2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 2:264

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

اے ایمان والو اپنے صدقوں کو احسان (رکھ کر) اور اذیت (پہنچا کر) باطل نہ کردو،1031 ۔ جس طرح وہ شخص اپنا مال خرچ کرتا ہے لوگوں کے دکھاوے کو، اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا،1032 ۔ سو اسکی مثال تو ایسی ہے کہ جیسے ایک چکنا پتھر ہے جس پر کچھ مٹی ہے، پھر اس پر زور کی بارش ہو سو وہ اس کو بالکل صاف کردے،1033 ۔ (ایسے لوگ) کچھ بھی نہ حاصل کرسکیں گے اپنی کمائی سے،1034 ۔ اور اللہ کافر لوگوں کو راہ ہدایت نہ دکھائے گا،1035 ۔

1031 ۔ (آیت) ” لا تبطلوا صدقتکم “ یعنی ان ممنوع طریقوں سے اضافہ اجروازدیاد ثواب کو مٹانہ دو ۔ فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ جس طرح صدقہ کا ابطال یہاں حرام وممنوع قرار دیا گیا ہے، اسی طرح کوئی سا بھی نیک عمل ہو اسے باطل کر ڈالنا حرام اور ممنوع ہے۔ چناچہ نفل نماز کی نیت باندھ کر اسے توڑ ڈالنے کی حرمت وممانعت اسی قاعدہ کے ماتحت ہے۔ 1032 ۔ (اور یہ شخص صدقہ کے نفس اجروثواب ہی کو ضائع کرکے رہتا ہے) دو صورتیں الگ الگ بیان ہوئی ہیں، دونوں کا فرق ملحوظ رہے، پہلی صورت میں خطاب اہل ایمان سے ہے، نفس صدقہ تو ان لوگوں کا قبول ہوجائے گا لیکن احسان جتلانے یا اذیت پہنچانے سے ترقی درجات واضافہ اجر سب سلب ہوجائے گا۔ دوسری صورت میں ذکر اہل کفر کا ہے۔ یہ جب خدا اور آخرت پر ایمان ہی سے محروم ہیں تو ان کے صدقہ و خیرات سے بہ ظاہر جو کچھ بھی مقصود ہو، سب کا حاصل دنیا ہی ہوگا۔ ایسوں کو اجر کس چیز کا ؟ رضائے الہی کی طلب تو کسی درجہ میں بھی ان کے عمل کا جزء نہیں۔ (آیت) ” رء آء الناس “ انجیل میں بھی اس سے ملتی جلتی ہدایت موجود ہے (متی۔ 6:2) محققین نے لکھا ہے کہ ریاء کی مذمت میں یہ آیت نص صریح ہے۔ 1033 ۔ (اور یہ شخص ویسا ہی کو را رہ جائے جیسا پہلے تھا) تشبیہ کا ماحصل یہ ہے کہ کافر اسی طرح اپنے کو قیامت کے دن ہر خیر و خیرات کے اجر سے محروم پائے گا۔ اس کا انفاق مال حقیقۃ کسی صدقہ و خیرات کے حکم میں آتا ہی نہیں (آیت) ” کمثل صفوان “۔ تشبیہ محرومی اجر کے لحاظ سے دی گئی ہے۔ 1034 ۔ ذکر انہی لوگوں کا ہے جو نعمت ایمان سے محروم ہیں۔ (آیت) ” بما کسبوا “۔ یعنی جسے وہ اپنے خیال وپندار میں اپنی کمائی سمجھ رہے ہیں۔ ورنہ بندہ کی کمائی تو حقیقۃ وہی ہے جس پر عمل صالح کا اطلاق ہوسکے اور عمل صالح کی پہلی اور بنیادی شرط ایمان ہے۔ 1035 ۔ (قیامت کے دن ثواب کے گھر یعنی جنت کا) یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ جو کفر اختیار کیے ہوئے ہیں اور اپنی قوت فیصلہ سے صحیح کام نہیں لے رہے ہیں انہیں زبردستی راہ ہدایت دکھا دینے کا قانون الہی ہے ہی نہیں۔
Ayah 2:265

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال رضائے الہی کی طلب میں خرچ کرتے رہتے ہیں اور اپنے نفس میں پختگی (پیدا کرنے کی غرض سے) ،1036 ۔ ایک باغ کی طرح ہے جو کسی ٹیکرے پر ہو اور اس پر زور کا مینہ پڑا ہو پھر وہ دوگنے پھل لایا ہو،1037 ۔ اور اگر زور کا مینہ نہ بھی پڑے تو ہلکی پھوار (ہی کافی ہے) ،1038 ۔ اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو خوب دیکھنے والا ہے،1039 ۔

1036 ۔ (جیسا کہ ہر مومن مخلص کا شیوہ ہوتا ہے۔ ) (آیت) ” تثبیتا من انفسھم “۔ اتنے ٹکڑے میں نفسیات بشری کی ایک گہری حقیقت بیان ہوئی۔ معصیت کی طرح ہر طاعت کا بھی خاصہ ہے کہ وہ متجانس اعمال کو کھینچتی ہے۔ چناچہ ہر عمل صالح کے بعد نفس میں دوسرے اعمال صالح کے لیے آمادگی و پختگی پیدا ہوجاتی ہے۔ نفس بشری کا خاصہ ہے کہ ہر عمل سے تکرار و عادت کے بعد اس عمل سے متعلق ایک ملکہ راسخہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس سے مزاحمت کی قوت مغلوب و ضعیف ہوتی جاتی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں دلیل ہے کہ عمل صالح سے جس طرح حصول اجر مقصود ہوتا ہے اسی طرح اصلاح نفس بھی مقصود ہوتی ہے۔ یہ معنی تو ظاہرہی ہیں کہ وہ خرچ اس لیے کرتے ہیں کہ کمال ایمان اور ثابت قدمی اور اطمینان حاصل ہو، ایکدوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے دل اللہ کے کرم اور ثواب پر مطمئن ہیں وہ صرف مال کو نہ نقصان سمجھتے ہیں نہ باعث گرانی۔ 1037 ۔ (کہ ہوا کی لطافت و زمین کی صلاحیت اور بارش کی کثرت مل ملا کر قوت بار آوری کو خوب بڑھا دیں گی) (آیت) ” بربوۃ “ ٹیکرے کی ہوا قدرۃ لطیف وبار آور ہوتی ہے۔ 1038 ۔ تمثیل کی زبان میں بیان اس حقیقت کا ہورہا ہے کہ اخلاص اگر درجہ اعلی میں نہ ہو جب بھی محض ایمان، اور عدم موانع (یعنی احسان نہ رکھنا اور ایذا نہ پہنچانا) بجائے خود صدقات و خیرات کو مقبول بنادینے کے لیے کافی ہیں۔ 1039 ۔ (اور اسی لیے ہر ایک کے درجہ اخلاص کا بھی خوب جاننے والا ہے) خطاب یہاں عام نسل انسانی سے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کافر، مومن، مخلص، غیر مخلص سب کے محرکات عملی اور سب کے درجہ اخلاص وعدم اخلاص سے خوف واقف ہے۔
Ayah 2:266

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا ہو جس کے نیچے نہریں پڑی بہہ رہی ہوں (اور) اس کے ہاں اس باغ میں (اور بھی) ہر قسم کے میوے ہوں اور اس کا بڑھاپا آچکا ہو اور اس کے عیال کمزور ہوں، اس (باغ) پر ایک بگولا آئے کہ اس میں آگ ہو تو وہ (باغ) جل جائے اللہ اسی طرح تمہارے لیے کھول کر نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم فکر سے کام لو،1040 ۔

1040 ۔ (اور اپنے انجام کو سوچ کر اس کے مطابق عمل کرتے رہو) (آیت) ’ ’ میں نخیل واعناب “۔ تصریح کے ساتھ نام انہیں میووں کا لیا گیا جو اہل عرب کے لیے خاص اہمیت اور خصوصی معنویت رکھتے تھے ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریری۔ (آیت) ” تحتھا الانھر “۔ یہ ظاہر کرنے کو ہے کہ وہ باغ خوب سرسبز و شاداب بھی تھا۔ (آیت) ” من کل الثمرت “۔ یہ مالک باغ کی مرفہ الحالی اور شان غنا ظاہر کرنے کو ہے۔ (آیت) ”‘ اصابہ الکبر “۔ یعنی وہ مالک باغ اب محنت ومشقت کے قابل نہ رہے۔ تمثیل کے پیرایہ میں بیان اس کا ہے کہ قیامت کا دن آجائے اور اس شخص کی عمل سے معذوری اس پر عیاں ہوجائے (آیت) ” ذریۃ ضعفآء “۔ یعنی اولاد بھی اس قابل نہ ہو کہ تحصیل معاش میں اس کے کچھ کام آسکے، گوایا اس کی معذوری ہر طرح روشن وآشکارا ہوجائے۔ (آیت) ” فاصابھا اعصار “۔ کہ وہی باغ وجہ معاش تھا۔ تمثیل کے پیرایہ میں بیان اس کا ہے کہ اس شخص کا بھروسہ ظاہری طاعات و اعمال صالحہ پر تھا۔ (آیت) ” فاحترقت “ یعنی اس شخص کی ساری امیدیں غارت ہو کر وہ جائیں، تمثیل کی زبان میں مراد یہ ہے کہ ایک شخص اپنے خیال میں نیک کام کررہا ہے اور اپنے نزدیک ساری توقعات اس سے لگائے بیٹھا ہے مگر عین احتیاج کے وقت یعنی قیامت کے دن اسے نظر آئے کہ وہ عمل تو شرائط قبول ومقبولیت ملحوظ نہ رکھنے کے باعث خود ہی نابود ہوچکا ہے۔ اس لیے اجر وثواب کیسا اب تو حرمان محض اس کے نصیب میں آیا ہے۔ (آیت) ” الایت “۔ یہاں مثالوں اور نظیروں کے معنی میں ہے۔ (آیت) ” لکم “۔ یعنی تمہارے نفع کے لیے۔ تمہیں سمجھانے کو۔ ذرا صورت حال کی حسرت ناکی تصور کیجئے۔ ایک شخص کی عمر بھر کی کمائی ایک باغ ہے، سرسبز و شاداب، خوب پھلا پھولا ہوا، ہر طرح کے میووں، پھلوں سے لدا ہوا، باغ کا مالک بوڑھا ہوجاتا ہے، اور اب کسی نئی محنت کے قابل نہیں، بچے موجود ہیں مگر کمزور، کم سن، جو بجائے اس کے کہ کسب معیشت میں باپ کا ہاتھ بٹائیں، الٹے اس کے لیے بار ثابت ہورہے ہیں، عین اس وقت شدید ترین حاجت مندی کے وقت یک بیک معلوم ہوتا ہے کہ باغ میں آگ لگی اور سب کچھ جل کر خاک سیاہ ہوگیا۔ باغ کے مالک کے غم و حسرت کا کوئی اندازہ کرسکتا ہے ؟ اس سے کہیں بڑھ کر ہزار گنا اور لاکھ گنا بڑھ کر حالت اس بدنصیب انسان کی ہوگی جس کی آنکھیں زندگی بھر غفلت سے بند رہیں، اور پہلی بار اس وقت کھلیں گی جب عمل کی مہلت بالکل ختم ہوچکے گی، اور اب وہ دیکھے گا کہ کوئی چیز بھی اس کے دفتر عمل میں ایسی نہیں جو اس کے کام آسکے۔ کچھ ٹھکانا، کوئی اندازہ اس کی حسرت و حرمان نصیبی کا ہوسکتا ہے ؟
Ayah 2:267

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

اے ایمان والو، جو تم نے کمایا ہے اس سے عمدہ چیزیں خرچ کرو،1041 ۔ اور اس میں سے (بھی) جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی ہیں،1042 ۔ اور خراب چیز کا قصد بھی نہ کرو کہ اس میں سے خرچ کرو گے حالانکہ تم خود بھی اس کے لینے والے نہیں ہو بجز اس صورت کے کہ چشم پوشی ہی کرجاؤ،1043 ۔ اور جانے رہو کہ اللہ بےنیاز ہے، ستودہ صفات ہے،1044 ۔

1041 ۔ (اللہ کی راہ میں، نیک کاموں میں) (آیت) ” ماکسبتم “۔ جو کچھ تم نے کمایا ہے جائز، پاک طریقہ سے، طیبات کا اطلاق صرف پاک ہی کمائی پر ہوسکتا ہے۔ فقہاء نے بہ قاعدہ اشارۃ النص (آیت) ” ماکسبتم “۔ ہی سے نکالا ہے کہ زکوٰۃ اس مال میں ہے جو اپنا کمایا ہوا ہو، او جو اضطرارا حاصل ہوجائے، اس میں زکوٰۃ نہیں۔ 1042 ۔ یعنی نباتات، معدنیات وغیرہ۔ (آیت) ’ ’ لکم “ یعنی تمہارے کام کے لیے۔ (آیت) ” من الارض “۔ یہ نکتہ بھی نکالا ہے کہ زکوٰۃ زمینی پیداوار (زراعت، معدنیات وغیرہ) پر واجب ہوئی، برخلاف موتی، مونگے وغیرہ کے کہ وہ زمین سے نہیں سمندر سے نکلتے ہیں۔ 1043 ۔ مطلب یہ ہوا کہ ایسی ناکارہ، ناقص، ردی چیزیں کہ اگر خود تمہیں ملنے لگیں تو تمہیں لینا گوارا نہ ہو، بجز اس صورت کے کہ تم ارادۃ ان کی طرف سے چشم پوشی کرلو، تو اللہ کی راہ میں تو ایسی چیزوں کے صرف کرنے کا تو تمہیں خیال بھی نہ کرنا چاہیے۔ (آیت) ” الخبیث “ ردی۔ ناکارہ چیز۔ (آیت) ” تنفقون “۔ مراد وہی اللہ کی راہ میں نیک کام میں خرچ کرنا ہے۔ (آیت) ’ ’ لستم باخذیہ “ یعنی جب وہ تمہیں قیمۃ ہدیۃ مل رہی ہو۔ 1044 ۔ (آیت) ”۔ غنی “۔ وہ تمہارے صدقات کا محتاج نہیں۔ جو چیز تمہارے معیار سے بھی ناکارہ ہو۔ اس کی نذر اس کے دربار میں پیش کرنا چاہو۔ اس کے ہاں اجر میں کوئی بخل نہیں۔ اس سے معاملہ کرنے والا کبھی نادم و خاسر نہیں ہوسکتا۔ (آیت) ” حمید “ وہ خود ہر طرح ستودہ صفات وجامع کمالات ہے، تمہاری داد ودہش سے اس کی محمودیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا، خود تمہارے لیے شرم کی بات ہے کہ ناقص اور ناکارہ چیزوں کی نذر ایسے جامع کمالات کے حضور میں ! ضمنا یہ پہلو بھی آگیا کہ جب وہ ستودہ صفات ہے تو اس کے ہاں مقبولیت بھی انہی بندوں کو نصیب کو نصیب ہوسکتی ہے جو خود بھی کوئی مناسبت اس کی صفات حسنہ سے رکھتے ہوں، مشرک قوموں نے اپنے دیوتاؤں کو نذر اور چڑھا وے کا محتاج مانا ہے۔ صفت غنی لانے سے اس عقیدہ کی تردید ہوگئی اور دیوتاؤں میں کسی نہ کسی حیثیت سے نقص تو سب ہی مشرک قوموں کے ہاں مسلم ہے صفت حمید نے ان خرافات کی بھی تردید کردی۔
Ayah 2:268

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

شیطان تمہیں محتاجی سے ڈراتا ہے اور حکم دیتا ہے تمہیں بخل کا،1045 ۔ اور اللہ تم سے اپنی طرف سے مغفرت کا اور فضل کا وعدہ کرتا ہے،1046 ۔ اور اللہ بڑا وسعت والا ہے بڑا علم والا ہے،1047 ۔

1045 ۔ (کہ راہ خدا میں خرچ کرڈالو گے تو خود مفلس رہ جاؤ گے) روز مرہ کا تجربہ ہے کہ جو چیز نیکی اور بھلائی کے کاموں میں صرف کرنے سے روکتی ہے۔ وہ یہی خیال ہوتا ہے کہ سب کچھ خرچ کر ڈالنے کے بعد پھر اپنی ضرورتوں کے لیے کیا رہ جائے گا ؟ قرآن مجید نے (آیت) ” الشیطن یعدکم “ کے بلیغ الفاظ سے یہ تعلیم دے دی کہ یہ خیال تمامتر ایک وسوسۂ شیطانی ہے۔ اور یوں اس خیال کے باطل ہونے کا بہترین پیرایہ اختیار کرلیا (آیت) ” الفحشآء “ عربی میں فحش وفحشاء کا اطلاق ہر شدید برائی، ہر بری صفت پر ہوتا ہے۔ ھو کل ما یشتد قبحہ من الذنوب والمعاصی (تاج) وقیل کل خصلۃ قبیحۃ فھی فاحشۃ من الاقوال والافعال (تاج) لیکن بخل پر فاحش کا اطلاق علی الخصوص ہوتا، الفاحش البخیل (قاموس) قیل الفاحش ھو البخیل جدا (تاج) والعرب تسمی البخیل فاحشا والبخل وفحشاء (جصاص) اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ یہاں (آیت) ” الفحشآء “۔ سے مراد ادائے زکوٰۃ وصدقات میں بخل ہے قال المفسرون اے یامرکم بان لاتتصدقوا (تاج) قیل الفحشاء ھھنا البخل فی اداء الزکوۃ۔ (تاج) یعنی باعظم القبح فی البخل (راغب) یغریکم علی البخل ومنع الصدقات (کشاف) المراد بھا فی ھذا الموضع البخل (جصاص) 1046 ۔ (خوش دلی کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر) (آیت) ” مغفرۃ وفضلا “ وعدہ مغفرت کا تعلق آخرت سے ہے اور وعدہ فضل کا دنیا سے۔ ماحصل یہ ہے کہ خدائی احکام پر خدائی قانون کے مطابق چلو گے تو دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح و بہبود یقینی ہے۔ شیطانی راہ بربادی وہلاکت کی ہے۔ اور خدائی راہ فلاح وصلاح کی۔ 1047 ۔ واسع ایسے وصف والے کے ہاں انعام و اکرام کی کیا کمی۔ علیم ایسے علم کامل والے پر نیتوں کا حال رتی رتی روشن ہے۔ اس لیے ثمرہ بھی نیتوں کے مطابق ہی ملے گا۔
Ayah 2:269

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

وہ جسے چاہے حکمت عطا کرتا ہے اور جسے حکمت عطاء ہوگئی اسے یقیناً خیر کثیر عطا ہوگئی،1048 ۔ اور نصیحت تو بس صاحبان فہم ہی قبول کرتے ہیں،1049 ۔

1048 ۔ (آیت) ” واسع “۔ جس کے مقابل دنیا کی کوئی اور نعمت نہیں) ۔ (آیت) ” الحکمۃ “۔ حکمت کی تشریحیں بہت سی کی گئی ہیں۔ لیکن بہترین اور جامع ترین تشریح یہ ہے کہ وہ امور دین میں فہم صحیح کا نام ہے۔ اور اس فہم صحیح میں بخل سے بیزاری اور مصارف میں توازن بھی شامل ہے۔ (آیت) ” من یشآء “۔ یہ حکمت کی تقسیم عطامشیت تکوینی کے ماتحت ومطابق ہوتی رہتی ہے۔ (آیت) ” من یؤتی الحکمۃ “ یہ حکمت و دانائی ہرگز نہیں کہ جو کچھ بھی کمایا جائے سب یہیں اپنے نفس کی لذتوں اور خواہشوں پر اڑا دیا جائے۔ عین دانائی اور حکمت یہ ہے کہ آج سے کل کا ذخیرہ جمع کیا جائے۔ آج تخم ریزی ایسی کی جائے کہ کل پھل ہی پھل ہاتھ لگیں اور ایمان وطاعت کا ایسا بیمہ کرادیا جائین جو آئندہ کی دائمی اور غیر منقطع زندگی میں برابر کام آتا رہے۔ (آیت) ” خیرا کثیرا “۔ نکرہ اظہار عظمت کے لیے ہے یعنی بہت ہی بڑی نعمت۔ 1049 ۔ (آیت) ” اولو الالباب “ یعنی عقل سلیم سے کام لینے والے۔ نصیحت سے مراد راہ حق پر چلنے کی اور راہنما یان دین کی اطاعت کی نصیحت ہے۔ اہل لطائف نے کہا ہے کہ آیت میں شیطانی وسوسہ کا علاج علم (حکمت) کے ذریعہ سے بتایا گیا ہے۔ جس طرح اس سے قبل (آیت) ” تثبیتا من انفسھم “۔ میں عمل سے بتایا جاچکا ہے۔
Ayah 2:270

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو یا جو نذر مانتے ہو یقیناً اللہ (سب کچھ) جانتا ہے اور ناانصافوں کا حامی کوئی بھی نہ ہوگا،1050 ۔

1050 ۔ (یوم جزا میں) (آیت) ماانفقتم “۔ جو کچھ خرچ کرتے ہو، اچھے برے کسی مصرف میں (آیت) ” من نذر “۔ نذر وہ چیز ہے جسے عوامی اردو میں منت ماننا کہتے ہیں۔ فقہ میں اس کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہ کسی مراد کے پورے ہونے پر اپنے اوپر کوئی ایسی چیز لازم کرلینا ہے جو واجب نہ تھی۔ النذر عقد، ترتب علی شیء والتزامہ علی وجہ مخصوص (روح) النذر ما یلتزمہ الانسان بایجابہ علی نفسہ (کبیر) یہ نذر عبادت بدنی کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے مثلا نماز یا روزہ اور عبادت مالی کی صورت میں بھی۔ (آیت) ” یعلمہ “۔ یعنی اس کا علم رکھتا ہے کہ وہ کس نیت سے اور کس کی راہ میں مانی گئی ہے اور اس علم کامل کے مطابق جزاوسزا بھی ہوگی۔ کنایۃ عن مجازاتہ سبحانہ علیہ (روح) لیجازیکم علیہ (بیضاوی) (آیت) ” للظلمین “ یعنی قانون الہی توڑنے والوں کا، اپنے حق میں ناانصافی کرنے والوں کا۔
Ayah 2:271

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم صدقات کو ظاہر کردو جب بھی اچھی بات ہے اور اگر انہیں چھپاؤ اور فقیروں کو دو جب تو یہ تمہارے حق میں اور بہتر ہے،1051 ۔ اور اللہ تم سے تمہارے کچھ گناہ بھی دور کردے گا،1052 ۔ اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔1053 ۔

1051 ۔ نیکی کی طرح صدقات و خیرات کے بھی مخفی ادا کرنے کی حقیقت تو ظاہرہی ہے لیکن زندگی میں ایسے مواقع بھی برابر پیش آتے رہتے ہیں جہاں نیکی کا اعلان و اظہار بھی ضروری ہوجاتا ہے ایک شخص ہے کہ بھوک پیاس سے نڈھال یا بیماری میں مبتلا سڑک پر پڑا تڑپ رہا ہے ہم قریب سے گزر رہے ہیں اور بالکل ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم اسے کھلا کر یا دوا دے کر کہنا چاہیے کہ از سر نوزندہ اٹھا کھڑا کریں لیکن اس اندیشہ سے کہ کہیں ہماری اس خدمت کا شمار ریاء ونمائش میں نہ ہوجائے اس کے پاس سے کتراتے اور خاموش گزرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ تقوی نہیں، عین معصیت اور انتہائی وہم پرستی ہوئی۔ یہاں ضرورت فی الفور مددرسانی کی تھی خواہ اس کے لیے اعلان بہ بانگ دہل ہی کرنا پڑے۔ نہ یہ کہ شبہ ریاء وشائبہ نمائش سے بچنے کے لیے تلاش پہلے گوشہ تنہائی کی شروع ہوجائے، جن مذہبی طبقوں نے نیکی کے اہتمام یا خفاء میں تاکید حد سے زیادہ کی ہے اور خدمت خلق کو مخفی رکھنے کے ساتھ محدود ومقید کریدا ہے، ان کی تعلیم یقیناً ناقص، ناتمام، یکطرفہ ہے اور انہوں نے زندگی میں شب وروز اس قسم کے پیش آنے والے بہ کثرت واقعات کو نظر انداز ہی کردیا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ صحیح مسلک یہ ہے کہ عمل خیر کے اعلان واخفاء میں اختیار ہے اور ساتھ ہی افضیلت اخفاء کی ہے، جب اعلان میں کوئی خاص مصلحت نہ ہو، (آیت) ” ان تبدواوان تخفوا “ یعنی حسب ضرورت ومصلحت دین اعلان واخفاء جو بھی مناسب ہو۔ (آیت) ” تؤتوھا الفقرآ یعنی فقیروں کے حوالے کرو اہتمام اخفاء کے ساتھ۔ ھو۔ یعنی وہی اہتمام اخفاء۔ 1052 ۔ (ان نیکیوں کی برکت سے) قرآن مجید نے ازالہ سیئات کی جہاں اور صورتیں رکھی ہیں وہاں ایک صورت یہ بھی کہ نیکیاں بدیوں کا کفارہ ہوتی رہتی ہیں اور حسنات سیئات کو محو کرتی رہتی ہیں،۔ یہ چیز محض عقیدہ کی نہیں، مشاہدہ و تجربہ کی بھی ہے کہ خلق کی نظر سے چھپا کر طاعت اور نیکیوں کی عادت اگر ڈال لی جائے تو ایک عرصہ کی مشق کے بعد نفس کی اصلاح خود بخود ایک بڑی حد تک ہوجاتی ہے اور جو کچھ خرابیاں پھر بھی باقی رہ جائیں ان سے درگزر کے لیے خدائے رحمن ورحیم کا لطف وکرم کافی ہے جو خوبیوں کو خرابیوں کا اور بھلائیوں کو برائیوں کا عوض بناتا رہتا ہے۔ یہاں پہنچ کرمسیحیوں کے اس بنیادی عقیدہ کو ایک بار پھر یاد کرلیاجائے کہ گنہ گاروں کی نجات اور گناہوں کے دھلنے کی کوئی صورت بجز اس کے نہیں کہ ” خداوند خدا کا اکلوتا بیٹا “ انسان کے قالب میں دنیا میں آئے اور اپنی جان کو صلیب پردے کر سب کی طرف سے کفارہ ادا کرے ، 1053 ۔ (اور اس لیے وہ ثمر بھی اعمال واحوال کے مطابق دے گا) گناہوں سے باز رکھنے میں خدائے علیم وخبیر کے علم کل ونظر محیط کا استحضار اکسیر کا حکم رکھتا ہے اور اس لیے قرآن مجید نے اسے ہر ایسے موقع پر بار بار دہرایا ہے۔
Ayah 2:272

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

A ان کی ہدایت آپ کے ذمہ نہیں،1054 ۔ بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے،1055 ۔ اور تم جو کچھ بھی مال میں سے خرچ کرتے ہو سوا پنے لئے (کرتے ہو) ،1056 ۔ اور تم اللہ ہی کی رضاجوئی کے لیے خرچ کرتے ہو،1057 ۔ اور تم مال میں سے جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو (سب) تم کو پورا پورا لوٹا دیا جائے گا اور تم پر (ذرا بھی) زیادتی نہ کی جائے گی،1058 ۔

1054 ۔ (اے پیغمبر ! ) (آیت) ” ھدھم “ ان کی یعنی کافروں کی۔ 1055 ۔ (اپنی مشیت تکوینی کے ماتحت ومطابق) رسول کا کام صرف تبلیغ ہے، یعنی ہدایت کا پیام دنیا تک پہنچا دینا، باقی کس کو قبول حق کی توفیق ہوتی ہے اور کس کو نہیں۔ اس کا تعلق تمام تر مشیت الہی سے ہے۔ شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ بعض دفعہ کسی کافر مشرک صاحب حاجت کو خیرات دینے سے اس مصلحت سے رک جاتے تھے کہ شاید یہ احتیاج ہی کی بنا پر اسلام قبول کرلیں۔ آیت میں بتادیا گیا ہے کہ اتنے بعید اہتمام کی ضرورت نہیں محض تبلیغ کافی ہے۔ فقہاء امت نے کہا کہ کافر کو خیرات دینا بالکل جائز ہے بشرطیکہ وہ حربی نہ ہو۔ المراد اباحۃ الصدقۃ علیہم وان لم یکونوا علی دین الاسلام وقدروی ذلک عن جماعۃ من السلف (جصاص) حدیث میں جو آیا ہے کہ تیرا کھانا خاص متقی کھایا کریں۔ مراد اس سے طعام دعوت ہے اور آیت میں طعام حاجت، پس تعارض کا شبہ نہ کیا جائے (تھانوی (رح) کافر حربی کو صدقہ وغیرہ جائز نہیں (تھانوی (رح) کافر ذمی یعنی غیر حربی کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں (تھانوی (رح) اور دوسرے صدقات واجب ونفل سب جائز ہیں (تھانوی (رح) آیت میں ذکر ذکوۃ کا نہیں عام صدقات کا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں اس کی تعلیم ہے کہ کسی کے زیادہ درپے نہ ہو اور تدبیر میں بھی بہت زیادہ انہماک نہ رکھے، کفار کو صدقہ نہ دینا تدبیر ہی کی ایک قسم تھی۔ 1056 ۔ یعنی اپنے ہی اجر اخروی کے لیے نہ کہ کسی اور کے لیے۔ فھو لانفسکم لاینتفع بہ غیرکم (کشاف) (آیت) ” ما تنفقوا “ یعنی اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرتے ہو (آیت) ” من خیر “ یعنی اپنے مال میں سے۔ (آیت) ” خیر “ یہاں مال کے مرادف ہے۔ اے من مال (معالم) من مال (کشاف) خیر۔ اصلا شر کے مقابل ہے اور اس کے مفہوم میں ہر وہ چیز داخل ہے جس کو انسان اچھا سمجھتا ہے مثلا عقل واخلاق پر منفعت شے وغیرہ الخیر مایرغب فیہ الکل کالعقل مثلا والعدل والفضل والشیء النافع اور قرآن مجید میں مال کے لیے (آیت) ’ خیر “ کا لفظ متعدد مقامات پر مال کے حسن استعمال کے سلسلہ میں آیا ہے۔ مثلا ان ترک خیرا وانہ لحب الخیر لشدید۔ ماانفقتم من خیر فللوالدین وغیرھا۔ 1057 ۔ (سو یہ مقصد ہر حاجتمند کی حاجت برآری سے پورا ہوجاتا ہے، خواہ اس کے عقائد کچھ بھی ہوں) کان النبی ﷺ لا یتصدق علی المشرکین فنزلت وما تنفقون الا ابتغآء وجہ اللہ فتصدق غلیہم (ابن جریر) مطلب یہ ہوا کہ مقصود جب اپنے لیے نفع اخروی یا حصول اجر ہے تو وہ تو ہر حاجتمند کی امداد سے ہوسکتا ہے صدقہ کو مسلمانوں ہی پر محدود رکھنے کی قید کیوں لگائی جائے۔ (آیت) ” وجہ اللہ “ کے عام طور پر معنی ذات الہی کے کیے گئے ہیں۔ ربما عبر عن الذات بالوجہ (راغب) لیکن دوسرے معنی رضاء الہی کے بھی ہوسکتے ہیں اور بعض محققین اس طرف بھی گئے ہیں۔ عبر بالوجہ عن الرضا کما قال ابتغاء مرضاۃ اللہ وذلک عادۃ العرب (بحر) محض اللہ کے مقابلہ میں ابتغاء وجہ اللہ کہنے میں ایک تو زور زیادہ پیدا ہوگیا۔ دوسرا یہ معنی بھی پیدا ہوگئے کہ کسی درجہ کی شرکت مقصود ومطلوب نہیں۔ صرف اللہ ہی کی رضا مقصود ہے۔ گویا یہ ترکیب، تاکید اور حصر دونوں کی جامع ہے۔ ای ما تفقون بسبب من الاسباب الالھذا لسبب (روح) ای ثوابہ لاغیرہ من اغراض الدنیا (جلالین) آیت میں رد ہے ان جاہل صوفیہ کا جو ثواب اور اجر کے مقصد کو اخلاص کے منافی سمجھتے ہیں۔ قرآن مجید نے تو بارہا ضمنا نہیں صراحۃ ترغیب دی ہے اجر وثواب کے تلاش کرنے کی۔ 1058 ۔ (کہ اجر میں کچھ کسر رہ جائے اور ثواب کا کوئی حصہ کاٹ لیاجائے) (آیت) ” من خیر “ خیر کے مرادف مال ہونے پر حاشیہ ابھی اوپر گزر چکا ہے۔ (آیت) ” یوف الیکم “ سب تم کو پورا پورا لوٹا دیا جائے گا۔ یعنی سارا اجر وثواب آخرت میں۔
Ayah 2:273

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

(اصل) حق ان حاجتمندوں کے لیے جو اللہ کی راہ میں گھر گئے ہیں،1059 ۔ ملک میں کہیں چل پھر نہیں سکتے،1060 ۔ ناواقف انہیں غنی خیال کرتا ہے ان کی احتیاط سوال کے باعث،1061 ۔ تو انہیں ان کی بشرہ ہی سے پہچان لے گا،1062 ۔ وہ لوگ سے لگ لپٹ کر نہیں مانگتے،1063 ۔ اور تم مال میں سے جو کچھ خرچ کرتے ہو اللہ اس کا خوب جاننے والا ہے،1064 ۔

1059 ۔ یعنی صدقات کے اصل مستحق تو وہ حاجتمند ہیں جن کا ذکر اب آرہا ہے۔ مبتداء یہاں محذوف ہے۔ اصل ترکیب یوں ہے۔ ھذہ الصدقات للفقرآء (مدارک) (آیت) ” احصروا فی سبیل اللہ “۔ یعنی دین ہی کے کسی کام میں گھر گئے ہیں اور اب آزادی سے کسب معاش نہیں کرسکتے۔ اصل مراد یہاں مجاہدین ہیں ھم الذین احصرھم الجھاد فمنعھم من التعفف (مدارک) احصار۔ میں بڑی گنجائش ہے یہ گھر جانا خواہ وقت کے لحاظ سے ہو یا جسم کے لحاظ سے سب اس کے تحت میں آجاتا ہے۔ علی ھذا فی سبیل اللہ “ میں بھی بڑی وسعت ہے۔ دین کا کوئی سا کام، کوئی سی ضرورت ہو سب اس میں شامل ہوسکتی ہیں، گواصل مراد جہاد ہے۔ مفسر تھانوی (رح) نے کہا ہے کہ آیت کے مصداق ہمارے ملک میں سب سے زیادہ وہ حضرات ہیں جو علوم دین میں مشغول ہیں کہ علم دین میں جس مشغولی وانہماک کی ضرورت ہے اس کے ساتھ اگر فکر معاش کی مصروفیت کو جمع کرلیا جائے تو علم دین کی خدمت ناتمام رہ جائے گی ، 1060 ۔ (آزادی سے طلب معاش کے لیے) یعنی ان کا وقت خدمت دین میں ایسا گھرا رہتا ہے کہ کسب معاش کے لیے انہیں مہلت نہیں ملتی۔ 1061 ۔ یعنی ان کی غیرت وخود داری گوارا نہیں کرتی کہ وہ لوگوں سے سوال کریں۔ ناواقفوں کو اس سے گمان یہ گزرتا ہے کہ یہ لوگ خوشحال ہیں، محتاج، ومستحق امداد نہیں۔ (تونگری) شریعت میں حاجت اصلی سے مال کے زائد ہونے کو کہتے ہیں۔ الغنی ھو ما یفضل عن مقدار الحاجۃ (جصاص) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ سالکین کو کوئی ایسی خاص وضع نہ بنانا چاہیے جس سے عام اہل دنیا سے ان کا امتیاز ظاہر ہوتا ہو۔ 1062 ۔ (کہ یہ محتاج ومستحق امداد ہیں۔ اے مخاطب) یعنی یہ لوگ زبان سے کچھ بھی نہ کہیں۔ لیکن ان کی طرز وہیئت خود سے دیکھنے کے بعد خود ان کے فقروفاقہ کی غمازی کرے گی، بعض فقہاء نے یہیں سے قرائن سے استناط نتائج کا جواز نکالا ہے۔ 1063 ۔ (شدت احتیاج کے باوجود) اور یہ دلیل ہے ان کے کمال غیرت کی۔ (آیت) ” الحافا “۔ اوپر (آیت) ” من التعفف “۔ کے ضمن میں ابھی آچکا ہے کہ یہ غیور وخود دار لوگ سرے سے سوال ہی نہیں کرتے اور اب یہ ارشاد ہورہا ہے کہ یہ لوگ لگ لپٹ کر نہیں مانگتے۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ اس میں اشارہ ہے کہ الحاف (لگ لپٹ کر مانگنے کی عادت) بری عادت ہے۔ بعض محققین نے معنی مطلقا عدم سوال کے کیے ہیں۔ والمعنی انھم لایسئلون اصلا وھو المروی عن ابن عباس والیہ ذھب الفراء والزجاج و اکثر ارباب المعانی (روح) 1064 ۔ (تمہارے اخلاص کا، اور اسی نسبت سے اجر بھی دے گا) (آیت) ” وما تنفقوا “ یعنی ایسے لوگوں پر خرچ کرتے رہو،
Ayah 2:274

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال رات اور دن (اور) پوشیدہ اور آشکارا خرچ کرتے رہتے ہیں سو ان لوگوں کے لیے ان کے پر ورگار کے پاس اجر ہے نہ ان کے لئے کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے،1065 ۔

1065 ۔ (قیامت کے دن اپنے پروردگار کے پاس پہنچ کر) (آیت) ”۔ بالیل والنھار “۔ یعنی جس وقت اور جس گھڑی بھی ضرورت ومصلحت ہو۔ (آیت) ” سراوعلانیۃ “۔ یعنی پوشیدہ تو حسب عادت اور علانیہ حسب ضرورت ومصلحت۔ (آیت) ” الذین ینفقون “۔ یعنی اللہ کی راہ اور خدمت دین میں۔ انفاق کی ترغیب جہاں جہاں بھی ہے، مطلق انفاق کی نہیں بلکہ مراد ہی انفاق فی سبیل اللہ یعنی خدمت دین میں خرچ ہے۔
Ayah 2:275

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

جو لوگ سود کھاتے رہتے ہیں،1066 ۔ وہ لوگ نہ کھڑے ہوسکیں گے سو اس کے کہ جیسے وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے جنون سے خبطی بنادیا ہو،1067 ۔ یہ سزا اس لئے ہوگی کہ وہ کہتے ہیں،1068 ۔ کہ بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہے،1069 ۔ حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے،1070 ۔ پھر جس کسی کو نصیحت اس کے پروردگار کی طرف سے پہنچ گئی اور وہ باز آگیا تو جو کچھ پہلے ہوچکا وہ اس کا ہوچکا،1071 ۔ اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالہ رہا،1072 ۔ اور جو کوئی پھر عود کرے تو یہی لوگ دوزخ والے ہیں، اس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے،1073 ۔

ف۔ 1066 ۔ (اسے جائز قرار دے کر) یاکلون الربوا سے مراد اردو محاورہ میں سود لینا ہے۔ عربی اور فارسی محاورہ میں سود کھانا آتا ہے۔ اور اردو میں بھی سود کھانا نامانوس نہیں۔ (آیت) ” الربوا “۔ ربو کے لغوی معنی ہر زیادتی اور اضافہ کے ہیں خصوصا سرمایہ میں اضافہ کے۔ ربا ای زاد وعلا (راغب) الربا الزیادۃ فی راس المال (راغب) اصطلاح شریعت میں ربوا کہتے ہیں اصل قرضہ پر زیادتی کو یا بلامعاوضہ مال، مال پر زیادتی کو، خواہ یہ بڑی ہو یا چھوٹی۔ خص فی الشرع بالزیادۃ علی وجہ دون وجہ (راغب) ھو فضل مال خال عن العوض فی معاوضۃ مال بمال (مدارک) اہل عرب اس لفظ کو اس زائد رقم کے لیے استعمال کرتے تھے جو قرض خواہ اپنے قرض دار سے مہلت کے معاوضہ میں وصول کرتا تھا۔ اردو میں اسی کا ترجمہ سود ہے اور سود کا مفہوم ہر شخص سمجھتا ہے۔ 1067 ۔ اصل منظر تو یہ قیامت کے دن کا ہے کہ آخرت میں اپنی قبروں سے اٹھنے پر یہ سود خوار سیدھے کھڑے تک نہ ہوسکیں گے کھڑے ہوں گے بھی تو متوالوں، خبطیوں، دیوانوں کی طرح کرتے پڑتے لڑکھڑاتے ہوئے۔ لیکن اس کا ایک ہلکا سا رنگ اسی دنیا میں نظر آجاتا ہے۔ مہاجن، ساہوکار جو روپیہ کے پیچھے دیوانہ باؤلا رہتا ہے واقعی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے جن یا بھوت چمٹ گیا ہے اور اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، سوتے جاگتے اس پر سود یا بیاج ہی سوار رہتا ہے۔ اور جس کی حرص وطمع کی پیاس دنیا میں اتنی بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ لازم ہے کہ اس کا حشر بھی اس مخبوط، جنون زدہ حالت کے ساتھ ہو۔ اہل کشف اور محققین کا بیان ہے کہ حشر میں انسان اسی صورت کے ساتھ اٹھے گا، جس قسم کی سیرت اور خصلتیں دنیا میں اس پر غالب رہی ہوں گی۔ قال العارف الرومی۔ ع : سیرتے کو بر نہادت غالب است ہم برآں تصویر حشرت واجب است۔ (آیت) ” من المس “۔ مس اور مس شیطانی سے مراد محاورہ میں جنون ہوتی ہے۔ کنی بالمس عن الجنون (راغب) المس الجنون (کشاف) ان الفاظ کے آجانے سے یہ الازم نہیں آتا کہ قرآن مجید خود ہی اس عقیدہ کی تعلیم دے رہا ہے کہ جنون مس شیطانی ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ بلکہ قرآن بعض اوقات ایسے موقع پر صرف مخاطبین کے معتقدات کو دہرا دیتا ہے۔ اور چونکہ اہل عرب کا عقیدہ یہی تھا اس لیے ہوسکتا ہے کہ قرآن انہی کی فہم کی مناسبت اور مذاق کی رعایت سے یہ فقرہ لے آیا ہو۔ قیل اضیف الی الشیطان علی زعمات العرب ان الشیطان یخبط الانسان فیصرعہ فورا علی ماکانوا یعتقدون (بحر) الناس یصیفون الصرع الی الشیطان والی الجن فخوطبوا علی ماتعارفوہ من ھذاومن عادۃ الناس انھم اذا ارادوا تقبیح شیء ان یضیفوہ الی الشیطان (کبیر) ۔ 1068 ۔ (حکم حرمت ربو کے جواب میں بہ طور استدلال کے) مراد سود خواروں اور جواز سود کے قائلوں کی جماعت ہے۔ یہ عہد جاہلیت کے ” روشن خیال “ تھے۔ 1069 ۔ (حصول نفع واضافۂ دولت کے لحاظ سے) آج کل کے ” روشن خیالوں “ کی طرح اس عہد کے سفیہوں کا بھی کہنا یہ تھا کہ مالی نفع آخر تجارت میں بھی تو ہوتا ہے، پھر جب تجارت حرام نہیں کی تو سود کیوں حرام ہو ؟ ان نافہموں نے اسے بالکل نظر انداز کردیا تھا کہ دونوں کی ایک سطح نہ اخلاقی حیثیت سے ہے نہ معاشی حیثیت سے۔ سود کی تو ایک متعین رقم بےکھٹکے ہر حال میں مہاجن کو ملتی رہتی ہے برخلاف اس کے تجارت میں نفع ونقصان دونوں کے احتمالات ہر وقت لگے رہتے ہیں اور تاجر کو نقصان سے بچنے کے لیے وقت، محنت ذہانت سب کچھ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ پھر تجارتی معاملت تو ہر وقت ختم ہوجاتی ہے۔ برخلاف اس کے مدت اور مہلت کے ساتھ ساتھ سود خوار کے مطالبات کی میزان بھی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اکثر اوقات قرضدار کی نوبت بالکل تباہ حالی اور بربادی کو پہنچ جاتی ہے۔ امام رازی (رح) نے تفسیر کبیر میں حرمت سود کے جو عقلی دلائل لکھے ہیں وہ طرز اداوتعبیر کی تھوڑی سی تبدیلیوں کے بعد آج بھی پوری طرح پڑھنے کے قابل ہیں۔ امام رازی (رح) نے نمبر اول پر یہ بالکل صحیح لکھا ہے کہ سود کی رقم آخر کس چیز کا معاوضہ ہوتی ہے ؟ بجز مفت خوری کی بدترین شکل کے اور یہ ہے کیا ؟ 1070 ۔ (اور معلوم ہے کہ اللہ وہ ہے جو شرائع و احکام کا مالک ہے اور حکیم بھی ہے اور حاکم بھی) جب حکیم مطلق نے ایک معاملت کو جائز اور دوسری کو حرام ٹھہرادیا ہے تو اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ جائز کے اندر بیشمار منافع ومصالح اور حرام کے اندر بیشمار مفاسد ونقصانات ہیں اور بالفرض کسی کی سمجھ میں یہ مفاسد نہ بھی آئیں۔ جب بھی حاکم مطلق کا حکم واجب العمل تو بہر حال ہے۔ اسلام کے جو احسانات ساری دنیا پر اور بہت روشن ونمایاں حیثیت سے ہیں ان میں سے ایک حرمت سود بھی ہے۔ اس کے مفاسد روشن سب پر ہوچکے تھے، اس سے عاجز سب ہی چکے تھے لیکن قطعی اور کلی صورت میں حرام اسے دنیا کے ضابطوں اور شریعتوں میں صرف اسلام ہی نے قرار دیا۔ سود خوار کے دل میں شقاوت و سنگدلی اور حرص مال اور بلامشقت مال ہاتھ آجانے سے نفس میں دناءت اور زرپرستی اور ساہوکاروں کا بخل اور باہمی حسد و رقابت اور قرضدار بیچارہ کی بےحرمتی وتذلیل یہ واقعات ومشاہدات کہنا چاہیے کہ پیش پا افتادہ تھے۔ لیکن اس کی قطعی بندش کا خیال کسی انسانی دماغ کو نہ آیا۔ اصلاح حال کی جو کوششیں زیادہ سے زیادہ ہوئیں وہ بس شرح سود کی تحدید تک رہیں۔ یونان میں سولن، انگلستان میں بیکن اور یورپ میں آبائے کلیسا کے جوش اصلاح وافادۂ خلق کی کائنات کل اسی قدر ہے۔ یہ فخر قیامت تک کے لیے عرب کے امی ﷺ کے ساتھ مخصوص ہوگیا کہ اس انسانیت کش رسم کی حرمت کی منادی اس کی زبان سے کرائی گئی اور (آیت) ” حرم الربوا “۔ کا زلزلہ افگن نعرہ اس کے دہن سے بلند کرایا گیا۔ 1071 ۔ (اور وہ اس کھائے ہوئے نوالہ کے اگلنے پر مجبور نہیں) (آیت) ’ موعظۃ من ربہ “۔ یعنی یہی حرمت سود کا حکم (آیت) ” فانتھی “ یعنی وہ باز آگیا سود لینے اور اسے جائز ٹھہرانے سے۔ (آیت) ” فلہ ماسلف “ یعنی حکم حرمت سے قبل جو کچھ لے چکا، سو لے چکا۔ توبہ کے بعد اس کے لیے گنجائش ہے کہ اس مال کو اپنے پاس رہنے دے۔ پچھلی رقموں کی واپسی پر شریعت اسلام کسی کو مجبور نہیں کرتی۔ 1072 ۔ (جو دلوں کے اسرار وخفایا کا عالم ہے) مقصود یہ ہے کہ یہاں بیان بندوں کے سامنے معاملہ کے صرف ظاہری اور قانونی پہلوؤں کا ہورہا ہے۔ باقی قلب کے تقوی و طہارت اور نفس کی اصلاح کا معاملہ اللہ پر چھوڑنا چاہیے۔ (آیت) ” امرہ “ میں ضمیر باز رہنے والے (من انتھی) کی طرف ہے۔ الظاہر ان الضمیر فی امرہ عائد الی النتھی (بحر) ۔ 1073 ۔ یعنی جو کوئی اس تبلیغ کے بعد بھی عقیدۂ جواز سود پر قائم رہے، یا سودی معاملت کرتا رہے۔ (آیت) ” اولئک اصحب النار۔ یہ سزا ہے سودی معاملت کرنے والوں کی۔ معاملت سود گناہ کبیرہ ہے اور کبیرہ کی سزا جہنم ہے۔ (آیت) ” ھم فیھاخلدون “۔ یہ سزا ہے جواز سود کے قائلوں کی۔ جواز سود کا عقیدہ کفر ہے اور کفر کی سزاخلود جہنم ہے۔ معتزلہ نے آیت کے اتنے جزء سے مومن اہل معاصی کی عدم مغفرت پر استدلال کرنا چاہا ہے۔ لیکن تفسیر کا جو پہلو یہاں اختیار کیا گیا اس پر یہ شبہ پیدا ہی نہیں ہوتا۔ امام رازی (رح) نے بھی تفسیر کبیر میں اس مقام پر خوب تقریر کی ہے۔
Ayah 2:276

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے،1074 ۔ اور اللہ کسی کفر کرنے والے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا،1075 ۔

1074 ۔ آخرت میں تو اس وعدہ وعید دونوں کا مشاہدہ پوری طرح ہو کر ہی رہے گا کہ سود میں برکت وخیریت برائے نام بھی نظر نہ آئے گی۔ اور صدقات کا اجر بےحساب ملے گا۔ لیکن دنیا میں بھی اس کا ظہور کسی نہ کسی حد تک ہوتا ہی رہتا ہے۔ سود خوار قوموں کا انجام بارہا آپس کی خونریزی اور تباہی و بربادی ہی پر ہوا ہے اور افراد میں بھی مشاہدہ ہے کہ سود خواری کی عادت بینوں، مہاجنوں کے دل میں روپیہ کو فی نفسہ محبوب بنا دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سود خوار زرودولت سے دنیوی لطف بھی نہیں اٹھا پاتا۔ اس کے مقابل صدقہ کی برکتیں، ملی غمخواری وہمدردی، ایک دوسرے کی مشارکت ومعاونت قوم اور افراد دونوں میں مشاہدہ کی چیزیں ہیں۔ بینکوں کے آئے دن ٹوٹنے، مہاجنوں اور بینوں کے دیوالہ نکلتے رہنے اور پھر اس سے ہزاروں گھروں کی تباہی و بربادی کس نے نہیں دیکھی ہے ؟ معاشرہ کی اس ابتری کا راز بھی سود کاروبار کی ترویج ہے۔ 1075 ۔ اس کے اندر دونوں قسم کے نافرمان آگئے، وہ جو دود کا کاروبار کرتے ہیں اور وہ جو اپنے عمل کے ساتھ ساتھ، حرمت سود کے عقیدۃ بھی منکر ہیں۔ (آیت) ” کفار “ کافر کا صیغہ مبالغہ ہے، ناشکرے اور کفران نعمت کرنے والے کے مفہوم میں کفور کا مرادف اور اس سے بلیغ تر۔ یہاں مراد وہی لوگ ہیں جو جواز سود کے قائل ہیں۔ ای عظیم الکفر باستحلال الربوا (مدارک) مصر علی تحلیل المحرمات (بیضاوی) الکفور المبالغ فی کفران النعمۃ والکفار ابلغ من الکفور (راغب) (آیت) ” اثیم “ بڑے گنہگار، یعنی سود خواری جیسی شدید معصیت میں مبتلا۔ متماد فی الاثم باکلہ (مدارک) منھمک فی ارتکابہ (بیضاوی) (آیت) ” کفار “۔ کے لفظی معنی بڑے ناشکرے کے ہیں۔ جس شخص پر اللہ اپنا اتنا فضل کرے کہ اسے اس کی اپنی ضروریات سے زیادہ مال دے او وہ اس مال کو بندوں کی آزار رسانی پر صرف کرے تو اس سے بڑھ کر سوء استعمال کی مثال اللہ کے فضل کی اور کیا ہوگی اور ایسے بدبخت سے بڑھ کر ناشکرا اور کون قرار پائے گا ؟
Ayah 2:277

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:277 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور نماز کی پابندی کی اور زکوٰۃ دی ان کے لیے ان کا اجر ان کے پروردگار کے پاس ہے نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے،1076 ۔

1076 ۔ (قیامت میں) خیر آخرت میں تو ایسے نیک کردار، متقی، خاشع، خادم خلق انسانوں کی خوشی انجامی تو ظاہر ہی ہے۔ لیکن دنیا میں بھی جو سکون قلب یکسوئی، طمانیت خاطر اور قناعت کی مسرتیں ایسے لوگوں کو حاصل رہتی ہیں ان کا اندازہ وہ بدنصیب کر ہی نہیں سکتا۔ جو چوبیس گھنٹہ آنہ، پائی کی میزان لگاتا رہتا ہے۔ جو مخلوق کی ایذا رسانی کا خوگر ہو کر پیسہ پیسہ گنتا رہتا ہے اور جس پر ہر گھڑی بہی کھاتہ سنبھالے رہنے کا بھوت سوار رہتا ہے۔
Ayah 2:278

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اے چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو،1077 ۔

1077 ۔ (کہ ایمان کا متقضی سارے ہی احکام قرآن پر عمل کرنا ہے) محققین نے اس سے استدلال کیا ہے کہ شریعت کے کسی ایک جزء سے بھی انکار کرنا ساری شریعت سے انکار کرنا، فیہ دلیل علی ان من کفر بشریعۃ واحدۃ من شرائع الاسلام کان کافرا کما لو کفر بجمیع شرائعہ (کبیر) اتقوا اللہ۔ خوف خدا ہی اصل ہے تمام نیکیوں کی اور اجتناب معاصی کی۔ (آیت) ’ وذرو امابقی “ یعنی حرمت سود کے نزول حکم سے قبل جو رقم سود کی تم ٹھہرا چکے ہو اس کا وصول کرلینا اب جائز نہیں اسے چھوڑ دو ۔
Ayah 2:279

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

لیکن تم نے ایسا نہ کیا تو خبردار ہوجاؤ جنگ کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے،1078 ۔ اور اگر تم توبہ کرلو گے تو تمہارے اصل اموال تمہارے ہی ہیں،1079 ۔ نہ تم (کسی پر) ظلم کروگے نہ تم پر (کسی کا) ظلم ہوگا،1080 ۔

1078 ۔ یعنی تم پر باغیوں اور مرتدوں کی طرح جہاد کیا جائے گا۔ کما یحارب الفءۃ الباغیۃ (کبیر) کحرب المرتد وکحرب البغاۃ (روح) اعلام بانھم ان لم یفعلوا ما امروا بہ فھم محاربون للہ ورسولہ (جصاص) اتنی شدید تہدید قرآن مجید میں کسی دوسری معصیت کے لیے نہیں آئی ہے۔ العظمۃ للہ حرمت سود کا کس درجہ اہتمام ہے اور اس باب میں کس درجہ شدید احکام ہیں۔ کچھ حد سے اس ڈھٹائی اور جسارت کی کہ اپنے کو مسلمان کہلا کر رسالہ ” جواز سود “ پر شائع کیے جائیں اور اپنی تحریر وتقریر سے لوگوں کو سودی کاروبار کی ترغیب دلائی جائے۔ حضرت عمر ؓ جیسے جلیل القدر صحابی رسول اللہ ﷺ سے یہ جو قول منقول ہے کہ سود کو بھی چھوڑ دو اور اس کے مشابہ چیزوں کو بھی۔ وہ اسی قرآنی تہدید کا قدرتی نتیجہ ہے۔ جب جسمانی بیماریوں کا یہ حال ہے کہ کسی مرض کو طبیب اگر سخت مرض سے مشابہ پاتا ہے تو احتیاط علاج اس سخت تر مرض کا شروع کردیتا ہے تو جو مسلمان تقوی کا ادنی درجہ بھی رکھتے ہیں، ان پر بھی یہی لازم ہے کہ نہ صرف کھلے ہوئے سود سے بچیں بلکہ ایسی مالی وکاروباری صورتوں سے بھی احتیاط بچتے رہیں جن کا سودی ہونا مشتبہ ہے۔ (آیت) ” ان لم تفعلوا “۔ یعنی اگر اس حکم حرمت سود پر عمل نہ کروگے۔ 1079 ۔ یعنی حکومت اسلامی تمہارا اصل سرمایہ تمہیں واپس دلا دے گی، اگر توبہ نہ کرو گے تو راس المال بھی بہ حکومت اسلام ضبط ہوجائے گا۔ (آیت) ” ان تبتم “ یعنی اگر سود خواری کی معصیت سے توبہ کرلو گے۔ 1080 ۔ (آیت) ” لاتظلمون “ ظالم بننے کی صورت تو یہ ہے کہ کوئی رقم قرض دی اور وصول کرتے وقت اصل سے زائد وصول کرلی۔ بطلب للزیادۃ علی راس المال (کبیر) (آیت) ” لاتظلمون “۔ مظلوم بننے کی صورت یہ ہے کہ جتنی رقم قرض لی تھی اب ادا کرنا اس سے زائد کا پڑرہا ہے۔ ای بنقصان رأس المال (کبیر)
Ayah 2:280

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اور اگر تنگدست ہے تو اس کے لیے آسودہ حالی تک مہلت ہے،1081 ۔ اور اگر معاف کردو تو تمہارے حق میں (اور) بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو،1082 ۔

1081 ۔ یعنی مدیون یا قرضدار اگر وقت تنگدست ہے تو اسے اسی وقت تک کے لیے مہلت دے دی جائے، جب تک وہ ادا کرنے کے قابل ہوجائے۔ 1082 ۔ (کہ اس احسان وحسن سلوک پر کتنا اجر عظیم موعود ہے) (آیت) ” ان تصدقوا “ یعنی نادار مدیون کو اپنا مطالبہ بالکل معاف ہی کر دو ۔ عقائد اسلامی کی طرح قوانین اسلامی کی بھی پوری قدر اس وقت ہوتی ہے جب ان کے مقالبہ میں اپنے کو مہذب اور ترقی یافتہ کہلانے والی قوموں کے قوانین رکھے جائیں۔ خود اس قرضہ کے معاملہ میں دوسری قوموں کے قانون قرض داروں کے حق میں سرتاسر ظالمانہ ہیں۔ رومی قانون (مرعوب کن Roman Law میں مدیون کو قتل تک کیا جاسکتا تھا اور رومی تاریخ میں داینوں کی ظلم و زیادتی سے بارہا نوبت شدید بلووں تک آگئی ہے۔ ایک اور نکتہ۔ اسلامی معاشیات کی بنیاد مادیات سے کہیں بڑھ کر انسانیت وروحانیت وتقوی الہی پر رکھی ہے۔ اور یہ خصوصیت اسے دنیا کے قدیم وجدید سارے معاشی نظاموں سے ممتاز کیے ہوئے ہے۔
Ayah 2:281

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرتے رہو جس میں تم (سب) اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے،1083 ۔ پھر ہر شخص کو اس کا معاوضہ پورا پورا ملے گا، اور ان پر ظلم (ذرا بھی) نہ ہوگا،1084 ۔

1083 ۔ (اپنے اپنے اعمال کی پیشی کے لیے) خطاب یہاں ایمان سے ہے۔ 1084 ۔ (کہ کسی کا نیک عمل بلامعاوضہ رہ جائے یا کسی کے نامہ عمل میں کوئی بدی خواہ مخواہ لکھ دی جائے) (آیت) ” توفی۔ ماکسبت “۔ یعنی اعمال کا پورا پورا معاوضہ دیا جائے گا۔
Ayah 2:282

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

اے ایمان والو جب ادھار کا معاملہ کسی مدت معین تک کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو،1085 ۔ اور لازم ہے کہ تمہارے درمیان لکھنے والا ٹھیک ٹھیک لکھے اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اللہ نے اس کو سکھادیا ہے،1086 ۔ پس چاہیے کہ وہ لکھ دے اور چاہیے کہ وہ شخص لکھوائے جس کے ذمہ حق واجب ہے،1087 ۔ اور چاہیے کہ وہ اپنے پروردگار اللہ سے ڈرتا رہے اور اس میں سے کچھ بھی کم نہ کرے،1088 ۔ پھر اگر وہ جس کے ذمہ حق واجب ہے عقل کا کوتاہ ہو یا یہ کہ کمزور ہو،1089 ۔ اور اس قابل نہ ہو کہ وہ خود لکھوا سکے،1090 ۔ تو لازم ہے کہ اس کا کارکن ٹھیک ٹھیک لکھوا دے،1091 ۔ اور اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ کرلیا کرو،1092 ۔ پھر اگر دونوں مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں ان گواہوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو،1093 ۔ تاکہ ان دوعورتوں میں سے ایک دوسری کو یاد دلا دے اگر کوئی ایک ان دو میں سے بھول جائے،1094 ۔ اور گواہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں،1095 ۔ اور اس (معاملت) کو خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی اس کی میعاد تک لکھنے سے اکتا نہ جاؤ یہ کتابت اللہ کے نزدیک زیادہ سے زیادہ قرین عدل ہے اور شہادت کو درست تر رکھنے والی ہے اور زیادہ سزاوار اس کی کہ تم شبہ میں نہ پڑو،1096 ۔ بجز اس کے کہ کوئی سودا دست بدست ہو جسے تم باہم لیتے ہی رہتے ہو سو تم پر اس میں کوئی الزام نہیں کہ تم اسے نہ لکھو،1097 ۔ اور جب خرید وفروخت کرتے ہو (تب بھی) گواہ کرلیا کرو،1098 ۔ اور کسی کاتب اور گواہ کو نقصان نہ دیا جائے،1099 ۔ اور اگر (ایسا) کرو گے تو یہ تمہارے حق میں ایک گناہ (شمار) ہوگا،1100 ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو،1101 ۔ اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے،1102 ۔ اور اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے،1103 ۔

1085 ۔ (اور اس صاف صاف لکھا پڑھی کو نہ دلیل بےاعتمادی کی سمجھو اور نہ اس میں شرماؤ) (آیت) ” دین۔ دین کا لفظ بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ عربی میں یہ (عین) کے مقابلہ میں ہے اور اس کا اطلاق ہر اس معاملت پر ہوتا ہے، جس کے معاوضہ کا ایک جزء فی الفور نہ ہو۔ ھو عبارۃ عن کل معاملۃ کان احد العوضین فیھا نقدا والا خر فی ذمۃ النسیءۃ کان العین عند العرب ما کان حاضرا والدین ماکان غائبا (ابن عربی) (آیت) ” تداینتم بدین “۔ دین یا ادھار معاملت کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ چیز ابھی خریدی اور قیمت کے لیے طے پا گیا کہ اتنی مدت کے بعد دیں گے۔ دوسری یہ کہ قیمت اسی وقت دے دیں اور چیز کے لیے یہ طے پا گیا کہ اتنی مدت کے بعد لیں گے، شرعا دونوں صورتیں جائز ہیں تفصیلات فقہ کی کتابوں میں ملیں گی، (آیت) ” الی اجل مسمی “ فقہاء مفسرین نے اس سے یہ اشارہ سمجھا ہے کہ قرضہ کے معاملات میں مدت بالکل صاف اور متعین ہونا چاہیے۔ گول اور مجمل نہ رہے۔ ” جاڑوں کے زمانہ میں “ ” برسات کے موسم میں “ ” ربیع کی فصل میں “ ان مبہم مدتوں کی بجائے تعیین وصراحت ہونا چاہیے کہ فلاں سنہ کے فلاں مہینہ کی فلاں تاریخ۔ فقیہ ابن عربی مالکی نے ایک اس آیت کے ذیل میں 52 مسئلہ لکھے ہیں اور لکھا ہے کہ یہ آیت مسائل بیع میں اہم ترین آیت ہے۔ ھی اصل فی مسائل البیوع وکثیر من الفروع عامی صوفیہ اور جاہل مشائخ نے جو یہ سمجھ رکھا ہے کہ معاملت ومعاشرت کی اصلاح ودرستی سلوک وطریقت کے منافی ہے وہ غور کریں کہ قرآن کو اس باب میں کتنا اہتمام بلکہ جزئیات تک کا انضباط مدنظر ہے ! 1086 ۔ باہمی لین دین اور قانونی معاملات کے سلسلہ میں ادنی ادنی جزئیات تک کے لیے شریعت کا یہ اہتمام اللہ اللہ عالمگیر ہدایت و رہنمائی کا حق اگر کسی کتاب کو پہنچتا ہے تو بیشک وہ یہی کتاب ہوسکتی ہے۔ کہاں ایک طرف یہ مکمل نظام زندگی اور مفصل ضابطہ حیات اور کہاں اس کے مقابلہ میں انجیل جس کے صفحات قانون ومعاملت کی چھوٹی چھوٹی ہدایات تک سے خالی ہیں ! (آیت) ” بالعدل “ یعنی کسی فریق سے متاثر ہوئے، کسی کی رورعایت کیے ہوئے بغیر لکھے۔ فقہاء نے یہاں سے یہ بھی نکالا ہے کہ کاتب کو متدین اور شرائط تحریر کا عالم ہونا چاہیے اور فریقین پر لازم ہے کہ ایسے ہی کاتب کی تلاش کریں۔ فیہ دلیل ان یکون الکاتب فقیھا عالما بالشروط وھو للمتداینین بتخییر الکاتب (مدارک) (آیت) ” ولا یاب کاتب “۔ فقہا نے کہا ہے کہ کاتب کو اپنی محنت کی اجرت لینا جائز ہے۔ 1087 ۔ دستاویز کا ماحصل کسی حق کا اپنی طرف اقرار کرنا ہے۔ یہ قدرۃ اسی کو کرنا چاہیے جس کے ذمہ کوئی حق واجب الاداہو۔ (آیت) ” ولیملل “ یعنی دستاویز کو لکھانا۔ 1088 ۔ یعنی جو حق جس طرح اور جتنا اس پر واجب ہے اس میں سے کاتب دستاویز کو بتلائے اور لکھاتے وقت کچھ بھی کتربیونت نہ کرے، (آیت) ” والیتق اللہ ربہ “۔ خوف خدا تو مسلمان کے لیے جزء زندگی اور اس کی زندگی بھر رہنا چاہیے۔ دستاویز لکھاتے وقت اس کی تاکید ویاد دہانی کی حکمتیں اور مصلحتیں بالکل واضح ہیں۔ 1089 ۔ اور یہ ابھی اوپر گزر چکا ہے کہ دستاویز لکھانے والا وہی ہونا چاہیے۔ سفیۃ۔ یہ مراد نہیں کہ پاگل ہو بلکہ صرف ضعیف العقل مراد ہے۔ ضعیف الراے ناقص العقل من البالغین (کبیر) ضعیف۔ یہاں ایک جامع لفظ ہے۔ نابالغ اور پیر فرتوت سب اس کے اندر آجاتے ہیں۔ الصغیر والمجنون والشیخ الخرف وھم الذین فقدوا العقل بالکلیۃ (کبیر) 1090 ۔ (کسی ج اور عذر یا مانع سے) مثلا یہ کہ گونگا ہو، یا پردیسی ہو، ملک کی زبان سے ناواقف،۔ 1091 ۔ (ایسی ہر صورت میں اس کی طرف سے ٹھیک ٹھیک) (آیت) ” ولی “۔ سے مراد ولی شرعی ہے یا وکیل یا مختار۔ (یا پردیسی کے لیے) ترجمان۔ تفصیلات فقہ کی کتابوں میں ملیں گی۔ مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی صورت جب ایسی پیش آجائے کہ صاحب معاملہ کا اقرار اور بیان معتبر نہ رہ جائے تو اعتبار اس کے کارکن کے بیان واقرار کا کیا جائے۔ 1092 ۔ (جو عاقل ہوں، بالغ ہوں، آزاد ہوں، دیندار ہوں) ای من رجال المومنین والحریۃ البلوغ مشروط مع الاسلام (مدارک) (آیت) ” من رجالکم “ کی قید نے صاف بتا دیا کہ گواہوں کو مسلمان ہونا چاہیے، یہودی قانون میں بھی گواہ کا اسرائیلی ہونا ضروری ہے۔ کافروں کے معاملات میں مقبول ہوسکتی ہے۔ وشھادۃ الکفار بعضھم علی بعض مقبولۃ عندنا (مدارک) (آیت) ” واشتشھدوا “ گواہوں کی یہ گواہی تحریر ودستاویز کے علاوہ ہونا چاہیے۔ فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ اصل مدار ثبوت انہی گواہوں کی گواہی ہوگی۔ 1093 ۔ (یعنی جو تمہارے نزدیک ثقہ وقابل اعتبار ہوں) (آیت) ” فان لم یکونا رجلین “۔ یعنی دو مرد گواہی کے لیے میسر نہ آئیں۔ (آیت) ” رجل وامراتن “ یہودی قانون میں گواہی صرف مردوں کی معتبر ہے اور عورت کی شہادت سرے سے قابل تسلیم نہیں۔ اسلام نے اسے یہ حق دیا ہے لیکن ساتھ ہی اپنے علم کامل اور تحقیق مطلق کی بنا پر عورت کی گواہی کا مرتبہ مرد کے مقابلہ پر نصف مانا ہے۔ (آیت) ” ممن ترضون “۔ دیانت، ضمیر، سیرت، کردار کا ایک خاص معیار اسلام نے زندگی کے چھوٹے بڑے ہر شعبہ اور معاشرت کے بعید سے بعید گوشہ میں بھی قائم رکھا ہے۔ چناچہ یہاں یہ قید لا کر صاف بتا دیا کہ شہادت بھی ایک خاص اعزاز ومنصب ہے ہر کس وناکس اس کا اہل نہیں۔ اس کے اہل وہی ہیں جن کی سیرت وکردار پر ہر اسلامی معاشرہ کو اطمینان ہو اور جن کی دیانت کم از کم عام طور پر مشتبہ نہ ہو۔ 1094 ۔ (اور اس طرح شہادت مکمل ہوجائے) (آیت) ” ان تضل “ بھول جائے شہادت کے کسی حصہ کو۔ واقعہ کے کسی جزء کو، رہا یہ امر کہ عورت کی شہادت مرد کے مقابلہ میں ضعیف کیوں مانی گئی ہے۔ اور نسیان کا احتمال مرد کی شہادت میں کیوں نہیں رکھا گیا ؟ تو یہ سوالات ذہن واخلاق کی دنیا میں بالکل ایسے ہی ہیں جیسے جسم ومادیات کی دنیا میں دریافت یہ کیا جائے کہ حمل ورضاعت کا تعلق صرف عورت ہی سے کیوں رکھا گیا اور مرد کو باوجود اس کے قوت وجسامت کے اس بار کے برداشت کے کیوں ناقابل سمجھ لیا گیا ؟ یہ فاطر کائنات ظاہر ہے کہ جسمیات ومادیات کے ایک ایک دانہ سے واقف ہے۔ اس کے پیش نظر ذہنیات واخلاقیات کی بھی باریک سی باریک حقیقتیں ہیں۔ مغرب کے ماہر نسائیات ہیولاک ایلز Hoolock Ellis نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ عورت کے لیے دھوکہ اور فریب بہ منزلہ امر طبعی کے ہوتا ہے (ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی) 1095 ۔ (کہ اس میں اعانت ہے معاملات امت کی اور خدمت ہے دین کی) (آیت 9” ولا یاب الشھدآء “۔ یعنی گواہ بننے اور گواہی دینے سے انکار نہ کریں۔ 1096 ۔ (یعنی وہی کتابت معاملہ دین سے متعلق) (آیت) ” عند اللہ “۔ یعنی اللہ کے قانون وضابطہ میں۔ ای فی حکمہ سبحانہ (روح) (آیت) ” لا تسئموا “۔ بار بار لکھنے لکھانے سے نفس میں ایک قسم کی کاہلی پیدا ہوجانا تقریبا طبعی ہے۔ (آیت) ” تکتبوہ “۔ میں ضمیر اسی معاملہ دین سے متعلق ہے۔ نافہموں نے آج کل شور برپا کر رکھا ہے کہ اب زمانہ اس کا نہیں کہ مذہب خصوصا اسلام کو عقائد معاد سے پرکھا جائے اب تو دیکھنا یہ ہے کہ اس دنیا کے لیے سب سے زیادہ عملی مذہب کون ہے ؟ روزانہ مسائل زندگی کے حل کرنے میں کون مذہب سب سے زیادہ زور دے رہا ہے ؟ یہ معیار بجائے خود کس حد تک صحیح ہے ؟ یہ تو ایک الگ سوال ہے۔ لیکن بہرحال جو لوگ اسی معیار کو مانے ہوئے ہیں کم از کم وہ تو خلوئے ذہن کے ساتھ غور کریں کہ ساری شریعتوں میں اسلام سے بڑھ کر کس شریعت نے روزانہ زندگی کے چھوٹے بڑے تمام مسائل کے حل کرنے کا اہتمام رکھا ہے ! 1097 ۔ یہ اس لیے کہ دستگرداں معاملتیں کثرت سے برابر واقع ہوتی رہتی ہیں اور عموما مقداریں بھی ان کی خفیف ہوتی ہیں اور عموما ان میں احتمال نزاع واختلاف کا بھی کم ہی ہوتا ہے۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ ایسے موقعوں پر کتابت دستاویز کے التزام سے ہرج لازم آتا تھا اس لیے شریعت نے التزام کو یہاں سے اٹھا دیا۔ لیکن اگر کوئی معاملت ایسی ہو کہ شکل کے اعتبار سے ہو تو دست بدست لیکن مالیت بڑی ہو یا آئندہ اختلاف ونزاع کے احتمالات موجود ہوں۔ یا اور کسی اعتبار سے حالات وہاں وہ نہ ہوں جو عموما تجارت حاضرہ یا معاملہ دستگرداں میں ہوا کرتے ہیں۔ تو ایسے موقعہ پر ترک کتابت کی علت مفقود ہوگی اور اہتمام کتابت مطلوب ہوگا۔ 1098 ۔ یعنی ایسے موقع پر گواہی کرالینا بہتر ہوگی (آیت) ” واشھدوا “۔ صیغہ امر یہاں وجوب کے لیے نہیں صرف استحسان کے لیے ہے۔ والامر للندب (مدارک) والاوامر التی فی ھذہ الایۃ للاستحباب عند اکثر الائمۃ (بیضاوی) ۔ 1099 ۔ یعنی فریق اپنی مصلحت کی خاطر کاتب یا گواہ کو زحمت میں نہ ڈالے ادھر کاتب اور گواہوں کو حکم مل چکا ہے کہ کتابت اور گواہی سے پہلوتہی نہ کریں اب فریقین کو حکم مل رہا ہے کہ وہ بھی کاتب اور گواہوں کی مصلحت و آسائش کا خیال رکھیں۔ (آیت) ” ولا یضآر کاتب “ کاتب کو نقصان پہنچانا مثلا یہ کہ اسے بلااجرت کتابت پر مجبور کیا جائے۔ (آیت) ” ولا شھید “۔ گواہ کو تکلیف میں ڈالنا۔ مثلا یہ کہ باوجود احتیاج اسے آمد ورفت کا خرچ بھی نہ دیا جائے۔ 1100 ۔ (کہ جس کام سے منع کیا گیا وہی کررہے ہو) (آیت) ” فانہ فسوق “۔ کی تصریح کرکے حکم کی اہمیت کو کس درجہ بڑھا دیا ہے۔ 1101 ۔ (چھوٹے بڑے سارے معاملات اور کاروائیوں میں) سبحان اللہ ! تقوی الہی کی تاکید کن کن موقعوں پر کیا ہے۔ 1102 ۔ (تمام ترحکمت کی باتیں) بعض اہل علم نے (آیت) ” یعلمکم اللہ “ کو فقرۂ سابق (آیت) ” واتقوا اللہ “ سے بالکل مربوط پاکر استنباط یہ کیا ہے کہ علم حقیقی عین نتیجہ ہوتا ہے تقوی الہی کا۔ تقوی اختیار کرو اور از خود علم الہی مرحمت ہونے لگے گا۔ 1103 ۔ چناچہ اپنے اس علم کے مطابق معاملت بھی مطیع وعاصی سے کرے گا۔
Ayah 2:283

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم سفر میں ہو اور کوئی کاتب نہ پاؤ،1104 ۔ سو رہن رکھنے کی چزیں ہی جو قبضہ میں دے دی جائیں،1105 ۔ اور تم میں سے کوئی کسی اور پر اعتبار رکھتا ہے،1106 ۔ تو جس کا اعتبار کیا گیا ہے اسے چاہیے کہ دوسرے کی امانت (کا حق) ادا کردے اور چاہیے کہ اللہ (یعنی) اپنے پروردگار سے ڈرتا رہے،1107 ۔ اور گواہی کو مت چھپاؤ اور جو کوئی اسے چھپائے گا اس کا قلب گنہگارہو گا،1108 ۔ اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اس کا بڑا جاننے والا ہے،1109 ۔

1104 ۔ (کتابت ودستاویز کے لیے، در آنحالیکہ معاملہ رہن کی ضرورت آپڑے) رہن کے سلسلہ میں سفر کا ذکر شاید اس لیے کردیا گیا ہو کہ سفر کی حالت میں ضرورت رہن کے پیش آجانے کا احتمال زیادہ ہے۔ 1105 ۔ (صاحب حق کے۔ مدیون کی طرف سے) (آیت) ” رھن “۔ ایسی حالت میں اطمینان کا ذریعہ یہی ہوتی ہیں۔ فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ رہن بالقبضہ تو صرف قرض دینے والے کے اطمینان کے لیے ہے۔ اسے یہ حق نہیں کہ وہ شے مرہون سے فائدہ بھی اٹھاتا رہے۔ 1106 ۔ (اور اس لیے رہن کی ضرورت نہیں سمجھتا) 1107 ۔ معاملات کے سلسلہ میں یہ تقوی الہی کی تاکید ایک بار پھر ملاحظہ ہو (آیت) ” الذی اؤتمن امانتہ “۔ یعنی مدیون۔ (آیت) ” فلیؤد “۔ ادا کرے پورا پورا۔ 1108 ۔ (اور اصل شئی قلب ہی کی گنہگاری ہے) (آیت) ” اثم قلبہ “۔ سب سے بڑا گناہ تو قلب ہی کا گناہ ہے چناچہ کفر جو سارے کبائر سے بڑھ کر کبیرہ ہے۔ قلب ہی کا گناہ ہے اس لیے اس اسلوب بیان نے خود یہ ظاہر کردیا کہ کتمان شہادت شدید ترین گناہ ہے۔ لان افعال القلوب اعظم من افعال سائر الجوارح الاتری ان اصل الحسنات والسیات الایمان والکفر وھما من افعال القلوب واذا جعل کتمان الشھادۃ من اثام القلوب فقد شھدلہ بانہ من معاظم الذنوب (مدارک) (آیت) ” ولا تکتموا الشھادۃ “۔ اور گواہی کو مت چھپاؤ۔ ادائے شہادت کے وقت۔ یہ ادائے شہادت کا حکم عام ہے تمام معاملات قانونی کے لیے۔ مثلا نکاح، مہر، وصیت وغیرہ۔ صرف معاملہ رہن کے ساتھ مخصوص نہیں۔ اور شہادت چھپانے کی ساری صورتیں اس ممانعت کے اندر آجاتی ہیں۔ مثلا ادائے شہادت سے گریز کرنا یا شہادت میں واقعات صحیح نہ بیان کرنا۔ وقس علی ھذا۔ (آیت) ” ومن یکتمھا “۔ اور یہ کتمان خواہ جزئی ہو یا کلی، ادائے شہادت چونکہ واجب ہے۔ فقہاء نے اس پر اجرت لینا ناجائز قرار دیا ہے البتہ آمد ورفت اور خوراک پر جو کچھ صرف ہو اس کا بہ قدر وصول کرنا جائز ہے۔ 1109 ۔ (اور اپنے اسی علم کامل کے مطابق جزا وسزا دے گا) (آیت) ” بماتعملون “۔ مثلا ایک عمل اخفاء شہادت کا ہے جو معصیت ہے۔ اور دوسرا عمل ادائے شہادت کا ہے۔ جو طاعت ہے۔