2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 2:30

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:30 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو)108 ۔ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے کہا،109 ۔ میں زمین پر اپنا نائب بنانا چاہتا ہوں،110 ۔ وہ بولے کیا تو اس میں ایسے کو بنائے گا جو اس میں فساد برپا کرے گا اور خون بہائے گا درآنحالیکہ ہم تیری حمد کی تسبیح کرتے رہتے ہیں،1 1 1 ۔ اور تیری پاکی پکارتے رہتے ہیں ؟ (اللہ نے) فرمایا یقیناً میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے112 ۔

108 ۔ اذظرف زمان ہے، کسی گزشتہ واقعہ کی یاد دلانے کے موقع پر آتا ہے۔ جس طرح (آیت) ” اذا “ کسی واقعہ مستقبل پر آتا ہے۔ اذ ظرف موضوع لزمان نسبۃ ماضیۃ وقع فیھا نسبۃ اخری مثلھا (ابوسعود) بعض نے اذکر اس کے قبل مقدر مانا ہے۔ ھو نصب باضمار الذکر والمعنی اذکرلھم (کبیر) واذکروا فعلی بابیکم (کبیر) ابوعبیدہ لغوی نے کہیں کہہ دیا تھا کہ اذ یہاں زائد ہے۔ اس کی شدومد سے تردید اہل لغت وائمہ تفسیر دونوں نے کی ہے۔ قال ابن اسحاق ھذا اقدام عن ابی عبیدہ (لسان) قال الزجاج ھذا اجتراء عن ابی عبیدۃ (ابن کثیر) ردہ ابن جریر قال القرطبی وکذاردہ جمیع المفسرین (ابن کثیر) 109 (آفرینش آدم (علیہ السلام) کے وقت) سورة کے رکوع اول میں بیان فطرت انسانی کا تھا کہ قرآن کے مخاطبین میں دو طرح کے لوگ ہیں، ایک اس کے پیام کو قبول کرنے والے، صالح وسلیم فطرت رکھنے والے، دوسرے بدفطرت، بیام الہی سے انکار کرنے والے، دوسرے رکوع میں مخاطبین کی ایک تیسری نوع کا بیان تھا۔ تیسرے رکوع میں اصل پیام کا لب لباب سنا دیا گیا۔ یعنی توحید و رسالت کی تبلیغ کردی گئی۔ اب اس چوتھے رکوع میں اس تبلیغ کی تاریخ شروع ہوتی ہے۔ یعنی یہ پیام ابتداء نسل انسانی کے بانی ومورث حضرت آدم (علیہ السلام) کو دیا گیا، اور ان سے نسل بہ نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ ملئکۃ جمع ہے ملک کی۔ اور وہ الوک سے ہے، جس کے معنی پیامبری یا پیام رسانی کے ہیں، الالوک الرسالۃ ومنہ الکنی اے ابلغہ رسالتی (راغب) من الالوکۃ وھی الرسالۃ (روح) ملائکہ کو ملائکہ کہتے ہی اس لیے ہیں کہ ان کا اصل کام پیام رسانی ہوتا ہے۔ اور یہ خالق کے پیامات مخلوق تک لایا کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے ایجنٹ یا واسطے ہیں۔ لانہم وسائط بین اللہ تعالیٰ وبین الناس فھم رسل اللہ او کالرسل الیھم (بیضاوی) اردو میں انہیں کو فرشتہ کہتے ہیں۔ فرشتے نوری مخلوق ہوتے ہیں، وجود خارجی رکھتے ہیں، محض صفات الہی یا قوائے طبیعی کے مرادف نہیں، عادۃ انسان کے لیے غیر مرئی رہتے ہیں۔ حسب ضرورت مختلف شکلیں اختیار کرسکتے ہیں۔ اجسام لطیفۃ ھو ائیۃ تقدر علی التشکل باشکال مختلفۃ مسکنھا السموت وھذا قول اکثر المسلمین (کبیر) ذھب اکثر المسلمین الی انھا اجسام لطیفۃ قادرۃ علی التشکل باشکال مختلفۃ مستدلین بان الرسل کانوا یرونھم کذلک (بیضاوی) ان کی الاانتہاتعداد اللہ ہی کے علم میں ہے۔ وجود میں انسان پر تقدم زمانی رکھتے ہیں۔ سرشت معصومانہ ہوتی ہے۔ یعنی بدی کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ خالق کے خالص فرمانبردار خادم ہوتے ہیں۔ مخلوق، محکوم، بندے ہونے میں بالکل انسان ہی جیسے ہیں، خود کوئی معبودانہ یا نیم معبودانہ حیثیت دیوی دیوتا کی قسم کی مطلق نہیں رکھتے۔ اور یہیں سے رد ہوجاتا ہے ان باطل مذہبوں کا جنہوں نے ملائکہ کو خواہ اسی نام کے ساتھ، خواہ انہیں دیوی دیوتا قرار دے کر خالق و مخلوق کے درمیان ایک برزخی درجہ دے رکھا ہے (آیت) ” للملئکۃ “ میں لام تبلیغ کا ہے۔ اللام الجارۃ للتبلیغ (روح) 110 (عنقریب اپنی حکومت کی تنفیذ کے لیے) اللہ اللہ ! خاک کے پتلے کا یہ شرف و مرتبہ ! اللہ کی مخلوق تو اس وقت تک بھی بیشمار تھی۔ اب ان میں انسان نامی محض ایک نئی صنف کا اضافہ نہیں ہورہا ہے۔ بلکہ اللہ کا نائب زمین پر پیدا کیا جارہا ہے ! بعض اہل تحقیق نے یہیں سے یہ نکتہ نکالا ہے کہ تخلیق تو ساری ہی موجودات کی ہوئی ہے جنات کی بھی اور ملائکہ کی بھی، جنت کی بھی اور عرش کی بھی۔ لیکن اور کسی کے بھی قصد تخلیق کے ذکر کا اہتمام قرآن مجید نے نہیں کیا ہے۔ یہ فخر صرف خلقت آدم (علیہ السلام) کے حصہ میں آیا۔ اور یہ دلیل ہے آدم (علیہ السلام) کی افضلیت واشرفیت کی۔ ولم یقل انی خالق عرشا اوجنۃ اوملکا وان قال ذلک تشریفا وتخصیصا لادم (بحر) (آیت) ” خلیفۃ “ اسے کہتے ہیں جو کسی کی نیابت کرے، خواہ اس لئے کہ وہ موجود نہیں، یا اس لیے کہ فوت ہوچکا، یا اس لیے کہ معذور ہے اور خواہ اس لیے کہ اس سے مسختلف کی تعظیم ظاہر ہو۔ الخلافۃ النیابۃ من الغیر اما لغیبۃ المنوب عنہ واما لموتہ واما لعجزہ واما لتشریف المستخلف (راغب) اور خلیفۃ اللہ وہ ہے جو زمین پر اللہ کی شریعت کی حکومت قائم کرے، یخلفنی فی الحکم بین خلقی وذلک الخلیفۃ ھو ادم ومن قام مقامہ فی طاعۃ اللہ والحکم بالعدل بین خلقہ (ابن جریر، عن ابن عباس وابن مسعود ؓ خلیفۃ اللہ فی ارضہ الاقامۃ احکامہ وتنفیذ قضا یاہ (معالم) یہیں سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ انسان کو جو قوی ملیں گے وہ اس غایت ومقصود یعنی منصب خلافت الہی کے متناسب ملیں گے۔ نسل انسانی خود اپنی صلاح و فلاح کے لیے اس کی محتاج تھی اور محتاج ہے کہ اپنے کسی ہم جنس کے واسطہ سے شریعت الہی سے استفادہ کرے، اور سلسلہ نبوت اسی غرض سے قائم ہوا ہے۔ والمراد بہ ادم وکذلک کل نبی استخلفہم اللہ فی عمارۃ الارض وسیاسۃ الناس وتکمیل نفوسھم وتنفیذ امرہ فیھم (بیضاوی) واضح رہے کہ دنیا کے کسی مذہب نے بھی انسان، نوع انسان کو اس بلند مرتبہ یعنی خلافت ونیابت الہی پر نہیں رکھا ہے۔ اور خیر جاہلی مذہبوں کا تو ذکر ہی نہیں، خود یہودیت اور اس کا مسخ شدہ ضمیمہ مسیحیت دونوں اس باب میں اسلام سے کہیں پیچھے ہیں۔ بائبل میں اس موقع پر ذکر اس قدر ہے :۔” خداوند خدا نے زمین پر پانی نہ برسایا تھا اور آدم نہ تھا کہ زمین کی کھیتی کرے اور زمین سئے بخار اٹھتا تھا اور تمام روئے زمین کو سیراب کرتا تھا، اور خداوند خدا نے زمین کی خاک سے آدم کو بنایا اور اس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا سو آدم جیتی جان ہوا “ (پیدائش 2:5 ۔ 7) گویا جس طرح اور سب حیوانات پیدا ہورہے تھے، ایک ” جاندار “ آدم بھی پیدا ہوگیا۔ اس کا کام زیادہ سے زیادہ یہ تھا کہ ” زمین کی کھیتی “ کرے ! کہاں یہ اتنا طویل لیکن بےمغز، انسان کو کاشتکاری تک محدود رکھنے والا بیان، اور کہاں قرآن مجید کا باوجود شدت اختصار انسان کو مرتبہ خلافت الہی پر پہنچا دینے والا، بلند وجامع اعلان ! بعض صوفیہ نے یہیں سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ خلافت الہی پر پہنچا دینے والا، بلند وجامع اعلان ! بعض صوفیہ نے یہیں سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ جو ہر خاک کو شرف خلافت اس لیے عطا ہوا کہ کثافت ہی فیضان اتم کے قابل اور تحمل نورانیت کے لائق ہے۔ اور بعض عارفین کا یہ قول بھی نقل ہوا ہے کہ نور آفتاب کا فیض کامل وذاتی زمین ہی پر ہے بہ سبب اس کے کمال کثافت کے۔ اور پانی اور ہوا اور آگ پر یہ فیضان صرف صفاتی ہے، اس لیے کہ کثافت ان میں کم ہے۔ اور اجرام علویہ تو اس نورانیت کے صرف سایہ وعکس ہی سے مستفیض ہوسکتے ہیں بہ سبب اس کے کمال کثافت کے۔ اور پانی اور ہوا اور آگ پر یہ فیضان صرف صفاتی ہے ، ، اس لیے کہ کثافت ان میں کم ہے۔ اور اجرام علویہ تو اس نورانیت کے صرف سایہ وعکس ہی سے مستفیض ہوسکتے ہیں بہ سبب کمال لطافت کے۔ اور آدم (علیہ السلام) کی ترکیب جسمی چونکہ خاکی عنصر سے ہوئی ہے، اور ان کے اخلاق کی عالم ملکوت سے اور ان کی روح کی عالم امرونور سے، اس لیے ان میں صلاحیت فیضان بھی غایت کمال کی قرار پائی۔ 1 1 1 ۔ اللہ معاف کرے، یہاں کلام کے سمجھنے میں بعض اکابر سے تسامحات ہوگئے ہیں۔ فرشتوں کا یہ قول بہ اعتراض یا گستاخی کے نہ تھا۔ فرشتے تو گستاخی کر ہی نہیں سکتے۔” باغی فرشتوں “ کا تخیل تمامتر مسیحی ہے۔ اور عجب نہیں کہ مسیحیوں ہی کیساتھ تعلقات قائم ہوجانے سے یہ خیال مسلمان علماء میں سرایت کرگیا ہو۔ فرشتوں کا یہ قول تمامتر وفور نیاز مندی، اقرار وفاداری اور جوش جان نثاری کا نتیجہ تھا۔ جیسا کہ ہمارے محققین نے صراحۃ سمجھا ہے۔ لیس علی وجہ الاعتراض علی اللہ ولا علی وجہ الحسد لبنی ادم کما قد تیوھمہ بعض المفسرین (ابن کثیر) ولیس باعتراض علی اللہ تعالیٰ ولا طعن فی بن ادم علی وجہ الغیبۃ فانہم اعلی من ان تظن بھم ذلک (بیضاوی) لیس المقصود الا الاستفسار عن المرجح لا العجب والتفاخر (روح) علی طریقۃ قول من یجد فی خدمۃ مولاہ وھو یامربھا غیرہ اتستخدم العصاۃ وانا مجتھد فیھا (ابوسعود) بہترین تقریر اس سلسلہ میں وہ ہے جو ہمارے شیخ وقت مفسر تھانوی مدظلہ نے کی ہے۔ وہ ذیل میں بجنسہ نقل ہے :۔ ” مطلب یہ ہے کہ ہم تو سب کے سب آپ کے فرمانبردار ہیں، اور ان میں کوئی کوئی مفسد وسفاک بھی ہوگا۔ سو اگر یہ کام ہمارے سپرد کیا جائے تو ہم سب لگ لپٹ کر اس کو انجام دیں گے۔ اور وہ لوگ سب اس کام کے نہ ہوں گے۔ البتہ جو مطیع ہوں گے وہ تو جان ودل سے اس میں لگ جائیں گے مگر جو مفسد و ظالم ہوں گے ان سے کیا امید ہے کہ وہ اس کام کو انجام دیں۔ خلاصہ یہ کہ جب کام کرنے والوں کا ایک گروہ موجود ہے تو ایک نئی مخلوق کو جن میں کوئی کام کا ہوگا کوئی نہ ہوگا۔ اس خدمت کے لیے تجویز فرمانے کی کیا ضرورت ہے ؟ یہ بہ طور اعتراض کے نہیں کہا۔ نہ اپنا استحقاق جتلایا، جو ان مقدس خدمتگاروں پر شبہات پیدا ہوں، بلکہ یہ ایسی بات ہے کہ کوئی حاکم نیا کام تجویز کرکے اس کے لیے ایک مستقل عملہ بڑھانا چاہے، اور اپنے قدیمی عملہ سے اس کا اظہار کرے، وہ لوگ اپنی جاں نثاری کی راہ سے عرض کریں کہ حضور جو لوگ اس کام کے لیے تجویز ہوئے ہیں ہم کو کسی طرح تحقیق ہوا ہے کہ بعض بعض تو اس کو بخوبی انجام دے سکیں گے اور بعض بالکل ہی کام بگاڑدیں گے۔ جن سے حضور کا مزاج ناخوش ہوگا۔ آخرہم کس مرض کی دوا ہیں۔ ہر وقت حضور پر جان قربان کرنے کو تیار ہیں۔ اور حضور کی جان ومال کو دعا دیتے رہتے ہیں۔ کیساہی کام کیوں نہ ہو حضور کے اقبال سے اس کو انجام دے نکلتے ہیں، کبھی کسی خدمت میں ہم غلاموں نے عذر نہیں کیا۔ اگر وہ نئی خدمت بھی ہم کو عنایت ہوگی تو ہم کو کوئی عذر و انکار نہ ہوگا۔ اسی طرح فرشتوں کی عرض ومعروض اظہار نیاز مندی کے واسطہ تھی، اور یہ بات کسی طرح ان کو اللہ تعالیٰ نے معلوم کرادی ہوگی کہ بنی آدم میں برے بھلے سب ہی طرح کے ہوں گے۔ (آیت) ” تجعل فیھا۔ یفسد فیھا “۔ ضمیر ھا دونوں جگہ ارض (روئے زمین) کے لیے ہے۔ (آیت) ” فیھا “ کی تکرار شدت فساد کے اظہار کے لیے ہے۔ و تکرار الظرف للدلالۃ علی الافراط فی الفساد (روح) (آیت) ” اتجعل فیھا الخ “ مطلب یہ ہے کہ یہ جدید مخلوق اور اس کی ذریات آپ کے قوانین کی نافرمانی بھی کرے گی۔ اور نافرمانی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ روئے زمین پر مادی ومعنوی دونوں حیثیتوں سے فساد برپا ہو کر رہے گا۔ فرشتوں کی یہ ساری عرض ومعروض ان کی کسی غیب دانی کی بنا پر نہیں، بلکہ نیابت الہی وخلافت ربانی کا نام سن کر خود ہی انہوں نے اندازہ لگالیا تھا قواے بشری کی ترکیب کا بھی اور زمینی مخلوق کی ضرورتوں اور طبیعی تقاضوں کا بھی۔ اور اس سے یہ نتیجہ خود بخود ان کے سامنے آگیا تھا کہ زمین پر شروفساد بھی ہوگا اور انسانوں میں سے باغی ونافرمان بھی پیدا ہوں گے۔ (آیت) ” بحمدک “ میں ب تسبیح کے ساتھ حمد کے دوام معیت کے اظہار کے لیے ہے۔ الباء لا ستدامۃ الصحبۃ والمعیۃ (روح) لک من ل اظہار تخصیص کے لیے ہے۔ یعنی تقدیس خاص تیری رضاہی کے لیے ہے۔ اشعارا بان ایقاع الفعل لاجل اللہ تعالیٰ وخالصا لوجھہ سبحانہ ‘(روح) تسبیح اور تقدیس کے درمیان یہ فرق کیا گیا ہے کہ تسبیح کا اطلاق باعتبار طاعات کے ہوتا ہے اور تقدیس کے درمیان یہ فرق کیا گیا ہے کہ تسبیح کا اطلاق باعتبار طاعات کے ہوتا ہے اور تقدیس کا بلحاظ اعتقادات کے (روح) ونحن میں و حالیہ ہے والواء للحال (کبیر) بما فھموہ من الطبیعۃ البشریۃ (ابن کثیر) انھم عرفوا خلقتہ وعرفوا انہ مرکب من ھذہ والاخلاط الاربعۃ (کبیر) والاحتیاج الی الحاکم والقاضی انما یکون عند التنازع والتظالم فکان الاخبار عن وجود الخلیفۃ اخبارا عن وقوع الفساد بطریق الالتزام (کبیر) علموا ذلک من تسمیتہ خلیفۃ لان الخلافۃ تقتضی الاصلاح وقھر المستلخلف علیہ وھو یستلزم ان یصدر منہ فساد (روح) بعض نے یہ بھی کہا کہ انسانی آبادی سیق بل روئے زمین پر جو جنات آباد تھے، ان کی سرشت و فطرت پر قیاس کرکے فرشتے یہ سمجھے۔ کما فعل بنوالجآن فقاسوا الشاھد علی الغائب (معالم) توریت میں اس مخلوق کا ذکر بصراحت موجود ہے۔ دنیا میں دیوتا پرستی کی بیماری فرشتوں ہی کے فرائض کی غلط تشخیص سے پیدا ہوئی ہے۔ آگ کے فرشتوں کو جاہلی قوموں نے اگنی دیوتا مان لیا۔ بارش کیف رشتہ کو اندر دیوتا وقس علی ھذا۔ قرآن نے (آیت) ” نحن نسبح بحمدک ونقدس لک “ فرشتوں کی زبان سے کہلا کر ان کی عبدیت محض پر انھیں کی زبان سے، ایک مہر لگا دی۔ فرشتے یہاں صاف صاف عرض کررہے ہیں کہ ہم خدام تو اپنی سرشت کے لحاظ سے بجز حضور والا کی تحمید و تقدیس کے اور کچھ کر ہی نہیں سکتے۔ 112 ۔ (مصالح کائنات ومخلوقی حاجات کے سلسلہ میں) مطلب یہ ہوا کہ تمہیں اس کی کیا خبر کہ عبدیت کے علاوہ نیا کام خلافت الہی کا جو اس نئی مخلوق سے لیا جانے والا ہے، اور اس کے لیے جن صلاحیتوں اور جس قسم کی استعداد کی ضرورت ہے، وہ تمہارے اندر کہاں تک موجود ہیں۔ انی اعلم من المصلحۃ الراجحۃ فی خلق ھذا الصنف علی المفاسد التی ذکر تموھا مالاتعلمون (ابن کثیر) دیوتا پرستی پر ایک اور ضرب لگی۔ ملائکہ پرستوں کو ان کے جہل پر ایک اور تنبیہ کی گئی، کہ صفات خلق، قدرت وغیرہ الگ رہیں، محض ان مصالح کے علم کے لحاظ سے بھی فرشتوں کو اللہ تعالیٰ سے کیا نسبت ؟ کہاں علم محدود، کہاں علم نامحدود ؟
Ayah 2:31

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:31 in the Quran reader

اور اللہ نے آدم کو نام سکھلادیئے کل کے کل113 ۔ پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا۔114 ۔ پھر فرمایا بتلاؤ تو ان کے نام اگر تم سچے ہو۔115 ۔

:113 ۔ یعنی آدم کو اشیاء کائنات کے اسماء اور آثار و خواص کا علم دے دیا۔ ادم۔ یہی سب سے پہلے بشر تھے، اسی لیے ابوالبشر کہلاتے ہیں۔ اور خلیفہ اللہ کے اولین مصداق۔ جنت سے جب زمین پر آئے، تو غالبا دجلہ وفرات کے دو آبہ میں آباد ہوئے، جو اب ملک عراق کہلاتا ہے، توریت میں تین صاحبزادوں کا نام آتا ہے۔ ہابیل ، ، قابیل، شیث (علیہ السلام) ۔ توریت ہی کی حسب روایت عمر 930 سال کی پائی۔ عربی میں ان کا یہ نام کس مناسبت سے پڑا ؟ کسی نے کہا کہ زمین کی جلد (ادیم) سے پیدا ہوئے، اس لیے آدم کہلائے۔ کسی نے کہا کہ اپنی جلد کی سرخی کی بنا پر۔ خلق ادم من ادیم الارض فتسمی ادم (ابن جریر۔ عن سعید بن جبیر) قیل سمی بذلک لکونہ جسدہ من ادیم الارض وقیل بسمرۃ فی لونہ (راغب) اسماء۔ اسم کا مفہوم عربی میں اردو کے نام سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اسم وہ ہے جس کے ذریعہ سے کوئی چیز جانی جائے، پہچانی جائے۔ اسم الشیء علامتہ (قاموس) الاسم مایعرف بہ ذات الشیء (راغب) اور یہ شناخت ممکن نہیں جب تک اعراض، خواص، آثار، کا علم بھی ساتھ ساتھ نہ ہو۔ اسی طرح اہل لغت نے بھی تشریح میں اس کا لحاظ رکھ لیا ہے۔ قال ابن سیدہ الاسم ھو اللفظ الموضوع علی الجوھر اوالعرض للتمییز اے لیفصل بہ بعضہ عن بعض (تاج) اسم کے ساتھ اگر مسمی کا علم نہ ہوا تو اسم محض ایک آواز کانوں تک رہے گی۔ اور ذہن کے سامنے کوئی مفہوم نہ پیدا ہوگا۔ علامہ راغب نے اسی لیے اس پر شرح وبسط سے کلام کرکے آخر میں کہا ہے، ان معرفۃ الاسماء لاتحصیل الا بمعرفۃ المسمی و حصول ؔ صورتہ فی الضمیر (کہ اسم کی معرفت بغیر مسمی کی معرفت اور ذہن میں اس کی تصویر کے ہو نہیں سکتی) اور ایک دوسرے امام لغت نے اس کی دادان الفاظ میں دی ہے۔ ھو کلام نفیس (تاج) اور بعضوں نے کہا ہے کہ اسم مرادف ہے ذات شے اور عین شے کے۔ یقال ذات ونفس وعین واسم بمعنی (قرطبی) یہ تو لفظی معنی ہوئے۔ آیت کی تفسیر میں محققین نے مراد معلومات اشیا سے لی ہے۔ اور اسما کے ساتھ مسمیات اور ذوات و خواص واشیاء کو شامل کیا ہے۔ اور اشیاء کے اسماء سے مرادان کے آثار و خواص کا علم لیا ہے۔ فالمراد الانواع الثلاثۃ من الکلام وصورۃ المسمیات فی ذوا تھا (راغب) علم ادم مسمیات الاسماء (کشاف) الھمہ معرفۃ ذوات الاشیاء وخواصھا واسماءھا و اصول العلوم وقوانین الصناعات وکیفیۃ الا تھا (بیضاوی) علمہ صفات الاشیاء ونعو تھا وخواصھا (کبیر) صاحب تفسیر مظہری نے کہا کہ مراد اسماء سے اسماء الہی ہیں۔ انہیں کا علم اجمالی کا مل آپ کو مل گیا تھا، اور ہر اسم وصفت کے ساتھ ایسی مناسبت تامہ آپ کو پیدا ہوگئی تھی کہ آپ جس کسی اسم یا صفت کی طرف توجہ کرتے وہ اسم یا صفت فورا آپ پر متجلی ہوجاتی۔ مثلا جب اسم پاک الاول کی تجلی آپ پر ہوئی تو ہرگز ری ہوئی چیز آپ پر منکشف ہوگئی۔ اسی طرح جب اسم پاک الاخر کی تجلی ہوئی تو ہر آنے والی چیز معلوم ہوگئی، اور اسی پر قیاس سارے اسماء الہی کا کیا جاسکتا ہے۔ اللہ اکبر ! یہ مقام ہے انسان کی فضیلت کبری کا۔ حیف ہے کہ یہ خلیفۃ اللہ دیوتا پرستی، ملائکہ پرستی میں مبتلا ہوجائے ! 114 ۔ (تاکہ انسان کی اعلی صلاحیت اور منصب خلافت الہی سے اس کی مناسبت فرشتوں پر بھی ظاہر ہوجائے) (آیت) ” عرضھم “ سوال یہ ہے کہ کیا چیز اب فرشتوں کے سامنے پیش کی جارہی ہے ؟ اگر چیزوں کے محض نام مراد ہوتے تو لفظ قرآنی عرضھا ہوتا۔ ضمیر ھم ذوی العقول کے لیے ہے اور غیر ذوی العقول ضمنا وتبعا اس میں شامل ہوجائیں گے۔ یہ دلیل ہے اس پر کہ پیش صرف نام نہیں ہورہے تھے بلکہ اصل موجودات۔ گویا پہلے صورت مثالی سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تمام مخلوقات کے نام اور خواص سے اطلاع بخشی گئی، پھر خود ان مخلوقات وموجودات کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ عرض الخلق علی الملئکۃ (ابن جریر ، ، عن ابن عباس وابن مسعود ؓ وغیرھما من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرض تلک الاشیاء علی الملئکۃ (ابن جریر۔ عن قتادۃ) اے عرض المسمیات۔ (کشاف) المراد بہ ذوات الاشیاء اومدلولات الالفاظ (بیضاوی) تقدیر کلام یوں تھی۔ اسماء المسمیات۔ مضاف الیہ حذف کردیا گیا۔ کہ مضاف اس کی وضاحت کے لیے کافی ہے۔ (بیضاوی) 115 ۔ (اپنے اس گمان میں کہ تم ہر منصب کی اہلیت اور ہر خدمت کے ساتھ مناسبت رکھتے ہو) خطاب فرشتوں سے ہورہا ہے۔ اسمآء پر حاشیہ ابھی اوپر گزر چکا۔ مراد یہاں بھی محض نام نہیں۔ خواص وآثار بھی مراد ہیں۔ صدقین۔ صدق سے مراد یہاں ارادی سچائی اور راست گفتاری نہیں کہ اس کے خلاف کا تو فرشتوں میں احتمال ہی نہیں، بلکہ مراد محض ان کے دعوی کا صحیح ہونا یا ان کے خیال کا مطابق واقعہ ہونا ہے۔ صدق کا اطلاق لغت عربی میں اردو کی ” سچائی “ سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ وہ جس طرح ارادی راست گفتاری کے لیے آیا ہے اسی طرح اصابت رائے وصحت خیال کے لیے بھی۔ وقد یستعمل الصدق والکذب فی کل مایحق ویحصل فی الاعتقاد (راغب) والصدق ھو الصواب (بحر) صدق وکذب۔ عربی کے ان دو لفظوں کے صحیح مفہوم پر نظر نہ ہونے سے اردوخوان طبقہ قرآن و حدیث سے متعلق کتنی ہی غلط فہمیوں میں مبتلا ہوگیا ہے۔ مرشد تھانوی مدظلہ نے فرمایا کہ مدار خلافت مجاہدۂ اعمال نہیں بلکہ علم وفہم ہے بشرطیکہ بدعملی نہ ہو اور اسی لیے مشایخ طریقت عطائے خلافت کے وقت امی کی زیادہ رعایت کرتے ہیں۔
Ayah 2:32

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 2:32 in the Quran reader

وہ بولے تو پاک ذات ہے116 ۔ ہمیں تو کچھ علم نہیں مگر ہاں وہی جو تو نے ہمیں علم دے دیا۔117 ۔ بیشک تو ہی ہے بڑا علم والا،118 ۔ حکمت والا۔119 ۔

116 ۔ (اور اس سے برتر اور منزہ کہ تیرا کوئی سا بھی فعل حکمت سے خالی اور مصلحت سے عاری ہو) ملائکہ پرستی (دیوی دیوتا پوجا) پر ضرب شدید لگانا ہے۔ 117 ۔ (اور ہم ناچیز بندوں کے علم کی تیرے نامتناہی اور لامحدود علم کے سامنے بساط ہی کیا ؟ ) صفت خلق، صفت قدرت وغیرہ دوسری صفات کا ذکر ہی نہیں، خود صفت علم کے بھی معیار سے کہاں فرشتوں کا علم جزئی اور کہاں حق تعالیٰ کا علم کلی ! 118 ۔ (جس کے علم کے لیے حاضر و غائب، قریب وبعید، حال ومستقبل سب یکساں ! اور جو بحیثیت ہمی دان وہمہ بین کے ہر مخلوق کے ظرف سے، استعداد سے، ملکات طبع سے یکساں واقف ! ) 119 ۔ (اور اسی قانون حکم کے ماتحت بشر وملک ہر مخلوق میں اس کی استعداد کے مطابق، اس کے ظرف کے متناسب، علم کا تقسیم کرنے والا، کام لینے والا)
Ayah 2:33

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ Open ayah 2:33 in the Quran reader

(اللہ نے) فرمایا اے آدم ، ، بتلا دو انہیں ان کے نام۔120 ۔ پھر جب انہوں نے انہیں ان کے نام بتلادیئے۔121 ۔ تو فرمایا122 ۔ میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزیں جانتا ہوں اور جو کہ تم ظاہر کرتے ہو، اور جو کچھ تم چھپاتے ہو وہ سب جانتا ہوں۔123 ۔

120 (یعنی فرشتوں کو اشیاء کائنات کے آثار و خواص) اسماء پر حاشیہ اوپر گزر چکا۔ جب فرشتے اظہار عجز کرچکے، تو اب آدم (علیہ السلام) سے ارشاد ہوا کہ تم اپنے معلومات کا اظہار کرو۔ آدم (علیہ السلام) کی فضیلت اس علم تکوینی ہی کی بنا پر تو تھی۔ 121 ۔ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) جب امتحان میں پورے اتر چکے، اپنے معلومات تکوینی کا اظہار سارے خلائق پر کردیا، اور اس طرح ان کا شرف عیانا ساری کائنات پر ثابت ہوگیا۔ 122 ۔ خطاب کا یہاں براہ راست ملائکہ سے ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ لیکن عجب نہیں کہ بالواسطہ ساری مخلوق سے ہو۔ 123 ۔ گویا آیت نمبر 30 میں (آیت) ” انی اعلم ما لاتعلمون “ کی جو اجمالی حقیقت بیان ہوئی تھی، اب اس کی تفصیل ہوگئی۔ اور ضمنا ان مسائل کی تعلیم آگئی کہ علم کل ؔ صرف ذات باری کا خاصہ ہے۔ اور خالق کے لامحدودو نامتناہی علم سے مخلوق، اعلی سے اعلی مخلوق کے بھی علم کو کوئی نسبت نہیں۔ مفسرین نے یہاں ایک روایت نقل کی ہے کہ آدم کا ابھی جسد خاکی ہی تیار ہوا تھا اور روح ابھی اس میں نہیں پڑی تھی کہ ادھر سے ابلیس کا گزر فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ ہوا۔ ہمراہیوں سے پوچھا کہ یہ نئی مخلوق اگر ہم سب پر حاکم بنا دی گئی تو کیا کرو گے ؟ فرشتے بولے کہ جان ودل سے اطاعت کریں گے اور کیا کریں گے۔ اس پر ابلیس نے اپنے دل میں کہا کہ مجھ سے تو اطاعت نہ ہوگی، میں تو خود ہی اس پر غلبہ حاصل کروں گا۔ اور مفسرین کا خیال ہے کہ آیت میں (آیت) ” ماتبدون “ کا تعلق فرشتوں کے اعلان اطاعت اور اظہار طاعت سے ہے، اور (آیت) ” ما کنتم تکتمون “ کا تعلق ابلیس کے اخفاء بغاوت سے۔ لیکن خطاب کو اگر شروع ہی سے ساری مخلوق کے لیے عام لے لیا جائے (جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیہ میں گزر چکا) تو پھر اس روایت سے استناد کی کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی۔
Ayah 2:34

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:34 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا124 ۔ کہ آدم (علیہ السلام) کے آگے جھکو،125 ۔ تو (وہ سب) جھکے مگر ابلیس (نہ جھکا)126 ۔ اس نے انکار کیا اور تکبر میں آگیا127 ۔ اور کافروں میں سے ہوگیا۔128 ۔

124 ۔ یہاں صراحت صرف فرشتوں کی ہے۔ لیکن جب یہ حکم فرشتوں کو مل رہا تھا تو جنات وغیرہ جو نسبۃ ادنی مخلوق تھے، وہ اس حکم کے مخاطب بدرجہ اولی ٹھہرے۔ بادشاہ کا حکم وزیر یا نائب السلطنت کو ملتا ہے تو ادنی عہدہ دار بدرجہ اولی اس کے مخاطب ہوتے ہیں۔ 125 ۔ (بہ طور اظہار عجز ونیاز، بہ حیثیت علامت تسلیم واطاعات) (آیت) ” اسجدوا۔ سجدہ سے مراد سجدہ اصطلاحی و سجدہ نماز نہیں، مطلق سجدہ مراد ہے۔ سجود اور سجدہ کے لفظی معنی محض تواضع وتذلل کے ہیں۔ سجدای خضع التطامن والتذلل (راغب) سجدۂ نماز کو بھی سجدہ اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ تذلل و تواضع کا بہترین مظہر ہے۔ ویکون السجود علی جھۃ الخضوع والتواضع (لسان) خود محاورۂ قرآن میں سجود کا استعمال اس عام معنی میں عام ہے۔ مثلا (آیت) ” الم تران اللہ یسجدلہ من فی السموت ومن فی الارض “ (اے مخاطب کیا تو نہیں دیکھتا کہ آسمان و زمین میں جو بھی مخلوق ہے، سب اللہ کے آگے جھکی ہوئی ہے) اور یہاں بھی قول اصح یہی ہے کہ یہ سجدہ اپنی ہیئت معروف کے ساتھ زمین پر پیشانی رکھنے کے معنی میں تھا ہی نہیں بلکہ صرف جھکنے کے معنی میں تھا۔ کان ذلک انحناء ولم یکن خرورا علی الذقن (مدارک۔ عن ابن عباس ؓ قیل المعنی اللغوی ولم یکن فیہ وضع الجباہ بل کان مجرد تذلل وانقیاد (روح) قال قوم لم یکن ھذا السجود المعتاد الیوم ولکنہ یبقی علی اصل اللغۃ فھو من التذلل والانقیاد (قرطبی) قیل امروا بالتذلل لہ والقیام بمصالحہ ومصالح اولادہ (راغب) لیکن جن لوگوں نے اسے سجدۂ متعارف کے معنی میں لیا ہے، انہوں نے بھی تصریح کردی ہے کہ یہ سجدہ تعظیمی تھا جو اگلی شریعتوں میں جائز تھا۔ سجدۂ عبادت ہرگز نہ تھا۔ تکرمۃ لادم لاعبادۃ لادم (ابن جریر) کان ذلک سجود تعظیم وتحیۃ لا سجود عبادۃ (معالم) کان السجود تحیۃ الادم (مدارک) اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہ واقعہ عالم ارواح کا ہے، عالم ناسوت کا ہے ہی نہیں، اور تکلیفات شرعیہ کا تعلق اسی عالم ناسوت سے ہے۔ لادم۔ یعنی خلیفۃ اللہ کے آگے۔ نائب سلطان حقیقی کی طرف رخ کرکے، نہ یہ کہ اس کو۔ ل یہاں الی کا مرادف ہے۔ یعنی سمت اور طرف کے معنی میں ہے۔ سجدہ صرف سمت آدم میں تھا جیسے آج بھی سمت کعبہ میں ہوتا ہے۔ مسجود جس طرح آج بھی کعبہ نہیں، رب کعبہ ہے۔ اسی طرح اس وقت بھی ذات باری ہی تھی۔ قرآن مجید ہی کی ایک اور آیت میں ل عند کے معنی میں آیا ہے (آیت) ” اقم الصلوۃ لدلوک الشمس “ نصبہ اللہ قبلۃ لسجودھم کالکعبۃ (بحر۔ عن الشعبی) اے الی ادم فکان ادم قبلۃ والسجود للہ تعالیٰ ۔ (معالم) اے اسجدوا الی مستقبلین وجہ ادم (قرطبی) 126 (آیت) ” ابلیس “۔ لفظی معنی میں یاس زدہ کے۔ قرآن مجید میں مصدر ابلاس مختلف موقعوں پر اسی مفہوم میں آیا ہے۔ (آیت) ” یبلس المجرمون۔ فاذا ھم مبلسون “۔ وغیرہا۔ (آیت) ” (آیت) ” ابلیس “ اسی سے مشتق ہے۔ اور یہاں بطور علم کے شیطان کے لیے آیا ہے۔ الابلاس الحزن المعترض من شدۃ ایاس منہ اشتق ابلیس (راغب) ابلیس افعیل من الابلاس وھو الایاس من الخیر والندم والحزن (ابن جریر) یہ ابلیس کوئی فرشتہ نہ تھا، جیسا کہ یہود ونصاری کے تتبع میں ایک عام خیال پھیل گیا ہے۔ بلکہ جنی تھا جیسا کہ قرآن مجید میں مصرح ہے۔ (آیت) ” کان من الجن “ (کہف۔ آیت 50) نور کا بنا ہوا فرشتہ نہیں جو نافرمانی پر قادر ہی نہیں، بلکہ آگ کا بنا ہوا جن تھا۔ (آیت) ” خلقتنی من نار “ (اعراف۔ آیت 12) ان صریح نصوص کے مقابلہ میں قول کسی کا بھی ہو قابل اعتنا نہیں۔ 127 ۔ (آیت) ” ابی “۔ انکار کیا حکم کی تعمیل سے (آیت) ” واستکبر “ اس نے صاف کردیا کہ تعمیل ارشاد سے انکار کسی اشتباہ یا غلط فہمی کی بنا پر نہیں، محض پندار تفوق کی بنا پر تھا۔ انکار اس نے اپنی بڑائی کی راہ سے کیا۔128 ۔ یعنی اس نافرمانی نے اسے کافروں میں داخل کردیا یہ معنی نہیں کہ وہ پہلے سے کافروں میں تھا ہی۔ اے صارمن الکفرین (ابن عباس ؓ صار من الکفرین باباۂ واستکبارہ (مدارک) ومن اقسام کان الناقصۃ ان تاتی بمعنی صار کقولہ تعالیٰ (آیت) ” کان من الکفرین “ (تاج) جن اہل تفسیر نے (آیت) ” کان “ کو ” ہوگیا “ کے بجائے ” تھا “ کے معنی میں لیا ہے، انہوں نے فی علم اللہ (اللہ کے علم میں) محذوف مانا ہے۔ ابلیس پر کفر کا اطلاق حکم کے ردوانکار کی بنا پر ہوا، محض ترک عمل (سجدہ) کی بنا پر نہیں، ترک عمل گو گناہ کیسا ہی ہو ایمان سے خارج کردینے اور کفر تک پہنچا دینے کے لیے اہل سنت کے مذہب میں کافی نہیں (مدارک)
Ayah 2:35

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:35 in the Quran reader

اور ہم نے کہا اے آدم، تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہوسہو، اور اس میں جہاں سے چاہو خوب کھاؤ129 ۔ اور اس درخت کے پاس نہ جانا130 ۔ ورنہ تم گنہ گاروں میں سے ہوجاؤ گے131 ۔

129 ۔ (آیت) ” جنۃ “ لفظی معنی ہر اس باغ کے ہیں جس کے درخت زمین کو چھپا لیں۔ کل بستان ذی شجر یستر باشجارہ الارض (راغب) (آیت) ” الجنۃ “ سے اصطلاح شرعی میں مراد وہ عظیم الشان باغ ہے جو بیشمار نعمتیں لیے ہوئے عالم آخرت میں نیک کاروں کے لیے مخصوص ہے اور آج نظروں سے مستور ہے، اس کا نام جنت یا تو اس لیے پڑا کہ وہ دنیا کے باغوں سے مشابہ ہے۔ گومشابہت بہت دور کی سہی۔ اور یا اس لیے کہ اس کی نعمتیں ابھی مستور ہیں۔ سمیت الجنۃ اما تشبیھا بالجنۃ فی الارض وان کان بینھما بون واما السترہ نعمھا عنا (راغب) (آیت) ” انت “ اس صراحت سے معلوم ہوتا ہے کہ مخاطب اصلی حضرت آدم (علیہ السلام) تھے۔ حضرت حوا کی حیثیت تابع کی سی تھی۔ (آیت) ” زوجک “ مراد حضرت حوا ہیں، اس وقت تک پیدا ہوچکی تھیں۔ (آیت) ” حیث شئتما “۔ اس سے اشارۃ جنت کی وسعت عظیم بھی معلوم ہوگئی۔ 130 ۔ (آیت) ” ھذہ الشجرۃ “ ظاہر ہے کہ یہ درخت جنت کے درختوں میں سے کوئی متعین اور حضرت آدم کے لیے معلوم ومعروف درخت تھا۔ لیکن اب اس کی تعین سے کوئی نتیجہ نہ تھا۔ اس لیے قرآن حکیم جو کبھی بےنتیجہ بات نہیں کہتا، اس سے خاموش ہے۔ اور حدیث صحیح میں بھی اس باب میں کچھ وارد نہیں ہوا ہے لم یضع لعبادہ دلیلا علی ذلک فی القران ولا فی السنۃ الصحیحۃ (ابن جریر) اس لیے محققین کا مسلک بھی اس باب میں خاموشی کا ہے۔ اقوال وآراء بکثرت مروی ہیں۔ توریت میں ایک بڑی طویل عبارت میں اس کا بیان آیا ہے۔ اس کے آخر میں ہے :۔ ” اور خداوند خدا نے آدم کو حکم دے کر کہا کہ تو باغ کے ہر درخت کا پھل کھایا کر لیکن نیک وبد کی پہچان کے درخت سے نہ کھانا، کیونکہ جس دن تو اس سے کھائے گا ضرور مرے گا “۔ (پیدائش۔ 20: 12، 17) بات یہاں بھی اسی قدر مجمل رہی۔ مادی درختوں میں سے گیہوں، خرما، کافور، انجیر، حنظل وغیرہ سے لے کر شجر محبت، شجر علم وغیرہ معنوی درختوں تک کے نام لیے گئے ہیں۔ قیل الحنطۃ وقیل النخلۃ وقیل التین، قیل الحنظل، وقیل شجرۃ المحبۃ وقیل شجرۃ الطبیعۃ والھوی وقیل وقیل (روح) لیکن اہل تحقیق کا فیصلہ وہی خاموشی کا ہے۔ ولا علم عندنا بایۃ شجرۃ کانت علی التعیین فلا حاجۃ ایضا الی بیانہ (کبیر) والاولی عدم القطع والتعیین (روح) 131 ۔ (آیت) ” من الظلمین “ یعنی ان لوگوں میں سے جو اپنے آپ پر ظلم کرتے رہتے ہیں۔ اور اللہ کی نافرمانی سے بڑھ کر کون سا ظلم اپنے آپ پر ہوگا۔ اس تصریح سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جنت اس وقت تک دارالجزاء یا دارالخلد نہ تھی، جیسا کہ اب ہے۔ بلکہ اس وقت وہاں تکلیفات شرعی تھیں، احکام تھے، نواہی تھے، اور جب جنت کی ماہیت اس وقت یہ تھی، تو کوئی اشکال نہیں رہتا وہاں وسوسۂ شیطانی کے پہنچ جانے پر یا کسی متنفس کے وہاں سے نکالے جانے پر۔ مرشد تھانوی مدظلہ نے (آیت) ” لاتقربا “ سے یہ نکتہ خوب پیدا کیا کہ اصلا صرف اکل ممنوع تھا لیکن ممانعت قرب شجر سے بھی کردی گئی۔ اسی طرح مشائخ محققین بعض دفعہ مباحات سے روک دیتے ہیں کہیں غیر مباح کی طرف منجر نہ ہوجائے۔
Ayah 2:36

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

پھر شیطان نے دونوں کو پھسلایا اسی درخت کے باعث132 ۔ اور جس میں تھے اس سے انہیں نکلوادیا،133 ۔ اور ہم نے کہا (اب) تم سب نیچے اتر جاؤ،134 ۔ ایک دوسرے کے دشمن ہوکر،135 ۔ اور تمہارے لئے زمین ہی پر ٹھکانا اور ایک میعاد تک نفع اٹھانا ہے،136 ۔

132 ۔ (آیت) ” الشیطن “ شیطان وہ ہے جو خیر اور رحمت الہی سے دور ہوگیا۔ شطن اے تباعد (راغب) الشیطن فیعال من شطن اے بعد ماسمی بہ لبعدہ عن الخیر وعن الرحمۃ (معالم) ابلیس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ وہی اب یہاں اپنے وصفی نام شیطان سے یاد کیا جارہا ہے۔ نافرمانی کی پاداش میں وہ جنت سے نکالا جا چکا ہے۔ اور بنی آدم (علیہ السلام) سے شدید حسد رکھے ہوئے ہے۔ اب اس کا نام شیطان ہے۔ اس کے پاس اور کوئی قوت نہیں۔ انسان کو مجبور ذرا بھی نہیں کرسکتا۔ البتہ پروپیگنڈے کے فن کا وہ امام ہے۔ ترغیب خوب دے سکتا ہے۔ سیاہ کو سفید کرکے خوب دکھا سکتا ہے۔ اور وسوسہ اندازی کی طاقت غضب کی رکھتا ہے۔ نزدیک اور دور اپنا عمل سب کہیں سے کرسکتا ہے۔ فاصلہ اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اور مادی رکاوٹیں کسی قسم کی بھی اس کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتیں، جنت کی حیثیت اس وقت تک دارالجزاء کی متعین نہیں ہوئی تھی، اس لیے وہاں بھی اس کا عمل بےتکلف اثر کرسکتا تھا۔ ازل، ذلہ سے ہے۔ اور اس کے معنی ہیں، جگہ سے ہٹا دیا، ڈگا دیا، پھسلا دیا۔ بغاوت، سرکشی یا ارادی نافرمانی کا کوئی مفہوم اس میں شامل نہیں، الزلۃ فی الاصل استر سال الرجل من غیر قصد (راغب) انہ اسم لفعل یقع علی خلاف الامر من غیر قصد الی الخلاف کزلۃ الماشی فی الطین (مدارک) قرآن مجید نے پیغمبروں کی غلطیوں، لغزشوں، فروگزاشتوں کا ذکر بارہا کیا ہے۔ لیکن بائبل کے برخلاف، کوئی اخلاقی جرم، کوئی دانستہ نافرمانی، کوئی حقیقی معصیت کبھی بھی ان کی جانب منسوب نہیں کی ہے۔ نہ صراحۃ نہ کنایۃ۔ عنھا میں ضمیر ھا شجرۃ کی جانب۔ اور عن تعلیلیہ ہے۔ معنی ” اس کے سبب سے “۔ اکثر اہل تفسیر اسی طرف گئے ہیں۔ عنھا اے بسببھا (ابن کثیر) والضمیر فی عنھا للشجرۃ اے فحملھما الشیطان علی الزلۃ بسببھا (کشاف) اے حملھما علی الزلۃ بسببھا (روح) قرآن مجید میں عن کثرت سے اسی معنی میں آیا ہے۔ مثلا (آیت) ” الاعن موعدۃ (توبہ) “ وما نحن بتارکی الھتنا عن قولک (ہود) وما فعلتہ عن امری (کہف) ضمیرھا سے اشارہ جنت کی طرف بھی سمجھا گیا ہے۔ اس قول پر مراد یہ ہوگی کہ شیطان انہیں دور لے گیا جنت سے ، ، روایات احادیث میں آتا ہے کہ شیطان نے پہلے تو قسم کھا کر آدم (علیہ السلام) وحوا (علیہ السلام) کو اپنی دوستی، ہوا خواہی واخلاص کا یقین دلایا، ان بیچاروں کے خیال میں بھی یہ نہ تھا کہ خدا کی قسم جھوٹی بھی کھائی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد کہا کہ ” اس درخت کا پھل اگر کھالو گے تو جنت میں قیام مستقل ہوجائے گا۔ اس میں تاثیر یہ ہے کہ پھر یہاں سے ہٹائے نہیں جاسکوگے۔ اور وہ ممانعت جو ہوئی تھی وہ تو ایک عارضی حکم تھا کہ اس وقت تک تمہاری استعداد پختہ نہیں ہوئی تھی۔ “ حضرت آدم (علیہ السلام) قرب الہی کے اس محل (جنت) سے بڑھ کر اور کس نعمت کے حریص ہوسکتے تھے، مکار کے فریب میں آگئے۔ دانسۃ نافرمانی کا سایہ بھی پڑنا الگ رہا، وہ تو درخت کے پھل کو بعد کے بجائے قرب کا ذریعہ سمجھے۔ یہ فہم، اجتہاد کی غلطی جیسی اور جس درجہ کی بھی ہو، بہرحال فسق ومعصیت سے تو اسے دور کا بھی تعلق نہیں، اور روایتوں سے قطع نظر، قرآن مجید میں بھی جا بجا جو تصریحات ملتی ہیں، ان سے بھی تائید اسی صورت واقعہ کی نکلتی ہے۔ بائبل میں ہے کہ یہ بہکانے والا سانپ کی صورت میں گیا۔ اس نے آکر پہلے حوا کو بہکایا اور پھر انہوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو ترغیب کی۔ ہمارے مفسرین نے بھی ایک طویل قصہ نقل کیا ہے جس میں شیطان، سانپ، طاؤس سب کا ذکر آتا ہے۔ یہ قصہ بجائے خود کہاں تک صحیح ہے، اس سے یہاں بحث نہیں۔ کہنا صرف یہ ہے کہ یہ اسلامی عقائد میں بہرحال داخل نہیں۔ اور اس کا ماخذ قرآن وسنت نہیں، بلکہ اسرائیلی روایات ہیں۔ اسی لیے جو اہل تفسیر زیادہ محتاط، محقق ہوئے ہیں، وہ اس سے الگ ہی رہے ہیں، بلکہ اس سے احتیاط ہی کی تنبیہ کرگئے ہیضں۔ اعلم ان ھذا وامثالہ مما یجب ان لا یلتفت الیہ (کبیر) وقد اکثر المفسرون فی نقل قصص کثیرۃ فی قصۃ ادم وحوا والجنۃ واللہ اعلم بذلک (بحر) وقد ذکر المفسرون ھھنا اخبارا اسرائیلیۃ (ابن کثیر) فقہاء نے یہیں سے استنباط کیا ہے کہ زلت کے لفظ تک کا (بہ خلاف معصیت واثم وغیرہ) اطلاق حضرات انبیاء پر جائز ہے۔ ھذا دلیل علی انہ یجوز اطلاق اسم الزلۃ علی الانبیاء علیھم السلام کما قال مشائخ بخاری (مدارک) وقد کانت منھم اے من بعض الانبیاء قبل ظھور مراتب النبوۃ اوبعد ثبوت مناقب الرسالۃ زلات اے تقصیرات (شرح الفقہ الاکبر للقاری (رح)) اور مرشد تھانوی مدظلہ نے فرمایا کہ کاملین بھی شیطان کے مکر سے محفوظ نہیں، کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے اس وقت بھی کامل ہونے میں شک نہیں۔ 133 ۔ (آیت) ” مما کانا فیہ “ ترجمہ دو ہوسکتے ہیں۔ ” اس حالت سے جس میں وہ تھے۔ “ یا ” اس مقام سے جس میں وہ تھے “۔ منقول دونوں قول ہیں۔ اے من النعیم والکرامۃ اومن الجنۃ (کشاف) اور حاصل بھی دونوں صورتوں کا ایک ہی ہے۔ 134 ۔ (زمین پر) یہ جنت زمین کے کسی حصہ میں نہیں آسمان پر تھی۔ قول محقق یہی ہے۔ اور خود لفظ اھبطوا کا تقاضہ بھی یہی ہے۔ جب تک کوئی اور قرینہ موجود نہ ہوگا ھبوط کے معنی بلندی سے پستی میں اترنے ہی کے لیے جائیں گے۔ اے انزلوا الی الارض (معالم) الھبوط النزول الی الارض (مدارک) اھبطوا۔ خطاب اب بجائے صیغہ تثنیہ (تم دونوں) کے صیغہ جمع (تم سب) میں ہورہا ہے۔ گویا مخاطب اب تنہا آدم وحوا (علیہما السلام) ہی نہیں بلکہ ان کی ساری نسل بھی ہے۔ المرادھما وذریتھما (مدارک) اجمع الضمیر لانھما اصلا الجنس (بیضاوی) 135 ۔ یہ مختصر لفظوں میں کل زمینی زندگی کا نقشہ آگیا۔ یعنی یہاں کشمکش، بعض، حسد، نفسانیت، خود غرضی کا زور رہا کرے گا۔ 136 ۔ (آیت) ” فی الارض مستقر “۔ آیت کا یہ جزوخود اس امر پر دلیل ہے کہ آدم (علیہ السلام) زمین پر اب پہلی بار بھیجے جارہے ہیں۔ اور اب تک جس جنت میں وہ تھے وہ زمین پر نہیں آسمان پر تھی۔ اس وقت سے ان کی زندگی کا نیا دور شروع ہورہا ہے۔ نئی زندگی اور نیاماحول۔ اور اب یہیں انہیں رہنا سہنا ہے۔ (آیت) ” الی حین “۔ یعنی قیام یہاں بھی دائمی نہ ہوگا۔ صرف ایک مدت موعود تک رہنا ہوگا، (آیت) ” متاع اور الی حین “ دونوں سے زمینی زندگی کا عارضی اور بےثبات ہونا بالکل ظاہر ہورہا ہے۔
Ayah 2:37

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:37 in the Quran reader

پھر آدم (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے کچھ الفاظ سیکھ لئے،137 ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی،138 وہ تو ہی بڑا توبہ قبول کرنے والا،139 ۔ بڑا مہربان140 ۔

137 ۔ توبہ وانابت کے) خطاوار کو توبہ وانابت کے الفاظ اپنی طرف سے تلقین کردینا خودایک بڑی فرد رحمت خداوندی اور مرحمت الہی کی ہے، اور پھر اس سے بڑھ کر بندہ نوازی کا کمال یہ ہے کہ اس تعلیم وتلقین کی نسبت تک اپنی جانب نہیں فرمائی گئی، بلکہ اسے آدم (علیہ السلام) کی جانب منسوب کردیا گیا کہ انہیں نے وہ الفاظ سیکھ لیے ! کیا حد ہے شفقت وبندہ پروری کی ! یہ کلمات والفاظ کیا تھے ؟ روایتیں جو اس باب میں نقل ہوئی ہیں مختلف ہیں۔ لیکن خود قرآن مجید میں تو یہ الفاظ حضرت آدم (علیہ السلام) وحوا (علیہ السلام) کی زبان سے نقل ہوئے ہیں (آیت) ” ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخسرین۔ 138 ۔ (اور ان کی خطا سے درگزر کردی) تاب علیہ، تاب کا صلہ جب علی کے ساتھ آتا ہے تو معنی ہوتے ہیں، کہ رحمت کے ساتھ رجوع و توجہ کی، یا توبہ کی توفیق دی۔ یا توبہ کے اسباب آسان کردیئے رزقہ التوبۃ من خطیئتہ (ابن جریر) رجع الیہ بالرحمۃ والقبول (کشاف) عبارۃ عن قبول التوبۃ والعفو عن الذنب التوفیق لھا والتیسیر لا سبابھا (روح) 139 ۔ صیغہ مبالغہ کی اہمیت ملحوظ رہے۔ اسلام کا خدا یہی نہیں کہ توبہ قبول فرماتا ہے بلکہ توبہ کے سامان واسباب بھی بہم پہنچاتا رہتا ہے۔ یقال للہ ذلک لکثرۃ قبولہ توبۃ العباد حالا بعد حال (راغب) الرجاع علی عبادہ بالمغفرۃ اوالذی یکثر اعانتم علی التوبۃ (بیضاوی) ۔ 140 ۔ یعنی وہ صرف خطاؤں سے درگزر کرنیو الا ہی نہیں بلکہ اپنی طرف سے اور بھی فضل وکرم کرنیو الا ہے۔ المبالغ فی الرحمۃ۔ یہی وہ رحیم اور غفور اور تواب (تینوں صفات کا بہ صیغہ مبالغہ ہونا خیال رہے) خدا ہے جس کے لیے معاند مسیحیوں اور ان کے پادریوں نے بار بار لکھا ہے کہ اسلام کا خدا ایک غضبناک سخت گیر خدا ہے !
Ayah 2:38

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:38 in the Quran reader

(اور) ہم نے حکم دیا کہ تم سب اس سے نیچے اتر جاؤ141 ۔ پھر اگر تمہیں میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے،142 ۔ تو جو جو کوئی پیروی میری ہدایت کی کرے گا سو ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہی ہوں گے،143 ۔

141 ۔ (اے اولاد آدم) (آیت) ” اھبطوا۔ جمیعا “ مراد ذریت آدم (علیہ السلام) ہے۔ والمراد الذریۃ (ابن کثیر) (آیت) ” عنھا “ میں ضمیر جنت کی طرف ہے۔ یعنی جنت سے نیچے اترو۔ یہ حکم بہ طور سزا و عتاب نہیں مل رہا ہے، اس لیے کہ خطا تو اب معاف ہی ہوچکی ہے۔ بلکہ یہ محض نتیجہ طبیعی کا ظہور ہے۔ شجر ممنوع کا پھل کھا لینے سے جو طبعی اثرات مرتب ہورہے تھے، ان کے لحاظ سے اب جنت میں قیام کی گنجائش نہ تھی۔ روح کے داغ دھل جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ جسم و مادہ سے بھی غلط کاری کے نقش مٹ جائیں۔ کوئی شخص خود کشی کے ارادہ سے اگر زہر کھالے، اور معا اسے اپنی عصیان کاری پر تنبہ ہوجائے، اور وہ روئے، گڑگڑائے، دل سے توبہ کرے، اس سے گناہ تو عجب نہیں کہ معاف ہوجائے لیکن زہر کے طبیعی اثرات جو نظام جسم پر مرتب ہوتے ہیں وہ تو بہر حال ہو کر رہیں گے۔ خشوع، خضوع، انابت قلب ان مادی اثرات کو مٹانے کے لیے کافی نہیں۔ 142 ۔ (اور وہ یقیناً پہنچے گی، پیغمبروں یا ان کے نائبوں کے ذریعہ سے) اس ناسوتی دنیا میں رہنے سہنے کا قانون بتایا جارہا ہے۔ 143 (روز جزا میں) (آیت) ” ھدای “ جو پیام ہدایت رسولوں کے ذریعہ سے آتا ہے اسے براہ راست حق تعالیٰ کی جانب بھی منسوب کیا جاسکتا ہے۔ (آیت) ” لا خوف علیہم “ ان کے اوپر کوئی خوفناک واقعہ پیش نہ آئے گا، یعنی ان کے لیے فی نفسہ کوئی بات خطرہ یا تشویش کی نہیں، یہ مطلب نہیں کہ صالحین طبعی طور پر بھی اپنے انجام کی طرف سے اندیشہ نہ کریں گے۔ یہ فکر واندیشہ تو صالحین کو دوسروں سے کہیں زیادہ لگا رہتا ہے۔ خوف کا تعلق مستقبل سے ہے۔ اور حزن کا تعلق ماضی سے۔ مطلب یہ ہوا کہ حشر میں مومنین صالحین کو نہ کوئی سزا پیش آنے والی ہے اور نہ وہ لوگ اپنی ناسوتی زندگی پر حسرت وتاسف کریں گے۔ من۔ من موصولہ کا استعمال واحدجمع دونوں کے لیے آتا ہے۔ ضمیمہ : روزہ (متعلق حاشیہ نمبر 143 سورة البقرۃ) آپ کو معلوم ہے کہ اطبائے یونانی کتنے متعدد امراض میں فاقہ کو مفید بتاتے ہیں ؟ آپ کو خبر ہے کہ ڈاکٹروں کے اصول سے اب فاقہ کتنے امراض کا علاج ہے ؟ آپ واقف ہیں کہ ہر طریقہ علاج کے ماہرین فن نے کتنی شدید اور مہلک بیماریوں کا علاج اپنے تجربہ میں فاقہ ہی کو پایا ہے ؟ خود آپ کا ذاتی تجربہ کیا ہے ؟ آپ کو جب کبھی بیماری میں طبیب یا ڈاکٹر فاقہ کا مشورہ دیتے ہیں تو آپ کیسی خاموشی کے ساتھ بےچوں وچرا اور بغیر بحث ومناظرہ اس کے حکم کے آگے گردن جھکا دیتے ہیں اور اس کی ہدایتوں کے مطابق کھانے اور پینے کی لذتوں سے دستبردار ہوجاتے ہیں ! لیکن جب اس سے کم تکلیف اور اس سے ہزاروں گنی زاید راحتوں اور نعمتوں کے وعدہ کے ساتھ اس قسم کی احتیاط خوردونوش کا حکم، آپ کو سب سے بڑے حکیم کے مطب سے ملتا ہے، تو یہ کیا ہے کہ آپ اس خوش دلی کے ساتھ اس کی تعمیل پر آمادہ نہیں ہوجاتے بلکہ طرح طرح کی تاویلوں سے جن سے اکثر خود آپ کا دل بھی مطمئن نہیں ہوتا اسے ٹال جانا چاہتے ہیں ! آپ کہتے ہیں کہ آپ خدا کے فضل سے روزہ دار ہیں اور ماہ رمضان کا احترام ملحوظ رکھتے ہیں لیکن پھر یہ کیا ہے کہ آپ کی اندرونی زندگی میں کوئی نمایاں فرق نہیں محسوس ہوتا، غصہ اب بھی آپ کو برابر آتا رہتا ہے بلکہ شاید کچھ اور بڑھ ہی گیا ہے۔ دوسروں کے عیب چینی میں اب آپ کو ویسا ہی مزہ آرہا ہے۔ نفسانی خواہشوں اور لڑنے جھگڑنے کے منصوبوں میں اب بھی کوئی کمی نہیں معلوم ہوتی۔ دن میں بےشبہ آپ کھاتے پیتے نہیں ہیں لیکن وقت کا بڑا حصہ بجائے عبادتوں کے، سونے اور بیکاری میں گزارتے ہیں، یا پھر سحری، طعام شب اور افطار پارٹیوں کے اہتمام وانتظام میں ! وہ وہ لذیذ اور ثقیل غذائیں جن سے آپ کا ذائقہ، سال میں گیارہ مہینے بالکل نامانوس رہتا ہے، آپ صرف اسی ماہ صبر وتقوی کے لیے اٹھا رکھتے ہیں، اور وقت اور روپے کا اچھا خاصا حصہ اسی ماہ مبارک کی دعوتوں اور ضیافتوں میں صرف فرماتے رہتے ہیں ! کیا اسی روزہ داری پر آپ خوش ہیں ؟ کیا اسی کا نام آپ کے خیال میں ماہ مبارک کا احترام ہے ؟ ایک شخص قند اور دودھ کا نفیس شربت تیار کرتا ہے، مگر اس میں کچھ مکھیاں بھی پیس کر ملا دیتا ہے، آپ ایسے شخص کی صحت دماغی کی بابت کیا رائے قائم کریں گے ؟ ایک شخص لذیذ سے لذیذ اور بہتر سے بہتر کھانا خوان میں لگا کر لاتا ہے لیکن اس میں ایک جزوغلاظت کا بھی ملا دیتا ہے، آپ اس بدنصیب کی عقل وفہم پر ماتم کرنے کے سوا اور کیا کرسکتے ہیں ؟ یقین فرمائیے کہ اس سے کہیں زائد موجب تاسف ومستحق ماتم اس بےعقل وبد نصیب کی حالت ہے جو روزہ رکھ کر بھی غصہ کر کر کے عیب چینی میں مصروف رہ رہ کے، نفسانی خواہشوں کے منصوبوں میں مبتلا رہ رہ کے، روزہ کی نعمتوں اور راحتوں، لذتوں اور فرحتوں کو اپنے ہاتھوں غارت کرتارہتا ہے ! اور جو حرماں نصیب سرے سے روزہ ہی کو ترک کیے ہوئے ہیں، ان بیچاروں کو تو بس اللہ ہی سیدھی سمجھ اور نیک ہدایت کی توفیق نصیب کرے ! (” سچ “ لکھنو 12 ۔ مارچ 1927 ء۔ )
Ayah 2:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:39 in the Quran reader

اور جو لوگ کفر کریں گے اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے سو وہی دوزخی ہیں144 ۔ اور وہ اس میں (ہمیشہ) پڑے رہیں گے۔145 ۔

144 ۔ (آیت) ” کذبوا بایتنا “ اہل جنت کے ذکر میں ذات حق کے لیے ضمیر متکلم صیغہ جمع میں ہوگئی ہے۔ (آیت) ” بایتنا “ اہل لطائف نے لکھا ہے کہ وہ موقع اظہار خصورصیت و شفقت کا تھا۔ اس لیے ” میری “ ہی مناسب تھا۔ اب محل حاکمانہ جلالت واقتدار کا ہے، اس لیے یہاں ” ہماری “ ہی موزوں ہے۔ (آیت) ” اصحب النار “ یعنی دوزخ والے۔ وہ لوگ جو دوزخ کے ہوچکے۔ گویا وہ دوزخ ہی کی آبادی ہیں۔ الصاحب الملازم (راغب) ومعنی الصحبۃ اقتران بالشئی والغالب فی العرف ان تطلق علی الملازمۃ (روح) گویا جو لوگ ضابطہ شریعت سے انکار اور قانون الہی کی تکذیب میں لگے ہوئے ہیں انہوں نے اپنا مستقل تعلق دوزخ اور آتش دوزخ سے پیدا کرلیا ہے۔ آخرت میں یہی تعلق جو ابھی خفی اور غیر مرئی ہے، مجسم ومتشکل ہوجائے گا، عذاب آخرت سے ڈرانا صرف اسلام کے ساتھ مخصوص نہیں، گو جتنا زور اس پر قرآن مجید نے دیا ہے، اس کی نظیر بیشک کہیں نہیں ملتی۔ جہنم کے عذاب آتشیں بلکہ اس کے دوام وخلود کے ذکر سے بائبل کے صفحات بھی خالی نہیں۔ ” خداوند سلطنت کرتا ہے۔ ایک آگ اس کے آگے آگے جاتی ہے، اور اس کے دشمنوں کو ہر طرف جلاتی ہے “ (زبور۔ 97: 1، 3) ” فرشتے نکلیں گے اور شریروں کو راستبازوں سے جدا کردیں گے۔ اور انہیں آگ کی بھٹی میں ڈال دیں گے، وہاں رونا اور دانتوں کا پیسنا ہوگا “ (متی۔ 13: 49 ۔ 50) ” اے ملعونو ! میرے سامنے سے اس ہمیشہ کی آگ میں چلے جاؤ، جو ابلیس اور اس کے فرشتوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔۔۔ اور یہ ہمیشہ کی سزا پائیں گے “ (متی۔ 25:4 1 ۔ 46) ۔۔ جہنم میں ڈالا جائے جہاں اس کا کیڑا نہیں مرتا اور آگ نہیں بجھتی “ (مرقس۔ 9:48) 145 ۔ خلود کے اصل معنی ہیں کسی چیز کا ایک حال پر قائم و برقرار رہنا اور اس کے اندر کوئی تغیر، کوئی خرابی نہ پیدا ہونا۔ الخلود ھو تبری الشی من اعتراض الفساد وبقاؤہ علی الحالۃ التی بہ علیھا (راغب) اس سے ثانوی مفہوم دوام وہمیشگی کا پیدا ہوگیا۔ ثم استعبرللمبقی دائما (راغب) الخلد البقاء والدوام فی دار لا یخرج منھا کالخلود ودارالخلد الاخرۃ لبقاء اھلھا (تاج) خود قرآن مجید میں اس معنی میں بہت صاف طور آیا ہے، جہاں خالد کو باقی کے معنی میں لے کر فانی سے اس کا تقابل کیا ہے (آیت) ” وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد، افائن مت فھم الخلدون (انبیاء۔ 34) اور خلود فی الجنۃ اور خلود فی النا رسے مراد ہے جنت کی نعمتوں یا جہنم کے عذاب کا دوام اور اہل جنت اور اہل جہنم کا کبھی اپنے اپنے مقام سے باہر نہ نکلنا۔ اہل جنت کے تنعم اور اہل جہنم کے عذاب کا دائم وغیرمنقطع ہونا امت کے اجماعی مسلمات میں سے ہے۔ اے مخلدون فیھا لا محیدلھم عنھا ولا محیص (ابن کثیر) فھم اصحاب العذاب الدائم (کبیر) والخلود ھھنا الدوام علی ما انعقد علیہ الاجماع (روح)
Ayah 2:40

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 2:40 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل146 ۔ میرا وہ انعام یاد کرو جو میں نے تم پر کیا۔147 ۔ اور مجھ سے وعدہ پورا کرو تو میں تم سے وعدہ پورا کروں۔148 ۔ اور تم صرف مجھ سے ڈرتے رہو۔149 ۔

146 (آیت) ” بنی اسر آء یل۔ “ مشہور ونامور پیمبر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) عراقی ثم شامی ثم حجازی (2 160 تا 1985 ق۔ م) سے مشہور ونامور دو نسلیں چلیں۔ ایک بی بی ہاجرہ (علیہا السلام) مصری کے بطن کے فرزند حضرت اسمعیل (علیہ السلام) سے۔ یہ نسل بن اسمعیل کہلائی۔ اور آگے چل کر قریش اسی کی ایک شاخ پیدا ہوئی۔ ان کا وطن عرب رہا۔ دوسری ، ، بی بی سارہ (علیہا السلام) عراقی کے بطن کے فرزند حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے فرزند حضرت یعقوب عرف حضرت اسرائیل (علیہ السلام) سے۔ یہ نسل بنی اسرائیل کہلائی۔ اس کا وطن شام رہا۔ قدیم جغرافیہ میں فلسطین کوئی الگ الگ ملک نہ تھا ، ، شام ہی کا جزو تھا۔ ایک تیسری نسل، تیری بیوی حضرت قطورہ سے چلی، اور بنی قطورہ کہلائی، لیکن اسے تاریخ میں اس درجہ کی اہمیت حاصل نہیں۔ بنی اسرائیل کا عروج صدیوں تک رہا۔ توحید کی علمبردار دنیا میں یہی قوم رہی۔ انبیاء ومرسلین ان کے درمیان ہوتے رہے۔ بڑے بڑے عابد وزاہد ان میں پیدا ہوا کیے۔ حکمران، سلاطین اور فوجی جنرل بھی ان میں بڑے بڑے پیدا ہوتے رہے۔ نزول قرآن کے وقت ان کا دنیوی اقتدار مدت ہوئی رخصت ہوچکا تھا۔ اپنے وطن سے نکل کر عراق، مصر وغیرہ اطراف و جوانب میں پھیل چکے تھے۔ اور ان کے بعض قبیلے حجاز و اطراف حجاز خصوصا یثرب (اسی کا نام بعد کو مدینۃ النبی پڑا) اور حوالی یثرب میں آباد ہوچکے تھے۔ ” بنی اسرائیل “ تو ایک قومی ونسلی اصطلاح ہے۔ مذہبی حیثیت سے یہ لوگ یہود تھے، اہل کتاب تھے۔ توریت محرف ومسخ شدہ ہوکر، لیکن بہرحال موجود ان کے درمیان تھی۔ سلسلہ وحی ونبوت اور عقیدہ جزاوسزا کے کسی نہ کسی صورت میں قائل تھے۔ علوم انبیاء ومعارف اولیاء کے حامل تھے۔ مالدار تھے، ساہوکار تھے۔ ساتھ ہی سفلی عملیات، سحروکہانت نیز تجارت کے بھی بڑے ماہر تھے۔ حجاز کی آبادی میں اس دینی ودنیوی تفوق کی بنا پر اہمیت انہیں اس وقت اچھی خاصی حاصل تھی، ملک کی عام آبادی مشرکوں اور بت پرستوں کی تھی ، ، وہ لوگ ایک طرف تو یہود کے علم وفضل کے قائل اور ان کی دینی ودنیوی اکثر حاجتوں میں انہیں کو مشکل کشا جانتے تھے اور جیسا کہ عام قاعدہ ہے کہ منظم وقاہر قوموں کے تمدن سے کمزور اور غیر منظم قومیں میں مرعوب ومتاثر ہوجاتی ہیں، مشرکین عرب بھی اسرائیل اخلاق، اسرائیلی روایات، بلکہ اسرائیل عقائد سے بہت کچھ متاثر ہوچکے تھے، اور بہت سے مسائل میں یہود کو اپنا استاد جانتے تھے۔ ان سب چیزوں کے علاوہ، یہود کے مذہبی نوشتوں اور اسرائیلیوں کی مقدس زبانی روایتوں، دونوں میں ایک آنے والے نبی کی بشارت موجود تھی اور یہ لوگ اس نبی موعود کے ظہور کے منتظر رہتے تھے، ان اسباب عام وخاص دونوں کی بنا پر یہ بالکل قدرتی تھا کہ قرآن مجید میں تخاطب اس قوم کے ساتھ ہو اور خوب مفصل ہو۔ اس منزل پر پہنچ کر بہتر ہوگا کہ ایک نظر قرآن مجید کی ترتیب بیان پر بھی کرلی جائے، قرآن مجید کا اصل تخاطب ساری کائنات انسانی سے ہے۔ اسی مناسبت سے رکوع اول میں بیان اس کا ہوا کہ نوع انسان کی حقیقی تقسی میں کل دو ہیں۔ ایک اچھے یا مومن ، ، دوسرے برے یا کافر ، ، مومن یا نیک وہ جو قرآن مجید کے دستور حیات کو تسلیم کرتے ہیں، کافر یا بد وہ جو اس سے انکار کرتے ہیں۔ دوسرے رکوع میں بیان کافروں ہی کی ایک خاص قسم، مخفی کافروں کا ہوا۔ اور یہ بتایا گیا کہ یہ لوگ بھی ایمان ونجات سے محروم ہی رہیں گے۔ تیسرے رکوع میں مخاطب ساری نسل انسانی کو کیا گیا، اور قرآن مجید کا اصل پیام یعنی توحید و رسالت بیان کردیا گیا۔ چوتھا رکوع تاریخ نسل انسانی پر ہے۔ اسی میں یہ بیان ہوا کہ انسان کی اصلی غرض آفرینش دنیا میں قانون الہی کی تنفیذ ہے۔ اور حاکمیت الہی کی نیابت۔ ذرا سی غفلت میں نسل انسانی کا دیرینہ دشمن شیطان اس کو پچھاڑ سکتا، اور حق سے باطل کی طرف، نور سے ظلمت کی جانب اسے موڑ سکتا ہے۔ لیکن انسان اگر ذرا بھی ہمت اور توجہ صرف کرتا رہے، اور انبیاء کی بتائی ہوئی اور دکھائی ہوئی صراط مستقیم پر قائم رہے تو وہی غالب ومنصور رہے گا۔ اب پانچویں رکوع میں بیان اس کا شروع ہوتا ہے (اور اس کی تفصیل متعدد رکوعوں تک چلتی رہے گی) کہ مدت دراز ہوئی ایک بڑے مقبول، برگزیدہ بندہ کی اولاد میں ایک خاص نسل کو توحید کی نعمت خاص سے سرفراز کیا گیا تھا مگر وہ قوم اس کی نااہل ثابت ہوئی۔ موقعے اسے بار بار دیئے گئے، رعایت اس کے ساتھ بار بار کی گئی، لیکن ہر بار اس نے اس نعمت کو اپنے ہاتھوں ضائع کیا، یہاں کہ اپنی نسل کے آخری پیغمبر (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی مخالفت میں تو حد ہی سے گزر گئی۔ طویل ومسلسل مراعات کے بعد اب حکومت الہی کا دستور ایک نیا ضابطہ اختیار کرتا ہے۔ اس ناشکر گزار، نافرمان، عصیان پیشہ قوم کو اس منصب سے معزول کیا جاتا ہے اور یہ نعمت اس سے چھین کر ایک اسمعیلی پیغمبر کے واسطہ سے دنیا کی تمام قوموں اور ساری نسلوں کے واسطے عام کی جارہی ہے۔ 147 ۔ اس انعام خداوندی کی تصریح کے لیے ملاحظہ ہوں حواشی 146 و 162 بہرحال کوئی ایسا انعام تھا جو نسل اسرائیل پر نسل اسرائیل کی حیثیت سے تھا۔ 148 ۔ توریت نسل اسرائیل پر احسانات الہی اور خداوندی نعمتوں کی یاددہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ عھدی یعنی تمہارا وہ عہد جو میرے ساتھ ہے۔ طاعت الہی و اطاعت انبیاء کا عہد۔ بما عاھدتمونی من الایمان لی والطاعۃ لی (کشاف) توریت میں بھی اسی عہد کا ذکر جابجا ہے۔ مثلا ” تو نے آج کے دن اقرار کیا ہے کہ خداوند میرا خدا ہے۔۔ اور میں اسی کی راہوں پر چلوں گا۔ اور اس کی شرطوں اور اس کے حقوق اور اس کے حکموں کی محافظت کروں گا۔ اور اس کی آواز کا شنوا ہوں گا “ (استثناء 26: 17) عھدکم۔ یعنی جو عہد میں نے تم سے تمہارے ایمان وطاعت پر بہ طور انعام کر رکھا ہے۔ اے ارضی عنکم وادخلکم الجنۃ (کبیر، عن ابن عباس ؓ توریت میں اس کا ذکر بھی جابجا ہے۔ مثلا ” اور خداوند نے بھی آج کے دن تجھ سے اقرار فرمایا ہے “ (استثناء 26: 17) ” اگر تم میری آواز کے فی الحقیقت سننے والے ہو گے اور میرے عہد کو حفظ کرو گے تو تم ساری قوموں سے زیادہ میرے ایک خزانہ خاص ہوگے “۔ (خروج۔ 19:5) (آیت) ” اوفوا۔ مرشد تھانوی مدظلہ، نے فرمایا، کہ وفائے عہد جس کا یہاں ذکر ہے، اس کے مراتب میں بہت وسعت ہے۔ ادنی مرتبہ بندہ کی طرف سے ادائے کلمہ شہادت ہے، اور حق تعالیٰ کی طرف سے حفاظت جان ومال۔ 149 ۔ (نہ کہ اپنی ہی جیسی مخلوق سے) توحید کے لیے خطاب عام جملہ عالم انسانیت سے رکوع 3 میں ہوچکا ہے۔ اب خطاب خاص اسی مخصوص حامل توحید قوم، بنی اسرائیل سے ہے۔ لیکن یہاں اشارہ شرک جلی اور بت پرستی سے زیادہ شرک خفی اور ضعف ایمان کی جانب ہے۔ یہ اخلاقی بیماری اسرائیلیوں کی ساری قوم میں پھیل چکی تھی ،۔ اور خالق کی رضا اور عدم رضا کے بجائے انسانوں کو راضی رکھنے کی پروا اور ان کی ناخوشی سے بچنے کی اہمیت اچھے اچھے علماء ومشائخ یہود کے دلوں میں گھر کرچکی تھی، انجیل میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے مواعظ میں اس قسم کی ہدایتیں اور تنبی ہیں کثرت سے ملتی ہیں۔