2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور جب آپ سے میرے بندے میرے باب میں دریافت کریں،670 ۔ تو میں تو قریب ہی ہوں،671 ۔ دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے،672 ۔ (لوگوں کو) چاہئے کہ میرے احکام قبول کریں، اور مجھ پر ایمان لائیں،673 ۔ عجب نہیں کہ ہدایت پاجائیں،674

670 ۔ (اے پیغمبر ! ) (آیت) ” عنی “ یعنی میرے قرب وبعد سے متعلق۔ اقریب ربنا فنناجیہ ام بعید فننادیہ (بیضاوی) گمراہ قوموں نے باری تعالیٰ کے وجود کا اقرار تو بارہا کیا ہے۔ لیکن ذات باری کو انسان سے اس قدر پرے، مادی ومعنوی دونوں حیثیتوں سے فرض کیا ہے کہ وہاں تک بندوں کی رسائی گویا ممکن ہی نہیں ! (آیت) ” اذاسالک “ اہل لطائف نے اس سے یہ نکتہ نکالا ہے کہ قرب و قبول طلب پر موقوف ہے اور ک خطاب اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ یہ توسط آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص سمجھا جائے کسی اور کی طرف گمان نہ جائے۔ 671 ۔ (اور یہ آپ بندوں سے میری طرف سے کہہ دیجئے) (آیت) ” قریب “ قریب باعتبار کمال علم، یا قریب بہ اعتبار قبول دعا۔ اے قریب بالاجابۃ (ابن عباس ؓ قریب بالعلم لا یخفی علی شئی (معالم) اے بالاجابۃ وقیل بالعلم (قرطبی) علمااجابۃ لتعالیہ عن القرب مکانا (مدارک) انہ تعالیٰ یسمع دعاء ھم ویری تضرعھم اوالمراد من ھذا القرب العلم والحفظ (کبیر) قرب سے ظاہر ہے کہ قرب مادی یا مکانی تو مراد ہو ہی نہیں سکتا، قرب معنی مراد ہوگا، تمثیل لکمال علمہ بافعال العباد واقوالھم واطلاعہ علی احوالھم (بیضاوی) حق تعالیٰ کا قرب اپنے بندوں سے رہتا تو ہمیشہ ہی ہے۔ ماہ رمضان میں اس عموم میں خصوص پیدا ہوجاتا ہے اور یہ قرب یا تعلق خاص اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ بندوں کی تسکین اور تسلی کا کس قدر سامان اس آیت کے اندر موجود ہے ! ہمیں اپنے خدا کو ڈھونڈھنے کہیں اور نہیں جانا ہے۔ وہ تو ہم سے قریب ہی، ہم سے متصل ہی ہے۔ 672 ۔ (اور جن دعاؤں کا قبول کرنا میری حکمت کاملہ اور مشیت مطلقہ کے منافی نہیں ہوتا) (آیت) ” عنی، انی، اجیب، دعان۔ متکلم کی ساری ضمیریں آیت میں بجائے جمع کے واحد کی ہیں۔ دونوں صیغوں کا عمومی فرق ملحوظ رہے۔ صیغہ جمع عموما قدرت عظمت، قوت کا مظہر ہے، اور واحد اس کے برعکس التفات، اختصاص، توجہ کی جانب مشیر ہوتا ہے۔ اور یہاں توجہ والتفات کا مشیر ہونا تو بالکل ظاہر ہے۔ آیت کے الفاظ سے دعا کی ترغیب وتشویق بھی نکل آئی۔ اور اشارہ اس جانب بھی ہوگیا کہ دعا بندہ کا کوئی سرتاسر خود غرضانہ اور دنیوی عمل نہیں، بلکہ عین عبادت اور موجب تقرب ہے۔ ایک حدیث صحیح میں یہ مضمون آیا ہے کہ جس کے لیے دعا کا دروازہ کھل جاتا ہے یعنی دعا کی توفیق ہوجاتی ہے، اس کے لیے رحمت کا بھی دروازہ کھل جاتا ہے۔ 673 ۔ (آیت) ” فلیستجیبوالی “ یعنی میری دعوت ایمان وطاعت قبول کریں، جس طرح میں ان کی دعائے حاجات قبول کرتا ہوں۔ اذا دعوتھم للایمان والطاعۃ کما انی اجیبھم اذا دعونی لحوائجھم (مدارک) المعنی فلیجیبوا الی فی مادعوتھم الیہ من الایمان اے الطاعۃ والعمل (قرطبی۔ عن مجاہد وغیرہ) حکیم مطلق کے کسی حکم کے نامناسب ہونے کا احتمال ہی نہیں بخلاف بندوں کی درخواستوں کے کہ ان میں بہت سی نامناسب بھی ہوتی ہیں، اور اس لیے مرتبہ قبول سے محروم رہتی ہیں۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” والیؤمنوا بی۔ “ یعنی یقین رکھیں نہ صرف میرے وجود پر بلکہ میرے حاکم ہونے پر، میرے حکیم ہونے پر، اور میری رعایت مصالح پر۔ 674 ۔ (اور ان پر فلاح دارین کا دروازہ کھل جائے) (آیت) ” لعل “ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ کلام الہی میں جب حق تعالیٰ کی طرف منسوب ہو کر یہ لفظ آتا ہے تو اس کے معنی محض امید یا احتمال کے نہیں رہتے، بلکہ اس میں یقین پایا جانے لگتا ہے۔ مراد یہ ہوئی کہ احکام الہی پر عمل کرنے اور اس کے حکیم وحاکم ہونے پر یقین رکھنے سے دروازہ فلاح دارین کا کھل کررہے گا۔
Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

جائز کردیا گیا ہے تمہارے لیے روزوں کی رات میں اپنی بیویوں سے مشغول ہونا،675 ۔ وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو،676 ۔ اللہ کو خبر ہوگئی کہ تم اپنے کو خیانت میں مبتلا کرتے رہتے تھے،677 ۔ پس اس نے تم پر رحمت سے توجہ فرمائی، اور تم سے درگزر کردی،678 ۔ سو اب تم ان سے ملوملاؤ،679 ۔ اور اسے تلاش کرو، جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے،680 ۔ اور کھاؤ اور پیو جب تک کہ تم پر صبح کا سفید خط سیاہ خط سے نمایاں ہوجائے،681 ۔ پھر روزہ کو رات (ہونے) تک پورا کرو،682 ۔ اور بیویوں سے اس حال میں صحبت نہ کرو، جب تم اعتکاف کئے ہو مسجدوں میں،683 ۔ یہ اللہ کے ضابطے ہیں سو ان (سے نکلنے) کے قریب بھی نہ جانا،684 ۔ اللہ اسی طرح اپنے احکام لوگوں کیلئے کھول کھول کر بیان کرتا ہے،685 ۔ عجب نہیں کہ وہ پرہیزگار بن جائیں،686 ۔

675 ۔ یہ اجازت شروع میں نہ تھی۔ ابتداء روزہ کی حالت میں رات میں بھی دن ہی کی طرح بیویوں سے علیحدگی کا حکم تھا۔ شریعت اسلامی رسول اللہ ﷺ کی حیات رسالت میں بتدریج نازل ہوئی۔ کہیں تو ایسا ہوا کہ احکام شروع میں نرم تھے۔ رفتہ رفتہ سخت کیے گئے، مثلا شراب نوشی، کہ پہلے صرف ناپسند کی گئی، اور پھر ہوتے ہوتے اس کی حرمت کا حکم آگیا، اور کہیں اس کے برعکس ہوا ہے۔ یعنی ابتداء قانون سخت تھا۔ رفتہ رفتہ اس میں سہولتیں اور رعایتیں زیادہ ہوتی گئیں۔ چناچہ یہی روزہ کا معاملہ ہے کہ پہلے صحبت رات میں بھی حرام تھی، بعد کو جائز کردی گئی، رفث کے لفظی معنی شہوت انگیز کلام کے ہیں لیکن جب صیغہ متعدی میں اسے لایا جاتا ہے تو اس سے مراد صحبت یا مباشرت ہوتی ہے۔ چناچہ یہاں (آیت) ” الرفث الی نسآئکم “ ہے عداہ بالی لانہ فی معنی الافضاء (لسان) جعل کنایۃ من الجماع وعدی الی تضمنۃ معنی الافضاء (راغب) کنی بہ عن الجماع (کشاف) والمراد بہ ھھنا المباشرۃ (ابن العربی) یہیں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ بیوی کی طرف میل ورغبت ذرا بھی کمال روحانیت وتزکیہ نفس کے منافی نہیں، جیسا کہ بہت سے مشرکانہ اور جاہلی مذہبوں نے سمجھ لیا ہے اور ماہ صیام کی طاعت و عبادت، اور بیوی سے خلوت وصحبت کے درمیان منافات ذرا بھی نہیں، جیسا کہ مذہب کے جو گیا نہ اور راہبانہ تخیل نے دلوں میں بٹھا دیا ہے۔ شریعت اسلامی نے جس چیز پر سخت پہرہ بٹھا رکھا ہے، وہ شہوت حرام اور اس کے مبادی ومقدمات ہیں، نہ کہ نفس شہوت بھوک، پیاس، نیند کی طرح جنسی بھوک بھی اگر اپنے حدود کے اندر ہے تو ایک طبعی اور بےضرر خواہش ہے۔ قصدا اور بلاضرورت شرعی روزۂ رمضان توڑ دینے کی سزا شریعت نے دو مہینے یعنی ساٹھ دن کے مسلسل روزے رکھی ہے اور شوہر وبیوی اگر اپنے مشترک سے روزہ توڑ دیں تو دونوں کی یہی سزا ہے لیکن اگر بیوی رضامند نہ ہو، اور شوہر اسے دن میں ہم بستری پر مجبور کردے، تو بیوی پر گناہ نہیں، البتہ خود جبر کا تحقق ہونا چاہیے۔ اس کے لیے صرف ایک روزہ کی قضا ہوتی ہے۔ کفارہ کی بنیاد قصد وتعمد پر ہے۔ 676 ۔ (قرب واتصال کے لحاظ سے، یا ایک دوسرے کے پردہ دار اور موجب تسکین ہونے کے لحاظ سے) گویا اردو محاورہ میں، دونوں میں چولی دامن کا ساتھ ہے،۔ وہ ان کے حق میں اوڑھنا بچھونا ہیں، اور یہ ان کے حق میں، یہ لباس کی تشبیہ کس اعتبار سے ہے ؟ مختلف زبانوں سے اس کے مختلف جوابات ملتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ ایک دوسرے کے محتاج ہونے کی بنا پر کسی نے کہا کہ اجسام کی ملابست وملامست کی بنا پر۔ وقس علی ھذا۔ لیکن غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ انسان کے حق میں لباس کا ایک وصف امتیازی اس کی پردہ پوشی ہے۔ لباس جسم کے عیبوں کو چھپاتا ہے، اس کے حسن و خوبی کو ابھارتا ہے، تشبیہ سے خاص اشارہ اسی وصف کی جانب معلوم ہوتا ہے۔ گویا ہر اسلامی خاندان میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کا پردہ پوش ہونا چاہیے، اور ایک دوسرے کی زینت کو بڑھانے والا۔ جو انتہائی گہرا رشتہ اور تعلق میاں بیوی کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کی بنا پر ظاہر ہے کہ جتنا موقع ایک کو دوسرے کو جسمانی، اخلاقی، روحانی عیبوں اور کمزوریوں پر مطلع ہونے کا ملتا ہے اتنا نہ کسی دوست کو مل سکتا ہے نہ کسی عزیر کو، اور نہ ایک کا کوئی راز دوسرے سے مخفی رہ سکتا ہے۔ اسی صورت حال میں عورت کے اخلاق کا کمال یہی ہے کہ شوہر کی ہر کمزوری کو چھپائے، اس پر صبر کرے، اسے بہتر سے بہتر صورت میں ظاہر کرے، اور ع : ناخوش تو خوش بود برجان من کا ثبوت قدم قدم پر پیش کرے۔ علی ہذا مرد کے بھی کمال اخلاق کی یہی معراج ہے ! دونوں کی اخلاقی تکمیل کا یہ مؤثر ترین نسخہ اسلام نے باتوں باتوں میں بغیر کسی شدید اور پر تعب مجاہدہ میں ڈالے ہوئے روز مرہ کے لطیف وسہل مجاہدات کے ذریعہ بتادیا۔ یہ اس مذہب کی تعلیم ہے جو فرنگی ” محققین “ کی نظر میں پست اس لیے ہے کہ اس میں عورت کی تحقیر کی گئی ! ع : کتنا غلط یہ حرف بھی مشہور ہوگیا ! کون جھوٹ اس سے بڑھ کرسخت، کونسا اتہام اس سے بڑھ کر صریح ہوگا ؟ منوسمرتی والے ہندومذہب کا ذکر نہیں، عہد عتیق وجدید والے یہودی ونصرانی مذہبوں سے سوال ہے کہ ان کے سارے دفتر کتب واسفار میں کون سی تعلیم زن وشو کے باہمی تعلق، محبت واعتماد کے باب میں اس درجہ کی ہے ؟۔ 677 ۔ یعنی رات کو چھپ چھپ کر بیویوں سے صحبت کرتے تھے، اور جو حکم ممانعت اب تک تھا اسے بار بار توڑتے رہتے تھے۔ 678 ۔ یعنی پچھلے گناہوں کو معاف کردیا، اور آئندہ کے لئے رمضان میں رات کو بیویوں کے ساتھ خلوت اور صحبت کی اجازت دے دی۔ 679 ۔ (اپنے معمولی طریقہ پر، جیسے رمضان کے علاوہ دوسرے زمانوں میں کرتے رہتے تھے) (آیت) ” باشرو “۔ صیغہ امر ہے مراد اجازت ہے نہ کہ حکم۔ مباشرت سے مراد عورت سے صحبت کرنا ہے۔ کنایۃ عن الجماع (قرطبی) کنی بہ عن الجماع (بیضاوی) 680 ۔ (بصورت اولاد اور بطور میاں بیوی کی یکجائی کے قدرتی نتیجہ کے) (آیت) ” ماکتب اللہ لکم، مراد اولاد، اور اولاد صالح ہے۔ عمل مباشرت اگر صحیح سن میں اور مناسب وقت پر ہو، بڑی گہری طبعی لذت بھی رکھتا ہے۔ لیکن اسلام نے اس عمل سے اصلی اور بڑا مقصد افزائش نسل اور حصول اولاد رکھا ہے کہ امت کی قوت اور کثرت میں برابر کا اضافہ ہوتا رہے اور ذاتی لذت اجتماعی منفعت کا زینہ بنتی رہے ٹھیک اسی طرح جیسے کھانے پینے کی لذت طبعی ذریعہ بنتی رہتی ہے۔ فرد کی حیات وبقا کا، اور اس کی تقویت جسم کا ماقضی اللہ لکم من ولد صالح (ابن عباس ؓ یعنی الولد قالہ اکثر المفسرین (معالم) اور ابن کثیر نے اسی معنی کی تائید میں حضرت ابن عباس، ابوہریرہ، انس ؓ جیسے صحابیوں سے لے کر قاضی شریح، مجاہد، حسن بصری، ضحاک قتادہ عکرمہ، عطاء سعید بن جبیر وغیرہ اکابر تابعین تک سب کا اجماع نقل کردیا ہے۔ (آیت) ” کتب “ لکھ رکھا ہے “۔ یعنی لوح محفوظ میں۔ اپنی مشیت تکوینی میں۔ اے فی اللوح المحفوظ (معالم) اے اثبت فی اللوح من الولد (کشاف) (آیت) ” وابتغوا “۔ بعض نے (آیت) ” وابتغوا “ سے مراد شب قدر کی تلاش اور (آیت) ” کتب اللہ لکم “ کے معنی اس کے اجر وثواب کے لیے ہیں۔ لیکن اہل تحقیق نے رد کردیا ہے۔ ھو قریب من بدع التفاسیر (کشاف) (آیت) ” وابتغوا “ سے صاف اشارہ نکل رہا ہے کہ مطلوب افزائش نسل ہے، نہ کہ ارادی لاولدی یا عزل۔ قیل ھو نھی عن العزل (کشاف) قیل النھی من العزل (بیضاوی) منع حمل اور قطع نسل کی جس جدید تحریک کا اس وقت زور ہے اور جو ” ضبط تولید “ وغیرہ مختلف خوشنما ناموں سے پیش ہورہی ہے۔ قرآن مجید نے اپنے بلیغ انداز میں اس سب کی تردید کردی اور بتادیا کہ مباشرت کا جو نتیجہ قدرۃ اور طبعا نکلتا ہے، اس کی توقع رکھنا چاہیے اور اسی کا انتظار کرنا چاہیے۔ عام قاعدہ اور اصل عمومی یہی ہے باقی اجتماع تزوجی کے قدرتی نتیجوں کو بلاوجہ خاص و ضرورت شدید مصنوعی ذریعوں اور تدبیروں سے روکنا، اور ربڑ وغیرہ کے آلات کو کام میں لانا، مصیبتوں کو دور کرنا نہیں، جسمانی آلام اور اخلاقی امراض کو بڑھانا اور فرد وقوم دونوں کو نئے نئے فتنوں کی دعوت دینا ہے انتہائی سرگرم کوششوں کے باوجود اول تو ابھی تک کوئی پوری طرح ” حمل روک “ آلہ دریافت ہی نہیں ہوسکا ہے۔ ” اب تک کوئی مانع حمل ایسا نہیں دریافت ہوسکا ہے۔ جو ہر طرح قابل اطمینان ہو۔ یعنی قطعی ہو، بےضررہو، اور سادہ ہو “۔ (انسائیکلو پیڈیا برناٹیکا۔ جلد 3 ۔ صفحہ 650، طبع چہاردہم) اور پھر اگر کوئی بےخطا اور حکمی تدبیر دریافت ہو بھی گئی، تو منع حمل کی جسمانی مضرتوں کے تدارک کی کیا صورت ہوگی۔” یہ باور کرنا دشوار ہے کہ یہ عمل (امتناع) بار بار کیا جائے، اور اس کے مضراثرات مرد و عورت کے اعلی صفات پر مرتب نہ ہوں “۔ (ایضا صفحہ 65 1) یہ اگر مان بھی لیا جائے کہ جلد جلد استقرار حمل اور وضع حمل سے عورت کی صحت خراب ہوجاتی ہے، تو بھی خود طب جدید کا فتوی یہ ہے کہ عورت کو زمانہ حمل میں صنفی اعمال سے جو مہلت مل جاتی ہے، نیز وضع حمل کے بعد رضاعت وغیرہ کی مشغولی و توجہ، یہ سب عورت کی صحت کے لیے ضروری ہے اور پھر یہ بھی تو ہے کہ اولاد کی پیدائش ہمیشہ والدین کے ارادہ کی تابع نہیں رہتی۔ چناچہ ایسے والدین کی مثالیں بارہا مشاہدہ میں آچکی ہیں کہ پہلے تو انہوں نے امتناع کی صناعی تدبیریں اختیار کرکے اپنے اعظاء تولید کی صلاحیتوں کو ضائع کردیا اور پھر آگے چل کر جب اولاد کی خواہش یا ضرورت محسوس کی تو اپنی سابقہ حرکتوں پر پچھتائے ہیں “۔ یہ سب تصریحات انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا ہی سے ماخوذ تھیں، باقی متعدد دوسرے ڈاکٹروں، اور انہی میں لیڈی ڈاکٹر بھی ہیں اور سائنس کے ماہرین نے اس جدید فیش کی لغویت اور بیہودگی پر اس سے بھی زیادہ کھلے لفظوں میں کہا ہے اور اس کی طبعی مضرتیں کھول کر دکھائی ہیں خصوصا عورت کے حق میں۔ بلکہ یورپ کے متعدد ملک تو اس تحریک کے نتائج سے تنگ آکر اور طویل تجربوں کے بعد، بالآخر اس پر مجبور ہوئے کہ ماؤں کے لیے انعام قرار دیں، اور ہر نئی زچگی پر ایک نیا انعام دیں ! جرمنی، اٹلی وغیرہ سے تو یہ خبریں کئی سال سے آنا شروع ہوگئی تھیں، اور اب روس، فرانس، وغیرہ سے عین دوران جنگ میں آنے لگی ہیں ! (یہ سطور 1943 ء ؁ میں دوسری جنگ عظیم کے دوران میں لکھی جارہی ہیں۔ ) اور بالآخر بات اسی کی سچی نکلی اور اسی کی بلند رہی، جس نے کہا تھا کہ تزوجوا الولود الودود۔ شادیاں کرو زیادہ بچے پیدا کرنے والی بیویوں سے ! 681 ۔ یعنی طلوع صبح صادق تک کھانے پینے، اور ہمبستری کی اجازت ہے۔ (آیت) ” خیط الابیض۔ خیط الاسود “۔ فجر کی سفید دھاری کا سیاہ دھاری سے ممتاز ہوجانا کنایہ ہے۔ تاریکی شب کے دور ہونے اور سپیدۂ صبح کے نمودار ہونے یعنی طلوع فجر سے۔ اے بیاض النھار من سواد اللیل (راغب) یعنی بیاض النھار من سواد اللیل (معالم) خود شارع اسلام (علیہ السلام) سے یہی تفسیر مروی ہے۔ ھو سواد اللیل وبیاض النھار (بخاری) خط سے یوں بھی کنایہ رنگ سے ہوتا ہے۔ اور یہاں انہیں خط سے یوں تعبیر کیا گیا ہے۔ کہ شروع میں یہ واقعۃ دھاریاں ہی سی نظر آتی ہیں۔ الخیط فی کلامھم عبارۃ عن اللون (قرطبی) الخیط الابیض ھو اول مایبدء من الفجر (کشاف) سمیا خیطین لان کل واحد منھما یبدء فی الابتداء ممتدا کالخیط (معالم) احادیث میں بڑی تاکید کے ساتھ ترغیب دی گئی ہے کہ روزہ دار کی رات بھی حتی الامکان ذکر و عبادت میں بسر ہونی چاہیے۔ چناچہ اہل سنت نے اپنے ہاں جو نماز تراویح پر اتنا زور دیا ہے، وہ صاف اسی منشاء نبوی کی تعمیل ہے۔ مشقت و راحت، تعب ولذت کی جو خوشگوار اور حکیمانہ آمیزش، شریعت اسلامی کی ساری عبادتوں میں ہے، اس کا ایک نمایاں نمونہ یہ رمضان کے روزے ہیں، دن بھر صبر وضبط کی مشق، کھانے پینے کا انتظار جس سے کھانے پینے کا لطف اور بڑھ کر رہتا ہے۔ شام کے وقت فرحت و تفریح۔ پھر شام سے لے کر صبح تک عبادتوں اور مادی لذتوں کا ملاجلا ہوا تسلسل، یہ اسلام ہی کے خصوصیات میں سے ہے۔ (آیت) ” من الفجر “۔ فجرشرعی سے مراد صبح کاذب نہیں، جب کچھ دیر کے لیے اجالا شمال وجنوب میں معلوم ہونے لگتا ہے، بلکہ وہ نور کا تڑکا مراد ہے، جو صبح کاذب کے کچھ دیر بعد ہوتا ہے۔ اور روشنی شرقا غربا پھیلنے لگتی ہے۔ قال الجمھور ذلک الفجر المعترض فی الافق یمنۃ ویسرۃ وبھذا جاءت الخبار ومضت علیہ الاعصار (قرطبی) حدیث میں سحری میں تاخیر کرنے کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں سمرۃ بن جندب ؓ صحابی کی روایت درج ہے، رسول اللہ ﷺ نے خود ارشاد فرمایا ہے کہ بلال ؓ جو لوگوں کو ہوشیار کرنے کے لیے بہت سویرے اذان دے دیتے ہیں، ان کی اذان سے یا محض شمال جنوب میں روشنی دیکھ کر سحری نہ ختم کردو، بلکہ روشنی کے پھیل جانے کو (یعنی وہی شرقی غربی سپیدہ کو) معتبر جانو۔ قال قال رسول اللہ ﷺ لا یغیرنکم اذان بلال ولا ھذا البیاض لعمود الصبح الافق حتی یستطیر (کتاب الصیام، باب فضل السحور) روی الائمہ قال النبی ﷺ لایمنعنکم اذان بلال من سحور کم فانہ یوذن بلیل لیرجع قائمکم ویوقظ نائمکم (ابن العربی) بلکہ نسائی کی ایک حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرات صحابہ، بالکل صبح ہوجانے تک سحری سے شغل فرماتے رہتے۔ بس اس کا لحاظ رہتا کہ کہیں آفتاب ہی نہ نکل آئے۔ عن زید قال قلنا لحذیفۃ ای ساعۃ تسحرت مع رسول اللہ ﷺ قال ھو النھار الا ان الشمس لم تطلع (کتاب الصیام، باب السحور) (زید کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے حذیفہ صحابی ؓ سے دریافت کیا، کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ کس وقت تک سحری کھائی ہے ؟ وہ بولے کہ صبح تک، بس اتنی کسر رہ گئی تھی کہ آفتاب طلوع نہیں ہوگیا تھا) دوسری روایتیں بھی ایسی ہیں تاخیر سحور کی تائید میں ہیں ایک گروہ ادھر گیا ہے کہ سحر اس وقت تک درست ہے، جب تک راستے اور مکانوں میں صبح کی روشنی نہ پھیل جائے، قالت طائفۃ ذلک بعد طلوع الفجر وتبینہ فی الطرق والبیوت (قرطبی) اور حضرت عمر اور حضرت حذیفہ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ جیسے صحابیوں اور متعدد تابعین سے یہ منقول ہے کہ کھانے پینے سے احتیاط اس وقت سے واجب ہے جب صبح راستوں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر ظاہر ہوجائے۔ ان الامساک یجب بتبیین الفجر فی الطرق وعلی رءوس الجبال (قرطبی) حالت جنابت میں اگر صبح ہوگئی اور ہنوز غسل کی نوبت نہیں آئی تو روزہ بلااختلاف جائز ہوگا۔ وفی تجویز المباشرۃ الی الصبح دلالۃ علی جواز تاخیر الغسل الیہ وصحۃ صوم من اصبح جنبا “ (ابوسعود) والجمھور من العلماء علی صحۃ صوم من طلع علی الفجر وھو وجنب (قرطبی) اذا جو زنا لہ الوطئی قبل الفجر ففی ذلک دلیل علی جواز طلوع الفطر علیہ وھو جنب وذلک جائز اجماعا (ابن العربی) (آیت) ” الی الیل “ 682 ۔ یعنی جب سے رات داخل ہونے لگے۔ یہ مطلب نہیں کہ رات کی تاریکی چھا جانے کے وقت تک روزہ رکھے رہو۔ روزہ رات آتے ہی ختم ہوجانا چاہیے، یہ نہ ہو کہ رات کا کوئی جزوروزہ میں شامل وداخل ہوجائے، الی اللیل اے الی دخول اللیل (ابن عباس ؓ فجعل اللیل غایۃ الصیام ولم تدخل فیہ (جصاص) فانہ تعالیٰ ذکرہ حد الصوم بان اخر وقتہ اقبال الیل (ابن جریر) کلمۃ الی الانتھاء الغایۃ فظاہر الایۃ ان الصوم ینتھی عند دخول اللیل (کبیر) اللیل لیس من جنس النھار فیکون اللیل خارجا عن جنس النھار (کبیر) اللیل۔ اور خود لیل کا اطلاق عربی میں دن کے خاتمہ یعنی غروب آفتاب پر معا ہوجاتا ہے۔ اور اعتبار صرف زوال آثار شمس کا کیا گیا ہے۔ اللیل من مغرب الشمس الی طلوع الفجر الصادق (قاموس۔ تاج) اللیل عقب النھار ومبدء ہ من مغرب الشمس (لسان) اس لیے آیت کے معنی صاف یہ ہوئے کہ افطار عین غروب آفتاب کے ساتھ ہوجانا چاہیے۔ یقتضی الافطار عند غروب الشمس حکما شرعیا (ابن کثیر) (آیت) ” اتموا “۔ صیغہ امر کا ہے، اور وجوب کے معنی دیتا ہے۔ امر یقتضی الوجوب من غیر خلاف (قرطبی) والامر بالاتمام ھنا للوجوب (بحر) صوم وصال یعنی بلاافطار کیے دن اور رات کے مسلسل روزہ کی ممانعت بھی اسی آیت سے بہت سے فقہاء نے نکالی ہے اور حدیث میں اس کی ممانعت صراحۃ موجود ہی ہے۔ فیہ مایقتضی النھی عن الوصال اذ اللیل غایۃ الصیام وقالتہ عائشۃ (قرطبی) فدل الایۃ علی نفی کون اللیل محل الصوم وان یکون صوم الیومین صومۃ واحدۃ وقد استنبط النبی ﷺ منھا حرمۃ الوصال (روح) معصیت کسی قسم اور کسی درجہ کی بھی ہو، مسلمان کے لیے ہر زمانہ اور ہر موسم میں حرام ہے۔ لیکن رمضان کے ماہ مبارک میں یہ ممانعت اشد واکد ہوجاتی ہے۔ روزہ دار کی رات بھی گویا عبادت میں بسر ہوتی ہے۔ اور دن تو خیر اتنی بڑی عبادت، یعنی حکم الہی کے احترام میں لذائذ نفس وطبیعت سے اجتناب میں بسر ہوتا ہی ہے۔ بدگوئی، بدنظری، بدزبانی حرام ہمیشہ ہی ہیں، رمضان میں کہنا چاہیے کہ حرام ترہوجاتی ہیں۔ پورے مہینہ بھر کے رات اور دن کا ایک ایک گھنٹہ سپاہ اسلام کی روحانی پریڈ کا زمانہ ہے۔ غفلت کسی لمحہ نہ ہونا چاہیے۔ سرڈبلو۔ ٹی آرنلڈ مسلمان نہیں مسیحی ہیں۔ تاہم جذبہ انصاف پسندی وحق گوئی سے مجبور ہو کر بیدرد مسیحی معاندین کے جواب میں لکھتے ہیں۔ ” ماہ رمضان کے روزوں کے سلسلہ میں صرف اس قدر کہنا ہے کہ دین کا یہ رکن بجائے خود اس خیال کی تردید کے لیے کافی ہے کہ اسلام کی ترویج عیش پرستیوں کے جائز کردینے سے ہوئی ہے۔ کار لائل کے بہ قول محمد ﷺ کا مذہب تن آسانی کا مذہب نہیں، سخت سخت روزے طہارت کے ضابطے، عبادت کے سخت اور پیچیدہ طریقے۔ دن میں پانچ پانچ مرتبہ نماز، شراب کی حرمت، یہ احکام جس مذہب میں ہوں، اس کی مقبولیت تن آسانیوں کا نتیجہ تو نہیں ہوسکتی “۔ (پریچنگ آف اسلام، صفحہ 4 18، طبع ثالث) ملاحظہ ہوضمیمہ، سورة بقرہ کے خاتمہ پر۔ 683 ۔ (بلکہ کسی قسم کا بھی شہوانی میل جول ان سے نہ رکھو ، (آیت) ” ولاتباشروھن “۔ لفظ مباشرت یہاں وسیع معنی میں ہے۔ یعنی عمل مجامعت کے علاوہ اس کے مقدمات ودواعی، بوس وکنار وغیرہ بھی شامل ہیں۔ انہ اللمس والقبلۃ (ابن العربی) لایمس المعتکف امراتہ ولا یباشرھا ولا یتلذذ منھا بشئی قبلۃ ولا غیرھا (ابن جریر، عن مالک بن انس) المراد بالمباشرۃ انما ھو الجماع ودواعیۃ من تقبیل ومعانقۃ ونحوذلک (ابن کثیر) یہ تفسیر حنفیہ ومالکیہ کے مسلک کے مطابق تھی۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک یہ چیزیں اعتکاف میں کراہت پیدا کردیتی ہیں، اسے باطل نہیں کرتیں۔ اما مادون الجماع من المباشرۃ کالقبلۃ واللمس بالشموۃ فمکروہ ولا یفسد بہ الاعتکاف عند اکثر اھل العلم وھو اظھرقول الشافعی (رح) (معالم) (آیت) ” عکفون “ اعتکاف کے لغوی معنی ہیں، اپنے کو کسی شے پر روک رکھنے یا لازم کرلینے کے، اصطلاح شریعت میں اس سے مراد ہے مسجد میں بیٹھ کر اپنے کو عبادت کے لیے مقید کرلینا۔ ھو الاحتباس فی المسجد علی سبیل القربۃ (راغب) اعتکف فی المسجد۔ اے اقام بہ و لازمہ وحبس نفسہ فیہ (تاج) الاعتکاف فی اللغۃ الملازمۃ وھو فی عرف الشرع ملازمۃ طاعۃ مخصوصۃ فی وقت مخصوص علی شرط مخصوص فی موضع مخصوص (قرطبی) العکوف ھو الاقامۃ علی الشیء والاعتکاف فی الشرع ھو الاقامۃ فی المسجد علی عبادۃ اللہ (معالم) معتکف کے لے لازم ہے کہ ہر وقت مسجد ہی میں رہے سہے کھائے پیے، سوئے جاگے اور بغیر مادی یا شرعی ضرورت شدید کے مسجد سے باہر نہ نکالے۔ یجب جان لایخرج الا لما بدمنہ من حاجۃ الانسان وقضاء فرض الجمعۃ (جصاص) لیس للمعتکف ان یخرج من معتکفہ الا لما لابدلہ منہ (قرطبی) مدت اعتکاف کے زیادہ سے زیادہ ہونے کی کوئی حد نہیں۔ البتہ اقل مدت امام شافعی (رح) کے نزدیک ایک لحظہ بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن امام ابوحنفیہ (رح) اور امام مالک (رح) کے مسلک میں کم از کم ایک شب وروز ہونا چاہیے۔ واقل الاعتکاف عند مالک وابی حنیفۃ یوم ولیلۃ وقال الشافعی اقلہ لحظۃ ولاحد لاکثرہ (قرطبی) ھو غیر مقدر عن الشافعی واقلہ لحظۃ وقال مالک وابوحنیفۃ ھو مقدر بیوم ولیلۃ (ابن العربی) (آیت) ” فی المسجد “ اس سے استنباط یہ کیا گیا ہے کہ اعتکاف ہمیشہ مسجد ہی میں ہونا چاہیے۔ اجمع العلماء علی ان الاعتکاف لایکون الافی مسجد (قرطبی) البتہ عورتوں کا اعتکاف بجائے مسجد کے گھر کے کسی گوشہ میں بھی ہوسکتا ہے، جسے نماز و عبادت کے لیے مخصوص کرلیا جائے، بلکہ مسجد میں عورت کے اعتکاف کو فقہاء نے مکروہ لکھا ہے۔ انما المرأۃ فتعتکف فی مسجد بیتھا ولولم یکن لھا فی البیت مسجد تجعل موضعا فیہ متعتکف فیہ (ہدایہ) والمرأۃ تعتکف فی بیتھا (شرح وقایہ) ویکرہ فی المسجد ولا یصح فی غیر موضع صلا تھا من بیتھا (درمختار) دوسرے دنیوی معاملات مثلا لوگوں سے بات چیت کرنا حالت اعتکاف میں جائز ہیں۔ بشرطیکہ ان میں کوئی بات احترام مسجد یا آداب اعتکاف کے منافی نہ پیدا ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ ماہ مبارک کے آخری عشرہ میں پورے دس دن کے لیے مسجد میں اعتکاف فرماتے، اور علائق دنیوی سے انقطاع جو یوں بھی کامل رہتا، اس عرصہ کے لیے کامل تر ہوجاتا۔ اعتکاف مسنون یہی ہے اور اسی کو فقہاء نے سنت کفایہ قرار دیا ہے۔ یعنی بستی بھر میں اگر کوئی بھی کرلے تو پوری بستی کی طرف سے وہ سنت ادا ہوجائے گی، باقی نفس اعتکاف، ہر مدت کے لیے، ہر زمانہ میں بہرحال استحباب وفضیلت کی چیز ہے۔ روحانی قوت و توانائی کا ذخیرہ اپنے اندر بھرنے کے لیے اپنے کو روحانی و ایمانی اعتبار سے تازہ دم کرنے کے لیے اس سے بہتر اور مؤثر تر نسخہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ عین اس زمانہ میں جبکہ بیس دن کی مسلسل اطاعت و عبادت اور شب وروز کے ذکر الہی وفکر ایمانی سے روح پر صیقل ہوچکی ہو، ملکوتیت بیدار ہوچکی ہو، انسان اپنے کو چند روز کے لیے کامل یکسوئی اور نقطاع کے عالم میں لے آئے اور اخلاص وللہیت کی مشقوں کو دعاؤں سے، عبادتوں سے، ذکر وفکر سے منتہائے کمال پر پہونچا دے۔ لیکن ہر کس وناکس کا ظرف اس مرتبہ کا متحمل نہیں ہوسکتا، عجب عجب غیر متوقع صورتیں معصیت کی پیش آجاتی ہیں۔ (جیسا کہ ان سطور کے راقم نامہ سیاہ کو اپنی ذات سے متعلق تلخ وقابل نفریں تجربات ہوچکے ہیں) مثلا یہی کہ کھانا لانے والا آدمی گھر سے کھانا بہت دیر سے لایا، اور معتکف بےاختیار اس پر غصہ سے برس پڑا تو فقہاء نے کہا ہے کہ ایسی صورت میں اعتکاف نہ کرنا ہی بہتر ہے کہ معصیت شدید عبادت (اعتکاف) کے اسی طرح منافی اور ناقص ہے جس طرح نماز و طہارت کی ناقص جسمی ناپاکیاں (بول وبراز) ہیں۔ المعتکف اذا اتی کبیرۃ فسد اعتکافہ لان الکبیرۃ ضد العبادۃ کما ان الحدث ضدالطھارۃ والصلوۃ قالہ ابن خویز منداد عن مالک (قرطبی) ویکرہ الدخول فیہ لمن یخاف علیہ العجز عن الوفاء بحقوقہ (قرطبی) 684 ۔ بہت ہی برمحل یہ یاد دلا دیا گیا ہے کہ یہ سب ضابطے اور قاعدے خدائے دانا وبینا کے مقرر کیے ہوئے ہیں۔ یہ احکام وہدایات حکیم مطلق وحاکم برحق ہی کی طرف سے ہیں۔ انہیں خاطی انسانوں کے قانون قاعدہ پر قیاس کرکے معمولی باتیں نہ سمجھنا۔ (آیت) ” تلک “ سے اشارہ ان سب چھ یا سات احکام کی جانب ہے جو آیت میں مذکور ہوچکے۔ اے ھذہ الاوامر والنواھی (قرطبی) اے الاحکام الستۃ المذکورۃ (روح) 685 ۔ یعنی جس طرح اس نے یہاں روزہ، اس کے حدود واوقات، اعتکاف، اور اس کے متعلقات کے احکام تفصیل سے بیان کردیئے ہیں، اسی طرح وہ اپنے سارے ہی احکام وشرئع انسان کے سود و بہبود کے لیے تفصیل سے بیان فرماتا رہتا ہے۔ المراد انہ کما تبین ما امرکم بہ ونھاکم عنہ فی ھذا الموضع کذلک یبین سائر ادلتہ علی دینہ وشرعہ (کبیر) (آیت) ” ایتہ “ آیات سے مراد احکام یا دلائل شرعی ہیں۔ اے امرہ ونھیہ (ابن عباس ؓ اے ایاتہ الدالۃ علی بقیۃ مشروعاتہ (بحر) اے العلامات الھادیۃ الی الحق (قرطبی) 686 ۔ (ان احکام الہی پر مطلع ہوکر) احکام الہی کی عین تعمیل ہی پرہیزگاری ہے۔ (آیت) ” لعل “ سے متعلق اوپر بیان ہوچکا ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف سے جب اس کا استعمال ہوتا ہے تو معنی میں شک وتردد نہیں بلکہ یقین کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ یعنی احکام کی تعمیل تمہیں پرہیزگار بنا ہی دے گی، عمل کرکے تجربہ کرلو۔
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طور پر مت کھاؤ اڑاو،687 ۔ اور نہ اسے حکام تک پہنچاؤ کہ جس سے لوگوں کے مال کا ایک حصہ تم گناہ سے کھا جاؤ، درآنحالیکہ تم جان رہے ہو،688 ۔

687 ۔ (اے اہل ایمان ! ) (آیت) ” لاتاکلوا “ اکل۔ یہاں لفظی معنی میں نہیں۔ یعنی صرف ’ کھانا ‘ مراد نہیں، بلکہ کسی طرح بھی اپنے تصرف میں لے آنا ہے۔ عبریا لاکل عن انفاق المال (راغب) عبربہ عن الاخذ والاستیلاء (بحر) اردو محاورہ میں بھی ایسے موقع پر بولتے ہیں، فلاں صاحب روپیہ کھا گئے یا رقم ہضم کرگئے۔ (آیت) ” بالباطل “ باطل سے مراد ہے ہر ناجائز طریق۔ فاکل المال بالباطل صرفہ الی ماینا فیہ حق (راغب) اے بالوجہ الذی لایبیحہ اللہ تعالیٰ (بیضاوی) ولمراد من الباطل الحرام وکل مالم یاذن باخذہ الشرع (روح) گویا دو مختصر لفظوں میں تقوی مال کی ساری تعلیم آگئی۔ ہر خیانت سے احتیاط کی تاکید، اور ہر قسم کی امانت ودیانت کا حکم۔ اور فقہاء نے اکل باطل کی جو تفصیل لکھی ہے، اسی میں قمار، غصب، حق تلفی وغیرہ کے ساتھ ایک مد یہ بھی بڑھا دی ہے کہ وہ مال بھی باطل ہی کے حکم میں آجاتا ہے، جو مال لاتطیب بہ نفس مال کہ اوحرمہ الشریعۃ وان طابت بہ نفس مالکہ (قرطبی) (اور مال کے مالک سے بغیر اس کی خوشدلی کے حاصل کیا جائے۔ یا مالک گوا سے خوشدلی سے دے رہا ہو لیکن خود شریعت نے اس مد کو ناجائز قرار دیا ہو) (آیت) ” اموالکم “۔ خطاب تمام مومنین کو ہے، اور حکم کے مخاطب افراد امت ہیں۔ اردو میں (آیت) ” اموالکم “ کا صحیح مفہوم ” اپنا مال “ سے نہیں بلکہ ” ایک دوسرے کا مال “ سے ظاہر ہوگا۔ جیسے (آیت) ” اقتلوا انفسکم “ سے مراد ” ایک دوسرے کا قتل کرنا “ ہے۔ والمعنی لا یا کل بعضکم مال بعض (بحر) والمعنی لایاکل بعضکم مال بعض بغیر حق (قرطبی) ڈاکٹر رابرٹ رابرٹس نے ایک کتاب قرآن مجید کے قوانین معاشری پر لکھی ہے۔ اس میں اس آیت کو نقل کرکے لکھا ہے :۔ ” یہ آیت اس امر کی شہادت مزید ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے پیرو وں میں کتنی تاکید باہمی حسن معاملت کے باب میں رکھی ہے “۔ (سوشل لاز آف دی قرآن، صفحہ 108) (آیت) ” بینکم “ کے دائرہ کی وسعت میں فقہاء نے ساری نسل آدم (علیہ السلام) کو داخل کیا ہے، اور صرف مسلمانوں کے مال تک حکم کو محدود نہیں رکھا ہے، مسلم ہو یا کافر، کسی کا بھی مال دغا، فریب، ظلم وغیرہ سے لینا جائز نہیں۔ صرف کافر حربی کے مال پر تصرف و تسلط جائز ہے کہ اس سے تو اعلان جنگ ہو ہی چکا ہے، لیکن اس سے بھی علی الاطلاق نہیں، بلکہ خاص خاص قیود و شرائط کے ساتھ۔ رشوت، جعلسازی، خیانت، کافر حربی کے معاملات میں بھی درست نہیں۔ 688 ۔ (کہ تم ناحق اور زیادتی پر ہو) دنیا کی کوئی عدالت بہتر سے بہتر ہو، اور کوئی حاکم عادل سے عادل سہی، بہرحال دنیوی فیصلے علم غیب کی بنا پر نہین، روایداد مقدمہ ہی کی بنا پر صادر ہوں گے۔ اور ان میں غلطی، لغزش، ناانصافی، دھوکے کا احتمال ہر وقت ہے۔ آیت اسی حقیقت کی طرف توجہ دلا رہی ہے، کہ جو حق ہے وہ عنداللہ حق ہی رہے گا اور جو ناحق ہے وہ اللہ کے ہاں ناحق ہی شمار ہوگا۔ اگرچہ حکام کا فیصلہ اس کے برعکس ہی ہو، جو قاضی کے فیصلے حق کو اور ناحق کو حق نہیں بنا سکتے۔ اصل شے انسان کی توجہ ولحاظ کے قابل خود اس کا ضمیر اور تقوی ہے۔ حدیث میں اس مضمون کی صراحت بہت زور کے ساتھ آچکی ہے اور مفسرین بھی اسے خوب صاف کرچکے ہیں ،۔ اعلم ابن ادم ان قضاء القاضی لایحل لک حرما ولا یحق لک باطلا انما یقضی القاضی بنحو ما یری ویشھد بہ الشھود والقاضی بشریخطی ویصیب (ابن جریر) ومن الاکل بالباطل ان یقضی القاضی لک وانت تعلم انک مبطل فالحرام لا یصیر حلالا بقضاء القاضی لانہ انما یقضی بالظاہر وھذا اجماع فی الاموال (قرطبی) علی القول بھذا الحدیث جمھور العلماء وائمۃ الفقھاء وھو نص فی ان حکم الحاکم علی الظاھر لایغیر حکم الباطن (قرطبی) وھذا رسول اللہ ﷺ المصطفی للاطلاع علی الغیب یتبرأ من الباطن فیکف یغیرہ من الخلق (ابن العربی) بلکہ جو لوگ اپنی چرب زبانی سے، سخن سازی سے، اپنے ” اثر “ و ” پیروی “ سے جھوٹے مقدمے جیت جائیں، انہیں اور زیادہ ڈرنا چاہیے کہ ان پر علاوہ دوسرے جرائم اور فریق ثانی کی حق تلفی کے، ایک مزید جرم حاکم عدالت کو فریب میں مبتلا کرنے کا بھی عائد ہوگا، (آیت) ” تدلوابھا “۔ ھا کی ضمیر، اموال کی طرف ہے، ب فعل۔ ادلاء کا حرف صلہ ہے۔ (آیت) ” تدلوا “۔ ادلاء کے معنی کنوئیں میں ڈول ڈالنے، اور پھر مجازا کسی چیز کو کہیں پہونچانے یا اسے ذریعہ یا وسیلہ بنانے کے ہیں۔ ادلی تھا اے اخرج تھا وقیل یکون بمعنی ارسل تھا واستعیر للتوصل الی الشیء (راغب) واصل الادلاء ارسال الرجل الدلوفی سبب متعلقابہ (ابن جریر) مطلب یہ ہوا کہ مال کو حکام تک پہونچنے کا، اپنی رسائی اور رسوخ پیدا کرنے کا ذریعہ نہ بناؤ۔ اور رشوت وغیرہ مالی تحفہ وتحائف سے حکام پر اثر نہ ڈالو۔ اے لا ترشوھا الیھم (کبیر) اے تلقوا بعضھا الی حکام السوء علی وجہ الرشوۃ (مدارک) اسلامی حکومت قائم ہونا اور اسلام کے سارے قانون دیوانی وفوجداری کا نافذ ہونا تو خیر بڑی چیز ہے، قرآن مجید کی صرف اسی آیت پر اگر آج عملدر آمد ہوجائے، تو جھوٹے دعوؤں، جعلی کاغذات، جھوٹی گواہیوں، جھوٹے حلف ناموں، اہلکاروں، اور عہدہ داروں کی رشوتوں کے ساتھ ساتھ اعلی احکام کی خدمت میں نذر، نذرانوں، قیمتی ڈالیوں، شاندار دعوتوں کا وجود کہیں باقی رہ جائے ؟ (آیت) ” بالاثم “ گناہ کا لفظ عام ہے۔ ہر قسم کی معصیتیں جو عدالتی کارروائیوں اور انتظامی معاملات کے سلسلہ میں کام میں لائی جاتی ہیں۔ اس کے تحت میں آجاتی ہیں۔ اے بالظلم والتعدی (قرطبی) بشھادۃ الزور اوبالایمان الکاذبۃ اوبالصلح مع العلم بان المقضی لہ ظالم (مدارک) (آیت) ” فریقا “ فریق کے معنی یہاں پارٹی یا گروہ کے نہیں، بلکہ حصہ یا جزو کے ہیں۔ اے قطعۃ وجزوا (قرطبی) قطعۃ وجملۃ (روح)
Ayah 2:189

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

آپ سے (لوگ) نئے چاندوں کے باب میں دریافت کرتے ہیں،689 ۔ آپ کہہ دیجیے کہ وہ لوگوں کے لئے حج کے لئے آلہ شناخت اوقات ہیں،690 ۔ اور یہ تو (کوئی بھی) نیکی نہیں کہ تم گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے آؤ،691 ۔ البتہ نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص تقوی اختیار کرے۔692 ۔ اور گھروں میں ان کے دروازوں ہی سے آؤ،693 ۔ اور اللہ سے تقوی اختیار کئے رہو، تاآنکہ فلاح پاجاؤ،694 ۔

689 ۔ (اے پیغمبر ! کہ ان کے گھٹنے بڑھنے کی غایت کیا ہے ؟ ) (آیت) ” الاھلۃ “ نیا چاند یا ہلال تو ایک وقت میں ایک ہی ہوتا ہے، لیکن یہاں سوال اہلہ (بہ صیغہ جمع) سے متعلق ہے۔ سوال عن الاھلہ کے معنی ہی ہوئے چاند کے مہینوں کی بابت دریافت کرنا۔ یعنی پہلے چاند کا طلوع ہونا، پھر تاریخ وار اس کا بڑھنا، اور پھر تاریخ وار اس کا گھٹنا، یہاں تک کہ اس کا غائب ہوجانا۔ یرید بالاھلۃ شھور ھا، قدیعبر بالھلال عن الشھر لحلولہ فیہ (قرطبی) اے عن زیادۃ الاھلۃ ونقصانھا لماذا (ابن عباس) سئل رسول اللہ عن زیادۃ الاھلۃ ونقصانھا واختلاف احوالھا (ابن جریر) چاند کے روزانہ (بلکہ شبانہ) تغیرات مشاہدہ کی چیزیں ہیں، اس لیے سوال بھی ان کی بابت آسانی سے پیدا ہوتا ہے۔ آفتاب کے تغیرات عام نظروں کے لیے غیر مشاہد رہتے ہیں۔ 690 ۔ (اور اس سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں) قرآن کا ایک ایک فقرہ توحید کے اعلان اور شرک کی تردید میں ہے۔ دنیا میں مشرک قومیں کثرت سے قمرپرستی میں مبتلا رہی ہیں۔ اور بعض ہلال پرستی میں بھی، نئے چاند کو دیوتا مان کر اس کی پوجا کثرت سے کی گئی ہے۔ اور بڑ تھے چاند کو مبارک، اور اترتے چاند کو منحوس سمجھنے کا رواج تو آج خدا معلوم کتنے مسلمان گھرانوں میں بھی موجود ہے۔ اور ہندوستان میں چھپی ہوئی جس جنتری کو چاہیے آج اٹھا کر دیکھ لیجئے، اس کے کتنے خانے اس سے بھرے نظر آئیں گے کہ فلاں تاریخ فلاں کام کے لیے سعد ہے اور فلاں تاریخ نحس۔ قرآن مجید نے عروج وزوال قمر کی یہ غایت بتا کر کہ وہ انسان کے کام آنے والی چیز ہیں (آیت) ” ھی مواقیت للناس، ہلال پرستی اور اس کے ماتحت سارے خرافات کی جڑ ہی کاٹ دی ! احمق انسان ! تو چاند کی کیا پوجا کر رہا ہے، چاند تو خود تیری خدمت کے لیے ہے ! (آیت) ” مواقیت “ جمع ہے میقات کی۔ اور اس کے معنی وقت کے بھی ہیں، اور منتہائے وقت کے بھی، اور وقت موعود و متعین کے بھی۔ جمع المیقات وھو الوقت وقیل المیقات منتھی الوقت (قرطبی) الوقت المضروب للشیء (راغب) (آیت) ” مواقیت للناس “ یعنی ان کے معاملات دنیوی میں بھی اور حسابات شرعی میں بھی۔ سنہ قمری میں، دنوں، تاریخوں، مہینوں کا حساب چاند کے عروج وزوال سے ہوتے رہنا ظاہر ہی ہے۔ مفسر تھانوی (رح) نے یہاں سے یہ نکتہ خوب نکالا ہے، کہ جب اعمال شرعی کا مدار حساب قمرہی پر ٹھہرا، تو اس حساب قمری کا اہتمام وانضباط بھی فرض کفایہ ہوا۔ جنہیں انگریزی سنہ سے کاروبار رکھنا ضرورت کے درجہ میں آپڑا ہے، ان کے لیے تو خیر عذر بھی ہے، لیکن بلاضرورت سنہ ہجری قمری اسلامی کو چھوڑ کر سنہ شمسی مسیحی انگریزی اختیار کرلینا واقعی بڑے افسوس کی بات ہے۔ (آیت) ” والحج “۔ قمری مہینے عام مواقیت انسانی کا تو کام دیتے ہی ہیں، اور ان کے علاوہ حج اور دوسری طاعتوں اور عبادتوں کے لیے بھی معیارو مدار وہی ہیں۔ حج کا ذکر تخصیص کے ساتھ شاید اس لیے فرمایا گیا ہو کہ اس کی اہمیت عرب کے ہر شعبہ زندگی میں بہت نمایاں تھی ، 691 ۔ (جیسا کہ مشرکین عرب اپنی سفاہت سے سمجھ رہے ہیں) جاہلی عرب جب احرام حج کی حالت میں ہوتے تو گھر میں جانے کے لیے دروازہ سے داخل ہونے کو نحوست اور بدشگونی سمجھتے، بلکہ پشت کی دیوار میں ایک بڑا سا روزن پیدا کردیتے، اور اس کے اندر سے مکان میں داخل ہوتے، یا پیچھے کی طرف سے چھت پر چڑھ جاتے، اور اس سے اندر پھاندتے، اور اسے اپنے نزدیک کوئی بڑی عبادت اور خانہ کعبہ کی تعظیم سمجھتے۔ کانوا اذا احرموا فی الجاھلیۃ اتوالبیت من ظھرھا) (بخاری) کانوا اذا حجوا لم یدخلوا بیوتھم من ابوابھا بل کانوا ینقبون فی ادبارھا (ابن جریر) اذا احرم الرجل منھم نقب کوۃ فی ظھربیتہ فجعل سلما فجعل یدخل منھا (ابن جریر) بعض قبیلوں کے نومسلم صحابی بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے۔ انہی کی اصلاح خیال کے لیے آیت نازل ہوئی، اور عقیدۂ جاہلی کی تصحیح کی گئی۔ نزلت فی نفرمن اصحاب النبی ﷺ کنانۃ وخزاعۃ کانوا یدخلون بیوتھم فی الاحرام من خلفھا اومن سطحھا کمافعلوا فی الجاھلیۃ (ابن عباس ؓ مفسر قرطبی (رح) نے بہت تفصیل سے لکھا ہے کہ انصار مدینہ جب حج یا عمرہ کا احرام باندھ لیتے تھے، تو اپنے اور آسمان درمیان کسی چیز کا حائل ہونا تقوی اور آداب احرام کے خلاف سمجھتے تھے۔ اور واپسی میں اپنے مکان میں دروازوں سے نہیں داخل ہوتے تھے، وکان الانصار اذا حجوا وعادوا لایدخلون من ابواب بیوتھم۔ فکانوا یرون ھذا من النسک والبر (قرطبی) یہ رسم چونکہ حج ہی کے سلسلہ میں تھی، اس لیے اس کا ذکر بھی حج ہی کے متصل فرمایا گیا۔ 692 ۔ (اور تقوی کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی منع کی ہوئی اور حرام ٹھہرائی ہوئی چیزوں سے ڈرا جائے، بچا جائے) اے فخافہ وتجنب محارمہ واطاعہ باداء فرائضتہ التی امرہ بھا (ابن جریر) ضمنا یہیں سے یہ بات بھی صاف ہوگئی، کہ اصل نیکی تقوی الہی ہے۔ یعنی احکام الہی کی خلاف ورزی کا خوف، نہ کہ اپنے کسی گڑھے ہوئے دستور و رواج کا اتباع 693 ۔ (جب آنا چاہو، اور گویا رسوم شرک وجاہلیت کو پامال کرتے ہوئے) آیت سے فقہاء امت کو ایک بڑی اصل ہاتھ آگئی ہے۔ جس سے صدہاہزار ہا اعمال کا حکم معلوم ہوسکتا ہے۔ وہ اصل یا قاعدہ یہ ہے کہ جو شے شریعت میں صرف مباح ہو، یعنی کتاب وسنت میں اس کی کوئی نظیر یا مثال طاعت و عبادت کے حکم میں نہ ملے، اسے اپنے دل سے طاعت و عبادت ٹھہرا لینا، یا اسی حکم میں داخل ہے، ھذا دلیل علی مسئلۃ من الفقہ وھی ان الفعل بنیۃ العبادۃ لا یکون الا فی المندوبات خاصۃ دون المباح ودون المنھی عنہ وھذا اصل حسن (ابن العربی) فی ھذہ الایۃ بیان ان مالم یشرعہ اللہ قربۃ ولا ندب الیہ لا یصیر قربۃ بان یتقرب لہ متقرب (قرطبی) قال ابن خونیر منداد اذا اشکل ما ھو بروقربۃ بما لیس ھو بر قربۃ ان ینظر فی ذلک العمل فان کان لہ نظیر فی الفرائض والسنن فیجوز ان یکون وان لم یکن فلیس ببرولا قربۃ (قرطبی) قرطبی (رح) نے ابن عباس ؓ کی سند سے حدیث نبوی ﷺ بھی نقل کی ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ تقریر فرما رہے تھے کہ انتے میں ایک شخص کو دیکھا کہ دھوپ میں کھڑا ہوا ہے۔ دریافت فرمایا، معلوم ہوا کہ وہ ابو اسرائیل انصاری ہیں، اور اس کی نذر مانے ہوئے ہیں کہ روزہ رکھ کر بیٹھیں گے نہیں۔ کھڑے ہی رہیں گے، اور سایہ میں نہ کھڑے ہوں گے، اور کسی سے بات چیت نہ کریں گے، خاموش رہیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ انہیں وہاں سے ہٹا لاؤ۔ مروہ فلیتکلم ویستظل ولیقعد ولیتم صومہ (وہ بات چیت بھی کریں، اور سایہ میں رہیں، اور بیٹھ بھی جائیں اور اس حال میں روزہ تمام کریں) اسلام نام صرف امتثال امر کا ہے اور ایمان کی حقیقت فقط تعمیل احکام کی ہے۔ خود رائی اس راہ میں سرتاسر کج رائی ہے۔ 694 ۔ (دنیا اور آخرت دونوں میں) تقوی (خوف خدا) اور فلاح (انتہائی کامیابی) کے قریب ترین تعلق کو آیت ایک بار پھر واضح کرتی ہے، اور اس حقیقت کو ذہن میں تازہ کرتی ہے کہ فلاح دارین کا اصل اصول تقوی ہے۔ خشیت الہی اور محبت الہی کے درمیان نسبت تضاد، تخالف، بلکہ تباین کی بھی بالکل نہیں، بلکہ علاقہ توافق ومناسبت کا ہے۔ مخلوقات میں جس کسی چیز سے خوف کیا جاتا ہے اسمیں خاصہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے سے بھگاتی ہے، ہٹاتی ہے، دور کرتی ہے، لیکن خشیت الہی میں تو اس کے برعکس ایک کشش ہوتی ہے۔ وہ اللہ کی طرف لاتی ہے، کھینچتی ہے، بلاتی ہے، اللہ سے قریب تر کرتی ہے، اور اس طرح عملا محبت الہی کے مرادف ہے۔ اہل تقوی، اور صالحین سے جس خوف کی نفی کی گئی ہے۔ وہ ” دہشت “ کے مرادف ہے اور وہ ” وحشت “ سے پیدا ہوتا ہے۔ خشیت الہی، اس کے ٹھیک برعکس، احساس عظمت سے پیدا ہوتی ہے، اور وہ رب عظیم معظم سے قریب تر لانے والی ہوتی ہے۔ خوف خدا کی ترغیب اور خشیت الہی کی تاکید سے قدیم صحیفے بھی لبریز ہیں۔ مثلا :۔” خداوند کا خوف، دانش کی ابتدا ہے “۔ (امثال سلیمانی۔ 1:7) ” خداوند کا خوف، دانائی کا شروع ہے “۔ (امثال سلیمانی۔ 9: 1 1) ” خدا سے ڈر، اور اس کے حکموں کو مان، کہ انسان کا فرض کلی یہی ہے “۔ (واعظ کی کتاب۔ 12: 13)
Ayah 2:190

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور اللہ کی راہ میں لڑو ان لوگوں سے جو تم سے لڑتے ہیں،695 ۔ اور حد سے باہر مت نکلو، کہ اللہ حد سے باہر نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا،696 ۔

695 ۔ (آیت) ” قاتلوا “۔ قتال کا یہ حکم ان مظلوم مسلمانوں کو مل رہا ہے، جو دو چار مہینے نہیں، پورے تیرہ برس مکہ میں ہر طرح کے شدائد پر، اور شدائد کیسے، یہ کہیے شقاوت، سفاکی، بہیمیت پر، صبر کے امتحان میں پورے اتر چکے تھے، اور اب وطن سے بےوطن ہوکر، گھر بار چھوڑنے پر بھی، مدینہ میں چین سے نہیں بیٹھنے پاتے تھے۔ اللہ تربت ٹھنڈی رکھے لارڈ ہیڈلے انگریز کی، نومسلم ہو کر بات پتہ کی کہہ گیا ہے، کہ اسلامی غزوات کے تین ابتدائی جغرافی محل وقوع کو دیکھ کر خود فیصلہ کرلو، کہ لڑائی کی ابتداء کس نے کی، اور چڑھائی کون کس پر کرکے گیا تھا ؟ حملہ اور جارحانہ اقدام کون کررہا تھا، اور حفاظت خود اختیاری ومدافعت میں کون لڑرہا تھا ؟ مکہ کے جنگجواہل فساد، یا مدینہ کے صابر وشاکر مومنین ؟ ( 1) جنگ بدر۔ بدر میں ہوئی، مدینہ سے کل تیس میل کے فاصلہ پر۔ جنگ احد۔ احد تو مدینہ سے کل بارہ ہی میل ہے ، (3) جنگ احزاب۔ اس میں تو محاصرہ خود مدینہ ہی کا ہوا ! غرض ہر دفعہ قریش مکہ یا ان کے حلیف و مددگار ہی چڑھ چڑھ کر آئے، (آیت) ” الذین یقاتلونکم “۔ خود یہ لفظ کیا بتا رہے ہیں۔ ؟ دو باتیں بالکل صاف ہوئی جاتی ہیں۔ ( 1) ایک یہ کہ جنگ کی ابتداء کرنے والے مسلمان نہ تھے، ابتداء دوسرا ہی فریق کررہا تھا۔ اے الذین یبدء ونکم بالقتال (ابن عباس ؓ اے یناجزونکم القتال دون المحاجزین (مدارک) اے یحل لکم القتال ان قاتلکم الکفار (قرطبی) (2) دوسرے یہ کہ قتال کا حکم صرف انہی افراد کے مقابلہ میں ہے جو واقعی لڑ رہے ہوں، یا آج کل کی اصطلاح میں صرف مصافیوں Combatants کے مقابلہ میں۔ غیر مصافی Non.combatants آبادی کے سروں پر بم برسا دینے، پر امن شہریوں پر ہوائی تاخت کرنے، اور ان پر زہر یلی گیسیں چھوڑنے کے ” مہذب ترین “ آئیں حرب سے اسلام کا قانون جنگ ناآشنا ہے۔ بوڑھوں، بچوں، عورتوں، اپاہجوں، بیماروں، گوشہ نشینوں، غرض ایسے کل لوگ جو جنگ سے معذور ہوں، انہیں رسول ﷺ کے خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے تو صراحت کے ساتھ مستثنی قرار دیا ہی ہے۔ لیکن خود یہ آیت بھی اس استثناء کی جانب صاف مشیر ہے۔ لاتقتلوا النساء ولاالصبیان ولا الشیخ الکبیر ولا من القی الیکم السلم وکف یداہ (ابن عباس ؓ اے لا تقاتل من لایقاتلک یعنی النساء والصبیان والرھبان (ابن جریر، عن بن عبدالعزیز) عن ابن عمر ؓ قال وجدت امرأۃ فی بعض مغازی النبی ﷺ مقتولۃ فانکر رسول اللہ ﷺ قتل النساء والصبیان (بخاری۔ مسلم) کان النبی ﷺ اذا بعث جیشا قال اغزوا بسم اللہ وفی سبیل اللہ ولا تقتلوا امرأۃ ولا ولیدا ولا شیخا کبیرا (معالم، عن بریدۃ) امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے اصل حکم میں تو پھل دار درخت کا کاٹنے تک کی ممانعت ہے۔ آپ نے یہ حکم خلافت اسلامیہ کے پہلے سپہ سالار فوج (کمانڈر انچیف) یزید بن ابی سفیان ؓ کو دیا تھا۔ اور ان کی مشایعت آپ نے پاپیادہ چل کر کی تھی۔ اس حکم نامہ کے الفاظ یہ نقل ہوئے ہیں :۔ وانی اوصیک بعشر لاتقتلن امرأۃ ولا صبیا ولا کبیرا ھرما ولا تقطعن شجرا مثمرا ولا تخربن عامرا ولا تعقرن شاۃ ولا بعیرا لا لما کلۃ ولا تحرقن نخلا ولا تفرقنہ (طبقات ابن سعد) البتہ الذین یقاتلونکم سے یہ بھی مراد نہیں کہ جب دشمن واقعۃ سر پر آجائے، اور لڑائی شروع کردے جبھی تم قتال کرو، اتنے انتظار وتوقف کے معنی ہوں گے کہ آدھی جیت ان کی ہوگئی، جیسا کہ اس زمانہ کی لڑائیوں میں برابر مشاہدہ بھی ہورہا ہے۔ بلکہ غنیم کا ارادہ اور آمادگی ہی اسے اس حکم کے تحت میں لے آنے کے لیے کافی ہے۔ (آیت) ” فی سبیل اللہ “۔ یہ قید کتنی اہم اور دنیا تاریخ محاربات میں کیسی انقلاب انگیز ہے ! دنیا میں لڑائیاں ہمیشہ لڑی گئیں، اب بھی لڑی جارہی ہیں، آئندہ بھی لڑی جائیں گی، لیکن کا ہے کے لئے ؟ زر کے لیے، یازن کے لیے، یا زمین کے لیے۔ زیادہ سے زیادیہ کہ ” قوم “ اور ” وطن “ کے لیے ! یعنی زروزمین کی طلب فرد کے لیے نہیں بلکہ قوم کے لیے رہ جائے، یہ خصوصیت صرف اسلامی جہاد ” بدنام ورسوا “ اسلامی جہاد کی ہے، کہ جب کبھی اور جن حالات میں شروع ہو، اللہ کی راہ میں ہو۔ شرک کو مٹانے اور توحید کو بلند کرنے کے لئے ہو، دین حق کی حمایت ونصرت میں ہو، انسانی حکومت مٹا کر خدائی حکومت قائم کرنے کے لیے ہو، خودی کے لیے نہیں، خدا کے لیے ہو، نفس کے لیے، قبیلہ کے لیے ” حلقہ اثر “ کی توسیع کے لیے ” آزادی تجارت “ کے لیے ” آزادی “ سمندر “ کے لیے ” نوآبادیوں کے تحفظ “ کے لیے ” برآمد کی منڈیاں “ پیدا کرنے کے لیے، غرض نئی اور پرانی قسم کی بھی عصبیت جاہلی کے جھنڈے نیچے نہ ہو، صاف صاف فی سبیل اللہ ہو، اور فی سبیل اللہ کے معنی ہیں لاغزاز دین اللہ۔ الجھاد الاعلاء کلمۃ اللہ و اعزاز الدین (مدارک) اے جاھدوا لاعلاء کلمتہ کلمتہ و اعزاز دینہ (بیضاوی) یعنی دینا واظہارا للکلمۃ (قرطبی) اے فی طاعتہ وطلب رضوانہ (کبیر) قتال کا طریقہ دوسری امتوں سے نرالا کچھ امت محمدی ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں، بائبل میں اس کا ذکر ایک دو جگہ نہیں، بیسیوں جگہ موجود ہے۔ اور محاربات یہود سے تو تاریک کے دفتر کے دفتر رنگین ہیں، رہیں مسیحی قومیں اور ان کی خونریزیاں، اور خون آشامیاں، تو ان کی نظیر تو دنیا کے پردہ پر کہیں نہ ملے گی، عیاں راچہ بیاں ! اور عملاجو نمایاں فرق اسلامی فاتحیں کی رحمدلی اور مسیحی فاتحین کی سنگدلی کے درمیان رہا ہے، اس کا اعتراف تو خود مسیحی اہل قلم کو ہے۔ مثال کے لیے ملاحظہ ہو Finlays, Greece uner the Romamns, صفحہ 353 ۔ نیز Bosworth۔ Smiths Mohammad Mohammadanism صفحہ 2 17 وصفحہ 2 18 ۔ امام رازی (رح) نے فرمایا کہ آیت ما قبل میں ابھی ابھی تقوی کی تاکید آچکی ہے، اب اسی مناسبت سے ذکر تقوی کی شدید ترین اور نفس کے لیے دشوار ترین قسم یعنی قتال و جہاد کا شروع ہوا ہے لما امر ھالتقوی فی ھذہ الایۃ باشد اقسام التقوی واشقھا علی النفس (کبیر) 696 ۔ (آیت) ” ولاتعتدوا۔ اعتداء کے لغوی معنی حق سے تجاوز کرجانے کے ہیں، مجاوزۃ الحق۔ اور اس تجاوز کی متعدد صورتیں ممکن ہیں۔ حد سے مراد حد شریعت بھی ہوسکتی ہے۔ مثلا یہ کہ انتقام کے جوش یا فتحمندی کے زور میں بےتحاشا غنیم کے مصافی وغیر سب مصافی سب کو قتل کرنا شروع کردیا جائے، ان کے کھیتوں، باغوں، چراگاہوں میں آگ لگادی جائے، ان کے بےزبان جانور تلوار کے گھاٹ اتار دیئے جانے لگیں، وقس علی ھذا، قرآن نے دنیا کو سبق یہ دیا کہ قوت کا استعمال صرف اسی حدتک جائز ہے جس حد تک ناگزیر ہے۔ حد سے مراد حد معاہدہ بھی ہوسکتی ہے۔ مثلا یہ کہ بدعہد و پیمان شکن قوموں کی دیکھا دیکھی خود بھی معاہدوں کی پروانہ کی جائے، اور عہد شکنی کی ابتداء اپنی طرف سے کرکے ہلہ بول دیا جائے۔ اسی طرح اور بھی پہلو تجاوز حدود کے نکل سکتے ہیں، حق یہ ہے کہ اعتداء کا لفظ زیادتی کے ہر پہلو کو جامع ہے، اور ہر قسم کی زیادیتوں کی ممانعت اس سے نکل آئی۔ اے لاتعتدوا بابتدآء القتال اوبقتال المعاھد اولمفجاۃ بہ من غیر وعدۃ اوالمثلۃ اوقتل من نھیتم عن قتلہ (بیضاوی) اے لا تعدوا بوجہ من الوجوہ (روح) اور اعتداء اور تجاوز کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ قتال علاوہ فی سبیل اللہ کے کسی اور غرض کے لیے شروع کردیا جائے۔ چناچہ بعض دقیق النظر مفسریں نے یہ پہلو بھی لیا ہے۔ اے لاتقاتلوا علی غیر الدین (ابن العربی) المعنی لاتعتدوا فی القتال لغیر وجہ اللہ کالحمیۃ وکسب الذکر (قرطبی) قلبہ واقتدار کے وقت انتقام کے حدود کے اندر رہنا اخلاق کے مرتبہ اعلی کا مقام ہے، اچھے اچھوں کی عقل، متانت اور قوت عدل و توازن اس وقت جواب دے دیتی ہے اور کل کے مظلوم، بیساختہ اور شاید اور شاید بےشعوری کے عالم میں، آج کے ظالم بن جاتے ہیں، قرآن مجید کا اس موقع پر اپنے پیرو وں کو ضبط و احتیاط کی تلقین کرنا، افراد امت کو حکمت واخلاق فاضلہ کے بلند سے بلند مقام پر پہونچا دینا ہے۔ اور پھر جب یاد کرلیا جائے، کہ آیت کا موقع نزول ذیقعدہ 7، ہجری، جب معاہدہ حدیبیہ کے دوسرے سال مسلمان عمرہ کی نیت سے مکہ روانہ ہورہے تھے، اور اندیشہ تھا کہ مشرکین معاہدہ کو توڑ کر جنگ شروع کردیں گے، اور اس کے جواب میں قدرۃ مسلمان بھی اشتعال سے لبریز ہوجائیں۔ تو آیت کے اس تاکیدی اور امتناعی حکم کی قدر ومنزلت کس درجہ اور بڑھ جاتی ہے ! پھر فتح مند کی گھڑیوں میں ایسی ہدایت پر عمل دنیا کی کسی قوم نے آج تک کیا ہے بجز رسول ﷺ کے صحابیوں، اور خلافت اسلامیہ کے سپاہیوں کے ؟ سوال عقیدت کا نہیں، محض تاریخ کا ہے۔