2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 2:102

وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ١ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ١ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ١ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ١ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:102 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) پیچھے لگ لئے،352 ۔ اس (علم) کے جو سلیمان کی بادشاہت میں شیطان پڑھا کرتے تھے،353 ۔ اور سلیمان (علیہ السلام) نے (تو کبھی) کفر نہیں کیا،354 ۔ البتہ شیطان (ہی) کفر کیا کرتے تھے،355 ۔ لوگوں کو سحر کی تعلیم دیتے، 356 ۔ اور (وہ پیچھے لگ لیے) ف، ، 357 ۔ اس (علم) کے بھی جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت وماروت پر اتارا گیا تھا،358 ۔ اور وہ دونوں کسی کو بھی (اس فن کی باتیں) نہیں بتاتے تھے،359 ۔ جب تک یہ نہ کہہ دیتے،360 ۔ کہ تم تو بس ایک (ذریعہ) امتحان ہیں،361 ۔ سو تم (کہیں) کفر نہ اختیار کرلینا،362 ۔ مگر (لوگ) ان دونوں سے وہ (سحر) سیکھ ہی لیتے،363 ۔ جس سے وہ جدائی ڈال دیتے درمیان مرد اور اس کی زوجہ کے،364 ۔ حالانکہ وہ (فی الواقع) کسی کو بھی اس کے ذریعہ سے نقصان نہ پہنچا سکتے مگر ہاں ارادہ الہی سے،365 ۔ اور یہ وہ چیز سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچا سکتی ہے اور انہیں نفع نہیں پہنچا سکتی،366 ۔ اور (یہ بھی) یہ خوب جانتے ہیں،367 کہ جس نے اسے اختیار کرلیا اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں،368 ۔ اور بہت ہی بری وہ چیز ہے جس کے عوض میں انہوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈالا ہے۔ 369 ۔ کاش وہ (اتنا ہی) جانتے،370 ۔

352 ۔ ذکر اسرائیلیوں کا چل رہا ہے۔ اور وہی یہاں مراد ہیں، خصوصا یہود عرب۔ 353 ۔ یعنی بجائے اس کے کہ وحی الہی کا اتباع کرتے اور رسول برحق کی تصدیق کرتے، یہ یہود تو ایک اور ہی علم کے پیچھے لگ گئے اور وہ علم بھی کس کا ؟ شیطان کا۔ قرآن مجید وقت کی اہم ترین قوم یہود کے پترے تو کھول ہی رہا ہے۔ اب اس نے ان کی فرد جرم میں ایک اس عنوان کا بھی اضافہ کیا کہ یہ لوگ وحی الہی کی اتباع کے بجائے ایک دوسرے ہی سفلی علم میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور اس ضمن میں قرآن مجید بعض اور اہم تاریخی اور دینی حقیقتوں کو زبردست روشنی میں لے آیا ہے۔ اس علم سے مراد فن سحر ہے۔ فنون سحر وکہانت میں یہود کی مہارت تاریخ میں مسلم چلی آرہی ہے۔ ان کے اکابر ومشاہیر اس کا برابر اعتراف کرتے آئے ہیں بلکہ اکثر فخر کے ساتھ۔ قرآن مجید نے اکثر تاریخی حقائق کی طرح ان کی تفصیلات میں گئے بغیر، یہاں بھی صرف اشارہ کردینا کافی سمجھا ہے۔ یہود کا یہ شوق ان کی قدیم تاریخ سے قطع نظر رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھی قائم تھا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کا یہودی النسل و یہود خصلت پروفیسر مارگولیس آنجہانی، جس کی اسلام دشمنی ضرب المثل کی حد تک پہنچی ہوئی ہے، اپنی انگریزی سیرت رسول میں معاصر یہود عرب کے سلسلہ میں لکھتا ہے :۔ ” یہ لوگ فن سحر کے ماہر تھے اور بجائے میدان جنگ میں آنے کے سفلی عملیات کو ترجیح دیتے تھے “۔ صفحہ 189 ۔ اصل عبارت اور مزید حوالوں کے لیے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ اور ہمارے مفسرین نے بھی اس سحر پرستی میں یہ ود عہد سلیمانی اور یہود عہد محمدی کو شریک سمجھا ہے۔ قیل یہود زمان سلیمان وقیل یھود زماننا واللفظ فیھم عام ولجمیعھم محتمل وقد کان الکل منھم متبعا لھذا لباطل (ابن عربی) ۔ شیاطین۔ جب صیغہ جمع میں ہے تو ظاہر ہے کہ ابلیس تو یہاں مراد ہو نہیں سکتا۔ اہل لغت اور اکابر اہل تفسیر دونوں کی رائے ہے کہ شیطانوں سے مراد یہاں خبیث و سرکش قسم کے جنات ہیں جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تابع تھے۔ اے مردۃ الجن (راغب) المراد شیاطین الجن وھو قول الاکثرین (کبیر) والمتبادر من الشیاطین مردۃ الجن وھو قول الاکثرین (روح) وھم المتمردون من الجن (ابوسعود) لیکن خود جنات کیا ہیں ؟ جنات سے مراد وہ صاحب شعور وادراک ہستیاں ہیں جن کی پیدائش آگ سے ہوئی ہے اور جو انسانی آنکھ کو عموما اور عادۃ نظر نہیں آتے۔ انسان کی طرح وہ بھی مکلف ہیں گویہ ضرور نہیں کہ ان کی شریعت بھی جزئیات وتصیلات کے لحاظ سے شریعت انسانی ہو۔ اس آتشیں مخلوق کا وجود دلائل نقلی و شواہد سے پوری طرح ثابت ہے۔ اور اس وجود سے انکار پر کوئی ایک دلیل بھی قائم نہیں نہ عقلی نہ نقلی، بعض کا قول ہے کہ مراد شیاطین انس ہیں۔ یعنی وہ سرکش وخبیث انسان جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے خلاف ماہر تھے۔ فرقہ معتزلہ کے متکلمین کا رجحان اسی معنی کی طرف ہے۔ قیل شیاطین الانس وھو قول المتکلمین من المعتزلۃ (کبیر) راغب لغوی نے بھی معنی جس طرح سرکش جنات کے جائز رکھے ہیں اسی طرح سرکش انسانوں کے بھی، فھم مردۃ الجن ویصح ان یکونواھم ومردۃ الانس ایضا (راغب) اور مفسرین اہل سنت نے بھی گنجائش دونوں کے لیے رکھی ہے۔ الشیاطین من الجن والانس اور منھما (بیضاوی) وھو یرید شیاطین الجن والانس (جصاص) اگر انسان ہی مراد لیے جائیں، یعنی دربار سلیمانی کے باغی سردار وسرغنہ، تو ان کا مفصل ذکر عہد عتیق کے بعض صحیفوں میں ملتا ہے۔ ملاحظہ ہوا۔ سلاطین باب 1 1، 12، علی ملک سلیمن۔ “ یعنی آپ کے عہد حکومت میں۔ علی۔ صرف استعلاء کے لیے نہیں، بلکہ مصاحبت تعلیل وغیرہ کی طرف ظرفیت کے لیے بھی آتا ہے۔ اور فی کے معنی میں اس کا استعمال عام ہے۔ ابن جریر جو عربیت کے بھی امام ہیں لکھتے ہیں :۔ والعرب تضع فی فی موضع علی وعلی فی موضع فی اور عرب فی کا استعمال علی کی جگہ پر کرتے ہیں اور علی کا استعمال فی کے موقع پر۔ اور اتقان (سیوطی) میں اس معنی کی تصریح ہے اور اہل لغت لکھتے ہیں : کان ذلک علی عہد فلان اے فی عہد فلان (تاج) فلاں واقعہ علی عہد فلاں ہوا، اس کے معنی ہوتے ہیں ” فی عہد فلاں “ ہوا۔ خود قرآن مجید میں بھی علی ایک دوسری جگہ صاف فی کے معنی میں آیا ہے (آیت) ” ودخل المدینۃ علی حین غفلۃ “ (قصص، ع 2) اے فی حین غفلۃ، چناچہ یہاں بھی اہل تحقیق نے یہی معنی لیے ہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) کے عہد حکومت میں اے علی عہد سلیمان (ابن کثیر) اے فی عہد ملکہ (ابو سعود) اے فی عہد سلیمان (ابن جریر) اے فی ملکہ وعہدہ (معالم) (آیت) ” سلیمن “ سلیمان بن داؤد (990 ؁ ق، م تا 930 ؁ ق، م غالبا) اسرائیلی سلسلہ کے ایک نامور پیغمبر گزرے ہیں، اور اپنے والد ماجد ہی کی طرح، لیکن ان سے بڑے تاجدار بھی۔ شام و فلسطین کے علاوہ آپ کے حدود حکومت مشرق کی سمت میں عراق کے دریائے فرات کے ساحل تک اور مغرب میں سرحد مصر تک وسیع تھے ؛۔ آپ کی سلطنت کی عظمت و شوکت پر دوست دشمن سب کو اتفاق ہے۔ اسلام میں اعلی سے اعلی روحانی واخلاقی مرتبہ، یعنی نبوت و رسالت کے ساتھ جس طرح فقر وفسکنت جمع ہوسکتے ہیں اسی طرح دولت وامارت، حکومت و ریاست بھی۔ اسلام کا خدا غریبوں اور امیروں، ناداروں اور زرداروں سب کا یکساں خدا ہے۔ آیت کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح ان یہود کے آباؤ اجداد عہد سلیمانی میں شیطانی مشغلوں (سحر وکہانت) میں لگے رہے اسی طرح آج خود بھی بجائے نبی کی ہدایتوں پر چلنے کے انہیں سفلی مشغلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ 354 ۔ (جیسا کہ ناسپاسوں، کافروں، افترا پردازوں نے مشہور کر رکھا ہے) آیت کے اس مقام پر پہنچ کر مومن کے قلب میں ذرا کھٹک پیدا ہوتی ہے کہ یہ کہنے والی کون سی بات تھی جو قرآن نے فرمادی ؟ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) پیغمبر برحق تھے، تو یہ تو کھلی ہوئی اور موٹی سی بات ہے کہ آپ شائبہ کفر وشبہ کفر سے بہ مراحل دور تھے۔ پیغمبر کے حق میں یہ نازل ہونا کہ وہ کفر سے بری تھے، یہ تو کچھ ایسی ہی بات ہوئی، جیسے کسی ملک کا بادشاہ یہ فرمان جاری کرکے رعایا کو بتائے کہ ہمارا نائب السلطنت باغی وغددار نہیں ہے۔ کھٹک بجا ہے۔ قرآن مجید کبھی کوئی چھوٹا سابیان بھی بےضرورت نہیں دیتا، مگر یہاں قرآن کو اس اعلان واعلام کی ضرورت تھی، اس ضرورت کا علم سادہ دل مسلمان کو کیا ہوسکتا ہے ؟ اس کا علم تو اس کے ہمہ بین وہمہ دان پروردگار ہی کو ہوسکتا تھا۔ سلیمان (علیہ السلام) کو پیغمبر ماننے والی دو قومیں مسلمانوں سے پہلے بھی ہوچکی ہیں۔ یہ دونوں وہی ہیں جو اہل کتاب کہلاتی ہیں۔ یعنی یہودونصاری۔ ان دونوں کے اکابر نے ستم ظریفی کا کمال یہ دکھایا ہے کہ ایک طرف تو ان کی عظمت و پیغمبری کے قائل ہیں۔ اور دوسری طرف ان کے نامہ اعمال میں گندے سے گندے جرائم بھی ڈال دیئے ہیں ! یہاں تک کہ کفر وشرک بھی ! کہ اللہ کی عدالت میں کوئی جرم اس سے بڑھ کر یا اس کے برابر بھی سنگین تصور میں نہیں آسکتا، یہودی قصص و حکایات اور مسیحی آثار وروایات کی کتابوں کو چھوڑیے۔ خاص الخاص بائبل یعنی عہد عتیق کے صحائف، جن پر یہودونصاری دونوں کا ایمان ہے، انہیں ملاحظہ فرمالیجئے کہ اس مجموعہ میں آج تک کیا تصریحات لکھی چلی آرہی ہیں :۔ ” جب سلیمان بوڑھا ہوا تو اس کی جو رؤوں نے اس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کیا، اور اس کا دل اپنے خدا کی طرف سے کامل نہ تھا “۔ ( 1 ۔ سلاطین۔ 1 1:4، 10) یعنی محض غفلت یا عدم اعتناء کی بنا پر عملی کوتاہی یا عصیان نہیں، صریح بدعقیدگی۔ توحید ہی کی طرف سے بےیقینی !۔ آگے اور ملاحظہ ہو :۔ سو از بس کہ اس کا دل خداوند اسرائیل کے خدا سے برگشتہ ہوا، اس لیے خداوند سلیمان پر غضبناک ہوا کہ اس نے اسے حکم دیا تھا کہ وہ اجنبی معبودوں کی پیروی نہ کرے، پر اس نے اپنے خداوند کے حکم کو یاد نہ رکھا۔ “ ( 1 ۔ سلاطین۔ 1 1، 9، 10) معاذ اللہ۔ خدا کا پیغمبر اور کفر وشرک میں مبتلا ! کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی ! دنیا سینکڑوں سال تک، ہزار ڈیڑھ ہزار سال تک، انہیں یہود یا نہ تحریفات واختراعات کا شکار ہو کر اس موحد اعظم کو نعوذ باللہ کافر و مشرک سمجھتی رہی۔ یہاں تک کہ قرآن آیا، جوہر قوم ہر زمانہ کے سچے پیغمبروں کی عزت وناموس کا محافظ ہے۔ اور اس نے آکر یقین نہ کرنے والی دنیا کے سامنے آکر، اعلان کیا کہ سلیمان کو معاذ اللہ کافر کہتے ہو ! وہ تو کفر کے قریب تک نہیں گئے تھے ! قرآن کی صدائے حق فضا میں بلند ہو کر خاموش ہوگئی۔ جن کے کان تھے انہوں نے سنا، دنیا اپنے کاروبار میں لگی رہی، پھنسی رہی۔ بائبل والوں نے بائبل کی پرستاری نہ چھوڑی۔ یہاں تک کہ تیرہ، ساڑھے تیرہ صدیاں اور گزر گئیں، اور اب قدرت حق کا اعجاز دیکھئے کہ اب جو محققانہ وفاضلانہ کتب جوامع وحاویات بائبل ہی کے پرستاروں کے قلم سے نکل رہی اور شائع ہورہی ہیں وہ تائید اور تصدیق بائبل کی الزام دہی کی نہیں، قرآن کے جواب صفائی کی کررہی ہیں ! انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، برطانوی کا وش وتحقیق کا لب لباب ہوتا ہے، اس کے سب سے آخری ایڈیشن میں مقالہ زیر عنوان سلیمان نکال کر دیکھئے، صاف یہ مضمون ملے گا۔ ” سلیمان خدائے واحد کے مخلص پرستار تھے “۔ (جلد 2 ۔ صفحہ 952 طبع چہاردہم) انسائیکلوپیڈیا ببلیکا، خاص مسیحی ہی فضلاء اور پرستاران بائبل کی جو آیتیں ابھی اوپر نقل ہوچکی ہیں، ان کا حوالہ دے کر یہ لکھ دیا ہے کہ یہ عبارتیں بعد کو بڑھائی گئی ہیں، اور الحاق ہیں ! اور پھر لکھا ہے :۔ ” یہ تو غالبا صحیح ہے کہ سلیمان کی بیویاں متعدد تھیں، اسرائیلی بھی غیر اسرائیلی بھی، لیکن انہوں نے نہ تو سب کے لیے قربان گا ہیں ہی تیار کرائیں، اور نہ خود خدائے واحد کی پرستش کے ساتھ ساتھ اپنی بیویوں کے دیوتاؤں کی پرستش کا تجربہ ہونے دیا “۔ (کالم 89 ۔ 46) خیر، یہ اعجاز تو کلام الہی کا تھا، اس سے بڑھ کر بھی ہوتا تو ہوسکتا تھا۔ لیکن محدود وناقص عقل اور زمان ومکان سے مقید علم رکھنے والے بندوں نے اپنی ایمانی فراست واشراقیت سے جو کام کر دکھایا ہے، وہ بھی اعجاز سے کچھ کم نہیں۔ رئیس المفسرین امام ابن جریر، آج کے نہیں، آج سے ایک ہزار سال قبل کے شخص ہیں، اور یہود ونصاری کی کتابوں سے شاید زیادہ واقف بھی نہ ہوں۔ آج نہیں، اس وقت اپنی تفسیر میں یہ روایات بصراحت درج کرگئے ہیں کہ آیت بالایہود ہی کے گندے عقائد اور افتراء کے رد میں نازل ہوئی ہے جو آپس میں کہتے تھے کہ ان نئے مدعی نبوت کی نادانی تو دیکھو، کہ ابن داؤد (علیہ السلام) کو قال بعض احبار الیھود الا تعجبون من محمد یزعم ابن داؤدکان نبیا واللہ ما کان الا ساحرا فانزل اللہ فی ذلک من قولہم وما کفر سلیمن الخ نبی اللہ کی حیثیت سے پیش کررہے ہیں۔ حالانکہ بخدا وہ تو بس ایک ساحر تھا۔ اللہ نے انہیں کے قول کے رد میں یہ آیت نازل کی ہے (آیت) ” وما کفر سلیمن الخ “ 355 ۔ (اور اسے منسوب حضرت (علیہ السلام) کی جانب کردیتے تھے) ان شیطانوں کی (خواہ وہ جن ہوں یا انس) ایک شیطنت یہ بھی تھی کہ اپنی کافرانہ، ساحرانہ حرکتوں کی نسبت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی جانب کردیتے تھے، اور شہرت یہ دے دیتے تھے کہ ہم تو یہ جو کچھ کررہے ہیں، ان کی رضا مندی بلکہ ان کے اشارہ ہی سے کررہے ہیں، ورنہ ظاہر ہے کہ اللہ کے نبی برحق (علیہ السلام) کو ان گندگیوں سے کیا واسطہ ہوسکتا تھا۔ قرآن کریم نے کس کس طرح دوسری امتوں کے انبیاء کی طرف سے صفائی پیش کی ہے، انہیں کے امتیوں کے لگائے ہوئے داغ دھبے ان کی پاک سیرتوں سے دور کیے ہیں۔ اور یہ ناشکر گزار قومیں ہیں کہ الٹی قرآن ہی کی دشمنی پر تلی ہوئی ہیں ! 356 ۔ سحر نام ہے اسباب خفی (مثلا تاثیر کواکب، استعانت شیاطین الجن وغیرہ) سے کام لے کر تصرفات عجیب کرنے کا، خاص خاص مقشتوں اور ریاضتوں سے یہ فن حاصل ہوجاتا ہے، مشرک جاہل قوموں میں اس کا رواج پہلے بھی زور شور سے رہ چکا ہے۔ اب بھی ہے، شریعت اسلام نے اسے حرام قرار دیا۔ (آیت) ” یعلمون الناس، یعلمون “ کا فاعل شیاطین ہونا ظاہر ہی ہے۔ اکثر مفسرین نے اسی ایک ترکیب کو اختیار کیا ہے اور یہاں بھی ترجمہ اسی لحاظ سے کیا گیا۔ لیکن اس کی بھی گنجائش ہے کہ فاعل بجائے شیاطین کے یہود ہی کو قرار دیا جائے، یعنی (آیت) ” فریق من الذین اوتوا الکتب “ کو معنی اس صورت میں بجائے ماضی کے حال کے ہوجائیں گے۔ یعنی یہ یہود، لوگوں کو تعلیم دیتے رہتے ہیں سحر کی۔ سحر وکہانت تاریخ بنی اسرائیل کا ایک مسلم وناقابل انکار جزو ہے۔ خود عہد عتیق کے صحیفوں میں اس کی شہادت موجود ہے :۔ ” انہوں نے اپنے بیٹے بیٹی کو آگ کے درمیان گزارا اور فال گیری اور جادوگری کی۔۔ ان باعثوں سے خدا واند بنی اسرائیل پر نپٹ غصہ ہوا۔ اور اپنی نظر سے انہیں گرا کر دور کردیا “۔ (2 ۔ سلاطین۔ 17 ۔ 18) 357 ۔ بیان انہیں یہود عرب کا چل رہا ہے۔ واؤ عاطفہ کبھی فقرہ کو فقرہ سے جوڑتا ہے، کبھی کبھی لفظ کو لفظ سے، اور کبھی فقرہ کو لفظ سے۔ یہاں فقرہ (آیت) ” وما انزل علی الملکین “ کا عطف ہے فقرہ ماقبل (آیت) ” ما تتلوا الشیطین “ پر اور دونوں فقرے تابع ہیں فعل (آیت) ” اتبعوا “ کے۔ گویا تقدیر کلام یوں ہے (آیت) ” واتبعوا ماتتلوا الشیطین “ الخ واتبعوا ماانزل علی الملکین۔ بعض نے (آیت) ” ما انزل الخ “ کا عطف السحر پر مانا ہے۔ عطف علی السحر وقیل ھو عطف علی ما تتلوا ماانزل (کشاف) معنی میں کوئی بڑا فرق اس سے بھی نہیں پڑتا۔ اور حاصل دونوں صورتوں میں ایک ہی رہتا ہے۔ قرآن جو کچھ بھی کہتا ہے حق مطلق کی شان بےنیازی کے ساتھ بالکل بےخوف اور بےدھڑک کہتا ہے۔ اسے کسی خارجی سہارے کی تلاش نہیں ہوتی۔ خارجی سہارے از خود اس کی طرف کھنچتے چلے آتے ہیں۔ اسے اپنی جگہ پر اطمینان کامل ہے کہ اس کے کسی بیان میں تردید کی گنجائش تو کجا، شک وتردد کا احتمال بھی کسی طالب حق کو نہیں ملے گا، یہود عرب کی طرف طویل فرد جرم اوپر سے مسلسل چلی آرہی ہے۔ ابھی ابھی دکر ان کے فلسطینی سحر کا آچکا ہے، (سلیمان نبی (علیہ السلام) بادشاہ فلسطین کے تھے، ان کے عہد کا سحر فلسطینی ہی کہا جائے گا) اب وہ بھی کہے ڈالتا ہے کہ یہ توحید کے پرانے امانت دار اور کتاب وسنت کے قدیم قدر شناس، یہی نہیں کہ عہد سلیمانی کے شیاطین جن وانس کی روایات سحروکہانت کا حق ادا کررہے ہیں، بلکہ اس فلسطینی سحر کے علاوہ بابل یا عراق کے بھی سحر کے انواع و اقسام میں ! تاریخ قدیم کے جاننے والوں سے یہ حقیقت مخفی نہیں کہ عہد رسالت وطلوع اسلام سے صدیوں قبل قوم بنی اسرائیل دو مستقل حصوں میں کاٹ چکی تھی، ایک ٹکڑا وہ جو بخت نصر کے ہاتھوں جلاوطنی یا جبری ہجرت کے بعد کلدانیہ یا بابل (موجودہ عراق) میں رہ پڑا تھا اور وہیں بس گیا تھا۔ دوسری شاخ وہ جو ایک مدت دراز کے بعد وہاں سے واپس آکر پھر فلسطین میں آباد ہوئی۔ آیت اس تاریخی حقیقت کو فاش کررہی ہے کہ عہد رسالت کے معاصر یہود عرب جامع ہیں فلسطینی اور بابلی دونوں قسم کے رذایل وخبائث کے، تاریخ قدیم کے یہ نازل دقائق، اور اپنی جگہ پر بالکل مسلم ومستند حقائق، جو عام طور پر اچھے اچھے اہل علم کے علم میں بھی نہیں، ادا کرائے جارہے ہیں۔ کسی مورخ اعظم کی زبان سے نہیں، عرب کے ایک امی کی زبان سے ! اللہ اللہ ! 358 ۔ (کسی خاص حکمت ومصلحت کے ماتحت) دو باتوں کا اس سلسلہ میں استحضار رہے تو انشاء اللہ آیت کی تفسیر میں کوئی الجھن ذہن میں پیدا نہیں ہونے پائے گی :۔ ایک یہ کہ نزل وانزال کا اطلاق صرف احکام تشریعی میں نہیں ہوتا، امور تکوینی میں بھی برابر ہوتا رہتا ہے۔ دوسرے یہ کہ تکوینیات کے سلسلہ میں جو کام جیسا بھی لیا جاتا ہے، اس کے لیے واسطہ اور وسیلہ بہرحال فرشتے ہی ہوتے ہیں۔ اور یہ امر ان کے نزاہت ومعصومیت کے ذرا بھی منافی نہیں۔ (آیت) ” ماانزل “ میں ما موصولہ ہے الذی کے معنی ہیں۔ بعض نے ما کو نافیہ قرار دے کر (آیت) ” ماانزل کا عطف (آیت) ” ما کفر سلیمن “ پر کیا ہے۔ لیکن محققین نے اس کے قبول کرنے سے انکار کیا ہے اور ابن جریر میں اس پر مفصل گفتگو موجود ہے ثم شرع ابن جریر فی رد ھذا القول وان ما بمعنی الذی واطال القول فی ذلک (ابن کثیر) ظاہرہ ان ماموصولۃ (بحر) عطف علی السحر اے یعلمونھم ما انزل علیھما (ابوسعود) الجمھور علی ان ما بمعنی الذی (مدارک) (آیت) ” انزل۔ اللہ کی طرف سے ” نازل “ صرف کتاب و حکمت، وحی والہام ہی نہیں ہوتا۔ قحط، بیماری، موت سب کا نزول وانزال بہ حیثیت مسبب الاسباب اللہ ہی کی طرف سے ہوتا رہتا ہے۔ محاورۂ قرآنی میں انزال کا لفظ رزق (روزی) ماء (پانی) لباس (پوشاک) حدید (لوہے) انعام (چوپائے) کے سلسلہ میں صراحت کے ساتھ آیا ہے۔ یہاں تک کہ رجز (عذاب یا بلا) کے لیے بھی یہی لفظ صراحۃ مستعمل ہوا ہے۔ ؛ (آیت) ” انا منزلون علی اھل ھذہ القریۃ رجز امن السماء (عنکبوت۔ آیت 34) سو جن لوگوں نے نزول سحر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی جانب کرنا اس کی قدروسیت کے منافی سمجھا وہ خود ایک بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے۔ ایک سحر ہی پر کیا موقوف ہے، کائنات میں تمام اچھا برا حق و باطل، ایمان وکفر، طاعت ومعصیت جو کچھ بھی موجود ہے سب کا وجود تکوینی حیثیت سے مسبب الاسباب ہی کے نازل کرنے سے تو ہوا ہے۔ انزل یہاں اپنے اسی وسیع معنی میں ہے۔ یعنی انہیں یہ بات بتادی گئی۔ ان کے دل میں یہ ڈال دیا گیا۔ کوئی اظہار شرف و تکریم مقصود نہیں، الانزال بمعنی التعلیم والالھام (معالم) الانزال اما علی ظاھرہ اوبمعنی القذف فی قلوبھما (روح) قلنا کل خیر اوشر اوطاعۃ اومعصیۃ او ایمان او کفر منزل من عنداللہ تعالیٰ (ابن عربی) انزل اے قذف فی قلوبھما مع النھی عن العمل (مدارک) الانزال بمعنی الخلق لا بمعنی لایحاء (ابن کثیر) الملکین۔ لفظ کی قرات مشہور ملک (بہ فتح لام) ہے۔ القراءۃ المشہورۃ بفتح اللام (کبیر) لیکن دوسری قرأت ملک (بہ کسر لام) کی بھی صحابہ وتابعین ہی کے زمانہ سے چلی آرہی ہے، ابن عباس ؓ ضحاک، حسن بصری (رح) کی روایت ہے۔ قرأ الحسن بکسر اللام وھو مروی ایضا عن الضحاک وابن عباس ؓ (کبیر) چناچہ اسی دوسری قرأت کی بنا پر مفسرین اسی طرف چلے گئے ہیں کہ یہ دونوں اصلا فرشتے نہ تھے، بشر تھے اور بادشاہ، اور انہیں جو دوسری روایتوں میں فرشتے کہا گیا ہے، تو وہ محض مجازا ہے، یعنی ان کے صفات ملکوتی کی بنا پر۔ قیل رجلان سمیا ملکین باعتبار صلاحھما (بیضاوی) لیکن جمہور کا قول وہی قرأت مشہور کی بنا پر ان کے فرشتہ ہونے کا ہے۔ ذھب کثیر من السلف الی انھما کان ملکین من السماء وانھما انزلا الی الارض (ابن کثیر) اور نظام تکوینی میں فرشتوں کے اوپر حقیقت سحر کا نزول ان کی نزاہت کے ذرا بھی منافی نہیں۔ خصوصا جب کہ ان پر اس فن کے الہام کیے جانے سے مقصود ہی تمام تراصلاح خلق تھا۔ یعنی لوگوں کو سحروکہانت سے بچانا، نہ کہ اس پر آمادہ کرنا۔ مجسٹریٹوں کو، پولیس کے افسروں کو، جرائم سے عملی واقفیت حاصل کرتے کس نے نہیں دیکھا ہے ؟ ظاہر ہے یہ اس لیے نہیں ہوتا کہ وہ خود کوئی جرم کریں، بلکہ اس لیے کہ اپنی عملی واقفیت کو مجرموں کے ارتکاب جرم سے باز رکھنے میں کام میں لائیں۔ بابل۔ بابل جس قدیم ملک کا نام ہے۔ وہ موجودہ نقشہ اور جغرافیہ میں عراق عرب کہلاتا ہے۔ ملک کے پایہ تخت کا بھی یہی نام تھا۔ شہر بابل دریائے فرات کے کنارے واقع تھا۔ موجودہ بغداد سے کوئی 60 میل سمت جنوب میں۔ تقریبا وہیں جہاں آج ہلہ کی آبادی ہے، شہربہت بڑا تھا۔ رقبہ میلوں کا تھا۔ ملک اپنے عروج کے زمانہ میں بڑا سرسبز، شاداب، خوشحال، مہذب ومتمدن رہ چکا ہے، نہروں، پانی کے نلوں، شاہی قصروایوان، زبردست قلعوں کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ ان سے اتنا تو بہرحال ثابت ہوجاتا ہے کہ ملک میں ماہر فن انجینروں کی کمی نہ تھی، دجلہ وفرات دو دو مشہور دریا اس کے علاقہ کو سیراب کررہے تھے۔ سلطنت کے عروج کا زمانہ تخمینی طور پر 3000 ؁ ق، م سمجھا گیا ہے۔ ملک کی ایک خاص شہرت علوم سحر، عملیات سفلی اور جنتر منتر کے لحاظ سے تھی، جنہیں آج انگریزی میں Occult Scienis (علم نیز نجات) کہتے ہیں۔ اسی ملک کا ایک دوسرا قدیم نام کا لڈیا (کلدانیہ) ہے اور انگریزی میں آج تک لفظ کا لڈین (کلدانی) ساحر کا مرادف چلا آرہا ہے، یہودونصاری کے صحیفوں میں اس ملک کا ذکر کثرت سے آیا ہے۔ ذکر اس ملک کی عظمت کا بھی اور اس کی بدعملیوں، تباہ کاریوں کا بھی۔ ملاحظہ ہو صحیفہ دانی ایل 4:3 ۔ مکاشفہ 10:5، 18:30 وغیرہا۔ لیکن اس فہرست جرائم کا عنوان اول سحرکاری تھا۔ بائبل کی شہادت ملاحظہ ہو :۔ ” تیرے سوداگر زمین کے امیر تھے، تیری جادوگری سے زمین کی ساری قومیں گمراہ ہوگئیں۔ اور نبیوں اور مقدسوں اور زمین کے اور سب مقتولوں کا خون اس میں بہایا گیا۔ “ (مکاشفہ۔ 18:23، 24) پرانے کتبے اور نوشتے آج جو کچھ دریافت ہوئے ہیں، ان کی متفقہ شہادت ہے کہ دین بابلی کا جزواعظم سحروکہانت، جنترمنتر ٹونے ٹوٹکے تھے۔ ” بابلی مذہب کا جزواعظم سحروکہانت کیا انواع و اقسام ہیں۔ بابلی مذہب کی کتابوں کو اٹھا کر دیکھئے تو ہر طرف کہانت کے منتر ہی منتر نظر آئیں گے “۔ (انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس، جلد 2 صفحہ 1 16) ایک اور فاضل کی تحقیق ہے :۔ ” مذہب بابل ونینوا کا جزواعظم بھوت پریت کا اتارنا جھاڑنا تھا۔ “ (راجرس کی ریلیجن آف بابیلونیا اینڈ اسیر یا، صفحہ 145) یہ سحر پیشہ وکہانت دوست قوم جب 538 ؁ ق، م میں تاجدار ایران کے ہاتھوں برباد ومنتشر ہوئی، تو جہاں جہاں گئی اپنے ساتھ اپنے فنون سحروکہانت کو بھی لیتی گئی، تاریخ کا بیان ہے :۔” یہ لوگ جہاں جہاں گئے اپنے ان علوم کو اپنے ساتھ لیتے گئے، ان کی تعلیم دیتے رہے۔ اور ضعیف العقیدہ خلقت انہیں ہر جگہ ہاتھوں ہاتھ لیتی رہی۔ (ریگوزین کی کا لڈیا صفحہ 255) یہود ان استادوں کے شاگرد رشید ثابت ہوئے :۔ ” بابل کے میل جول نے اسرائیلیوں کے عقائد متعلق ملائکہ و شیاطین کو متاثر کرنا شروع کیا “۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا۔ جلد 13 ۔ صفحہ 187، طبع یازدہم) خود یہود کے اکابر کا اعتراف ہے کہ :۔ ” بابل کا مذہبی احترام ہر خطہ کے یہود میں قائم رہا “۔ (جیوش انسائیکلوپیڈیا۔ جلد 6 ۔ صحفہ 4 13) ہمارے قدیم مفسرین کی تربیتیں اللہ ٹھنڈی رکھے۔ بغیر اس کے کہ انکے کان میں بھنک بھی آوازوں کی پڑے کہ انیسویں صدی کے آخر میں سرہنری رالنس کو، اور بیسویں صدی میں سرلیونارڈولی اور دوسرے ماہرین اثریات کو بابل کے کھنڈروں میں کیسے کیسے کتبے عملیات اور نقوش سے لبریز مل گئے۔ محض اپنی قوت ایمانی کی بخشی ہوئی جلاء واشراقیت سے کام لے کر، (آیت) ” ماانزل علی الملکین “ کا عطف (آیت) ” ماتتلوا الشیطین “ پر کرکے اس تاریخی حقیقت کو صاف اور بےنقاب کرگئے کہ یہود کی فرد جرم دونوں جرموں سے سیاہ ہے۔ اتباع سحر فلسطین سے بھی اور اتباع سحربابل سے بھی، خود قرآن کا اعجاز تو خیر بہت بڑی چیز ہے، حق یہ ہے کہ قرآن والوں کا اعجاز بھی اپنی جگہ دلوں کو ہلادینے کے لیے بالکل کافی ہے۔ بابل کی اسی سحر پر وروکہانت خیز سرزمین میں جب عملیات سفلیہ اور علوم سحریہ کا زور حد سے بڑھ گیا، اور عوام کے ذہن میں ہادیان حق انبیاء کرام اور اولیائے صالحین کی حیثیت خلط ملط اور ملتبس ہو کر کاہنوں، ساحروں، عاملوں، شعبدہ بازوں کی ہو کر رہ گئی، تو مشیت الہی اور حکمت ربانی نے حق و باطل کے ان دو فرشتوں کو انسانی صورت و قالب میں بھیجا (آیت) ” ھاروت وماروت “ یہ نام ہیں ان دونوں فرشتوں کے۔ دونوں اپنی اصلی حقیقت کے لحاظ سے فرشتے تھے، لیکن جب ایک غرض خاص کے ساتھ انسانوں کے درمیان رہنے بسنے کیلیے بھیجے گئے تھے، تو ظاہر ہے کہ ان کی شکل وشباہت، رنگ وروپ، جسم و قالب انسانوں ہی کا ہوگا، اور ان کی عادتیں اور ان کے جذبات بھی بالکل بشری ہوں گے۔ بعض اہل تفسیر نے یہاں ایک قصہ یہود کا بیان کیا ہوا، ملک عراق کی مشہور رقاصہ اور بیسوازہرہ کا نقل کیا ہے۔ لیکن اول تو آیت کی تفسیر اس قصہ پر موقوف کسی درجہ میں بھی نہیں۔ دوسرے خود محدثین اور محققین تفسیر نے اس کی صحت سے بالکل انکار کردیا ہے۔ اور صاف لکھ دیا ہے کہ قصہ بالکل گڑھا ہوا اور لغومردود ہے۔ اور اس گروہ میں قاضی عیاض، امام رازی، شہاب الدین عراقی وغیرہم شامل ہیں۔ اعلم ان ھذہ الروایۃ فاسدۃ مردودۃ غیر مقبولۃ (کبیر) وھذا کلہ لایصح منہ شیء (بحر) ونص الشھاب العراقی علی ان من اعتقد فی ھاروت وماروت انھما ملکان یعذبان علی خطیھما مع الزھرۃ فھو کافر باللہ تعالیٰ (روح) لیکن بالفرض صحیح ہو بھی، تو جب کسی خاص مصلحت سے کسی فرشتہ کو پیکر انسانی اور جذبات بشری دے دیئے گئے، تو اگر کسی وقت وہ ملکوتی الاصل انسان بشری جذبات سے مغلوب بھی ہوجائے، تو اس میں کوئی استحالہ نہ شرعی ہے نہ عقلی۔ 359 ۔ (آیت) ” یعلمن “ تعلیم کے متعارف مفہوم کی بنا پر اس لفظ سے یہ شبہ نہ ہو کہ ملائکہ سحر کا درس یا سبق دیا کرتے تھے۔ استغفر اللہ۔ تعلیم کے معنی علاوہ سکھانے اور سبق دینے کے، اعلام یعنی جتلانے، بتلانے، آگاہ کرنے کے بھی آتے ہیں۔ والتعلیم ربما یستعمل فی معنی الاعلام (راغب) چناچہ ماہرین قرآن کی ایک جماعت نے یہاں بھی یہی معنی لیے ہیں۔ والتعلیم بمعنی الاعلام (معالم) فکان المعنی فی یعلمان یعلمان (بحر) التعلیم انما ھو تعریف یسیر بمبادۂ (بحر) اور خود ایک قرأۃ بھی مصدر اعلام کے ساتھ منقول ہے۔ وقراطلحۃ من مصرف یعلمان بالتخفیف میں الاعلام (روح) من احد میں من زائد ہے، تاکید استغراق کے لیے۔ معنی ہوں گے ” کسی کو بھی “ ‘ یا ” کسی ایک کو بھی “ من زائد لتا کید استغراق الجنس (بحر) 360 ۔ (یہ نظر احتیاط مزید) ملائکہ اس باب میں اتنی احتیاط رکھتے کہ خیرخود سے تو کسی کو کیا بتلاتے، سکھلاتے، جو لوگ پوچھنے آتے، انہیں بھی پہلے متنبہ کردیتے۔ حتی ینصحاہ اولا (معالم) حتی یتنبھاہ وینصحاہ (مدارک) لا یعلماہ حتی یبالغا فی نھیہ (جصاص) 361 ۔ امتحان یعنی وہ چیز جس سے کھل جائے کہ سحر وکہانت سے بچا کون کون رہا اور مبتلا ان میں کون کون ہوگیا۔ (آیت) ” فتنۃ کے معنی امتحان، آزمائش جانچ پڑتال کے ہیں تارۃ یستعمل فی الاختیار (راغب) اور یہاں بھی آزمائش ہی مراد ہے۔ ومعناھا فی ھذا الموضع الاختیار والابتلاء (ابن جریر، عن ابن جریج) اے ابتلا واختیار من اللہ (کشاف) مطلب یہ ہوا کہ یہ انسان نما ملائکہ کیس پر بھی حقیقت سحر کو نہ کھولتے، کسی کو بھی کلمات سحر پر مطلع نہ کرتے جب تک کہ اسے متنبہ نہ کردیتے۔ ہوتا یہ تھا کہ فسق پیشہ لوگ آکر ہاروت وماروت کو گھیرتے اور ان سے اصرار کرکے دریافت کرتے کہ آپ ہمیں سحر سے روک تو رہے ہیں، لیکن یہ تو بتائیے کہ سحر کہتے کسے ہیں۔ وہ ہیں کون سے اعمال واقوال جن پر سحر کا اطلاق ہوتا ہے ؟ فرشتے انہیں اس تنبیہ ویاد دہانی کے بعد کہ اس فن سے کام لینا کفر ہے، جب انہیں آگاہ وخبردار کرنے کے لیے ان اعمال واقوال کی نقل وحکایت ان کے سامنے کرتے تو وہ فسق پیشہ لوگ اس سے فائدہ یہ اٹھاتے کہ خود اس فن ہی کے سیکھ جانے کا کام لینے لگتے۔ بالکل ایسی ہی بات جیسے آج کوئی کسی فقیہ عالم سے یہ دریافت کرے کہ رشوت اور سود کا اطلاق کن کن آمدنیوں پر ہوتا ہے اور پھر ان سے بچنے کے بجائے الٹا انہیں طریقوں پر عمل شروع کردے ! یہ مفہوم طبع زاد نہیں۔ حضرت علی ؓ سے ایک اثر ٹھیک اسی معنی میں مروی ہے۔ قال علی کانا یعلمان تعلیم اندار لا تعلیم دعاء الیہ کانھما یقولون لاتفعل کذا کما لوسال سائل عن صفۃ الزنا اوالقتل فاخبر بصفتہ لیجتبہ (بحر) 362 (ان اعمال واقوال سحر کو اختیار کرکے) اے لا تجعل ما تسمع منا سببا للکفر کے مرادف ہے۔ اے لا تکفر بعمل ھذا السحر واعتقادہ فثبت ان ذلک کفر اذا عمل بہ واعتقدہ (جصاص) اس میں فقہائے امت کا اختلاف شروع سے چلا آرہا ہے، کہ آیا مطلق سحر یعنی اس کا سیکھنا بھی حرام ہے یا محض اس پر عمل۔ شروع سے قول دونوں قسم کے ملتے ہیں بعض نے تعلم کو بالکل جائز رکھا ہے اور صرف عمل کو حرام قرار دیا ہے اور بعض نے نفس تعلم کو بھی۔ قیل فلا تفعلہ لتعمل بہ وھذا علی قول من قال تعلمہ جائز والعمل بہ کفر وقیل لا تکفر بتعلیم السحر وھذا علی قول من قال ان تعلمہ کفر (بحر) بعض نے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ سحر کا سیکھنا بہرصورت حرام ہے یہاں تک کہ کافر ساحروں کے رد کے لیے سیکھا جائے جب بھی حرام ہے۔ اس لیے کہ کلام الہی (آیت) ” فلاتکفر “ دلالت کرتا ہے مفہوم کی علی الاطلاق حرمت پر، اور وہ سحر ہے (ردالمحتار) لیکن یہ تحقیق خود حنفیہ کے ہاں بھی متفق علیہ نہیں، اور شافعیہ کو تو اس سے بالکل اختلاف ہے۔ فلاتکفر باعتقاد جو ازہ والعمل بہ وفیہ دلیل علی ان تعلم السحر وما لا یجوز اتباعہ غیر محظور وانما المنع من تکفر بتعلمہ والعمل بہ علی وجہ یکون کفرا (مدارک) مفسر تھانوی کی تحقیق اس موقع پر بھی قابل قدر ہے :۔ ” سحر کے فسق یا کفر وغیرہ ہونے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر اس میں کلمات کفریہ ہوں مثل استعانت شیاطین وکواکب وغیرہ۔ تب تو کفر ہے خواہ اس سے کسی کو ضرر پہنچایا جائے، یا کسی اور غرض ناجائز میں استعمال کیا جائے تو وہ فسق ومعصیت ہے۔ اور اگر ضرر نہ پہنچایا جائے، نہ کسی اور غرض ناجائز میں استعمال کیا جائے تو اسے عرف میں سحر نہیں کہتے بلکہ عمل یا عزیمت یا تعویذ گنڈہ کہتے ہیں اور وہ مباح ہے۔ اور اگر کلمات مفہوم نہ ہوں تو بروجہ احتمال کفر ہونے کے واجب الاحتراز ہے۔ اور کفر عملی کا اطلاق ہر ناجائز پر صحیح ہے۔ “ 363 ۔ یعنی وہ فسق پیشہ اور معصیت دوست لوگ سحر سیکھ ہی جاتے۔ ملائکہ کی نیت کا بخیر ہونا بالکل ظاہر ہے۔ وہ تو نفس مسئلہ سمجھاتے، سحر کی حقیقت بیان کرتے، اس کی حرمت کا حکم صادر کرتے، لیکن فاسد الطبع لوگ اس سے فن سیکھ جاتے۔ اور اسے کام میں لانے لگتے۔ 364 ۔ ذکر ایکبار پھر حافظہ کو تازہ کرلیجئے، یہود کا چل رہا ہے۔ یہود عہد سلیمانی کا، نیز انکی اولاددر اولاد کا۔ قرآن، ایک امی کا لایا ہوا قرآن، ان کی فرد جرم سناتے سناتے یک بیک یہ بھی کہہ ڈالتا ہے کہ یہود سحر اور عملیات سفلی میں تو مشغول رہتے ہی تھے، لیکن ان میں بھی خصوصا ان عملیات میں جن کا تعلق میاں بیوی کے افتراق سے تھا۔ قرآن نے تو ضمنا اور گویا بالکل لپیٹ میں ایک بات کہہ دی۔ اب دیکھئے بیسویں صدی کے علمائے یہود اور محققین اسرائیلی اپنے اسلاف کے مشغلہ سحروساحری کی نوعیت سے متعلق کیا شہادت دیتے ہیں۔ ” سح رکی سب سے زیادہ عام متداول صورت اس نقش کی تھی جو عشق و محبت کے لیے دیا جاتا تھا۔ خاص کر وہ نقش جو ناجائز آشنائیوں کے لیے لکھا جاتا تھا۔ اس قسم کے سحر کی ماہر عورتیں ہی زیادہ ہوتی تھیں، چناچہ ذکر بھی سحر اور حرامکاری کا عموما ساتھ ہی ساتھ آیا ہے “ (جیوش انسائیکلوپیڈیا، جلد 8 صفحہ 255) 365 ۔ یعنی بجز مشیت تکوینی کے۔ اسلام نے شرک کی جڑ جس جس طرح کاٹی ہے، اس کے لحاظ سے یہ صراحت ضروری بھی تھی، ارشاد ہورہا ہے کہ کہیں مؤثر حقیقی ان عملیات سحریہ کو، اس منتر جنتر کو، ان ٹونے ٹوٹکوں کو ہرگز نہ سمجھ لینا، ان میں قوت ذرا سی بھی نہ تھی۔ مؤثر وفاعل حقیقی جس طرح ہر حال میں ہماری مشیت، صرف ہماری تجلی ارادی تکوینی رہتی ہے۔ اس موقع پر بھی صرف وہی رہی۔ اذن اللہ کے معنی یہاں تقدیر الہی، مشیت تکوینی، قضاوقدر کے ہیں۔ معناہ الا بقضاۂ وقدرتہ ومشیتہ (معالم۔ عن سفیان ثوری) اے بعلمہ تکوینیۃ فالساحر یسحر واللہ یکون (معالم) اے بعلمہ ومشیتہ (مدارک) یعنی بحکمہ وقضاۂ لابامرہ (ابن عربی) بس اتنا یاد رہے کہ یہ اللہ کی قدرت، مشیت، حکمت تکوینی ہرگز ہرگز اللہ کے حکم یا رضا کے مرادف نہیں۔ زہر کے اثر سے بےگناہوں کی ہلاکت، کافروں کے ہاتھوں اولیاء وانبیاء کی اہانت واذیت، مشرکوں کا مسلمانوں پر غلبہ و تسلط، جس قانون حکمت تکوینی کے مطابق یہ سب کچھ ہوتا رہتا ہے، اسی کے ماتحت سحر بھی اپنا اثر دکھاتا ہے اور رضائے الہی سے بعد جس قدر غلبہ کفر وغیرہ کو ہے، اسی قدر تاثیر سحر کو، ہر ہر ارادہ الہی کے اندر کتنی کتنی تکوینی حکمتیں اور کائناتی مصلحتیں ہوتی ہیں، اس کا علم بھی بجز اسی دانا وبینا، علیم وخبیر کے اور کسی کو نہیں ہوسکتا۔ 366 ۔ (جیسا کہ ہر معصیت کا قاعدہ ہے کہ اس کی تحصیل مضر اور غیر مفید ہی ہوا کرتی ہے) یعنی یہ بدبخت یہود اپنا وقت اور اپنی قوتیں کیسی ضائع کررہے ہیں، ان علوم وفنون کی تحصیل میں جو ان کے حق میں نافع تو ذرا سے بھی نہیں اور مضرہی ہیں۔ ضمنا اس سے علوم سحریہ کے سیکھنے کی ممانعت بھی نکل آئی، جیسے ان علوم عقلیہ وفلسفیہ سے جو گمراہی کی طرف لے جائیں۔ فیہ دلیل علی انہ واجب الاجتناب کتعلم الفلسفۃ التی تجر علی الغوایۃ (مدارک) 367 ۔ (خود اپنے مذہبی نوشتوں کی تصریحات سے) اشارہ عہد رسالت کے یہود کی جانب ہے۔ یہ کلام متعلق ہے آیہ ماقبل (آیت) ” لما جآء ھم رسول الخ “ سے۔ یہود عہد سلیمانی اور ان کی ساحری کا قصہ درمیان میں آگیا تھا۔ اب رجوع پھر اسی پہلے تذکرہ کی جانب ہے۔ یعنی یہود معاصرین عہد رسول سے متعلق۔ متعلق بقولہ تعالیٰ (آیت) ” ولما جآء ھم “ وقصۃ السحر مستطردۃ فی البین فالضمیر لاولئک الیھود (روح) قرآن نے کس دعوی سے کہہ دیا، کہ (لقد علموا) یہ یہود ہی خوب جانتے ہیں کہ سحروساحری کیسی گندی چیز ہے۔ یہود کہہ سکتے تھے کہ ہم کہاں جانتے ہیں ؟ کس نے ہمیں یہ خبر دی ہے ؟ ہمارے مقدس نوشتوں میں کہاں یہ موجود ہے ؟ مگر نہ کہہ سکے۔ اس لیے کہ آج کی تحریف شدہ، مسخ شدہ توریت تک میں یہ تصریحات باقی ہیں :۔ ” توجادوگری کو بسنے مت دے “۔ (خروج۔ 22: 18) ” اور جادونہ کرو، اور ساعتوں پر لحاظ مت کرو۔ “ (احبار 19:26) ” اور نہ رمال وساحر ہو کیوں کہ وہ سب جو ایسے کام کرتے ہیں، خداوند کی نفرت کے باعث ہیں ، “ (استثناء۔ 18: 12) 368 ۔ (آیت) ” اشترہ۔ ضمیر سحر کی طرف ہے۔ اے اختار السحر (معالم) اے استبدل ماتتلوا الشیطین بکتاب اللہ واستبدل السحر بدین اللہ (جصاص) یہود کو دعوت حق دی جارہی تھی، پیام ان کے پاس مذہب توحید کا پہنچ رہا تھا۔ اور وہ تھے کہ ادھر سے غافل وبے پروا، فارغ وغیر متوجہ، اپنے انہیں علوم سحر وکہانت میں لگے ہوئے اور انہیں خرافات کو کمال کے درجہ میں رکھے ہوئے تھے، اشارہ ان کی اسی محرومی وبدنصیبی کی جانب ہے، 369” اپنے آپ کو بیچ ڈالا “ یعنی اپنی جان کو عذاب وہلاکت میں ڈالا۔ بئسما شروابہ۔ وہ بری چیز کفر و اعمال سحریہ ہیں جن کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ بندوں کے حال پر کمال شفقت سے تاسف و حسرت کے لہجہ میں ارشاد ہورہا ہے کہ دین برحق جیسی نعمت سے منہ موڑے ہوئے یہ کفر وسحر اختیار کیے ہوئے ہیں، گویا دوزخ کی خریداری کرچکے ہیں۔ حیث اختاروا السحر والکفر علی الدین والحق (معالم) 370 ۔ یعنی افسوس کہ اس حد تک بھی انہوں نے اللہ کی دی ہوئی عقل سلیم سے کام نہ لیا !
Ayah 2:103

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:103 in the Quran reader

اور اگر وہ ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کرتے، تو اس کا ثواب اللہ کے ہاں کہیں بہتر ہوتا کاش وہ (اتنا جانتے،371 ۔

371 ۔ (اور اپنی موجودہ روش کفر وفسق سے تائب ہوجاتے) گنہگار بلکہ سرکش ونافرمان وغدار بندوں کے حق میں اس قدر تاسف اسی مالک حقیقی ہی کا حصہ ہے ! کیا حد ہے اس شفقت وکرم بےحساب کی !
Ayah 2:104

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:104 in the Quran reader

اے ایمان والو ” راعنا “ مت کہا کرو،372 ۔ اور ” انظرنا “ کہا کرو اور سنتے رہا کرو،373 ۔ اور کافروں کے لئے عذاب دردناک ہے،374 ۔

372 ۔ (مجمع میں رسول اللہ کو مخاطب ومتوجہ کرتے وقت) رسول اللہ ﷺ جب مجمع میں قرآن مجید سناتے یاتبلیغ کرتے ہوتے اور لوگ کوئی بات سن نہ پاتے تو قدرۃ دوبارہ آپ کو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہتے۔ یہود نے ایسے موقع کے لیے ازراہ شرارت لفظ (آیت) ” راعنا “ استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ اس کے اصل معنی تو صرف اس قدر ہیں کہ ” ہماری رعایت کیجئے “ لیکن (آیت) ” راعنا “ کے ” ع “ کو ذرا کھینچ کر پڑھنے سے اس کے معنی میں ایک گستاخانہ مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ مسلمان اس شرارت سے غافل، بیخبر ، خالی الذہن، خود بھی بعض اوقات یہ لفظ بولنے لگتے۔ یہاں انہیں کو یہ ممانعت ہورہی ہے۔ (آیت) ” انظرنا “ کے معنی ہیں ” ہمارے اوپر نظر کیجئے “۔ اور یہ پہلوئے ذم سے خالی ہے۔ آیت سے صاف ظاہر ہے کہ مرتبہ رسالت کا ادب صرف معنوی ہی حیثیت سے نہیں، لفظی حیثیت سے بھی ضروری ہے۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ جن الفاظ سے احتمال بھی اہانت کا نکلتا ہے، ان سے احتیاط لازم ہے۔ وھذا دلیل علی تجنب الالفاظ المحتملۃ التی فیھا التعرض للتنقیص (ابن عربی) بلکہ امام مالک (رح) کے ہاں تو ایسے الفاظ پر حد واجب ہوجاتی ہے۔ فقہاء حنفیہ نے جو اپنی باریک بینی کے لیے سب سے ممتاز ہیں، یہیں سے یہ مسئلہ بھی نکالا ہے کہ اس بحث کا فیصلہ کہ فلاں مقام پر مراد امر خیر ہے یا شر، واضع کی نیت کے لحاظ سے ہوگا، تابع کی رائے سے نہیں۔ صحابہ کرام ؓ ظاہر ہے کہ سوء ادب کے قصد سے بالکل بری تھے، ممانعت جو کی گئی، وہ یہود کی نیت پر حکم کرکے، 373 ۔ (رسول اللہ ﷺ کے ارشادات، ادب وتعظیم کے ساتھ) حال کے بعض گمراہ فرقوں نے ایمان واسلام کے لیے رسول اللہ ﷺ کی شخصیت سے بالکل قطع نظر کرکے محض قرآن کی اتباع کو کافی سمجھ لیا ہے، ان کی گمراہی آیت سے ظاہر ہے۔ 374 ۔ (پیغمبر برحق کی توہین اور اپنی دناءت اخلاق کی پاداش میں) خصوصا ان کافروں کے لیے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شدت بعض وعداوت میں اس حد تک پہنچ جائیں، اور عام انسانیت وتہذیب کے بھی حدود کا لحاظ نہ رکھیں۔ اسیے بدتمیز معاندین کی اصلاح کی توقع بھی کیا ہوسکتی تھی۔
Ayah 2:105

مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 2:105 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں (خواہ) اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے،375 ۔ وہ اسے (ذرا بھی) پسند نہیں کرتے کہ تمہارے اوپر کوئی بھی بھلائی تمہارے پروردگار کی طرف سے اتر کر رہے،376 حالانکہ اللہ اپنی رحمت سے جسے چاہے مخصوص کرلے،377 اور وہ بڑے ہی فضل والا ہے،378 ۔

375 ۔ (آیت) ” الذین کفروا “۔ کافروں یعنی طریق اسلام کے منکروں کی بڑی قسمیں دو ہیں۔ ایک مشرک جو سرے سے توحید، رسالت، ملائکہ وجنات ہی کے قائل نہیں۔ بلکہ ان کے بجائے عجب عجب تخیلات اور ادہام گڑھ رکھے ہیں۔ دوسرے اہل کتاب جو ان بنیادی حقائق پر لفظ ایمان رکھتے ہیں، لیکن عملا ومعنا ان میں سے ہر حقیقت کو مسخ کرچکے ہیں، یہاں جملہ میں آگے جو خبر نکلے گی، اس کا مبتدا بھی (آیت) ” الذین کفروا “ ہے۔ مزید صراحت کے لیے اس کی دونوں قسموں کو بھی کھول کر بیان کردیا جائے، (آیت) ” اھل الکتب “ یہ لفظ قرآن مجید میں پہلی بار آیا ہے۔ قرآنی اصطلاح میں یہ لفظ مومینن اور مشرکین کا درمیانی درجہ رکھتا ہے۔ اور اس کا اطلاق یہود ونصاری پر ہوتا ہے۔ جو اصلاتوحید ونبوت ومعاد کے قائل تھے، اور آسمانی صحیفے بھی اپنے پاس رکھتے تھے، گومعنوی اور لفظی تحریفات کے لحاظ سے بالکل مسخ شدہ اور قرآن اور صاحب قرآن کے منکر تھے (آیت) ” المشرکین “ مشرک وہ تھے، جو سرے سے توحید ونبوت ہی کے قائل نہ تھے، بجائے ایک خدائے واحد کے مختلف فرشتوں کو مختلف قوی کا مستقل مالک و متصرف سمجھتے تھے، ان کو دیویوں، دیوتاؤں کے نام سے پکارتے، اور انہیں کی پرستش کرتے، اور مختلف عناصر اور مظاہر فطرت کی بھی الوہیت کے قائل رہتے، حیرت اور افسوس ہے کہ انگریزی کے تقریبا کل مترجمین قرآن اور اردو کے بھی متعدد شارحین نے شاید افراط ” روشن خیالی “ کے اثر سے ترکیب عبارت کو بالکل نظر انداز کرکے ترجمہ یوں کردیا ہے :۔ اہل کتاب میں سے جو کافر ہیں وہ اور مشرکین (ذرا بھی) پسند نہیں کرتے “ حالانکہ یہ ترجمہ کسی طرح بھی صحیح نہیں ہوسکتا۔ اول تو (آیت) ” اھل الکتب “ کا مفہوم ہی کافر اہل کتاب کا ہے۔ اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو اہل کتاب کہے ہی کیوں جائیں ؟ مومن ہی نہ کہلانے لگیں، اس لیے یہ کہنا کہ ان میں سے جو کافر ہیں، خود ہی بےمعنی ہے۔ پھر اس سے بڑھ کر صریح اور قاطع (آیت) ” المشرکین “ کا اعراب ہے۔ (آیت) ” المشرکین “ حالت جری میں ہے۔ اور من حڑف جار کا مجرور۔ اس کا عطف صریحا (آیت) ” اھل الکتب “ پر ہے۔ اگر (آیت) ” الذین کفروا “ پر ہوتا تو حالت رفعی میں ہوتا۔ اور بجائے (آیت) ” المشرکین “ کے المشرکون ہوتا۔ ایک حدیث میں کافروں کی یہ دو گونہ تقسیم اہل کتاب ومشرکین میں صراحت کرکے دونون کے حق میں عذاب کی دعا آئی ہے :۔ اللہم عذب الکفرۃ اھل التب والمشرکین الذین یجحدون ایاتک ویکذبون رسلک ویصدون عن سبیلک ویتعدون حدودک ویدعون معک الھا اخر لا الہ الا انت تبارک وتعالیت عما یقول الضلمون علواکبیر۔ 376: (اے مسلمانو ! ) مطلب یہ ہے کہ کافروں کو تو چاہے مطلب یہ ہے کہ کافروں کو تو چاہے وہ اہل کتاب ہوں یا مشرک یہ کسی طرح گوارا ہی نہیں، بلکہ دل سے شاق گزر رہا ہے کہ خیر و رحمت کا نزول مسلمانوں پر ہو۔ الخیر، خیر سے مراد عموما وحی ونبوت لی گئی ہے۔ الخیر الوحی (کبیر) فسر الخیر بالوحی (بیضاوی) لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے ہر قسم کی فلاح دنیوی واخروی کا جامع سمجھا جائے اور اس کے تحت میں علم، نصرت غیبی، فتوحات ملکی وغیرہ سب کو شامل کرلیا جائے۔ اے بالعلم وبالنصرۃ ولعل المراد بہ ما یعم ذلک (بیضاوی) ھنا عام فی جمیع انواع الخیر (بحر) عام فی انواع الخیر کلھا (روح) 377 ۔ (اپنے قانون حکمت ومصالح تکوینی کے ماتحت) یہود کو اصل حسد اس کا تھا کہ نعمت نبوت کے حقدار تو ہم ہیں یعنی اولاد اسرائیل۔ یہ اہل عرب کو کہ بنی اسماعیل ہیں، یہ دولت نبوت کہاں سے ملی جاتی ہے اور کیسے مل سکتی ہے ؟ اور (آیت) ” اھل الکتب “ سے اشارہ زیادہ تر انہیں کی طرف ہے۔ اور الحمد للہ کہ ہمارے قدیم مفسرین نے بھی آیت کو اسی مفہوم میں لیا ہے۔ معنی الایۃ ان اللہ تعالیٰ بعث الانبیاء من ولد اسحاق فلما بعث النبی ﷺ من ولد اسمعیل، لم یقع ذلک بود الیھود (معالم) 378 ۔ (وہ جس فرد، جس نسل، جماعت کو چاہے اپنے فضل وکرم سے نواز دے) اور اب اگر کسی قوم یا نسل کو محروم کیا جارہا ہے تو اس کی بنا یہ نہیں کہ ادھر سے فضل وکرم میں کچھ کمی ہوگئی ہے بلکہ یہ اس لیے ہے کہ خود اس قوم نے اپنی مسلسل نالائق روش سے اپنے کو اس فضل وکرم کا نااہل ثابت کردیا، اور اب اسے اس نعمت سے نوازے جانا آئین حکمت کے منافی ہے۔
Ayah 2:106

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:106 in the Quran reader

ہم جس آیت کو منسوخ کردیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں۔379 ۔ تو (کوئی) اس سے بہتر ہی،380 ۔ یا مثل اس کے لے آتے ہیں کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے،381 ۔

379 ۔ (لوگوں کے دماغ یا حافظہ سے) انساء ھا اے حذف ذکرھا عن القلوب (راغب) انساء ایۃ اے اذھابھا عن القلوب (بیضاوی) ایۃ کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اس کا اطلاق آیت مکتوبی پر بھی ہوتا ہے اور نشان، دلیل، معجزہ پر بھی، یہاں مراد اگر دلائل ومعجزات سے لی جائے جب تو آگے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک کے بجائے دوسرا نشان حقانیت قرآن کا وجود میں اب بھی آتا ہی رہتا ہے۔ اور زمانہ نزول قرآن میں تو خارق عادت نشانوں کی بھی کمی نہ تھی، البتہ اگر آیت مکتوبی ہی مراد لی جائے جب بھی دو شقیں ممکن ہیں۔ آیتیں یا قرآن مجید کی ہوں یا کتب سابق کی، اگر کتب سابق کی آیتیں مراد ہیں جیسا کہ ابو مسلم اصفہانی کا مذہب ہے جب بھی بحث آگے نہیں بڑھتی۔ پرانی کتابوں کی آیتوں کا قرآنی آیتوں سے منسوخ ہونا تو ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے جس میں نہ کوئی اختلاف ہے نہ نزاع، اب اگر آیات قرآنی ہی مراد ہوں جیسا کہ جمہور مفسرین کا خیال ہے تو سوال یہ رہ جاتا ہے کہ نسخ سے مفہوم کیا ہے ؟ نسخ سے مراد کسی نے آج تک یہ تو لی نہیں کہ فلاں عقیدہ کسی زمانہ میں واجب تھا اب وہ منافی ایمان قرار پایا۔ یاجھوٹ، چوری، زنا، قتل پہلے حرام تھے پھر حلال قرار پاگئے یا فلاں حکایت پہلے جس طرح قرآن میں بیان ہوئی تھی بعد کو اس کی تردید ہوگئی۔ غرض نسخ کی گنجائش کا عقائد میں، کلیات اخلاق میں، امور حسی میں، قصص گزشتہ اور حکایات ماضی میں، اخبار غیب میں یعنی قرآن مجید کے پیشتر حصہ میں تو کوئی بھی قائل نہیں۔ نسخ کی گنجائش جو کچھ بھی ہے لے دے کے باب احکام میں ہے اور احکام کی مثال طیبب کے نسخے کی ہے۔ طیب کی تشخیص اپنی جگہ پر بدستور رہتی ہے لیکن مریض کی حالت بدلتی رہتی ہے۔ اور پھر موسم اور آب وہوا میں بھی فرق ہوتے رہتے ہیں۔ ان حالات میں کوئی حاذق سے حاذق طبیب بھی اپنے نسخہ کے اجزاء میں ان بدلے ہوئے حالات کے مطابق ترمیم کرنے میں تامل نہ کرے گا۔ قرآن کے بعض احکام قانون کے نسخ کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ خود قانون ساز و قانون آفریں کے قلم سے عین وضع قانون کے دوران میں بعض قانون جو عارضی وہنگامی حیثیت رکھتے ہیں بدل دیئے گئے اور ان کی جگہ مستقل ودوامی قوانین نے لے لی انسان کے دانت اور جبڑے مستقل طور پر غذاؤں کے چبانے، پیسنے، چرنے، کاٹنے اور پھاڑنے ہی کے کام کے لیے ہیں، لیکن ابتداء ئی شیرخوارگی میں دانت نکلنے سے قبل دوسری قسم کی شربی یا نیم شربی غذائیں اس کے لیے موزوں ہیں، اس موٹی اور سیدھی سی بات میں خدا معلوم اتنا گھبرانے کا کونسا پہلو ہے جو آج بعض مفسرین جدید خود مسئلہ نسخ ہی سے انکار پر تل گئے ہیں۔ یہ بھی خوب واضح رہے کہ یہ نسخ جو کچھ بھی ہوگا محض علم بشری ناقص و محدود کے اعتبار سے ہوگا۔ ورنہ علم الہی میں تو ہر حکم ازل سے وقت معین کے لیے مقرر وثابت ہی ہے۔ جمہور کا مذہب اسی وقوع نسخ کا ہے۔ گو ایک گروہ عدم نسخ کا بھی قائل رہا ہے۔ ویروی عن بعض المسلمین انکار النسخ واحتج الجمھور من المسلمین علی جواز النسخ ووقوعہ (کبیر) اور فیقہ جصاص نے ایک غیر فقیہ کا قول بھی اس معنی میں نقل کیا ہے کہ شریعت محمدی کے اندر کوئی نسخ نہیں، ناسخ خود یہ شریعت ساری سابق شریعتوں کی ہے۔ زعم بعض المتأخرین من غیر اھل الفقۃ انہ لا نسخ فی شریعۃ نبینا محمد ﷺ وان جمیع ما ذکر فیھا من النسخ فانما المراد بہ نسخ شرائع الانبیاء المتقدمین (احکام القرآن) اور نسخ کے معنی شریعت میں ازالہ یا تبدیلی کے ہیں بھی نہیں، اصلی مغالطہ یہیں سے شروع ہوتا ہے کہ نسخ کو اردو کی منسوخی کے مرادف سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ اصطلاح شریعت میں نسخ کے معنی کسی مطلق وغیر مقید حکم کو صرف محدود ومقید کردینے کے ہیں۔ و تفسیر النسخ لغۃ التبدیل وشریعۃ بیان انتھاء الحکم الشرعی المطلق الذی تقرر فی اوھامنا استمرارہ بطریق التراخی فکان تبدیلا فی حقنا بیانا محضا فی حق صاحب الشرع (مدارک) 380 ۔ (یعنی وقت وموسم، بدلے ہوئے حالات کے زیادہ مطابق) اے بما ھو انفع لکم واسھل علیکم (معالم) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ جو حال یا وارد، بلااختیار عبد زائل یا مغلوب ہوجائے حق تعالیٰ اس سے بہتر یا اس کے مثل ہی دوسرا عطا کردیتا ہے۔ سو اس پر افسوس و حسرت نہ کرنا چاہیے۔ 381 ۔ (سو ایسے قادر مطلق کے لیے کیا مشکل ہے کہ احوال ومصالح کی رعایت برابر کرتا رہے) خطاب یہاں معترض، معاند منکر نسخ سے ہے، قیل المنکر النسخ (روح) اور بعض نے مطلق سامع کو مخاطب قرار دیا ہے۔ والاولی ان یکون المخاطب السامع (بحر)
Ayah 2:107

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 2:107 in the Quran reader

کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہی کے لئے سلطنت آسمانوں اور زمین کی ہے،382 ۔ اور اللہ کے سوا کوئی تمہارا یار ومدد گار نہیں،383 ۔

382 (اور اسی کو ہر طرح کا اختیار کامل و تصرف مطلق حاصل ہے) خطاب یہاں عام ہے ہر سامع اور مخاطب کے لیے، اور ام کا مفہوم ایجابی ہے یعنی اے مخاطب تجھے خوب معلوم ہے معناہ الایجاب اے قد علمت ایھا المخاطب (بحر) یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطاب رسول اللہ ﷺ اور پھر آپ کے واسطہ سے امت سے ہے۔ الخطاب للنبی والمراد ھو وامتہ (بیضاوی) 383 ۔ (اے بنی آدم) آیت بجائے خود ایک درس توحید کامل کا ہے۔ ملک، ولایت، نصرت سب اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے۔
Ayah 2:108

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 2:108 in the Quran reader

تم تو شاید یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے سوال کرڈالو،384 ۔ جیسا کہ (اس کے) قبل موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کئے جاچکے،385 ۔ اور جو کوئی ایمان کے بدلہ میں کفر اختیار کرلے گا،386 ۔ سو وہ یقیناً سیدھی راہ سے بھٹک گیا

384 ۔ (از راہ عناد واعتراض) مخاطب یہاں غالب یہود ہیں۔ نزلت فی الیھود (معالم) اور قول بھی نقل ہوئے ہیں لیکن ترجیح اسی قول کو ہے۔ اختلفوا فی المخاطب بہ علی وجوہ احدھا انہم المسلمون والقول الثانی انہ خطاب لاھل مکۃ والقول الثالث المراد الیھود وھذا القول اصح (کبیر) ورجح انھم الیھود (بحر) (آیت) ” رسولکم “ سے مراد اس صورت میں رسول وقت سے ہوگی۔ تمہارے زمانہ کے رسول سے لیکن مسلمان ہی اگر مخاطب سمجھے جائیں تو یہ بھی تہدیدا جائز ہوگا۔ ام یہاں ہمزہ کا مرادف اور سوالیہ نہیں منقطعہ ہے۔ بل کا مرادف ام اے بل (جلالین) ام منقطعۃ التقدیر بل تریدون (مدارک) ام ھھنا منقطعۃ والتقدیر بل تریدون (عسکری) فیھا الاضراب والانتقال عن حملھم علی العمل بموجب علمھم (ابوسعود) 385 ۔ سوال اگر کسی مسئلہ کسی سنجیدہ تحقیق ودریافت کے لیے ہوں تو باعث رحمت ہیں۔ لیکن جب ضد اور نفسانیت اور شرارت سے ہوں اور اعتراض محض اعتراض کی غرض سے ہو تو وہی سوالات ایک لعنت بن جاتے ہیں۔ حضرت موسیٰ سے جیسے جیسے گستاخانہ سوالات اور بہیودہ فرمائشوں کی بھر مار بنی اسرائیل کرتے رہے، ان کے تذکرہ سے تاریخ اسرائیل اور خودبائبل کے صفحات لبریز ہیں، قرآن کا اس کو اتنی کھلی ہوئی تلمیح کے طور پر آنا بجائے خود اس کی دلیل ہے کہ قرآن بھیجنے والا اس سے خوب واقف تھا۔ اور یہ کلام عرب کے ایک ان پڑھ انسان کی تصنیف ہو نہیں سکتا۔ 386 ۔ (جس کی ایک شکل یہی رسول سے معاندانہ اور گستاخانہ سوال و جواب ہے) یبدل الکفر بالایمان کے معنی ہی یہ ہیں کہ ایمان کے بدلہ اور مقابلہ میں راہ کفر کو اختیار کیا۔ (آیت) ’ ’ من یتبدل الکفر “ اے یختارہ ویاخذہ لنفسہ “ (ابوسعود) بالایمان اے بمقابلتہ بدلامنہ (ابو سعود) سیاق میں ذکر یہود کا ہے اس لیے انہیں کے ایک نبی کے صحیفہ کا اقتباس بےمحل نہ ہوگا۔” سنواے آسمانو ! اور کان لگا اے زمین کے خداوند یوں فرماتا ہے کہ لڑکوں کو میں نے پالا پوسا پھر انہوں نے مجھ سے سرکشی کی۔ بیل اپنے مالک کو پہچانتا ہے اور گدھا اپنے صاحب کی چرنی کو۔ بنی اسرائیل نہیں جانتے میرے لوگ کچھ نہیں سوچتے۔ آہ خطا کار گروہ، ایک قوم جو گناہ سے لدی ہوئی ہے، بدکاروں کی نسل خراب اولاد کہ انہوں نے خداوند کو ترک کیا۔ اسرائیل کے خدا ہی کو حقیر جانا، اس سے بالکل پھرگئے “ (یسعیاہ 1:3 ۔ 4)
Ayah 2:109

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:109 in the Quran reader

بہت سے اہل کتاب تو دل ہی سے چاہتے ہیں کہ تمہیں ایمان (لے آنے) کے بعد پھر سے کافر بنالیں،387 ۔ حسد کی راہ سے جو ان کے نفسوں میں ہے،388 ۔ (اور یہ بھی) بعد اس کے کہ ان پر حق واضح ہوچکا،389 ۔ سو معاف کرتے رہو،390 ۔ تاآنکہ اللہ اپنا حکم بھیج دے،391 ۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے،392 ۔

387:۔ (اے ایمان والو) شان نزول کے ایک مخصوص واقعہ کی بنا پر عموما مفسرین نے یہاں اہل کتاب سے مراد یہود یا احبار یہود لی ہے۔ لیکن لفظ قرآنی عام ہے اور یہود ونصاری دونوں اس کے عموم میں یکساں داخل ہیں۔ مسیحیوں کی طرف سے جو کھلا ہوا زبردست اور منظم اور علماء یہود کی طرف سے نسبۃ ہلکا اور مخفی پروپیگنڈا عقائد اسلام کے خلاف سیاسی، معاشرتی، تاریخی، جغرافی تحریروں کے ذریعہ سے اسلامی آبادیوں کے درمیان جاری رہتا ہے، وہ سب اسی کے مظاہر ہیں۔ غایب ان ساری سرگرمیوں اور کوششوں کی یہی رہتی ہے کہ مسلمان اگر یہودیت ومسیحیت کو نہ بھی قبول کریں جب بھی کم از کم اپنے دین کی طرف سے تو ضرور بدگمان وبرگشتہ ہو کر رہیں۔ 388 ۔ یعنی یہ کوششیں اور سرگرمیاں بھی اخلاص وہوا خواہی کی راہ سے نہیں۔ رشک وحسد سے پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ یہود کا حسد تو خود اپنے پیغمبر وہادی تک سے رہا ہے اور اس پر خود عہد عتیق ناطق :۔” انہوں نے خیمہ گاہ میں موسیٰ کے بردار و خداوند کے مقدس مرد ہارون پر حسد کیا “ (زبور۔ 160: 16) اور عہد جدید کی شہادتیں بھی حسد کے باب میں کچھ کم واضح وصریح نہیں :۔ ” یہودیوں نے حسد میں آکر بازاری آدمیوں میں سے کئی بدمعاشوں کو اپنے ساتھ لیا اور بھیڑ لگا کر شہر میں فساد کرنے لگے “۔ (اعمال 17:5 1) ” یہودی اتنی بھیڑ دیکھ کر حسد میں بھرگئے “۔ (اعمال 13:45) 389 ۔ یعنی اہل کتاب کے اس انکار ومخالفت کی بنیاد کوئی اشتباہ یا مغالطہ عقلی نہیں۔ محض ضد اور عناد اور استکبار ہے۔ وضوح حق ان پر پوری طرح ہوچکا ہے۔ 390 ۔ (سردست اے مسلمانو ! ان سے کسی طرح کا انتقام نہ لو) یہود کی مغویانہ کوششوں پر مسلمانوں کا اشتعال ایک امر طبعی تھا۔ ان کو ہدایت ہورہی ہے کہ سردست عفو و درگزر ہی سے کام لیتے رہو اور انتقامی تعزیری کا رروائیاں فورا ہی نہ شروع کر بیٹھو۔ 391 (جہاد و قتال کے لیے) اکثر صحابہ وتابعین سے حکم کی تفسیر حکم جہاد و قتال کے ساتھ منقول ہے۔ انہ الا مر ابالقتال وھو قوقول اکثر الصحابۃ (کبیر) الذی ھو الاذن فی قتالھم (بیضوی) المرادبہ الامر بالقتال (روح) حکم قتال اس وقت تک نازل نہیں ہوا تھا آیت سے صاف اشارہ اس طرف نکل آیا کہ عنقریب ہونے والا ہے۔ 392 ۔ (پس ایسے قادر مطلق کے لیے کیا مشکل ہے کہ سرکش اور زور آور کافروں سے پورا بدلہ لے لے اور ان کا زور توڑ دے۔ اور مظلوم ومغلوب مسلمانوں کو دیکھتے دیکھتے مظفر ومنصور، حاکم و غالب بنادے) ،
Ayah 2:110

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:110 in the Quran reader

اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو، 393 ۔ اور جو کچھ بھلائی تم اپنے واسطے آگے بھیج دو گے اسے اللہ کے پاس پالوگے ، 394 ۔ یقیناً تم جو کچھ کررہے اللہ اس کا خوب دیکھنے والا ہے،395 ۔

393 ۔ (اس درمیان میں اے مسلمانو) مطلب یہ ہے کہ زمانہ جہاد کے احکام دوسرے ہیں جب تک وہ نافذ نہ ہوں ان کے انتظار میں عام احکام اسلامی کی پابندی میں غفلت وتساہل کو راہ نہ دو ۔ یہ مالی اور بدنی عبادتیں تو ہر حال و صورت میں واجب العمل ہیں۔ 394 ۔ نیکی کچھ جہاد و قتال ہی پر موقوف نہیں۔ اعمال صالحہ جو کچھ بھی میسر آجائیں سب یکساں مقبولیت رکھتے ہیں۔ برابر انہیں میں لگے رہو۔ (آیت) ” لانفسکم “ حذف مضاف ہے یعنی اپنے نفع اپنی نجات ومغفرت کے واسطے وھو علی حذف مضاف اے لنجاۃ انفسکم (بحر) (آیت) ” تجدوہ۔ اسے پالوگے، یعنی اس کے اجر وثواب کو پالوگے۔ یہ مراد نہیں کہ بعینہ وہ عمل موجود ملے گا۔ (آیت) ” تجدوہ “ اے ثوابہ (بیضاوی) المراد وجدان ثوابہ وجزاۂ (کبیر) 395 ۔ (سو اس کا احتمال ہی نہیں کہ کوئی نیکی ضائع ہوجائے گی۔ اجر ہر نیکی کا پورا پورا ملے گا)