Ayah 2:198735 ۔ بہ سلسلہ سفر حج اسلام جس طرح فلاح اخروی کا ضامن ہے، فلاح دنیوی کا بھی داعی ہے، اور اس کی یہ جامعیت اس کی ہر عبادت سے بالکل ظاہر ہورہی ہے، وضو، نماز، نماز، باجماعت، روزہ، زکوٰۃ، سب سے روح کو جلا دینے اور اپنے باطن کو صیقل کرنے کے ساتھ ساتھ دینوی، مادی، جسمانی، معاشی فائدوں اور مصلحتوں سے بھی کتنے لبریز ہیں۔ یہی اصول حج کے بارے میں بھی کام کررہے ہیں حج کا منزل در منزل سفر، بری و بحری طویل سفر، اور امت کے مختلف طبقوں کا دنیا کے مختلف گوشوں سے یہ عظیم الشان اجتماع، ایک خشک عبادت اور محض ذکر الہی کے لیے نہیں، فرد وملت دونوں کے لیے یعنی انفرادی واجتماعی ہر قسم کے فائدے اس سے حاصل کیے جاسکتے ہیں، اور کیے جانے چاہئیں حج کے روحانی اسرار وحقائق کا ادراک تو فرنگی دماغوں کے لیے آسان نہیں۔ لیکن اس ” بین الاقوامی سالانہ کانگریس “ سے جو سیاسی، ملی، اجتماعی فائدے وابستہ ہیں، اور اس ” بین الاقوامی سالانہ بازار “ سے جو مالی، تجارتی، معاشی فائدے حاصل ہوسکتے ہیں، ان کا اندازہ اور ان کا اعتراف تو فرنگیوں کی زبان سے بھی بارہا ہوچکا ہے۔ یہاں خاص طور پر توجہ اس سفر و اجتماع کے معاشی وتجارتی پہلو پر دلائی ہے۔ اور جو رکاوٹ ایک خالص ” دیندار “ شخص کو ان فوائد کو حاصل کرنے سے ہوسکتی ہے، اسے دور کیا ہے۔ (آیت) ” فضلا “ سب کا اتفاق ہے کہ فضل سے یہاں مراد مال اور نفع تجارت ہے۔ یعنی المال وما یکتسب (راغب) ھو النفع والربح بالتجارۃ (کشاف) لوگوں کا غلو اس باب میں اتنا بڑھا ہوا تھا کہ جو تاجر مال تجارت لے کر منی اور مکہ کے بازاروں کے لیے جاتے، یا جو اونٹ والے اپنے اونٹ مزدلفہ، عرفات ومنی کے لیے لے جاتے، سمجھا جاتا تھا کہ ان کا حج ہی نہیں ہوتا، کہ جہاں تجارت آگئی، وہاں عبادت کا وجود کہاں باقی رہا، قرآن مجید نے اس مغالطہ عامۃ الورود کی تردید کردی۔ نزلت ردا علی من یقول لاحج للتجاروالاجراء والجمالین (کبیر) فی ھذا دلیل جواز التجارۃ فی الحج للحجاج مع اداء العبادۃ ولا یخرج بہ المکلف عن رسم الاخلاص للمفترض علی (ابن العربی) یدل علی ان الحج لا یمنع التجارۃ وعلی ھذا امر الناس من عصر النبی علی السلام الی یومنا ھذا فی مواسم منی ومکۃ فی ایام الحج (جصاص) ابن عباس ؓ صحابی سے لے کر حسن، عطاء مجاہد، قتادہ، وغیرہ تابعین منھم الحسن وعطاء ومجاھد وقتادۃ ولا نعلم احدا روی عنہ خلاف ذلک (جصاص) صرف ایک روایت کسی حد تک اس سے مخالف ملتی ہے، لیکن محققین نے تصریح کردی ہے کہ وہ ظاہر قرآن واجماع عام دونوں کے منافی ہے۔ ھذا قول شاذ خلاف ماعلیہ الجمھور و خلاف ظاہر الکتب (جصاص) (آیت) ” من ربکم “ یعنی حسب تقدیر الہی۔ بات بات میں بات پیدا کرنا قرآن مجید کا تو ایک مستقل اعجاز ہے۔ یہ ذرا سالفظ لا کر یاد دلا دیا کہ اس نفع وتجارت کو بھی اپنے قوت بازو کا ثمرہ نہ سمجھ لینا، جو کچھ بھی حاصل ہوگا، سب کو کار ساز حقیقی ہی کے لطف وکرم کر ثمرہ سمجھنا، نظر تجارت وکاروبار میں بھی ہر وقت اسی پر رہے۔ اس ہدایت پر عمل کے بعد تجارت کی کوئی بڑی سی بڑی مشغولیت بھی تجارت باقی رکھ سکتی ہے ؟ تجارت اس حال میں اگر عبادت نہ بن جائے، تو آخر کیا ہو۔
736 (9 ذی الحجہ کی شام کو عرفات میں وقوف اور ادائے آداب وقوف کے بعد) حج کے اعمال (واجب، سنن ومستحباب) تو بہت سے ہیں۔ لیکن فرض تین ہی ہیں۔ ( 1) احرام پوشی ، (2) 9کو عرفات میں حاضری یا وقوف اور طواف فرض (3) ۔ ان تینوں ارکان میں بھی اہم ترین رکن یہی وقوف عرفات ہے۔ (آیت) ” افضتم “۔ افاضہ کے لفظی معنی انبوہ در انبوہ چلنے یا واپس ہونے کے ہیں۔ اے دفعتم منھا بکثرۃ (راغب) الافاضۃ الاندفاع فی السیر بکثرۃ (کبیر) اصطلاح فقہ میں اضاضہ عرفات سے مزدلفہ کو کہتے ہیں۔ (آیت) ” عرفت “ مکہ معظمہ سے جو سڑک مشرق کی جانب طائف کو جاتی ہے اس پر مکہ سے کوئی بارہ میل کے فاصلہ پر کئی میل کے رقبہ کا ایک لمبا چوڑا میدان پڑتا ہے۔ اور اس کا نام عرفات ہے اسی نام کی ایک پہاڑی بھی اسی میدان میں واقع ہے، سطح زمین سے کوئی 200 گز بلند۔ سال بھر یہ میدان بالکل سنسان پڑا رہتا ہے۔ صرف ایک دن یعنی 9 ذی الحجہ کو اس کی پوری کسر نکل آتی ہے۔ اس روز یہ میدان انسانوں اور ان کی سواریوں سے کھچا کھچ بھر جاتا ہے۔ حاجیوں کو 8 ۔ ذی الحجہ کی دوپہر تک منی میں آجانا چاہیے، اور 9 کی صبح کو بعد اشراق قافلہ عرفات کے لیے روانہ ہوجائیں، تاکہ 8 ۔ 9 میل کا درمیانی فاصلہ دوپہر تک طے ہوجائے، دوپہر سے لے کر آخر وقت عصر تک اسی میدان میں رہنا چاہیے، اور اسی کا اصطلاحی نام وقوف ہے۔ یہی حاضری اعمال حج کی جان ہے اور یہ سارا وقت توبہ و استغفار، عبادت، انابت ہی میں صرف ہونا چاہیے، قریب غروب مزدلفہ (یا مشعر الحرام) کے لیے کوچ ہونا چاہیے، اور جس طرح آج ظہر کے ساتھ عصر کی نماز (باقاعدۂ تقدیم) عرفات کی مسجد نمرہ میں ملالی گئی تھی، اس طرح آج مغرب کی نماز (بہ قاعدۂ تاخیر) عشاء سے ملاکر اس وقت پڑھی جائے گی، جب قافلے مزدلفہ پہنچ جائیں۔
737 ۔ (آیت) ” المشعر الحرام “۔ مشعر کے لفظی معنی نشانی یا علامت کے ہیں۔ اور حرام یعنی محترم یا مقدس اس کی تعظمیی صفت ہے، نام اس خاص مقام کا بھی ہے، جو مزدلفہ کی دو پہاڑیوں کے درمیان ہے، اور خود سارے مزدلفہ کو بھی مشعرالحرام ہی کہتے ہیں۔ لم یختلف اھل العلم ان المشعر الحرام ھو المزدلفۃ (جصاص) والمشھور ان المشعر مزدلفۃ کلھا (روح) مزدلفہ مکہ سے کوئی 6 میل کے فاصلہ پر ہے منی سے عرفات جانے کا ایک تو سیدھا راستہ ہے۔ حاجی 9کو عرفات جاتے اسی راستہ سے ہیں۔ واپسی میں حکم ہے کہ دوسرے راستہ سے لوٹیں، یہ ذرا چکر کا ہے، اور مزدلفہ اسی راستہ میں پڑتا ہے، حاجیوں کے قافلے شب 10کے اول حصہ میں یہاں پہنچ جاتے ہیں، اور رات یہاں تسبیح وتہلیل، نماز و استغفار میں گزارتے ہیں۔ مسجد پہاڑی کے اوپر ہے۔ جبل یقف علیہ الامام وانما سمی مشعرا لانہ معلم العبادۃ ووصف بالحرام لحرمتہ (بیضاوی) (آیت) ” عند المشعر “ یعنی اس مسجد کے گردوپیش خصوصیت کے ساتھ، اور یوں تو سارا مزدلفہ (بجزوادی محسر کے) متبرک ومحترم ہے۔ خص اللہ تعالیٰ الذکر عندہ مع انہ مامور بہ فی جمیع المزدلفۃ لانہ کلھا موقف لمزید شرفۃ وفضلہ (روح) (آیت) ” واذکرواللہ “ نے یاد دلا دیا کہ یہ رات رنگ رلیاں منانے کی نہیں، جاہلی قوموں کے میلوں ٹھیلوں کی طرف روشنی وآتشبازی کے لیے نہیں، خواب غفلت میں پڑے رہنے کے لیے نہیں، فخریہ قصیدوں اور شعروشاعری میں صرف کرنے کے لیے نہیں ذکر و عبادت الہی کے لیے ہے۔
738 ۔ (اپنے رسول کے ذریعہ سے اور اپنے اختراعی طریقوں سے بچو) الحادو انکار سے بچ کر دین و مذہب کے دائرہ میں آجانے کے بعد پھر جو خطرہ اہل مذہب کو شیطان کے ہاتھوں سب سے بڑھ کر در پیش رہتا ہے وہ بدعات ومحدثات کا ہے۔ انسان دل سے طرح طرح کے طریقے عبادت وذکر الہی کے ایجاد کرتا رہتا، اور انہیں مذہب میں داخل کرتا رہتا ہے۔ حالانکہ دین صرف وہ ہے جو شارع اللہ ﷺ کی طرف سے پہنچائے، یا اپنے اجتہاد سے بتائے۔ یہاں اگر ایک طرف اس کی تاکید ہے کہ برابر یاد الہی میں لگے رہو، تو دوسری طرف اس کی بھی صراحت کہ اس یاد کے طریقے اپنے ایجاد کردہ ہوں، اللہ اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ ہی کے بتائے ہوئے ہوں، حکم ذکر کی تکرارتاکید کے لیے ہے۔ کر وہ الامر تاکیدا (قرطبی) کرر علی سبیل التوکید والمبالغۃ فی الامربالذکر (بحر) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلا حکم مشعر الحرام میں ذکر کرتے رہنے کے لیے ہو، اور دوسرا حکم اہتمام اخلاص کے لیے ہو۔ قیل الاول امر بالذکر عند المشعر الحرام والثانی امر بالذکر علی حکم الاخلاص (قرطبی)
739 ۔ (عبادت اور ذکر الہی کے صحیح طریقوں سے) ضال۔ ہمیشہ گمراہی کے معنی میں نہیں آتا، ناواقف کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اور ضلال سے مراد احکام الہی سے ناواقفیت ہوسکتی ہے۔ الضلال ضربان ضلال فی العلوم النظریۃ وضلال فی العلوم العملیۃ کمعرفۃ الاحکام الشرعیۃ التیھی العبادات (راغب) اور یہاں یہی مراد ہے۔ والمراد من الضلال الجھل بالایمان ومراسم الطاعات (روح) ان یہاں (آیت) ” ان “۔ ان “ کے معنی میں تحقیق و توثیق کے لیے ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ قد کے مرادف ہے۔ اے وانکم کنتم (روح) ان ھناعند البصربین التی للتوکید المخففۃ من الثقلیۃ (بحر) (آیت) ” من قبلہ “ میں ضمیرھدی کی طرف راجع ہے جو (آیت) ” ھدکم “ سے مفہوم ہوتا ہے۔ والھاء فی قبلہ عائدۃ علی الھدی المفھوم من قولہ (آیت) ” ھدکم (بحر)
Ayah 2:199740 ۔ یعنی عرفات سے۔ قریش کے گڑھے ہوئے عقیدوں میں سے ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ ہمیں حج میں عرفات کی حاضری کی کیا ضرورت ہے۔ وہاں تک سب کے ساتھ جانا ہماری (آیت) ” علو “ شان کے منافی ہے، ہماری لیے مزدلفہ تک جانا کافی ہے۔ کانت قریش ومن دان دینھا یقفون بالمزدلفۃ وکانوا یسمون الحمس وکانت سائر العرب یقفون بعرفات (صحیح بخاری۔ عن عائشہ ؓ) کانت قریش ومن کان علی دینھا وھم الحمس یقفون بالمزدلفۃ یقولون نحن قطین اللہ (ابن جریر۔ عن عائشہ ؓ کانوا یقولون لانخرج من الحرم فکانوا لایشھدون وقف الناس بعرفۃ معھم (ابن جریر) کانوا یقولون نحن قطین اللہ فینبغی لنا نعظم الحرم ولا نعظم شیئا من الحل (قرطبی) آیت انہی کی اصلاح کے لیے ہے۔ (آیت) ” الناس “ سے مراد جنس انسان ہے۔ المراد من الناس الجنس کماھو ظاھر (روح) (آیت) ” ثم “ یہاں تاخر زمانی کے لیے نہیں، فصل کلام کے لیے ہے۔ یعنی ایک بات ختم ہوئی، اب دوسری ہدایت سنو، جیسے اردو میں ایسے موقع پر ” اچھا تو “ یا ” ہاں تو “ کہتے ہیں۔ ثم لیست فی ھذہ الایۃ للترتیب وانھاھی لعطف جملۃ کلامھی ھھنامنقطعۃ (قرطبی) ثم للترتیب فی الذکر لاللترتیب فی الزمان الواقع فیہ الافعال (نہر)
741 ۔ (آیت) ” واستغفروا اللہ “۔ حدیث صحیح میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں جس میں یوم عرفہ سے زیادہ بندے آگ سے آزاد کیے جاتے ہوں۔ حج کا بیان جہاں سے شروع ہوا ہے، دیکھتے آئیے تزکیہ قلب کا قدم قدم پر کس درجہ اہتمام ہے۔ حرم شریف نہیں، حدود حرم بھی ابھی منزلوں فاصلہ پر ہیں کہ ساری عمر کا مالوف ومانوس لباس جسم سے اتر گیا، اور اب نہ سر پر ٹوپی ہے، نہ کسی قسم کی پگڑی صافہ، اور جسم پر نہ شیروانی ہے نہ کوٹ، نہ عبانہ قمیص، شاہ وگدا، رئیس ورعایا، حکام وعوام سب کے سب دو دو چادروں میں ملبوس ! پھر احرام پہنتے ہی جو چیزیں حرام تھیں ان کا ذکر ہی نہیں جو ہمیشہ حلال تھیں، اور فی نفسہ جائز ہیں ایک خاصی طویل مدت کے لیے بالکل ممنوع ! کتنی ہی مرغوبات ومالوفات سے اس درمیان میں دستبرداری کرنی ہوتی ہے۔ یہ سب بھی کافی نہیں، گھڑی گھڑی لبیک کہتے رہو۔ اللہ، کے دربار میں حاضری بولتے رہو، مسلسل ذکر الہی کرتے رہو، اور اب یہ حکم مل رہا ہے کہ خطاؤں کو، گناہوں کو، سیہ کاریوں کو یاد کرکے ان سے معافی چاہتے رہو ! اتنے پاکیزہ، ایسے ستھرے اس قدر اصلاحی اجتماع سے دنیاجہان کے میلوں ٹھیلوں، بت پرستانہ، وہم پرستانہ، ہوس پر ستانہ، میلوں تہواروں کو کوئی بھی مناسبت ہے ؟۔ کوئی نسبت بھی ان آنکھوں سے ہے پیمانہ کو ! کیسا صریح ظلم وہ اہل قلم خود اپنی بصارت وبصیرت پر کرتے ہیں، جو اسلام کو دوسرے ادیان و مذاہب کی سطح پر سمجھے ہوئے ہیں ! (آیت) ” غفور “۔ آیت کے آخر میں یاد دلا دیا کہ تمہارے رب کی صفت غفر بہت بڑی ہے۔ اس سے مغفرت طلب کرکے دیکھوتو۔ طالبین مغفرت کی مغفرت وہ کیوں نہ کرے گا ؟ (آیت) ” رحیم “ اور ساتھ ہی اس کی صفت رحمت بھی تو بےپایاں ہے۔ طالبان مغفرت کے ساتھ وہ رحمت کا معاملہ کیوں نہ کرے گا ؟
Ayah 2:200742 ۔ (اور ابھی منی سے منتشر نہیں ہوئے ہو) عرفات ومزدلفہ سے واپسی کے بعد منی میں قیام تین دن 10 ۔ 1 1 ۔ 12 ۔ کو لازمی ہے، اور بعض ائمہ کے نزدیک 13 ۔ کو بھی۔ اذا کے لفظ سے یہ دھوکانہ ہو کہ یہاں حکم ادائے مناسک کے بعد کے لیے مل رہا ہے۔ (آیت) ” اذا “ ہمیشہ بعد کے لیے نہیں آتا ہے۔ ہمزمانی کے موقع پر بھی قرآن مجید میں آیا ہے۔ مثلا (آیت) ” فاذا قضیتم الصلوۃ فاذکروا اللہ قیما وقعودا “ جس کے معنی ہیں کہ جب تم نماز پڑھتے ہو (نہ یہ کہ جب تم نماز ختم کرچکو) یا (آیت) ” اذا طلقتم النسآء “ جس کے معنی ہیں کہ جب تم طلاق دینے لگو (نہ یہ کہ جب تم طلاق دے چکو) اسی طرح یہاں بھی معنی یہ ہیں کہ جب تم ادائے مناسک کر رہو، (آیت) ” مناسککم۔ مناسک شعائر حج کو کہتے ہیں۔ ھی شعائر الحج (قرطبی) (آیت) ” قضیتم “ قضا کے معنی کسی عبادت کے ادا کرچکنے یا بجالانے کے ہیں۔ قضیتم ھنا بمعنی اذیتم وفرغتم (قرطبی) قضاء المناسک ھو فعلھاعلی تمام (جصاص)
743 قوی عظمت وقومی خود داری ، ، نسلی مفاخرت جس طرح جدید جاہلی تہذیب کا عنصر اعظم ہیں، عرب کے دین جاہلی کے بھی رکن اعظم تھے۔ عرب جب منی میں جمع ہوتے تو ہر ہر قبیلہ اپنے قبائل کی جے پکارتا اور اپنے بزرگوں کے مفاخر ومناقب کے پر زور بیان سے دلوں کو گرماتا۔ کان اہل الجاھلیۃ وجلسون بعد الحج فیذکرون ایام ابآء ھم (ابن عباس) کان القوم فی جاھلیتھم بعد فراغھم من حجھم ومناسکھم یجتمعون فتفاخرون بمآئر اباء ھم (ابن جریر) (آیت) ” کذکرکم ابآء کم “ مسلمانوں کو حکم ملتا ہے کہ یہی جوش و خروش تم اللہ کے ذکر میں دکھاؤ۔ تمہاری نہ کوئی قوم ہے، نہ کوئی نسل، نہ تمہارا کوئی وطن۔ تم ان سب کے بدلے اللہ کی عظمت دلوں میں بٹھاؤ، بساؤ اور اللہ کا نام زبانوں پر لاؤ۔ اویہاں تخییر کے لیے نہیں، بلکہ ترقی کا مفہوم دے رہا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ حق تعالیٰ کے ساتھ ربط وتعلق کم از کم اس درجہ کا تو رکھو جتنا اپنے خاندان اپنے قبیلہ، اپنی قوم کے ساتھ رکھتے ہو، بلکہ بہتر تو یہ ہے کہ اس سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر ہو۔ قیل بمعنی بل (بحر) (آیت) ” اواشدذکرا “۔ مولانائے رومی (رح) نے اسی کو اپنی شاعرانہ وعاشقانہ زبان میں یوں ادا کیا ہے۔
عشق مولی کے کم از لیلی بود گوئے گشتن بہر اواولی بود۔
744 ۔ دنیا میں ایسی بھی قومیں ہیں۔ جو خدا کی قائل ہوتی ہیں، اسے معبود اعظم سمجھتی ہیں، لیکن حشر ونشر جزاوسزا کی قائل نہیں، ایسے لوگوں کی دعائیں، التجائیں، تمنائیں قدرۃ اسی مادی دنیا کی ترقیوں تک محدود رہتی ہیں، مشرکین عرب کے عقیدے بھی اسی قسم کے تھے۔ اور یہ لوگ جب دعا بھی مانگتے تھے، تو تمامتر سامان دنیوی اور دشمن پر فتح و نصرت وغیرہ کی، ابن زید، سدی وغیرہ تابعین سے یہی معنی مروی ہیں۔ المراد المشرکون، قال ابو وائل والسدی وابن زید کانت العرب فی الجاھلیۃ تدعوا فی مصالح الدنیا فقط فکانوا یسالون الابل والغنم والظفر بالعدو ولا یطلبون الاخرۃ (قرطبی) (آیت) ” من یقول “ سے یہ لازم نہیں آتا کہ دعائیں بالکل انہیں الفاظ کے ساتھ کی ہی گئی ہوں۔ ” قول “ کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے۔ تمنا کرنا، زبان حال سے کہنا، دل میں خیال لانا، سب اس میں شامل ہیں۔
745 ۔ وہی آخرت جس کے تسلیم کرنے سے عمر بھر انکار کرتا رہا۔ اذ کانوا لایعرفون ولا یؤمنون بھا (قرطبی)
Ayah 2:201746 یہ اشارہ انسانیت کے پسندیدہ طبقہ یعنی اہل ایمان کی جانب ہے، مومنین کی دعائیں، مناجاتیں، آرزوئیں، دنیا و آخرت دونوں کی فلاح و بہبود کی جامع ہوتی ہیں۔ (آیت) ” حسنۃ “ وہ طاعت ہے جو اللہ کے نزدیک پسندیدہ و بہتر ہے، اور اس کے اندر ہر قسم کی خیر و خوبی آگئی۔ ان حسنۃ نکرۃ فی بیان الدعاء فھو محتمل لک حسنۃ من الحسنات علی البدل (قرطبی) والحسنۃ الکاملۃ فی الدنیا ما یشمل جمیع حسنا تھا (روح) دنیا میں (آیت) ” حسنۃ توفیق خیر ہوئی، اور آخرت میں (آیت) ” حسنۃ “ ثمرۂ خیر۔ والذی علیہ اکثر اھل العلم ان المراد بالحسنتین نعم الدنیا والاخرۃ وھذا ھو الصحیح فان اللفظ یقتضی ھذا کلہ (قرطبی) ایسی جامع وہمہ گیر دعا کی نظیر سے ادیان وملل کے ملل کے صحیفے خالی ہیں۔ رسول مقبول ﷺ خود اس دعا کی کثرت رکھتے تھے، کان اکثر دعوۃ یدعوبھا النبی ﷺ یقول اللھم اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار (بخاری ومسلم عن انس) مال، اولاد، صحت، اطمینان وغیرہ جو چیزیں بھی تحصیل خیر میں معین ہوسکتی ہیں۔ خواہ بظاہر کیسی ہی دنیوی اور مادی ہوں، سب مومن کا مقصود ومطلوب بن سکتی ہیں۔ البتہ خود دنیا ہرگز کسی مومن کا مدعا اور مقصود نہیں بن سکتی۔ آیت کی ترکیب خوب نظر میں رہے۔ (آیت) ” اتنا “ کا مفعول صرف (آیت) ” حسنۃ “ ہے۔ یعنی جس چیز کی طلب و تمنا کی جا رہی ہے وہ (آیت) ” حسنۃ “ یا بہتری ہے، (آیت) ” فی الدنیا “ اور فی الاخرۃ “ صرف ظرف یا محل ہیں۔ ترکیب میں یہ مفعول یا معنی کے لحاظ سے مقصود کسی طرح بھی نہیں ہوسکتے۔ مراد محض یہ ہے کہ ہمیں تو آپ کے دربار سے صرف بھلائی یا بہتری درکار ہے، دنای میں ہو تو بھی اور آخرت میں ہو تو بھی، مزید تفسیر یہ کہ دنیا میں ہمیں اعمال خیر عنایت ہوں، اور آخرت میں ثمرات خیر، بعض نادان اور سطحی دماغ والے اہل قلم نے آیت سے یہ عجیب و غریب نتیجہ نکالا ہے کہ آخرت کی طرح دنیا بھی مومن کا مقصود بن سکتی ہے، بلکہ قرآن خود طلب دنیا کی تعلیم وترغیب دیتا ہے ! تعالیٰ اللہ علوا کبیر ا۔
مغالطہ کی قلعی اوپر کھولی جاچکی ہے۔ مادہ پرست قوموں کی دنیا طلبی اور دنیا پسندی سے مرعوب ہو کر خود مسلمانوں کو طلب دنیا کی تعلیم دینا بلکہ اسے قرآنی تعلیم قرار دینا خدمت اسلام کی عجیب و غریب صورت ہے !
Ayah 2:202747 (دونوں جہانوں میں۔ اور جو گمراہ قوموں کی طرح بےبہرہ نہ رہیں گے)
748 (اور یوم حساب خود ہر لمحہ قریب آتا جارہا ہے، بس اس سے غفلت ہرگز مقتضائے عقل و دانش نہیں مماکسبوا میں من سبیبہ ہے۔ اے من اجل ما کسبوا (بحر) من اجلہ (بیضاوی) (آیت) ” سریع الحساب “۔ اس جیسے قدرت کاملہ کے مالک کو حساب کرتے یا بندوں کو ان کے اعمال کی جزا دیتے دیر ہی کیا لگ سکتی ہے۔ اے سریع المجازاۃ للعباد باعمالھم (قرطبی) جاہلی قوموں نے اس وصف خاص میں بھی اپنے دیوی دیوتاؤں کے باب میں بڑی ٹھوکریں کھائیں ہیں۔
Ayah 2:203749 ۔ یعنی ایام تشریق میں، زمانہ قیام منی میں۔ منی مکہ معظمہ سے شمال ومغرب میں 4 میل کے فاصلہ پر ہے۔ پہلے کبھی محض میدان تھا۔ اب بہت سی پختہ اور عالی شان عمارتیں بن گئی ہیں۔ سال بھر تو خالی پڑی رہتی ہیں۔ موسم حج میں خوب آباد ہوجاتی ہیں۔ صاحب حیثیت حاجی انہیں بڑے بڑے کر ایوں پر لے لیتے ہیں، بعض سرکاری عمارتیں ہیں۔ بازار بھی اس زمانہ میں یہ اں بہت بڑا اور بہت پررونق لگتا ہے۔ دنیا جہان کی چیزیں بکنے آجاتی ہیں۔ تشریق کے معنی قربانی سکھانے کے ہیں۔ ایام تشریق 10 ۔ 1 1 ۔ 12 ذی الحجہ ہیں۔ حاجیوں کے قافلے عرفات ومزدلفہ سے واپسی میں آکر صبح یہاں پہنچ جاتے ہیں، اور 12 کی شام تک تو بہرحال یہاں قیام رہتا ہے، حج کے سلسلہ میں متعدددواجبات، سنن ومستحبات یہیں انجام پاتے ہیں۔ مثلا قربانی کرنا، سر کے بال اتروانا، شیطانوں کو کنکریاں مارنا، جامہ احرام اتارنا (آیت) ” واذکرواللہ “ ادھر حج کا بیان آیا، ادھر ذکر الہی کی تاکید پھر شروع ہوگئی، تکبیر کی کثرت قیام زمانہ منی کا ایک خاص جزو ہے۔ (آیت) ” ایاما معدودت “ اس پر صحابہ وتابعین سب کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد زمانہ تشریق ہے۔ لاخلاف بین اھل العلم ان المعدودات ایام التشریق وقدروی ذلک عن علی وعمرو ابن عباس وابن عمر وغیرھم (جصاص)
750 ۔ یعنی منی سے مکہ معظمہ کی طرف روانگی کے لیے دونوں صورتیں بالکل جائز ہیں، اب اگر کوئی شخص 10 ۔ کے بعد صرف دو دن قیام کرکے 12 ۔ کی شام کو آئے تو بھی درست ہے اور جس کا جی چاہیے 12 ۔ تک وہیں ٹھیرا رہے، جب بھی درست ہے، امام شافعی (رح) کے ہاں اگر 12 ۔ کو واپس ہوتا ہے تو قبل غروب رمی جمرات (کنکریاں پھینکنے) سے فراغت کرلے، اور امام ابوحنیفہ (رح) کے ہاں اگر 13 تک ٹھیرنا ہے، تو قبل طلوع آفتاب ہی رمی جمرات کر ڈالے۔ (آیت) ” فلااثم علیہ۔ نفی صورتوں سے گناہ کی کی گئی ہے۔ گویا بلحاظ جواز دونوں شقیں یکساں ہیں، یہ مراد نہیں کہ دونوں میں کوئی افضل ومفضول نہیں، اور بلحاظ درجہ بھی دونوں مساوی ہیں۔ فقہاء حنیفہ کے ہاں 13 ۔ کا قیام افضل ہے،
751 ۔ یعنی یہ سب احکام نافع اسی کے حق میں ہوسکتے ہیں جو دل میں خوف خدا و خشیت الہی رکھتا ہو، تقوی الہی کی اس شدومد سے تاکید یوں ہی اور بےکار نہیں، مومن کے دل پر تقوی کی اہمیت نقش کرنے کے لیے ہے، وہ مومن ہی کیا جو متقی نہ ہو ،
752 ۔ (اور اسی کے سامنے سارے اعمال کا جواب دہ ہونا ہوگا) یہ یاد دہانی حفظ اعمال میں کس درجہ مؤثر ہے ! سارا کھیل اسی استحضار ہی کا تو ہے۔
Ayah 2:204753 ۔ (اس کی چرب زبانی کی بنا پر، اس کے دعوی اسلام وحب اسلام کے باعث) اوپر دو قسم کے انسانوں کا ذکر تھا۔ آخرت کے قائلین ومعتقدین کا اور آخرت کے منکرین کا۔ اب ذکر منکرین اور منافقین کا ہوتا ہے۔ اور ابتداء منافقین کے بیان سے ہوتی ہے۔ (آیت) ” ومن الناس “ لازمی نہیں کہ ایک ہی شخص مراد ہو، ایک بھی ہوسکتا ہے، بہت سے بھی ہوسکتے ہیں۔ اشارۃ الی بعضھم فیحتمل الواحد ویحتمل الجمع (کبیر) (آیت) ” فی الحیوۃ الدنیا “ فی اظہار یطلب بہ حظا من حظوظ الدنیا (کشاف) لطلب مصالح الدنیا (کبیر) فی ” باب میں “ یا ” دوبارہ “ کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں معنی ہوں گے کہ ” دنیوی امور سے متعلق “۔ اے ما یقولہ فی امور الدنیا واسباب المعاش “ (بیضاوی) درباب زندگانی دنیا (شاہ ولی اللہ دہلوی) شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ قبیلہ ثقیف کا ایک شخص خوش منظر وخوش تقریر اخنس بن شریق نامی تھا۔ مجلس رسول اللہ ﷺ میں جب آتا تو خوب لمبے چوڑے دعوے اپنے ایمان واسلام کے کرتا، بات بات پر خدا کو گواہ ٹھہراتا۔ لیکن جب مجلس سے اٹھ کرچلا جاتا تو طرح طرح کی عملی شرارتوں میں لگ جاتا۔ نزلت فی اخنس بن شریق الثقفی (ابن جریر) کان رجلا حلوالکلام، حلوالمنظر (معالم) کان منافقا حسن العلانیۃ خبیث الباطن (کبیر) مگر شان نزول کی روایتوں سے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آیت کا انطباق صرف اسی خاص شخص تک محدود ہے، بلکہ جہاں کہیں بھی وہ صفات پائے جائیں گے، وہاں وہ آیت بھی چسپاں ہوگی۔ القول الثانی فی الایۃ وھو اختیار اکثر المخققین من المفسرین ان ھذا الایۃ عامۃ فی حق کل من کان موصوفا بھذہ الصفات المذکورۃ (کبیر)
754 ۔ (اللہ کے دین کا، اللہ کے رسول کا) (آیت) ” یشھد اللہ “ یعنی آپ کو اللہ کی قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتا ہے۔ قسم کا مفہوم بھی شہادت میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ یقول انی لاحبک ویحلف باللہ علی ذلک (معالم) رسول سے علم غیب کی نفی پر دلائل بہت سے قائم ہیں۔ ایک مزید دلیل اس آیت سے نکلتی ہے۔ منافق کے نفاق کا علم آیت کے ذریعہ سے حق تعالیٰ آپ ﷺ کو کر ارہا ہے۔ ورنہ آپ ﷺ تو اس کی باتوں سے خوش ہو رہے تھے۔ اگر آپ ﷺ اسے منافق پہچان گئے ہوتے، تو ظاہر ہے کہ اس سے گفتگو میں لطف ہی کیوں لیتے۔
Ayah 2:205755 ۔ (جیسا کہ اخنس نے کیا بھی، کہ قبیلہ ثقیف کے کھیت جلوادیئے اور ان کے مویشیوں کو ہلاک کرڈالا) کما فعلہ الاخنس بثقیف اذبیتھم واحرق زروعھم واھلک مواشیھم (بیضاوی) (آیت) ” واذا تولی “ یعنی جب مجلس رسول اللہ ﷺ سے اٹھ کر چلا گیا۔ اے اذا خرج من عندک (ابن عباس ؓ اے ادبروا عرض (روح عن الحسن) (آیت) ” تولی “ کے دوسرے معنی ” حاکم بن گیا “ ”’ حکومت پا گیا “ کے بھی ہوسکتے ہیں، اور کیے گئے ہیں۔ یعنی جب وہ ملک میں حاکم ومسلط ہوجاتا ہے۔ قال مجاہد من الولایۃ اے صار والیا (بحر) اے ملک الامر وصار والیا (معالم۔ عن الضحاک) چوں ریاست پیدا کند (شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) اور جب حاکم ہوتا ہے (شاہ رفیع الدین دہلوی (رح) لیکن نظم کلام وسیاق عبارت کے لحاظ سے ترجیح معنی اول کو ہے، کہ نفاق پر روشنی یہی معنی لے کر پڑتی ہے۔ القول الاول اقرب الی نظم الایۃ لان المقصود بیان نفاقہ (کبیر) (آیت) ” سعی “ کے معنی ہیں سرگرم عمل ہونا، دوڑ دھوپ کرنا، السعی فی کلام العرب العمل (ابن جریر) (آیت) ” فی الارض “۔ عام طور پر اس سے مراد منافقین کی کثرت سعی اور وسعت عمل تخریب لی گئی ہے۔ یدل علی کثرۃ سعیہ ونقلتہ فی نواحی الارض (بحر) لیکن الارض کے ال سے مراد کوئی زمین معہود یعنی شہر مدینہ بھی ہوسکتا ہے۔ واذا کان المراد الاخنس فالارض ارض المدینۃ فالالف واللام للعھد (بحر) (آیت) ” الحرث والنسل “ کھیتوں میں اس نے آگ لگا دی، اور مویشیوں کو ہلاک کردیا۔ (آیت) ” النسل “ سے ہر قسم کے جانور مراد لیے گئے ہیں۔ (آیت) ” النسل “ نسل کل کا بۃ (ابن عباس ؓ النسل من کل شئی من الحیوان (ابن جریر۔ عن مجاہد) ازہری لغوی کا قول نقل ہوا ہے کہ حرث سے یہاں عورتیں مراد ہیں اور نسل سے اولاد انسانی ذکر الازھری ان الحرث ھنا النساء والنسل الاولاد (روح) اور جعفر صادق ؓ سے منقول ہے کہ حرث سے مراد دین ہے اور نسل سے انسان، عن الصادق ان الحرث فی ھذا الموضع الدین والنسل الناس (روح) ۔
756 ۔ شریعت اسلام کا تو عین مشن یہ ہے کہ دنیا کو عدل وامن سے بھر دے۔ بدامنی و فساد عین غضب الہی کی چیزیں ہیں، اور ہدایات اسلامی کے برعکس عمل کرنے ہی سے پھیلتی ہیں۔
Ayah 2:206757 یعنی جب اسے اس کا کوئی مخلص ہوا خوا سمجھاتا ہے، اور اسے تقوی اختیار کرنے کا مشورہ دیتا ہے تو بجائے سنبھلنے کے وہ اور بگڑ جاتا ہے، اور اپنی کج میں اور زیادہ دلیر ہوجاتا ہے۔ یہ بیان ہورہا ہے اس کا کہ ایسے کافر معاند میں مخالفت حق اور ایذاء مخلوق کے ساتھ ساتھ کبر وپندار بھی کس درجہ کا ہوتا ہے۔
Ayah 2:207758 ۔ اب بیان پھر مومنین کاملین کا ہو رہا ہے۔
759 ۔ عباد کا لفظ ہے عام۔ لیکن سیاق چاہتا ہے کہ یہاں مراد بندگان مقبولین ہوں، حیث ارشدھم الی مثل ھذا الشراء (بیضاوی) لفظ العبادلہ فی القران تشریف واختصاص (بحر)
Ayah 2:208760 ۔ حکم خاص طور پر قابل غور ہے۔ اسلام صرف چند عقائد یا صرف چند عبادات یا صرف چند قوانین کا نام نہیں۔ وہ تو ایک جامع ومانع نظام حیات ہے، ایک مکمل ومنظم دستور زندگی ہے۔ انسانیت کے ایک ایک شعبہ ہر ہر گوشہ پر حاوی۔ اور اس کا ہر جزو، اس کے کل سے، اس کے دوسرے اجزاء سے نہایت درجہ ملحق ومرتبط، یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی شخص توحید تو اسلام سے لے لے، لیکن عبادات کے لیے مسجد، مندر، کلیسا سب کو یکساں سمجھے یا رسالت پر تو ایمان لے آئے، لیکن معاشیات کے قاعدے کارل مارکس سے اور اخلاق کے ضابطے گوتم بدھ سے لینے جائے، معادیات، معاشیات، اخلاقیات اجتماعیات، اسلام کے سب اپنے ہیں، کسی اور فلسفہ کسی اور دین کسی اور نظریہ کی پیوندکاری اس کے ساتھ نبھ ہی نہیں سکتی۔ آیت کا حکم عام ہے، لیکن شان نزول کی روایتوں سے پایا جاتا ہے کہ خطاب خاص نو مسلم یہود کی طرف تھا، یہ اسلام لانے کے بعد بھی چاہتے ہیں، کہ کچھ نہ کچھ رعایت اپنے عقائد قدیم کی کیے جائیں، اور اسلام کی ایک مستقل شاخ یہود یا نہ اسلام قائم کرلیں۔ جس طرح بعد کو گمراہ فرقوں کے اثر سے معتزلی اسلام، شیعی اسلام، نیچری اسلام وغیرہ بہت سے ” اسلام “ قائم ہو کر رہے ! (آیت) ” اخلوا “ خود ہی صیغہ امر وجوب کے معنی دے رہا ہے۔ پھر اس کے حال (آیت) ” کافۃ “ نے اسے کس درجہ مؤکد کردیا۔ اور یہ قاعدہ اشارۃ النص واجب ہوگیا کہ ظاہری، باطنی، انفرادی، اجتماعی، اعتقادی، عبادتی سارے اعمال و امور میں اسلام ہی کا رنگ چڑھا رہے۔ (آیت) ” السلم “۔ سلم کے لفظی معنی صلح وامن کے ہیں اور یہ لفظ حرب کے مقابل آتا ہے۔ السلم والسلم الصلح وقیل السلم اسم بازاء الحرب (راغب) لیکن السلم سے مراد دین اسلام لی گئی ہے اہل لغت نے بھی اسے قبول کیا ہے اور صحابیوں اور تابعین سے بھی مروی ہے۔ اے فی الاسلام (تاج) اے ادخلوا فی الاسلام (ابن جریر، عن ابن عباسؓ ومجاہد وقتادۃ) وفسر السلم بالاسلام (نہر)
761 ۔ یہ اس طرح مثلا کہ اپنے کو کہلاتے تو رہو مسلمان، لیکن رسمیں اختیار کرلو مجوس عجم کی، معاشرت لے لو مشرکین ہند کی، قانون فوجداری اختیار کرلو ملحدین فرنگ کا، معاملات کرنے لگو دستور یہود کے مطابق، شیطان کے نقش قدم پر چلنا یہی ہے کہ اسلام میں غیر اسلام کی آمیزش کی جانے لگے، اور اسے کوئی اصلاحی یا تجدیدی کا رنامہ سمجھا جانے لگے۔ اسلام کا مل فرض ہے اور اس کا کامل ہونا جب ہے کہ جو امر اسلام میں قابل رعایت نہ وہ اس کی رعایت دین ہونے کی حیثیت سے نہ کی جائے اور ایسے امر کو دین سمجھنا یہ ایک شیطانی لغزش ہے۔ اور بہ نسبت ظاہری معاصی کے اس کے اشد ہونے کے سبب یہ عذاب کا زیادہ مظنہ ہے (تھانوی (رح )
762 ۔ (وہ تو تمہیں طرح طرح کی آمیزشوں اور جدتوں کا مشورہ دیتا ہی رہے گا، خوشنما عنوانات کے ساتھ) آیت میں وعید ونتبیہ شدید ہے۔ ایک طرف جاہل ومبتدع اہل تصوف وطریقت کے لیے اور دوسری طرف ” روشن خیال “ اہل تجدد کے لیے۔
Ayah 2:209763 (ہر سزا پر قادر، اور سزا کو وقت مناسب ہی پر دینے والا) (آیت) ” البینت “ مراد اس سے کھلے ہوئے احکام بھی ہوسکتے ہیں جن میں کسی قسم کا خفایا ابہام نہیں، مثلا عقیدۂ توحید، عقیدۂ رسالت، حکم نماز، حکم جہاد اور ہر وہ چیز بھی اس میں داخل ہے جو دین اسلام کی حقانیت یا قانون اسلام کی صداقت پر روشن دلیل کا کام دے سکے۔ یہ بینات خواہ جس معنی میں بھی لیے جائیں، بہرحال ان نومسلم یہود کے پاس پہنچ چکے تھے۔ اور انہیں کوئی وجہ اب قدم پیچھے ہٹانے یا لڑکھڑانے کی نہیں رہی تھی۔ ” زللتم “ زلت کے لفظی معنی پھسل جانے کے ہیں، جو بےاختیاری میں بھی ہوتا ہے۔ یہ لفظ لاکر ڈرادیا ہے کہ قصدا وادانستہ مخالفت تو پھر بڑی چیز ہے غلطی یا بےغلطی یا بےخیالی سے بہک جانے میں بھی گرفت کا احتمال ہے (آیت) ” عزیز “۔ سیاق آیت میں وہ ہے جو جب اور جو کچھ چاہے سزا دے سکتا ہے۔ (آیت) ” حکیم “ وہ ہے جو ہمیشہ وقت مناسب ہی پر سزا دیتا ہے۔
Ayah 2:210764 (جن کا کام ہی تعمیل ارشاد کرنا ہوتا ہے) اب پھر اشارہ انہی نو مسلم یہود کی طرف ہے، جن کا ذکر دو آیت قبل آچکا ہے۔ یہ اسلام میں ابھی داخل ہوئے ہیں، لیکن کفر ویہودیت سے پوری طرح نہیں نکل پائے ہیں۔ (آیت) ” یاتیھم اللہ والملئکۃ “ عقائد کا یہ اصولی اور مسلم مسئلہ ہے کہ ذات باری کے لیے نہ محل ہے نہ ظرف۔ اس لیے اسلامی عقیدہ کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے ” آنے “ یا ” جانے “ کے کوئی معنی ہی نہیں۔ امام رازی (رح) کہتے ہیں، اجمع المعتبرون من العقلاء علی انہ سبحانہ وتعالیٰ منزۃ عن المجیء او الذھاب (کبیر) اور آگے اس پر متعدد دلائل قائم کرنے کے بعد پھر لکھتے ہیں : ثبت انہ تعالیٰ لیس بجسم ولا بمتحیزوانہ لایصح المجیء اوالذھاب علیہ (کبیر) اس لیے اکثر مفسرین نے آیت کو متشابہات میں سے مانا ہے اور صاف لکھ دیا ہے کہ اس پر اجمالی ایمان کافی ہے، تفصیل عقل بشری سے مارواء ہے۔ چناچہ مفسر تھانوی (رح) کا ارشاد ہے ” اللہ تعالیٰ کے لیے آنا وغیرہ جہاں مذکور ہے اس کی حقیقت کے درپے ہونا جائز نہیں۔ کیونکہ جس طرح اس کی ذات کی حقیقت کسی کو مدرک نہیں ہوئی ہے، اسی طرح اس کی صفات وافعال کی کنہ معلوم نہیں ہوسکی۔ البتہ وجود اور وقوع پر اجمالا بلا تعیین کیفیت ایمان لے آنا چاہیے کہ اس سے زیادہ فکر میں پڑنا مالا یطاق کا قصد کرنا ہے۔ “ اور صاحب روح المعانی نے یہ لکھ کر چھوڑ دیا ہے کہ یاتیھم اللہ بالمعنی الائق بہ جل شانہ منزھا عن مشابھۃ المخدثات والتقید بصفات الممکنات اور ” مذہب السلف الصالح “ یہ نقل ہوتا چلا آرہا ہے کہ فالاولی السکوت عن التاویل وتفویض معنی الایۃ علی سبیل التفصیل الی اللہ تعالیٰ (کبیر) اور مفسر ومحدث بغوی کو یہ لکھنا پڑا۔ الاولی فی ھذہ الایۃ وفی ماشاکلھا ان یومن الانسان بظاھرھا ویکل علمھا الی اللہ تعالیٰ ویعتقد ان اللہ عزاسمہ منزہ عن سمات الحدث علی ذلک مضت ائمۃ السلف وعلماء السنۃ (معالم) اور بہتوں نے آیت میں (آیت) ” یاتیھم اللہ “ کے درمیان کوئی اور لفظ مثلا امر یا باس یا ایات وغیرہ محذوف مان کر معنی یہ کیے ہیں کہ اللہ کا حکم آپہنچے یا عذاب آجائے۔ اے ایات اللہ (کبیر) اے امر اللہ (کبیر) یاتیھم اللہ مما وعدھم من الثواب والعقاب قالہ الزجاج (بحر) یعنی بیاید عذاب او (شاہ ولی اللہ) اور ایک جماعت نے ملائکہ کی آمد اور قضی الامر کے پہلو کو مد نظر رکھ کر ان واقعات کو روز قیامت سے متعلق کیا ہے، کہ یہ منکرین ومعاندین قبول حق کے لیے اب شاید آمد قیامت ہی کے منتظر ہیں۔ قولہ یاتیھم اللہ اخبارعن حال القیامۃ (کبیر) یہ سب مذہب اپنی اپنی جگہ صحیح اور حق ہیں، لیکن ان سب میں بناء مشترک یہ ہے کہ آیت کا روئے سخن عام منکرین یا منافقین واہل کتاب کی جانب سمجھا گیا ہے۔ اے یکذبون بمحمد ﷺ (ابن جریر) ارید بہ المنافقون اواھل الکتب (روح) لیکن سیاق کلام پر نظر کر کے اگر روئے سخن صرف یہود تک محدود کردیا جائے تو بات بالکل صاف ہوئی جاتی ہے، اور بجائے اوپر کی تفسیرات کے صرف اتنا بڑھا دینا ہوگا “ حسب اعتقاد یہود “۔ اس لیے کہ یہود کا مذہب تشبیہ وتجسیم کا تھا۔ یہ لوگ خدا کی جسمانیت کے پوری طرح قائل تھے، اور جلوۂ حق کو بادلوں سے خاص طور پر متعلق سمجھتے تھے، بلکہ بادلوں کو گویا حق تعالیٰ کی سواری سمجھے ہوئے تھے ان کے مقدس صحیفوں اور نوشتوں میں اب تک اس قسم کی تعلیمات محفوظ چلی آتی ہیں ” وہ نور کو پوشار کی مانند پہنتا ہے، اور آسمانوں کو پردہ کے مانند پھیلاتا ہے، وہ اپنے بالا خانوں کو پانیوں میں بناتا ہے۔ اور بدلیوں کو اپنی رتھ ٹھہراتا ہے۔ اور ہوا کے بازوؤں پر وہ سیر کرتا ہے “۔ (زبور۔ 104 ۔ 3) خداوند ایک تندروابر پر سوار ہو کر مصر آوے گا۔ اور مصر کے بت اس کے حضور میں لرزاں ہوں گے “۔ (یسعیاہ۔ 19 ۔ 1) ” کروبی گھر کے داہنی طرف کھڑے ہوئے، اور اندرونی صحن بادل سے بھر گیا، تب خداوند کا جلال گروہ سے اٹھ گیا، اور گھر کے آستانہ پر آیا، اور گھر بادل سے بھر گیا، اور صحن خداوند کے جلا کی چمک سے معمور ہوا “۔ (حزقی ایل۔ 10:4) غرض خدائے تعالیٰ کا بادلوں سے بادلوں سے بطور مرکب یا سواری کے قریب ترین تعلق یہود کے تخیل میں رچ گیا تھا۔ یہاں تک کہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے جدید ترین ایڈیشن (طبع چہاردہم) میں حق تعالیٰ کی جو تصویر نیم یہودی نیم مسیحی تخیل کے مطابق دی ہے (جلد 2 صفحہ 102) اس میں (معاذ اللہ) حق تعالیٰ کو صاف صاف بدلیوں پر سوار دکھایا ہے ! تو قرآن مجید نے آیت میں اپنی سے کوئی بات نہیں کہی ہے، صرف یہود کے خیال کی ترجمانی، اس کی صحت وغلطی سے بحث کیے بغیر، کردی ہے کہ یہ بنی اسرائیل اسی خیال میں پڑے ہوئے ہیں کہ خدا مع فرشتوں کے بدلیوں پر سوار ہو کر ان کے سامنے آجائے گا، اور ہر امر قطعی کا فیصلہ کرکے رکھ دے گا ؟ اللہ بڑے اونچے مرتبے کرے امام المفسرین امام رازی (رح) کے، ان کی نظر سے یہ نکتہ بھی نہ بچا، صاف اپنی تفسیر میں لکھ گئے ہیں، اور صرف لکھ ہی نہیں گئے، اسی کو پہلے وھو اوضح عندی من کل ما سلف، اور پھر ھذا الوجہ اظہر من عندی من کل ماسبق کہہ کر بہترین توجیہ بھی قرار دے گئے ہیں کہ یہود حق تعالیٰ کی تشبیہ اور تجسیم کے قائل تھے اور قرآن نے یہاں بجنسہ ان کے اعتقاد کو اس پر تنقید کیے بغیر دہرادیا ہے، اس لیے اس کے بعد نہ مجاز وغیرہ کسی تاویل کی حاجت رہتی ہے اور نہ کوئی اشکال ہی رہ جاتا ہے۔
اذا کان ھذا حکایۃ عن حال الیھود لم یمنع اجراء الایۃ علی ظاہرھا وذلک لان الیھود کانوا علی مذھب التشبیہ وکانوا یجوزون علی اللہ المجیء والذھاب وعلی ھذا التقدیر یکون ھذا الکلام حکایۃ عن معتقد الیھود القائلین بالتشبیہ فلایحتاج حینئذ الی التاویل ولا الی حمل اللفظ علی المجاز۔۔۔ ولیس فی الایۃ دلالۃ علی انھم محقون فی ذلک الانتظار اومبطلون وعلی ھذا التقدیر یسقط الاشکال (کبیر) ھل۔۔۔ الا ھل یہاں استفہامیہ نہیں، بلکہ جب الا کے ساتھ تو نفی کے معنی دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اس کے اس استعمال کی اور بھی مثالیں ہیں، مثلا ھل جزاء الاحسان الاالاحسان۔ کونھا بمعنی النفی ھو جاء بعدھا الاکثیر الاستعمال فی القران وفی کلام العرب (بحر) معناہ النفی الھذا جاء بعدہ الا (عکبری)
765 (آخری فیصلہ اور تصفیہ کے لیے) کلام بطور تہدید کے ہے۔
Ayah 2:211766 (اور پھر وہ ہر آیت کا انکار وکفران بھی کس شدومد سے کرتے رہے) (آیت) ” ایۃ بینۃ۔ یہ کھلی ہوئی نشانیاں کس چیز کی تھیں ؟ خدائے تعالیٰ کے مخصوص فضل وکرم کی، اور بنی اسرائیل کی مخصوص سرافرازیوں کی مثلا کتاب توریت اور دوسرے آسمانی صحیفوں کا نزول یا اس نسل میں انبیائے کرام کا مسلسل ظہور، وقس علی ھذا۔ سل لفظ سل سے مستنبط ہوتا ہے کہ یہ وہ تاریخی حقائق ہیں کہ اسرایلی ان سے انکار کر ہی نہیں سکتے۔
767 (عام اس سے کہ اس سزا کا ظہور فوری اور اسی دنیا میں ہو، یا بہ تاخیر عالم آخرت میں) (آیت) ” نعمۃ اللہ “۔ نعمت ادنی بھی ہو، جب بھی نعمت ہی ہے۔ اور بہر صورت قابل قدر، چہ جائیکہ ایسی اعلی نعمتیں جن سے بنی اسرائیل کی مدتوں سرفرازی رہی۔ (آیت) ” یبدل “۔ تبدیل کے معنی ہیں کسی شے کی اصل حقیقت کو کچھ کا کچھ دینا، اس شے کے اندر تحریف کردینا، اسے مسخ کردینا، اور اللہ کی نعمتوں کے اندرتبدیلی ایک تو یہ ہوئی کہ جو چیزیں ہدایت و استفادہ کے لیے تھیں، الٹا انہی کو فسق وکفر کے کاروبار میں لگا دیا جائے، اور یا پھر یہ کہ جو کلام باعث ہدایت ہوتا تھا، اسی میں میں تصحیف وتحریف کا عمل شروع کردیا جائے، اہل تفسیر نے دونوں شقیں اختیار کی ہیں۔ وتبدیلھم ایاھا ان اللہ اظھرھا لتکون اسباب ھداھم فجعلھا اسباب ضلالتھم اوحرفوا ایات الکتاب الدالۃ علی دین محمد ﷺ (کشاف۔ مدارک) یجعلھا سبب الضللۃ وازدیاد الرجس اوبالتحریف والتاویل الزائغ (بیضاوی) (آیت) ” شدید العقاب۔ نعمۃ اللہ “ کی وسعت اطلا، دینی ودنیوی ہر قسم کی نعمتوں کو شامل ہے اور یہاں ہر نعمت کے مسخ کر ڈالنے پر عذاب شدید کی وعید ہے۔ اب نعمت اگر دینی ہے، مثلا کتاب الہی یا ظہور انبیاء تو اس میں تحریف یا انکار پر عذاب اخروی کا وقوع ظاہر ہی ہے، لیکن نعمت اگر محض دنیوی ہے، مثلا دولت، صحت، سلطنت، تو اس کے سوء استعمال کا خمیازہ بیماری، ناکامی، افلاس، ذلت وغیرہ کی شکل میں اٹھانا بھی مشاہدہ کی چیزیں ہیں (آیت) ” من بعد ما جآء تہ “ کا فقرہ زور دینے اور تاکید کے لیے ہے۔ یعنی بعد اس کے کہ اس نعمت کا پوری طرح تحقق ہو سکے۔ اس کے پوری طرح فہم ومعرفت میں آجانے کے بعد پھر جو کوئی اس کے ساتھ کفران کرے، آیت آج امت کے کس قدر حسب حال اور کس درجہ قابل غور ہے۔ اللہ کی عطا کی ہوئی ہر دینی ودنیوی نعمت کے ساتھ آج ہمارا کیا معاملہ ہے ؟ کس نعمت کا حق ہم ادا کررہے ہیں، کونسی نعمت ایسی ہے جس کی روح ہم نے نہیں بدل ڈالی ؟ ہماری نمازیں، ہمارے روزے، ہمارے حج، ہماری ساری عبادتیں مغزوروح سے خالی، ان عبادتوں کے خالی ڈھانچے رہ گئے ہیں، اخلاق و اتحاد کی دولت ہم نے الگ برباد کرڈالی۔ نتیجہ جو نکلا، سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ ہاں ایک بات اور مسیحیوں کے ہاں ایک عربی داں انگریز پادری ڈاکٹر وہیری wherry ابھی حال میں گزرے ہیں۔ مسلمانوں سے مناظرہ کیا کرتے تھے، انگریزی میں مختصر سی تفسیر بھی لکھی ہے۔ اس آیت کے حاشیہ پر لکھتے ہیں :۔ ” مسلمانوں نے متن قرآن کی جو اتنی سخت حفاظت رکھی ہے، اس کا ایک سبب اسی قسم کی تہدیدی آیتیں ہیں۔ “ خیر، اس سے کم از کم محفوظیت قرآن پر شہادت تو ایک دشمن اسلام کی زبان سے ہاتھ آگئی۔
Ayah 2:212768 ۔ (اور اس کا ساز و سامان، جاہ وحشم، باغ ومکان، موٹر اور ریڈیو، کوٹھی اور فرنیچر، سب باوجود فانی وبے حقیقت ہونے کے انہیں نہایت اہم وقابل وقت نظر آتا ہے، اور ان کے دلوں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے) جو کافر ہے وہ اسی دنیوی زندگی کی مادی لذت و دولت، عیش و عشرت پر مٹارہتا ہے۔ اسی کو مہتم بالشان سمجھے ہوئے، اسی پیمانہ سے سب کو ناپتا رہتا ہے۔ وہ بےحد تنگ نظر ہوتا ہے۔ وہ اس برائے نام عیش پر عیش سرمدی و عشرت لازوال کو قربان کیے رہتا ہے۔ آیت کا یہ مطلب نہیں کہ کافر اس باب میں معذور ہے۔ حب دنیا طبعا اس پر اتنی غالب کردی گئی ہے کہ وہ اس کے ترک ہی پر قادر نہیں، ایسا ہرگز نہیں، کافر تو کہتے ہی اس کو ہیں، جو بلاکسی معذوری کے، اپنے قصد واختیار سے حق کے بجائے باطل کی راہ اختیار کرے اور دنیا کی خوشنمائی کا آنکھوں میں بس جانا، یہ تو کفر کا نتیجہ اور معلول ہے، نہ کہ اس کا باعث وسبب، اپنے ارادہ کا سوء استعمال تو وہ پہلے ہی کرچکا، محض نتیجہ کے طور پر مشیت تکوینی نے اس کی کوشش کو کامیاب کردیا۔
769 ۔ (اور سامان دینوی سے محروم ہیں) کافر اسی غلط معیار کی بنا پر، اسی کج نگاہی سے کام لے کر اپنے کو بڑا سمجھتا، اور ایمان وطاعت کی بےوقعتی اور تحقیر کرتا رہتا ہے۔ نگاہ کی یہ کجی، یہ غلط بینی ہی دنیا کا شدید ترین ابتلا ہے، حدیث نبوی کی یہ دعا اسی فتنہ سے بچنے کے لیے ہے ” اللہم ارنا الحق حقا وارنا الباطل باطلا اور عارف رومی کی یہ مناجات بھی اسی موقع کے لیے ہے۔
ع : انچہ درکون ست اشیاہر چہ ہست وانما جان رابہر صورت کہ ہست۔
آب خوش را صورت آتش مدہ اندر آتش صورت آبے منہ۔
770 ۔ (کہ وہ دن وہ کشف حقائق کا) (آیت) ” الذین اتقوا “ یعنی اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ یا کفر وشرک سے بچتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” فوقھم “۔ یعنی درجہ و مرتبہ میں ان سے ہزار چند بڑھے ہوئے ہوں گے۔ لانھم فی علیین وھم فی اسفل السافلین (بیضاوی)
771 ۔ مطلب یہ ہوا کہ دنیوی مال و دولت کا تعلق مصالح تکوینی سے ہے۔ سو یہ مال و دولت کی افراط، یہ روپیہ کی ریل پیل، یہ بڑی بڑی تجارتی کوٹھیاں اور بڑے بڑے ساہوکارے، ہرگز کوئی معیار مقبولیت یا حق وصداقت کا نہیں۔ چاہیے وہ جاہ وتمول ذاتی وشخصی ہو، یا قومی واجتماعی۔ کوئی اس میں بھول نہ پڑے۔ اور ” قومی اقبال مند ی “ پر نہ مغرور ہو، نہ اس سے مرعوب ہو،
Ayah 2:213772 ۔ (آغاز فطرت میں) آیت نے ایک بڑی گرہ کھول دی، فرنگی ” محققین “۔ حسب معمول مدتوں اس باب میں بھٹکتے رہے، اور ان میں سے اکثر یہی کہے گئے کہ انسان کا ابتدائی مذہب شرک یا تعدد الہہ تھا۔ شروع شروع وہ ایک چیز کو خدا سمجھتا تھا۔ اور عقیدۂ توحید تک تو نسل انسانی بہت سی ٹھوکریں کھانے کے بعد، اور عقلی ودماغی ارتقاء کے بڑے طویل سفر کے بعد پہنچی ہے۔ قرآن مجید نے اس خرافی نظریہ کو ٹھکراکر صاف اعلان کردیا کہ نسل انسانی آغاز فطرت میں دینی حیثیت سے ایک، اور واحد تھی، اس میں ” مذہب “ و ” ادیان “ کے یہ تفرقے کچھ بھی نہ تھے۔ (آیت) ” امۃ واحدۃ “ میں جس وحدت کا ذکر ہے ظاہر ہے کہ اس سے دینی واعتقادی ہی وحدت مراد ہے۔ کانوا علی شریعۃ من الحق “ (ابن جریر۔ عن عباس ؓ کانوا علی الھدی جمیعا “ (ابن جریر۔ عن قتادۃ) انھم کانوا علی دین واحد وھو الایمان والحق ھذا قول اکثر المجققین (کبیر) صدیوں کی الٹ پھیر، قیل وقال کے بعد اب آخری فیصلہ بڑے بڑے ماہرین اثریات، انسانیات واجتماعیات کا (سرچارلس مارسٹن، پروفیسر لنگڈن، پروفیسر شمڈٹ کا) یہی ہے کہ انسان کا دین اولین، دین توحید تھا۔
773 ۔ (بھٹکے ہوؤں کو راہ حق پر واپس لانے اور جمع کرنے کی خاطر) (آیت) ” فبعث “ میںسے مراد ہے کہ ایک مدت کے بعد، جب کہ اہل باطل اپنے اختراعی عقائد و اعمال سے بہت سے فرقے اور مذاہب پیدا کرچکے تھے (آیت) ” مبشرین “ یعنی خوشخبری سنانے والے اہل ایمان کو، ان لوگوں کو جو خدائی دستور حیات کو قبول واختیار کرلیں۔ (آیت) ” منذرین “ یعنی ڈرانے والے اہل کفر کو، ان لوگوں کو جو خدائی دستور حیات کے مقابلہ میں انکار و طغیان کو قائم کریں۔
774 ۔ (آیت) ” الکتب “ سے کوئی مخصوص و متعین کتاب الہی مراد نہیں، بلکہ ال جنس کتب کے لیے ہے۔ اور کتاب سے مراد وہ تمام کتابیں ہیں جو مختلف پیغمبروں پر مختلف زمانوں میں اترتی رہیں۔ گویا لفظ کتاب صورۃ واحد ہے، اور معنی جمع، یرید بہ الجنس (بیضاوی) (آیت) ” بالحق “ حق کو لے کر یا اظہار حق کے لیے۔ ترکیب میں بالحق حال واقع ہوا ہے کتاب کا۔ بتبیان الحق (مدارک) حال من الکتب اے ملتبسا بالحق شاھدا بہ (بیضاوی)
775 ۔ یعنی عقائد و اعمال کے باب میں، یحکم۔ تاکہ وہ فیصلہ کردے انہیں انبیاء یا کتب کے واسطہ سے۔ فیصلہ کون کردے ؟ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کہ وہی اصلی فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس لیے (آیت) ” لیحکم “ کی ضمیر غائب کا مرجع اللہ ہے لیکن بعض نے نبی اور بعض نے کتاب بھی مراد لی ہے۔ یہ دونوں بھی صحیح ہوسکتے ہیں۔ اے لیحکم اللہ اوالنبی المنزل علیہ اوالکتب (کبیر) والضمیر عائد علی اللہ ھذا ھو الظاہر وقیل عائد علی الکتاب (بحر)
776 ۔ (تصدیق حق کی، اور اصول دین کے باب میں کسی قسم کا التباس اور خفاء باقی نہیں رہا) (آیت) ” بغیا بینھم “ یہاں یہ صاف کردیا کہ اختلاف اور نزاع کا باعث آپس کی ضد اور نفسانیت ہوئی، نہ یہ کہ امر کہ اصل احکام الہی یا پیام حق میں کسی طرح کا ایچ پیچ تھا، اور نہ یہ کہ مسائل اجتہادی میں کوئی رائے یا اجتہاد کا اختلاف ہوا۔ (آیت) ” الذین اوتوہ “۔ یعنی وہی لوگ جنہیں کتاب بواسطہ انبیاء ملی تھی، مراد ہیں علماء ومشائخ وپیشوایان قوم۔ گمراہی اور کجروی کی طرح یہی لوگ ڈالتے ہیں، عوام محض ان کے پیچھے ہولیتے ہیں۔
777 ۔ (چنانچہ اہل حق کو نزاع واختلاف کبھی مضر نہیں پڑا) (آیت) ” لما اختلفوا فیہ “ میں ذکر اہل حق کے اختلاف کا ہے اہل باطل سے (آیت) ” باذنہ “۔ میں اذن کے معنی فضل، توفیق ولطف کے ہیں الاذن التوفیق (تاج) بارادتہ ولطفہ (بیضاوی) بتوفیقہ وتیسیرہ (روح) (آیت) ” الذین امنوا “ پر سوال ہوا ہے کہ جو اس کے مصداق ہوچکے تھے وہ تو خود ہی ہدایت یافتہ تھے، پھر اب انہیں ہدایت کیسی ؟ جواب یہ ہے کہ ایمان سے یہاں مراد قصڈ ایمان وصلاحیت ایمان ہے یعنی جو ایمان کے طالب تھے، انہیں ہدایت حاصل ہوگئی۔
778 (اور اس کی مشیت ہدایت ہمیشہ ان لوگوں سے سے متعلق ہوجاتی ہے جو اسکی طرف بڑھنا چاہتے، اور ضد وتعصب کو چھوڑ کر طلب حق اختیار کرتے ہیں اس میں مومنین کی تشفی و تسلی کا پہلو بھی نکل رہا ہے کہ مخالفین ومعاندین کی سرگرم کوششوں اور زبردست پروپیگنڈے سے خوف وہراس نہ کریں، اپنی طلب اگر صادق ہے، تو کوئی مکر وتدبیر، کوئی قوت یا شوکت ضرر نہیں پہنچا سکتی۔
Ayah 2:214779 ۔ (بلامشقت اور بغیر امتحان، اے گروہ مومنین ! ) خطاب براہ راست عہد رسالت کے مومینن سے ہے۔ ایھا ال مومن ون باللہ ورسلہ (ابن جریر)
780 ۔ یعنی ان مومنین سابقین، ان انبیاء قدیم کی امتوں کی سی آزمائش اور مصیبتیں۔ مثل کے معنی غیر معمولی حالات وتجربات کے ہوتے ہیں۔ المثل الشبہ الا انہ مستعار لحال غیریبۃ اوقضیۃ عجیبۃ لھا شان (بحر) یہاں مراد ان پچھلی امتوں کے تحمل شدائد سے ہے۔ ما ینال من اذی الکفار والفقر والمجاھدۃ فی سبیل اللہ (بحر) حالھم التیھی مثل فی الشدۃ (کشاف) آیت سے یہ مراد نہیں کہ کوئی مومن محض ایمان کی برکت اور فضل خدا سے جنت میں داخل ہی نہ ہوسکے گا، جب تک کہ مجاہدات شدیدہ کی منزل سے نہ گزرے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ صحابہ جن درجات عالیہ کے طالب تھے اور بقول مرشد تھانوی (رح) ہر مومن کو طلب ایسی ہی رکھنی چاہیے۔ ان درجات عالیہ تک پہنچنے کے لیے عام شرط ان منزلوں سے گزرنے کی ہے۔ باقی نفس مجاہدہ تو ہر مومن کو اپنے درجہ و بساط کے لحاظ سے کرنا ہی ہوتا ہے۔
781 ۔ (شدت تکلیف سے) اے مزکوا بانواع البلایا والرزایا (کبیر) (آیت) ” الباسآء والضرآء “ یعنی مخالفین کے ہاتھوں انہیں جو مصیبتیں جھیلنا پڑیں، دونوں لفظ قریب المعنی ہیں۔ فرق یہ کیا گیا ہے کہ باسآء میں راحت و آسائش کے فقدان کا پہلو نمایاں ہے اور ضراء میں واقعی درد واذیت کا۔ الباسآء عبارۃ عن تضییق جھات الخیر والضرآء عبارۃ عن انفتاح جھات الشر (کبیر) ان آزمائشوں کے تذکرے قدیم صحیفوں میں بھی بکثرت ملتے ہیں۔ مثلا ” صادق پر بہت سی مصیبتیں ہوتی ہیں “۔ (زبور۔ 34 ۔ 19) ” چاندی کے لیے گھر یا ہے اور سونے کے لیے بھٹی، پر خداوند دلوں کو تپاتا ہے “۔ (امثال 17:3) ” ضرور ہے کہ ہم بہت سی مصیبتیں سہ کر خدا کی بادشاہت میں داخل ہوں “ (اعمال 14:22)
782 (شدت غم وحزن سے بےقرار ہوکر) (آیت) ” الرسول “ سے مراد اس زمانہ کے پیغمبر ہیں۔ المراد من الرسول الجنس لا واحد بعینہ (روح) الرسول ھھنا اسم جنس (نہر)
783 ۔ (آیت) ” نصر اللہ “۔ یعنی نصرت موعود۔ انبیاء ومومنین کا یہ قول حالت اضطرار میں دعا ومناجات کے طور پر تھا، نہ بہ طور اعتراض و شکوہ، وعدہ نصرت الہی کا تھا، مگر یہ تعین تو نہ تھا کہ کس وقت ہوگی، جب ہجوم شدائد ہوتا، تو نصرت غیبی کی ضرورت محسوس کرتے، اور اپنے اجتہاد سے بہ الحاح وزاری پکارتے کہ حضرت، یہی تو وقت دستگیری ونصرت غیبی کے نزول کا ہے۔ (تھانوی) آیت میں اشارہ ہے کہ امت محمدی ﷺ کو بھی ہر قسم کی بلائیں پیش آئیں گی جیسی کہ اگلی امتوں کو پیش آچکی ہیں۔
784 ۔ یہ جواب ان امتوں کو ان کی درخواست کا ملا کرتا، اس میں مومنین کو ہمیشہ کے لیے بشارت اور تسلی مل گئی، اور اس حقیقت کا بیان آگیا کہ نصرت الہی اپنے وقت پر ضرور آکر رہے گی، مجاہدات سے گھبرانا اور بددل نہ ہونا چاہیے۔ صوفیہ نے آیت سے یہ تعلیم بھی اخذ کی ہے کہ حالات مخالف کے ہجوم سے بہ تقاضائے بشریت اضطراب تو کاملین تک کو ہوتا ہے، مگر ساتھی ہی ثابت قدمی اور اتباع احکام کی برکت سے نصرت الہی حاصل ہو کر رہتی ہے۔