2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 2:69

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ Open ayah 2:69 in the Quran reader

وہ بولے ہماری طرف سے اپنے پروردگار سے درخواست کیجئے کہ وہ ہمیں بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہے،238 ۔ کہا کہ وہ فرماتا ہے کہ گائے خوب گہرے زرد رنگ کی ہو،239 دیکھنے والوں کو اچھی معلوم ہوتی ہو،240 ۔

238 ۔ اہل مصربیل کی تقدیس کے باوجود اسے قربانی میں بھی چڑھایا کرتے تھے۔ مگر قربانی کے بیل میں بڑی بال کی کھال نکالا کرتے تھے۔ اس کا رنگ یکسر سفید ہو، اس کے جسم بھر پر بال ایک بھی سیاہ نہ ہو، دم بالکل صحیح اور طبعی حالت میں ہو، کوئی داغ دھبہ نہ ہو۔ غرض طرح طرح کی قیدیں اور شرطیں تھیں، یہ سب پوری ہولیتیں جب کہیں جاکر قربانی کی نوبت آتی۔ اسرائیلیوں نے جو اتنی موشگافیاں کیں، عجب نہیں کہ مصریوں ہی کی صحبت کا اثر ہو ، 239 ۔ یعنی رنگ خوب شوخ کھلتا ہو اہو، فلسطین وسینا کی بعض گائیں یقیناً اس رنگ کی ہوتی ہوں گی، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اہل کشف خود نفس کو بھی زرد ہی رنگ کا بتاتے ہیں۔ اور صوفیہ نے جو نفس کو اس گائے سے تشبیہ دی ہے تو اس سے وہ مشابہت اور بڑھ جاتی ہے 240 ۔ یعنی وہ گائے خوش نما، خوش منظر، خوش رنگ ہو، بدرنگ، بدنما، بد منظر نہ ہو،
Ayah 2:70

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:70 in the Quran reader

وہ بولے اپنے پروردگار سے ہماری طرف سے درخواست کیجئے کہ وہ ہمیں بتائے کہ وہ (اور) کیسی ہو ؟ اس لیے کہ گائے میں ہمیں اشتباہ پڑگیا ہے،241 ۔ اور اللہ نے چاہا تو ہم ضرور راہ پاجائیں گے،242 ۔

241 ۔ یعنی ذرا اور متعین و محدود کیجئے، اور اس کی اور خصوصیات بیان کیجئے۔ اس حلیہ اور اس رنگ کی گائیں تو بہت سی ہیں۔ 242 ۔ (گائے تک اور اسے ضرور ذبح کرکے رہیں گے) اے الی عین البقرۃ المامور بذبحھا (بحر) ۔
Ayah 2:71

قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا١ؕ قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 2:71 in the Quran reader

کہا کہ وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے محنت کرنے والی نہ ہو جو زمین کو جوتتی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو،243 ۔ اس میں (کوئی) داغ (دھبہ) نہ ہو،244 ۔ وہ بولے اب آپ ٹھیک پتہ لائے،245 ۔ پھر انہوں نے اسے ذبح کیا، اور وہ ایسا کرتے معلوم نہیں ہوتے تھے،246 ۔

243 ۔ ہندوستان میں عام رواج صرف بیل سے کاشتکاری کا کام لینے کا ہے، گائے سے نہیں۔ لیکن دوسرے ملکوں میں یہ کام گائے سے بھی لیا جاتا ہے۔ 244 ۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 238 ۔ 245 ۔ یعنی مفصل وپورا پتہ تو اب بتایا ہے ، 246 ۔ یعنی ان کی مسلسل موشگافیوں سے تعمیل حکم بعید ہی معلوم ہوتی تھی ،
Ayah 2:72

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 2:72 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب تم نے ایک شخص کو قتل کرڈالا تھا،247 ۔ پھر تم آپس میں اس باب میں جھگڑنے لگے،248 ۔ اور اللہ کو وہ ظاہر کردینا تھا جسے تم چھپا رہے تھے۔249 ۔

247 ۔ (اپنے ہی میں سے) ” تم نے “ یعنی تم میں سے کچھ لوگوں نے۔ ذکر بنی اسرائیل ہی کا بدستور چل رہا ہے، یہاں بھی اشارہ انکی قومی تاریخ ہی کے کسی واقعہ کی طرف ہے لیکن اس خاص واقعہ کی تعیین کے لیے یہود کے ذخیرۂ تاریخ وروایات میں بہت زیادہ گھسنے اور کرید کرنے کی ضرورت ہے۔ انشاء اللہ کوئی آئندہ مفسر ہمت کرکے اس فرض کو ادا کرے گا۔ 248 ۔ (اور ایک دوسرے پر الزام رکھنے لگی) یعنی اصل قاتل کا پتہ نہیں لگ رہا تھا۔ کوئی کہتا تھا کہ قاتل فلاں ہے اور کوئی کہتا کہ فلاں۔ ایک دوسرے پر الزام لگا رہے تھے۔ (آیت) ” فادرئتم “۔ درء کے معنی جھگڑنے کے بھی ہیں اور دفع کرنے کے بھی، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دفع کرنے ہی کے معنی میں آیا ہے۔ مثلا (آیت) ” فادرء وا عن انفسکم الموت۔ ویدرؤا عنھا العذاب۔ یدرءون بالحسنۃ السیٗۃ “ یہاں ادرأتم (بروزن افاعلتم) سے مراد آپس میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر الزام ڈالنے سے ہے۔ اے ینفی کل واحد منکم القتل عن نفسہ ویضیفہ الی غیرہ (کبیر) اختلفتم واختصمتم فی شانھا (کبیر) 249 ۔ یعنی اصل قاتل کا پتہ۔ رکوع سابق میں جو حکم ذبح گاؤ کا ملا ہے، وہ جیسا کہ مفسرین کا خیال ہے، شاید اسی موقع کے لیے تھا۔
Ayah 2:73

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:73 in the Quran reader

تو ہم نے کہا کہ اس (میت) پر اس (گائے) کا کوئی ٹکڑا مارو250 ۔ یوں ہی اللہ مردوں کو زندہ کرے گا،251 ۔ اور وہ تم کو اپنی نشانیاں،252 ۔ دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو،253 ۔

250 ۔ تفصیلات کا علم تو عالم الغیب کو ہے۔ البتہ اتنا پتہ تو یہود کے قانون شریعت (توریت) کے مطالعہ سے بہرحال چلتا ہے کہ قتل کے موقع پر جب قاتل کی تحقیق ہورہی ہو، چند خاص شرائط کی پابندی کے ساتھ ایک جوان گائے کو جس سے کوئی خدمت نہ لی گئی ہو، ذبح کیا جاتا تھا اور اس کے لاشہ پر بزرگان قوم ایک خاص طریق پر دعا کرکے خون کے گناہ سے اپنی بخشائش چاہتے تھے، کتاب استثناء کے باب 2 1 میں آیات 1 ۔ 9 میں تفصیلات درج ہیں۔ یہاں صرف چند سطریں نقل کی جاتی ہیں :۔ ” اگر اس سرزمین میں جس کا خدا وند تیرا خدا تجھے ارشاد کرتا ہے، کسی کی لاش کھیت میں پڑی ہوئی ملے اور معلوم نہ ہو کہ اس کا قاتل کون ہے، تب تیرے بزرگ اور تیرے قاضی باہر نکلیں اور ان بستیوں تک جو مقتول کے گردا گرد ہیں، درمیان کو ناپیں۔ اور یوں ہوگا کہ جو شہر مقتول سے زیادہ نزدیک ہے اسی شہر کے بزرگ ایک بچھیا لیں جس سے ہنوز کچھ خدمت نہ لی گئی ہو، اور جوئے تلے نہ آئی ہو۔۔ اور ہاں اس وادی میں اس بچھیا کی گردن کاٹیں۔ پھر اس شہر کے سارے بزرگ جو مقتول سے نزدیک ہیں اس بچھیا کے اوپر جو اس وادی میں گردن ماری گئی ہے اپنے ہاتھ دھوئیں اور جو اب دے کے کہیں کہ ہمارے ہاتھوں نے یہ خون نہیں کیا، نہ ہماری آنکھوں نے دیکھا “ تفسیر روایات میں آتا ہے کہ مقتول زندہ ہوگیا تھا اور قاتل کا نام اور پتہ بتا کر پھر مرگیا۔ واللہ اعلم 251 ۔ (قیامت کے دن) جعل تبارک وتعالیٰ ذلک الصنیع حجۃ لھم علی المعاد (ابن کثیر) قرآن مجید نے اپنی عام خصوصیت یعنی خاص سے عام کی تعلیم کی یہاں بھی نہ چھوڑی۔ اور ایک جزئی واقعہ سے اپنی قدرت اور امکان بعث ہی کا پہلو نمایاں کیا۔ 252 ۔ (اور نمونے اپنی قدرت کاملہ اور اختیار مطلق کے) 253 ۔ (اور کم از کم، اس نظیر کے مشاہدہ کے بعد امکان بعث اور وقوع قیامت کے انکار سے تو باز آجاؤ)
Ayah 2:74

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:74 in the Quran reader

اس پر بھی تمہارے دل اس کے بعد بھی سخت ہی رہے، 254 ۔ چناچہ وہ مثل پتھر کے ہیں، بلکہ سختی میں ان سے بھی بڑھ کر،255 ۔ اور پتھر تو کوئی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس سے دریا پھوٹ نکلتے ہیں،256 ۔ اور کوئی ان میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ پھٹ جاتا ہے اور اس میں سے پانی نکلتا ہے،257 ۔ اور کوئی ان میں سے ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ کی ہیبت سے نیچے آگرتا ہے258 ۔ اور جو کچھ بھی تم کرتے ہو، اللہ اس سے بیخبر نہیں،259 ۔

254 ۔ یعنی قبول کی طرف ذرانہ مائل ہوئے۔ ثم۔ یہاں استبعاد کے لیے ہے، یعنی جو نتیجہ نہ نکلنا چاہیے تھا وہ نکلا۔ ثم لاستبعاد القسوۃ بعد مشاھدۃ مایزیلھا (ابوسعود) (آیت) ” من بعد ذلک “ اس تصریح نے اس استبعاد کو اور زیادہ قوی وشدید کردیا۔ مؤکد للاستبعاد اشد تاکیدا (جمل) 255 (عدم قبول حق کے باب میں) اسرائیلی صحیفوں میں بھی یہ مضمون بار بار آیا ہے۔ مثلا ” وہ تربیت پزیر نہ ہوئے۔ انہوں نے اپنے چہرہ کو چٹان سے سخت تربنایا، انہوں نے پھر نے سے انکار کیا ہے “ بمعنی بل (جمل) یہ بھی کہا گیا ہے کہ او یہاں بطور کلمہ اباحت آیا ہے۔ یعنی خواہ انہیں پتھر سمجھو یا پتھر سے بھی بڑھ کر سخت دونوں باتیں صحیح ہیں، سب سے بہتر یہ ہے کہ او کو کلمہ تنویع قرار دیا جائے اور آیت کے معنی یہ کیے جائیں کہ ان کے قلوب دو قسم کے ہیں۔ کچھ تو پتھر جیسے سخت، اور کچھ اس سے بھی زیادہ سخت۔ فالمعنی ھم فرقتان فیھم من قلبہ کالحجر، فیھم من قلبہ اشد من الحجر، (قرطبی) کان قلوبھم علی قسمین قلوب کالحجارۃ قسوۃ وقلوب اشد قسوۃ من الحجارۃ (بحر) اوللتنویع اے بعض کالحجارۃ وبعض اشد (روح) 256 ۔ (اور ان سے ایک عالم سیراب ہوتا ہے) اس قسم کے پتھروں کی مثال انسانی آبادی میں حضرات انبیاء ورسل ہیں۔ ان کے چشمہ فیض سے ایک عالم اپنی روحانی پیاس بجھاتا اور سیراب ہوتا رہتا ہے۔ ترجمہ :257 ۔ (اور ان سے بھی کسی درجہ میں اللہ کی مخلوق سیراب ہوتی رہتی ہے) اس نوعیت کے پتھروں کی مثالیں اولیاء امت اور ابرار ومتقین ہیں کہ ان سے بھی انسانوں کا ایک بڑا طبقہ فیضیاب ہوتا رہتا ہے۔ 258 ۔ (اور اس طرح خود اپنے تاثر کا ثبوت بہم پہنچاتا رہتا ہے) اس طرح کے پتھروں کی مثال عام مومنین صالحین ہیں کہ دوسروں کی اصلاح وہدایت اگر نہ کرسکیں جب بھی اپنا ایمان تو سلامت لے ہی جاتے ہیں اور اپنے قبول حق کا ثبوت تو دے ہی جاتے ہیں، (آیت) ” من خشیۃ اللہ “ اوپر سے ذکر پتھروں ہی کا چلا آرہا ہے پتھروں کا جمود تو مسلم اور ان کی قساوت تو مشاہد ہے، پھر ان میں خشیت اللہ کا گزر کیسے اور ہیبت الہی کا اثر کیونکر ؟ اہل سنت کا ایک گروہ کہتا ہے کہ خشیت الہی کا یہ اثر پتھروں میں اپنے حقیقی اور لفظی معنوں میں ہے۔ یعنی بعض پتھروں میں گداز کا جزو ہوتا ہے۔ گوان کے مرتبہ جمادی کے مطابق۔ اور ان میں فہم وادراک کی قوتیں ہوتی ہیں گوان کی سطح حجری کے متناسب، جیسے طور پر آخر پہاڑ ہی تھا لیکن تجلی الہی کے وقت جلالت ربانی سے چور چور ہوگیا۔ ذلک بان اللہ جل ذکرہ اعطی بعض الحجارۃ المعرفۃ والفھم (ابن جریر) قیل المرادبہ حقیقۃ الخشیۃ (مدارک) مذھب قوم وھو المروی عن مجاہد وغیرہ انھا ھنا حقیقۃ (روح) مذھب اھل السنۃ والجماعتہ ان للہ تعالیٰ علما فی الجمادات وسائر الحیوانات سوی العقلاء لا یقف علیہ غیر اللہ فلھا صلوۃ وتسبیح و خشیۃ (معالم) لیکن ایک دوسرا گروہ کہ وہ بھی اہل سنت ہی کا ہے۔ یہ کہتا ہے کہ خشیت سے یہاں مراد محض خشیت مجازی یا انقیاد تکوینی ہے۔ عقل، فہم، شعور و ارادہ سے اس کا تعلق نہیں، لیکن بہرحال طبعی واضطراری طور پر تو موجودات کا ایک ایک ذرہ قوانین الہی کے تابع ہی ہے۔ اسی کو یہاں مجازا خشیت الہی سے تعبیر کردیا گیا ہے۔ جیسے خود محاورۂ قرآنی ہی میں ایک دوسری جگہ ارادہ کو بےجان وبے روح دیوار کی طرف منسوب کردیا گیا ہے (آیت) ” جداریرید ان ینقض (کہف) حالانکہ سب جانتے ہیں کہ دیوار میں کوئی قوت نہ ارادہ کی ہوتی ہے نہ خواہش کی، انما ارید بذلک انہ من عظم امر اللہ یری کانہ ھابط خاشع من ذل خشیۃ اللہ (ابن جریر) قیل ھو مجاز عن انقیادھا لامر اللہ (مدارک) والخشیۃ مجاز عن الانقیاد (بیضاوی) قال قوم ان الخشیۃ مجاز عن انقیاد لامر اللہ (روح) دونوں گروہ اہل حق ہی کے ہیں اور دونوں تفسریں اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔ 259 ۔ خدائے تعالیٰ نہ بےعلم وبے خبر ہے، نہ بےطاقت وبے اختیار اور اس کے علم و طاقت دونوں کا حال عنقریب منکشف اور مشاہد ہو کر رہے گا۔
Ayah 2:75

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:75 in the Quran reader

تو کیا تم اس کی توقع رکھتے ہو،260 ۔ کہ وہ لوگ تمہارے (کہنے سے) ایمان لے آئیں گے261 ۔ درآنحالیکہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اللہ کا کلام سنتے ہیں، پھر اسے کچھ کا کچھ کردیتے ہیں، بعد اس کے کہ اسے سمجھ چکے ہیں، اور وہ اسے (خوب) جانتے بھی ہیں،262 ۔

260 ۔ (اے مسلمانو ! اسرائیلیوں کی ان ساری بدکرداریوں کی روداد سننے کے بعد بھی) خطاب اس آیت میں اسرائیلیوں سے نہیں مسلمانوں سے ہے۔ حسن بصری (رح) تابعی کا قول ہے کہ اس کے مخاطب رسول اللہ ﷺ اور مومنین ہیں (کبیر) قال القاضی وھذا التی بالظاہر (کبیر) یرید محمد و اصحابہ (معالم) (آیت) ” افتطمعون “ میں جو ہمزۂ استفہامی ہے، اس کا مقصود استبعاد ہے یعنی بھلا ایسا بھی کہیں ہوسکتا ہے ؟ الھمزۃ لانکار الواقع استبعادہ (ابو سعود) الاسفتھام لاستبعاد اوللانکار التوبیخی (روحی) تطمعون۔ طمع کے عام معنی لالچ کرنے، حرص رکھنے کے ہیں، لیکن دوسرے معنی امید و توقع کے بھی ہیں۔ اور وہی یہاں مراد ہیں۔ طمع فیہ وبہ اے حرص علیہ ورجاہ (لسان) افترجوا یا محمد (ابن عباس ؓ مترجم دہلوی (رح) نے ترجمہ فارسی میں ” امید “ سے اور مفسر تھانوی نے اردو میں ” توقع “ سے کیا ہے۔ 261 ۔ ” وہ لوگ “ یعنی عہد رسول اللہ ﷺ کے معاصر یہود جن کی قساوت قلب کی اتنی مفصل ومسلسل سرگزشت ابھی بیان ہوچکی۔ ھم الیھود الذین کانوا فی زمن رسول (علیہ السلام) (کبیر) (آیت) ” لکم “ یعنی تمہاری خاطر سے، تمہارے کہنے سے تمہاری دعوت پر۔ اے لاجل دعوتکم ویستجیبوالکم (کشاف) لام السبب اے یؤمنوا لاجل دعوتکم لھم (بحر) ۔ 262 ۔ (کہ کیسی سخت جسارت کررہے ہیں) (آیت) ” وقد کان فریق منہم “ کان کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں، اور لغت ونحو دونوں اس کی اجازت دیتے ہیں۔ ایک یہ کہ ایک ایسا فریق تھا اسرائیلیوں کے درمیان۔ گویا ذکر ماضی کا اور یہود معاصرین کے اسلاف کا ہورہا ہے۔ دوسرے یہ کہ ایک ایسا فریق رہا ہے ان کے درمیان۔ یعنی ذکر حال کا اور ہمعصر یہود کا ہورہا ہے۔ ائمہ تفسیر سے دونوں قسم کے اقوال منقول ہیں۔ لیکن سیاق دوسرے معنی کے زیادہ موافق ہے۔ کہ حجت معاصرین ہی پر قائم کی جارہی ہے، اور ملزم انہیں کو قرار دینا زیادہ مناسب ہوگا۔ المراد بالفریق من کان فی زمان محمد (علیہ الصلوۃ والسلام) وھذا اقرب (کبیر) (آیت) ” کلم اللہ “ یعنی یہود کے آسمانی صحیفے۔ اپنے ہاں کے صحیفوں کی تحریف یہود کو خود مسلم رہی ہے۔ یرمیاہ نبی اپنی قوم کو مخاطب کرکے کہتے ہیں :۔ تم نے زندہ خدا، رب الافواج ، ، ہمارے خدا کی باتوں کو بگاڑ ڈالا ہے۔ “ (یرمیاہ۔ 23:37) قرآن مجید کی اعجازی کامیابیوں میں سے ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اب خود یہود بھی اپنے آسمانی صحیفوں کی تنزیل لفظی کے قائل نہیں رہے ہیں، اور ان کے علماء و اکابر اب صاف صاف اقرار کررہے ہیں کہ صرف مضامین ومطلب کا القاء ہمارے انبیاء واصفیاء کے قلب صافی پر ہوتا تھا۔ اور وہ حضرت انہیں الہامات معنوی کی روشنی میں اپنے لفظ وعبارت میں نوشتے تیار کردیتے تھے۔ (آیت) ” من بعد ما عقلوہ۔ “ یعنی نادانستگی میں نہیں۔ دیدہ دانستہ، سب کچھ جان لینے، سمجھ لینے کے بعد۔
Ayah 2:76

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:76 in the Quran reader

اور جب وہ ان سے ملتے ہیں جو ایمان لاچکے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان لے آئے ہیں،263 ۔ اور جب آپس میں تنہا ہوتے ہیں،264 ۔ تو کہتے ہیں کہ ارے کیا تم انہیں وہ بتا دیتے ہو جو خدا نے تم پر منکشف کیا ہے،265 ۔ جس سے وہ تمہیں تمہارے پروردگار کے حضور میں قائل کردیں گے ، 266 سو کیا تم نہیں سمجھتے ؟267 ۔

263 ۔ اب ذکر منافقین یہود کا شروع ہورہا ہے۔ یہود کی ایک تعداد تو مدینہ میں علانیہ دشمن اسلام تھی ہی۔ لیکن کچھ ان کے علاوہ اس قماش کے بھی تھے کہ مسلمانوں کے سامنے اپنا مسلمان ہونا ظاہر کرتے تھے یہ ذکر انہیں منافقین کا ہے۔ یعنی المنافقین من الیھود (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ 264 ۔ یعنی یہ دیکھ لیتے ہیں کہ آس پاس کوئی مسلمان تو نہیں سن رہا ہے۔ 265 ۔ یعنی وہ اسرار وتعلیمات جو تمہاری مقدس کتابوں اور آسمانی صحیفوں میں محفوظ ہیں۔ مثلا آخری نبی کی بشارتیں اور علامتیں۔ یہود جب آپس میں ملتے، تو ایک دوسرے کو قائل کرتے کہ تم اپنے ہاں کی پیشگوئیاں اور خاص تعلیمات مسلمانوں پر کیوں ظاہر کرکے خواہ مخواہ ان کے ہاتھ میں ہتھیار اپنے خلاف دے دیتے ہو۔ انہیں معلومات سے وہ ہمیں قائل کرتے ہیں۔ یہی دلائل وہ ہمارے تمہارے خلاف استعمال کرتے ہیں۔۔۔ گویا یہ احمق یہ سمجھ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اسلام اور پیروان اسلام کو جو کچھ بھی علم ہوگا محض انہیں کے بتانے ہی سے ہوسکتا ہے اور بس اس کے سوا ان پر علم ومعلومات کے کل دروازے بند ہیں ! یہ جہل مرکب بالکل اسی طرح کا تھا، جس میں آج سارا فرنگستان مبتلا ہے۔ یہ لوگ قرآن مجید پر جب تبصرہ کرنے بیٹھتے ہیں۔ تو اس مفروضہ کو بنیاد کار بنالیتے ہیں، کہ اس میں جو کچھ بھی مذکور ہے وہ یہود کی توریت مروجہ، مسیحیوں کی انجیل مروجہ، اور اسی طرح کے دوسرے انسانی ہی ذرائع سے ماخوذ ومنقول ہے۔ اور اس کا تو کوئی امکان دور کا بھی نہیں کہ اس میں کوئی غیبی امداد، وحی والہام کے قسم کے شامل ہو ! لفظ اللہ اب تو ایک اسلامی اصطلاح ہے۔ لیکن پہلے بھی اس کا استعمال صرف اہل عرب کی زبان پر تھا، یہاں ایسے لوگوں کی زبان سے نقل ہوا ہے جو نہ مسلم تھے نہ عرب، اس لیے بجائے اسی کو بجنسہ لے آنے کے اس کا ترجمہ ” خدا “ درج کیا گیا۔ 266 ۔ (آیت) ” عندربکم ‘ کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کے دن اور آخرت میں تمہیں قائل کریں گے، چناچہ ایک گروہ نے یہی معنی لیے ہیں۔ المراد یحاجوکم یوم القیمۃ (کبیر۔ عن الاصم) اے عندربکم یوم القیمۃ (جلالین) لیکن زیادہ لگتے ہوئے معنی یہ ہیں کہ اسی دنیا میں تم پر حجت قومی قائم کردیں گے۔ اور (آیت) ” عندربکم یہاں عنداللہ “ کی طرح حجت قوی ومعروف کے معنی میں ہے۔ اس لیے کہ اول تو یہود عالم آخرت کے پوری طرح قائل نہ تھے۔ دوسرے وہاں حجت قائم کرنے کے لیے کسی ایسے ظاہری سہارے کی ضرورت بھی نہ تھی۔ وہاں تو کشف حقائق از خود ہو کر رہے گا، اس لیے یہاں گویا احتجاج بہ کتاب اللہ کو عنداللہ سے تعبیر کیا ہے۔ اور یہ امر قدیم ائمہ تفسیر کی عظمت پر بس کرتا ہے، کہ انہوں نے یہود کے عقائد متعلق بہ آخرت کا پورا علم رکھے بغیر بھی یہی پہلو اختیار کرلیا ہے۔ ھو فی کتاب اللہ ھکذا وھو عند اللہ ھکذا بمعنی واحد (کشاف) اے فی حکم اللہ (کبیر۔ عن القفال) قیل ھذا علی اضمار المضاف اے عند کتاب ربکم (مدارک) لیحتجوا علیکم بما انزل ربکم فی کتابہ (بیضاوی) اے فی کتابہ وحکمہ (روح) 267 ۔ (جو مسلمانوں کو اپنے رازوں سے اپنی زبان سے واقف کئے دیتے، اور ان کے ہاتھوں میں اپنے خلاف ہتھیار دیئے دیتے ہو) اب جاکر اکابر یہود کی تقریر اپنے ہم قوموں سے ختم ہوئی۔
Ayah 2:77

اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 2:77 in the Quran reader

کیا یہ (اتنا بھی) نہیں جانتے کہ اللہ کو اس کی بھی خبر ہے جسے یہ چھپاتے ہیں، اور اس کی بھی جسے یہ جتلاتے ہیں ؟268 ۔

268 ۔ اور وہی اللہ جب چاہے رسول ﷺ اور مومنین کو اطلاع دے سکتا ہے۔ ) موٹی سی بات ہے کہ اللہ کے لیے ایسے امور کی اطلاع اپنے پیغمبر کو دے دینا مشکل ہی کیا تھا، لیکن بےمغز یہود اس امکان ہی کی طرف اپنا ذہن نہیں لے جاتے تھے کہ شاید اس مدعی نبوت کا تعلق خدائے تعالیٰ کے ساتھ واقعی کچھ ہو ! ٹھیک اسی طرح جیسے آج بےمغز فرنگی اس امکان ہی کی طرف ذہن نہیں لے جاتے کہ کہیں قرآن انسانی تصنیف کے بجائے واقعی خدا ہی کی کتاب نہ ہو۔
Ayah 2:78

وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 2:78 in the Quran reader

اور ان میں ان پڑھ (بھی) ہیں جو کتاب (الہی) کا کوئی علم نہیں رکھتے بجز جھوٹی آرزوؤں کے اور یہ محض تخیلات میں پڑے رہتے ہیں،269 ۔

269 ۔ (کہ ہمارے بزرگ ہمیں بخشوالیں گے “۔ ” ہم خدا کے خاص محبوبوں کی اولاد ہیں ہمیں کیا غم “۔ وغیرہ) اشارہ اسی قسم کے خرافات عقائد کی طرف معلوم ہوتا ہے۔ یہ ذکر عوام یہود کا ہے۔ یہ عوام کا لانعام، پڑھے نہ لکھے، باپ دادا کی لکیر کے فقیر، اپنی دل کی گڑھی ہوئی آرزوؤں اور دل خوش کن روایتوں میں پڑے مست رہتے تھے۔ انجیل میں کہیں تو مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے اور اس سے پڑھ کر پولوس کی زبان سے یہود کی انہیں باطل پرستیوں اور حماقت نوازیوں کا ذکر بار بار آیا ہے۔ (آیت) ” امانی “ امنیۃ کی جمع ہے۔ ایک معنی تو یہ ہیں کہ محض اپنی آرزوؤں کو پالتے رہتے ہیں، جنہیں واقعیت و حقیقت سے اصلا تعلق نہیں۔ امنیۃ ماتخیلۃ الانسان (کبیر) التمنی فی ھذا الموقع ھو تخلق الکذب وتخرصہ (ابن جریر) دوسرے معنی یہ کیے گئے ہیں کہ یہ چھوٹی روایتوں، بےثبوت وبے سند خرافات میں پڑے رہتے ہیں۔ اور یہ معنی اکثر اکابر سے منقول ہیں۔ اکاذیب مختلفۃ سمعوھا من علماءھم فنقلوھا علی التقلید (بحر۔ عن ابن عباس ؓ ومجاوالقراء)
Ayah 2:79

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 2:79 in the Quran reader

سو (بڑی) خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جو کتاب (الہی) کو اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں، پھر کہہ دیتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے270 ۔ تاکہ اس سے قدرے قلیل معاوضہ حاصل کریں،271 ۔ سوخرابی ہے ان کے لیے اس کی بدولت جو وہ اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں،272 ۔ اور خرابی ہے ان کے لیے اس کی بدولت جو وہ حاصل کرتے ہیں،273 ۔

270 ۔ پچھلی آیت میں ذکر عوام یہود کا تھا، اب ذکر خواص اکابر یہود کا ہے، توریت کی تحریف اب کوئی اختلافی یا نزاعی مسئلہ نہیں، دوست دشمن سب ہی کو اب تسلیم ہوچکا ہے کہ یہ کلام الہی نہیں اور اس کے دوست زیادہ سے زیادہ یہ کہتے ہیں کہ یہ خدا رسیدہ انسانوں کی تصنیف ہے۔ کسی جامد یہودی میں بھی اب یہ ہمت باقی نہیں کہ توریت کو قرآن مجید کی تنزیل لفظی قرار دے۔ اب زیادہ سے زیادہ جو کہا جاتا ہے وہ یہ کہ خاصان خدا نے الہام خداوندی سے مشرف ہو کر اسے اپنے طور پر اور اپنی عبارت میں ترتیب و تالیف دیا۔ اور خدائے تعالیٰ کی جانب اس کا انتساب صرف مجازا یا بالواسطہ ہے، حقیقی اور براہ راست کے مفہوم میں نہیں۔ پھر وقتا فوقتا جو تصحیفات ہوتی رہی ہیں، وہ بالفرض کسی مصلحت یا ضرورت ہی سے ہوئی ہوں، بہرحال نفس ان کے وقوع کا اعتراف کھلے خزانے سب کو ہے اور بائبل کی تنقید Higher Criticism ایک مستقل فن کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ جرمن فرنچ، انگریزی وغیرہ میں چھوٹی بڑی صدہا بلکہ ہزار ہاکتابیں اس موضوع پر تیار ہوچکی ہیں، اور مقالات ومضامین کا تو شمار ہی نہیں۔ پھر فن بھی مختلف شاخوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ انتقاد متن Textual, Criticism انتقاد تاریخی Historical Criticism وغیرہ اور ہر شاخ کے الگ الگ ماہرین پیدا ہورہے ہیں۔ کاش سید احمد خان مرحوم (اللہ ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے) آج زندہ ہوتے اور اپنی آنکھوں سے دیکھتے کہ یہود ونصاری کی طرف سے جس الزام کی صفائی خواہ مخواہ انہوں نے اپنے سر لے رکھی تھی، اس جرم کا اقبال اب کھلے لفظوں میں وہی لوگ کس کثرت سے کررہے ہیں ! یورپ اب جا کر چونکا ہے، اور یہ فن ابھی پچھلی صدی، انیسویں صدی سے پیدا ہوا ہے۔ عرب کے امی ﷺ کے لائے ہوئے کلام کا یہ اعجاز ہے کہ اس نے تیرہ صدی پیشتر ہی اہل کتاب کی ” کتاب “ (جو لفظی ترجمہ ہے بائبل کا) کو تمامتر محرف وناقابل اعتماد قرار دے دیا تھا ! اللہ کا لفظ یہاں بھی یہود کی زبان سے ادا ہوا ہے۔ ، اس لیے ترجمہ یہاں ” خدا “ سے کیا گیا۔ 271 ۔ امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ آیت کے اندر دو حقیقتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ایک یہود کی انتہائی شقاوت قلب کی جانب کہ کلام ربانی تک میں تحریف سے نہ چوکے۔ دوسرے اس امر کی طرف کہ اس تحریف سے بھی مقصود کوئی خدمت دین نہ تھی، تمامتر تحصیل جاہ ومال ہی تھی، (آیت) ” ثمنا “۔ ثمن کے معنی صرف نقدیا زر قیمت کے نہیں، بلکہ جو چیز بھی کسی چیز کے معاوضہ میں حاصل ہو وہ اس کی ثمن ہے۔ کل ما یحصل عوضا عن شیء فھوثمنہ (راغب) مفسرین نے بھی اسے یہاں اسی وسیع مفہوم، یعنی مطلق دنیوی معاوضہ کے معنی میں لیا ہے۔ الثمن ھنا ھو عرض الدنیا (بحر) (آیت) ” قلیلا “ کلام ربانی کی تصحیف وتحریف جیسے شدید وعظیم جرم سے جو بھی مادی نفع کسی قسم کا بھی حاصل ہوگا، ظاہر ہے کہ وہ حقیر وبے وقعت ہی ہوگا، بعض خشک اہل ظاہر نے آیت کے ظاہر الفاظ پر جاکر یہ فتوی دے دیا ہے کہ قرآن مجید کی خرید وفروخت دونوں ناجائز ہیں۔ لیکن مذہب صحیح یہ ہے کہ دونوں بالکل جائز ہیں۔ بیع وشرایہاں جو کچھ بھی ہوتی ہے، وہ کاغذ، کتابت وغیرہ کی ہوتی ہے، نہ کہ ” ایات اللہ “ کی۔ آیت سے اگر کوئی وعید لازم آتی ہے تو وہ جھوٹے مسئلہ بتانے والے اور موضوع حدیثیں بیان کرنے والوں کے حق میں ہے۔ 272 ۔ قرآنی اور اسلامی میعار صداقت ودیانت سے ہر تصحیف موجب لعنت ہے اور حد سے بڑھی ہوئی جسارت ، ، اور اسی لیے یہ بات مسلمانوں کی سمجھ میں آتی نہیں کہ کوئی شخص کسی کلام کو کلام الہی مان کر اس میں دخل و تصرف کی نیت کر کیسے سکتا ہے۔ لیکن دوسری قومیں اس معیار ہی سے ناآشنا ہیں، بلکہ بعض اہل کتاب کے ہاں تو بھلائی کے لیے ہر برائی درست، اور ” خدا کی سچائی “ اور ” خداوند کے جلال “ کے اظہار کے لیے ہر جھوٹ جائز، آج دنیا میں مسیحیت کے نام سے جو تثلیثی شرک پھیلا ہوا ہے۔ اس مذہب کے بانی پولوس صاحب Paul اسرائیلی ہوئے ہیں۔ آپ کا یہ مقولہ آج تک انجیل مروج میں لکھا چلا آرہا ہے :۔” اگر میرے جھوٹ کے سبب سے خدا کی سچائی اس کے جلال کے واسطے زیادہ ظاہر ہوئی تو پھر کیوں گنہگار کی طرح مجھ پر حکم دیا جاتا ہے ؟ اور ہم کیوں نہ برائی کریں تاکہ بھلائی پیدا ہو ؟ “ (رومیون۔ 3؛7) 273 ۔ (اپنی تحریفی جسارتوں سے) (آیت) ” ممایکسبون “ سے مراد کیا ہے ؟ یعنی وہ کیا چیز ہے جو وہ اپنی ان حرکتوں سے حاصل کرتے رہتے ہیں ؟ اس کے دو جوابات دیئے گئے ہیں اور دونوں اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے گناہوں کا ذخیرہ مراد ہے۔ یعنی وہ لوگ اپنی ان حرکتوں سے اپنے معاصی ہی کا انبار بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ یقال من المعاصی (معالم) والمراد بذلک سائر معاصیھم (کبیر) دوسرے یہ کہ جو مالی نفع وہ اپنی غرض مندانہ تحریف اور (بہ قول خود) دروغ مصلحت آمیز سے حاصل کرتے ہیں وہ یہاں مراد ہے۔ یصیبون من الحرام والرشوۃ (ابن عباس ؓ اے مما اکلوابہ من السحت (ابن کثیر) المال الماخوذ علی ھذا الوجہ (کبیر) یریدبہ الرشی (بیضاوی) ۔
Ayah 2:80

وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:80 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کو تو دوزخ کی آگ چھوئے گی بھی نہیں بجز چند گنے چنے دنوں کے،274 ۔ آپ کہیے کیا تم اللہ کے ہاں سے کوئی وعدہ پاچکے ہو، جو اللہ اب اپنے وعدہ کے خلاف نہ کرے گا ؟ ) یا (یوں ہی) اللہ پر وہ جوڑ رہے ہو جس کا علم تم نہیں رکھتے،275 ۔

274 ۔ اور یہ چند دن وہی ہیں، جیسا کہ پادری راڈول نے اپنے انگریزی ترجمہ قرآن کے حاشیہ میں اکابر یہود کے حوالہ سے لکھا ہے، جن میں قوم اسرائیل گوسالہ پرستی میں مبتلا رہی تھی، یعنی کوئی 40 دن۔ اور یہی بات ہمارے بعض ائمہ تفسیر نے بھی نقل کی ہے :۔ قد راربعین یوما التی عبد فیھا اباؤنا العجل (ابن عباس ؓ اور ایک دوسرے مسیحی مترجم قرآن، سیل ‘ یہ مدت گیارہ مہینہ یا ایک سال نقل کی ہے۔ اسی طرح ایک میعاد سات دن کی بھی نقل ہوئی ہے۔ بہرحال وہ تھی کوئی محدود و متعین مختصر ہی سی مدت۔ بلکہ بعض یہودی ماخذوں سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اسرائیل اپنے کو آتش دوزخ کی زد سے بالکل ہی باہر اور محفوظ سمجھ رہے تھے، چناچہ جیوش انسائیکلوپیڈیا میں یہ عقیدہ یوں نقل ہوا ہے :۔ ” آتش دوزخ گنہگار ان قوم یہود کو چھوئے گی بھی نہیں۔ اس لیے کہ وہ در جہنم پر پہنچتے ہی اپنے گناہوں کا اقرار کرلیں گے اور خدا کے پاس واپس آجائیں گے “۔ (جلد 5 صفحہ 583) اور یہود کا بڑے مقدس نوشتہ تالمود کے انتخابات کا جو مجموعہ انگریزی میں ڈاکٹر کو ہن Kohen کا مرتب کیا ہوا Series Everymans Library میں شائع ہوا ہے۔ اس میں یوں آیا ہے :۔ ” قیامت کے دن ابراہیم دردوزخ پر تشریف رکھتے ہوں گے اور کسی مختون اسرائیلی کو اس میں نہ گرنے دیں گے۔ “ (صفحۃ 4 ۔ 4) ” جہنم کی آگ اسرائیلی گنہگاروں پر کوئی قدرت نہیں رکھتی۔ “ (صفحۃ 405) حاصل یہ کہ بنی اسرائیل اپنی قوم کو خدا کی لاڈلی اور دلاری سمجھے ہوئے تھے اور اس پر حد سے زیادہ نازاں تھے، یہود کی زبان سے اس سلسلہ میں ” ہم “ صیغہ جمع متکلم جہاں جہاں بھی آیا ہے، اجتماعی معنی رکھتا ہے یعنی مراد قوم اسرائیل ہے۔ 275 ۔ یہود سے بطور حجت الزامی سوال ہورہا ہے کہ یہ جو اپنی قوم کی محبوبیت خاصہ کا عذاب آخرت سے محفوظیت کا، عدم مسؤلیت کا عقیدہ تم نے اپنے دل میں جمارکھا ہے۔ تو آخر یہ یوں ہی اپنے دل سے گڑھ لیا ہے، یہ اس کی کوئی سند بھی اپنے مقدس نوشتوں میں دکھا سکتے ہو ؟ آخر یہ اعتبار کہاں سے قائم کرلیا ہے ؟ (آیت) ” تقولون علی اللہ “ قال کا صلہ جب علی کے ساتھ آتا ہے تو معنی ہوتے ہیں کسی پر کوئی بات جوڑلی، کسی پر بہتان باندھ دیا۔ قال علیہ اے افتری (تاج)
Ayah 2:81

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ اصل یہ ہے کہ جو کوئی بھی بدی اختیار کرے گا اور اس کا گناہ اس کو گھیر لے گا سو یہی لوگ اہل دوزخ ہیں،276 ۔ اس میں ہمیشہ پڑے رہنے والے،277 ۔

276 ۔ نجات وعدم نجات کا اصل قانون اب بیان ہورہا ہے کہ اسے نسل وقوم سے کوئی واسطہ ہی نہیں (آیت) ” احاطت بہ خطیتہ۔ “ قصدا بدی کی راہ اختیار کرنا اور معصیت سے پوری طرح گھر جانا کہ خود ایمان کے لیے گنجائش ہی باقی نہ رہ جائے، صرف انہیں کے لیے ممکن ہے جو سرے سے اہل باطل ہوں ، ، اور ان کی موت کفر اور بےدینی ہی پر آئے۔ مومن کیسا ہی بدعمل ہو بہرحال اس آیت کا مصداق تو نہ ہوگا۔ کم ازکم زبان سے اقرار اور قلب سے تصدیق کا درجہ تو اسے حاصل ہی ہوگا۔ تمام اکابر اہل سنت نے یہاں مراد کفر ہی سے لی ہے۔ اے اشرک باللہ ومات علیہ (ابن عباس ؓ السیءۃ الکفر والشرک قال ابن عباس ؓ ومجاہد “ (بحر) المومنون لایدخلون فی حکم ھذہ الایۃ (معالم۔ عن الواحدی) فاما اؔ ذا مات مومنا فاعظم الطاعات وھو الایمان معہ فلایکون الذنب محیطا بہ فلا یتناولہ النص (مدارک) بعض اہل باطل (معتزلہ دخوارج وغیرہ) نے آیت سے جو مومن عاصی کی عدم مغفویرت پر استدلال کرنا چاہا ہے، وہ صریحا باطل ہے۔ 277 ۔ خلود کے معنی اگرچہ مدت طویل کے بھی ہیں۔ لیکن اہل دوزخ اور اہل جنت کے سلسلہ میں جہاں جہاں اس لفظ کا استعمال قرآن مجید میں ہوا ہے، اہل سنت کا اجماع ہے کہ اس سے مراد دوام یا ہمیشگی ہے، اور اس کی تاکید وتائید میں قرآن مجید میں (آیت) ” خلدین فیھا “ کے ساتھ ساتھ جابجا ابدا بھی آیا ہے۔ والمراد بالخلودالدوام (روح) ومن الناس من حمل الخلود علی اصل الوضع وھو اللبث الطویل لیس بشی لان فیہ تھوین الخطب فی مقام التھویل مع عدم ملائمتہ حمل الخلود فی الجنۃ علی الدوام (روح) ۔
Ayah 2:82

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں تو یہی لوگ اہل جنت ہیں اس میں ہمیشہ رہنے والے،278 ۔

278 ۔ دونوں آیتوں میں نجات کا پورا قانون ایجازواختصار کے ساتھ آگیا کہ نجات کونسل وقوم سے کوئی تعلق نہیں، جو کوئی اپنے قصد واختیار سے بدعقیدگی وبدکرداری کی راہ پر چلے گا۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور جو کوئی اپنے قصد واختیار سے ایمان وعمل صالح کی روش کا انتخاب کرے گا ، ، اس کی منزل جنت ہے۔ (آیت) ” اولئک۔ فاولئک “ اوپر کی آیت کے الفاظ تھے (آیت) ” فاولئک اصحب النار “ اور اس آیت میں ہیں (آیت) ” اولئک اصحب الجنۃ “ گویا ایک ہی قسم کا حکم لگانے میں ایک جگہ (آیت) ” اولئک۔کے ساتھ ہے اور ایک جگہ بغیرکے، یہ فرق گوخفیف سا ہے اور لفظی بھی نہیں محض حرفی ہے، لیکن اتنا فرق بھی آخرکیوں ؟ اہل تحقیق نے جواب میں کہا ہے کہ پہلا موقع وعید کا تھا اہل جہنم کے لیے اور وعید میں امکان خلف وعید کا ہے، اس لیے اس پر زور دیا گیا ہے۔ اور دوسرے موقع پر صرف وعدہ تھا اہل جنت سے، جس کے خلف کا کوئی امکان ہی نہیں۔ اس لیے محض ” اولئک “ بغیرکے بالکل کافی تھا۔ اور دوسرا جواب اس کے برعکس یہ بھی دیا گیا ہے کہ اہل نحو کہتے ہیں کہ اس فقرہ من دخل داری فاکرمہ میں اس کا امکان رہ جاتا ہے کہ گھر میں داخل ہونے والے کا اکرام نہ بھی کیا جائے، لیکن دوسرے فقرہ من دخل داری اکرمہ میں اکرام کرنا یقینی ہوجاتا ہے۔ عدم اکرام کا احتمال نہیں باقی رہتا۔ اسی نمونہ پر قرآنی فقرے میں نیک کاروں کو جنت ملنا بالکل یقینی ہے (روح) (آیت) ” الذین امنوا وعملوا الصلحت “ کی جو ترتیب یہاں ہے، یہ قرآن نے ہر جگہ اور بڑی کثرت سے ملحوظ رکھی ہے۔ اور اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ گوعمل صالح اپنی جگہ پر نہایت اہم اور ضروری ہے لیکن ایمان اس سے بھی اہم تر ہے، اور بغیر ایمان کے مجرد عمل صالح کے کوئی معنی ہیں نہیں۔ ایمان کی حقیقت نیت عمل اور فکر کی تصحیح ہے۔ اور قرآن مجید نے بالکل فطری ترتیب کے مطابق تصحیح فکر کو تصحیح عمل پر مقدم رکھا ہے۔ محض عمل، اگر نیت سے قطع نظر کرلی جائے تو صرف صورت عمل رہ جاتا ہے۔ حقیقت عمل نہیں۔
Ayah 2:83

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 2:83 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا،279 ۔ کہ عبادت نہ کرنا (کسی کی) بجز اللہ کے،280 ۔ اور حسن سلوک سے پیش آنا (اپنے) ماں باپ سے اور قرابت داروں اور یتیموں اور محتاجوں (سے بھی) ،281 ۔ اور لوگوں سے (بالعموم) بھلی بات کہنا،282 ۔ اور نماز قائم رکھنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا،283 ۔ پھر تم (سب ان احکام سے) پھرگئے بجز تم میں سے (معدودے) چند کے اور تم ہی ہو گردن کش،284 ۔

279 ۔ (ان کے پیغمبروں کے واسطہ سے) عہد، جب اس کا تعلق خدائے تعالیٰ سے ہوتا ہے، محاورۂ توریت میں حکم کے معنی میں آتا ہے۔ مثلا ” اور اس نے اپنا عہد تمہارے آگے بیان کیا جس پر عمل کرنے کا حکم بھی اس نے تمہیں دیا۔ یعنی دس احکام “۔ (استثناء 4: 13) بعض شارحین قرآن نے بھی یہاں ’ عہد لینے “ کو ” حکم دینے “ کے معنی میں لیا ہے۔ اے امرنا بذلک (ابن قتیبہ) 280 ۔ توریت اثبات توحید وممانعت شرک سے بھری پڑی ہے۔ صرف دو ایک مقام بہ طور نمونہ ملاحظہ ہوں :۔ ” میرے حضور تیرے لیے دوسرا خدا نہ ہو وے۔ تو اپنے لیے کوئی مورت یا کسی چیز کی صورت جو اوپر آسمان پر یا نیچے زمین پر یا پانی میں زمین کے نیچے ہے مت بنا۔ تو ان کے آگے اپنے تئیں مت جھکا اور نہ ان کی عبادت کر “۔ (خروج۔ 20:2 ۔ 5) ’ میرے آگے تیرا دوسرا خدا نہ ہو وے۔ تو اپنے لیے تراشی ہوئی مورت یا کسی چیز کی صورت جو اوپر آسمان پر یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے مت بنا۔ تو انہیں سجدہ نہ کر نہ ان کی بندگی کر “۔ (استثناء۔ 5:7، 8) ” سن لے اے اسرائیل خداوند ہمارا خدا اکیلا خداوند ہے “۔ (استثناء۔ 6:4) ” تم اور معبودوں کی قوموں کے معبودوں میں سے جو تمہارے آس پاس ہیں پیروی نہ کرو، کیونکہ خداوند تیرا خدا جو تمہارے درمیان ہے غیور خدا ہے۔ نہ ہو کہ خداوند تیرے خدا کے قہر کی آگ تجھ پر بھڑکے اور تمہیں روئے زمین سے فنا کردے۔ “ (استثناء۔ 6: 14، 15) (آیت) ” تعبدون۔ صورۃ صیغہ مضارع ہے، لیکن معنی امر ہے۔ ھو اخبار فی معنی النھی (کشاف) بلکہ امر صریح سے بلیغ تر ہے۔ یعنی اس سے یہ نکلتا ہے کہ گویا اس حکم کی تعمیل ہوچکی۔ وھو ابلغ من صریح الامر والنھی لانہ کانہ سورع الی الامتثال (کشاف) ھوا ابلغ من صریح النھی لما فیہ من ابھام ان المنھی سارع الی الانتھاء فھو یخبر عنہ (بیضاوی) ۔ 281 ۔ اس سے ملتے جلتے احکام توریت موجودہ میں اب بھی موجود ہیں :۔ ” تو اپنے ماں باپ کو عزت دے “۔ (خروج۔ 20: 12) ” اپنے باپ اور اپنی ماں کو عزت دے۔ جیسا خداوند تیرے خدا نے فرمایا ہے۔ “ (استثناء 5: 16) ” اور اپنے مفلس بھائی کی طرف سے اپنے ہاتھ مت بند کیجیو۔ بلکہ تو اس پر اپنا ہاتھ کشادہ رکھیو، اور کسی کام میں جو وہ چاہے بہ قدر اس کی احتیاج کے ضرور اس کو قرض دیجیو۔ “ (استثناء۔ 15:8، 9) ” اور مسافر اور یتیم اور بیوہ جو تیرے پھاٹکوں کے اندر ہیں۔ آویں اور کھاویں اور سیر ہو ویں۔ “ (استثناء۔ 14:29) ” مسکین زمین پر سے کبھی جاتے نہ رہیں گے۔ اس لیے یہ کہہ کے میں تجھے حکم کرتا ہوں کہ تو اپنے بھائی کے واسطے اور اپنے مسکین کے لیے اور اپنے محتاج کے واسطے جو تیری زمین پر ہے اپنا ہاتھ کشادہ رکھیو۔ “ (استثناء۔ 15: 1 1) 282 ۔ یعنی عام طور پر لوگوں سے حسن گفتار کو قائم رکھو، اے (آیت) ” قولواللناس “ مقالۃ حسنۃ (بحر) قولوا لھم القول الطیب “ (بحر۔ عن ابی العالیۃ) بات چیت میں اچھی طرح پیش آتے رہنا سہل ترین اور ادنی فریضہ انسانیت ہے۔ اس لیے یہ حکم عام ہے۔ یعنی خوش خلقی سے سب ہی کے ساتھ پیش آتے رہنا چاہیے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس حکم کی تعمیم آیات قتال سے منسوخ ہوگئی۔ لیکن حضرت ابو جعفر باقررحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ یہ حکم اب بھی عام ہے، تحدید و تخصیص پر کوئی دلیل نہیں، اور یہی مذہب قوی ہے۔ زعم ابو جعفر محمد بن علی الباقران ھذا العموم باق علی ظاہرہ وانہ لا حاجۃ الی التخصیص وھذا ھو الاقوی (کبیر) توریت موجودہ میں اب حسن سلوک کے جتنے بھی احکام ملتے ہیں ان کا دائرہ محدود ہے بنی اسرائیل کے ساتھ۔ اس لیے یا تو اس حکم کو اہل توریت نے بدل ڈالا۔ اور یا حکم ہے ہی خاص شریعت محمدی ﷺ کا حکم، جیسا کہ متعدد اہل تفسیر کا گمان ہے۔ 283 ۔ صلوۃ، اقامت صلوۃ، زکوٰۃ، اب یہ سب مخصوص اسلامی اصطلاحیں ہیں۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ اسرائیلیوں کو یہ سب احکام ملے تھے، وہ تھے انہیں عبادتوں سے متعلق لیکن ان کی مخصوص بولی میں اور ان کے حالات وماحول کے مطابق، خدا کی راہ میں خرچ کرنے اور دعا اور عبادت کی تاکید اب بھی توریت میں مختلف عنوانات سے موجود ہے۔ 284 ۔ ؛ چند شہادتیں اسی مضمون کی خود توریت سے ملاحظہ ہوں :۔ ” وہ اس راہ سے جو میں نے انہیں فرمائی جلد پھرگئے “۔ (خروج۔ 32:8) ” میں اس قوم کو دیکھتا ہوں کہ ایک گردن کش قوم ہے “۔ (خروج، 32:9) ” اس لیے کہ تم گردن کش لوگ ہو “۔ (خروج۔ 33:3) ” بنی اسرائیل کو کہہ دو کہ تم گردن کش لوگ ہو “۔ (خروج۔ 33:5) یہ چند حوالے صرف نمونہ کے طور پر دیئے گئے۔ ورنہ توریت کا تو یہ ایک خاص موضوع ہے۔
Ayah 2:84

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 2:84 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ اپنوں کا خون نہ بہانا،285 ۔ اور اپنے لوگوں کو اپنے وطن سے مت نکالنا پھر تم نے اس کا اقرار کرلیا اور تم (اس کے) گواہ ہو،286 ۔

285 ۔” عہد لیا “ یہاں بھی ” حکم دیا “ کے معنی میں ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 279 خونریزی کی ممانعت توریت مروجہ میں بھی متعدد مقامات پر ملتی ہے۔ مثلا :۔ ” تو خون مت کر “ (خروج۔ 20: 13) بےگناہ کا لہو تیری زمین پر جسے خداوندتیرا خدا تیری میراث کردیتا ہے، بہایا نہ جائے کہ خون تجھ پر ہو “۔ (استثناء۔ 19: 10) 286 ۔ یعنی ان احکام کی اطاعت کا اقرار تم نے صاف صاف کیا، جو آج تک تمہارے نوشتوں میں لکھا چلا آتا ہے، اور تمہیں اس سے مجال انکار نہیں، توریت میں ہے :۔ ” وہ بولے کہ سب کچھ جو خداوند نے فرمایا ہے ہم کریں گے اور تابع رہیں گے “۔ (خروج۔ 24:7)
Ayah 2:85

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:85 in the Quran reader

پھر تم ہی وہ ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کرتے ہو، اور اپنے ہی ایک گروہ کو ان کے وطن سے نکال بھی دیتے ہو (اور) ان کے مقابلہ میں گناہ وظلم کے ساتھ (ان کے مخالفین کی) مدد بھی کرتے ہو،287 ۔ اور اگر وہ تم تک اسیر ہو کر پہنچ جاتے ہیں تو تم انہیں فدیہ دیکر چھڑا لیتے ہو،288 ۔ حالانکہ ان کا (وطن سے) نکالنا ہی تم پر حرام تھا،289 ۔ تو کیا تم کتاب کے ایک حصہ کو مانتے ہو اور ایک حصہ سے انکار کرتے ہو ؟ ،290 ۔ پس تم میں سے جو ایسا کرے اس کی سزا کیا ہے بجز دنیوی زندگی میں رسوائی کے ؟ ،291 ۔ اور قیامت کے دن یہ سخت ترین عذاب میں ڈالے بھی جائیں گے،292 ۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں،293 ۔

287 ۔ یہود کے جو قبیلے عہد نبوی میں، مدینہ اور جوار مدینہ میں آباد تھے، ان کی ایک عادت یہ بھی تھی کہ باہم خانہ جنگیوں میں مصروف رہا کرتے تھے، مشرکین مدینہ دو بڑی ٹکڑیوں میں، آج کل کی ” مہذب “ فرنگی قوموں کی طرح بٹے ہوئے تھے۔ ایک اتحاد اوس کا تھا دوسرا خزرج کا۔ اسرائیلیوں کے بھی بڑے قبیلے بنی نضیر اور بنی قریظہ یہی کیا کرتے کہ ان میں سے ایک مشرکوں کے ایک جتھے کے ساتھ ہوجاتا اور دوسرا مشرکوں کی دوسری پارٹی کے ساتھ اور پھر جنگ جب شروع ہوجاتی تو ؔ ظاہر ہے کہ وہ سب ہی کچھ ہوتا جو جنگ میں ہوا کرتا ہے۔ جلا وطنی اسرائیلی کا قتل اسرائیلی کے ہاتھ سے، وغیرہا۔ ؛ یہاں عہد نبوی کے معاصر اسرائیلیوں کے یہی خصوصیات بےنقاب کیے جارہے ہیں۔ (آیت) ” بالاثم والعدوان “ یہ ٹکڑا بڑھا کر قرآن نے بتلا دیا کہ پھر یہ نہیں کہ اس خانہ جنگی اور مشرک نوازی کی بنیاد کسی جذبہ صادق و صحیح اور حسن نیت واخلاص پر ہو، بلکہ تمامتر جن اخلاقی گندگیوں میں دنیوی اہل سیاست عموما مبتلا رہتے ہیں، اور مشرکین خاص طور پر مبتلا تھے، وہی ان محاربات کا باعث تھیں۔ جیوش انسائیکلوپیڈیا میں آج بھی یہ درج ہے کہ جنگ بعاث مشرکین کی باہمی جنگ تھی، یہود اس میں فریقین کی جانب سے شریک ہوگئے اور نمایاں حصہ لیا۔ بنی نضیر اور بنی قریظہ نے اوس کا ساتھ دیا، اور بنی قینقاع خزرج کی حمایت میں نکل پڑے۔ جنگ نے طول کھینچا اور بڑے گھمسان کارن پڑا۔ بالآخرشکست خزرج کے فریق کو ہوئی (جلد 8 ۔ ؔ صفحہ 423) اسی انسائیکلوپیڈیا میں یہ تصریح بھی موجود ہے کہ یہودی قبیلے مشرکین مدینہ کے ساتھ شادی بیاہ کرتے تھے، اور جنگ میں دونوں فریقوں کے شریک ہوجاتے تھے “۔ 288 ۔ (اور اس کو اپنے نزدیک دینداری کا بڑا کارنامہ سمجھ کر اس پر فخر کرتے اور احسان جتاتے ہو) 289 ۔ توریت محرف میں بھی آج تک اسی قسم کے احکام لکھے چلے آتے ہیں :۔ ” تو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ مت کر “ (خروج۔ 20: 17) لیکن بالفرض کوئی صراحت اس قسم کی نہ ملے جب بھی کسی کو بلاعذر شرعی وطن سے بےوطن کرنا شقاوت کی انتہائی صورت ہے۔ 290 ۔ (آیت) ” الکتب “ سے اس سیاق میں مراد ظاہر ہے کہ اسرائیلیوں ہی کی آسمانی کتاب توریت ہے۔ حجت الزامی یہود پر قائم ہورہی ہے کہ قرآن پر ایمان لانا تو الگ رہا تو خود توریت ہی کے کب پابند ہو ؟ بلکہ جس بےباکی سے تمہارے اکابر اس کے بعض احکام کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ اس سے تو صاف یہی معلوم ہوتا ہے کہ تم اپنے اوپر حجت اور اپنے لیے واجب العمل توریت کے صرف بعض ہی اجزاء کو سمجھتے ہو، اور بعض اجزا پر تمہارا ایمان ہی نہیں۔ 291 ۔ پیشگوئی چند ہی روز میں لفظ بہ لفظ پوری ہو کر رہی۔ حجاز میں یہ ود کے تین زبردست قبیلے رہتے تھے بنی نضیر، بنی قریظہ، بنی قینقاع، تینوں دولت ، ، وجاہت، قوت، علم وہنر میں ممتاز تھے۔ تینوں چند سال کی مختصر مدت میں رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارک ہی میں تہس نہس ہو کر رہے۔ 292 ۔ اسرائیلیوں کے جہنم کی وعید خود ایک اسرائیلی بنی اور سلسلہ انبیاء بنی اسرائیل کے خاتم، حضرت مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے بھی منقول ہے۔ انجیل موجودہ میں ہے :۔” تم اپنی نسبت گواہی دیتے ہو کہ ہم نبیوں کے قاتلوں کے فرزند ہیں۔ غرض اپنے باپ دادوں کا پیمانہ بھردو، اے سانپو، اے افعی کے بچو، تم جہنم کی سزا سے کیوں کر بچو گے ، ؟ “ (متی 23:24) 293 ۔ (اور وہ سب کو سزا مناسب وقت پر دیتا ہے یا آخرت میں ضرور دے گا) آیت میں اشارہ ہے یہود کے خفیہ طریق کار اور سازشی کارروائیوں اور ریشہ دوانیوں سے متعلق۔
Ayah 2:86

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ Open ayah 2:86 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جنہوں نے دنیوی زندگی خریدد لی ہے آخرت کے معاوضہ میں،294 ۔ سو ان پر سے نہ عذاب ہلکا کیا جائے گا،295 ۔ اور نہ انہیں مدد ہی پہنچے گی،296 ۔

294 ۔ حالانکہ آخرت کا سودا بھی بہت ارزاں تھا۔ ایمان وطاعت سے اسے بہ آسانی خرید سکتے تھے) یہود کی مذہبی کتابوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں فکراخروی باقی ہی نہیں رہ گئی تھی، ان کے مقدس مذہبی نوشتوں تک کی تعلیمات کا خلاصہ صرف یہ رہ گیا تھا کہ مذہب کی راہ پر چلو تاکہ دنیوی فلاح حاصل ہو، قوم کو آزادی ملے، اور تم ایک اقبال مند قوم بن جاؤ۔ آخرت کی جزا وسزا، جس سے قرآن مجید بھرا پڑا ہے، اس سے حد یہ ہے کہ توریت تک تقریبا خالی ہے۔ 295 ۔ (آخرت میں) شدید ترین عذاب الہی ابھی اوپر ہی والی آیت میں آچکا ہے۔ اب تاکیدا ارشاد ہورہا ہے کہ اس بےپناہ عذاب سے رہائی پانے کا کیا ذکر ہے، تخفیف تک کی صورت اس میں ممکن نہ ہوگی۔ (آیت) ” فلا “ کیکا ترجمہ ” سو “ سے کیا گیا ہے، مقصود یہ ہے کہ یہ عذاب تکذیب انبیاء کے جرم میں اس کی نتیجہ کے طور پر اور ایمان نہ لانے کی پاداش میں ہوگا۔ 296 ۔ (کہ ان کے اکابر و اجداد ہی آکر سفارش کردیں) یہود کو بڑا غرہ اسی کا تھا کہ ہم انبیاء مقبولین کی اولاد ہیں۔ ہمیں کیا غم ہے۔ ہماری نصرت وشفاعت کے لیے ہمارے یہ اسلاف کافی ہیں۔ قرآن کو اسی لیے اس عقیدہ کی تردید بار بار کرنی پڑی۔ اور مختلف پیرایوں میں انہیں تنبیہ کی گئی کہ قانون الہی کے باغیوں کا ہمدرد و سفارشی کوئی بھی نبی یا ولی نہیں ہوسکتا۔ اور جو ایمان سے خالی ہیں ان کی امداد ونصرت کسی سمت وجہت سے بھی نہ ہوگی۔
Ayah 2:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی،297 ۔ اور ان کے پیچھے ہم نے پے درپے پیغمبر بھیجے،298 ۔ اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے روشن نشانات عطاکئے،299 ۔ اور ہم نے روح القدس (کے ذریعہ سے ان کی تائید کی300 ۔ تو کیا جب کبھی کوئی پیغمبر تمہارے پاس ان (احکام) کے ساتھ آیا جو تمہارے نفس کو نہ بھائے،301 ۔ تو تم اکڑنے لگے،302 ۔ پھر بعض کو تم نے جھٹلایا،303 ۔ اور بعض کو تم قتل ہی کرنے لگے،304 ۔

:297 ۔ (اور ایک مستقل دستور شریعت سے قوم اسرائیل کو بہ طور انعام خاص مشرف وممتاز کیا) (آیت) ” الکتب سے مراد وہی توریت ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کون تھے کس زمانہ میں تھے، یہ سب ذکر پہلے حاشیوں میں آچکا ہے۔ 298 ۔ (تمہاری ہی نسل اسرائیل میں) اسرائیلیوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بھی انبیاء کا متواتر اور بہ کثرت آتے رہنا تاریخ کا ایک مشہور ومسلم واقعہ ہے۔ حضرت یوشع نبی، حضرت داؤد نبی، حضرت زکریا نبی، حضرت یحی (علیہ السلام) نبی کے نام سے اردوخواں طبقہ بھی واقف ہے۔ متعدد انبیاء کے صحیفے کیسے ہی محرف سہی ،” عہد نامہ عتیق “ کے موجودہ مجموعہ میں شامل ہیں۔ 299 ۔ (ان کی پیغمبری وصداقت کے) (آیت) ” البینت “ اس میں دلائل، خوارق، معجزات سب آگئے۔ (آیت) ” عیسیٰ “ آپ سلسلہ انبیائے بنی اسرائیل کے خاتم ہیں، سنہ عیسوی آپ ہی کے نام سے جاری ہے، آپ کے بعد صرف نبوت محمدی ہوئی، ملک شام کے علاقہ ارض گلیل میں ایک قصبہ ناصرہ نامی ہے وہی آبائی وطن تھا، ولادت بیت المقدس کے ایک گوشہ میں ہوئی۔ خاندان یوسف بن یعقوب بن ماشان نامی ایک حکیم کا تھا، جناب یوسف لکڑی کی صنعت سے خوب واقف تھے اسی لیے یوسف نجار کے نام سے مشہور تھے، شام اس وقت رومی مملکت کا ایک نیم خود مختار صوبہ تھا۔ ؛ اور اس وقت والی شام ہیرود تھا۔ مسیحی تقویم میں 3 سال کی غلطی شروع سے چلی آرہی ہے۔ اس لیے آپ کا سال ولادت وہ نہیں جس سے مسیحی تقویم شروع ہوئی ہے۔ بلکہ اس سے تین سال بعد کا ہے۔ اس لحاظ سے کہنا یہ چاہیے کہ آپ کی ولادت 3 ء ؁ میں ہوئی۔ 33 سال کی عمر میں آپ زندہ جمہوراہل سنت کے عقیدہ کے مطابق (اور مسیحی عقیدہ کے مطابق تین دن کے لیے وفات پاکر) آسمان پر اٹھالیے گئے، (آیت) ” مریم “ مریم بنت عمران بن ماشان۔ قوم اسرائیل کے ایک بڑے معزز خاندان سے تھیں اور خود بھی بڑی باعصمت اور خوبصورت تھیں، سال وفات مسیحی روایتوں کے مطابق 48 ء ؁ ہے۔ (آیت) ” عیسیٰ ابن مریم “ ابن مریم (علیہ السلام) کے لفظ میں اشارہ ہے کہ عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) اپنی پیغمبرانہ عظمت کے باوجود محض بشر ہی تھے ، ، ایک عورت کے بطن سے پیدا۔ خدایا مثیل خدایا فرزند خدا وغیرہ کچھ بھی نہ تھے۔ 300 روح القدس۔ اسلامی اصطلاح میں مشہور، ممتاز ومقرب فرشتہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو کہتے ہیں۔ اے بجبریل (علیہ السلام) واطلاق روح القدس علیہ شائع (روح) الروح الامین سمی بہ جبریل وسماہ بروح القدس (راغب) مسیحی اصطلاح میں روح القدس ” تثلیث مقدس “ کے اقنوم ثالث کو کہتے ہیں، اس سے یہاں کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں۔ اصطلاح کے مشترک ہونے سے بعض دفعہ بڑے بڑے مغالطے اور غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش چونکہ خدواندی مصالح کے مطابق، عام بشری طریقہ سے الگ، ایک نئے قانون کے ماتحت محض مس ملکوتی سے ہوئی تھی، اس لیے عجب کیا جو بعد میں بھی آپ کو مناسبت عالم ملائکہ سے زیادہ رہی ہو۔ اور اسی مناسبت سے استفاضہ بھی ملائکہ سے زیادہ ہوتا رہتا ہو۔ (آیت) ” ایدنہ “ میں اشارہ ادھر بھی نکلتا ہے کہ آپ (علیہ السلام) اپنی بشریت کی بنا پر اعانت خداوندی کے محتاج تھے اور وہ اعانت ایک فرشتہ کے ذریعہ سے کرائی جاتی تھی۔ 301 ۔ (اور اسی طرح کے احکام تو کم وبیش سب ہی پیغمبر لائے) مخاطبت انھیں بنی اسرائیل سے ہے۔ روئے سخن دفعۃ صیغہ غائب سے صیغہ مخاطب کی طرف (یا کسی ایک صیغہ سے دوسرے کی طرف) پلٹ دینا صنع التفات کہلاتا ہے اور عربی ادب وانشاء میں یہ عیب نہیں، حسن ہے۔ قرآن مجید میں اس کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں۔ 302 ۔ (اور اس پیغمبر کی اطاعت واتباع سے عار محسوس کرنے لگے) انسان کی یہ شامت شروع سے رہی ہے کہ وحی الہی کے مقابلہ میں حاکم وقاضی وہ اپنے ہوائے نفس ہی کو رکھنا چاہتا ہے۔ اور جو احکام اسے اپنی خواہشوں یا اپنی محدود وناقص اور جذبات زدہ عقل کے منافی نظر آتے ہیں۔ جھٹ ان سے انکار اور ان کے مقابلہ میں علم بغاوت بلند کردیتا ہے، آج جس چیز کا نام ” روشن خیالی “ ہے۔ تحلیل کرکے اور خوب غور کر کے دیکھا جائے تو اس کی تہ میں بھی اصلا صرف یہی ملے گا۔ استکبار نفس اور پیغمبر کے اقتدار واتباع سے عار۔ 303 ۔ (اور ہر طرح ان کی ایذا کے درپے ہوگئے) ۔ 304 ۔ جیسے زکریا نبی، یحییٰ نبی (علیہما السلام) وغیرہما، تفصیلی حاشیہ رکوع 7 کے ذیل میں گزر چکا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کبر ہی اکثر معاصی کی نبی اد ہے۔ چناچہ یہاں قرآن نے تکذیب انبیاء وقتل انبیاء کو کبر ہی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
Ayah 2:88

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ ہمارے قلوب محفوظ ہیں،305 ۔ (نہیں) بلکہ اللہ نے ان پر لعنت کر رکھی ہے ان کے کفر کے باعث،306 ۔ اور وہ ایمان بہت ہی تھوڑا رکھتے ہیں،307 ۔

305 ۔ (اور دعوت اسلام ہمارے اوپر کچھ اثر نہیں کرسکتی۔” یہود فخریہ اور علانیہ کہتے تھے کہ یہ ” نئے پیغمبر “ کچھ بھی کر ڈالیں، ہم ان کے کہے میں نہیں آنے کے۔ ” غلف “ ممکن ہے کہ جمع غلاف کی ہو۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ ہمارے قلوب گنجینہ علوم ہیں۔ معارف موسوی سے لبریز ہیں۔ ہمیں ضرورت کسی نئی تعلیم کے قبول کرنے کی نہیں۔ ھی جمع غلاف (راغب) اے ھی اوعیۃ للعلم تنبیھا انا لا نحتاج ان نتعلم منک فلنا غنیۃ بما عندنا (راغب) یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اغلف کی جمع ہو۔ اور اغلف کہتے ہیں غیر مختون کو، اس کو جس کا ختنہ نہ ہوا ہو۔ قیل ھو جمع اغلف (راغب) مستعارا عن الاغلف الذی لم یختن (کشاف) قیل واصلہ ذوالقلفۃ الذی لم یختن (روح) ” مختون “ و ” نامختون “ کہنے کا محاورہ یہود کی زبان پر عام طور سے چڑھا ہوا تھا کبھی اپنے کو ” نامختون “ کہتے، کبھی اپنے دل وجسم کو یا کبھی اپنے اعضاوجوارح کو، توریت میں بار بار اس کا استعمال ہوا ہے مثلا ” بس میں جو نامختون ہونٹ رکھتا ہوں، فرعون میری کیوں کر سنے گا “ (خروج۔ 6: 12) ” تب دل کے نامختون اور جسم کے نامختون اجنبی زادوں کو میرے مقدس میں لائے۔ “ (حزقی ایل۔ 44:7) بلکہ کہیں کہیں انجیل میں بھی آیا ہے۔ مثلا ” اے گردن کشو، اور دل اور کان کے نامختونو ! تم ہر وقت روح القدس کی مخالفت کرتے ہو “۔ (اعمال۔ 7:5 1) قرآن کا یہ انداز بیان بھی ایک اعجازی پہلو رکھتا ہے کہ جب یہود کا قول نقل کیا، تو زبان بھی انہیں اختیار کی۔ 306 ۔ قرآن مجید یہود کے فخریہ کے جواب میں کہتا ہے۔ کہ جس ” محفوظیت “ پر انہیں اس قدر غرہ ہے یہ کوئی فخروناز کی چیز نہیں، یہ تو ایک نشان ہے صداقت سے ان کے دور ہوجانے اور حق سے ان کے بعد پیدا ہوجانے کا۔ اور یہی حقیقت ہے لعنت کی، لعنت پر حاشیہ پہلے گزر چکا ہے کہ وہ نام ہے رحمت الہی سے بعد وہجران کا، (آیت) ” بکفرھم “ اس میں یہ بتا دیا کہ یہ ملعونیت اور مغضوبیت جو ان پر طاری ہوگی ان کے کفر اختیاری کے باعث ہوگی۔ اللہ کے پیغمبر سے مخالفت وعناد پر اصرار رکھنے کے باعث ہوگی، ب سببیہ ہے۔ اے بسبب کفر ھم (ابو سعود) لعنت کا محاورہ توریت میں بہت عام ہے۔ صرف ایک مقام کا اقتباس بہ طور نمونہ ملاحظہ ہو :۔ یہ ساری لعنتیں تجھ پر اتریں گی اور تجھ تک پہنچیں گی، تو شہر میں لعنتی ہوگا اور تو کھیت میں بھی لعنتی ہوگا، تیرا ٹوکرا اور تیرا کٹھرا لعنتی ہوگا، تیرے بدن کا پھل اور تیری زمین کا پھل تیرے گائے بیل کی بڑھتی اور تیرے بھیڑ بکری کے گلے لعنتی ہوجائیں گے تو بھیتر آنے کے وقت لعنتی ہوگا اور تو باہر جانے کے وقت لعنتی ہوگا۔ خداوند ان سارے کاموں میں جن میں تو کرنے کے لیے ہاتھ لگا دے تجھ پر لعنت اور حیرت اور ملامت نازل کرے گا “۔ (استثناء 28: 15 ۔ 20) لعنت انجیل میں بھی منقول ہے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے، نہ صرف کاہنوں اور فریسیوں کے لیے بلکہ انجیر کے خشک درخت کے لیے بھی۔ 307 (اور یہ تھوڑا یا برائے نام ایمان نجات کے لیے کافی نہیں) (آیت) ” قلیلا “ یہاں ایمان کی صفت ہے جو ایمان نجات کے لیے ضروری ہے اور جس کا حکم ہر مکلف کو ہے۔ اس کے متعدداجزاء ہیں، یہود کا ایمان جو کچھ بھی تھا، صرف ان میں سے بعض پر تھا۔ اے لا یؤمنون الا بقلیل مما کلفوا بہ (کبیر) قلیلا صفۃ مصدر محذوف اےایمانا قلیلا یؤمنون (مدارک) (آیت) ” مایؤمنون “ میں ما مزیدہ ایمان کی قلت پر زور دینے کے لیے ہے۔ یعنی بہت ہی تھوڑا ایمان۔ مامزیدہ للمبالغۃ فی التقلیل (بیضاوی) مامزیدۃ للمبالغۃ (ابوسعود) (آیت) ” قلیلا “۔ صفت مومن کی بھی ہوسکتی ہے۔ مفہوم اس صورت میں یہ ہوگا کہ ان میں سے بہت ہی تھوڑے ایمان لاتے ہیں۔ چناچہ بعض اکابر ادھر بھی گئے ہیں۔ اے لایومن منہم الا قلیل (ابن جریر، عن قتادۃ) قال بعضھم فقلیل من یؤمن منہم (ابن کثیر) اور امام رازی (رح) نے ترجیح اسی آخری ترکیب کو دی ہے۔ لیکن محاورہ میں قلیل کا استعمال نفی مطلق کے موقع پر بھی ہوتا ہے۔ یجوز ان تکون القلۃ بمعنی العدم (کشاف) معنی اس صورت میں یہ ہوں گے کہ یہ ایمان سے بالکل خالی ہیں۔ والمعنی فیہ نفی جمیعہ (ابن جریر) معناہ لایومنون اصلا لا قلیلا ولا کثیرا۔