Ayah 2:136488 ۔ (اللہ کے ہاں سے ہمارے پیغمبر کے واسطہ سے) خطاب عام مسلمانوں سے ہے۔ یعنی ہمیں تو نسلی یا قومی تعصب کسی سے بھی نہیں۔ ہمارا رشتہ اسمعیلی، اسرائیلی ہر شریعت الہی سے بس اعتقاد وانقیاد ہی کا ہے۔ (آیت) ” الاسباط “ جمع ہے سبط کی۔ اور معنی ہیں اولاد کی اولاد یا پوتے اور نواسے۔ الاسباط اولاد اولاد وقیل اولاد البنات (تاج) عوام میں صرف نواسوں کے معنی میں مشہور ہے۔ لیکن ائمہ لغت کی تصریح ہے کہ پوتوں اور نواسوں دونوں کے لیے عام ہے۔ کلام الائمۃ صریح فی انہ یشتمل ولد الابن اولابنۃ کما صرح بہ ابن سیدہ (تاج) بنی اسمعیل کی شاخیں جس طرح قبائل میں تقسیم ہوتی گئیں۔ بنی اسرائیل کی شاخیں اسی طرح اسباط کہلائیں۔ قال الازھری الاسباط فی بنی اسحاق بمنزلۃ القبائل فی بنی اسمعیل (تاج) نسل اسرائیل پر رسالت بہت وسیع پیمانہ پر پھیلی رہی۔ فقرہ کا مطلب یہ ہوا کہ ہم مسلمان کسی پیغمبر کے بھی منکر نہیں۔
489 ۔ (اللہ کے ہاں سے) (آیت) ” اسمعیل واسحق “ یہ دونام اس سیاق اور اس سلسلہ میں خاص طور سے قابل توجہ ہیں۔ اسمعیل (علیہ السلام) کا نام لانا تو اس لیے بہت ضروری تھا کہ اہل کتاب انہیں سے تو بغض رکھتے تھے۔ بغیر ان کا نام لائے اسلام کے دعوی کا اثبات ہی نہیں ہوسکتا تھا۔ اور اسحاق (علیہ السلام) کا نام لانا خود ایک دلیل روشن ہے اسلام کے طریق عدل اور بےتعصبی کی۔ قرآن اگر بشری کلام ہوتا۔ تو بشر کی فطرت تو یہ تھی کہ اہل کتاب کے شدید اور مسلسل اشتعال انگیز تعصب کے جواب میں اسمعیل کی نصرت وحمیت میں اسحاق (علیہ السلام) کا نام نظر انداز ہی کردیا جاتا۔ ابراہیم، اسمعیل، اسحاق (علیہ السلام) تینوں کی تاریخی شخصیتوں پر حاشیے اوپر گزر چکے۔
490 ۔ (کلام الہی یا کتاب آسمانی میں سے) (آیت) ” موسیٰ “ آپ کی تاریخی شخصیت پر حاشیہ گزر چکا ، (آیت) ” عیسیٰ “۔ ابن مریم (علیہ السلام) بجائے والد کے اپنی والدہ کی جانب منسوب ہیں۔ بنی اسرائیل کے آخری اور مشہور نبی ہوئے ہیں۔ آپ پر سلسلہ اسرائیلی رسالت کا بلکہ قومی ونسلی رسالت کا ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا، ولادت صوبہ یہود یہ (ملک شام) کے قصبہ بیت اللحم میں یا بیت المقدس میں، حاکم شام ہیرود کے زمانہ میں ہوئی۔ شام اس وقت روم کی شہنشاہی کا ایک نیم آزاد علاقہ تھا۔ سال ولادت اغلبا 4 ق م۔ یہ بات سننے میں بہت ہی عجیب معلوم ہوگی، لیکن اس پر اتنی حیرت نہ کیجئے۔ سنہ عیسوی جو اس وقت رائج ہے، خود اسی تقویم کے قائم کرنے میں شروع ہی سے غلطی رہ گئی، اور اس کا پتہ بعد کو چلا۔ چناچہ سن عیسوی کا پہلا سال آپ کا سال ولادت نہیں۔ آپ کی ولادت کے چوتھے سال سے یہ سنہ جاری ہوا ہے۔ آپ کی عمر غالبا 33 سال کی تھی، اور 30 ء تھا کہ اسرائیلیوں نے آپ کی تعلیم وتبلیغ سے نہایت درجہ آزردہ ہو کر آپ پر مقدمہ پہلے تو اپنی آزادوخود مختار مذہبی عدالت میں چلا۔ اور پھر سرکاری قانون کا بھی مجرم بنا کر رومیوں کی ملکی عدالت میں پیش کیا۔ وہاں سے سزائے موت (بذریعہ صلیب) کا حکم صادر ہوا، اس کے بعد کیا گزری، اس کا ذکر سورة مائدہ کی آیت ” وماقتلوہ وماصلبوہ “ کے تحت میں انشاء اللہ آئے گا۔
491 ۔ (خواہ وہ کسی ملک، کسی نسل، کسی زمانہ کے ہوں، کہ ان میں سے کسی کو نبی مرسل مانیں کسی کو نہ مانیں) اسلام کے ایک جدید ونوپیدا مذہب ہونے کی یہ تردید ایک بار پھر کی جاری ہے۔ عالمگیر مذہب، آج ہر شخص بجائے خود فیصلہ کرسکتا ہے کہ وہ ہوسکتا ہے جو ہر ملک، ہر قوم، ہر نسل، ہر زمانہ کے پیغمبروں اور سچے ہادیوں کی علانیہ اور پرزور تصدیق کررہا ہے۔ یا وہ مذہب ہوسکتے ہیں، جو آسمانی ہدایت کو فلاں ملک، فلاں ملک، فلاں قوم، فلاں نسل کے ساتھ مخصوص ومقید کیے ہوئے ہیں۔
492 ۔ (وہ ہم کو جس کسی کی بھی اطاعت کا حکم دے دے گا۔ ہم اسی کے پیرو ہوجائیں گے۔ ہمیں کسی سے نہ تعصب نہ عنا د، ہم تو بس امر الہی کے فرمان بردار ہیں) ۔ اسلامی تعلیمات کا عطریا لب لباب بس یہی مسئلہ توحید ہے۔
Ayah 2:137493 ۔ (اور اپنے ایمان کی بنا پر نجات کے مستحق ہوگئے) خطاب مسلمانوں سے ہے، اور ” یہ لوگ “ سے مراد وہی منکر و کافر اہل کتاب ہیں جن کا سلسلہ اوپر سے چلا آرہا ہے۔ اس میں بشارت ہے کہ اتنی ضدوعناد کے باوجود اگر اب بھی وہ ایمان لے آئیں تو ان کا پچھلا کفر وعناد ان کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتا۔ (آیت) ” فان “ کیسے اشارہ اس طرف ہے کہ اب جب کہ تعلیمات اسلامی کا مغز ان پر پوری طرح واضح ہوگیا۔
494 ۔ (حق وراہ راست سے) یعنی اتنی واضح ہدایت پہنچ جانے کے بعد اگر اب بھی ایمان نہ لائیں، تو اب جو انہیں مخالفت ہے وہ مخالفت ہی کی غرض سے، ضد اور عداوت ہی کی بنا پر ہے۔ اس لیے نہیں کہ وضوح حق میں کوئی خفایا ابہام باقی رہ گیا ہے۔ اب جو وہ دین کو نہیں سمجھتے تو محض اس لیے کہ سمجھنا چاہتے نہیں، اے علمنا انہ لیس غرضھم طلب الدین ولانقیاد للحق وانھا غرضھم المنازعۃ واظھار العداوۃ (کبیر)
495 ۔ یہ پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) کو تسکین اور تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ہجوم اعداء اور قوت و کثرت مخالفین سے ذرا بھی تشویش وفکر نہ کریں۔ یہ حق کے معاندین آپ کو اور آپ کے دین کو گزند پہنچانے میں ہرگز کامیاب نہ ہوں گے۔ اب اللہ آپ کا نگہبان ہے۔
496 ۔ (آیت) ” سمیع “ سننے والا ان کے الفاظ واقوال ان کے حرف وعبارت کا۔ یعنی جو کچھ ان کی زبانوں پر ہے، ان کی گفتگوئیں اور تقریریں سب اللہ پر روشن ہیں۔ (آیت) ” علیم “ جاننے والا ان کے دلوں کے احوال و اسرار کا، یعنی ان کے ظاہر کی طرح ان کا باطن بھی اس عالم کل پر روشن ہے اور ان کی اندرونی کاروائیاں اور سازشیں سب اس کے سامنے بےنقاب موجود ہیں۔
Ayah 2:138497 ۔ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے صبغنا اللہ صبغۃ (بیضاوی) کانہ قیل صبغنا اللہ صبغۃ (ابوسعود) یعنی ہمیں اللہ نے اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے۔ اور اللہ کے رنگ سے مراد اس کے دین فطری یعنی اسلام سے ہے۔ اے دین اللہ (مدارک) والمراد بھادینہ الذی فطرالناس علیہ (جلالین) یہی دین اللہ کے معنی ابن عباس ؓ صحابی اور مجاہد، ابوالعالیہ، قتادہ وغیرہ متعدد تابعین سے مروی ہیں (ابن کثیر) روئے سخن اوپر سے یہود ونصاری کی طرف چلا آرہا ہے۔ ان دونوں کے ہاں بڑی اہمیت ایک خاص قسم کے رسمی تطہیری غسل کی تھی، جسے بپتسمہ یا اصبطاغ کہا جاتا تھا۔ انہیں کی اصطلاح میں ارشاد ہورہا ہے کہ اس رسمی اصطباغ میں کیا رکھا ہے، لازم پکڑنے کی چیز دین توحید ہے۔ یعنی الزموا دین اللہ (معالم)
ترجمہ :498 ۔ (جس کا دین ایمان کے رنگ کو نکھاردیتا ہے، اور کفر وضلالت کی نجاستوں کو دور کردیتا ہے) فالمراد انہ یصبغ عبادۂ بالایمان ویطھرھم بہ من اوساخ الکفر فلاصبغۃ احسن من صبغتہ (کشاف۔ کبیر)
499 (اور سارے عقاید باطل، شعائر باطل، معبود ان باطل کے منکر ہیں) (آیت) ” نحن “۔ ہم یعنی مسلمان یا امت مسلمہ۔
Ayah 2:139500 ۔ خطاب اگرچہ سارے اہل باطل کے لیے عام ہے۔ ، لیکن سیاق میں خاص طور پر مراد یہود ونصاری ہیں۔ ذکروافیہ وجوھا احدھا انہ خطاب للیھود والنصری وھو الیق بنظم الایۃ (کبیر)
501 ۔ (توکم از کم اس کی ذات وصفات کے باب میں تو تمہیں کوئی مغالطہ یا غلط فہمی نہ رہنا چاہیے) یعنی اے اہل کتاب جب ہمارے تمہارے درمیان کوئی اختلاف پروردگار کے تعین میں نہیں۔ تو اول تو اس کی توحید پر قائم رہنا چاہیے۔ اور تثلیث فی التوحید یا توحید فی التثلیث اور خدا کے فرزند، بروز ومظہر وغیرہ قسم کے قسم کے خرافات سے بالکل بچنا چاہیے۔ دوسرے جب اس کی صفات کمالیہ پر ایمان ہے، تو وہ اپنی حکمت و ربوبیت کے تقاضا سے جس نسل کے جس فرد کو بھی چاہیے نبوت و رسالت سے سرافراز کردے۔ وہ ہر طرح مالک ومختار ہے۔ اسرائیلی غیر اسرائیلی خاص نسل کا اجارہ نہیں۔
502 ۔ (اپنے عقائد اور اپنی عبادات میں ہر شرک، ہر ضلالت سے پاک صاف ہوکر) رہے اعمال تو ہمارے اور اپنے اعمال کے فرق کا اثر آخرت میں تو تمہیں بھی نظر آجائے گا۔ آج جتنا چاہو اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرلو،
Ayah 2:140503 ۔ یعنی کیا تمہارا یہ دعوی ہے کہ ان پیغمبروں، بزرگوں اور تمہارے مورثوں کے عقائد ذات وصفات باری کے باب میں بجائے دین توحید واسلام کے یہودیت ونصرانیت کے تھے ؟ (آیت) ” ام تقولون “۔ خطاب اہل کتاب خصوصا یہود سے ہے۔ اور لہجہ خطاب میں زجر کا پہلو شامل ہے۔ صیغۃ استفھام ومعناہ التوبیخ (معالم) جتنے اسماء واعلام یہاں آئے ہیں، ان سب پر حاشیے آیت 136 کے ذیل میں اور اس کے قبل گزر چکے۔
504 ۔ (ان حضرات کے دین و عقائد کے باب میں) اور اللہ کی شہادت یہ ہے کہ یہ سب توحید خالص کے پیرو تھے۔ نزول قرآن کے وقت یہود میں بڑے بڑے عالم وفاضل موجود تھے۔ ان سب کو چیلنج دے کر ایک امی کی زبان سے کہلایا جارہا ہے کہ تم واقعات کو توڑ مروڑ کر، صداقتوں کا گلا گھونٹ کر جو کچھ بھی کہے جاؤ، واقعہ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سب حضرات خالص موحد اور توحید کے مبلغ ہوئے ہیں آج یورپ کے بڑے بڑے ماہرین تاریخ اور محققین اثریات جو کچھ ان حضرات کے دین کی بابت کہہ رہے ہیں، وہ اسی قرآنی متن کی شرح اور اسی امی کے لائے ہوئے کلام کے اجمال کی تفصیل ہے !
505 ۔ (اور وہ شہادت ہے دین اسلام کے برحق ہونے کی، ابراہیم واسمعیل واسحق ویعقوب (علیہ السلام) کے مومن کامل ومبلغ توحید ہونے کی۔ اور آخر زمانہ میں ایک رسول ﷺ برحق کے ظہور کی) اس شہادت کو چھپانے والے ظاہر ہے کہ اہل کتاب خصوصا یہود کے علماء تھے، اور یہ شہادت محفوظ تھی ان کی مسلم آسمانی کتابوں اور الہامی نوشتوں میں۔ شھادۃ فی کتمانھم امر محمد ﷺ ونبوتہ (ابن جریر) وھی شھادۃ اللہ لابراھیم بالحنیفیۃ (مدارک) وفیہ تعریض بکتما نہم شہادۃ اللہ لمحمد (علیہ السلام) بالنبوۃ فی کتبھم وسائر شہاداتہ (مدارک)
506 ۔ (وہ وقت آنے پر انہیں کے مطابق تم سے معاملہ کرے گا) مطمئن اور بےفکر نہ ہوجاؤ۔ وہاں رتی رتی کی خبر ہے۔ اور ویسا ہی معاملہ پیش آئے گا۔ وہاں بزرگوں کی ساتھ نسبی ونسلی انتساب ہرگز کام نہ دے گا۔ منکروں کے ضمیر کو بیدار کرنے کے لی اس سے بہتر اور مؤثر کوئی ذریعہ نہیں کہ اللہ کے عالم الغیب ہونے کا استحضار ذہن کے سامنے بار بار ہوتا رہے۔ اور قرآن مجید یہی کراتا رہتا ہے۔
Ayah 2:141507 ۔ (اور محض ان کے نام کا انتساب بغیر ان کے سے اعمال و عقائد کے ہرگز کافی نہیں) (آیت) ” تلک امۃ “ سے مراد ہیں قوم اسرائیل کے اکابر سلف، خصوصا اجداد ثلثہ ابراہیم واسحق ویعقوب (علیہ السلام) جن کی اولاد ہونے پر اسرائیلیوں کو حد سے زیادہ ناز تھا۔ نیز ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 503 ۔
508 ۔ (آخرت میں) یعنی نہ ان کے ایمان و اعمال صالحہ سے تمہیں کچھ نفع پہنچے گا، اور نہ تمہارے کفر و اعمال سیۂ سے انہیں کوئی ضرر ہوگا ،
509 ۔ یہود کی کتابوں میں آج تک یہ تعلیمات موجود ہیں کہ ” جس طرح انگور کی زندہ و شاداب بیل ایک بےجان ستون کے سہارے بڑھتی اور پھیلتی رہتی ہے۔ اسی طرح زندہ یہودی اپنے آنجہانی اور مرحوم مورثوں اور بزرگوں کے بل بوتے پر پروان چڑھتا رہتا ہے۔ اور تینوں اجدادا سرائیل نیز دوسرے صالحین واخیار نے اعمال صالحہ کا جو انبار عظیم لگا دیا ہے، اسی سے ان کی اولاد کو مجموعا ومنفردا برابر حصہ ملتا رہتا ہے۔ اور اس طرح کسی فرد میں خواہ کتنی ہی کمزوریاں ہوں اس کی نجات یقینی ہے “۔ قرآن حکیم اس ” نجات متوارث “ کے عقیدہ پر برابر ضرب شدید لگاتا جاتا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 504 ۔
Ayah 2:142501 ۔ (بہ طور استفہام واستفسار کے نہیں، بلکہ بہ طور طنز وتعریض) (آیت) ” سیقول “ میں س ہوسکتا ہے کہ مستقبل کے لیے ہو، اور اس کے معنی عنقریب کے ہوں، اور یہ بھی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مطلق تاکید کے لیے ہو، اور معنی صیغہ ماضی کے دے، اور چونکہ آیت کا نزول، ایک قول کے مطابق حکم تحویل قبلہ سے قبل نہیں، اس کے بعد ہوا ہے، اس لیے مفسرین کی ایک جماعت اسی طرف گئی ہے کہ یہاں ماضی مراد ہے، اور اردو محاورہ میں اس کی مثال ایسی ہوگی، جیسے کسی گزرے ہوئے واقعہ سے متعلق کہا جائے، کہ ہاں ہم تو جانتے ہی تھے کہ یہ لوگ ضرور اس پر اعتراض کریں گے، قال القفال ان الایۃ نزلت بعد تحویل القبلۃ وان لفظ سیقول مراد منہ الماضی (روح) قیل ان سیقول بمعنی قال (فتح) اور اسی سے ملتا ہوا یہ قول بھی ہے، کہ صیغہ ماضی یہاں اس اعتراض کے استمرار کو ظاہر کرنے کو لایا گیا ہے۔ یعنی یہ لوگ برابر اس طرح کہتے رہیں گے، انما عبرعن الماضی بلفظ المستقبل للدلالۃ علی استدامۃ والاستمرار علیہ (فتح) لیکن جمہور کا فیصلہ یہ ہے کہ یہاں مستقبل ہی مراد ہے۔ اور آیت کا نزول حکم تحویل قبلہ سے قبل ہی ہوا ہے، وسیقول ظاہر من الاستقبال (بحر) اس صورت میں بالکل درست ہوگا اگر آیت کو ایک سچی پیشگوئی یا اخبار بالغیب کی مثال میں بھی پیش کیا جائے۔ ان اللہ تعالیٰ اخبر عنہم قبل ان ذکروا ھذا الکلام انہم سیذکرونہ (کبیر) ان اخبار من اللہ تعالیٰ لنبیہ ﷺ انہ یصدر منہم ھذا القول فی المستقبل (بحر) انبیاء بنی اسرائیل کا قبلہ بیت المقدس تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی قیام مکہ کے زمانہ میں اسی رخ پر نماز جاری رکھی۔ بلکہ جب مدینہ ہجرت فرمائی، جب بھی اسی قبلہ کو برقرار رکھا، بیت المقدس مدینہ سے سمت شمال میں واقع ہے۔ آپ ﷺ کا دل بار بار یہ چاہتا تھا کہ اپنے جد بزرگوار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بنائے ہوئے خانہ کعبہ کو قبلہ بنائیں لیکن حکم الہی سے مجبوری تھی، آخر ورود مدینہ کے 16 مہینے بعد تحویل قبلہ کا حکم ملا کہ اب نماز بجائے بیت المقدس کے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے پڑھی جائے اور حکم کی معا تعمیل ہوئی، خانہ کعبہ مکہ میں مدینہ سے ٹھیک جنوب میں واقعہ ہے۔ اور اس طرح مدینہ کے نمازیوں کے رخ دفعۃ شمال سے جنوب کی جانب پھرگئے۔ بیت المقدس یہود کا قبلہ تھا۔ اس کی منسوخی کا اعلان رسول اللہ ﷺ کی زبان سے یہود کو بہت ہی ناگوار گزراوہ یوں بھی رسول اللہ ﷺ کو اپنا دشمن اور اپنے دین کو بیخ کن سمجھنے لگے تھے۔ تحویل قبلہ کے اس تازہ اعلان کو وہ اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی سمجھے، اور اس پر طرح طرح کے اعتراضات وارد کرنے لگے۔ ان کے ہمنوا کچھ اور لوگ بھی منافقوں اور بددینوں میں سے ہوگئے۔ (آیت) ” السفھآء من الناس “ سے یہی لوگ مراد ہیں۔ سفھاء جمع ہے سفیہ کی، اور سفیہ کے معنی کم عقل یا بد عقل کے ہیں، السفیہ الخفیف العقل (تاج) واستعمل فی خفۃ النفس لنقصان العقل (راغب) یہاں سفاہت کا صاف اطلاق احکام الہی میں قیل وقال کرنے والوں کے حق میں ہے (آیت) ” السفھآء “ سے مراد یہود کا ہونا خود صحیح بخاری میں آچکا ہے۔ السفھآء ھم الیھود (بخاری عن البراء ؓ صحابہ وتابعین کثرت سے اسی طرف گئے ہیں۔ بعض روایتیں منافقین سے متعلق بھی ملتی ہیں۔ نزلت فی المنافقین (ابن جریر عن السدی) راجح یہ ہے کہ آیت عام رکھی جائے تمام معترضین کے لیے۔ والایۃ عامۃ فی ھولآء کلھم (ابن کثیر) یدخل فیہ الکل لان لفظ السفھاء لفظ عموم (کبیر) الاقرب ان یکون الکل (کبیر)
511 ۔ یعنی بیت المقدس سے۔ قبلۃ۔ وہ مکان ہے جس کے مقابل رخ کرکے نماز پڑھی جائے۔ صار اسما للمکان المقابل المتوجہ الیہ للصلوۃ (راغب) یہ حکم سب سے زیادہ ناگوار یہودیوں کو گزرا۔ اب تک وہ یہ سمجھ کر خوش ہورہے تھے کہ مسلمان کم از کم ان کے ہم قبلہ تو ہیں۔ اب یہ مسرت بھی ان سے چھن گئی۔
512 ۔ (ان کے جواب میں اے ہمارے پیغمبر)
513 ۔ (اور کسی خاص سمت وجہت میں کوئی تقدس رکھا ہوا نہیں ہے، اس کے لیے سب برابر ہیں، وہ جدھر اور جس چیز کو بھی چاہے، نماز کے لیے رخ مقرر کردے، سوال اصلا یہ ہو ہی نہیں سکتا) للہ میں لام ملکیت کا ہے۔ مشرق ومغرب سب اللہ کی ملک ہیں، مخلوق ہیں، ہر دوسری مخلوق کی طرح تابعی و محکوم ہیں، یہ ضرب ہے مشرق پرستی، مغرب پرستی، اور ہر قسم کی سمت پرستی پر، جو مختلف مشرک، جاہلی قوموں کا مذہب رہی ہے۔ شرک کی اس خاص قسم سمت پرستی، یا جہت پرستی پر حاشیہ اوپر گزر چکا۔ پارۂ اول، رکوع 14 ۔ آیت 1 15 (آیت) ” للہ المشرق والمغرب کے تحت میں۔
514 ۔ (اور اس کا چاہنا ہمیشہ قانون حکمت کے مطابق ہی ہوتا ہے)
515 (اور بےچون وچرا، رسول یا وقت کے سب سے بڑے حکیم وعالم کے اتباع کی توفیق دے دیتا ہے)
Ayah 2:143516 ۔ (اے مسلمانو ! ) اسی طرح ایک اسی مسئلہ پر موقوف نہیں، ہر معاملہ میں ،
517 ۔ یعنی ایسی امت جو ہر اعتبار اور ہر معیار سے غایت اعتدال پر ہو۔ ہر کجی اور ہر افراط وتفریط سے پاک (آیت) ” وسطا “ عربی زبان میں یہ لفظ خاص مدح کے موقع پر آتا ہے۔ واما الوسط فانہ فی کلام العرب الخیار (ابن جریر) استعیر للخصال المحمودۃ بوقوعھا بین طرفی افراط وتفریط (بیضاوی) حدیث نبوی میں وسط کی تفسیر عدل سے آئی ہے۔ عن ابی سعید الخدری عن النبی ﷺ امۃ وسطا قال عدلا (ابن کثیرعن احمد) اور ائمہ لغت سے بھی یہی معنی منقول ہیں۔ قال الجوھری فی الصاح امۃ وسطا اے عدلا وھو الذی قالہ الاخفش والخلیل وقطرب (کبیر) آیت سے یہ استنباط بھی کیا گیا ہے کہ اجماع امت حجت ہے۔ احتج جمھور الاصحاب وجمھور المعتزلۃ علی ان اجماع الامۃ حجۃ (کبیر)
518 ۔ ملت اسلامی، انفرادی واجتماعی دونوں حیثیتوں سے، ساری دنیا کے لیے بہ طور نمونہ کے تیار کی گئی ہے۔ کائنات کی ہر امت کو اسی سانچہ میں ڈھلنا اور اسی معیار پر پورا اترنا چاہیے۔ آیت سے کمال درجہ کی فضیلت امت اسلامی کی ثابت ہورہی ہے۔ (آیت) ” شھدآء “ سے یہ تنبیہ بھی نکل رہی ہے کہ مسلمانوں کو اخلاقی پستی اور فسق وفجور کی ہر صورت سے بچے رہنا چاہیے۔ ورنہ پھر ادائے شہادت کے قابل نہ رہیں گے۔
519 ۔ جس طرح دنیا کی ہر امت کے لیے نمونہ اور معیار کا کام دینے کے لیے امت اسلامیہ ہے خود اس امت کے لیے معیار کا کام دینے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے۔
520 (اور اس پر بھی حکم الہی ہی سے تھے) یعنی بیت المقدس۔ اس سلسلہ میں یہ خوب ملحوظ رہے کہ اسلام میں قبلہ خواہ بیت المقدس یا خانہ کعبہ، بہرحال ایک متعین ومخصوص مکان کا نام ہے، خواہ وہ کسی مقام سے کسی طرف پڑے، نہ کہ کسی متعین سمت وجہت کا، جیسا کہ مشرکوں کے ہاں اور مسیحیوں کے ہاں ہے۔
521 ۔ (اور فرمانبرداروں کا امتیاز نافرمانوں سے کرلیں) (آیت) ” لیعلم “۔ علم کے معنی یہاں تمیز وشناخت کے ہیں، اے لیتمیز بہ الثابت علی علی دینہ من المرتد (بحر) علی اطلاق العلم علی معنی التمییز لان بالعلم یقع التمییز (بحر) الا لتمییز ھؤلآء من ھولآء۔۔ فسمی التمییز علما (کبیر) علم الہی کلی میں تو ہر واقعہ شروع ہی سے موجود ہے لیکن کائنات میں جب تک کوئی واقعہ واقع نہ ہولے، اس پر واقعہ کا اطلاق ہی نہ ہوگا۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں بھی یہ مضمون آیا ہے، مراد اس کے وقوع ظاہری، عملی سے ہوتی ہے۔
522 ۔ (اور وہ اطاعت رسول کے ذوق سلیم سے بہرہ ور ہیں) بعض علماء نے یہیں سے یہ استنباط کیا ہے، کہ اہل قبلہ جتنے بھی ہیں، درجہ ضروری تک راہ ہدایت پر ہیں۔ قبلہ پر قائم رہنا ایک بڑے سنگین امتحان سے گزرنا ہوا۔ اور اہل قبلہ کی عدم تکفیر کی ایک بنیاد بن گیا۔
523 ۔ (اور اعمال ایمانی کو) بعض مسلمانوں کو یہود کے ورغلانے سے یا از خود یہ وہم ہوگیا تھا کہ جب اصل قبلہ خانہ کعبہ ہے اور بیت المقدس محض ایک عارضی قبلہ تھا، تو اس رخ پر جتنی نمازیں پڑھی گئیں وہ بیکارگئیں۔ اور جو مسلمان اس حکم جدید سے قبل وفات پاچکے، وہ تو سرتا سر گھاٹے میں رہے۔ جواب انہیں کو مل رہا ہے، کہ یہ وہم کیسا۔ قبلہ کوئی سا بھی ہو، اجر تو تعمیل احکام کرنے والوں کا ہے۔ جنہوں نے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی، انہوں نے بھی بہرحال حکم ہی کی تعمیل کی تھی، اجر ان کا تمام و کمال ثابت رہا۔
524 ۔ چناچہ دوسرے احکام کی طرح یہ حکم تحویل قبلہ بھی تمامتر اس کی شفقت ومہربانی، رافت و رحمت ہی کا نتیجہ ہے۔
Ayah 2:144525 ۔ (انتظار وحی میں اے پیغمبر ! ) رسول اللہ ﷺ کو صحیح جذبہ دینی کے ماتحت اس کا یقین تھا کہ اب جب کہ امامت بنی اسرائیل سے چھن چکی ہے تو ان کا قبلہ بھی قبلہ امت نہیں رہ سکتا تحویل قبلہ کا حکم اب آکر رہے گا۔ اور فرشتہ وحی کے انتظار میں آپ کی نظر بار بار آسمان کی طرف بھی اٹھ جاتی تھی۔ یہاں اسی کیفیت کا بیان ہے۔ حق تعالیٰ اگرچہ ہرگز کسی جہت کا پابند، کسی مکان سے محدود نہیں، تاہم تجلیات خاصہ کو قرآن میں آسمان کی جانب منسوب کیا گیا ہے۔ اسی لیے محققین نے لکھا ہے کہ بوقت اضطرار ودعا آسمان کی طرف منہ کرنا موجبات قبول میں سے ہے، بلکہ اس نسبت علوی سے کمال یقین اور تصفیہ قلب میں اور مدد ملتی ہے۔ آیت ” قدنری “ گوصیغہ مضارع ہے، لیکن مراد ماضی ہے۔ لفظہ مستقبل والمراد بہ الماضی (عکبری) (آیت) ” نری “ سے اشارہ یہ بھی ہوگیا کہ آپ حیران ومضطر کیوں ہوتے ہیں، ہم نے خواب دیکھ لیا ہے آپ کے تعلق خاطر کو، اور اس میں کمال تسکین ہے رسول اللہ ﷺ کی۔ (آیت) ” فی السمآء “ میں فی الی کے معنی میں ہے۔ فی وجھۃ السماء (کشاف) نحوالسماء وقبلھا (ابن جریر)
526 ۔ یعنی خانہ خدا و قبلہ ابراہیمی کی جانب، یہ وعدہ ہے تحویل قبلہ کا۔ یہاں بجائے براہ راست یہ ارشاد فرمانے کے کہ ہم کعبہ کی طرف آپ کو پھیر دیں گے، ارشاد یہ ہوا ہے کہ ہم اسے آپ کا قبلہ قرار دے دیں گے جسے آپ خود قبلہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس سے رسول اللہ ﷺ کی کمال رفعت مراتب اور کمال درجہ فنا وقبولیت ظاہر ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اہل طریقت کے ہاں اصطلاح مقام مرادیت و محبوبیت کی آئی ہے، اس کی اصل یہی آیت ہے۔ کیا ٹھکانا ہے اس بلندی مرتبہ کا کہ مولی خود طالب رضائے عبد ہوجائے ! اس کے آگے کوئی مرتبہ تصویر میں بھی نہیں آسکتا ہے۔ اقبال نے اسی مقام کی تشریح کی ہے۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندہ سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے ؟
(آیت) ” فلنولینک “ کے دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ہم آپ کو اس کا والی وحاکم اور اس پر متصرف بنادیں گے۔ اے لنمکننک من استقبالھا (مدارک۔ روح) ابھی وعدہ ہوا تھا تحویل قبلہ کا۔ اب حکم صادر ہوگیا تحویل قبلہ کا۔ الوجہ لفظی معنی چہرہ کے ہیں۔ لیکن حکم میں کل جسم کے ہے۔ المراد من الوجہ ھھنا جملۃ بدن الانسان (کبیر) وقد یعبر عن کل الذات بالوجہ (کبیر)
527 ۔ (آیت) ” المسجد الحرام عزت و حرمت والی مسجد سے مراد مکہ معظمہ کی وہ مسجد اعظم ہے جس کے اندر خانہ کعبہ واقع ہے۔ خانہ کعبہ بہت ہی مختصر عمارت کا نام ہے۔ مدینہ والوں یا اور کہیں کے بھی لوگوں کو اس کی جہت کی تعیین بہت دشوار تھی، اس لیے امت کی سہولت کے لیے نام نسبۃ ایک بہت بڑی عمارت کا لے دیا گیا (مدارک۔ بیضاوی) محققین کے نزدیک یہاں مسجد حرام سے مراد کعبہ ہی ہے۔ ومرادہ البیت نفسہ (جصاص) والمرادبہ البیت لانہ تعالیٰ خاطبنا بلغۃ العرب وھی تعبر عن الشئی بما یجاورہ اوبما یشتمل علیہ (ابن العربی) وذکر المسجد الحرام دون الکعبۃ دلیل علی ان الواجب مراعاۃ الجھۃ دون العین (مدارک) اور امام مالک (رح) سے یہ قول منقول ہے کہ مسجد حرام قبلہ ساری دنیا کی ہے اور خانہ کعبہ قبلہ ہے اس مسجد کا۔ مسجد حرام یا حرم شریف کی موجودہ عمارت کا نقش اول خلیفہ مہدی عباسی کے زمانہ کا ہے۔ بعد کے خلفاء و سلاطین برابر اس میں اضافہ کرتے رہے، خصوصا ترک سلاطین، موجودہ ہیئت سلطان سلیم ثانی (متوفی 1577 ء) کے عہد سے تقریبا قائم ہے۔ صحن کی وسعت 600 فٹ بیان کی گئی ہے۔ متعدد بڑے بڑے عالی شان اور فراخ دالان چاروں طرف اس کے علاوہ ہیں داخلہ کے 4 1 ۔ دروازے ہیں۔ منارے چھ ہیں، اور گنبد گمزیوں کی تعداد 150 ۔ سے متجاوز ہے۔ ایک دوسرے بیان کے مطابق شمالی غربی وسعت 545 فٹ ہے۔ جنوبی ومشرقی 553 فٹ، شمالی مشرقی 360 فٹ اور جنوبی وغربی 364 فٹ۔ (آیت) ” شطر “ سے مراد ہے مسجد حرام کی سمت میں یا اس کے رخ پر۔ نہ کہ عین اس کے مقابل کہ اس کی تعمیل دور دراز کے علاقوں میں ممکن ہی نہیں۔ شطرہ اے نحوہ وتلقاؤہ قالہ ابن عباس و ابوالعالیۃ ومجاھدوالربیع بن انس (جصاص) فقہاء نے لکھا ہے کہ نماز میں جو استقبال قبلہ فرض ہے وہ سینہ کا ہے۔ چہرہ کا استقبال صرف مسنون ہے۔ نماز سے باہر ہونا صرف اس وقت ممکن ہے جب چہرہ کے ساتھ سینہ بھی کعبہ کی طرف سے پھر جائے۔ صرف گردن پھرجانے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
528 ۔ (حالت نماز میں) خطاب سارے مسلمانوں یا امت محمدی سے ہے۔ ابھی ابھی رسول اللہ ﷺ کو حکم ملا تھا کہ اپنے پسندیدہ قبلہ کی طرف نماز پڑھا کیجئے۔ اب عام حکم صراحت کے ساتھ ساری امت کو مل رہا ہے (آیت) ” حیث ما کنتم “ سے فقہاء نے یہ نکالا ہے کہ نماز، انسان کہیں بھی ہو، درست ہے۔ کچھ مسجد ہی کی قید نہیں۔
529 ۔ علماء و اکابر یہود کو اپنے ہاں کی روایتوں اور نوشتوں کی بنا پر یہ خوب علم تھا کہ پیغمبر آخرالزمان ﷺ کا قبلہ وہی ہوگا جو ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کا تھا کہ وہی قبلہ اصلی اور حقیقی ہے۔ بیت المقدس کا قبلہ ہونا عارضی تھا۔ (آیت) ” انہ “ میں ضمیر سے مراد یہی حکم تحویل قبلہ ہے۔ اے التحویل الی الکعبۃ (کشاف) والضمیر للتحویل اوللتوقیۃ (بیضاوی) (آیت) ” من ربھم کی قید نے اس حقیقت کو اور واضح کردیا کہ استقبال کعبہ رسول اللہ ﷺ کا امر اجتہادی نہیں، تمامتر حکم ربانی ہے۔
530 ۔ (جو وہ اخفاء حق وصداقت کی کرتے رہتے ہیں)
Ayah 2:145531 ۔ یعنی اپنی پیغمبری کے سارے ممکن دلائل ومعجزات بھی۔ (آیت) ” الذین اوتوالکتب “ سے مراد یہود ہیں۔
532 ۔ (یہ حد ہے ان کے ضد، عناد وتعصب کی، اس لیے آپ ﷺ کا ان کے اعتراضات کی طرف اعتناء کرنا ہی بےکار ہے)
533 ۔ اس لیے کہ اسرائیل کی امامت کے خاتمہ پر آپ ﷺ کو ایک مستقل، امتیازی، عالمگیر قبلہ عطا ہوچکا ہے، اور یہود ونصاری کو آپ ﷺ کی طرف سے اب ہمیشہ کے لیے مایوس ہوجانا چاہیے)
534 ۔ چناچہ یہود کا قبلہ آج تک ہیکل بیت المقدس ہے۔ اور نصاری کسی عمارت یا مکان کو نہیں، بلکہ سمت مشرق کو قبلہ بنائے ہوئے ہیں اور عجب نہیں کہ اندرونی اختلافات اس سے بھی زائد ہوں۔ بحمد اللہ کہ ہمارے قدیم مفسرین بھی یہود ونصاری کے قبلوں کے فرق سے صحیح طور پر واقف تھے۔ چناچہ لکھتے ہیں :۔ فالیھود مستقبل بیت المقدس والنصاری مطلع الشمس (مدارک) اور خیر نسفی تو بعد کے شخص ہیں۔ ابن جریر تو متقدمین میں ہیں، وہ تک اس سے باخبر تھے، وذلک ان الیھود تستقبل بیت المقدس بصلا تھا ومن النصاری تستقبل المشرق (ابن جریر)
535 ۔ تحویل قبلہ کے باب میں، حالانکہ عصمت نبوت خود ہی اس مفروضہ کے منافی ہے) اہل کتاب کی اتباع واسترضاء تو مطلقا ممنوع ہے، لیکن قبلہ جیسے بنیادی دینی مسئلہ میں ان کی اتباع معصیت ہی نہیں، کفر ہے۔
536 ۔ یعنی علم ثابت بالوحی، قرآنی اصطلاح میں (آیت) ” العلم “ سے مراد یہی علم حقیقی ہوتا ہے، دنیوی ” علوم “ کی کوئی صنف نہیں۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ آیت میں تہدید ہے ان لوگوں کے لیے جو علم صحیح کے باوجود بجائے اس کے اپنی خواہش کی پیروی کرتے ہیں۔ وفی ذلک تحذیر لمن یترک الدلیل بعد انارۃ ویتبع الھوی (مدارک)
537 ۔ اللہ کے قانون میں رد رعایت کی گنجائش کسی کے لیے نہیں، یہاں تک کہ انبیاء کے لیے بھی نہیں۔ اور نفس فطرت بشری کے لحاظ سے گناہوں کی صلاحیت ان میں بھی ویسی ہی ہوتی ہے، جیسی دوسرے انسانوں میں۔ یہ اور بات ہے کہ توفیق الہی ان کا تعلق ہر وقت اور ہر حال میں اپنے سے قائم رکھتی ہے، اور انہیں خطا سے محفوظ اور معصیت سے معصوم بنائے رکھتی ہے۔ امام رازی (رح) نے آیت سے یہ نکتہ بھی پیدا کیا ہے کہ عالم کے حق میں وعید شدید تر ہے غیر عالم کے مقابلہ میں۔ دلت الایۃ علی انہ توجہ الوعید علی العلماء اشد من توجہ علی غیرھم (کبیر)
Ayah 2:146538 ۔ عموم لفظ کے تحت میں مسیحی بھی داخل ہیں۔ لیکن خصوصیت کے ساتھ مراد یہود ہیں۔ توریت وصحف قدیم کو مسیحی بھی مانتے ہیں۔ علماء بلاغت نے اشارہ کیا ہے کہ اس موقع پر صیغہ معروف (آیت) ” اتینھم الکتب “ ضمیر متکلم کی تصریح کے ساتھ صیغہ مجہول (آیت) ” اوتوالکتب “ سے کہیں زیادہ بلیغ وپر معنی ہے ،
539 ۔ یعنی خوب اچھی طرح بغیر کسی اشتباہ والتباس کے۔ مطلب یوں ہوا کہ پچھلے نوشتوں میں ایک نبی آخر الزمان کی آمد کی بابت پیش گوئیاں اس صراحت سے مذکور ہیں کہ یہود کو آپ کی شناخت میں کوئی دقت نہیں ہوسکتی۔ وہ جس طرح اسرائیلی انبیاء کو پہچان لیتے تھے، ٹھیک اسی طرح آپ کو بھی پہچان سکتے ہیں۔ (آیت) ” انبآء ھم “ کے لفظی معنی اپنے لڑکوں کے ہیں، لیکن ضمیر ھم سے مراد افراد واشخاص نہیں، بلکہ قوم یہود ونسل اسرائیل مجموعا ہے۔ یعنی ابناء اسرائیل لفظ عربی میں اولاد سے زیادہ وسیع معنی رکھتا ہے۔ اور ہمیشہ صلبی بیٹوں ہی کے معنی میں نہیں آتا، بلکہ جن جن پر فرزندی کا اطلاق مجازا ہوسکتا ہے ان سب پر حاوی ہے (آیت) ” یعرفونہ “ میں ضمیر ہ سے کیا مراد ہے ؟ قد ماء عموما اور اکثر علماء اس طرف گئے ہیں کہ اس سے مراد بیت الحرام کو بہ حیثیت قبلۃ الانبیاء کے پہچاننا ہے۔ چناچہ تفسیر ابن جریر میں ابن عباس ؓ صحابی سے لے کر قتادہ، ابن زید، سدی، ابن جریج تابعین کے اقوال اسی معنی میں منقول ہیں۔ لیکن متوسطین اور متاخرین میں تقریبا سب کا اس پر اتفاق ہوگیا ہے۔ کہ مراد ذات رسالت سے ہے۔ اور دلائل اسی کے زیادہ مؤید ہیں۔ اور سند اس کی بھی تابعین سے مل جاتی ہے۔ یعنی یعرفون محمدا ﷺ (معالم) اے یعرفون رسول اللہ ﷺ (کشاف) ذکروا فیہ وجوھا احدھا انہ عائد الی رسول اللہ ﷺ ۔۔۔۔ والقول الثانی۔۔۔۔ واعلم ان القول الاول اظہر (کبیر) والضمیر لرسول اللہ ﷺ وان لم یسبق ذکرہ بدلا لۃ الکلام علیہ (بیضاوی) والضمیر عائد علی النبی ﷺ قال مجاھدو قتادۃ وغیرھما (بحر) ہ ظاہر ہے کہ ضمیر غائب ہے۔ لیکن اردو میں نہایت تعظیم کے موقع پر غائب ” ہ “ کے بجائے حاضر ” آپ “ لاتے ہیں۔
540 ۔ یہود اور دوسرے معاندین کا یہ اخفائے حق دانستہ اور بہ ارادہ ہے۔ کسی معذوری، دانستہ غلط فہمی یا دلائل میں خفاء کا نتیجہ نہیں۔ (آیت) ” الحق “ حق سے مراد یہاں رسول اللہ ﷺ کا وہ مفصل، مکمل تعارف ہے، جو توریت اور دوسرے الہامی نوشتوں میں موجود ہے۔ ما فی کتبھم من صفۃ النبی ﷺ (ابن کثیر) اے یکتمون محمد ﷺ (ابن جریر، عن مجاہد) والحق المکتوم ھنا ھو رسول اللہ ﷺ قال قتادۃ و مجاھد (بحر) دوسرے معنی امر تحویل قبلہ کے بھی لیے گئے ہیں۔ قیل امر القبلۃ (کبیر) (آیت) ” وھم یعلمون “۔ اس ٹکڑے سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ یہ انکار کرنے والے عوام وجہلاء یہود نہیں، ان کے علماء و اکابر تھے ،
Ayah 2:147541 ۔ (اے مخاطب) آیت کا یہ جزوتاکید کلام کے لیے ہے۔ یعنی یہاں جو کچھ بھی بیان ہورہا ہے خواہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت سے متعلق ہو، یا امر تحویل قبلہ سے متعلق۔ بہرحال وبہر صورت یہ اللہ ہی کا کلام ہے، اور ہرگز بےالتفاتی یا کم التفاتی کے قابل نہیں۔
Ayah 2:148542 ۔ ہر قوم راست را ہے، دینے و قبلہ گاہے ! یعنی ہر قوم ہر امت نماز و عبادت کے لیے ایک مرکزی رخ مقرر رکھتی ہے، سو امت اسلامیہ کے لیے بھی ایک متعین قبلہ ناگزیر ہے۔ (آیت) ” لکل “ ہر ایک “ سے مراد ہر قوم یا ہر امت ہے اور حذف مضاف کی طرح حذف مضاف الیہ کی مثالیں عربی میں عام ہیں۔ ولم یقل لکل قوم اوامۃ لانہ معروف المعنی عندھم (کبیر) یعنی ذلک اھل الادیان (ابن کثیر) لکل طائفۃ من اھل الادیان (بحر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بعض صوفیہ عارفین نے آیت کو حدیث نبوی کل میسرلما خلق لہ (ہر ایک کے لیے وہی آسان ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے) سے مؤید کر کے اس کی شرح میں کہا ہے کہ تکوینی وتشریعی دونوں حیثیتوں سے اللہ نے انسانوں کے حالات مختلف رکھے ہیں، اور متعدد طبقے ان کے پیدا کردیئے ہیں۔ کوئی کاشتکاری میں لگا ہے، کوئی تجارت میں، اور کوئی صنعت وحرفت میں۔ اسی طرح دینی حیثیت سے بھی، کوئی احادیث نبوی جمع کررہا ہے۔ کوئی حفظ قرآن کررہا ہے، کوئی مسائل فقہ کا استنباط کررہا ہے، کوئی قرآن کی تفسیر وترجمانی میں لگا ہوا ہے۔ یہ سب مختلف طریقے، راستے ہیں اللہ کی طرف کے۔ اللہ ان سارے طریقوں کو اپنے بندوں کے ؔ ذریعہ سے آباد رکھنا چاہتا ہے۔ تو جو شخص جس طریق پر بھی اللہ کی رضا کے قصد سے چلے گا، اللہ اس کے لیے قبول ووصول آسان کردے گا۔ ھو اخفش نحوی اور زجاج لغوی کا قول نقل ہوا ہے کہ یہ ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ ہی رخوں کا پھیرنے والا ہے۔ قیل ھو عائد علی اللہ تعالیٰ قال الاخفش والزجاج (بحر)
543 ۔ (اے مسلمانو ! ) خطاب امت اسلامیہ کو ہے کہ حسن عمل کی طرف بڑھو، اور جملہ مذاہب وادیان کے اتحاد قبلہ کے خیال خام میں نہ پڑے رہو، خیرات۔ خیر کی جمع وسیع وعام مفہوم ہے۔ رضا الہی کے لیے موافق شرع جملہ امور کو شامل۔ وصول الی اللہ کے بیشمار راستوں پر حاوی۔ (آیت) ” فاستبقوا “ عارفین نے کہا ہے کہ ہر وقت جو چیز اس وقت کے لحاظ سے خیر ومصلحت ہو، اس کی طرف بڑھنا ہی ” استباق خیر “ ہے۔
544 ۔ (اور تمہاری نمازوں میں وحدت پیدا کردے گا) ساری امت کا قبلہ ایک خاص مکان کو مقرر کردینے سے ایک خیال یہ پیدا ہوسکتا تھا کہ یہ تو ایک صورت انتشار کی سی پیدا ہوگئی، کوئی شمال کی طرف رخ کرے گا، کوئی جنوب کی طرف، وقس علی ھذا۔ شبہ کے جواب میں ارشاد ہورہا ہے کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔ شبہ محض سطحی ہے۔ مقصود تو نماز اور نمازیوں میں وحدت پیدا کرنا ہے۔ تم شمال، جنوب، شرق، غرب، دنیا کے کسی خطہ، کسی علاقہ میں بھی متفرق ومنتشر ہو، عالم الغیب والشہادۃ کو تو بہرحال علم ہے کہ تم رخ ایک ہی طرف کیے ہوئے ہو۔ وہ کعبہ کی طرف پڑھی ہوئی ساری نمازوں کو ایک حکم میں رکھے گا۔ یجعل اللہ تعالیٰ صلاتکم مع اختلاف جھا تھا فی حکم صلاۃ متحدۃ الجھت (روح) اے یجمعکم ویجعل صلاتکم کلھا الی جھۃ واحدۃ قالہ الزمخشری (بحر) دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ اشارہ یہاں موت و قیامت کی طرف ہے، یعنی تم دفن جہاں کہیں بھی ہوگے۔ اللہ تعالیٰ سب کو حشر میں یکجا کر دے گا۔
ف، 545 ۔ (اور اس کے احاطہ قدرت سے کوئی چیز بھی خارج نہیں) یہ ایک اصولی جواب بہت سے شبہات کا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے مسائل میں انسان کو جہاں کہیں بھی استبعاد عقلی معلوم ہوتا ہے اس کی بنیاد ہمیشہ اسی مغالطہ پر ہوتی ہے کہ اپنے اوپر قیاس کرکے اللہ کے قوی کو بھی محدود، اور اس کی قدرت کو بھی زمان، مکان وغیرہ کی قیود کا پابند سمجھ لیا جائے۔ قرآن مجید نے اس بشری ذہنیت (سائیکالوجی) کو پوری طرح سمجھ کر بار بار اسی حقیقت کی طرف تنبیہ کی ہے، کہ خدائی فعلیت پر حکم لگاتے وقت خدائی قدرت کی بھی وسعت بےپایاں کو تو یاد رکھا کرو۔
Ayah 2:149546 ۔ مطلب یہ کہ یہ حکم استقبال کعبہ، سفر وحضر کہیں سب کے لیے ہے۔ محض قیام مدینہ کے ساتھ مخصوص نہیں۔ بین بھذا تساوی الحالین اقامۃ وسفرا فی انہ مامور باستقبال البیت الحرام (بحر) ۔
547 ۔ یعنی امر ثابت شدہ جس میں اب کسی نسخ وتبدیلی کا امکان نہیں۔ ھوالحق اے ثابت الذی لا یعرض لہ نسخ ولا تبدیل (بحر) (آیت) ” انہ “ میں ضمیر حکم استقبال کعبہ کی طرف ہے۔
548 ۔ ایک جزئی حکم کے بعد کلی تنبیہ اسلوب قرآنی کے خصائص میں سے ہے۔ اور صیغہ واحد سے صیغہ جمع کی طرف منتقل ہوجانا عربی اسلوب بلاغت میں عام ہے۔
Ayah 2:150549 ۔ الفاظ کی تکرار غالبا تاکید معنی کے لیے ہے۔ اور یہ اہل عرب کا عام دستور ہے۔ کر رت توکیدا (بحر) ھو الاکثر المعھود فی لسان العرب وھو ان تعاد الجملۃ مرۃ واحدۃ (بحر) بعض نے لکھا ہے کہ پہلا حکم تعمیم حال کے لیے ہے۔ یعنی سفر حضر میں جس حال میں بھی ہوں، توجہ کعبہ کی طرف کرلی جائے۔ اور دوسرا حکم تمیم مکان کے لیے ہے۔ یعنی دور ونزدیک، حاضر غائب، جہاں کہیں بھی ہوں، توجہ کعبہ کی طرف کرلی جائے۔ مفسرین نے اپنے اپنے مذاق کے مطابق دوسری حکمتیں بھی اس تکرار حکم کی لکھی ہیں۔
550 ۔ (اے مسلمانو ! ) یعنی یہ حکم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں۔ ساری امت پر اس کی تعمیل فرض ہے، یہاں تک یہ حکم استقبال کعبہ کل ملا کر چھ بار آچکا ہے۔ اہل لطائف و اسرار نے لکھا ہے کہ ہر بار کے حکم سے ایک ایک خاص اشارہ مقصود ہے، مثلا ( 1) پہلی بار سے مطلق حکم وجوب ، (2) دوسری بار سے تعمیم احوال۔ یعنی سفر ہو یا حضر (3) تیسری بار سے تعمیم مکان، یعنی نزدیک ہو یا دور، حاضر ہو یا غائب (4) چوتھی بار سے تعلیم ادب یعنی قبلہ رو رہنے کا استحباب (5) پانچویں بار سے توجہ قلبی۔ یعنی دل اسی طرف لگا رہے جدھر پروردگار کی خاص توجہ ہے۔ (6) چھٹی بار سے تاکید، یعنی رفع احتمال نسخ۔
551 ۔ (مثلا اہل کتاب کو اس اعتراض کی گنجائش، کہ ہمارے نوشتوں کے بموجب تو آخری نبی ﷺ کا قبلہ، قبلہ ابراہیمی ہونا تھا، یا مشرکین عرب کو اس اعتراض کا موقع کہ یہ نبی ﷺ دین ابراہیمی کے مدعی ہو کر قبلہ ابراہیمی کیوں ترک کیے ہوئے ہیں) (آیت) ” للناس “ میں الناس سے مراد جملہ مخالفین ومعترضین ہیں ،
552 ۔ (یعنی رہے وہ کج فطرت معاندین جو اس کے بعد بھی اعتراضات پڑاڑے رہیں گے سو ان کی کچھ پرواہی نہ کرو۔ الا للمعاندین منھم (کشاف) لا حجۃ لاحد علیکم الاالحجۃ الداحضۃ للذین من الیھود وغیرھم (بحر) (آیت) ” الا کو یہاں ابوعبیدہ لغوی نے واؤ کے مرادف قرار دیا ہے، لیکن فراء اور دوسرے اہل لغت نے اس سے انکار کیا ہے۔ (جصاص)
553 ۔ (اور نہ ان کی بکواس کی کچھ پروا کرو) فلا تخافوا مطاعنھم فی قبلتکم (بحر)
554 ۔ (کہ میری ہی نافرمانی تمہیں نقصان پہنچاسکتی ہے)
555 ۔ اتمام نعمت کے مفہوم اور بھی ہوسکتے ہیں، لیکن اس سیاق میں کھلی ہوئی مراد تعیین قبلہ ہے۔ بھدایتی ایاکم الی قبلۃ ابراہیم (معالم) واتمام النعمۃ بما ھداھم الیہ من القبلۃ (بحر) (آیت) ” لاتم “ کا عطف (آیت) ” لئلا یکون “ پر ہے (جلالین) خانہ کعبہ کا محل نزول رحمت، مرکز تجلیات ہونا مسلم ہے، ساتھ ہی نماز کا افضل عبادات ہونا مسلم، ان دونوں حقیقتوں کے استحضار کے بعد ظاہر ہوجاتا ہے کہ خانہ کعبہ کی تعیین قبلہ سے بڑھ کر عنایت اور تکمیل نعمت اور کیا ہوگی۔
556 ۔ (اور اپنے درجات ہدایت میں مزید ترقی کرتے رہو) شریعت اسلامی دنیا کا مکمل ترین ممکن نظام ہے۔ اور اس مکمل ترین ممکن نظام کا ایک اہم جزوتعیین قبلہ و استقبال کعبہ بھی ہے (آیت) ” لعلکم “ میں لعل کی کا مرادف ہے، شک کے لیے نہیں ” تاکہ “ کے معنی میں ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جو لوگ پہلے ہی سے ہدایت پر ہیں۔ ان کو ہدایت یابی سے سرفراز کرنا دلیل اس امر کی ہے کہ مدارج قرب میں ترقی کی کوئی حدونہایت نہیں ہے۔
Ayah 2:151557 ۔ (آیت) ” کما “ کا تعلق آیت ماقبل سے ہے۔ یعنی یہ اتمام نعمت اب استقبال کعبہ کے واسطے سے اسی طرح ہوگا، جیسے بعثت رسول کے ذریعہ سے اس کے قبل ہوچکا ہے۔ (آیت) ” کما ارسلنا “ متعلق باتم اے اتماما کا تمامھا بارسالنا الرسول (جلالین)
558 ۔ (ہر طرح کے فسق وعصیان اور اخلاقی آلودگیوں سے) رسول کی حیثیت محض پیام رساں اور مبلغ کی نہیں ہوتی، مزکی (پاک کرنے والے) کی بھی ہوتی ہے۔ رسول کی گوناگوں حیثیتوں پر حاشیے آیت نمبر 137 کے ذیل میں گزر چکے ہیں۔
559 ۔ رسول کی حیثیت معلم اور شارح کی بھی ہوتی ہے۔ (آیت) ” یعلمکم “ لفظ تعلیم سے اشارہ ادھر بھی ہوگیا کہ پیغمبر کے ارشاد محض لفظ وعبارت تک محدود نہیں رہتے۔ وہ حکمت و دانائی کے سبق، روحانیت کے اصول ومسائل کی تعلیم بھی دیتا رہتا ہے۔ یعنی انہیں اپنے سامعین کے رگ وریشہ میں اتارتا رہتا ہے۔
560 ۔ وحی الہی کو عقل بشری سے وہی نسبت ہے جو خدا کو بندہ سے ہے اور رسول چونکہ وحی مؤید رہتا ہے، اس لیے قدرۃ اس کی باریک بین، دور رس اور دقیقہ سنج نگاہ ان دقیق حقائق تک پہنچ جاتی ہے، جو بڑے بڑے عقلاء ومفکرین سے بھی مخفی رہتے ہیں۔ اور رسول کی رسائی، عالم حقیقت کی ان گہرائیوں تک ہوجاتی ہے، جو علم وعقل، کشف واشراق سب سے ماروا ہیں۔ لیکون ارسالہ ﷺ نعمۃ عظیمۃ ولولاہ لکان الخلق متحیرین فی امر دینہم لایدرون ماذا یصنعون (روح) مالا سبیل الی معرفتہ الا بالوحی (مدارک)
Ayah 2:152561 ۔ (طاعت و عبادت کے ذریعہ سے) بندہ کا اپنے مالک کو یاد کرنا یہی ہے کہ اس کی بتلائی ہوئی راہ پر ہمت اور شوق سے چلتا ہے اور یاد الہی کسی خاص وقت کے ساتھ محدود ومقید نہیں لکھتے پڑھتے، بولتے چالتے، ملتے جلتے، سوتے جاگتے، سب میں رضاء الہی کو مقدم رکھنا یہ بندہ کی طرف سے یاد الہی ہے۔ (آیت) ” فاذکرونی “۔ ابوبکر جصاص رازی (رح) نے ذکر سے مراد لی ہے آیات الہی اور ان کی عظمت وقدرت کا تفکر۔ وذکروا بالفکر فی دلائلہ وایاتہ وقدرتہ وعظمتہ (احکام القرآن) اور اسی کو سارے اذکار سے افضل اور ان کی اصل قرار دیا ہے۔ وھو افضل الذکر، سائر وجوہ الذکر مبنیۃ علیہ وتابعۃ لہ (احکام القرآن)
562 ۔ (اپنے لطف و عنایت خاص سے) اللہ کا اپنے بندوں کو یاد کرنا یہی ہے کہ، ان پر دنیا وآخرت دونوں میں اپنے خصوصی فضل وکرم کی بارش کرتا رہے (آیت) ” فاذکرونی “ اور (آیت) ” اذکرکم “ میں ضمیر متکلم کو صیغہ واحد میں لانا علامت تخصیص کی ہے۔
مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ بندہ ادھر سے یاد میں لگا ہے تو ادھر سے بھی سرافرازی ہوتی رہے گی، اور یہی اصلی ثمرہ اور انعام ہے بندہ کے ذکر الہی کا۔ سو اگر ذہن کے سامنے ان کا استحضار رہے تو بندۂ ذاکر وشاغل کو نہ کبھی تشویش ہو اور نہ بےحاصلی کی شکایت پیدا ہو۔
563 ۔ (آیت) ” واشکروالی “ توحید، ایمان واسلام کے حقوق اداء کرتے رہنا ہی اللہ کی شکر گزاری کرتے رہنا ہے۔ اور شکر کی بہترین تعریف یہ ہے کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اللہ ہی کے کاموں میں لگایا جائے۔ (آیت) ” ولاتکفرون۔ کفرو شرک، الحاد ارتیاب، فسق و بدعت میں لگے رہنا یہی اللہ کی ناشکری اور اس کی نعمتوں سے کفران کرنا ہے، اور ناشکری کا اصلی مفہوم یہی ہے کہ اللہ کے دئیے ہوئے قوی کو اللہ کی نافرمانی میں صرف کیا جائے ،
Ayah 2:153564 ۔ یعنی ہجوم مشکلات کے وقت بھی مشکل کشائے حقیقی سے تعلق برابر جوڑے رہو۔ اس پر بھروسہ رکھو، اس کے آگے جھکتے رہو، گرتے رہو۔ روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ کسی بڑی اور پر قوت ہستی سے تعلق قائم ہوجانے سے دل کو کتنی تقویت حاصل ہوتی ہے۔ خطرہ کے وقت پولیس کے پہنچ جانے سے، کسی بڑے حاکم کے آجانے سے دل کو کیسی ڈھارس بندھ جاتی ہے، شدید بیماری کے وقت کسی نامور طبیب کے آجانے سے ٹوٹی ہوئی آس کیسی جڑ جاتی ہے۔ پھر جب دل کا ربطہ ہمہ بین وہمہ داں، ناصر حقیقی ومحافظ حقیقی سے قائم ہوجائے، تو انسان بےبنیان کی تسکین خاطر وتقویت قلب کا کیا پوچھنا ! دنیا میں رہ کر، زندگی کی کشمکش میں پڑکر، مشکلات ومصائب کا پیش آتے رہنا ناگزیر ہے۔ افراد کو بھی، اور امت وجماعت کو بھی۔ اور وہ دستورالعمل ناقص ہے جو مشکلات کے دفاع اور مصائب سے مقابلہ کا طریقہ نہ بتائے، قرآن مجید نے بجائے غیرضروری اور نامتناہی تفصیلات میں جانے کے یہاں اشارہ اصل اصول کی طرف کردیا۔ (آیت) ” بالصبر “ صبر کے لفظی معنی تنگی اور ناخوشگواری کی حالت میں اپنے کو روکے رہنے کے ہیں۔ الصبر الامساک فی ضیق (راغب) اور اصطلاح شریعت میں اس کے معنی یہ ہیں کہ نفس کو عقل پر غالب نہ آنے دیا جائے، اور قدم دائرہ شریعت سے باہر نہ نکالا جائے۔ الصبر حبس النفس علی ما یقتضیہ العقل والشرع (راغب) صبر کے یہ معنی نہیں کہ جو امور طبعی اور بشری ہیں، ان کے آثار کو بھی اپنے اوپر طاری نہ ہونے دیا جائے۔ بھوک کے وقت مضمحل اور نڈھال ہوجانا، درد کی تکلیف سے کراہنا، رنج کے وقت آہ سرد بھرنا، عزیزوں قریبوں کی موت پر آنسوؤں سے رونا، ان میں سے کوئی شے بھی صبر کے منافی اور بےصبری میں داخل نہیں۔ قرآنی فرمان کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ ہجوم مشکلات کے وقت گھبرانہ جاؤ، ثابت قدم رہو، دل قابو میں رکھو، خود دل کے بس میں نہ آجاؤ۔ الصبر والصلوۃ صبر ایک سلبی کیفیت اور صلوۃ ایک ایجابی عمل ہے، ان دو کلیدی لفظوں سے اشارہ ادھر ہوگیا کہ انفرادی اصلاح اور اجتماعی فلاں دونوں کا راز صرف ان دوچیزوں میں ہے۔ ایک معاصی سے حفظ و احتیاط، دوسرے اوامر کا اتباع۔
565 ۔ اللہ کی معیت عام تو کافر و مومن، فاسق و صالح، اپنے ہر بندہ کے ساتھ ہے۔ (آیت) ” وھو معکم این ما کنتم “۔ یہاں یہ معیت عام مراد نہیں۔ بلکہ معیت خصوصی مراد ہے، جس کے آثار حفاظت، اعانت و توجہ خاص ہیں، یہ اسی معیت الہی کا احساس و استحضار تھا، جس نے رسول کریم ﷺ کے صحابہ ؓ کو بےپناہ قوت، جرأت، بےخوفی کا مالک بنادیا تھا۔ اور حق یہ ہے کہ اس کے مراقبہ سے بڑھ کر نہ روح کے لیے کوئی لذیذ غذا ہے اور نہ جراحت قلب کے لیے کوئی مرہم تسکین، یہی ایک تصور ہے اہل ایمان کے لیے جو ہر ناگوار کو خوشگوار ہر تلخ کو شیرین ہر زہر کو قند بنادینے کو کافی ہے۔ دور حاضر کے مغربی مفکرین اور نفسئین نے بھی اس تعلق باللہ پر روشنی ڈالی ہے، اور تسلیم کیا ہے کہ قلب کی اداسی، غمگینی، افسردگی کے وقت تعلق باللہ سے بڑھ کر مونس، رفیق ودمساز کوئی نہیں، ملاحظہ ہوں Psychology of Religigions صفحہ 66، 67 ۔ نیز James کی Varietes of Religious Expiriences کے مختلف مقامات۔ صبر۔ اپنے وسیع مفہوم میں ایک جامع لفظ ہے۔ صلوۃ اسی کی ایک ممتاز صورت ہے۔ معیت الہی کی یہ نعمت جب صابرین کو ملے گی، تو نمازیوں کو بدرجہ اولی ملے گی، اور اسی لیے اس کی صراحت کی ضرورت نہ رہی۔ ولم یقل مع المصلین لانہ اذا کان مع الصابرین کان مع المصلین من باب اولی لاشتمال الصلوۃ علی الصبر (روح)
Ayah 2:154،566 ۔ (عالم برزخ میں ایک خاص حیات کے ساتھ، اور عام انسانوں کی طرح مردہ نہیں) (آیت) ” فی سبیل اللہ “ یعنی دین حق کی راہ میں۔ مذہب صحیح کی خاطر۔ اے فی طاعتہ واعلاء کلمتہ (روح) غزوہ بدر میں جب کچھ صحابہ شہید ہوگئے تو نافہم کافروں نے کہنا شروع کیا کہ انہوں نے خواہ مخواہ اپنی زندگی گنوادی۔ اور زندگی کے لطف سے محروم ہوگئے، انہیں جواب مل رہا ہے کہ تم جس معنی میں انہیں مردہ سمجھ رہے ہو، اس میں وہ سرے سے مردہ ہی نہیں بلکہ زندوں سے کہیں بڑھ کر ہر لذت سے لذت یاب ہورہے ہیں۔ اصطلاح میں ایسے مقتول کو شہید کہتے ہیں۔ برزخی زندگی اپنی عام صورت میں تو سب ہی کے لیے ہے۔ لیکن شہیدوں کو اس عالم میں ایک خصوصی اور امتیازی زندگی نصیب ہوگی، آثار حیات میں دوسروں سے کہیں زیادہ قوی، بقول مفسر تھانوی (رح) شہید کی اس حیات کی قوت کا ایک اثر اس کے جسد ظاہری تک بھی پہنچتا ہے کہ اس کا جسد باوجود گوشت پوست ہونے کے خاک سے متاثر نہیں ہوتا۔ اور مثل جسد زندہ کے صحیح وصالم رہتا ہے۔ جیسا کہ احادیث ومشاہدات شاہد ہیں۔ اور یہی حیات ہے جس میں حضرات انبیاء شہیدوں سے بھی زیادہ قوت و امتیاز رکھتے ہیں۔ تخصیص الشھداء لاختصاصھم بالقرب من اللہ تعالیٰ و مزید البھجۃ والکرامۃ (بیضاوی) ایک گروہ نے کہا ہے کہ حیات صرف روحانی ہوتی ہے۔ لیکن ترجیح اسی قول کو ہے کہ جسمانی وروحانی دونوں ہوتی ہے۔ ذھب کثیر من اھل السلف الی انھا حقیقیۃ بالروح والجسد وذھب البعض الی انھا روحانیۃ والمشہور ترجیح القول الاول (روح) آیت سے بہ قاعدۂ دلالۃ النص یہ بھی استنباط کیا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں جان ومال کو صرف کرنے والے اور انہیں ہوائے نفس میں لٹانے والے یکساں نہیں ہوتے۔ حیات شہداء کے معتقد یہود کے بھی بعض فرقے ہوئے ہیں۔ (جیوش انسائیکلوپیڈیا، جلد 6 صفحہ 566) ابن العربی مالکی (رح) نے کہا ہے کہ اسی آیت سے تمسک کرکے بعض ائمہ نے شہید کے لیے غسل و نماز جنازہ دونوں غیر ضروری بتائے ہیں، کہ ان کی تطہیر تو شہادت سے ہوچکی ہے۔ لیکن امام ابوحنیفہ (رح) نے نماز جنازہ کو ضروری برقرار رکھا ہے۔ (احکام القرآن)
567 ۔ (اس لیے کہ برزخ حواس ناسوتی سے مدرک نہیں ہوتا اور انسان اسی حیات عالی ولطیف کا ادراک اپنے حواس ظاہری کے ذریعہ سے نہیں کرسکتے) انماھی امر لایدرک بالعقل بل بالوحی (بیضاوی) لانھا من احوال البرزخ التی لا یطلع علیھا ولا طریق للعلم بھا الا بالوحی (روح) لان حیا تھا الشھید لا نظم حسا (مدارک) ابن کثیر نے ایک حدیث نبوی نقل کرکے اور اس سے استنباط کرکے لکھ دیا ہے کہ ایسی حیات عام مومنین کو بھی حاصل رہی ہے، البتہ شہداء کا ذکر خاص طور پر ان کی عظمت واکرام کے لیے قرآن مجید میں کردیا گیا ہے۔ ففیہ دلالۃ لعموم ال مومنین ایضا وان کان الشھداء قد خصصوا بالذکر فی القرآن تشریقا لھم وتکریما وتعظیما۔