2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 2:183

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

اے ایمان والو، تم پر روزے فرض کئے گئے،649 ۔ جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کئے گئے تھے جو تم سے قبل ہوئے ہیں،650 ۔ عجب نہیں کہ تم متقی بن جاؤ،651 ۔

649 ۔ صیام جمع ہے صوم کی۔ صوم یا روزہ اصطلاح شریعت میں اسے کہتے ہیں کہ انسان طلوع فجر سے غروب آفتاب تک اپنے کو کھانے، پینے اور عمل زوجیت سے روکے رہے، جو روزے فرض ہیں وہ ماہ رمضان کے ہیں۔ غیبت، فحش، بدزبانی، وغیرہ زبان کے تمام گناہوں سے روزہ میں بچے رہنے کی سخت تاکیدیں حدیث میں آئی ہیں، جدید وقدیم سب طبیں اس پر متفق ہیں کہ روزہ جسمانی بیماریوں کے دور کرنے کا بہترین علاج اور جسم انسانی کے لیے ایک بہترین مصلح ہے۔ پھر اس سے سپاہیانہ ہمت اور ضبط نفس کی روح جو ساری امت میں تازہ ہوجاتی ہے۔ اس کے لحاظ سے بھی مہینہ بھر کی یہ سالانہ مشق ایک بہترین نسخہ ہے۔ 650 ۔ روزہ کسی نہ کسی صورت میں تو دنیا کے تقریبا ہر مذہب اور ہر قوم میں پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ انسائیکلوپیڈیابرٹانیکا، طبع چہاردہم کی جلد 9 صفحہ 102 اور جلد 10 صفحہ 193 سے ظاہر ہے لیکن قرآن کو مشرکانہ مذہبوں سے بحث نہیں (آیت) ” الذین من قبلکم “ سے اس کی اصل مراد اہل کتاب ہی سے ہوسکتی ہے۔ چناچہ روزہ شریعت موسوی کا ایک اہم اور مشہور جزو ہے۔ مذاہب عالم سے اتنی گہری واقفیت، کہ صاف صاف ان میں روزہ کے جزومذہب ہونے کی خبر دے دی، ڈاک اور ریل کے زمانہ سے صدیوں قبل اور اخبارات اور کتب خانوں کے دور سے ہزار بارہ سو سال پیشتر عرب جیسے دور افتادہ اور دنیا کے ہر ملک سے بےتعلق جزیرہ نما میں ایک امی کے لیے کسی طرح ممکن نہیں۔ بجز وحی الہی کے توسط کے۔ 651 ۔ روزہ تعمیل ارشاد خداوندی میں تزکیہ نفس، تربیت جسم دونوں کا ایک بہترین دستورالعمل ہے، اشخاص کے انفرادی اور امت کے اجتماعی ہر دو نقطہ نظر سے (آیت) ” لعلکم تتقون “ کے ارشاد سے اسلامی روزہ کی اصل غرض وغایت کی تصریح ہوگئی کہ اس سے مقصود تقوی کی عادت ڈالنا اور امت وافراد کو متقی بنانا ہے۔ تقوی نفس کی ایک مستقل کیفیت کا نام ہے۔ جس طرح مضر غذاؤں اور مضر عادتوں سے احتیاط رکھنے سے جسمانی صحت درست ہوجاتی ہے اور مادی لذتوں سے لطف و انبساط کی صلاحیت زیادہ پیدا ہوجاتی ہے، بھوک خوب کھل کر لگنے لگتی ہے خون صالح پیدا ہونے لگتا ہے۔ اسی طرح اس عالم میں تقوی اختیار کرلینے سے (یعنی جتنی عادتیں صحت روحانی وحیات اخلاقی کے حق میں مضر ہیں، ان سے بچے رہنے سے) عالم آخرت کی لذتوں اور نعمتوں سے لطف اٹھانے کی صلاحیت و استعداد انسان میں پوری طرح پیدا ہو کر رہتی ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی روزہ کی افضیلت تمام دوسری قوموں کے گرے پڑے روزوں پر علانیہ ثابت ہوتی ہے اور خیر مشرک قوموں کے ناقص، ادھورے اور برائے نام روزوں کا تو ذکر ہی نہیں، خود مسیحی اور یہودی روزوں کی حقیقت بس اتنی ہے کہ وہ یا تو کسی بلاکو دفع کرنے کے لیے رکھے جاتے ہیں، یا کسی فوری اور مخصوص روحانی کیفیت کے حاصل کرنے کو، یہود کی قاموس اعظم جیوش انسائیکلوپیڈیا میں ہے :۔ ” قدیم زمانہ میں روزہ یا تو بطور علامت ماتم کے رکھا جاتا تھا، اور یا جب کوئی خطرہ درپیش ہوتا تھا، اور یا پھر جب سالک اپنے میں قبول الہام کی استعداد پیدا کرنا چاہتا تھا۔ “ (جلد 5 ۔ صفحہ 347) اسلام میں روزہ نام ہے اپنے قصد و ارادہ سے، ایک مدت معین تک کے لیے اپنی جائز اور طبعی خواہشوں کی تکمیل سے دستبرداری کا۔ اور اس سے ایک طرف طبی اور جسمانی، دوسری طرح روحانی اور اخلاقی جو فائدے حاصل ہوتے ہیں، فرد اور امت دونوں کو، ان کی تفصیل کی گنجائش تو یہاں بہرحال نہیں۔ البتہ سورة کے آخر میں بطور ضمیمہ اس نامہ سیاہ کی بعض اور تحریریں پر چہ صدق اور سچ سے نقل کرکے درج کی جاتی ہیں۔ ضمیمہ پارہ 2 متعلق آیت نمبر 183 حاشیہ نمبر 651 ( 1) کھانا انسان کی زندگی قائم رکھنے کے لیے ہے، یا انسان کی زندگی اس لیے ہے، کہ اسے کھانے پینے کی لذتوں میں بسر کیا جائے ؟ موجودہ مادی دنیا نے شق دوم کو اختیار کیا ہے، اور اس کا عمل بھی اسی پر ہے، مذہب نے شق اول کو اختیار کیا ہے، اور اپنے پیرو وں کو اس پر عمل کی ہدایت کی ہے۔ اسلام دین فطرت کا دوسرا نام ہے اس میں کوئی شے فطرت انسان و فطرت کائنات کے مخالف ہو نہیں سکتی۔ وہ ایک طرف اپنے پیرو وں کو جائز لذتوں سے لطف اٹھانے کی بار بار دعوت دیتا ہے اور دوسری طرف قدم قدم پر (آیت) ” لا تسرفوا ! “ دائرہ اعتدال سے قدم باہر نہ رکھو کی بھی تاکید کرتا جاتا ہے۔ لذتوں پر جھک پڑنے کا نام فسق ہے، اور لذتوں سے بالکل کنارہ کش ہوجانے کو رہبانیت کہتے ہیں۔ اسلام نے جو شاہراہ ہدایت دنیا کے سامنے پیش کی ہے، وہ فسق ورہبانیت، دونوں سے بچ کر ان کی درمیانی راہ ہے۔ خواص جب گمراہ ہوتے ہیں، تورہبانیت کے ڈھرے پر پڑجاتے ہیں۔ عوام کی گمراہی کا نام فسق ہے۔ نفس انسانی میں لذتوں پر جھک پڑنے کا قدرتی میلان موجود ہے، انسان اکثر انہی لذتوں پر گرتا ہے اور ایسا گرتا ہے کہ انسانیت سے گزر کر بہمیت کے غار تک پہنچ جاتا ہے، روح کو چاہیے کہ روز بروز لطافت کی جانب ترقی کرتی جائے تاکہ جب جسم سے جدا ہوجانے کا وقت آئے تو اپنے مرکز اصلی کی جانب پرواز کرکے، جواز سرتاپانور ولطافت ہے، وصل ووصال کا وہ انتہائی لطف و سرور حاصل کرے، جس کا نام مذہب کی اصطلاح میں جنت ہے۔ لیکن انسان جب فسق میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یعنی ان مادی لذتوں میں پڑجاتا ہے، جو اس کی روحانی صحت کے حق میں مضر ہیں، تو رفتہ رفتہ اس کی روح کثافت اور گندگی میں آلودہ رہنے لگتی ہے، یہاں تک کہ جسم سے جدا ہونے کے بعد اس میں اپنے مرکز اصلی کی جانب پرواز کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔ اور مجبورا اسے تنزل کرکے مادہ کی کثافتوں اور آلائشوں کے مرکز سے آمیز ہونا پڑتا ہے، جو اس سے کوئی بھی طبعی وخلقی مناسبت نہیں رکھتے، اس لیے اسے انتہائی اذیت و تکلیف کا سامنا ہوتا ہے، اور اس کو مذہب کی اصطلاح میں دوزخ کہتے ہیں۔ اسلام خلق اللہ کو راحت و سرور کی انتہائی منزل تک پہنچانے کا بہترین رہبر ہے۔ اس نے چن چن کر اپنے نظام وآئین میں وہی باتیں رکھی ہیں، جو روح کی فطری صلاحیت کو بڑھائیں، اور گندگی وکثافت میں آلودہ ہونے سے اسے محفوظ رکھیں۔ ان سب تدبیروں میں سے ایک اہم تدبیر کا نام روزہ ہے۔ ؛ محض بھوکا اور پیاسا رہنا یا خواہ مخواہ کسی کو اپنے تئیں گرسنگی وتشنگی کی تکلیف میں مبتلا کرنا، ہرگز روزہ کا مدعا نہیں، روزہ کی غرض وغایت صرف یہ ہے کہ انسان کچھ دیر کے لیے تمام اہم لذات مادی کی طرف سے بےتوجہ ہو کر روح کو اپنی صفائی و پاکیزگی کی جانب متوجہ ہونے کا موقع دے، قرآں کی طرف سے بےتوجہ ہو کر روح کو اپنی صفائی و پاکیزگی کی جانب متوجہ ہونے کا موقع دے۔ قرآن پاک میں روزہ کی غایت دو لفظوں میں فرما دی ہے (آیت) ” لعلکم تتقون “ (تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ) ” تقوی “ کے معنی ’ بچنے ‘ کے ہیں۔ بچنا کس شے سے ؟ ہر اس شے سے جو روح کی پرواز ترقی میں حائل ہوتی ہے۔ ہر اس شے سے جو روح کے جوہر لطیف کے حق میں زہر کا اثر رکھتی ہے۔ ہر اس شے سے جو روح کو کثافتوں اور آلائشوں کی دلدل میں پھنسائے رکھتی ہے۔ قرآنی بلاغت کا یہ معجزہ ہے کہ اس سارے مفہوم کو ایک لفظ (آیت) ” تتقون ‘ کے ذریعہ سے ادا کردیا۔ نماز اور روزہ اپنی حقیقت کے لحاظ سے دو جداگانہ چیزیں نہیں، بلکہ ایک ہی حقیقت کے ایجابی وسلبی، مثبت ومنفی دو پہلو ہیں۔ نماز کی حیثیت فاعلی ہے، یعنی دربار خداوندی میں حاضری دو ، اپنی روح جزئی کا براہ راست تعلق روح کلی سے پیدا کرو، روزہ کی حیثیت انفعالی ہے، یعنی ان چیزوں سے بچو جو اس راہ میں حائل ہوتی ہیں، جو روح کو اس رفتار ترقی کے ناقابل بناتی ہیں، طبیب حاذق علاج بھی کرتا ہے، اور پرہیز بھی بتاتا ہے، شفا اسی وقت ممکن ہے جب مریض دونوں ہدایتوں پر عمل کرے، نماز بمنزلہ دوا ہے اور روزہ بمنزلہ پرہیز۔ دوا دونوں کی اہمیت اپنی اپنی جگہ پر ظاہر ہے۔ یہیں سے ہے، کہ دنیا کے کامل ترین انسان کو نماز کے بعد جو عبادت سب سے زیادہ محبوب تھی، وہ روزہ تھا۔ رسول خدا ﷺ اس کثرت سے روزہ رکھا کرتے تھے کہ اہل خاندان اور اصحاب ؓ بعض اوقات دنگ رہ جاتے۔ وجہ کھلی ہوئی ہے۔ اعلی ترین روح کو روحانی پاکیزگی وصفائی کے نمونے میں بہترین اور کامل ترین دکھانے تھے، دیکھنے والوں نے دیکھا۔ جس جس نے عمل کیا وہ اپنی مراد کو پہنچ کررہا۔ کھانے پینے میں زیادتی کرنا، عورت سے میل ملاپ پر حریص ہونا، جھوٹ بولنا سخت کلامی کرنا، کسی کا دل دکھانا، کسی کے پیچھے اس کا برائی سے ذکر کرنا، مال و دولت کی ہوس کرنا، یہ سب چیزیں ایسی ہیں جو روح کی لطافت کو صدمہ پہنچاتی ہیں، جاس کی بالیدگی کو روک دیتی ہیں، اس میں تازگی کی بجائے پزمردگی پیدا کرتی ہیں۔ اور جسم و مادہ کی کثافتوں کو بڑھاتی رہتی ہیں۔ اس قسم کی تمام چیزوں سے بچنے اور پرہیز کرنے کا نام روزہ ہے۔ اور روزہ دار کے لیے یہ سب امور ممنوع ہیں۔ انسان اگر اپنی عمر کا پیشتر حصہ ان پابندیوں کے ساتھ گزار سکے تو اس کے مرتبہ کا کیا پوچھنا، لیکن کم از کم سال کا بارہواں حصہ تو اس طرح گزارنا اپنے لیے لازمی سمجھے۔ اور اگر بہت سے بندے مل کر ایک خاص زمانہ اس کے لیے مقرر کرلیں، جس میں وہ سب شریک ہوں تو شرکت و اجتماع کی بنا پر نفس روزہ کی برکتیں بدرجہا بڑھ سکتی ہیں۔ مگر سب کا اپنے ارادہ سے ایک خاص زمانہ مقرر کرنا ممکن نہیں، کسی کو کبھی سہولت ہوگی، کسی کو بھی، اس لیے خود شریعت نے (راحت و سرور ابدی کی منزل کے بہترین ہموار ترین و محفوظ ترین راستہ کا نام شریعت ہے) ایک خاص مہینہ کا تعین کردیا جسے رمضان سے موسوم کرتے ہیں۔ خدائے اسلام جس طرح ہمارے رکوع و سجود، ہماری تکبیر وتسبیح سے بےنیاز ہے، اسی طرح اسے ہمارے بھوکے اور پیاسے رہنے، ہمارے روزہ وتروایح، ہماری سحری وافطاری کی بھی کوئی حاجت نہیں، یہ تمام امور صرف ہمارے نفع وفائدہ کے لیے ہیں۔ ہماری طبیعتیں اور سرشتیں چونکہ شیطانی اثرات سے مسخ ہوچکی ہیں، اس لیے آج بہتوں کو روزہ کی پابندی ایک بار معلوم ہوتی ہے لیکن کل جب حجابات دور ہوجائیں گے، جب آنکھیں کھل جائیں گی اس وقت اندازہ ہوسکے گا کہ روح میں اعلی صلاحیتیں پیدا کرنے کے لیے اور ابدی سرور جو دائمی راحت حاصل کرنے کے لیے روزہ کتنا سہل، آسان، مفید، مؤثر نسخہ تھا۔ کاش ہمارے سب بھائیوں کی آنکھیں آج ہی کھل جائیں۔ (منقول از ” سچ “ لکھنوہفتہ وار۔ مورخہ 3 ۔ اپریل 1925 ء ؁ ایڈیٹر عبدالماجد) (2) بہار کا موسم آتے ہی چمن دہر میں روح پرور ہوائیں چلنے لگتی ہیں، خشک درخت سبز ہوجاتے ہیں، پھول کھلنے لگتے ہیں، جسم انسانی کی رگوں میں تازہ خون کی گردش ہونے لگتی ہے، سوئی ہوئی امنگیں جاگ اٹھتی ہیں۔ اور چستی و توانائی کا دور دورہ شروع ہوجاتا ہے۔ جسم و مادہ کی کائنات میں آفتاب کا ایک پورا دورہ گزر جانے کے بعد یہ موسم آتا ہے، اور طبیبوں کا بیان ہے کہ جسم سے مادہ فاسد کے دفع کرنے اور مسہل لینے کا یہ بہترین زمانہ ہے۔ ٹھیک اسی طرح روح وجان کی کائنات میں بھی چاند کا ایک پورا دورہ گزر جانے کے بعد موسم بہار آتا ہے مہتاب کو عشق کے سودازدوں سے مناسبت ہے۔ ظاہر ہے، ماہتاب جب اپنے سالانہ سفر کا چکر ختم کرتا ہے، تو عشق و محبت کی اقلیم میں پھر شوریدگی وجنون کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں، اور سال کے گیارہ مہینے کے اندر غیریت کی جو کدورتیں جم جاتی ہیں، طبیعت ان کے دفع کرنے کے لیے بیقرار ہوجاتی ہے، اسی لیے رحمت کاملہ و محبوبیت مطلقہ نے اپنے وفا شعاروں، اپنے سرمستوں کے لیے ایک خاص مہینہ، ماسوا سے بےتعلق وبے نیاز رہنے کا مقرر کردیا۔ جس کو اصطلاح میں ماہ رمضان سے موسوم کرتے ہیں۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا کتب علیکم الصیام “ اے حسن ازل سے پیمان وفا باندھنے والو، اے اپنے محبوب کی یکتائی کا کلمہ پڑھنے والو، اگر اپنے دعوی میں سچے ہو، آؤ اپنے طریق عشق وآئین الفت میں، ایک مہینہ تک ماسوا پر نظر کرنا تک ناجائز سمجھو، اور اپنی تمام نفسانی لذتوں کو اس بڑی اور حقیقی لذت کے تصور پر قربان کرتے رہو ( 1) کہ یہی نفسانی لذتیں، اس شاہد حقیقی کے وصال کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ حاشیہ نمبر 1 ” صوم کے معنی ہیں، باز رہنے اور رکنے کے، خواہ کھانے سے ہو یا کلام کرنے سے، یا کسی اور چیز سے، جس پر نفس حریص ہو، یا جو طبیعت کو مرغوب ہو۔ الصوم فی الاصل الامساک عن الفعل مطعما کان او کلاما اوشیئا (راغب) الصوم امساک عن طعام او کلام او نحوھما (سجستانی) الصوم فی اللغۃ الامساک عما تنازع الیہ النفس (بیضاوی) یہ شرط محض تمہاری ساتھ مخصوص نہیں، اکیلے تم ہی اس آزمائش میں نہیں ڈالے گئے ہو، بلکہ تمہارے اگلوں میں سے جس جس گروہ نے ہم سے پیمان وفا باندھا، جس جس جماعت نے راہ الفت میں قدم رکھنے کا دعوی کیا، ان سب کو اپنے دعوے کا کچھ ایسا ہی ثبوت پیش کرنا پڑا ہے، ان سب کو کچھ ایسی ہی آزمائشوں سے دو چار ہونا پڑا ہے، ان سب کو کچھ ایسی ہی آزمائشوں سے دو چار ہونا پڑا ہے، ہراساں نہ ہو، بہتوں کی آزمائش اسی طرح ہوچکی ہے۔ (آیت) ” کما کتب علی الذین من قبلکم “۔ اور اس حکم سے غرض تمہیں تکلیف میں ڈالنا نہیں تمہاری جان کو ہلکان کرنا نہیں، بلکہ مقصود صرف تمہاری نفس پیدا کرنا ہے۔ تمہی کو خواہشات نفسانی پر حاکم بننے کی تعلیم دینا ہے تمہاری پاکیزگی کی چھپی ہوئی قوت کو ابھارنا، اور تمہیں حیوانیت کے غار سے نکال کے ملکوتیت کے آسمان پر پہنچانا ہے۔ تمہاری بوالہوسی جو تمہاری خودداری پر غالب آجاتی ہے، اسی کو توڑنا منظور ہے۔ تمہاری ہی راہ عروج میں ہر طرح کی سہولت پیدا کرنا مدنظر ہے، اور تمہارے ہی چھپے ہوئے اندورنی دشمنوں، یعنی بدی کی طاقتوں کو ہلاک ونابود کرنا مقصود ہے (آیت) ’ لعلکم تتقون “۔ اور پھر یہ آزمائش بھی دائمی نہیں ،۔ تمہاری ساری عمر کے لیے نہیں۔ کسی بڑی طویل مدت کے لیے نہیں، بلکہ صرف گنتی کے چند روز یعنی گیارہ مہینہ کے بعد، رمضان کا ایک مہینہ (2) (آیت) ” ایاما معدودت “۔ پھر ان عاشقین صادقین او مومنین مخلصین میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو باوجود اپنے صدق و خلوص کے، اپنی جسمانی کمزوری یا پردیس میں ہونے کی بناپر، آسانی کے ساتھ اس حکم کی تعمیل نہ کرسکیں گے، ان کے لیے یہ آزمائش زیادہ سخت ہوگی، ایسے معذوروں کے لیے اس کی اجازت ہے کہ انہیں جب اطمینان و فراغت نصیب ہو، تو اس ماہ مبارک کے چھوٹے ہوئے روزوں کو پورا کرلیں، ” بلبل بیمار “ اگر اپنے جذبہ دل میں صادق ہے، تو اس کے لیے سال کا ہر موسم موسم گل کا حکم رکھتا ہے۔ (آیت) ” فمن کان منکم مریضا اوعلی سفر فعدۃ من ایام اخر۔ “ بعض بیچارے ایسے بھی ہوتے ہیں، جو بہ سبب اپنی جسمانی کمزوری یا کسی اور مجبوری کے، ماہ مبارک کے بعد بھی، روزہ رکھنے میں سخت مشقت محسوس کرتے ہیں (3) ایسے کے لئے یہ رعایت ہے کہ وہ اپنی معذوری کے کفارہ کے طور پر کسی صاحب احتیاج کو پوری طرح کھانا کھلادیا کریں۔ (آیت) ” وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین “ اس رخصت و اجازت کے باوجود بھی اگر کوئی شخص محنت ومشقت گوارا کرکے اس بڑی نیکی یعنی روزہ کو اختیار کرتا رہے، یا ایک مسکین سے زائد کو کھلاتا پلاتا رہے، تو اس کے مرتبہ کا کیا پوچھنا، ایسی نیکی جو فرض نہ رہی ہو، اگر اختیار کی جائے تو اس کے افضل و برتر ہونے میں کیا شبہ (آیت) ” فمن تطوع خیرا فھو خیر لہ “۔ یہ ایک عام اصول بتایا گیا۔ باقی اگر روزہ کی حقیقت پر نظر ہوجائے، روزہ سے جو باطنی ترقیاں مقصود ہیں، اگر ان کا علم ہوجائے، تو کون ایسا ہے جو روزہ کی جانب بہ شوق ورغبت نہ دوڑے۔ یہ ماہ مبارک صرف اسی لحاظ سے مبارک نہیں، کہ اس میں انسان، صبر وضبط کی خدائی طاقتوں سے نوازا جاتا ہے، بلکہ اس خیر و برکت والے مہینہ کا سب سے بڑا شرف یہ ہے کہ اسی ماہ میں اول اول، دنیا کے لیے بہترین، کامل ترین، وجامع ترین ہدایت نامہ اتارا گیا، اسی چاند میں انسانیت کے ضلمت کدہ کو نورانیت کے بدر کامل سے پرانوار بنایا گیا، اور اسی بابرکت موسم میں انسان کے کان میں پہلی بار (4) نغمہ ازل کی سریلی آواز بیہوشوں کو بیدار اور ہوشیاروں کو مست کرنے والی پکار پہنچی، جس سے بڑھ کر کوئی دولت جس سے اونچی کوئی نعمت، جس سے برتر کوئی رحمت، عالم تصور میں بھی موجود نہیں، (آیت) ” شھر رمضان الذی انزل فیہ القران ھدی للناس وبینت من الھدی والفرقان “ قیس عامری کے پاس اگر لیلی کا کوئی مکتوب یا پیام آجاتا، تو کس طرح وہ اپنی جان نثار کرنے کو تیارہوجاتا، اور اس مبارک گھڑی کو کس قدر عزیر رکھتا ! حسن ازل کے شیدائی بھی، نامہ یار کے ورود کے زمانہ کو کیونکر بھول سکتے ہیں جب جب یہ زمانہ آئے گا، اس کی یاد میں بیتاب ہوجائیں گے، اور اس پاک گھڑی کی پاک سالگرہ منانے میں اپنی بھوک پیاس تک کو بھول جائیں گے۔ (آیت) ” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ۔ موسم بہار کی فرحتیں، طراوتیں اور نشاط انگیزیاں، بڑے سے بڑے افسردہ دلوں تک میں امنگ پیدا ہی کردیتی ہیں، اور گل و گلزار کی سیر سے کوئی محروم رہنا نہیں چاہتا، ماہ مبارک کی برکتوں، فضیلتوں اور نعمتوں کا ذکر سن کر بڑے سے بڑے بدہمت اور افسردہ دل کی رگوں میں جوش پیدا ہوجانا، اور بڑے سے بڑے فرزانہ ودور اندیش میں شورش وشوریدگی کا ابھر آنا قدرتی ہے۔ حالانکہ یہ آزمائش صرف ان کے لیے ہے جو اس کی جسمانی قوت بھی رکھتے ہیں۔ معذوروں پر خواہ مخواہ بار ومشقت ڈالنا ہرگز مقصود نہیں، جان کے جذبہ شوق کو تسکین دینے کے لیے ایک بار پھر اس ارشاد کی ضرورت ہوئی، کہ معذوروں کو ان دنوں کی گنتی بعد میں پوری کرلینی چاہیے، کہ مقصد آسانی راہ ہے، نہ کہ تنگی۔ اللہ کی بڑائی کرنے، اور اس کا شکر ادا کرنے کا مقصد، بعد کو بھی گنتی کے دن پورے کرلینے سے حاصل ہوسکتا ہے (آیت) ” ومن کان مریضا اوعلی سفر فعدۃ من ایام اخر۔ یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر، ولتکملوا العدۃ ولتکبروا اللہ علی ما ھدکم ولعلکم تشکرون۔ “ یہ پربہار موسم جب کسی کے شوق وارمان میں گزرے گا، یہ متبرک گھڑیاں جب کسی کی یاد میں بسر ہوں گی، یہ مبارک دن جب کسی کے اشتیاق میں بغیر بھوک پیاس کے صرف ہوں گے، یہ برکت والی راتیں جب کسی کے انتظار میں آنکھوں ہی میں کٹیں گی، تو ناممکن ہے کہ روح میں لطافت، قلب میں صفائی، اور نفس میں پاکیزگی، پیدا نہ ہوجائے، حیوانیت دور ہوگی، ملکوتیت نزدیک آئے گی اور انسان خود اپنی ایک جدید زندگی محسوس کرے گا، ایسی حالت میں بالکل قدرتی ہے، کہ سوز دل اور تیز ہوجائے، قرب ووصل کی تڑپ اور بڑھ جائے، تزکیہ و مجاہدہ کے اثر سے، زنگ دور ہوکر، کسی کا عکس قبول کرنے کے لیے آئینہ قلب بےقرار ومضطر ہونے لگے، ٹھیک یہی گھڑی، ذوق طلب اور ذوق عطاء سوال اور اجابت، دعا اور مقبولیت، حاجتمندی اور کریمی، گدائی اور شاہی، بندگی وبندہ پروری کے درمیان ناز ونیاز کی ہوتی ہے، اس لیے قدرۃ اس منزل پر پہنچتے ہی، حجلہ غیب سے یہ صدائے بشارت کان میں آنے لگتی ہے، کہ اے ہمارے پیام پہنچانے والے، ہمارے شیدائی، ہمارے پرستار، ہمارے بندے، اگر تم سے ہمارا پتہ پوچھیں، تو ان کو بتادو کہ ہم ان سے کچھ دور نہیں ہم تو ان سے بہت ہی قریب ہیں، ہمیں دل کی تڑپ کے ساتھ پکاریں تو سہی، ہم فورا انکی پکار کو سنیں گے، وہ صرف ہم سے اپنی لو لگائے رہیں، اور ہم پر بھروسہ رکھیں، اس سے وہ سیدھی راہ پاکر، اور منزل مقصود تک پہنچ کر رہیں گے۔ (آیت) ” واذا سالک عبادی عنی فانی قریب، اجیب دعوۃ الداع اذا دعان، فلیستجیبوا لی ولیؤمنوا بی لعلہم یرشدون۔ (منقول از ” سچ “ لکھنوہفتہ وار۔ مورخہ 13 ۔ اپریل 1926 ء ؁ ایڈیٹر عبدالماجد) (3) دو شخص ہیں، ایک وہ جو اپنی خواہشات نفسانی کا غلام ہے، دوسرا وہ جو ان پر حاکم وآقا ہے۔ ایک وہ جو اپنی ہر ہوائے نفس سے مغلوب ہوجاتا ہے، دوسرا وہ جو اسے اپنے قابو واختیار میں رکھتا ہے۔ ایک شخص وہ ہے جو اپنی بھوک، اپنی پیاس، اپنی نیند، اپنی حرص، اپنے غصہ، کسی شے پر قابو نہیں رکھتا، دوسرا وہ جو ان میں سے ہر شے کے ضبط پر قدرت رکھتا ہے، آپ دو ایسے شخصوں میں سے کس کو ترجیح دیں گے ؟ آپ خود ان دونوں میں سے کیا بننا پسند کریں گے ؟ آپ کے نزدیک نفس کی غلامی بہتر ہے ؟ یا اس پر حکمرانی ؟ اگر آخرالذکر بہتر وپسندیدہ ہے، تو پھر یہ کیا ہے، کہ ماہ رمضان کی پیشوائی کو آپ ذوق وشوق، مسرت وخندہ جبینی کے ساتھ نہیں پڑھتے ؟ حاشیہ 2 ۔ واولی ذلک بالصواب عندی قول من قال عنی اللہ جل ثناء ہ بقولہ (آیت) ” ایاما معدودت “ ایام شھر رمضان (ابن جریر) والمرادبھا رمضان (بیضاوی) المراد بھذہ الایام المعدودات شھررمضان (ابومسلم) 3 3 ۔ عن عبداللہ قال یقول وعلی الذین یطیقونہ اے یتجشمونہ (ابن کثیر) وقراء ابن عباس ؓ یطوقونہ بمعنی الطاقۃ والقلادۃ اے یکلفونہ اویتکلفونہ علی جھد منہ وعسروھم الشیوخ والعجائز (زمخشری) یصومونہ جھدھم وطاقتھم ومبلغ وسعھم (زمخشری) وھو الرخصۃ لمن یتعبہ الصوم وجھدہ وھم الشیوخ والعجائز فی الافطار والفدیۃ (بیضاوی) من صام بالکلفۃ والمشقۃ فعلیہ فدیۃ طعام مسکین (گازورنی) 4 ۔ اے ابتدی فیہ انزالہ (بیضاوی) ابتدی فیہ انزالہ (زمخشری) ابتدی فیہ انزالہ (روح المعانی) یکون ابتداء نزول القران علی محمد ﷺ فی شھر رمضان وھو قول ابن اسحاق وابی سلیمان الدمشقی (خازن) اولت الایۃ بان المراد انہ ابتدی فیہ انزالہ ھذا قول محمد بن اسحاق (نیشاپوری) حضرت نظام الدین اولیاء محبوب الہی (رح) دائم الصوم تھے، حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی (رح) نے اپنی عمر کے سالہا سال روزہ رکھ کر گزارے، حضرت جنید بغدادی (رح) کا مقولہ مشہور ہے کو مجھے جو کچھ ملا، سب بھوک اور گرسنگی ہی کی طفیل میں ملا۔ حضرت مولانائے روم (رح) کا عمل خود انہی کی اس تعلیم پر تھا، کہ منزل حق کی جتنی راہیں کھلتی ہیں، سب بھوک اور پیاس سے، ہر سلسلے کے جتنے مقدس بزرگ اور مستند صوفی گزرے ہیں، سب کا عمل یہی رہا ہے اور تعلیم بھی یہی۔ مگر پھر یہ کیوں ہے، کہ آپ باوجود ان حضرات سے اعتقاد ظاہر کرنے، اور ان کے ماننے کے، اس باب میں ان کی تعلیم سے اس قدر بےپروا اور ان کے عمل سے اس قدر بےنیاز ہیں ؟ نماز میں جس طرح عبدیت کی تکمیل ہوتی ہے، ٹھیک اسی طرح روزہ دار کو اخلاق الہی کے ساتھ کس درجہ مناسبت ومشابہت پیدا ہوجاتی ہے بھوک اور پیاس سے بےنیازی، صبر وضبط، قوت واختیار، حلم و تحمل، عفو و درگزر، یہ سب شانیں بندہ کی ہیں، یا مولیٰ کی ؟ عبد کی یا معبود کی ؟ خاک کے پتلے کی یا آسمان کے فرمانروا کی ؟ پھر یہ کیونکر ہے، کہ جو شے کچھ ہی دیر کے لیے سہی، آپ میں اس کیفیت سے مناسبت پیدا کررہی ہو، جو شے ذرہ میں آفتاب کا پر تو ڈال رہی ہو، جو شے آئینہ میں جلا پیدا کرکے اسے نورانیت کا ملہ کا عکس قبول کرنے کے قابل بنارہی ہو آپ اس نعمت عظیمہ کی جانب لپکنے میں تامل کررہے ہیں ؟ حدیث قدسی کے الفاظ یاد کیجئے، الصوم لی وانا اجزی بہ ” روزہ میرے لیے ہے اور اس کا اجر خود میں ہوں “۔ حوریں نہیں، جنت کے قصر ومحل نہیں، کوئی اور ایسی نعمت نہیں، جسے مادی عقل سمجھ سکے۔ بلکہ میں خود اس کا اجر ہوں “۔ یہ کون، کس سے کہہ رہا ہے ؟ آفتاب ذرہ سے نہیں، مخدوم خادم سے نہیں، شاہ گدا سے نہیں، بلکہ خالق مخلوق سے، معبود عبد سے، خدا بندہ سے ! کیا زمینوں اور آسمانوں کی ساری نعمتیں، ساری برکتیں، ساری بادشاہتیں مل کر بھی اس ایک اجر کے سامنے پیش کی جاسکتی ہیں ؟ کیسی درد ناک نادانی ہوگی، کہ اتنے ارزاں سودے کو بھی اپنی غفلت وبے پروائی کے نذر کردیا جائے۔ ! (منقول از ” سچ “ لکھنوہفتہ وار۔ مورخہ 26 ۔ اپریل 1926 ء ؁ ایڈیٹر عبدالماجد) (4) کھانا کھانے میں آپ کو لطف کس وقت آتا ہے ؟ اس وقت جب کہ بھوک کھل کر لگی ہو، یعنی کچھ دیر پیشتر سے کھانا نہ کھایا ہو،۔ پانی کے گلاس میں مزہ کس وقت ملتا ہے ؟ اس وقت جب کہ پیاس لگی ہوئی ہو، اور پانی پینے کی طلب بےقرار کررہی ہو، نیند سکھ سے کس وقت آتی ہے ؟ اس وقت جبکہ کچھ گھنٹے قبل سے آپ برابر جاگ رہے ہوں، ان ساری مثالوں میں آپ کو روز مرہ، ہر وقت اور ہر جگہ تجربہ ہوتا رہتا ہے، کہ مادی لذتوں سے بھی پوری طرح لطف اٹھانے کے لیے کسی قدر ضبط، صبر و احتیاط لازمی ہے، یہی آپ کا مشاہدہ ہے، یہی آپ کا تجربہ ہے، اور اسی پر آپ کا عمل ہے، یہ آپ کبھی نہیں کرتے کہ مسلسل چوبیسوں گھنٹے منہ میں نوالے چباتے رہیں۔ یہ کوئی بھی نہیں کرتا کہ ہر منٹ لگاتار پانی کے گھونٹ اتارتا رہے، یہ کسی کو بھی نہیں دیکھا، کہ دن اور رات، صبح اور شام ہر وقت برابر پڑا سوتا ہی رہے۔ ” روشن خیالی “ جب ایک قدم آگے بڑھاتی ہے، تو تعطیل اور چھٹی کو بھی انسانی زندگی کا ایک لازمی جزو بنا دیتی ہے۔ اسکولوں کے کمرے، کالجوں کے ہاں، عدالت عالیہ کے ایوان، ہفتوں سے بند چلے آرہے ہیں، اس لیے کہ موسم گرم کی ،” تعطیل کلاں، کا زمانہ ہے ! کہچریاں اور دفتر بند ہیں، اس لیے کہ آج بڑا دن ہے، ڈاک خانہ اور تار گھر، بینک اور خزانے بند ہیں، اس لیے کہ آج اتوار ہے ! یہ سب اس لیے ہے کہ دماغ کو آرام ملتا رہے، اور تازہ دم ہونے کے بعد کام بہتر طور پر انجام پاتا رہے، آپ اپنے اس نظام اور اس انتظام پر شرماتے نہیں، فخر ہونے کے بعد کام بہتر طور پر انجام پاتا رہے، آپ اپنے اس نظام اور اس انتظام پر شرماتے نہیں، فخر کرتے ہیں۔ اور آپ کی عقلیت و روشن خیالی کا یہ ایک مسلمہ ہے، کہ کام میں زیادہ مستعدی اور بہتر کارگزاری Efficiency کے لیے جسم اور اعضائے جسم کو آرام دیتے رہنا لازمی ہے ! یہ نہیں کہتے کہ کہ اس سے کام میں خواہ مخواہ حرج اور نقصان ہوتا ہے۔ لیکن جب مذہب آپ سے کہتا ہے، کہ سال کے ایک خاص زما نہ میں چند گھنٹوں کے ایک محدود وقت کے لیے معدہ کو آرام دیتے رہو، بھوک اور پیاس کو ضبط کرتے رہو، تو معا آپ کی عقلیت و روشن خیالی بغاوت پر آمادہ ہوجاتی ہے، آپ اپنے روز مرہ کے تجربہ اور مشاہدہ، نظریات وعملیات، سب کو پس پشت ڈال دیتے ہیں رمضان کی آمد کو اپنے لیے ایک قہر ومصیبت سمجھنے لگتے ہیں، اور اگر زبان سے نہیں تو کم از کم دل میں تو یہ ضرور کہنے لگ جاتے ہیں کہ روزہ کی یہ قیدیں کیسی سخت ہیں۔ اور آپ کے کمزور قوی ہرگز اتنی بڑی محنت کو نہیں برداشت کرسکتے ! بیشک اگر آپ ہزاروں روپیہ کمانے اور اڑانے والے بیرسٹر ہیں، اگر آپ اپنی ” سرکار ابد قرار “ کے بنائے ہوئے جج یا کلکٹر ہیں، اگر آپ صوبہ یا ملک کی کونسل کے ممبر ہیں، اگر آپ لاٹ صاحب اور بڑے لاٹ صاحب کی پاریٹوں میں شریک ہونے والوں میں ہیں، اگر آپ کے پاس سواری کے لیے مرٹریں، اور رہنے کے لیے اونچی اونچی کوٹھیاں موجود ہیں، تو آپ کی محرومی اور حرماں نصیبی نے، اجر روحانی و راحت سرمدی کی طرف، روز مرہ کی مادی لذتوں اور جسمانی فائدوں کا بھی دروازہ آپ پر بند کر رکھا ہے، اور آپ کی اس بےمائیگی پر جن وبشر، حور وملائک جتنا بھی ترس کھائیں کم ہے۔ لیکن اگر آپ اپنی خوش بختی سے کوئی غریب کاشتکار ہیں، کوئی مفلس مزدور ہیں، کوئی کم حیثیت خدمتگار ہیں، بھاری بھاری بوجھ کی گٹھریاں اور گھٹے اپنے سر پر لادنے والے ہیں، دھوپ میں جل جل کر اور بھن بھن کر کام کرنے والے ہیں، تو انشاء اللہ آج آپ اپنے خالق ومالک کے حکم کی تعمیل میں رمضان مبارک کے باران رحمت سے سیراب ہورہے ہوں گے ! یقین کیجئے کہ آج آپ کے مرتبہ پر، زمین پر بسنے والے نہیں، آسمان پر اڑنے والے، فضائے قدس میں سانس لینے والے، حریم عرش کے پایہ تھامنے والے رشک کررہے ہیں ! ممکن ہے کہ آج یہ شاعری معلوم ہورہی ہو لیکن کل انشاء اللہ حقیقت ہو کر رہے گی، اور ان بیخبروں کو بھی خبردار کر کے رہے گی، جو آج روزہ داری کے طبی فوائد اور مادی لذتوں سے بھی محرومی میں اپنی زندگی کے دن کاٹ رہے ہیں ! (منقول از ” سچ “ لکھنوہفتہ وار۔ مورخہ 3 ۔ اپریل 1927 ء ؁ ایڈیٹر عبدالماجد) (5) نیند پورئے سکھ کے ساتھ کس کو آتی ہے ؟ اس کاہل کو جو رات دن بستر پر پڑا رہتا ہے، یا اس محنتی کو جو دن بھر کی دوڑ دھوپ کے بعد تھک کر اپنے دماغ وجسم کو چند گھنٹوں کے لیے آرام دینے کو لیٹتا ہے ؟ کھانے میں اصلی مزہ کس کو ملتا ہے ؟ اس امیر کو جو سارے دن اپنے ذائقہ کی خاطر داریوں میں لگا رہتا ہے، اور طرح طرح کی بد پرہیزیاں کرتا رہتا ہے یا اس غریب کو جو محنت ومشقت کے بعد دن میں ایک یا دو بار سادہ اور معمولی کھانا کھاتا ہے ؟ سو کر اٹھنے کے بعد فرحت اور چاقی کس کو حاصل ہوتی ہے ؟ اس کو جو ساری رات پریشان اور ہولناک خواب دیکھتا رہتا ہے، یا وہ جو شروع سے آخر تک میٹھی نیند لیتا رہتا ہے ؟ پس اگر کسی کو نیند پورے سکھ کے ساتھ نہیں آتی، کھانے میں پورا مزہ نہیں ملتا، یا سو کر اٹھنے کے بعد طبیعت سے کسل پوری طرح دور نہیں ہوتا، تو اس کی ذمہ داری اور تنہا ذمہ داری، اسی کی بےاحتیاطیوں، بدپرہیزیوں اور بےاعتدالیوں پر آتی ہے۔ روزہ، جسم وروح دونوں کے ایک خاص ضبط وانضباط، تزکیہ وتنقیہ، پرہیز و احتیاط کا نام ہے اس کے تمام ہونے پر انتہائی لطف و راحت، لذت و فرحت محسوس ہونی چاہیے، اگر آپ اس میں کمی محسوس کرتے ہیں تو یقیناً یہ آپ ہی کا قصور ہے اور یہ لازمی ہے کہ روزہ کی کچھ شرطیں آپ توڑ چکے ہیں، اور اس کے جو آداب نگاہ رکھنے کے تھے وہ آپ نے نہیں رکھے، جسم و دماغ کو اگر آپ دن بھر صحیح طور پر کام میں لگائے ہوئے ہیں، تو شب کو نیند کی حالت میں بھی سکھ ملے گا اور نیند پوری کرنے بعد بھی فرحت حاصل ہوگی ٹھیک اسی طرح اگر جسم وروح کو آپ ٹھیک طور پر دن بھر مشغول رکھے ہوئے ہیں، اگر آپ وہی کرتے رہے ہیں جو ایک روزہ دار کو کرنا چاہیے تو آپ کا دن اور آپ کی رات، آپ کی صبح اور آپ کی دوپہر، آپ کا سہ پہر اور آپ کی شام، غرض آپ کے وقت کی ہر گھڑی، آپ کے دل کی کلی کو کھلی رکھے گی، افسردگی اور اداسی آپ کے لیے بےمفہوم ہوگی اور سرورونشاط کی ہوائیں، آپ کی روح کو تروتازہ رکھیں گے ، روزہ کے معنی یہ ہیں کہ آپ اپنے پیدا کرنے والے، آپ کے سامان زندگی کے مہیا کرنے والے، اور آپ کی موت وزندگی، بیماری و تندرستی، ہر چیز پر قدرت رکھنے والے کے سامنے عہد کرتے ہیں کہ سارے دن آپ اپنے تئیں، اپنی آنکھ اور کان، اپنے منہ اور زبان، اپنے دل اور اپنے دماغ اپنے ہاتھ اور پیر، اپنے جسم اور جان، غرض اپنے سارے وجود کو ہر ٹیڑھی راہ سے روکے رہیں گے، ہر کجی اور کج روی سے باز رکھیں گے اور صرف اسی کے لیے وقف رکھیں گے جو اس کا اصلی کام اس کی سیدھی راہ، اس کا فطری حق، اور اس کی سچی غایت ہے، زبان اگر کھلے گی تو صرف کلمہ حق پر، کان اگر سنیں گے تو صرف سچی آواز، آنکھ اگر دیکھے گی تو صرف امر حق کو، دل اگر سوچے گا تو سچائیوں کو، ہاتھ اور پیر اگر حرکت کریں گے تو صرف سچائی کی راہ میں۔ مادی زندگی کے سب سے بڑے اور طاقتور مظہر، سورج کے ڈوب جانے پر، جب آپ اس ذات کے شکر کے ساتھ جس نے آپ کو یہ توفیق دی، اپنا جائزہ لیں اور اپنی اس نذر کی ہر شرط کو پوری طرح ادا کیا ہوا پائیں تو، دنیا کے کس لفظ اور کس عبارت میں اس کیفیت کو ادا کرنے کی قدرت ہے ! رضائے الہی آپ میں اور آپ رضائے الہی میں جذب ہوں گے ! راحت ولذت، لفط ومسرت، سرور ونشاط، شادی و انبساط، یہ سارے الفاظ بڑی فرحت (افطار) کی کیفیت کو ادا کرنے کے لیے ناکافی ہیں جو اس سب سے بڑی فرحت (دیدار الہی) کا پیش خیمہ ہے، جس سے موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) جیسے برگزیدہ پیغمبر، باوجود شوق و تمنا، اس دنیا میں محروم رہے ! (” سچ “ لکھنو 14 ۔ مارچ 1927 ء۔ )
Ayah 2:184

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

یہ روزے) گنتی کے چند روز کے (ہیں) ،652 ۔ پھر تم میں سے جو شخص بیمار ہو،653 ۔ یا سفر میں ہو،654 ۔ اس پر دوسرے دنوں کا شمار رکھنا (لازم ہے) ،655 ۔ اور جو لوگ اسے مشکل سے برداشت کرسکیں،656 ۔ ان کے ذمہ فدیہ ہے (کہ وہ) ایک مسکین کا کھانا ہے،657 ۔ اور جو کوئی خوشی خوشی نیکی کرے،658 ۔ اس کے حق میں بہتر ہے، اور اگر تم علم رکھتے ہو،659 ۔ تو بہتر تمہارے حق میں یہی ہے کہ تم روزے رکھو،660 ۔

)652 ۔ یعنی ان فرض روزوں کی ایک متعین تعداد ہے جیسا کہ ڈسپلن (تنظیم یا باقاعدگی) کا اتقضا ہے۔ یہ نہیں کہ جب جس کا جی چاہے جنتے دنوں کے لیے رکھ ڈالے۔ وحدت امت کے لحاظ سے لازمی تھا کہ ایک متعین زمانہ، متعین حدود کے ساتھ ساری امت کے لیے مقرر ہو، ضمنا یہ پہلو بھی نکل آیا کہ ان فرض روزوں کی تعداد کچھ بہت بڑی نہیں۔ یہ نہیں کہ سال سال بھر روزے رکھتے ہی جاؤ۔ چھ مہینے بلکہ تین مہینے بھی نہیں۔ سال بھر میں کل 29 یا 30 دن۔ 653 ۔ (اور بیماری کے باعث روزہ اس پر شاق ہو) ۔ بیماری کی حالتیں مختلف ہوتی ہیں، بیماری بہت شدید بھی ہوسکتی ہے اور بہت خفیف برائے نام بھی ہوسکتی ہے اور پھر موسم، عمر، جثہ وغیرہ کے اختلافات بھی اثر انداز ہوا کرتے ہیں، یہاں مراد ایسی بیماری ہے، جو روزہ رکھنے میں خلل انداز ہو۔ محض مریض کسی درجہ میں ہونا اجازت ترک صوم کے لیے کافی نہیں۔ اے مریضا یعسر علیہ الصوم معہ (روح) قال جمھور من العلماء اذا کان بہ مرض یؤلمہ اویخاف تمادیہ اویخاف تزیدہ صح لہ الفطر (قرطبی) یخاف من الصوم زیادۃ مرض (مدارک) قال ابوحنیفۃ (رح) وابو یوسف (رح) ومحمد (رح) اذا خاف ان تزداد عینہ وجعا اوحماء شدۃ افطر (جصاص) فثبت اتفاق الفقھاء ان الرخصۃ فی الافطار للمریض موقوفۃ علی زیادۃ المرض بالصوم وانہ مالم یخش الضرر فعلیہ ان یصوم (جصاص) بیماری کی کوئی معین حد شریعت نے نہیں بتائی۔ ہر شخص اپنے حالات کے لحاظ سے اپنے ضمیر کی روشنی میں اس کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ 654 ۔ سفر کے اندازے شریعت نے مقرر کردیئے ہیں۔ یعنی سفر کی اتنی مقدار کہ جس میں ترک صوم جائز ہو۔ وقد اتفقوا علی ان للسفر المبیح للافطار مقدار امعلوما فی الشرع (جصاص) ۔ لیکن خود ان اندازوں میں اختلاف صحابہ ؓ کے زمانہ سے اب تک چلا آرہا ہے، ان عمر و، ابن عباس ؓ صحابیوں اور فقیہ ثوری (رح) کا مذہب ہے کہ سفر شرعی کا اطلاق تین دن کے مسافت والے سفر پر ہوتا ہے، قال ابن عمر وابن عباس والثوری الفطر فی سفر ثلثہ ایام (قرطبی) حنفیہ کے ہاں بھی فتوی تین ہی دن کی مقدار سفر پر ہے۔ گودوسرے ائمہ کے یہاں دوروز بلکہ ایک روز کے سفر پر بھی افطار جائز ہے، فقال اصحابنا مسیرۃ ثلثلۃ ایام ولیالیھا وقال آخرون یومین وقال اخرون مسیرۃ یوم (جصاص) فقال مالک والشافعی اقل السفر یوم ولیلۃ وقال ابوحنیفۃ اقلہ ثلاثۃ ایام (ابن العربی) 655 ۔ (اگر اس بیماری یا سفر کے دوران میں روزے چھوٹ گئے ہوں) یہ حکم نہیں، اجازت ہے۔ اور مقصود معذوروں کے لیے گنجائش ہے۔ البتہ اگر کوئی ایسی بیماری یا ایسا سفر ہو، جس میں روزہ رکھنے سے ہلاکت کی نوبت آئی جاتی ہو، تو اس حالت میں ترک صوم جائز ہی نہیں، واجب ہوجاتا ہے اور زیادہ تکلیف کی حالت میں ترک صوم ہی بہتر سمجھا گیا ہے۔ 656 یطیقونہ “ میں ضمیر صوم کی طرف ہے۔ یعنی روزہ رکھنے کو رکھ تو ڈالیں لیکن روزہ کا تحمل انہیں مشکل ہی سے ہو سکے۔ مشقت بہت زائد اٹھانی پڑے۔ ؛ مثلا زیادہ بوڑھے اشخاص، یا حاملہ اور مرضعہ عورتیں۔ طاقۃ اور وسعۃ ان دو لفظوں میں اہل لغت نے فرق کیا ہے۔ وسعت تو گویا امکان کے مرادف ہے، اور طاقت میں یہ مفہوم شامل ہے کہ وہ کام، کرنے والے کی قدرت میں تو ہو، لیکن اس کے کرنے میں مشقت بہت زائد پڑے۔ کام تو ہوجائے، لیکن بہ مشکل ہو، ھو اسم لمقدار ما یمکن ان یفعلہ بمشقۃ منہ (تاج) الطاقۃ اسم لمقدار مایمکن للانسان ان یفعلہ بمشقۃ (راغب) الوسع فوق الطاقۃ فالوسع اسم لمن کان قادرا علی الشیء علی وجہ السھولۃ واما الطاقۃ فھو اسم لمن کان قادرا علی الشی مع الشدۃ والمشقۃ (کبیر) اور یہاں طاقۃ کا مادہ استعمال ہوا ہے جس کے کھلے ہوئے معنی یہ ہیں کے ” وہ لوگ جو تکلیف کے ساتھ روزے رکھ سکیں “ مثلا بوڑھے اور بوڑھیاں، حاملہ اور مرضعہ۔ اے یصومونھم جھدھم وطاقتھم ومبلغ وسعھم (کشاف) اے الذین یقدرون علی الصوم مع الشدۃ والمشقۃ (کبیر) فیصیر المعنی وعلی الذین یصومونہ مع الشدۃ والمشقۃ فیشمل نحو الحبلی والمرضع (روح) یکلفونہ اویتکلفونہ علی جھد منہم وعسروھم الشیوخ والعجائز (کشاف) اور ابن عباس ؓ کی قرأت میں تو یطوقونہ ہے، جو صاف مرادف یکلفونہ کا ہے۔ ومشھور قرأۃ ابن عباس ؓ یطوقونہ بفتح الطاء وتشدید الواو بمعنی یکلفونہ (قرطبی) تابعین بلکہ صحابیوں ؓ کی متعدد روایتوں میں اس سے مراد بوڑھے اور بوڑھیاں ہی لی گئی ہیں، اور متعدد مفسروں نے بھی یہی سمجھا ہے اور آیت کے منسوخ قرار دینے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے۔ ھو الشیخ والشیخۃ (ابن جریر۔ عن علی) نزلت ھذہ الایۃ فی حق الشیخ الھرم (کبیر) قال ابن عباس ؓ لیست منسوخۃ ھو الشیخ الکبیر والمرأۃ الکبیرۃ لایستطیعان ان یصوما (ابن کثیر، عن عطاء) ففسر ابن عباس ان کان الاسناد عنہ صحیحا یطیقونہ بیطیقونہ ویتکلفونہ (قرطبی) روی ابوداود عن ابن عباس وعلی الذین یطیقونہ قال اثبتت للحبلی والمراضع (قرطبی) وخرض الدارقطنی عنہ ایضا قال رخص للشیخ الکبیر ان یفطر ویطعم عن کل یوم مسکینا ولا قضاء علیہ۔ ھذا اسناد صحیح (قرطبی) وروی عنہ ایضا انہ قال وعلی الذین یطقونہ فدیۃ طعام لیست بمنسوخۃ ھو الشیخ الکبیر والمرأۃ الکبیرۃ لا یستطیعان ان یصوما فیطعما مکان کل یوم مسکینا وھذا صحیح (قرطی) وحکم ھولآء الافطار والفدیۃ وھو علی ھذا الوجہ ثابت بالاسانید الصحاح عن ابن عباس (رح) ان الایۃ لیست بمنسوخۃ وانھا محکمۃ فی حق من ذکر۔ 657 ۔ یعنی جن بوڑھوں، بوڑھیوں، ناتوانوں کے لیے روزہ رکھنا بہت تعب کا باعث ہو، انہیں اختیار ہے کہ بجائے روزہ رکھنے کے ایک غریب کو روزانہ کھانا کھلادیا کریں، اور کھانے کا معیار وہ ہو جو خود ان کا اوسطا رہتا ہے۔ مختلف فقہاء سے مختلف مقداریں منقول ہیں۔ 658 ۔ (اسی ادائے فدیہ کے باب میں) یعنی اس قدر مقدار تو بہرحال واجب ہے اب اگر اس میں کوئی اور زیادتی کرنا چاہے، یعنی ایک شخص کے بجائے دو شخصوں کو کھلا دے، کھانے کی تعداد بڑھادے، کھانے کی قسم بہتر کر دے، فدیہ کے ساتھ روزہ کو بھی جمع کرلے تو اور بہتر ہے۔ خیر، خیرات، فیاضی، وسیر چشمی، حسن سلوک وحسن معاشرت کی تاکید تو اسلام میں ہمیشہ اور ہر حال کے لیے موجود ہے۔ لیکن رمضان کے ماہ مبارک میں اس کی اہمیت اور زیادہ ہے۔ چناچہ ماہ مبارک کے ختم پر، یا ختم سے ذرا قبل جو صدقہ فطر واجب بتایا گیا ہے، کہ آس پاس کا کوئی کلمہ گو بھوکا نہ رہنے پائے وہ اس سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے، رسول اللہ ﷺ فیاضی، سخاوت، جود وکرم میں اپنی نظیر آپ تھے، تاہم متعدد حدیثوں میں آتا ہے کہ اس ماہ مبارک میں آپ کا جوش کرم اور بڑھ جاتا تھا، اور آپ ﷺ فیاض سے فیاض تر ہوجاتے تھے۔ 659 ۔ (کہ صوم رمضان کی کیا کیا برکتیں اور فضلتیں ہیں اور اس کے کیا کیا منافع ومصالح ہیں) 660: (اگر چہ معقول عذر روزہ کو قضا کردینے اور اس کے بجائے فدیہ دینے کہ موجود ہوں) اس میں ترغیب اور تشویق ہے کہ روزہ رکھنے کے جو منافع ومصالح ہیں، وہ تو روزہ رکھنے ہی سے حاصل ہوں گے، ہاں معذروں کے لیے گنجائش فدیہ کی بھی رکھ دی گئی ہے۔
Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا ہے،661 ۔ وہ لوگوں کے لیے ہدایت ہے،662 ۔ اور (اس میں) کھلے ہوئے (دلائل میں) ہدایت اور (حق و باطل میں) امتیاز کے،663 ۔ سو تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پائے، لازم ہے کہ وہ (مہینہ بھر) روزہ رکھے،664 ۔ اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو، تو (اس پر) دوسرے دنوں کا شمار رکھنا (لازم ہے) ،665 ۔ اللہ تمہارے حق میں سہولت چاہتا ہے اور تمہارے حق میں دشواری نہیں چاہتا،666 ۔ اور یہ (چاہتا ہے) کہ تم شمار کی تکمیل کرلیا کرو،667 ۔ اور یہ کہ تم اللہ کی بڑائی کیا کرو، اس پر کہ تمہیں راہ بتادی،668 ۔ عجب نہیں کہ تم شکر گزار بن جاؤ،669 ۔

661 ۔ یعنی اترنا شروع ہوا۔ اے ابتدی فیہ ابتدی فیہ انزالہ (مدارک ،۔ بیضاوی۔ روح) بدی بانزالہ فیہ علی رسول اللہ (بحر) کل قرآن مجید کا نزول تو بڑی تدریج کے ساتھ کوئی 2 1 ۔ 22) سال کی مدت میں ہوا ہے، یہاں مراد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر نزول قرآن کی ابتداء ماہ رمضان میں ہوئی۔ وحی قرآنی کی سب سے پہلی آیتیں سورة العلق کا ابتدائی حصہ ہے، اور وہ غار حرا میں رسول اللہ ﷺ پر اسی مہینہ میں نازل ہوئی تھیں۔ ( 1 ۔ نبوی) بہت سے مفسر اس جانب بھی گئے ہیں کہ قرآن مجید کا نزول آسمان دنیا پر اسی مہینہ میں ہوا اور پھر وہاں سے فرشتہ وحی حضرت جبرئیل کے توسط سے بتدریج رسول اللہ ﷺ پر ہوتا رہا۔ القران۔ جس طرح ارض کا اطلاق سارے روئے پر بھی ہوتا ہے اور زمین کے ہر ہر ٹکڑے پر بھی۔ اسی طرح قران کا اطلاق 30، پاروں والی مکمل کتاب پر بھی ہوتا ہے اور اس کے ہر ہر جزو پر بھی۔ رمضان۔ سنہ قمری اسلامی کے نویں مہینہ کا نام ہے۔ شریعت نے اعتبار قمری مہینوں کا کیا ہے اور اپنے حسابات میں اسی تقویم سے کام لیا ہے۔ قمری مہینے چونکہ مختلف موسموں میں ادل بدل کر آتے رہتے ہیں۔ مسلمان روزہ دار بھی رمضان کی اس گردش سے ہلکی گرمی اور ہلکی سردی، شدید گرمی اور شدید سردی، خشک وتر، ہر رہ موسم میں بھوک اور پیاس کے ضبط و تحمل کا خوگر ہوجاتا ہے۔ روزوں کی تعداد تو شریعت نے مقرر کر ہی دی ہے، زمانہ بھی ایک متعین ومقرر ہے۔ یہ نہیں کہ محض تعداد جس کا جب جی چاہے پوری کرلے۔ انفرادی اصلاح تو شاید ان حسب مرضی روزوں سے ہو بھی جاتی لیکن اجتماعی منافع ومصالح کے لیے تعداد کی طرح تعیین بھی ناگزیر تھی۔ وحدت امت کے لیے لازمی تھا کہ عرب وچین، مصرو ہندوستان طرابلس وجاپان، حبش وآسٹریلیا، افغانستان اور کینڈا سائی بیریا اور میکسیکو، برطانیہ اور آسٹریا، غرض سارے روئے زمین پر اسلامی آبادی جہاں کہیں بھی ہو، سب ایک ہی وقت میں روحانیت کی اس سالانہ پریڈ میں شریک ہو۔ علم الاجتماع کے مبصرین جانتے ہیں کہ وحدت امت وتنظیم ملت میں کتنا زیادہ دخل اس ہم وقتی یا وقت کی ہم آہنگی کو ہوتا ہے۔ قرآن کی مناسبت رمضان کے ساتھ ہر صاحب نظر پر بالکل روشن ہے، اہل سنت اسی لیے قرآن مجید کے اس نزول کی سالانہ یادگار اس مہینہ بھرراتوں کو اپنی مسجدوں میں مناتے ہیں۔ اور تراویح کی رکعتوں میں سارے قرآن کو اپنے حافظہ میں تازہ کرلیتے ہیں۔ 662 ۔ یعنی اس میں خفاوالتباس کسی قسم کا نہیں، اور اس کے سارے ہدایات و احکام لوگوں ہی کے نفع کے لیے ہیں۔ (آیت) ” للناس “ سے اس پر بھی روشنی پڑگئی کہ قرآن کی مخاطب ساری دنیا ہے، محض قریش یا عرب نہیں۔ 663 ۔ قرآن مجید ایک کتاب محکم ہے نہ صرف دلالت احکام میں وضاحت کامل کی بنا پر، بلکہ اس لحاظ سے بھی کہ اس کے دلائل حق کو باطل سے واضح اور نمایاں طور پر ممتاز کردینے والے ہیں۔ 664 ۔ (آیت) ” فلیصمہ۔ یعنی کج فہموں نے خدا معلوم کس قاعدۂ زبان سے اس لفظ کے یہ معنی نکال کر کہ رمضان ” میں “ یا رمضان کے ” اندر روزے رکھے جائیں۔ یہ حکم لگا دیا ہے کہ صرف تین دن کے روزے بھی کافی ہیں۔ یہ ایجاد بندہ تمامتر گندہ ہے۔ آیت کے صاف وصریح معنی اس مہینہ کو روزہ میں گزارنے کے ہیں اور اردو میں اس مفہوم کو ” مہینہ بھر “ میں ہی سے ادا کیا جاسکتا ہے۔ فیصیر تقدیرہ من شھد جزء من اجزاء الشھر فلیصم کل الشھر (کبیر) اے الشھرکلہ (معالم) (آیت) ” شھد منکم الشھر “ قمری مہینہ کا آغاز ہر 29 یا 30 ۔ دن کے بعد چاند دیکھنے سے ہوتا ہے۔ اسلام دین فطرت ہے اور یہ رنگ اس کی اخلاقی، معاشرتی، تعبدی، جزئی کلی، ہر تعلیم میں نمایاں ہے۔ طاعتوں اور عبادتوں کے باب میں جہاں اس نے ایک طرف یہ تاکید رکھی ہے کہ وقت مقرر پر، اور زمانہ معین ہی میں ادا ہوں، وہاں یہ نہیں کیا کہ خود اوقات کو یا زمان کی مقداروں کو ماہرین ہئیت و حساب کا محتاج وپابند بنادیا ہو۔ شمسی تقویم رکھنے والے بیچارے اپنی گھڑی گھنٹہ کے لیے تمامتر دست نگر رہتے ہیں۔ ہیئت دانوں اور فلکیات کا حساب کتاب رکھنے والوں کے۔ اور اگر کسی ملک یا قوم کا تمدن ابھی اس درجہ تک نہ پہنچا ہو کہ رصد خانے بن سکے ہوں، دور بینیں ایجاد ہوچکی ہوں، طرح طرح کے آلات سے کام لیا جانے لگا ہو، ریاضیات کا طویل و عریض نظام وجود میں آچکا ہو، تو وہاں کے لوگ بیچارے منہ دیکھتے رہ جائیں۔ اسلام تو اس سیدھے سادھے فطری حساب کا قائل ہے کہ بغیر کسی آلہ کی مدد کے بغیر ریاضیات اعلی کے توسط کے، بس آنکھ سے جب چاند دیکھ لو، روزہ رکھنا شروع کردو۔ (آیت) ” شھد “ وسیع معنی میں ہے، یعنی جب ماہ رمضان کے شروع ہونے کا علم ہوجائے۔ خواہ چاند کو براہ راست دیکھ کر، خواہ دوسروں سے رویت کی خبر سن کر، تو بیماروں، مسافروں، معذوروں کو چھوڑ کر، اور سب لوگ روزہ رکھنا شروع کردیں، وشھد من الشھود والترکیب یدل علی الحضور اما ذاتا او علما (روح) اما بالرؤیۃ واما بالسماع (کبیر) رؤیت ہلال معتبر کہاں کی ہوگی ؟ فقہاء نے اس کے جواب میں بڑی بڑی موشگافیاں کی ہیں، لیکن صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ اسی شہر یا بستی کی یا قرب و جوار کی بستیوں کی، سینکڑوں ہزاروں میل دور سے رؤیت ہلال کی خبریں منگانے کا تار، ٹیلیفون، ریڈیووغیرہ کے ذریعہ سے انتظام کرنا، یا کلکتہ کی رؤیت کو 1900 میل دور ممبئی پر حجت گرداننا شریعت اسلامی کی اصل روح پر ظلم کرنا ہے اختلاف مطالع ایک صریح مشاہدہ کی چیز ہے۔ اسے کیونکر جھٹلایا جاسکتا ہے۔ وحدت یقیناً ایک بڑی اہم چیز ہے لیکن اس کے لیے یہ زبردستی کی کوششیں کرنا طبعی کو غیر طبعی کی حد تک پہنچا دینا ہے۔ واختلفوا اذا اخبر مخبر عن رویۃ بلدۃ فلا یخلوا انہ یقرب اوی بعد فان قرب فالحکم واحد وان بعد فلاھل کل بلد رؤیتھم روی عن ابن عباس وبہ قال اسحاق والیہ اشار البخاری حیث بوب لاھل کل بلدرویتھم (قرطبی) اسی تفسیر قرطبی میں ایک روایت صحیح مسلم کے حوالہ سے اس مضمون کی درج ہے کہ ایک بار رمضان کے سلسلہ میں شام کی رؤیت کی خبر مدینہ میں پہنچی۔ دونوں جگہ کی تاریخوں میں فرق نکلا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ صحابی نے حدیث نبوی کا حوالہ دے کر فتوی دیا کہ ہم تو یہی کی رؤیت کا اعتبار کریں گے۔ اس کے بعد امام قرطبی (رح) لکھتے ہیں۔ قال علماؤنا قول ابن ھکذا امرنا رسول اللہ ﷺ کلمۃ تصریح یرفع ذلک الی النبی ﷺ وبامرہ فھو حجۃ علی ان البلاد اذا تباعدت کتباعدت الشام من الحجاز قالوا جب علی اھل کل بلدان تعمل علی رؤیتہ دون رؤیۃ غیرہ امام مسلم کا شمار فقہاء محدثین میں ہے، انہوں نے اپنی صحیح کی کتاب الصیام کے ایک باب کا عنوان یہی قرار دیا ہے۔ باب بیان ان لکل بلد رؤتیھم انھم اذا رؤتیھم انہم اذا راؤالھلال ببلد لایثبت حکمہ لما بعد عنہم یعنی باب اس بیان میں کہ ہر شہر کے لیے رؤیت وہیں کی معتبر ہے۔ اور اس میں کہ جس بستی میں چاند دکھائی دے، وہاں سے دور کی بستیوں پر وہاں کا حکم عائد نہ ہوگا۔ اور باب کے تخت میں وہی حدیث لائے ہیں جو قرطبی کے حوالہ سے اوپر گزر چکی۔ اور اس حدیث کو محدث ابن منذر اور امام ترمذی نے بھی نقل کیا ہے۔ وحکاہ ابن المنذر عن عکرمۃ والقاسم وسالم واسحق وحکاہ الترمذی (فتح الباری) اور نووی شارح مسلم نے لکھا ہے کہ۔ والصحیح عند اصحابنا ان الرؤیۃ لاتعم الناس بل تختص بمن قرب علی مسافۃ لا تقصر فیھا الصلوۃ وقیل ان اتفق المطلع لزمھم وقیل ان اتفق الاقلیم والافلا۔ صحیح مسئلہ ہمارے علماء کے یہاں یہ ہے کہ رؤیت سارے انسانوں پر حجت نہیں بلکہ صرف اتنی مسافت والوں پر ہے جہاں تک نماز قصر نہ کی جائے، اور ایک قول ہے کہ جہاں تک مطلع متحد ہو، اور ایک قول ہے کہ ایک اقلیم کے حدود کے اندر اور اس کے آگے نہیں۔ اور فقیہ قاضی ابن رشد مالکی نے اس حدیث سے نتیجہ نکالا ہے کہ ہر بستی کے لیے وہیں کی رؤیت معتبر ہے، چاہے بستیاں آس پاس کی ہوں یا دور کی۔ فظاھر ھذا الاثر یقتضی ان لکل بلد رؤیتہ قرب اوبعد (بدایۃ المجتہد) مالکیہ کا مذہب مشہور تو یہ ہے کہ ایک جگہ کی رویت سب جگہ کے لیے کافی ہوگی۔ لیکن ابن عبدالبر نے اجماع اس کے برخلاف نقل کیا ہے۔ یعنی ایسے دور دراز ممالک جیسے خراسان اور اسپین ہیں، ان میں سے ایک کے ہاں کا اعتبار دوسری جگہ نہیں کیا جائے گا۔ لکن حکا ابن عبد البر الاجماع علی خلافہ وقال اجمعوا علی انہ لا تراعی الرؤیۃ فی مابعد من البلاد کخراسان والاندلس (فتح الباری) وحکی ابو عمر الاجماع علی انہ لا تراعی الرؤیۃ فی مابعد من البلدان کالاندلس وخراسان قال ولکل بلد رؤیتھم الا ما کان کالمصر الکبیر وما تقاربت اقطارہ من بلدان المسلمین (قرطبی) وروی المدنیون عن مالک ان الرؤیۃ لانلزم بالخیر عند غیر اھل البلد الذی وقعت فیہ الرؤیۃ الاان یکون الامام یحمل الناس علی ذلک وبہ قال ابن الماجشون والمغیرہ من اصحاب مالک واجمعوا علی انہ لا یراعی ذلک فی البلدان النائیۃ کالاندلس والحجاز (ہدایۃ المجہتد) واختلف فی المطالع وھو الصحیح (ابن العربی) (آیت) ” الشھر “ کوئی ملک اس دنیا کے پردہ پر اگر ایسا آباد ہے کہ وہاں انسانی آبادی عاقلوں، بالغوں، شریعت، شریعت کے مکلفوں کی ہے، اور وہاں کئی کئی مہینے آفتاب طلوع نہیں ہوتا، یا جب طلوع ہوتا ہے تو کئی کئی مہینے غروب نہیں ہوتا، تو ظاہر ہے کہ وہاں رویت ہلال کے انتیسویں دن یا تیسویں دن کے واقع ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں۔ اور جب یہ نہیں تو وہاں شہود الشہر یعنی طلوع ماہ رمضان کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ قرآن مجید کے جب یہ نہیں تو وہاں شہود الشہر یعنی طلوع ماہ رمضان کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔۔۔ قرآن مجید کے اس اعجاز بلاغت کے قربان جائیے کہ صرف ایک لفظ شھدالشھر کے لیے آنے سے کتنے سوالات اور شبہات کی جڑ کاٹ دی ! بطور تطوع یا بہ خیال تقوی کوئی وہاں بھی روزہ رکھنا چاہے تو سونے جاگنے، کھانے پینے، غرض دنیا کے اور سارے کاروبار کے لیے وہاں اوقات کا جو معیار ہو اسی اندازہ اور حساب سے روزہ بھی رکھ سکتا ہے۔ 665 ۔ ابتداء میں حکم صرف اسی قدر تھا کہ تندرست اور مقیم بھی جو ماہ رمضان میں روزہ نہ رکھنا چاہیں، قضا کرسکتے ہیں ، ، جب آیت (آیت) ” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ “ نازل ہوئی، اس وقت سے تندرستوں اور مقیموں سے یہ اختیار چھن گیا۔ اور رمضان کے روزے ان کے لیے اختیاری نہیں رہے، لازمی ہوگئے۔ لیکن مریضوں، ناتوانوں، مسافروں کے لیے قضا کا اختیار بدستور باقی رہا۔ آیت کے اسی جزو (آیت) ” من کان مریضا الخ “ کو ایک بار پھر اسی لیے دوہرا دیا گیا کہ (آیت) ” من شھد منکم الشھر فلیصمہ “ کی تعلیم سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ معذوروں سے بھی رعایت ختم کردی گئی۔ اس لیے حکم کی تکرار صرف صوری اور ظاہری ہے۔ حقیقی اور معنوی نہیں۔ کرر لئلا یتوھم نسخہ بتعمیم من شھد (جلالین) مخصصا لہ لان المسافر والمریض ممن شھد الشھرولعل تکریرہ لذلک لئلا یتوھم نسخہ (بیضاوی) 666 ۔ چناچہ شریعت اسلامی کے سارے احکام وقوانین اسی ایک اصل پر مبنی ہیں اور خود اسی روزہ رمضان کے معاملہ میں معذور کے لیے کتنی گجائش، کتنی سہولتیں رکھ دی گئیں، حدیث نبوی میں جو آیا ہے۔ دین اللہ یسروہ اسی آیت قرآنی کی شرح یا تتمہ ہے اور واقعی اگر غور کرکے دیکھا جائے، تو شریعت کا ایک حکم بھی ایسا نہ ملے گا۔ جس میں عامل کے حالات، عمر، صحت، جثہ، موسم اور دوسری مشکلات کا لحاظ نہ کرلیا گیا ہو۔ اور جو احکام بظاہر سخت معلوم ہوتے ہیں، ان کی تہ میں بھی ہمیشہ یہی حقیقت پائی جائے گی، کہ فرد یا امت کی راہ میں کچھ آسانیاں ہی پیدا ہوں۔ امت اسلامی کے فخر ومسرت کے لیے یہ کافی ہے کہ جو احکام غیروں کو سخت معلوم ہوتے ہیں ان کی تعمیل میں بھی اور آج ساڑھے تیرہ سو برس گزر جانے کے بعد، ساری مخالفانہ فضا وماحول کے باوجود اس خوشدلی اور بےتکلفی کے ساتھ لگی ہوئی ہے کہ اغیار دیکھ دیکھ حیرت میں رہ رہ جاتے ہیں۔ سرولیم میور لکھتے ہیں :۔ ” روزہ کی سختیاں بدستور قائم ہیں۔ خواہ وہ کسی موسم میں پڑیں، اور آج تک مشرق کے میدانوں میں جلجلاتی ہوئی دھوپ اور جھلساتی ہوئی سموم میں گرمیوں کے لمبے لمبے دنوں میں محمد ﷺ کے پیرو صبح سے شام تک پانی کا ایک قطرہ حلق کے نیچے نہیں اتارتے اتنی سخت ریاضت قوت ایمانی اور ضبط نفس کا پورا امتحان ہے “۔ (لائف آف محمد ﷺ صفحہ 193) 667 ۔ (یعنی ایام قضا کی) یعنی جتنے روزے قضا ہوجائیں ان کی تکمیل کرلو، تو پورا پورا اجر روزوں کی ادائی ہی کامل جائے گا۔ ولتکملوا۔ یہ نحوی حیثیت سے ماتحتی میں (آیت) ” یرید اللہ “ کے ہے اور عطف للیسر پر ہے۔ یجوزان یعطف علی الیسر اے ویرید بکم لتکملوا (بیضاوی) 668 ۔ (تمہارے ہی نفع اور فلاح کی) اور راہ بھی ایسی جس میں نہ زیادہ مشقت وتعب، بلکہ ہر ایک کے حالات کی پوری پوری رعایت۔ 669 ۔ شکر گزشرار بن جانے کا کتنا آسان نسخہ اللہ کی نعمتوں کا مراقبہ ہے۔ بندہ بس اسی پر غور کرتا رہے کہ اللہ نے شریعت اسلامی کے ذریعہ سے کیسے کیسے پر سہولت طریقے اس کے نفع اور اجر کے بتادیئے ہیں۔