتمل ان تفسیر النکاح بالاصابۃ (بیضاوی) اور امام ابن جریر اس سوال کے جواب میں، کہ ہمبستری کا ذکر صراحت کے ساتھ قرآن میں موجود نہیں تو آخر یہ دلالت کہاں سے پیدا کی گئی ہے۔ لکھتے ہیں کہ معنی کی یہ دلالت ساری امت کے اجماع نے پیدا کی ہے۔ الدلالۃ علی ذلک اجماع الامۃ جمیعا علی ان ذلک معناہ اور امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ قول مختار یہی ہے کہ ہم بستری کی شرط حدیث سے نہیں، قرآن ہی سے ثابت ہے۔ واختلف العلماء فی ان شرط الوطئی بالسنۃ اوبالکتاب قال ابو مسلم الاصفھانی الامر معلومان بالکتاب وھذا ھو المختار (کبیر) اور آگے اسے بہت تفصیل سے لکھا ہے کہ نکاح کا لفظ جب مطلق صورت میں ہے جب تو مراد عقد زوجیت سے ہوگی، لیکن جب اضافت زوجتہ وامراتہ کے ساتھ ہوگی، تو ہمبستری ہی ہوگی۔ اور آخرت نتیجہ یہ نکالا ہے کہ قولہ نکح یدل علی الوطی وقولہ زوجا یدل علی العقد (کبیر) بہرحال جمہور فقہاء وائمہ مجتہدین کا مذہب یہی ہے کہ مطلقہ کے ساتھ پہلے شوہر کا نکاح جب ہی درست ہے جب دوسرا شوہر اس کے ساتھ ہمبستری کرکے اسے طلاق دے دے، اور اس طلاق پر بھی تین ماہ کی بہرحال جمہور فقہاء وائمہ مجتہدین کا مذہب یہی ہے کہ مطلقہ کے ساتھ پہلے شوہر کا نکاح جب ہی درست ہے جب دوسرا شوہر اس کے ساتھ ہمبستری کرکے اسے طلاق دے دے اور اس طلاق پر بھی تین ماہ کی مدت گزر لے۔ مذھب جمھور المجتھدین ان المطلقۃ بالثلاث لا تحل لذلک الزوج الا بخمس شرائط تعقد منہ وتعقد للثانی ویطوء ھا ثم یطلقھا ثم تعقد منہ (کبیر) اختلاف صرف دو تابعین سے منقول ہے۔ ان کے خیال میں مجرد عقد ثانی بھی، بغیر ہمبستری کے، طلاق کے بعد شوہر اول سے یا کسی اور سے عقد کے لیے کافی ہے۔ قال سعید بن جبیر و سعید بن المسیب تحل بمجرد العقد (کبیر) لیکن مذہب جمہور ہی نہایت قوی اور شریعت اسلامی کے عین مزاج کے مطابق ہے۔ شریعت نے طلاق کو پسند یقیناً نہیں کیا ہے۔ اس کے نفاذ میں طرح طرح کی قیدیں لگادی ہیں۔ ترغیب یہ دی ہے کہ خوب سوچ سمجھ کر ہی طلاق دی جائے، لیکن ان سب مرحلوں سے گزر جانے کے بعد جب طلاق نافذ ہی ہوجائے، تو پھر اب رعایت کا کوئی موقع نہیں، شوہر کو اب دوبارہ آسانی سے وہ بیوی واپس نہیں مل سکتی، اب اسے ذرا خون جگر کھا لینا پڑے گا، جب وہ حاصل ہوسکتی ہے۔۔ سزا زنا میں بھی یہی اصل کار فرما ہے۔ ثبوت زنا نہایت ہی قوی بلکہ قطعی ہونا چاہیے۔ ذرا سے بھی شبہ کا فائدہ ملزم ہی کو ملے گا، لیکن جب یہ سب مرحلے طے ہوچکیں تو پھر اب نفاذ سزا میں کسی رعایت کی گنجائش نہیں۔ (آیت) ” من بعد “ یعنی طلاق ثالث کے بعد۔ اے التطلیقۃ الثالثہ (مدارک) اس شرط کے ساتھ نئے شوہر کا کسی مطلقہ کے ساتھ نکاح کرنا کہ بعد صحبت طلاق دے دی جائے گی، تاکہ وہ اپنے شوہر اول کے لیے جائز ہوجائے حلالہ کہلاتا ہے۔ حدیث میں محلل یعنی وہ دوسرا شوہر جو نکاح جیسے اہم سنجیدہ اور مقدس معاہدہ کو پہلے شوہر کی خاطر ایک کھیل اور تفریح کی چیز بنائے دیتا ہے۔ اور محلل لہ یعنی وہ پہلا شوہر جس کی خاطر معاہدہ نکاح کی اہمیت، سنجیدگی و تقدیس خاک میں ملائی جارہی ہے، ان دونوں پر لعنت آئی ہے۔ اور اکثر فقہاء کے ہاں یہ نکاح، نکاح فاسد کے حکم میں آتا ہے۔ حنفیہ کے ہاں ایسا نکاح منعقد ہوجائے گا۔ یعنی اس کا نفاذ قانونی ہوجائے گا، اگرچہ اس سے گناہ عائد ہوگا، 861 (اور اس دوسری طلاق پر بھی تین مہینے کی عدت گزر جائے) ۔ 862 ۔ (بدستور سابق، دوبارہ نکاح کرلے) مطلقہ اپنے شوہر کے لیے ہمیشہ کو حرام اب بھی نہیں ہوجاتی۔ ان درمیانی مرحلوں سے گزرنے کے بعد اب بھی اس کا نکاح اپنے شوہر اول سے ممکن ہے۔ ہر ہر فریق معاملہ کے حقوق کی پوری رعایت کا جو حکیمانہ اہتمام والتزام شریعت اسلامی کے سارے اجزاء میں ہے، اس کا ایک اعلی نمونہ یہ طلاق کے جزئیات احکام ہیں، انسانی ذہن اور بشری دماغ اپنی ساری کوششیں کر تھکے، اتنے دقائق کا احاطہ کر ہی نہیں سکتا۔ 863 ۔ (اور آئندہ خواہ مخواہ کی رنجشیں پیدا کرکے اتلاف حقوق میں نہ مبتلا ہوں گے) (آیت) ” یقیما حدود اللہ۔ حدود اللہ کی اقامت اس سیاق میں یہی ہے کہ حسن معاشرت کی رعایت رکھی جائے، اے یتعاشرا بالمعروف (ابن کثیر) اے یکون بینھما الصلاح وحسن الصحبۃ (معالم) (آیت) ” ان ظنا “۔ یعنی اگر امید و ارادہ بھی رکھتے ہوں، باقی یقین کے ساتھ مستقبل کا حال کون جان سکتا ہے۔ اے رجوا لان احد الا یعلم ماھو کائن الا اللہ عزوجل (معالم) اے متی حصل ھذا الظن حصل لھما العزم علی اقامۃ حدود اللہ حسنت ھذہ المراجعۃ (کبیر) اے ان کان فی ظنھما انھما یقیمان حقوق الزوجیۃ (مدارک) ومن فسرالظن ھھنا بالعلم فقدوھم من طریق اللفظ (کشاف) 864 ۔ اہم فہم و دانش کے لیے۔ ان لوگوں کے لیے جو احکام واوامر الہی کا علم رکھتے ہیں۔ یعنی یعلمون ما امرھم اللہ تعالیٰ بہ (معالم) یرید من لہ عقل وعلم (کبیر) اے یفھمون ما تبین لھم (مدارک) (آیت) ” حدود اللہ۔ یعنی اللہ کے احکام وقوانین۔ اے احکامہ وشرائعہ (ابن کثیر)
Ayah 2:231

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو،865 ۔ اور وہ اپنی مدت گزرنے پر پہنچ جائیں،866 ۔ تو (اب یا تو) انہیں عزت کے ساتھ روکے رکھو اور یا عزت کے ساتھ رہائی دے دو ،867 ۔ اور ان کو تکلیف پہنچانے کی غرض سے نہ روکے رہو،868 ۔ اور جو کوئی ایسا کرے گا وہ اپنی ہی جان پر ظلم کرے گا،869 ۔ اورا للہ کے احکام کو ہنسی (کھیل) نہ سمجھو،870 ۔ اور اللہ کی نعمتیں اپنے اوپر یاد کرو،871 ۔ اور (اس) کتاب و حکمت کو بھی جو اس نے تم پر اتاری ہے کہ اس سے وہ تمہیں نصیحت کرتا رہتا ہے،872 ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جاتے رہو کہ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے،873 ۔

865 ۔ یعنی وہی ایک بار یا دو باردی ہوئی طلاق رجعی، جو ابھی قطعی نہیں ہوئی ہے اور جس سے ابھی رجوع کرلینے کی گنجائش ہے۔ 866 ۔ (لیکن وہ مدت ابھی پوری گزر چکی نہ ہو) یعنی زمانہ عدت اب ختم ہونے ہی پر ہو، لیکن پوری طرح ختم ہوچکا نہ ہو۔ ورنہ بالکل ختم ہوجانے کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ اب کوئی گنجائش ہی رجعت کی نہیں باقی رہی (آیت) ” فبلغن اجلھن۔ المراد مقاربۃ البلوغ والاشراف علیہ لا حقیقتہ (جصاص) المراد مقاربتہ دون انقضاۂ ونظائرہ کثیرۃ فی القران واللغۃ (جصاص) معناہ قارب البلوغ (ابن العربی) (آیت) ” اجلھن “۔ اجل کا اطلاق ساری مدت پر بھی ہوتا ہے اور آخر مدت پر بھی۔ والاجل یقع علی المدۃ کلھا وعلی اخرھا وکذلک الغایۃ والامد (کشاف) ویقع فی البلوغ ایضا فیقال بلغ البلد اذا شارفہ وداناہ (کشاف) جعل لفظ بلغ بمعنی قارب کما یقال اذا بلغت مکۃ فاغتسل (ابن العربی) 867 ۔ یعنی جب وہ سہ ماہی مدت عدت ختم ہونے پر آئے تو شوہر کو اب دو اختیار ہیں۔ یا یہ کہ اپنی اس نیم مطلقہ بیوی کو پھر شرافت وعزت کے ساتھ اپنی زوجیت میں واپس لے لے، اور یا پھر اسے شرافت وعزت کے ساتھ اپنے گھر سے رخصت کردے، اور مستقل علیحدگی اختیار کرلے۔ غرض دونوں صورتوں میں سے جو بھی اختیار کیا جائے، تمامتر شریعت واخلاق کے قانون وآداب کے موافق ہو۔ 868 ۔ گویا عورت کی حق تلفی کی گنجائش، کسی صورت اور کسی حال میں بھی نہیں، زوجیت میں واپسی خانہ آبادی کے لیے ہونا چاہیے نہ کہ خانہ بربادی کے لیے۔ 869 ۔ (اور اپنی زیادیتوں کی سزا دنیا یا آخرت میں بھگتے گا) بیویوں کے حقوق ادا نہ کرنے والے، حقوق زوجیت میں برابر اور شدید کو تاہیاں کرتے رہنے والے خیال کرتے رہیں کہ ایسوں کے حق میں کیسی کیسی وعیدیں وارد ہو رہیں ہیں۔ 870 (کہ جب پر جی چاہا عمل کیا اور جسے چاہا یوں ہی چھوڑ دیا) شریعت اسلامی میں حیات اجتماعی ومعاشری کا سنگ بنیاد خاندانی زندگی ہے اور خاندان کا کلیدی نقطہ میاں بیوی کے صحیح تعلقات ہیں۔ اس لیے ایک معنی میں کہنا چاہیے کہ سارے نظام معاشرت کی بنیاد ہی یہی حقوق زنا شوئی کی ادائی ہے۔ اور جس طرح بعض بظاہر معمولی بےاحتیاطیاں بڑی بڑی سخت بیماریوں کا سبب بن جاتی ہیں، بعض جزئی احکام شریعت سے بےپروائی بڑے بڑے سخت فتنوں کا دروازہ کھول دیتی ہے۔۔ ان دقائق کو سنبھالے رہنا شریعت ہی جیسا حکیمانہ نظام کا کام ہے۔ ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ احکام محض ہزل نہیں، پوری سنجیدگی سے ہر حال میں نافذ ہوجائیں گے، یہ نہیں کہ پہلے تو زبان سے صاف الفاظ میں طلاق دے دی، اور پھر بعد کو یہ کہہ کر ٹال دینا چاہا کہ یہ تو ہنسی میں کہا تھا۔ بعض تابعین اسی طرف گئے ہیں۔ 871 ۔ (اور ان ہی نعمتوں میں سے آئین معاشرت کی یہ مکمل، مفصل جامع تعلیم بھی ہے) 872 (آیت) ” یعظکم بہ۔ اس سے یعنی اس کے ذریعہ وہ تمہیں نصیحت کرتا رہتا ہے۔ بہ میں ضمیر (آیت) ” ما انزل “۔ کی طرف ہے۔ 873 ۔ (اور چھوٹے بڑے ہر حکم کی مصلحتوں سے بھی وہی خبردار ہے) (آیت) ” واتقوا، واعلموا “۔ تقوی الہی اور علم الہی کی کاملیت کا استحضار، یہی دو تو بنیادیں ہیں ہر عمل صالح اور صالحانہ زندگی کی۔
Ayah 2:232

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

اور جب تم طلاق دے چکو اپنی عورتوں کو، اور پھر وہ اپنی مدت کو پہنچ چکیں،874 ۔ تو تم انہیں اس سے مت روکو،875 ۔ کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں، جب کہ وہ آپس میں سب شرافت کے ساتھ راضی ہوں،876 ۔ اس (مضمون) سے نصیحت کی جاتی ہے تم میں سے اس شخص کو جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے،877 ۔ یہی تمہارے حق میں پاکیزہ تر اور صاف تر ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ہو،878 ۔

874 (اور عدت پوری کرکے دوسرے نکاح کی آرزو مندہوں) (آیت) ” اذا طلقتم “ یہاں یہ خطاب صرف شوہروں سے نہیں، عام امت سے ہے۔ خطابا للاولیاء واللازواج ولسائر الناس والعموم یقتضی ذلک (جصاص) بلکہ عین ختم مراد ہے۔ المراد حقیقۃ البلوغ بانقضاء العدۃ (جصاص) البلوغ ھھنا حقیقۃ لامجاز فیھا (ابن العربی) 875 (جیسا کہ عرب میں بہت سے موقعوں پر اولیاء و اقرباء کی طرف سے روکنے کا رواج تھا) 876 ۔ (آیت) ” ازواجھن “ یعنی ان کے تجویز کیے ہوئے شوہر عام اس سے کہ وہ نئے ہوں یا وہی پرانے ہوں جو ایک بار انہیں چھوڑ چکے ہیں، اے الذین یرغبن فیھم ویصلحون لھن (مدارک) ینکحن۔ اس لفظ سے معلوم ہوا کہ عورتیں خود بھی اپنا نکاح کرسکتی ہیں۔ اور یہیں سے حنفیہ نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ نکاح بغیر ولی کے بھی جائز ہے۔ قد دلت ھذہ الایۃ من وجوہ علی جواز النکاح اذا عقدت علی نفسھا بغیر ولی ولااذن ولیھا احدھا اضافۃ العقد الیھا من غیر شرط اذن الولی (جصاص) (آیت) ” تراضوا۔ حنفیہ نے اس لفظ سے استنباط کیا ہے کہ ایجاب و قبول رکن نکاح ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ کبھی بجائے زوجین کے انکے ولی یا وکیل کردیں۔ (آیت) ” بالمعروف “ یہ قید ان احکام میں ہر جگہ لگی ہوئی ہے اور کس کثرت سے اس کا اعادہ ہوچکا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کوئی ادنی سی ادنی بات بھی دین واخلاق کے قانون کے خلاف نہ ہونے پائے ، 877 ان تعلیمات وہدایات کی پوری قدر ان ہی کو ہو جو مومن کامل ہیں۔ 878 ۔ دقیق حکمتوں اور حقیقی مصلحتوں کا علم ہمہ بیں، ہمہ دان، خدائے تعالیٰ کو ہوسکتا ہے، یا علم کے ناقص، عقل کے ناقص گندے بندوں کو ؟ (آیت) ” ازکی لکم واطھر “۔ یعنی مفید حکیمانہ قابل عمل، آسان احکام، ذاتی وملی ہر اعتبار سے۔ شخصی سیرتوں اور اجتماعی مصلحتوں دونوں معاشری، اجتماعی فوائد کا تقاضہ یہی ہے کہ اس کے قانون پر عمل کیا جائے۔ (آیت) ” ذلکم “۔ اے الاتعاظ بہ والعمل بمقتضاہ (روح)
Ayah 2:233

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

اور مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلائیں پورے دو سال،879 ۔ (یہ مدت) اس لیے ہے جو رضاعت کی تکمیل کرنا چاہے880 ۔ اور جس کا بچہ ہے، اس کے ذمہ ہے ان (ماؤں) کا کھانا اور کپڑا موافق دستور کے،881 ۔ کسی شخص کو حکم نہیں دیا جاتا بجز اس کی برداشت کے بہ قدر،882 ۔ نہ کسی ماں کو تکلیف پہنچائی جائے اس کے بچہ کے باعث اور نہ کسی باپ کو تکلیف پہنچائی جائے اس کے بچہ کے باعث،883 ۔ اور اسی طرح (کا انتظام) وارث کے ذمہ بھی ہے،884 ۔ پھر اگر دونوں اپنی باہمی رضامندی اور مشورہ سے دودھ چھڑا دینا چاہیں،885 ۔ تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔ اور اگر تم لوگ اپنے بچوں کو (کسی اور انا کا) دودھ پلوانا چاہو تب بھی تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم (ان کے) حوالے کردو جو کچھ انہیں دینا ہے موافق دستور کے،886 ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو،887 ۔ اور جانے رہو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کا خوب دیکھنے والا ہے،888 ۔

879 رضاعت اصلی حق ماں کا ہے، اور ماں سے بہتر کوئی مرضعہ ہو نہیں سکتی۔ پرانے طبیبوں اور نئے ڈاکٹروں اور ڈاکٹرنیوں سب کو اس پر اتفاق کرنا پڑا ہے۔ یجعل الام احق برضاع الولد ھذہ المدۃ (جصاص) (آیت) ” الوالدت “۔ خواہ ان ماؤں کا نکاح باقی ہو یا طلاق ہوچکی ہو۔ (آیت) ” اولادھن “۔ اس قید نے یہ صاف کردیا کہ مراد مائیں ہی ہیں۔ نانیاں دادیاں مراد نہیں۔ رضاعت کامل کے لیے دو برس کی مدت پر بھی طبیبوں کا اتفاق رائے موجود ہے۔ 880 یعنی جو پورے نصاب کی تکمیل نہ کرنا چاہے اس کے لیے مدت کی بھی اجازت ہے۔ 881 ۔ مرضعہ کی تنخواہ اور کھانے کپڑے کی ذمہ داری بہرحال باپ کے سر ہے۔ اور مرضعہ عام حالات میں ماؤں ہی کو ہونا چاہیے، خواہ وہ مائیں ہنوز قید نکاح میں ہوں یا قید عدت میں۔ (آیت) ” بالمعروف “۔ یعنی عرف شریفانہ کے موافق، جو کسی قاعدۂ شرعی کے خلاف نہ ہو۔ اے بما یحسن فی الدین والمروء ۃ (مدارک) اے بمالا یکون مستنکرا شرعا ومروء ۃ (روح) فقہاء نے لکھا ہے کہ اس کھلانے پہنانے میں مرد کی واجبی حالت کا اعتبار کیا جائے گا۔ اسے نہ خست سے کام لینا چاہیے، نہ اسے اسراف کی حاجت۔ یدل علی ان الواجب من النفقۃ والکسوۃ ھو علی قدر حال الرجال فی اعسارہ ویسارہ (جصاص) 882 ۔ (اور اس کے قوائے ترکیبی کے مناسب حال) چناچہ یہاں بھی رضاعت کا حکم ملا تو ماں کو، کہ یہ چیز عورت ہی کے فرائض میں داخل ہے۔ اور مرضعہ کو کھلانے پہنانے کی ذمہ داری رکھی گئی ہے۔ باپ کے سر، کہ یہ کمانا اور خرچ کرنا مرد ہی کی زندگی سے مناسبت رکھتا ہے۔ جزئیات کے درمیان کلیے لے آنا یہ انشاء قرآنی کے خصوصیات میں سے ہے۔ 883 ۔ (آیت میں تنبیہ ہے باپ اور ماں دونوں کو، باپ کو تو یہ کہ وہ لڑکے کی ماں پر خواہ مخواہ سختی روانہ رکھے اور ماں کو یہ کہ وہ لڑکے کے باپ سے خواہ مخواہ سخت مالی مطالبے نہ کرے ، 884 ۔ (جب باپ زندہ نہ ہو) (آیت) ” الوارث “ وارث سے فقہی اصطلاح میں وہ قرابت دار محرم مراد ہے جو بچہ کا شرعی وارث ہے۔ (آیت) ” مثل ذلک “۔ یعنی جس طرح باپ پر بچہ کی ماں کا حفظ حقوق واجب ہے، اسی طرح باپ کے بعد اپنے قریب ترین عزیزوں پر بھی واجب ہے علیہ مثل ما علی والد الطفل من الانفاق علی والدۃ الطفل والقیام بحقوقھا وعدم الاضرار بھا (ابن کثیر) وبہ قول الجمھور وقد استقصی ذلک ابن جریر فی تفسیرہ (ابن کثیر) باپ کے ہوتے ہوئے بچہ کی پرورش کا خرچ صرف باپ کے ذ مہ ہے۔ اور جب باپ مرجائے تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر بچہ مال کا مالک ہے تب تو اسی مال میں اس کا خرچ ہوگا۔ اور اگر مال کا مالک نہیں تو اس کے مالدار عزیزوں میں جو اس کے محرم ہیں یعنی اس بچہ سے ان کا رشتہ ایسا ہے کہ دونوں میں سے ایک کو مرد اور ایک کو عورت فرض کریں تو باہم نکاح درست نہ ہو، اور محرم ہونے کے علاوہ شرعا اس کے مستحق میراث بھی ہیں، پس ایسے محرم ووارث راشتہ داروں کے ذمہ اس کا خرچ واجب ہوگا اور ان رشتہ داروں میں ماں بھی داخل ہے۔ مثلا ایک ایسے بچہ کی ایک ماں ہے، ایک دادا ہے، تو اس کے خرچ کا ایک ثلث ماں کے ذمہ ہے اور دو ثلث دادا کے ذمہ، کیونکہ دونوں محرم بھی ہیں اور بچہ کی میراث بھی اسی نسبت سے پاسکتے ہیں (تھانوی (رح ) ۔ شیر خوار کے مصارف جو دوسروں پر واجب کیے گئے ہیں، اس کی علت یہی ہے کہ بچہ بذات خود اپنی پرورش کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس اشتراک علت سے فقہاء حنفیہ نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ محتاج عورتوں، اپاہج مردوں اور نابالغوں کے مصارف ان کے اقارب کے ذمہ ہیں۔ اور یہی مسلک حضرت عمر ؓ سے مروی ہے۔ وقد استدل بذلک من ذھب من الحنفیۃ والحنبلیۃ الی وجوب نفقۃ الاقارب بعضھم علی بعض وھو مروی عن عمر بن الخطاب وجمھور السلف (ابن کثیر) ۔ 885 (تکمیل رضاعت سے قبل، یعنی دو برس کی مدت کے اندر ہی) (آیت) ” تراض۔ تشاور “۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ ماں کا جذبہ شفقت اور حق پرورش زیادہ ہوتا ہے، اس لیے اس قسم کے امور کو محض باپ کی رائے پر نہیں چھوڑا گیا، بلکہ ماں کی رائے اور رضا مندی کی بھی شرط لگا دی گئی، مفسر تھانوی (رح) نے کہا ہے کہ باہمی مشورہ کی ضرورت یہ ہے کہ خود بچہ کہ مصلحت پر نظر کرلیں۔ 886 ۔ مقصد یہ ہے کہ بعض دفعہ ماں سے چھڑا کر کسی اور سے رضاعت کرانے کی ضرورت یا مصلحت بھی پیش آجاتی ہے۔ چناچہ جب ایسی صورت پیش آجائے تو کسی انا سے رضاعت کرانے میں کوئی مضائقہ نہیں، یہ بالکل جائز ہے بشرطیکہ اجرت حسب قرار دادا ادا کردی جائے (آیت) ” بالمعروف “۔ یعنی حسب معاہدہ وقرار داد، (آیت) ” بالمعروف “ کا نحوی تعلق ” سلمتم “ سے بھی ہوسکتا ہے اور (آیت) ” اتیتم “ سے بھی۔ 887 ( سارے احکام واوامر کے باب میں) چناچہ یہاں بھی یہ ہے کہ اجرت نہ دوگے تو گنہگار ہوگے۔۔۔ معاملات چھوٹے ہوں یا بڑے، قرآن مجید نے سارے دائرہ زندگی میں قدم قدم پر تقوائے الہی کو شمع راہ رکھا ہے۔ ،888 ۔ انسان کو بدمعاملگی، بددیانتی پر لانے والی چیز صرف یہی ذہول و غفلت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حاضر وناظر ہونے کا، اس کی ہمہ بینی، ہمہ گیری کا استحضار اگر ہر وقت رہے تو کوئی لغزش ہونے ہی نہ پائے۔ قرآن مجید بار بار اسی جذبہ کو بیدار کرتا ہے، اور چاہتا ہے کہ مسلمان اپنی خانگی زندگی کی کسی منزل میں بھی اس طرف سے غافل نہ ہونے پائے۔
Ayah 2:234

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader

اور تم میں سے جو لوگ وفات پاجاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں، وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینہ اور دس دن تک روکے رکھیں۔ ،889 ۔ پھر جب وہ اپنی مدت تک پہنچ جائیں،890 ۔ تو تم پر اس باب میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ عورتیں اپنی ذات کے بارے میں کچھ (کاروائی) کریں کے ساتھ،891 ۔ اور جو تم کچھ بھی کرتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے،892 ۔

889 ۔ (نکاح اور قریبی مقدمات نکاح سے) دنیا کے عمرانی اور معاشری مسائل میں طلاقن کے بعد بیوہ کا مسئلہ بھی کچھ کم اہمیت نہیں رکھتا۔ بیوہ کے ساتھ دنیا کے کسی دوسرے مذہب نے کوئی اعتناپرتاہی نہیں ہے۔ بلکہ بعض مذہبوں نے تو ستی وغیرہ کو جائز کرکے بیوی کو زندہ ہی جلادیا ہے۔ اسلام نے بیوہ کو زندہ رہنے، پوری طرح زندہ رہنے کا، سہاگنوں ہی کی طرح زندہ رہنے کا حق عطا کیا ہے، اور یہ باب بھی، جہاں تک دنیوی برکتوں کا تعلق ہے، اسلام کا ایک روشن ترین باب ہے۔ (آیت) ” تربص “ انتظار کی اس مدت کا اصطلاحی نام عدت ہے۔ طلاقن کی عدت پورے تین ماہ کی تھی، بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن یا کل 130 دن تجویز ہوئی ہے۔ اس زمانہ میں بیوہ کے لیے بناؤ سنگار سب ناجائز ہے۔ بیوہ اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت تاوضع حمل ہے۔ 890 ۔ یعنی عدت بیوگی ختم ہوجائے۔ 891 یعنی جب عدت ختم ہوگئی تو اب نکاح کی تجویز وغیرہ میں کوئی مضائقہ نہیں۔ (آیت) ” فلاح جناح علیکم فیما فعلن “۔ خطاب عام ہے اہل امت کو یعنی تم پر ایسی بات کے جائز رکھنے میں کوئی گناہ یاحرج نہیں۔ ایھا الائمۃ الحکام (جصاص) ھذا خطاب الاولیاء (ابن العربی) قیل الخطاب لجمیع المسلمین (روح) اس طرز خطاب سے فقہاء نے یہ استنباط کیا ہے کہ کوئی شخص خلاف شرع کام کرے تو دوسروں پر واجب ہوتا ہے کہ بشرط قدرت وبہ قدر قدرت اس کو روکیں، ورنہ یہ بھی گناہگارہوں گے۔ (آیت) ” فیما فعلن فی انفسھن “۔ یعنی نکاح اور متعلقات نکاح کی تجویزیں بھی جو شرعا جائز ہوں بالمعروف۔ جو بھی کاروائی ہو قانون شریعت وآئین اخلاق کے باہر نہ ہو، 892 ۔ (چنانچہ کوئی بات خلاف شریعت اگر خود کرو گے یا اسے ہونے دو گے تو اس کے ذمہ دار قرار پاؤ گے) مشرک قوموں نے اپنے خداؤں سے علم کامل اور باخبری کی نفی کی ہے۔ قرآن مجید نے ان صفات کے اثبات میں ایک پہلو رد شرک کا بھی رکھا ہے۔
Ayah 2:235

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:235 in the Quran reader

اور تم پر کوئی گناہ میں نہیں کہ تم ان (زیر عدت) عورتوں کے پیغام نکاح کے باب میں کوئی بات اشارۃ کہو یا (یہ ارادہ) اپنے دلوں ہی میں پوشیدہ رکھ،893 ۔ اللہ کو تم کہ تم ان عورتوں کا ذکر مذکور کروگے،894 ۔ البتہ ان سے کوئی وعدہ خفیہ (بھی) نہ کرو،895 ۔ مگر ہاں کوئی بات عزت و حرمت کے موافق (چاہوتو) کہہ دو ،896 ۔ اور عقد نکاح کا عزم اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ میعاد مقرر اپنے ختم کو نہ پہنچ جائے،897 ۔ اور جانے رہو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ اسے جانتا ہے،898 ۔ سو اس سے ڈرتے رہو اور جانے رہو کہ اللہ بخشنے والا ہے بڑا بردبار ہے،899 ۔

893 ۔ دوران عدت میں اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ کوئی مرد کسی بیوہ سے نکاح کا ارادہ اپنے دل میں قائم کرلے، اور زبان پر نہ لائے یا اگر لائے بھی تو محض اشارۃ کنایۃ۔ صراحت کے ساتھ البتہ اجازت اس زمانہ میں نہیں۔ 894 ۔ (سومحض تذکرہ کی حد تک رہنے کا کوئی مضائقہ نہیں) یہ عین فطرف بشری کا ترجمان ہے۔ 895 ۔ دروان عدت میں عورت سے وعدہ نکاح کرلینا، علانیہ نہ سہی، بہ طور راز کے بھی جائز نہیں۔ اور یہ ٹکڑا اسی حکم کی تاکید کے لیے ہے۔ (آیت) ” سرا “۔ سر کے عم معنی جو راز کے ہیں۔ ظاہر ہیں جمہور مفسرین نے وہی قبول کیے ہیں۔ لیکن ایک مجازی معنی خود نکاح کے بھی ہیں۔ اور ابن سیدہ لغوی، فراء نحوی وغیر ہما نے یہاں اس سے کنایہ نکاح ہی کا سمجھا ہے۔ وکنی عن النکاح بالسر (راغب) ومن المجاز السر للنکاح وقال ابن السیدہ وھو کنایۃ عنہ (تاج) وھو ان یصف احدھم نفسہ للمرأۃ فی عدتھا فی النکاح وبہ فسرالقراء (تاج) اس صورت میں آیت کا ترجمہ ہوگا ” البتہ اس سے وعدہ نکاح نہ کرو “ 896 اور وہ عزت و حرمت کے ساتھ بات کہنا یہی ہے کہ جو کچھ بھی کہنا ہو اشارۃ وکنایۃ ہی کہا جائے نہ کہ صراحۃ۔ 897 ۔ یعنی ختم عدت سے قبل عزم نکاح کرلینا بھی درست نہیں۔ عزم سے مراد قصد مصمم وطعی ہے۔ 898 ۔ سو جو امورنا جائز ہیں ان کے ارتکاب کا عزم بھی اس کے علم میں رہتا ہے۔ 899 (آیت) ” غفور “ (چنانچہ توبہ کے بعد نافرمانوں کو بھی معاف کردیتا ہے) (آیت) ” حلیم “ (چنانچہ بہت دفعہ نافرمانوں کو فورا سزا نہیں دیتا بلکہ مہلت دے دیتا ہے)