Ayah 2:254،975 ۔ اللہ کی راہ میں مصارف خیر میں) (آیت) ” رزقنکم “ ضمیر متکلم لا کر اور رزق کو اپنی جانب منسوب کرکے صاف بتایادیا کہ مالی دولت جو کچھ بھی بندوں کے پاس ہے خود بخود سے نہیں خدا ہی کا بخشا ہوا عطیہ ہے، اسی کی دین ہے اور اسی کو حق حاصل ہے کہ جن کاموں میں چاہے ان کے صرف کرنے کا حکم دے دے۔
،976 ۔ یعنی روز قیامت۔ مطلب یہ ہے کہ مصارف خیر میں صرف کرنے اور نیکیاں جمع کرنے کا موقع جو کچھ ہے اسی دنیا میں ہے، وقت کی قدر کرو، فرصت عمر کو نعمت سمجھو۔
،977 ۔ (اپنے حق میں) ” ظلم “۔ کے اصلی معنی وضع الشیء فی غیر محلہ (کسی شے کو اس کے صحیح مقام پر نہ رکھنے) کے ہیں۔ اللہ یا اس کے قانون کو نہ ماننے سے بڑھ کر کون سا ظلم انسان کا اپنے حق میں ہوگا (آیت) ” لابیع “ جاہلی اور نیم جاہلی قوموں کی گمراہیاں ایک سے بڑھ کر ایک عجیب رہی ہیں، مشرک قومیں تو سرے سے روز جزاء کی قائل ہی نہیں۔ اہل کتاب نے اس کے وقوع کو مانا تو اس میں بھی یہ پخیں لگادیں کہ وہاں بھی دنیا کی طرح لین دین ہوسکے گا، کوئی کسی سے نیکیاں خرید لے گا کوئی کسی کے ہاتھ اپنی بدیاں فروخت کردے گا وقس علی ھذا قرآن نے اس ساری لغو خیالی کا خاتمہ کردیا، (آیت) ” ولاخلۃ “ خلۃ گہری جگری دوستی کو کہتے ہیں، مقصود ایسی دوستی کے نافع ہونے کا ابطال ہے جو ایمان کے بغیر کام دے سکے اور کفر کے مجرم کو نجات دلاسکے، اہل کتاب نے سمجھ رکھا تھا کہ یہاں کی نسبی رشتہ داریوں اور ذاتی خانگی دوستیوں سے وہاں کام چل جائے گا۔ جب گہری اور دلی دوستی کے نافع ہونے کی نفی ہوگئی، تو محض زبانی رسمی ظاہری تعلق کا لاحاصل ہونا تو اور زیادہ ظاہر ہے۔ (آیت) ” ولا شفاعۃ “ پہلی دو گمراہیوں کا بھی تعلق مسیحیوں سے تھا اور یہ تیسری گمراہی تو مسیحیت کے خصوصیات میں سے ہے۔ مسیحیوں کا عقیدہ ہے کہ ابن اللہ کی حیثیت شافع مطلق کی ہے۔ انسان کے قالب میں انہوں نے اسی لیے تو جنم لیا تھا کہ اپنی کا فدیہ سب گنہگاروں کی طرف سے دے کر اور سب کی طرف سے صلیب پر اپنے خون کا چڑھا واچڑھا کر قیامت میں شافع مطلق کی حیثیت سے ظاہر ونمودار ہوں اور ان کی شفاعت سب کے حق میں نجات کا حکم قطعی رکھے گی۔ ہمارے ہاں کے عام واعظوں اور نعت گو شاعروں نے شفاعت مصطفوی ﷺ پر حد سے زیادہ زور دینا شروع کیا ہے یہ صاف مسیحیت سے تاثر کا نتیجہ ہے (آیت) ” الکفرون “۔ یہاں وہی کا فرمراد ہیں جو اسی قسم کے عقائد کفریہ میں مبتلا ہیں۔ بعض فقہاء نے لکھا ہے کہ آیت سے بخل کی مذمت نکلتی ہے جو لوگ ضروری مصارف خیر میں خرچ نہیں کرتے، وہ اپنے کو اہل کفر اور اہل جہنم کے حکم میں لارہے ہیں۔
Ayah 2:255978 ۔ (نہ بڑا چھوٹا، نہ اصلی نہ ظلی، نہ خدا نہ خدا زادہ) خدا کے نفس وجود کے قائل تو جاہلی مذاہب بھی ہوئے ہیں، البتہ وہ اس معبود اعظم (ہندوؤں کی اصطلاح میں ایشور) کے علاوہ تحتانی معبودوں اور دیوتاؤں کے بھی قائل رہے ہیں۔ یہ تعلیم اسلام ہی کی ہے کہ اس ایک خدا کے سوا کسی اور خدا کا سرے سے وجود ہی نہیں، یہ نہیں کہ وہ تو معبود اعظم ہے باقی چھوٹے چھوٹے معبود اور بھی موجود ہیں۔ عیسائی بھی چونکہ شرک میں مبتلا ہوچکے تھے اس لیے ان کے مقابلہ میں بھی توحید کامل کے اثبات اور پھر غیر اللہ کی الوہیت کی نفی کی اس قدر ضرورت تھی یہ آیت ایۃ الکرسی کے نام سے مشہور ہے۔ اس کی برکتوں اور فضیلتوں سے شاید ہی کوئی مسلمان ناواقف ہو، احادیث میں اس کے فضائل بہ کثرت وارد ہوئے ہیں، اس کی معنویت اور جامعیت ہے بھی اتنی نمایاں اور اس درجہ کی، اپنے تو خیر اپنے ہی ہیں، بیگانے جیسے سیل مترجم قرآن مجید اور میور اور دہیری جیسے معاندین نے بھی بےساختہ اس کی دادوی ہے۔
979 ۔ (آیت) ” الحی “ وہ مستقلا زندہ ہے وہ ازلی اور ابدی ہے صفت حیات اس کی جزوذات ہے۔ موت یا عدم حیات اس پر نہ پہلے کبھی طاری ہوئی اور نہ آئندہ کبھی طاری ہوسکتی ہیں، تو کیا کوئی قوم ایسی بھی ہوئی ہے جس نے اپنے معبود کی اس کھلی ہوئی اور موٹی میں بھی شبہ کیا ہو، ، ایک نہیں متعدد قوموں نے شک و اشتباہ کیا۔ معنی انکار تک اس صفت کا کیا ہے ! بحر روم کے ساحل پر متعدد قومیں اس عقیدہ کی گزری ہیں کہ ہر سال فلاں تاریخ پر ان کا خدا وفات پا جاتا ہے۔ اور دوسرے دن از نووجود میں آجاتا ہے ! چناچہ ہر سال اس تاریخ کو خدایا بعل کا پتلا بنا کر جلایا جاتا تھا اور دوسری صبح اس کے جنم کی خوشی میں رنگ رلیاں شروع ہوجاتی تھیں۔ ہندوؤں کے ہاں اور تاروں کا مرنا اور پھر جنم لینا اسی عقیدہ کی مثالیں ہیں، اور خود مسیحیوں کا عقیدہ بجز اس کے اور کیا ہے کہ خدا پہلے تو انسانی شکل اختیار کرکے دنیا میں آتا ہے اور پھر صلیب پر جاکر قبول کرلیتا ہے ! مسلمان کے گھرانے میں پیدا ہونے والے بچے شروع ہی سے ایک ازلی ابدی باقی و غیر فانی خدا کے عقیدہ سے چونکہ مانوس ہوجاتے ہیں۔ بڑے ہو کر ان کے خیال ہی میں یہ بات نہیں آتی کہ خدا کبھی اور کسی حال میں کسی معنی میں اور کسی لحاظ سے حادث وفنا پذیر بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن آخر آج بھی کروڑوں کی تعداد میں پڑھے لکھے لوگ خدا کی اسی فنا پذیری کو تسلیم کررہے ہیں یا نہیں ؟ القیوم۔ “ مسیحیوں نے جس طرح حضرت حق کی صفت حیات کے باب میں سخت ٹھوکر کھائی ہے اسی طرح صفت قیومیت سے متعلق بھی عجیب گمراہی میں پڑگئے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ جس طرح بیٹا بغیر باپ کی شرکت وآمیزش کے خدا نہیں اسی طرح باپ پر بھی بغیر بیٹے کو شریک کیے خدا کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ گویا جس طرح نعوذ باللہ مسیح ابن اللہ خدا کے محتاج ہیں اسی طرح خدا بھی اپنی خدائی کے اثبات کے لیے مسیح کا محتاج ہے۔ صفت قیومیت کا اثبات کرکے قرآن نے اسی مسیحی عقیدہ پر ضرب لگائی ہے۔ قیوم وہ ہے جو نہ صرف اپنی ذات سے قائم ہے بلکہ دوسروں کے بھی قیام کا سبب و باعث ہے اور سب کو سنبھالے ہوئے ہے، اس کے سب محتاج ہیں وہ کسی کا محتاج نہیں۔ القیوم القائم الحافظ لکل شی والمعطی لہ مابہ قوامہ (راغب) بہ القائم بنفسہ مطلقا لا بغیرہ وھو مع ذلک یقوم بہ کل موجود حتی لایتصور وجود شیء ولا دوام وجود الابہ (تاج) ائمہ تفسیر نے بھی اسی معنی میں لیا ہے ” القیم لغیرہ فجمیع الموجودات مفتقرۃ الیہ وھو غنی عنھا ولا قوام لھا بدون امرہ (ابن کثیر)
980 ۔ (جیسا کہ مشرک قوموں نے سمجھ لیا ہے) جاہلی مذہبوں کے دیوتا نیند سے جھوم بھی جاتے ہیں اور سونے بھی لگتے ہیں اور اسی غفلت کی حالت میں ان سے طرح طرح کی فروگزاشتیں ہوجاتی ہیں۔ مسیحیوں اور یہود کا بھی عقیدہ یہ ہے یہ حق تعالیٰ نے جب چھ روز میں آسمانوں اور زمین کو بنا ڈالا تو ساتویں دن اسے سستانے اور آرام لینے کی ضرورت پڑگئی، اسلام کا خدادائم، بیدار، ہمہ خبردار، غفلت، سستی اور تھکن سب سے ماوراء خدا ہے۔
981 ۔ لہ کو مقدم کردینے سے معنی میں زور اور تاکید آگئی اور مفہوم حصر کا پیدا ہوگیا، یعنی ساری کائنات کی ملکیت اور مالکیت صرف اسی کی ہے۔ کوئی اس صفت میں اس کا شریک نہیں، اور اس کی ملک سے مخلوق کا کوئی گوشہ کوئی شعبہ خارج نہیں، مشرک قوموں نے اپنے دیوتاؤں کو کائنات کا مالک مانا بھی ہے، تو اندھے، لولے، لنگڑے ناقص قسم کا۔ اسلام نے آکر اس پر ذور دیا کہ صحیح رشتہ وتعلق خالق کا مخلوق کے ساتھ ملکیت کامل ہی کا ہے۔ لہ “ میں ل متفقہ طور پر ملک کے معنی میں ہے۔ والام للملک (بحر۔ نہر)
982 ۔ (آیت) ” من ذا الذی “ کون ایسا ہے ؟ استفہام انکاری ہے، یعنی کوئی ایسا نہیں (آیت) ” یشفع عندہ “ شفاعت پر حاشیہ ابھی اوپر گزر چکا۔ مسیح کی شفاعت کبری مسیحیوں کا ایک عقیدۂ خصوصی ہے۔ مسیح کے لیے ان کے ہاں بالا استقلال شفاعت ہی ثابت نہیں، بلکہ تخلیق کائنات بھی خدا نے (نعوذ باللہ) اپنے اسی فرزند کے وسطہ سے کیا ہے۔ قرآن مجید مسیحیوں سے مخاطبہ کے وقت ان کے مخصوص مرکزی عقائد کفارہ وشفاعت وغیرہ پر برابر ضرب لگاتا جاتا ہے۔ (آیت) ” باذنہ “ یہ تصریح بھی بہت ضروری تھی، مسیحیوں نے جہاں نجات کا دارومدار شفاعت پر رکھا ہے وہاں کے برعکس بعض مشرک قوموں نے خدا کو قانون مکافات (ہندی میں کرم) کے ضابطوں سے ایسا جکڑا ہوا سمجھ لیا ہے کہ اس کے لیے معافی کی اور اس کے ہاں شفاعت کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی ہے۔ اسلام نے توسط وعتدال کی شاہراہ اختیار کرکے بتایا کہ نجات کا مدار ہرگز کسی کی شفاعت پر نہیں، البتہ خدا نے اس کی گنجائش رکھی ہے اور اپنی اجازت کے بعد مقبول بندوں کو دوسروں کی شفاعت کا (جو درحقیقت دعا ہی کی ایک صورت ہے) موقع دے گا اور ان کی دعائیں قبول کرے گا اور مقبولین کے سب سے بڑے رئیس وسردار ہمارے رسول کریم ﷺ ہیں۔
983 ۔ یعنی حاضر و غائب محسوس ومعقول مدرک وغیر مدرک سب کا علم اسے پورا پورا حاصل ہے، ماکان قبلھم وما کان بعدھم (کشاف) نام یہاں آگے اور پیچھے صرف دو ہی سمتوں کا لیا گیا ہے لیکن مراد جمیع جہاد ہیں اور یہ کنایہ عربی زبان میں عام ہے۔ ھذا کنایۃ عن احاطۃ علمہ تعالیٰ بسائر المخلوقات من جمیع الجھات۔ (آیت) ” ایدیھم “ اور (آیت “ خلفھم “ میں ضمیر جمع غائب یا تو من ذا کے مدلول کی جانب ہے جس میں انبیاء وملائ کہ سب آگئے اور یا (آیت) ” فی السموت والارض “ کی جانب ہے اور ضمیر مذکر اس لیے کہ مراد زمین و آسمان کے اہل عقل سے ہے) والضمیر لما فی السموات والارض لان فیھم العقلاء اولمادل علیہ من ذامن الملائکۃ والانبیآء (کشاف) صفات باری میں حیات کا قیومیت کا، مالکیت کا اثبات اوپر ہوچکا ہے۔ اب یہاں اس حقیقت کا ہورہا ہے کہ حق تعالیٰ کی صفت علم بھی کامل ہے، سعی وسفارش کا ایک موقع دنیا میں یہ بھی ہوتا ہے کہ جس حاکم یا مالک کے سامنے مقدمہ درپیش ہو اس کا علم محیط وکامل نہیں اس لیے ضرورت ہے کہ خارجی ذرائع سے اس کے معلومات میں اضافہ کیا جائے اور اس کے علم کو کامل کردیا جائے۔ یہاں یہ بتلا کر کہ اللہ کا علم خود ہر خفی وجلی پر حاوی ہے۔ گویا یہ بتادیا کہ اس کے علم پر کسی کے اضافہ کرنے اس کے آگے کسی کی خوبیاں بتلانے اسے کسی نامعلوم شے پر آگاہ کرنے کے کوئی معنی ہی نہیں۔ اور اس طرح مسیحی عقیدہ شفاعت پر ایک اور ضرب لگی۔
984 ۔ کون نہیں گھیر سکتے ؟ وہی مخلوقات جن میں پیر، پیغمبر، فرشتہ سب شامل ہیں (آیت) ” من علمہ “ میں علم سے مرادمعلومات الہی سے ہے۔ اے من معلوماتہ (کشاف) العلم ھنا المعلوم (بحر) بڑے سے بڑے صاحب علم ومعرفت کے بھی بس میں یہ نہیں کہ معلومات الہی میں سے کسی ایک ہی چیز کنہ و حقیقت سے پوری طرح واقف ہوجائے، محدود لامحدود کے علم کا مقابلہ ہی کیا۔
985 ۔ (اپنی حکمت ومصلحت کے موافق) یہاں اسی حقیقت کا بیان ہے کہ بندہ بڑے سے بڑا بھی عالم و عارف ہو، بہرحال اس کا علم محدود ہوتا ہے اور عین مشیت الہی کے ماتحت ومطابق۔
986 (تو وہ خود بڑی سے بڑی چیز میں کیسے سما سکتا ہے) اس کی کرسی علم وقدرت تو خود سارے کائنات پر محیط ہے اس کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے تو آسمان پر، عرش پر، کسی وسیع سے وسیع چیز کے بھی اندر کیسے سماسکتا ہے ؟ وہ سب کو گھیرے ہوئے ہے، اسے کون گھیرسکتا ہے۔ اس صفت کے اثبات سے ان مشرکوں کے بھی عقیدہ کی تردید ہوگئی جو خدائے تعالیٰ کے مجسم ہونے اور کسی مکان میں اس کے محدودومقید ہونے قائل ہیں۔ کرسی سے مراد علم الہی لی گئی ہے۔ ابن عباس ؓ صحابی سے یہی معنی منقول ہیں، اور متعدد اہل تفسیر نے اس کی پیروی کی ہے۔ کرسیہ ای العلم (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ قیل مجاز عن العلم (روح) الکرسی ھو العلم (کبیر) اے علمہ ومنہ الکراسۃ لتضمنھا العلم (مدارک) اے وسع علمہ وسمی العلم کرسیا تسمیۃ بمکان الذی بہ کرسی العالم (کشاف) کرسی کے عام متعارف معنی وہی ہیں جو اردو ہی میں چلے ہوئے ہیں۔ لیکن حق تعالیٰ کے سلسلہ میں کہیں وہ معنی تھوڑے ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ کیا نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ بھی کوئی جسم رکھتا ہے جو وہ اس عام معنی کرسی نشین ہوگا۔ ولا کرسی فی الحقیقۃ ولا قاعد (بیضاوی) کرسی کے اصلی معنی علم ہی کے ہیں اور کراسۃ جو علمی صحیفوں کے آتا ہے وہ اسی اصل سے ماخوذ ہے اور اہل لغت نے کرسی کے جہاں ایک معنی سریر کے کیے ہیں، وہاں دوسرے معنی علم کے کیے ہیں۔ الکرسی السریر والعلم (قاموس) اصل الکرسی العلم ومنہ قیل للصحیفۃ یکون فیھا علم مکتوب کراسۃ (ابن جریر) کرسی کے دوسری معنی قدرت و حکومت کے بھی ہیں۔ چناچہ یہاں بھی بہتیرے اہل لغت واہل تفسیر اسی طرف گئے ہیں۔ الکرسی السریر (قاموس) وقیل کرسیۃ ملکہ (راغب) المراد من الکرسی السلطان والقدرۃ والملک (کبیر) قیل کرسیہ ملکہ و سلطانہ والعرب تسمی الملک القدیم کرسیا (معالم) قال قوم کرسیہ قدرتہ التی یمسک السموت والارض (کشاف) ای وسع ملکہ تسمیۃ بمکانہ الذی ھو کرسی الملک (کشاف) غرض یہ کہ اس کی کرسی علم ہو یا کرسی حکومت وہ جمیع کائنات کو احاطہ کیے ہوئے ہے۔ بڑی چھوٹی، لطیف کثیف، جلی خفی، ہر چیز اس پر عیاں ورشن ہے۔
987 ۔ (کہ اس سے تھک کر اسے کسی شریک یا مددگار کی ضرورت پڑے) مشرک قوموں نے یہ فرض کرلیا ہے کہ اتنے وسیع اور لق ودق سلسلہ موجودات کی نگرانی تنہا خدا کہاں تک کرسکتا ہے۔ اس لیے نعوذ باللہ وہ کبھی غافل بھی ہوجاتا ہے اور یہ کاروبار سنبھالنے کے لیے اسے ضرورت شریکوں اور مددگاروں کی بھی پڑگئی ہے۔ خود یہود اور مسیحیوں کا عقیدہ خدا کے سستانے اور آرام لینے کے باب میں بھی اسی تخیل کی طرف مشیر ہے۔ (آیت) ” حفظھما “ میں تثنیہ کے صیغہ سے مراد ہے ایک طرف سلسلہ سموت اور دوسری طرف زمین اور اسی لیے قرآن مجید نے ہر ایسے موقع پر صیغہ بجائے جمع کے تثنیہ کا استعمال کیا ہے۔
988 ۔ یعنی ایک طرف ہر نقص سے ماورا اور ہر عیب سے بالاتر۔ دوسری طرف تمام صفات کمال کا جامع۔ علی اور عظیم دو دو صفتوں کا لانا معنی سے خالی اور بےکار نہیں۔ علوکا حاصل ہے تمام صفات نقص کی نفی، سارے عوارض حدوث سے برتری۔ لا یحد المتعالی عن الاشباہ والا نداد والا مثال والا ضداد وعن امارات النقص ودلالات الحدوث (روح) العلی الرفیع فوق خلقہ المتعالی عن الاشباہ والانداد (بحر) اور عظمت کا حاصل ہے تمام صفات کمال کا اثبات اور ایسی ذات کا ایجاب نہ جس کے مرتبہ کی انتہاہو اور نہ جس کی کنہ دریافت ہوسکے۔ اے ذوالعظمۃ وکل شیء بالاضافۃ الیہ حقیرا (روح) العظیم الذی لا منتھی لعظمتہ ولا یتصور کنہ ذاتہ (روح) العظیم ذوالعظمۃ الذی کل سیء دونہ فلاشیء اعظم منہ (بحر) گویا جان دو صفات کے اندر عظمت و کمال کے سلبی وایجابی پہلوسارے کے سارے آگئے۔ اور ہر اس ضلالت کی تردی ہوگئی جو شرک فی الصفات سے پیدا ہوسکتی ہے۔
Ayah 2:256989 ۔ دین کا تعلق اصلا عقیدۂ قلب سے ہے اور قلب پر جبرواکراہ کی گنجائش ہی نہیں، اس لیے گویا یہاں اس حقیقت کا اعلان ہے کہ ایمان کا تعلق اپنے ارادہ واختیار سے ہے جبرواضطرار پر نہیں۔ اے لم یجر اللہ امر الایمان علی الاجبار والقسر ولکن علی التمکین والاختیار (کشاف) ولولا ذلک لما حصل الابتلاء ولبطل الامتحان والی ذلک ذھب القفال (روح) قال ابو مسلم والقفال معناہ انہ ما بنی تعالیٰ امر الایمان علی الاجبار والقسر وانما بناہ علی التمکین والختیار (بحر) جزیہ کم فہموں نے اسلام میں جبر کی اصل سمجھا ہے حالانکہ اگر ذرا غور کریں تو معلوم ہوجائے کہ جزیہ کی مشروعیت عین اس کے برعکس خود اس دلیل ہے کہ مقصود اصلی قانون اسلام حکومت اسلام کو غالب رکھنا ہے نہ کہ فردا فردا ہر کافر کو بہ جبر مسلم بنانا، مفسر تھانوی (رح) نے کہا ہے کہ اکراہ کی نفی سے مقصود اکراہ فی نفسہ کی نفی ہے۔ اس لیے کہ اگر مرتد پر یا کافر حربی پر بوجہ خفائے دلیل کے اکراہ کیا جائے جیسا شریعت میں حکم ہے تو یہ نفی اکراہ فی نفسہ کے معارض نہیں اور یہ اکراہ بھی صورت دین پر ہوگا۔ نہ کہ حقیقت دین پر، کیونکہ قلب پر اطلاع کا کوئی یقینی طریق نہیں اور اس نفی اکراہ سے نہی عن الاکراہ بھی لازم آگئی۔ اس لیے بعض نے نہی کے ساتھ اس کی تفسیر کی ہے یعنی دین میں اکراہ مت کرو ای ھو من وضوح الدلائل والحجج بحیث لا یکون فیہ اکراہ بل یجب الدخول فیہ بانشراح صدرواختیار (نہر) (آیت) ” الدین “۔ دین سے مراد مطلق دین نہیں۔ دین اسلام ہے۔ والذین ھنا ملۃ الاسلام واعتقادۂ (بحر)
990 ۔ اور دلائل و شواہد نے دونوں کے درمیان علانیہ امتیاز پیدا کردیا ہے۔ (آیت) ” الرشد “ یعنی راہ اسلام (آیت) ” الغی “ طریق کفر۔ یعنی اب تو کفر واسلام کے درمیان بہت کھلے ہوئے فرق اور امتیازات پیدا ہوچکے ہیں۔ اب کسی پر خفاوالتباس کی کوئی وجہ نہیں !
991 ۔ یعنی جس نے دین اسلام قبول کرلیا اور جو باطل کی پیروی سے باز آگیا اسے دنیا وآخرت میں ایک بڑا زبردست سہارا ہاتھ آگیا (آیت) ” الطاغوت “۔ طاغوت۔ کا صحیح ترجمہ مشکل ہی ہے۔ اردو میں اس لیے قریب ترین لفظ شیطان کا ہوسکتا ہے۔ اپنے عام ووسیع معنی میں عربی میں اس کا اطلاق ہر معبود باطل اور ہر سرکش پر ہوتا ہے۔ قال ابو اسحاق کل معبود من دون اللہ جبت وطاغوت (لسان) الطاغوت عبارۃ عن کل معبد و معبود من دون اللہ (راغب) مالک بن انس اور بعض اور اہل تفسیر بھی اسی عموم کی طرف گئے ہیں۔ قال مالک ابن انس کل ما عبد من دون اللہ تعالیٰ (روح) مردۃ من الجن والانس وکل ما یطغی (کبیر) ماعبد من دون اللہ تعالیٰ قالہ الطبری (بحر)
992 ۔ (نہ دنیا میں نہ آخرت میں) ۔ بندہ کا فاطر کائنات سے صحیح ونظری تعلق ہی کا نام دین اسلام ہے۔ یہ وہ زبردست سہارا ہے جس کے ہاتھ لگ جانے کے بعد زندگی کا ہر مرحلہ آسان ہوجاتا ہے اور ہر عقدہ کا حل مل جاتا ہے اور اس کے نتیجہ کے طور پر آخرت کی بھی منزلیں آسان رہتی ہیں۔ اس ایک سہارے کے سوا باقی سارے سہارے ناقص، کمزور اور بودے ہیں۔ بعض محققین صوفیہ نے کہا ہے کہ عروۃ الوثقی نسبت مع اللہ ہے۔ وہ حاصل ہوجانے کے بعد منقطع نہیں ہوتی۔
993 ۔ (آیت) ” سمیع ‘ ‘۔ سننے والا الفاظ کا اوراقوال کا (آیت) ” علیم “ جاننے والا احوال کا اور اعمال کا۔ یعنی اللہ کو ظاہر و باطن، کلی، جزئی، ہر قسم کا علم واطلاع ہے۔ اللہ کی باخبری اور ہمہ علمی مسلمانوں کو ایک معمولی اور موٹی سی بات معلوم ہوتی ہے لیکن جاہلی قوموں میں ایک دو نہیں کثرت سے ایسی ہیں جو حق تعالیٰ کی صفت علم میں شبہ کرچکی ہیں۔ یہاں تک کہ بعض جاہلی فلاسفہ یہ بھی کہہ گزرے ہیں کہ خدا کو علم صرف کلیات کا ہے جزئیات کا نہیں ہوتا۔ کلام مجید کی اس قسم کی آیتوں کی پوری قدر جبہی ہوتی ہے، جب دنیا کی جاہلی قوموں کے عقائد باطلہ پر نظر ہو۔۔۔ !
Ayah 2:257994 ۔ (آیت) ” ولی “۔ ولی کا ترجمہ بھی کسی ایک لفظ سے مشکل ہی ہے۔ ، رفیق، دوست، پشت پناہ، سر پرست سب کے مفہوم اس میں شامل ہیں۔ اور اہل تفسیر سے یہ سب معنی منقول ہیں۔ محبھم ومتولی امورھم (بیضاوی) نصیرھم وظھیرھم یتولاھم بعونہ (ابن جریر) الولی المتکفل بالمصالح (کبیر) معینھم ومحبھم اومتولی امورھم (روح) اہل ایمان کے بگڑے کام بنانے والا۔ آڑے وقت ان کے کام آنے والا اللہ ہی ہے نہ کہ ابن اللہ یا کوئی دیوی دیوتا۔ خفی رد مسیحیوں اور مشرکوں کا یہاں بھی کیا گیا۔ بعض صوفیہ نے آیت سے ولایت عامہ کے اثبات پر استدال کیا ہے،
995 ۔ (اور یہی مومنین کے حق میں سب سے بڑی اور کارآمد نصرت وپشت پناہی ہے) (آیت) ” الظلمت “ سے مراد کفر، انواع کفر اور متعلقات وملحقات کفر ہیں۔ مثلا شک وارتیاب شہوت ممنوع میں غلووغیرہا۔ (آیت) ” النور “ سے مراد ایمان وانوار ایمان ہیں۔ عقل سلیم وذوق شوق وغیرہا کفر وظلمات کی قسمیں بیشمار ہیں اس لیے ظلمات کو صیغہ جمع میں لائے۔ انواع کفر واسباب کفر بہت زائد ہیں۔ دو نقطوں کے درمیان منحنی یا ٹیڑھے خط بیشمار ہوسکتے ہیں۔ سیدھا خط ایک ہی ہوسکتا ہے۔ راہ راست ایک ہی ہے اس لیے (آیت) ” النور “۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں بھی آیا ہے صیغہ واحد ہی میں آیا ہے۔
996 ۔ (ترغیب، تحریص و تخویف کے ہر ممکن حربہ سے کام لے کر) طاغوت پر حاشیہ اوپر گزر چکا ہے۔ اس کا اطلاق واحد جمع دونون پر ہوتا ہے۔ یہاں معنی میں جمع ہی مراد ہے۔ اور جب فضا ہی ساری کی ساری ظلمات ہو تو ظاہر ہے کہ شیطنت اور بدی کے محرکات کتنے بڑھ جاتے اور ایمان وتقوی کے محرکات کتنے گھٹ جاتے ہیں۔ شیطان بدی کے چہرہ پر طرح طرح کے خوشنما نقاب ڈال، اس کے نام طرح طرح کے خوبصورت رکھ اسے سامنے لانے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ جو اہل ایمان، اہل تقوی ہیں وہی نکوبن کر رہ جاتے ہیں۔ اکبر الہ آبادی۔
997 ۔ (کہ انہوں نے اپنی قوت فیصلہ سے کام نہ لے کر راہ کفر وضلالت اختیار کی)
Ayah 2:258998 ۔ (اے مخاطب) (آیت) ” الم ترالی “۔ عرب ادب میں یہ اسلوب بیان حیرت واستعجاب کے موقع کے لیے ہے اور وہ بھی پہلوئے ذم لیے ہوئے۔ جب کبھی کسی کے کسی حیرت انگیز نقص یا عیب کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے تو اسے شروع میں اس طریقہ پر کرتے ہیں جیسے اردو میں ” کہیے کہ تم نے فلاں کی حرکت دیکھی ہے ؟ “ وکذلک تفعل العرب اذا ارادت التعجب من رجل فی بعض ماانکرت من فعلہ قالوا ما تری الی ھذا (ابن جریر) ھی کلمۃ یوقف بھا المخاطب علی تعجب ھنا ولفظھا الاستفھام (کبیر)
999 ۔ (منکر و مخالف کی حیثیت سے) یہ بحث ومناظرہ کرنے والا کون تھا ؟ ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کوئی معاصر بادشاہ تھا، یہ تصریحات تو قرآن مجید بلکہ اس آیت کے اندر موجود ہیں۔ مفسرین نے اس موقع پر نمرود کا نام لیا ہے اور چونکہ اس خاص قصہ کا ذکر اہل کتاب کی کتاب میں موجود نہیں اس لیے وہ اس روایت ہی کے ماننے میں تامل کررہے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید توریت کی اس طرح کی خدا جانے کتنی فروگزاشتوں کی تصحیح کرتا گیا ہے۔ اتنا تو بہرحال تاریخ توریت اور روایات یہود میں تسلیم ہے کہ نمرود نامی بادشاہ کا وجود تھا۔ بادشاہ بہت بڑا تھا اور ساتھ ہی سخت ظالم اور مشرک اور آزر اس کا وزیر تھا۔ توریت میں ہے :۔ ” اور کوش سے نمرود پیدا ہوا زمین پر جبار ہونے لگا۔ خداوند کے سامنے وہ صیاد وجبار تھا۔ اسی واسطے مثل ہوئی کہ خداوند کے سامنے نمرود ساصیا وجبار (پیدائش 10 ۔ 980) اور کوش سے نمرود پیدا ہوا وہ زمین پر جبار ہونے لگا ( 1 ۔ تواریخ 10 ۔ 60) اور حسب روایات یہود، یہ نمرود اپنے قبیلہ والوں کی مختصر فوج سے آل یافث کو شکست دینے کے بعد زمین کا بادشاہ ہوگیا۔ اور آزر کو اس نے اپنا وزیر بنایا۔ اس کے بعد اپنی عظمت کے نشہ میں نمرود خدا سے بیگانہ ہوگیا۔ اور بہت سخت قسم کا مشرک ہوگیا “۔ جیوش انسائیکلوپیڈیا۔ جلد 9 صفحہ 309 ۔ بابل (کلدانیہ) ہی کی تاریخ میں ایک اور بادشاہ کا نام آتا ہے جو بابل کا سب سے پہلاانسانی خدا تھا۔ بعض مؤرخین نے اسے نمرود کا مرادف قرار دیا ہے (انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس جلد 6 نمبر 346) انیسویں صدی عیسوی کے ثلث آخر میں فرنگی مادیت وعقل پرستی اور اس کی تقلید میں ہندوستانی ” روشن خیالی “ اور ” نیچریت “ کا شدید تقاضایہ تھا کہ ان قصوں ہی سے سرے سے انکار کردیا جائے لیکن جوں جوں خود فرنگی مورخین کے قدم آگے بڑھتے گئے یہ تشکیک وبے اعتقادی بھی ضعیف ہوتی چلی گئی، انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے سب سے آخری یعنی چودھویں ایڈیشن میں اعتراف ہے، کہ نصف صدی پیشتر ان قصوں کو جیسا بےاصل ونامعتبر سمجھ لیا گیا تھا وہ خیال اب مزید تحقیق سے قائم نہیں رہا۔ یہاں تک کہ نمرود کے ساتھ مناظرۂ ابراہیمی (علیہ السلام) کا قصہ بھی (جلد 13 صفحہ 165) (آیت) ” ربہ “ میں ضمیر ابراہیم کی طرف ہے لیکن بعض نے (آیت) ” الذی حآج “ کی جانب بھی جائز رکھی ہے۔ اور اس صورت میں ترجمہ ہوگا اپنے رب کے باب میں۔ والضمیر یحتمل ان یعود الی ابراھیم ویحتمل ان یرجع الی الطاعن والاول اظھر (کبیر) بہرحال قابل لحاظ لفظ یہاں رب سے گفتگو ” رب “ کے بارے میں تھی۔” الہ “ کے بارے میں نہ تھی۔ مسئلہ ربوبیت میں تھی، باب الوہیت میں نہ تھی۔
1000 ۔ یعنی اسے وسعت سلطنت ہی نے اتنا دلیر، سرکش اور برخود غلط بنا رکھا تھا۔ روایات یہود میں یہاں تک تصریح ملتی ہے کہ وہ اپنی تعظیم بلکہ پرستش خدا ہی کی طرح کراتا تھا اور اپنے لیے اس نے ایک عرش الہی تیار کرایا تھا جس پر اجلاس کیا کرتا تھا (ملاحظہ ہو گینز ہوگ Ginzhug کی حکایات یہود Legends of the Jews. جلد اول صفحہ 178) (آیت) ” ان اتہ اللہ “۔ میں ان سببیہ ہے لان کے معنی میں اے ابطرہ ایتاء الملک وحملہ علی المحاجۃ (بیضاوی) کلدانیوں کا ملکی اور قومی مذہب خوب خیال رہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت میں اصلا شمس پرستی تھا۔ یعنی سورج دیوتا کی پوجا اور یہی سب دیوتاؤں کے سردار تھا۔ نمرود کلدانی فرعون مصری کی طرح اپنے کو اسی خدائے اعظم کا مظہر یا بروز یا اوتار سمجھتا تھا۔ اور اہل توحید کو اپنے ملک کا غدار وباغی اور اپنے مذہب کا دشمن اور منکر قرار دیتا تھا۔ رفتہ رفتہ اہل توحید کے خدائے واحد سے بھی جلنے لگا تھا جو زیفس یہود کا مؤرخ قدیم اپنی تاریخ آثار یہود میں لکھتا ہے :۔ وہ لوگوں کی خوشحالی کو خدا کی جانب نسبت دینے سے روکنے لگا۔ گویا کہ وہ خود قادر علی الاطلاق ہے۔ وہ کہتا تھا کہ اگر اب کی خدا نے طوفان نوح (علیہ السلام) کی طرح دنیا کو ڈبویا تو میں اس سے انتقام لوں گا “۔ (باب اول۔ 4:2)
1001 ۔ (آپ کے اس سوال کے جواب میں کہ وہ کونسا خدا ہے جس کے تم پرستار ہو ؟ ) نمرود تو مدعی اپنے خدا ہونے اور مظہر خدا ہونے کا تھا۔ اس نے داعی توحید کو چیلنج دے کر پوچھا کہ وہ کونسا خدا ہے جس کی تم دعوت دے رہے ہو ؟ ذرا میں تو اس کے اوصاف سنوں۔ مشرک افراد آج بھی بڑی حیرت اور بڑے اچنبھے کے ساتھ پوچھا کرتے ہیں کہ ہمارے فلاں فلاں دیوتا اور فلاں فلاں دیوی کے علاوہ اور ان سے ماوراء آخر خدا ہے کونسا ؟ کہاں ہے ؟ کیسا ہے ؟ اس کے افعال وصفات کیا ہیں ؟
1002 ۔ یعنی حیات وموت کی ساری قوتیں اسی کے ہاتھ میں ہیں، وہی سارے نظام ربوبیت کا سرچشمہ ہے، کائنات حیاتی کی بقاوفنا کے سارے قانون اور ضابطے آخر میں اسی پر جا کر ٹھیرتے ہیں، کسی بندہ میں یہ طاقت نہیں کہ اس نظام حیاتی وافنائی کو بدل دے یا اس میں کوئی ادنی تصرف بھی کر دکھائے، فقہاء مفسرین نے کہا ہے کہ آیت سے مداہنت کا ابطال ہورہا ہے۔ محققین صوفیہ نے محابہ ابراہیمی سے یہ استنباط کیا ہے کہ ضرورت دین کے وقت بحث ومناظرہ ہرگز تجرید و تفرید کے منافی نہیں، خصوصا کامل کے لیے، اور علم کلام کا سنت انبیاء میں سے ہونا تو بیان سے بالکل ظاہر ہورہا ہے۔ وھذہ العقول والاستدلال بدلائل اللہ تعالیٰ علی توحیدہ وصفاتہ الحسنی (جصاص) اور ایک محقق نے نکتہ بھی خوب نکالا ہے کہ حضرات انبیاء توحید باری میں صرف افعال حق سے استدلال کرتے تھے اور ایسی صفات کو پیش نہ کرتے جن سے مذہب تشبہ وتجسم کے لیے گنجائش نکل سے۔ تدل علی انہ تعالیٰ لا یشبہ بشیء وان طریق معرفتہ ما نصب من الدلائل علی توحیدہ لان انبیاء (علیہم السلام) انما حاجوا الکفار بمثل ذلک ولم یصفوا اللہ تعالیٰ بصفۃ تو جب التشبیہ وانما وصفوہ بافعالہ واستدلوابھا علیہ (جصاص)نمرود نے موت وحیات کے اسباب بعید وخفی کو چھوڑا اور صرف اسباب ظاہری وسطحی کو سامنے رکھ کر جواب دیا کہ سامان معیشت تو سب میرے ہاتھ میں ہے میں جیسے چاہوں روزی دوں اور جسے چاہوں بھوکوں مار ڈالوں۔ یا کسی اور طریقہ سے اس کی زندگی ختم کردوں۔
1003 ۔ (اگر تو اپنے دعوائے قدرت و تصرف میں کچھ بھی سچائی رکھتا ہے) نمرود اوتار تھا سورج دیوتا کا، اور سورج ہی کلدانیوں کے عقیدہ میں معبود اعظم تھا، اسی کی مثال کو اور زیادہ قریب الفہم بنانے کے لیے موحد اعظم نے اس کو پیش کیا، آپ نے فرمایا کہ تم تو سورج کے قادر و متصرف ہونے کے قائل ہو تو زیادہ نہیں یہی کر دکھاؤ کہ سورج اپنے ارادہ سے عام سنت الہی کے خلاف ذرا اپنا رخ ہی بدل دے دوسروں پر قدرت رکھنا الگ رہا۔ خود اپنے ہی پر ذرا اپنا ارادہ صرف کر دکھائے۔ اور ارادہ بھی اتنا ہلکا کہ صرف رخ بدل دینے کا، کسی خدا کی بےبسی کا منظر اس سے بڑھ کر اور کیا پیش ہوسکتا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے استدلال وہی قائم رکھا۔ صرف مخاطب کی سطحی ذہنیت کا لحاظ کرکے اس کی مثال دوسری پیش کردی اور فرمایا کہ اچھا کائنات حیاتی نہ سہی کائنات طبعی ہی کے خدائی نظام میں ایک ادنی تصرف کرکے دکھا دو ، نمرود سورج دیوتا کا اوتار تھا اور سورج کے خدائے اعظم ہونے کا قائل۔ اس کے عقیدہ کے ابطال وتردید میں سورج ہی کو مثال میں پیش کرنا اس پر بہترین گرفت تھی۔
1004 ۔ یعنی عاجز ولا جواب ہوگیا۔ اس کا جواب کسی مشرک وآفتاب پرست کے پاس ہو کیا سکتا تھا ؟ نہ اس وقت کسی سے بن پڑا نہ آج کسی سے بن پڑنا ممکن ہے۔ استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ جس ہستی کے متعلق صاحب ارادۂ عظیم ہونے کا دعوی کیا جاتا ہے وہ تجربہ ومشاہدہ سے ارادہ خفیف سے بھی معری ثابت ہورہا ہے۔
1005 ۔ عاجز ولا جواب ہوجانے کے باوجود ایمان نہ لایا، اور ایمان لاتا ہی کیسے ؟ جو لوگ غصہ اور عناد سے کجروی اختیار کیے رہتے ہیں انہیں ہدایت کبھی بھی نصیب نہیں ہوتی (آیت) ” الظلمین “ وہی لوگ ہیں جو خلوء ذہن کے ساتھ حق و حقیقت پر غورہی نہیں کرتے اور اپنی ضد ونفسانیت پر قائم رہتے ہیں۔ آیت سے یہ بھی ظاہر ہورہا ہے کہ ایمان مستقیم اور فہم سلیم کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
Ayah 2:2591006 ۔ (اے مخاطب) آیت کا عطف معنوی ہے آیت سابق پر۔ اور تقدیر کلام اکثر نحوئین کے نزدیک یہ ہے۔ ارأیت کالذی حاج ابراھیم اوکالذی مرعلی قریۃ وھو قول الکسائی والفراء وابی علی القاری واکثرالنحویین (کبیر) اور دوسری ترکیب یہ بھی مانی گئی ہے۔ اورأیت مثل الذی مر الخ زمخشری بیضاوی وغیرہ نے اسی کو ترجیح دی ہے۔
1007 ۔ یعنی اس کی عمارتیں بالکل منہدم ومسمار ہوچکی تھیں۔ (آیت) ” خاویۃ علی عروشھا “۔ عربی کا ایک خاص محاورہ ہے۔ مراد یہ ہے کہ بستی بالکل تباہ وبرباد ہوچکی تھی۔ چھتیں گریں پھر چھتوں کے اوپر دیواریں، بان سقط السقف اولا ثم تھدمت الجدران علیہ (روح) یہ کون صاحب تھے اور کس تباہ شدہ بستی سے ان کا گزر ہوا تھا ! (آیت) ” الذی مر “ مفسرین نے زیادہ تر مراد حضرت عزیر (علیہ السلام) نبی سے لی ہے سلسلہ اسرائیلی کے ایک مشہور پیغمبر گزرے ہیں ان کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح تھا۔ 450 ق، م میں ڈیڑھ ہزار یہود کو ان کی قید اور جلاوطنی سے چھڑا کر فلسطین لائے۔ بائبل میں انکا نام عزرا کاتب یعنی کاتب توریت کی حیثیت سے آتا ہے۔ ایک صحیفہ بھی ان کے نام کی طرف منسوب ہے۔ قتادہ۔ سدی وغیرہ تابعین اسی طرف گئے ہیں بلکہ یہی قول حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ صحابہ سے بھی مروی ہوا ہے۔ ذکر انہ عزیر (ابن جریر۔ عن قتادہ) ھو عزیر (ابن جریر عن السدی) الما رھو عزیر کما اخرجہ الحاکم عن علی واسحق بن بشر عن ابن عباس ؓ وعبداللہ بن سلام، الیہ ذھب قتادۃ وعکرمۃ والربیع والضحاک والسدی وخلق کثیر (روح) دوسرا قول حضرت یرمیاہ نبی سے متعلق نقل ہوا ہے، یہ بھی اسرائیلی سلسلہ کے پیغمبر ہوئے ہیں، یہ ساتویں صدی قبل مسیح میں تھے۔ اور تاریخ یہود میں آتا ہے کہ انہیں نبوت 646 ق، م میں ملی تھی، تاریخی اعتبار سے امکان ان کے لیے بھی ہے۔ گوذرا ضعیف۔ حضرت باقر ؓ اور وہب سے روایت انہی کے متعلق ہے۔ قیل ھو ارمیا بن فلقیا وھو المروی عن ابی جعفر والیہ ذھب وھب (روح) بائبل میں اس سے ملتا جلتا ہوا ایک قصہ حضرت حزقیل نبی سے متعلق درج ہے، جو یرمیاہ نبی کے ہمعصر اور چھٹی صدی قبل مسیح (علیہ السلام) میں تھے۔ لیکن بائبل میں یہ قصہ بصورت واقعہ نہیں، بلکہ کشف یا رؤیا کے طور پر ہے (حزقیل۔ باب 36، 37) (آیت) ” قریۃ “۔ یہ بستی کونسی تھی، نام مختلف شہروں کے لیے گئے ہیں۔ لیکن اکثریت یروشلم یا بیت المقدس کی طرف گئی ہے۔ یہ شہر بخت نصر تاجدار بابل کے ہاتھوں 586 ق، م میں پوری طرح تاخت و تاراج ہوچکا تھا۔ بظاہر یہ واقعہ اسی شہر سے متعلق اس کی تباہی کے بعد قریب ہی کے زمانہ کا ہے۔ القریۃ بیت المقدس قالہ وھب وقتادۃ والضحاک وعکرمہ والربیع (بحر)
1008 ۔ (قیامت کے د ن) (آیت) ” ھذہ “۔ اشارہ مردہ شہر کے مردہ باشندوں کی جانب ہے۔ اہل بصیرت کے لیے ہر حسرتناک منظر ایک درس عبرت ومعرفت ہوتا ہے۔ عجب کیا جو خدا کے نبی کا ذہن اپنے پیش نظر منظر سے کائنات کے ہولناک ترین منظر کی طرف منتقل ہوا ہو، اور اس سے انہوں نے ایک اور سبق معرفت کا حاصل کرنا چاہا ہو۔ المشار الیہ اما نفس القریۃ بدون تقدیر اوتقدیر مضاف اے اصحاب ھذہ القریۃ (روح) اے اھل ھذہ (مدارک) (آیت) ” انی “۔ یہاں کیف کے مرادف اور کس طرح، یا کس کیفیت کے ساتھ کے معنی میں ہے۔ اعتراف العجز عن معرفۃ طریقۃ الاحیاء (کشاف) ای علی ای حال یحییٰ (روح) آخرت میں حشر احیاء پر یقین نبی کیا معنی ہر مومن کو ہوتا ہے۔ سوال سے نبی کا یہ مطلب تو ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کے نفس وقوع میں شبہ ظاہر کیا جائے، وہ صرف اس کی نوعیت جاننے اور کیفیت سمجھنے کے آرزومند تھے۔
1009 ۔ (بہ طور خرق عادت) معجزات یا خوارق پر کوئی عقلی اعتراج اگر کسی ملحد کی طرف سے ہو تو خیر اس کے لیے تو کچھ گنجائش بھی ہے لیکن خدا کے ماننے والے کی طرف سے یہ ” عقلی اعتراض “ یا اس کے امکان میں گفتگو بالکل بےمعنی ہے۔ جب معجزہ کا فاعل خدا تعالیٰ ہے تو وہ قادر مطلق تو جس طرح اپنی عادت یا معمول عام کے اجراء وبقاء پر قادر ہے۔ ٹھیک اسی طرح اور ہمیشہ اسی درجہ میں اس کے ترک وخرق پر بھی ! اس کے نزدیک تو یہ اور وہ ایسا اور ویسا یہ دونوں بالکل یکسان و مساوی ہیں بلکہ اس ہستی مطلق کے لیے یہ عادت خلاف عادت کے معنی ہی کیا ؟ یہ موافق عادت وخارق عادت کی اصطلاحیں تو محض بندوں کے علم کے لحاظ سے ہیں، یہ تو ہم نے جس چیز کا بار بار اور متواتر مشاہدہ کیا اسے عادت الہی میں داخل کردیا۔ اور جس چیز کو ایسا نہ پایا اسے خلاف عادت اور خارق عادت سے تعبیر کرنے لگے !۔۔ لفظ ” معجزہ “ تو خود ہمارے جہل کا پردہ پوش ہے۔ حق تعالیٰ کے لیے کونسی تعبیر معجز ہوسکتی ہے ؟ غرض کوئی مذہبی شخص کسی بڑے سے بڑے معجزہ کے نفس امکان میں تو زبان کھول ہی نہیں سکتا، گفتگو جو کچھ بھی چلے گی رؤیت وروایت معتبر کے لحاظ سے چلے گی، اور یہ بحث ظاہر ہے کہ تمامتر نقلی اور تاریخی ہوگی نہ کہ عقلی، وقوع معجزہ کے روای اگر متعبر اور شاہد عینی ہیں تو وہ خارق عادت بھی ہمارے لیے ایسا ہی قابل یقین ہوگا جیسا کہ روز مرہ کے عام واقعات ہوتے ہیں اور پھر جس معجزہ کے راوی خود حق تعالیٰ یا نبی معصوم ہوں اس کے باب میں تو ظاہر ہے اور بالکل ظاہر ہے کہ آگے کوئی گفتگو چل ہی نہیں سکتی۔ کس وقت کس خارق عادت کے ظہور کی کیا کیا حکمتیں اور مصلحتیں ہوتی ہیں، یہ حال بجز حکیم مطلق کے اور کون جان سکتا ہے ؟
1010 ۔ یہ جواب اس بندہ نے اپنے علم و شعور اور اپنے حساس واندازہ کے مطابق دیا۔ اور بشری اندازہ وتخمین کی یہ غلطی ذرا بھی حیرت انگیز نہیں، جب دماغ ودل، شعور واندازہ کی مشینوں کی حرکت ہی سرے سے باطل ہوگئی تھی، تو کوئی بشر اندازہ کر ہی کیونکر سکتا تھا اور یوں بھی گھنٹوں اور دنوں بلکہ مہینوں اور برسوں کی مدت کو خواب اور بیہوشی کی حالت میں ہم روز مرہ منٹوں اور سیکنڈوں کے اندر سمٹے اور سمٹائے ہوئے آخر دیکھتے ہی ہیں۔
1011 ۔ (اتنی مدت کے باوجود) فقہاء ومفسرین نے اس جواب سے جواز اجتہاد پر استشہاد کیا ہے۔ فیہ دلیل جوازالاجتھاد (مدارک) اور یہ نظیر ہے اس کی اللہ تعالیٰ جس چیز کو جتنی مدت تک بھی چاہے محفوظ وسالم رکھ سکتا ہے۔ بشری عقل وفہم مادی مثالوں اور نظیروں کی ہمیشہ حریص رہی ہے، اور آج کی ” روشن خیالی “ اور نیچریت کے سارے مطالبات کا لب لباب صرف یہی نظیر کی فراہمی ہے۔
1012 ۔ (جس کی ہڈیاں اس وقت تک باقی تھیں اور گوشت پوست سب خاک میں مل چکا تھا) جانوروں کے ڈھانچے مدتوں تک باقی رہتے ہیں بعض بعض ڈھانچے سینکڑوں ہزاروں سال کے بعد سالم و محفوظ برآمد ہوئے ہیں۔ (آیت) ’ ’ حمار “ گدھے سے ہندوستان میں تو نہیں۔ لیکن عرب، شام، مصر، فلسطین وغیرہ میں سواری کا کام گھوڑے ہی کی طرح لیا جاتا تھا۔ اور اب بھی لیا جاتا ہے۔ توریت اور انجیل دونوں میں گدھے کا ذکر سواری کے جانور کی حیثیت سے بہ کثرت آیا ہے۔ اور حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح (علیہما السلام) دونوں کا اسی پر سوار ہونا بیان ہوا ہے۔
1013 ۔ (اپنی قدرت کاملہ کا، اور ایک نظیر واقعہ بعث کی)
1014 ۔ یعنی اپنے مردۂ صدسالہ گدھے کے ڈھانچے کو بچشم خود دیکھئے کہ ہم اس کا جوڑ جوڑ بٹھاتے ہیں اور پھر از سر نوروح پھونک کر زندہ کر اٹھاتے ہیں۔
1015 ۔ یعنی ان پیغمبر پر جب یہ ساری کیفیتیں تجربۃ اور مشاہدۃ گزر لیں تو وہ تروتازہ جوش ایمانی کے ساتھ بےاختیار اٹھے کہ بیشک یہ پروردگار ہر چیز پر قادر ہے اور اب میرا ایمان و اعتقاد سو گنا اور بڑھ گیا۔ (آیت) ” اعلم “ علم سے یہاں مراد علم مشاہدہ ورؤیت ہے۔ ورنہ علم بالدلیل تو پہلے ہی سے حاصل تھا۔ تاویلہ ان قد علمت مشاھدۃ مماکنت اعلمہ قبل ذالک الاستدلال (کبیر)
Ayah 2:2601016 ۔ (قیامت کے دن) (آیت) ” یعنی کس خاص کیفیت کے ساتھ۔ کس متعین طریقہ پر فی ای حال اوعلی ای حال (ابوسعود) یہ وقوع تو اسے پوری طرح مسلم ہے اور سوال اس کی صرف کیفیت کے بارے میں کررہا ہے۔ الاستفھام بکیف انما ھو سوال عن حال شیء متقرر الوجود عند السائل والمسؤل فان الاستفھام ھھنا عن ھیءۃ الاحیاء المتقرر عند السائل (قرطبی) محققین نے کہا ہے کہ سوال کے الفاظ سے خود یہ ظاہر ہورہا ہے کہ سائل کو کوئی شبہ احیاء موتی کے نفس وقوع میں نہیں۔ صوفیہ اہل لطائف نے اس قصہ ابراہیمی سے ذیل کے نکات پیدا کیے ہیں :۔ ( 1) اللہ تعالیٰ سے کشف مقامات کا سوال موجب قبول ہے۔ (2) مقبولین کو جو مشاہدات ہوتے ہیں ان سے مراتب عرفان و کمالات ایقان میں اور ترقی ہوتی ہے۔ (3) اور پھر اس سے ان کے تقرب و اعزاز حضور میں اضافہ ہوتا ہے۔
1017 ۔ سوال سے مقصود یہ تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایمان کامل کا اقرار خود ان کی زبان سے کرا لیا جائے۔ اور دنیا کو یہ تعلیم بھی مل جائے کہ ایسے سوالات ہمیشہ بےاعتقادی یا فقدان ایمان ہی سے نہیں پیدا ہوتے۔
1018 ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) عرض کرتے ہیں کہ ایمان کے درجہ تک تو یقین اب بھی حاصل ہے۔ ہاں صرف یہ چاہتا ہوں کہ مشاہدہ کے بعد اطمینان اور زیادہ حاصل ہوجائے۔ اس مرتبہ کو اصطلاح میں علم الیقین کہتے ہیں ہر مومن کو حاصل ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے مومن اعظم کو کیوں نہ حاصل ہوتا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ایمان ہی بڑھتے بڑھتے اطمینان قلب پیدا ہوجاتا ہے اور محققین کہتے ہیں کہ یہ ترقی کبھی مشاہدہ ومعائنہ سے ہوتی ہے اور کبھی محض وجدان سے۔ اطمینان مقابل ہے سکون کے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ عدم سکون کی کیفیت ایمان وعرفان کے منافی نہیں اور طمانیت کا جو درجہ ولایت وصدیقیت کے مناسب ہے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اب بھی حاصل تھا اور آپ کو طلب اس طمانیت کی تھی جو درجہ نبوت کے مناسب مقام ہو۔
1019 ۔ ان پرندوں کے نام بھی تفسیروں میں نقل ہوئے ہیں لیکن اول تو سند کچھ قوی نہیں اور پھر یہ تعیین ہی سے سے بےضرورت ہے۔ البتہ اہل لطائف واشارات نے ان چار پرندوں سے نکتے خوب پیدا کیے ہیں۔ چناچہ بعض صوفیہ نے کہا ہے کہ ان سے اشارہ انسان کے ان چار قوی کی جانب ہے جو مشاہدہ حق اور حیات حقیقی سے مانع ہوتے رہتے ہیں۔ اور وہ چار قوی کی جانب ہے جو مشاہدہ حق اور حیات حقیقی سے مانع ہوتے رہتے ہیں۔ اور وہ چار قوتیں یہ متعین کی ہیں :۔ ( 1) خود بینی وخود ستائی۔ (حب جاہ) (2) افراط شہوت جنسی۔ (3) حرص وطمع حب مال) (4) طول اہل یا محبت دنیا۔
1020 ۔ (ان کو ذبح کرکے اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے بعد (آیت) ” صرھن الیک “۔ یعنی ان پرندوں کو پال کر اور اپنے پاس رکھ کر انہیں اپنے سے خوب مانوس کرلیجئے کہ پھر شناخت میں دقت نہ ہو۔ صرھن کا مصدر صور ہے۔ معنی میل کے ہیں۔ اسی لیے صرھن کی تفسیر عموما املھن اور وجھھن سے کی گئی ہے۔ ای اضممھن الیک ووجھھن نحوک (ابن جریر) فاملھن واضممھن الیک (کشاف) اور بعض نحویوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اجزاء آیت میں تقدیم وتاخیر ہے۔ یعنی (آیت) ” الیک “۔ کا تعلق صرھن سے نہیں (آیت) ” فخذ اربعۃ من الطیر “ سے ہے اور (آیت) ” الیک “۔ صلہ فعل خذ کا ہے۔ کان فی الکلام تقدیم وتاخیر ویکون معناہ فخذ اربعۃ من الطیر الیک فصرھن ویکون الیک من صلۃ خذ (ابن جریر) (آیت) ” فصرھن “ کے آگے اتنی عبارت محذوف مانی گئی ہے کہ اپنے سے ہلاچکنے کے بعد ان پرندوں کو ذبح کرکے ان کے ٹکڑے پہاڑوں پر رکھ دیجئے۔ قرآن مجید کے اسلوب بلاغت میں اس قسم کے محذوفات ومقدرات کی مثالیں نایاب نہیں۔ اسی سورة بقرہ کے شروع کے رکوعوں میں ہے (آیت) ” فقلنااضرب بعصاک الحجر “ ہم نے حکم دیا کہ اپنا عصا چٹان پر مارو) اور اس کے معا بعد آتا ہے۔ (آیت) ” فانفجرت منہ اثنتا عشرۃ عینا “ (پس چٹان سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے) یہاں سب نے اتنا کلام محذوف مانا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم کی تعمیل کی اور عصا کی ضرب چٹان پر لگائی ایسے محذوفات ومقدرات کی نظریں تو اپنے شاعروں کے کلام میں بھی بکثرت ملتی ہیں۔ پھر خدا کا کلام تو ظاہر ہے کہ ہر شاعر کے کلام سے فصیح تر وبلیغ تر ہے۔ بعض ائمہ لغت و تفسیر ادھر گئے ہیں کہ فعل صار یصور اور صار یصیر کے معنی ہی قطع کرنے کے ہیں۔ اس لیے کسی حذف وتقدیر کے ماننے کی ضرورت ہی نہیں بلکہ آیت کے معنی ہی براہ راست یہی ہیں۔ صار الشیء یصورہ صورا قطعہ وفصلہ صورۃ صورۃ (تاج) قیل قطعھن صورۃ صورۃ (راغب) قال ابو عبیدۃ معناہ قطعھن والصور القطع (معالم) علامہ ابن جریر نے جو تفسیر کے ساتھ لغت کے بھی امام ہیں بسط و تفصیل کے ساتھ گفتگو اس پر کیا ہے کہ صار ویصور اور صار یصیر دونوں کے معنی لغت عرب میں مشہور ومعروف ہیں۔ اور آخر میں لکھتے ہیں :۔ ففی ذلک اوضح الدلیل علی جھل من زعم ان قول القائل جصار یصور وصار یصیر غیر معروف فی کلام العرب بمعنی قطع بہرحال حذف مانا جائے تو اور نہ مانا جائے تو، دونوں صورتوں میں اتنے پر بجز ایک ابو مسلم اصفہانی کے سب کا اتفاق ہے کہ مراد یہاں ذبح کرکے پارہ پارہ کرنے ہی سے ہے۔ اجمع اھل التفسیر علی ان المراد بالایۃ قطعھن (کبیر) کل المفسرین الذین کانوا قبل ابی مسلم اجمعوا علی انہ حصل ذبح تلک الطیور تقطیع اجزاء ھا فیکون انکار ذلک انکارا للاجماع (کبیر) فان کان بمعنی التقطیع فلا حذف اوبمعنی الامالۃ فالحذف او قطعھن اجزاء (نہر) واجمع اھل التفسیر علی ان ابراھیم قطع اجزاء ھا (بحر) ابن عباس ؓ صحابی اور حسن بصری (رح) سعید بن جبیر (رح) بہ کثرت تابعین سب اسی طرف گئے ہیں۔ معناہ قطعھن وھو قول ابن عباس و سعید بن جبیر ومجاہد (کبیر) قالہ ابن عباس و مجاھد وضحاک وابن اسحاق (بحر) قالہ ابن عباس وعکرمہ و سعید بن جبیر وابو مالک وابو الاسود الدؤلی ووھب بن منبہ والحسن والسدی وغیرھم (ابن کثیر) اور ابومسلم کا یہ قول آج چودھویں صدی ہجری میں بعض سطح بینوں کی زبان سے پھر چمکایا گیا ہے اس کی بابت صاحب روح المعانی کہتے ہیں۔ لایخفی ان ھذا خلاف اجماع المسلمین وضرب من الھذیان لا یرکن الیہ ارباب الدین۔ (آیت) ” صرھن “۔ کی دوسری قرأت متواتر صرھن (بہ کسر صاد) کی ہے اور اس قر أت پر تو کھلے ہوئے معنی قطع وتشقیق ہی کے ہوتے ہیں۔ (آیت) ” علی کل حبل “ یعنی جو پہاڑیاں ہوں سب کو تلاش کرکے سب پر رکھیے۔ المعنی علی کل جبل من الجبال التی بحضرتک (کشاف) العموم فی کل جبل مخصص بوصف محذوف ای یلیک اوبحضرتک قالہ مجاہد (بحر) (آیت) ” منھن جزء ا “۔ یعنی ان کے ملے جلے ہوئے گوشت کا ایک ایک حصہ۔ (آیت) ” جزء ا “۔ کے اصل معنی عربی میں ٹکڑے کے ہیں۔ جس کا فارسی مرادف پارہ ہے۔ الجزء النصیب والقطعۃ من الشیء (تاج) جزء الشیء ما یتقوم بہ جملتہ کا جزاء السفینۃ و اجزاء البیت (راغب) ۔ جزء بالفتح پارہ پارہ کردن (صراح) وھن اجزاء متفرقات (ابن جریر) ای ربعا من کل طائر (ابن قتیبہ) بلکہ امام ابن جریر جن کی نگاہ لغوی اور ادبی نکتوں پر خوب رہتی ہے انہوں نے تو یہ بھی صراحت کردی ہے کہ جزء اور سھم کے استعمال میں فرق ہے کہ سھم کا اطلاق مسلم حصہ پر ہوتا ہے اور جزء کا لفظ عام ہے۔ الجزء من کل شیء ھو البعض منہ کان معناہ جمیعہ علی صحۃ اوغیر منقسم فھو بذلک من معناہ مخالف ففی السھم لان السھم من الشیء ھو البعض المنقسم علیہ جمیعہ علی صحۃ۔ اور ایسا ہی دوسرے نے بھی کہا ہے وظاہر ثم اجعل علی کل جبل منھن جزءا یدل علی ان تلک الطیور جعلت جزا جزا (بحر) ای قطعۃ وبعضا (روح) (آیت) ” منھن “۔ سے پہلے تو مراد چاروں پرندوں کا مجموعہ لینا اور پھر (آیت) ” جزء ا “۔ سے مراد اس مجموعہ کا ایک ایک جزیا ایک ایک مسلم پرندہ لینا خواہ مخواہ کا تکلف اور ایک غلط قسم کا لغوی اجتہاد ہے۔ صحابیوں اور تابعین کے بعد سے لے کر اس وقت تک جتنے بھی اہل تفسیر عربی کا ذوق سلیم رکھنے والے ہوئے ہیں سب نے مراد ہر ہر پرند کے ٹکڑے ٹکڑے سے لی ہے۔ جزا ھن اجزاء وجعل علی کل جبل منھن جزءا (ابن کثیر) جزءھن وفرق اجزاء ھن علی الجبال (کشاف)
1021 ۔ (صحیح وسالم اس طرح کہ زندہ ہو کر ان میں سے ہر ایک کے متفرق ومنتشر اجزاء آپس میں مل ملا کر ٹھیک ہوجائیں گے) (آیت) ” ادعھن “ یعنی آواز دے کر انہیں اپنی طرف پکارئیے۔
1022 ۔ (آیت) ”۔ عزیز “۔ یعنی ایسا زبردست جو ہر شے پر یکساں قادر ہے۔ محال وممکن، اشد اور سہل کی تفریقیں اور تقسیمیں تو انسان کی قائم کی ہوئی ہیں۔ قادر مطلق کے ہاں کسی چیز کے اشد یا محال ہونے کے کوئی معنی ہی سے نہیں۔ (آیت) ” حکیم “۔ یعنی باوجود عموم قدرت واختیار مطلق کے وہ کرتا صرف وہی ہے جو عین اس کی حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ایسے عزیز و حکیم کے لیے احیاء موتی میں دشواری ہی کیا ہے۔ جب بھی وہ اپنی حکمت کے لحاظ سے مناسب سمجھے گا حشر برپاکر دے گا۔
Ayah 2:2611023 ۔ (اللہ کی نظر میں اور اپنی برکت وافزایش اجر کے لحاظ سے) (آیت) ” فی سبیل اللہ۔ یعنی احکام شریعت کے مطابق نیک کاموں میں۔ (آیت) ” اموالھم “۔ اور (آیت) ” فی سبیل اللہ “ دونوں عام ہیں، تمام مصارف خیران میں آجاتے ہیں۔
1024 ۔ (تو جس طرح غلہ کے ایک دانہ سے سات سو دانے پیدا ہوگئے۔ اسی طرح اللہ کار خیر میں صرف کرنے والوں کو ان کے حسن عمل کا اجر سات سو گنا دیتا ہے) ایک عام فہم مادی مثال دے کر یہ سمجھا دیا کہ اس تکثیر اجر پر اتنی حیرت کیوں کی جائے ایسی مثالیں تو مادیات میں روزہ مرہ مل جاتی ہیں۔ تجارتی اور کاروباری تلمیحیں تو قرآن مجید میں بکثرت ملتی ہیں۔ زرعی اور کاشتکارانہ تلمیحیں بھی مفقود نہیں۔
1025 ۔ یعنی اس کے اجر میں جس حد تک بھی چاہے اور بہ قدر اس کے اخلاص و شفقت کے۔ یہ جو نیکی کی راہ میں خرچ کرنے کی کھیتی سے لطیف تشبیہ دی گئی ہے۔ اس سے اہل لطائف نے دو نکتہ اور پیدا کیے ہیں :۔ ( 1) ۔ ایک یہ کہ اپنے مصارف خیر کی حفاظت ونگہداشت بھی اہل زراعت ہی کی طرح کرتے رہنا چاہیے۔ ریا، نمائش، عجب تکبر، ایذا اور احسان رکھنے انہیں برباد نہ کردینا چاہیے۔ (2) ۔ جس طرح تخم ریزی، آبپاشی وغیرہ کے اختلاف سے پیداوار محنت اور قیمت اور نفع میں مختلف ہوتی رہتی ہے۔ اسی طرح اجر گو مقدار میں برابر ہو، تاہم حسن قبول وقرب درجات وغیرہ کی کیفیات میں نیت واخلاص کے اعتبار سے کمی بیشی ہوتی رہے گی۔
1026 ۔ (آیت) ” واسع “۔ اس کی وسعتوں کی کوئی انتہا نہیں اس لیے مشرک قومیں یہ نہ سمجھیں کہ عطاء و بخشش سے اس کے خزانہ میں کوئی کمی آسکتی ہے۔ (آیت) ” علیم “۔ اس کے علم سے کائنات کا کوئی ذرہ نہیں چھپ سکتا اس لیے مشرک قومیں یہ نہ سمجھیں کہ کوئی بھی مخلص ومستحق نظر انداز ہونے پائے گا۔
Ayah 2:2621027 ۔ یعنی جس کے ساتھ کچھ سلوک کیا ہے اس پر نہ احسان رکھتے ہیں اور نہ اسے اپنے برتاؤ سے تکلیف پہنچاتے ہیں۔ حقارت سے پیش آنا یہ بھی تکلیف دہ برتاؤ میں داخل ہے۔ کسی کی کچھ خدمت اپنے سے بن پڑجائے یہ تو خود اپنے لیے باعث اجروموجب سعادت ہے نہ یہ کہ الٹا اس پر فخر کیا جائے، اور جس کے ساتھ سلوک کیا گیا ہے اسے کسی درجہ میں بھی ذلیل ٹھیرایا جائے۔
1028 ۔ (قیامت کے دن) (آیت) ” اجرھم عندد ربھم ‘ ‘۔ یعنی ان لوگوں کو پورا پورا اجر ملے گا، ان کے درجہ اخلاص کے تناسب سے۔
Ayah 2:2631029 ۔ (آیت) ” قول معروف “۔ یعنی معذرت کی نرم بات کہہ دینا (آیت) ” مغفرۃ “ یعنی سائل یا حاجت مند کی بات کو اس وقت ٹال جانا جب وہ سختی یا بدتہذیبی سے پیش آنے لگے۔ آیت میں صاف یہ تعلیم ہے کہ صدقہ یا خیرات مقصود بالذات نہیں، مقصود اصلاح قلب ہے اور اس کے بعد دینے والا لینے والے پر کوئی احسان نہیں رکھتا۔ بلکہ دینا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ بلکہ الٹا لینے والے کا شکر گزار ہوتا ہے کہ اس نے قبول کرکے اس کو ایک بار سے ہلکا کردیا۔ (آیت) ”۔ اذی “۔ کا لفظ عام ہے۔ ہر قسم کے آزار کو شامل۔ زبان سے یا عمل سے احسان جتانا بھی اس میں آگیا۔ (آیت) ” خیر “۔ ناداری کے وقت نرمی سے جواب دے دینا اور سائل کی سختی کو پی جانا موجب قرب واجر ہیں، اس لیے انہیں خیر سے تعبیر فرمایا۔
1030 ۔ (آیت) ” غنیی “۔ وہ تمہارا مال تمہارے ہی فائدہ کے لیے خرچ کراتا ہے اور جو کوئی خرچ کرتا ہے وہ اپنے ہی دائمی نفع کے لیے کرتا ہے کوئی مشرک یا مشرک صفت احمق یہ نہ سمجھ لے کہ خدا کی راہ میں جو کچھ خرچ دیا جاتا ہے وہ خود خدا کو دیا جاتا ہے اور خدا ہمارے زرومال کا محتاج ہے۔ (آیت) ” حلیم “ اس لیے مجرموں اور قانون شکنوں کو جو سز افی الفور نہیں دیتا، سائل کی بدتہذیبی، غنی کی بددماغی سب کو ایک مدت تک معاف کرتا رہتا ہے۔