2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 2:125

وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 2:125 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے خانہ (کعبہ) ،449 ۔ کو لوگوں کے لئے ایک مقام رجوع اور مقام امن مقرر کیا،450 ۔ اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنالو،451 ۔ اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) کی طرف حکم بھیجا،452 ۔ کہ تم دونوں میرے گھر کو پاک صاف رکھو،453 ۔ طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کیلئے،454 ۔

449 ۔ (آیت) ” بیت “ کے لفظی معنی گھر کے ہیں (جہاں رات بسر کی جائے) (آیت) ” البیت “ سے متفقہ طور پر مراد بیت الحرام یا خانہ کعبہ ہے۔ شہر مکہ معظمہ کے اندر کی یہ عمارت روئے زمین پر خدائے واحد کی عبادت کا قدیم ترین مکان ہے اور قرآن نے اس حقیقت کا اعلان کھلے لفظوں میں ادا کردیا ہے۔ (آیت) ” ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبرکا۔ مسیحیت کو کعبی کی تقدیس و برکت کے ساتھ ساتھ کعبہ کی یہ قدامت بھی نہایت شاق ہے لیکن انکار قدامت پر کوئی دلیل ہر ممکن کوشش کے بعد آج تک قائم نہیں ہوسکی ہے۔ بلکہ انیسویں صدی عیسوی کے ربع آخر میں انگریز مصنف باسورتھ اسمتھ کو لکھنا پڑا :۔” یہ وہ معبد ہے جس کی قدامت عہد تاریخ سے پرے ہے “۔ (محمد ﷺ اینڈ محمڈ نزم صفحہ 166) پھر آگے مشہور وقدیم رومی مورخ ڈایوڈ درس سکولس (Diodorus Seculus) جس کا نام خود حضرت مسیح (علیہ السلام) سے ایک صدی قبل کا ہے کہ حوالہ سے لکھا ہے کہ اس وقت بھی یہ معبد قدیم تیرین تھا اور ساری نسل عرب کا نہایت مقدس مرجع تھا (صفحہ 166) ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ 450 ۔ (آیت) ” مثابۃ “ مصدر ثوب کے معنی ہیں کسی شے کا اپنی حالت اصلی یا حالت مقصودہ کی طرف لوٹنا رجوع الشیء الی الحالۃ الاولی التی کان علیھا الی الحالۃ المقدرۃ المقصودۃ (راغب) اور جب کچھ لوگ کسی مقام کی طرف لوٹتے ہیں تو کہا جاتا ہے ثاب القوم اور اسی (آیت) ” مثابۃ “ اسم ظرف ہے المثابۃ مفعلۃ من ثاب القوم الی الموضع اذارجعوا الیہ فھم یثوبون الیہ مثابا ومثالبۃ للمبالغۃ قالہ الاخفش (بحر) گویا (آیت) ” مثابۃ “ کے معنی ہیں وہ مقام جس کی طرف انسان بار بار رجوع کرے اور پھر جی نہ بھرے۔ مرجعا للناس ومعاذا یاتونہ کل عام ویرجعون الیہ فلا یقضون منہ وطرا۔ یہ معنی امام ابن جریر نے خود بھی لیے ہیں اور یہی ابن عباس ؓ صحابی اور مجاہد، سدی، عطاء وغیرہ تابعین سے بھی نقل کیے ہیں۔ اور بیت الحرام کا یہ وصف تو مشاہد ہی ہے۔ لوگ حج پر حج اور عمرہ پر عمرہ کرتے چلے جاتے ہیں، اور اس سے اکتاتے نہیں، پھر چونکہ (آیت) ” البیت “ مرجع ارباب حج وعمرہ کا ہے اس لیے اجتماع ورجوع کے ساتھ عبادت کا مفہوم بھی الازما اس لفظ میں شامل ہوگیا ہے۔ مباء ۃ ومرجعا للحاج والعمار یتفرقون عنہ ثم یثوبون الیہ (کشاف) (آیت) ” للناس “ عام زائرین کا جو تانتا کعبۃ اللہ کی زیارت اور عمرہ کا سال کے ہر موسم، ہر فصل، ہر زمانہ میں لگا رہتا ہے اس سے قطع نظر تصور میں نقشہ ان لاکھوں انسانوں کا جمائیے جو صرف حج کے موقع پر کھنچے چلے آتے ہیں، صرف حجاز یا ملک عرب میں ہی کے ہر حصہ سے نہیں۔ بلکہ روئے زمین کے ہر خطہ، ہر علاقہ ہر ملک سے، اور پھر یہ بھی ذہن میں رکھ لیجے کہ یہ سلسلہ دس بیس سال سے نہیں۔ حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کے زمانہ یعنی تقریبا چار ہزار سال سے قائم ہے جب جا کر (آیت) ” للناس “ کی جامعیت کی تفسیر ذہن میں آسکے گی۔ (آیت) ” امنا “ مامونیت اس سے ظاہر ہے، ، کہ صرف عمارت کعبہ یا مسجد الحرام ہی نہیں بلکہ اردگرد کی سرزمین میلوں تک داخل حرم ہے اور حرم وہ علاقہ ہے جہاں انسان کی جان لینا الگ رہا جانور تک کا شکار جائز نہیں ! اور یہ حکم تو خیرشریعت اسلامی کا ہے، ارض حرم کا مامن ہونا جاہلیتوں کو بھی مسلم رہا ہے۔ بڑے بڑے مجرم مشرکوں کے دور حکومت میں بھی ارض حرم کا مامن ہونا جاہلیتوں کو بھی مسلم رہا ہے۔ بڑے بڑے مجرم مشرکوں کے دور حکومت میں بھی جرم کر کرکے خانہ کعبہ کی دیواروں کے درمیان آکر پناہ پاجاتے تھے۔ فرنگی قاموس علم و دانش میں ہے :۔ اتنا تو بہرحال ہے کہ محمد ﷺ کے دور سے بہت قبل مکہ کی دو حیثیتیں ہم مسلم پاتے ہیں۔ ایک تجارتی مرکز کی، ایک مقدس معبد کی جس کے اردگرد کی زمین بھی حرم ہے (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا جلد 15 ۔ صفحہ 150 طبع چہاردہم) غرض کہ قرآن نے (آیت) ” البیت “ کے جو دو وصف یہاں ذکر کیے ہیں وہ اعتقاد سے زیادہ تو مشاہدہ ماضی وحال کی چیزیں ہیں۔ 451 ۔ (اے مسلمانو ! ) (آیت) ” اتخذوا “ صیغۂ امر ہے اور یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے امت اسلامیہ سے ہے۔ الخطاب الامۃ محمد ﷺ (بیضاوی) الما مروبہ الناس کما ھو ظاہر (روح) والخطاب علی ھذین الوجھین لامۃ محمد ﷺ وھو ﷺ ررأس المخاطبین (روح) مقام ابراہیم کے معنی اس پتھر ہی کے لیے گئے ہیں جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے تھے اور یہ پتھر خانہ کعبہ سے چند ہی فٹ کے فاصلے پر اب بھی ایک حجرہ میں محفوظ ہے۔ یہ اصطلاح اگرچہ نزول قرآن سے بعد کی ہے لیکن ایک بہت بڑے گروہ نے یہی معنی لیے ہیں۔ حج کے موقع پر اس حجرہ کے سامنے طواف کے سات چکروں کے بعد دو رکعت نماز پڑھی جاتی ہے۔ حنفیہ ومالکیہ کے ہاں یہ نماز واجب ہے اور شافعیہ کے ہاں محض سنت، محققین کے دوسرے گروہ نے جس میں ابن عباس ؓ صحابی، مجاہد وعطاء تابعین اور امام فقہ نخعی وغیرہ شامل ہے، اس کے معنی سارے حرم یا کل مشاہد حج کے لیے ہیں۔ قال ابن عباس الحرم کلہ (ابن کثیر) وروی عن مجاہدوعطاء مثل ذلک (ابن کثیر) وذھب النخعی ومجاہد الی ان المراد من مقام ابراھیم الحرم کلہ وابن عباس وعطاء الی انہ مواقف الحج کلھا (روح) (آیت) ” من مقام “ من، من تبعیضیہ ہے یعنی ایک حصہ ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ بعض نے فی کے معنی میں لیا ہے۔ ومن اما للتبعیض اوبمعنی فی اوزائدۃ والا ظہر الاول (روح) (آیت) ” مصلی “ نماز کی جگہ یا دعا کی جگہ۔ صلیت دعوت کے معنی میں بھی آیا ہے۔ اصلی مصدر کے اعتبار سے جائے نماز اور جائے دعا میں کچھ زیادہ فرق بھی نہیں۔ یہ بات پہلے بھی کہی جا چکی ہے۔ اور اب اسے اور زیادہ صاف ہوجانا چاہیے کہ قرآن مجید اپنے مخاطبات میں تاریخ انسانی کی ترتیب کا پابند نہیں۔ بارہا پاس پاس کی آیتوں میں بلکہ کبھی خود ایک ہی آیت کے اندر معنوی مناسبت کی بنا پر دو ایسے واقعات جمع کردیئے جاتے ہیں۔ جن کے درمیان زمانی حیثیت سے صدیوں کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور اسی میں یہ بھی شامل ہے کہ واقعات ماضی کے بیان سے متصل ہی اور گویا انہیں کے ضمن میں کوئی مستقل حکم حال ومستقبل کے لیے دے دیا جائے اور صغیہ امر لا کر اس کا عطف صیغہ ماضٰ پر کردیا جائے۔۔ قرآن اصلا صرف کتاب ہدایت ہے اور وہ اپنے اس مقصد واصل کے آگے پر وا کسی انسانی حد بندی اور کسی منصوعی واختراعی تکلف کی نہیں کرتا۔ 452 ۔ (آیت) ” عھدنا “ یہاں امرنا کے معنی میں ہے اے امرنا (ابن جریر عن ابن زید) امرنا ھما (کشاف) عھد بہ معنی امر پر حاشیہ عہد بنی اسرائیل کے سلسلہ میں اوپر گزر چکا ہے۔ (آیت) ” ابرھم “ پر حاشیہ اوپر گزر چکا۔ اسمعیل ابراہیم (علیہ السلام) کے فرزند اکبر تھے۔ آپ کی مصری بیوی حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) کے بطن سے۔ سال ولادت غالبا 2074 ؁ ق، م وفات غالبا 1937 ؁ ق، م۔ توریت میں ہے کہ عمر 137 ۔ سال کی پائی۔ آپ کے بارہ فرزند ہوئے اور ان سے بارہ نسلیں چلیں۔ تو ریت میں ان بارہ فرزندوں کے نام درج ہیں اور یہ تصریح ہے کہ ” یہ اپنی امتوں کیب بارہ رئیس تھے “ (پیدائش 25: 12) عرب کا مشہور وعالی نسب قبیلہ قریش آپ ہی کی نسل سے ہے اس لیے آپ رسول اللہ ﷺ کے بھی مورث اعلی ہوئے ؛۔ اہل کتاب کہلانے والوں نے آپ کے خلاف زہر اگلنے اور اپنے خبث وعناد کا مظاہرہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے۔ تاہم اپنی کتاب کی تصریحات کو کیا کریں گے جو تحریف وتلبیس کی ہر ممکن کوشش کے بعد بھی نہ مٹ سکیں۔ ان میں ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کی دعا بھی شامل ہے۔ اور خداوند کریم کے وعدے بھی اور تاریخ کا بیان بھی :۔ اور ” ابراہام نے خدا سے کہا کہ کاش اسمعیل تیرے حضور جیتا رہے “۔ (پیدائش 17: 18) ” اسمعیل کے حق میں میں نے تیری سنی۔ دیکھ میں اسے برکت دوں گا۔ اور اسے آبرومند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں گا۔ (پیدائش 17:20) ” اسے اپنے ہاتھ سے سنبھال کہ میں اس کو ایک بڑی قوم بناؤں گا “ ‘۔ (پیدائش 2 1: 18) ” اور خدا اس لڑکے کے ساتھ تھا اور وہ بڑھا اور بیابان میں رہا کیا اور تیرانداز ہوگیا “ َ (پیدائش 2 1:2 1) یہاں حکم جو کچھ مل رہا ہے وہ آپ (علیہ السلام) کو اور آپ کے والد ماجد کو مشترک مل رہا ہے۔ گویا خدمت کعبہ میں آپ اپنے والد ماجد کے برابر کے شریک تھے۔ 453:۔ (ہر طرح کے شرک وبت پرستی کی گندگی سے) (آیت) ” طھرا “ طہارت سے اصلا یہاں مراد یہ ہے کہ نجاست معنوی واعتقادی سے دور اور ذکر و عبادت الہی سے معمور رکھو۔ ضمنا ظاہری صفائی کا حکم بھی آجاتا ہے۔ ھو تطھیرہ من الاصنام وعبادۃ الاوثان فیہ ومن الشرک باللہ (ابن جریر عن مجاہد وقتادہ وابن زید) من الاوثان الخبائث والانجاس کلھا (مدارک) والتطھیر المامور بہ ھو التنظیف من کل مالا یلیق بہ۔ (آیت) ” طھرا “ تثنیہ کا صیغہ ہے۔ حکم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کو بھی مل رہا ہے اور اقامت توحید میں برابر کے شریک بنائے جارہے ہیں۔ فقہاء نے خطاب کے اس صیغہ سے مفہوم عموم کا لیا ہے یعنی تطہیر کی ذمہ داری ہر فرد پر ہے۔ خواہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح متبوع ومقتدا ہو یا اسمعیل (علیہ السلام) کی طرح تابع ومقتدی ہو۔ (آیت) ” طھرا “ بالتشدید مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یعنی خوب اچھی طرح پاک وصاف رکھو۔ فقہاء نے یہیں سے یہ نکالا ہے کہ مسجد کی صفائی فرض ہے۔ (آیت) ” بیتی “ اضافت تشریفی ہے ” میرے گھر کی “ ترکیب کو خوب سمجھ لینا چاہیے۔ اسلام کا خدا نعوذ باللہ ! کوئی مرئی ومجسم دیوی دیوتا تو ہے نہیں جو اسے رہنے سہنے، اٹھنے، بیٹھنے کے لیے کسی گھر یا مکان کی ضرورت ہو۔ اس لیے ” میرے گھر “ سے مراد ” میرے رہنے کا گھر “ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ مراد صرف یہ ہے کہ وہ گھر جو میری یا دوعبادت کے لیے مخصوص ونامزد ہوچکا ہے۔ اضافت سے مقصود محض اظہارشرف و عظمت ہے۔ ھذا اضافۃ تشریف لاان مکانا محل للہ (بحر) الاضافۃ للتشریف کناقۃ اللہ (روح) اضافۃ البیت الی ضمیر الجلالۃ للتشریف (ابوسعود) آیت میں کوئی اشارہ مخصوص کعبہ کے لیے نہیں۔ ذکر صرف وصف یعنی بیت کے کے ساتھ فرمادیا ہے۔ اس سے فقہاء نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہی حکم ہر عبادت خانہ الہی یعنی ہر مسجد کے لیے رہے گا۔ 454 ۔ (آیت) ” للطآئفین “ میں لام تخصیص کے لیے ہے۔ یعنی کعبہ (اور اسی طرح ہر مسجد) پر حق انہیں لوگوں کا ہے جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔ عمارت بن کر تیار ہوچکی تو اب غایت تعمیر بیان ہورہی ہے کہ مقصود اس عمارت سے قیام توحید واستیصال شرک ہے۔ (آیت) ” للطآئفین “ خانہ کعبہ کا طواف کرنے والے۔ طواف کے معنی پر حاشیہ ابھی اوپر گزر چکا۔ حج وغیرہ کے سلسلہ میں تو طواف کعبہ فرض ہی ہے۔ لیکن یوں بھی بجائے خود بڑے اجر کی چیز ہے اور ساتھ ہی بڑے لطف کی بھی۔ جیسا کہ ہر صاحب ذوق کا تجربہ شاہد ہے۔ اس نامہ سیاہ نے اس کا بیان اپنے سفر حجاز میں کسی قدر تفصیل سے کیا ہے۔ خانہ کعبہ کو تمام دنیائے اسلام کی مسجدوں بلکہ نمازوں سے جو مرکزی نسبت حاصل ہے، اسی مناسبت سے اہمیت طواف کعبہ کو بھی حاصل ہے۔ کعبہ مظہر اعظم ہے دین توحید کا۔ اس کے گرد چکر لگانا گویا زبان حال سے اقرار کرنا ہے کہ ہماری ساری عبادتوں کا، سارے اعمال کا، ساری زندگی کا مرکزی نقطہ ہی توحید الہی ہے۔ عاکفین۔ عکوف۔ کے لفظی معنی ہیں کسی جگہ کے رہنے کو تعظیما لازم کرلینا۔ العکوف الاقبال علی الشئی وملازمتہ علی سبیل التعظیم لہ (راغب) اور اعتکاف اصطلاح شریعت میں نام ہے مسجد کے اندر بہ نیت عبادت قیام کو کسی مدت کے لیے لازم کرلینے کا، کہ بجز بشری ضرورتوں کے اور کسی حال میں باہر نہ نکلا جائے۔ ھو الاحتباس فی المسجد علی سبیل القربۃ (راغب) رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف سنت کفایہ مؤکدہ ہے اس میں روزہ بھی شرط ہے۔ نفس اعتکاف ہر حال میں موجب اجر وقربت ہے۔ رکع السجود۔ رکوع اور سجدہ نماز کی دو مشہور و متعارف ہیئتیں ہیں۔ طائفین اور عاکفین اور رکوع اور سجود چار لفظوں کے لانے کے بجائے یہ بھی ممکن تھا کہ صرف عابدین یا ذاکرین کہہ دیا جاتا۔ لیکن تفصیل وتصریح سے ایک ایک عبادت کی تخصیص اور بزرگی کا الگ الگ اظہار ہوگیا۔
Ayah 2:126

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:126 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد رکھنے کے قابل ہے) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کی کہ اے میرے پروردگار اس شہر کو امن والا بنادے اور اس میں رہنے بسنے والوں کو روزی دے پھلوں،455 ۔ سے (یعنی) ان رہنے والوں کو جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائیں456 ۔ (اللہ نے) ارشاد فرمایا کہ جو کفر کرے گا میں اسے بھی کچھ دن مزہ اٹھانے دوں گا پھر اسے کشاں کشاں عذاب جہنم تک پہنچا دوں گا اور وہ کیسا برا ٹھکانا ہے،457 ۔

455 ۔ ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی یہ دعائیں جس حیرت انگیز طریقہ پر پوری ہوئیں وہ خود ایک معجزہ ہے۔ پہلی دعا یہ تھی کہ شہر مکہ کو امن والا بنا دیا جائے۔ آس پاس کے رہنے والے لٹیرے اور خونخوار، لوٹ مار، قتل وخون کا بازار گرم، وسائل سفر محدود و خطرناک، راستہ غیر محفوظ۔ اس پر بھی حج وزیارت کے لیے حاجیوں اور زائروں کا تانتا صدیوں سے بندھا ہوا۔ اور اب امن وامان کے لحاظ سے مکہ اور حوالی مکہ آپ اپنی نظیر ہیں۔ نہ ڈاکے پڑتے ہیں، نہ قافلے لٹتے ہیں۔ نہ لاشے تڑپتے نظر آتے ہیں۔ اور شریعت اسلامی نے تو شہر ومضافات شہر کو ” حرم “ ہی قرار دے دیا۔ یعنی ان حدود کے اندر جانور تک کا شکار نہیں کیا جاسکتا۔ اور خونی بھی اگر آکر خانہ کعبہ کے اندر پناہ گزین ہوجائے تو اسے وہاں قتل نہیں کیا جاسکتا۔ شہر اور خانہ کعبہ کا اتنا احترام جاہلیتوں نے بھی اپنے زمانہ میں ملحوظ رکھا۔ دوسری دعا یہ تھی کہ مکہ والوں کو پھل پھلاری کھانے کو ملتے رہیں۔ مکہ واقع ایسی جگہ ہے کہ ساری زمین یا سخت ریتیلی ہے یا سخت پتھریلی۔ بارش بھی بہت ہی قلیل مقدار میں ہوتی ہے۔ غرض یہ کہ تازے پھلوں اور میوے دار درختوں کا ذکر ہی نہیں۔ معمولی سے پھل پھول کے درخت بلکہ تازہ وسبز گھاس تک نہیں پیدا ہوتی۔ اور کاشتکاری وباغبانی کو تو کوئی جانتا بھی نہیں۔ ایک بےآب وگیاہ سرزمین، کہیں ریگستان، کہیں گرم وخشک پہاڑیوں کے چٹان۔ لیکن ان سب کے باوجود جتنے تازہ تازہ پھل، میوے، ترکاریاں، غلے چاہیے شہر تک میں خرید لیجئے۔ اس باب میں کچھ تفصیلات اس عاجز کے سفرنامہ حجاز میں بھی ملیں گی۔ 456 ۔ ابھی ابھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتایا جاچکا تھا کہ فضل و برکت کے خاصہ وعدے ایمان وعمل صالح کے ساتھ مشروط ہیں۔ ان کے بغیر نہیں (آیت) ” لا ینال عھدی الظلمین ‘’‘(آیت 124) اللہ کے پیغمبر نے اللہ کے اس ارشاد کو گرہ بندھ لیا۔ اور اب جو دعا کی، اس میں خود ہی یہ قید لگا دی کہ پرامن شہر اور رزق ثمرات کی برکتیں صرف اہل ایمان وطاعت کے لیے مقصود ومطلوب ہیں دعاء لل مومنین خاصۃ (معالم) الرزق علی الامامۃ فخص ال مومنین (مدارک) خصص دعاۂ بال مومنین دون الکافرین (کبیر) حضرات انبیاء کی ادب شناسی کا کیا کہنا۔ حق تعالیٰ نے تو صرف یہ فرمایا تھا کہ امامت یا دینی سرداری مخصوص ہے اہل ایمان وطاعت کے ساتھ مخصوص کردیا۔ حالانکہ اس کا تعلق ربوبیت سے ہے جو مومن و کافر سب کے لیے اس عالم میں عام ہے۔ فنبہ سبحانہ علی ان الرزق رحمۃ دنیویۃ فعم ال مومن والکافر بخلاف الامامۃ والتقدم فی الدین (بیضاوی) (آیت) ” من امن منہم باللہ والیوم الاخر۔ “ ایمان کے اجزا یہاں دوہی بیان کیے گئے ہیں۔ اللہ پر ایمان اور روز آخرت پر ایمان۔ انہیں کے ضمن میں ایمان کے دوسرے ضروری اجزا بھی آگئے اس کی ضرورت مطلق نہیں کہ ایمان کا ذکر جہاں کہیں بھی آئے ہر جگہ اس کے سب ہی اجزا کی تصریح ہو۔ لما کان الایمان باللہ والیوم الاخر یتضمن الایمان بجمیع مایجب ان یؤمن بہ اقتصر علی ذلک (بحر) 457 ۔ (آیت) ” قلیلا “ کچھ دن۔ یہاں مراد ہے زندگی بھر سے کہ دنیوی زندگی آخرت کے مقابلہ میں قلیل ہی ہوتی ہے۔ متاعا یتمتع بہ الی وقت مماتہ (ابن جریر) الی منتھی اجلہ (معالم) مطلب یہ ہوا کہ وہ جو فضل خداوندی اہل ایمان واہل ہدایت کے ساتھ مخصوص ہے اور جس سے اہل ضلالت وکفر محروم رہیں گے، اس کا تعلق نفع آخرت سے ہے امامت دین سے ہے، رہے اس دنیوی زندگی کے انعامات اور منافع، غذا اور مسکن وغیرہ تو ان سے محروم کافروں اور منکروں تک کو نہ کیا جائے گا۔ کہ یہ قانون ربوبیت کا عین اقتضا ہے۔ دوزخ جیسی جگہ میں کوئی شخص خوشی سے تو جائے گا نہیں، ہر ایک کشاں کشاں ہی لے جایا جائے گا۔ قرآن نے یہاں جو اس کی تصریح کردی ہے وہ جہنم کی ہولناکی کا نقش واضح کرنے کے لیے۔
Ayah 2:127

وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 2:127 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد رکھنے کے قابل ہے) جب ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) خانہ (کعبہ) کی بنیادیں بلند کررہے تھے،458 ۔ اے ہمارے پروردگار ہم سے (یہ) قبول کر،459 ۔ یقیناً تو ہی (سب کچھ) سننے والا ہے (سب کچھ) جاننے والا ہے،460 ۔

458 ۔ (آیت) ” البیت سے مراد خانہ کعبہ ہے اور اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں (آیت) ” الکتب “ جس طرح قرآن کریم ہے النبی جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ، (آیت) ” البیت “ اسی طرح کعبۃ اللہ ہے۔ (آیت) ” یرفع “ کا لفظ قابل غور ہے۔ بنیادیں اول بار رکھی نہیں جارہی تھیں وہ تو حضرت آدم (علیہ السلام) اپنے عہد ہی میں رکھ گئے تھے، عمارت کے منہدم ہوجانے کے بعد اب انہیں از سر اٹھایا جارہا تھا، بلند کیا جارہا تھا، مسیحیوں کو خانہ کعبہ سے جو ضد اور اس کی قدامت سے جو کد ہے بالکل ظاہر ہے۔ ہر امکانی کوشش اپنے قلم سے اس کی مخالفت میں کرچکے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے باوجود حقیقت ہی ہے۔ آفتاب کے وجود سے روز روشن میں انکار کہاں تک کیا جاسکتا ہے۔ ؟ مترجم قرآن جارج سیل (Sale) اپنے انگریزی ترجمہ قرآن کے مقدمہ میں لکھتا ہے :۔ ” مکہ جسے بکہ بھی کہا گیا ہے۔ اور یہ دونوں الفاظ مترادف ہیں اور ان کے معنی مقام اجتماع عظیم کے ہیں۔ یقیناً دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ہے۔ اور بعض کی رائے میں توریت کے (شہر) میسا سے یہی مراد ہے “۔ اور پھر وہی آگے کہتا ہے :۔ ” مکہ کا معبد اہل عرب کے درمیان مقدس اور ایک عبادت گاہ کی حیثیت سے بہت ہی قدیم زمانہ سے اور محمد ﷺ سے بہت سی صدیوں قبل سے چلا آتا تھا “۔ باسورتھ اسمتھ جو لیکچرز آن محمد اینڈ محمدن ازم کے مصنف ہیں وہ لکھتے ہیں :۔ ’ بناء کعبہ کا سلسلہ حسب روایات “ اسمعیل اور ابراہیم تک پہنچتا ہے، بلکہ شیث وآدم تک، اور اس کا نام بیت ایل خود اس پر دلالت کرتا ہے کہ اسے ابتدائی شکل میں کسی ایسے ہی بزرگ قبیلہ نے تعمیر کیا ہے “۔ (صفحہ 166) سب سے بڑھ کر قابل لحاظ شہادت سرولیم میور کے قلم سے ہے :۔ مکہ کے مذہب کی تاریخ بہت ہی قدیم ماننی پڑتی ہے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کعبہ ایک نامعلوم زمانہ سے ملک عرب کا مرکز چلا آتا ہے۔ جس مقام کا تقدس اتنے وسیع رقبہ میں مسلم ہو اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس کی بنیاد قدیم ترین زمانہ سے چلی آتی ہے “ (لائف آف محمد ﷺ ۔ مقدمہ صفحہ 102 وصفحہ 103) ۔ یہ شہادتیں مخالفوں کی تھیں۔ باقی ہمارے ہاں کی روایتوں میں خانہ کعبہ کی قدامت کی جو روایتیں ہیں ان سے تو تفسیر، حدیث، سیر کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ (آیت) ” اسمعیل “۔ اسمعیل (علیہ السلام) کی عمر اور زمانہ وغیرہ پر حاشیہ اوپر گزر چکا ہے۔ ایک پیغمبر برحق کی حیثیت سے اسلام میں آپ کا جو مرتبہ ہے، ظاہر ہے۔ لیکن آپ کا ایک مستقل معجزہ یہ ہے کہ جن قوموں نے آپ کی اور آپ کی والدہ ماجدہ کی ہجو اور بدگوئی کو اپنا شعار بنالیا ہے ان تک کے نوشتوں میں آپ کی تعظیم منقول چلی آتی ہے۔ چناچہ بعض احبار یہود کا یہ قول آج تک یہود ہی کی دائرۃ المعارف میں لکھا چلا آتا ہے کہ ” جو کوئی خواب میں اسمعیل کو دیکھ لے حق تعالیٰ کے ہاں اس کی دعا قبول ہوجائے گی “۔ (جیوش انسائیکلوپیڈیا جلد 6 صفحہ 468) آپ کی والدہ ماجدہ حضرت ہاجرہ شاہ مصر کی صاحبزادی تھیں۔ اور مصر کا شاہی خاندان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان کی ایک شاخ تھا۔ عراق سے منتقل ہو کر مصر میں آباد ہوگیا تھا۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے سفر میں ادھر سے گزرے تو بحیثیت ایک شیخ قبیلہ کے، آپ کو شاہ مصر نے اپنا مہمان بنایا۔ اور رخصت کے وقت آپ کے عزازواکرام میں اپنی صاحبزادی کو بطور تحفہ کے پیش کیا۔ اور تواضع و انکسار کی راہ سے کہ مشرقی میزبانی کا خاصہ ہے، کہا کہ یہ آپ کی کنیزی کے لیے ہدیہ ہے۔ اردو زبان میں یہ محاورہ آج تک چلا ہوا ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر بڑے سے بڑا معزز شخص بھی اپنی لڑکی کو کنیز ہی کہہ کر داماد اور سمدھی کے سامنے پیش کرتا ہے۔ مشرقی تواضع کے اس عام پیرایہ بیان سے معانداین کو گویا ایک بڑی معتمد اور مستند دستاویز ہاتھ آگئی۔ اور ام اسمعیل (علیہ السلام) ان کے ہاں آج تک کنیز ہی چلی آرہی ہیں۔ واقعات بہر حال واقعات ہیں۔ انہیں کوئی کہاں تک جھٹلا سکتا ہے ؟ اسی جیوش انسائیکلوپیڈیا میں اکابر احبار یہود کے حوالہ سے ہے :۔” ہاجرہ فرشتہ ہی کو دیکھ کر ہیبت زدہ ہوئیں۔ ان کی عصمت مآبی اس سے ظاہر ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں اپنے پاس سے الگ کردیا۔ جب بھی ان کی وفاداری میں فرق نہ آیا۔ ان کے نام ایک معنی ” آراستہ “ بھی بیان ہوئے ہیں، اور یہ اس بنا پر کہ وہ زیور اخلاق وحسن عمل سے آراستہ تھیں “۔ جلد 6 صفحۃ 138) ۔ اور اسی میں اور ایک دوسری جگہ یہ روایت بھی درج ہے کہ ” بادشاہ نے خود اپنی صاحبزادی بطور کنیزہدیہ کردی “۔ (جلد 1 1 صفحہ 55) اور قصص یہود کا جو مجموعہ گنز برگ (Ginzberg) نے چار جلدوں میں مرتب کرکے شائع کیا ہے۔ اس میں ہے :۔ بادشاہ مصر نے عہد کرلیا کہ وہ ابراہیم کو ہر طرح پر قوت و شوکت بنا کر رہے گا۔ چناچہ اپنی بیٹی تک ہدیہ دے دی سارہ کی تعلیم وتربیت میں رہ کر وہ بھی ویسی ہی باخدا بن گئیں اور ہر طرح ابراہیم کی رفاقت کے قابل “ (جلد 1، صفحہ 228 وصفحہ 237) ۔ 459 ۔ (محض اپنے فضل و رحمت سے) کیا ٹھکانا ہے اس خشیت قلب کا اخلاق کے مجسمے ہیں۔ صداقت کے پتلے ہیں۔ اس پر بھی ڈرتے جاتے ہیں کہ دیکھئے نذر قبول بھی ہوتی ہے یا نہیں، باب تفعل کا ایک خاصہ تکلف ہے۔ اس لیے بعض نکتہ سنجوں نے لفظ تقبل سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ محل بذات خود ہرگز قابل قبول نہیں۔ تمام تر ناقص ہے۔ اور مقبولیت محض لطف وکرم سے ہو رہی ہے نہ کہ کسی استحقاق کی بنا پر۔ ان التقبل عبارۃ عن ان یتکلف الاانسان فی قبولہ (کبیر) فی اختیار صیغۃ التفعل اعتراف بالقصور لما فیہ من الاشعار بالتکلف فی القبول (روح) مزدور اور معمار جب کام کرتے ہیں تو عمموما وعادۃ کچھ گنگناتے بھی جاتے ہیں۔ اللہ کے گھر کے یہ معمار بھی اللہ کے گھر کی دیواریں اٹھاتے وقت خاموش نہ تھے، یہاں ان کی مناجات بیان ہورہی ہے۔ فقہاء کا استنباط ہے کہ ہر عمل صالح کے بعد دعا کرنا مستحب ہے۔ چناچہ ختم نماز پر دعا اور افطار صوم کے وقت دعاء اسی قبیل سے ہیں ، 460 ۔ (آیت) ” سمیع “ سننے والا زبان سے نکلے ہوئے لفظ وقول کا۔ (آیت) ” علیم “ جاننے والا دل کے اندر کے اخلاص کا۔ مشرک قوموں کے حکماء وفلاسفہ نے سب سے زیادہ ٹھوکر حق تعالیٰ کی صفت علم ہی کے باب میں کھائی ہے۔ اور باری تعالیٰ کا علم (نعوذ باللہ) ناقص و محدود فرض کیا ہے۔ قرآن جو علم باری کے کامل و محیط ہونے کا شدومد سے اثبات کرتا ہے، اور اللہ کے علیم، سمیع، بصیر ہونے کو بار بار پیش کرتا ہے، اس کا ایک مقصد فلاسفہ کے اس وہم باطل کی تردید کرنا ہے۔
Ayah 2:128

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:128 in the Quran reader

اے پروردگار ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا دے،461 ۔ اور ہماری نسل سے ایک فرمانبردار امت پیدا کر، 462 ۔ اور ہم کو ہمارے دینی قاعدے بتلادے،463 ۔ اور ہمارے حال پر توجہ رکھ،464 ۔ یقیناً تو تو بڑا توجہ فرمانے والا ہے، بڑا مہربان ہے،465 ۔

461 ۔ (اور زیادہ) (آیت) ” مسلمین “ کے معنی یہاں دو طرح کیے گئے ہیں۔ ایک اللہ کی توحید کے ماننے والے بلاشائبہ شرک وشرکت۔ اے موحدین مخلصین لانعبد الاایاک (کبیر) دوسرے اسلام کے عام احکام کے پابند۔ اے قائمین بجمیع شرائع الاسلام (کبیر) لیکن دونوں معنی ایک دوسرے کے منافی بالکل نہیں۔ مسلم کے ترجمہ فرمانبردار میں نہ وہ وسعت ہے، نہ وہ لطف جو خود لفظ مسلم میں ہے۔ مسلمون اے منقادون للحق مذعنون لہ (راغب) فرمانبردار بندے یا مسلم تو ہو اس وقت ہی تھے جب دعا کررہے تھے۔ دعا کا مفہوم صرف اس قدر ہے کہ ہماری فرمانبرداری میں مزید ترقی دے۔ والمعنی زدنا اخلاصا واذ عانا لک (کشاف) والمراد طلب الزیادۃ فی الاخلاص والاذعان اوالثبات علیہ (بیضاوی) 462 ۔ (آیت) ” امۃ مسلمۃ “ کے ترجمہ ” فرمانبردار امت “ میں وہ بلاغت ومعنویت کہاں جو قرآنی لفظ امت مسلمہ میں ہے دعا کی مقبولیت اسی سے ظاہر ہے کہ وہ امت آج تک اسی نام سے مشہور چلی آتی ہے، دوست دشمن سب کی زبان پر۔ ایک امریکی یہودی ٹوری ییل یونیورسٹی کا استاد اپنی اسلام دشمنی میں آکسفورڈ والے مارگولس آنجہانی کا پورا جانشین ہے۔ لیکن ایک بات بڑے پتے کی اس کی زبان سے بھی نکل گئی ہے کہتا ہے :۔ (” اسلام کی بنیاد تو حقیقۃ) اسمعیل کے ہاتھوں پڑی جو اہل عرب کے مورث اعلی ہیں “۔ (جیوش فاؤنڈیشن آف اسلام صفحہ 6 دیباچہ) (آیت) ” من ذریتنا “ یعنی ابراہیم واسمعیل (علیہما السلام) کی مشترک نسل سے، دعادونوں بزرگوار مل کر کررہے تھے، اس لیے ذریت سے مراد بنی اسمعیل ہی ہوسکتے تھے، برنابانامی، حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ایک بلند پایہ حواری (صحابی) ہوئے ہیں، ان کی انجیل کو مسیحیوں نے اپنے مذاق ومسلک کے بالکل ناموافق پاکر اس کی اصلیت ہی سے انکار کردیا ہے۔ اس انجیل کے نسخے انگریزی، عربی، اردوتینوں زبانوں میں موجود ہیں۔ اس میں صراحت کے ساتھ ہے کہ عہد الہی اسمعیل (علیہ السلام) کے ساتھ ہوا تھا نہ کہ اسحاق (علیہ السلام) کے ساتھ۔ وقولی لانی اقول لکم الحق ان العھد صنع باسمعیل لا باسحق (43:3 1) میری بات کا یقین کرو میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وعدہ اسمعیل سے کیا گیا تھا نہ کہ اسحاق سے۔ اور پھر ہے، وان الموعد صنع باسمعیل لا باسحق ( 142: 18) وعدہ اسمعیل (علیہ السلام) سے کیا گیا تھا نہ کہ اسحاق (علیہ السلام) سے۔ 463 ۔ (آیت) ” مناسکنا۔ یعنی عام دینی قاعدے خصوصا بیت اللہ کے حج وزیارت کے آداب وشعائر۔ اے شرائع دیننا واعلام حجنا (معالم) (آیت) ” ارنا “ اراء ۃ کے معنی یہاں آنکھ سے دکھلا دینے کے نہیں بلکہ سکھلا دینے بتلادینے کے ہیں۔ اے علمنا وعرفنا (معالم) فعل رائی کا تعدیہ جب دو مفعولوں کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی رؤیت کے نہیں علم کے ہوجاتے ہیں۔ ارانی اذاعدی الی مفعولین اقتضی من العلم (راغب) الرؤیۃ ھھنا بمعنی العلم (ابن قتیبہ) ابن حاجب نحوی اور ابوحیان مفسر نے اس معنی کے قبول کرنے سے انکار بھی کیا ہے لیکن جب تائید میں راغب اور زمخشری جیسے مستند امامان ادب ولغت کی شہادتیں موجود ہیں تو کسی کا انکار چل نہیں سکتا۔ وانکر ابن الحاجب واتبعہ ابوحیان ثبوت رأی بمعنی عرف وذکرہ الزمخشری فی المفصل والراغب فی مفرداتہ وھما من الثقات فلا عبرۃ بانکار ھما (روح) 464 ۔ (رحمت و شفقت ومغفرت کے ساتھ) وتوبۃ الرب علی عبدہ عودہ علیہ بالعفولہ عن جرمہ والصفح لہ عن و عقوبت ذنبہ مغفرۃ لہ منہ وتفضلا علیہ (ابن جریر) 465 ۔ (تو تیرے لیے ہماری اس دعا کو شرف قبول بخش دینا کچھ بنی دشوار نہیں)
Ayah 2:129

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 2:129 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ان میں ایک پیغمبر انہیں میں سے بھیج،466 ۔ (جو) انہیں تیری آیتیں پڑھ کر سنائے اور انہیں، کتاب (الہی) اور دانائی کی تعلیم دے اور انہیں پاک (وصاف) کرے،467 ۔ یقیناً تو تو بڑا زبردست ہے، بڑا حکمت والا ہے،468 ۔

466 ۔ (آیت) ” منہم “ یہ قید خوب خیال میں رہے۔ دعائے ابراہیمی ابھی چل رہی ہے۔ ابھی ابھی آپ اور حضرت اسمعیل (علیہما السلام) دونون ملکر عرض کرچکے ہیں۔ کہ اے پروردگار ہم دونوں کی نسل میں سے ایک امت مسلمہ ایک اپنی فرمانبردار امت پیدا کر۔ اور اس کے معا بعد (آیت) ” منہم “ کا لفظ لاتے ہیں۔ کھلی ہوئی مراد نسل اسمعیلی سے ہے۔ لفظ ھم کا مرجع ذریۃ کو بھی سمجھا گیا ہے اور امت مسلمہ کو بھی۔ والضمیر فی منہم یحتمل ان یعود علی الذریۃ ویحتمل ان یعود علی امت مسلمۃ (بحر) ماحصل دونوں کا ایک ہی ہے یعنی نسل اسمعیلی۔ اور یہ جزوتاریخ سے اپنی جگہ ثابت ہے کہ صحیح النسب نسل اسمعیل (علیہ السلام) قوم عرب ہی رہ گئی تھی، اس لیے لازمی تھا کہ یہ پیغمبر عرب ہی میں پیدا ہو۔ (آیت) ” رسولا “ اس کا ایک تو صیغہ واحد اور پھر اعراب کی تنوین۔ گوپایہ اشارہ قریب بہ صراحت پہنچ گیا کہ وہ رسول ایک ہی ہوگا۔ متعدد نہ ہوں گے۔ یہود کا دعوی ہے۔ اور (نصاری بھی انہیں کا ساتھ دیتے رہے ہیں) کہ نبوت و رسالت تو بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص تھی۔ یہ نیا پیغمبر بنی اسمعیل میں کیسے پیدا ہوگیا ؟ لیکن انہیں کی توریت باوجود ان کی ساری تحریفات کے اس تک شہادت کچھ اور ہی دے رہی ہے ایک جگہ حضرت موسیٰ اپنی قوم کو مخاطب کرکے کہتے ہیں :۔ ” خداوند تیرا خدا تیرے لیے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا تم اس کی طرف کان دھرو “۔ (استثنا۔ 18: 15) قطع نظر اس سے کہ بنی اسرائیل میں تو ایک نبی نہیں خدا معلوم کتنے انبیاء حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد پیدا ہوتے رہے۔ خود ” تیرے ہی بھائیوں میں سے “ کی تصریح بتا رہی ہے کہ مراد بنی اسرائیل نہیں۔ بلکہ ان کے ہم جد بھائی بنی اسمعیل ہیں۔ اگر خبر اسرائیلی ہی نبی کی دینا ہوتی تو بجائے ” تیرے ہی بھائیوں میں سے “ کے عبارت ” تجھ ہی میں سے “ ہوتی۔ یہ الفاظ تو صرف مخاطبین کی وحشت دور کرنے اور ان میں جذبہ انس وموانست پیدا کرنے کے لیے ہیں کہ اے ہم قوموجب وہ نبی آئے تو اس کی اطاعت کرنا۔ وہ بھی تمہارا کوئی غیر نہیں تمہارے ہی بھائیوں میں سے ہوگا۔ اور پھر دو ہی آیتوں کے بعد توریت میں بعینہ یہی مضمون براہ راست حق تعالیٰ کی جانب سے ادا کیا گیا ہے :۔ ” خداوند نے مجھے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا سو اچھا کہا۔ میں ان کے لیے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا “۔ (استثناء 18: 18) اس سے قطع نظر اگر ممکن ہو تو کرلیجئے کہ ” اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا “ یعنی لفظی کلام الہی ہونے کا مصداق بجز قرآن کے ساری آسمانی کتابوں میں اور ہے ہی کون ؟ لفظی کلام الہی ہونے کا دعوی کس دوسری کتاب کا ہے ؟ اور اس سے بھی قطع نظر اگر ممکن ہو تو کرلیجئے کہ ” تجھ سا “ یعنی ” موسیٰ کا سا “ مثیل موسیٰ ہونے کا مصداق تاریخ کی دنیا میں بجز ذات محمد ﷺ کے اور ہوا کون ہے ؟ اور کیا اس سے بھی قطع نظر ممکن ہوگی کہ یہاں بھی بجائے ” ان میں سے “ کے یا ” اسرائیلیوں میں سے “ کے ” ان کے بھائیوں میں سے “ ہونے کی صراحت یہاں بھی موجود ہے اور پھر یہی پیشگوئی انہیں لفظوں میں موسیٰ نبی کی زبان سے نکلی ہوئی، نصاری کی انجیل میں بھی دہرائی ہوئی موجود ہے :۔ ” موسیٰ نے کہا کہ خداوند خدا تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لیے مجھ سا نبی پیدا کرے گا۔ جو کچھ وہ تم سے کہے تم اس کی سننا “۔ (اعمال 3:22) 467 ۔ ذرا غور کرنے سے نظر آجائے گا کہ رسول اعظم ﷺ کے جملہ فرائض کمال ایجاز کے ساتھ ان چند فقروں میں آگئے ہیں۔ (آیت) ” یتلوا علیھم ایتک “ رسول کا پہلا کام اپنی امت کے سامنے تلاوت آیات ہوتا ہے۔ یعنی اللہ کا کلام پہنچانا۔ گویا رسول کی پہلی حیثیت مبلغ اعظم کی ہوتی ہے۔ (آیت) ” یعلمھم الکتب “ رسول کا کام محض تبلیغ وپیام رسانی پر ختم نہیں ہوجاتا، اس کا کام کتاب الہی کی تبلیغ کے بعد اس کی تعلیم کا بھی ہے۔ اس تعلیم کے اندر کتاب کی شرح، ترجمانی، تعمیم میں تخصیص، تخصیص میں تعمیم سب کچھ آگئی۔ اور یہیں سے ان کج فہموں کی بھی تردید ہوگئی جو رسول کا منصب (معاذ اللہ) صرف ڈاکیہ یا قاصد کا سمجھے ہوئے ہیں ! گویا رسول کی دوسری حیثیت معلم اعظم کی ہوئی (آیت) ” والحکمۃ “ پھر رسول تعلیم محض کتاب ہی کی نہ دیں گے بلکہ حکمت و دانائی کی تلقین بھی امت کو کریں گے۔ احکام ومسائل، دین کے قاعدے اور آداب، عوام و خواص سب کو سکھائیں گے اور خواص کی رہنمائی اسرار و رموز بھی کریں گے، گویا رسول کی تیسری حیثیت مرشد اعظم کی ہوئی۔ (آیت) ” یزکیھم۔ تزکیہ سے مراد دلوں کی صفائی ہے۔ رسول کا کام محض الفاظ اور احکام ظاہر کی تشریح تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ وہ اخلاق کی پاکیزگی اور نیتوں کے اخلاص کے بھی فرائض انجام دیں گے، رسول کی یہ چوتھی حیثیت مصلح اعظم کی ہوئی۔ 468 (آیت) ” انک انت “ عربی کے اس دہرے فقرۂ مخاطبت کا مفہوم اردو میں ” یقیناً تو تو “ (پہلا ” تو “ واؤ معروف اور دوسرا ” تو “ واؤمجہول کے ساتھ) سے ادا ہوتا ہے۔ (آیت) ” العزیز “ ہر دعا کے قبول کرنے پر۔ ہر آرزو کے پورا کرنے پر قادر۔ اس کی مشیت پر مانع اور غالب کوئی چیز نہیں آسکتی (آیت) ” الحکیم “۔ قادر مطلق ہونے ساتھ حکیم مطلق بھی۔ قبول وہی دعائیں کرتا ہے بندوں کی آرزوئیں وہی پوری کرتا ہے، جو قانون حکمت کے مطابق وماتحت ہوتی ہیں۔ اللہ اکبر ! خلیل وذبیح (علیہما السلام) کی ادب شناسیوں کا کیا کہنا ! دعا میں بھی کیسے کیسے نکتے ملحوظ رکھ لیے ہیں۔ حضرات انبیاء سے بڑھ کر ادب شناس اور ہو بھی کون سکتا ہے ؟
Ayah 2:130

وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 2:130 in the Quran reader

اور ابراہیم (علیہ السلام) کے مذہب سے کون پھرے گا مگر وہی جس نے اپنے کو احمق بنالیا ہو،469 ۔ اور ہم نے تو انہیں دنیا میں بھی برگزیدہ کرلیا تھا،470 ۔ اور آخرت میں بھی وہ زمرۂ صالحیں میں ہوں گے،471 ۔

469 ۔ یعنی ملت ابراہیمی تو عین دین فطرت ہے، اس کی تعلیمات عین طبع سلیم کی ترجمان ہیں۔ اس سے کنارہ کشی تو صرف وہی اختیار کرسکتا ہے جس کی فطرت ہی سلیم نہ باقی رہی ہو۔ بلکہ مسخ ہوچکی ہو۔ اس مقدمہ کی تصدیق انسان جب چاہے اعتقاد سے نہیں، آزمائش سے کرلے، اسلام نے جماعت (سوسائٹی) کا جو نظام قائم کیا ہے، وہی بہترین نظام اجتماعی ہے۔ ہر فرد کے لیے جو ضابطہ عمل بنا دیا وہی بہترین ضابطہ شخصی ہے۔ عقل وجذبات، فرد وجماعت، دل و دماغ جسم وروح، حریت وطاعت، حیات بشری کے متضاد ومتناقض عنصروں کی جتنی باہمی رعایت شریعت اسلام نے ملحوظ رکھی ہے، دنیا کے کسی قانون میں کہیں اس کی نظیر نہ ملے گی، دعائے ابراہیمی ختم ہوئی، اب بیان ملت ابراہیمی کا شروع ہورہا ہے۔ کہ یہ تو وہی دین توحید ہے جس کی دعوت آج اسلام ہی دے رہا ہے اور جسے تم سب باوجود اپنے مشترک بزرگ ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کے دعوی کے چھوڑے بیٹھے ہو۔ (آیت) ” ملۃ ابراھم “ قرآن مجدی نے عجب بلاغت ونکتہ سنجی سے کام لے کر یہاں اپنے دین اسلام کی نسبت نہ حق تعالیٰ کی جانب کی نہ رسول وقت حضرت محمد ﷺ کی جانب، بلکہ صرف ابراہیم (علیہ السلام) خلیل کی جانب کی۔ یہاں مخاطب اصلا یہود ونصاری اور مشرکین عرب ہیں اور یہ تینوں قومیں مسلمانوں ہی کی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا مقدس پیشوا مانتی تھیں۔ اس اسلوب بیان کو اختیار کرکے گویا یہ کہا جارہا ہے کہ قرآن تمہیں کسی نئے دین کی دعوت نہیں د یتا۔ عین تمہارے ہی برزگ ومحترم پیشوا ابراہیم (علیہ السلام) ہی کے دین کی جانب تمہیں بلا رہا ہے ! تلطف اور حسن تبلیغ کا پیرایہ اس سے بہتر اور کیا ہوسکتا تھا ؟ مشرکین عرب کے پاس آسمانی کتاب کی قسم سے کوئی کتاب تو نام کے لیے بھی موجود نہ تھی، البتہ یہودونصاری کے نوشتوں میں ابراہیم (علیہ السلام) کے فضائل اس وقت بھی درج تھے اور آج تک لکھے چلے آتے ہیں توریت مروجہ میں ہے :۔ اپنے باپ ابراہام پر اور سرہ پر جو تمہیں جنی نگاہ کرو کہ جب میں نے اسے بلایا وہ اکیلا تھا پھر اس کو برکت دی اور اس کو بہت بنایا “۔ (یسعیاہ۔ 5 1:2) ” اے ابراہام تو مت ڈر۔ میں تیری سپر اور تیرا بہت بڑا اجر ہوں “۔ (پیدائش 15: 1) ” اور وہ خدا پر ایمان لایا اور یہ اس کے لیے صداقت محسوب ہوا “۔ (پیدائش 15:6) اور مسیحیوں کی انجیل مروجہ میں ہے :۔ ” ابراہیم خدا پر ایمان لایا، اور یہ اس کے لئے راستبازی گنا گیا، بس جان لو کہ جو ایمان والے ہیں وہی ابراہیم کے فرزند ہیں “۔ (گلتیون۔ 3:6) نیز (رومیون۔ 4:3) 470 ۔ (ان کی اسی توحید پر ستی اور ایمان باللہ کے صلہ میں ہر قسم کی نعمتوں اور سرفرازیوں کے لیے۔ یہاں تک کہ منصب نبوت و رسالت کے لیے) ایک مسیحی مورخ ریونڈر ولیم ڈین ایم، اے نے ایک مستقل سیرت ابراہیم انگریزی میں لکھی ہے، اس سے آپ (علیہ السلام) کے دنیوی عروج واقبال پر بھی خوب روشنی پڑتی ہے۔ ان ” روشن خیال “ لامذہبوں کی تردید کے لیے یہی کافی ہے جنہوں نے ابھی انیسویں صدی کے آخر میں آپ کے وجود کو فرضی قرار دیا تھا۔ 471 ۔ (ایک پیغمبر جلیل القدر کے شایان شان) یہودونصاری نے اہل کتاب ہونے اور نبوت وسلسلہ وحی پر ایمان رکھنے کے باوجود اپنے اپنے نوشتوں میں کوئی کسر عصمت انبیاء کے داغدار بنانے میں اٹھا نہیں رکھی۔ اس لیے قرآن مجید جہاں جہاں انبیاء سابق کا ذکر کرتا ہے اکثر ان حضرات کی اخلاقی وروحانی عظمت پر بھی زور دیتا ہے اور اس طرح انبیاء برحق کی نصرت وحمایت کا فرض، توریت وانجیل کی عائد کی ہوئی فرد جرم کے مقابلہ میں ادا کرتا جاتا ہے۔ یہ عجیب و غریب اہل کتاب، نبی اور نبوت کے قائل گویا ان کے صرف لفظی معنی میں تھے، یعنی نبی وہ ہے جو کاہنوں جوتشیوں کی طرح غیب کی خبریں دے سکے۔ اور اس سے انہیں کوئی بحث ہی نہ تھی کہ اس کے اخلاق کا کیا عالم تھا۔ اس کے روحانی کمالات کس درجہ کے تھے، اس کی تعلیمات کیا تھیں، وقس علی ہذا۔ ابراہیم خلیل (علیہ السلام) تو اکثر انبیاء کے ابو الآباء ہیں۔ آپ (علیہ السلام) کی عصمت کے تحفظ کا تو قرآن نے اور زیادہ اہتمام رکھا ہے۔
Ayah 2:131

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:131 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ حکم بردار ہوجاؤ،472 ۔ وہ بولے میں حکم بردار ہوں سارے جہان کے پروردگار کا،473 ۔

472 ۔ اسلموا کا دوسرا ترجمہ ” اسلام لے آؤ “ یا ” مسلم ہوجاؤ “ بھی ہوسکتا ہے۔ پہلے بھی ذکر آچکا ہے اور یہاں اسے پھر یاد کرلیا جائے کہ قرآن مجید میں واقعات کا بیان ہمیشہ ترتیب تاریخی کے اعتبار سے نہیں ہوتا۔ اسلام لانے کے معنی ہیں اپنے آپ کو تمامتر خدائے واحد کے سپرد کردینا، اس کا پرستار بن جانا۔ عقیدہ، معاشرت، معاملت غرض کہ زندگی کے ہر بڑے چھوٹے شعبہ میں اسی کے قانون کو قبول کرنا۔ اور اس کے احکام کی اطاعت کرنا، اصطلاح میں اسلام و ایمان گویا مترادف ہے، اور یہی دین اسلام ہمیشہ انبیاء کا رہا ہے۔ 473 ۔ یعنی میں خدائے پروردگار عالم پر اسلام لے آیا، یہاں گویا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اشارۃ اپنے ایمان لانے کی وجہ بھی بیان کردی، یعنی اسلام میں کیوں نہ لاتا۔ ایک ہی پروردگار، ایک ہی حاکم مطلق، ایک ہی مالک، ایک ہی ربوبیت کے سارے شعبوں کا ناظم وہی ہے۔ میں اس پر ایمان کیسے نہ لاتا ؟ اس کے قانون سے باغی کیسے رہ سکتا !
Ayah 2:132

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ Open ayah 2:132 in the Quran reader

: اور ابراہیم (علیہ السلام) اس کی ہدایت کرگئے اپنے بیٹوں کو،474 اور اسی طرح یعقوب (علیہ السلام) بھی،475 ۔ (اپنے بیٹوں کو) ،476 ۔ کہ اے میرے بیٹوبیشک اللہ نے تمہارے لئے دین کا انتخاب فرمالیا ہے،477 ۔ سو ایسا ہرگز نہ ہونے پائے کہ تم مرتے وقت بجز مسلم کے کچھ اور ہو،478 ۔

474 ۔ (آیت) ” بھا “ (یعنی اس دین توحید کی، ملت اسلام کی) ضمیر خواہ ملت کی جانب ہو خواہ (آیت) ” اسلمت لرب العلمین “ کی طرف، ماحصل دونوں کا ایک ہی ہے۔ والضمیر فی بھا لقولہ اسلمت لرب العلمین (کشاف) والضمیر للمت اولقولہ اسلمت (بیضاوی) (آیت) ” وصی “ عربی کا لفظ وصیۃ اردو کے وصیت سے کہیں زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ بستر مرگ کی خواہشوں اور مرنے والوں کی آخری ہدایتوں تک محدود نہیں۔ ہر حکم، ہر ہدایت پر اس کا اطلاق ہوسکتا ہے ” وصیتہ ھکذا “ کے معنی ہیں۔” میں نے اس کو حکم دیا “۔ ” میں نے اس سے یہ کرنے کو کہا “ (آیت) ” بنیہ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے آٹھ تھے۔ ( 1) حضرت اسمعیل (علیہ السلام) حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) مصری کے بطن سے (2) حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت سارہ (علیہ السلام) عراقی کے بطن سے۔ (3) زمران ، (4) یقسان (5) مدان (6) مدیان (7) سیاق (8) سوخ یہ سب حضرت قتورہ (علیہ السلام) کے بطن سے تھے (پیدائش 25: 1، 2) 475 ۔ (آیت) ” یعقوب “ حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کے پوتے اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) نبی کے صاحبزادہ تھے۔ اور نبی زادہ ہونے کے علاوہ خود بھی نبی تھے۔ اسرائیل آپ ہی کا دوسرا نام ہے۔ توریت میں ہے :۔” اور خدا نے اسے کہا کہ تیرا نام یعقوب ہے۔ تیرا نام آگے کو یعقوب نہ کہلائے گا بلکہ تیرا نام اسرائیل ہوگا۔ سو اس نے اس کا نام اسرائیل رکھا “۔ (پیدائش 25: 10، 1 1) عمر حسب روایت توریت 147 ۔ سال کی پائی۔ زمانہ غالبا 2000 ؁ ق، م تا 1853 ؁ ق، م ولادت کنعان (فلسطین) میں ہوئی، 1870 ؁ ق، م میں اپنے نامور فرزند یوسف (علیہ السلام) نبی کے پاس مصر میں منتقل ہوگئے۔ وفات یہیں ہوئی۔ 476 ۔ چار ازواج طاہرات سے آپ کے بارہ فرزند تھے ان کے نام حسب تصریح توریت حسب ذیل ہیں : ( 1) روبن، (2) شمعون، (3) شمعون، (4) لادی، (4) یہوداہ، (5) اشکار، (6) زبلون، (7) یوسف، (8) بنیامین، (9) دان، ( 10) نفتالی، ( 1 1) جد، ( 12) ، آشر، (پیدائش 35:24 ۔ 26) (انہیں صاحبزادوں میں سے جہاں تک خاندانی شجرہ اور نسب نامہ سے پتہ چلا ہے، حضرت لادی کی نسل سے ان سطور کا راقم نامہ سیاہ بھی ہے) 477 ۔ الدین۔ یعنی اس دین توحید کا، ملت اسلام کا۔ (آیت) ” اصطفی “۔ اصطفا کے معنی ہیں جن لینا اور ملاوٹ یا آمیزش سے پاک کردینا۔ (آیت) ” لکم “ میں ل تخصیص کا ہے۔ یعنی یہ دین تمہارے لیے ہے اور تم اس دین کے لیے ہو۔ مطلب یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو قوم عرب اور نسل یہود دونوں کے مورث اعلی ہوئے ہیں۔ اور نصاری کے بھی مقتدا، اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) جو نسل اسرائیلی کے جدا مجد ہوئے ہیں۔ یہ دونوں تو اپنی اولاد کو خود اپنے اختیار کیے ہوئے اور خدا کے پسند کیے ہوئے دین کو منتقل ہی کرگئے اور فرماگئے کہ تمہیں کسی مزید تلاش میں حیران وسرگردان ہونے کی ضرورت ہی نہیں۔ تمہارے لیے تو یہ اللہ کا بنایا ہوا اور بتایا ہوا دین توحید موجود ہی ہے۔ قرآن کے مخاطبین اول سب کے سب اسلاف پرستی کے مرض میں گرفتار تھے۔ ان سے خطاب کا یہ بہترین اسلوب ہے کہ اچھا اگر دین کے بارے میں اپنے اسلاف ہی کو حکم بنا رہے ہو تو دیکھو وہی کیا کہہ گئے ہیں ؟ 478 ۔ (اور چونکہ موت کا وقت انسان کے علم میں نہیں۔ اس لیے تیار اس کے لیے ہر وقت اور ہمیشہ رہو) مطلب یہ ہوا کہ مسلم ہمہ وقت بنے رہو۔ ایمان کو ہر لحظہ دل میں جگہ دیئے رہو، دین کے مطالبات میں بس ایمان کا مطالبہ ایسا ہے جو ہمہ وقتی اور ہمہ حالی ہے ورنہ اعمال جتنے بھی ہیں سب حالات کے تابع ہیں اور حالات خود تغیر پذیر ہیں۔ ضمنا اہل کتاب کو بھی فہمائش ہورہی ہے کہ تم جس دین کو نیا اجنبی اور انوکھا سمجھ کر اس سے بدکتے اور بھڑکتے ہو وہ نوپیدا نہیں۔ وہ تو عین تمہاریہی بزرگوں کا تعلیم کیا ہوا دین وآئین ہے (راقم سطور نامہ سیاہ سے اگر فرمائش کی جائے کہ سارے قرآن مجید سے کسی ایک آیت کا اپنے لیے انتخاب کرلے تو اس کی نظر انتخاب اسی آیت بلکہ جز آیت پر پڑے گی (آیت) ” ان اللہ اصطفی لکم الدین فلا تموتن الا وانتم مسلمون جی میں ہے کہ زندگی کی ہر ساعت یہی آیت ورد زبان رہے۔ اور دل میں اسی کے معنی کا استحضار رہے۔ موت کے وقت یہی دل و زبان پر بھی ہو۔ اور بعد موت یہ کفن پر بھی لکھ دی جائے، اور قبر کے کتبہ پر بھی کندہ کردی جائے۔ بارہا اس آیت پر وجد کرچکا ہوں۔ بارہا اس آیت پر آنسوؤں سے رو چکا ہوں۔ اور دل یہ کہتا ہے کہ سارے قرآن مجید کا لب لباب یہی آیت ہے۔ )
Ayah 2:133

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

ترجمہ بھلا اس وقت تم کیا موجود تھے جب یعقوب (علیہ السلام) کو موت آپہنچی،479 ۔ اور اس وقت انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے ؟ ف، 480 ۔ وہ بولے ہم عبادت کریں گے گے آپ کے اور آپ کے اپ دادوں ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کے معبود کی (اس) معبود واحد کی اور ہم تو اس کین حکم بردار ہیں،481 ۔

479 ۔ (آیت) ” حضریعقوب الموت “ یعنی وقت موعود قریب آگیا۔ اور آپ کو علامات وآثار اس کے محسوس ہونے لگے۔ یہ مراد نہیں کہ خود موت ہی آپ پر طاری ہوگئی۔ کنی بالموت عن مقدماتہ لانہ اذا حضر الموت نفسہ لا یقول المتحضر شیئا (بحر) قرآن مجید ہی میں ایک اور دوسری جگہ ہے۔ (آیت) ” ویاتیہ الموت من کل مکان وما ھوبمیت “ یہاں بھی موت سے مراد موت کے دواعی واسباب ہی لیے گئے ہیں۔ (آیت) ” ام کنتم شھدآء “ خطاب اہل کتاب سے ہے اور استفہام میں لہجہ زجر شامل ہے۔ معنی الاستفہام ھھنا الزجر والتوبیخ وھو فی معنی المنفی (بحر) یعنی تم جو واہیات خرافات حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی جانب منسوب کررہے ہو تو تمہارا اسی وقت وجود ہی کہاں تھا ؟ صحیح واقعات وہ ہیں جو قرآن بیان کررہا ہے۔ 480 ۔ (آیت) ” من بعدی۔ یعنی میری وفات کے بعد، مضاف محذوف ہے۔ من بعدی اے من بعد موتی (ابوسعود) حضرات انبیاء کو زندگی کی طرح اپنے آخر وقت میں بھی سب سے مقدم فکر دین ہی کہ ہوئی ہے۔ 481 ۔ یعنی ہم سب اس پر اسلام لاچکے ہیں “ توریت موجودہ کے اوراق تو اس اہم اور ضروری تذکرہ سے کسی مصلحت سے خاموش ہیں۔ البتہ احبار یہود کا یہ قول نقل ہو کر پہنچا ہے کہ۔۔۔” یعقوب نے اپنی وفات سے قبل اپنے بیٹوں کو یہ تین احکام دیئے ( 1) بت پرستی نہ کرنا (2) خدا کی بےحرمتی نہ کرنا (3) میرے جنازے کو کوئی کافر ہاتھ نہ لگانے پائے “۔ (جیوش انسائیکلوپیڈیاجلد 7 صفحہ 24) روایات و حکایات کی جو دوسری کتابیں ہیں ان میں صراحت اس سے بڑھ کر ملتی ہے :۔ ” یعقوب نے اپنے بیٹوں سے کہا۔۔ مجھے اندیشہ ہے کہ تم میں سے کوئی بت پرستی کا میلان رکھتا ہے۔ اس کے جواب میں بارہ بیٹوں نے کہا۔” سن اے اسرائیل، اے ہمارے باپ، ہمارا خدا وہی خدائے لم یزل ہے۔ جس طرح تیرا دلی ایمان ایک خدا پر ہے اسی طرح ہم سب کا دلی ایمان اسی ایک خدا پر ہے۔ (گنزبرگ کی قصص یہود جلد 2 صفحہ 14 1) (آیت) ” ابآئک۔ اسمعیل (علیہ السلام) یعقوب (علیہ السلام) کے بڑے چچا (یابابا) تھے۔ فرزندان یعقوب نے کما سعادت مندی سے ان کا شمار بھی آبائے یعقوب (علیہ السلام) میں کیا، جیسا کہ اردو محاورہ میں بھی باپ چچا کو ایک ہی حکم میں رکھا جاتا ہے۔ حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے آپ ﷺ کے چچا کو ایک ہی حکم رکھا جاتا ہے۔ حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے آپ ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ کے لیے یہی لفظ اب آیا ہے۔ ھذا بقیۃ ابائی یعنی میرے بڑوں یا بزرگوں میں اب یہی باقی ہیں۔ (آیت) ” اسحق “ یہ نام پہلی بار آیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے صاحبزادہ تھے حرم اول حضرت سارہ کے بطن سے۔ سال ولادت غالبا 2060 ق، م۔ سال وفات غالبا 1880 ق، م۔ عمر شریف توریت میں 180 سال درج ہے۔ یہ بھی درج ہے کہ آپ کی ولادت کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر 100 سال تھی۔ آپ کے بستر مرگ کا منظر قصص الیہود میں یوں دکھایا گیا ہے :۔” جب اسحاق نے دیکھا کہ ان کا وقت موعود آپہنچا، تو انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں کو اپنے پاس بلایا، اور کہا کہ میں تمہیں خدائے تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں۔ جس کی صفات علی، عظیم، قیوم، عزیر ہیں۔ اور جو آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی ہر شے کا خالق ہے کہ تم خوف اسی کا رکھنا اور عبادت اسی کی کرنا “۔ (جلد اول صفحہ 4 16)
Ayah 2:134

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

یہ ایک جماعت ہے جو گزر چکی،482 ۔ ان کے آگے ان کا کیا ہوا آئے گا، اور تمہارے آگے تمہارا کیا ہوا اور وہ جو کچھ کرتے رہے اس کی پوچھ گچھ تم سے نہ ہوگی،483 ۔

482 ۔ (اور ان کے فضائل و کمالات بھی ان کے ساتھ گزر چکے۔ تمہیں آخر ان کے نام گنانے سے کیا حاصل ؟ ) (آیت) ” تلک امۃ “ سے مراد یہی اجداد یہود ہیں۔ جن کا شمار جماعت انبیاء میں ہے۔ خطاب یہاں یہود سے ہے جو آبائی مفاخرت، نسلی عظمت، پیغمبر زادگی کے نشہ میں چور تھے۔ اس میں بڑا سبق آج کل کے پیرزادوں، رسمی مشائخ زادوں، اور بہت سے بدعتی فرقوں کے لیے موجود ہے۔ بلاسعی عمل محض بزرگوں کی نسبت سے فائدہ اٹھانے کی جڑ ہی اسلام نے کاٹ دی ہے۔ 483 ۔ اسلام کے طفیل اب یہ بات معمولی سی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن قرآن نے جب اس حقیقت کا اعلان کیا ہے اس وقت بہت ہی اہم اور گویا ایک نادر سی بات تھی۔ شخصی وذاتی ذمہ داری اور انفرادی مسؤلیت کی تعلیم اسلام کے خصوصیات امتیازی میں سے ہے۔ ورنہ مشرک تو تو مشرک، یہود اہل توحید تک اس سفاہت میں مبتلا ہوگئے تھے کہ ذاتی عمل کی ضرورت ہی کیا ہے۔ مقبولان الہی کی جانب انتساب نسلی اور بزرگوں کی طرف نسبت نسبی بالکل کافی ہے۔ مسیحیوں کا گڑھا ہوا مسئلہ ” معصیت متوارث “ سب کو معلوم ہے۔ یعنی جو معصیت ابوالبشر سے سرزد ہوگئی تھی، وہ ہر نسل آدم میں منتقل ہوتی چلی آرہی ہے۔ یہود نے اس کے مقابل ایک عقیدہ ” نجات متوارث “ کا وضع کرلیا تھا۔ اور یہ سمجھ لیا تھا کہ ” خدائے تعالیٰ اپنے اسم پاک کے طفیل میں اور بہ طور اپنے افضال کے، باپ کے حسنات اولاد کی طرف منتقل کرتا رہتا ہے “ ‘ (جیوش انسائیکلوپیڈیا۔ جلد 12 صفحہ 447) توریت مروجہ میں ایک آیت اس مضمون کی ملتی ہے :۔ ” میں خدا وند تیرا خدا غیور خدا ہوں۔ جو باپ دادوں کی بدکاری کا بدلہ ان کی اولاد سے تیسری اور چوتھی پشت تک جو میرا کینہ رکھنے والے ہیں۔ لیتا ہوں “۔ (استثناء۔ 5:9) پاس اس تنکے کی اوٹ پہاڑ یہ کھڑا کرلیا گیا کہ ہر نسل کو انتقال ثواب اوپر سے بھی اور نیچے کوئی ڈر ہی نہیں :۔ ” بعض کو ثواب اپنے اسلاف کے اعمال کا ملے گا، اور بعض کو ثواب اپنے اخلاف کے اعمال کا “۔ (جیوش انسائیکلوپیڈیا، جلد 6 صفحہ 60) ” افراد یہود کی امیدیں سب اسلاف کے تقدس پر قائم ہوگئی تھیں (یعنی اس پر کہ) ہم ابراہیم کی اولاد ہیں “۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا جلد 13 صفحہ 184 طبع یازدہم)
Ayah 2:135

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

اور یہ (لوگ) کہتے ہیں کہ یہودی ہوجاؤ یا نصرانی ہوجاؤ تو راہ یاب ہوجاؤگے،484 ۔ آپ کہہ،485 ۔ دیجے کہ نہیں بلکہ (ہم نے تو) ابراہیم (علیہ السلام) سیدھی راہ والے کا مذہب پالیا،486 ۔ اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے،487 ۔

484 ۔ قرآن مجید کی صاف اور سیدھی تعلیمات اور اس کے واضح دلائل کو سن کر چاہیے تو یہ تھا کہ اہل کتاب ان سے متاثر ہوتے، اور قبول حق پر آمادہ ہوتے، لیکن بجائے اس کے ضد اور ہٹ سے کام لے کر الٹی مسلمانوں کو یہودیت اور نصرانیت کی دعوت دیتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمارا دین قبول کرلو، تو تمہیں دنیا کی فلاح اور آخرت میں نجات حاصل ہوجائے۔ ،485 ۔ (ساری امت اسلامیہ کی طرف سے ان لوگوں کے جواب میں، اے ہمارے پیغمبر)486 ۔ (اس کی اصلی اور غیر محرف شکل میں) (آیت) ” ملۃ ابراہیم۔ یہود اور نصاری دونوں، نومسلموں اور نیم مسلموں کو اپنی اپنی طرف کھینچتے تھے کہ ” فلاح ونجات منظور ہو تو ہمارے مذہب میں آؤ، اس نئے مذہب میں کیا رکھا ہے۔ “ ؟ مسلمانوں کو تعلیم اس جواب کی مل رہی ہے، کہ ” تمہارے ہاں کیا رکھا ہے بجز تحریفات کے ؟ رہا ہمارا دین تو وہ نوپیدا ذرا بھی نہیں۔ وہ تو بس قدیم دین توحید ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے اور ہم اسی کی اصلی اور غیر محرف شکل پر قائم ہیں۔ (آیت) ” حنیفا “ ترکیب میں حال واقع ہوا ہے مضاف الیہ ابراہیم کا۔ اکثر اکابر تفسیر اسی طرح گئے ہیں۔ حال من المضاف الیہ (کشاف) ھو حال من المضاف الیہ (ابوسعود) دوسرا قول یہ ہے کہ (آیت) ” حنیفا “ صفت (آیت) ” ابرھم “ کی نہیں بلکہ ملۃ کی ہے۔ اور حال مضاف الیہ کا نہیں، بلکہ مضاف کا واقع ہوا ہے۔ وھو حال من المضاف بتاویل الدین او تشبیھا لہ بفعیل بمعنی مفعول (روح) اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا ” ہم نے پالیا ہے مذہب ابراہیم (علیہ السلام) کا جو سیدھی راہ ہے “۔ (آیت) ” حنیفا “ کے معنی بہرصورت مستقیما ومائلا الی الحق کے ہیں، اس جملہ کی تقدیریوں ہے۔ بل تکون علی ملۃ (علیہ السلام) یا بل نتبع ملتہ (علیہ السلام) ۔ 487 ۔ یہ تعریض ہے اہل کتاب پر کہ تم کس منہ سے اپنے کو دین ابراہیم (علیہ السلام) کی جانب منسوب کرتے ہو، وہ تو شرک کے قریب ہوکر بھی نہیں گزرے تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی توحید خالص پر یہود، نصاری، سب ہی متفق تھے، گوعملا ان کی روش چھوڑے ہوئے تھے، بلکہ مسیحی تو صریح شرک میں مبتلا ہوچکے تھے ،