2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 2:59

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 2:59 in the Quran reader

مگر ان زیادتی کرنے والوں نے جو انہیں بتایا گیا تھا اس کے خلاف ایک اور کلمہ بدل ڈالا،199 ۔ سو ہم نے ان زیادتی کرنے والوں پر ایک بلاآسمان سے نازل کی،200 ۔ اس سبب سے کہ وہ نافرمانی کرتے رہے تھے،201 ۔

199 ۔ یعنی جو الفاظ انہیں تلقین کیے گئے تھے انہیں چھوڑ چھاڑ کچھ اور کلمے ہزل اور تمسخر کے زبان پر لانے لگے۔ یہ کلمے کیا تھے، اس میں روایتیں مختلف ہیں مگر ماحصل سب کا ایک ہی ہے کہ بجائے توبہ وانابت کے اب وہ کام تمسخر و استہزاء سے لے رہے تھے ومعنی الایۃ الھم انہم وضعوا مکان ما امروا بہ من التوبۃ والاستغفار قولا مغائرا لہ مشعرا باستھزاء ھم بما امروا بہ کل ذلک عدم مبالاۃ باوامر اللہ (بحر) 200 ۔ (آیت) ” رجزا “ رجز عام ہے ہر عذاب کے لیے خواہ وہ کسی صورت میں ہوالرجز ھو العذاب (لسان) لفظ کی تنوین عذاب کی شدت وہیبت کے اظہار کے لیے ہے والتنوین للتھویل والتفخیم (ابوسعود) (آیت) ” من السمآء “ سے مراد یہ نہیں کہ وہ عذاب، برف، بارش وغیرہ کی طرح آسمان سے نازل ہوتا ہوا دکھائی دیا۔ بلک یہ فقرہ اس حقیقت کے نمایاں کرنے کے لیے کہ وہ عذاب آسمانی حاکم کی طرف سے نازل ہوا تھا، ارضی اسباب سے خود بخود پیدا نہیں ہوگیا تھا۔ اے مقدر من السماء (بیضاوی) (آیت) ” الذین ظلموا “ کی تکرار آیت میں، ان ظالموں کے ظلم نمایاں کرنے کے لیے ہے فی تکریر (آیت) ” الذین ظلموا “ زیادۃ فی تقبیح امرھم وایذانا بان انزال الرجز علیھم لظلمھم (کبیر) ولم یضمرہ تعظیما للامر (قرطبی) یہ عذاب تھا کس صورت میں ؟ ہمارے ہاں روایتیں طاعون کی نقل ہوئی ہیں بعث اللہ علیھم الطاعون (کبیر۔ عن ابن زید) الطاعون (کبیر۔ عن وہب) والمراد بہ الطاعون (بیضاوی) تاریخ بنی اسرائیل میں آتا ہے کہ طاعون اس قوم پر باربار آیا۔ اور بائبل میں اس کا ذکر متعدد مقامات پر ہے۔ آیت ماقبل میں اگر قریہ سے مراد شہر سطیم ہی لیا جائے جو موآب کے علاقہ میں ہے تو اس کے طاعون کا تو مفصل ذکر بائبل میں موجود ہے :۔ ” سو اسرائیل سطیم میں مقیم ہوئے اور ان لوگوں نے موآبیوں کی بیٹیوں سے حرامکاری شروع کی۔ انہوں نے اپنے معبودوں کی قربانیوں پر لوگوں کی دعوت کی۔ لوگوں نے کھایا اور ان کے معبودوں کو سجدہ کیا۔ اور اسرائیلی بعل فغور سے ملے تب خداوند کا قہر بنی اسرائیل پر بھڑکا “ (گتنی۔ 25:2 ۔ 4) ” وہ جو اس وبا میں مرے چوبیس ہزار تھے۔ (گنتی۔ 25:9) 201 ۔ (آیت) ” بماکانوایفسقون “ اے بسبب فسقھم المستمر (ابوسعود) (آیت) ” کانوا یفسقون “ کا صیغہ دوام، عادت و استمرار پر دلالت کررہا ہے۔ یہاں یہ صاف کردیا کہ طاعون کا اصل سبب طبی یا طبعی نہ تھا، روحانی یا اخلاقی بدپرہیزیاں یا نافرمانیاں تھیں۔ قوانین تکوینی کی خلاف ورزی نہیں، اصل باعث شریعت موسوی کی خلاف ورزی تھی، شریعت کی خوردبین نگاہ امراض اور معاصی کے ان خفی ومخفی تعلقات تک بہ آسانی پہنچ جاتی ہے، جو دنیا کے بڑے بڑے حاذق طبیبوں کی نظروں سے پوشیدہ رہ جاتے ہیں۔ عارف رومی (رح) نے سچ کہا ہے۔ ابرنایداز پئے منع زکات وززناخیز دوبااندر جہات فقہاء نے آیت سے اہل بدعت کا ظالم اور سزاوار غضب ہونا نکالا ہے۔ بدعت کہتے ہیں دین میں ایسے نئے امر کے پیدا کرنے کو جس کا نشان اصل شریعت میں نہ موجود ہو۔ اور قرطبی نے کہا ہے کہ جب لفظی تبدیلی یہ نوبت پہنچا دیتی ہے تو عملی تحریف کی شناعت کا کیا ٹھکانا ! والقول انقص من العمل فکیف بالتبدیل والتغییر فی الفعل (قرطبی)
Ayah 2:60

وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ؕ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 2:60 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا مانگی،202 ۔ سو ہم نے کہا (اے موسی) اپنا عصا (فلاں) پتھر پر مارو،203 ۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے،204 ۔ (اور) ہر گروہ نے اپنا (اپنا) گھاٹ معلوم کرلیا،205 ۔ کھاؤ پیو اللہ کے (دیئے ہوئے) رزق میں سے، اور زمین پر فسادی بن کر مت پھرو،206 ۔

202 ۔ اب قوم اسرائیل فلسطین سے دور اور مصر سے الگ، دونوں کے درمیان معلق، جزیرہ نمائے سینا کے لق ودق بیابان وریگستان میں اپنے خیمہ وخرگاہ کے ساتھ کوچ درکوچ ایک مقام سے دوسرے مقام اور ایک منزل سے دوسری منزل کو منتقل ہورہی ہے۔ قدیم گلہ بان قوموں میں یہ دستور عام تھا اور آج بھی بہت سی خانہ بدوش قوموں میں عام ہے، خشک ملک اور پھر مقامی جغرافیہ سے ناواقفیت، چلتے چلتے یہ لوگ ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں پانی نایاب تھا اور ساتھ کا ذخیرہ ختم ہوچکا تھا۔ صورت حال کا ذراتصور کیجئے۔ پیاس سے بےحال اور بیدم تو ہو ہی رہے تھے، مرنے مارنے پر آمادہ ہوگئے اور لگے اپنی جھنجھلاہٹ اور غصہ اپنے رہبر اور سردار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اتارنے، توریت میں ہے :۔ ” تب سارے بنی اسرائیل کی جماعت نے اپنے سفروں میں خداوند کے فرمان کے مطابق سین کے بیابان سے کوچ کیا۔ اور رقیدیم میں ڈیرا کیا، وہاں لوگوں کے پینے کو پانی نہ تھا۔ سو لوگ موسیٰ (علیہ السلام) سے جھگڑنے لگے اور کہا کہ ہم کو پانی دے کہ پیویں۔۔۔ موسیٰ نے خدا نے خداوند سے فریاد کرکے کہا کہ میں ان لوگوں سے کیا کروں۔ وہ سب تو مجھے ابھی سنگسار کرنے کو تیار ہیں “۔ (خروج۔ 17: 1 ۔ 4) اور قدیم ترین یہودی مؤرخ جو زیفس کی تاریخ آثار یہود میں ہے :۔ ” وہ مقام رقیدیم میں پہنچے جہاں پیاس کی شدت سے بیتاب ہورہے تھے۔ یہاں کی سرزمین میں پانی کا ایک قطرہ نہ پایا۔ اس پر یہ لوگ غصہ میں بھر کر پھر موسیٰ پر ٹوٹ پڑے۔ لیکن وہ خدا کے آگے دعا میں زاری کے ساتھ مشغول ہوگیا “ (باب 3 ۔ فصل 2) پیمبر بھی غیب دان، ہمہ بین نہیں ہوتے۔ جب تلاش کے بعد مایوسی ہوچکی تھی تو بجز دعا اور مناجات کے اور کیا کرتے ؟ البتہ خود توریت ہی میں ایک دوسری جگہ مقام کا نام بجائے رقیدیم کے قادس (قدیش) درج ہے اور تفصیلات تقریبا سب وہی :۔” بعد اس کے بنی اسرائیل کی ساری جماعت پہلے دشت صین کو آئی اور قادس میں رہنے لگی۔۔ وہاں جماعت کے لیے پانی نہ تھا۔ سو وہ جمع ہو کر موسیٰ وہارون کے برخلاف ہوئے اور ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے جھگڑا کیا اور کہا۔۔۔۔ یہاں تو پینے کو پانی ہی نہیں۔ تب موسیٰ وہارون (علیہما السلام) جماعت کے سامنے سے جماعت کے خیمہ کے دروازہ پر گئے اور مونہہ کے بل گرے (گنتی۔ 20: 1 ۔ 2) اس بنا پر علماء اہل کتاب میں باہم سخت اختلاف پڑگیا ہے کہ جہاں یہ واقعہ پیش آیا، وہ مقام کون سا تھا لیکن بہرحال وہ مقام کوئی سا بھی ہو، اور ایک ہو یا دو ہوں، نفس اس واقعہ کا وقوع کوئی اختلافی ونزاعی مسئلہ نہیں اور یہ تاریخ بنی اسرائیل کے مسلمات میں سے ہے (آیت) ” استقی “ لفظی معنی ہیں کہ پانی طلب کیا۔ پانی کی تلاش کی۔ اور مراد یہ ہے کہ پانی کے لیے دعا کی اے دعا لھم موسیٰ بالسقیا (کشاف) مشہور ماہر اثریات سرفلنڈرزپٹری (Petrir) 30 آدمیوں کے قافلہ کے ساتھ 5 ۔ 1904 ء ا میں اسی جزیرہ نمائے سینا کی تحقیقی مہم پر روانہ ہوئے، ان کے مشاہدات کا خلاصہ ایک دوسرے ماہر اثریات سرچارلس مارسٹن کی زبان سے سنیے :۔ ” یہ وسیع بیابانی علاقہ سیاہ اور سرخ رنگ کی پہاڑیوں سے لبریز ہے۔ جس میں کہیں کہیں سبزہ زار بھی ہیں۔ اور گہری گہری وادیاں اور شگاف جابجا نخلستان کے اثریات سرچارلس مارسٹن کی زبان سے سنیے :۔ یہ وسیع بیابانی علاقہ سیاہ اور سرخ رنگ کی پہاڑیوں سے لبریز ہے۔ جس میں کہیں کہیں سبزہ زار بھی ہیں۔ اور گہری گہری وادیاں اور شگاف جابجا نخلستان کے ساتھ فاصلے جو نقشہ پر قریب قریب معلوم ہوتے ہیں، ان ہمواریوں کے باعث عملا بڑے لمبے لمبے ہیں، پینے والے پانی کے کافی ذخیرہ کی فراہمی کی مشکلات جو اسرائیلیوں کو اپنی صحرا نوردی کے زمانہ میں پیش آئی تھیں ، ، آج بھی ان کا تجربہ ہورہا ہے “ 203 ۔ (تاکہ اسی چٹان سے پانی کا چشمہ جاری ہوجائے۔ پہاڑی چشمہ، پہاڑوں کے اندر سے پانی کے ابلتے ہوئے دھارے ہر ایک کے مشاہدہ میں آچکے ہیں۔ حضرت موسیٰ نے جب پانی کے لیے بارگاہ الہی میں عرض کی تو انہیں ہدایت ہوئی کہ فلاں پہاڑی تک چلے جاؤ، ، چٹان پر اپناعصامارو، پانی ابلنے لگے گا، توریت کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پہاڑی جس سے چشمہ ابلا ، ، حورب یاحرب میں واقع تھی :۔” خداوند نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرمایا کہ لوگوں کے آگے جا اور بنی اسرائیل کے بزرگوں کو اپنے ساتھ لے اور اپنا عصا جو تو نے دریا پر مارا تھا اپنے ہاتھ میں لے اور جا۔ دیکھ کہ میں وہاں قرب کے چٹان پر تیرے آگے کھڑا ہوں گا، تو اس چٹان کو مارئیو، اس سے پانی نکلے گا تاکہ لوگ پیویں۔ چناچہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کے بزرگوں کے سامنے یہی کیا۔ “ (خروج۔ 17:5، 6) عصا، معروف و متعارف معنی لاٹھی یا ڈنڈے کے ہیں۔ موسیٰ چھوڑ کر ایک مجازی معنی (جوصرف عصا المسلمین وغیرہ کی ترکیب میں جائز ہے) ” جماعت یا گروہ “ کے کرنا لغت پر ظلم کرنا ہے۔ الحجر سے مراد کوئی خاص چٹان ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے علم میں تھی۔ الاشارۃ الی حجر معلوم (کبیر) اللام فیہ للعھد (بیضاوی) کان حجرا معینا بدلیل انہ عرفہ بالالف والام (معالم) (آیت) ” فاضرب “۔ ضرب۔ کے عام ومعروف معنی مارنے کے ہیں۔ چلنے کے معنی میں اسی صورت میں ہوتے ہیں جب فعل ضرب کا صلہ ” فی “ کے ساتھ آئے۔ (آیت) ” مثلا ضرب فی الارض “۔ ” روشن خیالی “ کے مرض میں مبتلا معاصرین نے جو آیت کا ترجمہ ” اے موسیٰ اپنی جماعت کے ساتھ پہاڑ پر چلے جاؤ کیا ہے، یہ جس طرح لغت وقواعد زبان کے خلاف ہے۔ اسی طرح تاریخ کے بھی بالکل مخالف، اور اپنی تائید میں کوئی دلیل کسی قسم کی نہیں رکھتا، نہ عقلی نہ نقلی۔ 204 ۔ یعنی اس پہاڑی سے بارہ دھارے یا بارہ ٹوٹیاں الگ الگ جاری ہوگئیں۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کی تعداد کے عین مطابق، بعض نادان مسیحیوں نے اس تعداد پر اعتراض کردیا کہ یہ تو بائبل میں موجود نہیں، قرآن نے کہاں سے گڑھ کر کہہ دیا ؟ قدرت نے سوال کا جواب بھی مسیحیوں کی زبان سے دلوا دیا۔ جارج سیل، انگریزی میں قرآن کریم کا قدیم ترین مترجم ہے۔ آیت کے حاشیہ پر لکھتا ہے :۔ ” ایک مسیحی سیاح جو وہاں ہو آیا ہے۔ بتصریح بیان کرتا ہے کہ چٹان سے پانی بارہ مقامات سے نکلتا تھا۔ “ اور ایک دوسرے مسیح سیاح کا مشاہدہ بیان کرتا ہے :۔ ” چٹان میں اس وقت 24 سوراخ موجود ہیں، جو بہ آسمانی شمار کیے جاسکتے ہیں۔ 12 ۔ ایک طرف ہیں اور 12 ۔ ان کے مقابل جانب۔ “ پادری ڈین اسٹینلی (Dean Stanley) نے جو انیسویں صدی میں مسیحیت کے ایک ممتاز رکن ہوئے ہیں، صدی کے وسط میں بائبل کے مقامات مقدسہ کی جغرافی تحقیق کے لیے بہ نفس نفیس فلسطین اور اس کے ملحقات کا سفر کیا۔ اور اپنے مشاہدات وتحقیقات پر ایک مستقل تصنیف Sinai and Palestine کے نام سے شائع کی۔ اس میں اس چٹان کا ذکر کرکے لکھتے ہیں :۔ ” یہ چٹان دس اور پندرہ فٹ کے درمیان بلند ہے آگے کی طرف ذراخمیدہ ہے اور راس سفسفہ کے قریب لیجا کر وسیع وادی میں واقع ہے۔ شگاف اور دراز جابجا پڑے ہوئے ہیں۔ کچھ مٹے ہوئے ہیں، کچھ بڑے ہیں، کچھ چھوٹے، گنتی میں اگر سب کو لیا جائے تو بیس ہوتے ہیں، اگر بعض کو چھوڑ دیا جائے تو دس، سب سے پہلے قرآن ہی نے حتمی طور پر بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کے لیے بارہ چشموں کی تعداد بیان کی ہے۔ یہ اشارہ انہیں شگافوں کی طرف ہے۔ “ (صفحہ 37 ۔ 36) عرب کے امی کی لائی ہوئی کتاب کے اعجاز کے قربان جائیے، صدیاں گزر جانے پر اس کے بیان کی جزئیات تک کی تصدیق ہورہی ہے منکرین ومعاندین کی زبان سے ! 205 ۔ (آیت) ” اناس “ یعنی اسرائیل کے بارہ گروہوں میں سے ہر گروہ نے۔ اے من کل سبط (بیضاوی) اے من قومہ الذین استسقی لھم (بحر) صیغہ جمع ہے لفظا اس کا کوئی واحد نظر نہیں آتا۔ جمع لا واحدلہ من لفظ (روح) (آیت) ” مشربھم “ یعنی اپنے اپنے لیے پانی لینے کی جگہ۔ اے عینھم التی یشربون منھا (کشاف) 206 ۔ جب قوم کی قوم قانون الہی کو چھوڑ کر اپنے ہوائے نفس کے مطابق کوئی روش اختیار کرلیتی ہے تو اس کا نتیجہ دنیا میں لازمی طور پر فتنہ و فساد، حرب وضرب اور کثرت جرائم کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور امن انفرادی واجتماعی دونوں طرح پر اٹھ کر رہتا ہے۔ فضل وانعام سے سیراب کرکے بنی اسرائیل کو ہدایت یہ ہوئی کہ جو فارغ البالی نصیب ہے اس کو غنیمت سمجھو، قانون الہی کی پابندی کرو، اس قانون کو توڑ کر امن ونظم عالم میں اختلال کے باعث نہ بنو (آیت) ” رزق اللہ “ کی نسبت اپنی جانب کرکے گویا ایک بار پھر انہیں جتادیا کہ جو کچھ مل رہا ہے وہ سب خدا ہی کے فضل وعطا سے ہے تمہارے زور بازو کا نتیجہ نہیں۔ (آیت) ” لا تعثوا فی الارض مفسدین “۔ عثی کے معنی خود ہی فساد میں حد سے گزر جانے کے ہیں۔ العیث شدۃ الفساد (قرطبی) العثی اشد من الفساد (معالم) (آیت) ” مفسدین۔ جو ترکیب میں حال واقع ہوا ہے۔ ہر پہلو سے فساد کی تاکید کے لیے ہے۔ تکرار المعنی تاکیدا لاختلاف اللفظ (قرطبی) عیث وعثی کے معنی ایک ہی ہیں عثی لغت قرآنی ہے (قرطبی) ایک باریک فرق دونوں میں یہ ہے کہ عیث کا تعلق فساد حسی سے ہے اور عثی کا فساد معنوی سے (راغب)
Ayah 2:61

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآئِهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا١ؕ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌ١ؕ اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ١ؕ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ١ۗ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠ Open ayah 2:61 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب تم نے کہا تھا کہ اے موسیٰ ہم ہرگز ایک کھانے پر بس نہیں کرسکتے،207 ۔ سو اپنے پروردگار سے ہمارے لئے دعا کردیجئے ان چیزوں کی جنہیں زمین اگاتی ہے،208 ۔ ساگ ہوا، ککڑی ہوئی، گیہوں ہوا، مسور ہوئی، پیاز ہوا،209 ۔ (موسی (علیہ السلام) نے) کہا تو کیا جو شیز ادنی ہے تم اسے لینا چاہتے ہو اس چیز کے مقابلہ میں جو بہتر ہے (تو خیر) کسی شہر میں اتر پڑو (وہیں) مل جائے گا جو کچھ تم مانگتے ہو،210 ۔ اور ان پر جما دی گئی ذلت اور محتاجی،211 ۔ اور وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہوگئے،212 ۔ یہ (سب) اس لیے ہوا کہ وہ اللہ کی نشانیوں سے انکار کرتے رہتے تھے،213 ۔ اور انبیاء کو ناحق قتل (تک) کر ڈالتے تھے،214 ۔ یہ (سب) اس لئے ہوا کہ وہ نافرمانی کرتے اور حد سے بڑھ بڑھ جاتے تھے،215 ۔

207 (اور اسے کھاتے کھاتے اکتا گئے ہیں) یہ ذکر بھی اسی دشت سینا کے زمانہ خانہ بدوشی کے کسی اور موقع کا ہے، قرآن مجید بیان واقعات میں ان کی تاریخی ترتیب کے تسلسل کا ہرگز پابند نہیں۔ بنی اسرائیل عرصہ دراز تک ایک ہی قسم کی غذا کھاتے کھاتے اکتا گئے تھے اور اب اپنے پیغمبر (علیہ السلام) سے فرمائش کررہے تھے کہ اس بیابان سے نکلا کر کہیں دوسری جگہ لے چلیے، جہاں قسم قسم کے شہری اور دیہاتی کھانے موجود ہوں۔ (آیت) ” طعام واحد “ یعنی ایک ہی قسم کا کھانا، بیٹر اور ترنجبین جو ہمیں ہر روز ملے چلا جاتا ہے۔ 208 ۔ (اور جن کے خوگر ہم مصر میں رہ چکے ہیں) مصریوں کی مرغوب غذا اکثر زراعت پیشہ قوموں کی طرح یہی زمینی پیداوار تھی۔ ” مصر میں آج کی طرح اس وقت بھی بڑی مانگ سبزی، پیاز، ہلدی وغیرہ کی تھی۔ “ (انسائیکلوپیڈیا ببلیکا، کلام 1209) اور یہی چیزیں اسرائیلیوں کی بھی اصل غذا بن چکی تھیں :۔ ” اسرئیلیوں کی اصل غذا سبزی تھی، خصوصا غلہ کی اقسام “۔ (جیوش انسائیکلوپیڈیا، جلد 5 صفحہ 430) ” قدیم اسرائیلی سبز ترکاریوں اور پھلوں پر بسر کرتے تھے “۔ جلد 5 صفحہ 596 ۔ 209 ۔ توریت کی روایت اس سے ملتی جلتی، مگر کسی قدر مختلف حسب ذیل ہے :۔ ” اور بنی اسرائیل بھی پھرے اور روتے ہوئے بولے۔ کون ہے جو ہمیں گوشت کھانے کو دے گا۔ ہم کو وہ مچھلی یاد آتی ہے جو ہم مفت مصر میں کھاتے تھے۔ اور وہ کھیرے اور وہ خربوزے او وہ گندنا وہ پیاز اور وہ لہسن۔ پر اب تو ہماری جان خشک ہوچلی، یہاں تو ہماری آنکھوں کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے مگر یہ من “۔ (گنتی۔ 1 1:4 ۔ 6) فوم کے معنی گیہوں کے علاوہ لہسن کے بھی آتے ہیں۔ 210 ۔ (کہ بڑے شہروں میں سبزیاں اور (آیت) ” مصرا “ کوئی شہر۔ یہاں مراد جزیرہ نمائے سینا یا اس کے مضافات کا کوئی آباد شہر ہے۔ مصر کے لفظی معنی شہر کے ہیں جس کی حد بندی ہوچکی ہو۔ اسم لکل بلد محصور اے محدود۔ اور یہاں تو تنوین کے ساتھ کھلا ہوا اسم نکرہ ہے لیکن بڑے بڑے فاضل انگریز مترجمین نے بےکھٹکے اس کا ترجمہ ” ملک مصر “ کرڈالا ہے ! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے تو انہیں سمجھایا کہ تمہاری فرمائش بیجا ہے، نامعقول ہے، جب دیکھا کہ اصرار جاری ہے تو پھر یہ کہا کہ اچھا، اگر یہ منظور ہے تو شہری تمدن اختیار کرلو، ساری گفتگو سمجھنے کے لیے قوم اسرائیل کے اس وقت کے طرز معاشرت کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ صورت حال یہ ہے کہ مصر جیسے متمدن ومہذب ملک سے لاکھوں کی تعداد میں یہ نکل تو آئے ہیں لیکن ابھی دوسرے مہذب ومتمدن ملک اور اپنے قدیم وطن یعنی فلسطین (یاکنعان) تک نہیں پہنچ پائے ہیں، بلکہ دونوں کے درمیان اور فلسطین کے جنوب میں جزیرہ نمائے سینا کے بیابان میں معلق ہیں۔ یہ علاقہ اس وقت تک غیر متمدن ہے، مکان، باغ، عمارتیں کھیت وغیرہ جو لوازم تمدن ہیں، اس لق ودق بیابان میں کہیں موجود نہیں، اسرائیلی اس وقت مکانوں میں سکونت پذیر نہیں۔ بلکہ اپنے خیموں ڈیروں کے ساتھ، کہ آج یہاں سے کوچ ہے تو کل وہاں مقام، خانہ بدوش قبیلوں کی طرح ایک مستقل سفر اور مستمر نقل و حرکت اس بیابان میں کررہے ہیں، البتہ بیابان کے خاتمہ کے بعد ملک سرے سے ویران اور بےآب وگیاہ نہیں، غیربیابانی علاقے اچھے خاصے آباد تھے اور شہری اور حضری تمدددن کے نمونے جابجا موجود تھے، یہ علاقہ مصر کے زیر حکومت تھا گوبرائے نام۔ (آیت) ” مصرا “ میں اشارہ اسی قسم کے کسی شہر کی طرف ہے۔ 211 ۔ (آیت) ” ضربت “ کے معنی ہیں لیس دی گئی، چپکا دی گئی، مسلط کردی گئی۔ ذلۃ کے معنی ہیں خواری ورسوائی اور مسکنۃ سے مراد ہے فقر اور محتاجی۔ الذلۃ الذل والصغار (قرطبی) المسکنۃ الفقر والفاقۃ وتشدید المحبۃ (کبیر) (آیت) ” علیھم “ میں ضمیر ھم کے مرجع کو خوب سمجھ لینا چاہیے یہ ہیں کون لوگ جن کے اوپر ذلت اور تنگ حالی مسلط کردی گئی ؟ ضمیر کا مرجع الیھود بالذین ھادوا نہیں بلکہ بنی اسرائیل ہے، یعنی اس وعید کے موردفلاں فلاں عقیدے رکھنے والے فلاں مسلک کے ماننے والے نہیں، بلکہ اسرائیلی نامی ایک متعین قوم ونسل ہے۔ سبحان اللہ ! ایک ذراسا لفظ جان بلاغت ہے۔ اس نے اس حقیقت کو بالکل واضح کردیا کہ جو ذلت، نکبت، افلاس، مقہوریت تقریبا 1400 سال گزرجانے پر بھی آج تک چپکی، لپٹی چلی آرہی ہے اس کی موردوحامل ایک مخصوص قوم ہے، نہ کہ کسی مخصوص مذہب وملت کے پیرو، ، خود لفظ Arti Semitism بتا رہا ہے کہ یہود سے جو مستقل عداوت نازی جرمنی کو خصوصا اور اٹلی ہنگری، رومانیہ وغیرہ، یورپ اور امریکہ کی اکثر ولایتوں کو عموما ہے، اس کی بنا نسلی یا قومی ہے، نہ کہ دینی یا اعتقادی، لیکن سیاسی محکومی اور ذلت تک تو خیر، باقی مفلسی، محتاجی، تنگدستی کے انتساب پر عجب نہیں کہ ناضرین کو حیرت ہو، اور سوال دل میں پیدا ہو کہ تمول تو یہود کو ضرب المثل ہے، پھر اس قوم کو محتاج وتنگدست کیسے قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن یہ محض دھوکا، اور عام طور سے چلا ہوا مغالطہ ہے۔ دولت و ثروت جتنی بھی ہے، وہ قوم یہود کے صرف اکابر ومشاہیر تک محدود ہے، ورنہ عوام یہود کا شمار دنیا کی مفلس ترین قوموں میں ہے، یہ بیان خود محققین یہود کا ہے۔ جیوش انسائیکلوپیڈیا میں ہے :۔ ” گو یہود کا تمول ضرب المثل کی حد تک شہرت پا چکا ہے، لیکن اہل تحقیق کا اتفاق ہے کہ یہود یورپ کے جس جس ملک میں آباد ہیں، وہاں کی آبادی میں انہیں کے مفلسوں کا تناسب بڑھا ہوا ہے “۔ (جلد 10 صفحہ 15 1) ” عوام یہود دوسری قوموں سے کہیں زیادہ غریب ہیں یہ اور بات ہے کہ ان کے چند افراد بہت زائد دولتمند ہیں “۔ (جلد 1 صفحہ 6 1) 212 ۔ (اسی دنیا میں اپنی ہی جیسی مخلوق کے ہاتھوں) (آیت) ” بآء و “ کے معنی اور بھی کیے گئے ہیں۔ لیکن اکثر محققین اس طرف گئے ہیں کہ اس سے مراد استحقاق ہے۔ اے استوجبوا اللعنۃ (ابن عباس ؓ اے استحقوا (کبیر) اے استحقوا غضبا (بحر) نسل اسرائیل پر اس قدرتی غضب کا ظہور برابر انسانوں ہی کے ہاتھوں ہوتا چلا آرہا ہے۔ اس آخرزمانہ میں ہٹلر جیسے چنگیزی فرمانروا کی یہود دشمنی و یہود بیزاری اخبار بین وتاریخ خواں طبقوں سے پوشیدہ نہیں۔ مرشد تھانوی نے فرمایا کہ عارف کے لیے اس قصہ میں بڑا سبق ہے۔ ان لوگوں کے حال سے عبرت پکڑنا چاہیے۔ جہنوں نے نہ بلا پر صبر کیا نہ نعمت پر شکر ادا کیا، اور نہ قضاء الہی پر راضی رہے۔ ایسوں پر ذلت طغیان لگا دی گئی، حب دنیا ان کے قلب میں جما دی گئی، اور انہیں درجات عالیہ سے گرا دیا گیا۔ 213 ۔ لفظ یہاں (آیت) ” کفروا “ نہیں (آیت) ” کانوا یکفرون “ استعمال ہوا ہے۔ ذکر کسی خاص موقع کا نہیں کہ اس وقت وہ منکر ہو بیٹھے تھے بلکہ ذکر ان کی مستقل قومی خصلت کا ہورہا ہے کہ انکار کرتے ہی رہتے تھے۔ انکار کو شعار ہی بنا لیا تھا۔ ایات اللہ کا لفظ عام ہے۔ معجزات وخوراق بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ اور کتب آسمانی بھی اے المعجزات مطلقا۔۔۔ اوالکتب المتلوہ مطلقا (روح) المعجزات التسع وغیرھا۔۔۔ اوالقرآن اوجمیع ایات اللہ المنزلۃ علی الرسل (بحر) (آیت) ” بانھم “ میں باء سببیہ ہے یعنی یہ سزا انہیں کفر عادی اور مسلسل قتل انبیاء کی پاداش میں ملی۔ 214 ۔ ” قتل تک “ یعنی دوسری بیہودگیاں، شرارتیں، سفلہ پردازیاں تو تھیں ہی، حد یہ ہے کہ قتل تک سے بھی نہ چوکے، یسعیاہ نبی کا قتل، یرمیاہ نبی کا قتل، زکریا نبی کا قتل، یحییٰ نبی کا قتل، اور عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کا اقدام قتل (بلکہ اپنے خیال میں قتل ہی) یہ اسرائیل کی تاریخ جرائم کے چند جلی عنوانات ہیں۔۔ یہ قوم اس قابل رہ گئی تھی کہ اس کے ساتھ کچھ بھی رعایتیں روارکھی جائیں ؟ اسے زندہ رہنے کی بھی کچھ مہلت دی جاتی ؟ (آیت) ” بغیر الحق “ لیکن نبی کا قتل تو ہمیشہ ناحق ہی ہوگا۔ نبی کے قتل جائز کی کوئی صورت ہی نہیں۔ پر قرآن جس میں ایک لفظ بھی بیکار یا بطور حشو نہیں اسے کیوں لایا ؟ قرآن کا مقصود اس اضافہ سے یہ ہے کہ خود ان قاتلوں کے معیار سے بھی یہ قتل ناحق وناجائز تھے۔ یعنی خلاف عدل تو خیر ہوتے ہی، قانون وقت کے لحاظ سے خلاف قانون اور بےضابطہ بھی تھے۔ یعنی خلاف عدل تو خیر ہوتے ہی، قانون وقت کے لحاظ سے خلاف قانون اور بےضابطہ بھی تھے ! اے عندھم ایضا (مدارک) قتلوھم من غیر ان کان ذلک القتل حقا فی اعتقادھم وخیالھم (کبیر) اے لم یدعوا فی قتلھم وجھا یستحقون بہ القتل عندھم (بحر) بعض نے کہا ہے کہ اس تصریح سے مقصود قتل کے ناحق ہونے پر زور اور تاکید ہے۔ کان ھذا تعظیما للشنعۃ علیھم (قرطبی) تعظیم للشنعۃ والذنب الذی اتوہ (قرطبی) سلسلہ اسرائیلی کے خاتم نبوت حضرت عسی (علیہ السلام) تھے زمانہ بھی آپ کا نسبۃ بہت قریب کا ہے۔ یعنی عہد تاریخی کے اندر کا، اس وقت کی تاریخ ایک اچھی خاصی حد تک محفوظ ہے۔ حال میں اٹلی کے ایک ایڈو وکیٹ روز یڈی (Rosedi) اور انگلستان کے ایک بیرسٹراینس (Lnnes) نے قدیم کا غذات کی چھان بین کرکے، آپ کے مقدمہ کی رودادیں الگ الگ شائع کی ہیں ،۔ یہ پڑھنے کے قابل ہیں۔ ان سے صاف ظاہر ہوجاتا ہے۔ کہ آپ (علیہ السلام) کے مقدمہ میں یہ نہیں ہوا کہ رومی حاکم عدالت سے سزائے صلیب کا فیصلہ سنانے میں کوئی اجتہادی غلطی ہوگئی، بلکہ ہوایہ کہ یہود نے ایک بالکل جھوٹا استغاثہ گڑھا۔ اور پہلے اپنی مذہبی عدالت میں، اور پھر ملک کی عام فوجداری عدالت میں بالکل ہی بےضاطبہ کاروائیاں کر کے حکم سزا دلا دینے میں کامیاب ہوگئے۔ رومی اور جیسے بھی کچھ ہوں، آئین دوستی اور قانون پرستی تو ان کی مشہور ہے۔ جب ان تک کے عہد میں یہ اندھیر ہوا، تو پھر قدیم ترین انبیاء کی مظلومیت کا کیا ٹھکانا۔ جن کے قتل میں غالبا ضاطبہ کی ظاہری اور رسمی صورت بھی نہیں برتی گئی ! 215 ۔ اسرائیلیوں کے مسلسل تمرد، سرکشی نافرمانی کے تذکروں سے توریت وانجیل دونوں کے صفحات لبریز ہیں، سب کے نقل کرنے کی نہ گنجائش نہ ضرورت ،۔ مشتے نمونہ ازخروارے دوچار نمونے دیکھتے چلیے :۔ انہوں نے خدا کے پیغمبروں کو ٹھٹھے میں اڑا دیا۔ اور اس کے باتوں کو ناچیز جانا، اور اس کے نبیوں سے بدسلوکی کی۔ یہاں تک کہ خدا کا غضب اپنے لوگوں پر ایسا بھڑکا کہ کوئی چارہ نہ رہا۔ “ (2 تواریخ 36: 17) ” تمہاری ہی تلوار پھاڑنے والے شیر ببر کی مانند تمہارے نبیوں کو کھاگئی ہے۔ “ (یرمیاہ۔ 2:30) ” اے اہل یعقوب (علیہ السلام) اور اہل اسرائیل کے سب خاندانو ! خداوند کا کلام سنو، خداوند یوں فرماتا ہے کہ تمہارے باپ دادوں نے مجھ میں کونسی ناانصافی پائی جو وہ مجھ سے دور بھاگے اور بطلان کے پیرو ہوئے اور آپ باطل ہوگئے “ (یرمیاہ۔ 2:4، 5) ” وہ نافرمان نکلے اور تجھ سے پھرگئے اور انہوں نے تیری شریعت کو اپنی پشت کے پیچھے پھینکا اور تیرے نبیوں کو جو نصیحت دیتے تھے کہ انہیں تیری طرف پھر الائیں، قتل کیا۔ اور انہوں نے کاموں سے تجھے غصہ دلایا “۔ (نحمیاہ۔ 9:26) یہ مختصر، بہت ہی مختصر، اقتباسات عہد قدیم کے نوشتوں سے تھے۔ اب عہد جدید کے نوشتوں کے ایسے ہی مختصر نمونے ملاحظہ ہوں :۔ ” اے گردن کشو اور دل اور کان کے نامختونو۔۔۔ نبیوں میں سے کس کو تمہارے باپ دادوں نے نہیں ستایا ؟ “ (اعمال۔ 7:5 1، 52) تم اپنی نسبت گواہی دیتے ہو کہ ہم نبیوں کے قاتلوں کے فرزند ہیں۔ دیکھو میں نبیوں، داتاؤں اور فقیہوں کو تمہارے پاس بھیجتا ہوں ان میں سے بعض کو قتل کروگے اور صلیب پر چڑھاؤ گے۔ اور بعض کو اپنے عبادتخانوں میں کوڑے ماروگے اور شہر بہ شہر ستاتے پھروگے۔ تاکہ سب راستبازوں کا خون جو زمین پر بہایا گیا ہے، تم پر آئے۔ اے یروشلم، اے یروشلم تو نبیوں کو قتل کرتی ہے اور جو تیرے پاس پہنچ گئے ہیں، انہیں سنگسار کرتی ہے “۔ (متی 23:29 ۔ 37 ۔ لوقا۔ 12:34، 35) غرض توہین انبیاء اور پیغمبر کشی کا الزام یہود پر قرآن مجید نے دنیا میں پہلی بار نہیں لگایا ہے۔ ان کی فرد جرم کا یہ عنوان تو قدیم نوشتوں میں موجود چلا ہی آتا تھا۔ قرآن مجید نے محض اس کی تصدیق و توثیق کردی (آیت) ” بماعصوا “ میں باء سببیہ ہے (آیت) ” ذلک “۔ اس اسم اشارہ کا مشار الیہ کفر اور قتل انبیاء ہے۔ الاشارۃ الی الکفر والقتل (بیضاوی) مرشد تھانوی نے فرمایا کہ کسی گناہ کو بھی خفیف نہ سمجھنا چاہیے، ایک گناہ برابر دوسرے گناہ کا سبب بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ کفر کا۔ چناچہ یہاں بھی عصیاں اور تجاوز حدود تھا جو ان لوگوں کو کفر آیات الہی اور قتل انبیاء تک لایا۔ مفسر بیضاوی نے بھی یہاں یہی کہا ہے کہ جس طرح چھوٹی طاعت بڑی طاعت کی طرف لے جاتی ہے، چھوٹی معصیت بھی بڑی معؔ صیت تک نوبت پہنچا دیتی ہے۔ چناچہ یہاں بھی خوئے عصیاں نے رفتہ رفتہ کفر وقتل انبیاء تک پہنچا دیا۔ جرھم العصیان والتمادی والاعتداء فیہ الی الکفر بالایت وقتل النبین فان صغار الذنوب سبب یؤدی الی ارتکاب کبارھا۔
Ayah 2:62

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:62 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لاچکے ہیں،216 ۔ اور جو لوگ یہودی ہوئے ، 217 ۔ اور نصاری،218 ۔ اور صابی،219 ۔ (غرض) جو کوئی بھی اللہ اور آخرت پر ایمان لے آئے،220 ۔ اور نیک عمل کرے،221 ۔ سو ان (سب) کے لیے ان کے پروردگار کے پاس ان کا اجر ہے اور نہ کوئی اندیشہ ان کے لیے ہے اور نہ وہ کوئی غم کریں گے،222 ۔

216 (آخری رسول اللہ ﷺ اور آخری کتاب پر، یعنی مسلمان ہوچکے ہیں) ایمان لانے کے معنی کل عقائد ضروری کے تسلیم کرلینے کے ہیں، توحید پر ایمان، رسالت پر ایمان، فرشتوں پر ایمان ، ، آسمانی کتابوں پر ایمان، سب کچھ اس میں شامل ہے اور (آیت) ” الذین امنوا “ مطلق صورت میں قرآن مجید میں جہاں جہاں میں آیا ہے مراد اس سے مسلمان ہی ہیں۔ یہاں بھی مراد مومینن ہی ہیں۔ اے من امن بمحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (بحر۔ عن عباس ؓ ھم المصدقون رسول اللہ ﷺ فی ما اتاھم من الحق من عند اللہ (ابن جریر) اور رازی (رح) نے بھی متکلمین سے یہی معنی نقل کیے ہیں کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور پھر دین پر ثابت وقائم رہے۔ الذین امنوا فی الماضی وثبتوا علی ذلک واستمروا علیہ فی المستقبل وھو قول المتکلمین (کبیر) 217 ۔ یعنی جو لوگ دین یہودیت کے پیرو ہیں یقال ھادوا تھود اذا دخل فی الیھودیۃ (بیضاوی) خواہ پہلے سے یہودی چلے آرہے ہوں، نسلا یہودی ہوں یا پہلے مشرک وغیرہ کچھ اور ہوں اور اب یہود کے عقیدے اور شعار اختیار کرلیے ہوں، اب تک ذکر بنی اسرائیل نام ایک خاص نسل وخاندان کا چلا آرہا تھا اور ان کی تاریخ کے اہم ترین منظر سامنے لائے جارہے تھے۔ اب ذکر ان کے مسلک اور عقیدوں کا شروع ہوتا ہے اور پہلی بار لفظ (آیت) ” الذین ھادوا “ آیا ہے۔ بنی اسرائیل ایک نسلی نام تھا ایک کنبہ، قبیلہ یا قوم کا نام تھا جسے اپنی عالی نسبی پر فخر تھا، اپنے آباؤ اجداد کی مقبولیت پر ناز تھا۔ تاریخ کے دہراتے وقت ضروری تھا کہ اس نسلی نام کو لیا جائے۔ اب بیان ایک دینی مسلک کا، ایک اعتقادی نظام کا شروع ہورہا ہے۔ ضروری ہوا کہ اب نام ایسا لیا جائے، کوئی وصف ایسا بیان کیا جائے، جو بجائے نسل، نسب وخاندان کے مسلک و عقیدہ کی جانب رہنمائی کرے۔ (آیت) ” الذین ھادوا “ اسی ضرورت کو پورا کرنے والا ہے۔ قرآن مجید کی بلاغت کے وجوہ اعجاز بیشمار ہیں، انہیں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ متقارب، لیکن متمائز معانی کے لیے لفظ بھی وہ مختلف لاتا ہے، اور ان کے دقیق باہمی فرق کا لحاظ رکھ لیتا ہے۔ مذہب یہود ایک نسلی مذہب ہے۔ تبلیغی مذہب نہیں، کسی غیر اسرائیلی کو باضابطہ یہودی بنانے کا طریقہ ان کے ہاں نہیں لیکن عرب میں متعدد قبیلے ایسے آباد تھے جو نہ پیدائشی یہودی تھے اور نہ نسلا اسرائیلی۔ بلکہ عرب یا بنی اسمعیل تھے۔ لیکن یہود کی صحبت سے متاثر، اور ان کے علوم سے مرعوب ہو کر انہوں نے پہلے یہود کے طور طریقے اور پھر ان کے عقیدے اختیار کرلیے اور رفتہ رفتہ ان کا شمار بھی یہودی آبادی میں ہونے لگا بجائے الیھود کے (آیت) ” الذین ھادو “ لانے میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کے عقائد اختیاری کی جانب دلالت خوب واضح ہوجائے، بنی اسرائیل کی قومی حکومت ووجاہت کا خاتمہ تو ظہور اسلام سے مدتوں پہلے بلکہ کہنا چاہیے کہ 70 ء میں مشرک رومیوں کے ہاتھوں بیت المقدس کی بربادی کے بعد ہی ہوگیا تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ کے معاصرین یہود کی حیثت صرف ایک مذہبی اور دینی فرقہ کی رہ گئی تھی، اسی لیے خوب خیال کرکے دیکھ لیا جائے کہ قرآن مجید نے بنی اسرائیل کا لفظ جہاں جہاں استعمال کیا ہے، سیاق عبارت ہر جگہ تاریخی ہے۔ 218:۔ (آیت) ” النصری “۔ نصاری جمع ہے نصرانی کی۔ ملک شام (حال فلسطین) میں ایک قصبہ ناصرہ (Nazarith) علاقہ گلیلی میں۔ بیت المقدس سے ستر میل شمال میں، اور بحرروم سے مشرق میں 20 میل کے فاصلہ پر۔ موجودہ آبادی آٹھ اور نوہزار کے درمیان ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آبائی وطن یہی قصبہ ہے۔ اور آپ یسوع ناصری اسی مناسبت سے کہلاتے ہیں۔ ناصرہی کو عربی تلفظ میں نصران بھی کہتے ہیں۔ نصرانی کا انتساب اسی قصبہ کی جانب ہے۔ سموا بذلک انتساباالی قریۃ یقال لھا نصران (راغب) نصران قریۃ بالشام ینسب الیہ النصاری (جوہری) یہی اشتقاق ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ صحابی سے آیا ہے۔ سمیت النصاری نصاری لان قریۃ عیسیٰ ابن مریم کانت تسمی ناصرۃ وکان اصحابہ یسمون الناصریین (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ اور یہی قول قتادہ وابن جریج تابعین کا ہے۔ نیز بعد کے محقق مفسرین کا وھو قول ابن عباس وقتادۃ وابن جریج (کبیر) سموا بذلک لقریۃ تسمی ناصرۃ کان ینزلھا عیسیٰ فلما ینسب اصحابہ الیہ قیل النصاری (قرطبی) بعض نے اسے عربی کا لفظ فرض کرکے نصرت سے مشتق سمجھا ہے۔ لیکن قول صحیح وہی ہے جو ابھی گزر چکا۔ خوب خیال کرلیا جائے قرآن یہاں ذکر مسیحیوں کا نہیں، نصاری کا کررہا ہے، اور قرآن حکیم کا ہر ہر لفظ پر حکمت ہوتا ہے۔ مسیحی وہ ہیں جو اناجیل اربعہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا نبی نہیں، خدا کا بیٹامانتے ہیں یا یہ سمجھتے ہیں کہ خدا ان کے قالب میں حلول کر آیا تھا۔ آخرت میں نجات دینے والا (Saviour) خدا کو نہیں، مسیح ” ابن اللہ “ کو یقین کرتے ہیں۔ اور خدائی کو تین اقنوموں میں تقسیم کرکے ایک ناقابل فہم فلسفہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ہر اقنوم بجائے خود بھی خدا ہے، اور تینوں اقنوم مل کر بھی ایک ہی خدا بنتے ہیں۔ اس کھلے ہوئے شرک کے قائلوں کا ذکر ہرگز اس مقام مقصود نہیں، اسی لیے نام بھی جو مشہور اور چلا ہوا تھا، اسے ترک کرکے نصاری لایا گیا۔ نصرانی معرب (Nazarene) کا حضرت مسیح (علیہ السلام) کے سچے پیرو، نبی کو نبی ماننے والے، ابتدائی زمانہ میں (Nazarenes) کہلاتے تھے۔ یہ توحید کے قائل تھے اور بجائے اناجیل اربعہ کے صرف انجیل متی کو مانتے تھے، آگے چل کر یہی لوگ ایبونبہ (Ebonites) بھی کہلائے لیکن جب مشرکانہ عقائد کا زور بندھا اور اصل مسیحیت، حلولیت اور تثلیث ہی قرار پاگئی، تو قدرۃ نصرانیت کا ستارہ بھی گردش میں آیا۔ اور نصرانی ونصرانیت کے الفاظ بجائے عزت و تکریم کے، تحقیر کے موقع اور ذم کے محل میں استعمال ہونے لگے، موجودہ مسیحیت سرتا سر پولوسیت ہے۔ اور تمامتر پولوس (Paul) طرسوسی کی تعلیمات پر مبنی ہے۔ یہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے کچھ ہی روز بعد شروع ہوگئی تھی، اور نصرانی اس کے بالکل منکر تھے، قرآن مجید نے محل مدح میں ایک موقع پر بھی تثلیثی مسیحیت کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ ذکر جب کبھی آیا ہے تو ہمیشہ ملامت، بیزاری کے ساتھ ان آیتوں میں :۔ (آیت) ” لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ، لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم “۔ وقس علی ھذا۔ 219 ۔ الصابؤن۔ صابی کے لفظی معنی ہیں جو کوئی بھی اپنے دین کو چھوڑ کر دوسرے دین میں آجائے یا اس کی طرف مائل ہوجائے۔ من خرج اومال عن دین الی دین۔ (قرطبی) قیل لکل خارج من الدین الی دین اخر صابیء (راغب) اصطلاح میں صابیون (Sabians) کے نام کا ایک مذہبی فرقہ تھا جو عرب کے شمال ومشرق میں شام و عراق کی سرحد پر آباد تھا۔ یہ لوگ دین توحید اور عقیدہ رسالت کے قائل تھے اور اس لیے اصلا اہل کتاب تھے، اپنے کو ” نصارائے یحییٰ “ کہتے تھے، گویا حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی امت تھے۔ حضرت عمر ؓ جیسے مبصرونکتہ رس خلیفہ راشد اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ جیسے محقق صحابی نے صابیوں کا شمار اہل کتاب میں کیا ہے اور حضرت عمر ؓ نے ان کا ذبیحہ بھی حلال مانا ہے۔ قال عمر ابن الخطاب وابن عباس ھم قوم میں اھل الکتاب وقال عمر تحل ذبائحھم مثل ذبائح اھل الکتاب (معالم) تابعین میں سے متعدد اکابران کے اہل کتاب یا موحد ہونے کے قائل ہوئے ہیں۔ ھم طائفۃ من اھل الکتب (ابن جریر، عن السدی) فرقۃ من اھل الکتاب (ابن کثیر، عن ابی العالیۃ والربیع بن انس والضحاک والسدی واسحاق بن راہویہ) ابن زید ان کے موحد ہونے کے قائل تھے، اور قتادہ اور حسن بصری (رح) سے تو یہاں تک منقول ہے کہ اہل قبلہ تھے اور نماز پانچ وقت کی پڑھتے تھے (ابن جریر) اور ہمارے امام ابوحنیفہ (رح) جو خود بھی عراقی تھے اور اس لیے صابیوں سے براست واقفیت کا موقع رکھتے تھے، ان کا فتوی ہے کہ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ بھی حال ہے اور ان کے ہاں کی عورتوں سے نکاح بھی جائز۔ قال ابو حنیفۃ لا باس بذبائحھم ونکاح نساءھم (قرطبی) تاریخ ایران پر ایک مستند مستشرق کی کتاب کا اردو ترجمہ ابھی حال ہی میں نکلا ہے (انجمن ترقی اردو، دہلی) اس کے صحفہ 47 پر فاضل مترجم، ڈاکٹر شیخ محمد اقبال اور نٹیل کالج لاہور، لفظ مینڈین (Mandean) پر حاشیہ دیتے ہیں :۔” مینڈین بہ زبان آرامی بمعنی اولوالعلم۔ اس فرقہ کے لوگ عراق میں اب بھی موجود ہیں اور صابیون کہلاتے ہیں۔ وہ لوگ اگرچہ عیسائی نہیں ہیں، تاہم جان دی بپٹسٹ کو مانتے ہیں عراق میں عوام الناس ان کو حضرت یحییٰ کی امت کہتے ہیں۔ “ (ایران بہ عہد ساسانیاں) 220 ۔ (آیت) ” من امن باللہ “۔ یعنی اللہ کی ذات وصفت پر ایمان لائے، جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے۔ اور وہ ایمان ہر قسم کی شرکت آمیزی سے پاک ہو۔ اس ایمان باللہ کے تحت میں اس کے سارے لوازم وتضمنات بھی داخل ہیں، ورنہ خدا پر مطلق ایمان تو کسی نہ کسی صورت میں تقریبا ہر انسان کا ہے۔ اور ان لوازم توحید میں سب سے اونچے نمبر پر ایمان بالرسل ہے کہ بندوں کا صحیح تعلق اللہ کے ساتھ قائم کرنے والی، اس کا سیدھا راستہ بتانے والی ذات رسول ہی کی ہوتی ہے۔ قد دخل فی الایمان باللہ الایمان بما اوجبہ اعنی الایمان برسلہ (کبیر) (آیت) ” والیوم الاخر “ یوم آخرت پر ایمان لانے کے معنی ہی یہ ہیں کہ سارے احکام آخرت پر ایمان لایا جائے۔ دخل فی الایمان بالیوم الاخر جمیع احکام الاخرۃ (کبیر) تناسخ، حلول وغیرہ کے گمراہانہ عقائد کی بنیاد صرف یہی ہے کہ دوسرے مذہبوں میں یوم حشر کا ایمان صحیح باقی نہیں رہا۔ اور انہوں نے جزاوسزا کی اور اور صورتیں تجویز کرلیں۔ 221 ۔ (اور عمل صالح کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ عمل وحی الہی یعنی شریعت اسلامی کے ماتحت ہو) دور حاضر کی چلتی ہوئی گمراہیوں میں سے ایک سوال جو بار بار پیش ہوتا رہتا ہے ، ، یہ ہے کہ ایک شخص صاحب ایمان ہے مگر بدعمل، اور دوسرا خوش عمل ہے مگر ایمان سے خالی، تو ان دو میں نجات کس کی ہوگی ؟ علماء اس کے جوابات مختلف دیتے رہتے ہیں، لیکن سب سے سیدھا اور بےتکلف جواب یہ ہے کہ حسن عمل کا ایک لازمی عنصر تو خود ایمان ہی ہے، بغیر تصحیح ایمان کے، بغیر حق تعالیٰ کی رضا جوئی کے خیال کے، کوئی عمل، عمل صالح کی تعریف میں آہی کب سکتا ہے ؟ ایمان سے خالی شخص کا ” حسن عمل “ تو صرف صورۃ عمل ہوگا، ورنہ اس کی حقیقت (یعنی خالق کونین کی رضا طلبی) تو اس سے خارج ہی ہوگی۔ 222 ۔ اعتقاد صحیح اور 3 عمل صحیح بس یہی دو شرائط نجات ہیں، گویا مذہبی دنیا کو یہ بشارت پہلی بار کھلے لفظوں میں پہنچی کہ اصل شے عقیدہ اور عمل ہیں۔ اور ان دو کی تصحیح کے بعد قوم، نسل وغیرہ کی ساری نسبتیں ہیچ ہیں۔ (آیت) ” عندربھم “ میں عند سے مرادعندیت مکانی نہیں کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے حق میں جو مکان وجہت سے پاک ومنزہ ہے، محال ہے۔ بلکہ مراد اجر کا یقینی اور قطعی ہونا ہے۔ لیس المراد العندیۃ المکانیۃ فان ذلک محال فی حق اللہ تعالیٰ بل المراد ان اجرھم متیقن جار مجری (کبیر) قرآن مجید کا ایک بلیغ وحکیمانہ اسلوب یہ بھی ہے کہ جزئیات کے ضمن میں بڑے بڑے اہم کلیات بیان کرجاتا ہے۔ ذکر بنی اسرائیل کی مسلسل نافرمانی اور پشتہا پشت کی سرکشی کا چلا آرہا تھا، مخاطبین پر یہ اثر پڑنا بالکل طبعی تھا کہ ایسے مجرموں کے لیے اب نجات کی کوئی گنجائش ہو ہی کیا سکتی ہے ؟ معا درمیان میں یہ آیت لاکر اس مایوسی کو رفع کردیا گیا کہ جو کوئی بھی اپنا عقیدہ اور عمل درست رکھے گا، خواہ وہ مسلمان ہو یا یہودی یا نصرانی یا صابی، غرض کوئی بھی ہو، رحمت ومغفرت کی راہیں سب کے لیے کھلی ہوئی ہیں، کام کی چیزیں صرف ایمان صحیح اور عمل صحیح ہیں۔ لیعرف ان جمیع ارباب الضلال اذا رجعوا عن ضلالھم وامنوا بالدین الحق فان اللہ سبحانہ وتعالیٰ یقبل ایمانہم وطاعتھم ولا یردھم عن حضرت ہ البتۃ (کبیر) (آیت) ” لاخوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ بیان آخرت کا ہورہا ہے۔ یعنی قیامت کے دن جو کشف حقائق کا دن ہوگا اہل ایمان کو نہ اپنے ماضی پر حسرت ہوگی نہ اپنے مستقبل کی طرف سے تشویش، خوف واندیشہ کا تعلق مستقبل سے ہے۔ اور غم وحزن کا ماضی سے۔
Ayah 2:63

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:63 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تم سے عہدلیا،223 ۔ اور ہم نے تمہارے اوپر (کوہ) طور کو بلند کیا،224 ۔ مضبوطی کے ساتھ اس (کتاب) کو پکڑ رکھو جو ہم نے تم کو دی ہے،225 ۔ اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد رکھو تاکہ تم متقی بن جاؤ،226 ۔

223 ۔ (اے بنی اسرائیل تمہارے پیغمبر کے واسطہ سے اس مضمون کا کہ تم توریت پر عمل کروگے ، 224 ۔ (آیت) ” الطور “ طور مطلق پہاڑ کو بھی کہتے ہیں اور جزیرہ نمائے سینا کے ایک مخصوص و متعین پہاڑ کا بھی نام ہے، الطور اسم جبل مخصوص وقیل اسم لکل جبل (راغب) جدید جغرافیہ نویس کہتے ہیں کہ طور کا اطلاق جزیرہ نمائے سینا کے متعدد پہاڑوں پر ہوتا ہے، لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے سلسلہ میں جبل طور سے مراد جبل سینا ہوتا ہے۔ لیکن جبل سینا کی کوئی ایک چوٹی نہیں، متعدد چوٹیاں ہیں، انہیں میں سے کسی کا نام طور ہوگا۔ قوم کے اوپر پہاڑ بلند کرنے سے کیا مراد ہے ؟ توریت میں اس کی کچھ مجمل سی کیفیت درج ہے :۔ ” وہ پہاڑ کے نیچے آکھڑے ہوئے اور کوہ سینا پر زیروبالا دھواں تھا، کیونکہ خداوند شعلہ میں ہر کر اس پر اترا، اور شور کا سادھواں اس پر اٹھا اور پہاڑ سراسر ہل گیا “۔ (خروج۔ 19: 17، 18) اور تالمود جو توریت کی مشہور ومستند اور نہایت ضخیم شرح یہود کے ہاں موجود ہے، اس میں اس اجمال کی تفصیل میں اقوال ذیل درج ہیں۔ ” حق تبارک وتعالیٰ نے ان کے اوپر کوہ سینا کو الٹ دیا۔ جس طرح کوئی بڑا ظرف الٹ دیا جاتا ہے، اور کہا کہ اگر تم توریت کو قبول کرتے ہو جب تو خیر، ورنہ سب یہیں دفن ہو کر رہ جاؤ گے “۔ (جیوش انسائیکلوپیڈیا، جلد 4 صفحہ 32 1) ” خدا نے پہاڑ کو ان لوگوں پر الٹ کر اوندھا کردیا اور ان سے کہا کہ توریت کو اگر قبول کرتے ہو جب تو خیر ورنہ یہیں تمہارا مدفن بن کر رہے گا ‘۔۔ (ایضا) ہمارے مفسرین نے جو آثار صحابہ وتابعین کی زبان سے نقل کیے ہیں، ان میں بھی روایتیں اسی سے ملتی جلتی ہیں۔ والہ اعلم بحقیقۃ الحال۔ 225 ۔ یہ پورا مقولہ اسی وقت کا ہے جب کتاب نازل ہوئی تھی، کتاب ہدایت کے نزول اور رفع طور کے ساتھ ساتھ ہدایت اس کی بھی ہوئی تھی کہ اس کتاب کی محافظت کرنا اور اس کے احکام پر مداومت۔ اعملوا بما اعطیتکم من الکتب (ابن عباس) (آیت) ” ما اتیتکم “ سے مراد کتاب توریت ہے۔ احکام توریت کے اس اخذ وتمسک کی تاکید اور اس کے ترک پر وعید خود توریت میں بھی جا بجا مذکور ہے :۔” جو کوئی اس شریعت کی سب باتوں پر قائم نہ رہے کہ ان پر عمل کرے اس پر لعنت، سب جماعت کہے آمین “۔ (استثناء۔ 27:26) ” اگر تو کوشش کرکے خدا وند اپنے خدا کی آواز سنے تاکہ ان سب حکموں پر جو آج کے دن میں تجھ سے فرماتا ہوں، دھیان رکھ کے عمل کرے تو خداوند تیرا خدا زمین کی قوموں کی بہ نسبت تجھے سرفراز کرے گا “۔ (استثناء 28: 1) ” لیکن اگر تو خداوند اپنے خدا کی آواز کا شنوا نہ ہوگا کہ اس کے سارے شرعوں اور حکموں پر جو آج کے دن میں تجھ کو بتاتا ہوں، دھیان رکھ کے عمل کرے تو ایسا ہوگا کہ یہ ساری لعنتیں تجھ پر اتریں گی، اور تجھ تک پہنچیں گی ، “ (استثناء۔ 28: 15) 226 ۔ (اور تقوی کی راہ یہی ہے کہ کتاب الہی پر عمل کیا جائے) (آیت) ” واذکروا مافیہ “۔ یاد رکھو اس کے مضامین کو تاکہ ان پر عمل کرسکو۔ احکام الہی کا یاد رکھنا اصلا اسی غرض سے ہوتا ہے کہ ان پر عمل کیا جاسکے حکم کے تحت میں حفظ، قرأت وغیرہ بھی داخل ہیں، لیکن مقصود اصلی وہی عمل ہے۔ اقراؤا مافی التورۃ واعملوا بہ (ابن کثیر، عن ابی العالیۃ) اے تدبروہ واحفظوا اوامرہ ووعیدہ ولا تنسوہ ولا تضیعوہ ھذا ھو المقصود من الکتب العمل بمقتضاھا لا تلاوتھا باللسان وترتیلھا (قرطبی) (آیت) ” لعل “ کے لیے پوری تصریح اوپر گزرچکی ہے کہ یہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے استعمال ہوتا ہے تو مفہوم شک واحتمال کا نہیں رہتا، بلکہ معنی یقین کے پیدا ہوجاتے ہیں۔
Ayah 2:64

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 2:64 in the Quran reader

پھر تم اس (عہد) سے اس کے بعد (بھی پھرگئے،227 ۔ سو اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم ضرور تباہ ہونے والوں میں ہوتے،228 ۔

227 ۔ (اور حسب سابق پھر نافرمانی کرنے لگے) (آیت) ” من بعد ذلک “۔ یعنی اس قول واقرار کے بعد، کتاب ہدایت و احکام مل جانے کے بعد۔ اے من بعد البرھان (قرطبی) 228 ۔ یعنی فی الفور ہلاک کردیئے گئے ہوتے، اور ساری قوم کی قوم دنیا سے اسی طرح بےنشان ہوگئی ہوتی، جیسے اور پرانی متعدد قومیں ہوچکی ہیں، فضل و رحمت خداوندی بنی اسرائیل کے حق میں یہی تھی کہ ان کی خطاؤں اور جرائم سے مزید چشم پوشی کی گئی۔ اور انہیں اور مہلت سنبھلنے اور اپنے کو درست کرنے کی دی گئی۔
Ayah 2:65

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ Open ayah 2:65 in the Quran reader

اور تم خوب جان چکے ہو ان لوگوں کو جنہوں نے تم میں سے سبقت کے بارے میں تجاوز کیا تھا،229 ۔ تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ،230 ۔

229 ۔ (آیت) ” لقد علمتم “۔ علم کا لفظ خود ہی تحقیق کے معنی میں قرآن مجید میں بار ہا استعمال ہوا ہے۔ پھر ل حرف تاکید۔ قد حرف تاکید۔ (آیت) ” لقد “ جس فعل پر داخل ہوتا ہے، اس میں معنی شدت تاکید کے پیدا کرتا ہے۔ گویا قرآن بنی اسرائیل کو ان کی تاریخ کا کوئی واقعہ ان کے لیے خوب اچھی طرح سے جانا بوجھا ہوا یا دلا رہا ہے۔ اور ان سے کہہ رہا ہے کہ اے بنی اسرائیل جس واقعہ کا ذکر آگے آرہا ہے، وہ تمہاری تاریخ کا ایک مسلم و متعارف واقعہ ہے اور تم اس سے بلاشک و اشتباہ خوب واقفیت رکھتے ہو۔ (آیت) ” منکم “ یعنی تمہارے اسلاف و اجداد میں سے۔ (آیت) ” فی السبت “۔ یعنی احکام سبت کے بارہ میں۔ سبت کے لفظی معنی ہیں ہفتہ کا ساتواں دن، یعنی شنبہ یا سینچر۔ (آیت) ” السبت “۔ شریعت یہود کی اصطلاح میں ایک مقدس دن، مسیحیوں کے اتوار کی طرح ہے۔ یہ دن صرف یاد خدا اور عبادت کے لیے مخصوص ہے۔ اور اس روز تجارت، زراعت، شکار وغیرہ ہر قسم کے دنیوی کام سب ممنوع تھے، اور ممانعت بھی اس شدومد کے ساتھ کہ جو اس حکم کو توڑے اس کی سزاقتل۔ توریت کے الفاظ ہیں :۔ ” پس سبت کو مانو اس لیے کہ وہ تمہاریہ لیے مقدس ہے۔ جو کوئی اس کو پاک نہ جانے وہ ضرور مارڈالا جائے۔۔ پس جو کوئی روز سبت کو کام کرے وہ ضرور مار ڈالا جائے “۔ (خروج۔ 3 1: 14، 15) (آیت) ” اعتدوا “۔ تجاوز کرجاتے تھے شریعت موسوی کے حدود سے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں یہود کی ایک بڑی آبادی مقام ایلہ میں تھی۔ یہ ذکر انہیں کا ہے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ حکومت 10 13 ق ؁، م تا 973 ؁ ق، م کا ہے۔ مقام ایلہ اگر وہی ہے جس کا ذکر توریت میں ایلات (Elath) کے نام سے آتا ہے (استثناء 2:8) تو یہ فلسطین کے جنوب میں، عرب کی عین شمالی سرحد پر (قدیم علاقہ ادوم میں) بحرقلزم کی مشرقی خلیج میں لب ساحل واقع ہے۔ موجودہ جغرافیہ اس کو عقبہ کے نام سے پہچانتا ہے۔ اور عقبہ خلیج عقبہ کا مشہور بندرگاہ ہے۔ ایلہ کے یہودی اپنی شریعت کے قانون کی مسلسل خلاف ورزی کرتے، مچھلی کا شکار ایک خاص چالاکی کے ساتھ اور اسے ظاہری صورت جواز دے کر سبت کے دن کیا کرتے۔ 230 ۔ اس مسلسل نافرمانی پر سزاتوان مجرموں کو یقیناً ملی۔ باقی کیا ملی، اس کی تفصیلات اس درجہ قطعی نہیں، جمہور مفسرین کا خیال ہے کہ یہ سزا اسی طرح واقع ہوئی جیسی قرآن کے ظاہر الفاظ سے ظاہر ہورہی ہے۔ ؛ یعنی وہ انسان بندر بنے اور پھر تین دن کے بعد ہلاک ہوگئے۔ اس تفسیر پر عقلا کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ جو لوگ اللہ کے قانون تشریعی کے توڑنے میں اتنے جری وبیباک ہوں، ان کے حق میں خالق کائنات اپنے قانون تکوینی کو کسی حد تک اگر بدل دے، اور بجائے ” ارتقاء “ کے کبھی اگر ” ارتقاء معکوس “ ہوجائے تو اس میں عدم امکان تو خیر کیا ہوگا۔ استبعاد بھی کچھ ایسا زائد تو نہیں لیکن روایتیں خود اس نتیجہ پر تمامتر متفق نہیں، بلکہ یہ قول تابعین ہی کے زمانہ سے تفسیروں میں لکھا چلا آرہا ہے کہ مسخ صرف معنوی ہوا تھا، صوری نہیں۔ یعنی ان کے عادات واخلاق بندروں کے سے کردیئے گئے تھے۔ اور بندر کا اطلاق ان پر مجازا ہونے لگا تھا۔ ورنہ حقیقۃ وہ بندروں کے جسم پر قالب میں تبدیل نہیں کیے گئے تھے۔ لم یمسخوا قردۃ انما ھو مثل ضربہ اللہ لھم (ابن جریر، عن مجاہد) مسخت قلوبھم ولم یمسخوا قردۃ (ابن جریر۔ عن مجاہد) روی عن مجاھدفی تفسیر ھذا الایۃ انہ انما مسخت قوبھم وردت افھامھم کا فھام القردۃ (قرطبی) مفردات میں ایک قول اسی معنی میں نقل ہوا ہے۔ قیل بل جعل اخلاقھم کا خلاقھا وان لم تکن صورتھم کصور تھا (راغب) لیکن جمہور مفسرین کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ قول غریب اور ظاہر سیاق قرآنی کے خلاف ہے۔ قول غریب خلاف الظاھر من السیاق فی ھذا المقام وفی غیرہ (ابن کثیر) وظاہر القرآن انہم مسخوا قردۃ علی الحقیقۃ وعلی ذلک جمھور المفسرین وھو الصحیح (روح)
Ayah 2:66

فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:66 in the Quran reader

ہم نے اسے (موجب) عبرت بنادیا اس زمانہ کے اور اس کے بعد کے لوگوں کے لیے،231 ۔ اور ایک (موجب) نصیحت (بنادیا) خوف خدا کے رکھنے والوں کے لیے،232 ۔

231 ۔ سزا کی تفصیلی نوعیت کچھ بھی ہو، بہرحال تھی وہ کوئی بہت سخت اور عبرتناک سزا۔ قرآن مجید کا مقصود اس سزا کی تفصیل بیان کرنا نہیں، بلکہ اس کی عبرت انگیزی اور موعظۃ آموزی کے پہلوکو واضح کرنا ہے۔ واقعہ جو کچھ بھی ہو، یہود کا جانا بوجھا ہوا تھا، قرآن اسے صرف یاد دلا رہا ہے۔ جعلنھا میں ھا کی ضمیر عقوبت کی طرف بھی ہوسکتی ہے، اور اس مسخ شدہد امت کی طرف بھی۔ ماحصل دونوں صورتوں کا ایک ہی ہے۔ اے جعلنا تلک العقوبۃ (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ یعنی بہ فجعلنا الامۃ التی اعتدت فی السبت (ابن جریر) (آیت) ” نکالا۔ نکال وہ سخت سزا ہے جو دوسروں کے لیے باعث عبرت ہو۔ اے عبرۃ تنکل المعتبربھا (بیضاوی) عبرۃ تنکل من اعتبربھا (کشاف) (آیت) ” ما بین یدیھا وما خلفھا۔ ما دونوں جگہ من کے معنی میں آیا ہے یعنی ما کا استعمال جاندار، صاحب عقل مخلوق کے لیے ہوا ہے۔ (آیت) ” مابین یدیھا “ معاصرین کے معنی میں ہے اور 3 (آیت) ” ما خلفھا “ بعد کے آنے والوں کے معنی میں۔ مابین یدیھا اے معاصریھم (ابن عباس ؓ ما خلفھا اے من خلفھم (ابن عباس ؓ بما قبلھا وبما بعدھا من الامم والقرون (کشاف) (آیت) ” یدیھا اور خلفھا “ دونوں میں ضمیر ھا عقوبت کی طرف ہے۔ والضمیر ان للعقوبۃ (قرطبی) گویا سزا ایسی تھی کہ مدتوں تک نسلا بعد نسل اس کا چرچا رہے اور لوگ اس کا تذکرہ سن سن کر ڈرتے اور لرزتے رہیں۔ 232 ۔ یعنی تاکہ متقین کو اس واقعہ کی حکایت سے راہ تقوی کی طرف ترغیب اور زیادہ ہو۔ یا یہ مراد لی جائے کی نصیحت کو قبول کرنے والے اور اس سے فائدہ اٹھانے والے متقین ہی ہوں گے۔ صاحب روح المعانی نے یہاں یہ نکتہ اہل عرفان کے لیے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عبادتوں کو خاص خاص ہیئت کے ساتھ خاص اوقات میں متعین کیا ہے۔ تاکہ طبعی ظلمتیں دورہوں سو جو شخص ان ہئیتوں کی رعایت نہیں کرتا اس کا نوراستعداد ضائع ہوجاتا ہے اور وہ اصحاب سبت کی طرح مسخ کردیا جاتا ہے۔ یعنی جس جانور کے اوصاف اس میں راسخ ہیں، انہیں کی طبیعت اس میں پیدا کردی جاتی ہے۔ اگرچہ اس امت کے لیے مسخ صورت نہیں۔ پس انسان کو چاہیے کہ ادویہ شرعیہ کے ذریعہ سے اپنی انسانیت کو محفوظ رکھنے کی کوشش میں لگا رہے، چناچہ بعض اہل کشف اس زمانہ میں ایسے بھی پائے گئے ہیں، جو انسان کو اسی حیوان کی شکل میں دیکھتے ہیں، جس کی صفت حیوانی اس پر غالب ہوتی ہے۔ مثلا جس میں ظلم وشقاوت غالب ہوتی ہے، اسے آتا ہوا دیکھ کر پکار اٹھتے ہیں کہ بھیڑیا آرہا ہے۔ یا جس پر حرام خوری کی گندگی غالب ہوتی ہے اسے دیکھ کر یوں بول اٹھتے ہیں کہ سؤر چلا آرہا ہے۔ اور اس قسم کا کشف تکوینی صرف اہل حق ومقبولین کے ساتھ مخصوص نہیں۔
Ayah 2:67

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 2:67 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ تمہیں اللہ حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو،233 ۔ وہ بولے آپ ہم سے ہنسی کررہے ہیں کیا ؟234 ۔ موسیٰ نے کہا خدا مجھے اس سے پناہ میں رکھے کہ میں جاہلوں میں ہوجاؤں،235 ۔

233 ۔ اسرائیلیوں میں ایک واقعہ قتل کا ہوگیا تھا اور قاتل کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ ذبح گاؤ کا حکم اسی سلسلہ میں ملا۔ اس کی کچھ تصریح اگلے رکوع میں آرہی ہے۔ یہ زمانہ وہ ہے کہ صدیوں تک مصر میں اور مصر والوں کے درمیان رہتے رہتے بہت سے مشرکانہ رسوم توحید کے علمبردار اسرائیلیوں میں پھیل چکے ہیں۔ اور گائے کی عظمت بلکہ تقدیس ان کے دلوں میں رچ چکی ہے۔ ہندوستان کی طرح مصر میں بھی گائے کی تقدیس مشرکانہ مذہب کا ایک جزوتھی۔ توریت میں اسرائیلیوں کو ذبح گا ؤکا حکم خاص خاص قیدوں اور شرطوں کے ساتھ بار بار ملا ہے۔ مثلا ” بنی اسرائیل کو کہو کہ ایک لال گائے جو بےداغ اور بےعیب ہو اور جس پر کبھی جوا نہ رکھا گیا ہو، تجھ پاس لائیں، تم اسے الیعزر کاہن کو دو کہ اسے خیمہ گاہ سے باہر لے جائے اور وہ اس کے حضور ذبح کی جائے “۔ (گنتی۔ 19:2) ” جو شہر مقتول سے زیادہ نزدیک ہے، اسی شہر کے بزرگ سے ایک بچھیالیں جس سے ہنوز کچھ خدمت نہ لی گئی ہو اور جوئے تلے نہ آئی ہو اور اس شہر کے بزرگ اس بچھیا کو ایک بیہڑوادی میں جو نہ جوتی گئی ہو نہ اس میں کچھ بویا گیا ہو، لے جائیں اور اس وادی میں اس بچھیا کی گردن کاٹیں۔ “ (استثناء 2 1:3، 4) بقرۃ۔ اصلا صرف گائے کے لیے ہے، اور ثور کا مؤنث ہے۔ قیل للذکر ثور (راغب) البقرۃ اسم الانثی والثور اسم اللذکر (قرطبی) لیکن بعض مفسرین نے اسے گائے اور بیل دونوں کے لیے عام رکھا ہے اور یہاں اس سے بیل مراد لی ہے۔ 234 ۔ بنی اسرائیل ” گؤماتا “ کے احترام و تقدیس کے جذبہ سے سرشار تھے۔ یقین ہی نہ آیا کہ ایسے مقدس ومحترم کے ذبح کر ڈالنے کا حکم ملا ہوگا۔ بس یہی سمجھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہنسی اور تفنن طبع کی راہ سے کہہ رہے ہیں۔ 235 ۔ (اور احکام خداوندی کی پیام رسانی میں ہنسی دل لگی سے کام لینے لگوں) جاھلین۔ جہل کے لغوی معنی میں کسی کام کو اس کے برخلاف ادا کرنے کا حق ہے۔ الجھل فعل الشیء بخلاف ما حقہ ان یفعل (راغب) اللہ کی طرف سے پیام گڑھ لینے کی جسارت وہی کرسکتا ہے جو خود اللہ تعالیٰ سے غافل و جاہل ہو۔ انما یکون ذلک من الجھل باللہ تعالیٰ (بحر) یا وہ کرسکتا ہے جو امور دینی میں استہزاء کے نتائج و عواقب سے بیخبر ہو۔ (آیت) ” ان اکون من الجھلین “ بما فی الاستھزاء فی امر الدین من العقاب الشدید (کبیر) فقہاء ومفسرین نے آیت سے استنباط کیا ہے کہ دین ومعظمات دین کے ساتھ استہزاء حکم جہل اور گناہ عظیم میں داخل ہے اور اس کا مرتکب مستحق وعید ہے۔ وفی الایۃ دلیل علی منع الاستھزاء بدین اللہ ودین المسلمین ومن یجب تعظیمہ وان ذلک جھل وصاحبہ مستحق للوعید (قرطبی) یدل علی ان الاستھزاء من الکبائر العظام (کبیر) لیکن ساتھ ہی یہ ضروری تصریح بھی کردی ہے کہ مزاح یا خوش طبعی کو استہزاء یا تمسخر سے کوئی مناسبت نہیں۔ دونوں میں بڑا فرق ہے۔ خوش طبعی تو خود رسول اللہ ﷺ والمزاح ظاہر فلاینا فی وقوعہ من الانبیاء (روح) اور مفسر قرطبی نے اس سلسلہ میں ابن خونیر منداد کے حوالہ سے شہر کوفہ کے قاضی (جج) کی ایک دلچسپ حکایت بھی نقل کی ہے۔
Ayah 2:68

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 2:68 in the Quran reader

وہ بولے ہماری طرف سے اپنے پروردگار سے درخواست کیجئے کہ وہ ہمیں بتائے کہ وہ کیسی ہو،236 کہا کہ وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ بوڑھی ہو نہ بن بیائی (بلکہ) دونوں عمروں کے درمیان ہو،237 سو (اب) کرڈالوجو کچھ تمہیں حکم ملا ہے

236 ۔ (بہ لحاظ عمر) ماھی سے مراد بیان حقیقت نہیں۔ مقصود توضیح مزید ہے۔ 237 ۔ یعنی نہ ایسی بوڑھی ہو نہ بالکل بچہ۔ (آیت) ” فارض “ وہ ہے جس کے بچہ جننے کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہو۔ (آیت) ” بکر “ وہ ہے جس نے ابھی بچہ جناہی نہ ہو۔ الفارض المسنۃ التی لا تلد والبکر الفتیۃ التی لم تلد قط (معالم) یہیں سے خیال ہوتا ہے کہ بقرۃ سے مراد بیل نہیں گائے ہی ہے۔ عوان کے معنی درمیانی سن رکھنے والی۔ العوان المتوسط بین السنین (راغب)