2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 2:236

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader

تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم ان بیویوں کو جنہیں تم نے نہ ہاتھ لگایا اور نہ ان کے لیے مہر مقرر کیا طلاق دے دو ،900 ۔ وسعت والے کے ذمہ اس کی حیثیت کے لائق ہے اور تنگی والے کے ذمہ اس کی حیثیت کے لائق،901 ۔ (یہ) خرچ شرافت کے موافق ہو (اور یہ) واجب ہے، خوش معاملہ لوگوں پر،902 ۔

900 ۔ یعنی کوئی باز پرس نہیں مہر کے باب میں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی صورتوں میں شوہر کے ذمہ مہر واجب بھی نہیں، (آیت) ” لم تمسوھن۔ یہاں مس سے مراد ہمبستری کی دونوں قسمیں ہیں، حقیقی اور واقعی، اور حکمی وفقہی (یعنی خلوت صحیحہ) طلاق ہمبستری کے قبل بھی بالکل جائز ہے۔ بغیر کسی مہر کی ذمہ داری کے، نکاح بلاتعین مہر بھی صحیح رہتا ہے۔ طلاق کے وقت اس واجب مبہم کا اندازہ شوہر کی حسب استطاعت کیا جائے گا۔ 901 ۔ (آیت) ” متعوھن “ کا لفظ قرآن میں عام ہے اور مذاق بشری کی ہمہ گیری اس عموم کو چاہتی بھی ہے۔ اے ملکوھن مایتمتعن بہ وذلک الشیء یسمی متعۃ (روح) متعۃ الطلاق اعلاھا الخادم ودون ذلک الورق ودون ذلک الکسوۃ (روح، عن ابن عباس ؓ ادنی مایکون من المتعۃ ثلاثون درھما (روح۔ عن ابن عمر ؓ) البتہ فقہاء نے یہاں عموما تین کپڑوں کا جوڑا مراد لے لیا ہے۔ لیکن خود یہ جوڑا بھی یقیناً حسب رواج ملک وقوم ہوگا۔ 902 ۔ اور خوش معاملہ تو سارے مسلمانوں کو ہونا چاہیے، اس لیے مراد ہیں سارے مسلمان، لفظ محسنین لاکر ان کے اس وصف کو نمایاں کردیا ہے والاحسان انما علی وجہ التاکید (جصاص) اے علی المسلمین (مدارک)
Ayah 2:237

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader

اور اگر تم نے انہیں طلاق دے دی ہے قبل اس کے کہ انہیں ہاتھ لگایا ہو، لیکن ان کے لیے کچھ مقرر کرچکے ہو، تو جتنا مہر تم نے مقرر کیا ہے اس کا آدھا واجب ہے بجز اس صورت کے کہ (یا تو) وہ عورتیں خود معاف کردیں، یا وہ (اپنا حق) معاف کردے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔903 ۔ اور اگر تم (اپنا حق) معاف کردو تو یہ بہت ہی قرین تقوی ہے،904 ۔ اور آپس میں لطف و احسان نظر انداز نہ کرو،905 ۔ تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ یقیناً اس کا خوب دیکھنے والا ہے،906 ۔

903 ۔ طلاق کی ایک صورت وہ تھی جو ابھی اوپر بیان ہوچکی، یعنی نہ مہر طے ہوا تھا لیکن خلوت نہیں ہوئی تھی کہ طلاق ہوگئی، عام قاعدہ ایسے موقع کے لیے یہ ہے کہ مہر مقرر کا نصف شوہر کے ذمہ واجب الادا ہوگا۔ لیکن دو صورتیں اس حکم عام سے استثناء کی ہیں۔ ایک یہ کہ بیوی اپنے حق سے تمامتر دستبردار ہوجائے اور نصف مہر بھی نہ لے، اور دوسری صورت یہ کہ شوہر اپنے حق سے دستبردار ہوجائے، یعنی جو نصف مہر اسے رکھ لینے کا اختیار تھا اسے بھی وہ نہ رکھے اور بجائے نصف کے پورا مہر ادا کردے۔ (آیت) ” یعفون “ عورت اپنا حق معاف کردے، اور اس کا حق ہے وہی مہر معین کا نصف۔ گویا عورت مہر تمامتر چھوڑ دے، (آیت) ” نصف ما فرضتم “۔ تعداد مہر اگر معین تھی، جب تو اس کا نصف ظاہر ہے۔ اگر تعداد معین نہ تھی تو فیصلہ مہر مثل پر ہوگا (یعنی خاندانی مہر پر) (آیت) ” الذی بیدہ عقدۃ النکاح “ یعنی جو نکاح کی گرہ کے توڑے اور جوڑے رکھنے کا اختیار رکھتا ہے مراد شوہر ہے۔ یہ الفاظ اس پر ناطق ہیں کہ معاہدۂ نکاح میں شریک غالب کی حیثیت شوہر ہی رکھتا ہے۔ 904 ۔ قانون اور ضابطہ ابھی ابھی بیان ہوچکا ہے کہ شوہر طلاق کی اس صورت میں نصف مہر روک سکتا ہے، اب معا اخلاق کے افضل واعلی مقام کی طرف رہنمائی کردی گئی کہ حق وصول کرنے سے کہیں بہتر و برتر اس حق کا معاف کردینا ہے۔ جائز و برتر، مباح و افضل، قانون واخلاق کا یہ مسلسل امتزاج قرآن کے معنوی معجزات میں سے ہے۔ 905 ۔ چناچہ طلاق کے موقع پر بھی، جو تعلقات کی بقا کا نہیں، اس کے اختتام و انقطاع کے اعلان کا نام ہے، باہمی حسن سلوک، مروت، رعایت سے نہ چوکو، آیت سے صاف اشارہ ادھر نکل رہا ہے کہ کسی ناخوشگوار واقعہ کے پیش آجانے سے صحبت قدیم و محبت سابق کے حقوق زائل نہیں ہوجاتے۔ بلکہ حالت طیش وناگواری میں بھی لحاظ تقوی اور حسن اخلاق اور عفو و احسان کا برابر رکھنا چاہیے۔ (آیت) ” ولا تنسوا۔ نسیان یہاں بھول کے معنی میں نہیں کہ وہ تو غیر اختیاری ہے، بلکہ ترک کرنے اور نظر انداز کرنے کے معنی میں ہے۔ قال ابو محمد والنسیان ھھنا الترک (ابن قتیبہ) 906 ۔ سو اس کے ہاں تمہاری کوئی سی نیکی بھی، کسی درجہ موقع کی ہو، رائیگاں نہ جائے گی ،
Ayah 2:238

حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ Open ayah 2:238 in the Quran reader

(سب ہی) نمازوں کی پابندی رکھو۔ اور (خصوصا) درمیانی نماز کی،907 ۔ اور اللہ کے سامنے عاجزوں (کی طرح) کھڑے رہا کرو،908 ۔

907 ۔ اوپر سے ذکر برابر بیویوں کے حقوق ومطالبات کا چلا آرہا تھا اور آگے پھر یہی ذکر چلے گا۔ درمیان میں احکام نماز سے متعلق آگئے۔ یہیں سے اس حقیقت پر ایک بار اور روشنی پڑ رہی ہے کہ اسلام میں معاشرت ومعاملت، قانون واخلاق کے مسائل، عبادات سے الگ نہیں۔ اور نظام شریعت میں خالق کے حقوق اور مخلوق کے حقوق دوش بدوش چل رہے ہیں۔ (آیت) ” حفظوا علی الصلوت “۔ محققین نے محافظت صلوۃ کے تین درجے قرار دیئے ہیں، ادنی یہ کہ نماز وقت پر پڑھی جائے اور فرائض وواجبات ترک نہ کیے جائیں، اوسط یہ کہ جسم ہر طرح طہارت ظاہری سے آراستہ ہو، طبیعت اکل حلال کی خوگر ہو، دل میں خشوع و خضوع ہو، سنن ومستحبات کی پوری رعایت رہے۔ اعلیٰ یہ کہ نماز گویا حق تعالیٰ کے مواجہہ میں ہورہی ہے۔ اس قدر حضور قلب واستغراق رہے۔ (آیت) ” الصلوۃ الوسطی “۔ اس درمیانی نماز سے کیا مراد ہے ؟ اکثر ائمہ تفاسیر نے نماز عصر مراد لی ہے اور یہی معنی ابن جریر میں حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابوہریرہ ؓ ، صحابیوں اور قتادہ وضحاک تابعین اور امام ابوحنفیہ (رح) و امام نخعی (رح) سے مروی ہوئے ہیں، لیکن ابن جریر ہی میں دوسرے معنی، نماز ظہر اور نماز مغرب اور نماز فجر کے بھی اسی پایہ کے حضرات سے منقول ہیں۔ بعض نے لفظی پہلو پر زور دے کر یہ تفسیر کی ہے کہ ہر نماز چونکہ اپنی جگہ پر عبادات وحسنات کا درجہ متوسط ہے، اور پھر ہر نماز کے ادھر ادھر کچھ نمازیں بھی ہوتی ہیں، نماز وسطی کا اطلاق ہر نماز پر ہوسکتا ہے، اور اس سے کسی خاص وقت کی نماز مقصود نہیں۔ 908 ۔ (حالت نماز میں) (آیت) ” قنتین “۔ لفظ قنوت بہت جامع ہے اور حاوی ہے ذکر اور دعا اور خشوع و خضوع پر۔ قال ابو محمد ولا اری اصل ھذا الحرف الا الطاعۃ لان جمیع ھذہ الخصال من الصلوۃ والقیام فیھا والدعاء وغیر ذلک یکون عنھا (ابن قتیبہ)
Ayah 2:239

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader

لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو تو تم پیدل ہی (پڑھ لیا کرو) یا سواری پر،909 ۔ پھر جب تم امن میں آجاؤ تو اللہ کو یاد کیا کرو جس طرح اس نے تمہیں سکھایا ہے جس کو تم جانتے (بھی) نہ تھے،910 ۔

909 ۔ (جس طرح بھی بن پڑے اور جس طرح تک حالات اجازت دیں) (آیت) ” فان خفتم “۔ یعنی اگر عام قاعدہ کے مطابق نماز باجماعت میں کسی دشمن کی طرف سے خوف ہو۔ اسلام کی یہ روزانہ پنج وقتہ پریڈ یا دربار الہی میں حاضری اس درجہ اہمیت رکھتی ہے کہ بالکل معاف عین حالت جنگ میں بھی نہیں ہوتی۔ محافظت صلوۃ کا حکم بہرحال قطعی اور دائمی ہے۔ ترک نماز کی اجازت اس خطرہ کے حال میں بھی نہیں۔ البتہ رعایت ماحول کی پوری گنجائش دوسرے موقعوں کی طرح اس محل میں بھی رکھ دی گئی ہے۔ نماز خوف کی تفصیلات کتب فقہ میں ملیں گی۔ 910 ۔ یعنی اب نماز عام قاعدوں کے موافق وماتحت ادا کرو۔ (آیت) ” فاذا امنتم “ یعنی جب دشمن کی طرف سے اندیشہ اور خطرہ باقی نہ رہے۔
Ayah 2:240

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:240 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں سے وفات پاجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں (ان پر لازم ہے) اپنی بیویوں کے حق میں نفع اٹھانے کی وصیت (کرجانے) کی کہ وہ ایک سال تک (گھر سے) نکالی نہ جائیں،911 ۔ لیکن اگر (خود) نکل جائیں تو کوئی گناہ تم پر نہیں اس باب میں جسے وہ (بیویاں) اپنے باب میں شرافت کے ساتھ کریں،912 ۔ اور اللہ بڑا زبردست ہے، بڑا حکمت والا ہے،913 ۔

911 ۔ یہ وصیت کا حکم اس وقت تھا جب میراث کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے، جب میراث کے مستقل احکام نازل ہوگئے اور شوہر کے ترکہ میں ایک مستقل حصہ بیوہ کا بھی مقرر ہوگیا، تو ظاہر ہے کہ اب حکم وصیت پر عمل کا کوئی محل باقی نہ رہا۔ اسی کو مفسرین اپنی اصطلاح میں نسخ سے تعبیر کرتے ہیں، اس وقت یعنی احکام میراث کے نزول سے قبل شریعت نے بیوہ عورتوں کے لیے حسب ذیل رعایتیں رکھی تھیں :۔ ( 1) وہ اگر شوہر ہی کے گھر رہنا چاہیں تو ایک سال تک انہیں کوئی بےدخل نہیں کرسکے گا (2) انہیں کھانا کپڑا بھی اس مدت تک شوہر ہی کے ترکہ سے ملتا رہے گا۔ (3) وہ خود ہی اگر اپنی کسی مصلحت سے اس گھر میں رہنا نہ چاہیں، تو بعد ختم عدت ان کے لیے یہ بالکل جائز تھا، اور دوسرے حقوق کی طرح اس حق سے بھی دستبرداری کا انہیں حق حاصل تھا۔ (آیت) ” متاعا “ یہ نفع اٹھانا، کھانے اور کپڑے اور سکونت مکان کے متعلق ہوگا۔ المتاع عام شامل اللانفاق والاسکان جمیعا (روح) بیوہ غریب، ظہور اسلام کے وقت یوں بھی ہر مذہب میں کسمپرسی میں پڑی ہوئی تھی، اور عرب جاہلیت میں پہلی بار بیوہ کی عزت اور اس کے حقوق کی نصرت کی، مشرکانہ مذہبوں میں تو بیوگی اور نحوست مترادف تھیں، اور بیوہ کو گھر بھر کی تحقیر وطعن کا ہدف بننا پڑتا تھا۔ 912 ۔ مثلا یہی نکاح یا نکاح کی بات چیت۔ (آیت) ” من معروف “ کی قید نے اسے واضح کردیا کہ وہ کاروائی نہ کسی ضابطہ شریعت کے خلاف ہوگی، مثلا قانون عدت کی خلاف ورزی اور نہ کسی آئین اخلاقی کے منافی۔ 913 ۔ (آیت) ” عزیز “۔ یاد دلادیا کہ وہ بڑا قوت والا ہے، سو ایسے کے حکم کی خلاف ورزی کیسی زبردست نادانی ہے۔ (آیت) ” حکیم “۔ یاد دلادیا کہ اس کے احکام سارے کے سارے، قریب وبعید، جلی وخفی، مصالح بشری کے جامع ہوتے ہیں۔
Ayah 2:241

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:241 in the Quran reader

اور طلاقنوں کے حق میں بھی نفع پہنچانا دستور کے موافق مقرر ہے،914 ۔

914 ۔ (کسی نہ کسی درجہ میں) مطلب یہ ہے کہ جس عورت کو طلاق دی ایک سہ ماہی کی مدت مقرر کی ہے کہ اتنی مدت تک کھانے پہننے اور رہنے سہنے کا انتظام شوہر پر واجب ہے مطلقہ پر تینوں طلاقیں اگر ابھی نہیں پڑی ہیں، جب تو یہ حکم متفق علیہ ہے، اور اگر پڑچکی ہیں تو حنفیہ کے ہاں جب بھی یہی حکم ہے۔
Ayah 2:242

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 2:242 in the Quran reader

(یہ) پرہیزگاروں پر واجب ہے،915 ۔ اللہ اسی طرح تمہارے لئے کھول کر اپنے احکام بیان کرتا ہے شاید کہ تم سمجھو،916 ۔

915 ۔ (آیت) ” علی المتقین “۔ یعنی مسلمانوں پر، کہ اس درجہ میں پرہیزگار ہر مسلمان ہوتا ہے، اے متقی الشرک (بحر) علی کل من کان متقیا عن الکفر (کبیر) بمعنی ال مومنین المتقین الشرک (معالم) 916 ۔ (اور ان پر عمل کرو) مفسر تھانوی (رح) نے یہاں پر خوب لکھا ہے کہ ان احکام طلاق وغیرہ میں (آیت) ” اتقوا اللہ “۔ اور (آیت) ” حدود اللہ “ اور (آیت) ” سمیع علیم “ اور (آیت) ” عزیز حکیم “ اور (آیت) ” بصیر “ اور (آیت) ” خبیر “ اور (آیت) ” ھم الظلمون “ اور (آیت) ” فقد ظلم نفسہ “ وغیرہ کا اس کثرت سے آنا، جو سب سب مخالفت پر وعیدیں ہیں، اس امر پر دلیل قطعی ہیں، کہ یہ سب احکام شریعت میں مقصود اور واجب ہیں، محض مشورہ کے طور پر نہیں ہیں کہ ان میں ترمیم وتبدیل کا ہمیں حق واختیار حاصل ہے۔
Ayah 2:243

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

کیا تجھے خبر نہیں،917 ۔ ان لوگوں کی کہ جو اپنے گھروں سے نکل گئے تھے موت سے بچنے کے لئے، اور وہ ہزاروں ہی تھے،918 ۔ تو اللہ نے ان سے کہا کہ مرجاؤ،919 ۔ پھر اس نے انہیں جلا دیا،920 ۔ بیشک اللہ انسانوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے،921 ۔ لیکن اکثر انسان شکر نہیں ادا کرتے،922 ۔

917 ۔ (اے مخاطب) (آیت) ” الم تر “۔ عربی میں یہ طرز خطاب ایسے موقع پر آتا ہے۔ جب مخاطب کو کسی بڑے اہم اور معروف واقعہ کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے۔ رؤیت سے ہمیشہ چشم بصارت سے دیکھنا مراد نہیں ہوتا بلکہ وہم و تخیل اور غور وفکر اور عقل کی راہ سے بھی مطالعہ ومشاہدہ مراد ہوتا ہے۔ اور جب اس فعل کا صلہ الی کے ساتھ آتا ہے، تو کوئی مقصود کوئی نتیجہ نکالنا یا عبرت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ واذا عدی رأیت بالی اقتضی معنی النظر المؤدی الاالاعتبار (راغب) 918 ۔ (عین موقع جہاد پر) (آیت) ” حذر الموت “ یہ تصریح ہے کہ اس کی کہ اتنی بڑی تعداد میں اپنے گھروں سے باہر نکل جانا محض امر اتفاقی نہ تھا، موت کے خوف سے تھا۔ ذکر کسی قدیم قوم کا ہے، اور اشارہ کسی ایسے واقعہ کی جانب ہے، جو مخاطبین اول، اہل عرب کے لیے معروف و متعارف تھا۔ مفسرین نے مختلف قوموں اور مقاموں کے نام لیے ہیں۔ ممکن ہے ان ہی میں سے کوئی صحیح ہو، ممکن ہے کہ ان کے علاوہ کوئی قوم ومقام ہو۔ پوری تحقیق انشاء اللہ مستقبل میں قرآنیات کا کوئی متعلم کرکے رہے گا، کچھ کام آخر آئندہ کے مفسرین ومحققین کے لیے بھی تو اٹھ رہے، قرآن کی مخاطب جس طرح ہجرت کی دوسری صدی اور تیرھویں صدی کی دنیا رہی ہے، اسی طرح ہجرت کی پندرہویں اور بیسویں صدی اور تیرھویں صدی کی دنیا رہی ہے، اسی طرح ہجرت کی پندرہویں اور بیسویں صدی کی دنیا بھی تو رہے گی۔ کچھ فرض ہے کہ جتنی تحقیقات بھی ہونا ہے سب چودھویں صدی میں ختم ہوجائے، اور آئندہ صرف انہی کو دہرا دینا اور نقل کردینا رہ جائے ؟ عہد عتیق کی کتاب حزقی اہل (37: 1 ۔ 10) میں ایک روایت بہ صورت کشف ورؤیا اس سے ملتی جلتی ہے۔ بہرحال قرآن کا جو اصل مقصد موعظۃ وتذکیر ہے، وہ قوم ومقام کے ابہام وعدم تعیین کے باوجود بھی حاصل ہے۔ 919 ۔ (وبا سے، یا کسی اور طریق سے، چناچہ وہ سب مرگئے) یعنی وطن سے نکل کھڑے ہوئے جان بچانے کو اور حکم جہاد کی تعمیل سے جی چراتے ہوئے۔ لیکن یہ تدبیر کچھ بھی کام نہ آئی، اور الٹے موت کا شکار ہو کر رہے۔ (آیت) ” فقال لھم اللہ موتوا “۔ مقصود محض اس قول کا نقل کرنا نہیں۔ مراد یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے جب یہ ارادہ کرلیا، تو کوئی امر اس میں مانع نہ ہوسکا، اور عمل بن کررہا۔ عربی میں یہ اسلوب بیان عام ہے۔ المراد انہ تعالیٰ متی اراد ذلک وقع من غیر منع وتاخیر ومثل ھذا عرف مشھور فی اللغۃ (کبیر) 920 ۔ (اور انہیں مشاہدہ کرا دیا کہ موت وزندگی کا سر رشتہ کسی اور ہی کے ہاتھ میں ہے۔ عقل وتدبیر انسانی کے ہاتھ میں نہیں، اور اس لیے جہاد یا دوسرے احکام شریعت کی تعمیل سے جی چرانا انتہائی سخافت ونادانی ہے) فقہاء ومفسرین نے یہاں طاعون سے فرار کی بحث چھیڑدی ہے اور فرمان نبوی نقل کیا ہے کہ جس سرزمین پر طاعون ہو وہاں سے بھاگو نہیں، اور جہاں ہو وہاں جاؤ نہیں “۔ اس پر ایک عقلی اشکال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ طاعون زدہ مقام میں داخل ہونا اور طاعون زدہ مقام سے نہ ہٹنا، یہ دونوں عملا متضاد ہدایتیں ہوئیں۔ اگر طاعون بچنے کی چیز ہے، تو وہاں سے نہ ہٹنے کا بھی حکم ملنا چاہیے۔ ؛ اور اگر بچنے کی چیز نہیں، تو اس شہر میں پہنچ جانے میں کوئی مضائقہ نہ ہونا چاہیے۔ اصل یہ ہے کہ وبازدہ مقام سے بھاگنے اور ہٹنے کے معنی یہ ہیں کہ اگر ایک کو اجازت ملی، تو سب ہی بھاگنا شروع کریں گے، اور شہر خالی ہوجائے گا، اس بےتحاشا بھگدڑ Panic سے آباد کو جن مالی، معاشی، تمدنی، اخلاقی نقصانات سے دو چار ہونا پڑے گا وہ بالکل ظاہر ہیں، اور بہ کثرت تجربہ ومشاہدہ میں بھی آچکے ہیں۔ پھر ایک طرف یہ عادت اگر ہمت، ثبات قلب، شجاعت اور باہمی ہمدردی کے منافی ہے، تو دوسری طرف اسباب ظاہری پر ضرورت سے زیادہ تکیہ واعتماد کی دلیل اور توکل، اعتمادعلی اللہ کے منافی، اور ایک مذہبی قوم کے بالکل غیر شایان ہے۔ لیکن جہاں وبا ہے اور موت کا بازار دھڑا دھڑگرم ہے، وہاں بےدھڑک داخل ہوجانا اور احتیاط نہ برتنا، ایک طرف سلسلہ اسباب ظاہری کو بالکل نظر انداز کردینا ہے، اور دوسری طرف انسان میں جو درجہ خوف واندیشہ طبعی کا رکھ دیا ہے، اس کے مقتضا کو پامال کرنا۔ ان متضاد پہلوؤں کے درمیان اعتدال اور سلامتی کی راہ ڈھونڈ نکالنا اسلام ہی جیسے حکیمانہ مذہب کا کام تھا۔ اس نے عقلی اور طبعی تمام پہلوؤں کی رعایت رکھ کر یہ معتدل اور عاد لانہ حکم دیا کہ جہاں طاعون ہو وہاں نہ خواہ مخواہ جاؤ، نہ خواہ مخواہ وہاں سے نکل بھاگو۔ 921 ۔ (کہ انہی کے فائدے والے احکام انہیں دیتا رہتا ہے) 922 ۔ (بلکہ الٹے ان احکام کی مخالفت میں لگے رہتے ہیں) حکم قتال معا آگے آتا ہے۔ اس کے قبل ایسی حکایت بیان کرنا جس سے قلوب میں بےخوفی اور اللہ پر اعتماد پیدا ہو، عین تقاضائے حکمت ہے۔
Ayah 2:244

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

اور اللہ کی راہ میں قتال کرو،923 ۔ اور جانے رہو کہ اللہ بڑا سننے والا ہے، خوب جاننے والا ہے،924 ۔

923 ۔ (اے امت اسلامیہ ! ) حکم کی مخاطب امت بہ حیثیت جماعت ہے، افراد امت نہیں، کہ فردا فردا ہر شخص جب جی چاہے، تلوار اٹھا کر چلانا شروع کردے۔ اس تمہیدی حکایت کے بعد کہ موت وزیست سب کا آخری سررشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے، اب حکم ملتا ہے کہ اسی کے حکم سے، اسی کے دین وآئین کی خدمت ونصرت کے لیے، جہاد و قتال میں مشغول ہوجاؤ۔ 924 ۔ (آیت) ” سمیع “ وہ خوب سن رہا ہے، جہاد کرنے والوں اور نہ کرنے والوں دونوں کی باتوں کو (آیت) ” علیم ‘ ‘۔ وہ خوب جانتا ہے جہاد کرنے والوں اور نہ کرنے والوں دونوں کی نیتوں کو۔
Ayah 2:245

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

کون ایسا ہے جو اللہ کو اچھا قرضہ قرض دے،925 ۔ پھر اللہ اسے بڑھا کر اس کے لیے کئی گنا کردے،926 ۔ اور اللہ ہی تنگی بھی کرتا ہے اور فراخی بھی کرتا ہے،927 ۔ اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے،928 ۔

925 ۔ یعنی اللہ کی راہ میں اخلاص کے ساتھ خرچ کرے، جہاد و قتال کا حکم ابھی ملا ہے۔ قدرۃ سامان جنگ کے لیے امت اسلامیہ کو بڑے سرمایہ کی ضرورت ہوگی، اس لیے پہلے ہی نمبر پر امراء ملت کو اس میں حصہ لینے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ (آیت) ” قرضا حسنا “ اصطلاح قرآنی میں اس لفظ سے مراد ہر وہ رقم ہے۔ جو دین کی کسی مد میں خرچ ہوسکے۔ یہاں مراد مصارف جہاد ہیں۔ اس ملی چندہ کو، قرض اور پھر قرض حسنہ سے تعبیر کرنا عین محاورۂ عرب کے مطابق ہے کہ اہل عرب ہر اچھے معاوضہ والے عمل کو اچھے قرض اور ہر برے معاوضہ والے عمل کو برے قرض سے تعبیر کرتے تھے، والعرب تقول لکل من فعل الیہ خیرا قد احسنت قرضی وقد اقرضتنی قرضا حسنا (تاج) قال الزجاج القرض ھو کل ما یفعل لیجازی علیہ تقول العرب لک عندی قرض حسن وسئی (کبیر) عرب ایک مشہور تجارت پیشہ قوم تھے، قرض، بیع وشراء وغیرہ کے الفاظ اگر ان کی زبان کے جزو بن گئے ہوں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ ایک بددین، اردوخواں جاہل، قرآن مجید میں قرض کا لفظ دیکھ، اور اسے اردو کے قرضہ پر قیاس کر، تمسخر کی راہ سے بولا کہ خدا بھی محتاج ہوگیا ہے، جو اسے بندوں سے ادھار مانگنے کی ضرورت پڑی !۔ جہل مرکب بھی انسان کے لیے کیسی سخت لعنت ہے ! مردم اندر حسرت فہم درست۔ 926 ۔ (یعنی اصل استحقاق سے کہیں بڑھا چڑھا کر) (آیت) ” یضعفہ “ اس کو، یعنی اس کے اجر وثواب کو۔ 927 ۔ (سو اس کی راہ میں دل کھول کر خرچ کرنے سے کیوں رکو، کیوں گھبراؤ) صاف بتلا دیا کہ معاشیات کے سارے قوانین اللہ ہی کی مٹھی میں ہیں۔ اس کی راہ میں خرچ کرنے سے یہ نہی سمجھو کہ مفلس ہوجاؤ گے۔ 928 ۔ (اور وہی دین کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو جزاء دے گا اور نہ خرچ کرنے والوں کو سزا)
Ayah 2:246

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

کیا تجھے خبر نہیں موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کی ایک جماعت کی،929 ۔ جب کہ ان لوگوں نے اپنے نبی سے کہا،930 ۔ کہ ہمارے لئے ایک امیر مقرر کر دیجئے کہ ہم خدا کی راہ میں قتال کریں،931 ۔ (نبی نے) کہا کہیں ایسا تو نہیں کہ اگر تم پر قتال فرض، کردیا جائے تو تم قتال نہ کرو ؟ ،932 ۔ وہ بولے بھلاہمارے لیے کونسا ایسا سبب ہوسکتا ہے کہ ہم خدا کی راہ میں نہ لڑیں، ڈرآنحالی کہ ہم نکالے جاچکے ہیں اپنے گھروں سے اور اپنے فرزندوں سے۔933 ۔ لیکن جب ان پر قتال فرض کردیا گیا تو وہ (سب) پھرگئے بجز ان میں ایک قلیل تعداد کے،934 ۔ اور اللہ ظالموں سے خوف واقف ہے،935 ۔

929 ۔ (آیت) ” الم تر “۔ پر ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 9 17 ۔ الملاء۔ ملاء مطلق جماعت نہیں، اہل حل وعقد یا اہل الرائے کی جماعت ہے۔ الملاء جماعۃ یجتمعون علی رأی (راغب) الملاء من القوم وجوھھم واشرافھم (روح) توریت میں اس موقع پر ” اسرائیلی بزرگ “ ہے۔ (آیت) ” من بعد موسیٰ “ ذکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کوئی تین صدی بعد، اور حضرت داؤد (علیہ السلام) سے کچھ ہی قبل کے زمانہ کا ہے۔ سنہ مسیحی کے آغاز میں ابھی کوئی گیارہ سو سال کی مدت باقی تھی۔ 930 ۔ مراد حضرت شموئیل (علیہ السلام) ہیں ( 1 100 ؁ ق م۔ تا 1020 ؁ ق م) ملک شام قدیم میں ایک کوہستانی علاقہ افرائیم کے نام سے تھا، اس کے شہررامہ میں آپ رہتے تھے۔ 931 ۔ (اور اس امیر کی ماتحتی میں ہم سب منظم ہو کر دشمنوں سے جنگ کریں) اسرائیلی اس وقت خاص طور پر دشمنوں سے گھرے ہوئے تھے، اور لڑائی میں ان سے مغلوب و عاجز آچکے تھے، توریت میں اس کی بھی تصریح ہے کہ حضرت شموئیل (علیہ السلام) نبی اس وقت بوڑھے ہوچکے تھے۔ اور آپ کے صاحبزادوں میں امارت وسرداری کی کوئی صلاحیت نہ تھی، (آیت) ” ملکا “۔ عربی میں ملک کا لفظ بہت وسیع ہے، ہر صاحب قوت واقتدارجو اپنے احکام وقوانین نافذ کر سے ملک ہے۔ الملک ھو المتصرف بالامر والنھی فی الجمھور (راغب) اور یہاں ملک سے مراد امیر جیش یا سالار لی گئی ہے، اور یہی سیاق کے مطابق ہے۔ بین لنا ملک الجیش (ابن عباس ؓ اے انھض لنا من تصدرعنہ تدبیر الحرب وننتھی علی امرہ (بحر) اے اقم لنا امیر (روح) اطلبوا من نبیھم نحو ماکان یفعل رسول اللہ ﷺ من التامیر علی الجیوش (کشاف) اردو میں رئیس و امیر کے الفاظ، اور سرحدی قبیلوں میں خان کا لفظ ملک کے مرادف ہے، توریت میں اس موقع پر ” بادشاہ “ کا لفظ آیا ہے، اور اسرائیلی تخیل میں بادشاہ کے لیے فوج کی سرداری لازمی تھی، اور ہر سردار اعلی کو بادشاہ کہتے بھی تھے۔ جیوش انسائیکلوپیڈیا میں ہے :۔ ” بادشاہ کا پہلا فرض یہ تھا کہ فوج کی امارت اور سپہ سالاری کرے “۔ (جلد 7، صفحہ 50 1) اور یہ تصریح بھی ہے کہ ” فلسطین میں تقریبا ہر بڑا سردار بادشاہ ہی کہلاتا تھا “ (جلد 7، صفحہ 500) توریت میں اسی موقع کا بیان ان لفاظ میں ہے :۔ ” تب سارے اسرائیلی بزرگ جمع ہو کر رامہ میں سموئیل کے پاس آئے اور اسے کہا کہ دیکھ تو بوڑھا ہوا، اور تیرے بیٹے تیری راہ پر نہیں چلتے، اب تو کسی کو ہمارا بادشاہ مقرر کر، جو ہم پر حکومت کیا کرے، جیسا کہ سب قوموں میں ہے “۔ ( 1 ۔ سموئیل۔ 8:4، 5) ” ہم تو بادشاہ چاہتے ہیں جو ہمارے اوپر مقرر ہوتا کہ ہم بھی اور سب گروہوں کے مانند ہوں اور ہمارا بادشاہ ہماری عدالت کرے اور ہمارے آگے آگے چلے، اور ہمارے لیے لڑائی کرے “ ( 1 ۔ سموئیل۔ 8: 19 ۔ 20) 932 ۔ یہ سب حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے کچھ تو اپنی فراست ایمانی سے فرمایا اور کچھ اپنی قوم کی افتاد طبیعت کے تجربوں کی بنا پر۔ (آیت) ” عسیتم الا تقاتلوا “۔ کے معنی ہیں کہ میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ تم نہ لڑو گے۔ یعنی اتوقع جبنکم عن القتال (کشاف) (آیت) ” ھل عسیتم “ میں ھل تاکید کلام کے لیے ہے۔ اراد بالاستفھام التقریروالتثبیت ان المتوقع کائن (کشاف) 933 ۔ وہ لوگ بولے، کہ واہ بھلا یہ بھی کہیں ممکن ہے۔ حکم شرعی سے قطع نظر ہم لوگ انتہائی مظلوم اور ستائے ہوئے بھی تو ہیں۔ اس دور میں فلسطینیوں کی جو شدید اور بےپناہ یورش اسرائیلیوں پر جاری تھی اور اسرائیلیوں کا ملک جس بےانداز حد تک ان کے ہاتھوں تاراج ہورہا تھا اس کی تفصیلات قدیم اسرائیلی مؤرخ جو زیفس کے صفحات اور یہود کی دوسری تاریخوں میں ملتی ہیں۔ توریت بھی ان معرکہ آرائیوں کے ذکر سے بالکل خالی نہیں، ایک جگہ ہے :۔ ” اور جب وہ باہم مقابل تو اسرائیلی نے فلسطیوں سے شکت پائی، اور انہوں نے ان کے لشکر میں سے قریب چار ہزار آدمی کے مارے “۔ ( 1 ۔ سموئیل۔ 4:3) اور دوسری جگہ ہے :۔ ” سوفلسطی لڑے، اور بنی اسرائیل نے اسرائیلی مارے مارے پڑے، اور خدا کا صندوق لوٹا گیا “۔ ( 1 ۔ سموئیل۔ 4: 10) 934 ۔ آخر ان کے نبی کا کہا ان کے آگے آیا۔ اور بنی اسرائیل اتنے دعو وں کے باوجود پست ہمتی اور بزدلی کا شکار ہو کر رہے۔ جو زیفس کی مشہور تاریخ آثار یہود میں ہے :۔ ” ان پر دہشت طاری ہوگئی، یعنی پہاڑوں میں چھپ گئے، بعض نے زیر زمین غاروں میں پناہ لی، اور بہت سے لوگ تو اپنا ملک چھوڑ کر دریائے یردان عبور کرگئے “۔ (باب 6 ۔ فصل 6 ۔ فقرہ 1) 935 ۔ ( اور ان کی سزا پر بھی پوری طرح قادر) (آیت) ” الظلمین “ سے یہاں مراد اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں، یعنی اللہ کے نافرمان بندے۔ ھم الذین ظلموا بانفسھم عند القتال وترک الجھاد (روح)
Ayah 2:247

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور ان لوگوں سے ان کے نبی نے کہا کہ اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو امیر مقرر کردیا ہے،936 ۔ وہ بولے اسے ہمارے اوپر کیسے امیری حاصل ہوسکتی ہے، درآنحالیکہ ہم اس سے بڑھ کر امیری کے مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی تو وسعت نہیں دی گئی ہے،937 ۔ (نبی نے) کہا کہ اسے اللہ نے تمہارے مقابلہ میں انتخاب کرلیا ہے،938 ۔ اور اسے علم وجسم دونوں میں کشادگی زیادہ دی ہے۔939 ۔ اور اللہ اپنا ملک جیسے چاہتا ہے دیتا ہے،940 ۔ اور اللہ بڑا وسعت والا ہے بڑا علم والا ہے،941 ۔

936 ۔ طالوت بن کش تاریخ میں قوم اسرائیل کے پہلے بادشاہ تسلیم کیے گئے ہیں۔ زمانہ حکومت 1028 ؁ ق۔ م تا 10 12 ؁ ق۔ م یہ وہی ہیں جن کا ذکر توریت میں ساؤل Saul کے نام سے آیا ہے۔ توریت میں ان کی نصب حکومت کا ذکر حسب دستور طوالت کے ساتھ موجود ہے :۔ ” اور خداوند نے ساؤل کے آنے سے ایک دن پیشتر سموئیل کے کان میں کہہ دیا تھا کہ کل اسی وقت میں ایک شخص کو بنیمین کی سرزمین سے تجھ پاس بھیجوں گا۔ سو تو اس پر تیل ملیو کہ وہ میری قوم اسرائیل کا حاکم ہوتا کہ میرے لوگوں کو فلسطیوں کے ہاتھ سے چھڑائے۔ سو جب سموئیل ساؤل سے دوچار ہوا تو وہیں خداوند نے کہا کہ دیکھ یہی شخص ہے جس کی بابت میں نے تجھے کہا تھا یہی میرے لوگوں پر ہے۔ (آیت) ” 937 ۔ حضرت سموئیل نبی (علیہ السلام) کا کہنا بالکل ٹھیک نکلا۔ اسرائیل کہاں تو امیر کے تقرر کا خود ہی شخص کا انتخاب ہوکیونکر سکتا ہے “۔ فلما بعث لھم ملکا انکرو اذلک وجبوا (ابن جریر) واستبعدوا جدا ان یکون ھو ملکا علیھم (کبیر) ” انی “ من این کا بھی مرادف ہوسکتا ہے اور کیف کا بھی۔ حاصل دونوں صورتوں کا ایک ہی ہے۔ یعنی کمال تعجب۔ مقصود نبی کی علیھم واستبعادلہ (کشاف) الاستفھام حقیقی اوللتعجب لا لتکذیب نبیھم (روح) ایک خاص قبیلہ کی طرف سے اعتراض و انکار کا ذکر توریت میں بھی ہے :۔ ” بنی بعال بولے کہ یہ شخص ہم کو کس طرح بچائے گا۔ اور اس کی تحقیر کی۔ اور اس کے لیے نذرانے نہ لائے “۔ ( 1 ۔ سموئیل۔ 10:27) بنی اسرائیل حضرت یعقوب کی بارہ اولادوں کی نسل میں، نسلی بنا پر 12 فرقوں یا قبیلوں میں بٹے ہوئے تھے، ان میں سب سے چھوٹا قبیلہ بنی یامین کا تھا، اور توریت میں تصریح ہے کہ طالوت اسی قبیلہ سے تھے ( 1 ۔ سموئیل۔ 9:2 1) تو ایک وجہ تو ان کے حقیر سمجھے جانے کی یہی ہوئی۔ نسل وخاندان کی اہمیت جب جائز حدود سے بڑھ جاتی ہے، تو ہندوؤں کی طرح ذات پات کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے۔ اسرائیلیوں کا بھی اب یہ عقیدہ ہوگیا تھا کہ نبوت حق مخصوص ہے قبیلہ بنی لادہ کا اور حکومت حق مخصوص ہے قبیلہ بنی یہودا کا، وکان فی بنی اسرائیل سبطان سبط نبوۃ وسبط مملکۃ ولم یکن طالوت من سبط النبوۃ ولا من سبط المملکۃ (ابن جریر) جیسے آج عام ہندوؤں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ کوئی شخص جو نہ برہمن ہو نہ چھتری، وہ اعلی حاکم وسردار کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ دوسرا اعتراض اسرائیلیوں کا یہ تھا کہ یہ مالی اعتبار سے بھی تو منصب امارت کے لائق نہیں۔ جیسے ہندو کسی سے متعلق یہ اعتراض کریں کہ برہمن اور چھتری نہ سہی، یہ شخص دیش (مہاجن یا ساہوکار) کے درجہ کا بھی تو نہیں۔ 938 (اور اللہ کا انتخاب ظارہ ہے کہ ہر طرح پر حکمت وپرمصلحت ہی ہوگا) حضرت شموئیل نبی (علیہ السلام) نے پہلا اور اصلی جواب تو یہی دیا کہ یہ انتخاب انسانی نہیں خدائی ہے۔ اور اس لیے ہر طرح یہی مناسب وپرمصالح ہے، ایسا کہ تمہارا تو ذہن بھی ان باریک مصلحتوں تک نہیں پہنچ سکتا۔ ع : پیغمبر ہر چہ گوید ویدہ گوید۔ توریت میں اس مقام پر ہے : ” اور سموئیل نے جماعت کو کہا کہ تم اسے دیکھتے ہو کہ جسے خداوند نے چن لیا کہ اس کی مانند سارے لوگوں میں ایک بھی نہیں “۔ ( 1 ۔ سموئیل۔ 10:24) 939 ۔ یہ شموئیل نبی کا دوسرا اور ” عقلی “ جواب ہے۔ آپ نے نے فرمایا کہ تم اپنے معیار سے بھی دیکھ لو۔ تمہارے معیار سے سردار فوج میں بھی دو ہی چیزیں ہونی ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ اسے سپہ داری وملک گیری کے فنون سے واقفیت ہونا چاہیے۔ سو وہ طالوت کو حاصل ہے۔ اور دوسرے خود اس کی جسمی قوت و توانائی، سو اس میں بھی وہ ممتاز ہے۔ (آیت) “ بسطۃ فی العلم “ علم سے مراد یہاں وہی علوم وفنون ہیں جن کا تعلق ملک گیری وملک داری سے ہے۔ ای علم الحرب (ابن عباس ؓ لیتمکن بہ من حرفۃ الامور السیاسیۃ (روح) کان اعلم بنی اسرائیل بالحرب والدیانات فی وقتہ (مدارک) (آیت) ” والجسم “ بسطۃ فی الجسم “ سے مراد ہے کہ طالوت قدوقامت اور وجاہت ظاہری میں دوسروں سے بڑھ چڑھ کر تھے۔ اے الطول والقوۃ (ابن عباس ؓ اطول من کل انسان براسہ ومنکبہ (مدارک) توریت کی دی ہوئی تفصیلات سے ان کے حلیہ کا نقشہ ذہن میں خود کھینچ لیجئے۔” بہت خوب جوان تھا۔ اور بنی اسرائیل کے درمیان اس سے خوبصورت کوئی شخص نہ تھا۔ یہ ساری قوم میں کاندھے سے لے کر اوپر تک ہر ایک سے اونچا تھا “۔ (ا۔ سموئیل۔ 9: 10) ” اور وہ جب کہ جماعت کے درمیان کھڑا ہوا تو شانوں سے لے کر اوپر تک سب لوگوں سے زیادہ لمبا تھا “۔ ( 1 ۔ سموئیل۔ 10: 13) اور دراز اق امتی، اسرائیلیوں کے ہاں کوئی معمولی صفت نہیں، بڑی اہم اور ضروری صفت سرداری کے لیے تھی۔ توریت کے بعد ان کے ہاں کا مقدس ترین نوشتہ تالمود ہے، اس کی تصریح ملاحظہ ہو :۔ ” خداوند تبارک وتعالیٰ اپنی اپنی سکینت کا نزول صرف اس شخص پر کرتا ہے جو دانشمند ہو، مضبوط ہو متمول ہو اور دراز قامت ہو (Everymans Talmud صفحہ 128) قرآن مجید کی اس بلاغت کے قربان جائیے، کہ اس نے نام ہی ایسا رکھا جس سے بلند قامتی کی جانب پورا اشارہ ہوجائے، چناچہ اہل تحقیقی کا ایک گروہ اس جانب گیا ہے کہ طالوت دراصل طولوت تھا، اور طول سے مشتق۔ کان طالوت اسمہ بالعبرانیہ ساؤل فسمی طالوت لطولہ (معالم) قیل انہ عربی من الطول واصلہ الطولوت (روح) 940 ۔ (کہ وہی مالک ومختار ہے، اور اس کی ہر عطا اقتضاء حکمت کے موافق ہی ہوتی ہے) (آیت) ” ملکہ “ ملک کی نسبت اپنی جانب کرکے اللہ نے بتادیا کہ حقیقت میں وہی ایک مالک سارے ملکوں کا ہے۔ 941 ۔ (آیت) ” واسع “۔ وہ بڑی ہی وسعت والا ہے جس کے اختیار میں سب کچھ ہے۔ وہی ہر پست کو بلند اور ہر ادنی کو سرفراز کرسکتا ہے۔ واسع کی تفسیر واسع الفضل والرزق والرحمۃ سے بھی آئی ہے وہی خوب جانتا ہے کہ کس میں ملک گیری وملک داری کی صلاحیت موجود ہے۔
Ayah 2:248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور ان سے ان کے نبی نے کہا کہ اس کی امارت کا نشان یہ ہے،942 ۔ کہ تمہارے پاس وہ صندوق (از خو د) آجائے گا جس میں (سامان) تسکین تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے،943 ۔ اور کچھ بچی ہوئی چیزیں بھی جنہیں آل موسیٰ اور آل ہارون چھوڑ گئے ہیں،944 ۔ اس (صندوق) کو فرشتے لے آئیں گے،945 ۔ بیشک اس واقعہ میں تمہارے لئے ایک نشان ہے،946 ۔ اگر تم ایمان والے ہو

942 ۔ (یا وہ غیبی تصرف جو تمہارے اطمینان کا کام دے سکے) کچھ عجب نہیں جو بنی اسرائیل نے اپنی قدیم اعجوبہ پرستی کی بنا پر طالوت کے لیے کسی غیبی نشان کا مطالبہ اپنے پیغمبر سے کیا ہو، اور وہ اس کے جواب میں بہ ایماء الہی یہ فرما رہے ہوں۔ 943 ۔ (درآنحالیکہ تم مدت دراز سے اپنی اس متاع عزیز سے محروم ہو) (آیت) ” یاتیکم “ یعنی از خود بغیر کسی خاص جدوجہد کے آجائے (آیت) ” التابوت “ اس خاص صنددق کا اصطلاحی نام تابوت سکینہ ہے۔ یہ بنی اسرائیل کا اہم ترین ملی وقومی ورثہ تھا۔ اس کے اندر اصل نسخہ توریت مع تبرکات انبیاء محفوظ تھا۔ اسرائیلی اس کو انتہائی برکت و تقدیس کی چیز سمجھتے تھے اور اس کے ساتھ برتاؤ انتہائی احترام کا رکھتے تھے۔ سفر وحضرجنگ وامن ہر حال میں اسے بڑی حفاظت سے اپنے ساتھ رکھتے، یہ کچھ ایسا بڑا نہ تھا۔ موجودہ علماء یہود کی تحقیق کے مطابق اس کی پیمائش حسب ذیل تھی : طول اڑھائی فٹ عرض ڈیڑھ فٹ بلندی ڈیڑھ فت۔ بنی اسرائیل اپنی ساری خوش کے وقت میں یہ تابوت واپس آجانے کے بعد تاریخ کا بیان ہے کہ بنی اسرائیل اپنی ساری خوش بختی اسی سے اسی سے وابستہ سمجھتے تھے۔ مدت ہوئی فلسطینی اسے ان سے چھین لے گئے تھے۔ اسرائیلی اسے اپنے حق میں انتہائی نحوست وبدطالعی سمجھ کر اس کی واپسی کے لیے نہایت درجہ بےتاب ومضطرب تھے طالوت کے وقت میں یہ تابوت واپس آجانے کے بعد تاریخ کا بیان ہے کہ بنی اسرائیل کے قبضہ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) (متوفی 933 ؁ ق، م) تک رہا۔ اور آپ نے بیت المقدس میں ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے بعد اسی میں اسے رکھ دیا تھا۔ اس کے بعد اس کا پتہ نہیں چلتا۔ یہود کا عام خیال یہ ہے کہ یہ تابوت اب بھی ہیکل سلیمانی کی بنیادوں کے اندر دفن ہے۔ سکینۃ من ربکم۔ یعنی توریت کا نسخہ شفائ۔ 944 ۔ یعنی ان دونوں حضرات اور ان کی مقدس اولاد کے آثار وتبرکات۔ بعض اہل طریق نے کہا ہے کہ اولیاء اللہ کے احترام کا جو طریقہ چلا آرہا ہے اس کی اصل اور سند اور سند قصہ تابوت سے مل جاتی ہے۔ 945 ۔ تاریخ کا بیان ہے کہ فلسطینی اس تابوت سکینہ کو چھیننے کو تو چھین لائے۔ لیکن جس تاریخ سے اسے لے کر آئے، ایک دن بھی چین نہ اٹھانے پائے۔ ابھی وباء کا زور ہے ابھی کوئی اور مصیبت۔ آخر عاجز آکر یہ طے کیا کہ (نعوذ باللہ) اس نحوست کی پوٹ کو کہیں اور پھینکوا دیا جائے۔ ایک بیل گاڑی پر اسے لاد، گاڑی کو بغیر کسی گاڑی بان کے یوں ہی ہانک دیا۔ بیل سیدھے علاقہ بنی اسرائیل کی طرف روانہ ہوگئے، اور گاڑی صوبہ یہودا کے شہربیت شمس میں آکر ٹھہرگئی (آیت) ” تحملہ الملئکۃ “ تکوینی تصرفات جتنے بھی ہوتے رہتے ہیں، سب فرشتوں ہی کے ذریعہ سے انجام پاتے رہتے ہیں، چناچہ بیلوں کا رخ خاص اسرائلی علاقہ کی جانب کردینا بھی فرشتوں ہی کا کام تھا۔ اور یہی غیبی نشان تھا طالوت کی تائید میں۔ بائبل میں تابوت سکینہ کی بازیابی عہد طالوت سے بہت پیشتر درج ہوگئی ہے۔ قرآن مجید نے یہاں یہ تصریح کرکے حسب معمول، بائبل کے بیان کی تصریح کردی۔۔۔ مسیحیوں اور ان کے حلیفوں کی یہ کوشش جس قدر مضحکہ خیز ہے اسی قدر عبرت انگیز بھی، کہ بجائے اس کے کہ قرآن جیسی محکم، محفوظ، مستند دستاویز کو بائبل پر پیش کریں، اور اس کی روشنی میں بائبل میں بائبل کے بیانات کو جانچیں، پرکھیں، الٹے بائبل جیسی مشتبہ، غیر محفوظ بےسند تحریر کی روشنی میں قرآن مجید کے بیانات کو جانچنا پرکھنا چاہتے ہیں !۔۔ گویا آفتاب کی روشنی میں لالٹین کو دیکھنے کی بجائے لالٹین سے آفتاب کو دیکھنے کی کوشش ! 946 ۔ (تصرف غیبی کا) (آیت) ” فی ذلک “ اے فی رجوع التابوت الیکم (مدارک) ای فی اتیان التابوت (بحر) (آیت) ” لکم “ تمہارے لئے یعنی دشمن کے مقابلہ میں بڑھے۔
Ayah 2:249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

پھر جب طالوت فوجوں کو لے کر بڑھے تو بولے،947 ۔ کہ اللہ تمہارے امتحان ایک دریا کے ذریعہ سے لینا چاہتا ہے،948 ۔ سو جو کوئی اس میں سے پانی پی لے گا وہ میرا نہیں ہے،949 ۔ اور جو کوئی اسے نہ چکھے سو وہی میرا ہے مگر ہاں جو کوئی اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے لے (اس کا مضائقہ نہیں) ۔ ،950 ۔ لیکن ان (سب) نے اس سے پی لیا بجز ان میں سے تھوڑے سے (آدمیوں) کے،951 ۔ پھر جب طالوت اور مومنین بھی ان کے ساتھ اس (دریا) سے اتر گئے تو وہ بولے کہ آج تو ہم میں جالوت اور اس کی فوجوں سے مقابلہ کی طاقت نہیں،952 ۔ اور وہ لوگ جنہیں یقین تھا کہ اللہ کے روبروپیش ہوں گے،953 ۔ بولے کہ بارہا چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتیں پر اللہ کے حکم سے غالب آگئی ہیں،954 ۔ اور اللہ تو صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے،955 ۔

947 ۔ (اپنی ضبط فوج والوں سے) (آیت) ” فصل “ یعنی دشمن کے مقابلہ میں بڑھے۔ 948 ۔ (صبروثبات، ضبط اور ڈسپلن میں) (آیت) ” نھر “ دریا سے یہاں مراد دریائے یردن Jorden ہے۔ یہ دریا بڑا نہیں، براہ راست لمبائی 65 میل کی ہے۔ البتہ اس کے خم وپیچ ملا کر کوئی 200 میل کی ہے۔ علاقہ فلسطین میں اہم ترین دریا یہی ہے، اور گویا ملک کی قدرتی سرحد کا کام دیتا ہے۔ چناچہ یردن کے اس پار اور اس پار علاقوں کی تقسیم خود توریت میں درج ہے۔ (یوشع۔ 1: 14، 15) اس کا بہاؤ شمال میں سے جنوب کی جانب ہے۔ اور یہ بحر جلیل اور بحر طبریہ ہوتا ہوا بحرمردہ Dead Sea میں جا گرتا ہے۔ اس کا پانی شروع میں تو صاف شفاف، شیریں ہے، لیکن آگے چل کر گندلا، بدبودار اور مضر ہوجاتا ہے۔ 949 ۔ یعنی میرے ہمراہیوں، رفیقوں میں سے نہیں۔ یہ معنی نہیں کہ وہ سرے سے ایمان ہی سے خارج ہوگیا۔ اے من اشیاعی (روح) لیس من اتباعی واشیاعی (مدارک) لم یخرجھم بذلک عن الایمان (بحر) (آیت) ” شرب منہ “ یعنی جی بھر کر اس میں سے پانی پی لے گا۔ موسم گرمی کا تھا، اور طالوت کے سپاہیوں کو پیاس قدرۃ زور کی لگی ہوئی تھی۔ 950 ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصل حکم وہی پہلا تھا کہ خیر ایک آدھ چلو سے منہ تر کرلینے میں مضائقہ نہیں (آیت) ” من لم یطعمہ “ اے من لم یذقہ (روح) من لم یذقہ من طعم الشئی (مدارک) (آیت) ” الا من اغترف “ معناہ الرخصۃ فی اغتراف الغرفۃ بالیددون الکرع (مدارک) 951 ۔ (کہ ان کی تعداد حسب روایت توریت 6000 تھی) ” تب ساؤل نے ان لوگوں کو جو اس کے پاس حاضر تھے، گنا۔ اور وہ مرد چھ سو کے قریب تھے “۔ ( 1 ۔ سموئیل۔ 12: 15) (آیت) ” شربوا منہ “۔ یعنی خوب سیر ہو کر پیا، جس کے بعد چلنا خصوصا فوجی مارچ کرنا دشوار ہوجاتا ہے۔ 952 ۔ (بہ نظر احوال ظاہر) یہ گفتگو ان میں آپس میں ہونے لگی، دشمن کی کثرت تعداد اور اس کی عظمت و سامان پر نظر کرکے اس کی ہیبت دل میں بیٹھ جانا اور اپنی طرف سے مایوس ہوجانا ایک امر طبعی تھا۔ اچھے اچھے اہل ایمان کی بھی ہمت ایسے موقع پر طبعی طور پر چھوٹ جاتی ہے۔ جو زیفس اسرائیلی کی تاریخ آثار یہود میں ہے :۔ ” طالوت اور اس کے لشکری یہ سامان دیکھ کر سہم اٹھے۔ “ (باب 6 ۔ 9: 1) خود توریت کی روایت ہے :۔” جس وقت ساؤل اور سارے اسرائیل نے اس فلسطی کی بات سنی تو ان کی دل اوری نکل گئی اور وہ نپٹ ڈر گئے “۔ ( 1 ۔ سموئیل۔ 17، 1 1) (آیت) ” جالوت “ فلسطینیوں کے لشکر کا مشہور سردار بڑے تن وتوش کا پہلوان تھا۔ گویا انسان کیوں تھا، دیوزاد تھا۔ توریت میں اس کا جسامت، قدوقامت، اس کی شہزوری، اس کے اسلحہ اور اس کی مبارزت کا ذکر تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ ان روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا قد 10 فٹ کا تھا، بجز چہرہ کے، سر سے پیر تک آہن پوش رہتا تھا، اور اس کی سپر کا وزن کوئی تین من کا تھا ! 953 ۔ (آخرت میں) لشکر طالوت میں مومن تو سب ہی تھے، بہتوں پر لشکر جالوت کی ہیبت طبعی طور پر طاری ہوگئی۔ لیکن کچھ ایسے بھی تھے جس کا ایمان اور خدا اور آخرت پر بالکل پختہ وغیر متزلزل رہا۔ اس وقت بھی ان کے ذہن میں یہ عقیدہ مستحضر تھا اور وہ ہنگامی طور پر مرعوب و دہشت زدہ نہ ہوئے۔ بلکہ بڑے استقلال کے ساتھ بولے۔ (آیت) ” یظنون “ ظن یہاں گمان کے معنی میں نہیں، علم ویقین کے معنی میں ہے۔ اے یعلمون ویستیقنون (ابن عباس ؓ اے یوقنون بالشھادۃ (مدارک) یحتمل ان یکون الظن بمعنی الایقان اے یوقنون بالبعث والرجوع الی اللہ قالہ السدی (بحر) 954 ۔ (اس لیے دشمن کی کثرت تعداد سے خوف ہی کیا) ان مومینن راسخین نے اس وقت بھی کہا کہ اصل شے تو ایمان کی مضبوطی ہے۔ ایمان سے لبریز اقلیت بارہا اکثریت پر غالب آچکی ہے۔ (آیت) ” باذن اللہ “ میں اذن، مشیت تکوینی کے معنی میں نہیں۔ حکم وتوفیق الہی کے معنی میں ہے۔ اے بحکمہ وتیسیرہ (روح) (آیت) ” باذن اللہ “ کی قید نے اسے بھی واضح کردیا کہ اہم ترین شے ذاتی ہمت و شجاعت نہیں، یہی تائید غیبی ہوتی ہے۔ 955 ۔ (اس لیے اہم مقدم شے صبر وثبات اور اعتماد علی اللہ ہے) (آیت) ” مع “ سے اللہ کی معیت جسمانی مراد نہیں، اس کی معیت نصرت وامداد کے ساتھ مراد ہے۔ المراد منہ المعیۃ بالنصر والاحسان (روح) اے بالنصر (مدارک) المراد بہ معیۃ نصرہ و توفیقہ (ابو سعود)
Ayah 2:250

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب وہ جالوت اور اس کی فوجوں کے مقابل آئے تو بولے اے ہمارے پروردگار ہمارے اوپر صبر ڈال دے، اور ہمارے قدم جمائے رکھ اور ہمیں غالب کر کافر لوگوں پر،956 ۔

956 ۔ ان دونوں آیتوں میں اللہ کے لشکر کے سپاہیوں کو آداب جنگ کی تعلیم ہے، کہ بہ خلاف عام دنیوی سپاہیوں کے ان کا تکیہ قوت و شوکت پر نہیں، بلکہ نصرت الہی پر ہوتا ہے۔ قرآن اور توریت موجودہ کے بیانوں کا مقابلہ کردیا جائے، توریت میں نفس جنگ کے خشک و خارجی واقعات کی تفصیل قرآن سے کہیں زائد ہے۔ لیکن وہ بس اسی پر قانع ہے۔ گویا کتاب تذکرہ وتاریخ کی ہے۔ ؛ قرآن مجید اس کے برخلاف ہر موقع پر تعلیم اصول دین اور اخلاق عالیہ کی دیتا جاتا ہے۔ اور یہی اس نے یہاں بھی کیا۔ (آیت) ” افرغ علینا صبرا “۔ یعنی ہمیں ثبات قلب کی توفیق دے۔ (آیت) ” ثبت اقدامنا “ یعنی ہمیں ثبات قدم نصیب کر۔ (آیت) ” فانصرنا “ ثبات قلب وثبات قدم کے بعد کافروں پر غلبہ تو قدرتی نتیجہ کے طور پر شاید حاصل ہو ہی جاتا۔ لیکن مومینن عافرین کی نظر اپنے سارے انتظامات اور ساری سعی سے کہیں بڑھ کر تائید الہی پر رہتی ہے۔ اس لیے صراحت کے ساتھ فتح و غلبہ کی دعا بھی ان کی زبان سے نقل کی گئی۔
Ayah 2:251

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

پھر انہوں نے ان کو اللہ کے حکم سے شکست دے دی،957 ۔ اور داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کردیا،958 ۔ اور اللہ نے داؤد (علیہ السلام) کو بادشاہت اور دانائی عطا کی، اور جو کچھ چاہا انہیں سکھایا،959 ۔ اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا رہتا تو (روئے) زمین پر فساد برپا ہوجاتا،960 ۔ لیکن اللہ تو جہان والوں پر بڑا فضل رکھنے والا ہے،961 ۔

957 ۔ (آیت) ” فھزموھم “ انہوں نے انہیں یعنی طالوت کے لشکر نے جالوت والوں کو شکست دے دی۔ اذن۔ یہاں بھی حکم وتوفیق کے معنی میں ہے۔ توریت میں فلسطینیوں کی اس شکست فاش کی منظر کشی یوں کی گئی ہے :۔ ” اور فلسطیوں نے جو دیکھا کہ ان کا پہلوان مارا پڑا تو وہ بھاگ نکلے، اور اسرائیل اور یہوداہ کے لوگ اٹھے اور للکارے، اور فلسطیوں کو وادی تک اور عفران کے پھاٹک کی راہ تک رگیدا “۔ ( 1 ۔ سموئیل۔ 17:52) 958 ۔ (آیت) ” داؤد۔ داؤد بن یسی بن عویبد ( 1024 ؁ تا 963 ؁ ق، م) ایک پیغمبر برحق ہوئے ہیں۔ قرآن میں آپ کا ذکر 16 مقاموں پر آیا ہے۔ طالوت کی فوج میں محض ایک نوجوان سپاہی کی حیثیت سے شامل تھے۔ اس وقت تک نہ نبوت سے سرفراز ہوئے تھے، نہ ملک وسلطنت سے۔ توریت میں یہ واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ درج ہے :۔ ” اور ایسا ہوا کہ جب فلسطی اٹھا اور آگے بڑھ کر دادؤ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے نزدیک ہوا، تو داؤد نے پھرتی کی۔ اور صفوں کی طرف داؤد سے مقابلہ کرنے دوڑا۔ اور داؤد نے اپنے تھیلے میں ہاتھ ڈالا۔ اور اس میں سے ایک پتھر لیا، اور فلاخن میں دھر کے فلسطی کے ماتھے پر ایسا مارا کہ وہ پتھر اس کے ماتھے میں غرق ہوگیا۔ اور وہ زمین پر منہ کے بل گرپڑا۔ سوداؤد ایک فلاخن اور ایک پتھر سے اس فلسطی پر غالب ہوا۔ اور اس فلسطی کو مارا اور قتل کیا “۔ (سموئیل۔ 17:48 ۔ 50) 959 ۔ (یہ سب کچھ اس واقعہ کے بعد ہوا) (آیت) ” اتہ اللہ الملک “۔ یہ بادشاہی خدائی عطیہ تھی، پہلے تو اسی کو قرآن نے صاف کیا۔ یہ فرماں روائی قوم اسرائیل کو عطا ہوئی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نسل اسرائیلی کے دوسرے بادشاہ ہیں۔ تاجدار اول طالوت تھے۔ آپ انہی کے داماد تھے طالوت جب مع اپنے بڑے فرزند کے میدان جنگ میں کام آگئے تو قبیلہ یہودا نے کو اپنا بادشاہ منتخب کیا۔ اور دو سال کی کشمکش کے بعد، باقی قبیلوں نے بھی آپ ہی پر اتفاق کرلیا۔ سات سال تک آپ نے اپنا پایہ تخت حبرون (یعنی الخلیل) کو رکھا۔ اس کے بعد یروشلم کو دشمنوں کے قبضہ سے نکال کر اسے دارالسطلنت بنایا۔ آپ نے اپنے گردوپیش کے حکمرانوں کو مسخر ومغلوب کیا۔ اور اپنے حدود سلطنت کو خوب وسیع کیا۔ آپ کا عہد حکومت تاریخ اسرائیل میں فتوحات ملکی اور حسن انتظام دونوں کے لیے یادگار ہے (آیت) ” الحکمۃ “ حکمت سے یہاں مراد نبوت ہے، جو حکمت کا بلند ترین مقام ہے۔ حکمت کے عام معنی تمیز و دانائی بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ قیل الحکمۃ العلم والعمل بھا وفسرھا بعضھم بالنبوۃ (بحر) اے النبوۃ (بیضاوی) الحکمۃ بہ وضع الامور مواضعھا علی الصواب والصلاح و کمال ھذا المعنی یحصل بالنبوۃ فلایبعد ان یکون المراد ھھنا النبوۃ (کبیر) (آیت) ” علمہ مما یشآء “ علوم انبیاء کا احاطہ کون کرسکتا ہے ؟ (آیت) ” مما یشآء “ کے عموم میں وہ تمام علوم، فنون وصنائع آگئے جو حضرت داؤد (علیہ السلام) کو سکھا دیئے گئے تھے۔ (آیت) ” مما “ میں من تبعیضیہ نہیں ابتدائیہ ہے۔ 960 ۔ (غلبہ بدی وبدکاری سے) (آیت) ” بعضھم “ یعنی مفسدوں، نافرمانوں، قانون شکنوں، باغیوں کو۔ (آیت) ” ببعض “۔ یعنی دوسرے بندوں کو مشیت تکوینی کا آلہ کار بنا کر۔ یہاں یہ عام قانون بتا دیا کہ دنیا میں حکومتوں اور سلطنتوں کے جو انقلابات ہوا کرتے ہیں یہ یوں ہی بلاضرورت ومصلحت ” گردش گردوں سے “ نہیں ہوجایا کرتے۔ بلکہ ہمیشہ بامقصد وپر حکمت ہی ہوا کرتے ہیں اور ان سے ظلم وعصیاں و طغیان کی اصلاح مدنظر ہوتی ہے۔ آیت سے اس حقیقت پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ اس عالم اسباب میں مشیت تکوینی جو کام بھی لیتی ہے بندوں ہی کے واسطہ اور ذریعہ سے لیتی ہے۔ 961 ۔ (اس لیے وہ اپنے فضل وکرم سے روئے زمین پر اس فساد عظیم کی نوبت ہی نہیں آنے دیتا اور بدکاروں اور نافرمانوں کے غلبہ و تسلط کو دوسروں کے ذریعہ سے ہٹا تا اور مٹاتا رہتا ہے) غرض یہ کہ ہر ایسے انقلاب حکومت کے عقب میں رحمت الہی ہی کام کرتی ہے۔
Ayah 2:252

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیتیں ہیں، ہم انہیں آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں ٹھیک ٹھیک،962 ۔ اور آپ یقیناً مرسلین میں سے ہیں،963 ۔

962 ۔ (آیت) ” بالحق “ یعنی بالکل بےکم وکاست، اپنی اصلی حالت میں، اور غرض صحیح کے ساتھ۔ بالیقین الذی لا یشک فیہ اھل الکتب (مدارک) بالوجہ المطابق الذی لایشک فیہ اھل الکتاب وارباب التواریخ (بیضاوی) اے ملتبسۃ بالیقین الذی لایرتاب فیہ احد من اھل الکتاب وارباب التواریخ) (ابوسعود) گویا یہاں یہ ظاہر کردیا کہ صحیح ومستند بیان صرف قرآن ہی کا ہے۔ دوسری الہامی کتابوں اور مذہبی نوشتوں کی طرح اس کے قصے غلط سلط اور مسخ شدہ ہو کر نہیں رہ گئے ہیں۔ اور اس کی ایک مثال خود یہی قصہ طالوت ہے۔ بائبل والوں نے اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ 963 ۔ (بس آپ اپنے پیغمبر برحق ہونے اصلا شک نہ کیجئے، ان حقائق کا نزول پیغمبروں ہی پر ہوتا ہے) (آیت) ” من المرسلین “۔ لفظ مرسلین کی معنویت قابل غور ہے۔ انبیاء کی حیثیت اسلام میں تمامتر قاصدوں، سفیروں، بھیجے ہوؤں کی ہے۔ اور جو مرسل (بھیجا ہوا) ہوتا ہے، ظاہر ہے، کسی کی طرف سے، کسی کے پاس ہی بھیجا ہوا ہوتا ہے۔ یہ مرسلین یا پیامبر، خالق کی طرف سے مخلوق کے پاس ایلچی بن کر آتے ہیں۔ ان کی عظمت و بزرگی جو کچھ بھی ہے، ان کے اسی منصب متعارف وپیامبری سے وابستہ ہے۔ یہ خود نہ اوتار ہوتے ہیں نہ دیوتا، نہ خدائی کے مظہر، نہ ان میں خدائی حلول کیے ہوتی ہے۔ معبودیت یا نیم معبودیت کی صلاحیت یہ ذرا سی بھی نہیں رکھتے اللہ اکبر ! شرک بلکہ شائبہ شرک سے بھی بچنے کا قرآں کو کس درجہ اہتمام ہے۔ اور الفاظ تک کے انتخاب میں وہ اس کا کیسا لحاظ رکھ لیتا ہے۔
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

ان رسولوں میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دے رکھی ہے،964 ۔ ان میں وہ بھی ہیں جن سے اللہ نے کلام کیا ہے،965 ۔ ان میں سے بعض کے درجے اس نے بلند کئے ہیں،966 ۔ اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) ،967 ۔ کو شواہد عطاء کئے،968 ۔ اور ہم نے ان کی تائید روح القدس کے ذریعہ سے کی،969 ۔ اور اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو ان کے بعد کے لوگ آپس میں خونریزی نہ کرتے بعد ان کے کہ ان کے پاس شواہد آچکے تھے،970 ۔ لیکن (لوگ) آپس میں جھگڑے،971 ۔ کوئی تو ان میں سے ایمان لے آیا اور کوئی ان میں سے کفر ہی کرتا رہا،972 ۔ اور اگر اللہ کی مشیت ہی ہوتی تو وہ آپس میں خونریزی نہ کرتے،973 ۔ لیکن اللہ وہی کرتا ہے جو ارادہ کرلیتا ہے،974 ۔

،964 ۔ (مراتب قرب ومنزلت میں) فضل کے لفظی معنی بزرگی کے ہیں۔ یعنی ایسی صفت جس سے انسان دنیا میں مدح وثنا کا مستحق ہو اور آخرت میں اجر سے سرفراز۔ (آیت) ” فضلنا “ میں ضمیر متکلم کا لحاظ رہے۔ یہ تفضیل یا باہمی فضیلت وافضلیت جو کچھ ہے محض عند اللہ ہے۔ خلق کے ہاں درجات و مراتب قربت کے لحاظ سے ہے، خلق کے لیے بہ حیثیت مطاع سب یکساں ہیں، عام خلقت کے لیے رسول سب برابر ہیں۔ اطاعت وتعظیم سب کی یکساں واجب ہے۔ اور اسی معنی میں قرآن مجید کی دوسری آیت اسی سورت کے آخر میں اسی پارہ میں آرہی ہے (آیت) ” لا نفرق بین احد من رسلہ “۔ لیس مقام التفضیل الیکم انما ھو الی اللہ عزوجل وعلیکم الانقیاد والتسلیم لہ والایمان بہ (ابن کثیر) (آیت) ” تلک الرسل “۔ مراد وہی مرسلین ہیں جن کا ذکر بھی ابھی آچکا ہے (آیت) ” الرسل “ کے اعراب رفعی کی بنا پر ترکیب کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ تلک الجماعۃ الرسل (کبیر) اہل لطائف نے آیت سے یہ نکالا ہے کہ انبیاء کے نائبین یعنی اولیا کاملین کے بھی فرق مدارج کے باب میں عوام کو بحث وگتفگو جائز نہیں ان کا تقابل وتفاضل عوام کے منصب سے باہر ہے، ہاں بجائے خود ان کے مقامات واحوال، واقعات و فضائل ذکر کرنے کا مضائقہ نہیں جیسا کہ یہاں بھی آگے ہورہا ہے۔ ،965 ۔ (براہ راست اور بلاتوسط ملائکہ) جیسا کہ حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے ساتھ ہوا، ورنہ ایک معنی میں تو جس نبی پر بھی وحی آئی اللہ کا مکالمہ اس سے ہو ہی گیا۔ اتفقوا علی ان موسیٰ (علیہ السلام) مراد بقولہ تعالیٰ (کبیر) وھو موسیٰ (علیہ السلام) (مدارک) ،966 ۔ (بہت زاید) والظاھر انہ اراد محمد ﷺ (کشاف) زمخشری نے یہاں نکتہ ادب وبلاغت خوب لکھا ہے کہ جہاں شناخت وتعیین میں کوئی دقت ہی نہ ہو وہاں کنایہ وابہام صراحت و تفصیل سے بڑھ کر بیلغ ومؤثر ہوتا ہے۔ ،967 ۔ کہ وہ بھی انہیں پیغمبر ان برحق میں سے تھے، ابن مریم یعنی مریم نامی ایک خاتون کے فرزند نہ کہ خدا زادہ یا ابن اللہ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بایں شرف وسروری بہرحال ایک انسانی شکل و صورت اور بشری گوشت و پوست رکھنے والی عورت ہی کی اولاد تھے نہ خدا تھے نہ خدا زادے، الوہیت کا کوئی سا بھی جزو ان میں نہ تھا انہیں خدا کا بیٹا ٹھہرالینا نری جہالت تھی، اور اس کی وضاحت کے لیے ضرورت تھی انہیں صراحت کے ساتھ ابن مریم (علیہ السلام) کہنے کی کہ محض اس نشان دہی اور پتہ ہی سے نصرانیت پر ضرب لگ جائے۔ ورنہ نام تو اور بھی پیغمبروں کے لیے گئے ہیں، کہیں ابن فلاں کرکے تعارف نہیں کرایا گیا ہے ! نہ ابن داؤد نہ ابن ابراہیم، نہ ابن اسحاق نہ ابن یعقوب نہ ابن زکریا نہ ابن عمران (علیہ السلام) اس طرح کا تعارف صرف ابن مریم (علیہ السلام) ہی کے لیے مخصوص ہے کہ انہیں کے لیے ابن اللہ یت کی تردید کی ضرورت تھی۔ ،968 ۔ (ان کی حقانیت اور پیمبری کے) یہاں یہ فرمایا گیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) رسول برحق اور مؤید من اللہ تھے۔ نہ کہ نعوذ باللہ کوئی مفتری یا کذاب۔ جس طرح نصاری نے غلووافراط سے کام لے کر آپ کو حدعبدیت و عبودیت میں سے باہر نکال رکھا تھا، اسی طرح یہود نے تفریط وعناد کو کام میں لاکر آپ کو سرے سے ایک بازیگر اور شعبدہ باز قرار دے لیا تھا۔ قرآن مجید ابھی ابھی نصرانی شرک کی تردید کرچکا ہے، اب یہودی دجل کی تردید کررہا ہے۔ (آیت) ” البینت “۔ بینات کے تحت میں وہ تمام کھلی ہوئی چیزیں شامل ہیں جنہیں دیکھ کر ہر عقل سلیم والا منصف مزاج نبوت عیسوی کا قائل ہوجائے۔ کلھا یدل علی نبوتہ (روح) ،969 ۔ کہ وہ قدم قدم پر دشمنوں سے ان کی حفاظت کرتے رہتے تھے (آیت) ” روح القدس “ قرآن مجید اور اسلام کی اطلاح میں اس سے مراد فرشتہ اعظم حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں، نصرانی تثلیث کے اقنوم ثانی سے یہاں کوئی واسطہ نہیں، جبریل ملکوتی مخلوق ہیں اور بہت مقرب لیکن بہرحال مخلوق ہی ہیں۔ الوہیت کا کوئی شائبہ بھی اپنے اندر نہیں رکھتے (آیت) ” ایدنہ “ ان کی تائید ہم نے کی جو ہر طرح قادر مطلق ہیں۔ یہ تائیدخود بخود نہیں ہوگئی۔ آیت سے اس حقیقت پر بھی روشنی پڑگئی کہ عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) بایں کمالات و فضائل بہرحال انسان ہی تھے اور وہ انسانوں کی طرح دفع ضرر اور حصول نفع دونوں کے محتاج۔ قدرت کاملہ نے ان کی محافظت وتقویت اور رفاقت کے لیے ایک دوسری مخلوق، لطیف وغیرہ مرئی جنس کی مقرر کردی۔ ،970 ۔ (آیت) ” البینت “ پر حاشیہ ابھی گزر چکا ہے، بینات کا مفہوم بہت وسیع وجامع ہے، عقلی وحسی دونوں قسم کے روشن شواہد۔ یعنی ایک طرف دلائل وبراہین اور دوسری طرف خوارق ومعجزات سب اس کے تحت میں آجاتے ہیں۔ (آیت) ” لوشآء اللہ “۔ یعنی اگر مصالح تکوینی کے اعتبار سے مشیت الہی کا اقتضاء یہی ہوتا۔ (آیت) ” من بعدھم “ غیر پیغمبروں کی طرف سے یعنی ان پیغمبروں کے ظہور کے بعد (آیت) ’ ’ مااقتتل الذین من بعدھم “۔ یہ باہم خونزیری کرنے والے کون لوگ تھے ؟ یقیناً پیغمبروں کے منکرین اور انکار کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ ظاہری اور صوری تو اقرار ہو اور حقیقی ومعنوی انکار ہی ہو جیسے یہود ونصاری اہل کتاب کا ظاہر میں اقرار اور معنوی انکار، دوسرے یہ کہ انکار صورۃ ومعنی دونوں طرح پر ہو، جیسے مشرکین کا انکار توحید و رسالت میں۔ ،971 ۔ گویا بینات کا تقاضائے طبعی تو یہی تھا کہ ایمان سب کے سب لے آتے لیکن ایک گروہ نے کج روی اور کج رائی سے کام لیا، اور یہ لوگ منکر ہی ہے، یہاں اس حقیقت کا بیان ہے کہ چونکہ مشیت الہی سب کو اضطرار ایک ہی دین پر جمع کرنے کی نہ ہوئی۔ اور حکمت کاملہ نے اس عالم کو عالم ابتلاء ہی رکھنا چاہا، اس لیے خلقت کا باہم مختلف ہونا بھی ناگزیر رہا۔ ،972 ۔ (توجب یہ اختلاف دینی شروع سے اور انبیاء سابقین کے وقت سے چلا آرہا ہے تو آپ اے پیغمبر اپنے زمانے کے کافروں پر بہت زیادہ رنج وغم نہ کریں، اور اپنے کو اس فکر ومشقت میں نہ ڈالیں کہ سب کے سب ایمان لے ہی آئیں) (آیت) ” منھم من امن “۔ سو جو لوگ ایمان لے آئے وہ تو نجات پاگئے (آیت) ” منھم من کفر “ جو لوگ کفر پر قائم رہے وہ سزئے ابدی کے مستحق قرار پائے۔ (آیت) ” من امن “۔ اور (آیت) ” من کفر “۔ دونوں کے صیغوں سے ظاہر ہورہا ہے کہ ایمان اور کفر بندہ کی اپنی اختیاری چیزیں ہیں، خالق کی طرف سے جبر کسی صورت میں نہیں۔ ،973 ۔ یعنی اگر سب کی خلقت ہی یکساں رکھ دی گئی ہوتی، اور کفر وگمراہی کی آزادی ہی سلب کرلی گئی ہوتی جب البتہ نہ اختلاف ہوتا اور نہ نوبت قتل و قتال کی پہنچتی۔ ،974 ۔ (آیت) ” اللہ یفعل “۔ اللہ وہی کرتا ہے بہ مقتضائے قدرت کاملہ (آیت) ” مایرید “۔ جو کچھ وہ چاہتا ہے بہ مقتضائے حکمت بالغہ یعنی نہ اس کی قدرت وقوت فاعلہ پر کوئی قیدیں اور حدبندیاں عائد ہیں اور نہ اس کی تجویزوں، ارادوں میں کسی غلطی یا سہو وخطا کا مکان ہے۔ ارسطو وخطا کا مکان ہے۔ ارسطو کا مکان ہے، ارسطو جیسے جیسے مشہور فلسفی نے خدا کی قدرت وقوت کو محدود مانا ہے، اور سہو وخطا کا امکان تو مشرکوں نے اپنے خداؤں میں کثرت سے تسلیم کیا ہے۔ آیت میں اس کی تعلیم ہے کہ چھوٹی بڑی اچھی بری کوئی سی شے بھی ہو، بہرحال مشیت الہی سے باہر نہیں، وفی الایۃ دلیل علی ان الحوادث تابعۃ لمشیۃ اللہ تعالیٰ خیرا کانت اوشرا ایمانا اوکفرا (روح)